Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 6 آیات ) Al-Kafirun Al-Kafirun
Go
  • الکافرون (Those Who Reject Faith, The Disbelievers, The Kafirs)

    6 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور مدّعا کی ترتیب

    اس سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قریش کے ائمۂ کفر سے براء ت کا اعلان ہے پچھلی سورتوں میں بھی تمام تر بحث قریش کے لیڈروں ہی سے رہی ہے لیکن خطاب ان سے قومی اور انسانی بنیاد پر ہوا ہے، کہیں بھی ’یٰٓاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ‘ کے الفاظ سے ان کو خطاب نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن اس سورہ میں ان کو صاف صاف ’اے کافرو!‘ کے الفاظ سے مخاطب کر کے ان سے بالکل حتمی طور پر قطع تعلق اور براء ت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ اعلان براء ت رسولوں کی اس سنت کے مطابق ہوا ہے جس کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے کہ اللہ کے رسول اپنی قوم کو پہلے دین کی بنیادی باتوں ۔۔۔ توحید اور قیامت ۔۔۔ کی دعوت دیتے ہیں۔ اس دعوت میں وہ قوم کو ’اپنی قوم‘ ہی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہیں اور اس پر اس وقت تک پوری استقامت سے جمے رہتے ہیں جب تک قوم کے اعیان و اکابر اپنے رویہ سے ان کو مایوس نہیں کر دیتے۔ جب وہ مایوس کر دیتے ہیں اور بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ہٹ دھرم اپنی ضد سے باز آنے والے نہیں ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کو ہجرت کا حکم ہوتا ہے اور وہ قوم سے اعلان براء ت کر کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہجرت کر جاتا ہے۔ رسول کی ہجرت قوم کے لیے گویا آخری تنبیہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد اگر اس کے رویہ میں کوئی اچھی تبدیلی نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ ایک محدود مہلت دینے کے بعد قوم کے تمام مکذبین کو تباہ کر دیتا ہے، خواہ یہ تباہی رسول کی زندگی ہی میں واقع ہو یا اس کے بعد اور خواہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کوئی قہر آسمانی نازل کرے یا رسول کے ساتھیوں کی تلوار اس کے لیے بے نیام ہو۔ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت ابراہیم علیہ السلام و حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام رسولوں کی جو تاریخ قرآن میں بیان ہوئی ہے اس میں یہ مشترک حقیقت موجود ہے اور ہم اس کے تمام پہلوؤں کی وضاحت برابر کرتے آ رہے ہیں۔

    یہاں ’یٰٓاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ‘ سے خطاب، ظاہر ہے کہ، انہی ائمۂ کفر سے ہے جو اس دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ ان کی مسلسل مخالفت نے یہ حقیقت واضح کر دی تھی کہ یہ چیز کسی شبہ پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ موروثی قیادت کا پندار ہے جس نے ان کو بالکل اندھا بہرا دشمن بنا دیا ہے اور اب خدا کے تازیانۂ عذاب کے سوا کوئی اور چیز ان پر کارگر نہیں ہو سکتی۔ مخاطب کی اس ذہنیت کی بنا پر اس سورہ میں جو باتیں فرمائی گئی ہیں وہ بالکل دوٹوک الفاظ میں فرمائی گئی ہیں اور ہر بات بالکل مبنی بر حقیقت ہے۔ جن لوگوں نے اس خطاب کو مذمت یا غضب پر محمول کیا ہے ان کی رائے صحیح نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی جماعت کا کفر اس وقت تک واضح ہوتا ہی نہیں جب تک اہل حق اس پر اتمام حجت نہ کر دیں۔ اتمام حجت کے بعد ہی اس کا کفر واضح ہوتا ہے اور اس کے بعد ہی یہ بات جائز ہوتی ہے کہ اہل حق اس سے علیحدگی کا اعلان کر دیں بلکہ ضرورت داعی ہو تو اس سے جہاد کریں۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے ہجرت اور جہاد کے لیے اقدام اتمام حجت کے بعد ہی کیا ہے اور یہی حق و عدل کا تقاضا ہے۔

    اس سورہ نے قریش کے لیڈروں کے ساتھ دین کے معاملے میں کسی سمجھوتے کے تمام امکانات کا قطعی سدباب کر دیا ہے اس وجہ سے یہ صرف ہجرت ہی کی سورہ نہیں بلکہ یہ معناً اعلان جنگ کی سورہ بھی ہے۔ سورۂ یونس میں وضاحت سے یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ قریش کے لیڈروں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ اگر ہم سے اپنے دین کو منوانا ہے تو اس کی واحد شکل یہ ہے کہ یا تو اس قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں ایسی مناسب ترمیم کرو کہ یہ ہمارے لیے قابل قبول ہو سکے:

    ’اِءْتِ بِقُرْآنٍ غَیْرِ ہٰذَا أَوْ بَدِّلْہُ‘ (یونس ۱۰: ۱۵)

    (اس قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں ترمیم کرو)۔

    اس آیت کی تفسیر کے تحت ہم واضح کر چکے ہیں؂۱ کہ قرآن کے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو سب سے زیادہ اصرار قرآن کی دعوت توحید کی ترمیم پر تھا، وہ اس کو اپنے آباء کے عقیدے کے بھی خلاف سمجھتے تھے اور یہ اندیشہ بھی رکھتے تھے کہ اگر اللہ کے سوا انھوں نے تمام معبودوں کو ہی باطل ٹھہرا دیا، جیسا کہ قرآن مطالبہ کر رہا ہے، تو اس سے ان کی سیاسی ہستی ہی سرے سے ختم ہو جائے گی۔ ان کے اس مطالبہ کا جواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ دیا گیا کہ

    ’قُلْ مَا یَکُوۡنُ لِیْ أَنْ أُبَدِّلَہُ مِن تِلْقَآئِ نَفْسِیْ‘ (یونس ۱۰: ۱۵)

    (ان سے کہہ دو کہ مجھے کیا حق ہے کہ میں بطور خود اس میں کوئی ترمیم کروں)۔

    اگرچہ یہ جواب قریش کے لیے مایوس کن تھا لیکن فیصلہ کن نہیں تھا۔ لیکن اس سورہ میں اس کا ایسا حتمی اور فیصلہ کن جواب دیا گیا ہے کہ ہمیشہ کے لیے اس بحث کا دروازہ ہی بند کر دیا گیا۔ جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہوئے کہ اس معاملے میں اب کسی سمجھوتے کی گنجائش نہیں ہے، اگر قریش اپنی ضد پر قائم رہے تو بالآخر اس کا فیصلہ تلوار سے ہو گا۔

    ترتیب میں اس سورہ کا سورۂ کوثر کے بعد جگہ پانا بھی اپنے اندر بڑی معنویت رکھتا ہے۔ سورۂ کوثر میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ فتح مکہ کی بشارت ہے جس کے معنی یہ ہوئے کہ ہجرت اور اعلان جہاد کی سورہ سے پہلے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح و نصرت کی بشارت دے دی گئی تاکہ حضور اور آپ کے صحابہ پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ اگرچہ آگے ہجرت اور جنگ کے کٹھن مرحلے آنے والے ہیں لیکن انجام ان کا نہایت شان دار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے رسول کو فتح سے نوازے گا اور وہ دنیا و آخرت دونوں کے کوثر سے شاد کام ہوں گے۔ اسی طرح کی بشارت حضور کو ہجرت کی اس دعا میں دی گئی ہے جو سورۂ بنی اسرائیل میں مذکور ہے:

    ’وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ‘ (بنی اسرائیل ۱۷: ۸۰)

    (اور دعا کرو کہ اے میرے رب، مجھے داخل کر عزت کا داخل کرنا اور نکال عزت کا نکالنا)

    اس دعا پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے دعا کے پیرائے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت دے دی ہے کہ اگرچہ آپ کے مکہ سے نکلنے کا وقت اب قریب آ رہا ہے لیکن اس نکلنے سے پہلے ہی اللہ نے دارالہجرت میں آپ کے شان دار داخلہ کا انتظام کر لیا ہے۔

    مختصر الفاظ میں اس سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قریش کے لیڈروں کے سامنے یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان دین کے بنیادی مسئلہ ۔۔۔ معبود ۔۔۔ کے باب میں کوئی قدر مشترک نہ حاضر میں ہے، نہ ماضی میں رہی ہے اور نہ مستقبل میں اب اس کے پائے جانے کا امکان ہے اس وجہ سے ہمارے مابین کسی مفاہمت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اب تم اپنے دین پر چلو، ہم اپنے دین پر چلیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہو جائے۔

    _____

    ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن ۔ جلد سوم صفحہ ۸۲۔

  • الکافرون (Those Who Reject Faith, The Disbelievers, The Kafirs)

    6 آیات | مکی
    الکٰفرون - النصر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ قریش سے علیحدگی کا اعلان اور دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فتح و نصرت کی بشارت ہے۔ دونوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت کے خاتمے پر نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الکٰفرون—- میں روے سخن قریش کی طرف ہے اور اِس کا موضوع اُن کے ائمۂ کفر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان براء ت ہے جو سنت الٰہی کے مطابق رسول اور اُس کے ساتھیوں کے لیے لازماً غلبۂ حق کی تمہید بن جاتا ہے۔

    دوسری سورہ—- النصر—- کے مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اِس کا موضوع آپ کے لیے غلبۂ حق کی بشارت اور اِس کے نتیجے میں اپنے پروردگار سے ملاقات کے لیے تیاری کی ہدایت ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی کہہ دو، اے کافرو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’قُلْ‘ اعلان کے مفہوم میں: ’قُلْ‘ یہاں اعلان کر دینے کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں یہ قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ اس سورہ کا مضمون اعلان کا مقتضی تھا تاکہ جو مفسدین کفر اور اسلام کے درمیان سمجھوتے کے خبط میں مبتلا تھے وہ بھی اپنی سعئ نامراد سے مایوس ہو جائیں اور جو سادہ لوح اس طرح کی تجویزیں پیش کرنے والوں کو امن پسند اور صلح جُو گمان کر رہے تھے ان پر بھی اصل حقیقت واضح ہو جائے کہ یہ صلح و امن کی راہ نہیں بلکہ فساد کی مستقل پرورش کی راہ ہے۔
      ائمۂ کفر سے خطاب: ’یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ‘ کا خطاب ظاہر ہے کہ قریش کے ان ائمۂ کفر سے ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مخاطب اول تھے لیکن آپ کی برسوں کی جدوجہد کے بعد ان کے رویہ میں کوئی تبدیلی ہوئی تو یہ ہوئی کہ انھوں نے کفر اور اسلام دونوں کا ایک ملغوبہ تیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ رسول اتمام حجت کا کامل ذریعہ ہوتا ہے۔ اگر اس کی محنت بھی ان کو متاثر نہ کر سکی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ پھر کوئی بھی دوسری ایسی چیز نہیں رہ گئی تھی جو ان کی حالت میں کوئی تبدیلی پیدا کر سکے۔ چنانچہ ان لوگوں کے بارے میں آگے اس سورہ میں جس مایوسی کا اظہار فرمایا گیا ہے وہ بالکل صحیح ثابت ہوئی۔ ان میں سے کوئی بھی اسلام لانے والا نہیں بنا بلکہ ہر ایک اپنے غرور اور انانیت کا شکار ہوا۔
      دو سوال اور ان کے جواب: یہاں اس خطاب سے متعلق دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ قرآن میں عام طور پر قریش کے لیڈروں کو اس طرح کے سخت خطاب سے کہیں مخاطب نہیں کیا گیا ہے، پھر اسی سورہ کی کیا خصوصیت ہے کہ اس میں ان کو ’یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ‘ سے خطاب کیا گیا۔ دوسرا یہ کہ قریش بلکہ اہل عرب بالعموم خدا کے منکر نہیں بلکہ اس کے شریک ٹھہرانے والے تھے تو قرآن نے ان کو ’اے کافرو‘ کیوں کہا، ’اے میرے مشرکو‘ سے کیوں نہیں خطاب کیا؟
      ان دونوں سوالوں کے جواب اگرچہ اس کتاب میں جگہ جگہ دیے جا چکے ہیں اور تمہید میں بھی اس کی طرف اشارہ ہو چکا ہے لیکن ہم یہاں پھر ان کو صاف کیے دیتے ہیں۔
      جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حضور نے یہ انداز خطاب اس وقت اختیار فرمایا ہے جب اچھی طرح اتمام حجت کر دینے کے بعد، قوم کے رویہ سے بالکل مایوس ہو کر، اللہ تعالیٰ کے اذن سے، آپ نے ہجرت کا فیصلہ فرما لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ رسول کو ہجرت کا حکم اسی وقت دیتا ہے جب قوم کے رویہ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر ایمان قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے اور اس کی مکابرت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اگر اس کا مزید تعاقب کیا گیا تو اندیشہ ہے کہ خدانخواستہ وہ رسول کو قتل کر دے۔ اس مرحلے میں رسول کے لیے یہ بات بالکل معقول ہوتی ہے کہ وہ قوم اور قوم کے معبودوں سے اپنی کامل بیزاری کا اعلان کر کے ان سے الگ ہو جائے اور چونکہ رسول کی دعوت سے کفر اور اسلام دونوں کی اچھی طرح وضاحت ہو چکتی ہے اس وجہ سے جو بھی اس میں سے کسی ایک کو اختیار کرتا ہے، اس کے متعلق اس شبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ اس نے کفر یا اسلام میں سے کسی کو بے سمجھے بوجھے اختیار کیا ہے اس وجہ سے اگر اس دور میں رسول کفر پر اڑے رہنے والوں کو ’اے کافرو‘ سے خطاب کرتا ہے تو یہ خطاب بالکل برمحل، جائز اور معقول ہوتا ہے۔
      اس سے ہمارے لیے یہ تعلیم نکلتی ہے کہ جو چیز کفر یا شرک ہے اس کو کفر یا شرک بتانا اور اس سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرنا تو ہر مسلمان کی ہر لمحہ ذمہ داری ہے لیکن کسی فرد یا گروہ کو کافر قرار دے کر اس سے اعلان براء ت کرنا یا اپنے جملہ روابط اس سے کاٹ لینا یا اس سے اعلان جنگ کر دینا بڑی احتیاط کا متقاضی ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کا مسئلہ بڑا ہی مشکل ہے جو اپنی ہر گمراہی کو اسلام بنائے ہوئے ہوں اور صحیح اسلام ان کے آگے پیش کرنے کا کوئی شرعی نظام موجود نہ ہو۔ اس طرح کے حالات میں صحیح راستہ یہی ہو سکتا ہے کہ آدمی غلطیوں اور گمراہیوں پر تنقید تو کرے اور لوگوں کے ان افعال میں شرکت سے اجتناب بھی کرے جو شرکت و بدعت کی نوعیت کے ہوں لیکن ان کو کافر قرار دے کر ان سے کلیۃً علیحدگی کااعلان اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے لیے مجبور نہ ہو جائے یا یہ باور کرنے کے لیے اس کے سامنے معقول وجوہ نہ آ جائیں کہ اس نے لوگوں پر حق واضح کر دیا اور یہ دوسری چیز نہایت مشکل ہے۔
      دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ شرک حقیقت میں کفر ہی ہے۔ دین میں ایمان صرف وہی معتبر ہے جو کامل توحید کے ساتھ ہو یعنی آدمی خدا کی ذات، اس کی صفات اور اس کے حقوق میں کسی دوسرے کو کسی پہلو سے بھی شریک نہ ٹھہرائے۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ایمان اور اس کی بندگی کا محتاج نہیں ہے کہ وہ ہر قسم کا ایمان اور ہر قسم کی بندگی قبول ہی کر لے اگرچہ اس میں شرک کی ملاوٹ بھی ہو۔ وہ اپنی بندگی اپنی شرائط پر چاہتا ہے، نہ کہ دوسروں کی شرائط پر، اس وجہ سے ہر وہ عمل خدا کے ہاں غیرمقبول ہے جو صرف اسی کے لیے نہ کیا گیا ہو بلکہ اس میں دوسروں کو بھی شریک کر دیا گیا ہو۔ قرآن کے فلسفہ کی رو سے اس شخص میں جو خدا کا منکر ہے اور اس شخص میں جو اس کو مانتا ہے لیکن خدائے واحد کی حیثیت سے نہیں بلکہ بہت سے دیوتاؤں میں سے ایک دیوتا یا سب سے بڑے دیوتا کی حیثیت سے مانتا ہے، کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ دونوں ہی خدا کے منکر یا دوسرے الفاظ میں کافر ہیں۔ اس لیے کہ شرک کے ساتھ خدا کو ماننا اس کی تمام اعلیٰ صفات کی نفی ہے اور صفات کی نفی کے ساتھ اس کو ماننا اس کے نہ ماننے کے ہم معنی ہے۔ قرآن نے یہاں ان مشرکوں کو کافر کہہ کر اسی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ شرک درحقیقت کفر ہی ہے، کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ یہ کسی درجے میں بھی کفر کے مقابلے میں اہون یا قابل لحاظ ہے۔

      جاوید احمد غامدی تم اعلان کرو، (اے پیغمبر) کہ اے کافرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ خطاب قریش کے ائمۂ کفر سے ہے۔ آگے کے مضمون سے واضح ہے کہ ’اے کافرو‘، کے صاف صاف الفاظ میں یہ خطاب اُس موقع پر ہوا ہے، جب اُن سے حتمی طور پر قطع تعلق اور براء ت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ اعلان براء ت رسولوں کی اُس سنت کے مطابق ہوا ہے جس کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے کہ اللہ کے رسول اپنی قوم کو پہلے دین کی بنیادی باتوں توحید اور قیامت کی دعوت دیتے ہیں۔ اِس دعوت میں وہ قوم کو ’اپنی قوم‘ ہی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہیں اور اِس پر اُس وقت تک پوری استقامت سے جمے رہتے ہیں، جب تک قوم کے اعیان و اکابر اپنے رویے سے اُن کو مایوس نہیں کر دیتے۔ جب وہ مایوس کر دیتے ہیں اور بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ہٹ دھرم اپنی ضد سے باز آنے والے نہیں ہیں، تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کو ہجرت کا حکم ہوتا ہے اور وہ قوم سے اعلان براء ت کرکے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہجرت کر جاتا ہے۔ رسول کی ہجرت قوم کے لیے گویا آخری تنبیہ ہوتی ہے۔ اِس کے بعد اگر اُس کے رویے میں کوئی اچھی تبدیلی نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ ایک محدود مہلت دینے کے بعد قوم کے تمام مکذبین کو تباہ کر دیتا ہے، خواہ یہ تباہی رسول کی زندگی ہی میں واقع ہو یا اُس کے بعد اور خواہ اِس کے لیے اللہ تعالیٰ کوئی قہر آسمانی نازل کرے یا رسول کے ساتھیوں کی تلوار اِس کے لیے بے نیام ہو۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۶۰۱)

      یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ ائمۂ قریش کی یہ تکفیر خدا کی طرف سے ہے اور اِس بنا پرکی گئی ہے کہ مخاطبین نے اتمام حجت کے درجے تک دعوت و تبلیغ اور تذکیر و تلقین کے بعد بھی رسول کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ چنانچہ معلوم ہے کہ آگے جس مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے، وہ بالکل صحیح ثابت ہوئی۔ اِن مکذبین میں سے کوئی بھی ایمان لانے والا نہیں بنا، بلکہ سب اپنے غرور اور انانیت کا شکار ہو کر عذاب الٰہی سے دوچار ہو گئے۔ رسولوں کے بعد کوئی فرد یا جماعت بھی اِس طرح اتمام حجت نہیں کر سکتی اور نہ اُسے خدا کی طرف سے اعلان تکفیر کا اذن حاصل ہو سکتا ہے۔ اِس وجہ سے اب کوئی شخص کسی دوسرے کی تکفیر نہیں کر سکتا، الاّ یہ کہ وہ خود اپنے کفر کا اعلان کرے۔ حق کے داعی زیادہ سے زیادہ جو کچھ کر سکتے ہیں، وہ یہی ہے کہ زندگی کے آخری مرحلے تک کفر و شرک کی حقیقت لوگوں پر واضح کرتے رہیں اور اُن کے اُن افعال میں شرکت سے اجتناب کریں جو شرک و بدعت کی نوعیت کے ہوں۔

       

    • امین احسن اصلاحی نہ میں پوجوں گا جن چیزوں کو تم پوجتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سمجھوتے کی پیشکش کا جواب: کفر کے سرغنوں کو خطاب کر کے یہ ان کی اس پیش کش کا جواب ہے جو وہ باہمی سمجھوتے کے لیے کر رہے تھے۔ فرمایا کہ میں ان چیزوں کو نہیں پوجوں گا جن کو تم پوجتے ہو۔ گویا پہلے ہی فقرے میں ان کی توقع کا خاتمہ کر دیا۔
      عام طور پر لوگوں نے ’لَآ اَعْبُدُ‘ کو حال کے مفہوم میں لیا ہے لیکن اس کو حال کے مفہوم میں لینا صاحب کشاف کے نزدیک عربیت کے خلاف ہے اور میرے نزدیک ان کی رائے صائب ہے۔ مضارع پر جب اس طرح ’لَا‘ آئے گا تو وہ مضارع کو لازماً مستقبل کے مفہوم میں کر دے گا۔ حال کے مفہوم کے لیے ’لَا‘ نہیں بلکہ ’مَا‘ کا استعمال موزوں ہے۔
      علاوہ ازیں حال سے متعلق کسی نفی یا اثبات کا کوئی خاص فائدہ بھی نہیں۔ قریش میں سے ہر شخص کوعلم تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان بتوں میں سے کسی کو نہیں پوجتے۔ پھر ان کو یہ بتانے سے کیا فائدہ کہ میں ان کو نہیں پوجتا جن کو تم پوجتے ہو؟ سمجھوتے کی تجویزیں پیش کرنے سے ان کا اصلی مقصد تو یہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس رویے میں کچھ لچک پیدا کریں جس میں دوسرے معبودوں کے لیے سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں رہی ہے۔ ان کی اس توقع پر ضرب لگ سکتی تھی تو اسی صورت میں لگ سکتی تھی جب ان کو آئندہ کے لیے یہ یقین دلا دیا جائے کہ خدا کی توحید کے باب میں آپ کوئی لچک قبول کرنے والے نہیں ہیں۔
      سورۂ قلم کی آیت ’وَدُّوْا لَوْ تُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ‘؂۱ (القلم ۶۸: ۹) (وہ چاہتے ہیں کہ تم کچھ نرم پڑو تو وہ بھی نرم پڑ جائیں گے) کے تحت ہم واضح کر چکے ہیں کہ قریش اپنے جبر و ظلم کے تمام حربے آزما کر ہجرت سے کچھ پہلے پہلے یہ اندازہ کر چکے تھے کہ اسلام کی روز افزوں ترقی کو روکنا ان کے امکان میں نہیں رہا۔ اب اگر کچھ امکان ہے تو صرف یہ ہے کہ دباؤ ڈال کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ ’’کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کے اصول پر معاملہ کرنے کی طرف مائل ہوں یعنی جس طرح ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ایک مقام تسلیم کرتے ہیں اسی طرح آپ ہمارے بتوں کے لیے بھی عبادت میں ایک حق تسلیم کر لیں تو یہ جھگڑا ختم ہو جائے۔ ان کو توقع تھی کہ دباؤ ڈال کر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا موقف تسلیم کرا لیں گے چنانچہ انھوں نے اپنا پورا زور صرف کر دیا یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حالات سے مجبور ہو کر ہجرت کی راہ اختیار کرنی پڑی لیکن دین کی بنیاد چونکہ توحید ہی پر ہے اس وجہ سے ہجرت کے امتحان سے گزرنا گوارا کر لیا گیا لیکن اس معاملے میں کوئی لچک گوارا نہیں کی گئی بلکہ صاف صاف ’لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ‘ کا اعلان کر دیا گیا۔
      _____
      ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد ہفتم، صفحات: ۵۱۶-۵۱۷۔

      جاوید احمد غامدی میں اُن کی عبادت نہیں کروں گا جن کی عبادت تم کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں:’لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ‘۔ اِن میں مضارع پر’لَآ‘ ہے۔ یہ دلیل ہے کہ یہ ایک قطعی فیصلہ ہے جس سے مستقبل میں شرک و توحید کے مابین سمجھوتے کی ہر توقع بالکل ختم کر دی گئی ہے ۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ مجھ سے یہ امید اب کسی کو نہیں رکھنی چاہیے کہ اپنے پروردگار کی عبادت کے معاملے میں میں تمھارے ساتھ کوئی سمجھوتا کروں گا۔ اِس طرح کی خواہش اگر کسی کے دل میں ہے تو وہ اُسے ہمیشہ کے لیے ختم کر لے۔ شرک و توحید کے مابین ہرگز کوئی مصالحت نہیں ہو سکتی۔ میں اِس باب میں کوئی لچک قبول کرنے والا نہیں ہوں۔ لہٰذا تمھارے تمام معبودوں سے اظہار براء ت کرتا ہوں۔

    • امین احسن اصلاحی اور نہ تم پوجنے کے جسے میں پوجتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک حقیقت نفس الامری کا اظہار: ساتھ ہی ان کو اس حقیقت نفس الامری سے بھی حضور نے آگاہ فرما دیا کہ تم جو یہ گمان کیے بیٹھے ہو کہ تم اس خدا کو پوجنے والے ہو یا بن جاؤ گے جس کو میں پوجتا ہوں تو تمہارا یہ گمان محض گمان ہے۔ میرے پروردگار کی بندگی کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ بندگی صرف اسی کا حق ہے، اس میں کوئی دوسرا اس کا ساجھی نہیں ہے۔ تم اگر اپنے دیویوں دیوتاؤں سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہو تو اس کے پرستار بھی نہیں بن سکتے۔ یہ تمہارا محض مغالطہ ہے کہ تم اپنے کوخدا کی عبادت کرنے والا سمجھتے ہو۔ خدا کی عبادت کے ساتھ کوئی اور عبادت جمع نہیں ہو سکتی۔ اس کی بندگی میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تم اپنے تمام معبودوں کو باہر چھوڑ کر آؤ۔ اگر اس کی بندگی کے ساتھ تم نے ان کی بندگی بھی جمع کرنے کی کوشش کی تو اپنے معبودوں کے پرستار تو بے شک رہو گے لیکن خدا کی بندگی میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔
      مشرکین کے معبودوں کے لیے ’مَا تَعْبُدُوْنَ‘ کا استعمال بالکل ٹھیک ہے اس لیے کہ وہ فرضی اور وہمی چیزوں کی پوجا کرتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے ’مَآ اَعْبُدُ‘ کا استعمال کچھ کھٹکتا ہے۔ یہ مجانست کے اسی اصول پر استعمال ہوا ہے جس کی مثالیں عربی زبان اور قرآن دونوں میں معروف ہیں۔ مثلاً ’دِنَّاھُمْ کَمَا دَانُوْا‘ یا ’جَزآؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُھَا‘ (الشوریٰ ۴۲: ۴۰) وغیرہ۔ اس اسلوب پر اس کے محل میں مفصل گفتگو ہو چکی ہے۔؂۱ 
      _____
      ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد ۷، صفحہ ۱۸۱۔

      جاوید احمد غامدی اور نہ تم کبھی (تنہا) اُس کی عبادت کرو گے جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اللہ تعالیٰ کے لیے ’مَآ اَعْبُدُ‘کے الفاظ مجانست کے اسلوب پر آئے ہیں’لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ‘ کے بعد یہ جملہ بتا رہا ہے کہ مخاطبین کی طرف سے بھی یہ توقع ختم ہو گئی ہے کہ وہ خدا کو اُس طرح پوجنے کے لیے تیار ہو جائیں گے، جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم شرک کی ہر آلایش سے پاک ہو کر خالص اُسی کو پوج رہے تھے۔ اُن کے رویے سے صاف واضح تھا کہ وہ اپنے دیوی دیوتاؤں سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اِس کے معنی یہ تھے کہ وہ خدا کے پرستار نہیں بن سکتے، اِس لیے کہ خدا اپنی بندگی میں کبھی کوئی شراکت قبول نہیں کرتا۔

    • امین احسن اصلاحی اور نہ میں پوجنے والا ہوا جن کو تم نے پوجا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ماضی سے متعلق موقف کا اظہار: اوپر کا اعلان تو، جیسا کہ واضح ہوا، مستقبل سے متعلق ہے۔ اب یہ ماضی سے متعلق بھی آپ نے اپنا موقف واضح فرما دیا کہ ماضی میں بھی کبھی میں ان چیزوں کا پرستار نہیں رہا ہوں جن کی تم نے پرستش کی۔ صاحب کشاف نے اس آیت کی یہی تاویل کی ہے اور مجھے زبان اور نظام دونوں پہلوؤں سے یہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔
      ’وَلَآ اَنَا عَابِدٌ‘ کا جملہ اسمیہ ہے! اس وجہ سے اس کے حاضر، ماضی اور مستقبل میں سے کسی کے ساتھ مقید ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تینوں زمانوں کے ساتھ یکساں مربوط ہو سکتا ہے بشرطیکہ قرینہ ان میں سے کسی کو ترجیح نہ دے دے۔ یہاں ’مَّا عَبَدْتُّمْ‘ چونکہ ماضی ہے اس وجہ سے یہ واضح قرینہ ہے کہ ’وَلَآ اَنَا عَابِدٌ‘ کی نفی ماضی ہی سے متعلق ہے یعنی میں پہلے بھی کبھی ان چیزوں کا پوجنے والا نہیں رہا ہوں جن چیزوں کو تم نے پوجا۔
      کلام کا فائدہ: اس کلام کا فائدہ یہ ہو گا کہ اس اعلان براء ت کی شدت میں اس سے بڑا اضافہ ہو جائے گا جو اوپر کی آیت میں کیا گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہو گا کہ جب میں تمہارے ان بتوں کو اپنی زندگی کے اس دور میں بھی کبھی خاطر میں نہیں لایا جب میں شرف نبوت سے مشرف اور نور وحی سے منور نہیں ہوا تھا تو اب جب کہ میں براہ راست اپنے رب سے ہدایت حاصل کر رہا ہوں تمہاری اس ضلالت میں کس طرح مبتلا ہو سکتا ہوں۔ مطلب یہ ہوا کہ کوئی دور بھی میری اور تمہاری زندگی میں اگر ایسا گزرا ہوتا جب میں تمہارے اس دین شرک میں شریک رہا ہوتا تو تم مجھ سے یہ توقع کر سکتے تھے کہ شاید میں سابق دین پھر اختیار کرنے پر آمادہ ہو جاؤں گا لیکن جب میرا دامن جاہلیت میں بھی شرک سے داغ دار نہ ہوا تو اب مجھ سے اس کی توقع تم کیسے کر رہے ہو!

      جاوید احمد غامدی اور نہ (اِس سے پہلے) میں کبھی اُن چیزوں کی عبادت کے لیے تیار ہوا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر کی بات مستقبل سے متعلق تھی۔ یہ اُس پر ماضی و حال کی شہادت پیش کی ہے۔ ’لَآ اَنَا عَابِدٌ‘ جملہ اسمیہ ہے۔ اِس میں نفی ماضی سے متعلق ہے۔ ’مَا عَبَدْتُّمْ‘ کے الفاظ اِس کا واضح قرینہ ہیں۔ اِس سے، اگر غور کیجیے تو اعلان براء ت کی شدت میں بڑا اضافہ ہو گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب میں نبوت کی روشنی حاصل ہو جانے سے پہلے کبھی تمھارے معبودوں کو خاطر میں نہیں لایا تو اب جبکہ میرا پروردگار براہ راست مجھ سے ہم کلام ہے اور اُس کی کتاب مجھ پر نازل ہو رہی ہے تو میں تمھاری اِس ضلالت میں کس طرح مبتلا ہو سکتا ہوں۔ میری دعوت تمھارے سامنے ہے۔ نبوت کے بعد بھی برسوں سے تم مجھے دیکھ رہے ہو۔ تمھیں معلوم ہے کہ میں شرک کی غلاظت کے قریب بھی جانے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوا۔ پھر کس طرح توقع کرتے ہو کہ آگے کبھی اِس کے لیے تیار ہو جاؤں گا؟

    • امین احسن اصلاحی اور نہ تم پوجنے والے ہوئے جسے میں پوجتا آ رہا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آیت کا تعلق دور ماضی سے ہے: یہ آیت لفظاً تو آیت ۳ کا اعادہ ہے اس وجہ سے تکرار کا شبہ پیدا ہوتا ہے لیکن معناً یہ اس سے مختلف ہے۔ اس کا تعلق آیت ۴ کی طرح دور ماضی سے ہے جب کہ آیت ۳ کا تعلق، جیسا کہ واضح ہوا مستقبل سے ہے۔ یعنی قریش کے لیڈروں کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ تم اگر اس مغالطے میں مبتلا ہو کہ ماضی میں تم بھی اسی معبود کی پوجا کرتے رہے ہو جس کی میں پوجا کرتا رہا ہوں تو یہ محض تمہاری خام خیالی ہے۔ شرک کے ساتھ میرے معبود کی پرستش کا، جیسا کہ اوپر واضح ہوا، کوئی امکان ہی نہیں ہے اور تم شرک سے کبھی پاک نہیں ہوئے اس وجہ سے نہ میں کبھی تمہارا دینی بھائی بنا نہ تم میرے دینی بھائی بنے تو یہ توقع تم کس طرح کرتے ہو کہ اپنی اس گندگی میں لتھڑے ہوئے تم مجھے اپنا دینی بھائی بنانے میں کامیاب ہو جاؤ گے!
      یہاں باوّل وہلہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مطلب آیت کا یہ ہے، جو ہم نے اختیار کیا ہے تو ’مَآ اَعْبُدُ‘ کی جگہ ’مَا عَبَدْتُّ‘ کیوں نہیں فرمایا؟ اس کا جواب صاحب کشاف نے یہ دیا ہے کہ ’مَا عَبَدْتُّ‘ اس لیے نہیں فرمایا کہ اس دور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی بندگی نہیں کی اس وجہ سے آپ نے اس کا حوالہ نہیں دیا بلکہ صرف حال کا حوالہ دیا لیکن یہ جواب بالکل غلط ہے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام بعثت سے پہلے بھی فطرت سلیم پر تھے اور توحید چونکہ دین فطرت ہے اس وجہ سے وہ کبھی فطرت کے خلاف شرک میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ساتھ ہی وہ لازماً اپنے رب کی کسی نہ کسی شکل میں عبادت بھی کرتے رہے ہیں اگرچہ وہ طریقہ انھوں نے اپنے اجتہاد سے اختیار کیا ہو یا دین کی سابق روایات سے اخذ کیا ہو۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعثت سے پہلے بھی عبادت کرتے تھے۔ اگرچہ اس کا طریقہ واضح طور پر ہمارے سامنے نہیں ہے تاہم اتنی بات معلوم ہے کہ اس کی بنیاد حنیفیت پر تھی جس کی روایت حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کے زمانے سے کسی نہ کسی شکل میں چلی آ رہی تھی۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک ’مَا عَبَدْتُّ‘ نہ کہنے کی وہ وجہ صحیح نہیں ہے جو صاحب کشاف نے بیان کی ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ آپ کا تعلق صرف ماضی ہی تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ نے جس طرح ماضی میں اپنے رب ہی کی عبادت کی اسی طرح آپ حاضر میں بھی اسی کی عبادت پر قائم تھے اس وجہ سے آپ نے ’مَآ اَعْبُدُ‘ فرمایا جس سے تسلسل اور استمرار کا اظہار ہو رہا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ تم اس خدا کے پوجنے والے ماضی میں بھی نہ بنے جس کی بندگی میں نے ماضی میں بھی کی اور اب بھی اس پر قائم و دائم ہوں۔

      جاوید احمد غامدی اور نہ تم کبھی (تنہا) اُس کی عبادت کے لیے تیار ہوئے، جس کی عبادت میں کرتا رہا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      پچھلے جملے نے اِس جملے کو بھی ماضی سے متعلق کر دیا ہے۔ چنانچہ ’مَآ اَعْبُدُ‘ سے پہلے یہاں ایک فعل ناقص حذف ماننا چاہیے۔ یہ استمرار پر دلالت کرے گا اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ میں جس خدا کی بندگی ہمیشہ سے کرتا رہا ہوں اور اب بھی اُس پر قائم ہوں، تم ماضی میں بھی کبھی اُس کے پوجنے والے نہیں بنے۔ شرک کے ساتھ اگر تم نے اُس کی پرستش کی بھی ہے تو درحقیقت نہیں کی، اِس لیے کہ شرک کے ساتھ میرے معبود کی پرستش کا کوئی امکان نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آشکارا اعلان براء ت: یعنی جب میرے دین اور تمہارے دین میں کوئی اشتراک ماضی میں نہ ہوا، نہ حاضر میں ہے تو آئندہ کس طرح توقع کرتے ہو کہ ہم کسی ایک نقطہ پر مجتمع ہو سکیں گے۔ اس وجہ سے سمجھوتے کی توقع بالکل لاحاصل ہے۔ میرے لیے میرا دین ہے اور تمہارے لیے تمہارا دین۔ میں اپنے طریقہ پر کام کرتا ہوں اور تم اپنے طریقہ پر کام کرو اور دیکھو کہ انجام کار میری بات سچی ثابت ہوتی ہے یا تمہاری۔ یہی بات سورۂ انعام میں یوں ارشاد ہوئی ہے:

      ’قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ‘ (الانعام ۶: ۱۳۵)
      (کہہ دو، اے میری قوم کے لوگو، تم اپنی جگہ پر کام کرو، میں اپنی جگہ پر کام کرتا ہوں)

      سورۂ ہود آیت ۹۳ اور سورۂ زمر آیت ۳۹ میں بھی دوسرے رسولوں سے یہی کلمات نقل ہوئے ہیں اور مقصود اس سے صرف اس بحث و جدال کے دروازے کو بند کرنا ہے جو مخالفین اس مقصد سے کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے موقف کو بھی تسلیم کرنے پر آمادہ ہوں۔ اس اعلان سے آپ نے ان کو آخری آگاہی دے دی کہ نہ آپ دین سے ذرہ برابر ہٹنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ان کے دین کے لیے ہی کوئی مقام تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں۔
      حضرت ابراہیم کے اعلان کا اعادہ: عام طور پر لوگوں نے اس آیت کو رواداری کے مفہوم میں لیا ہے حالانکہ یہ کفار کے رویہ سے بیزاری بلکہ انجام کار کے اعتبار سے ان سے ابدی مفارقت اور اعلان جنگ کے مفہوم میں ہے۔ مختصر الفاظ میں یہ وہی اعلان ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے کیا تھا، جس کا حوالہ قرآن نے ان الفاظ میں دیا ہے:

      قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبْرٰھِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِھِمْ اِنَّا بُرَءٰٓ ؤُا مِنْکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗٓ.(الممتحنہ ۶۰: ۴)
      ’’تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ یاد کرو جب کہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور ان چیزوں سے جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو بالکل بری ہیں، ہم نے تمہارے عقیدے کا انکار کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت اور نفرت آشکارا ہو گئی تا آنکہ تم اللہ وحدہٗ لاشریک لہ پر ایمان لاؤ۔‘‘

      حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے اصحاب کا یہ اسوۂ حسنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے سامنے رکھا ہی اس لیے گیا تھا کہ اسی طرح کا اعلان براء ت آپ اور آپ کے صحابہ اپنی قوم سے کریں۔ چنانچہ اسی کی پیروی میں یہ اعلان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اس کے اندر رواداری کی گنجائش کس طرح پیدا ہو سکتی ہے۔ کلام کے سیاق و سباق اور نظم کی رعایت ملحوظ نہ رکھنے سے ایک بہت بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ بیزاری اور رواداری کے کلمہ میں امتیاز سے بھی قاصر رہ جاتے ہیں اور یہ آیت اس کی ایک نہایت عبرت انگیز مثال ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (اِس لیے اب) تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ رواداری کا کوئی پیغام نہیں ہے، بلکہ منکرین سے انتہائی بے زاری اور ابدی مفارقت کا اعلان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں تم سے بری اور تم مجھ سے بری۔ میرے اور تمھارے درمیان اب کسی سمجھوتے یا مصالحت کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ تم اپنی بات پر قائم ہو تو میں بھی پوری استقامت کے ساتھ اپنی بات پر قائم ہوں۔ شرک اور توحید میں نہ پہلے کبھی پیوند لگا ہے، نہ اب لگ سکتا ہے، اِس لیے انتظار کرو، میں بھی انتظار کرتا ہوں۔ ہم میں سے کون حق پر ہے، اِس کا فیصلہ عنقریب آسمان سے صادرہو جائے گا۔

    Join our Mailing List