Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 11 آیات ) Al-Adiyat Al-Adiyat
Go
  • العادیات (The Courser, The Chargers)

    11 آیات | مکی
    سورہ کا مضمون اور ترتیب بیان

    اس سورہ میں انسان کے ناشکرے پن پر اس کو تنبیہ اور ملامت ہے۔ اس کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ اس دنیا میں وہ جو کچھ بھی حاصل کرتا ہے ان وسائل و ذرائع ہی سے حاصل کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو بخشے ہیں لیکن وہ اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ جب سب کچھ خدا کی عنایت سے حاصل ہوا ہے تو اس پر خدا کے جو حقوق عائد ہوتے ہیں ان کو ادا کرنا بھی واجب ہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ خدا کا کوئی حق تسلیم نہیں کرتا بلکہ علانیہ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی قوتیں اور صلاحیتیں خود اسی کے خلاف استعمال کرتا ہے اور اس بات کی ذرا پروا نہیں کرتا کہ ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جس دن کوئی چیز بھی ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی بلکہ سینوں کے راز تک بھی اگلوا لیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پورے علم کے ساتھ ہر ایک کا محاسبہ کرے گا اور ہر شخص کو جزا یا سزا دے گا۔

    گویا اس سورہ کاا صل مضمون تو وہی ہے جو سابق سورہ ۔۔۔ الزلزال ۔۔۔ کا ہے لیکن دونوں میں یہ فرق ہے کہ اُس میں اس دن کی تصویر ہے جس دن یہ سب کچھ ہو گا اور اِس سورہ میں اس کی دلیل بیان ہوئی ہے جس کی وضاحت ان شاء اللہ آگے آئے گی۔

    ترتیب بیان اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے تصرف میں جو حیوانات دیے ہیں ان میں سے خاص طور پر جنگی گھوڑوں کی ان جاں فشانیوں، جاں بازیوں اور قربانیوں کا بطریق قسم حوالہ دیا ہے جو وہ اپنے آقا یعنی انسان کی اطاعت و خدمت کی راہ میں کرتے ہیں اور پھر انسان کی ناشکری و ناسپاسی پر اس کو ملامت کی ہے کہ آخر وہ اپنے ان غلاموں اور مملوکوں کی اس وفادارانہ روش سے یہ سبق کیوں نہیں سیکھتا کہ وہ بھی کسی مالک کا مملوک، کسی رب کا مربوب اور کسی آقا کا غلام ہے اور اس پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بھی انہی کی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اس کی بندگی اور اس کے احکام کی اطاعت میں سرگرم رہے۔

    آخر میں انسان کے بخل اور اس کی زرپرستی پر ملامت کی ہے کہ وہ پاتا تو سب کچھ خدا سے ہے لیکن وہ اسی سے اپنے مال کو بچانے اور چھپانے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ کہاں اور کب تک چھپائے گا! ایک دن زمین کے سارے دفینے اور دلوں کے سارے راز آشکارا ہو کر رہیں گے! عاقل وہ ہیں جو اس دن کے لیے تیاری کریں۔

  • العادیات (The Courser, The Chargers)

    11 آیات | مکی
    الزلزال - العٰدیٰت

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ قیامت کی جس صورت حال سے قریش کو متنبہ کرتی ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے اُن کے اُس رویے پر اُنھیں خبردار کیا گیا ہے جو اپنے اوپر خدا کی بے پناہ عنایتوں کے باوجود وہ اُس کے معاملے میں اختیار کیے ہوئے تھے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الزلزال — کا موضوع قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ قیامت کے بارے میں وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ اُس دن کوئی چیز بھی خدا سے چھپی نہ رہے گی۔ چھوٹی بڑی، ہر نیکی اور برائی پوری قطعیت کے ساتھ انسان کے سامنے آجائے گی۔

    دوسری سورہ — العٰدیٰت — کا موضوع اُنھیں اِس حقیقت سے خبردار کرنا ہے کہ اُن کے گردوپیش میں ہر طرف لوٹ اور بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔ یہ محض حرم سے اُن کا تعلق ہے جس کی بنا پر وہ اِس ماحول میں امن سے رہ رہے ہیں۔ حق تو یہ تھا کہ خدا کی جو نعمتیں اِس گھرکے طفیل اُنھیں حاصل ہیں، اُن پر وہ اُس کا شکر ادا کرتے، لیکن اِس کے بجاے جو رویہ اُنھوں نے اختیار کر
    رکھا ہے، اُنھیں سوچنا چاہیے کہ اُس کے ساتھ اُن کا انجام کیا ہو گا۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی گواہی دیتے ہیں ہانپتے، دوڑنے والے گھوڑے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’عَادِیَاتٌ‘ سے مراد: ’عَادِیَاتٌ‘ کے معنی دوڑنے والے کے ہیں لیکن یہاں یہ جنگی گھوڑوں کی صفت کے طور پر آیا ہے، دلیل اس کی یہ ہے کہ آگے چار صفتیں، جو ترتیب کے ساتھ آئی ہیں، وہ جنگی گھوڑوں کے سوا کسی اور چیز پر منطبق نہیں ہوتیں۔ بعض لوگوں نے اس سے مزدلفہ میں اونٹوں کو مراد لیا ہے، لیکن اس کا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ آگے کی صفتیں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اونٹوں کی نہیں ہو سکتیں۔
      ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس سے غازیوں کے گھوڑے مراد ہیں۔ لیکن اس تخصیص کے لیے بھی کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ خاص طور پر مقسم علیہ سے تو یہ بات بالکل ہی بے جوڑ ہو جائے گی۔ مقسم علیہ یہاں

      ’إِنَّ الْإِنۡسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوۡدٌ‘ (۶)
      (بے شک انسان اپنے رب کا نہایت ناشکرا ہے)

      ہے، اس مقسم علیہ کو غازیوں اور مجاہدین کے گھوڑوں کے ساتھ کیا ربط ہو سکتا ہے!
      یہ قول اور اوپر مزدلفہ کے اونٹوں سے متعلق جس قول کا حوالہ گزرا ہے یہ دونوں قول اس عام وہم پر مبنی ہیں کہ جس چیز کی قسم کھائی جائے ضروری ہے کہ وہ کوئی مقدس چیز ہو۔ ہم اس وہم کی تردید اس کتاب میں جگہ جگہ کر چکے ہیں کہ مقسم بہ کے لیے مقدس ہونا کوئی ضروری بات نہیں ہے بلکہ اصل اہمیت رکھنے والی چیز اس کا اس دعوے پر شہادت ہونا ہے جو اس کے بعد مذکور ہوتا ہے۔ آگے ہم تفصیل سے بتائیں گے کہ گھوڑوں کی قسم کن کن پہلوؤں سے انسان کی ناشکری و ناسپاسی کی دلیل ہے۔
      ’ضَبْحٌ‘ وہ خاص آواز نکالنے کے لیے آتا ہے جو گھوڑے ہانپتے ہوئے اپنے نتھنوں سے نکالتے ہیں۔ ان کے ہانپنے کا یہ خاص انداز اس بات کی کھلی شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے ان کو انسان کی محکومی میں دیا ہے اس کو وہ نہایت وفاداری و جاں نثاری سے پورا کرنے والے اور انسان کی مقصد برآری میں اپنی طاقت کا آخری قطرہ بھی نچوڑ کر رکھ دینے والے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی ہانپتے دوڑتے گھوڑے گواہی دیتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’الْعٰدِیٰت‘ استعمال ہوا ہے۔ اِس کے معنی دوڑنے والے کے ہیں۔ آگے کی صفات سے واضح ہے کہ اِس سے مراد دوڑنے والے گھوڑے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی ٹاپوں کی ٹھوکر سے چنگاریاں نکالنے والے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زبان کا ایک اسلوب: ’ف‘ کے ذریعہ سے جب عطف ہوتا ہے تو، جیسا کہ ہم اس کے محل میں وضاحت کر چکے ہیں، ترتیب پر بھی دلیل ہوتا ہے اور اس بات پر بھی کہ تمام صفتیں ایک ہی موصوف سے تعلق رکھنے والی ہیں۔
      ’مُوۡرِیَاتٌ‘، ’اِیْرَاءٌ‘ سے ہے جس کے معنی چقماق یا کسی چیز سے آگ نکالنے کے ہیں۔
      ’قَدْحٌ‘ ضرب لگانے، ٹھوکر لگانے اور ایک چیز کو دوسری سے ٹکرانے کے معنی میں یہاں ہے۔
      انسان کی مقصد برآری میں گھوڑوں کی سرگرمی اور آتش زیرپائی: یہ انسان کی مقصد برآری میں گھوڑوں کی سرگرمی اور آتش زیر پائی کی تعبیر ہے کہ وہ اس طرح دوڑتے ہیں کہ ان کی سموں کی ٹھوکر سے چنگاریاں جھڑتی ہیں۔ گھوڑوں کے چونکہ آہنی نعل ہوتے ہیں اس وجہ سے جب وہ دشمن پر دھاوا کرنے کے لیے پتھریلی زمینوں پر دوڑتے ہیں تو ان کی سموں کی ضرب سے چقماق کی طرح چنگاریاں نکلتی ہیں۔ گویا وہ اپنے مالکوں کی رضا جوئی میں آگ کے انگاروں پر دوڑ رہے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی پھر ٹاپوں سے چنگاریاں جھاڑتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اور اِس سے آگے تمام صفات ’ف‘کے ساتھ عطف ہوئی ہیں۔ عربیت کی رو سے یہ عطف ترتیب پر بھی دلالت کرتا ہے اور اِس بات پر بھی کہ یہ تمام صفات ایک ہی موصوف سے متعلق ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی صبح کے وقت دھاوا کرنے والے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ وہ اصل مقصد بیان ہوا ہے جس کے لیے وہ یہ جان بازی کرتے ہیں یعنی وہ دشمنوں اور حریفوں پر شب خون مارتے ہیں۔ عرب میں حریفوں پر غارت گری کا سب سے موزوں وقت صبح ہی کا سمجھا جاتا تھا اس وجہ سے یہاں ’صُبْحًا‘ کی قید لگی ہوئی ہے۔ ان کے ہاں غارت گری کے الارم کے طور پر ’وَاصَبَاحًا‘ کا جو نعرہ تھا اس میں بھی صبح کا حوالہ اسی پہلو سے ہے، یہاں تک کہ لفظ ’صَبَّح‘ عربی میں حملہ اور غارت گری کے لیے ایک معروف لفظ بن گیا۔

      جاوید احمد غامدی پھر صبح دم دھاوا کرتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِس لیے کہا ہے کہ عرب میں دشمنوں پر غارت گری کا سب سے موزوں وقت یہی سمجھا جاتا تھا۔ ’وا صباحا‘ کے نعرے میں صبح کا حوالہ اِسی پہلو سے ہے۔ لفظ ’صبح‘ اِسی بنا پر عربی زبان میں حملے اور غارت گری کے لیے ایک معروف لفظ بن گیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی دوڑ سے غبار اٹھانے والے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اِثَارَۃٌ‘ کے معنی اٹھانے اور ابھارنے کے اور ’نَقْعٌ‘ کے معنی گرد و غبار کے ہیں۔
      ’بِہ‘ میں ’ب‘ ظرف کے مفہوم میں لیجیے اور ضمیر کا مرجع ’صُبْحًا‘ قرار دیجیے تو مطلب یہ ہو گا کہ جب وہ صبح کو غارت گری کرتے ہیں تو اس وقت وہ گرد و غبار کا ایک طوفان اٹھا دیتے ہیں۔ یعنی ان کا حملہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا کسی جانب سے ایک طوفانی آندھی آ گئی۔
      اور اگر ’بِہ‘ کو اس تگاپو سے متعلق مانیے جو ’عٰدِیٰت‘ کے اندر مضمر ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اپنی اس تگاپو سے غبار ابھار دیتے ہیں۔
      دونوں ہی شکلوں میں مقصود اس کلام سے ان کی جنگی اہمیت کا اظہار ہے۔ یعنی ان کا آنا نسیم صبح کا آنا نہیں بلکہ ایک آندھی کا آنا ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی پھر اُس میں غبار اڑاتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں:’فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا‘۔ اِن میں ’ب‘ ظرف کے لیے ہے اور ضمیر کا مرجع وہ تگاپو ہے، جو پیچھے لفظ ’مُغِیْرٰت‘ سے مفہوم ہوتی ہے، یعنی دھاوا کرنے کی اِس تگاپومیں غبار اڑاتے۔

    • امین احسن اصلاحی اور غبار کے ساتھ غول میں گُھس جانے والے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’بِہٖ‘ میں ’ب‘ یہاں ملابست کے مفہوم میں اور ضمیر کا مرجع ’نَقْعًا‘ ہے۔ یعنی وہ اسی آندھی اور طوفان کے ساتھ دشمن کے ایک پورے غول کے اندر گھس جاتے ہیں اور اس کے نیزوں اور تلواروں کی ذرا پروا نہیں کرتے۔ انھیں اپنی جانوں سے زیادہ اپنے مالکوں کا مقصد عزیز ہوتا ہے۔ اس کی خاطر وہ ہر خطرے سے بے خوف ہو کر اقدام کرتے ہیں اور یہی ان کے شایان شان ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور اُسی کے ساتھ مجمع میں گھس جاتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُسی غبار کے ساتھ۔ اصل میں ’فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’ب‘ ملابست کے مفہوم میں ہے اور ضمیر کا مرجع’نَقْعًا‘ ہے۔
      ابتدا سے یہاں تک یہ اُس غارت گری اور لوٹ مار کی تصویر ہے جس سے قریش کے سوا عرب کا کوئی قبیلہ اُس زمانے میں محفوظ نہ تھا۔

    • امین احسن اصلاحی کہ انسان اپنے رب کا نہایت ناشکرا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اصل دعویٰ: یہ وہ اصل بات ہے جس پر شہادت کے لیے اوپر کی قسمیں کھائی گئی ہیں۔
      ’کَنُوْدٌ‘ کے معنی ہیں ناشکرا، ناسپاس، تنہا خور، اپنے مالک کی عنایتوں کا ناقدرا۔
      مطلب یہ ہے کہ جو انسان گھوڑوں کی یہ ساری جاں نثاریاں دیکھتا ہے اور ان کی قربانیوں سے بہرہ مندہ ہوتا ہے لیکن اسے یہ سونچنے کی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ بھی اپنے رب کا غلام ہے اور اس پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بھی انہی کی طرح اپنے رب کی اطاعت میں سرگرم و سینہ سپر رہے، وہ نہایت ناشکرا اور لئیم ہے۔ کیونکہ وہ جانور ہو کر اپنے مالک کا حق پہچانتے ہیں اور یہ انسان ہو کر اپنے خداوند کا حق نہیں پہچانتا۔
      گھوڑوں کے خاص طور پر ذکر کی وجہ: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ گھوڑوں کا ذکر بطور مثال ہے۔ یہی وفاداری و جاں نثاری ان تمام حیوانات میں پائی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے مسخر کیے ہیں۔ چنانچہ قرآن نے جگہ جگہ ان کا بھی ذکر کر کے انسان کی حس شکر کو ابھارا ہے۔ خاص طور پر اونٹ کی صلاحیتوں اور خدمتوں کا ذکر تو قرآن میں متعدد جگہ آیا ہے۔ اس کی خدمت، اس کی جفاکشی اور اس کے صبر سے انسان کو سبق لینے کی دعوت دی گئی ہے کہ جس طرح وہ اپنے آقا کی تابع داری کرتا ہے اسی طرح انسان کا فرض ہے کہ اپنے اس آقا کی تابع داری کرے جس نے اونٹ جیسے عظیم اور کثیر المنافع جانور کو اس کی تابع داری میں دے دیا ہے۔
      گھوڑوں کے خصوصیت سے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ جنگ اور دفاع کے لیے خاص طور پر اس اس دور میں، بڑی اہمیت رکھتے تھے جب ہر خاندان اور قبیلہ کی حفاظت کی ذمہ داری خود خاندان و قبیلہ پر عائد ہوتی تھی۔ اس زمانے میں ہر شخص کو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کے لیے اصیل جنگی گھوڑے رکھنے پڑتے تھے اور ان گھوڑوں کی ان کے ہاں بڑی عظمت و اہمیت تھی۔ یہ گھوڑے عربی شاعری کا خاص موضوع ہیں۔ یہاں اشعار نقل کرنے کی گنجائش نہیں ہے محض ان کے ذوق کا اندازہ کرنے کے لیے کسی حماسی کا ایک شعر نقل کرتا ہوں جو بالکل بروقت زبان قلم پر آ گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے:

      وفی فرس نھد عتیق جعلتہ
      حجابا لبیتی ثم اخدمتہ عبدا

      (اور میں اپنا مال ایک جوان اور اصیل گھوڑے کے لیے خرچ کرتا ہوں جس کو میں نے اپنے گھر کا پاسبان بنایا ہے اور پھر میں نے اس کی خدمت کے لیے ایک غلام رکھ چھوڑا ہے)

      انسان کے لیے خاص درس: گھوڑوں کی یہ قدر و قیمت، ظاہر ہے کہ، ان کی خدمات اور جاں بازیوں کی بنا پر ہے جو وہ انسان کی انجام دیتے ہیں۔ اگر یہ خدمتیں وہ انجام نہ دیتے تو انسان نہ ان پر اپنا مال خرچ کرتا اور نہ اپنے قصیدوں میں ان کی مدح سرائی کرتا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان اس حقیقت سے ناواقف نہیں ہے کہ غلام کی قدر و قیمت کا انحصار اس کی خدمات پر ہے لیکن خود اپنے معاملے میں وہ اس حقیقت کو فراموش کر جاتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ جس رب کا غلام ہے حکم تو اس کا ایک نہ مانے لیکن انعام دنیا اور آخرت دونوں میں سب سے بڑھ کر پائے۔
      انسان کی ناشکری کا ایک اور پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ انسان نہ گھوڑوں ہی کا خالق ہے اور نہ ان چیزوں ہی کا خالق ہے جن پر ان کی پرورش کا انحصار ہے تاہم وہ نہایت بے جگری سے انسان کی خدمت محض اس وجہ سے کرتے ہیں کہ خدا نے ان کو اس کی خدمت میں لگا دیا ہے۔ اس کے برعکس انسان کا حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا بھی خالق ہے اور اس کے کام آنے والے تمام جانوروں اور معاش و معیشت کے جملہ اسباب و وسائل کا بھی لیکن وہ خدا کی بندگی کے حقوق و فرائض سے بے پروا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی کہ (حرم کے سایۂ امن میں رہنے والا) یہ انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ بڑا ہی نا شکرا اورلئیم ہے وہ انسان جو اِس لوٹ مار اور غارت گری کو شب و روز اپنے گردوپیش میں دیکھتا ہے اور جانتا ہے کہ وہ اگر اِس سے محفوظ ہے تو اِسی وجہ سے محفوظ ہے کہ اُسے حرم کی تولیت حاصل ہے، جانتا ہے کہ یہ گھر اور اِس کی برکتیں نہ ہوتیں تو اُس پر بھی اُسی طرح دھاوے ہوتے، جس طرح دوسروں پر ہو رہے ہیں، لیکن اِس کے باوجود سرکشی پر آمادہ ہے اور اُس خدا کو جھٹلا رہا ہے جس کی عنایتوں سے امن و آشتی کی یہ نعمت اُسے عطا ہوئی ہے۔

      zakah
    • امین احسن اصلاحی اور وہ اپنے رویہ پر خود گواہ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے: فرمایا کہ اس کے اس ناشکرے پن پر کوئی دلیل قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ خود اس پر سب سے بڑا گواہ ہے۔ یہ فقرہ اسی طرح کا ہے جس طرح سورۂ قیامہ میں فرمایا ہے:

      ’بَلِ الْإِنۡسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ ۵ وَلَوْ أَلْقٰی مَعَاذِیْرَہُ‘ (القیامہ ۷۵: ۱۴-۱۵)
      (بلکہ انسان خود اپنے اوپر حجت ہے اگرچہ وہ کتنے ہی عذرات تراشے)۔

      جو باتیں انسان کی فطرت کے بدیہی مقتضیات میں سے ہیں وہ دلیل کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ان کے حق میں سب سے بڑی گواہی خود انسان کی فطرت اور اس کے ضمیر کے اندر موجود ہوتی ہے۔ انسان اگر ان سے گریز اختیار کرتا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ ان کے حق میں اس کو کوئی دلیل نہیں ملی بلکہ ان کو اپنے نفس کی سفلی خواہشوں کے خلاف پاتا ہے اس وجہ سے ان سے گریز کے لیے بہانے تلاش کرتا ہے۔ ورنہ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ خود تو صرف انہی گھوڑوں کی قدر کرتا ہے جو اس کی کوئی قابل قدر خدمت انجام دیتے ہیں لیکن اپنے مالک اور رب کے متعلق یہ گمان رکھتا ہے کہ اس کے ہاں نیکو کار اور بدکار میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس نے ان کے ساتھ جو معاملہ اس دنیا میں کیا ہے اس سے بہتر معاملہ آخرت میں کرے گا، خواہ اس کے ایک حکم کی بھی وہ تعمیل نہ کرے بلکہ ساری زندگی اپنے نفس کی غلامی میں گزارے۔

       

      جاوید احمد غامدی حقیقت یہ ہے کہ وہ (اپنے) اِس (رویے) پر خود گواہ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی یہ بات محتاج دلیل نہیں ہے۔ اِس پر انسان کے اپنے ضمیر کی شہادت کافی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’جو باتیں انسان کی فطرت کے بدیہی مقتضیات میں سے ہیں، وہ دلیل کی محتاج نہیں ہوتیں۔ اُن کے حق میں سب سے بڑی گواہی خود انسان کی فطرت اور اُس کے ضمیر کے اندر موجود ہوتی ہے۔ انسان اگر اُن سے گریز اختیار کرتا ہے تو اِس وجہ سے نہیں کہ اُن کے حق میں اُس کو کوئی دلیل نہیں ملی، بلکہ اُن کو وہ اپنے نفس کی سفلی خواہشوں کے خلاف پاتا ہے، اِس وجہ سے اُن سے گریز کے لیے بہانے تلاش کرتا ہے۔‘‘(تدبر قرآن ۹/ ۵۰۳)

       

      zakah
    • امین احسن اصلاحی اور وہ دولت کا رسیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کردار کی گواہی: یہ اس کے ناشکرے پن پر اس کے کردار سے دلیل پیش کی ہے کہ وہ مال کی محبت میں غرق ہے۔ وہ اپنے گھوڑوں کو تو دیکھتا ہے کہ وہ جان کی بازی لگا کر اور نیزوں کے مقابل میں سینہ سپر ہو کر جو کچھ حاصل کرتے ہیں سب مالک کے حوالے کرتے ہیں، اپنے کسی حق کا مطالبہ نہیں کرتے، مالک جو کچھ ان کے آگے ڈال دیتا ہے اس پر قانع رہتے ہیں، لیکن اس کا حال یہ ہے کہ یہ جو کچھ اپنے رب کی بخشش و عنایات سے پاتا ہے اس کو اپنی تدبیر و قابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے اور اس پر مار گنج بن کر بیٹھ رہتا ہے، اس میں مالک کا کوئی حق تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتا اور اگر کوئی اس کے لیے اس کو یاددہانی کرے تو اس کو جواب دیتا ہے کہ اس کے مال کو خدا سے کیا تعلق۔ یہ تو اس نے اپنی محنت و قابلیت سے حاصل کیا ہے:

      ’إِنَّمَا أُوۡتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِندِیْ‘ (القصص ۲۸: ۷۸)
      (یہ تو مجھے اس علم کی بدولت ملا ہے جو میرے اپنے پاس ہے)۔

      لفظ ’خَیْر‘ یہاں مال کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں یہ عربی میں معروف ہے اور قرآن میں بھی یہ اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ محبت کی اصلی حق دار وہ ذات ہے جو انسان کی خالق و مالک ہے اور جس کے فضل سے انسان کو وہ سب کچھ ملتا ہے جو اس دنیا میں وہ پاتا ہے۔ چنانچہ قرآن نے سچے اہل ایمان کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ جب ان کے سامنے کوئی مرحلہ ایسا آتا ہے جس میں ان کے نفس اور ان کے رب کے مطالبات میں تصادم ہوتا ہے تو وہ اپنے رب کی محبت میں مضبوط ثابت ہوتے ہیں اور نفس کے مطالبے کو ٹھکرا دیتے ہیں:

      ’وَالَّذِیْنَ آمَنُوۡا أَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ‘ (البقرہ ۲: ۱۶۵)
      (اور جو اہل ایمان ہوتے ہیں وہ سب سے زیادہ سخت اللہ کی محبت میں ہوتے ہیں)۔

      اس کے برعکس حال ان لوگوں کا ہوتا ہے جو ناشکرے اور ناسپاس ہوتے ہیں، وہ اپنے رب سے زیادہ اپنے مال کے پرستار ہوتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اور حقیقت یہ ہے کہ وہ دولت کا متوالا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی حق و انصاف کے بجاے دولت کا متوالا ہے۔ چنانچہ یہی چیز اِس ناشکرے پن کا باعث بن گئی ہے۔

      zakah
    • امین احسن اصلاحی کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب قبریں اگلوائی جائیں گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زرپرست ناشکروں کو تنبیہ: یہ ناشکرے اور زرپرست انسانوں کو تنبیہ ہے کہ کیا وہ اس دن کو نہیں جانتے جب وہ سب کچھ جو قبروں میں ہے اگلوا لیا جائے گا اور جو کچھ لوگوں کے سینوں میں ہے وہ نکلوا لیا جائے گا۔ قبروں کے اندر سے مردوں کو نکلوانا تو بالکل واضح ہے لیکن یہاں یہ بات زرپرستوں کی تنبیہ کے سیاق میں فرمائی گئی ہے اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ اس سے وہ دفینے بھی مراد ہیں جو بخیل مال دار، خدا اور اس کے بندوں کے حقوق مار کر، زمینوں میں دفن کر چھوڑتے ہیں۔ ’بُعْثِرَ‘ کے معنی ہیں کسی جمع کی ہوئی چیز کو جائزہ لینے کے لیے پراگندہ اور متفرق کر دینا۔ یعنی اس دن کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی بلکہ ہر چیز سب کے سامنے آ جائے گی۔

      جاوید احمد غامدی پھر کیا وہ نہیں جانتا، جب قبریں اگلوائی جائیں گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور دلوں کے بھید نکلوائے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اعمال کے ریکارڈ کے ساتھ محرکات اعمال کا ریکارڈ بھی خدا کے سامنے ہو گا: ’وَحُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِ‘۔ یعنی دفینوں کی طرح سینوں کے سارے راز بھی اکٹھے کر لیے جائیں گے تاکہ ہر شخص پر حجت قائم کی جا سکے کہ کس نے کون سا عمل کس محرک کے تحت کیا ہے۔ یہ امر واضح رہے کہ کوئی شخص کتنا ہی غلط کام کرے لیکن وہ اس کو جائز ثابت کرنے کے لیے کوئی اچھا محرک تلاش کرنے کی ضرور کوشش کرتا ہے تاکہ اپنے ضمیر کو بھی چپ کر سکے اور دوسروں کی تنقید و تحقیر سے بھی اپنے کو بچا سکے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو اپنے کو مذہبی روپ میں پیش کرتے یا قیادت کے مقام پر فائز ہوتے یا ہونے کے متمنی ہوتے ہیں وہ تو اس کے بغیر کوئی کام کر ہی نہیں سکتے۔ وہ اپنے باطن کو خلق کی نگاہوں سے چھپائے رکھنے کے لیے اس طرح کا کوئی لبادہ ضرور ایجاد کر لیتے ہیں۔ اس قسم کے شاطروں کو اس آیت میں متنبہ فرمایا گیا ہے کہ اس دن ان کے اعمال کے ریکارڈ کے ساتھ ساتھ ان کے محرکات کا سارا ریکارڈ بھی ان کے اور ان کے رب کے سامنے ہو گا۔ سابق سورہ ۔۔۔ الزلزال ۔۔۔ کی آخری آیات کے تحت جو کچھ لکھا گیا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے تاکہ اس کے سارے پہلو واضح ہو جائیں۔

      جاوید احمد غامدی اور سینوں میں جو کچھ ہے، وہ (اُن سے) نکال لیا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے کہ ہر شخص پر حجت قائم کی جاسکے کہ اُس نے کون سا عمل کس نیت سے اور کس محرک کے تحت کیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بے شک اس دن ان کا رب ان سے اچھی طرح باخبر ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ بات اوپر والی تنبیہ ہی کو مؤکد کرنے کے لیے فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال اور ان کے محرکات سے اچھی طرح باخبر تو آج بھی ہے، لیکن آج ہر چیز کو آشکارا کرنا اس کی حکمت کے خلاف ہے۔ البتہ وہ دن اسی لیے ہو گا کہ سارا ریکارڈ ہر شخص کے سامنے رکھ دیا جائے۔ چنانچہ جب وہ رکھ دیا جائے گا تو دوسرے بھی جان لیں گے کہ ان کا رب ان کے ظاہر و باطن دونوں سے کتنا آگاہ ہے۔

      جاوید احمد غامدی بے شک ، اُن کا پروردگار اُس دن اُن (کی ہر چیز) سے خوب واقف ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List