Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 3 آیات ) An-Nasr An-Nasr
Go
  • النصر (The Help, Succour, Divine Support, Victory)

    3 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور مطالب کا خلاصہ

    سابق سورہ ۔۔۔ الکٰفرون ۔۔۔ سے متعلق وضاحت ہو چکی ہے کہ یہ براء ت، ہجرت اور معنًا اعلان جنگ کی سورہ ہے۔ اب اس سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دی گئی ہے کہ وہ وقت قریب ہے کہ آپ کے لیے خاص نصرت غیبی ظاہر ہو گی، مکہ فتح ہو گا اور جس مشن پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو مامور فرمایا آپ اس سے سرخ روئی کے ساتھ فارغ ہو کر اپنے رب کی خوشنودی و رضامندی سے سرفراز ہوں گے۔ سورۂ فتح کی ابتدائی آیات میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ وہاں ہم نے وضاحت سے اس کے ہر پہلو پر بحث کی ہے۔ تفصیل کے طالب اس پر ایک نظر ڈال لیں۔

    ہجرت، جہاد اور فتح و نصرت میں جو گہرا ربط ہے اس کی طرف ہم سابق سورہ ۔۔۔ الکٰفرون ۔۔۔ میں بھی اشارہ کر چکے ہیں اور اس کتاب کے دوسرے مقامات میں بھی اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ رسولوں کی دعوت میں ہجرت کا مرحلہ ہی وہ مرحلہ ہے جب ان کی قوم پر اللہ کی حجت تمام ہوئی ہے، جب انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ، قوم سے الگ ہو کر، اپنی ایک خاص ہیئت تنظیمی بنائی ہے، جب قوم تمام صالح عناصر سے خالی ہو جانے کے سبب سے بالکل ایک جسد بے روح ہو کر رہ گئی ہے اور اہل ایمان اپنے عقائد و تصورات کی آزاد فضا میں پہنچ کر ایک ایسی ناقابل تسخیر قوت بن گئے ہیں کہ جو ان سے ٹکرایا اس نے شکست کھائی اور جس پر وہ گرے اس کو پاش پاش کر کے رکھ دیا۔ چنانچہ رسولوں نے اپنے دشمنوں سے جو جنگ کی ہے وہ ہمیشہ ہجرت کے بعد ہی کی ہے اور اس جنگ میں اگرچہ جماعت کی تربیت کے پہلو سے بعض اوقات آزمائشیں بھی ان کو پیش آئی ہیں لیکن بالآخر اللہ تعالیٰ کی نصرت سے ان کو وہ فتح حاصل ہوئی ہے جس کو چیلنج کرنے کی جرأت کسی کو نہیں ہوئی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات اس حقیقت پر شاہد ہیں۔

    ہجرت اور فتح و نصرت کے درمیان یہی وہ رشتہ ہے جس کے سبب سے یہ سورہ جو بالاتفاق مدنی ہے، ایک مکی سورہ کی مثنیٰ قرار پائی۔ اس سورہ کے زمانۂ نزول سے متعلق دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ فتح مکہ کے بعد نازل ہونے والی سورتوں میں یہ سب سے آخری سورہ ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ فتح مکہ سے پہلے اس کی بشارت کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ میرے نزدیک اسی دوسرے قول کو ترجیح حاصل ہے۔

    اس کی اول وجہ یہ ہے کہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے یہ بات واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ملت ابراہیم پر ہوئی تھی اور ملت ابراہیمؑ کا اصل مرکز چونکہ بیت اللہ ہی تھا اس وجہ سے اس کو خائنوں کے تسلط سے آزاد اور ملت ابراہیمی کی خصوصیات سے معمور و آباد کرنا آپ کے مشن کا اصلی اور تکمیلی کام تھا۔ چنانچہ ’الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْنًا‘ (المائدہ ۵: ۳) میں اسی کام کو آپ کا تکمیلی کام قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بعد جو کام ہوئے وہ سب اسی کے توابع و مقتضیات تھے۔

    دوسری وجہ یہ ہے کہ عرب میں اصل طاقت قریش ہی کی تھی جو مکہ پر قابض تھے اور بیت اللہ کے متولی ہونے کے سبب سے تمام عرب پر اپنی دھاک جمائے ہوئے تھے۔ ان کی طاقت کو توڑ دینا ہی اصل فتح تھی۔ ان کی طاقت توڑے بغیر کوئی فتح نہ حقیقی معنوں میں فتح ہو سکتی تھی اور نہ ان کی طاقت کے ٹوٹ جانے کے بعد کسی اور کے لیے یہ امکان باقی رہ جاتا تھا کہ وہ مسلمانوں کی کسی درجہ میں بھی کوئی مزاحمت کر سکے۔

    تیسری وجہ یہ ہے کہ یہاں جس نصرت اور جس فتح کا ذکر ہے اور وہ جس انداز سے آیا ہے وہ عام نصرت اور فتح نہیں ہے بلکہ یہ اس نصرت اور فتح کا ذکر ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں اور سنت الٰہی کے تقاضوں کی روشنی میں ہجرت کے بعد ہر مسلمان کے دل میں رچی بسی ہوئی تھی اور جس کے ظہور کا ہر مسلمان دل سے متمنی تھا۔ یہ وہ نصرت ہے جس کا ذکر سورۂ مجادلہ کی آیت ۲۱

    ’کَتَبَ اللہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِیْ‘

    (اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول)

    میں آیا ہے۔ اور یہ اس فتح و نصرت کا حوالہ ہے جس کا ذکر سورۂ صف آیت ۱۳ میں بدیں الفاظ وارد ہوا ہے:

    ’وَاُخْرٰی تُحِبُّوۡنَہَا نَصْرٌ مِّنَ اللہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ‘

    (اور ایک اور عظیم فیروزمندی بھی ہے جس کی تم تمنا رکھتے ہو، وہ ہے اللہ کی نصرت اور عنقریب ظہور میں آنے والی فتح)

    ان آیات میں جس نصرت اور فتح کی طرف اشارہ ہے ظاہر ہے کہ اس کا تعلق فتح مکہ سے ہے اس کے سوا کسی اور فتح و نصرت کو یہاں مراد لینے کی گنجائش نہیں ہے۔ جن لوگوں نے اس سورہ کا نزول فتح مکہ کے بعد مانا ہے انھیں ایک روایت کے سمجھنے میں غلط فہمی پیش آئی ہے لیکن اس پر نہ یہاں بحث کی گنجائش ہے اور نہ غالباً ہماری ساری بحث غور سے پڑھ لینے کے بعد اس کی کوئی خاص ضرورت ہی باقی رہے گی۔

    یہ سورہ اپنے مزاج کے اعتبار سے یکسر بشارت ہے۔ فیصلہ کن نصرت کی بشارت، مکہ کی آزادی کی بشارت، اللہ کے دین میں لوگوں کے جوق در جوق داخل ہونے کی بشارت اور آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مفوّضہ مشن سے سرخ روئی کے ساتھ فارغ ہونے کی بشارت۔ اس آخری بشارت سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ اب دنیا سے آپؐ کے رخصت ہونے کا وقت قریب آ رہا ہے اس وجہ سے آپ کو اپنے رب کی حمد و تسبیح میں مزید اضافہ کر دینا چاہیے تاکہ اس عظیم انعام کا حق بھی ادا ہو جو تکمیل دین کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر فرمایا اور خدائے توّاب کی مزید عنایت بھی آپ کو حاصل ہو تاکہ آپ اپنی سعی کا بڑے سے بڑا اجر اپنے رب کے پاس پائیں۔ اسی ٹکڑے سے قرآن کے سب سے بڑے نکتہ دان حضرت ابن عباس نے یہ نکتہ نکالا کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ نکتہ دقیق ہے، جس کے دقیق ہونے کی سب سے بڑی شہادت یہ ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کی تحسین و تصویب فرمائی ہے۔ لیکن یہ نکتہ بھی اپنے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک بہت بڑی بشارت رکھتا ہے جس کی وضاحت ان شاء اللہ ہم متعلق آیت کی تفسیر کے تحت کریں گے۔

  • النصر (The Help, Succour, Divine Support, Victory)

    3 آیات | مدنی
    الکٰفرون - النصر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ قریش سے علیحدگی کا اعلان اور دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فتح و نصرت کی بشارت ہے۔ دونوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت کے خاتمے پر نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الکٰفرون — میں روے سخن قریش کی طرف ہے اور اِس کا موضوع اُن کے ائمۂ کفر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان براء ت ہے جو سنت الٰہی کے مطابق رسول اور اُس کے ساتھیوں کے لیے لازماً غلبۂ حق کی تمہید بن جاتا ہے۔

    دوسری سورہ — النصر — کے مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اِس کا موضوع آپ کے لیے غلبۂ حق کی بشارت اور اِس کے نتیجے میں اپنے پروردگار سے ملاقات کے لیے تیاری کی ہدایت ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ تعالیٰ کی خاص مدد: یہاں اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح کا جس اہتمام خاص کے ساتھ ذکر ہوا ہے اور اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حمد و تسبیح کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے عام مدد اور عام فتح مراد نہیں ہے بلکہ وہ مدد اور فتح مراد ہے جو سنت الٰہی کے مطابق اللہ کے رسولوں کو ان کے مخالفوں کے مقابل میں اس وقت حاصل ہوئی ہے جب رسولوں نے اللہ کا پیغام پہنچانے میں اپنی ساری طاقت نچوڑ دی اور قوم رسول کی تکذیب اور اس کی دشمنی پر اس طرح اڑ گئی ہے کہ یہ توقع کرنے کی گنجائش باقی ہی نہیں رہ گئی ہے کہ اس کے رویے میں کوئی تبدیلی واقع ہو سکے گی۔
      اس مدد کے ظہور کا وقت: سورۂ یوسف میں اس نصرت الٰہی کے ظہور کے لیے یہ ضابطہ بیان ہوا ہے کہ جب اللہ کے رسول اپنی قوم کے ایمان سے مایوس ہو گئے ہیں اور قوم نے اپنے رویہ سے ثابت کر دیا ہے کہ العیاذ باللہ وہ رسول کے انذار کو بالکل جھوٹ اور لاف زنی خیال کرتی ہے تب اللہ کی یہ مدد ظہور میں آئی۔

      حَتّٰٓی اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ قَدْ کُذِبُوْا جَآءَ ھُمْ نَصْرُنَا.(یوسف ۱۲: ۱۱۰)
      (یہاں تک کہ جب رسول قوم کے ایمان سے مایوس ہو گئے ہیں اور قوم کے لوگوں نے گمان کر لیا ہے کہ ان کو جھوٹ موٹ عذاب سے ڈرایا گیا ہے تب ہماری مدد رسولوں کے پاس آ گئی۔)

      یہی بات دوسرے الفاظ میں یوں ارشاد ہوئی ہے:

      فَصَبَرُوْا عَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰٓی اَتٰھُمْ نَصْرُنَا.(الانعام ۶: ۳۳)
      (پس وہ (رسول) ثابت قدم رہے قوم کی طرف سے تکذیب اور ایذا رسانیوں کے باوجود یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آ گئی۔)

      موعود و منتظر فتح: اسی طرح ’اَلْفَتْحُ‘ پر الف لام اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اس سے مراد موعود و منتظر فتح ہے جو اللہ کے رسولوں اور ان کے ساتھیوں کے لیے سنت الٰہی کا تقاضا ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا اور جس کے وہ اپنی زندگی کے سخت سے سخت مرحلے میں بھی منتظر و متوقع رہے ہیں۔ اسی فتح کی طرف سورۂ صف کی اس آیت میں اشارہ ہے جس کا حوالہ ہم اوپر دے چکے ہیں:

      ’وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ‘ (الصف ۶۱: ۱۳)
      (اور ایک دوسری فیروزمندی بھی ہے جس کو تم عزیز رکھتے ہو یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور جلدی ظاہر ہونے والی فتح)

      قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں بھی اس کا ذکر اسی اجمال کے ساتھ ہوا ہے جس طرح یہاں ہوا ہے لیکن یہ چیز پہلے سے ذہنوں میں موجود تھی اس وجہ سے، اجمال کے باوجود، اس کے سمجھنے میں لوگوں کو کوئی تردد پیش نہیں آیا۔ مثلاً فرمایا ہے:

      ’لَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ‘ (الحدید ۵۷: ۱۰)
      (تم میں سے وہ لوگ جو فتح سے پہلے انفاق اور جہاد کریں گے اور جو بعد میں کریں گے دونوں درجے میں یکساں نہیں ہوں گے)۔

      یہاں دیکھ لیجیے اس بات کی وضاحت نہیں ہے کہ کون سی فتح مراد ہے لیکن ہر شخص سمجھتا ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے اس لیے کہ وہی فتح تھی جو جدوجہد کرنے والوں کے اعمال کی قدر و قیمت کے گھٹانے اور بڑھانے کے معاملے میں ایک میزان کا کام دے سکتی تھی۔ اس سے پہلے متعدد غزوات میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہو چکی تھی اور اس کے بعد بھی فتوحات حاصل ہوئیں لیکن نہ ان میں سے کسی کا یہ درجہ تھا کہ نام لیے بغیر اس کی طرف ذہن منتقل ہو سکیں اور نہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی پر ان کا یہ اثر پڑا کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد کی نیکیوں کی قدر و قیمت میں ان کے سبب سے وہ تفاوت واقع ہوا ہو جو اس فتح کے سبب سے واقع ہوا۔ اس فتح کے بعد عرب میں کفر نے اسلام کے آگے اس طرح گھٹنے ٹیک دیے کہ اس کے لیے پھر سر اٹھانے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اس سے بعثت محمدی کا اصل مقصد گویا پورا ہو گیا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فتح کے بعد خانۂ کعبہ کے دروازے پر جو خطبہ دیا اس میں آپ نے فرمایا کہ:

      لا الٰہ الَّا اللّٰہ وحدہٗ. صدق وعدہ ونصر عبدہ وھزم الاحزاب وحدہ.
      (اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اس نے یکہ و تنہا دشمنوں کی تمام جماعتوں کو شکست دی۔)

      اس خطبہ کے بعد ہی آپ نے قریش کے ان سرغنوں کی طرف توجہ فرمائی جو اس سے پہلے تو پرے جما جما کر آپ سے لڑتے رہے تھے لیکن اس وقت محکمومانہ حاضر اور تقدیر کے فیصلہ کے منتظر تھے۔ آپ نے ان کو مخاطب کر کے سوال کیا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں! سب نے بیک زبان جواب دیا کہ آپ شریف بھائی اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں! آپ نے ان کا یہ جواب سن کر فرمایا کہ جاؤ، میں نے تم سب کی جان بخشی کی!
      فتح و نصرت تائید الٰہی سے حاصل ہوتی ہے: یہاں نصرت اور فتح دونوں کا ذکر جس طرح ساتھ ساتھ ہوا ہے اس سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ کسی کو کوئی فتح اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر حاصل نہیں ہوتی اس وجہ سے کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی فتح پر اترائے اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہو کہ یہ اس کی اپنی تدبیر جنگ ہے اور مہارت و بسالت کا کرشمہ ہے بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ ہی کی تدبیر و حکمت کا کرشمہ سمجھنا چاہیے۔ چنانچہ اوپر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کا جو حوالہ دیا ہے اس سے بھی یہ بات نکلتی ہے کہ آپ نے دشمنوں کی تمام پارٹیوں کی ہزیمت کو تنہا اپنے رب ہی کی قدرت کا کرشمہ قرار دیا، اس کا کریڈٹ نہ خود لینے کی کوشش کی نہ اس میں کسی اور کو حصہ دار بنایا۔ اس سورہ میں آپ کی حمد و تسبیح کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے اس سے بھی یہی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس فضل و انعام پر شکر کا اصل حق دار اللہ تعالیٰ ہی ہے اس وجہ سے زیادہ سے زیادہ اس کی حمد و تسبیح ہونی چاہیے۔

       

      جاوید احمد غامدی جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      پچھلی سورہ میں قریش کے ائمۂ کفر سے اظہار براء ت ہے۔ یہ سورہ سراسر بشارت ہے اور اُس کی توام سورہ کے طور پر اُس کے ساتھ ہی رکھ دی گئی ہے تاکہ وہ رشتہ پوری طرح واضح ہو جائے جو رسولوں کی دعوت میں ہجرت و براء ت اور فتح و نصرت کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ بشارت جس شان کے ساتھ واقعہ بنی، اُس کی تفصیلات تاریخ کے صفحات میں ثبت ہیں۔ یہ کسی انسان کے الفاظ نہیں تھے کہ ابدی حسرتوں کے ساتھ فضا میں تحلیل ہو جاتے۔ یہ خدا کے الفاظ تھے جو اُس کے پیغمبر کی زبان پر جاری ہوئے۔ جب یہ کہے گئے، اُس وقت اِن سے زیادہ ناممکن الوقوع اور ناقابل یقین کوئی چیز نہیں تھی، لیکن تھوڑے ہی دنوں میں تاریخ بن گئے،ایک ایسی تاریخ جس کی کوئی مثال دنیا کی تاریخ سے پیش نہیں کی جا سکتی۔
      یہ وہی مدد اور فتح ہے جس کا اللہ نے اپنے پیغمبر سے وعدہ کیا تھا اور مسلمان دعوت حق کے سخت سے سخت مراحل میں بھی جس کے منتظر اور متوقع رہے تھے۔ سورۂ صف (۶۱) کی آیت ۱۳ میں قرآن نے اِسی کے بارے میں فرمایا ہے کہ ’وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا، نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ‘ (اور وہ دوسری چیز بھی جو تم چاہتے ہو، یعنی اللہ کی مدد اور فتح جو عنقریب حاصل ہو جائے گی)۔ اِس سے، ظاہرہے کہ فتح مکہ کے سوا کوئی اور فتح مراد نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ جس مدد کا یہاں ذکر ہوا ہے، وہ بھی اُس کے لیے حاصل ہونے والی مدد ہے جس کا آخری ظہور اُس وقت ہوا، جب دس ہزار قدوسیوں کے سامنے اہل مکہ نے بغیر کسی مزاحمت کے سر تسلیم خم کر دیا۔ سنت الٰہی کے مطابق یہ فتح و نصرت خدا کے رسولوں کو اتمام حجت اور اپنی قوم سے ہجرت و براء ت کے بعد لازماً حاصل ہو جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہی فتح و نصرت تھی جس کی طرف مخاطبین کے ذہن اُس کا نام لیے بغیر منتقل ہو سکتے تھے۔ قرآن نے اِسی بنا پر اِس اجمال کے ساتھ اور محض ایک الف لام سے اُس کا ذکر کر دیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور لوگوں کو دیکھو کہ وہ فوج در فوج خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس عظیم بشارت کا سب سے نمایاں پہلو: یہ اس عظیم بشارت کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی قوم سے جو جھگڑا تھا وہ دنیا کی کسی غرض کے لیے نہیں تھا، صرف اللہ کے دین کے لیے تھا۔ آپ چاہتے تھے کہ قریش کے لیڈر اس امانت کا حق ادا کریں جو بیت اللہ کی صورت میں ان کی تحویل میں ہے۔ اگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں تو پھر ان کو اس پر قابض رہنے اور اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین سے بجبر و ظلم روکنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس مذہبی جبرکو (جس کو قرآن نے فتنہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے) ختم کرنے کے لیے آپ نے قریش کو مکہ سے بے دخل کیا اور چونکہ دین کی راہ میں جو رکاوٹ تھی وہ صرف لیڈروں کے جبر و استبداد ہی کے سبب سے تھی، عوام کے دلوں میں اس کے خلاف کوئی بدگمانی نہیں تھی اس وجہ سے اس استبداد کے بند ٹوٹتے ہی لوگ رکے ہوئے سیلاب کی طرح قبول اسلام کے لیے ٹوٹ پڑے۔ فتح مکہ سے پہلے جو لوگ قبول اسلام کے لیے حضور کی خدمت میں آتے وہ ڈرتے ڈرتے آتے۔ اس وقت تک اسلام قبول کرنا تو درکنار اسلام اور مسلمانوں کے حق میں ہمدردی کا کوئی کلمہ کہنا بھی عام لوگوں کے لیے ایک خطرہ مول لینے کے حکم میں تھا۔ اوپر ہم ذکر کر آئے ہیں کہ اس دور میں انصار کے بعض وفود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے آئے تو قریش کے لیڈروں نے ان کو ڈرایا کہ آپ لوگ ان سے بیعت کر رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ یہ بیعت اسود و احمر سے جنگ کے ہم معنی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے استبداد کی موجودگی میں وہی لوگ اسلام لانے کا حوصلہ کر سکتے تھے جو پہاڑوں سے لڑ جانے کا حوصلہ رکھتے ہوں لیکن جب یہ استبداد پاش پاش ہو گیا تو پھر کوئی مزاحمت باقی نہیں رہ گئی۔ لوگ ہر طرف سے اس طرح مدینہ کی طرف بڑھے گویا اس چشمۂ حیواں پر پہنچنے کے لیے پیاس سے تڑپ رہے تھے۔
      یہی فتح ہے جس نے ملک کے حالات میں وہ تبدیلی پیدا کی کہ لوگ اپنے دین کے انتخاب کے معاملے میں بالکل آزاد ہو گئے اور سرزمین عرب سے اس فتنہ کا بالکلیہ خاتمہ ہو گیا جس کے بل پر قریش کے لیڈر لوگوں کے دین و ایمان کے مالک بنے بیٹھے تھے۔ اس بشارت کے پردے میں گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتا دیا گیا کہ اب جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ لوگ قریش کے ظلم و استبداد سے بالکل آزاد ہو کر اللہ کے دین کی طرف دوڑیں گے اور کسی کی مجال نہ ہو گی کہ ان کی راہ میں کوئی مزاحمت پیدا کر سکے۔ یہ چیز اس بات کی نہایت محکم دلیل ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور فتح نہیں ہے جس سے یہ اثرات نمایاں ہوئے ہوں۔ جن لوگوں نے اس سے کوئی اور فتح مراد لی ہے انھوں نے اس سورہ کے مضمرات اور فتح مکہ کے اثرات دونوں کا اندازہ کرنے میں غلطی کی۔

      جاوید احمد غامدی اور تم لوگوں کو دیکھ لو کہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس بشارت کا سب سے نمایاں پہلو ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ اِس کے معنی یہ تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی قوم کو ایمان وا سلام کی نعمت سے نوازے گا۔وہ عاد و ثمود کی طرح مٹا نہیں دیے جائیں گے، بلکہ اللہ کی عنایت سے ایمان کی توفیق پائیں گے اور استبداد کے بند ٹوٹتے ہی رکے ہوئے سیلاب کی طرح آپ کی دعوت پر لبیک کہنے کے لیے ٹوٹ پڑیں گے۔ یہ اِس بات کی تائید مزید ہے کہ جس فتح کا ذکر ہوا ہے، اُس سے مراد فتح مکہ ہی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’یہی فتح ہے جس نے ملک کے حالات میں وہ تبدیلی پیدا کی کہ لوگ اپنے دین کے انتخاب کے معاملے میں بالکل آزاد ہو گئے اور سرزمین عرب سے اُس فتنے کا بالکلیہ خاتمہ ہو گیا جس کے بل پر قریش کے لیڈر لوگوں کے دین وایمان کے مالک بنے بیٹھے تھے۔ اِس بشارت کے پردے میں گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتا دیا گیا کہ اب جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ لوگ قریش کے ظلم و استبداد سے بالکل آزاد ہو کر اللہ کے دین کی طرف دوڑیں گے اور کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اُن کی راہ میں کوئی مزاحمت پیدا کر سکے۔ یہ چیز اِس بات کی نہایت محکم دلیل ہے کہ اِس سے مراد فتح مکہ ہی ہے۔ اِس کے سوا کوئی اور فتح نہیں ہے جس سے یہ اثرات نمایاں ہوئے ہوں۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۶۲۲)

       

    • امین احسن اصلاحی تو اپنے خداوند کی تسبیح پڑھو اس کی حمد کے ساتھ، اور اس سے مغفرت مانگو۔ بے شک وہ بڑا ہی معاف کرنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس آیت کے دو خاص پہلو: یہ آیت اپنے اندر یوں تو کئی پہلو رکھتی ہے لیکن دو پہلو خاص اہمیت والے ہیں۔
      اول یہ اس فرض کی طرف رہنمائی کرتی ہے جو اس فتح و نصرت کے حاصل ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت پر عائد ہوا۔ یعنی یہ کہ اس پر اترانے اور فخر کرنے کے بجائے لوگ اپنے رب کی حمد و تسبیح کریں، اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگیں اور یہ توقع رکھیں کہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی مہربان و کریم ہے۔ اس کے جو بندے اپنی کوتاہیوں کی معافی کے لیے اس سے رجوع کرتے ہیں وہ ان کی طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔ سورۂ کوثر میں جس طرح فرمایا ہے:

      ’اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ‘ (الکوثر ۱۰۸: ۱-۲)
      (ہم نے تم کو بخشا کوثر تو اپنے خداوند ہی کی نماز پڑھو اور اسی کے لیے قربانی کرو)

      اسی طرح یہاں یہ آیت اس ذمہ داری کے بیان کے لیے بھی آئی ہے جو اس فتح و نصرت کا لازمی نقاضا ہے اور اس چیز کی بھی یہ تعلیم دے رہی ہے جو اس کے بقاء کی ضامن ہے۔ بندوں کو جو نعمت بھی حاصل ہوتی ہے اس کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی لازماً وابستہ ہوتی ہیں۔ جب تک بندے ان ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہیں وہ نعمت ان کو حاصل رہتی ہے، جب وہ ان کو بھلا بیٹھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کچھ مہلت دینے کے بعد وہ ان سے یا تو چھین لیتا ہے یا وہ اس کے سبب سے نہایت سخت آزمائشوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
      دوسرا پہلو اس کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بشارت کا ہے کہ اس فتح کے بعد آپ کے لیے اس عظیم فریضہ سے باعزت طور پر سبک دوش ہونے کا وقت آ جائے گا جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا جو بوجھ ڈالا گیا اس کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں آپ نے اپنی ساری طاقت جس طرح نچوڑی اور جس طرح اپنے آپ کو اس میں مصروف رکھا اس کی تفصیلات پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔ اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کر کے نہایت محبت آمیز انداز میں عتاب فرمایا کہ:

      ’مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیۡکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰی‘ (طٰہٰ ۲۰: ۲)
      (ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہیں اتارا ہے کہ تم اس کی خاطر اپنی زندگی اجیرن بنا لو)

      اس حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سب سے بڑی بشارت کوئی ہو سکتی تھی تو یہی ہو سکتی تھی کہ وہ دن آئے کہ آپ اس بارعظیم سے سبک دوش ہوں اور باعزت طریقے سے سبک دوش ہوں۔ چنانچہ اس سورہ نے آپ کو یہ بشارت دے دی اور فحوائے کلام سے یہ بات بھی نکلی کہ آپ اپنی ذمہ داری سے عزت و سرخروئی کے ساتھ فارغ ہوں گے۔ اس لیے کہ آیت میں آپ کو استغفار کی ہدایت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے توّاب ہونے کی بشارت بھی دی گئی ہے۔ لفظ ’تَوَّابٌ‘ جب اللہ تعالیٰ کے لیے آتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان اور ان کی لغزشوں سے درگزر کرنے والا ہے۔
      حضرات انبیاء علیہم السلام سے صادر ہونے والی لغزشوں کی نوعیت: یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے اس کا تعلق اسی طرح کی باتوں سے ہے جن کی وضاحت ہم برابر کرتے آ رہے ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام سے اتباع ھوا کے قسم کے گناہ تو صادر نہیں ہوتے لیکن بعض اوقات کوئی نیک محرک ان کو کسی نیکی میں حد مطلوب سے متجاوز کر دیتا ہے جس کی ایک مثال سورۂ طٰہٰ کی اس آیت میں بھی موجود ہے جس کا ہم نے اوپر حوالہ دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں آپ کو جس بات سے ٹوکا گیا ہے وہ اتباع ھوا کے قسم کی کوئی چیز نہیں بلکہ دین میں مفرط انہماک اور ان سرکشوں کے پیچھے اپنے کو کھپانے پر ٹوکا گیا ہے جو اس نازبرداری کے اہل نہیں تھے۔
      یہ بشارت اس سے زیادہ واضح لفظوں میں سورۂ فتح میں گزر چکی ہے اور ہم ہر پہلو سے اس کی وضاحت بھی کر چکے ہیں۔ آیت کا حوالہ ہم یہاں دیے دیتے ہیں جن کو تفصیل مطلوب ہو وہ تدبر قرآن میں اس کی تفسیر پڑھ لیں۔؂۱

      اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لِّیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَیَھْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا.(الفتح ۴۸: ۱-۲)
      ’’ہم نے تمہیں ایک کھلی ہوئی فتح عطا فرمائی تاکہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف فرمائے اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے اور تمہیں ایک سیدھی راہ کی ہدایت بخشے۔‘‘

      ’فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ‘ کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے کہ جب تسبیح اور حمد کے الفاظ ساتھ ساتھ آئیں تو تسبیح کے اندر تنزیہہ کا پہلو غالب ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو ان باتوں سے پاک قرار دینا جو اس کی شان الوہیت کے منافی ہیں اور حمد کے اندر ان صفات کا اثبات ہوتا ہے جن سے وہ فی الحقیقت موصوف ہے۔ ان دونوں کے صحیح امتزاج ہی سے حقیقی توحید وجود میں آتی ہے جو ایمان کی بنیاد ہے۔

      _____
      ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد ششم۔ صفحات: ۴۳۶-۴۴۰۔

       

      جاوید احمد غامدی تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو اور اُس سے معافی چاہو۔ بے شک، وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی توحید کے صحیح تصور کے ساتھ اُس کو یاد کرو، اِس لیے کہ حقیقی توحید تنزیہہ اور اثبات، دونوں کے امتزاج سے وجود میں آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ وہ اُن باتوں سے پاک ہے جو اُس کی شان الوہیت کے منافی ہیں اور یہ بھی کہ وہ اُن تمام اوصاف سے متصف ہے جو اُس کے شایان شان ہیں۔
      یہ وہی ہدایت ہے جو اِس سے پہلے سورۂ الم نشرح میں بیان ہوئی ہے، یعنی ’فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ، وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ‘۔* مطلب یہ ہے کہ جب یہ چیزیں ظہور میں آجائیں تویہ اِس بات کی علامت ہو گی کہ آپ کا مشن پورا ہو گیاہے اور اللہ تعالیٰ نے جو عظیم ذمہ داری آپ پر ڈالی تھی، آپ نہایت با عزت طریقے سے اُس سے سبک دوش ہوگئے ہیں،اِس لیے اب اپنے پروردگار سے ملاقات کی تیاری کیجیے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ اپنے مشن سے فراغت کے بعد پورے انہماک کے ساتھ اللہ کی عبادت میں لگ جاؤ، ہر لحظہ اُس کی پاکی بیان کرو، اُس کی صفات کو مستحضر رکھو اور دعوت کے کام میں اگر کہیں حد مطلوب سے تجاوز ہوا ہے تو اپنے پروردگار سے معافی چاہو۔ اپنے بندوں پر وہ بڑا مہربان اور اُن کی لغزشوں سے درگذر فرمانے والا ہے۔
      _____
      * ۹۴: ۷۔۸۔’’اِس لیے جب فارغ ہو جاؤ تو (عبادت کے لیے) کمر باندھ لو اور اپنے رب سے لو لگائے رکھو۔‘‘

    Join our Mailing List