Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 11 آیات ) Ad-Duhaa Ad-Duhaa
Go
  • الضحٰی (The Glorious Morning Light, The Forenoon, Morning Hours, Morning Bright)

    11 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق و لاحق سے تعلق

    یہ سورہ اور بعد کی سورہ ۔۔۔ اَلَم نَشْرَحْ ۔۔۔ دونوں توام کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس مشن پر مامور فرمایا ہے اس میں آپ فائز المرام ہوں گے۔ راہ میں جو رکاوٹیں اس وقت نظر آ رہی ہیں وہ سب دور ہو جائیں گی۔ یہ مضمون پچھلی سورتوں میں بھی آیا ہے۔ البتہ دوسرے مطالب کے ضمن میں آیا ہے لیکن ان دونوں کا خاص مضمون ہی یہی ہے۔ ان کے آئینہ میں آپ کی زندگی کے تمام مراحل گویا آپ کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں۔ ان میں تسلی کا جو انداز اختیار فرمایا گیا ہے اس پر غور کیجیے تو معلوم ہو تا ہے کہ سورۂ ضحٰی مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی ہے جب دعوت کی مخالفت اتنی شدت اختیار کر گئی ہے کہ آپ آگے کی راہ مسدود پا کر دل گرفتہ رہنے لگے اور سورہ اَلَم نَشْرَحْ اس دور میں نازل ہوئی ہے جب مخالفت کی شدت کے علی الرغم افق میں کامیابی کے کچھ آثار بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔

  • الضحٰی (The Glorious Morning Light, The Forenoon, Morning Hours, Morning Bright)

    11 آیات | مکی
    الضحٰی - الم نشرح

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔اِن میں خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ قرآن کی ترتیب میں اِن کا یہ مقام بتاتا ہے کہ ام القریٰ مکہ میں آپ کی دعوت کا مرحلۂ انذار عام اِنھی دو سورتوں پر ختم ہوا ہے۔ یہی بات اِن کے مضمون سے بھی واضح ہوتی ہے۔

    دونوں سورتوں کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور آیندہ ایک بڑی کامیابی کی بشارت ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی شاہد ہے وقت چاشت۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ضُحٰی‘ چاشت کے وقت کو کہتے ہیں جب دن کی سرگرمیوں کا آغاز ہوتا اور انسان رات میں آرام کے بعد، ازسرنو تازہ دم ہو کر، جدوجہد کے میدان میں اترتا ہے۔
      رات اور دن کی باہمی سازگاری: رات کی شہادت قرآن میں، موقع کی مناسبت سے، مختلف پہلوؤں سے پیش کی گئی ہے جن کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ یہاں اس کے ساتھ ’اِذَا سَجٰی‘ کی قید لگی ہوئی ہے۔ ’سَجٰی‘ کے معنی ’رَکَد‘ اور ’سَکَن‘ یعنی ٹک جانے اور ساکن ہو جانے کے آتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ یہاں رات کا وقت پیش نظر ہے جب وہ دن کے شور و شغب اور ابتدائے شب کے ہنگاموں سے نکل کر اچھی طرح ٹک جاتی اور انسان کو سکون و راحت بخشنے کے قابل بن جاتی ہے۔ گویا لفظ ’ضُحٰی‘ سے جو حصہ دن کا مراد لیا گیا ہے ’وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی‘ سے اس کے بالمقابل شب کا حصہ مراد لیا گیا ہے۔
      یہ دن اور رات غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اپنی شکل و صورت، اپنے مزاج اور اپنے اثرات کے لحاظ سے اگرچہ بالکل مختلف ہیں لیکن اس اختلاف کے باوجود انسان بھی اپنی زندگی کے لیے ان کا محتاج ہے اور یہ دنیا بحیثیت مجموعی بھی اپنی بقا کے لیے ان کی حاجت مند ہے اور خالق کائنات کی یہ بہت بڑی رحمت و عنایت ہے کہ اس نے دن کے ساتھ رات اور رات کے ساتھ دن کو وجود بخشا اور ان دونوں کے تفاعل سے وہ مصالح پورے ہوتے ہیں جو اس دنیا کے بقا کے لیے ضروری ہیں۔ قرآن نے ان دونوں کے تفاعل کا جگہ جگہ ذکر کیا ہے، مثلاً:

      ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْْلَ لِتَسْکُنُوۡا فِیْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا.؂۱ (یونس ۱۰: ۶۷)
      ’’وہی خدا ہے جس نے تمہارے لیے رات کو تاریک بنایا تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس میں جدوجہد کرو۔‘‘

      سورۂ قصص میں فرمایا ہے:

      وَمِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمْ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ لِتَسْکُنُوۡا فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوۡا مِن فَضْلِہٖ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ. (القصص ۲۸: ۷۳)
      ’’اور یہ اس کی رحمت میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں سکون حاصل کرو اور دن میں اس کے رزق و فضل کے طلب کرنے والے بنو اور تاکہ تم اپنے رب کے شکرگزار رہو۔‘‘

      _____
      ؂۱ اس آیت میں حذف و ایجاز کا جو اصول ملحوظ ہے اس کی وضاحت آیت کی تفسیر میں ہو چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی دن گواہی دیتا ہے، جب وہ روشن ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَالضُّحٰی وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی‘۔ ’ضُحٰی‘ چاشت کے وقت کو کہتے ہیں۔ ’اِذَا سَجٰی‘ اِسی کے مقابل میں ہے۔ لہٰذا لفظ ’ضُحٰی‘ سے دن کا جو حصہ مراد لیا گیا ہے، رات کا بھی وہی حصہ مراد ہے۔
      یعنی جس طرح دنیا کی زندگی کے لیے دن کی روشنی اور حرارت، اور رات کی تاریکی اور سکون، دونوں ضروری ہیں، اِسی طرح انسان کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے بھی رنج و راحت، دونوں ناگزیر ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ دعوت کی مشکلات، مخالفتوں کا ہجوم اور توقعات کے خلاف قوم کا ردعمل اگر کمر شکن ہو رہا ہے تو اِس میں یہی حکمت ملحوظ ہے۔ وحی کے نزول میں بھی اِس طرح کی تمام حکمتیں ملحوظ رکھی جاتی ہیں۔ یہ تمھاری اور تمھارے ساتھیوں کی تربیت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ مطمئن رہو ، اِس معاملے میں سنت الٰہی یہی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور شاہد ہے رات جب پرسکون ہو جاتی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رات اور دن کی باہمی سازگاری: رات کی شہادت قرآن میں، موقع کی مناسبت سے، مختلف پہلوؤں سے پیش کی گئی ہے جن کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ یہاں اس کے ساتھ ’اِذَا سَجٰی‘ کی قید لگی ہوئی ہے۔ ’سَجٰی‘ کے معنی ’رَکَد‘ اور ’سَکَن‘ یعنی ٹک جانے اور ساکن ہو جانے کے آتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ یہاں رات کا وقت پیش نظر ہے جب وہ دن کے شور و شغب اور ابتدائے شب کے ہنگاموں سے نکل کر اچھی طرح ٹک جاتی اور انسان کو سکون و راحت بخشنے کے قابل بن جاتی ہے۔ گویا لفظ ’ضُحٰی‘ سے جو حصہ دن کا مراد لیا گیا ہے ’وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی‘ سے اس کے بالمقابل شب کا حصہ مراد لیا گیا ہے۔
      یہ دن اور رات غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اپنی شکل و صورت، اپنے مزاج اور اپنے اثرات کے لحاظ سے اگرچہ بالکل مختلف ہیں لیکن اس اختلاف کے باوجود انسان بھی اپنی زندگی کے لیے ان کا محتاج ہے اور یہ دنیا بحیثیت مجموعی بھی اپنی بقا کے لیے ان کی حاجت مند ہے اور خالق کائنات کی یہ بہت بڑی رحمت و عنایت ہے کہ اس نے دن کے ساتھ رات اور رات کے ساتھ دن کو وجود بخشا اور ان دونوں کے تفاعل سے وہ مصالح پورے ہوتے ہیں جو اس دنیا کے بقا کے لیے ضروری ہیں۔ قرآن نے ان دونوں کے تفاعل کا جگہ جگہ ذکر کیا ہے، مثلاً:

      ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْْلَ لِتَسْکُنُوۡا فِیْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا.؂۱ (یونس ۱۰: ۶۷)
      ’’وہی خدا ہے جس نے تمہارے لیے رات کو تاریک بنایا تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس میں جدوجہد کرو۔‘‘

      سورۂ قصص میں فرمایا ہے:

      وَمِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمْ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ لِتَسْکُنُوۡا فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوۡا مِن فَضْلِہٖ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ. (القصص ۲۸: ۷۳)
      ’’اور یہ اس کی رحمت میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں سکون حاصل کرو اور دن میں اس کے رزق و فضل کے طلب کرنے والے بنو اور تاکہ تم اپنے رب کے شکرگزار رہو۔‘‘

      _____
      ؂۱ اس آیت میں حذف و ایجاز کا جو اصول ملحوظ ہے اس کی وضاحت آیت کی تفسیر میں ہو چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور رات بھی جب وہ پرسکون ہو جائے (کہ انسان کی تربیت کے لیے بھی رنج و راحت، دونوں چاہییں)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَالضُّحٰی وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی‘۔ ’ضُحٰی‘ چاشت کے وقت کو کہتے ہیں۔ ’اِذَا سَجٰی‘ اِسی کے مقابل میں ہے۔ لہٰذا لفظ ’ضُحٰی‘ سے دن کا جو حصہ مراد لیا گیا ہے، رات کا بھی وہی حصہ مراد ہے۔
      یعنی جس طرح دنیا کی زندگی کے لیے دن کی روشنی اور حرارت، اور رات کی تاریکی اور سکون، دونوں ضروری ہیں، اِسی طرح انسان کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے بھی رنج و راحت، دونوں ناگزیر ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ دعوت کی مشکلات، مخالفتوں کا ہجوم اور توقعات کے خلاف قوم کا ردعمل اگر کمر شکن ہو رہا ہے تو اِس میں یہی حکمت ملحوظ ہے۔ وحی کے نزول میں بھی اِس طرح کی تمام حکمتیں ملحوظ رکھی جاتی ہیں۔ یہ تمھاری اور تمھارے ساتھیوں کی تربیت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ مطمئن رہو ، اِس معاملے میں سنت الٰہی یہی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کہ تیرے خداوند نے نہ تجھے چھوڑا اور نہ تجھ سے بیزار ہوا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رنج اور راحت دونوں انسان کی تربیت کے لیے ہیں: یہ وہ اصل مدعا ہے جس کو مبرہن کرنے کے لیے اوپر کے آفاقی شواہد کی قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں سورج کی روشنی اور حرارت بھی ضروری ہے اور رات کی تاریکی اور سکون بھی اسی طرح انسان کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے عُسر اور یُسر، نرمی اور درشتی، فقر اور غنٰی کی آزمائشیں بھی ضروری ہیں۔ انہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ، جیسا کہ سورۂ فجر میں وضاحت فرمائی ہے، اپنے بندے کے صبر یا شکر کا امتحان کرتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اس وقت اگر تم مخالفوں کی مخالفت، اعوان و انصار کی قلت اور اسباب و وسائل کی کمی سے دوچار ہو یا آسمانی و روحانی کمک کی جتنی ضرورت محسوس کر رہے ہو اتنی تمہیں نہیں پہنچ رہی ہے تو اس کے معنی ہرگز یہ نہیں ہیں کہ اب تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے یا تم سے بیزار ہو گیا ہے بلکہ یہ تمہاری تربیت کے لیے تمہارا امتحان ہے تاکہ تم اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے اچھی طرح تیار ہو جاؤ۔
      اس آیت کے اندر یہ سارا مضمون مضمر ہے جو اوپر کی آیات سے بھی واضح ہو رہا ہے اور آگے کی آیات اور اس کے بعد کی سورہ سے بھی، جیسا کہ آپ دیکھیں گے، واضح ہو گا لیکن بتقاضائے ایجاز مقسم علیہ کی حیثیت سے سب سے نمایاں تسلی کے مضمون کے اسی پہلو کو کیا گیا ہے جس کے آپ اس دور میں خاص طور پر محتاج تھے یعنی یہ اطمینان دلا دیا گیا کہ جن حالات سے اس وقت آپ دوچار ہیں اس کی وجہ آپ کے معاملہ سے اللہ تعالیٰ کی بے تعلقی یا ناخوشی نہیں بلکہ سنت الٰہی کے مطابق آپ کی تربیت ہے۔
      یہ امر واضح رہے کہ مکی دور میں قریش کی مخالفت جب زیادہ شدت اختیار کر گئی تو اس سے آپ کو خاص پریشانی جو ہوئی وہ یہی ہوئی کہ مبادا ان لوگوں کی اس بیزاری میں آپ کی کسی کوتاہی یا بے تدبیری کو کوئی دخل ہے جو اللہ تعالیٰ کے عتاب کا سبب ہوئی جس کے باعث یہ حالات پیش آ رہے ہیں۔ آپ کا یہ احساس ظاہر ہے کہ ایک نہایت کمرشکن احساس تھا چنانچہ آگے والی سورہ میں اس کو کمر شکن بوجھ سے تعبیر فرمایا بھی گیا ہے: ’وَوَضَعْنَا عَنۡکَ وِزْرَکَ ۵ الَّذِیْ أَنۡقَضَ ظَہْرَکَ‘ (الم نشرح ۹۴: ۲-۳)
      وحی کے لیے شدت انتظار کی اصلی وجہ: اس پریشانی میں قدرتی طور پر آپ کو سب سے زیادہ بے چینی کے ساتھ وحی الٰہی کا انتظار ہوتا اس لیے کہ یہی واحد چیز ہے جو تاریک حالات میں روشنی بھی دکھا سکتی ہے اور اسی سے آپ کو یہ اندازہ بھی ہوتا کہ آپ فریضۂ دعوت رب کے منشا کے مطابق انجام دے رہے ہیں یا اس میں کوئی کوتاہی یا بے تدبیری ہو رہی ہے۔ لیکن وحی کا معاملہ تمام تر اللہ تعالیٰ کی حکمت پر مبنی ہے۔ ضروری نہیں کہ حضور کو انتظار اور پریشانی ہو تو وحی نازل بھی ہو جائے۔ چنانچہ ان حالات میں وحی کے وقفہ سے آپ کی پریشانی فطری طور پر دوچند ہو جاتی۔ حضور کی ان پریشانیوں کا ذکر مکی سورتوں میں جگہ جگہ ہوا ہے اور ہم ان کی پوری وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ تفصیل مطلوب ہو تو سورۂ طٰہٰ اور سورۂ قیامہ کی تفسیر میں متعلق مباحث پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
      اس آیت میں آپ کو جو تسلی دی گئی ہے وہ اسی طرح کے حالات میں دی گئی ہے۔ ضروری نہیں کہ کفار میں سے کسی کے اس طعنہ کے جواب میں کہ ’’اس شخص کو اس کے رب نے چھوڑ دیا۔‘‘ یہ آیت اتری ہو۔ کفار یہ مانتے کب تھے کہ اللہ تعالیٰ سے آپ کا یا آپ کی دعوت کا کوئی خاص ربط ہے اور وہ آپ پر وحی بھیجتا ہے! وہ تو آپ کو کاہن اور شاعر کہتے تھے۔ پھر یہ کہ وحی کے آنے یا نہ آنے کا تجربہ صرف حضور کو ہوتا تھا، کفار کو کیا معلوم کہ وحی کا سلسلہ قائم ہے یا بند ہے؟ جہاں تک تبلیغ و دعوت کا تعلق ہے وہ آپ نے ایک دن کے لیے بھی کبھی بند نہیں کی کہ کفار کو یہ طعنہ دینے کا موقع ملے کہ اب یہ شخص اپنے منصب پر مامور نہیں رہا یا اس کے رب نے اس کو چھوڑ دیا۔

      جاوید احمد غامدی (اِس لیے) تمھارے پروردگار نے تمھیں چھوڑا ہے، نہ وہ تم سے ناراض ہوا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      شب و روز کے تفاعل کی گواہی جس مدعا کو مبرہن کرنے کے لیے پیش کی گئی ہے، یہ اُس کا وہ پہلو نمایاں کر دیا ہے جو اُس وقت آپ کی پریشانی کو دور کرنے اور آپ کی تسلی کے لیے ضروری تھا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...مطلب یہ ہوا کہ اِس وقت اگر تم مخالفوں کی مخالفت، اعوان و انصار کی قلت اور اسباب و وسائل کی کمی سے دوچار ہو یا آسمانی و روحانی کمک کی جتنی ضرورت محسوس کررہے ہو، اتنی تمھیں نہیں پہنچ رہی ہے تو اِس کے معنی ہرگز یہ نہیں ہیں کہ تمھارے رب نے تمھیں چھوڑ دیا ہے یا تم سے بیزار ہو گیا ہے، بلکہ یہ تمھاری تربیت کے لیے تمھارا امتحان ہے تاکہ تم اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے اچھی طرح تیار ہو جاؤ۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۴۱۳)

       

    • امین احسن اصلاحی اور بعد کا دور تیرے لیے پہلے سے بہتر ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تسلی کے مضمون کی مزید وضاحت: یہاں ’اٰخِرَۃ‘ اور ’اُوْلٰی‘ کے الفاظ دنیا اور آخرت کے اصطلاحی مفہوم میں نہیں بلکہ عام مفہوم یعنی دعوت کے دور آخر اور دور اول یا اس کے حاضر و مستقبل کے مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔
      یہ اسی تسلی کے مضمون کی مزید وضاحت ہے کہ اس وقت جو حالات ہیں وہ بدل جائیں گے اور مستقبل ماضی و حاضر سے بہت بہتر ہو گا۔ اس مضمون کی بشارت خفی اور جلی دونوں طرح قرآن نے جگہ جگہ دی ہے اور قدیم صحیفوں میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق جو پیشین گوئیاں وارد ہیں ان میں آپ کی دعوت کے آغاز کو رائی کے دانے کی تمثیل سے سمجھایا ہے جو ہوتا تو نہایت چھوٹا ہے لیکن جب اُگتا ہے تو اس کا پودا سب ترکاریوں سے بڑا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ پرندے اس میں بسیرا لیتے ہیں۔
      ایک جامع بشارت: لفظ ’خَیْرٌ‘ سے یہاں جو بشارت دی گئی ہے وہ ایک جامع بشارت ہے جس کے اندر دین کے غلبہ و تمکن، مکہ کی فتح، دشمنوں کی پامالی اور دین میں داخل ہونے والوں کی کثرت کے وہ سارے پہلو جمع ہو گئے ہیں جو سابق سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں، آگے والی سورہ میں بھی ان کی طرف اشارہ ہے اور سورۂ نصر میں بھی ان کی وضاحت آئے گی۔

      جاوید احمد غامدی آنے والے دن تمھارے لیے اِن پہلے دنوں سے کہیں بہتر ہوں گے، (اے پیغمبر)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’الْاُوْلٰی‘ اور ’الْاٰخِرَۃ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ اِس آیت میں دنیا اور آخرت کے اصطلاحی مفہوم میں نہیں،بلکہ اپنے عام معنی میں استعمال ہوئے ہیں، یعنی پہلے اور بعد کا دور۔ آیت میں جو بشارت دی گئی ہے، وہ ایک جامع بشارت ہے۔ اِس میں وہ تمام فتوحات شامل ہیں جو بعد میں آپ کو حاصل ہوئیں اور جن کے نتیجے میں پورے جزیرہ نماے عرب میں آپ کی حکومت قائم ہو گئی، بیت اللہ آپ کے حوالے کر دیا گیا، آپ کے دشمن پامال ہوگئے اور دین میں داخل ہونے والوں کے ہجوم کسی گنتی کرنے والے کی گنتی میں نہیں رہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور تیرا خداوند تجھے عطا فرمائے گا پس تو نہال ہو جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرمایا کہ عنقریب تمہارا رب تمہیں دے گا اور تم نہال ہو جاؤ گے۔ یہاں اگرچہ واضح نہیں فرمایا کہ کیا دے گا لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد وہی خیر ہے جس کی بشارت اوپر والی آیت میں دی گئی ہے اور جو حاوی ہے ان تمام فیروز مندیوں اور کامرانیوں پر جو بعد کے ادوار میں اسلام کو حاصل ہوئیں۔ چونکہ ابھی یہ ساری باتیں پردۂ غیب میں تھیں اس وجہ سے ’یُعْطِیْکَ‘ کے مفعول ثانی کو ظاہر نہیں فرمایا لیکن اس کے بعد ’فَتَرْضٰی‘ کے لفظ نے کسی قدر اس شان دار مستقبل کی جھلک دکھا دی کہ اتنا دے گا کہ بس تم نہال ہو جاؤ گے! ۔۔۔ اس ایک ہی لفظ کے اندر وہ سب کچھ موجود ہے جو ایک دفتر میں بھی نہیں سما سکتا۔

      جاوید احمد غامدی اور تمھارا پروردگارعنقریب تمھیں اتنا دے گا کہ نہال ہو جاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی تمھاری اور تمھارے ساتھیوں کی وہ سب آرزوئیں پوری ہو جائیں گی جو اسلام کے مستقبل سے متعلق تم اپنے دلوں میں رکھتے ہو۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...چونکہ ابھی یہ ساری باتیں پردۂ غیب میں تھیں، اِس وجہ سے ’یُعْطِیْکَ‘ کے مفعول ثانی کو ظاہر نہیں فرمایا، لیکن اِس کے بعد ’فَتَرْضٰی‘ کے لفظ نے کسی قدر اِس شاندار مستقبل کی جھلک دکھا دی کہ اتنا دے گا کہ بس تم نہال ہو جاؤ گے! ۔۔۔اِس ایک ہی لفظ کے اندر وہ سب کچھ موجود ہے جو ایک دفتر میں بھی نہیں سما سکتا۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۴۱۵)

       

    • امین احسن اصلاحی کیا اس نے تجھے یتیم پایا تو ٹھکانا نہ دیا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضور کی زندگی کے بعض سبق آموز حالات کی طرف اشارہ: یہ اسی بات کو جو اوپر آیت ۴ میں ارشاد ہوئی کہ تمہارا مستقبل ماضی سے بہتر ہو گا، مؤکد کرنے کے لیے خود حضور ہی کی زندگی کے بعض سبق آموز حالات کی طرف توجہ دلائی کہ غور کرو تو تمہیں اپنی ہی زندگی اس حقیقت کی نہایت عمدہ تفسیر نظر آئے گی۔
      سب سے پہلے آپ کی یتیمی کا حوالہ دیا۔ یتیمی اول تو خود ہی ایک بہت بڑی مصیبت ہے لیکن معاشرہ اگر اس حد تک بگڑا ہوا ہو جس کی تصویر پچھلی سورتوں میں کھینچی گئی ہے تو اس میں یتیم کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ چنانچہ فرمایا ہے:

      ’کَلَّا بَل لَّا تُکْرِمُوۡنَ الْیَتِیْمَ‘ (الفجر ۸۹: ۱۷)
      (ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیم کی کوئی عزت نہیں کرتے)

      اسی طرح حضور ہی کے خاندان کے بعض افراد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

      ’فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ‘ (الماعون ۱۰۷: ۲)
      (وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے)۔

      لیکن حضورؐ کے حال پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہوا کہ باوجودیکہ آپ کے والد ماجد نے کوئی قابل ذکر ترکہ نہیں چھوڑا لیکن آپ کے دادا اور ان کے بعد آپ کے چچا نے آپ کی پرورش کی اور نہایت عزت اور شفقت کے ساتھ پرورش کی۔ عام حالات میں دادا کے دل میں یتیم پوتے کے لیے شفقت اور چچا کے دل میں یتیم بھتیجے کے لیے عزت و محبت کا پایا جانا کوئی نادر بات نہیں بلکہ انسانی فطرت کا ایک بدیہی تقاضا ہے لیکن ایک فاسد معاشرہ میں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ ایک نادر الوجود بات ہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی یتیم پر اپنے جمال محبت کا وہ پرتو ڈال دے جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ڈال دیا کہ ان کی پرورش ان کے سب سے بڑے دشمن فرعون نے اپنے محل میں کی۔

       

      جاوید احمد غامدی کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اُس نے تمھیں یتیم دیکھا تو ٹھکانا دیا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے آگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعض اہم واقعات کی طرف توجہ دلا کر اُسی بات کو مؤکد کر دیا ہے جو اوپر ارشاد ہوئی ہے۔
      یہ اُس عزت و محبت، سرپرستی اور شفقت کی طرف اشارہ ہے جو آپ کو پہلے اپنے دادا اور بعد میں چچا سے حاصل ہو گئی۔

    • امین احسن اصلاحی جویائے راہ پایا تو راہ نہ دکھائی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَوَجَدَکَ ضَآلّاً فَہَدٰی‘۔ یہ اس روحانی انعام کا بیان ہے جو آپ پر بعد کے دور میں ہوا۔
      ایک جویائے راہ کی سرگردانیاں اور خدا کی دست گیری: معلوم ہے آپ کو جو رسوم و روایات خاندان کے بزرگوں سے وراثت میں ملیں ان پر آپ کی سلیم فطرت ایک لمحہ کے لیے بھی مطمئن نہ ہو سکی اور دوسری کوئی ایسی روشنی تھی نہیں جو آپ کے لیے سرمایۂ تسکین بن سکتی۔ آسمانی مذاہب کے پیرو جو آپ کے گرد و پیش تھے ان کا حال البقرہ، آل عمران اور دوسری مدنی سورتوں سے واضح ہو چکا ہے کہ ان کے عقائد و اعمال اس قدر مسخ ہو چکے تھے کہ کوئی جویائے حقیقت ان سے کوئی رہنمائی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ اس صورت حال نے آپ کو ایک شدید قسم کی ذہنی کشمکش میں ڈال دیا تھا۔ آپ کی اسی کشمکش کو یہاں ’وَوَجَدَکَ ضَآلّاً‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ’ضَآلّ‘ یہاں گمراہ کے معنی میں نہیں بلکہ جویائے راہ کے معنی میں ہے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام بعثت سے پہلے بھی فطرت سلیم پر ہوتے ہیں۔ وہ زندگی کے ابتدائی دور میں بھی فطرت کی بدیہیات سے کبھی منحرف نہیں ہوتے لیکن فطرت صرف عقائد و اعمال کی موٹی موٹی باتوں ہی میں رہنمائی کر سکتی ہے۔ تمام عقائد اور ان کے سارے تضمنات و لوازم کی نہ وہ تشریح کر سکتی اور نہ تمام اعمال و اخلاق کی صحیح صحیح حد بندی اس کے بس میں ہے اس وجہ سے فطرت پر ہونے کے باوجود ایک شخص یہ جاننے کا محتاج ہی رہتا ہے کہ جس خدا کے وجود پر اس کا دل گواہی دے رہا ہے اس کی صفات اور ان صفات کے تقاضے اور مطالبے کیا ہیں؟ اس کے کیا حقوق بندے پر عائد ہوتے اور وہ کس طرح ادا کرنے ہیں؟ زندگی کی ایسی ضابطہ بندی کس طرح کی جائے کہ وہ پوری کی پوری، اپنے بعید ترین گوشوں میں بھی، خالق کی پسند کے مطابق ہو جائے؟ جب تک یہ سوالات حل نہ ہوں اس وقت تک نہ انسان کو حقیقی اطمینان حاصل ہو سکتا اور نہ رب کے ساتھ اس کا تعلق ہی استوار ہو سکتا۔ یہی سوالات ہیں جو پوری شدت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر زندگی کے اس دور میں مستولی تھے جس کی طرف ’وَوَجَدَکَ ضَآلّاً‘ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ حالت نہ ضلالت کی ہے اور نہ اس کو ہدایت سے تعبیر کر سکتے بلکہ صحیح الفاظ میں یہ جستجوئے راہ کی سرگردانی ہے۔ گویا ایک شخص چوراہے پر کھڑا ہو اور فیصلہ نہ کر پا رہا ہو کہ کس سمت میں قدم بڑھائے۔ بعثت سے پہلے غار حراء کی تنہائیوں میں آپ انہی گتھیوں کو سلجھانے میں گم رہے۔
      بعثت سے پہلے دین حنیفی کے پیروؤں کا حال: بعثت سے پہلے عرب میں دین حنیفی کے پیروؤں کا حال کتابوں میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ ان میں سے بعض افراد ایسی شدید الجھن میں مبتلا تھے کہ وہ بیت اللہ سے ٹیک لگا کر حرم میں بیٹھ جاتے اور نہایت حسرت کے ساتھ کہتے کہ ’’اے رب! ہم نہیں جانتے کہ تیری عبادت کس طرح کریں ورنہ اسی طرح کرتے۔‘‘ یہی حال اس وقت تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی رہا ہو گا جب تک آپ ایمان کی حقیقت اور کتاب سے روشناس نہیں ہوئے۔ چنانچہ قرآن میں اسی حالت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے:

      ’وَکَذٰلِکَ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ رُوۡحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا کُنۡتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتَابُ وَلَا الْإِیْمَانُ وَلٰکِنۡ جَعَلْنٰہُ نُوۡرًا نَّہْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا‘ (الشوریٰ ۴۲: ۵۲)
      (اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف ایک روح وحی کی جو ہمارے امر میں سے ہے، نہ تم کتاب سے آشنا تھے اور نہ ایمان سے لیکن ہم نے اس وحی کو روشنی بنایا جس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں راہ دکھاتے ہیں)۔

      اسی حالت کو سورۂ یوسف میں ’غفلت‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے:

      ’وَإِنۡ کُنۡتَ مِنۡ قَبْلِہٖ لَمِنَ الْغَافِلِیْنَ‘ (یوسف ۱۲: ۳)
      (اور بے شک اس سے پہلے تم اس سے بے خبروں میں سے تھے)۔

       

      جاوید احمد غامدی راستہ ڈھونڈتے دیکھا تو راستہ دکھایا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’ضَآلّ‘ آیا ہے۔ بعثت سے پہلے آپ جن الجھنوں کو سلجھانے میں گم رہے، یہ اُنھی کی تعبیر ہے۔ گویا ’ضَلَّ‘ یہاں ’لم یھتد الی الطریق‘ کے معنی میں ہے، اِس لیے ’ضَآلّ‘ کا ترجمہ گمراہ نہیں، بلکہ جویاے راہ کرنا چاہیے۔ یعنی وہ شخص جو راستے کی تلاش میں سرگرداں ہو، لیکن اُس کا کوئی سراغ اُسے نہ مل رہا ہو۔ عرب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دین حنیفی کے سب پیرو اِسی صورت حال سے دوچار تھے۔ تاریخ کی روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ وہ حرم کی دیواروں سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے اور بڑی حسرت کے ساتھ کہتے تھے: پروردگار، ہم نہیں جانتے کہ تیری عبادت کس طرح کریں، ورنہ اُسی طرح کرتے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...حضرات انبیا علیہم السلام بعثت سے پہلے بھی فطرت سلیم پر ہوتے ہیں۔ وہ زندگی کے ابتدائی دور میں بھی فطرت کی بدیہیات سے کبھی منحرف نہیں ہوتے۔ لیکن فطرت صرف عقائد و اعمال کی موٹی موٹی باتوں ہی میں رہنمائی کرسکتی ہے۔ تمام عقائد اور اُن کے سارے تضمنات و لوازم کی نہ وہ تشریح کر سکتی اور نہ تمام اعمال و اخلاق کی صحیح صحیح حد بندی اُس کے بس میں ہے۔ اِس وجہ سے فطرت پر ہونے کے باوجود ایک شخص یہ جاننے کا محتاج ہی رہتا ہے کہ جس خدا کے وجود پر اُس کا دل گواہی دے رہا ہے، اُس کی صفات اور اِن صفات کے تقاضے اور مطالبے کیا ہیں؟ اُس کے کیا حقوق بندے پر عائد ہوتے اور وہ کس طرح ادا کرنے ہیں؟ زندگی کی ایسی ضابطہ بندی کس طرح کی جائے کہ وہ پوری کی پوری اپنے بعید ترین گوشوں میں بھی خالق کی پسند کے مطابق ہو جائے؟ جب تک یہ سوالات حل نہ ہوں، اُس وقت تک نہ انسان کو حقیقی اطمینان حاصل ہو سکتا اور نہ رب کے ساتھ اُس کا تعلق ہی استوار ہو سکتا ۔ یہی سوالات ہیں جو پوری شدت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر زندگی کے اُس دور میں مستولی تھے جس کی طرف ’وَوَجَدَکَ ضَآلاًّ‘ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ حالت نہ ضلالت کی ہے اور نہ اِس کو ہدایت سے تعبیر کر سکتے، بلکہ صحیح الفاظ میں یہ جستجوے راہ کی سرگردانی ہے۔ گویا ایک شخص چوراہے پر کھڑا ہو اور فیصلہ نہ کر پا رہا ہو کہ کس سمت میں قدم بڑھائے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۴۱۶)

       

    • امین احسن اصلاحی اور محتاج پایا تو غنی نہیں کیا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حقیقی غنا کا سرچشمہ ایمان اور معرفت الٰہی ہے: ’وَوَجَدَکَ عَائِلاً فَأَغْنٰی‘۔ فرمایا کہ ہم نے تمہیں محتاج پایا تو غنی کر دیا۔ غنا اور فقر کا جتنا تعلق مادی اسباب و وسائل سے ہے اس سے زیادہ قلب کے احوال سے ہے۔ آدمی کا سینہ ایمان سے خالی ہو تو وہ محتاج ہے اگرچہ اس کے پاس قارون کا خزانہ ہو اور اگر ایمان سے اس کا سینہ معمور ہے تو وہ غنی ہے اگرچہ وہ حضرت یحییٰ کی طرح کمل کی پوشاک پہنتا اور جنگلی شہد اور ٹڈیوں پر گزارہ کرتا ہو۔ یہی حکمت یوں سمجھائی گئی ہے کہ
      ’الغنی غنی القلب‘
      (حقیقی غنا دل کا غنا ہے)
      یہ حقیقی غنا ایمان، اللہ کی معرفت اور اس کی کتاب کے نور سے پیدا ہوتا ہے جس کو یہ دولت حاصل نہیں ہوئی وہ دنیا کی حرص سے کبھی پاک نہیں ہو سکتا اور جو حریص ہے اس کا کاسۂ گدائی کبھی نہیں بھرتا۔

      کاسۂ چشم حریصاں پُر نہ شد

      یہ دنیا عالم اسباب ہے اس وجہ سے اس میں انسان اسباب کا محتاج ہے۔ اگر سید عالم صلی اللہ علی وسلم کو سیدہ خدیجہ کے مال سے کچھ فائدہ پہنچا تو یہ حضرت خدیجہ اور ان کے مال کی ایسی خوش بختی ہے جو اس زمین پر کسی مال اور کسی صاحب مال کو مشکل ہی سے حاصل ہوئی ہو گی لیکن وہ غنا جس کا یہاں ذکر ہے مجرد مال سے، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، نہیں حاصل ہوتا بلکہ یہ اصلاً اس ہدایت کا ثمرہ ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہے اور جس کی صحیح تعبیر وہ ’’شرح صدر‘‘ ہے جس کی تفصیل بعد کی سورہ ۔۔۔ اَلَم نَشْرَحْ ۔۔۔ میں، جو اس کی توام ہے، آئے گی۔ جن لوگوں نے اس غنا کو تمام تر حضرت خدیجہ کے مال کا نتیجہ قرار دیا ہے ان کی نظر صرف ظاہر پر ٹک گئی حالانکہ اصل حقیقت اس سے ماورا ہے جو دیکھی نہیں جا سکتی بلکہ صرف سمجھی جا سکتی ہے۔ یہاں اشارات پر قناعت فرمائیے۔ آگے آخری آیت کے تحت بھی اور سورہ ’اَلَم نَشْرَحْ‘ میں بھی اس کے بعض مخفی پہلو ان شاء اللہ زیربحث آئیں گے۔

       

      جاوید احمد غامدی اور محتاج دیکھا تو (وہ شرح صدر عطا فرمایا کہ) غنی کر دیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ غنا اُس ہدایت کا ثمرہ ہے جس کا ذکر پچھلی آیت میں ہوا ہے۔ اِس کا حق آگے ’وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ اِس غنا کا تعلق اصلاً مال سے نہیں، بلکہ قلب کے احوال سے ہے۔ اِس کی صحیح تعبیر وہ شرح صدر ہے جس کا ذکر آگے سورہ ۔۔۔الم نشرح ۔۔۔ میں آئے گا۔ آدمی کو یہ چیز خدا کی سچی معرفت اور اُس قانون و حکمت سے حاصل ہوتی ہے جو خدا کی طرف سے آتا ہے۔ دنیا میں سب سے بڑے محتاج وہی ہیں جو اِس دولت سے محروم ہیں۔ بعثت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی احتیاج سرگرداں کیے ہوئے تھی۔ یہ دولت حاصل ہو گئی تو آپ سے بڑھ کر کوئی غنی نہیں تھا۔

    • امین احسن اصلاحی تو جو یتیم ہے اس کو مت دبائیو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انعامات کا حق: قریش کے زور آوروں کو تنبیہ: یہ ان انعامات کا، جو اوپر مذکور ہوئے، حق بیان ہوا ہے اور انداز بیان ایسا ہے جس میں ان لوگوں پر نہایت لطیف تعریض بھی ہے جن کا حال پچھلی سورتوں میں بیان ہوا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں عطا فرمائیں ان کو اس کا انعام سمجھنے اور اس کے شکرگزار ہونے کی بجائے وہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہو گئے کہ یہ جو کچھ ان کو ملا ہے یہ اسی کے حق دار ہیں۔ فرمایا کہ تم یہ روش نہ اختیار کرنا بلکہ تمہاری یتیمی کی حالت میں تمہارے رب نے جس طرح تم کو پناہ دی اسی طرح تم یتیموں کو پناہ دینا، ان پر شفقت اور کرم کی نظر رکھنا اور ان کے حقوق کی حفاظت کرنا۔ آیت ’وَتَأْکُلُوۡنَ التُّرَاثَ أَکْلاً لَّمًّا‘ (الفجر ۸۹: ۱۹) کے تحت ہم واضح کر چکے ہیں؂۱ کہ جاہلی معاشرہ میں زور آور عصبات اور اقربا کمزور وارثوں اور یتیموں کے حقوق دبا بیٹھتے اور ساری وراثت تنہا سمیٹ لیتے۔ ’فَلَا تَقْہَرْ‘ کے الفاظ میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ ہے۔ ’فَلَا تَقْہَرْ‘ کے معنی یہ ہیں کہ یتیم کو کمزور پا کر اس کو دبانے اور اس کے حقوق غصب کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تنبیہ ظاہر ہے کہ اس بنا پر نہیں کی گئی کہ آپ سے اس قسم کے کسی جرم کے صدور کا امکان تھا بلکہ یہ بالواسطہ قریش کے ان زور آوروں کو تنبیہ ہے جن کو پچھلی سورتوں میں ان کے اسی قسم کے غصب حقوق پر سرزنش فرمائی گئی ہے لیکن وہ اپنے رویے کی اصلاح کے بجائے رسول کی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اس سورہ میں ان کو نظر انداز کر کے رسول کو ہدایت فرما دی کہ دوسرے جو رویہ بھی اختیار کریں ان کو ان کے حال پر چھوڑو، تمہیں بہرحال یتیموں کے حقوق کی حفاظت کرنی ہے۔
      _____
      ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد ہشتم، صفحہ: ۳۵۹۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے (اب) یتیم ہو تو اُسے دباؤ نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر کی نعمتیں جس ترتیب سے مذکور ہیں، یہ اب اُسی ترتیب سے اُن کا حق بتا دیا ہے۔ اِس میں ، اگر غور کیجیے تو قریش کے اُن فراعنہ پر ایک لطیف تعریض بھی ہے جن کا رویہ خدا کی نعمتوں کے بارے میں اِس سے پہلے زیر بحث رہا ہے۔ وہ جب اپنے رویے کی اصلاح کے لیے آمادہ نہیں ہوئے تو اُنھیں نظر انداز کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرما دی ہے کہ اِنھیں چھوڑیے، آپ تو یتیمی کے احوال سے واقف ہیں، آپ کو بہرحال یتیموں کے حقوق کی حفاظت کرنی ہے، آپ کے ہاتھ سے اُن پر کوئی ظلم یا زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جو سائل ہو اس کو نہ جھڑکیو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دوسرے انعام کا حق: ’وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْھَرْ‘۔ یہ اس انعام کا حق بیان ہوا ہے جو اوپر ’وَوَجَدَکَ ضَالّاً فَہَدٰی‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ لفظ ’سائل‘ یہاں محدود معنی میں نہیں بلکہ وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے۔ خواہ سائل اپنے پیٹ اور تن کی کسی ضرورت کے تحت سوال کرے یا اپنی کسی ذہنی و عقلی الجھن سے متعلق سوال کرے یا اپنے دین سے متعلق سوال کرے، غرض جس طرح کی بھی مدد و رہنمائی کا طالب ہو حتی الامکان اس کی مدد و رہنمائی کی جائے اور اگر اس کا موقع نہ ہو تو خوبصورتی کے ساتھ اس کے سامنے معذرت پیش کر دی جائے، اس کو جھڑکا اور ڈانٹا نہ جائے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بات یاد رکھنا کہ ایک دور تم پر بھی ایسا گزرا ہے جب تم سراپا سوال تھے اور ان سوالوں نے تمہاری زندگی ضیق میں ڈال رکھی تھی بالآخر تمہارے رب نے تمہاری ہر خلش دور فرمائی اور تمہارے ہر سوال کا جواب دیا۔ اس کا حق یہ ہے کہ تم بھی سائلوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، ان لوگوں کی روش نہ اختیار کرنا جن کا حال یہ ہے کہ خدا نے ان کو دے رکھا ہے تو مسکینوں اور سائلوں سے ترش روئی سے پیش آتے ہیں اور اگر ابھی کسی گردش میں خدا ان کو پکڑ لے تو کہیں گے کہ خدا نے مجھے ذلیل کر دیا، اس وقت ان کو یہ بات یاد نہیں آتی کہ انھوں نے خدا کے بندوں کو کس طرح ذلیل کیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور پوچھنے والا ہو تو اُسے جھڑکو نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      ترتیب بیان کے لحاظ سے یہ جملہ ’وَوَجَدَکَ ضَآلاًّ‘ سے متعلق ہے۔ لہٰذا پوچھنے والے سے مراد یہاں اصلاً وہ شخص ہے جو اپنی کسی ذہنی یا عقلی الجھن کو دور کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اپنے پیٹ یا تن کی ضرورت کے لیے سوال کرنے والے بھی اِسی کے تحت ہیں اور یقیناً مستحق ہیں کہ اُن کے ساتھ بھی اچھا سلوک کیا جائے اور خدمت کا موقع نہ ہو تو اُنھیں جھڑکا اور ڈانٹا نہ جائے، بلکہ خوبصورتی کے ساتھ معذرت پیش کر دی جائے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اپنے پروردگار کی نعمت کا بیان کیجیو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لوگوں کو اللہ کی حکمت سے بہرہ مند کرو: ’وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ‘۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و انعام کا حق بیان ہوا ہے جو اوپر ’وَوَجَدَکَ عَائِلاً فَأَغْنٰی‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ ہم اس کی وضاحت کرتے ہوئے اشارہ کر چکے ہیں کہ اس سے صرف وہ غنا مراد نہیں ہے جو حضور کو حضرت خدیجہ کے مال سے حاصل ہوا بلکہ اصلاً اس سے دین کی وہ حکمت اور شریعت کی وہ دولت مراد ہے جس کی شان قرآن میں یہ بیان ہوئی ہے کہ

      ’وَمَنْ یُؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ أُوۡتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا‘ (البقرہ ۲: ۲۶۹)
      (اور جس کو حکمت عطا ہوئی اس کو خیر کثیر کا خزانہ بخشا گیا)۔

      یہاں لفظ ’فَحَدِّثْ‘ خاص طور پر نگاہ میں رکھیے۔ یہ مال کی نعمت کے لیے نہیں بلکہ حکمت کی نعمت ہی کے لیے موزوں ہے۔ فرمایا کہ جس حکمت کے خزانے سے تمہارے رب نے تم کو بہرہ ور کیا ہے اس کی تحدیث کرو یعنی جس طرح تمہارے رب نے تمہیں مفت بخشا ہے تم بھی اس کو مفت بانٹو، فیاضانہ بانٹو، ہر آنے جانے والے کے سامنے اس کا چرچا کرو اور ہر بزم و انجمن کو اس کے ذکر سے معمور کر دو۔

      جاوید احمد غامدی اور (ہدایت کی) جو نعمت تمھارے پروردگار نے تمھیں دی ہے، اُس کا چرچا کرتے رہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس فضل و انعام کا حق ہے جس کی وضاحت ہم ’وَوَجَدَکَ عَآئِلاً فَاَغْنٰی‘ کے تحت کر چکے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہاں لفظ ’فَحَدِّثْ‘ خاص طور پر نگاہ میں رکھیے۔ یہ مال کی نعمت کے لیے نہیں، بلکہ حکمت کی نعمت ہی کے لیے موزوں ہے۔ فرمایا کہ جس حکمت کے خزانے سے تمھارے رب نے تم کو بہرہ ور کیا ہے، اُس کی تحدیث کرو، یعنی جس طرح تمھارے رب نے تمھیں مفت بخشا ہے، تم بھی اُس کو مفت بانٹو، فیاضانہ بانٹو، ہر آنے جانے والے کے سامنے اُس کا چرچا کرو اور ہر بزم و انجمن کو اُس کے ذکر سے معمور کر دو۔‘‘(تدبرقرآن۹/ ۴۱۹)

       

    Join our Mailing List