Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 9 آیات ) Al-Humazah Al-Humazah
Go
  • الھمزۃ (The Scandalmonger, The Traducer, The Gossipmonger)

    9 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور ترتیب بیان

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ العصر ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ دونوں کے مضمون میں نہایت واضح مناسبت، جو باوّل وہلہ سامنے آتی ہے، یہ ہے کہ سابق سورہ میں فلاح پانے والے انسانوں کا کردار یہ بیان ہوا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو حق و صبر کی تلقین کرتے ہیں اور اس سورہ میں اس کے بالکل ضد کردار یعنی ان بخیلوں کا کردار بیان ہوا ہے جو روپیہ گن گن کر رکھتے ہیں اور لوگوں کو ادائے حقوق پر ابھارنا تو درکنار، کسی کو اگر دیکھ پائیں کہ وہ ادائے حقوق کے معاملے میں عملاً و قولاً سرگرم ہے تو اپنے طعن و طنز اور ہمز و لمر سے اس کا قافیہ تنگ کر دیتے ہیں اور ان کی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح اس کا حوصلہ اتنا پست کر دیں کہ وہ بھی انہی کی طرح بے حس و بے غیرت بن کر رہ جائے تاکہ اس کی بخالت پر پردہ پڑا رہے اور اس کی دعوت و تلقین سے ان کے ضمیر کو خِفّت و ندامت کی اذیت سے دوچار نہ ہونا پڑے۔

    قرآن نے بخیل سرمایہ داروں کے اس کردار کی طرف جگہ جگہ اشارہ کیا ہے۔ مثلاً سورۂ توبہ میں فرمایا ہے:

    اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوۡنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقَاتِ وَالَّذِیْنَ لاَ یَجِدُوۡنَ إِلاَّ جُہْدَہُمْ فَیَسْخَرُوۡنَ مِنْہُمْ سَخِرَ اللہُ مِنْہُمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ (التوبہ ۹: ۷۹)

    ’’جو لوگ خوش دلی سے انفاق کرنے والے اہل ایمان پر ان کے صدقات کے باب میں نکتہ چینی کرتے ہیں اور جو غریب اپنی محنت و مزدوری ہی سے انفاق کرتے ہیں تو ان پر پھبتیاں چست کرتے ہیں، اللہ نے ان کا مذاق اڑایا اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔‘‘

    اس آیت کے تحت ہم نے تدبر قرآن میں جو کچھ لکھا ہے اس کا ضروری حصہ ہم یہاں نقل کیے دیتے ہیں تاکہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے:

    ’’’مُتَطَوِّعٌ‘ اور ’مُطَّوِّعٌ‘ دونوں ایک ہی لفظ ہیں۔ ’مُطَّوِّعٌ‘ اس کو کہتے ہیں جو صرف فرائض و واجبات ہی ادا کر لینے پر قناعت نہ کر بیٹھے بلکہ اپنی خوشی اور حوصلہ مندی سے نفلی نیکیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔‘‘ ’’’لَمْزٌ‘ کے معنی عیب لگانا، ہجو کرنا، مذمت کرنا۔‘‘ ’’اوپر کی آیات میں یہ بیان ہوا ہے کہ منافقین نہ صرف یہ کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو بھی خدا کی راہ میں خرچ کرتے دیکھ نہیں سکتے۔ جس کو خرچ کرتے دیکھتے ہیں اس کو فوراً ہمز و لمز کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ جو فیاض اور مخلص مسلمان اپنی فیاضی اور خوش دلی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کو تو کہتے ہیں کہ یہ ریاکار اور شہرت پسند ہے، اپنی دین داری کی دھونس جمانے کے لیے خرچ کر رہا ہے۔ اور جو غریب بے چارے کچھ رکھتے ہی نہیں، بس اپنی محنت مزدوری کی گاڑھی کمائی ہی میں سے کچھ اللہ کی راہ میں دیتے ہیں ان کی حوصلہ شکنی کے لیے یہ ان کا مذاق اڑاتے اور ان پر پھبتیاں چست کرتے ہیں کہ لو، آج یہ بھی اٹھے ہیں کہ حاتم کا نام دنیا سے مٹا کے رکھ دیں گے۔‘‘

    ’’بخیلوں اور کنجوسوں کی نفسیات کا یہ پہلو ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں کہ اپنی بخالت پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے ان کی کوشش ہمیشہ یہ رہتی ہے کہ دوسرے بھی بخیل بنے رہیں۔ نکٹا دوسروں کو بھی نکٹا ہی دیکھنا چاہتا ہے تاکہ اسے کوئی نکٹا کہنے والا باقی نہ رہے۔ یہی نفسیات ان بخیلوں کی بھی تھی۔ پھر اس سے ان کے اسلام دشمنی کے جذبہ کو بھی تسکین ہوتی تھی۔ وہ نہ خود خدا کی راہ میں کوڑی خرچ کرنا چاہتے تھے، نہ اس بات پر راضی تھے کہ کوئی دوسرا خرچ کرے۔ اپنی اس خواہش کے برخلاف جب دوسروں کو دیکھتے کہ وہ اسلام کے لیے اس دریا دلی سے لٹا رہے ہیں گویا اپنے ہی گھر بھر رہے ہیں، یہاں تک کہ مزدور اپنی مزدوری میں سے، بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر، اس خوشی سے دیتا ہے گویا اپنی آدھ سیر کھجور یا جَو کے عوض دولت کونَین خرید رہا ہے تو ان بخیلوں کے سینہ پر سانپ لوٹ جاتا۔ وہ غصہ سے کھولتے اور حسد سے جلتے پھر اپنے دل کا بخار طعن و تشنیع، طنز اور پھبتی سے نکالتے۔‘‘ (تدبر قرآن جلد سوم، صفحات: ۲۰۲-۲۰۳)

    بخیلوں کا یہ کردار ان کی بے بسی کی تصویر ہے۔ بخالت کے سبب سے نہ یہ حوصلہ ان کے اندر ہوتا کہ ادائے حقوق کے میدان میں سبقت کر سکیں اور نہ ادائے حقوق کی دعوت دینے والوں کی زبانیں ہی بند کر سکتے۔ اپنی مدافعت کی واحد تدبیر ان کے پاس صرف یہ رہ جاتی ہے کہ ان لوگوں کا مذاق اڑائیں اور ان پر پھبتیاں چست کریں جن کی دعوت سے ان کی پردہ دری ہو رہی ہو۔ ان کی یہ کوشش چونکہ اپنے باطن پر پردہ ڈالنے کی تھی اس وجہ سے قرآن نے اس سورہ میں ان کے ظاہر و باطن کے ہر گوشہ کو اچھی طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

    یہ امر واضح رہے کہ ان سورتوں میں اگرچہ اصلاً زیربحث بخیلوں کا کردار ہے لیکن یہی کردار ان لوگوں کا بھی ہوتا ہے جو دوسری اخلاقی کمزوریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ وہ بھی اپنے سے برتر کردار رکھنے والوں کا مقابلہ ہمیشہ اپنے ہمز و لمز سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قوم لوط کے گنڈوں نے جب دیکھا کہ حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی دعوت اصلاح کے مقابل میں ان کے لیے اپنی آبرو بچانا دشوار ہو رہا ہے تو بجائے اس کے کہ وہ اپنے رویہ کی اصلاح کرتے انھوں نے حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں پر فقرے چست کرنے شروع کر دیے کہ

    إِنَّہُمْ أُنَاسٌ یَتَطَہَّرُوْنَ (النمل ۲۷: ۵۶) ’’یہ لوگ بڑے پارسا بنتے ہیں‘‘۔

    اور قوم کو ابھارا کہ ان لوگوں کو ملک سے باہر نکالو، ورنہ یہ پوری قوم کو ذلیل کر دیں گے۔

  • الھمزۃ (The Scandalmonger, The Traducer, The Gossipmonger)

    9 آیات | مکی
    العصر - الھمزۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ خدا کے جس قانون مجازات کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے قریش کی قیادت کو اُس کے انجام پر متنبہ کیا گیا ہے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- العصر—- کا موضوع خدا کے اُس قانون مجازات کو ثابت کرنا ہے جس کے مطابق خدا کی عدالت قریش کے لیے اپنا فیصلہ صادر کرنے والی تھی۔

    دوسری سورہ—- الھمزۃ—- کا موضوع اِسی قانون کے حوالے سے اُن کی قیادت کو اُس کے انجام سے خبردار کرنا ہے جو دولت کے غرور میں مبتلا اور پیغمبر کے مقابلے میں سرکشی، تضحیک اور عیب چینی کے رویے پر مصر تھی۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی ہلاکی ہو ہر اشارہ باز، عیب جُو کے لیے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک ہی کردار کے دو پہلو: ’ہَمْزٌ‘ کے معنی اشارہ بازی کرنے اور ’لَمْزٌ‘ کے معنی عیب لگانے کے ہیں۔ ’ہُمَزَۃٌ‘ اور ’لُمَزَۃٌ‘ مبالغہ کے صیغے ہیں اور اسی سورہ میں آگے ’حُطَمَۃٌ‘ بھی اسی وزن پر آیا ہے۔ ’ہُمَزَۃٌ‘ کے معنی اشارہ باز اور ’لُمَزَۃٌ‘ کے معنی عیب جُو اور عیب چیں کے ہیں۔ اشارہ بازی کا تعلق زیادہ تر حرکتوں اور اداؤں سے ہے اور عیب جُوئی کا تعلق زبان سے۔ یہ دونوں ایک ہی کردار کے دو پہلو ہیں۔ جب کسی کا مذاق اڑانا، اس کا تہتک کرنا اور اس کو دوسروں کی نگاہوں سے گرانا مقصود ہو تو اس میں اشارہ بازی سے بھی کام لیتے ہیں اور زبان سے بھی۔ اشارہ بازی سے کسی کی تضحیک و تحقیر کے جو پہلو پیدا کیے جا سکتے ہیں بسا اوقات وہ زبان کی فقرہ بازیوں سے زیادہ کارگر ہوتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے ’ہُمَزَۃٌ‘ کو مقدم رکھا ہے۔
      ’ہمز و لمز‘ کی عادت مہذب اور شائستہ سوسائٹی میں ہمیشہ عیب سمجھی گئی ہے۔ تمام آسمانی مذاہب میں اس کی ممانعت وارد ہے۔ قرآن مجید میں نہایت واضح الفاظ میں اس سے روکا گیا ہے:

      وَلَا تَلْمِزُوْآ أَنفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْأَلْقَابِ (الحجرات ۴۹: ۱۱)
      ’’اور اپنے آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور ایک دوسرے پر پھبتیاں چست نہ کرو۔‘‘

      دعوت حق کا مقابلہ اوچھے ہتھیاروں سے: لیکن جدید جاہلیت کی طرح قدیم جاہلیت میں بھی اس فن کو بڑا فروغ حاصل رہا ہے۔ اِس زمانے میں جس طرح اخباروں میں مزاحیہ کالم بھی ہوتے ہیں اور کارٹون بھی چھپتے ہیں جو اشاروں کی زبان میں حریفوں کی تضحیک کرتے ہیں اسی طرح قدیم زمانے میں نقال، بھانڈ اور فقرہ باز ہوتے تھے جو اجرت لے کر شریفوں کی پگڑیاں اچھالتے اور اپنے سرپرستوں کا جی خوش کرتے۔ سورۂ قلم میں قریش کے لیڈروں اور ان کے گنڈوں پر قرآن نے جو جامع تبصرہ کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے بھی مسلمانوں کی ’تَوَاصِیْ بِالْحَقِّ وَالصَّبْرِ‘ کی دعوت کو اسی حربے سے شکست دینے کی کوشش کی جو حربے اس زمانے کے پیشہ ور لیڈر اپنے حریفوں کو شکست دینے کے لیے اختیار کرتے ہیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ان ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہنے کی ہدایت فرمائی گئی:

      وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ ۵ ہَمَّازٍ مَّشَّآءٍ بِنَمِیْمٍ ۵ مَنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ ۵ عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ ۵ أَنۡ کَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِیْنَ (القلم ۶۸: ۱۰-۱۴)
      ’’اور تم ہر لپاٹیے ذلیل کی بات کا دھیان نہ کرو۔ اشارہ باز اور لگانے بجھانے والے کا۔ بھلائی سے روکنے والا، حدود سے تجاوز کرنے والا اور حق کو تلف کرنے والا۔ اجڈ مزید برآں چاپلوس۔ بوجہ اس کے کہ وہ مال و اولاد والا ہوا۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی تباہی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو (تم پر) اشارے کرتا اور (تمھیں) عیب لگاتا ہے، (اے پیغمبر)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      پہلی چیز کا تعلق حرکتوں اور اداؤں سے ہے اور دوسری کا زبان سے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ دونوں ایک ہی کردار کے دو پہلو ہیں۔ جب کسی کا مذاق اڑانا، اُس کا تہتک کرنا اور اُس کو دوسروں کی نگاہوں سے گرانا مقصود ہو تو اِس میں اشارہ بازی سے بھی کام لیتے ہیں اور زبان سے بھی۔ اشارہ بازی سے کسی کی تضحیک و تحقیر کے جو پہلو پیدا کیے جا سکتے ہیں، بسااوقات وہ زبان کی فقرہ بازیوں سے زیادہ کارگر ہوتے ہیں۔ شاید اِسی وجہ سے ’ھُمَزَۃ‘ کو مقدم رکھا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۹/ ۵۴۸)

      یہ اگر غور کیجیے تو اشاروں کی زبان میں مضحکہ اڑانے اور پھبتیاں چست کرنے کا وہی طریقہ ہے جو اخبارات کے فکاہی کالموں، کارٹونوں اور لیڈروں وغیرہ کے بیانات کی صورت میں اب بھی دیکھ لیا جا سکتا ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی جس نے مال سمیٹا اور اس کو گنتا رہا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      بخیل سرمایہ داروں کی نہایت جامع تصویر: یعنی حقوق کی یاددہانی اور نصیحت کرنے والوں کو تو انھوں نے ہمز و لمز کے حربے سے چپ کرنے کی کوشش کی اور خود مال جمع کرنے اور اس کو گن گن کر سینتنے میں لگے رہے۔ مال کے حریص و بخیل مال داروں کی یہ نہایت جامع تصویر ہے۔ ان کا دل و دماغ ہمیشہ اپنے سرمایہ کے حساب و کتاب میں لگا رہتا ہے۔ کس کاروبار میں کتنا منافع ہوا ہے؟ فلاں سرمائے سے یافت کی کتنی توقع ہے؟ فلاں خسارہ جو ہوا ہے اس کی تلافی کی کیا صورت ہو گی؟ اگلے سال تک سرمایہ کی مجموعی مقدار کہاں تک پہنچ جائے گی؟ اسی طرح کے سوال ہمیشہ ان کے دل و دماغ پر مستولی رہتے ہیں۔ اگر کسی نے ذکر کیا کہ فلاں نے غریبوں اور یتیموں کی امداد کے لیے اتنا خرچ کیا ہے تو اس پر پھبتی چست کر دی کہ شیخی باز ہے، اپنی دولت مندی کی دھونس جماتا ہے۔ آخر ہم بھی تو ڈھیروں مال لٹاتے ہیں لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔

      جاوید احمد غامدی یہ جس نے مال جمع کیا اور اُسے گن گن کر رکھا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ نہایت جامع تصویر ہے۔انسان بخیلی کا خوگر ہو تو مال کی حرص میں مبتلا ہو جاتا ہے، پھر اِسی طرح سرمایے کے حساب و کتاب میں لگا رہتا ہے۔

      zakah
    • امین احسن اصلاحی گویا اس کے مال نے اس کو زندہ جاوید کر دیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      بخیلوں کے باطن پر انہماک کا عکس: یہ ان کے اس انہماک کے باطن پر عکس ڈالا گیا ہے کہ یہ انہماک پتہ دیتا ہے کہ وہ گویا یہ خیال کیے بیٹھے ہیں کہ یہ مال ان کو زندۂ جاوید رکھے گا۔ اگر وہ جانتے کہ یہ مال بھی فانی اور ان کی زندگی بھی فانی ہے تو وہ مال کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے میں سبقت کرتے جو ان کی ابدی زندگی میں کام آنے والا ہوتا لیکن اس کی محبت میں ان کا یہ استغراق پتہ دیتا ہے کہ وہ اس مال ہی میں اپنی زندگی پا گئے ہیں۔ اسی ذہنیت کی تصویر سورۂ شعراء میں کھینچی گئی ہے:

      أَتَبْنُوۡنَ بِکُلِّ رِیْعٍ آیَۃً تَعْبَثُوۡنَ ۵ وَتَتَّخِذُوۡنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُوۡنَ (الشعراء ۲۶: ۱۲۸-۱۲۹)
      ’’کیا تم ہر بلندی پر عبث یادگاریں تعمیر کرتے اور شان دار محل تعمیر کرتے رہو گے گویا تمہیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔‘‘

      آدمی کے باطن کا سراغ دینے والی اصل چیز اس کی زبان نہیں بلکہ اس کی زندگی کا رویہ ہے۔ جو آدمی اسی دنیا کو اپنی منزل سمجھتا ہے اس کی زندگی اس شخص کی زندگی سے بالکل مختلف ہوتی ہے جو اس دنیا کو منزل نہیں بلکہ راہ سمجھتا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ جو شخص آخرت کا قائل اور اس کا طالب ہو وہ اپنا مال گن گن کر اس دنیا کے بنکوں اور تجوریوں میں رکھے بلکہ وہ اپنا مال اپنے خداوند کے پاس رکھتا ہے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ

      ’’تو اپنا مال اپنے خداوند کے پاس رکھ اس لیے کہ جہاں تیرا مال رہے گا وہیں تیرا دل بھی رہے گا۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی اِس کا خیال ہے کہ اِس کے مال نے اِسے حیات جاوداں بخش دی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس کا باطن ہے۔ اِس لیے کہ مال اور زندگی کو فانی سمجھتا تو کبھی یہ رویہ اختیار نہ کرتا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’آدمی کے باطن کا سراغ دینے والی اصل چیز اُس کی زبان نہیں، بلکہ اُس کی زندگی کا رویہ ہے۔ جو آدمی اِسی دنیا کو اپنی منزل سمجھتا ہے، اُس کی زندگی اُس شخص کی زندگی سے بالکل مختلف ہوتی ہے جو اِس دنیا کو منزل نہیں ، بلکہ راہ سمجھتا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ جو شخص آخرت کا قائل اور اُس کا طالب ہو، وہ اپنا مال گن گن کر اِس دنیا کے بنکوں اور تجوریوں میں رکھے، بلکہ وہ اپنا مال اپنے خداوند کے پاس رکھتا ہے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ’’ تو اپنا مال اپنے خداوند کے پاس رکھ، اِس لیے کہ جہاں تیرا مال رہے گا، وہیں تیرا دل بھی رہے گا۔‘‘‘‘(تدبر قرآن ۹/ ۵۴۹)

       

      zakah
    • امین احسن اصلاحی ہرگز نہیں، وہ چُور چُور کر دینے والی میں پھینکا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      بخیلوں کے سرمایہ کا حشر: ’کَلَّا‘ یہاں اس خیال باطل کی تردید کے لیے ہے جو ’یَحْسَبُ أَنَّ مَالَہٗٓ أَخْلَدَہ‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ فرمایا کہ ہرگز نہیں، وہ بھی اور اس کا یہ سارا اندوختہ بھی چُور چُور کر دینے والی میں پھینک دیا جائے گا۔ ’حُطَمَۃٌ‘ ’حطم‘ کے مادہ سے ہے جس کے معنی چُور چُور کر دینے کے ہیں۔ یہ بھی ’ہُمَزَۃٌ‘ اور ’لُمَزَۃٌ‘ کے وزن پر ہے اس وجہ سے اس کے اندر بھی مبالغہ کا مفہوم موجود ہے۔

      جاوید احمد غامدی ہرگز نہیں، یہ ضرور اُس میں پھینکا جائے گا جو توڑ کر رکھ دے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور تم کیا سمجھے کہ چُور چُور کر دینے والی کیا ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ سوال اس کی ہولناکی کے بیان کے لیے ہے کہ اس کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھو۔ وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے!
      اس آگ کو ’حطمۃ‘ یعنی چُور چُور کر دینے والی کی صفت سے تعبیر کرنے کی حکمت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ بخیل سرمایہ دار اپنی دولت اس زمانے میں سونے چاندی کی اینٹوں، زیورات، ظروف اور جواہرات وغیرہ کی شکل میں محفوظ کرتے تھے۔ اس طرح کی دولت کو برباد کرنے کے لیے چُور چُور کر دینے کی تعبیر زیادہ موزوں ہے یعنی یہ ساری دولت جلا کر اور چُور چُور کر کے پراگندہ کر دی جائے گی کہ جو لوگ اس کو حیات جاوداں کی ضامن سمجھے بیٹھے تھے وہ اس کا حشر دیکھیں۔

      جاوید احمد غامدی اور تمھیں کیا معلوم کہ جو توڑ کر رکھ دے گی، وہ کیا ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ کی ایک خاص صفت: یہ اس ’حُطمۃ‘ کی وضاحت ہے کہ یہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر جا چڑھے گی۔ یعنی اس کا خاص مزاج یہ ہو گا کہ وہ سب سے پہلے ان دلوں کو پکڑے گی جن میں مال کی محبت اس طرح رچی بسی رہی ہے کہ اس نے خدا اور آخرت کی یاد کے لیے کوئی جگہ ان کے اندر باقی نہیں چھوڑی۔ اس آگ کی مطلوب غذا چونکہ انہی دلوں کے اندر ہو گی اس وجہ سے اس کا سب سے پہلا حملہ انہی پر ہو گا۔ اس زمانے میں خاص خاص چیزوں کے تعاقب کے لیے ایسے آلات ایجاد ہو گئے ہیں جو دور ہی سے اپنے شکار کو بھانپ لیتے اور ازخود ان کا پیچھا شروع کر دیتے ہیں یہاں تک کہ ان کو مار گراتے ہیں۔ یہی حال اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی اس آگ کا ہو گا۔ یہ ان دلوں پر خود بخود جا چڑھے گی۔ جو مال کے عشق میں گرفتار اور اللہ کے حاجت مند بندوں کے حقوق سے بے پروا رہے۔

      جاوید احمد غامدی اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی جو دلوں پر جا چڑھے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ کی ایک خاص صفت: یہ اس ’حُطمۃ‘ کی وضاحت ہے کہ یہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر جا چڑھے گی۔ یعنی اس کا خاص مزاج یہ ہو گا کہ وہ سب سے پہلے ان دلوں کو پکڑے گی جن میں مال کی محبت اس طرح رچی بسی رہی ہے کہ اس نے خدا اور آخرت کی یاد کے لیے کوئی جگہ ان کے اندر باقی نہیں چھوڑی۔ اس آگ کی مطلوب غذا چونکہ انہی دلوں کے اندر ہو گی اس وجہ سے اس کا سب سے پہلا حملہ انہی پر ہو گا۔ اس زمانے میں خاص خاص چیزوں کے تعاقب کے لیے ایسے آلات ایجاد ہو گئے ہیں جو دور ہی سے اپنے شکار کو بھانپ لیتے اور ازخود ان کا پیچھا شروع کر دیتے ہیں یہاں تک کہ ان کو مار گراتے ہیں۔ یہی حال اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی اس آگ کا ہو گا۔ یہ ان دلوں پر خود بخود جا چڑھے گی۔ جو مال کے عشق میں گرفتار اور اللہ کے حاجت مند بندوں کے حقوق سے بے پروا رہے۔

      جاوید احمد غامدی جو دلوں تک پہنچے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُن دلوں تک پہنچے گی جو خدا کے خوف سے خالی، حاجت مندوں کے حقوق سے بے پروا اور مال و دولت کی محبت میں غرق رہے۔ اِس آگ کی پسندیدہ غذا یہی دل ہوں گے۔ اِس لیے سب سے پہلے یہ اِنھی پر حملہ آور ہو گی۔

    • امین احسن اصلاحی اس میں وہ موندے ہوئے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ آگ ان پر اس طرح بھڑکے گی اور اوپر سے وہ ڈھانک بھی دی جائے گی کہ تپش کا کوئی حصہ ضائع نہ ہو بلکہ سب کا سب ان کے جلانے ہی میں صرف ہو۔ ’اَوْ صَد الباب‘ کے معنی ہوں گے، دروازے کو بند کر دیا۔ یہ آگ بھی بھٹہ اور پزاوہ کی آگ کی طرح اوپر سے ڈھانک دی جائے گی تاکہ وہ پوری قوت کے ساتھ اپنا عمل کرے۔

      جاوید احمد غامدی یہ (سرکش) اُس میں موندے ہوئے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی لمبے ستونوں میں جکڑے ہوئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ ان کی ذلت اور بے بسی کی تصویر ہے کہ اس آگ کے اندر وہ لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ، بھاری بھاری زنجیروں سے، جکڑے ہوئے بھی ہوں گے کہ اپنی جگہ سے ہل نہ سکیں۔ یہاں ستونوں کا ذکر ہے، سورۂ حاقہ میں اسی طرح کے مجرموں کے لیے زنجیر کا بھی ذکر ہے۔ فرمایا ہے:

      خُذُوۡہُ فَغُلُّوۡہُ ۵ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوۡہُ ۵ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُہَا سَبْعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسْلُکُوۡہُ ۵ إِنَّہٗ کَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللہِ الْعَظِیْمِ ۵ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ (الحاقہ ۶۹: ۳۰-۳۴)
      ’’اس کو پکڑو، پھر طوق ڈالو، پھر دوزخ میں داخل کرو، پھر ایک زنجیر میں جس کا طول ستّر گز ہے، اس کو جکڑو۔ یہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور مسکین کو کھلانے پر نہیں ابھارتا تھا۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی اونچے ستونوں میں (جکڑ کر باندھے ہوئے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List