Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 8 آیات ) At-Tin At-Tin
Go
  • التین (The Fig, The Fig Tree)

    8 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور مطالب کی ترتیب

    اس سورہ کا عمود جزا و سزا کا اثبات ہے۔ اس کی تمہید یوں اٹھائی ہے کہ دنیا میں انبیائے کرام کی بعثت و دعوت کے جو اہم مراکز ہیں پہلے ان کا ذکر بصورت قسم یعنی بطور شہادت کیا اور اس کی روشنی میں یہ واضح فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین ساخت پر، نہایت اعلیٰ فطرت اور نہایت برتر صلاحیتوں کے ساتھ، پیدا کیا ہے لیکن اس برتری کو قائم رکھنے اور ان اعلیٰ صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے اس نے یہ سنت ٹھہرائی ہے کہ جو لوگ ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کریں گے اور اس راہ کی صعوبتوں کا عزم و حوصلہ کے ساتھ مقابلہ کریں گے تو وہ اپنی اس جدوجہد کا پھرپور صلہ پائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو نفس پرستی اور تن آسانی کے باعث اس راہ کے عقبات کو پار کرنے اور اس کی صعوبتوں سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ نہیں کریں گے اللہ تعالیٰ ان کو ان کی اختیار کی ہوئی راہ پر جانے کے لیے چھوڑ دے گا اور وہ بالآخر اس کھڈ میں گریں گے جو یہ راہ اختیار کرنے والوں کے لیے مقدر ہے۔

    یہاں پچھلی دونوں توام سورتوں میں آیات ’فَأَمَّا مَن أَعْطٰی وَاتَّقٰی ۵ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی ۵ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی‘ (الیل ۹۲: ۵-۷) اور آیت ’فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا‘ (الم نشرح ۹۴: ۵) کی تفسیر پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ ان میں بھی ایک دوسرے پہلو سے یہی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے جو اس سورہ میں پیش کی گئی ہے۔ اس سے سابق اور لاحق دونوں سورتوں کا تعلق واضح ہو جائے گا۔ آخر میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ بالکل حق و عدل پر مبنی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کی نظر میں نیک و بد دونوں یکساں ہیں حالانکہ یہ بات بالبداہت باطل ہے۔ جس خدا نے لوگوں کو نیکی اور بدی کا شعور دیا ہے لازم ہے کہ وہ سب سے بڑھ کر نیک اور بد میں امتیاز کرنے والا اور ہر ایک کے ساتھ اس کے استحقاق کے مطابق معاملہ کرنے والا ہو۔

    آگے سورۂ عصر میں بھی یہی حقیقت ذرا مختلف الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ اس کو بھی سامنے رکھ لیجیے تو اس سورہ کے رخ کو معین کرنے میں آسانی ہو گی۔ فرمایا ہے:

    وَالْعَصْرِ ۵ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ۵ إِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر ۱۰۳: ۱-۳)

    ’’زمانہ شاہد ہے کہ انسان گھاٹے میں ہے مگر وہ جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے اور جنھوں نے ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کی۔‘‘

  • التین (The Fig, The Fig Tree)

    8 آیات | مکی

    مرحلۂ اتمام حجت

    التین - قریش

    ۹۵ - ۱۰۶

    التین ۹۵ قریش ۱۰۶

    اتمام حجت کے اسلوب میں قیامت کا اثبات، اُس کے بارے میں قریش کے رویے پر اُن کو تنبیہ، اُن کے بڑے سردار کو تہدید جو قرآن جیسی کتاب کے ذریعے سے تعلیم کے بعد بھی اپنی سرکشی پر قائم رہا ۹۵۔۹۶

    نذیر کی حیثیت سے قرآن کی عظمت کا بیان قریش کو اور اُن کی پشت پر کھڑے ہوئے اہل کتاب کو اُن کے اِس مطالبے کی لغویت پر تنبیہ کہ قرآن کے بجاے اُن پر ایک ایسی کتاب اتاری جائے جسے خدا کا کوئی فرستادہ آسمان سے اُن کے لیے پڑھتا ہوا لے کر اترے ۹۷۔۹۸

    اِسی اسلوب میں قیامت کے متعلق قریش کو نصیحت کہ اُس کے بارے میں وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔وہاں چھوٹی بڑی ہر نیکی اور برائی پوری پوری قطعیت کے ساتھ اُن کے سامنے آجائے گی اُنھیں تنبیہ کہ لوٹ مار اور بد امنی کے ماحول میں محض حرم سے اپنے تعلق کی بنا پر جس امن سے وہ رہ رہے ہیں اور خدا کی جو نعمتیں اِس گھر کے طفیل اُنھیں حاصل ہیں، اُن پر خدا کا شکر ادا کریں اور اُس کے دیے ہوئے رزق میں سے اُس کی راہ میں خرچ کریں۔ اِس کے بجاے جو کچھ وہ کر رہے ہیں، اُس کے ساتھ اُنھیں سوچنا چاہیے کہ اُن کا انجام کیا ہو گا ۹۹۔۱۰۰

    قیامت کی تصویر اور اُس سے اُن کی غفلت پر انتہائی موثر اسلوب میں تنبیہ ۱۰۱۔۱۰۲

    خدا کے قانون مجازات کا اثبات اور اُس کے حوالے سے اُن کے سرداروں کو تہدید کہ اُن کا ٹھکانا اب وہ آگ ہو گی جو دلوں تک پہنچے گی ۱۰۳۔۱۰۴

    واقعۂ فیل کے حوالے سے تنبیہ و تہدید اور بیت اللہ کی تولیت کے طفیل جو نعمتیں اُنھیں حاصل تھیں، اُن کے حوالے سے تلقین کہ اُن کا حق اب اُنھیں ادا کرنا چاہیے ۱۰۵۔۱۰۶

    التین - العلق

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ خدا کے جس قانون مجازات کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے قریش کے بڑے سردار کو تہدید ہے کہ وہ اگر اپنی شرارتوں سے باز نہ آیا تو لازماً اُس کی زد میں آجائے گا۔ دونوں میں خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، لیکن روے سخن، اگر غور کیجیے تو قریش کے اُنھی سرداروں کی طرف ہے جن کی سرکشی اب اپنی انتہا کو پہنچ رہی تھی۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — التین — کا موضوع روز جزا کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو تنبیہ ہے کہ اُن پر خدا کی حجت ہر لحاظ سے پوری ہو گئی ہے، لہٰذا ضد اور ہٹ دھرمی کے سوا قیامت کو جھٹلانے کے لیے اب اُن کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

    دوسری سورہ — العلق — کا موضوع قریش کے بڑے سردار کو تہدید ہے کہ قرآن جیسی کتاب کے ذریعے سے تعلیم و تذکیر کے بعد بھی وہ اگر سرکشی پر قائم ہے تو اِس کا نتیجہ بھگتنے کے لیے تیار رہے۔ خدا کے سرہنگ بہت جلد اُسے گھسیٹ کر جہنم کے گہرے کھڈ میں ڈال دیں گے اور اُس کے اعوان وانصار میں سے کوئی بھی اُس کی کچھ مدد نہ کر سکے گا۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی شاہد ہیں جبل تین اور کوہ زیتون۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’تین‘ سے مراد جبل تین ہے: ’و‘ یہاں قسم کے لیے ہے اور قسم سے متعلق ہم برابر وضاحت کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں اشیاء اور مقامات کی جو قسمیں آئی ہیں وہ تمام تر اس دعوے پر دلیل کی حیثیت سے آئی ہیں جو قسم کے بعد مذکور ہوا ہے۔ یہاں ’تین‘ سے مشہور پھل انجیر مراد نہیں ہے، جیسا کہ ہمارے مفسرین نے سمجھا ہے، بلکہ جبل تین ہے جو انجیر کی پیداوار کے لیے مشہور رہا ہے۔ مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ تین میں اس کی جو تحقیق بیان فرمائی ہے اس کا کچھ ضروری حصہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں:

      ’’’تین‘ ایک خاص پہاڑ کا نام ہے۔ عربی میں انجیر کو تین کہتے ہیں۔ چونکہ یہاں انجیر کی پیداوار بکثرت تھی اس وجہ سے یہ تین ہی کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اہل عرب اس نام سے اس کو جانتے تھے۔ نام رکھنے کا یہ طریقہ عربوں میں معروف رہا ہے۔ جس چیز کی پیداوار جہاں زیادہ ہوتی بسا اوقات اسی کے نام سے اس مقام کو موسوم کر دیتے۔ ’غضٰی‘، ’شجرۃ‘، ’نخلۃ‘ وغیرہ مقاموں کے نام اسی طرح پڑے۔.......
      مشہور شاعر نابغہ ذبیانی نے اپنے شعروں میں ’تین‘ کا ذکر ایک مقام کی حیثیت سے کیا ہے:

      صھب الظلال اتین التین عن عرض
      یزجین غیما قلیلًا ماءہ شبما

      ’’اس میں اس نے ’تین‘ سے شمال کے ایک پہاڑ کو مراد لیا ہے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ یہ حلوان اور ہمدان کے درمیان ہے۔‘‘

      آگے مولانا اس کے بارے میں بعض قیاسات کی تردید کرتے ہوئے اپنی قطعی رائے ان الفاظ میں ظاہر فرماتے ہیں:

      ’’اس سے معلوم ہوا کہ تین سے مراد یا تو کوہ جودی ہے یا اسی کے قریب کا کوئی دوسرا پہاڑ۔ تورات میں ہے کہ طوفان نوح کے بعد بنی آدم یہیں سے ادھر ادھر متفرق ہوئے اور قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کوہ جودی کے پاس پیش آیا۔‘‘

      ’زَیْتُوْن‘ سے مراد کوہ زیتون ہے: ’زَیْتُوْن‘ سے بھی زیتون کا درخت یا اس کا پھل مراد نہیں ہے، جیسا کہ ہمارے مفسرین نے گمان کیا ہے۔ بلکہ جبل زیتون ہے جو حضرت مسیح کی دعوت اور عبادت کے مرکز کی حیثیت سے معروف ہے اور انجیل میں جس کا ذکر باربار آیا ہے۔
      مولانا اس کے متعلق اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:

      ’’ہمارے نزدیک یہ بھی مقام کا نام ہے۔ چونکہ زیتون کی پیداوار یہاں زیادہ تھی اس وجہ سے عربوں کے اس طریق تسمیہ کے مطابق، جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ زیتون کے نام سے موسوم ہو گیا۔ یہ یقیناً وہی پہاڑ ہے جس کا انجیل میں اکثر ذکر آتا ہے اور جس پر حضرت مسیح علیہ السلام عبادت اور دعا کے لیے جایا کرتے تھے۔ لوقا باب ۲۱: ۳۷ میں اس کا ذکر یوں آیا ہے:

      ’اور دن میں وہ ہیکل میں تعلیم دیتا تھا اور رات میں نکل جاتا تھا اور اس پہاڑ پر شب بسر کرتا تھا جس کا نام کوہ زیتون ہے۔‘

      سلف کے اقوال سے بھی اس رائے کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت کعب سے روایت ہے کہ زیتون سے مراد بیت المقدس ہے اور قتادہ کہتے ہیں کہ زیتون وہ پہاڑ ہے جہاں بیت المقدس واقع ہے۔‘‘‘‘

      جبل تین کی شہادت جزا پر

      جبل ’تین‘ کی شہادت جزا پر: سب سے پہلے جبل تین کی قسم کھائی گئی ہے اور دلائل کی روشنی میں اوپر وضاحت ہو چکی ہے کہ اس سے مراد کوہ جودی ہے۔ اس پہاڑ پر اللہ تعالیٰ کے قانون مکافات کے دو اہم واقعات پیش آئے ہیں اور ان کی تفصیل قدیم صحیفوں میں موجود ہے۔ ایک حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ اور دوسرا حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کا واقعہ۔ ان میں سے پہلے واقعہ کا ذکر مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ تین میں یوں کیا ہے:

      ’’تین وہ پہلا مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے لیے جزا و سزا کا پہلا واقعہ پیش آیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب آدم علیہ السلام نے خدا کا عہد بھلا دیا اور اپنے حاسد کے فریب میں آ کر ممنوعہ درخت کا پھل کھا بیٹھے تو ان کو اور ان کی بیوی کو جزا کے قانون سے دوچار ہونا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو سرفرازی بخشی تھی اس سے وہ محروم کر دیے گئے اور جنت کی خلعت ان سے چھین لی گئی ۔۔۔ ......اور یہ واقعہ ان کی پوری نسل کے لیے ایک یادگار واقعہ قرار پایا۔ چنانچہ قرآن میں متعدد جگہ اسی پہلو سے اس کو یاد دلایا گیا ہے، مثلاً فرمایا ہے:

      ’یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنْزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا‘ (الاعراف ۷: ۲۷)
      (اے آدم کے بیٹو! کہیں شیطان تم کو ورغلا نہ دے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوا چھوڑا، جنت کے خلعت سے محروم کر کے)۔‘‘

      ’’یہاں وہ بات بھی یاد رکھیے جو تورات میں مذکور ہے کہ حضرات آدم و حوا (علیہما السلام) نے جنت کی خلعت سے محروم ہونے کے بعد جس درخت کے پتوں سے اپنے تن ڈھانکے وہ انجیر کا درخت تھا۔‘‘
      ’’اس واقعہ کے بعد قرآن میں تصریح ہے کہ حضرات آدم و حوا (علیہما السلام) نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور ان پر ہدایت نازل کرنے اور اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کو اجر دینے کا وعدہ فرمایا۔ پہلے عہد کے بعد یہ اللہ تعالیٰ کا دوسرا عہد تھا جو اس نے حضرت آدم سے کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جبل تین کا واقعہ اپنے اندر دو مختلف پہلو رکھتا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے ایک طرف حضرت آدم سے ایک نعمت چھینی اور دوسری طرف ایک عظیم نعمت ان کو بخشی۔ چھینی اس وجہ سے کہ انھوں نے اللہ کے عہد کو فراموش کر دیا تھا اور بخشی اس وجہ سے کہ غفلت کے بعد وہ متنبہ ہو گئے اور انھوں نے توبہ کی۔‘‘

      جبل تین کے پاس جزا کا دوسرا واقعہ حضرت نوح علیہ السلام کے عہد میں پیش آیا اس کی تفصیل مولانا رحمۃ اللہ علیہ یوں پیش کرتے ہیں:

      ’’ان کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اسی پہاڑ کے پاس ظالموں کو تباہ کیا اور نیکو کاروں کو طوفان سے نجات دی اور برکت بخشی۔ قرآن مجید میں ہے:

      وَقِیْلَ یٰٓاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَ کِ وَیٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَغِیْضَ الْمَآءُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِیِّ وَقِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ.(ہود ۱۱: ۴۴)
      (اور حکم دیا گیا، اے زمین اپنا پانی جذب کر لے اور اے آسمان! تھم جا۔ پانی اتر گیا اور کام تمام کر دیا گیا اور کشتی کوہ جودی پر ٹک گئی اور اعلان کر دیا گیا کہ ظالموں کے لیے ہلاکی ہو۔)

      آگے حضرت نوح کی دعا کے بعد ان کو یہ ہدایت ہوئی:

      قِیْلَ یٰنُوْحُ اھْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَبَرَکٰتٍ عَلَیْکَ وَعَلٰٓی اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَکَ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُھُمْ ثُمَّ یَمَسُّھُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ(ہود ۱۱: ۴۸)
      (کہا گیا، اے نوح، اترو، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ اپنے اوپر اور ان قوموں پر جو تمہارے ساتھ ہیں اور تمہارے سوا اور قومیں بھی ہوں گی جن کو ہم کچھ دن بہرہ مند ہونے کا موقع دیں گے۔ پھر ان کو ہمارا دردناک عذاب پکڑے گا۔)

      ........اس سے معلوم ہوا کہ جبل تین اللہ تعالیٰ کے قانون مکافات کے ظہور کا ایک یادگار مقام ہے۔‘‘

      کوہ زیتون کی شہادت جزا پر

      کوہ زیتون پر جزا کا جو واقعہ پیش آیا ہے اس کی تفصیل مولانا یوں پیش کرتے ہیں:

      ’’اسی پہاڑ پر خدا نے اپنی شریعت یہود سے چھینی اور وہ سلسلۂ ابراہیمی کی دوسری شاخ کے حوالہ کر دی۔ یہ واقعہ حضرت مسیح کی زندگی کے آخری دور سے تعلق رکھتا ہے۔ انجیلوں میں اس کی جو تفصیلات موجود ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک روز آپ شب بھر جاگ کر اپنے رب سے دعا و مناجات کرتے رہے کہ ان کی قوم (یہود) کی کشتی غرق ہونے سے بچ جائے لیکن تقدیر کا فیصلہ اٹل تھا۔ بالآخر وہ قوم کے مستقبل سے مایوس ہو گئے۔ بالخصوص جب آپ کو معلوم ہوا کہ یہود آپ کے قتل کے درپے ہیں تو اس بات سے آپ کو اور بھی غم ہوا کیونکہ آپ کو معلوم تھا کہ اگر یہود نے اس طرح کا کوئی اقدام کیا تو ان پر سنت الٰہی کے مطابق اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جائے گی اور وہ اپنی امانت ان سے چھین کر دوسروں کے حوالے کر دے گا۔ متی باب ۲۱: ۴۲ میں ہے:
      ’یسوع نے ان سے کہا کہ تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے؟‘‘‘

      یہ عبارت زبور ۱۱۸: ۲۲-۲۳ کی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس کا حوالہ دے کر اپنی طرف سے اس کی شرح یوں فرمائی:

      ’’اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، لیکن جس پر وہ گرے گا اس کو پیس ڈالے گا۔
      یہود سے یہ آسمانی بادشاہت چھینے جانے کا واقعہ کوہ زیتون پر پیش آیا۔ انجیلوں میں اس ماجرے کی ساری تفصیلات موجود ہیں۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی تین اور زیتون (کے پہاڑ) گواہی دیتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      زیتون وہ پہاڑ ہے جہاں مسیح علیہ السلام کے دنیا سے اٹھائے جانے کے بعد اُن کے منکرین پر قیامت تک کے لیے عذاب کا فیصلہ سنایا گیا اور بنی اسرائیل میں سے اُن کے ماننے والوں کی ایک نئی امت نصاریٰ کی ابتدا ہوئی۔ پھر یہیں اعلان کیا گیا کہ مسیح علیہ السلام کے منکرین پر اُن کے ماننے والوں کو قیامت تک غلبہ حاصل رہے گا۔ تین اِسی پر واقع ایک گاؤں ہے۔ اِس کا ذکر انجیل میں Bethphage کے نام سے ہوا ہے۔ اِس میں phage وہی fig ہے جسے عربی زبان میں تین کہتے ہیں۔ لوقا ۱۹: ۲۹ میں ہے کہ سیدنا مسیح جب یروشلم آئے تو شہر میں داخل ہونے سے پہلے اِسی جگہ ٹھیرے۔

    • امین احسن اصلاحی اور طور سینین۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      طور سینا: ان دونوں کا مقام ہونا تو بالکل واضح ہے لیکن طور سینین میں لفظ سینا، جو سینین ہو گیا ہے، اس کی تحقیق مولانا کے نزدیک یہ ہے:

      ’’قرآن میں ایک جگہ ’طُوْرِ سَیْنَآءَ‘ (المومنون ۲۳: ۲۰) بھی آیا ہے یعنی ایک جگہ یہ مؤنث کی صورت میں ہے اور دوسری جگہ جع سالم کی شکل میں۔ جیسے عربی میں ’جمعًا‘ اور ’اَجْمَعُوْنَ‘ مستعمل ہیں۔ تورات میں کہیں ’سینا‘ آیا ہے اور کہیں ’سینیم‘ اور معلوم ہے کہ عبرانی میں ’یم‘ جمع کی علامت ہے۔‘‘؂۱

      طور سینین کی شہادت جزا پر

      طور سینین کی شہادت کی تفصیل کرتے ہوئے مولانا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

      ’’طور سینین کی شہادت جزا پر بالکل واضح ہے۔ یہی مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ایک مظلوم و مقہور قوم پر اپنی عنایت مبذول فرمائی اور اس کے صبر کے صلہ میں دشمنوں کے پنجہ سے اس کو نجات دے کر اس کا سر اونچا کیا اور پھر اس کو ایک ایسی شریعت عطا فرمائی جو منکروں اور دشمنوں کے لیے یکسر تازیانۂ عذاب تھی۔ یہ واقعہ مظلوموں پر لطف و نوازش اور ظالموں پر قہر و غضب کی نہایت واضح مثال ہے۔ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ  اور قوم فرعون کے واقعات جہاں بیان ہوئے ہیں اس حقیقت کی طرف اشارات موجود ہیں۔ مثلاً:

      وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ بِمَا صَبَرُوْا وَدَمَّرْنَا مَا کَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُہٗ وَمَا کَانُوْا یَعْرِشُوْنَ.(الاعراف ۷: ۱۳۷)
      ‘‘اور تمہارے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل کے لیے پورا ہوا۔ بوجہ اس کے کہ انھوں نے صبر کیا، اور ہم نے تباہ کر ڈالیں وہ عمارتیں جو فرعون اور اس کی قوم بناتے رہے تھے اور وہ بیلیں بھی جو وہ ٹٹیوں پر چڑھاتے رہے تھے۔‘‘‘‘

      مولانا نے یہ فصل وضاحت سے لکھی ہے لیکن یہ واقعات معلوم ہیں اس وجہ سے ہم نے صرف مختصر اقتباس پر کفایت کی ہے۔ جن کو تفصیل مطلوب ہو وہ اصل کتاب کی مراجعت کریں۔

      _____
      ؂۱ ہم اس کتاب میں واضح کر چکے ہیں کہ عربی میں بعض مرتبہ کسی چیز کی جمع اس کی وسعت اطراف کو ظاہر کرنے کے لیے بھی آتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے عبرانی میں بھی یہ قاعدہ موجود ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اور طور سینین۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      لفظ ’سِیْنِیْنَ‘جمع سالم کی صورت میں ہے، جیسے عربی زبان میں ’اجمعون‘ مستعمل ہے۔ یہ جمع پہاڑ کی وسعت اطراف کو ظاہر کرتی ہے۔ عبرانی میں اِس کی علامت ’یم‘ ہے۔ چنانچہ تورات میں اِس کا نام کہیں ’سینا‘ اور کہیں ’سینیم‘ آیا ہے۔ بنی اسرائیل نے بحیثیت امت اپنی زندگی اِسی پہاڑ سے شروع کی۔ پھر اِسی پہاڑ سے خدا نے اپنی کتاب میں اعلان کیا کہ وہ حق پر قائم رہیں گے تو دنیا کی قوموں پر اُنھیں غلبہ حاصل ہو گا اور اُس سے انحراف کریں گے تو اُنھی کے ذریعے سے ذلت اور محکومی کے عذاب میں مبتلا کر دیے جائیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اور یہ پر امن سرزمین۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      بلد امین سے مکہ مراد ہے: ’بلد امین‘ سے ظاہر ہے کہ مکہ مراد ہے لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صاف الفاظ میں مکہ کیوں نہیں کہا، صفت کے ساتھ کیوں اس کا ذکر کیا۔ اس سوال کا جواب ہم آگے ان شاء اللہ جب مقسم علیہ سے ان قسموں کے تعلق کی وضاحت کریں گے، دیں گے۔

      بلد امین کی شہادت جزا پر

      بلد امین سے مراد ظاہر ہے کہ مکہ ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے ایک مامون گھر بنایا ہے، چنانچہ فرمایا ہے:

      ’وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا‘ (آل عمران ۳: ۹۷)
      (اور جو اس میں داخل ہوا وہ مامون ہوا)۔

      جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی کافر قوم سے ہجرت کر کے اس علاقہ میں آئے ہیں یہ بالکل غیر آباد و غیر مامون تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے لیے رزق و امن کی دعا فرمائی جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی جس کی بدولت اس علاقہ میں رزق کی بھی فراوانی ہوئی اور یہ امن سے بھی معمور ہوا۔ اور یہ دونوں نعمتیں لوگوں کو حضرت ابراہیم کے بنائے ہوئے گھر کی برکت سے ملیں۔ چنانچہ فرمایا ہے:

      ’فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ الَّذِیْٓ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍ ۵ وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ‘(قریش ۱۰۶: ۳-۴)
      (پس چاہیے کہ لوگ اس گھر کے خداوند کی بندگی کریں جس نے ان کو بھوک میں کھلایا اور خوف سے نچنت کیا)۔

      حضرت ابراہیم پر یہ انعام ان کی ان جاں بازیوں اور قربانیوں کے صلے میں ہوا جو انھوں نے کلمۂ توحید کی سربلندی کی راہ میں پیش کیں۔ پھر جب انھوں نے اس سے بھی بڑے امتحان یعنی بیٹے کی قربانی کے امتحان میں بھی کامیابی حاصل کر لی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بھی بڑے انعام یعنی قوموں کی امامت کے منصب سے نوازا۔ اس وقت حضرت ابراہیمؑ نے سوال کیا کہ کیا اس امامت کے انعام میں میری ذریت بھی شامل ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ میرا یہ وعدہ ان لوگوں سے متعلق نہیں ہے جو شرک و کفر میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بن جائیں گے۔ یعنی تم کو جو کچھ ملا ہے وہ تو انعام ہے تمہاری جاں بازیوں اور وفاداریوں کا، اس وجہ سے تمہاری ذریت میں سے وہی اس انعام میں شریک ہوں گے جو تمہارے طریقہ کے پیرو ہوں گے۔ رہے وہ جو اس راہ سے منحرف ہو جائیں گے تو وہ اپنے اسی انجام سے دوچار ہوں گے جو اس طرح کے لوگوں کے لیے خدا کے قانون مکافات کی رو سے مقدر ہے۔ قرآن میں اس کا حوالہ یوں آیا ہے:

      وَاِذِ ابْتَلٰٓی اِبْرٰھِیۡمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ قَالَ لَا یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ.(البقرہ ۲: ۱۲۴)
      ’’اور یاد کرو جب کہ ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں سے جانچا تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں تو فرمایا کہ میں تم کو لوگوں کا امام بنانے والا ہوں تو اس نے سوال کیا کہ کیا میری ذریت میں سے بھی؟ ارشاد ہوا کہ میرا یہ عہد ان لوگوں سے متعلق نہیں ہے جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔‘‘

      اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ یہ مقام نہ صرف اللہ تعالیٰ کے قانون مکافات کا ایک مظہر ہے بلکہ اسی سرزمین سے اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کی عام منادی کرائی ہے کہ کون لوگ اس کے فضل و انعام کے حق دار ہوں گے اور کون اس کے قہر و غضب کے سزاوار ٹھہریں گے۔
      ناموں کی ترتیب سے متعلق ایک سوال کا جواب: ایک سوال ان ناموں کی ترتیب سے متعلق بھی ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ ان کی تقدیم و تاخیر میں کون سا اصول ملحوظ ہے۔ استاذ امام اس کا یہ جواب دیتے ہیں:

      ’’اس میں ترتیب جمع مثل بالمثل کی ملحوظ ہے۔ پہلے آدم علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا اس لیے کہ تقدم زمانی کے لحاظ سے اسی کا ذکر ہونا تھا۔ پھر مسیح علیہ السلام کے واقعہ کا ذکر ہوا اور یہ اس مماثلت کے سبب سے ہوا جو حضرت آدم اور حضرت مسیح کے درمیان ہے اور جس کا ذکر قرآن نے نہایت واضح الفاظ میں یوں فرمایا ہے:

      ’اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَاللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ‘ (آل عمران ۳: ۵۹)
      (عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم کی ہے)‘‘‘‘

      ....................................................................................................

      ’’اس کے بعد ان دو مقاموں کا ذکر آتا ہے جن کا تعلق حضرت موسیٰ  اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور ان دونوں رسولوں میں جو مماثلت ہے وہ بھی قرآن سے واضح ہے۔ چنانچہ قریش کو مخاطب کر کے فرمایا ہے:

      اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا۵ شَاھِدًا عَلَیْکُمْ کَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا.(المزمل ۷۳: ۱۵)
      ’’ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا تم پر گواہ بنا کر جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا۔‘‘

      ’’تورات کی کتاب استثناء میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو بشارت وارد ہے اس میں بھی یہ مماثلت موجود ہے:
      ’اور میں ان کے لیے انہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اس کو حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا اور جو کوئی ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب انہی سے لوں گا۔‘‘‘

       

      جاوید احمد غامدی اور (تمھارا) یہ شہر امین بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      ’اَمِیْن‘ مامون کے معنی میں ہے، یعنی وہ شہر جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کے طفیل مامون قرار دیا۔ سورۂ آل عمران (۳) آیت ۹۷ میں فرمایا ہے: ’وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا‘ (جو اِس میں داخل ہو جائے، وہ مامون ہے)۔ اِسے مکہ یا ام القریٰ مکہ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو امامت کا منصب اِسی شہر میں عطا ہوا اور خدا کی زمین پر اُس کی عبادت کے اولین مرکز، بیت الحرام کی تولیت ہمیشہ کے لیے اُن کی ذریت کے سپرد کر دی گئی۔ پھر یہیں اعلان کیا گیا کہ امامت کا یہ وعدہ اُن لوگوں کے لیے نہیں ہے جو اُن کی ذریت میں سے اپنی جانوں پر ظلم ڈھا نے والے ہوں گے۔

    • امین احسن اصلاحی کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر بنایا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اصل دعویٰ جس کو ثابت کرنے کے لیے قسمیں کھائی گئی ہیں: یہ وہ اصل دعویٰ ہے جس کو ثابت کرنے کے لیے مذکورہ بالا قسمیں کھائی گئی ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے لیکن ہماری سنت یہ ہے کہ جو لوگ اس انعام کی قدر کرتے اور ان کی فطرت کے اندر جو ہدایت ہم نے ودیعت کی ہے اس کو پروان چڑھاتے اور پھر نبیوں کی دعوت قبول کر کے ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کر لیتے ہیں ان کو تو ہم دائمی اجر سے نوازتے ہیں، لیکن جو لوگ اس کی قدر نہیں کرتے وہ ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں، اور ان کو ہم اسی گڑھے میں پھینک دیتے ہیں جس سے بچانے ہی کے لیے ہم نے ان پر یہ انعام کیا تھا۔
      ’لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ‘۔ ’تَقْوِیْمٌ‘ کا لغوی مفہوم تو کسی چیز کو سیدھا کرنا، مثلاً کہیں گے:

      ’قوّمت الرمح فاستقام‘ (میں نے نیزے کو سیدھا کیا تو وہ سیدھا ہوگیا) پھر اس مفہوم سے ترقی کر کے یہ لفظ کسی شے کو کسی خاص مقصد کے لیے موزوں اور مناسب بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ انسان کو اللہ نے نہایت اعلیٰ مقصد کے لیے بہترین صلاحیتوں سے آراستہ کیا ہے: انسان کے متعلق قرآن میں باربار یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ اس کو خدا نے عبث نہیں بلکہ ایک عظیم غایت (بِالْحَقِّ) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وہ غایت یہ ہے کہ اس دنیا کے دارالامتحان میں وہ شیطان اور اس کے ایجنٹوں کی باطل ترغیبات و ترہیبات سے بچتا ہوا زندگی کی اس صراط مستقیم پر گامزن رہے جو اس کے رب نے اس کے لیے کھولی ہے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ابدی بادشاہی بخشے گا اور اگر وہ شیطان کی ترغیب سے بہک کر یا اس کی ترہیب سے ڈر کر اس صراط مستقیم کو چھوڑ بیٹھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ہلاکت کی اسی وادی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دے گا جو وہ اپنے لیے پسند کرے گا۔ انسان کو اس غایت کے اعتبار سے، اللہ تعالیٰ نے نہایت بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے۔ اس کی ظاہری ساخت بھی گواہ ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے اور اس کی باطنی صلاحیتیں بھی اتنی اعلیٰ ہیں کہ اس زمین کی تمام مخلوقات میں سے صرف وہی ان کا اہل بن سکا ہے۔ پچھلی سورتوں میں، مختلف اسلوبوں سے، یہ بات بیان ہوئی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے خیر اور شر میں امتیاز بخشا ہے۔ یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ بالطبع وہ خیر کو پسند کرنے والا اور شر کو ناپسند کرنے والا ہے۔ نیز یہ حقیقت بھی جگہ جگہ واضح کی گئی ہے کہ وہ ذی عقل اور ذی ارادہ ہستی ہے، دوسری مخلوقات کی طرح عقل اور ارادہ سے محروم نہیں ہے۔ یہ ساری باتیں شہادت دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے اس کو پیدا کیا ہے اس کے لیے تمام ضروری صلاحیتوں سے اس کو آراستہ بھی کیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی کہ انسان کو ہم نے (اِن مقامات پر) پیدا کیا تو اُس وقت وہ بہترین ساخت پر تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پھر ہم نے اس کو ادنیٰ درجہ میں ڈال دیا جب کہ وہ خود گرنے والا بنا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      وہ سنت جس کے تحت اللہ تعالیٰ انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے: ’ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ‘۔ یہ اس سنت کی طرف اشارہ ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔ فرمایا کہ انسان چونکہ ذی ارادہ ہستی ہے اس وجہ سے اس احسن تقویم کے شرف سے بہرہ یاب رہنا یا اس سے محروم ہو جانا اس کے اپنے رویہ پر منحصر ہے۔ اگر وہ اس کی قدر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے مدارج بلند کرتا ہے اور اگر وہ اس کی قدر نہیں کرتا بلکہ نیچے ہی کی طرف جھکا رہتا ہے تو اس کو وہ نیچے ہی کی طرف لوٹا دیتا ہے اور بالآخر تمام سرفرازیوں سے محروم ہو کر، لڑکھڑاتا ہوا قعر جہنم میں گر پڑتا ہے۔
      ’اَسْفَلَ‘ میرے نزدیک ظرف اور ’سٰفِلِیْنَ‘ ’رَدَدْنٰہُ‘ کی ضمیر مفعول سے حال ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو نیچے کی طرف اس وجہ سے پھینکتا ہے کہ وہ نیچے کی طرف جانے ہی کی رغبت کرتا ہے، بلندیوں پر چڑھنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔
      ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ کھٹک پیدا ہو کہ ’سٰفِلِیْنَ‘ جمع ہے تو وہ ضمیر واحد سے کس طرح حال پر سکتا ہے؟ لیکن یہ شبہ صحیح نہیں ہے۔ ضمیر اگرچہ واحد ہے لیکن اس کا مرجع ’الْاِنْسَانَ‘ ہے جو معناً جمع ہے چنانچہ قرآن میں جگہ جگہ اس کے لیے ضمیریں واحد بھی آئی ہیں اور جمع بھی۔

      جاوید احمد غامدی پھر ہم نے اُسے پستی میں ڈال دیا، جبکہ وہ خود پستیوں میں گرنے والا ہوا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر کی تفصیل سے واضح ہے کہ خدا کی جو دینونت پوری انسانیت کے لیے قیامت میں ظاہر ہو گی، ذریت ابراہیم کے لیے وہ اِسی دنیا میں ظاہر ہوئی۔ تین و زیتون، طور سینا اور شہر امین، تینوں اِسی دینونت کے مقامات ظہور ہیں۔ اِن پر جو واقعات پیش آئے، قرآن نے ترتیب صعودی کے ساتھ اُن کا ذکر کرکے اِس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ذریت ابراہیم کی ہر شاخ نے اپنی ابتدا کی تو اُس وقت وہ ٹھیک اُس ساخت پر تھے جس پر فاطر فطرت نے اُنھیں پیدا کیا ہے۔ وہ توحید پر قائم تھے، پورے یقین کے ساتھ آخرت کو مانتے تھے اور اُن کی اکثریت اخلاقی لحاظ سے حسن عمل کا بہترین نمونہ پیش کرتی تھی، لیکن جب اُنھوں نے انحراف اختیار کیا تو ہم نے اُنھیں اُس پستی میں ڈال دیا جس میں اب صدیوں سے اُنھیں گرا ہوا دیکھتے ہو۔ وہ ذلت اور محکومی کے عذاب میں مبتلا ہیں اور اُس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتے۔
      یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ آیت میں ’اَسْفَلَ سٰفِلِیْن‘ کے جو الفاظ آئے ہیں، اُن میں ’اَسْفَلَ‘ ظرف اور ’سٰفِلِیْنَ‘ ہمارے نزدیک ’رَدَدْنٰہُ‘ کی ضمیر مفعول سے حال واقع ہوا ہے۔ ضمیر کا مرجع ’الْاِنْسَان‘ ہے جو معناً جمع ہے۔ مدعا یہ ہے کہ اِن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اُس وقت پستیوں میں ڈالا، جب اِنھوں نے خود پستیوں کو چاہا اور بلندیوں پر چڑھنے کا حوصلہ نہیں کیا۔

    • امین احسن اصلاحی بجز ان کے جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک کام کیے۔ سو ان کے لیے ایک دائمی صلہ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ان لوگوں کی صفت جو ہلاکت سے محفوظ رہتے ہیں: ’اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ‘۔ یہ ان لوگوں کی صفت بیان ہوئی ہے جن کو اللہ تعالیٰ اس ہلاکت سے محفوظ رکھتا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ ’احسن تقویم‘ پر پیدا کیے جانے کی قدر و قیمت سمجھتے اور ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرنے کی توفیق پاتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نیچے نہیں پھینکتا بلکہ ان کو عزت و رفعت بخشتا ہے اور وہ ایک ابدی زندگی میں ابدی انعام سے نوازے جاتے ہیں۔
      ’غَیْرُ مَمْنُوْنٍ‘ کی تحقیق اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ اس کے معنی غیرمنقطع اور دائم کے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس کی تاویل اس سے مختلف بھی کی ہے لیکن وہ عربیت کے خلاف ہے۔
      اصل دعوے کو متعین کرنے کے بعد اب آئیے اس سوال پر غور کیجیے کہ مذکورہ بالا قَسمیں کس طرح اس دعوے پر دلیل ہیں جو یہاں پیش کیا گیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی رہے وہ جو ایمان پر قائم رہے اور اُنھوں نے نیک عمل کیے تو اُن کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں فعل ’اٰمَنُوْا‘ آیا ہے۔ یہ اپنے کامل معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ استثنا اِس لیے بیان فرمایا ہے کہ قومی حیثیت سے پستی میں گرانے اور عذاب میں مبتلا کیے جانے کے یہ معنی نہ سمجھ لیے جائیں کہ اُن میں سے جو لوگ انفرادی حیثیت سے ایمان پر قائم رہے اور اُنھوں نے نیک عمل کیے، اُن کا اجر بھی ضائع ہو جائے گا۔ فرمایا کہ نہیں، وہ اپنے ایمان و عمل کا پورا اجر پائیں گے اور خدا کی ابدی بادشاہی میں داخل کیے جائیں گے۔ قوموں کا محشر یہ دنیا ہے، قیامت میں ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت سے جواب دہ ہو گا اور اُس کے نیک و بد کا فیصلہ بھی اِسی لحاظ سے کیا جائے گا۔ بلکہ قوم کی پستی کے زمانے میں جو لوگ بلندیوں پر چڑھنے کا حوصلہ کریں گے، وہ زیادہ اجر کے مستحق ہوں گے، اِس لیے کہ وہ اُس وقت جاگتے رہے، جب دوسرے سو رہے تھے اور اُس وقت زندہ رہے، جب شہر قبرستان بن چکے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی تو اب کیا ہے جس سے تم جزا و سزا کو جھٹلاتے ہو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ‘ اس آیت کی تاویل مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یوں فرمائی ہے:

      ’’اس آیت کی تاویل میں دو قول ہیں:
      ’فَمَا یُکَذِّبُکَ‘ الآیۃ کی تاویل:
      ایک یہ کہ پس اے انسان!ان واضح شہادتوں کے بعد کیا چیز ہے جو جزا کے بارے میں تیری تکذیب کرتی ہے۔ یہ تاویل مجاہد نے اختیار کی ہے جب ان سے کہا گیا کہ اس میں تو مخاطب آنحضرت ہیں تو انھوں نے فرمایا: معاذ اللہ یہ کیسے ہو سکتا ہے، اس میں مخاطب انسان ہے۔ زمخشری نے یہی تاویل اختیار کی ہے لیکن وہ ’یُکَذِّبُ‘ میں ’تکذیب‘ کے معنی ’حمل علی التکذیب‘ یعنی تکذیب پر ابھارنے کے لیے لیتے ہیں۔ اگر یہ معنی ثابت ہو جائیں تو یہ تاویل نہایت واضح ہے لیکن اس کی تائید میں انھوں نے کوئی دلیل نہیں دی ہے۔‘‘
      ’دوسری تاویل یہ ہے کہ پس اے پیغمبر! اس کے بعد کیا چیز ہے جو جزا کے بارے میں تمہاری تکذیب کرتی ہے! فراء نے یہی تاویل اختیار کی ہے۔ اس پہلو سے تو یہ تاویل صحیح ہے کہ اس میں الفاظ کے مشہور معنی سے کوئی انحراف نہیں ہے لیکن سیاق کلام اور موقع استفہام کو سامنے رکھ کر غور کیجیے تو یہ تاویل صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ اول تو دو دو استفہاموں کے ساتھ آنحضرت صلعم کو یہاں مخاطب کرنے کا کوئی پہلو سمجھ میں نہیں آتا، دوسرے ’فَمَا یُکَذِّبُ‘ کا زور اور لفظ ’بَعْدُ‘ کی تاکید تو یہ تاویل لینے کی صورت میں بالکل ہی مخفی رہ جاتی ہے۔ سیاق اور حسن نظم سے اقرب تاویل وہی معلوم ہوتی ہے جو مجاہد نے اختیار کی ہے۔ اس میں لفظ اپنے اصل مفہوم پر باقی بھی رہتا ہے اور اس کے ان دونوں معنوں کے لحاظ سے جو اوپر بیان ہوئے یہاں دو تاویلیں نہایت محکم اور خوبصورت بن جاتی ہیں۔‘‘
      ’’ایک یہ کہ اے انسان! ان شہادتوں کے بعد اب کون سی شہادت اور دلیل ہے جو وقوع جزا کے بارے میں تیرے عقیدے کی تکذیب کرتی ہے۔ اس صورت میں مخاطب انسان ہو گا اور جو لوگ جزا پر یقین رکھنے والے ہیں ان کو اس کلام سے تقویت اور تائید حاصل ہو گی اور جو لوگ جزا کے بارے میں مذبذب ہوں گے ان کو اس پر غور کرنے کی تحریک ہوگی۔‘‘
      ’’پھر لفظ ’ما‘ کے حسن استعمال پر غور کیجیے۔ اس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ انسان نے انکار کی راہ ہمیشہ تقلید اور ضد کی بنا پر اختیار کی ہے۔ اس راہ میں دلائل نے کبھی اس کا ساتھ نہیں دیا ہے۔ دلائل اور شہادتوں کی اس پوری کائنات میں کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں ہے جو جزا کے انکار کے حق میں ہو۔ اس وجہ سے انسانوں کو مخاطب کر کے یہ دعوت دی کہ وہ تقلید سے ہٹ کر دلائل پر غور کریں اور دیکھیں کہ کیا یہاں کوئی ایک چیز بھی ایسی ہے جو جزا کے عقیدے کو غلط ثابت کر رہی ہو۔‘‘
      ’’دوسری تاویل یہ کہ واقعات اور دلائل کی ان شہادتوں کے بعد آخر وہ اوہام اور آرزوئیں کیا ہیں جو جزا کے بارے میں انسان کو فریب میں مبتلا کر رہی ہیں۔‘‘
      ’’اس صورت میں روئے سخن منکرین کی طرف ہو گا۔ قرآن میں اس قسم کے خطاب کی نظیریں موجود ہیں، مثلاً:

      یٰٓاَیُّھَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ.(الانفطار ۸۲: ۶)
      اے انسان! تجھے تیرے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔‘‘

      ان دونوں استفہاموں کا مدعا: ان دونوں استفہاموں کا مدعا مولاناؒ یوں واضح فرماتے ہیں:

      ’’ اب دونوں استفہاموں کے مدعا پر غور کیجیے:
      پہلے اسفہام کا مدعا دونوں تاویلوں کی صورت میں یہ ہو گا کہ مجازات کے اس قدر دلائل سامنے آ جانے کے بعد انسان کو چاہیے کہ اس کا اقرار کرے اور ان شبہات سے اپنے کو بچائے جو لوگوں کی طرف سے یا خود اس کے اپنے نفس کی طرف سے اس کے دل میں پیدا ہوں۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی (اے پیغمبر)، اِس کے بعد کیا چیز ہے جو روز جزا کے بارے میں تمھیں جھٹلاتی ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ استفہام انکار کے لیے ہے اور روے سخن اُنھی منکرین قیامت کی طرف ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انذار کو جھٹلا رہے تھے ۔ فرمایا ہے کہ علم و عقل کے ہاتھ میں فیصلہ ہو تو ذریت ابراہیم کے لیے خدائی دینونت کے اِس ظہور کو دیکھنے کے بعد کوئی چیز بھی قیامت کے بارے میں تمھارے انذار کو نہیں جھٹلا سکتی۔اثبات قیامت کے لیے یہ ایک حتمی حجت ہے۔ اِس کے بعد صرف ضد، ہٹ دھرمی اور اندھی تقلید ہی لوگوں کو جھٹلانے پر آمادہ کر سکتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا اللہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس آیت کی تاویل مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یوں فرمائی ہے:

      ’’دوسرے استفہام ’اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ‘ کا مقصد یہ ہے کہ لوگ مجازات کا اقرار کریں اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔ گویا پوری بات یوں فرمائی کہ کیا اللہ تعالیٰ تمام حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے؟ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ انسانوں کو یونہی چھوڑ دے گا، ان کے اچھوں اور بروں میں کوئی امتیاز نہ کرے گا۔

      ’اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ‘ (القلم ۶۸: ۳۵-۳۶)
      (کیا ہم فرماں برداروں کو نافرمانوں کی طرح کر دیں گے، تمہیں کیا ہو گیا ہے! تم کیسے فیصلے کرتے ہو!!)‘‘

      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس سورہ میں انسان کے ’احسن تقویم‘ پر پیدا کیے جانے کا جو ذکر ہے اس کا خاص پہلو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو خیر و شر میں امتیاز بخشا ہے اور اس کے اندر عدل سے محبت اور ظلم سے کراہت ودیعت فرمائی ہے۔ اس چیز کا یہ بدیہی تقاضا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ کے اندر، جو انسان کا خالق ہے، عدل اور خیر سے یہ محبت اور ظلم و شر سے کراہت بدرجۂ کمال موجود ہے۔ پھر یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ اس کی یہ صفت اس پر واجب کرتی ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں تمام خلق کا انصاف کرے۔ جنھوں نے نیکی کمائی ہو ان کو اچھا صلہ دے اور جنھوں نے بدی کمائی ہو ان کو ان کی بدی کے مطابق سزا دے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ ’اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ‘ نہیں ہے حالانکہ وہ بالبداہت ’اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ‘ ہے۔ اس کی اس صفت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (اِن سے پوچھو)، کیا اللہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا نہیں ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ استفہام اقرار کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ یقیناً سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، اُس کی اِس صفت سے کوئی عاقل انکار نہیں کر سکتا، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ قیامت برپا نہ کرے اور اِس طرح مجرموں اور نیکوکاروں کو اُن کے انجام کے لحاظ سے برابر کر دے؟

    Join our Mailing List