Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 29 آیات ) At-Takwir At-Takwir
Go
  • التکویر (The Folding Up, The Overthrowing)

    29 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    پچھلی دونوں توام سورتوں ۔۔۔ النّٰزعٰت اور عبس ۔۔۔ میں جس ہول قیامت سے ’طآمََّۃ‘ اور ’صَآخََّۃ‘ کے ناموں سے ڈرایا گیا ہے اس سورہ میں اسی ہول کی پوری تصویر ہے۔ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں پھر انسان کے قریب و بعید اور اس کے ظاہر و باطن کے ہر گوشہ میں اس ہلچل کے جو اثرات مترتب ہوں گے وہ اس طرح نگاہوں کے سامنے کر دیے گئے ہیں کہ انسان اگر سوچنے سمجھنے والا ہو تو ان آیات کے آئینے میں وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے جو ابھی پس پردہ ہے لیکن ایک دن وہ سب اس کے سامنے آنے والا ہے۔

    اس کے بعد قریش کے مکذبین کو مخاطب کر کے آگاہ کیا گیا ہے کہ قرآن اس دن سے جو تمہیں ڈرا رہا ہے تو اس کو ایک حقیقت سمجھو اور اس کے لیے تیاری کرو۔ یہ خدا کا نازل کردہ کلام ہے جو اس نے اپنے سب سے مقرب و معتمد فرشتے کے ذریعہ سے اپنے رسول پر اتارا ہے۔ اگر تم نے اس کو کاہنوں کی کہانت اور شاعروں کی شاعری سمجھ کر رد کر دیا تو یاد رکھو کہ نہ خدا کا کچھ بگاڑو گے نہ رسول کا بلکہ اپنی ہی تباہی کا سامان کرو گے۔ رسول کا کام لوگوں تک اس یاددہانی کو پہنچا دینا ہے۔ اس کے بعد ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے اور یہ بھی یاد رکھو کہ اس پر ایمان لانے کی توفیق انہی کو حاصل ہو گی جو حق کے قدردان اور اس کے طالب ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سنت ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

  • التکویر (The Folding Up, The Overthrowing)

    29 آیات | مکی
    التکویر - الانفطار

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ میں قرآن کی حقانیت سے اور دوسری سورہ میں انسان کی خلقت میں خدا کی آیات سے استدلال کیا گیا ہے۔ روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں کا موضوع قیامت کی ہلچل کے حوالے سے مخاطبین کو متنبہ کرنا ہے کہ ہنگامۂ محشر برپا ہو گا تو اِسی لیے برپا ہو گا کہ تم میں سے ہر شخص یہ جان لے کہ اُس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی جب کہ سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’تَکْوِیْرٌ‘ کے معنی کسی شے کو لپیٹ دینے یا ایک گٹھڑ کی صورت باندھ لینے کے ہیں۔ ’کوّرَ العھامۃَ عَلٰی رَاْسِہ‘ کے معنی ہیں ’اس نے عمامہ اپنے سر پر لپیٹ لیا‘۔
      قیامت کے ظہور کے وقت سورج کا حال: قیامت کے ظہور کے وقت آسمانوں بلکہ اس پوری کائنات کی سب سے زیادہ نمایاں اور شان دار چیز ۔۔۔ سورج ۔۔۔ کا جو حال ہو گا یہ اس کی تصویر ہے کہ اس کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ ظاہر ہے کہ جب سورج کی بساط ہی لپیٹ دی جائے گی تو وہ سارا عالم تیرہ و تار ہو جائے گا جو اس کی تابانی سے روشن ہے۔ اگرچہ سورج کے چھپنے کا مشاہدہ ہمیں آج بھی ہر روز ہوتا رہتا ہے لیکن اس کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ یہ صورت صرف اس وجہ سے پیش آتی ہے کہ ہم اس سے اوٹ میں ہو جاتے ہیں البتہ جب قیامت کی ہلچل برپا ہو گی تو سورج کا سارا نظام ہی بالکل درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ کون اندازہ کر سکتا ہے اس تاریکی کا جب کہ سرے سے سورج ہی تاریک ہو جائے۔

      جاوید احمد غامدی جب سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ستارے بے نور ہو جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ستاروں کا حال: ’اِنْکِدَارٌ‘ کے معنی دھندلے ہو جانے اور ماند پڑ جانے کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد ستاروں کا بے نور ہو جانا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب سورج ہی کی بساط لپیٹ دی جائے گی تو اس کے نظام سے وابستہ جتنے بھی بلب اور قمقمے ہیں وہ سب آپ سے آپ بے نور ہو جائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی جب تارے ماند پڑ جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پہاڑ چلا دیے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      پہاڑوں کا حال: آسمان کے بعد یہ زمین کی سب سے شان دار اور عظیم چیز ۔۔۔ پہاڑوں ۔۔۔ کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ پہاڑ جو زمینوں میں گڑے ہوئے ہیں، جن کو سمجھتے ہو کہ یہ بالکل غیر فانی اور اٹل ہیں، ان کی جگہ سے ان کو ہلایا نہیں جا سکتا،؂۱ یہ اس دن چلا دیے جائیں گے۔ یہاں صرف چلا دیے جانے کا ذکر ہے لیکن دوسرے مقامات میں اس کی تفصیل بھی ہے کہ وہ اس طرح اڑتے پھریں گے جس طرح بادل اڑتے پھرتے ہیں۔
      _____
      ؂۱ یہ امر ملحوظ رہے کہ منکرین قیامت کو جب قیامت کی ہلچل سے ڈرایا جاتا تو وہ اس کا مذاق اڑانے کے لیے یہ سوال کرتے کہ قیامت آئے گی تو کیا وہ پہاڑوں کو بھی اکھاڑ پھینکے گی؟

      جاوید احمد غامدی جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      دوسرے مقامات میں قرآن نے اِس کی تفصیل کر دی ہے کہ پہاڑ اِس طرح اڑتے پھریں گے، جس طرح بادل اڑتے پھرتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور دس ماہہ گابھن اونٹنیاں آوارہ پھریں گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      محبوب چیزوں کی کس مپرسی: ’عِشَارٌ‘ جمع ہے ’عُشَرَاءٌ‘ کی۔ یہ لفظ اس اونٹنی کے لیے آتا ہے جو دس ماہ کی گابھن یعنی بچہ جننے کے قریب ہو۔
      عظیم چیزوں کی بے ثباتی کے بعد یہ محبوب چیزوں کی بے وقعتی واضح فرمائی ہے کہ اس دن کی ہلچل لوگوں پر ایسی نفسی نفسی کی حالت طاری کر دے گی کہ کسی کی نظروں میں اس کے محبوب سے محبوب مال کی بھی کوئی وقعت باقی نہیں رہے گی۔
      یہ بات قرآن کے اولین مخاطب، اہل عرب کے خاص مذاق طبیعت کو پیش نظر رکھ کر فرمائی گئی ہے۔ ان کے مال میں سب سے زیادہ قدر کی جگہ ان کے اونٹوں کو حاصل تھی۔ خاص طور پر وہ اونٹنیاں ان کو نہایت عزیز و محبوب تھیں جن کے حمل پر دس ماہ گزر چکے ہوں اور بچہ جننے کا وقت اب قریب آ لگا ہو۔ اس طرح کی اونٹنیوں کے مالک ان کی نگہداشت کا قدرتی طور پر خاص اہتمام کرتے۔ ان کی مستقبل کی بہت سی آرزوؤں کا ان پر انحصار ہوتا۔ انہی محبوب اونٹنیوں کو بطور مثال ذکر کر کے دنیا کی محبت میں پھنسے ہوئے غافلوں کو ہول آخرت کی یاد دہانی فرمائی ہے کہ اس کا پہلا ہی مرحہ اتنا شدید ہو گا کہ اس وقت کسی کو اپنی محبوب سے محبوب چیزوں کا بھی کچھ ہوش نہیں رہے گا۔ گابھن اونٹنیاں آوارہ پھریں گی لیکن ان کے مالکوں کو خود اپنی اس طرح پڑی ہو گی کہ وہ کسی اور چیز کی طرف، خواہ وہ کتنی ہی محبوب و مطلوب کیوں نہ ہو، توجہ نہیں کر سکیں گے۔ یہی حقیقت دوسرے مقام

      ’تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ‘ (الحج ۲۲: ۲)
      (جس دن ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی)


      کے الفاظ سے سمجھائی گئی ہے۔ یس یہ فرق ہے کہ یہاں اس دن کے ہول کی حقیقت محبوب مال کی ناقدری سے سمجھائی گئی ہے اور وہاں شفقت مادری کے مردہ ہو جانے سے درآنحالیکہ یہ جذبہ اتنا قوی ہے کہ اس دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی مصیبت بھی اس کو مغلوب نہیں کر سکتی۔

      جاوید احمد غامدی جب دس ماہہ گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’عِشَار‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ ’عشراء‘ کی جمع ہے اور اُس اونٹنی کے لیے آتا ہے جو دس ماہ کے حمل سے ہو۔ یہ وقت اُس کے بچہ جننے کا ہوتا ہے۔ اِس طرح کی اونٹنیاں قدرتی طور پر اُن کے مالکوں کو بہت عزیز ہوتی تھیں اور وہ اُن کی نگہداشت کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ قرآن نے عظیم چیزوں کی بے ثباتی کے بعد یہ محبوب چیزوں کی بے وقعتی کا ذکر کرنے کے لیے اِنھی اونٹنیوں کو مثال میں پیش کرکے فرمایا ہے کہ اُس دن کی افراتفری اور نفسی نفسی کی حالت میں لوگوں کو اپنی عزیز سے عزیز چیزوں کا بھی کچھ ہوش نہ رہے گا۔

    • امین احسن اصلاحی وحشی جانور اکٹھے ہو جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      وحشی جانوروں کا حال: یعنی انسان تو انسان اس دن کے ہول سے وحشی جانوروں پر بھی ایسی نفسی نفسی کی حالت طاری ہو گی کہ ان کو جس جگہ پناہ ملنے کی توقع ہو گی، آپس کی فطری دشمنیاں بھول کر سب اکٹھے ہو جائیں گے۔ جنگل میں آگ لگ جائے یا سیلاب کا پانی پھیل جائے تو جنگلی جانور سراسیمگی کی حالت میں ٹیلے اور ٹیکرے پر ان کو پناہ ملنے کی توقع ہو وہاں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور مشترک مصیبت کا ہول ان پر ایسا طاری ہوتا ہے کہ بکری، شیر اور بھیڑیے پاس پاس کھڑے ہوتے ہیں لیکن کسی کو ہوش نہیں رہتا کہ اس کا حریف یا شکار اس کی بغل میں ہے۔ یہی صورت حال خوفناک ترین شکل میں ظہور قیامت کے وقت پیش آئے گی۔ آگے والی آیت:

      ’وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ‘ (۶)
      (اور جب کہ سمندر ابل پڑیں گے)


      سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت سمندر اپنی حدوں سے آزاد ہو کر زمین پر پھیل جائیں گے۔ یہ ہمہ گیر مصیبت جنگلی جانوروں پر بھی نفسی نفسی کی حالت طاری کر دے گی۔

      جاوید احمد غامدی جب وحشی جانور (اپنی سب دشمنیاں بھول کر) ایک ہی جگہ اکٹھے ہو جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی انسان تو انسان ، اُس دن کا ہول وحشی جانوروں پر بھی یہ حالت طاری کردے گا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...جنگل میں آگ لگ جائے یا سیلاب کا پانی پھیل جائے تو جنگلی جانور سراسیمگی کی حالت میں جس ٹیلے یا ٹیکرے پر اُن کو پناہ ملنے کی توقع ہو، وہاں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور مشترک مصیبت کا ہول اُن پر ایسا طاری ہوتا ہے کہ بکری، شیر اور بھیڑیے پاس پاس کھڑے ہوتے ہیں، لیکن کسی کو ہوش نہیں رہتا کہ اُس کا حریف یا شکار اُس کی بغل میں ہے۔ یہی صورت حال خوف ناک ترین شکل میں ظہور قیامت کے وقت پیش آئے گی۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۲۲۰)

       

    • امین احسن اصلاحی اور سمندر اُبل پڑیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سمندروں کی طغیانی: لفظ ’تَسْجِیْرٌ‘ اصلاً تنور کو ایندھن سے بھر کر بھڑکا دینے کے لیے آتا ہے پھر اسی مفہوم سے وسعت پا کر یہ دریاؤں اور سمندروں کی طغیانی کے لیے بھی آنے لگا۔ دریا جب بے قابو ہو کر اپنے حدود سے باہر نکل پڑیں اور زمین پر بھیل جائیں تو اس حالت کی تعبیر کے لیے یہ معروف لفظ ہے۔ اس معنی کو ادا کرنے کے لیے لفظ ’تَفْجِیْرٌ‘ بھی آیا ہے، چنانچہ بعد والی سورہ میں جو اس کی توام سورہ ہے، یہی بات ’وَاِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ‘ (الانفطار ۸۲: ۳) کے الفاظ سے تعبیر فرمائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ سمندر اپنے اپنے حدود کے اندر بند ہیں لیکن جب قیامت کی ہلچل برپا ہو گی تو یہ ابل کر تمام سطح پر چھا جائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی جب سمندر ابل پڑیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’سُجِّرَتْ‘ آیا ہے۔ اِس کے معنی تنور میں ایندھن بھر کر بھڑکا دینے کے ہیں۔ اِس سے یہ دریاؤں اور سمندروں کے بے قابو ہو کر اپنے حدود سے باہر نکل پڑنے کے لیے استعمال ہوا۔

    • امین احسن اصلاحی جب کہ نفوس کی جوڑیں ملائی جائیں گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ظہور قیامت کے بعد کے احوال: اوپر کی آیات میں وہ احوال بیان ہوئے جو ظہور قیامت کے وقت پیش آئیں گے۔ اب اس آیت اور بعد کی آیات میں وہ باتیں بیان ہو رہی ہیں جن کا تعلق ظہور قیامت کے بعد کے احوال سے ہے۔
      فرمایا کہ جب کہ ’نفوس کی جوڑیں ملائی جائیں گی‘ جوڑیں ملانے سے مقصود لوگوں کی ان کے اعمال و عقائد کے اعتبار سے الگ الگ گروہ بندی ہے۔ یہ اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے جس کی تفصیل سورۂ واقعہ کی آیت ۷:

      ’وَکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً‘
      (اور اس وقت تم تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے۔)

      سے لے کر آیت ۴۴ تک بیان ہوئی ہے۔ وہاں واضح فرمایا ہے کہ اس دنیا میں تو نیک و بد دونوں ایک ہی ساتھ زندگی گزارتے ہیں لیکن یہی حالت ہمیشہ نہیں رہے گی بلکہ ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جب لوگوں کی درجہ بندی ان کے ایمان و اخلاق کی بنیاد پر ہو گی۔ اس دن وہ لوگ فائز المرام اور ابدی بادشاہی کے حق دار ٹھہریں گے جو اس روز عدل کی میزان میں پورے اتریں گے اور وہ لوگ ابدی خسران و ذلت سے دوچار ہوں گے جو اس سے بے پروا ہو کر زندگی گزاریں گے۔ اس کے بعد لوگوں کو تین بڑے گروہوں ۔۔۔ اصحاب الیمین، اصحاب الشمال اور سابقون و مقربون ۔۔۔ میں تقسیم کیا جانا بیان کیا ہے اور ہر گروہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا جو معاملہ ہو گا اس کی تفصیل ہے۔ اسی چیز کی طرف دو لفظوں میں یہاں اشارہ فرما دیا ہے اور مقصود لوگوں کو متنبہ فرمانا ہے کہ یہ دنیا آزمائش و امتحان کے لیے ہے۔ اس میں خیر و شر اور حق و باطل دونوں کو مہلت ملی ہوئی ہے لیکن قیامت کے بعد جو جہان نو پیدا ہو گا اس میں باطل کے پرستار جہنم میں جھونک دیے جائیں گے اور ان لوگوں کو ابدی سرفرازی حاصل ہو گی جو امتحان میں پورے اتریں گے۔

      جاوید احمد غامدی جب روحوں کے جوڑ (اُن کے عمل کے لحاظ سے) بندھیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے قیامت کے دوسرے مرحلے کا ذکر شروع ہوتا ہے، یعنی ظہور قیامت کے بعد جو حالات پیش آئیں گے۔
      یہ وہی بات ہے جو سورۂ واقعہ (۵۶) کی آیت۷ ’وَکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً‘ میں بیان ہوئی ہے، یعنی عقیدہ و عمل کے لحاظ سے لوگ الگ الگ گروہوں میں تقسیم کر دیے جائیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اور زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      معصوم مظلوموں کی داد رسی: یہ اس روز عدل کے عدل کی طرف اشارہ ہے اور اس کے بیان کے لیے بطور مثال زندہ درگور کی ہوئی لڑکی کی داد رسی کا حوالہ ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس دن سب سے پہلے وہ معصوم اپنی مظلومیت کی داد پائیں گے جو بالکل بے گناہ ان لوگوں کے ہاتھوں ظلم کے شکار ہوئے جن کو خدا نے ان کا محافظ بنایا۔ ’مَوْءٗ دَۃٌ‘ زندہ درگور کی ہوئی لڑکی کو کہتے ہیں۔ عرب جاہلیت کے بعض اجڈ قبائل میں سنگ دل باپ اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ بیشتر تو اس سنگ دلی کا سبب فقر کا اندیشہ ہوتا لیکن بعض حالات میں غیرت کی بے اعتدالی بھی اس کا باعث بن جاتی۔ ان مظلوم بچیوں کو زندہ درگور کرنے والے چونکہ ان کے باپ ہی ہوتے، جن کو ان کے اوپر کلی اختیار حاصل ہوتا، اس وجہ سے ان کی داد فریاد کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔
      اخروی عدالت کا مزاج: قرآن نے یہاں ان بے زبان مظلوموں کی دادرسی کا ذکر کر کے اخروی عدالت کا مزاج واضح فرمایا ہے کہ اس میں سب سے پہلے ان کی داد رسی ہو گی جو اس دنیا میں سب سے زیادہ بے بس اور کمزور تھے اور جو اپنے اوپر گزرے ہوئے ظلم کی کسی کے آگے فریاد بھی نہ کر سکے۔ ان کو سب سے پہلے پکارا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ انھیں کس گناہ پر مارا گیا؟ ان سنگ دل باپوں کو یہ نہایت ہی سخت قسم کی تنبیہ ہے کہ اگر ان کی سنگ دلی کے خلاف یہ بے زبان و بے گناہ بچیاں فریاد نہ کر سکیں تو اس سے وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ خدا کے ہاں بھی ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہو گا۔ اس دن اللہ تعالیٰ خود ان کے خون کا مدعی بنے گا۔ وہ ان مظلوموں سے پوچھے گا کہ تمہیں کس جرم میں مارا گیا؟ اس سوال کا مقصد ظاہر ہے کہ یہی ہو گا کہ ان کے قتل ناحق کا مقدمہ جو دنیا کی کسی عدالت میں نہ جا سکا اس کو رب العزت خود اپنی عدالت میں لائے اور اس کا فیصلہ فرمائے۔

      جاوید احمد غامدی جب اُس سے جو زندہ گاڑ دی گئی، پوچھا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      معصوم مظلوموں کی داد رسی: یہ اس روز عدل کے عدل کی طرف اشارہ ہے اور اس کے بیان کے لیے بطور مثال زندہ درگور کی ہوئی لڑکی کی داد رسی کا حوالہ ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس دن سب سے پہلے وہ معصوم اپنی مظلومیت کی داد پائیں گے جو بالکل بے گناہ ان لوگوں کے ہاتھوں ظلم کے شکار ہوئے جن کو خدا نے ان کا محافظ بنایا۔ ’مَوْءٗ دَۃٌ‘ زندہ درگور کی ہوئی لڑکی کو کہتے ہیں۔ عرب جاہلیت کے بعض اجڈ قبائل میں سنگ دل باپ اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ بیشتر تو اس سنگ دلی کا سبب فقر کا اندیشہ ہوتا لیکن بعض حالات میں غیرت کی بے اعتدالی بھی اس کا باعث بن جاتی۔ ان مظلوم بچیوں کو زندہ درگور کرنے والے چونکہ ان کے باپ ہی ہوتے، جن کو ان کے اوپر کلی اختیار حاصل ہوتا، اس وجہ سے ان کی داد فریاد کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔
      اخروی عدالت کا مزاج: قرآن نے یہاں ان بے زبان مظلوموں کی دادرسی کا ذکر کر کے اخروی عدالت کا مزاج واضح فرمایا ہے کہ اس میں سب سے پہلے ان کی داد رسی ہو گی جو اس دنیا میں سب سے زیادہ بے بس اور کمزور تھے اور جو اپنے اوپر گزرے ہوئے ظلم کی کسی کے آگے فریاد بھی نہ کر سکے۔ ان کو سب سے پہلے پکارا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ انھیں کس گناہ پر مارا گیا؟ ان سنگ دل باپوں کو یہ نہایت ہی سخت قسم کی تنبیہ ہے کہ اگر ان کی سنگ دلی کے خلاف یہ بے زبان و بے گناہ بچیاں فریاد نہ کر سکیں تو اس سے وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ خدا کے ہاں بھی ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہو گا۔ اس دن اللہ تعالیٰ خود ان کے خون کا مدعی بنے گا۔ وہ ان مظلوموں سے پوچھے گا کہ تمہیں کس جرم میں مارا گیا؟ اس سوال کا مقصد ظاہر ہے کہ یہی ہو گا کہ ان کے قتل ناحق کا مقدمہ جو دنیا کی کسی عدالت میں نہ جا سکا اس کو رب العزت خود اپنی عدالت میں لائے اور اس کا فیصلہ فرمائے۔

      جاوید احمد غامدی کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      عرب جاہلی میں بعض اجڈاور سنگ دل باپ کبھی فقر کے اندیشے سے اور کبھی اِس غیرت میں کہ کوئی شخص اُن کا داماد بنے گا، اپنی بیٹیوں کو زندہ قبروں میں دفن کر دیتے تھے۔ یہ اِسی جاہلیت کی طرف اشارہ ہے۔ اِس سے مقصود اِس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے دادرسی کے مستحق وہ معصوم ہوں گے جو اُن لوگوں کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہوئے جنھیں خدا نے اُن کا محافظ بنایا تھا۔

    • امین احسن اصلاحی جب کہ اعمال نامے کھولے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ہر ایک کا کچا چٹھا اس کے سامنے: ’صُحُفٌ‘ سے مراد لوگوں کے اعمال نامے ہیں اور ان کے کھولے جانے سے مقصود یہ ہے کہ ہر ایک کا سارا کچا چٹھا اس کے سامنے آ جائے گا۔ آگے فرمایا ہے:

      ’عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ‘
      (یعنی ہر جان یہ جان لے گی کہ آج کے دن کے لیے اس نے کیا کیا)۔

       

      جاوید احمد غامدی جب دفتر کھولے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اور اِس کے نتیجے میں لوگوں کے اعمال ناموں میں رقم اُن کا سارا کچا چٹھا اُن کے سامنے آ جائے گا۔

    • امین احسن اصلاحی اور آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آسمان سرخ ہو جائے گا: ’کَشْطٌ‘ کے اصل معنی کسی چیز کے اوپر سے اس چیز کے اتار لینے کے ہیں جو اس کو ڈھانکے ہوئے ہو۔ یہیں سے یہ ذبیحہ کی کھال اتار لینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اونٹ کی کھال کھینچ لینے کے لیے یہ عربی میں معروف لفظ ہے اور یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ ذبیحہ کی کھال اتار لینے کے بعد اس کا گوشت سرخ سرخ نظر آنے لگتا ہے۔ گویا یہ آسمان کے سرخ ہو جانے کی تعبیر ہے۔ سورۂ رحمٰن میں ’فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ‘ (۳۷) کے الفاظ آئے ہیں اور یہاں آگے کی آیت میں جہنم کے بھڑکائے جانے کا ذکر ہے جو نہایت واضح قرینہ اس بات کا ہے کہ آسمان کی یہ سرخی جہنم کے بھڑکائے جانے کے سبب سے ہو گی۔

      جاوید احمد غامدی جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’کُشِطَتْ‘ استعمال ہوا ہے۔ اونٹ کی کھال کھینچ لینے کے لیے یہ عربی زبان کا ایک معروف لفظ ہے۔ کھال اتار لینے کے بعد ذبیحہ کا گوشت سرخ سرخ نظر آتا ہے۔ قرآن نے یہ اِسی سے آسمان کے سرخ ہو جانے کو تعبیر کیا ہے۔ آگے کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی یہ سرخی غالباً جہنم کے بھڑکتے شعلوں کے سبب سے ہو گی۔

    • امین احسن اصلاحی جب کہ دوزخ بھڑکا دی جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’تَسْعِیْرٌ‘ کے معنی بھڑکانے اور دہکانے کے ہیں۔ جہنم تیار تو پہلے سے ہو گی لیکن جب مجرموں کو اس میں ڈالنے کا وقت آئے گا تو وہ ان کو جلانے کے لیے خاص طور پر بھڑکا دی جائے گی پھر جب مجرم اس میں ڈالے جائیں گے تو وہ اپنا مطلوب ایندھن پا کر مزید قوت سے بھڑکے گی۔

      جاوید احمد غامدی جب دوزخ دہکائی جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جب مجرموں کو اُس میں ڈالنے کا وقت قریب ہو گا تو اُن کو جلانے کے لیے وہ خاص طور پر بھڑکا دی جائے گی۔

    • امین احسن اصلاحی اور جنت قریب لائی جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      متقیوں کے لیے جنت کی پیش کش: ’اِزْلَافٌ‘ کے معنی قریب لانے کے ہیں۔ یعنی وہ ان متقیوں کے قریب لائی جائے گی جو اس کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ’جنت‘ بھی پہلے سے تیار ہو گی، البتہ اس کی نقاب کشائی اس وقت ہو گی جب لوگوں کی درجہ بندی ہو جائے گی۔ سورۂ قٓ میں یہ وضاحت بھی فرما دی گئی ہے کہ اس قریب لانے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ کہیں دور سے قریب لائی جائے گی وہ دور نہیں ہو گی بلکہ پاس ہی ہو گی لیکن وہ قریب ہونے کے باوصف اور قریب لائی جائے گی تاکہ اہل جنت کی تشریف و تکریم کے لیے ایک پیش کش کے طور پر ان کے سامنے پیش کی جائے۔ فرمایا ہے:

      ’وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْْرَ بَعِیْدٍ‘ (قٓ ۵۰: ۳۱) (اور جنت خدا ترسوں کے لیے قریب لائی جائے گی درآنحالیکہ وہ کچھ دور بھی نہ ہو گی)۔

      جاوید احمد غامدی جب بہشت قریب لے آئی جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اہل جنت کی تشریف کے لیے وہ اُن کے سامنے پیش کر دی جائے گی۔

    • امین احسن اصلاحی تب ہر جان کو پتا چلے گا کہ وہ کیا لے کر آئی ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تمام شرطوں کا جواب: اوپر جتنے ’اِذَا‘ گزرے ہیں یہ ان سب کا اکٹھے جواب ہے۔ یعنی جب یہ یہ احوال پیش آئیں گے تب ہر جان کو پتہ چلے گا کہ وہ اپنے رب کے آگے پیش کرنے کے لیے کیا لے کر آئی ہے۔ اس جاننے سے مقصود ظاہر ہے کہ اس کے انجام کو جاننا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آج کے حالات میں اس کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ مذاق اڑا لیں لیکن یاد رکھیں کہ یہ دن آنے والا ہے اور ایک عظیم ہلچل کے ساتھ آنے والا ہے اور اس دن ہر ایک دیکھ لے گا کہ اس کے لیے اس نے کیا تیاری کی اور کیا چیز نظر انداز کی درآنحالیکہ وہ کرنے کی تھی۔ آگے والی سورہ میں، جو اس کی توام سورہ ہے، یہی مضمون زیادہ وضاحت سے بیان ہوا ہے۔ فرمایا ہے:

      ’عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ‘ (الانفطار ۸۲: ۵)
      (تب ہر ایک جان لے گا اس نے کیا کیا اور کیا چھوڑا)۔

       

      جاوید احمد غامدی اُس وقت (لوگو، تم میں سے) ہر شخص یہ جان لے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن کی تکذیب کے لیے ایک اشغلہ: یہ انذار کا مذاق اڑانے والوں کے اس وہم کی تردید ہے جو انھوں نے اللہ کے رسول اور اس کی کتاب سے متعلق ایجاد کیا اور جس کو دلیل بنا کر انھوں نے اپنے عوام کو ورغلانے کی کوشش کی کہ وہ قرآن کو کوئی خدائی وحی سمجھ کر اس سے مرعوب یا متاثر نہ ہوں۔ انھوں نے جب دیکھا کہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے متاثر ہو رہے ہیں اور عذاب و قیامت کا ڈراوا ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکل سکتا ہے کہ وہ اس دعوت کے حامی بن جائیں تو انھوں نے ان کو اس سے بدگمان کرنے کے لیے یہ اُشغلہ ایجاد کیا کہ نہ یہ قرآن خدائی وحی ہے اور نہ اس کے پیش کرنے والے اللہ کے رسول ہیں بلکہ یہ ہمارے کاہنوں کی طرح کے ایک کاہن ہیں جس طرح کاہنوں کا تعلق جنات سے ہوتا ہے جو ان پر غیب کی باتیں القاء کرتے ہیں اسی طرح ان کا رابطہ بھی (العیاذ باللہ) کسی شیطان سے ہے جو ان پر اپنی باتیں القاء کرتا ہے اور وہ اس کو خدائی وحی کے نام سے پیش کرتے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں جن کو اس نے ہمارے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ ہم ان کی اطاعت کریں اور اگر ہم نے ان کی بات نہ مانی تو اس دنیا میں بھی ہم پر عذاب آ جائے گا اور اس کے بعد آخرت میں بھی ہمارے لیے جہنم تیار ہے۔
      قرآن نے ان کے اس پراپیگنڈے کی جگہ جگہ تردید کی ہے۔ خاص طور پر سورۂ شعراء اور سورۂ نجم میں اس کی تردید پوری وضاحت سے ہوئی ہے اور ہم نے بھی اس کے تمام پہلوؤں پر بحث کی ہے۔ یہاں بھی ان کے اسی پراپیگنڈے کی تردید ایک نئے پہلو سے ہے جس کو اچھی طرح ذہن نشین کرنے کے لیے عربوں میں مروّج کہانت کی اصل و بنیاد کو جان لینا ضروری ہے۔
      کہانت کی بنیاد دو چیزوں پر تھی: اس کہانت کی بنیاد دو چیزوں پر تھی:

      ایک تو ان کے مزعومہ علم نجوم پر۔ وہ ستاروں کے مصرف بالذات ہونے کے معتقد اور ان میں سے بعض کے سعد اور بعض کے نحس ہونے کے مدعی تھے۔ اسی طرح ان کے طلوع و غروب، ان کے گرنے اور چڑھنے اور ان کے چلنے اور چھپنے کے متعلق مختلف قسم کے اوہام انھوں نے ایجاد کر رکھے تھے جن کی بنیاد پر وہ اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے مختلف قسم کی مبارک یا منحوس پیشین گوئیاں کرتے اور اپنی غیب دانی کی دھونس جماتے۔ مثلاً بسا اوقات یہ افواہ پھیلا دیتے کہ فلاں ستارے کی الٹی گردش سے ایک بڑا خطرہ ظہور میں آنے والا ہے اس سے بچنے کی تدابیر معلوم کرنے کے لیے لوگ ان سے رجوع کریں۔ پھر جو بدقسمت ان کے دام میں آ جاتے ان کو وہ اچھی طرح بے وقوف بناتے۔
      دوسری یہ کہ وہ جنات سے رابطہ رکھنے اور ان کے ذریعہ سے غیب کی خبریں معلوم کرنے کے مدعی تھے۔ سورۂ شعراء کی تفسیر میں وضاحت ہو چکی ہے کہ جب کوئی شخص ان سے کسی معاملے میں غیبی رہنمائی کا طالب ہوتا تو وہ اس مقصد کے لیے مراقبہ کی نمائش کرتے اور پھر ایک مقفّٰی اور مسجّع کلام کی صورت میں جو اکثر بے معنی یا ذومعانی ہوتا، اپنی مزعومہ وحی پیش کر کے اس کے کچھ الٹے سیدھے معنی بیان کرتے اور دعویٰ کرتے کہ یہ وحی ان پر عالم غیب کے اسرار سے واقف ایک جن نے کی ہے۔
      کہانت کے ستونوں پر قرآن کی ضرب: قرآن نے جگہ جگہ کہانت کے ان دونوں ہی ستونوں پر ضرب لگائی ہے۔ شمس و قمر اور ستاروں کے طلوع و غروب کو اس نے اس طرح پیش کیا ہے جس سے یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے کہ ان میں سے نہ کوئی مصرف بالذات ہے اور نہ کوئی سعد یا نحس بلکہ ان کا طلوع و غروب خالق کائنات کے اختیار میں ہے۔ وہی جب چاہتا ہے ان کو مطلع پر نمودار کرتا ہے اور جب چاہتا ہے ان کو نگاہوں سے اوجھل کر دیتا ہے۔ وہ خود اپنے وجود سے شہادت دیتے ہیں کہ وہ آسمان و زمین کے رب کے ہاتھ میں مسخر ہیں۔ اسی کے حکم سے آتے اور اسی کے حکم سے جاتے ہیں۔ع

      لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
      اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

      سورۂ انعام آیات ۷۵-۸۴ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کا جو تدریجی ارتقاء نمایاں فرمایا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ وہ اس باب میں قرآن کے طریق استدلال اور اس کے منطقی نتیجہ کو واضح کر دینے کے لیے کافی ہے۔
      اسی طرح کہانت کے دوسرے ستون پر ضرب لگانے کے لیے قرآن نے شہاب ثاقب کا حوالہ دیا اور واضح فرمایا ہے کہ کسی جن کے لیے ملاء اعلیٰ تک رسائی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اگر غیب کی خبریں معلوم کرنے کے لیے وہ ٹوہ لگاتے ہیں تو ان کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ستاروں کے اندر یہ انتظام کر رکھا ہے کہ ان کی برجیوں سے ان کے اوپر شہاب ثاقب کے راکٹ پھینکے جاتے ہیں۔ یہ مضمون یوں تو جگہ جگہ بیان ہوا ہے لیکن زیربحث قسموں کو سمجھنے کے لیے سورۂ نجم اور سورۂ جن کی متعلق آیات پر ایک نظر ڈال لینا کافی ہو گا۔
      اس تمہید کی روشنی میں اب آیت کے الفاظ اور ان کے معانی پر غور کیجیے۔
      آیات قسم کے الفاظ کی تحقیق: ’فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ‘۔ یہ بحث اس کتاب میں جگہ جگہ گزر چکی ہے کہ قرآن مجید میں اس طرح کی قسمیں جو آئی ہیں وہ کسی دعوے پر شہادت کے مقصد سے آئی ہیں اور یہ بات بھی واضح کی جا چکی ہے کہ قسم سے پہلے اگر اس طرح ’لَا‘ آیا ہے جس طرح یہاں ہے تو وہ قَسم کی نفی کے لیے نہیں بلکہ مخاطب کے اس زعم کی نفی کے لیے آیا ہے جس کی تردید اس قسم سے مقصود ہے۔
      ’خُنَّسٌ‘ جمع ہے ’خَانِسٌ‘ کی۔ اس کے معنی آگے بڑھ کر پیچھے پلٹ جانے والے، ظاہر ہو کر غائب ہو جانے والے اور نمایاں ہو کر روپوش ہو جانے والے کے ہیں۔ یہ لفظ ستاروں کی صفت کے طور پر آتا ہے اور ان کے لیے اس قدر معروف ہے کہ بسا اوقات موصوف کے ذکر کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مجرد صفت ہی موصوف کو ظاہر کر دینے کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔ بعض اہل لغت نے اس کو بعض خاص ستاروں کے ساتھ مخصوص کیا ہے لیکن یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ یہاں ستاروں کی جو صفات مذکور ہوئی ہیں وہ تمام ستاروں پر یکساں منطبق ہوتی ہیں خواہ وہ ثوابت ہوں یا سیارے، زحل ہو یا عطارد اور ان کے قبیل کے دوسرے ستارے۔

       

      جاوید احمد غامدی (یہ قرآن کی دعوت ہے، اِسے شیطانوں سے کیا تعلق)؟ اِس لیے، نہیں، (یہ کسی شیطان کا الہام نہیں ہے)۔ میں اُن تاروں کو گواہی میں پیش کرتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      قرآن کے انذار سے لوگوں کی توجہ ہٹانے اور اُن کو بدگمان کر دینے کے لیے قریش کے لیڈروں نے ایک اشغلا یہ بھی ایجاد کیا تھا کہ جس طرح کاہن شیطانوں کے القا سے غیب کی باتیں بتاتے ہیں، یہ قرآن بھی ، معاذ اللہ، اِسی طرح کی کوئی چیز ہے جسے وحی الٰہی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ آگے تاروں کی گواہی سے قرآن نے اُن کے اِسی زعم کی تردید فرمائی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی چلنے والے اور چھپ جانے والے ستاروں کی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن کی تکذیب کے لیے ایک اشغلہ: یہ انذار کا مذاق اڑانے والوں کے اس وہم کی تردید ہے جو انھوں نے اللہ کے رسول اور اس کی کتاب سے متعلق ایجاد کیا اور جس کو دلیل بنا کر انھوں نے اپنے عوام کو ورغلانے کی کوشش کی کہ وہ قرآن کو کوئی خدائی وحی سمجھ کر اس سے مرعوب یا متاثر نہ ہوں۔ انھوں نے جب دیکھا کہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے متاثر ہو رہے ہیں اور عذاب و قیامت کا ڈراوا ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکل سکتا ہے کہ وہ اس دعوت کے حامی بن جائیں تو انھوں نے ان کو اس سے بدگمان کرنے کے لیے یہ اُشغلہ ایجاد کیا کہ نہ یہ قرآن خدائی وحی ہے اور نہ اس کے پیش کرنے والے اللہ کے رسول ہیں بلکہ یہ ہمارے کاہنوں کی طرح کے ایک کاہن ہیں جس طرح کاہنوں کا تعلق جنات سے ہوتا ہے جو ان پر غیب کی باتیں القاء کرتے ہیں اسی طرح ان کا رابطہ بھی (العیاذ باللہ) کسی شیطان سے ہے جو ان پر اپنی باتیں القاء کرتا ہے اور وہ اس کو خدائی وحی کے نام سے پیش کرتے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں جن کو اس نے ہمارے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ ہم ان کی اطاعت کریں اور اگر ہم نے ان کی بات نہ مانی تو اس دنیا میں بھی ہم پر عذاب آ جائے گا اور اس کے بعد آخرت میں بھی ہمارے لیے جہنم تیار ہے۔
      قرآن نے ان کے اس پراپیگنڈے کی جگہ جگہ تردید کی ہے۔ خاص طور پر سورۂ شعراء اور سورۂ نجم میں اس کی تردید پوری وضاحت سے ہوئی ہے اور ہم نے بھی اس کے تمام پہلوؤں پر بحث کی ہے۔ یہاں بھی ان کے اسی پراپیگنڈے کی تردید ایک نئے پہلو سے ہے جس کو اچھی طرح ذہن نشین کرنے کے لیے عربوں میں مروّج کہانت کی اصل و بنیاد کو جان لینا ضروری ہے۔
      کہانت کی بنیاد دو چیزوں پر تھی: اس کہانت کی بنیاد دو چیزوں پر تھی:

      ایک تو ان کے مزعومہ علم نجوم پر۔ وہ ستاروں کے مصرف بالذات ہونے کے معتقد اور ان میں سے بعض کے سعد اور بعض کے نحس ہونے کے مدعی تھے۔ اسی طرح ان کے طلوع و غروب، ان کے گرنے اور چڑھنے اور ان کے چلنے اور چھپنے کے متعلق مختلف قسم کے اوہام انھوں نے ایجاد کر رکھے تھے جن کی بنیاد پر وہ اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے مختلف قسم کی مبارک یا منحوس پیشین گوئیاں کرتے اور اپنی غیب دانی کی دھونس جماتے۔ مثلاً بسا اوقات یہ افواہ پھیلا دیتے کہ فلاں ستارے کی الٹی گردش سے ایک بڑا خطرہ ظہور میں آنے والا ہے اس سے بچنے کی تدابیر معلوم کرنے کے لیے لوگ ان سے رجوع کریں۔ پھر جو بدقسمت ان کے دام میں آ جاتے ان کو وہ اچھی طرح بے وقوف بناتے۔
      دوسری یہ کہ وہ جنات سے رابطہ رکھنے اور ان کے ذریعہ سے غیب کی خبریں معلوم کرنے کے مدعی تھے۔ سورۂ شعراء کی تفسیر میں وضاحت ہو چکی ہے کہ جب کوئی شخص ان سے کسی معاملے میں غیبی رہنمائی کا طالب ہوتا تو وہ اس مقصد کے لیے مراقبہ کی نمائش کرتے اور پھر ایک مقفّٰی اور مسجّع کلام کی صورت میں جو اکثر بے معنی یا ذومعانی ہوتا، اپنی مزعومہ وحی پیش کر کے اس کے کچھ الٹے سیدھے معنی بیان کرتے اور دعویٰ کرتے کہ یہ وحی ان پر عالم غیب کے اسرار سے واقف ایک جن نے کی ہے۔
      کہانت کے ستونوں پر قرآن کی ضرب: قرآن نے جگہ جگہ کہانت کے ان دونوں ہی ستونوں پر ضرب لگائی ہے۔ شمس و قمر اور ستاروں کے طلوع و غروب کو اس نے اس طرح پیش کیا ہے جس سے یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے کہ ان میں سے نہ کوئی مصرف بالذات ہے اور نہ کوئی سعد یا نحس بلکہ ان کا طلوع و غروب خالق کائنات کے اختیار میں ہے۔ وہی جب چاہتا ہے ان کو مطلع پر نمودار کرتا ہے اور جب چاہتا ہے ان کو نگاہوں سے اوجھل کر دیتا ہے۔ وہ خود اپنے وجود سے شہادت دیتے ہیں کہ وہ آسمان و زمین کے رب کے ہاتھ میں مسخر ہیں۔ اسی کے حکم سے آتے اور اسی کے حکم سے جاتے ہیں۔ع

      لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
      اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

      سورۂ انعام آیات ۷۵-۸۴ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کا جو تدریجی ارتقاء نمایاں فرمایا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ وہ اس باب میں قرآن کے طریق استدلال اور اس کے منطقی نتیجہ کو واضح کر دینے کے لیے کافی ہے۔
      اسی طرح کہانت کے دوسرے ستون پر ضرب لگانے کے لیے قرآن نے شہاب ثاقب کا حوالہ دیا اور واضح فرمایا ہے کہ کسی جن کے لیے ملاء اعلیٰ تک رسائی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اگر غیب کی خبریں معلوم کرنے کے لیے وہ ٹوہ لگاتے ہیں تو ان کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ستاروں کے اندر یہ انتظام کر رکھا ہے کہ ان کی برجیوں سے ان کے اوپر شہاب ثاقب کے راکٹ پھینکے جاتے ہیں۔ یہ مضمون یوں تو جگہ جگہ بیان ہوا ہے لیکن زیربحث قسموں کو سمجھنے کے لیے سورۂ نجم اور سورۂ جن کی متعلق آیات پر ایک نظر ڈال لینا کافی ہو گا۔
      اس تمہید کی روشنی میں اب آیت کے الفاظ اور ان کے معانی پر غور کیجیے۔
      آیات قسم کے الفاظ کی تحقیق: ’الْجَوَارِ الْکُنَّسِ‘۔ یہ بحث اس کتاب میں جگہ جگہ گزر چکی ہے کہ قرآن مجید میں اس طرح کی قسمیں جو آئی ہیں وہ کسی دعوے پر شہادت کے مقصد سے آئی ہیں۔
      ’اَلْجَوَارِ الْکُنَّسِ‘۔ یہ انہی ستاروں کی مزید صفات کا بیان ہے اور ان کا بغیر حرف عطف کے آنا عربیت کے اس معروف قاعدے سے، جس کی وضاحت اس کے محل میں گزر چکی ہے، اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے موصوف الگ الگ نہیں ہیں۔
      ’جَوَارِیْ‘ کے معنی چلنے والے کے ہیں اور ’کُنَّسٌ‘ جمع ہے ’کَانِسٌ‘ کی۔ ’کنس الظبی‘ کے معنی ہوں گے ہرن اپنے مامن میں چھپ گیا۔ ’کنست النجوم‘ کے معنی ہوں گے کہ ستارے اپنے مدار میں چلے اور چل کر اپنے ٹھکانوں میں روپوش ہو گئے۔ صاحب اقرب الموارد نے وضاحت کی ہے کہ یہ صفت تمام ستاروں کی مشترک صفت ہے۔
      ستاروں کی قسم کہانت کے ابطال کے پہلو سے: ستاروں کی یہ قسم یہاں کہانت کے ابطال کے لیے کھائی گئی ہے۔ اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ کاہنوں کے مزعومہ علم غیب کی بنیاد دو چیزوں پر تھی۔ ایک ان ستاروں کے مؤثر بالذات ہونے کے تصور پر، دوسرے اس وہم باطل پر کہ آسمانوں کے اندر ایسے ٹھکانے (مقاعد للسمع) ہیں جن میں بیٹھ کر جنات غیب کی باتیں سنتے اور پھر ان کو پہنچاتے ہیں۔ ستاروں کی مذکورہ صفات کا حوالہ دے کر قرآن نے ان کے ان دونوں باطل تصورات کی نفی کر دی۔ طلوع کے بعد ان کے غروب اور آنے کے بعد ان کے جانے اور اس طلوع و غروب اور ایاب و ذہاب میں اوقات کی ایسی پابندی کہ منٹ اور سیکنڈ کا بھی فرق نہ پیدا ہونے پائے اس امر کی نہایت واضح شہادت ہے کہ وہ اس کائنات کے نظام میں مؤثر بالذات عناصر کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ ایک بالاتر حکیم و قدیر کے ہاتھوں میں مسخر ہیں۔ اس وجہ سے اصل مولیٰ و مرجع اور نافع و ضار وہ ہے نہ کہ یہ محکوم و مقہور کواکب و نجوم۔
      دوسرے وہم کے ابطال کے لیے قرآن نے اس کائنات کے ایک راز کو آشکارا فرمایا ہے کہ ان ستاروں کے اندر شیاطین کے استراق سمع اور تجسس غیب کے لیے ٹھکانے نہیں بنے ہوئے ہیں، جیسا کہ نادانوں نے گمان کر رکھا ہے، بلکہ اس کے برعکس ان کے اندر ایسی برجیاں اور دیدبان بنے ہوئے ہیں جہاں سے ان شیاطین پر مار پڑتی ہے جو ملاء اعلیٰ کی باتوں کی ٹوہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
      ستاروں کی یہ صفتیں یہاں قسم کے اسلوب میں بیان ہوئی ہیں اس وجہ سے بتقاضائے بلاغت ان میں غایت درجہ ایجاز ہے۔ تاہم الفاظ کے اندر ایسے اشارے یہاں بھی موجود ہیں جو غور کرنے والوں کی رہنمائی کے لیے کافی ہیں، مثلاً ’خُنَّس‘ کی صفت واضح طور پر ان کے افول و غروب کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ اس صفت کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ نادانوں نے صرف ان کے طلوع کو اہمیت دی اور ان کو معبود بنا بیٹھے حالانکہ ان کی پسپائی اور ان کے ڈوبنے کو بھی دیکھنا تھا جو ان کے محکوم و مسخر ہونے کی نہایت واضح دلیل ہے۔
      اسی طرح ’اَلْجَوَارِ الْکُنَّسِ‘۔ کے اندر ایک ہلکا سا اشارہ اس نقل و حرکت کی طرف بھی ہے جو یہ ستارے شیاطین کے تعاقب میں کرتے ہیں۔ جب وہ استراق سمع کی کوشش کرنے نکلتے ہیں تو اس وقت ستاروں کا منظر دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ ایک برق خاطف تیر کی طرح نکلی اور اپنے ہدف پر پہنچ کر دفعۃً پھر اپنے ترکش میں چھپ گئی۔

       

      جاوید احمد غامدی جو پلٹتے، چلتے، (شیطانوں پر آگ برساتے، پھر) چھپ جاتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’الْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْکُنَّسِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔عربی زبان میں یہ تاروں کی صفات کے طور پر ایسے معروف ہیں کہ بالعموم موصوف کے بغیر ہی آ جاتے ہیں۔ یہاں یہ اُس وقت کی تصویر کے لیے آئے ہیں ، جب تاروں کے دیدبانوں سے شہابوں کے تیر برق خاطف کی طرح نکلتے اور اپنے ہدف کو نشانہ بنا کر ترکش میں چھپ جاتے ہیں۔ ملاء اعلیٰ کے راستوں پر جنوں کی در اندازی روکنے کے لیے یہ اہتمام عام حالات میں بھی ہوتا ہے، لیکن سورۂ جن میں قرآن نے واضح فرمایا ہے کہ اُس کے زمانۂ نزول میں اِس کی نوعیت ایسی غیر معمولی تھی کہ جنوں نے اُسے دیکھا تو اُن کو خیال ہوا کہ دنیا والوں کے ساتھ یقیناً کوئی اہم معاملہ ہونے والا ہے۔ قرآن نے یہاں اِسی اہتمام کو شہادت میں پیش کرکے فرمایا ہے کہ وہ جہاں سے نازل ہو رہا ہے، وہاں کسی جن اور کسی شیطان کے لیے رسائی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اِس لیے ہوش کے ناخن لو، خدا کی یہ کتاب یقیناًوحی الٰہی ہے۔ اِسے ہرگز کسی شیطان کا القا قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    • امین احسن اصلاحی اور رات کی جب وہ جانے لگتی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ دوسری قسم ہے جو اسی دعوے پر ایک دوسرے پہلو سے شہادت ہے۔
      ’عَسْعَسَ‘ کے معنی اہل لغت نے تاریک ہو جانے کے بھی لکھے ہیں اور پیچھے ہٹ جانے اور گزر جانے کے بھی۔ اگرچہ آیت کی تاویل دونوں معنوں کی روشنی میں ہو سکتی ہے لیکن میں دوسرے معنی کو ترجیح دیتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعینہٖ یہی قسم، بالکل اسی سیاق و سباق اور معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ، سورۂ مدثر کی آیات ۳۳-۳۴ میں بھی آئی ہے۔ وہاں ’عَسْعَسَ‘ کی جگہ لفظ ’اَدْبَرَ‘ آیا ہے۔ فرمایا ہے:

      ’وَاللَّیْْلِ إِذْ أَدْبَرَ ۵ وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ‘
      (شاہد ہے رات جب کہ وہ پیچھے ہٹ جاتی ہے اور شاہد ہے صبح جب کہ وہ بے نقاب ہو جاتی ہے)

      وہاں بھی اس قسم کے بعد قرآن مجید کے انذار قیامت کی حقانیت ثابت کی گئی ہے اور یہاں بھی، جیسا کہ آگے وضاحت آ رہی ہے، اسی دعوے کی تصدیق فرمائی گئی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور رات کو جب وہ پیچھے ہٹتی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’عَسْعَسَ‘ استعمال ہوا ہے۔ اِس کے معنی تاریک ہو جانے کے بھی ہیں اور پیچھے ہٹ جانے کے بھی۔ یہاں یہی دوسرے معنی قابل ترجیح ہیں، اِس لیے کہ یہ ’تَنَفَّسَ‘ کے مقابل میں ہے۔ پھر سورۂ مدثر (۷۴) کی آیات ۳۲۔۳۴ میں دیکھیے تو بالکل اِسی جگہ لفظ ’اَدْبَرَ‘ آیا ہے جس میں کسی دوسرے معنی کے لیے گنجایش نہیں ہو سکتی۔

    • امین احسن اصلاحی اور صبح کی جب وہ سانس لیتی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ دوسری قسم ہے جو اسی دعوے پر ایک دوسرے پہلو سے شہادت ہے۔
      ’وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ‘ میں لفظ ’تَنَفَّسَ‘ سے مقصود تو صبح کا نمودار ہونا ہی ہے لیکن اس طریقۂ تعبیر میں ایک خاص بلاغت ہے جو اصحاب ذوق سے مخفی نہیں ہے۔ یہ لفظ گویا یہ تاثر دیتا ہے کہ صبح رات کے بوجھ کے نیچے اس طرح دبی ہوتی ہے کہ اس کا دم گھٹ رہا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اوپر سے اس بوجھل لحاف کو سرکاتا ہے اور اس کو سانس لینے اور سر اٹھانے کا موقع نصیب ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور صبح کو جب وہ (اُس کے بوجھ سے نکل کر) سانس لیتی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ‘۔ اِس تعبیر کی بلاغت نگاہ میں رہے۔فرمایا ہے کہ رات کے بوجھ تلے صبح اِس طرح دبی ہوتی ہے کہ گویا اُس کا دم گھٹ رہا ہے، یہاں تک کہ یہ بوجھ ہٹادیا جاتا ہے اور وہ سانس لینے لگتی ہے۔ مدعا یہ ہے کہ تم ابھی تک کاہنوں کے خرافات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہو۔ دیکھنے کی کوشش کرو تو دیکھ سکتے ہو کہ تمھارے ماحول میں یہ قرآن صبح درخشاں کی طرح طلوع ہو چکا ہے۔ صبح طلوع ہوتی ہے تو دیدۂ بینا رکھنے والا کوئی شخص اُسے رات نہیں کہہ سکتا۔ یہ قرآن بھی تمھارے ماحول میں پھیلی ہوئی علم و عمل کی ظلمتوں میں ایسا ہی روشن، الگ اور ممتاز ہے۔ عقل کے اندھے ہیں جو اِسے کاہنوں کا کلام سمجھتے ہیں۔ یہ تو ایک رسول کریم کا لایا ہوا کلام ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کہ یہ ایک باعزت رسول کا لایا ہوا کلام ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اصل دعویٰ: یہ مذکورہ بالا دونوں قسموں کا مقسم علیہ یا بالفاظ دیگر وہ اصل دعویٰ ہے جس کو ثابت کرنے کے لیے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں۔ فرمایا کہ بے شک یہ قرآن ایک معزز و مکرم فرستادۂ الٰہی کا لایا ہوا کلام ہے۔ ’رسول‘ سے یہاں مراد حضرت جبریل ہیں۔ آگے جو صفات بیان ہوئی ہیں اور جن کی وضاحت آ رہی ہے ان سے معین ہو جائے گا کہ ان صفات کے موصوف حضرت جبریل علیہ السلام ہی ہو سکتے ہیں۔
      یہی بات آگے آیت ۲۵ میں منفی پہلو سے بھی فرما دی گئی ہے جس سے لفظ ’کریم‘ کا اصل موقع و محل واضح ہوتا ہے۔ فرمایا ہے:

      ’وَمَا ہُوَ بِقَوْلِ شَیْْطَانٍ رَجِیْمٍ‘
      (اور یہ کسی راندۂ درگاہ شیطان کی القاء کی ہوئی بات نہیں ہے)۔

      مطلب یہ ہے کہ محروم القسمت ہیں وہ لوگ جو اس قرآن کو کاہنوں کی بکواس کی قسم کی کوئی چیز قرار دیتے اور اللہ کے رسول کو کاہن کہتے ہیں۔ کاہن جو کچھ پیش کرتے ہیں وہ شیطانی القاء ہوتا ہے جس میں صداقت کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔ وہ غیب دانی کے مدعی ہوتے ہیں لیکن ان کے شیاطین کی رسائی ملاء اعلیٰ تک ہونا تو درکنار وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسے مردود و مبغوض ہیں کہ وہ آسمانوں میں گھات لگانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان پر شہابوں کے ذریعہ سے سنگ باری ہوتی ہے۔ اس کے برعکس یہ کلام جو ان کو سنایا جا رہا ہے یہ اللہ کے ایک ایسے فرستادہ کا لایا ہوا کلام ہے جو خدا کی بارگاہ میں عزت پائے ہوئے اور نہایت مقرب و مکرم ہے۔

      جاوید احمد غامدی کہ بے شک، یہ ایک رسول کریم کا (لایا ہوا) کلام ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آگے کی صفات سے واضح ہے کہ اِس سے مراد یہاں جبریل امین ہیں۔ اُن کے لیے ’کریم‘ کی جو صفت آئی ہے، اُس کا موقع و محل سمجھ لینا چاہیے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...مطلب یہ ہے کہ محروم القسمت ہیں وہ لوگ جو اِس قرآن کو کاہنوں کی بکواس کی قسم کی کوئی چیز قرار دیتے اور اللہ کے رسول کو کاہن کہتے ہیں۔ کاہن جو کچھ پیش کرتے ہیں، وہ شیطانی القا ہوتا ہے جس میں صداقت کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔ وہ غیب دانی کے مدعی ہوتے ہیں، لیکن اُن کے شیاطین کی رسائی ملاء اعلیٰ تک ہونا تو درکنار، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسے مردود و مبغوض ہیں کہ وہ آسمانوں میں گھات لگانے کی کوشش کرتے ہیں تو اُن پر شہابوں کے ذریعے سے سنگ باری ہوتی ہے۔ اِس کے برعکس یہ کلام جو اِن کو سنایا جا رہا ہے، یہ اللہ کے ایک ایسے فرستادہ کا لایا ہوا کلام ہے جو خدا کی بارگاہ میں عزت پائے ہوئے اور نہایت مقرب و مکرم ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۲۲۸)

    • امین احسن اصلاحی وہ بڑی ہی قوت والا اور عرش والے کے نزدیک بڑا ہی بارسوخ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت جبریل کی مزید صفات: یہ حضرت جبریل امین کی مزید صفات بیان فرمائی گئی ہیں تاکہ اچھی طرح واضح ہو جائے کہ قرآن کس محفوظ و مامون اور پاکیزہ ذریعہ سے اترا ہوا کلام ہے اور کاہن جس ذریعہ سے اپنا مزعومہ علم حاصل کرتے ہیں اس کی نوعیت کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ باعزت رسول نہایت زور و قوت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسی اعلیٰ اور محکم صلاحیتوں سے نوازا ہے کہ دوسری شیطانی طاقتیں اس کو مرعوب یا مغلوب یا متاثر نہیں کر سکتیں کہ اس کے فرائض مفوضہ میں وہ مزاحم ہو سکیں یا اس سے کوئی چیز اچک سکیں یا اس کو دھوکہ دے سکیں۔ وہ صاحب عرش کے احکام پورے اختیار و اقتدار کے ساتھ نافذ کرتا ہے اس لیے کہ وہ اس کی بارگاہ میں نہایت تقرب اور رسوخ رکھنے والا ہے۔ اس کو صاحب عرش تک براہ راست رسائی حاصل ہے۔ کوئی دوسرا اس کے اور صاحب عرش کے درمیان حائل نہیں ہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام کی یہی صفت سورۂ نجم کی آیات ۵-۶ میں ’شَدِیْدُ الْقُوٰی‘ اور ’ذُوْ مِرَّۃٍ‘ کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے جس کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی بہت صاحب قوت، عرش والے کے ہاں بہت بلند مرتبہ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List