Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 20 آیات ) Al-Balad Al-Balad
Go
  • البلاد (The City, This Countryside)

    20 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الفجر ۔۔۔ کی توام ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ سابق سورہ میں انسان کی اس غلط فہمی پر متنبہ فرمایا گیا ہے کہ جب اس کو نعمت ملتی ہے تو وہ یہ خیال کر کے اکڑنے اور اترانے لگتا ہے کہ یہ اس کا حق ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی عزت افزائی فرمائی ہے اور اگر کوئی آزمائش پیش آ جا تی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہو جاتا ہے کہ یہ اس کی حق تلفی ہوئی ہے اور خدا نے اس کو ذلیل کر دیا ہے۔ حالانکہ ان میں سے کوئی حالت بھی نہ عزت افزائی کے لیے پیش آتی نہ ذلیل کرنے کے لیے بلکہ ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ بندے کے شکر یا صبر کا امتحان کرتا ہے۔ انسان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ نہ نعمت پا کر اکڑنے والا بنے نہ اس سے محروم ہو کر دل شکستہ و مایوس ہو بلکہ نعمت ملے تو اپنے رب کا شکرگزار بندہ بنے اور اس نعمت میں اللہ کے دوسرے حاجت مند بندوں کو شریک کرے اور اگر کوئی افتاد پیش آئے تو اپنی محرومی کا رونا رونے اور خدا کو کوسنے کے بجائے فیصلۂ تقدیر پر صابر و راضی رہے۔ جو بندہ یہ روش اختیار کرتا ہے اس کا نفس ’نفس مطمئنہ‘ ہے اور آخرت میں اس کو ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کی بادشاہی حاصل ہو گی۔

    اس سورہ میں اسی کلیہ کو قریش پر منطبق کیا ہے اور یہ دکھایا ہے کہ یہ سرزمین ۔۔۔ سرزمین مکہ ۔۔۔ اس زمانے میں جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند، حضرت اسماعیل علیہ السلام کو یہاں بسایا ہے، رزق کے وسائل سے بھی محروم تھی اور امن سے بھی۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ذریت کے لیے رزق اور امن کی جو دعا فرمائی اس کی برکت سے یہاں رزق کی بھی فراوانی ہوئی اور امن کے اعتبار سے بھی اس علاقے کا یہ حال ہوا کہ یہاں کسی انسان تو درکنار کسی جانور کو بھی دکھ پہنچانا گناہ ٹھہرا۔ اسی امن اور رزق کا یہ فیض ہے کہ اولاد اسمٰعیل یہاں خوب پھلی پھولی اور اس پورے ملک پر اس کو سیادت و قیادت حاصل ہوئی۔ لیکن یہ نعمتیں پا کر اپنی پچھلی تاریخ یہ لوگ بھول بیٹھے۔ اب یہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ یہ جو کچھ ان کو حاصل ہے ان کا پیدائشی حق ہے۔ خدا کی راہ میں خرچ کرنا ان کے دلوں پر بہت گراں گزرتا ہے۔ ان کی آنکھیں عبرت نگاہی سے محروم اور زبانیں حق و صبر اور نیکی و احسان کے ذکر سے گنگ ہو چکی ہیں۔ اب ان کا مال ان کی اپنی عیاشیوں اور فضول خرچیوں کے لیے ہے۔ کوئی نہیں ہے جو یتیموں اور مسکینوں کی خدمت کی راہ میں کوئی قربانی پیش کرنے اور آخرت کی ابدی فائز المرامی حاصل کرنے کا حوصلہ کرے بلکہ سب نے جہنم کی راہ اختیار کر لی ہے۔

    یہ سورتیں چونکہ بالکل ابتدائی دور کی ہیں اس وجہ سے ان میں خطاب بھی بالعموم ’یٰٓاَیُّھَا الْاِنْسَانُ‘ سے ہے اور ان میں جو دعوت یا اپیل ہے وہ بھی تمام تر انسانیت اور اس کے فطری مبادی پر مبنی ہے۔

  • البلاد (The City, This Countryside)

    20 آیات | مکی
    الفجر - البلد

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔دونوں میں خطاب قریش کے سرداروں سے ہے، لیکن اسلوب میں اعراض کا پہلو نمایاں ہے۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قریش کے سرداروں کو طغیان اور سرکشی کے رویے پر تنبیہ ہے جو خدا کی نعمتیں پانے کے بعد خدا اور خلق کے معاملے میں وہ اختیار کیے ہوئے تھے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی نہیں! میں قسم کھاتا ہوں اس سرزمین کی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قسم سے پہلے ’لَا‘ کا محل استعمال: یہاں ’لَا‘ اسی طرح آیا ہے جس طرح ’لَا أُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘ (القیامہ ۷۵: ۱) اور بعض دوسرے مقامات میں آیا ہے۔ اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔ یہ قسم سے پہلے مخاطب کے اس خیال باطل کی تردید کے لیے ہے جس کا سابق سورہ میں حوالہ ہے۔ سابق سورہ میں یہ بات گزر چکی ہے کہ لوگوں کو جب مال و جاہ کی نعمت ملتی ہے تو اس کو اپنی تدبیر و تدبر کا کرشمہ سمجھ بیٹھتے اور اتراتے ہیں کہ وہ خدا کی نظروں میں بلند مرتبہ ہیں اس وجہ سے اس نے دوسروں کے مقابل میں ان کو یہ سرفرازی بخشی ہے۔ اس خیال باطل کی تردید سابق سورہ میں ایک دوسرے پہلو سے ہوئی ہے۔ اس سورہ میں اس کی تردید ایک اور پہلو سے آ رہی ہے جس کا آغاز قسم سے ہوا ہے اور اس قسم سے پہلے ’لَا‘ ان کے زعم باطل کی تردید کے لیے ہے۔ گویا ان لوگوں کا یہ خیال اس قدر بے بنیاد اور لغو ہے کہ اس کی تردید میں اتنے توقف کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ دلیل بیان کر لینے کے بعد اس کی نفی کی جائے۔ یہ اسلوب کلام ہر زبان میں پایا جاتا اور اس موقع پر اختیار کیا جاتا ہے جب مقصود و مخاطب کے خیال کی لغویت کا اظہار ہو۔
      اصل دعویٰ جس پر قسم کھائی گئی ہے: قسم یہاں بطور شہادت اصل دعوے کی تائید میں کھائی گئی ہے جو آگے ’لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنۡسَانَ فِیْ کَبَدٍ‘ (۴) کے الفاظ میں مذکور ہے۔
      ’بِہٰذَا الْبَلَدِ‘ سے مراد سرزمین مکہ ہے۔ سورۂ تین میں بھی اس کی قسم ’وَہَذَا الْبَلَدِ الْأَمِیْنِ‘ (التین ۹۵: ۳) کے الفاظ سے کھائی گئی ہے۔ قرآن مجید کی دوسری قسموں کی طرح یہ قسم بھی، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، سرزمین حرم کے تقدس کے پہلو سے نہیں بلکہ اس دعوے پر دلیل کے پہلو سے کھائی گئی ہے جو آگے مذکور ہے۔

      جاوید احمد غامدی نہیں، (یہ ہمیشہ اِس طرح نہیں تھے)۔ میں اِس شہر کو گواہی میں پیش کرتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      سورہ کے شروع میں ’لَا‘ ایک پوری بات کی تردید کے لیے آیا ہے جس پر بعد کا مضمون خود دلالت کر رہا ہے۔ ہم نے اِسے کھول دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اِسی مال و منال اور حشمت وجاہ کے ساتھ اِس وادی غیر ذی زرع میں نہیں آئے تھے جو آج اِنھیں حاصل ہو گیا ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے فرزند اسمٰعیل علیہ السلام کو یہاں آباد کیا تو یہ ایک بالکل بنجر، بے آب و گیاہ اور امن و سلامتی سے محروم علاقہ تھا۔ جس فراخیِ رزق و رفاہیت کے ساتھ آج یہ رہ رہے ہیں، یہ ہمیشہ سے نہیں تھی۔ یہ اِسی گھر کے طفیل اِنھیں حاصل ہوئی ہے، لیکن ایسے برخود غلط ہیں کہ اب اِسے اپنا استحقاق سمجھ رہے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور تم اسی سرزمین میں مقیم ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک برمحل جملہ معترضہ: یہ جملہ قسم کے بیچ میں، بطور جملہ معترضہ، قسم کی تائید و تصویب کے طور پر ہے۔ ضمیر خطاب کے مخاطب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہو سکتے ہیں اور قریش بھی۔ دونوں ہی صورتوں میں اصل مدعا کے اعتبار سے کچھ زیادہ فرق نہیں ہو گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کسی ایسے دوردراز علاقے کی شہادت نہیں پیش کی جا رہی ہے جس کے حالات کا اندازہ کرنے اور جس کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے کوئی زحمت سفر اٹھانی پڑے بلکہ تم یہاں مقیم اور اس کے ماضی و حاضر سے اچھی طرح باخبر ہو۔ یہ تمہارا مامن و مستقر اور تمہارا محبوب وطن ہے۔ اس کی تاریخ تمہاری اپنی ہی تاریخ ہے۔ اس کے گرم و سرد اور خشک و تر دونوں سے تم گزرے ہوئے ہو۔ اچھی طرح اندازہ کر سکتے ہو کہ جو بات کہی جا رہی ہے وہ حرف حرف حق ہے یا اس میں کوئی مبالغہ یا آورد ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اے پیغمبر) ۔۔۔ اور (یہ تمھارے لیے اجنبی نہیں)، تم اِسی شہر میں رہتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی یہ کسی دور درازعلاقے کی شہادت نہیں ہے، بلکہ تمھارے اپنے ہی شہرکی حکایت ہے جس سے تم اچھی طرح واقف ہو۔ اِس کی تاریخ تمھاری اپنی تاریخ ہے۔ یہ تمھارے لیے کوئی اجنبی جگہ نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور باپ اور اس کی ذریت کی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت ابراہیم اور ان کی ذریت کی شہادت: جملہ معترضہ کے بعد یہ ٹکڑا قسم سے متعلق اور اس کی تکمیل ہے۔ سرزمین مکہ کی قسم کے بعد اس میں بسنے والے باپ اور اس کی ذریت کی قسم ہے۔ ’وَالِدٍ‘ سے مراد ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام اور ’وَمَا وَلَدَ‘ سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذریت ہے جو سرزمین مکہ میں آباد ہوئی اور پھر تمام عرب میں پھیلی۔ لفظ ’وَالِدٍ‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لیے بھی ہو سکتی ہے اور اس کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی مراد لیے جا سکتے ہیں اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی۔ اسی طرح ’وَمَا وَلَدَ‘ میں جو تعمیم ہے وہ تمام بنی اسماعیل پر حاوی ہے، خواہ ان کا تعلق بنی اسماعیل کی کسی شاخ سے بھی ہو۔

      جاوید احمد غامدی اور باپ اور اُس کی اولاد کو بھی (جن سے یہ شہر آباد ہوا)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ابراہیم علیہ السلام اور اُن کی ذریت۔ لفظ ’وَالِدٍ‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سرزمین مکہ کی پچھلی تاریخ کی طرف اشارہ: ’کَبَد‘ کے معنی مشقت اور شدت کے ہیں۔ لفظ ’اِنْسَان‘ اگرچہ عام ہے اور اس کے عام ہونے کے کئی فائدے ہیں لیکن یہاں اس عام سے مراد خاص طور پر قرآن کے اولین مخاطب بنی اسماعیل بالخصوص قریش ہیں۔ سرزمین حرم میں ان کے بزرگ اجداد کی آمد اور سکونت اور ان کی ذریت کی ابتدائی تاریخ کا حوالہ دے کر قریش کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ آج اس سرزمین میں تم کو جو فراخئ رزق و رفاہیت حاصل ہے یہ نہ سمجھو کہ یہی حال ہمیشہ سے رہا ہے یا یہ حالت تمہاری ذہانت و قابلیت کی بدولت ہوئی ہے۔ جس زمانے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بسایا ہے اس وقت یہ علاقہ ایک بالکل بنجر، بے آب و گیاہ اور غیر مامون علاقہ تھا۔ یہاں کے لوگوں کی زندگی خانہ بدوشانہ اور نہایت مشقت کی زندگی تھی۔ معاش کا انحصار گلہ بانی پر تھا اور ہر شخص اپنی زندگی اور اپنے گلے کی حفاظت کا ذمہ دار خود تھا۔ لوگوں کی حفاظت کے لیے کوئی نظام عدل اور قانون موجود نہیں تھا۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کو یہاں بسایا تو ان کے اور ان کی اولاد کے لیے یہ دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس وادئ غیر ذی زرع میں ان کو رزق و فضل سے بھی بہرہ مند فرمائے اور امن سے بھی متمتع رکھے۔ یہ اسی دعا کی برکت ہے کہ رزق کے دروازے بھی کھلے اور بیت اللہ کی تولیت اور اشہرحرم کی امن بخشی کی بدولت سفر اور تجارت کی راہیں بھی فراخ ہوئیں جس سے ان کی معاشی حالت مشقت کی جگہ رفاہیت و خوش حالی میں تبدیل ہو گئی یہاں تک کہ آج تم اس کے غرور میں نہ خدا کو خاطر میں لا رہے ہو نہ اس کے رسول کو بلکہ یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ یہ جو کچھ تمہیں حاصل ہے یہ تمہارا پیدائشی حق ہے، تم اس میں ہر قسم کے تصرف کے مجاز ہو، کسی کی طاقت نہیں ہے کہ تمہارے اس عیش اور اس آزادی میں خلل انداز ہو سکے۔
      قریش کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے قرآن نے جگہ جگہ حرم کی اس تاریخ کی یاددہانی کر کے ان کو متنبہ فرمایا ہے کہ اگر وہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمت پا کر طغیان میں مبتلا ہو گئے تو یاد رکھیں کہ وہ خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماریں گے۔ سورۂ ابراہیم میں اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے:

      وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ أَن نَّعْبُدَ الأَصْنَامَ ۵ رَبِّ إِنَّہُنَّ أَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَإِنَّہُ مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِیْ فَإِنَّکَ غَفُوۡرٌ رَّحِیْمٌ ۵ رَّبَّنَا إِنِّیْ أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلاَۃَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْ إِلَیْْہِمْ وَارْزُقْہُمۡ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوۡنَ (ابراہیم ۱۴: ۳۵-۳۷)
      ’’اور جب کہ دعا کی ابراہیم نے اے میرے رب! اس سرزمین کو پرامن سرزمین بنا اور مجھ کو اور میری اولاد کو بچا کہ ہم بتوں کی پرستش کی چھوت سے آلودہ ہوں۔ اے میرے رب! ان بتوں نے تو لوگوں کے اندر سے ایک خلقِ کثیر کو گمراہ کر رکھا ہے۔ تو جو میری پیروی کرے وہ تو مجھ سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تو مغفرت فرمانے اور رحم کرنے والا ہے۔ اے ہمارے رب! میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو ایک بِن کھیتی کی زمین میں بسایا ہے، تیرے محترم گھر کے پاس، اے رب! اس لیے کہ یہ نماز کا اہتمام کریں تو لوگوں کے دل ان کی طرف تو مائل کر دے اور ان کو پھلوں کی روزی عطا فرما کہ یہ شکرگزاری کریں۔‘‘

      ان آیات پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو ان سے مندرجہ ذیل حقائق سامنے آئیں گے:
      قریش کو چند حقائق کی یاددہانی:
      ۔۔۔ یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد میں سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک غیرآباد اور بنجر علاقے میں جو بسایا تو اس لیے کہ اس کو مشرکانہ ماحول سے دور اور محفوظ رکھے۔
      ۔۔۔ اس علاقہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی تاکہ ان کی ذریت اس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مرکز بنائے اور ساتھ ہی یہ دعا بھی فرمائی کہ اس مرکز اور ان کی ذریت کو خلق کی مرجعیت حاصل ہو۔
      ۔۔۔ یہ علاقہ اس وقت زمینی پیداوار اور امن سے بالکل محروم علاقہ تھا۔ اس وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے باشندوں کے لیے روزی کی فراخی کی بھی دعا فرمائی اور علاقہ کے لیے امن کی بھی۔
      مقصود اس تفصیل سے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ آج قریش کو جو مال و جاہ اور جو سطوت و اقتدار بھی حاصل ہے اس میں نہ ان کی ذاتی سعی و تدبیر کو کوئی دخل ہے اور نہ ان کے خاندانی استحقاق کو بلکہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور بیت اللہ کی برکت ہے جس سے وہ بہرہ مند ہو رہے ہیں اور یہ برکت ان کے لیے غیر مشروط نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بندگی، بیت اللہ کے مقصد کی تکمیل اور ان کے اندر مبعوث ہونے والے رسول پر ایمان کے ساتھ مشروط ہے۔؂۱ اگر وہ ان شرطوں کے پابند رہیں گے تو ان کو یہ عزت و سرفرازی حاصل رہے گی ورنہ یہ سب چھن جائے گی۔
      اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے قریش سے سورۂ قریش میں مطالبہ فرمایا ہے کہ اگر بیت اللہ کی برکتوں سے وہ بہرہ مند رہنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ اس گھر کے خداوند کی عبادت کریں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ اس گھر پر قابض اور اس کی برکتوں کے حق دار بنے رہیں۔ فرمایا ہے:

      لِإِیْلَافِ قُرَیْْشٍ ۵ إِیْلَافِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَاء وَالصَّیْْفِ ۵ فَلْیَعْبُدُوا رَبَّ ہَذَا الْبَیْْتِ ۵ الَّذِیْ أَطْعَمَہُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَہُم مِّنْ خَوْفٍ (القریش ۱۰۶: ۱-۴)
      ’’بوجہ اس کے کہ قریش کو الفت بخشی گئی جاڑے اور گرمی کے سفر کی تو ان کو چاہیے کہ اس گھر کے خداوند کی عبادت کریں جس نے قحط میں کھلایا اور خطرے سے نچنت کیا۔‘‘

      _____
      ؂۱ بعض دوسری آیات سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے امامت و سیادت کا جو وعدہ فرمایا تھا وہ مشروط بشرائط تھا۔ وہ لوگ اس سے مستثنیٰ کر دیے گئے تھے جو ان کے طریقہ کو چھوڑ بیٹھیں۔

      جاوید احمد غامدی کہ ہم نے انسان کو (اِس وادی میں) پیدا کیا تو (اُ س وقت) وہ یقیناً بڑی مشقت میں تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس زمانے کی طرف اشارہ ہے ، جب اسمٰعیل علیہ السلام اور اُن کی اولاد اِس بنجر اور بے آب و گیاہ علاقے میں آباد ہوئی۔ سورۂ ابراہیم (۱۴) کی آیات ۳۵۔۳۷ اور سورۂ قریش (۱۰۶) میں یہی مضمون اِس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا وہ گمان رکھتا ہے کہ اس پر کسی کا زور نہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مطلب یہ ہے کہ جن کو اس سرزمین کی ابتدائی تاریخ معلوم ہے ان کے لیے تو اس کی موجودہ رفاہیت سے اس غلط فہمی میں پڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ اب ان کی جڑیں اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ کوئی ان کو اکھاڑ نہیں سکتا۔ جس نے ان کو ایک بے آب و گیاہ زمین میں یہ فراوانئ رزق بخشی وہ ان کو جب چاہے تباہ بھی کر سکتا ہے بالخصوص جب کہ انھوں نے اس مقصد کو بھی برباد کر دیا ہے جس کے لیے ان کو یہاں آباد کیا گیا اور جس کی خاطر ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لیے دعا فرمائی۔

      جاوید احمد غامدی (اب وہ نعمتوں میں ہے تو) کیا وہ سمجھتا ہے کہ اُس پر کسی کا زور نہیں؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال اڑا دیا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فاسد ذہنیت سے فاسد کردار: اوپر کی آیت میں ان کی اس ذہنیت سے پردہ اٹھایا گیا ہے جس میں مال و جاہ کی فراوانی نے ان کو مبتلا کر دیا تھا۔ اس آیت میں ان کے اس کردار سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے جو اس فاسد ذہنیت نے ان کے اندر پیدا کیا۔
      جن کے اندر یہ گھمنڈ پیدا ہو جاتا ہے کہ ان کو جو مال و جاہ حاصل ہے یہ ان کا پیدائشی حق اور ان کی قابلیت و ہنر کا کرشمہ ہے، ان کے اندر انفاق کا جذبہ بالکل مردہ ہو جاتا ہے اس لیے کہ ان کو نہ خدا کی پروا رہ جاتی نہ آخرت کی۔ اس طرح کے لوگ اپنی بخالت پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے مستحقین کے سامنے ہمیشہ اپنے وسیع مصارف کا رونا روتے رہتے ہیں اور اس طرح ان کو باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ انھیں ذاتی مصارف کے علاوہ قومی و اجتماعی مصارف پر اتنا خرچ کرنا پڑتا ہے کہ وسیع ذرائع آمدنی رکھنے کے باوجود مشکل ہی سے کچھ پس انداز ہوتا ہے۔ یہی طریقہ وہ ان لوگوں کو چپ کرنے کا اختیار کرتے ہیں جو ان کو خدا اور آخرت کے نام پر انفاق کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کو وہ جواب دیتے ہیں کہ آخر کہاں تک خرچ کیے جائیں! ڈھیروں مال تو اسی طرح کے مصارف پر اٹھا چکے ہیں! ’مَالاً لُّبَدًا‘ کے معنی ہیں کثیر اور ڈھیروں مال۔

      جاوید احمد غامدی (اُس سے کہا جاتا ہے کہ خرچ کرو تو) کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال لٹا دیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اللہ کی راہ میں انفاق کی ترغیب دینے والوں کو چپ کرانے کے لیے کہتا ہے کہ آخر کہاں تک خرچ کروں۔ اِس سے پہلے ڈھیروں مال اِسی طرح کے مصارف میں اڑا چکا ہوں۔

    • امین احسن اصلاحی کیا وہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا نہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’أَیَحْسَبُ أَن لَّمْ یَرَہٗٓ أَحَدٌ‘۔ یہ اس طرح کے شیخی بگھارنے والوں کو جواب ہے کہ یہ لوگ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ان کی ان فیاضیوں کو کوئی دیکھ نہیں رہا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ دیتے دلاتے کوڑی بھی نہیں لیکن اپنی شاہ خرچیوں کا اشتہار بہت دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایک دن ان کا یہ تمام زبانی جمع خرچ ان کے آگے بھی آ جائے گا اور خلق کے سامنے بھی۔

      جاوید احمد غامدی کیا وہ سمجھتا ہے کہ اُسے کسی نے دیکھا نہیں؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نعمتوں کا صحیح مصرف: یعنی یہ لوگ مال و دولت پا کر اسی میں کھوئے گئے حالانکہ اللہ نے ان کو اس سے بھی بڑی نعمتیں دی تھیں، اگر یہ ان کے بھی قدردان ہوتے تو اس طرح خزف ریزوں کے عشق میں اندھے ہو کر اس ابدی بادشاہی کو نہ گنوا بیٹھتے جو اس فانی دولت کے ذریعے وہ حاصل کر سکتے تھے۔ فرمایا کہ وہ غور کریں کہ کیا ہم نے ان کو دو آنکھیں نہیں دیں کہ وہ ان سے اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ایک طرف تو ہم نے ان کو مال و جاہ سے نوازا اور دوسری طرف ان کے آگے پیچھے ایسے یتیم وفادار، غریب و لاچار اور کمزور و بیمار بھی ہیں جو نان شبینہ کو محتاج، تن ڈھانکنے سے مجبور، آنکھوں اور ہاتھ پاؤں کی نعمت سے محروم ہیں۔ ہم نے آنکھیں دے کر ان کو یہ منظر اس لیے دکھایا کہ وہ اس سے عبرت حاصل کریں اور اپنے رب کے شکرگزار بنیں کہ اس نے محض اپنے فضل سے ان کو اس طرح کی کسی آزمائش سے محفوظ رکھا اور پھر شکرگزاری کا حق یوں ادا کریں کہ پوری فیاضی سے ان ضرورت مندوں پر اپنا وہ مال صرف کریں جو ان کے رب نے اس طرح کے لوگوں کے حق کی حیثیت سے ان کی تحویل میں دیا۔
      مطلب یہ ہے کہ آنکھوں کا کوئی صحیح مصرف ہے تو یہی عبرت نگاہی اور اثرپذیری ہے۔ اگر وہ یہ کام نہ کریں تو ان کے ہونے سے نہ ہونا بہتر ہے۔

      جاوید احمد غامدی کیا ہم نے اُس کو دو آنکھیں نہیں دیں (کہ حقائق کو دیکھتا)؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ آنکھوں کا صحیح مصرف اگر کوئی تھا تو یہی تھا کہ اُنھیں عبرت نگاہی کے لیے استعمال کیا جائے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...فرمایا کہ وہ غور کریں کہ کیا ہم نے اُن کو دو آنکھیں نہیں دیں کہ وہ اُن سے اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ایک طرف تو ہم نے اُن کو مال و جاہ سے نوازا اور دوسری طرف اُن کے آگے پیچھے ایسے یتیم ونادار، غریب و لاچار اور کمزور و بیمار بھی ہیں جو نان شبینہ کو محتاج، تن ڈھانکنے سے مجبور، آنکھوں اور ہاتھ پاؤں کی نعمت سے محروم ہیں۔ ہم نے آنکھیں دے کر اُن کو یہ منظر اِس لیے دکھایا کہ وہ اِس سے عبرت حاصل کریں اور اپنے رب کے شکر گزاربنیں کہ اُس نے محض اپنے فضل سے اُن کو اِس طرح کی کسی آزمایش سے محفوظ رکھا اور پھر اِس شکر گزاری کا حق یوں ادا کریں کہ پوری فیاضی سے اِن ضرورت مندوں پر اپنا وہ مال صرف کریں جو اُن کے رب نے اِس طرح کے لوگوں کے حق کی حیثیت سے اُن کی تحویل میں دیا ۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۳۷۳)

       

    • امین احسن اصلاحی اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَلِسَانًا وَشَفَتَیْْنِ‘۔ یعنی آنکھوں کے ساتھ اس نے انسان کو ایک زبان اور دو ہونٹ بھی عنایت فرمائے تاکہ وہ جو کچھ دیکھے اور محسوس کرے اس پر خود بھی عمل پیرا ہو اور اپنی زبان سے دوسروں کو بھی اس پر ابھارے تاکہ اس شوق و ترغیب سے دوسروں کے اندر بھی وہ نیکی پھیلے۔ سابق سورہ میں اسی چیز کی طرف

      ’وَلَا تَحَاضُّوۡنَ عَلَی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ‘ (الفجر ۸۹: ۱۸)
      (اور تم مسکینوں کو کھلانے پر لوگوں کو نہیں ابھارتے)

      کے الفاظ سے توجہ دلائی ہے۔ اور اس سورہ میں آگے اسی مضمون کی تکمیل ان الفاظ میں کی ہے:

      ’ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوۡا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ‘ (۱۷)
      (پھر وہ بنے ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور جنھوں نے ایک دوسرے کو صبر اور ہمدردی کی نصیحت کی)۔

      اس آیت سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ انسان جس نیکی کا احساس کرے اس کے انجام دینے کے لیے خود بھی اقدام کرے اور دوسروں کو بھی اس کے لیے ابھارے۔ یہ چیز اس کے فرائض میں داخل ہے ورنہ اس کی نیکی ادھوری رہ جائے گی۔ معاشرہ سے متعلق بھی ہر شخص پر اس کی صلاحیت کے اعتبار سے ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس کو ادا کے بغیر کوئی شخص عند اللہ بری نہیں ہو سکتا۔ یہاں اشارے پر قناعت کیجیے، ان شاء اللہ سورۂ عصر کی تفسیر میں ’وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ‘ (العصر ۱۰۳: ۳) کے تحت اس پر مفصل بحث آئے گی۔
      ایک خاص نکتہ: یہاں ایک ضمنی نکتہ بھی قابل توجہ ہے۔ وہ یہ کہ زبان کے ساتھ دو ہونٹوں کا ذکر فرمایا ہے جو زبان کو اوپر اور نیچے دونوں طرف سے محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ قاعدہ ہے کہ جو چیز جتنی ہی قیمتی، جتنی ہی اثرآفرین اور جتنے ہی گہرے اور دوررس نتائج پیدا کرنے والی ہوتی ہے وہ اتنی ہی احتیاط سے محفوظ کی جاتی ہے تاکہ اس کے استعمال میں کوئی بے احتیاطی اور بے پروائی رہ نہ پائے۔ زبان بھی انسان کے نہایت قیمتی اور مؤثر اسلحہ میں سے ہے۔ یہ ایک شمشیر جوہر دار ہے اس وجہ سے قدرت نے اس کو میان میں چھپا کر انسان کو پکڑایا تاکہ وہ اس کو وہیں میان سے باہر نکالے جہاں وہ ضرورت پیش آئے جس کے لیے قدرت نے اس کو بنایا ہے لیکن یہ عجیب بدقسمتی ہے کہ بالعموم لوگ اس سے اصل کام لینے کے بجائے گھاس کاٹنے کی درانتی کا کام لیتے ہیں۔

       

      جاوید احمد غامدی اور زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے (کہ بھلائی کی ترغیب دیتا)؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      زبان کے ساتھ دو ہونٹوں کا ذکر اِس لیے ہوا ہے کہ زبان میں تکلم کی صلاحیت اِنھی دو ہونٹوں سے پیدا ہوتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ زبان بھی دی اور اِس کے ساتھ ناپ تول کر بولنے کے لیے دو ہونٹ بھی دیے، لیکن عجیب بد قسمتی ہے کہ اُس نے اِسے حق کی تکذیب اور ژاژ خائی کے لیے تو استعمال کیا، مگر جو مواقع فی الواقع اِس کے استعمال کے تھے، اُن میں یہ ہمیشہ گنگ رہی۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’اِس آیت سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ انسان جس نیکی کا احساس کرے، اُس کے انجام دینے کے لیے خود بھی اقدام کرے اور دوسروں کو بھی اُس کے لیے ابھارے۔ یہ چیز اُس کے فرائض میں داخل ہے، ورنہ اُس کی نیکی ادھوری رہ جائے گی۔ معاشرے سے متعلق بھی ہر شخص پر اُس کی صلاحیت کے اعتبار سے ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جس کو ادا کیے بغیر کوئی شخص عند اللہ بری نہیں ہو سکتا۔‘‘ (تدبر قرآن ۹/ ۳۷۴)

       

    • امین احسن اصلاحی اور اس کو دونوں راہیں نہیں سجھا دیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نیکی اور بدی کا شعور انسان کی فطرت میں ہے: ’وَہَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ‘۔ یعنی مشاہدہ و شعور اور نطق و بیان کی صلاحیت دینے کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر یہ فضل بھی فرمایا کہ اس کو دونوں راستے بھی دکھا دیے۔ ’دونوں راستے‘ سے اشارہ انہی دونوں راستوں کی طرف ہے جن کا ذکر سورۂ دہر میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے:

      إِنَّا ہَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ إِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُوۡرًا (الدہر ۷۶: ۳)
      ’’ہم نے اس کو راہ بھی دکھا دی۔ چاہے وہ شکر کرنے والا بنے یا ناشکرا بنے۔‘‘

      اس سے زیادہ واضح لفظوں میں سورۂ شمس میں فرمایا ہے:

      وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاہَا ۵ فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا (الشمس ۹۱: ۷-۸)
      ’’اور شاہد ہے نفس اور اس کی اعلیٰ ساخت، پس ہم نے اس کو الہام کر دی اس کی بدی اور نیکی۔‘‘

      یہ اسی حقیقت کا بیان ہے جس کی وضاحت ہم سورۂ قیامہ کی تفسیر میں کر چکے ہیں کہ بدی کا بدی ہونا اور نیکی کا محبوب ہونا اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر ودیعت فرما دیا ہے۔ انسان اگر بدی کرتا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ بدی کے شعور سے محروم ہے بلکہ وہ جذبات سے مغلوب ہو کر بدی کو بدی جانتے ہوئے اس کا ارتکاب کرتا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اور اُس کو دونوں راستے نہیں سجھائے (کہ اچھے اور برے کو سمجھتا)؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      شعور و مشاہدہ اورنطق و بیان کی صلاحیت کے بعد اب یہ خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت کا ذکر ہے۔ دونوں راستوں سے اشارہ اُنھی دو راستوں کی طرف ہے جنھیں سورۂ دہر (۷۶) اور سورۂ شمس (۹۱) میں بالترتیب ’اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا‘ اور ’فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پر اس نے گھاٹی نہیں پار کی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نعمتوں کی ناقدری پر اظہار افسوس: اب یہ مخاطبوں کی ناقدری و ناشکری کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شعور و ادراک، نطق و بیان اور ہدایت کی روشنی سے جو نوازا تو اس کا حق یہ تھا کہ یہ نیکی اور ہمدردئ خلق کی راہ کے عقبات عبور کرنے کی کوشش، اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں میں شامل ہونے کا شرف اور ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کی بادشاہی حاصل کرتے لیکن یہ اپنی زرپرستی اور پست ہمتی کے سبب سے یہ حوصلہ نہ کر سکے بلکہ ان کا مال ان کے لیے زنجیر پا بن گیا۔
      نیکی اور بدی کے مزاج میں فرق: ’عَقَبَۃَ‘ کے معنی گھاٹی اور ’اِقْتِحَامٌ‘ کے معنی چڑھائی چڑھنے یا کوئی مشکل کام کرنے کے ہیں۔ یہاں اس لفظ سے نیکی کے ان کاموں کی طرف اشارہ ہے جو ہمدردئ خلق اور بندگئ رب کے نہایت اعلیٰ کام ہیں اور جن کی مثالیں آگے مذکور ہیں۔ ان کاموں کو انجام دینے کے لیے چونکہ انسان کو ایثار و قربانی سے کام لینا پڑتا ہے جو انسان پر شاق ہے اس وجہ سے اس کو ’اقتحام عقبۃ‘ (گھاٹی پار کرنے سے) تعبیر فرمایا۔ یہاں وہ حقیقت ملحوظ رہے جس کی طرف ہم جگہ جگہ اشارہ کر چکے ہیں کہ جتنے بھی اعلیٰ کام ہیں ان کے لیے چونکہ نفس کو اس کی نقد لذتوں سے موڑ کر بالکل مختلف سمت میں لے جانا پڑتا ہے اس وجہ سے وہ بہت شاق گزرتے ہیں۔ اس کے برعکس ادنیٰ کاموں کی لذتیں نقد ہیں اس وجہ سے نفس ان کی طرف فوراً چل پڑتا ہے۔ اس حقیقت کو سیدنا مسیح نے یوں واضح فرمایا ہے کہ نیکی کی راہ تنگ اور اس پر چلنے والے تھوڑے ہیں اور بدی کی راہ فراخ اور اس پر چلنے والے بہت ہیں۔ یہی حقیقت ’حفّت الجنۃ بالمکارہ‘ (جنت مشکلات سے گھیر دی گئی ہے) والی حدیث میں بھی واضح فرمائی گئی ہے۔

      جاوید احمد غامدی مگر وہ گھاٹی پر نہیں چڑھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      انسانوں سے ہمدردی اور خدا کی بندگی، دونوں کے لیے نفس کو نقد لذتوں سے دست بردار ہونا پڑتا ہے، لہٰذا یہ دونوں چیزیں انسان پر ہمیشہ شاق گزرتی ہیں۔ قرآن مجید نے اِسی رعایت سے اِنھیں گھاٹی پر چڑھنے سے تعبیر کیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور تم کیا سمجھے کہ کیا ہے وہ گھاٹی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خدا کے مقرب بننے کے لیے بازیاں کھیلنی پڑتی ہیں: ’وَمَآ اَدْرٰکَ مَا الْعَقَبَۃُ‘ میں جو اسلوب ہے اس کی وضاحت ہم جگہ جگہ کر چکے ہیں کہ یہ انداز سوال کسی چیز کی عظمت و شان یا اس کی ہولناکی کے اظہار کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ یہاں مقصود مخاطبوں کو یہ بتانا ہے کہ تم صرف چند رسوم ادا کر کے خدا کے مقرب اور چہیتے بننے کے خواب دیکھ رہے ہو حالانکہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے گھاٹیاں پار کرنی اور بازیاں کھیلنی پڑتی ہیں۔ مال کے پجاری بن کر تم اس مقام کو حاصل نہیں کر سکتے۔ اگر یہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو آؤ سنو کہ اس کے لیے تمہیں کیا کیا کام کرنے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اور تم کیا سمجھے کہ وہ گھاٹی کیا ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ وہی اسلوب ہے جس کا ذکر اِس سے پہلے ہو چکا ہے کہ سوال کا یہ انداز کسی چیز کی عظمت و جلالت یا اُس کے ہول کو ظاہر کرنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی گردن کو چھڑانا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      غلاموں کی آزادی اسلام کی سرفہرست نیکیوں میں ہے: اس سلسلہ میں سب سے پہلے ’فَکُّ رَقَبَۃٍ‘ (گردن آزاد کرنے) یعنی غلام آزاد کرنے کا ذکر فرمایا۔ یہاں وہ بات پیش نظر رکھیے جس کی طرف ہم تمہیدی بحث میں اشارہ کر چکے ہیں کہ یہ سورتیں بالکل ابتدائی دور کی ہیں اس وجہ سے ان میں اہل عرب سے خطاب بھی بیشتر لفظ ’انسان‘ سے ہوا ہے اور جن باتوں کے ان سے مطالبے کیے گئے ہیں وہ بھی تمام تر انسانیت اور فطرت کے بدیہی تقاضوں پر مبنی ہیں۔ غلاموں کو آزاد کرنا اور کرانا بھی ان نیکیوں میں سے ہے جن کے نیکی ہونے میں کسی معقول آدمی کو شک نہیں ہو سکتا۔ اہل عرب بھی اس کو ایک نہایت اعلیٰ نیکی کا کام سمجھتے رہے ہیں قرآن نے اپنی دعوت کے بالکل ابتدائی دور ہی سے اس انسانی خدمت کو اپنی سرفہرست نیکیوں میں شامل کر لیا اور اس وقت کر لیا جب دنیا کے دوسرے گوشوں میں لوگ اس نیکی کے لیے بیدار نہیں ہوئے تھے۔ ہم نے سورۂ نور کی تفسیر میں تفصیل سے بتایا ہے کہ قرآن نے کس طرح ابتدا ہی سے اس نیکی کی تبلیغ شروع کی اور پھر کس طرح بالتدریج اپنے نظام کے اندر غلامی کا خاتمہ کر دیا۔

      جاوید احمد غامدی (یہی کہ) گردن چھڑائی جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی غلام آزاد کیے جائیں۔ قرآن نے یہاں اِسے خیر کے کاموں میں سر فہرست رکھا ہے۔ اِس سے ہر شخص اِس حکم کی اہمیت کا اندازہ کر سکتا ہے۔ یہ اِس لعنت کے خاتمے کی طرف قرآن کا پہلا قدم تھا۔ بعد میں سورۂ محمد (۴۷) ، سورۂ نور (۲۴) اور سورۂ توبہ (۹) کے احکام نے اِس کی بنیاد ہی ختم کر دی۔ یہ الگ بات ہے کہ نزول قرآن کے صدیوں بعد تک خود مسلمان اِسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے، یہاں تک کہ پچھلی صدی کی ابتدا میں قرآن کا منشا پورا ہو گیا اور یہ لعنت دنیا سے ختم ہو گئی۔

    • امین احسن اصلاحی یا بھوک کے زمانے میں کھلانا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس کے بعد یتیموں اور مسکینوں کو کھلانے کا ذکر فرمایا۔ ’کھلانا‘ ظاہر ہے کہ اپنے محدود مفہوم میں نہیں بلکہ وسیع معنوں یعنی ما یحتاج پوری کرنے کے مفہوم میں ہے۔ اس کے ساتھ ’فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ‘ (بھوک اور قحط کے زمانے میں) کی قید اپیل کو مؤثر بنانے کے لیے ہے۔ یہ کام ہے تو ہمیشہ نیکی کا لیکن قحط کے زمانے میں اس کی قدر و قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی یا بھوک کے دن کھانا کھلایا جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      کھانا، ظاہر ہے کہ اُن کی ضروریات میں سے ایک بنیادی چیز ہے۔ تاہم اِس سے مقصود محض کھانا نہیں ہے، بلکہ تمام مایحتاج ہیں جنھیں پورا کرنا چاہیے۔ اِس کے ساتھ ’فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ‘ (بھوک کے دن) کی قید اپیل کو موثر بنانے کے لیے ہے۔ یتیم اور مسکین کے ساتھ ’ذَا مَقْرَبَۃٍ‘ (قرابت مند) اور ’ذَا مَتْرَبَۃٍ‘ (خاک آلود) کی صفات بھی اِسی مقصد سے آئی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی کسی قرابت مند یتیم کو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس کے بعد یتیموں اور مسکینوں کو کھلانے کا ذکر فرمایا۔ ’کھلانا‘ ظاہر ہے کہ اپنے محدود مفہوم میں نہیں بلکہ وسیع معنوں یعنی ما یحتاج پوری کرنے کے مفہوم میں ہے۔ یَّتِیْمًا‘ کے ساتھ ’ذَا مَقْرَبَۃٍ‘ (قرابت مند) کی قید بھی دعوت کو مؤثر بنانے ہی کے لیے ہے۔ یوں حق دار تو ہر یتیم مدد کا ہے لیکن قرابت دار یتیم کا حق خاص طور پر دوچند ہو جاتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی کسی قرابت مند یتیم کو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      کھانا، ظاہر ہے کہ اُن کی ضروریات میں سے ایک بنیادی چیز ہے۔ تاہم اِس سے مقصود محض کھانا نہیں ہے، بلکہ تمام مایحتاج ہیں جنھیں پورا کرنا چاہیے۔ اِس کے ساتھ ’فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ‘ (بھوک کے دن) کی قید اپیل کو موثر بنانے کے لیے ہے۔ یتیم اور مسکین کے ساتھ ’ذَا مَقْرَبَۃٍ‘ (قرابت مند) اور ’ذَا مَتْرَبَۃٍ‘ (خاک آلود) کی صفات بھی اِسی مقصد سے آئی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی یا کسی خاک آلود مسکین کو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس کے بعد یتیموں اور مسکینوں کو کھلانے کا ذکر فرمایا۔ ’کھلانا‘ ظاہر ہے کہ اپنے محدود مفہوم میں نہیں بلکہ وسیع معنوں یعنی ما یحتاج پوری کرنے کے مفہوم میں ہے۔ علیٰ ہذا القیاس ’مِسْکِیْنًا‘ کے ساتھ ’ذَا مَتْرَبَۃٍ‘ (خاک آلود) کی صفت بھی اس تلقین کو مؤثر بنانے ہی کے لیے ہے۔

      جاوید احمد غامدی یا کسی خاک آلود مسکین کو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      کھانا، ظاہر ہے کہ اُن کی ضروریات میں سے ایک بنیادی چیز ہے۔ تاہم اِس سے مقصود محض کھانا نہیں ہے، بلکہ تمام مایحتاج ہیں جنھیں پورا کرنا چاہیے۔ اِس کے ساتھ ’فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ‘ (بھوک کے دن) کی قید اپیل کو موثر بنانے کے لیے ہے۔ یتیم اور مسکین کے ساتھ ’ذَا مَقْرَبَۃٍ‘ (قرابت مند) اور ’ذَا مَتْرَبَۃٍ‘ (خاک آلود) کی صفات بھی اِسی مقصد سے آئی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی پھر وہ بنے ان میں سے جو ایما ن لائے اور جنھوں نے ایک دوسرے کو صبر اور ہمدردی کی نصیحت کی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ آگے کا قدم ہے جو ان لوگوں کو اٹھانا چاہیے۔
      نیکی کرنے والوں کو نیکی کا داعی بھی بننا چاہیے: جن کی آنکھوں میں عبرت نگاہی اور دلوں میں اثرپذیری ہوتی ہے ان سے اوپر بیان کی ہوئی نیکیوں کی بھی توقع کی جاتی ہے اور یہ توقع بھی ان سے کی جانی چاہیے کہ وہ ایمان لانے والوں اور صبر اور ہمدردئ خلق کی دعوت دینے والوں میں سے بنیں گے۔ اگر وہ نہ بنیں تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ ان کے روحانی و اخلاقی ارتقاء کی راہ میں کوئی غیر فطری رکاوٹ ہے جس کو وہ عبور نہ کر سکے۔
      نیکی کے کاموں کا خاص مزاج اور ان کے لیے صبر کی ضرورت: یہاں ’مَرْحَمَۃ‘ (ہمدردی) کے ساتھ ’صبر‘ کا ذکر اسی طرح آیا ہے جس طرح سورۂ عصر میں ’حق‘ اور ’صبر‘ کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔ اس کی وجہ نیکی کے کاموں کا وہ مزاج ہے جس کی طرف ہم ’اقتحام عقبۃ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے اشارہ کر چکے ہیں کہ نیکی کے کام بالعموم نفس کی خواہشوں کے خلاف ہیں اس وجہ سے ان کے انجام دینے کے لیے انسان کو نفس کی مزاحمت کرنی اور ایک چڑھائی سی چڑھنی پڑتی ہے۔ یہ چڑھائی وہی لوگ چڑھ سکتے ہیں جن کے اندر ’صبر‘ کی خصلت مستحکم ہو۔ ’صبر‘ کا اصل مفہوم عزیمت و استقامت ہے۔ جن کے اندر یہ وصف نہ ہو وہ کوئی کام بھی پامردی کے ساتھ نہیں کر سکتے اس وجہ سے ضروری ہوا کہ جن کو نیکی کا درس دیا جائے ان کو ساتھ ہی صبر و استقامت کی بھی تلقین کی جائے۔ یہاں اشارے پر قناعت کیجیے، سورۂ عصر کی تفسیر میں، ان شاء اللہ اس کے تمام اطراف بحث میں آئیں گے۔

      جاوید احمد غامدی پھر آدمی اُن میں سے ہو جو ایمان لائے اور جنھوں نے ایک دوسرے کو (اُس پر) ثابت قدمی کی نصیحت کی اور (دوسروں سے) ہمدردی کی نصیحت کی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ‘۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’یہاں ’مَرْحَمَۃ‘(ہمدردی) کے ساتھ ’صبر‘ کا ذکر اُسی طرح آیا ہے، جس طرح سورۂ عصر (۱۰۳) میں ’حق‘ اور ’صبر‘ کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔ اِس کی وجہ نیکی کے کاموں کا وہ مزاج ہے جس کی طرف ہم ’اِقْتِحَامُ عَقَبَۃ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے اشارہ کر چکے ہیں کہ نیکی کے کام بالعموم نفس کی خواہشوں کے خلاف ہیں، اِس وجہ سے اُن کے انجام دینے کے لیے انسان کو نفس کی مزاحمت کرنی اور ایک چڑھائی سی چڑھنی پڑتی ہے۔ یہ چڑھائی وہی لوگ چڑھ سکتے ہیں جن کے اندر’ صبر‘ کی خصلت مستحکم ہو۔ ’صبر‘ کا اصل مفہوم عزیمت و استقامت ہے۔ جن کے اندر یہ وصف نہ ہو، وہ کوئی کام بھی پامردی کے ساتھ نہیں کر سکتے۔ اِس وجہ سے ضروری ہوا کہ جن کو نیکی کا درس دیا جائے، اُن کو ساتھ ہی صبر و استقامت کی بھی تلقین کی جائے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۳۷۷)

       

    • امین احسن اصلاحی یہی خوش بخت لوگ ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نیکوں اور بدوں کے انجام کا فرق: یہ آخر میں ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جو نیکی کے مذکورہ کاموں کا حوصلہ کریں گے اور جو ان سے محروم رہیں گے۔ فرمایا کہ جو لوگ یہ کام کریں گے تو وہ خوش بخت اور بامراد ہیں اور جو اللہ کی باتوں کی تکذیب ہی پر اڑے رہیں گے وہ بدبخت و نامراد ہیں، وہ آگ کے اندر بند کر دیے جائیں گے۔ یہاں تقابل کے اصول پر پہلے ٹکڑے میں اتنی بات محذوف ہے کہ ’اصحٰب المیمنۃ‘ جنت کے بالا خانوں میں ہوں گے۔
      لفظ ’مَیْمَنَۃ‘ ’یمین‘ (دہنے) سے بھی ہو سکتا ہے اور ’یمن‘ (مبارکی اور خوش بختی) سے بھی لیکن یہاں یہ ’مَشْئَمَۃ‘ کے مقابل میں آیا ہے جو لازماً ’شوم‘ (نحوست اور بدبختی) سے ہے۔ اس وجہ سے اس کو بھی ’یمن‘ سے لینا پڑے گا۔ میں نے ترجمہ میں اسی پہلو کو اختیار کیا ہے۔ ویسے یہ فرق محض لفظی ہو گا۔ اصل مدعائے کلام کے اعتبار سے کوئی بڑا فرق نہیں ہو گا۔ قرآن میں ان دونوں گروہوں کو ’اَصْحَابُ الْیَمِیْن‘ اور ’اَصْحَابُ الشِّمَال‘ سے بھی تعبیر فرمایا گیا ہے۔ سورۂ حاقہ میں اس تعبیر کی وجہ بھی بتا دی گئی ہے کہ نیکوں کو ان کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے اور بدوں کو ان کے بائیں ہاتھ میں، ان دونوں تعبیروں میں بس یہ فرق ہے کہ ایک میں ان کی ظاہری تقسیم کا اعتبار ہے، دوسری میں ان کی معنوی تقسیم کا۔ جن کو ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے ظاہر ہے کہ وہ خوش بخت ہوں گے اور جن کو ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑا دیے جائیں گے ان کی بدبختی اور محرومی بھی امر بدیہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہی خوش بخت ہیں۔ (یہ بہشت میں ہوں گے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      تقابل کے اسلوب پر یہ الفاظ اصل میں محذوف ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور جنھوں نے ہماری آیات کا انکار کیا وہ کم بختی والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نیکوں اور بدوں کے انجام کا فرق: یہ آخر میں ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جو نیکی کے مذکورہ کاموں کا حوصلہ کریں گے اور جو ان سے محروم رہیں گے۔ فرمایا کہ جو لوگ یہ کام کریں گے تو وہ خوش بخت اور بامراد ہیں اور جو اللہ کی باتوں کی تکذیب ہی پر اڑے رہیں گے وہ بدبخت و نامراد ہیں، وہ آگ کے اندر بند کر دیے جائیں گے۔ یہاں تقابل کے اصول پر پہلے ٹکڑے میں اتنی بات محذوف ہے کہ ’اصحٰب المیمنۃ‘ جنت کے بالا خانوں میں ہوں گے۔
      لفظ ’مَیْمَنَۃ‘ ’یمین‘ (دہنے) سے بھی ہو سکتا ہے اور ’یمن‘ (مبارکی اور خوش بختی) سے بھی لیکن یہاں یہ ’مَشْئَمَۃ‘ کے مقابل میں آیا ہے جو لازماً ’شوم‘ (نحوست اور بدبختی) سے ہے۔ اس وجہ سے اس کو بھی ’یمن‘ سے لینا پڑے گا۔ میں نے ترجمہ میں اسی پہلو کو اختیار کیا ہے۔ ویسے یہ فرق محض لفظی ہو گا۔ اصل مدعائے کلام کے اعتبار سے کوئی بڑا فرق نہیں ہو گا۔ قرآن میں ان دونوں گروہوں کو ’اَصْحَابُ الْیَمِیْن‘ اور ’اَصْحَابُ الشِّمَال‘ سے بھی تعبیر فرمایا گیا ہے۔ سورۂ حاقہ میں اس تعبیر کی وجہ بھی بتا دی گئی ہے کہ نیکوں کو ان کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے اور بدوں کو ان کے بائیں ہاتھ میں، ان دونوں تعبیروں میں بس یہ فرق ہے کہ ایک میں ان کی ظاہری تقسیم کا اعتبار ہے، دوسری میں ان کی معنوی تقسیم کا۔ جن کو ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے ظاہر ہے کہ وہ خوش بخت ہوں گے اور جن کو ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑا دیے جائیں گے ان کی بدبختی اور محرومی بھی امر بدیہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور جنھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کر دیا، وہی بدبخت ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی وہ آگ میں موندے ہوئے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’عَلَیْہِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ‘۔ ’اوصد الباب‘ کے معنی ہیں ’دروازہ بند کر دیا‘ مطلب یہ ہوا کہ ان کو آگ میں موند کر اوپر سے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ اعاذنا اللّٰہ من ذلک۔

      جاوید احمد غامدی وہ آگ میں موندے ہوئے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List