Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 42 آیات ) Abasa Abasa
Go
  • عبس (He Frowned)

    42 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ النّٰزعٰت ۔۔۔ کے جوڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ اسلوب بیان اور مواد استدلال میں بھی دونوں کے اندر نہایت واضح یکسانی ہے۔ مطالب کی ترتیب میں البتہ تبدیلی ہوئی ہے جس سے ایک نیا حسن اس میں پیدا ہو گیا ہے اور دراصل یہی واحد چیز ہے جو اس سورہ کو سابق سورہ سے ممتاز کرنے والی ہے۔ آپ دونوں کو سامنے رکھ کر آسانی سے ان کے مابہ الاشتراک اور مابہ الاختلاف کو معین کر سکتے ہیں۔

    سابق سورہ کے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے یہ جو فرمایا ہے کہ

    إِنَّمَا أَنۡتَ مُنۡذِرُ مَنۡ یَخْشَاہَا‘ (۴۵)

    (تم تو بس انہی لوگوں کو قیامت سے ڈرا سکتے ہو جو اس سے ڈرنے والے ہوں)

    اسی مضمون سے اس سورہ کی تمہید استوار فرمائی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بانداز عتاب قریش کے ان متمردین کے پیچھے وقت ضائع کرنے سے روک دیا ہے جو ایمان نہ لانے کے روز روز نئے نئے بہانے تلاش کرتے اور نازک مزاجی میں اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ آپ سے مطالبہ کرتے تھے کہ جب تک آپ اپنے غریب ساتھیوں کو اپنے پاس سے ہٹا نہیں دیں گے اس وقت تک وہ آپ کی مجلس میں بیٹھنے کے روادار نہیں ہوں گے۔ اس پوری سورہ میں انہی متمردین پر نہایت شدت سے عتاب ہے۔ اگرچہ خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن عتاب کا رخ تمام تر قریش کے فراعنہ ہی کی طرف ہے۔

  • عبس (He Frowned)

    42 آیات | مکی
    النٰزعٰت - عبس

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں قریش کی قیادت کو اُس کے جس رویے پر تنبیہ ہے، دوسری میں اُسی پر ایک خاص واقعے کے پس منظر میں اِس شدت سے عتاب ہے کہ سورہ کی ہر آیت سے گویا ابلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

    دوسری سورہ میں خطاب اگرچہ بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے، لیکن روے سخن اگر غور کیجیے تو دونوں سورتوں میں فراعنۂ قریش کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ میں استدلال آفاق کے آثار و شواہد اور تاریخ کے حقائق سے ہے۔

    دوسری سورہ میں آفاقی دلائل کے ساتھ انسان کی خلقت میں خدا کی قدرت و حکمت کی نشانیوں کو بھی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت کا اثبات،اُس کے حوالے سے قریش کو انذار اور اُس کے بارے میں اُن کے رویے پر اُنھیں تنبیہ ہے۔

    دوسری سورہ میں یہ تنبیہ، البتہ نہایت سخت عتاب کی صورت اختیار کر گئی ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی اس نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عبداللہ بن ام مکتوم کے واقعہ کی نوعیت: ’عَبَسَ‘ کا فاعل یہاں مذکور نہیں ہے لیکن آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ فاعل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ’اَعْمٰی‘ سے یہاں اشارہ، تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ عبداللہ بن ام مکتومؓ کی طرف ہے۔ یہ ایک وفادار اور نابینا صحابی تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے لیڈروں میں سے کسی سے یا ان کی کسی جماعت سے باتیں کر رہے تھے۔ آپ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تھا اور وہ اپنے اعتراضات و شکوک پیش کر رہے ہوں گے کہ اسی اثناء میں عبداللہ بن ام مکتومؓ تشریف لائے اور موقع کی نزاکت کا اندازہ نہ کر سکنے کے باعث وہ بھی مجلس میں پہنچ گئے۔ ان کا یہ بے موقع آ جانا حضورؐ کو ناگوار گزرا۔ اس ناگواری کی وجہ العیاذ باللہ یہ تو نہیں ہو سکتی کہ وہ نادار یا نابینا تھے، ناداروں اور نابیناؤں کی قدر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کون کر سکتا تھا، البتہ حضورؐ کو اندیشہ ہوا ہو گا کہ ان وحشیوں کو ذرا مانوس کرنے کا جو موقع میسر آیا ہے عبداللہ بن ام مکتومؓ کے آ جانے سے وہ ضائع ہو جائے گا۔ یہ بدک جائیں گے اور کہیں گے کہ جب تم نے اس طرح کے مفلسوں اور قلاشوں کو اپنے ارد گرد اکٹھا کیا ہے تو تمہاری مجلس میں بیٹھ کر کون اپنی عزت گنوائے گا۔
      قریش کے لیڈروں کی نازک مزاجی: یہ امر واضح رہے کہ قریش کے فراعنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اعتراضات تھے ان میں ایک بڑا اہم اعتراض یہی تھا کہ آپ کے ساتھی قلاش اور مفلس لوگ ہیں۔ اس چیز کو وہ آپ کی نبوت کے خلاف ایک دلیل بنائے بیٹھے تھے۔ علاوہ ازیں آپ کے لیے یہ خیال بھی باعث تردد ہوا ہو گا کہ ممکن ہے یہ اپنی بڑائی کے نشہ میں آپ کے ایک محبوب صحابی کی کوئی توہین یا دل آزاری کر بیٹھیں جس سے مزید بدمزگی پیدا ہو۔
      اسی واقعہ کو، جو بالکل اتفاق سے پیش آ گیا، اللہ تعالیٰ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تعلیم دینے کا ذریعہ بنا لیا کہ آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز اپنے ان صحابہ کو بنائیں جوا پنی اصلاح و تربیت کے طالب اور شوق و ذوق سے آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں، ان لوگوں کے درپے زیادہ نہ ہوں جو بے نیاز ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ان کی نازبرداری کریں۔
      مغروروں کو نظرانداز کرنے کی ہدایت: پچھلی سورتوں میں یہ بات جگہ جگہ واضح ہو چکی ہے کہ ابتدا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے لیڈروں کو دعوت دینے کا خاص اہتمام تھا۔ اس کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ آپ کو اول اول، جیسا کہ آیت ’’وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ‘‘ (الشعراء ۲۶: ۲۱۴) سے واضح ہے، انہی کو خطاب کرنے کا حکم ہوا تھا۔ دوسری یہ کہ ان لوگوں کو پورے عرب کی سیادت و قیادت حاصل تھی۔ توقع تھی کہ اگر یہ دعوت قبول کر لیں گے تو پورے عرب میں دعوت کی کامیابی کی راہ کھل جائے گی۔ چنانچہ کچھ عرصے تک حضور نے اپنا سارا زور انھی پر صرف فرمایا اور ان کی طرف سے انتہائی رعونت اور توہین و دل آزاری کے اظہار کے باوجود آپ ان کو دعوت دینے میں لگے رہے لیکن جب ان کی رعونت بہت بڑھ گئی اور یہ واضح ہو گیا کہ یہ ہٹ دھرم نہ صرف یہ کہ کوئی اصلاح قبول کرنے والے نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے جو وقت ضائع ہو رہا ہے اس سے ان غریب مسلمانوں کی حق تلفی ہو رہی ہے جو ایمان لا چکے ہیں اور جو اپنی تعلیم و تربیت کے لیے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کی توجہ کے ان ناقدروں سے زیادہ مستحق ہیں تو آپ کو ان کے زیادہ درپے ہونے سے روک دیا گیا اور اس کے لیے عبداللہ بن ام مکتوم کے واقعہ نے ایک نہایت مناسب موقع تقریب پیدا کر دی۔

      جاوید احمد غامدی تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کہ آیا اس کے پاس نابینا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عبداللہ بن ام مکتوم کے واقعہ کی نوعیت: ’عَبَسَ‘ کا فاعل یہاں مذکور نہیں ہے لیکن آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ فاعل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ’اَعْمٰی‘ سے یہاں اشارہ، تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ عبداللہ بن ام مکتومؓ کی طرف ہے۔ یہ ایک وفادار اور نابینا صحابی تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے لیڈروں میں سے کسی سے یا ان کی کسی جماعت سے باتیں کر رہے تھے۔ آپ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تھا اور وہ اپنے اعتراضات و شکوک پیش کر رہے ہوں گے کہ اسی اثناء میں عبداللہ بن ام مکتومؓ تشریف لائے اور موقع کی نزاکت کا اندازہ نہ کر سکنے کے باعث وہ بھی مجلس میں پہنچ گئے۔ ان کا یہ بے موقع آ جانا حضورؐ کو ناگوار گزرا۔ اس ناگواری کی وجہ العیاذ باللہ یہ تو نہیں ہو سکتی کہ وہ نادار یا نابینا تھے، ناداروں اور نابیناؤں کی قدر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کون کر سکتا تھا، البتہ حضورؐ کو اندیشہ ہوا ہو گا کہ ان وحشیوں کو ذرا مانوس کرنے کا جو موقع میسر آیا ہے عبداللہ بن ام مکتومؓ کے آ جانے سے وہ ضائع ہو جائے گا۔ یہ بدک جائیں گے اور کہیں گے کہ جب تم نے اس طرح کے مفلسوں اور قلاشوں کو اپنے ارد گرد اکٹھا کیا ہے تو تمہاری مجلس میں بیٹھ کر کون اپنی عزت گنوائے گا۔
      قریش کے لیڈروں کی نازک مزاجی: یہ امر واضح رہے کہ قریش کے فراعنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اعتراضات تھے ان میں ایک بڑا اہم اعتراض یہی تھا کہ آپ کے ساتھی قلاش اور مفلس لوگ ہیں۔ اس چیز کو وہ آپ کی نبوت کے خلاف ایک دلیل بنائے بیٹھے تھے۔ علاوہ ازیں آپ کے لیے یہ خیال بھی باعث تردد ہوا ہو گا کہ ممکن ہے یہ اپنی بڑائی کے نشہ میں آپ کے ایک محبوب صحابی کی کوئی توہین یا دل آزاری کر بیٹھیں جس سے مزید بدمزگی پیدا ہو۔
      اسی واقعہ کو، جو بالکل اتفاق سے پیش آ گیا، اللہ تعالیٰ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تعلیم دینے کا ذریعہ بنا لیا کہ آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز اپنے ان صحابہ کو بنائیں جوا پنی اصلاح و تربیت کے طالب اور شوق و ذوق سے آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں، ان لوگوں کے درپے زیادہ نہ ہوں جو بے نیاز ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ان کی نازبرداری کریں۔
      مغروروں کو نظرانداز کرنے کی ہدایت: پچھلی سورتوں میں یہ بات جگہ جگہ واضح ہو چکی ہے کہ ابتدا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے لیڈروں کو دعوت دینے کا خاص اہتمام تھا۔ اس کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ آپ کو اول اول، جیسا کہ آیت ’’وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ‘‘ (الشعراء ۲۶: ۲۱۴) سے واضح ہے، انہی کو خطاب کرنے کا حکم ہوا تھا۔ دوسری یہ کہ ان لوگوں کو پورے عرب کی سیادت و قیادت حاصل تھی۔ توقع تھی کہ اگر یہ دعوت قبول کر لیں گے تو پورے عرب میں دعوت کی کامیابی کی راہ کھل جائے گی۔ چنانچہ کچھ عرصے تک حضور نے اپنا سارا زور انھی پر صرف فرمایا اور ان کی طرف سے انتہائی رعونت اور توہین و دل آزاری کے اظہار کے باوجود آپ ان کو دعوت دینے میں لگے رہے لیکن جب ان کی رعونت بہت بڑھ گئی اور یہ واضح ہو گیا کہ یہ ہٹ دھرم نہ صرف یہ کہ کوئی اصلاح قبول کرنے والے نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے جو وقت ضائع ہو رہا ہے اس سے ان غریب مسلمانوں کی حق تلفی ہو رہی ہے جو ایمان لا چکے ہیں اور جو اپنی تعلیم و تربیت کے لیے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کی توجہ کے ان ناقدروں سے زیادہ مستحق ہیں تو آپ کو ان کے زیادہ درپے ہونے سے روک دیا گیا اور اس کے لیے عبداللہ بن ام مکتوم کے واقعہ نے ایک نہایت مناسب موقع تقریب پیدا کر دی۔

      جاوید احمد غامدی اِس پر کہ اُس کی مجلس میں وہ نابینا آ گیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نابینا سے مراد یہاں ام المومنین سیدہ خدیجہ کے پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن ام مکتوم ہیں۔ قریش کے سرداروں کے ساتھ آپ کی ایک مجلس میں یہ اچانک تشریف لے آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اِن کا آنا غالباً اِس لیے ناگوارہوا کہ مبادا قریش کے سردار اُنھیں دیکھ کربدک جائیں اور اِس طرح اپنی دعوت پہنچانے کا جو موقع آپ کو میسر ہوا ہے، وہ ضائع ہو جائے۔
      سورہ کے لب و لہجے سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ نابینا سے بے رخی برتنے پر اِس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر عتاب فرمایا گیا ہے، لیکن پوری سورہ پر تدبر کیجیے تو صاف واضح ہوجاتا ہے کہ عتاب کا رخ اصلاً فراعنۂ قریش کی طرف ہے۔شروع میں غائب کا اسلوب بھی اِسی لیے اختیار فرمایا ہے کہ براہ راست خطاب کی صورت میں تنبیہ تنبیہ نہ رہتی، فی الواقع عتاب بن جاتی،دراں حالیکہ معاملہ اِس سے زیادہ نہ تھا کہ خداکی خوشنودی کے لیے اپنی ذمہ داری کی حد سے آپ کچھ آگے بڑھ گئے تھے۔ اِس میں نفس کی کسی خواہش یا اخلاق کی کسی پستی کا، معاذ اللہ، کوئی شائبہ نہ تھا۔ چنانچہ آگے کی آیتوں سے واضح ہے کہ آپ کو یہاں جس بات پر توجہ دلائی گئی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ قریش کے سرداروں کے معاملے میں اُس سے زیادہ ذمہ داری آپ نے اپنے اوپر لے لی، جتنی خدا کی طرف سے آپ پر ڈالی گئی ہے۔ آپ نے اُن تک دعوت پہنچا دی،آپ کا فرض پورا ہو گیا۔ اِن ناقدروں کے پیچھے اب اپنے ساتھیوں کی حق تلفی آپ کو نہیں کرنی چاہیے۔ سدھرنے اور نصیحت پانے کے لیے جولوگ آپ کی مجلس میں آتے ہیں، وہی آپ کے التفات کے حق دار ہیں۔ یہ جو بے پروائی برت رہے ہیں، اِن کو اب اِن کے حال پر چھوڑیے۔ اِن کی کوئی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔ امام حمید الدین فراہی نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں عتاب کے اِس رخ کو ایک تمثیل سے سمجھایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’اِس کو ایک مثال سے سمجھو۔ فرض کرو، ایک نہایت مستعد اور فرض شناس چرواہا ہے۔ اُس کے گلے کی کوئی فربہ بھیڑ گلے سے الگ ہو کر کھو جاتی ہے ۔ چرواہا اُس کی تلاش میں نکلتا ہے، ہر قدم پر اُس کی کھر کے نشانات ملتے جا رہے ہیں، جنگل کے کسی گوشے سے اُس کی آواز بھی آ رہی ہے۔ اِس طرح وہ کامیابی کی امیدمیں دور تک نکل جاتا ہے اور اپنے اصل گلے سے کچھ دیر کے لیے غافل ہو جاتا ہے۔ جب وہ لوٹتا ہے تو آقا اُس کو ملامت کرتا ہے کہ تم پورے گلے کو چھوڑ کر ناحق ایک دیوانی بھیڑ کے پیچھے ہلکان ہوئے۔ اُس کو چھوڑ دیتے، بھیڑیا کھا جاتا، وہ اِسی کے لائق تھی۔ بتاؤ، اِس میں عتاب کس پر ہوا؟ چرواہے پر یا کھوئی ہوئی بھیڑ پر۔ بالکل یہی صورت معاملہ یہاں بھی ہے۔ عتاب کا رخ بظاہر تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضرور ہے، لیکن غصے کا سارا زور منکرین و مخالفین پر ہے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو اِس عتاب کے اندر نہایت دل نواز شفقتیں مضمر ہیں۔‘‘(نظام القرآن۲۸۰)

       

    • امین احسن اصلاحی اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ اپنی اصلاح کرتا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آنحضرت صلعم کو تنبیہ کی نوعیت: اوپر کی آیات سے صرف ایک واقعہ کی خبر سامنے آئی ہے، نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کس کا ہے اور نہ یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کے ذکر سے مقصود کیا ہے لیکن یہاں ’یُدْرِیْکَ‘ کے خطاب سے یہ بات نکلتی ہے کہ واقعہ کا تعلق حضورؐ سے ہے اور آپ کو اس بات پر متنبہ فرمایا جا رہا ہے کہ آپ کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں بعض اوقات اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ گلے کی بھیڑوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی ہو جاتی ہے۔
      پہلے ٹکڑے میں خطاب کے نہ ہونے سے قاری کے ذہن میں یہ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ معلوم کرے کہ کس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے لیکن چونکہ مخاطب واضح نہیں ہے اس وجہ سے اس کو اپنی ذات سے متعلق کوئی پریشانی پیدا ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ چنانچہ حضورؐ کے اندر بھی واقعہ سے متعلق سوال تو فوراً پیدا ہوا ہو گا لیکن خطاب چونکہ براہ راست نہیں تھا اس وجہ سے کچھ زیادہ پریشانی نہیں ہوئی ہو گی۔ برعکس اس کے اگر خطاب معین ہوتا تو یہ عتاب بہت سخت ہو جاتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں یہ بات متعین ہو جاتی کہ آپ پر عتاب ہوا اور وجہ عتاب یہ ہے کہ آپ نے ایک نابینا کے آنے پر ترش رویہ اختیار فرمایا درآنحالیکہ واقعہ، جیسا کہ اوپر واضح ہوا اور آگے آ رہا ہے، یہ نہیں ہے۔
      حضرات انبیاؑء کی لغزش کی نوعیت: آیات زیربحث میں خطاب اس لیے واضح فرمایا ہے کہ یہاں وہ بات بھی بیان فرما دی گئی ہے جس پرعتاب ہوا ہے۔ یہ بات کسی فرض میں کوتاہی کی نوعیت کی نہیں بلکہ ادائے فرض میں حد مطلوب سے تجاوز کی نوعیت کی ہے۔ ہم یہ حقیقت جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام سے کوئی لغزش صادر ہوتی ہے تو وہ نفس کی خواہشوں کی پاسداری کی نوعیت کی نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی وہ اپنے رب کی رضاطلبی کے جوش میں اس حد سے آگے نکل جایا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہوتی ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شریعت دینے کے لیے طور پر بلایا تو اس کے لیے ایک خاص تاریخ بھی مقرر فرما دی لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام فرط شوق میں مقررہ تاریخ کا انتظار نہ کر سکے بلکہ اس سے پہلے ہی طور پر پہنچ گئے۔ ان کی اس عجلت پر گرفت ہوئی تو انھوں نے یہ معذرت پیش کی کہ اے رب، میں تیری رضا طلبی کے شوق میں جلدی چلا آیا ہوں۔ اس طرح کی لغزش ظاہر ہے کہ نہایت اعلیٰ جذبہ سے ہوتی ہے، لیکن حضرات انبیاء علیہم السلام حق و عدل کی کامل میزان ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی اس طرح کی لغزشوں پر بھی گرفت فرماتا ہے تاکہ میزان ہر پہلو سے درست رہے۔
      یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جس لغزش پر گرفت فرمائی گئی ہے وہ بھی اسی نوعیت کی ہے۔ سادات قریش کے ایمان لانے سے چونکہ آپؐ پورے عرب کے لیے دعوت کی راہ کھلنے کی توقع رکھتے تھے اس وجہ سے اس کام میں آپ کا انہماک اس قدر بڑھ گیا کہ نہ آپ کو اپنے ذاتی آرام کی کوئی فکر رہی، نہ اس امر کا کوئی خیال رہا کہ یہ لوگ آپ کی ذات اور آپ کی دعوت کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اس انہماک سے یہ اندیشہ بھی پیدا ہو گیا کہ جو غریب مسلمان ایمان لا چکے ہیں ان کی تربیت کی جو ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے اس کو ادا کرنے کے لیے بھی آپ مشکل ہی سے کچھ وقت نکال سکیں گے۔ اس صورت حال پر قرآن نے جگہ جگہ آپ کو نہایت محبت آمیز انداز میں ٹوکا اور آگاہ فرمایا ہے کہ آپ نے قریش کے معاملے میں اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ نے آپ پرڈالی ہے۔ آپ ان کے پیچھے اتنے ہلکان نہ ہوں۔ آپ پر اللہ کی بات پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی وہ آپ نے پہنچا دی، اب مزید ان کی نازبرداری کی ضرورت نہیں ہے۔ انہی حالات کے اندر عبداللہ بن ام مکتومؓ کا یہ واقعہ پیش آیا جس نے گویا اس بات میں ایک بالکل فیصلہ کن سورہ نازل کر دی۔ اس تمہید کی روشنی میں آیات زیربحث اور آگے کی آیات پر غور کیجیے۔
      ’وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰیٓ‘۔ یعنی تم پر اس نابینا کا آنا اس اندیشہ سے گراں گزرا کہ شاید اس کے آ جانے سے ان سادات کے پندار کو چوٹ لگے اور وہ بدک جائیں حالانکہ ہو سکتا ہے کہ تم ان کی نازبرداری میں ایک سچے طالب کو نظر انداز کر دو لیکن یہ پھر بھی نہ سنیں تو ایسے ناقدروں کے پیچھے اپنے ایک سزاوار تربیت ساتھی کی حق تلفی کس طرح جائز ہو سکتی ہے۔
      رسول کے توجہ کے اصلی مستحق: اس سے معلوم ہوا کہ رسول کا اصل مقصد لوگوں کا تزکیہ ہے۔ جو لوگ اس کے پاس تزکیہ کے طالب بن کر آئیں اس کی توجہ و دلداری کے اصل حق دار وہی ہیں۔ دوسرے لوگ، خواہ بظاہر کتنی ہی اہمیت رکھنے والے ہوں، ان میں اگر اصلاح و تربیت کی طلب نہیں ہے تو رسول کے مقصد کے اعتبار سے ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
      سچے طالب کی دو صفتیں: یہاں ایک سچے طالب کی دو صفتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ طالب تزکیہ ہوتا ہے۔ دوسری یہ کہ وہ یاددہانی سے فائدہ اٹھانے والا ہوتا ہے۔
      یہ درحقیقت تربیت گاہ نبوی کے سچے شرکاء کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ ان میں بالعموم دو طرح کے لوگ ہوتے۔ ایک وہ جن کے سامنے اپنی اصلاح و تربیت سے متعلق کوئی سوال ہوتا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے آتے، دوسرے وہ جن کے سامنے اگرچہ کوئی خاص سوال تو نہ ہوتا لیکن وہ مجلس میں حاضر ہوتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بطور خود یا کسی سائل کے جواب میں جو کچھ ارشاد فرمائیں اس سے بہرہ مند ہوں۔ یہاں ’لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰیٓ‘ سے پہلی قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ ہے۔ اور ’یَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَہُ الذِّکْرٰی‘ کے الفاظ سے دوسری قسم کے لوگوں کی طرف۔ یہ دونوں ہی راہیں طلب علم کی ہیں اور مقصود ان دونوں کا حوالہ دینے سے یہ ہے کہ جس کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آنا ہو وہ انہی میں سے کسی ایک مقصد کو سامنے رکھ کر آئے اور وہی پیغمبرؐ کے التفات کے حق دار ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اپنی نازبرداری کے خواہاں ہیں ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنے گھروں میں بیٹھیں اور اپنے انجام کا انتظار کریں۔

      جاوید احمد غامدی تمھیں کیا معلوم، (اے پیغمبر) کہ شاید وہ (پوچھتا اور) سدھرتا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی یا نصیحت سنتا تو نصیحت اس کو نفع پہنچاتی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آنحضرت صلعم کو تنبیہ کی نوعیت: اوپر کی آیات سے صرف ایک واقعہ کی خبر سامنے آئی ہے، نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کس کا ہے اور نہ یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کے ذکر سے مقصود کیا ہے لیکن یہاں ’یُدْرِیْکَ‘ کے خطاب سے یہ بات نکلتی ہے کہ واقعہ کا تعلق حضورؐ سے ہے اور آپ کو اس بات پر متنبہ فرمایا جا رہا ہے کہ آپ کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں بعض اوقات اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ گلے کی بھیڑوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی ہو جاتی ہے۔
      پہلے ٹکڑے میں خطاب کے نہ ہونے سے قاری کے ذہن میں یہ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ معلوم کرے کہ کس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے لیکن چونکہ مخاطب واضح نہیں ہے اس وجہ سے اس کو اپنی ذات سے متعلق کوئی پریشانی پیدا ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ چنانچہ حضورؐ کے اندر بھی واقعہ سے متعلق سوال تو فوراً پیدا ہوا ہو گا لیکن خطاب چونکہ براہ راست نہیں تھا اس وجہ سے کچھ زیادہ پریشانی نہیں ہوئی ہو گی۔ برعکس اس کے اگر خطاب معین ہوتا تو یہ عتاب بہت سخت ہو جاتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں یہ بات متعین ہو جاتی کہ آپ پر عتاب ہوا اور وجہ عتاب یہ ہے کہ آپ نے ایک نابینا کے آنے پر ترش رویہ اختیار فرمایا درآنحالیکہ واقعہ، جیسا کہ اوپر واضح ہوا اور آگے آ رہا ہے، یہ نہیں ہے۔
      حضرات انبیاؑء کی لغزش کی نوعیت: آیات زیربحث میں خطاب اس لیے واضح فرمایا ہے کہ یہاں وہ بات بھی بیان فرما دی گئی ہے جس پرعتاب ہوا ہے۔ یہ بات کسی فرض میں کوتاہی کی نوعیت کی نہیں بلکہ ادائے فرض میں حد مطلوب سے تجاوز کی نوعیت کی ہے۔ ہم یہ حقیقت جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام سے کوئی لغزش صادر ہوتی ہے تو وہ نفس کی خواہشوں کی پاسداری کی نوعیت کی نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی وہ اپنے رب کی رضاطلبی کے جوش میں اس حد سے آگے نکل جایا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہوتی ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شریعت دینے کے لیے طور پر بلایا تو اس کے لیے ایک خاص تاریخ بھی مقرر فرما دی لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام فرط شوق میں مقررہ تاریخ کا انتظار نہ کر سکے بلکہ اس سے پہلے ہی طور پر پہنچ گئے۔ ان کی اس عجلت پر گرفت ہوئی تو انھوں نے یہ معذرت پیش کی کہ اے رب، میں تیری رضا طلبی کے شوق میں جلدی چلا آیا ہوں۔ اس طرح کی لغزش ظاہر ہے کہ نہایت اعلیٰ جذبہ سے ہوتی ہے، لیکن حضرات انبیاء علیہم السلام حق و عدل کی کامل میزان ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی اس طرح کی لغزشوں پر بھی گرفت فرماتا ہے تاکہ میزان ہر پہلو سے درست رہے۔
      یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جس لغزش پر گرفت فرمائی گئی ہے وہ بھی اسی نوعیت کی ہے۔ سادات قریش کے ایمان لانے سے چونکہ آپؐ پورے عرب کے لیے دعوت کی راہ کھلنے کی توقع رکھتے تھے اس وجہ سے اس کام میں آپ کا انہماک اس قدر بڑھ گیا کہ نہ آپ کو اپنے ذاتی آرام کی کوئی فکر رہی، نہ اس امر کا کوئی خیال رہا کہ یہ لوگ آپ کی ذات اور آپ کی دعوت کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اس انہماک سے یہ اندیشہ بھی پیدا ہو گیا کہ جو غریب مسلمان ایمان لا چکے ہیں ان کی تربیت کی جو ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے اس کو ادا کرنے کے لیے بھی آپ مشکل ہی سے کچھ وقت نکال سکیں گے۔ اس صورت حال پر قرآن نے جگہ جگہ آپ کو نہایت محبت آمیز انداز میں ٹوکا اور آگاہ فرمایا ہے کہ آپ نے قریش کے معاملے میں اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ نے آپ پرڈالی ہے۔ آپ ان کے پیچھے اتنے ہلکان نہ ہوں۔ آپ پر اللہ کی بات پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی وہ آپ نے پہنچا دی، اب مزید ان کی نازبرداری کی ضرورت نہیں ہے۔ انہی حالات کے اندر عبداللہ بن ام مکتومؓ کا یہ واقعہ پیش آیا جس نے گویا اس بات میں ایک بالکل فیصلہ کن سورہ نازل کر دی۔ اس تمہید کی روشنی میں آیات زیربحث اور آگے کی آیات پر غور کیجیے۔
      ’وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰیٓ‘۔ یعنی تم پر اس نابینا کا آنا اس اندیشہ سے گراں گزرا کہ شاید اس کے آ جانے سے ان سادات کے پندار کو چوٹ لگے اور وہ بدک جائیں حالانکہ ہو سکتا ہے کہ تم ان کی نازبرداری میں ایک سچے طالب کو نظر انداز کر دو لیکن یہ پھر بھی نہ سنیں تو ایسے ناقدروں کے پیچھے اپنے ایک سزاوار تربیت ساتھی کی حق تلفی کس طرح جائز ہو سکتی ہے۔
      رسول کے توجہ کے اصلی مستحق: اس سے معلوم ہوا کہ رسول کا اصل مقصد لوگوں کا تزکیہ ہے۔ جو لوگ اس کے پاس تزکیہ کے طالب بن کر آئیں اس کی توجہ و دلداری کے اصل حق دار وہی ہیں۔ دوسرے لوگ، خواہ بظاہر کتنی ہی اہمیت رکھنے والے ہوں، ان میں اگر اصلاح و تربیت کی طلب نہیں ہے تو رسول کے مقصد کے اعتبار سے ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
      سچے طالب کی دو صفتیں: یہاں ایک سچے طالب کی دو صفتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ طالب تزکیہ ہوتا ہے۔ دوسری یہ کہ وہ یاددہانی سے فائدہ اٹھانے والا ہوتا ہے۔
      یہ درحقیقت تربیت گاہ نبوی کے سچے شرکاء کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ ان میں بالعموم دو طرح کے لوگ ہوتے۔ ایک وہ جن کے سامنے اپنی اصلاح و تربیت سے متعلق کوئی سوال ہوتا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے آتے، دوسرے وہ جن کے سامنے اگرچہ کوئی خاص سوال تو نہ ہوتا لیکن وہ مجلس میں حاضر ہوتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بطور خود یا کسی سائل کے جواب میں جو کچھ ارشاد فرمائیں اس سے بہرہ مند ہوں۔ یہاں ’لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰیٓ‘ سے پہلی قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ ہے۔ اور ’یَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَہُ الذِّکْرٰی‘ کے الفاظ سے دوسری قسم کے لوگوں کی طرف۔ یہ دونوں ہی راہیں طلب علم کی ہیں اور مقصود ان دونوں کا حوالہ دینے سے یہ ہے کہ جس کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آنا ہو وہ انہی میں سے کسی ایک مقصد کو سامنے رکھ کر آئے اور وہی پیغمبرؐ کے التفات کے حق دار ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اپنی نازبرداری کے خواہاں ہیں ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنے گھروں میں بیٹھیں اور اپنے انجام کا انتظار کریں۔

      جاوید احمد غامدی یا (تم سناتے)، وہ نصیحت سنتا اور یہ نصیحت اُس کے کام آتی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی جو بے پروائی برتتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اصل تنبیہ: یہ وہ اصل تنبیہ ہے جو اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمائی گئی کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ جو اپنی اصلاح کے طالب بن کر آئیں اور ان کے اندر خدا کے حضور پیشی کا خوف ہو وہ آپ کی توجہ کے اصل مستحق قرار پائیں لیکن ہو یہ رہا ہے کہ جو بے پروا و بے نیاز ہیں آپ ان کو دعوت دینے کے لیے تو اپنے رات دن ایک کیے ہوئے ہیں حالانکہ وہ اگر اپنی اصلاح نہیں چاہتے تو اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔ آپ پر اصل ذمہ داری ان لوگوں کی ہے جو ذوق و شوق سے آپ کے پاس آتے ہیں لیکن آپ ان سے غفلت برتتے ہیں۔

      چند باتوں کی وضاحت:

      ایک یہ کہ ان میں بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو عتاب ہے اس کا اصل رخ آپ کی طرف نہیں بلکہ قریش کے ان نااہل لیڈروں کی طرف ہے جن سے کسی خیر کی امید باقی نہیں رہی تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ آپ ان سے صرف نظر کر کے اپنی ساری توجہ کا مرکز ان غریبوں کو بنائیں جو اسلام لا چکے تھے اور آپ کی تعلیم و تربیت کے اصل حق دار تھے۔
      دوسری یہ کہ حضورؐ کو کسی فرض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی پر نہیں ٹوکا گیا ہے بلکہ اس بات پر ٹوکا گیا ہے کہ آپ نے اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالی ہے۔ گویا یہ اسی طرح کا پرمحبت و جاں نواز عتاب ہے جو

      ’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۳)
      (معلوم ہوتا ہے تم اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر کے رہو گے کہ وہ مومن نہیں بن رہے ہیں۔)

      اور اس مضمون کی دوسری آیات میں گزر چکا ہے۔
      تیسری یہ کہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ اسلام کی اصل دولت وہ غریب ہیں جن کے اندر خدا کی خشیت ہے نہ کہ وہ امیر جن کے سینے خدا کی خشیت سے خالی ہیں۔ اس وجہ سے آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز انہی کو بنائیں جو اہل ہیں۔ ان کے پیچھے اپنا وقت نہ ضائع کریں جن کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔
      اس عتاب کی ایک حقیقت افروز تمثیل: استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں اس عتاب کے رخ کو ایک تمثیل سے سمجھایا ہے جو نہایت حقیقت افروز ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

      ’’اس کو ایک مثال سے سمجھو۔ فرض کرو ایک نہایت مستعد اور فرض شناس چرواہا ہے۔ اس کے گلے کی کوئی فربہ بھیڑ گلے سے الگ ہو کر کھو جاتی ہے۔ چرواہا اس کی تلاش میں نکلتا ہے ہر قدم پر اس کی کُھر کے نشانات ملتے جا رہے ہیں۔ جنگل کے کسی گوشے سے اس کی آواز بھی آ رہی ہے۔ اس طرح وہ کامیابی کی امید میں دور تک نکل جاتا ہے اور اپنے اصل گلے سے کچھ دیر کے لیے غافل ہو جاتا ہے۔ جب وہ واپس لوٹتا ہے تو آقا اس کو ملامت کرتا ہے کہ تم پورے گلے کو چھوڑ کر ناحق ایک دیوانی بھیڑ کے پیچھے ہلکان ہوئے۔ اس کو چھوڑ دیتے، بھیڑیا کھا جاتا، وہ اسی کے لائق تھی۔ بتاؤ، اس میں عتاب کس پر ہوا؟ چرواہے پر یا کھوئی ہوئی بھیڑ پر۔ بالکل یہی صورت معاملہ یہاں بھی ہے۔ عتاب کا رخ بظاہر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضرور ہے لیکن غصہ کا سارا زور منکرین و مخالفین پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو اس عتاب کے اندر نہایت دل نواز شفقتیں مضمر ہیں۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی یہ جو بے پروائی برتتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس کے تو تم پیچھے پڑتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’تَصَدّٰی‘ دراصل ’تَتَصَدَّدُ‘ ہے جو ’صَدد‘ کے مادہ سے ہے جس کے معنی متوازی اور مقابل کے ہیں۔ اس میں جو تغیر ہوا ہے وہ عربیت کے قاعدے کے مطابق ہوا ہے جس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو بے نیازی برتتے ہیں ان سے تو آپ معترض ہوتے اور ان کو پرچانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ یہ بوجھ اللہ تعالیٰ نے آپ پر نہیں ڈالا ہے۔

      چند باتوں کی وضاحت:

      ایک یہ کہ ان میں بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو عتاب ہے اس کا اصل رخ آپ کی طرف نہیں بلکہ قریش کے ان نااہل لیڈروں کی طرف ہے جن سے کسی خیر کی امید باقی نہیں رہی تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ آپ ان سے صرف نظر کر کے اپنی ساری توجہ کا مرکز ان غریبوں کو بنائیں جو اسلام لا چکے تھے اور آپ کی تعلیم و تربیت کے اصل حق دار تھے۔
      دوسری یہ کہ حضورؐ کو کسی فرض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی پر نہیں ٹوکا گیا ہے بلکہ اس بات پر ٹوکا گیا ہے کہ آپ نے اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالی ہے۔ گویا یہ اسی طرح کا پرمحبت و جاں نواز عتاب ہے جو

      ’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۳)
      (معلوم ہوتا ہے تم اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر کے رہو گے کہ وہ مومن نہیں بن رہے ہیں۔)

      اور اس مضمون کی دوسری آیات میں گزر چکا ہے۔
      تیسری یہ کہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ اسلام کی اصل دولت وہ غریب ہیں جن کے اندر خدا کی خشیت ہے نہ کہ وہ امیر جن کے سینے خدا کی خشیت سے خالی ہیں۔ اس وجہ سے آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز انہی کو بنائیں جو اہل ہیں۔ ان کے پیچھے اپنا وقت نہ ضائع کریں جن کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔
      اس عتاب کی ایک حقیقت افروز تمثیل: استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں اس عتاب کے رخ کو ایک تمثیل سے سمجھایا ہے جو نہایت حقیقت افروز ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

      ’’اس کو ایک مثال سے سمجھو۔ فرض کرو ایک نہایت مستعد اور فرض شناس چرواہا ہے۔ اس کے گلے کی کوئی فربہ بھیڑ گلے سے الگ ہو کر کھو جاتی ہے۔ چرواہا اس کی تلاش میں نکلتا ہے ہر قدم پر اس کی کُھر کے نشانات ملتے جا رہے ہیں۔ جنگل کے کسی گوشے سے اس کی آواز بھی آ رہی ہے۔ اس طرح وہ کامیابی کی امید میں دور تک نکل جاتا ہے اور اپنے اصل گلے سے کچھ دیر کے لیے غافل ہو جاتا ہے۔ جب وہ واپس لوٹتا ہے تو آقا اس کو ملامت کرتا ہے کہ تم پورے گلے کو چھوڑ کر ناحق ایک دیوانی بھیڑ کے پیچھے ہلکان ہوئے۔ اس کو چھوڑ دیتے، بھیڑیا کھا جاتا، وہ اسی کے لائق تھی۔ بتاؤ، اس میں عتاب کس پر ہوا؟ چرواہے پر یا کھوئی ہوئی بھیڑ پر۔ بالکل یہی صورت معاملہ یہاں بھی ہے۔ عتاب کا رخ بظاہر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضرور ہے لیکن غصہ کا سارا زور منکرین و مخالفین پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو اس عتاب کے اندر نہایت دل نواز شفقتیں مضمر ہیں۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی اِن کے تو تم پیچھے پڑتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’تَصَدّٰی‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ درحقیقت ’تَتَصَدَّدْ‘ ہے جس میں ایک ’ت‘ عربیت کے قاعدے سے حذف ہو گئی ہے اور ایک ’د‘ ’ی‘ میں بدل گئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی حالانکہ تم پر کوئی ذمہ داری نہیں اگر وہ اپنی اصلاح نہ کرے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَمَا عَلَیْکَ اَلَّا یَزَّکّٰی‘۔ یعنی آپ پر اصل ذمہ داری انذار و بلاغ کی تھی، وہ کر چکنے کے بعد آپ ان سے بری الذمہ ہوئے۔ یہ ذمہ داری آپ پر نہیں ہے کہ آپ انھیں لازماً مومن و مسلم بھی بنا دیں۔ یہ مضمون پیچھے کی سورتوں میں مختلف اسلوبوں سے گزر چکا ہے اور ہر جگہ اس کا مقصود پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ آپ اپنی ذمہ داری سے زیادہ بوجھ اپنے اوپر نہ اٹھائیں اور اپنے کو غیرضروری مشقت میں نہ ڈالیں۔ اگر یہ محروم القسمت لوگ اپنی اصلاح نہیں چاہتے تو ان کو ان کی تقدیر کے حوالہ کریں۔

      چند باتوں کی وضاحت:

      ایک یہ کہ ان میں بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو عتاب ہے اس کا اصل رخ آپ کی طرف نہیں بلکہ قریش کے ان نااہل لیڈروں کی طرف ہے جن سے کسی خیر کی امید باقی نہیں رہی تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ آپ ان سے صرف نظر کر کے اپنی ساری توجہ کا مرکز ان غریبوں کو بنائیں جو اسلام لا چکے تھے اور آپ کی تعلیم و تربیت کے اصل حق دار تھے۔
      دوسری یہ کہ حضورؐ کو کسی فرض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی پر نہیں ٹوکا گیا ہے بلکہ اس بات پر ٹوکا گیا ہے کہ آپ نے اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالی ہے۔ گویا یہ اسی طرح کا پرمحبت و جاں نواز عتاب ہے جو

      ’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۳)
      (معلوم ہوتا ہے تم اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر کے رہو گے کہ وہ مومن نہیں بن رہے ہیں۔)

      اور اس مضمون کی دوسری آیات میں گزر چکا ہے۔
      تیسری یہ کہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ اسلام کی اصل دولت وہ غریب ہیں جن کے اندر خدا کی خشیت ہے نہ کہ وہ امیر جن کے سینے خدا کی خشیت سے خالی ہیں۔ اس وجہ سے آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز انہی کو بنائیں جو اہل ہیں۔ ان کے پیچھے اپنا وقت نہ ضائع کریں جن کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔
      اس عتاب کی ایک حقیقت افروز تمثیل: استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں اس عتاب کے رخ کو ایک تمثیل سے سمجھایا ہے جو نہایت حقیقت افروز ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

      ’’اس کو ایک مثال سے سمجھو۔ فرض کرو ایک نہایت مستعد اور فرض شناس چرواہا ہے۔ اس کے گلے کی کوئی فربہ بھیڑ گلے سے الگ ہو کر کھو جاتی ہے۔ چرواہا اس کی تلاش میں نکلتا ہے ہر قدم پر اس کی کُھر کے نشانات ملتے جا رہے ہیں۔ جنگل کے کسی گوشے سے اس کی آواز بھی آ رہی ہے۔ اس طرح وہ کامیابی کی امید میں دور تک نکل جاتا ہے اور اپنے اصل گلے سے کچھ دیر کے لیے غافل ہو جاتا ہے۔ جب وہ واپس لوٹتا ہے تو آقا اس کو ملامت کرتا ہے کہ تم پورے گلے کو چھوڑ کر ناحق ایک دیوانی بھیڑ کے پیچھے ہلکان ہوئے۔ اس کو چھوڑ دیتے، بھیڑیا کھا جاتا، وہ اسی کے لائق تھی۔ بتاؤ، اس میں عتاب کس پر ہوا؟ چرواہے پر یا کھوئی ہوئی بھیڑ پر۔ بالکل یہی صورت معاملہ یہاں بھی ہے۔ عتاب کا رخ بظاہر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضرور ہے لیکن غصہ کا سارا زور منکرین و مخالفین پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو اس عتاب کے اندر نہایت دل نواز شفقتیں مضمر ہیں۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی دراں حالیکہ یہ اگر نہ سدھریں تو تم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور جو تمہارے پاس شوق سے آتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’جَآءَ کَ یَسْعٰی‘۔ ’سَعْیٌ‘ کا اصل مفہوم کسی کام کو ذوق و شوق اور سرگرمی و مستعدی سے کرنا ہے۔ دوڑنا اس کے لیے لازم نہیں ہے۔ ’فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ‘ کے معنی ہوں گے پس اللہ کے ذکر کی طرف سرگرمی اور مستعدی سے لپکو۔ آیت میں یہ لفظ اسی مفہوم میں آیا ہے یعنی جو لوگ آپ کے پاس نہایت ذوق و شوق سے اس طرح آتے ہیں جس طرح تشنہ چشمہ کی طرف بڑھتا ہے۔

      چند باتوں کی وضاحت:

      ایک یہ کہ ان میں بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو عتاب ہے اس کا اصل رخ آپ کی طرف نہیں بلکہ قریش کے ان نااہل لیڈروں کی طرف ہے جن سے کسی خیر کی امید باقی نہیں رہی تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ آپ ان سے صرف نظر کر کے اپنی ساری توجہ کا مرکز ان غریبوں کو بنائیں جو اسلام لا چکے تھے اور آپ کی تعلیم و تربیت کے اصل حق دار تھے۔
      دوسری یہ کہ حضورؐ کو کسی فرض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی پر نہیں ٹوکا گیا ہے بلکہ اس بات پر ٹوکا گیا ہے کہ آپ نے اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالی ہے۔ گویا یہ اسی طرح کا پرمحبت و جاں نواز عتاب ہے جو

      ’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۳)
      (معلوم ہوتا ہے تم اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر کے رہو گے کہ وہ مومن نہیں بن رہے ہیں۔)

      اور اس مضمون کی دوسری آیات میں گزر چکا ہے۔
      تیسری یہ کہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ اسلام کی اصل دولت وہ غریب ہیں جن کے اندر خدا کی خشیت ہے نہ کہ وہ امیر جن کے سینے خدا کی خشیت سے خالی ہیں۔ اس وجہ سے آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز انہی کو بنائیں جو اہل ہیں۔ ان کے پیچھے اپنا وقت نہ ضائع کریں جن کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔
      اس عتاب کی ایک حقیقت افروز تمثیل: استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں اس عتاب کے رخ کو ایک تمثیل سے سمجھایا ہے جو نہایت حقیقت افروز ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

      ’’اس کو ایک مثال سے سمجھو۔ فرض کرو ایک نہایت مستعد اور فرض شناس چرواہا ہے۔ اس کے گلے کی کوئی فربہ بھیڑ گلے سے الگ ہو کر کھو جاتی ہے۔ چرواہا اس کی تلاش میں نکلتا ہے ہر قدم پر اس کی کُھر کے نشانات ملتے جا رہے ہیں۔ جنگل کے کسی گوشے سے اس کی آواز بھی آ رہی ہے۔ اس طرح وہ کامیابی کی امید میں دور تک نکل جاتا ہے اور اپنے اصل گلے سے کچھ دیر کے لیے غافل ہو جاتا ہے۔ جب وہ واپس لوٹتا ہے تو آقا اس کو ملامت کرتا ہے کہ تم پورے گلے کو چھوڑ کر ناحق ایک دیوانی بھیڑ کے پیچھے ہلکان ہوئے۔ اس کو چھوڑ دیتے، بھیڑیا کھا جاتا، وہ اسی کے لائق تھی۔ بتاؤ، اس میں عتاب کس پر ہوا؟ چرواہے پر یا کھوئی ہوئی بھیڑ پر۔ بالکل یہی صورت معاملہ یہاں بھی ہے۔ عتاب کا رخ بظاہر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضرور ہے لیکن غصہ کا سارا زور منکرین و مخالفین پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو اس عتاب کے اندر نہایت دل نواز شفقتیں مضمر ہیں۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی اور جو شوق سے تمھارے پاس آتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں ’یَسْعٰی‘ کا لفظ ہے۔ اِس کے اصل معنی کسی کام کو ذوق و شوق اور سرگرمی کے ساتھ کرنے کے ہیں۔ اِس کے لیے دوڑنا لازم نہیں ہے، یہ بعض اوقات اِس کے مفہوم میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہاں واضح ہے کہ یہ اپنے اصل معنی میں آیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور وہ خدا سے ڈرتا بھی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَھُوَ یَخْشٰی‘۔ یہ مقابل میں ہے ’اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی‘ کے۔ یعنی ایک تو وہ لوگ ہیں جو اس دنیا کی مطلوبات و مرغوبات میں اس طرح کھوئے ہوئے ہیں کہ انھیں کبھی یہ فکر ستاتی ہی نہیں کہ اس زندگی کے بعد بھی کوئی زندگی ہے اور اس کے لیے بھی کوئی تیاری ضروری ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو اپنے اندر آخرت کی پیشی کا خوف رکھتے ہیں۔ اسی گروہ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ وہ آپ کی باتیں سنے اور ان کو حرز جاں بنائے نہ کہ پہلے گروہ سے، لیکن آپ کا حال یہ ہے کہ آپ پتھروں میں جونک لگانے کے لیے تو رات دن سرگرم ہیں لیکن جن کے اندر اثرپذیری کی صلاحیت ہے ان کی طرف پوری توجہ کرنے کی فرصت آپ کو نہیں ملتی۔

      چند باتوں کی وضاحت:

      ایک یہ کہ ان میں بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو عتاب ہے اس کا اصل رخ آپ کی طرف نہیں بلکہ قریش کے ان نااہل لیڈروں کی طرف ہے جن سے کسی خیر کی امید باقی نہیں رہی تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ آپ ان سے صرف نظر کر کے اپنی ساری توجہ کا مرکز ان غریبوں کو بنائیں جو اسلام لا چکے تھے اور آپ کی تعلیم و تربیت کے اصل حق دار تھے۔
      دوسری یہ کہ حضورؐ کو کسی فرض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی پر نہیں ٹوکا گیا ہے بلکہ اس بات پر ٹوکا گیا ہے کہ آپ نے اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالی ہے۔ گویا یہ اسی طرح کا پرمحبت و جاں نواز عتاب ہے جو

      ’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۳)
      (معلوم ہوتا ہے تم اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر کے رہو گے کہ وہ مومن نہیں بن رہے ہیں۔)

      اور اس مضمون کی دوسری آیات میں گزر چکا ہے۔
      تیسری یہ کہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ اسلام کی اصل دولت وہ غریب ہیں جن کے اندر خدا کی خشیت ہے نہ کہ وہ امیر جن کے سینے خدا کی خشیت سے خالی ہیں۔ اس وجہ سے آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز انہی کو بنائیں جو اہل ہیں۔ ان کے پیچھے اپنا وقت نہ ضائع کریں جن کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔
      اس عتاب کی ایک حقیقت افروز تمثیل: استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں اس عتاب کے رخ کو ایک تمثیل سے سمجھایا ہے جو نہایت حقیقت افروز ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

      ’’اس کو ایک مثال سے سمجھو۔ فرض کرو ایک نہایت مستعد اور فرض شناس چرواہا ہے۔ اس کے گلے کی کوئی فربہ بھیڑ گلے سے الگ ہو کر کھو جاتی ہے۔ چرواہا اس کی تلاش میں نکلتا ہے ہر قدم پر اس کی کُھر کے نشانات ملتے جا رہے ہیں۔ جنگل کے کسی گوشے سے اس کی آواز بھی آ رہی ہے۔ اس طرح وہ کامیابی کی امید میں دور تک نکل جاتا ہے اور اپنے اصل گلے سے کچھ دیر کے لیے غافل ہو جاتا ہے۔ جب وہ واپس لوٹتا ہے تو آقا اس کو ملامت کرتا ہے کہ تم پورے گلے کو چھوڑ کر ناحق ایک دیوانی بھیڑ کے پیچھے ہلکان ہوئے۔ اس کو چھوڑ دیتے، بھیڑیا کھا جاتا، وہ اسی کے لائق تھی۔ بتاؤ، اس میں عتاب کس پر ہوا؟ چرواہے پر یا کھوئی ہوئی بھیڑ پر۔ بالکل یہی صورت معاملہ یہاں بھی ہے۔ عتاب کا رخ بظاہر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضرور ہے لیکن غصہ کا سارا زور منکرین و مخالفین پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو اس عتاب کے اندر نہایت دل نواز شفقتیں مضمر ہیں۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی اور (خدا سے) ڈرتا بھی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَھُوَ یَخْشٰی‘۔ یہ ’اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی‘ کے مقابل میں ہیں۔ یعنی ایک طرف وہ لوگ ہیں جو بے پروائی برتتے ہیں اور دوسری طرف خدا کا یہ بندہ ہے جو سراپا خشیت ہو کر تمھارے پاس آتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تو تم اس سے بے پروائی برتتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی ایک تو وہ لوگ ہیں جو اس دنیا کی مطلوبات و مرغوبات میں اس طرح کھوئے ہوئے ہیں کہ انھیں کبھی یہ فکر ستاتی ہی نہیں کہ اس زندگی کے بعد بھی کوئی زندگی ہے اوراس کے لیے بھی کوئی تیاری ضروری ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو اپنے اندر آخرت کی پیشی کا خوف رکھتے ہیں۔ اسی گروہ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ وہ آپ کی باتیں سنے اور ان کو حرز جاں بنائے نہ کہ پہلے گروہ سے، لیکن آپ کا حال یہ ہے کہ آپ پتھروں میں جونک لگانے کے لیے تو رات دن سرگرم ہیں لیکن جن کے اندر اثرپذیری کی صلاحیت ہے ان کی طرف پوری توجہ کرنے کی فرصت آپ کو نہیں ملتی۔

      چند باتوں کی وضاحت:

      ایک یہ کہ ان میں بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو عتاب ہے اس کا اصل رخ آپ کی طرف نہیں بلکہ قریش کے ان نااہل لیڈروں کی طرف ہے جن سے کسی خیر کی امید باقی نہیں رہی تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ آپ ان سے صرف نظر کر کے اپنی ساری توجہ کا مرکز ان غریبوں کو بنائیں جو اسلام لا چکے تھے اور آپ کی تعلیم و تربیت کے اصل حق دار تھے۔
      دوسری یہ کہ حضورؐ کو کسی فرض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی پر نہیں ٹوکا گیا ہے بلکہ اس بات پر ٹوکا گیا ہے کہ آپ نے اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالی ہے۔ گویا یہ اسی طرح کا پرمحبت و جاں نواز عتاب ہے جو

      ’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۳)
      (معلوم ہوتا ہے تم اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر کے رہو گے کہ وہ مومن نہیں بن رہے ہیں۔)

      اور اس مضمون کی دوسری آیات میں گزر چکا ہے۔
      تیسری یہ کہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ اسلام کی اصل دولت وہ غریب ہیں جن کے اندر خدا کی خشیت ہے نہ کہ وہ امیر جن کے سینے خدا کی خشیت سے خالی ہیں۔ اس وجہ سے آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز انہی کو بنائیں جو اہل ہیں۔ ان کے پیچھے اپنا وقت نہ ضائع کریں جن کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔
      اس عتاب کی ایک حقیقت افروز تمثیل: استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں اس عتاب کے رخ کو ایک تمثیل سے سمجھایا ہے جو نہایت حقیقت افروز ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

      ’’اس کو ایک مثال سے سمجھو۔ فرض کرو ایک نہایت مستعد اور فرض شناس چرواہا ہے۔ اس کے گلے کی کوئی فربہ بھیڑ گلے سے الگ ہو کر کھو جاتی ہے۔ چرواہا اس کی تلاش میں نکلتا ہے ہر قدم پر اس کی کُھر کے نشانات ملتے جا رہے ہیں۔ جنگل کے کسی گوشے سے اس کی آواز بھی آ رہی ہے۔ اس طرح وہ کامیابی کی امید میں دور تک نکل جاتا ہے اور اپنے اصل گلے سے کچھ دیر کے لیے غافل ہو جاتا ہے۔ جب وہ واپس لوٹتا ہے تو آقا اس کو ملامت کرتا ہے کہ تم پورے گلے کو چھوڑ کر ناحق ایک دیوانی بھیڑ کے پیچھے ہلکان ہوئے۔ اس کو چھوڑ دیتے، بھیڑیا کھا جاتا، وہ اسی کے لائق تھی۔ بتاؤ، اس میں عتاب کس پر ہوا؟ چرواہے پر یا کھوئی ہوئی بھیڑ پر۔ بالکل یہی صورت معاملہ یہاں بھی ہے۔ عتاب کا رخ بظاہر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضرور ہے لیکن غصہ کا سارا زور منکرین و مخالفین پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو اس عتاب کے اندر نہایت دل نواز شفقتیں مضمر ہیں۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی تو اُس سے تم بے پروائی برتتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      سورہ کے جن مطالب پر اِس پیرے کی آیتوں سے روشنی پڑتی ہے، استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اُن کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’ایک یہ کہ اِن میں بظاہر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو عتاب ہے، اُس کا اصل رخ آپ کی طرف نہیں، بلکہ قریش کے اُن نااہل لیڈروں کی طرف ہے جن سے کسی خیر کی امید باقی نہیں رہی تھی۔ اِس وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ آپ اِن سے صرف نظر کرکے اپنی ساری توجہ کا مرکز اُن غریبوں کو بنائیں جو اسلام لا چکے تھے اور آ پ کی تعلیم و تربیت کے اصل حق دار تھے۔
      دوسری یہ کہ حضور کو کسی فرض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی پر نہیں ٹوکا گیا ہے، بلکہ اِس بات پر ٹوکا گیا ہے کہ آپ نے اُس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے، جتنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالی ہے۔ گویا یہ اُسی طرح کا پر محبت و جاں نواز عتاب ہے جو ’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُوْمِنِیْنَ‘* اور اِس مضمون کی دوسری آیات میں گزر چکا ہے۔
      تیسری یہ کہ اِن میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ اسلام کی اصل دولت وہ غریب ہیں جن کے اندر خدا کی خشیت ہے نہ کہ وہ امیر جن کے سینے خدا کی خشیت سے خالی ہیں۔ اِس وجہ سے آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز اُنھی کو بنائیں جو اہل ہیں۔ اُن کے پیچھے اپنا وقت نہ ضائع کریں جن کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۹/ ۲۰۰)

      _____
      * الشعراء ۲۶: ۳۔

    • امین احسن اصلاحی ہرگز نہیں، یہ تو ایک یاد دہانی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      پیغمبر کی اصل ذمہ داری: ’کَلَّا‘ یعنی اس طرح کے ناقدروں سے اس طرح چمٹنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ قرآن بس ایک یاد دہانی ہے۔ جس کا جی چاہے اس سے فائدہ اٹھائے اور جس کا جی نہ چاہے وہ اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہے جس سے یہ لوگوں کو آگاہ کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر پر ذمہ داری لوگوں تک اس یاددہانی کو پہنچا دینے کی ہے۔ یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں اس کو اتار بھی دے۔ اس پر ذمہ داری انذار کی ہے نہ کہ ایک ایک کی نازبرداری کی!
      ’اِنَّھَا‘ میں ضمیر کا مرجع ’ذِکْرٰی‘ ہے جو آیت ۴ میں ہے۔ اور ’ذَکَرَہ‘ میں بھی مرجع وہی ہے لیکن یہاں لحاظ معنی کا ہے اس وجہ سے ضمیر مذکر آئی۔ چونکہ ’ذِکْرٰی‘ اور ’تَذْکِرَۃٌ‘ دونوں سے مراد قرآن ہی ہے اس وجہ سے یہاں ضمیر مذکر لا کر ان کے اصل مفہوم پر روشنی ڈال دی۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
      اس سے وہ حقیقت واضح ہو گئی جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ یہاں اگر حضور پر کوئی عتاب ہے بھی تو اس کی نوعیت عتاب محبت کی ہے کہ آپ نے اپنے اوپر وہ بوجھ کیوں اٹھا لیا ہے جو آپ کے رب نے آپ پر نہیں ڈالا۔

      جاوید احمد غامدی ہرگز نہیں، (اِن کے پیچھے پڑنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے)۔ یہ تو ایک یاددہانی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ‘ کے الفاظ ہیں۔اِن میں ضمیر کا مرجع ’ذِکْرٰی‘ ہے جو اِس سے پہلے آیت ۴ میں آیا ہے۔ آگے ’ذَکَرَہٗ‘ میں بھی ضمیر کا مرجع وہی ہے ، لیکن ’ذِکْرٰی‘ اور ’تَذْکِرَۃ‘، دونوں میں مراد چونکہ قرآن مجید ہے، اِس لیے معنی کی رعایت سے وہاں ضمیر مذکر آئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تو جو چاہے یاد دہانی حاصل کرے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہٗ‘ کے بعد کلام کا ایک حصہ حذف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ ’جس کا جی چاہے اس یاددہانی سے فائدہ اٹھائے، جس کا جی چاہے وہ بہرا بنا رہے‘۔ دوسرے مقام پر یہی بات یوں فرمائی ہے:

      ’فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ‘ (الکہف ۱۸: ۲۹)
      (پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے)۔

       

      جاوید احمد غامدی سو جس کا جی چاہے، اِس سے یاددہانی حاصل کرے (اور جس کا جی چاہے، کانوں میں انگلیاں ٹھونس لے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      کلام کا یہ حصہ عربیت کے اسلوب پر اصل میں حذف ہے۔

    • امین احسن اصلاحی لائق تعظیم، (بلند اور پاکیزہ) صحیفوں میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کلام کی عظمت کا بیان: اوپر کی آیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مستکبرین سے اعراض اور بے پروائی برتنے کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے یہ اسی کی مزید وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح تمہارے شایان شان بات یہ نہیں ہے کہ ان مغروروں کے آگے تم اپنے آپ کو زیادہ جھکاؤ اسی طرح یہ کلام بھی، جو تم ان کو سنا رہے ہو، ایسی چیز نہیں ہے جو منت و سماجت کے ساتھ پیش کی جائے بلکہ یہ نہایت ہی اشرف، نہایت ہی بلند اور نہایت ہی پاکیزہ و برتر چیز ہے۔ یہ کوئی ناقص جنس نہیں ہے کہ تمہیں یہ فکر کرنی پڑے کہ کسی نہ کسی طرح یہ بک ہی جائے اگرچہ اس کی خاطر تمہیں خریداروں کی خوشامد ہی کرنی پڑے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے خزانۂ محفوظ کے لعل و گہر ہیں جو تم مفت لٹا رہے ہو۔ اگر یہ لوگ اس کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو تمہارا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہیں بلکہ اپنے ہی کو ابدی خسارے میں مبتلا کر رہے ہیں۔
      ’فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ‘۔ یہ اس کلام کی عالی نسبی اور عالی مقامی کی تعریف ہے۔ ’فِیْ صُحُفٍ‘ دراصل ’ھُوَ فِیْ صُحُفٍ‘ ہے۔ یہاں مبتداء کو حذف کر دیا ہے۔ صفات مابعد کے بیان میں مبتدا کا حذف عربیت میں معروف ہے۔
      ’صَحِیْفَۃٌ‘ لکھے ہوئے ورق کو کہتے ہیں۔ جمع کی صورت میں یہ بعض اوقات کتاب کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں اس سے اشارہ لوح محفوظ کی طرف ہے۔ ’مُّکَرَّمَۃٍ‘۔ یعنی وہ ایک عزیز، گراں مایہ اور قیمتی خزانہ ہے جس کی حفاظت اللہ کے فرشتے نہایت اہتمام سے کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نہ اس تک ہر ایک کی رسائی ہے اور نہ ہر ایک اس کا اہل ہے کہ اس میں سے کچھ لے یا پا سکے بلکہ یہ اللہ ہی ہے کہ اس میں سے جس کو چاہتا ہے کچھ بخشتا ہے اور اسی نے تمہیں اس خزانے سے بخشا ہے تو اس نعمت سے انہی کو بہرہ مند کرو جو اس کے اہل ہیں۔ نااہلوں کے آگے ان موتیوں کو نہ ڈالو۔ یہ بات انجیل میں بھی نہایت مؤثر تمثیل کی صورت میں آئی ہے اور ہم کسی موزوں مقام میں اس کو نقل کر آئے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی ادب کے لائق (بلند اور اچھوتے) صحیفوں میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ‘۔ اِن میں مبتدا حذف ہے، یعنی ’ھُوَ فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ‘۔ ’صُحُف‘ ’صحیفۃ‘ کی جمع ہے۔یہ اِس طرح جمع کی صورت میں ہو تو بعض اوقات کتاب کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں اِس سے لوح محفوظ کی طرف اشارہ مقصود ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بلند اور پاکیزہ (صحیفوں میں)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ‘۔ یہ دونوں صفتیں بھی اس کے مکرم ہونے کے پہلو ہی کی وضاحت کے لیے آئی ہیں۔ صفت ’مَرْفُوْعَۃٍ‘ معنی اور درجہ دونوں قسم کی بلندیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے، دوسرے مقام میں اس کی وضاحت یوں آئی ہے:

      ’وَاِنَّہٗ فِیْٓ اُمِّ الْکِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیْمٌ‘ (الزخرف ۴۳: ۴)
      (اور یہ اصل کتاب ہمارے پاس ہے، نہایت بلند اور پر حکمت)۔

      ’مُطَھَّرَۃٍ‘ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ قرآن مجید شیاطین اور ارواح خبیثہ کی دسترس سے بالکل محفوظ ہے۔ مثلاً فرمایا ہے:

      ’فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ لَّا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ‘ (الواقعہ ۵۶: ۷۸-۷۹)
      (وہ ایک محفوظ کتاب میں ہے جس تک صرف پاکیزہ ہاتھوں ہی کی رسائی ہے)۔

       

      جاوید احمد غامدی بلند اور اچھوتے (صحیفوں میں)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ دونوں صفات اِس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ ارواح خبیثہ اور شیاطین کی دسترس سے یہ کلام بالکل محفوظ ہے۔

    • امین احسن اصلاحی (معزز) باوفا (کاتبوں کے) ہاتھوں میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس کلام کے حاملین کی صفات: ’بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ کِرَامٍ م بَرَرَۃٍ‘ ۔ یہ ان ملائکہ کی صفت بیان ہو رہی ہے جن کی امانت میں اللہ تعالیٰ نے اس کتاب عزیز کو محفوظ فرمایا ہے۔ اوپر ’لَّا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ‘ والی آیت کا ہم نے حوالہ دیا ہے۔ اس میں جو بات منفی پہلو سے فرمائی گئی ہے وہی بات یہاں مثبت پہلو سے فرمائی گئی ہے۔ گویا پوری بات یوں ہے کہ اس کتاب عزیز تک ارواح خبیثہ کی رسائی نہیں ہے بلکہ یہ ان پاک فرشتوں کی تحویل میں ہے جو نہایت باعزت اور نہایت باوفا ہیں۔
      ’سَفَرَۃٌ‘ جمع ہے ’سَافِرٌ‘ کی جس کے معنی قاری و کاتب کے ہیں۔ ’سفر‘ پڑھنے اور لکھنے دونوں کے معنی میں آتا ہے۔ اس کے اشتقاق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اصل معنی ہیں تو لکھنے کے لیکن پڑھنے اور بیان کرنے کے مفہوم میں یہ وسیع ہو گیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی لکھنے والوں کے ہاتھ میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’سَفَرَۃ‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ’سافر‘کی جمع ہے۔ اِس کے معنی اصلاً لکھنے کے ہیں اور یہاں یہ اِسی معنی میں آیا ہے۔
      اِن آیتوں کا مدعا یہ ہے کہ یہ قرآن کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے منت سماجت کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہ نہایت ہی پاکیزہ اور نہایت بلند و برتر کلام ہے۔ لہٰذا اِس کو اِسی حیثیت سے اور اِسی شان کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔ یہ لوگوں کا محتاج نہیں ہے، بلکہ لوگ ہی اِس کے محتاج ہیں۔ اِس کے مخاطبین اگر اِس کی ناقدری کر رہے ہیں تو اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کر رہے ہیں۔ تم مطمئن رہو، اِن کا یہ غرور و تکبر عنقریب خاک میں ملا دیا جائے گا۔

    • امین احسن اصلاحی معزز (باوفا) کاتبوں کے ہاتھوں میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’کِرَامٍ‘ میں ان کی عالی مقامی اور بلند کرداری کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ایسے بلند مرتبہ اور معزز ہیں کہ ان سے کسی خیانت کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ نہ وہ اس میں خود کمی بیشی کر سکتے، نہ یہ امکان ہے کہ جنات و شیاطین کو اس تک رسائی کا کوئی موقع دیں۔
      ’بَرَرَۃٍ‘ جمع ہے ’بَارٌّ‘ کی۔ ’بَارٌّ‘ کہتے ہیں فرماں بردار، باوفا اور اپنی ذمہ داریوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والے کو۔ یہ صفت ان کی امانت داری کے وصف کو مزید نمایاں کرنے کے لیے آئی ہے مثلاً فرمایا ہے:

      ’نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ‘ (الشعراء ۲۶: ۱۹۳)
      (یہ کلام جبریل امین کے ذریعہ سے نازل ہوا ہے)۔

      دوسرے مقام میں اس کی وضاحت ہے:

      ’اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ‘ (التکویر ۸۱: ۱۹-۲۱)
      (یہ کلام ایک باعزت رسول کے واسطہ سے القاء ہوا ہے۔ وہ بڑی قوت والا اور عرش والے کے حضور میں نہایت مقرب ہے۔ اس کی بات مانی جاتی ہے۔ مزید برآں وہ نہایت معتمد ہے)۔

      قرآن اور اس کے محافظین کی ان صفات کے ذکر سے مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ قرآن ایسی چیز نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے منت و سماجت کے ساتھ پیش کی جائے بلکہ جس عظمت و شان کا وہ کلام ہے اسی وقار و خودداری کے ساتھ اس کی دعوت دی جائے اور جس طرح کے باوقار ملائکہ کو اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت اور اس کو نازل کرنے پر مامور فرمایا ہے چاہیے کہ اللہ کا رسول اور اس کے ساتھی بھی اس کی دعوت و تبلیغ میں اسی کردار کا مظاہرہ کریں۔
      یہیں سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ وحی الٰہی کے اخذ و تلقّی کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس ذات کا انتخاب فرمایا اور پھر جن لوگوں پر اس کی حفاظت و صیانت اور تحریر و کتابت کی ذمہ داری ڈالی وہ کس کردار اور کن صفات کے لوگ تھے اور انھوں نے کس دیانت و امانت کے ساتھ اپنے اس فرض کو انجام دیا۔ گویا جن صفات کے ملائکہ کو اس خدمت پر آسمانوں میں مامور فرمایا گیا انہی صفات کے انسانوں کو اس زمین پر اس کے حمل و نقل کے لیے منتخب فرمایا گیا۔

       

      جاوید احمد غامدی بڑے معزز، بہت وفادار۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی وہ ایسے بلند مرتبہ اور معزز ہیں کہ اُن سے کسی خیانت کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ وہ نہ اِس میں خود کوئی تغیر و تبدل کر سکتے ہیں اور نہ کسی شیطان کو اِس کا موقع دے سکتے ہیں۔
      یہ صفت اُن کی امانت داری کا وصف مزید نمایاں کرتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی برا ہو آدمی کا، یہ کتنا ناشکرا ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انسان کی بددماغی پر اظہار افسوس: اگرچہ لفظ ’اَلْإِنسَانُ‘ عام ہے لیکن کلام کا رخ انہی مستکبرین کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ ہم پیچھے مناسب مواقع پر زبان کے اس اسلوب کی طرف توجہ دلا چکے ہیں کہ بعض مرتبہ کلام کا رخ ہوتا تو کسی خاص شخص یا کسی مخصوص گروہ ہی کی طرف ہے لیکن بات ان سے منہ پھیر کر عام صیغے سے کہہ دی جاتی ہے جس سے متکلم کی بے زاری کا اظہار ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہی صورت ہے۔ فرمایا کہ یہ انسان بھی عجیب مخلوق ہے! غارت ہو! کتنا ناشکرا بن کے رہ گیا ہے! اس کی بددماغی کا حال یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کو اللہ کا کلام اور پیغام بھی سنایا جائے تو اس کے آگے جھک کر اور نیاز مند بن کر سنایا جائے!

      دراز دستئ ایں کو تہ آستیناں بین!

      ’مَا أَکْفَرَہٗ‘ کا اسلوب اظہار تعجب اور اظہار نفرت دونوں کا حامل ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی برا ہو انسان کا، یہ کیسا ناشکرا ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      لفظ انسان اگرچہ عام ہے، لیکن اِس سے مراد وہی فراعنۂ قریش ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ اُن سے اظہاربے زاری کے لیے گویا منہ پھیر کر بات عام صیغے سے کہہ دی ہے۔
      یہ اسلوب، اگر غور کیجیے تو اظہار نفرت اور اظہار تعجب، دونوں کا حامل ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اسے کس چیز سے پیدا کیا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ ان مغروروں کے کبر و غرور پر ضرب لگائی ہے لیکن مطالب کی ترتیب اس طرح ہے کہ چند چھوٹے چھوٹے جملوں میں انسان کی خِلقت، مادۂ خِلقت، مراحل خِلقت، وسائل معیشت غرض زندگی، موت، قبر سے لے کر حشر و نشر تک ساری باتوں کی طرف اشارہ کر دیا ہے تاکہ ان پر اپنے غرور کی بے ثباتی بھی واضح ہو جائے اور وہ خود اپنی زندگی کے آئینہ میں اس جزا و سزا کو بھی دیکھ لیں جس کی خبر قرآن ان کو دے رہا ہے۔
      ’مِنْ أَیِّ شَیْءٍ خَلَقَہٗ‘۔ یہ سوال تحقیر کے لیے بھی ہے اور زندگی بعد الموت کی طرف توجہ دلانے کے لیے بھی۔ ان متمردین کو زعم تھا کہ جس طرح اس دنیا میں وہ باعزت اور صاحب سیادت و قیادت ہیں اسی طرح آخرت ہوئی تو وہاں بھی ان کے لیے شایان شان مراتب ہوں گے۔ اس زعم کے سبب سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انداز ان کے دلوں پر بڑا شاق گزرتا تھا کہ یہ ہم کو تو جہنم میں جھونکے جانے کے ڈراوے سنا رہے ہیں اور ان فتو فقیروں کو جنت اور ابدی بادشاہی کی بشارت دے رہے ہیں جو ہمیشہ سے ہماری جوتیاں سیدھی کرتے آئے ہیں اور جن کو اپنے پہلو میں بٹھانا بھی ہم نے گوارا نہ کیا۔ ان کے اس زعم پر قرآن نے ان الفاظ میں ضرب لگائی ہے:

      فَمَالِ الَّذِیْنَ کَفَرُوۡا قِبَلَکَ مُہْطِعِیْنَ ۵ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ ۵ أَیَطْمَعُ کُلُّ امْرِءٍ مِّنْہُمْ أَن یُدْخَلَ جَنَّۃَ نَعِیْمٍ ۵ کَلَّا إِنَّا خَلَقْنَاہُم مِّمَّا یَعْلَمُوۡنَ (المعارج ۷۰: ۳۶-۳۹)
      ’’پس ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ تمہارے اوپر پلے پڑ رہے ہیں، داہنے بائیں سے ٹولیاں بنا بنا کر! کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع لیے بیٹھا ہے کہ وہ نعمت کے باغ میں داخل کر دیا جائے گا؟ ہرگز نہیں، ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اس چیز سے جس کو وہ جانتے ہیں!‘‘

      ان آیات کا سیاق و سباق اور اس کی تفسیر تدبر قرآن کی روشنی میں سمجھ لیجیے۔ یعنی نجس پانی کی ایک بوند سے پیدا ہوئی مخلوق کو اپنی برتری اور پاک دامنی کا یہ غرّہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے آپ کو پیدائشی حق دار جنت سمجھ بیٹھے۔
      اسی طرح قرآن نے جگہ جگہ انسان کی خِلقت اور اس کے مادۂ خِلقت سے قیامت پر اس پہلو سے استدلال کیا ہے کہ جو خدا پانی کی ایک حقیر بوند کو انسان بنا سکتا ہے اس کے لیے اس کو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے! یہ مضمون، مختلف اسلوبوں سے باربار بیان ہوا ہے، ہم صرف چند جامع آیات یہاں نقل کرتے ہیں:

      وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنۡسَانَ مِنۡ سُلَالَۃٍ مِّنۡ طِیْنٍ ۵ ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۵ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظَامًا فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْماً ثُمَّ أَنشَأْنَاہُ خَلْقاً آخَرَ فَتَبَارَکَ اللہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ۵ ثُمَّ إِنَّکُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُوْنَ ۵ ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تُبْعَثُوْنَ (المومنون ۲۳: ۱۲-۱۶)
      ’’اور ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اس کو پانی کی ایک بوند کی شکل میں ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا۔ پھر ہم نے بوند کو ایک جنین کی شکل دی پھر اس جنین کو گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا اور اس لوتھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں اور ہڈیوں کو گوشت کا جامہ پہنایا پھر اس کو ایک بالکل ہی دوسری شکل دے دی۔ پس بڑا ہی بافیض و بابرکت ہے اللہ، بہترین خالق! پھر اس کے بعد لازماً تم مرنے والے ہو پھر تم قیامت کے دن اٹھائے بھی جاؤ گے۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی (کیا یہ نہیں جانتا کہ) خدا نے کس چیز سے اِسے بنایا ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی یہ کس غرے میں مبتلا ہے؟ کس دلیل سے روزجزا کا انکار کرتا ہے اور کس طرح کہتا ہے کہ اگر آخرت ہوئی بھی تو وہاں اِس کے لیے وہی مراتب ہوں گے جو دنیا میں اِسے حاصل ہیں؟ کیا یہ نہیں جانتا کہ اِس کے خالق نے اِسے کس چیز سے اور کس طرح پیدا کیا ہے؟

    • امین احسن اصلاحی پانی کی ایک بوند سے! اس کو پیدا کیا۔ پھر اس کے لیے ایک اندازہ ٹھہرایا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’مِنْ نُّطْفَۃٍ خَلَقَہُ فَقَدَّرَہ‘۔ سوال کا جواب چونکہ بالکل واضح تھا جس سے کسی کے لیے بھی انکار کی گنجائش نہیں تھی اس وجہ سے جواب خود ہی دے دیا کہ پانی کی ایک بوند سے انسان کو پیدا کیا۔ اس پانی کی صفت قرآن کے دوسرے مقام میں ’مھین‘ آئی ہے جس کے معنی حقیر و ذلیل کے ہیں۔ یعنی نہ اپنی کمیت کے اعتبار سے کوئی بڑی چیز نہ قدر و قیمت کے اعتبار سے کوئی گوہر گراں مایہ! تو ایسے نجس قطرے سے وجود میں آنے والے انسان کو زیادہ اترانا کس طرح زیب دیتا ہے!
      انسان کی خلقت میں تدبیر و حکمت کا پہلو: ’خَلَقَہُ فَقَدَّرَہٗ‘۔ تحقیر کے مضمون کے بعد کلام کا رخ اس تقدیر، تدبیر اور تیسیر کے بیان کی طرف مڑ گیا ہے جو انسان کی خلقت اور اس کی زندگی کے اطوار و مراحل میں نمایاں ہے اور جو اس بات کی ناقابل انکار شہادت ہے کہ قدرت جس قطرے کو گہر بنانے پر اپنے عجائب تصرف کی اتنی شانیں دکھاتی ہے وہ کوئی عبث اور بے مقصد چیز نہیں ہو سکتی بلکہ لازم ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں وہ اس کی قدر و قیمت کو پرکھے، اس کے خیر و شر کو تولے اور پھر جس کو اپنی میزان میں باوزن پائے اس کو چھانٹ لے اور جس کو ناکارہ اور بے قیمت پائے اس کو خس و خاشاک کی طرح تنور میں جھونک دے۔
      ’فَقَدَّرَہٗ‘ میں اشارہ ان منازل و مراحل کی طرف ہے جو انسان کی تدریجی تشکیل میں نمایاں ہیں۔ جس طرح چاند کے عروج و محاق کی منازل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ لفظ آیا ہے، مثلاً

      ’وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ‘ (یٰسٓ ۳۶: ۳۹)
      (اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں ٹھہرا دی ہیں)

      اسی طرح انسان کے تدریجی نشوونما اور اس کے بچپن، جوانی اور پھر زوال و فنا کی طرف توجہ دلانے کے لیے یہ لفظ یہاں استعمال ہوا ہے۔ اوپر سورۂ مومنون کی آیات کا حوالہ گزرا ہے اس میں بھی یہ مضمون ہے اور یہاں آگے کی آیات میں بھی اس کے بعض پہلو واضح فرمائے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تدریج و تقدیر خدا کی قدرت و حکمت اور اس اہتمام پر دلیل ہے جو انسان کی تخلیق میں نمایاں ہے اور یہ قدرت اور یہ اہتمام اس امر کی دلیل ہے کہ انسان کوئی عبث چیز نہیں ہے بلکہ اس کی خِلقت ایک عظیم غایت کے لیے ہے جس کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد اٹھایا جائے، اس کا حساب ہو، اس کو جزا یا سزا ملے۔ ساتھ ہی انسان کی تخلیق میں خدا کی جو قدرت نمایاں ہے وہ اس بات کی ناقابل تردید دلیل ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ذرا بھی مستبعد نہیں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی پانی کی ایک بوند سے؛ اِسے بنایاہے، پھر اِس کی تقدیر ٹھیرائی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پھر اس کے لیے راہ آسان کر دی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تیسیر اپنے وسیع مفہوم میں: ’ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ‘۔ مفسرین نے عام طور پر اس تیسیر سے وہ تدبیر مراد لی ہے جو قدرت نے بچے کے بطن مادر سے برآمد ہونے کے لیے خود عورت اور بچہ کے نظام جسم میں ودیعت فرما دی ہے اور جو دونوں کی مدد کے لیے عین وقت پر نمودار ہوتی ہے۔ یہ بات غلط نہیں ہے۔ اس میں ذرا شبہ نہیں کہ یہ قدرتی انتظام نہ ہو تو کوئی دوسری تدبیر اس کا بدل نہیں ہے بلکہ زچہ و بچہ دونوں کے گھٹ کر مر جانے کا اندیشہ ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک تیسری کے مفہوم کو اس قدر محدود کر دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ بچہ جس طرح بطن مادر کے اندر قدرت ہی کی تدبیر و تیسیر سے نشوونما پاتا ہے اسی طرح مہد سے لحد تک قدرت ہی کی تیسیر اور رہنمائی سے وہ زندگی کے تمام نشیب و فراز طے کرتا ہے۔ یہ خدا ہی کی تیسیر ہے کہ بچہ کے پیدا ہونے کے بعد اس کی ماں کی چھاتیوں میں اس کے تغذیہ کے لیے دودھ اترتا ہے اور اس کو قدرت کی طرف سے جبلی طور پر یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ماں کی چھاتیوں کو چوسے۔ اسی طرح جوانی کے دور میں، وہ زندگی کے مختلف میدانوں میں جو سرگرمیاں دکھاتا اور جو فتوحات حاصل کرتا ہے ان میں بھی وہ خدا ہی کے بخشے ہوئے اعضاء و اسلحہ، خدا ہی کی عطا کردہ عقل اور خدا ہی کی بخشی ہوئی رہنمائی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ سورۂ اعلیٰ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی شان یہ بتائی ہے کہ

      ’الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی ۵ وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَہَدٰی‘ (الاعلیٰ ۸۷: ۲-۳)
      (جس نے خاکہ بنایا اور اس کے نوک پلک سنوارے اور جس نے صلاحیتیں ودیعت کیں اور پھر ان کے استعمال کی راہ دکھائی)۔

      یہی حال انفسی اور اخلاقی عالم میں بھی ہے۔ سورۂ شمس میں فرمایا ہے:

      ’وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاہَا ۵ فَأَلْہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَتَقْوَاہَا ۵ قَدْ أَفْلَحَ مَنۡ زَکَّاہَا ۵ وَقَدْ خَابَ مَنۡ دَسَّاہَا‘ (الشمس ۹۱: ۷-۱۰)
      (شاہد ہے نفس اور اس کی ترکیب، پس اس کو الہام کی اس کی بدی اور نیکی تو جس نے اس کو پاک رکھا اس نے فلاح پائی اور جس نے گندا کیا وہ نامراد ہوا)۔

      غرض زندگی کے ہر شعبہ میں خواہ وہ روحانی ہو یا مادی اللہ تعالیٰ ہی نے انسان کی راہ ہموار کی۔ اگر وہ اس راہ پر چلے تو وہ کبھی ٹھوکر نہ کھائے لیکن اپنے اختیار کے سوء استعمال سے وہ سیدھی راہ کے بجائے ٹیڑھی راہ اختیار کر لیتا ہے جو اس کو کسی ہلاکت کے کھڈ میں لے جا پھینکتی ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی پھر زندگی کی راہ (اِس کے لیے) ہموار کی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے مراد وہ رہنمائی اور تیسیر ہے جو مہد سے لحد تک زندگی کے تمام نشیب و فراز میں قدرت کی طرف سے انسان کو حاصل ہوتی ہے۔

    Join our Mailing List