Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 26 آیات ) Al-Ghashiyah Al-Ghashiyah
Go
  • الغاشیۃ (The Overwhelming Event, The Pall)

    26 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الاعلیٰ ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ جس طرح سابق سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے اسی طرح اس میں بھی آپ کو تسلی دی گئی ہے۔ البتہ انداز خطاب، طریق استدلال اور تفصیل و اجمال کے پہلو سے دونوں میں فرق ہے۔ اس میں پہلے وہ فرق و اختلاف واضح فرمایا گیا ہے جو قیامت کے دن نیکوں اور بدوں، ناعاقبت اندیشوں اور عاقبت بینوں کے نتائج اعمال اور ان کی زندگیوں میں رونما ہو گا اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اس کا رونما ہونا اس کائنات کے خالق کی صفات قدرت، ربوبیت اور رحمت کا بدیہی تقاضا ہے۔ پھر آخر میں اس مضمون تسلی کی وضاحت فرما دی گئی ہے جو سابق سورہ کی آیت: ’فَذَکِّرْ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّکْرٰی‘ (الاعلیٰ ۸۷: ۹) میں اجمال کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ آپ کی ذمہ داری لوگوں تک صرف حق پہنچا دینے کی ہے۔ یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگ اس کو لازماً قبول بھی کر لیں۔ جو ہٹ دھرم اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں ان کے درپے ہونے کی زیادہ ضرورت نہیں ہے۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیجیے۔ وہ ان سے نمٹنے کے لیے کافی ہے۔

  • الغاشیۃ (The Overwhelming Event, The Pall)

    26 آیات | مکی
    الاعلٰی - الغاشیۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔اِن میں خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہے اور قریش کے سرداروں سے بھی، اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع انذارقیامت ہے، لیکن دونوں میں اِس کے ساتھ داعی کے لیے تسلی اور مخاطبین کے رویے پر حسرت و افسوس کا مضمون بھی نمایاں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں سورتوں میں اطمینان دلایا گیا ہے کہ تذکیر و نصیحت سے آگے آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اِس کے بعد یہ لوگوں کا کام ہے کہ نصیحت پائیں اور ہمارا کام ہے کہ اُن کی سرکشی پر اُن سے نمٹ
    لیں۔ آپ کو اِس معاملے میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی کیا تمہیں چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت اور احوال قیامت کی تصویر: اس انداز میں جو سوال ہوتا ہے وہ طلب جواب کے لیے نہیں بلکہ کسی چیز کے ہول و ہیبت یا اس کی عظمت و شان کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں جو خطاب ہے اگرچہ عام بھی ہو سکتا ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں چنانچہ اسی پر عطف کر کے آگے فرمایا ہے:

      ’فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنۡتَ مُذَکِّرٌ‘ (۲۱)
      (تم یاددہانی کر دو، تم تو صرف ایک یاددہانی کر دینے والے ہو)۔

      ’غَاشِیَۃٌ‘ کے معنی ڈھانک لینے والی اور چھا جانے والی کے ہیں۔ یہاں یہ لفظ قیامت کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی آفت ایک ہمہ گیر آفت ہو گی جو سب پر چھا جائے گی، کسی کو بھی اس سے مفر نہیں ہو گا۔ اس کا احوال (حدیث) یہاں سنایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گیا ہے لیکن مقصود، جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہو گا، ان کفار کو آگاہ کرنا ہے جو اول تو آخرت کو مانتے ہی نہیں تھے اور اگر کسی درجہ میں مانتے بھی تھے تو اپنے اس گمان کی بنا پر اس سے بالکل نچنت تھے کہ ان کو جو کچھ یہاں حاصل ہے اس سے بڑھ کر وہاں حاصل ہو گا۔

       

      جاوید احمد غامدی کیا تمھیں اُس آفت کی خبر پہنچی ہے جو (پورے عالم پر) چھا جائے گی؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، لیکن آگے کی آیتوں سے واضح ہے کہ روے سخن قریش کے اُنھی سرداروں کی طرف ہے جو آخرت سے بالکل بے خوف ہو چکے تھے۔ خطاب کی ابتدا سوال سے کی ہے ۔ اِس طرح کا سوال جواب حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ کسی چیز کے ہول، ہیبت یا اُس کی عظمت و جلالت کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس دن کتنے چہرے اترے (نڈھال اور تھکے ہارے) ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ان لوگوں کا حال جو قیامت سے نچنت رہے: اوپر کا سوال، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، طلب جواب کے لیے نہیں بلکہ صرف تنبیہ کے لیے تھا کہ سننے والے اس کو اچھی طرح سن لیں۔ اس کے بعد قرآن نے خود ہی اس کا جواب دیا کہ اس دن کتنے چہرے بالکل اترے اور تھکے ہارے ہوں گے۔
      ’خَاشِعَۃٌ‘ کے معنی جھکے ہوئے، پست اور اداس کے ہیں۔ ’عَامِلَۃٌ‘ کے معنی محنت سے نڈھال اور ’نَاصِبَۃٌ‘ کے معنی تھکے ہارے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن جب ان کی توقع کے برعکس یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ان کو اپنے اعمال کی پاداش میں جہنم میں پڑنا ہے تو ان کے چہرے فق ہو جائیں گے، ان پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی۔
      ’وُجُوْہٌ‘ سے مراد اگرچہ اشخاص ہیں لیکن ان کو تعبیر ’وُجُوْہٌ‘ سے اس لیے کیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا اظہار سب سے زیادہ نمایاں طریقہ پر چہروں ہی سے ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی کتنے چہرے اُس دن اترے ہوئے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے مراد اگرچہ اشخاص ہیں، لیکن اُن کو چہروں سے اِس لیے تعبیر کیا ہے کہ جو کچھ اُن پر گزرے گی، اُس کا اظہار سب سے نمایاں طریقے پر اُن کے چہروں ہی سے ہو گا۔

    • امین احسن اصلاحی (اس دن کتنے چہرے اترے) نڈھال اور تھکے ہارے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’عَامِلَۃٌ‘ کے معنی محنت سے نڈھال اور ’نَاصِبَۃٌ‘ کے معنی تھکے ہارے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن جب ان کی توقع کے برعکس یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ان کو اپنے اعمال کی پاداش میں جہنم میں پڑنا ہے تو ان کے چہرے فق ہو جائیں گے، ان پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی۔

      جاوید احمد غامدی نڈھال، تھکے ہارے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی وہ دہکتی آگ میں پڑیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس چیز کا بیان ہے جو اس بدحواسی کا سبب بنے گی جو اوپر مذکور ہوئی یعنی وہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے اور کھولتے چشمے کا پانی پئیں گے۔ ’اٰنِیَۃٌ‘ کے معنی ہیں جس کی گرمی اپنے آخری نقطہ پر پہنچی ہوئی ہو۔
      قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں مجرموں کی جس بدحواسی و پریشان حالی کا ذکر ہے اس کا تعلق اس وقت سے ہے جب ان پر یہ حقیقت واضح ہو گی کہ وہ دوزخ میں ڈالے جانے والے ہیں۔ سورۂ قیامہ میں تصریح ہے کہ

      وَوُجُوۡہٌ یَوْمَئِذٍ بَاسِرَۃٌ ۵ تَظُنُّ أَنۡ یُفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ (القیامہ ۷۵: ۲۴-۲۵)
      ’’ اور اس دن بہت سے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ گمان کرتے ہوں گے کہ ان پر کمر توڑ دینے والی مصیبت ٹوٹنے والی ہے۔‘‘

      عام طور پر لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ یہ ان کے دوزخ میں پڑنے کے بعد کے حالات بیان ہو رہے ہیں لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ دوزخ میں پڑنے کے بعد چہرے اداس ہی نہیں ہوں گے بلکہ وہ آگ پر گھسیٹے جائیں گے اور مزید وہ سب کچھ ہو گا جو دوزخ کے احوال سے متعلق قرآن میں بیان ہوا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی وہ دہکتی آگ میں پڑیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کھولتے چشمہ کا پانی پلائے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس چیز کا بیان ہے جو اس بدحواسی کا سبب بنے گی جو اوپر مذکور ہوئی یعنی وہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے اور کھولتے چشمے کا پانی پئیں گے۔ ’اٰنِیَۃٌ‘ کے معنی ہیں جس کی گرمی اپنے آخری نقطہ پر پہنچی ہوئی ہو۔
      قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں مجرموں کی جس بدحواسی و پریشان حالی کا ذکر ہے اس کا تعلق اس وقت سے ہے جب ان پر یہ حقیقت واضح ہو گی کہ وہ دوزخ میں ڈالے جانے والے ہیں۔ سورۂ قیامہ میں تصریح ہے کہ

      وَوُجُوۡہٌ یَوْمَئِذٍ بَاسِرَۃٌ ۵ تَظُنُّ أَنۡ یُفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ (القیامہ ۷۵: ۲۴-۲۵)
      ’’ اور اس دن بہت سے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ گمان کرتے ہوں گے کہ ان پر کمر توڑ دینے والی مصیبت ٹوٹنے والی ہے۔‘‘

      عام طور پر لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ یہ ان کے دوزخ میں پڑنے کے بعد کے حالات بیان ہو رہے ہیں لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ دوزخ میں پڑنے کے بعد چہرے اداس ہی نہیں ہوں گے بلکہ وہ آگ پر گھسیٹے جائیں گے اور مزید وہ سب کچھ ہو گا جو دوزخ کے احوال سے متعلق قرآن میں بیان ہوا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اُنھیں ایک کھولتے ہوئے چشمے کا پانی پلایا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’اٰنِیَۃ‘ استعمال ہوا ہے، یعنی جس کی گرمی اپنے آخری نقطے پر پہنچی ہوئی ہو۔

    • امین احسن اصلاحی ان کے کھانے کو صرف جھاڑ کانٹے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دوزخیوں کی غذا: پانی کے بعد یہ اس کھانے کا ذکر ہے جو دوزخ میں ان کو ملے گا۔ فرمایا کہ ان کو کھانے کی کوئی چیز وہاں میسر نہیں آئے گی۔ صرف ضریع چابیں گے اور اس پر کھولتا ہوا پانی پئیں گے۔ ’ضَرِیْعٌ‘ ایک خاردار زہریلی جھاڑی ہے جس کو کوئی جانور نہیں چھوتا۔
      مقصود کلام یہاں حصر نہیں ہے کہ ان کا کھانا صرف ’ضَرِیْعٌ‘ ہو گا۔ بلکہ یہ استثنائے منقطع ہے۔ حصر کا مضمون اس صورت میں پیدا ہوتا جب ’ضَرِیْعٌ‘ کسی درجے میں بھی کوئی کھانے کی چیز ہوتی۔ جب وہ سرے سے طعام میں داخل ہی نہیں ہے تو استثناء سے صرف یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ کھانے کی کوئی چیز جب انھیں میسر نہیں آئے گی تو بھوک سے بے بس ہو کر وہ ’ضَرِیْعٌ‘ زہر مار کریں گے جو دوزخیوں کے لیے وہاں موجود ہو گی۔ اس سے اسی نوع کی بعض دوسری چیزوں کی نفی نہیں ہوتی جو وہاں موجود ہوں گی اور دوزخی ان کو کھانے پر مجبور ہوں گے۔ چنانچہ دوسرے مقام میں مذکور ہے کہ ان گنہ گاروں کا کھانا ’زقّوم‘ بھی ہو گا:

      إِنَّ شَجَرَۃَ الزَّقُّوۡمِ ۵ طَعَامُ الْأَثِیْمِ (الدخان ۴۴: ۴۳-۴۴)
      ’’بے شک زقّوم کی جھاڑی گنہ گاروں کی غذا ہو گی۔‘‘

      اسی طرح ایک مقام میں ’غِسْلِیْن‘ کا بھی ذکر آیا ہے:

      وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍ ۵ لَا یَأْکُلُہٗٓ إِلَّا الْخَاطُِوۡنَ (الحاقہ ۶۹: ۳۶-۳۷)
      ’’اور ان کی غذا زخموں کا دھون ہو گی۔ جس کوصرف گنہ گار ہی کھا سکیں گے۔‘‘

      اس سے واضح ہوا کہ دوزخیوں کو کوئی چیز کھانے کی نہیں ملے گی، صرف وہ چیزیں ملیں گی جو نہ صرف یہ کہ کھانے کی ہیں نہیں بلکہ وہ ایسی ہیں کہ دوزخیوں کے سوا کوئی ان کو نگل بھی نہیں سکتا۔

       

      جاوید احمد غامدی اُن کے لیے جھاڑ کانٹوں کے سوا کوئی کھانا نہ ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ‘۔ اِن میں استثنا منقطع ہے، یعنی کھانے کی کوئی چیز اُن کے لیے سرے سے وہاں ہو گی ہی نہیں۔ ہاں، کچھ ہو گا تو جھاڑ کانٹے اور اِس طرح کی دوسری چیزیں ہوں گی جنھیں وہ بے بسی کے عالم میں کھانے پر مجبور ہوں گے۔

    • امین احسن اصلاحی جو نہ موٹا کریں گے نہ بھوک ہی کو ماریں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’لَا یُسْمِنُ وَلَا یُغْنِیْ مِنۡ جُوۡعٍ‘۔ غذا کے اصل فائدے دو ہیں۔ جسم کی توانائی کو قائم رکھنا اور بھوک کی اذیت کو رفع کرنا۔ اس سے نہ جسم میں توانائی آئے گی اور نہ بھوک ہی رفع ہو گی۔ گویا صرف اس کے چبانے اور نگلنے کی اذیت ان کے حصے میں آئے گی۔

      جاوید احمد غامدی جو نہ توانا کرے گا، نہ بھوک مٹائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کتنے چہرے اس دن شگفتہ ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل ایمان کا بیان: اب یہ دوسرے گروہ، یعنی اہل ایمان کا بیان ہے۔ فرمایا کہ بہت سے چہرے اس دن شگفتہ و شاداب ہوں گے۔
      یہی بات سورۂ قیامہ میں ’وُجُوۡہٌ یَوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ۵ إِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ‘ (۲۲-۲۳) کے الفاظ میں گزر چکی ہے۔ اوپر منکرین قیامت کے چہروں کی مایوسی، افسردگی اور تھکاوٹ کا ذکر ہوا، یہ ان کے مقابل میں ان لوگوں کا بیان ہے جنھوں نے دنیا کو آخرت کے لیے برتا اور اس امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ ان کے چہروں پر ابدی فتح مندی کی بشاشت اور شگفتگی جھلک رہی ہو گی۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے برخلاف) کتنے چہرے اُس دن پررونق ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اپنی کوشش پر شاد و مطمئن۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’لِسَعْیِہَا رَاضِیَۃٌ‘۔ یہ بشاشت ان کے چہروں پر اس وجہ سے نمایاں ہو گی کہ انھوں نے دنیا میں آخرت کے لیے جو کمائی کی اس کا حاصل ان کے سامنے ہو گا اور وہ اس سے پوری طرح مطمئن ہوں گے کہ ان کے ہر عمل کا صلہ ان کو بھرپور ملا اور ان کے رب نے جو وعدے ان سے کیے وہ سب پورے کیے۔ اس کی تفصیل آگے کی آیات میں بھی موجود ہے اور اس کے بعد والی سورہ میں بھی اس کا ایک خاص پہلو بیان ہوا ہے۔ وہاں ان شاء اللہ ہم اس کے بعض دقیق مضمرات پر روشنی ڈالیں گے۔

      جاوید احمد غامدی اپنی سعی پر راضی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اونچے باغ میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فِیْ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ‘۔ یہ آخرت میں ان کے مستقر و مقام کا پتا دیا ہے کہ وہ اونچے باغ میں ہوں گے۔ اونچے باغ، یعنی وہ باغ بلندی پر ہوں گے۔ ایک اچھے باغ کا تصور اہل عرب کے ہاں یہ ہے کہ باغ بلندی پر ہو، اس کے حاشیہ پر کھجوروں کے اونچے درخت ہوں تاکہ وہ دور ہی سے دلکش بھی معلوم ہو اور سموم و سیلاب وغیرہ سے محفوظ بھی رہے۔

      جاوید احمد غامدی اونچے باغ میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اونچے باغ میں۔اہل عرب کے ہاں ایک اچھے باغ کا تصور یہی تھا کہ وہ بلندی پر ہو، اُس کے حاشیے پر کھجوروں کے اونچے درخت ہوں تاکہ دور ہی سے نگاہوں کو اپنی طرف کھینچے اور بادسموم کی تاخت اور سیلاب کے حملوں سے محفوظ رہے۔

    • امین احسن اصلاحی جس میں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل جنت کی مجلس ہر شر سے محفوظ ہو گی: اہل دوزخ سے متعلق قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ دوزخ کے باڑے میں پہنچتے ہی وہ ایک دوسرے پر لعنت کریں گے کہ فلاں نے ہم کو گمراہ کیا، وہ گمراہ نہ کرتا تو ہم ہدایت پر ہوتے۔ لیڈروں اور ان کے پیروؤں میں توتکار ہو گی۔ پیرو لیڈروں کے لیے دونے عذاب کا مطالبہ کریں گے۔ کہ انھوں نے ان کی راہ ماری اس وجہ سے یہ دوگنے عذاب کے سزاوار ہیں۔ لیڈر جواب دیں گے کہ ہم نے تم کو وہی بنایا جو ہم خود تھے، تم نے خود اپنی شامت بلائی کہ جان بوجھ کر ہماری پیروی کی۔ اس کے برعکس اہل جنت کا یہ حال بیان ہوا ہے کہ وہ جنت میں داخل ہونے کے بعد ایک فتح مند ٹیم کی طرح ایک دوسرے کا خیر مقدم تحیت و سلام سے کریں گے، آپس میں مبارک سلامت کے تبادلے ہوں گے، نہایت خوش گوار موڈ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ ان کی مجلس محبت و اخلاص کی عطر بیزیوں سے معمور ہو گی۔ سورۂ واقعہ میں اس کا ذکر یوں آیا ہے:

      لَا یَسْمَعُونَ فِیْہَا لَغْواً وَلَا تَأْثِیْماً ۵ إِلَّا قِیْلاً سَلَاماً سَلَاماً (الواقعہ ۵۶: ۲۵-۲۶)
      ’’وہ اس میں کوئی لغو یا گناہ کی بات نہیں سنیں گے۔ بس ہر طرف مبارک سلامت ہی کا چرچا ہو گا۔‘‘

      یہ امر بھی یہاں ملحوظ رہے کہ اہل جنت کی شراب بھی فتور عقل اور ہذیان پیدا کرنے والی نہیں ہو گی کہ اس کے نشہ میں وہ اتنے ازخود رفتہ ہو جائیں کہ زبان سے کوئی ناشائستہ کلمہ نکل جائے۔

       

      جاوید احمد غامدی وہاں کوئی بے ہودہ بات نہ سنیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ ماحول کی پاکیزگی کی طرف اشارہ ہے کہ وہاں تحیت و سلام اور محبت و اخلاص کے چرچے ہوں گے، کسی فتور عقل اور ہذیان سے دوچار نہیں ہونا پڑے گا۔

    • امین احسن اصلاحی اس میں چشمہ ہو گا رواں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جنت کے خوش نما مناظر: جنت کے خوش گوار ماحول کے بعد یہ اس کے خوش نما مناظر کی طرف اشارہ ہے کہ اس میں چشمہ جاری ہو گا۔ یہ صرف اس چشمہ کا ذکر ہے جو باغ کی شادابی کے لیے ہو گا۔ اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ چشمہ ایک ہی ہو گا۔ چنانچہ سورۂ دہر میں ایک سے زیادہ چشموں اور ان سے نکلی ہوئی متعدد شاخوں کا ذکر ہے لیکن ان رحمتوں کی نوعیت، جیسا کہ ان کی وضاحت ہو چکی ہے، بالکل مختلف ہو گی۔ ان دونوں بیانوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُس میں چشمہ رواں ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے آگے جنت کے مناظر اور اُس کے سامان آرایش و زیبایش کا ذکر ہے۔یہ جنت کی ایک تصویر ہے۔ اِس سے ملتی جلتی دسیوں تصویریں قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں مذکور ہوئی ہیں۔ اِن میں چونکہ تمثیل کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے، اِس وجہ سے اِن کے کسی اختلاف کو تضاد پر محمول نہیں کرنا چاہیے۔ یہ مختلف تصویریں جنت کی نعمتوں کے تنوع اور اُن کی بوقلمونی کو ظاہر کرتی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اس میں تخت ہوں گے اونچے بچھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جنت کا سامان آرائش: یہ اس سامان آرائش و زیبائش کا ذکر ہے جو اہل جنت کی آسائش کے لیے موجود ہو گا۔ اس کی تفصیلات بھی مختلف سورتوں میں مختلف الفاظ میں بیان ہوئی ہیں۔ یہ اختلاف زیادہ تر تو اجمال و تفصیل کی نوعیت کا ہے لیکن بعض مقامات میں وہ تفاوت بھی ملحوظ ہے جو اہل جنت کے درجات و مراتب میں ہو گا۔ نیز ان کو پڑھتے ہوئے یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھیے کہ یہ چیزیں تمثیل کی صورت میں بیان ہوئی ہیں۔ عالم غیب کی نادیدہ حقیقتیں تمثیل ہی کے پیرائے میں بیان ہو سکتی ہیں اور ان کے لیے الفاظ اسی زبان اور اسی تہذیب و تمدن سے مستعار لینے پڑتے ہیں جس سے مخاطب فی الجملہ آشنا ہوں۔
      ’سُرُرٌ مَّرْفُوعَۃٌ‘۔ ان کے بیٹھنے کے لیے اونچے تخت ہوں گے۔ اس زمانے کے امراء و سلاطین کی نشست اونچے تختوں ہی پر ہوتی تھی اس وجہ سے تمثیل میں اسی کا ذکر ہوا ہے لیکن جنت ہر جنتی کی خواہش کے مطابق ہو گی۔ وہ جس شکل میں جنت کی آرائش چاہے گا اس کی جنت اسی شکل میں آراستہ ملے گی۔

      جاوید احمد غامدی اُس میں اونچی مسندیں بچھی ہوں گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی آب خورے قرینے سے دھرے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَاَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَۃٌ‘۔ ’اَکْوَابٌ‘ جمع ہے ’کَوْبٌ‘ کی۔ ’کَوْبٌ‘ اور ’کپ‘ (cup) ایک ہی چیز ہے۔ یہ پیالے، آب خورے، جام سب کے لیے آتا ہے۔ ’مَّوْضُوْعَۃٌ‘ کے معنی ہیں قرینہ سے رکھے ہوئے۔

      جاوید احمد غامدی اور ساغر قرینے سے رکھے ہوئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور غالیچے ترتیب سے لگے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’نَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ‘۔ ’نَمَارِقُ‘ قالینوں اور غالیچوں کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی ان کی ہر نشست گاہ میں قالین اور غالیچے ترتیب سے باہمدگر پیوستہ بچھے ہوں گے۔ کوئی جگہ خالی نہیں ہو گی۔

      جاوید احمد غامدی اور غالیچے ترتیب سے لگے ہوئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور تکیے ہر طرف پڑے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَزَرَابِیُّ مَبْثُوْثَۃٌ‘۔ ’زَرَابِیُّ‘ جمع ہے ’زُرْبِیَّۃٌ‘ کی، یہ تکیوں اور نہالچوں کے معنی میں آتا ہے یعنی قالینوں پر تکیے اور نہالچے ہر طرف بکھرے پڑے ہوں گے۔ بیٹھنے والا جہاں بیٹھے وہ اس کے لیے آسائش کا باعث ہوں گے۔ آج صوفوں کا دور ہے لیکن ان پر بھی گدیاں اور تکیے رکھنے کا رواج ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور نہالچے ہر طرف پڑے ہوئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کیا وہ اونٹوں پر نگاہ نہیں کرتے، وہ کیسے بنائے گئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کی بعض آفاقی نشانیوں کی یاددہانی: یہ ان لوگوں کو جو مذکورہ جزا و سزا سے بالکل نچنت زندگی گزار رہے تھے۔ آفاق کی بعض نہایت نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ آخر وہ ان چیزوں پر کیوں غور نہیں کرتے جو خالق کی صفات ربوبیت و قدرت اور اس کی حکمت و عظمت کی اس طرح شہادت دے رہی ہیں کہ جس کے اندر ذرا بھی حق پسندی ہو وہ قیامت اور جزاء و سزا کا انکار نہیں کر سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ ان نشانیوں کے ہوتے وہ اس بات پر کیوں اڑے ہوئے ہیں کہ کوئی نشانئ عذاب ظاہر ہو یا قیامت آ جائے تب ہی وہ پیغمبر کی بات مانیں گے۔
      اونٹ کی طرف اشارہ: ’اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ إِلَی الْإِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ‘۔ سب سے پہلے اونٹ کی طرف توجہ دلائی کہ آخر وہ اپنے سفر و حضر کے سب سے زیادہ خدمت گزار، وفا شعار اور جاں نثار ساتھی اونٹ ہی پر کیوں نہیں غور کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کن صفات و خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کس طرح اس کو ان کا مطیع بنایا ہے کہ ایک عظیم الجثہ اور طویل القامت جانور ہونے کے باوجود اس کی ناک میں نکیل ڈال کر وہ جدھر چاہیں لیے پھرتے ہیں اور وہ بے چون و چرا ان کی اطاعت کرتا ہے۔ وہ حضر میں ان کا رات دن کا ساتھی ہے؛ سفر میں ان کا باربردار رفیق؛ صحرا میں ان کا سفینہ ہے۔ ہفتہ ہفتہ بھر وہ بھوک سے اور پیاس کا مقابلہ کرتا ہے۔ خاردار جھاڑیوں سے اپنا پیٹ بھر لیتا ہے اور کسی بڑی سے بڑی مشقت سے بھی انکار نہیں کرتا۔ اس کا گوشت، پوست، دودھ، ہر چیز مالک کے کام آتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کا بول و براز بھی رائگاں جانے والی چیز نہیں ۔۔۔ اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اتنے گوناگوں فوائد و مصالح کے ساتھ یہ جانور آپ سے آپ پیدا ہو گیا اور انسان نے اس کو اتفاق سے پکڑ کر اپنے لیے سازگار بنا لیا ہے یا رب کریم نے اپنی قدرت و حکمت سے اس کو پیدا کیا اور اس کو انسان کی خدمت میں لگایا ہے۔ ظاہر ہے کہ عقل اس دوسری بات ہی کی گواہی دیتی ہے۔ اگر یہ دوسری ہی بات قابل قبول ہے تو کیا انسان پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ اپنے رب کا شکرگزار بندہ بن کر زندگی گزارے جس نے اس کے لیے بغیر کسی استحقاق کے زندگی کی یہ آسائشیں فراہم کی ہیں ورنہ ایک اپنے رب کے آگے جواب دہی اور اپنے کفران نعمت کی سزا بھگتنے کے لیے تیار رہے۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اونٹ کا ذکر بطور مثال محض ان خصوصیات کی بنا پر ہوا ہے جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ مقصود ان تمام جانوروں کی طرف توجہ دلانا ہے جو قدرت نے انسان کے لیے مسخر کیے ہیں اور جن پر اس کی معاش و معیشت کا انحصار ہے۔ دوسرے مقامات میں قرآن نے ان کا حوالہ بھی دیا ہے اور مدعا اس حوالہ سے اس حقیقت کو انسان پر واضح کرنا ہے کہ ہر نعمت منعم کا شکر واجب کرتی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ ایک ایسا روز آئے جس میں شکرگزار اپنی شکرگزاری کا انعام پائیں اور ناشکرے اپنے کفران نعمت کی سزا بھگتیں۔ ان شاء اللہ سورۂ عادیات کی تفسیر میں اس پر مفصل بحث آئے گی۔

      جاوید احمد غامدی (یہ نہیں مانتے) تو کیا اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور آسمان کو نہیں دیکھتے، کیسا اونچا کیا گیا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آسمان کی طرف اشارہ: ’وَإِلَی السَّمَآءِ کَیْفَ رُفِعَتْ‘۔ چونکہ مقصود یہاں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، نمایاں چیزوں کی طرف متوجہ کرنا ہے اس وجہ سے اونٹ جیسے طویل القامت جانور کا ذکر آیا تو وہیں سے آسمان کی طرف توجہ دلا دی ہے کہ وہ آسمان پر کیوں نہیں غور کرتے کہ کس طرح یہ چھت بلند کی گئی! یعنی ایسی ناپیداکنار چھت بلند تو ہو گئی لیکن کسی کو وہ ستون نظر نہیں آتے جن پر یہ قائم ہے۔ پھر اس سے بھی عجیب یہ ماجرا ہے کہ نہیں معلوم کہ کب سے یہ قائم ہے، لیکن کوئی ماہر سے ماہر انجینئر بھی کسی بڑی سے بڑی دوربین کی مدد سے بھی، اس میں کسی معمولی سے معمولی رخنہ یا خلا کی نشان دہی نہیں کر سکتا۔ پھر اس سے بھی عجیب تر ماجرا یہ ہے کہ ہے تو یہ زمین سے اتنی دور کہ اس کی مسافت کا علم کسی کو نہیں لیکن اسی کے سورج، چاند، ستارے اور سیارے زمین کی رونق اور اس کے لیے روشنی، حرارت اور زندگی کا ذریعہ ہیں۔ اسی سے بارش نازل ہوتی ہے جس سے زمین کی تمام مخلوقات کو روزی حاصل ہوتی ہے۔
      انسان سوچے کہ جس خالق کی قدرت و حکمت کا یہ حال ہے کہ وہ آسمان کو بنا سکتا ہے، کیا اس کے مرکھپ جانے کے بعد دوبارہ اس کو اٹھا کھڑا کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا! چنانچہ قرآن میں جگہ جگہ یہ سوال اللہ تعالیٰ نے کیا ہے کہ بتاؤ، تمہارا پیدا کیا جانا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا؟

      جاوید احمد غامدی اور آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اٹھایا گیا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور پہاڑوں پر نظر نہیں ڈالتے، کس طرح کھڑے کیے گئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زمین کے عجائبات کی طرف اشارہ: ’وَإِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ‘۔ آسمان اور اس کے عجائبات کی سیر کرانے کے بعد نگاہ کو پھر زمین کی طرف توجہ دلائی اور اس کی اس نشانی کی طرف اشارہ فرمایا جو زمین و آسمان کے مابین خالق کائنات کی قدرت و حکمت کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ فرمایا کہ پہاڑوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح نصب کیے گئے ہیں۔ وہ زمین کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں کہ مبادا وہ سب کے سمیت کسی سمت کو لڑھک جائے۔ وہ ہواؤں اور بادلوں کو بھی کنٹرول کرتے ہیں تاکہ بارش کی تقسیم قدرت کی حکمت اور اس کے منشا کے مطابق ہو۔ ہیں تو یہ پتھر کے لیکن قدرت نے ان کے اندر سے خلق کی سیرابی کے لیے شیریں پانی کے سوتے جاری کر رکھے ہیں۔ وہ قدرت کے بے شمار قیمتی خزانوں کے امین ہیں جن کو انسان برابر دریافت کرنے اور ان کو اپنے تمدن کی تعمیر و ترقی میں صرف کرنے میں رات دن سرگرم ہے۔ ان میں ایسے پہاڑ بھی ہیں جو ناقابل عبور ہیں لیکن قدرت نے ان کے اندر درے اور راستے نکال دیے ہیں تاکہ وہ قوموں اور قوموں کے درمیان حجاب بن کے نہ رہ جائیں۔ انسان غور کرے کہ کیا یہ خالق کی عظیم قدرت، عظیم حکمت، اور اس کی عالم گیر ربوبیت پر شاہد نہیں ہیں! اور پھر غور کرے کہ کیا جو خالق ان صفات سے متصف ہے وہ انسان کو اس دنیا میں شتر بے مہار بنا کے چھوڑے رکھے گا، کوئی ایسا دن نہیں لائے گا جس میں وہ سب کا حساب کرے اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا دے؟ کیا یہ اس کی ربوبیت اور اس کی حکمت کا بدیہی تقاضا نہیں ہے؟ کیا کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ اس کی قدرت کے دائرہ سے خارج اور بعید از امکان ہے!!

      جاوید احمد غامدی اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور زمین کو نہیں دیکھتے، کس طرح بچھائی گئی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      پہاڑوں کے بعد ہموار زمین پر: ’وَإِلَی الْأَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ‘۔ اب یہ نگاہ کو پہاڑوں سے زمین پر اتارا اور دعوت دی کہ زمین کو دیکھیں کہ کس طرح یہ ان کے قدموں کے نیچے بچھائی گئی ہے۔ کس طرح اس کے گوشے گوشے میں ان کی پرورش کے لیے ضرورت کی چیزیں پیدا کی گئی ہیں۔ اس کی مسطح زمینوں پر یہ اپنے گھر بنا لیتے ہیں۔ اس کے میدانوں میں ان کے کھیت اور ان کے باغ و چمن ہیں۔ اس کی نہریں، اس کے کنوئیں اور اس کے چشمے ان کے کھیتوں اور باغوں کو شاداب رکھتے ہیں، اس کے جنگلوں اور اس کی وادیوں میں ان کے چوپایوں اور گلوں کے لیے پیٹ بھرنے کے غیرمحدود وسائل موجود ہیں۔ ان ساری چیزوں کو دیکھیں اور سوچیں کہ جس نے ان کو اس بنے بنائے گھر میں اتارا اور اس کی ساری چیزیں وہ برت رہے ہیں کیا اس کو اس امر سے کوئی بحث نہیں ہے کہ کون گھر کے مالک کی پسند کے مطابق زندگی گزارتا ہے اور کون اس کو اپنے اب و جد کی میراث سمجھ کر اس میں اکڑتا ہے اور اودھم مچاتا ہے؟ ظاہر ہے کہ عقل یہی کہتی ہے کہ اس کو اس سے بحث ہے اور ہونی چاہیے۔ اگر یہ نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ العیاذ باللہ یا تو وہ بے حس و بلید اور خیر و شر کے شعور سے عاری ہے یا بالکل بے بس و مجبور ہے۔ لیکن جس ذات کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور عظمت کی وہ نشانیاں آپ نے دیکھی ہیں، جن کا ذکر اوپر ہوا، اس کو نہ بے حمیت و بے شعور فرض کیا جا سکتا نہ عاجز و بے بس تو لازماً یہ ماننا پڑے گا کہ وہ اس گھر میں انسان کو اتار کر دیکھ رہا ہے کہ وہ کیا بناتا ہے۔ بالآخر ایک دن اس امتحان کی مدت پوری ہو گی اور وہ سب کو اپنے حضور میں جمع کر کے ان کی نیکی اور بدی ان کے سامنے رکھے گا۔ جس کی روش اس کی پسند کے مطابق رہی ہو گی اس کو وہ اپنی رحمت سے نوازے گا اور جس نے اس گھر میں فساد مچایا ہو گا وہ اپنے کیے کی سزا بھگتے گا۔
      ’کَیْفَ خُلِقَتْ‘ اور ’کَیْفَ رُفِعَتْ‘ وغیرہ کے لفظوں میں جو سوالات کیے گئے ہیں ان کے اندر اجمال ہے، اس کی تفصیل قرآن کی دوسری سورتوں میں بیان ہوئی ہے۔ ہم نے اوپر جو وضاحت کی ہے انہی سورتوں کی روشنی میں کی ہے اور صرف اسی حد تک کی ہے جس حد تک اس سورہ میں ضروری تھی۔ مذکورہ چیزوں سے قرآن نے اپنے جن جن دعاوی پر دلیل قائم کی ہے اگر کوئی ان سب کو سمجھنا چاہیے تو وہ قرآن کے ان تمام مقامات کا جائزہ لے جہاں زمین، آسمان، پہاڑ اور اونٹ کسی پہلو سے زیربحث آئے ہیں۔
      ترتیب بیان کی ندرت: یہاں ترتیب بیان میں بھی ایک خاص ندرت ہے کہ اس کے اندر صعودی اور ہبوطی دونوں ترتیبیں جمع ہو گئی ہیں۔ مقصود تو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، چند نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلانا ہے تاکہ ضدیوں کو فرار کی کوئی راہ نہ ملے۔ چنانچہ سب سے قریب کی نمایاں چیز اونٹ کی طرف پہلے اشارہ فرمایا جس کی نفع بخشی سے مخاطبوں میں سے کسی کے لیے مجال انکار نہیں تھی۔ اونٹ کی طرف اشارہ کرنے کے بعد وہیں سے آسمان کی طرف توجہ دلا دی کہ ایک نظر اس کو بھی دیکھیں۔ پھر زمین کی طرف بازگشت ہوئی تو بیچ میں پہاڑ آ گئے، ان کی طرف توجہ دلا دی۔ پہاڑوں کے بعد مسطح زمین توجہ کے لیے اپنے اندر قدرتی کشش رکھتی ہے۔
      ان میں سے دو نشانیاں ۔۔۔ اونٹ اور زمین ۔۔۔ ربوبیت کے پہلو سے زیادہ نمایاں ہیں اور دو ۔۔۔ آسمان اور پہاڑ ۔۔۔ خالق کی قدرت و حکمت کے پہلو سے۔ خالق کی انہی صفتوں پر قیامت، معاد اور جزا و سزا کے پورے فلسفہ کی بنیاد ہے جس کی وضاحت اس کتاب میں ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔ اب دیکھیے اس ترتیب بیان نے نگاہ کی ایک بڑی گردش میں کس طرح ان تمام نمایاں آثار کو سامنے کر دیا ہے جو اس فلسفہ کے حق ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ قیامت کے اُنھی حقائق پر، جو پیچھے مذکور ہیں، آفاق کی بعض نشانیوں سے استدلال فرمایا ہے۔ ترتیب بیان میں یہ ندرت ملحوظ ہے کہ پہلے مخاطبین کے ماحول میں قریب کی نمایاں ترین چیز، اونٹ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ پھر نگاہ کو آسمان کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اِس کے بعد زمین کی طرف لوٹتے ہوئے بیچ میں پہاڑ آگئے ہیں۔ پہاڑوں کے بعد، ظاہر ہے کہ عرب کے ماحول میں زمین ہی مخاطبین کی توجہ کا مرکز بن سکتی تھی۔ چنانچہ آخر میں اِسی کا ذکر ہے۔اِن نشانیوں میں سے دو اونٹ اور زمین ربوبیت کے پہلو سے اور دو آسمان اور پہاڑ خدا کی قدرت و حکمت کے پہلو سے زیادہ نمایاں ہیں۔ قرآن کے طلبہ اِس حقیقت سے واقف ہیں کہ اُس کے سارے فلسفہ و حکمت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی اِنھی صفات پر قائم ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس اجمال کی تفصیل فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...سب سے پہلے اونٹ کی طرف توجہ دلائی کہ آخر وہ اپنے سفر و حضر کے سب سے زیادہ خدمت گزار، وفاشعار اور جاں نثار ساتھی اونٹ ہی پر کیوں نہیں غور کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کو کن صفات و خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کس طرح اُس کو اُن کا مطیع بنایا ہے کہ ایک عظیم الجثہ اور طویل القامت جانور ہونے کے باوجود اُس کی ناک میں نکیل ڈال کر وہ جدھر چاہیں، لیے پھرتے ہیں اور وہ بے چون و چرا اُن کی اطاعت کرتا ہے۔ وہ حضرمیں اُن کا رات دن کا ساتھی ہے؛ سفر میں اُن کا باربردار رفیق؛ صحرا میں اُن کا سفینہ ہے۔ ہفتہ ہفتہ بھر وہ بھوک اور پیاس کامقابلہ کرتا ہے۔ خاردارجھاڑیوں سے اپنا پیٹ بھر لیتا ہے اور کسی بڑی سے بڑی مشقت سے بھی انکار نہیں کرتا۔ اُس کا گوشت، پوست، دودھ، ہر چیز مالک کے کام آتی ہے۔ یہاں تک کہ اُس کا بول و براز بھی رائگاں جانے والی چیز نہیں اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اتنے گوناگوں فوائد و مصالح کے ساتھ یہ جانورآپ سے آپ پیدا ہو گیا اور انسان نے اُس کو اتفاق سے پکڑ کر اپنے لیے سازگار بنا لیا ہے یا رب کریم نے اپنی قدرت و حکمت سے اُس کو پیدا کیا اوراُس کو انسان کی خدمت میں لگایا ہے۔ ظاہر ہے کہ عقل اِس دوسری بات ہی کی گواہی دیتی ہے۔ اگر یہ دوسری ہی بات قابل قبول ہے تو کیا انسان پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ اپنے رب کا شکر گزار بندہ بن کر زندگی گزارے جس نے اُس کے لیے بغیر کسی استحقاق کے زندگی کی یہ آسایشیں فراہم کی ہیں، ورنہ ایک دن اپنے رب کے آگے جواب دہی اور اپنے کفران نعمت کی سزا بھگتنے کے لیے تیار رہے۔
      ...اونٹ جیسے طویل القامت جانور کا ذکر آیا تو وہیں سے آسمان کی طرف توجہ دلا دی ہے کہ وہ آسمان پر کیوں نہیں غور کرتے کہ کس طرح یہ چھت بلند کی گئی! یعنی ایسی ناپیداکنار چھت بلند تو ہو گئی، لیکن کسی کو وہ ستون نظر نہیں آتے جن پر یہ قائم ہے۔ پھر اِس سے بھی عجیب یہ ماجرا ہے کہ نہیں معلوم کہ کب سے یہ قائم ہے، لیکن کوئی ماہر سے ماہر انجینئر کسی بڑی سے بڑی دوربین کی مدد سے بھی اِس میں کسی معمولی سے معمولی رخنے یا خلا کی نشان دہی نہیں کر سکتا۔ پھر اِس سے بھی عجیب تر ماجرا یہ ہے کہ ہے تو یہ زمین سے اتنی دور کہ اِس کی مسافت کا علم کسی کو نہیں، لیکن اِسی کے سورج، چاند، ستارے اور سیارے زمین کی رونق اوراُس کے لیے روشنی، حرارت اور زندگی کا ذریعہ ہیں۔ اِسی سے بارش نازل ہوتی ہے جس سے زمین کی تمام مخلوقات کو روزی حاصل ہوتی ہے۔
      انسان سوچے کہ جس خالق کی قدرت و حکمت کا یہ حال ہے کہ وہ آسمان کو بنا سکتا ہے ، کیا اُس کے مرکھپ جانے کے بعد دوبارہ اُس کو اٹھا کھڑا کرنا اُس کے لیے مشکل ہو جائے گا! چنانچہ قرآن میں جگہ جگہ یہ سوال اللہ تعالیٰ نے کیا ہے کہ بتاؤ، تمھارا پیدا کیا جانا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا؟
      ...آسمان اور اُس کے عجائبات کی سیر کرانے کے بعد نگاہ کو پھر زمین کی طرف توجہ دلائی اور اُس کی اُس نشانی کی طرف اشارہ فرمایا جو زمین و آسمان کے مابین خالق کائنات کی قدرت و حکمت کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ فرمایا کہ پہاڑوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح نصب کیے گئے ہیں۔ وہ زمین کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں کہ مبادا وہ سب کے سمیت کسی سمت کو لڑھک جائے۔ وہ ہواؤں اور بادلوں کو بھی کنٹرول کرتے ہیں تاکہ بارش کی تقسیم قدرت کی حکمت اور اُس کے منشا کے مطابق ہو۔ ہیں تو یہ پتھر کے، لیکن قدرت نے اُن کے اندر سے خلق کی سیرابی کے لیے شیریں پانی کے سوتے جاری کر رکھے ہیں۔ وہ قدرت کے بے شمار قیمتی خزانوں کے امین ہیں جن کو انسان برابر دریافت کرنے اور اُن کو اپنے تمدن کی تعمیر و ترقی میں صرف کرنے میں رات دن سرگرم ہے۔ اُن میں ایسے پہاڑ بھی ہیں جو ناقابل عبور ہیں، لیکن قدرت نے اُن کے اندر درے اور راستے نکال دیے ہیں تاکہ وہ قوموں اور قوموں کے درمیان حجاب بن کے نہ رہ جائیں۔ انسان غور کرے کہ کیا یہ خالق کی عظیم قدرت، عظیم حکمت اور اُس کی عالمگیر ربوبیت پر شاہد نہیں ہیں! اور پھر غور کرے کہ کیا جو خالق اِن صفات سے متصف ہے، وہ انسان کو اِس دنیا میں شتر بے مہار بنا کے چھوڑے رکھے گا، کوئی دن ایسا نہیں لائے گا جس میں وہ سب کا حساب کرے اور ہر ایک کو اُس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا دے؟ کیا یہ اُس کی ربوبیت اور اُس کی حکمت کا بدیہی تقاضانہیں ہے؟ کیا کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ اُس کی قدرت کے دائرے سے خارج اور بعید از امکان ہے۔
      ...(اِس کے بعد) نگاہ کو پہاڑوں سے زمین پر اتارا اور دعوت دی کہ زمین کو دیکھیں کہ کس طرح یہ اُن کے قدموں کے نیچے بچھائی گئی ہے۔ کس طرح اِس کے گوشے گوشے میں اُن کی پرورش کے لیے ضرورت کی چیزیں پیدا کی گئی ہیں۔ اِس کی مسطح زمینوں پر یہ اپنے گھر بنا لیتے ہیں۔ اِس کے میدانوں میں اِن کے کھیت اور اِن کے باغ و چمن ہیں۔ اِس کی نہریں ، اِس کے کنوئیں اور اِس کے چشمے اِن کے کھیتوں اور باغوں کو شاداب رکھتے ہیں۔ اِس کے جنگلوں اور اِس کی وادیوں میں اِن کے چوپایوں اور گلوں کے لیے پیٹ بھرنے کے غیر محدود وسائل موجود ہیں۔ اِن ساری چیزوں کو دیکھیں اور سوچیں کہ جس نے اِن کو اِس بنے بنائے گھر میں اتارا اور اِس کی ساری چیزیں وہ برت رہے ہیں، کیا اُس کو اِس امر سے کوئی بحث نہیں ہے کہ کون گھر کے مالک کی پسند کے مطابق زندگی گزارتا ہے اور کون اُس کو اپنے اب و جد کی میراث سمجھ کر اُس میں اکڑتا اور اودھم مچاتا ہے؟ ظاہر ہے کہ عقل یہی کہتی ہے کہ اُس کو اِس سے بحث ہے اور ہونی چاہیے۔ اگر یہ نہ ہو تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ العیاذ باللہ یا تو وہ بے حس و بلید اور خیر و شر کے شعور سے عاری ہے یا بالکل بے بس و مجبور ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۳۳۳)

       

    Join our Mailing List