Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 19 آیات ) Al-Alaq Al-Alaq
Go
  • العلق (The Clinging Clot, The Clot, Recite)

    19 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ التین ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ سابق سورہ میں تاریخی شواہد اور فطرت انسانی کی اعلیٰ ساخت سے یہ حقیقت نمایاں فرمائی ہے کہ انسان کے لیے فلاح کی راہ یہ ہے کہ وہ ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرے۔ جو لوگ یہ راہ اختیار نہیں کرتے وہ بالآخر تباہی کے کھڈ میں گر کے رہتے ہیں اور اپنے اس انجام کے وہ خود ہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اسی کلیہ کی روشنی میں اس سورہ میں قریش اور ان کے لیڈروں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ سیدھی راہ اختیار کرنے کے بجائے بالکل الٹی چال چل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو اپنے فضل و کرم سے ان کی رہنمائی کے لیے اپنا صحیفۂ ہدایت اتارا لیکن ان کے طغیان کا حال یہ ہے کہ اللہ کا جو بندہ ان کے لیے ایمان و عمل صالح کی راہ کھول رہا ہے یہ اس کے جانی دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ اپنے رب کی نماز پڑھتا ہے تو یہ شامت زدہ لوگ اس کے بھی روادار نہیں ہیں بلکہ اس سے بالجبر روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

  • العلق (The Clinging Clot, The Clot, Recite)

    19 آیات | مکی

    التین - العلق

    ​یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ خدا کے جس قانون مجازات کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے قریش کے بڑے سردار کو تہدید ہے کہ وہ اگر اپنی شرارتوں سے باز نہ آیا تو لازماً اُس کی زد میں آجائے گا۔ دونوں میں خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، لیکن روے سخن، اگر غور کیجیے تو قریش کے اُنھی سرداروں کی طرف ہے جن کی سرکشی اب اپنی انتہا کو پہنچ رہی تھی۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — التین — کا موضوع روز جزا کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو تنبیہ ہے کہ اُن پر خدا کی حجت ہر لحاظ سے پوری ہو گئی ہے، لہٰذا ضد اور ہٹ دھرمی کے سوا قیامت کو جھٹلانے کے لیے اب اُن کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

    دوسری سورہ — العلق — کا موضوع قریش کے بڑے سردار کو تہدید ہے کہ قرآن جیسی کتاب کے ذریعے سے تعلیم و تذکیر کے بعد بھی وہ اگر سرکشی پر قائم ہے تو اِس کا نتیجہ بھگتنے کے لیے تیار رہے۔ خدا کے سرہنگ بہت جلد اُسے گھسیٹ کر جہنم کے گہرے کھڈ میں ڈال دیں گے اور اُس کے اعوان وانصار میں سے کوئی بھی اُس کی کچھ مدد نہ کر سکے گا۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی پڑھ اپنے اس خداوند کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اقْرَا‘ بطریق دعوت سنانے کے معنی میں: لفظ ’اقْرَا‘ (پڑھو) صرف اسی مفہوم میں نہیں آتا جس مفہوم میں ایک استاد اپنے شاگرد سے کہتا ہے: پڑھو!، بلکہ یہ ’اقْرَا عَلی الناس‘ یا ’اُتل علی الناس‘ یعنی دوسروں کو بطریق دعوت سنانے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ لفظ اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ان کفار کو مخاطب کر کے جو قرآن کے سنانے میں مزاحم ہوتے تھے، فرمایا ہے:

      وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَأَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ (الاعراف ۷: ۲۰۴)
      ’’جب قرآن سنایا جائے تو اس کو توجہ سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘

      سورۂ بنی اسرائیل میں ہے:

      وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرآنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوۡنَ بِالۡآخِرَۃِ حِجَابًاً مَّسْتُوۡرًا (بنی اسرائیل ۱۷: ۴۵)
      ’’اور جب تم لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے ہو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک مخفی پردہ کھڑا کر دیتے ہیں۔‘‘

      قرینہ دلیل ہے کہ یہاں یہ لفظ اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔
      ایک نہایت اہم تنبیہ: ’بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ‘۔ یعنی اس قرآن کو اپنے اس خداوند کے نام سے پڑھ کر سناؤ جو سارے جہان کا خالق ہے۔ یہ ایک نہایت اہم تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ اس کو اپنے خداوند کے فرمان واجب الاذعان کی حیثیت سے پیش کرو تاکہ لوگ یہ جانیں کہ جو کلام ان کو سنایا جا رہا ہے وہ براہ راست رب دوجہان کا کلام ہے۔ نہ یہ داعی کا کلام ہے، نہ کسی اور شخص کا اور نہ یہ کسی سائل کی درخواست ہے کہ رد کر دی تو وہ دور ہو جائے۔ بلکہ یہ اس خالق و مالک کا کلام ہے جس کو حق ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو حکم دے اور لوگوں کا فرض ہے کہ وہ بے چون و چرا اس کی تعمیل کریں، اس کو کوئی معمولی چیز سمجھ کر ٹالنے، مذاق اڑانے یا اس کی مخالفت کرنے کی جسارت نہ کریں۔
      یہ امر ملحوظ رہے کہ قرآن مجید براہ راست اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس سے پہلے کسی کتاب کو یہ شرف حاصل نہیں کہ وہ کُل کی کُل اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ الفاظ پر مشتمل ہو۔ اس وجہ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت ہوئی کہ اس کو اپنے خداوند کے نام سے پیش کرو تاکہ اس کی اصلی عظمت لوگوں پر واضح ہو اور وہ اس کی مخالفت کر کے اپنی شامت نہ بلائیں۔ قدیم صحیفوں میں حضور سے متعلق جو پیشین گوئیاں ہیں ان میں بھی یہ بات واضح فرمائی گئی ہے کہ ’آپ جو کچھ کہیں گے خدا کے نام سے کہیں گے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے انتقام لے گا جو خدا کے نام پر کہی ہوئی اس کی باتوں کو رد کریں گے۔‘ گویا ان الفاظ سے قرآن کی اصلی عظمت بھی واضح کر دی گئی ہے اور قریش کو ڈرا بھی دیا گیا ہے کہ اگر وہ اس کی مخالفت کرنی چاہتے ہیں تو اپنے اس فعل کے انجام کو دور تک سونچ لیں۔

       

      جاوید احمد غامدی اِنھیں پڑھ کر سناؤ، (اے پیغمبر)، اپنے اُس پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’اِقْرَاْ‘ آیا ہے۔ یہ اِس آیت میں ’اقرأہ علیھم‘ کے معنی میں ہے، یعنی لوگوں کو پڑھ کر سناؤ۔ یہ بطریق دعوت سنانا ہے۔ قرآن میں یہ لفظ جگہ جگہ اِس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً سورۂ اعراف (۷) کی آیت ۲۰۴ اور سورۂ بنی اسرائیل (۱۷) کی آیت ۴۵ میں۔ قرآن کے بارے میں معلوم ہے کہ دعوت و انذار کے لیے وہ اِسی طرح پورا کا پورا لوگوں کو پڑھ کر سنایا گیا تھا۔
      یعنی اُس کے فرمان واجب الاذعان کی حیثیت سے پڑھ کر سناؤ تاکہ لوگ یہ جانیں کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں ہے، بلکہ پروردگار عالم کا کلام ہے جو اُن کا خالق اور مالک ہے اور اُنھیں جو حکم چاہے، دے سکتا ہے۔ لوگوں کو بے چون و چرا اُس کی تعمیل کرنی چاہیے۔ وہ اگر اُس کا مذاق اڑانے یا اُس کی مخالفت کرنے کی جسارت کریں گے تو اِس کا انجام سوچ لیں، اِس کے نتائج اُن کے لیے نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی پیدا کیا انسان کو خون کے تھکّے سے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ پہلی آیت میں تمام کائنات کے پیدا کیے جانے کا ذکر ہوا۔ اب یہ خاص اہتمام کے ساتھ انسان کے پیدا کیے جانے کی طرف اشارہ ہے۔
      انسان کی خلقت کے ابتدائی مراحل کی یاددہانی سے مقصود: ’عَلَقٌ‘ خون کی پھٹکی یا تھکے کو کہتے ہیں۔ انسان کی خلقت کے ابتدائی مراحل کی یاددہانی قرآن میں جگہ جگہ فرمائی گئی ہے۔ مثلاً سورۂ حج، سورۂ مومنون، سورۂ سجدہ، سورۂ قیامہ اور سورۂ دہر وغیرہ میں۔ ہم ہر جگہ تمام اہم الفاظ کی بھی وضاحت کرتے آ رہے ہیں اور اس خاص پہلو کی طرف بھی ہم نے توجہ دلا دی ہے جو اس یاددہانی سے پیش نظر ہے۔ اس سے مقصود بالعموم تین حقیقتوں کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے:

      o ایک یہ کہ جس خالق کی قدرت و حکمت کا یہ حال ہے کہ وہ خون کی ایک حقیر پھٹکی کو عاقل و مدرک اور سمیع و بصیر انسان بنا کر کھڑا کر دیتی ہے کیا اس کے لیے اس کو دوبارہ پیدا کر دینا مشکل ہو جائے گا۔
      o دوسری یہ کہ انسان کی تخلیق میں خالق کی جو قدرتیں اور حکمتیں نمایاں ہیں وہ دلیل ہیں کہ یہ عبث اور بے غایت نہیں پیدا کیا گیا ہے بلکہ اس کے لیے ایک روز حساب لازماً آنا ہے اور یہ اپنے اعمال کی جزا یا سزا ضرور پائے گا۔
      o تیسری یہ کہ جس انسان کی پیدائش اتنے حقیر اور ذلیل عنصر سے ہوئی ہے اس کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ وہ اپنی پاکی و پاک دامنی یا اپنے حسب و نسب کی حکایت زیادہ بڑھائے اور غرور و استکبار کا مظاہرہ کرے۔
      قرآن کے بعض مقامات میں بیک وقت ان تمام حقائق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے لیکن بعض جگہ ان میں سے ایک یا دو مدنظر ہیں۔ یہاں موقع کلام اشارہ کر رہا ہے کہ ان میں سے اوپر کی دو حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ مقصود یہ بتانا ہے کہ خالق کائنات کا کلام خاص اس کے نام سے لوگوں کو پہنچاؤ اور ان کو یاددہانی کرو کہ جس خالق نے انسان کو خون کی پھٹکی سے وجود بخشا ہے وہ قادر ہے کہ اس کو دوبارہ پیدا کر کے اس کے اعمال کا محاسبہ کرے۔

      جاوید احمد غامدی جمے ہوئے خون جیسے ایک لوتھڑے سے انسان کو پیدا کیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے، یعنی تمام کائنات کو پیدا کیا ہے اور اُس میں بالخصوص انسان کو جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے پیدا کر دیا ہے۔ اِس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اولاً، جس خالق نے خون کی ایک حقیر پھٹکی سے سقراط و فلاطوں بنا کر کھڑے کر دیے ہیں، اُس کے لیے کیا مشکل ہے کہ جب چاہے اُنھیں دوبارہ پیدا کرکے اپنے سامنے محاسبے کے لیے لا کھڑا کرے؟ ثانیاً، انسان کی تخلیق میں اُس کی جس قدرت و حکمت کا ظہور ہوا ہے، اُس کو دیکھنے کے بعد کوئی عاقل کس طرح باور کر سکتا ہے کہ وہ عبث اور بے غایت پیدا کیا گیا ہے؟ یہ اہتمام تو بتا رہا ہے کہ انسان کے لیے ایک ایسا دن لازماً آنا چاہیے جس میں اُس کے علم و عمل کا محاسبہ کیا جائے۔

    • امین احسن اصلاحی پڑھ اور تیرا رب بڑا ہی کریم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل عرب پر عظیم احسان: یہ ’اِقْرَاْ‘ سابق ’اِقْرَاْ‘ سے بدل کے طور پر آیا ہے اور یہ اسی حکم کی تاکید ہے جو اوپر دیا گیا ہے البتہ اس میں اظہار احسان کا پہلو بھی نمایاں ہے کہ قریش اللہ تعالیٰ کے اس فضل عظیم کی قدر کریں کہ اس نے ان کی ہدایت کے لیے تعلیم بالقلم کا اہتمام فرمایا۔ یہ امر واضح رہے کہ اس سے پہلے بنی اسماعیل کے پاس حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل کی تعلیمات سے متعلق اگر کچھ روایات تھیں تو وہ زبانی روایات کی شکل میں تھیں اور امتداد زمانہ سے ان کی شکل بھی متغیر ہو چکی تھی۔ دوسرے انبیاء کی تعلیمات بھی زبانی ہی تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو احکام عشرہ تو ضرور لکھ کر دیے گئے لیکن موجودہ تورات کی حیثیت بس قلم بند کی ہوئی روایات کی ہے۔ اس کے اندر یہ امتیاز ناممکن ہے کہ کون سی بات اللہ تعالیٰ کے لفظوں میں ہے اور کون سی بات مجہول راویوں کے الفاظ میں لیکن قرآن کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام فرمایا کہ اس کا ہر لفظ اول تو براہ راست نطق الٰہی ہے، پھر اس کو زبانی روایات پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ اس کو عین اللہ تعالیٰ کے لفظوں میں تحریری طور پر محفوظ کیا گیا اور یہ کام، جیسا کہ سورۂ قلم اور سورۂ قیامہ کی تفسیروں میں وضاحت ہو چکی ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت کے تحت کرایا تا کہ کسی حرف میں سرمو کوئی تغیر نہ ہونے پائے۔

      جاوید احمد غامدی اِنھیں پڑھ کر سناؤ، اور (حقیقت یہ ہے کہ) تمھارا پروردگار بڑا ہی کریم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ پہلی آیت سے بدل ہے اور اُسی کے حکم کی تاکید کے لیے دہرایا گیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جس نے تعلیم دی قلم کے واسطہ سے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مزید احسان اور ایک تنبیہ: اس اہتمام خاص کی طرف یہاں ’عَلَّمَ بِالْقَلَمِ‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ یہ عربوں پر ایک عظیم احسان ہوا۔ اول تو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، وحی کو محفوظ کرنے کا یہ اہتمام اس سے پہلے کسی قوم کے لیے بھی نہیں کیا گیا، ثانیاً اہل عرب امی ہونے کے باعث قلم کے استعمال سے اچھی طرح واقف نہ تھے لیکن قرآن کی بدولت انھوں نے اس کے ذریعہ وہ عظیم آسمانی خزانہ محفوظ کیا جو صرف انہی کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیا کے لیے سرمایۂ زندگی ہے۔

      جاوید احمد غامدی جس نے قلم کے ذریعے سے (یہ قرآن) سکھایا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی وہ کریم ہے، اِس لیے اپنے اِسی کرم کے باعث اُس نے تم پر یہ احسان کیا ہے کہ تمھیں یہ قرآن پڑھ کر سنایا بھی جا رہا ہے اور خاص اہتمام کے ساتھ اُس کی ہدایت کے تحت اور اُس کے پیغمبر کی رہنمائی میں لکھ کر بھی دیا جا رہا ہے تاکہ یہ عظیم آسمانی خزانہ صرف تمھارے لیے نہیں، بلکہ تمام دنیا کے لیے سرمایۂ حیات بن جائے۔ اِس میں قریش کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے کہ اُنھوں نے اِس نعمت کی قدر نہ کی تو سوچ لیں کہ اِس کا نتیجہ اُن کے لیے کیا ہو سکتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے سکھایا انسان کو وہ کچھ جو وہ نہیں جانتا تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اسی انعام و احسان کا ایک اور پہلو ہے کہ صرف تعلیم بالقلم ہی کا احسان امیوں پر نہیں کیا بلکہ مزید احسان یہ بھی کیا کہ ان کو وہ باتیں بتائیں اور سکھائیں جو وہ نہیں جانتے تھے۔ لفظ ’انسان‘ اگرچہ عام ہے لیکن قرآن کے پہلے مخاطب چونکہ امی عرب ہی تھے اس وجہ سے یہاں اصلاً وہی مراد ہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ان کو جاہلیت کی تاریکی سے نکالنے کے لیے ان پر اپنی یہ کامل ہدایت نازل فرمائی ہے۔ ان پر حق ہے کہ وہ اس کی قدر کریں۔ سورۂ جمعہ میں یہی مضمون یوں آیا ہے:

      ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْأُمِّیِّیْنَ رَسُوۡلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوۡا عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَإِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ (الجمعہ ۶۲: ۲)
      ’’وہی ہے جس نے اٹھایا امیوں میں ایک رسول انہی میں سے وہ ان کو سناتا ہے اس کی آیتیں اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو سکھاتا ہے کتاب اور حکمت درآنحالیکہ وہ اس سے پہلے نہایت کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔‘‘

      یہی مضمون، الفاظ کے معمولی تغیر کے ساتھ، البقرہ: ۱۵۱، البقرہ: ۱۹۸ اور آل عمران: ۱۶۴ میں بھی گزر چکا ہے اور ہم بقدر کفایت اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔
      اس آیت میں جہاں اظہار احسان ہے وہیں اس کے اندر قریش کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے کہ اگر انھوں نے اپنے رب کی اس سب سے بڑی نعمت کی قدر نہ کی تو سونچ لیں کہ ان کی اس ناسپاسی اور اس طغیان کا نتیجہ ان کے سامنے کس شکل میں آ سکتا ہے!

       

      جاوید احمد غامدی انسان کو (اِس میں) وہ علم دیا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      لفظ ’اِنْسَان‘ اگرچہ عام ہے، لیکن پہلے مخاطب چونکہ قریش تھے، اِس لیے اصلاً وہی مراد ہیں۔
      اشارہ ہے اُس علم و حکمت اور قانون و شریعت کی طرف جس کا ذکر سورۂ بقرہ (۲) کی آیات ۱۲۹، ۱۵۱ ، آل عمران (۳) کی آیت ۱۶۴ اور سورۂ جمعہ (۶۲) کی آیت ۲ میں اِسی اہتمام کے ساتھ ہوا ہے۔ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہے کہ اُس نے امیوں کے اندر ایک رسول اُنھی میں سے اٹھایا ہے جو اُن کا تزکیہ کرتا ہے اور اِس کے لیے اُنھیں قانون و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ہرگز نہیں، بے شک انسان سرکشی کر رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ ان کے اس رویہ کا بیان ہے جو انھوں نے اس ہدایت کے معاملے میں اختیار کیا۔ فرمایا کہ وہ اس رحمت کی قدر کرنے کے بجائے نہایت سرکشی کے ساتھ اس کی تکذیب کر رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو جو مال و اسباب حاصل ہے اس کو پا کر وہ اب خدا سے اپنے کو بالکل مستغنی خیال کرنے لگے ہیں۔
      قریش کے رویہ کا بیان: اس آیت کا آغاز ’کَلَّا‘ سے جو ہوا ہے اس سے مقصود قریش کی ان سخن سازیوں کی تردید ہے جو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی تکذیب کے لیے کرتے تھے۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے مقابلے میں جو باتیں یہ بناتے ہیں، وہ کچھ نہیں، اے پیغمبر)، ہرگز نہیں۔ انسان یقیناً سرکشی کر رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اپنے تئیں، بے نیاز سمجھ کر۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرمایا کہ ان کی یہ سخن سازیاں محض حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لیے ہیں۔ ان کے انکار کی اصل علت ہے تو خدا سے ان کی بے نیازی اور دنیا کی محبت لیکن نمائش یہ کر رہے ہیں کہ گویا ان کے پاس کچھ شبہات ہیں جن کا کوئی تسلی بخش جواب ان کو نہیں مل رہا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے کہ اپنے آپ کو اُس نے بے نیاز سمجھ لیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی دنیا کا مال و منال اور ترقی و کامیابی حجاب بن گئی ہے اور لوگ اپنے آپ کو خدا سے مستغنی خیال کرنے لگے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی بے شک تیرے خداوند ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’رُجْعٰی‘ مصدر ہے ’بُشْرٰی‘ کے وزن پر، لوٹنے کے معنی میں۔
      تنبیہ اور آخرت کی یاددہانی: فرمایا کہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں کرنے دو بالآخر ان کو لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے جس سے یہ مستغنی اور بے خوف ہیں۔ اس وقت ان کے طغیان کی حقیقت ان کے سامنے کھل جائے گی۔ اگر ان کو گمان ہے کہ ان کے مزعومہ شرکاء ان کے مولیٰ و مرجع بنیں گے تو ان کے اس وہم سے بھی پردہ اٹھ جائے گا۔ اس دن بادشاہی صرف اللہ کی ہو گی اور اس کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہیں ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی (اُس کو سمجھنے دو)، اُسے (ایک دن) تیرے رب ہی کی طرف پلٹنا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ذرا دیکھو تو اس کو جو روکتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کے گنڈوں کے طغیان کی ایک مثال: یہ ان کے اس طغیان کی ایک مثال بیان ہوئی ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ فرمایا کہ بھلا دیکھو تو اس کو جو ایک بندے کو روکتا ہے جب کہ وہ نماز پڑھتا ہے! یہ قریش کے ان اشقیاء کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اور دوسرے مسلمانوں کو بھی نماز سے روکتے تھے۔ بندے پر اس کے رب کا اولین حق اس کی بندگی ہے اور بندگی میں اولین درجہ نماز کا ہے اس وجہ سے جو بندہ نماز پڑھ رہا ہے وہ اپنے رب کا سب سے بڑا حق ادا کر رہا ہے اور سزاوار ہے کہ سب اس کے اس کام کو عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھیں اور اس کے عمل کو قابل تقلید جانیں۔ اگر کوئی اس چیز سے روکنے کی جسارت کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ بندے کو سب سے بڑے فرض اور خدا کے سب سے بڑے حق سے روک رہا ہے۔
      ’اَرَءَ یْتَ‘ کے اسلوب پر ہم جگہ جگہ لکھ چکے ہیں کہ یہ اس وقت لاتے ہیں کہ جب کسی کی نہایت نامناسب حرکت پر لوگوں کو توجہ دلانی یا اس پر نکیر کرنی ہو۔ جس طرح ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں ’بھلا دیکھا تم نے اس کو، کیا تم نے اس کا حال دیکھا، ذرا اس کو تو دیکھو‘۔
      ’اَلَّذِیْ‘ سے ضروری نہیں کہ کوئی ایک معین شخص ہی مراد ہو بلکہ یہ اس طرح کی بے ہودہ حرکت کرنے والوں کو ممثل کر دینے کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کر چکے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے روکنے والا ابوجہل ہی نہیں تھا بلکہ دوسرے گنڈے بھی تھے اور یہ گنڈے صرف حضور ہی کی نمازوں میں مزاحم نہیں ہوتے تھے بلکہ اللہ کے دوسرے بندوں کے ساتھ بھی وہ اسی طرح کی بدتمیزیاں کرتے تھے۔

      جاوید احمد غامدی تم نے دیکھا اُسے جو (خدا کے) ایک بندے کو روکتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ایک بندے کو، جب وہ نماز پڑھتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کے گنڈوں کے طغیان کی ایک مثال: یہ ان کے اس طغیان کی ایک مثال بیان ہوئی ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ فرمایا کہ بھلا دیکھو تو اس کو جو ایک بندے کو روکتا ہے جب کہ وہ نماز پڑھتا ہے! یہ قریش کے ان اشقیاء کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اور دوسرے مسلمانوں کو بھی نماز سے روکتے تھے۔ بندے پر اس کے رب کا اولین حق اس کی بندگی ہے اور بندگی میں اولین درجہ نماز کا ہے اس وجہ سے جو بندہ نماز پڑھ رہا ہے وہ اپنے رب کا سب سے بڑا حق ادا کر رہا ہے اور سزاوار ہے کہ سب اس کے اس کام کو عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھیں اور اس کے عمل کو قابل تقلید جانیں۔ اگر کوئی اس چیز سے روکنے کی جسارت کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ بندے کو سب سے بڑے فرض اور خدا کے سب سے بڑے حق سے روک رہا ہے۔

      جاوید احمد غامدی جب وہ نماز پڑھتا ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      بندے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یہ اب اُن کی سرکشی کو ممثل کرکے دکھا دیا ہے کہ قرآن کی دعوت پر خدا کے آگے سجدہ ریز ہونا تو ایک طرف، یہ ایسے ظالم ہیں کہ خدا کے ایک بندے کو سجدوں سے روک دینے پر اتر آئے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی بھلا دیکھو تو، اگر وہ ہدایت پر ہوا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اقدام سے پہلے سوچنے کی ضرورت: یعنی اس مجنونانہ اقدام سے پہلے اسے سونچنا تھا کہ اسلام دشمنی کے جوش میں اسے اتنا اندھا نہیں بن جانا چاہیے کہ اپنے انجام کا بھی ہوش نہ رہے۔ آخر امکان اس بات کا بھی تو ہے کہ یہ اللہ کا بندہ نیکی اور ہدایت پر ہو اور اپنے قول و عمل سے تقویٰ کی راہ دکھا رہا ہو اور یہ اس کو اس سے روک کر اپنی شامت کو دعوت دے رہا ہو! مطلب یہ ہے کہ آخر کس دلیل سے وہ اپنے کو برحق سمجھ کر وہ کام کرنے اٹھ کھڑا ہوا جو شیطان کے کرنے کا ہے!

      جاوید احمد غامدی ذرا دیکھو تو، اگر وہ بندہ ہدایت پر ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی یا نیکی کا حکم دینے والا ہوا ۔۔۔! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اقدام سے پہلے سوچنے کی ضرورت: یعنی اس مجنونانہ اقدام سے پہلے اسے سونچنا تھا کہ اسلام دشمنی کے جوش میں اسے اتنا اندھا نہیں بن جانا چاہیے کہ اپنے انجام کا بھی ہوش نہ رہے۔ آخر امکان اس بات کا بھی تو ہے کہ یہ اللہ کا بندہ نیکی اور ہدایت پر ہو اور اپنے قول و عمل سے تقویٰ کی راہ دکھا رہا ہو اور یہ اس کو اس سے روک کر اپنی شامت کو دعوت دے رہا ہو! مطلب یہ ہے کہ آخر کس دلیل سے وہ اپنے کو برحق سمجھ کر وہ کام کرنے اٹھ کھڑا ہوا جو شیطان کے کرنے کا ہے!

      جاوید احمد غامدی یا پرہیزگاری کی تلقین کرتا ہو ...؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      معاملے کی سنگینی احاطۂ بیان سے باہر ہے، اِس لیے جواب شرط حذف کر دیا ہے ۔ اِسے کھول دیجیے تو پوری بات اِس طرح ہے: ذرا دیکھو تو اگر وہ بندہ ہدایت پر ہو یا پرہیزگاری کی تلقین کرتا ہوتو کیا اِس روکنے والے نے اپنی شامت نہیں بلائی؟

    • امین احسن اصلاحی بھلا دیکھو تو، اگر اس نے جھٹلایا اور منہ موڑا ۔۔۔! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دوسرے امکان کا حوالہ: یہ اس دوسرے امکان کا حوالہ ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ یعنی کوئی بتائے کہ اگر یہی تکذیب کرنے والا اور حق سے منہ موڑنے والا ہوا تب ۔۔۔۔۔۔! یعنی تب تو اس نے اپنے لیے جہنم کا دروازہ خود اپنے ہی ہاتھوں کھولا! یہاں عربیت کا وہ قاعدہ ملحوظ رہے جس کی طرف ہم جگہ جگہ اشارہ کر چکے ہیں کہ بعض مرتبہ شرط کا جواب اس وجہ سے حذف کر دیا جاتا ہے کہ اس کی سنگینی احاطۂ بیان سے باہر ہوتی ہے۔ یہاں اسی وجہ سے جواب محذوف ہے۔ اس کی ایک مثال سورۂ یونس میں بھی موجود ہے۔
      رسول کی تکذیب کرنے اور اس کی دعوت سے منہ موڑنے والوں کا انجام سورۂ لیل میں یوں بیان ہوا ہے:

      لَا یَصْلَاہَا إِلَّا الْأَشْقَی۵ الَّذِیْ کَذَّبَ وَتَوَلَٰی (الیل ۹۲: ۱۵-۱۶)
      ’’اس جہنم میں وہی بدبخت خلائق پڑیں گے جنھوں نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی ذرا دیکھو تو، اگر اِس (بدبخت) نے جھٹلایا اور منہ موڑ لیا ہو...؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں بھی وہی اسلوب ہے جو اوپر کی آیت میں ہے، یعنی تب کیا اِس نے جہنم نہیں خریدی؟

    • امین احسن اصلاحی کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ دیکھ رہا ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اس کی یہ ساری تعدیاں دیکھ رہا ہے! اگر وہ دیکھ رہا ہے اور ضرور دیکھ رہا ہے تو اس کا انتقام وہ ضرور لے گا۔ وہ عادل، رحیم، عزیز اور غیور ہے۔ اس کے بندے اگر اس کی بندگی سے روکے جائیں تو وہ کس طرح گوارا کر سکتا ہے کہ وہ تماشائی بن کر اس کا تماشا دیکھتا رہے۔

      جاوید احمد غامدی کیا اِس نے نہیں جانا کہ اللہ دیکھ رہا ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہرگز نہیں، اگر یہ باز نہ آیا تو ہم اس کو گھسیٹیں گے، چوٹی پکڑ کر۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سرکشوں کو تند الفاظ میں وعید: یہ اس قسم کے سرکشوں کو نہایت تند الفاظ میں وعید ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ ان حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کی چوٹی پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ ’نَاصِیَۃٌ‘ پیشانی اور پیشانی پر بکھرے ہوئے بالوں کو کہتے ہیں۔ ’سَفْعٌ‘ کسی چیز کو مٹھی میں پکڑ کر کھینچنے اور گھسیٹنے کے معنی میں آتا ہے۔ سورۂ رحمان میں اسی طرح کے سرکشوں کے بارے میں فرمایا ہے:

      ’فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَالْأَقْدَامِ‘ (الرحمن ۵۵: ۴۱)
      (پس وہ چوٹیوں اور ٹانگوں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیے جائیں گے)۔

       

      جاوید احمد غامدی (یہ کچھ نہیں)، ہرگز نہیں۔ اگر یہ باز نہ آیا تو ہم اِس کی چوٹی پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی جھوٹی نابکار، گنہ گار چوٹی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ ’اَلنَّاصِیَۃِ‘ سے بدل ہے۔ اگرچہ دونوں میں معرفہ اور نکرہ کا فرق ہے لیکن نکرہ موصوف ہو تو معرفہ سے بدل پڑ سکتا ہے۔ یہاں اس جوش غضب پر خاص طور سے نگاہ رہے جو اس آیت کے ہر لفظ سے ابل رہا ہے۔ ان نابکاروں کی چوٹی کا ذکر انتہائی غضب آلود الفاظ میں فرمایا: ’نابکار اور گنہ گار چوٹی!!‘ ۔۔۔ چہرہ اور پیشانی آدمی کی ذات کے سب سے اشرف حصے ہیں اس وجہ سے ان سے بعض اوقات اس کی پوری شخصیت تعبیر کر دی جاتی ہے۔ یہاں یہی صورت ہے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ آدمی کی پیشانی کے لیے سب سے بڑا شرف سجدوں کا نشان ہے۔ اگر کوئی شخص اتنا شقی ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ خود سجدہ نہیں کرتا بلکہ دوسروں کو سجدہ کرنے سے روکتا بھی ہے تو ایسا نابکار و گنہ گار سزاوار ہے کہ اس کی چوٹی پکڑ کر اس کو گھسیٹا اور جہنم میں جھونک دیا جائے۔

      جاوید احمد غامدی جھوٹی نابکار چوٹی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ‘ ۔یہ پچھلی آیت میں ’لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِیَۃِ‘ سے بدل ہیں۔ اِن میں سے ایک اگرچہ معرفہ اور دوسرا نکرہ ہے، لیکن یہ نکرہ موصوفہ ہے، اِس لیے معرفہ سے بدل واقع ہو گیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پس وہ بلاوے اپنی پارٹی کو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سرکشوں کو چیلنج: یہ ان سرکشوں کو چیلنج ہے کہ اگر کسی کو اپنی قوت و جمعیت پر بڑا ناز ہے تو وہ اپنی ٹولی کو بلائے، ہم بھی اپنے سرہنگوں کو بلائیں گے اور دیکھیں گے کہ ان کے اندر کتنا زور ہے! ۔۔۔ اس چیلنج کا عملی امتحان بعد کے دور میں سب سے پہلے بدر کے معرکہ میں ہوا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ خدا کے سرہنگوں کے آگے قریش کی پوری قوت و جمعیت کس طرح غبار بن کر اڑ گئی۔
      ’نَادِی‘ کے اصل معنی مجلس اور سوسائٹی کے ہیں۔ یہاں مراد وہ افراد ہیں جو کسی رشتۂ عصبیت کے تحت باہم دگر وابستہ ہیں۔ موقع و محل کا لحاظ کر کے اس کا ترجمہ ’ٹولی‘ یا پارٹی ہو سکتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی پھر وہ بلا لے اپنا جتھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہم بھی بلائیں گے سرہنگوں کو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’زَبَانِیَۃٌ‘ جمع ہے ’زبنیۃ‘ کی جس کے معنی تو دفاع کرنے والے کے ہیں لیکن یہ پولیس اور پیادوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ میں نے موقع و محل کا لحاظ کر کے اس کا ترجمہ ’سرہنگوں‘ کیا ہے۔ گویا یہ خدائی ٹاسک فورس کے وہ کروبی ہیں جو خاص نوعیت کی وقتی مہمات پر بھیجے جاتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی ہم اپنے سرہنگ بلاتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      چنانچہ یہی سرہنگ ہیں جو بدر کے موقع پر آسمان سے اترے اور اُن کے مقابلے میں قریش کی پوری قوت و جمعیت خس و خاشاک بن کر اڑ گئی۔

    • امین احسن اصلاحی ہرگز نہیں، اس کی بات نہ مان اور سجدہ کر اور قریب ہو جا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نبی صلعم کو ہدایت: فرمایا کہ اگر کوئی سرپھرا تمہیں خدا کے آگے سجدہ کرنے سے روکتا ہے تو اس کی اس حرکت کو خاطر میں نہ لاؤ بلکہ سجدہ کرو اور اپنے رب سے قریب تر ہو جاؤ۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ قرآن نے جگہ جگہ نماز ہی کو صبر و عزیمت اور فتح باب نصرت کی کلید بتایا ہے اور سجدہ نماز کا سب سے اعلیٰ رکن ہے۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کس کی مجال ہے کہ تمہیں اس چیز سے روک دے جو تمہاری زندگی کی غایت اور خدا سے تعلق کا واحد وسیلہ ہے۔ اگر کوئی ایسی جسارت کرتا ہے تو تم اس کے شر سے خدا کی پناہ چاہو جس کا واحد طریقہ اس کے آگے سربسجود ہونا ہے۔

      جاوید احمد غامدی ہرگز نہیں، تم اِس کی بات پر ہرگز دھیان نہ دو اور سجدہ ریز رہو اور (اِس طرح میرے) قریب ہو جاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ اپنے موقف پر صبر و استقامت کے ساتھ جمے رہو اورحق و باطل کی اِس کشمکش میں نماز اور سجدوں کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرو۔

    Join our Mailing List