Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 46 آیات ) An-Naziat An-Naziat
Go
  • النازعات (Those Who Tear Out, Those Who Drag Forth, Soul-snatchers)

    46 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    اس سورہ میں بھی قریش کے متمردین کو انذار ہے جو عذاب اور قیامت کو بالکل بعید از امکان، محض ایک دھمکی خیال کرتے تھے۔ ہواؤں اور بادلوں کے عجائب تصرفات شہادت میں پیش کر کے ان کو آگاہ فرمایا ہے کہ اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے محفوظ نہ سمجھو اور رسول کو جھٹلانے کی جسارت نہ کرو۔ تم اسی وقت تک محفوظ ہو جب تک خدا نے تم کو مہلت دے رکھی ہے۔ جونہی یہ مہلت ختم ہوئی خدا کی پکڑ میں آ جاؤ گے اور اس کے لیے خدا کو کوئی اہتمام نہیں کرنا پڑے گا۔ یہی ہوائیں اور یہی بادل جو ہر جگہ موجود اور تمہاری زندگی کے لیے ناگزیر ہیں، قہر الٰہی کی شکل اختیار کر لیں گے اور تمہیں جڑ پیڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

    تمہید اور مطالب کے اعتبار سے یہ سورہ، سورۂ ذاریات اور سورۂ مرسلات سے ملتی جلتی ہوئی ہے۔ دنیا میں خدا کی پکڑ اور اس کی قدرت و ربوبیت کی جو شانیں بالکل نمایاں ہیں وہ اس امر کی نہایت واضح دلیل ہیں کہ ایک ایسا دن لازماً آنے والا ہے جس میں اللہ تعالیٰ ان سرکشوں کو سزا دے گا جنھوں نے اس کے حکموں سے سرتابی کی اور ان لوگوں کو اپنی ابدی رحمت سے نوازے گا جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرتے اور اپنی خواہشوں کو لگام لگاتے رہے۔

  • النازعات (Those Who Tear Out, Those Who Drag Forth, Soul-snatchers)

    46 آیات | مکی
    النٰزعٰت - عبس

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں قریش کی قیادت کو اُس کے جس رویے پر تنبیہ ہے، دوسری میں اُسی پر ایک خاص واقعے کے پس منظر میں اِس شدت سے عتاب ہے کہ سورہ کی ہر آیت سے گویا ابلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

    دوسری سورہ میں خطاب اگرچہ بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے، لیکن روے سخن اگر غور کیجیے تو دونوں سورتوں میں فراعنۂ قریش کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ میں استدلال آفاق کے آثار و شواہد اور تاریخ کے حقائق سے ہے۔

    دوسری سورہ میں آفاقی دلائل کے ساتھ انسان کی خلقت میں خدا کی قدرت و حکمت کی نشانیوں کو بھی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت کا اثبات،اُس کے حوالے سے قریش کو انذار اور اُس کے بارے میں اُن کے رویے پر اُنھیں تنبیہ ہے۔

    دوسری سورہ میں یہ تنبیہ، البتہ نہایت سخت عتاب کی صورت اختیار کر گئی ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی شاہد ہیں جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے والی ہوائیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’نَازِعَاتٌ‘ سے مراد: ’نَازِعَاتٌ‘ اور ’نَاشِطَاتٌ‘ کی تاویل میں یوں تو متعدد اقوال منقول ہیں لیکن غالب رائے یہ ہے کہ ان سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کفار کی جانیں سختی سے اور اہل ایمان کی جانیں نہایت نرمی سے نکالتے ہیں۔ اگرچہ اس قول کو شہرت حاصل ہے لیکن اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اس باب میں جو روایات ہیں وہ بالکل تفسیری نوعیت کی ہیں۔ جن کا یہ درجہ نہیں ہے کہ ان کی بنیاد پر کوئی بات اعتماد کے ساتھ کہی جا سکے۔ قرآن میں بھی کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے اس قول کے حق میں کوئی تائید نکلتی ہو۔ اہل کفر اور اہل ایمان کی جانوں کے نکالنے کا معاملہ تمام تر ایک روحانی و باطنی کیفیت سے تعلق رکھنے والا معاملہ ہے، وہ کوئی ایسی عام مشاہدے میں آنے والی چیز نہیں ہے کہ اس کو کسی دعوے پر بطور حجت پیش کیا جا سکے درآنحالیکہ یہ قسمیں یہاں بطور شہادت کھائی گئی ہیں۔ مفسرین کے نزدیک چونکہ ضروری ہے کہ قسم کسی مبارک و مقدس چیز کی ہو اس وجہ سے انھیں ان الفاظ سے فرشتوں کو مراد لینے کا تکلف کرنا پڑا لیکن ہم برابر واضح کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں قسمیں بالعموم کسی دعوے پر بطور شہادت آئی ہیں۔ ان کے اندر نمایاں پہلو دعوے پر دلیل کا ہوتا ہے۔ اس سے کچھ بحث نہیں کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے وہ کوئی مقدس چیز ہے یا غیر مقدس۔
      ہمارے نزدیک ’نازعات‘ سے مراد وہ تند ہوائیں ہیں جو درختوں، مکانوں اور گڑی ہوئی چیزوں کو اپنے زور سے اکھاڑ پھینکتی ہیں۔ اس طرح کی ہواؤں کی صفت کے طور پر ’ذاریات‘، ’مرسلات‘ اور ’عاصفات‘ وغیرہ الفاظ بھی قرآن میں استعمال ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ ’ذَرْوًا‘، ’عُرْفًا‘ اور ’عَصْفًا‘ کے الفاظ بطور تاکید آئے ہیں۔ اسی طرح یہاں لفظ ’نازعات‘ ان تند ہواؤں کے لیے استعمال ہوا ہے جو درختوں اور مکانوں کو اکھاڑ پھینکتی ہیں۔ اس کے ساتھ لفظ ’غَرْقًا‘ معنی کی شدت کے اظہار کے لیے بطور تاکید ہے۔
      قوم عاد پر اللہ تعالیٰ نے بادتند کا جو عذاب مسلط فرمایا اس کی تصویر سورۂ قمر میں یوں کھینچی گئی ہے:

      إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ ۵ تَنْزِعُ النَّاسَ کَأَنَّہُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ (القمر ۵۴: ۱۹-۲۰)
      ’’ہم نے ان پر ایک طویل نحوست کے زمانے میں باد صرصر مسلط کر دی جو لوگوں کو اس طرح اکھاڑ پھینکتی گویا وہ کھوکھلی کھجوروں کے تنے ہوں۔‘‘

      یہاں فعل ’تَنْزِعُ‘ استعمال ہوا ہے اسی سے اس سورہ میں ’نازعات‘ بطور صفت استعمال ہوا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی ہوائیں گواہی دیتی ہیں جڑ سے اکھاڑنے والی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’نٰزِعٰت‘ آیاہے۔ سورۂ قمر (۵۴) کی آیت۲۰میں فرمایا ہے: ’تَنْزِعُ النَّاسَ کَاَنَّھُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ‘ ۔یہ اِسی فعل ’تَنْزِعُ‘ سے اسم صفت ہے۔ ’غَرْقًا‘ کا نصب مصدر کی وجہ سے ہے، اِس لیے کہ معنی کے لحاظ سے یہ اور ’نزعًا‘ کم و بیش مترادف ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور شاہد ہیں آہستہ چلنے والی ہوائیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’نَاشِطَاتٌ‘ سے مراد: ’نَاشِطَاتٌ‘ ’نشط‘ کے مادہ سے ہے جس کے معنی کسی کام کو نرمی سے کرنے کے بھی آتے ہیں اور کسی رسی کی گرہ یا کسی جانور کے بندھن کو چرنے چگنے کے لیے چھوڑ دینے کے معنی میں بھی۔ یہاں قرینہ بتا رہا ہے کہ یہ نرم رو اس آہستہ خرام ہواؤں کے لیے آیا ہے جس طرح سورۂ ذاریات میں ’فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔
      یہ امر واضح رہے کہ تند اور نرم رو ہواؤں کے عمل کی ظاہری نوعیت اگرچہ الگ تھلگ ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے عجائبات تصرف کی شانیں دونوں کے اندر نمایاں ہیں۔ سورۂ ذاریات میں سیاق کلام اور ہے اس وجہ سے ہوا کی نرم روی کا ذکر بارش کے مقدمہ کے طور پر آیا ہے۔ یہاں اس کا ذکر مستقلاً ہوا ہے اس وجہ سے یہ رحمت اور نقمت دونوں کو محتمل ہے۔ رحمت کے لیے اس کا محتمل ہونا تو بالکل واضح ہے کہ ہوا کی مروجہ جنبانی ہی زندگی اور راحت و نشاط کا ذریعہ ہے لیکن اس کا رحمت یا نقمت بننا کلیۃً اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہتا ہے تو بعض اوقات اس کی نرم رَوی کو بھی عذاب بنا دیتا ہے۔ چنانچہ آگے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی سرگزشت بیان ہوئی ہے جس سے اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے تند پوربی ہوا کے تصرف سے نجات دی اور اسی ہوا کے سکون کو فرعون اور اس کی فوجوں کی تباہی کا ذریعہ بنا دیا۔

      جاوید احمد غامدی اور وہ بھی جو بہت نرمی سے چلتی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’نٰشِطٰت‘ ہے۔ یہ ’نشط‘ سے ہے جس کے معنی کسی کام کو نرمی کے ساتھ کرنے کے بھی آتے ہیں۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ یہ نرم رو اور آہستہ خرام ہواؤں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ سورۂ ذاریات (۵۱) کی آیت ۳میں اِسی مضمون کے لیے ’فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’یہ امر واضح رہے کہ تند اور نرم رو ہواؤں کے عمل کی ظاہری نوعیت اگرچہ الگ تھلگ ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے عجائبات تصرف کی شانیں دونوں کے اندر نمایاں ہیں۔ سورۂ ذاریات میں سیاق کلام اور ہے، اِس وجہ سے ہوا کی نرم روی کا ذکر بارش کے مقدمے کے طور پر آیا ہے۔ یہاں اِس کا ذکر مستقلاً ہوا ہے، اِس وجہ سے یہ رحمت اور نقمت، دونوں کومحتمل ہے۔ رحمت کے لیے اِس کامحتمل ہوناتو بالکل واضح ہے کہ ہوا کی مروحہ جنبانی ہی زندگی اور راحت و نشاط کا ذریعہ ہے، لیکن اِس کا رحمت یا نقمت بننا کلیتاً اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہتا ہے تو بعض اوقات اِس کی نرم روی کو بھی عذاب بنا دیتا ہے۔ چنانچہ آگے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی سرگذشت بیان ہوئی ہے جس سے اِس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے تند پوربی ہوا کے تصرف سے نجات دی اور اِسی ہوا کے سکون کو فرعون اور اُس کی فوجوں کی تباہی کا ذریعہ بنادیا۔‘‘(تدبرقرآن۹/ ۱۷۶)

       

    • امین احسن اصلاحی اور شاہد ہیں فضاؤں میں تیرنے والے بادل۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’سٰبِحٰتٌ‘ ’سَبْحٌ‘ سے ہے جس کے معنی تیرنے کے بھی آتے ہیں۔ قرینہ اشارہ کر رہا ہے کہ یہاں یہ بادلوں کی صفت کے طور پر آیا ہے۔ اول تو ہواؤں اور بادلوں کا تعلق ہے ہی کچھ لازم و ملزوم سی چیز لیکن ایک واضح قرینہ یہاں یہ ہے کہ اس کے بعد اس کی دو صفتیں جو مذکور ہوئی ہیں وہ ’ف‘ کے ساتھ مذکور ہوئی ہیں جو عربیت کے قاعدے سے اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ صفتیں ’سٰبِحٰتٌ‘ ہی کی ہیں اور ان میں باہم دگر ترتیب بھی ہے۔ اس قاعدے کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور (فضاؤں میں) تیرتے دوڑتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’سٰبِحٰت‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ ’سبح‘ سے ہے جس کے معنی تیرنے کے بھی آتے ہیں۔ ہواؤں کے ساتھ اِس کا ذکراشارہ کر رہا ہے کہ یہ بادلوں کی صفت کے طور پر آیا ہے۔ اِس کی جو دو صفتیں اِس کے بعد مذکور ہوئی ہیں، وہ’ف‘ کے ساتھ آئی ہیں۔ یہ واضح قرینہ ہے کہ یہ دونوں صفتیں اِسی کی ہیں اور اِن میں باہم دگر ترتیب بھی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پھر ایک دوسرے پر سبقت کرنے والے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ’فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا ۵ فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا‘ کے الفاظ میں بادنیٰ تغیر الفاظ وہی بات فرمائی گئی ہے جو سورۂ ذاریات میں ’فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا ۵ فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ میں اور سورۂ مرسلات میں ’فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا ۵ فَالْمُلْقِیَاتِ ذِکْرًا‘ کے لفظوں میں فرمائی گئی ہے۔ مذکورہ سورتوں کی تفسیر میں یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ یہ بادلوں سے لدی ہوئی ان ہواؤں کی صفت ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس سرزمین کی طرف چلتی ہیں جس کے لیے حکم ہوتا ہے اور پھر وہاں وہ امر الٰہی کی تقسیم کرتی ہیں یعنی جن کے لیے حکم ہوتا ہے اس کی تعمیل کرتی ہیں۔ کسی علاقے پر وہ رحمت بن کر برستی ہیں اور کسی کے لیے عذاب بن جاتی ہیں۔ کسی جگہ جل تھل کر دیتی ہیں اور کسی جگہ خشک یا تشنہ چھوڑ جاتی ہیں۔ گویا جو بات سورۂ ذاریات میں ’فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ سے فرمائی گئی ہے وہی بات یہاں ’فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا‘ کے الفاظ میں ارشاد ہوئی ہے۔
      اس سے پہلے ’فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا‘ کے الفاظ بادلوں کی اس بھاگ دوڑ کی تصویر پیش کر رہے ہیں جو فضا میں اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب ان کے مختلف دستے ایک دوسرے پر سبقت کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ سب اپنے غیبی حاکم کے حکم کی تعمیل میں سرگرم تگاپو ہیں اور ہر ایک اس بات کا آرزومند ہے کہ امتثال امر میں اول نمبر اسی کا رہے۔
      مقسم علیہ محذوف ہے: ان قسموں کا مقسم علیہ یہاں لفظوں میں مذکور نہیں ہے بلکہ محذوف ہے۔ مقسم علیہ کے محذوف ہونے کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ سورۂ صٓ، سورۂ قٓ اور سورۂ قیامہ سب میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ مقسم علیہ حذف کر دیا گیا ہے۔ جہاں ذکر کی کوئی خاص ضرورت نہ ہو وہاں حذف ہی اولیٰ ہوتا ہے۔ یہاں چونکہ قیامت کی ہلچل کا ذکر آگے تفصیل سے موجود ہے، جو مقسم علیہ کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے، اس وجہ سے اس کے ذکر کی کوئی خاص ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ اس محذوف کو کھولنا چاہیں تو سورۂ مرسلات کی روشنی میں ’إِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ‘ کے الفاظ یہاں محذوف مان سکتے ہیں۔ گویا تند اور نرم ہواؤں اور بادلوں کے عجائب تصرفات کو شہادت میں پیش کر کے قریش کے متمردین کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ تمہیں جس عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے اس کو بعید از امکان نہ سمجھو۔ اللہ تعالیٰ جب اس کو لانا چاہے گا تو اس کے لیے کوئی خاص اہتمام اس کو نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کی ہواؤں اور اس کے بادلوں کے تصرفات کی جو تاریخ موجود ہے اور جو تمہیں سنائی بھی جا چکی ہے اگر اسی سے سبق حاصل کرو تو وہی تمہارے لیے کافی ہے۔ تم سے کہیں زیادہ طاقت ور قومیں اس زمین پر بسی ہیں جن کو خدا نے اپنی ہواؤں ہی کے ذریعہ سے خس و خاشاک کی طرح اڑا دیا۔

      جاوید احمد غامدی پھر اِس دوڑ میں ایک دوسرے سے بڑھتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور خدا کے حکم نازل کرنے والے (کہ جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ شدنی ہے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ’فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا ۵ فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا‘ کے الفاظ میں بادنیٰ تغیر الفاظ وہی بات فرمائی گئی ہے جو سورۂ ذاریات میں ’فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا ۵ فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ میں اور سورۂ مرسلات میں ’فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا ۵ فَالْمُلْقِیَاتِ ذِکْرًا‘ کے لفظوں میں فرمائی گئی ہے۔ مذکورہ سورتوں کی تفسیر میں یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ یہ بادلوں سے لدی ہوئی ان ہواؤں کی صفت ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس سرزمین کی طرف چلتی ہیں جس کے لیے حکم ہوتا ہے اور پھر وہاں وہ امر الٰہی کی تقسیم کرتی ہیں یعنی جن کے لیے حکم ہوتا ہے اس کی تعمیل کرتی ہیں۔ کسی علاقے پر وہ رحمت بن کر برستی ہیں اور کسی کے لیے عذاب بن جاتی ہیں۔ کسی جگہ جل تھل کر دیتی ہیں اور کسی جگہ خشک یا تشنہ چھوڑ جاتی ہیں۔ گویا جو بات سورۂ ذاریات میں ’فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ سے فرمائی گئی ہے وہی بات یہاں ’فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا‘ کے الفاظ میں ارشاد ہوئی ہے۔
      اس سے پہلے ’فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا‘ کے الفاظ بادلوں کی اس بھاگ دوڑ کی تصویر پیش کر رہے ہیں جو فضا میں اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب ان کے مختلف دستے ایک دوسرے پر سبقت کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ سب اپنے غیبی حاکم کے حکم کی تعمیل میں سرگرم تگاپو ہیں اور ہر ایک اس بات کا آرزومند ہے کہ امتثال امر میں اول نمبر اسی کا رہے۔
      مقسم علیہ محذوف ہے: ان قسموں کا مقسم علیہ یہاں لفظوں میں مذکور نہیں ہے بلکہ محذوف ہے۔ مقسم علیہ کے محذوف ہونے کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ سورۂ صٓ، سورۂ قٓ اور سورۂ قیامہ سب میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ مقسم علیہ حذف کر دیا گیا ہے۔ جہاں ذکر کی کوئی خاص ضرورت نہ ہو وہاں حذف ہی اولیٰ ہوتا ہے۔ یہاں چونکہ قیامت کی ہلچل کا ذکر آگے تفصیل سے موجود ہے، جو مقسم علیہ کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے، اس وجہ سے اس کے ذکر کی کوئی خاص ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ اس محذوف کو کھولنا چاہیں تو سورۂ مرسلات کی روشنی میں ’إِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ‘ کے الفاظ یہاں محذوف مان سکتے ہیں۔ گویا تند اور نرم ہواؤں اور بادلوں کے عجائب تصرفات کو شہادت میں پیش کر کے قریش کے متمردین کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ تمہیں جس عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے اس کو بعید از امکان نہ سمجھو۔ اللہ تعالیٰ جب اس کو لانا چاہے گا تو اس کے لیے کوئی خاص اہتمام اس کو نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کی ہواؤں اور اس کے بادلوں کے تصرفات کی جو تاریخ موجود ہے اور جو تمہیں سنائی بھی جا چکی ہے اگر اسی سے سبق حاصل کرو تو وہی تمہارے لیے کافی ہے۔ تم سے کہیں زیادہ طاقت ور قومیں اس زمین پر بسی ہیں جن کو خدا نے اپنی ہواؤں ہی کے ذریعہ سے خس و خاشاک کی طرح اڑا دیا۔

      جاوید احمد غامدی پھر حکم کی تدبیر کرتے ہوئے بادل گواہی دیتے ہیں (کہ جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے، وہ ہو کر رہے گی)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ وہی بات ہے جو سورۂ ذاریات (۵۱) کی آیات ۳۔۴ میں ’فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا، فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ میں اور سورۂ مرسلات (۷۷) کی آیات ۴۔۵ میں ’فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا، فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا‘ کے لفظوں میں فرمائی ہے۔ ’فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا‘ کے معنی بالکل وہی ہیں جو ’فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’اِس سے پہلے ’فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا‘ کے الفاظ بادلوں کی اُس بھاگ دوڑ کی تصویرپیش کر رہے ہیں جو فضا میں اُس وقت نمایاں ہوتی ہے، جب اُن کے مختلف دستے ایک دوسرے پر سبقت کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ سب اپنے غیبی حاکم کے حکم کی تعمیل میں سرگرم تگاپو ہیں اور ہر ایک اِس بات کا آرزومند ہے کہ امتثال امر میں اول نمبر اُسی کا رہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۱۷۷)

      یعنی تاریخ میں اپنی اُن سرگذشتوں سے گواہی دیتے ہیں، جب یہ قوموں کے لیے کبھی عذاب اور کبھی رحمت بن کر برستے رہے۔
      ہواؤں اور بادلوں کی گواہی یہاں قسم کے اسلوب میں بیان ہوئی ہے۔ یہ اِن قسموں کا مقسم علیہ ہے جو اصل میں بربناے وضاحت قرینہ حذف ہو گیا ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی اس دن سے ڈرو جس دن کپکپی پڑے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ مقسم علیہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے گمان کیا ہے، بلکہ اس دن کی یاددہانی ہے جس دن اس عذاب سے سابقہ پیش آئے گا جس سے ان کو ڈرایا جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک اس عذاب سے جس سے قیامت کے دن دوچار ہونا پڑے گا۔ دوسرے اس عذاب سے جس سے اسی دنیا میں قوم کو سابقہ پیش آتا ہے اگر وہ اپنے رسول کی تکذیب کر دیتی ہے۔
      قیامت کے دن کی یاددہانی: پہلے آیات ۶-۱۴ میں عذاب قیامت کی تصویر ہے اس کے بعد آیات ۱۶-۱۷ میں اس عذاب کی تاریخی شہادت پیش کی گئی ہے جو تکذیب رسول کے نتیجہ میں اس دنیا میں پیش آتا ہے۔ عذاب قیامت کا ذکر یہاں اس لیے مقدم کر دیا ہے کہ اصل عذاب وہی ہے جس سے ہر ایک کو ہوشیار رہنا چاہیے۔ وہ دائمی اور ابدی ہے۔ اس کے ہوتے دنیا کا عذاب نہ بھی ہو جب بھی کسی کے لیے کوئی اطمینان کا پہلو نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید اہتمام ہے کہ وہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں پر اس دنیا میں بھی عذاب نازل کرتا ہے۔
      یہاں ’یوم‘ سے پہلے فعل محذوف ہے۔ یعنی اس دن کو یاد رکھو یا اس کے ہم معنی کوئی فعل۔
      ’رَاجِفَۃٌ‘ کے معنی کپکپی اور زلزلہ کے ہیں اور ’رَادِفَۃٌ‘ کے معنی پہلے جھٹکے کے بعد دوسرے جھٹکے کے۔ قیامت کی ہلچل، جیسا کہ دوسرے مقامات میں وضاحت ہو چکی ہے، صور کی دو پھونکوں میں مکمل ہو گی۔ یہاں انہی دونوں پھونکوں کے اثرات کی طرف اشارہ ہے۔ مقصود اس سے مکذبین قیامت پر اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قیامت کے ظہور کو بہت مستبعد اور ناممکن نہ سمجھو۔ بس دو جھٹکوں میں یہ سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

      جاوید احمد غامدی اُس دن جب تھرتھری چھوٹے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس کے پیچھے ایک دوسرا جھٹکا آئے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ مقسم علیہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے گمان کیا ہے، بلکہ اس دن کی یاددہانی ہے جس دن اس عذاب سے سابقہ پیش آئے گا جس سے ان کو ڈرایا جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک اس عذاب سے جس سے قیامت کے دن دوچار ہونا پڑے گا۔ دوسرے اس عذاب سے جس سے اسی دنیا میں قوم کو سابقہ پیش آتا ہے اگر وہ اپنے رسول کی تکذیب کر دیتی ہے۔
      قیامت کے دن کی یاددہانی: پہلے آیات ۶-۱۴ میں عذاب قیامت کی تصویر ہے اس کے بعد آیات ۱۶-۱۷ میں اس عذاب کی تاریخی شہادت پیش کی گئی ہے جو تکذیب رسول کے نتیجہ میں اس دنیا میں پیش آتا ہے۔ عذاب قیامت کا ذکر یہاں اس لیے مقدم کر دیا ہے کہ اصل عذاب وہی ہے جس سے ہر ایک کو ہوشیار رہنا چاہیے۔ وہ دائمی اور ابدی ہے۔ اس کے ہوتے دنیا کا عذاب نہ بھی ہو جب بھی کسی کے لیے کوئی اطمینان کا پہلو نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید اہتمام ہے کہ وہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں پر اس دنیا میں بھی عذاب نازل کرتا ہے۔
      یہاں ’یوم‘ سے پہلے فعل محذوف ہے۔ یعنی اس دن کو یاد رکھو یا اس کے ہم معنی کوئی فعل۔
      ’رَاجِفَۃٌ‘ کے معنی کپکپی اور زلزلہ کے ہیں اور ’رَادِفَۃٌ‘ کے معنی پہلے جھٹکے کے بعد دوسرے جھٹکے کے۔ قیامت کی ہلچل، جیسا کہ دوسرے مقامات میں وضاحت ہو چکی ہے، صور کی دو پھونکوں میں مکمل ہو گی۔ یہاں انہی دونوں پھونکوں کے اثرات کی طرف اشارہ ہے۔ مقصود اس سے مکذبین قیامت پر اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قیامت کے ظہور کو بہت مستبعد اور ناممکن نہ سمجھو۔ بس دو جھٹکوں میں یہ سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

      جاوید احمد غامدی ایک کے پیچھے دوسری۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُن دو جھٹکوں کی طرف اشارہ ہے جو سورۂ زمر (۳۹)، آیت ۶۸ کے مطابق پہلے اور دوسرے صور کے پھونکنے سے پڑیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس دن کا اثر لوگوں کے دلوں پر: اوپر کی آیات میں اس دن کی ہلچل کے وہ اثرات بیان ہوئے ہیں جو اس کائنات میں نمودار ہوں گے۔ ان آیات میں اس کے ان اثرات کی طرف اشارہ ہے جو ارواح و قلوب پر طاری ہوں گے۔ فرمایا کہ اس دن کتنے دل ہوں گے جو دھڑک رہے ہوں گے اور ان کی نگاہیں سراسیمگی کے سبب سے جھکی ہوئی ہوں گی۔ یہ ان لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے جو اس دن سے نچنت رہے اور جب انھیں اس سے ڈرایا جاتا تو نہایت ڈھٹائی سے اس کا مذاق اڑاتے۔ رہے وہ لوگ جو اس دنیا میں، اس عذاب کو دیکھے بغیر، اس سے ڈرتے رہے وہ، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے، اس دن کی گھبراہٹ سے بالکل محفوظ ہوں گے۔

      جاوید احمد غامدی اُس دن کتنے دل (خوف سے) دھڑکتے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ان کی نگاہیں پست ہوں گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اَبْصَارُہَا‘ میں ضمیر کا مرجع ’قُلُوْبٌ‘ ہے۔ آدمی کے اندر دل ہی وہ چیز ہے جس سے اس کی شخصیت عبارت ہے اور جس کی کیفیات کی ترجمانی اس کے بدن کا رواں رواں کرتا ہے۔ خاص طور پر اس کی آنکھ تو وہ چیز ہے جس کے آئینہ میں اس کے دل کی مخفی سے مخفی کیفیت بھی جھلکتی ہے۔ دل کے ساتھ آنکھوں کے اس تعلق کے سبب سے ان کی اضافت دل کی طرف کر دی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُن کی نگاہیں جھکی ہوں گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      نگاہوں کی اضافت یہاں دل کی طرف کی گئی ہے۔ اِس سے یہ اشارہ مقصود ہے کہ آدمی کی شخصیت اصلاً دل ہی سے عبارت ہے۔ نگاہوں میں جو کچھ جھلکتا ہے، وہ درحقیقت دل کی کیفیتیں ہوتی ہیں جن کے مخفی سے مخفی پہلو بھی، اگر ہم چاہیں تو نگاہوں کے آئینے میں دیکھ سکتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی پوچھتے ہیں کیا ہم پھر پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کفار کے استہزاء کی تصویر: یہ تصویر ہے ان کے اس مذاق کی جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا ذکر سن کر وہ نہایت بے باکی سے کرتے۔
      ’حَافِرَۃٌ‘ کے اصل معنی نقش قدم کے ہیں لیکن محاورے میں اگر کہیں کہ ’فلان رجع علی حافرتہٖ اوفی حافرتہٖ‘ تو اس کے معنی ہوں گے کہ فلاں شخص جس حال میں تھا اس سے نکل کر پھر الٹے پاؤں اسی میں واپس آ گیا۔
      یعنی جب انھیں ڈرایا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد حساب کتاب کے لیے زندہ کیے جاؤ گے تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور ایک دوسرے سے بانداز استہزاء پوچھتے ہیں کہ کیوں جی! کیا مر جانے اور بوسیدہ ہڈیاں ہو جانے کے بعد پھر ہم زندگی کی حالت میں لوٹائے جائیں گے!

      جاوید احمد غامدی پوچھتے ہیں: کیا (مرنے کے بعد) ہم ضرور اِسی طرح پلٹا کر واپس لائے جائیں گے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’ءَ اِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَۃِ‘۔ ’حافرۃ‘ کے معنی نقش قدم کے ہیں۔ اِس سے ’رد فی الحافرۃ‘ اور ’رد علی الحافرۃ‘ عربی زبان کے محاورے ہیں جو الٹے پاؤں واپس لانے کے معنی میں مستعمل ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی کیا جب کہ ہم کھنکھناتی ہڈیاں ہو چکیں گے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا نَّخِرَۃً‘ میں استفہام کا اعادہ ان کی افزونی حیرت کو ظاہر کرتا ہے کہ اول تو مرنے کے بعد ازسرنو زندہ کیے جانے کا تصور ہی عجیب ہے لیکن اس سے بھی عجب تر ماجرا یہ ہے کہ جب ہڈیاں بھی بوسیدہ ہو کر خاک میں مل جائیں گی تب لوگ زندہ کیے جائیں گے! ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ بھلا ایسی بعید از عقل و قیاس بات کون مان سکتا ہے!

      جاوید احمد غامدی کیا اُس وقت، جب ہم کھنکھناتی ہڈیاں ہوں گے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ تعجب پر تعجب کا مفہوم ہے جو استفہام کے بعد استفہام کے اعادہ سے ادا کیا گیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کہتے ہیں، یہ لوٹایا جانا تو بڑے ہی خسارے کا ہو گا!! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’قَالُوْا تِلْکَ إِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ‘۔ یعنی مذاق اڑانے کے بعد ذرا سنجیدہ موڈ بنا کر یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر یہ بات جو یہ ملّا کہتے ہیں سچی نکلی تب تو یہ بڑی ہی نامرادی اور بڑے خسارے کا لوٹنا ہو گا!
      اگرچہ یہ بات سنجیدہ موڈ بنا کر کہتے وہ مذاق ہی کے طور پر لیکن یہ ان کے باطن کی غمازی بھی کرتی ہے کہ قیامت کی تکذیب پر ان کا دل مطمئن نہیں تھا۔ وہ اس کے دلائل کے وزن کو محسوس کرتے اور اس کے انکار کے عواقب سے ڈرتے لیکن زندگی کی لذتوں کو طلاق دے کر ان کی طبیعت ادھر آنے پر آمادہ نہیں ہوتی تھی اس وجہ سے اس خطرے کو ہنسی میں ٹالنے کی کوشش کرتے اور کہتے کہ قیامت ہوئی تو ہے تو یہ بہت بڑا خطرہ لیکن جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا، ابھی سے اس کی فکر میں اپنے اوپر نیند حرام کیوں کی جائے! یہ امر یہاں واضح رہے کہ بے فکروں کا اصلی فلسفہ یہی ہے جس پر وہ زندگی گزارتے ہیں حالانکہ آخرت کا گمان اگر کسی درجے میں بھی ہے تو پھر دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ آدمی اس کو پیش نظر رکھ کر ہی زندگی گزارے۔

      جاوید احمد غامدی کہنے لگے کہ یہ لوٹنا تو پھر بڑے نقصان کا لوٹنا ہوا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی بظاہر کچھ سنجیدہ اسلوب میں کہنے لگے کہ یہ لوٹنا تو بڑے نقصان کی بات ہے۔ یہ جملہ اگرچہ مذاق کے طور پر کہا گیا ہے، لیکن اُن کے باطن کی غمازی بھی کر رہا ہے کہ قیامت کے جھٹلانے پر اُن کا اپنا دل بھی مطمئن نہیں ہے۔ اُس کے دلائل کا وزن وہ محسوس کرتے اور اُسے نہ ماننے کے نتائج سے ڈرتے ہیں، لیکن معاملہ وہی ہے کہ ۔۔۔ پر طبیعت اِدھر نہیں آتی۔

    • امین احسن اصلاحی وہ تو بس ایک ہی ڈانٹ ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی جو سخن سازیاں یہ کرنی چاہتے ہیں کر لیں اور جتنے محالات پیدا کر سکتے ہیں کر لیں لیکن یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ جب ان کو اٹھانا چاہے گا تو نہ اس کو کوئی اہتمام کرنا پڑے گا، نہ اس میں ایک لمحہ کی تاخیر واقع ہو گی۔ صرف ایک ہی ڈانٹ میں یہ قبروں سے نکل کر میدان حشر میں موجود ہوں گے۔

      جاوید احمد غامدی سو (یہ مذاق اڑاتے ہیں تو سن لیں کہ) یہ بس ایک ہی ڈانٹ ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کہ دفعۃً وہ میدان میں آ موجود ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’سَاہِرَۃٌ‘ ہموار زمین اور کھلے میدان کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے میدان حشر مراد ہے۔ ’ایک ڈانٹ‘ سے اشارہ یہاں صور کے دوسرے نفخہ کی طرف ہے۔ اس کی وضاحت سورۂ زمر میں یوں فرمائی ہے:

      ’ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ أُخْرَی فَإِذَا ہُم قِیَامٌ یَنظُرُونَ‘ (الزمر ۳۹: ۶۸)
      (پھر اس صور میں دوبارہ پھونک ماری جائے گی تو وہ دفعۃً اٹھ کر تاکنے لگیں گے)۔

       

      جاوید احمد غامدی پھر دفعتاً یہ میدان میں سامنے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کیا موسیٰ کی سرگزشت تمہیں پہنچی ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تکذیب رسول کے نتیجہ میں جو عذاب آتا ہے اس کی شہادت: اوپر کے پیرے میں عذاب قیامت کی تصویر تھی۔ اب یہ اس عذاب کی تاریخی شہادت کا حوالہ ہے جس سے رسولوں کے جھٹلانے والوں کو اس دنیا میں سابقہ پیش آیا ہے۔ اس کے لیے حضرت موسیٰؑ اور فرعون کی سرگزشت کا انتخاب فرمایا ہے جو سب سے زیادہ مشہور و معروف شہادت ہے۔
      ’ہَلْ اَتٰکَ‘ کا سوال محض سرگزشت کی عبرتوں کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہے اور واحد کا خطاب ضروری نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ہو بلکہ ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آ رہے ہیں کہ یہ خطاب عام بھی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ سرگزشت کے آخر میں فرمایا بھی ہے کہ

      ’إِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّمَنْ یَخْشٰی‘
      (بے شک اس سرگزشت کے اندر ان لوگوں کے لیے بڑا درس عبرت ہے جو خدا کی گرفت سے ڈرنے والے ہیں)۔

       

      جاوید احمد غامدی (اچھا سنو)، کیا موسیٰ کی سرگذشت تمھیں پہنچی ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے آگے قصۂ فرعون و کلیم سے استدلال ہے۔ فراعنۂ قریش کو اِس کے پردے میں قیامت کے نہ ماننے پر تنبیہ و تہدید کی گئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جب کہ اس کے رب نے وادئ مقدس ۔۔۔ طویٰ ۔۔۔ میں اس کو پکارا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سرگزشت حیات کے اس ماجرے کی طرف اشارہ ہے جب وہ مدین سے واپس ہوتے ہوئے طور کے دامن میں پہنچے ہیں اور آگ کی چمک دیکھ کر آگ لینے یا راستہ معلوم کرنے کے لیے رات کے اندھیرے میں، وادئ طویٰ کی طرف گئے ہیں اور وہاں ان کو ایک درخت سے آواز آئی ہے کہ اے موسیٰ، میں تمہارا رب ہوں۔ میں نے تمہیں ایک کار عظیم کے لیے منتخب کیا تو تم فرعون کے پاس میرے رسول کی حیثیت سے جاؤ اور اس کو میرا پیغام پہنچاؤ۔
      یہ سرگزشت یہاں چھوٹی چھوٹی کل بارہ آیتوں میں بیان ہوئی ہے لیکن قرآن کے ایجاز بیان کا اعجاز ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رسول ہونے سے لے کر فرعون کے غرق ہونے تک کے سارے مراحل اس میں اس طرح بیان ہو گئے ہیں کہ کوئی ایسا پہلو چھوٹنے نہیں پایا ہے جو مخاطبوں کی سبق آموزی کے لیے ضروری ہو۔

      جاوید احمد غامدی جب اُس کے پروردگار نے طویٰ کی مقدس وادی میں اُسے پکارا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس واقعے کی طرف اشارہ ہے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو اُس وقت پیش آیا، جب مدین سے واپس آتے ہوئے وہ طور کے دامن میں آگ کی چمک دیکھ کر وہاں سے آگ لینے یا راستہ معلوم کرنے کے لیے گئے۔

    • امین احسن اصلاحی کہ تم فرعون کے پاس جاؤ، اس نے بہت سر اٹھایا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ وہ پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ اس نے بہت سر اٹھایا ہے۔ ’طَغٰی‘ سے مراد یہاں اس کے رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ اور بنی اسرائیلیوں کے ساتھ جبارانہ رویہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خدائی میں کسی کا یہ دعویٰ کہ وہ لوگوں کا رب اعلیٰ ہے سب سے بڑی بغاوت ہے۔ اس بغاوت کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی خاص سند کے ساتھ اس کے پاس بھیجا کہ وہ پہلے اس کو نرمی کے ساتھ راہ راست اختیار کرنے کی دعوت دیں، اگر سمجھ جائے تو فبہا ورنہ اس کے انجام سے اس کو آگاہ کر دیں۔

      جاوید احمد غامدی کہ فرعون کے پاس جاؤ، اُس نے بہت سر اٹھا لیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ فرعون کے دعویٰ ربوبیت اور بنی اسرائیل کے ساتھ اُس کے ظالمانہ رویے کی طرف اشارہ ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس سے کہو کہ کیا تم میں کچھ اپنے کو سدھارنے کا جذبہ ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فَقُلْ ہَل لَّکَ إِلٰی أَنۡ تَزَکّٰی‘۔ یعنی اس سے کہو کہ کیا تم میں کچھ رغبت پاکیزہ زندگی بسر کرنے کی ہے کہ میں تمہیں اس کا طریقہ بتانے کی کوشش کروں؟ اس فقرے پر غور فرمائیے تو معلوم ہو گا کہ اس میں بیک وقت انتہائی درجے کی ناصحانہ شفقت بھی ہے اور ساتھ ہی وہ عظمت و جلالت بھی جو اللہ تعالیٰ یا اس کے سفیر کے کلام میں ہونی چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تک تمہاری جو روش رہی ہے وہ تو یہی بتاتی ہے کہ تم سے کسی خیر کی توقع نہ رکھی جائے لیکن اللہ تعالیٰ بڑا کریم ہے۔ اب بھی گنجائش ہے کہ اگر تم سلامت روی کی زندگی اختیار کرنے کی رغبت ظاہر کرو تو یہ رستہ تم کو دکھانے کی کوشش کی جائے۔
      فرعون کو حصول تزکیہ کی دعوت: لفظ ’تَزَکّٰی‘ یہاں وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی خودسری، انانیت اور ظلم اور جور سے پاک زندگی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے بندے کی ہوتی ہے۔
      یہ امر ملحوظ رہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا اصل مقصد لوگوں کے نفوس کا تزکیہ ہی رہا ہے۔ یہ کام انھوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کی آیات کے ذریعہ سے انجام دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ارشاد ہے کہ

      ’ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْأُمِّیِّیْنَ رَسُوۡلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوۡا عَلَیْْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیْہِمْ‘ (الجمعۃ ۶۲: ۲)
      (وہی ہے جس نے بھیجا امّیوں میں ایک رسول انہی میں سے جو ان کو سناتا ہے اس کی آیات اور ان کو پاکیزہ بناتا ہے)

      اپنے اسی مقصد کا اظہار حضرت موسیٰؑ نے فرعون کے سامنے فرمایا کہ اگر تم خدائی کے پندار سے ذرا الگ ہو کر اپنی اصلاح کی طرف مائل ہو تو میں تم کو اللہ کی کچھ باتیں سناؤں۔

      جاوید احمد غامدی اور اُس سے کہو کہ کیا تم میں کچھ جذبہ ہے کہ پاکیزگی کی طرف آ جاؤ؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      انبیا علیہم السلام کی دعوت اور اُن کے لائے ہوئے دین کا مقصد یہی تزکیہ ہے۔ یہ مقصد جس اسلوب میں بیان کیا گیا ہے، اُس کی بلاغت قابل توجہ ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس فقرے پر غور فرمائیے تو معلوم ہو گا کہ اِس میں بہ یک وقت انتہائی درجے کی ناصحانہ شفقت بھی ہے اور ساتھ ہی وہ عظمت و جلالت بھی جو اللہ تعالیٰ یا اُس کے سفیر کے کلام میں ہونی چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تک تمھاری جو روش رہی ہے، وہ تو یہی بتاتی ہے کہ تم سے کسی خیر کی توقع نہ رکھی جائے، لیکن اللہ تعالیٰ بڑا کریم ہے۔ اب بھی گنجایش ہے کہ اگر تم سلامت روی کی زندگی اختیار کرنے کی رغبت ظاہر کرو تو یہ رستہ تم کو دکھانے کی کوشش کی جائے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۱۸۰)

       

    • امین احسن اصلاحی کیا میں تمہیں تمہارے رب کی راہ دکھاؤں کہ تم اس سے ڈرنے والے بنو؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَأَہْدِیَکَ إِلٰی رَبِّکَ فَتَخْشٰی‘۔ یعنی اس وقت تو تمہارے اوپر اپنی خدائی کا بھوت سوار ہے اس وجہ سے بالکل بگٹٹ چل رہے ہو لیکن بات سننے اور سمجھنے کا کچھ شوق ہو تو میں بتاؤں کہ تمہارا اور تمام جہان کا رب کون ہے جس سے سب کو ڈرنا چاہیے۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ پاکیزہ زندگی خدا کی خشیت سے اور خدا کی خشیت اس کی صحیح معرفت سے پیدا ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان دو فقروں میں فرعون کو اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی۔

      جاوید احمد غامدی کیا میں تم کو تمھارے پروردگار کی راہ دکھاؤں کہ تم اُس سے ڈرو؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے معلوم ہوا کہ انسان صرف خدا کی خشیت سے پاکیزگی اختیار کرتا ہے اور خدا کی خشیت اُس کی صحیح معرفت سے پیدا ہوتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پس اس کو ایک بڑی نشانی دکھائی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ باتیں چونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی حیثیت سے فرمائیں اور ساتھ ہی فرعون کو اس بات سے بھی آگاہ فرمایا کہ وہ اپنے پاس خدا کے رسول ہونے کی سند بھی رکھتے ہیں تو فرعون نے کہا کہ میں تو اپنے سوا کسی اور رب سے واقف نہیں، اگر تمہارے پاس خدا کے رسول ہونے کی کوئی سند ہے تو وہ دکھاؤ۔ اس کے اس مطالبے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو بڑی نشانی دکھائی۔ ’بڑی نشانی‘ سے اشارہ عصا کی نشانی کی طرف ہے۔ اس کو بڑی نشانی سے اس لیے تعبیر فرمایا کہ ید بیضاء کے سوا ان کے سارے معجزات درحقیقت اسی کے اندر مضمر تھے اور اسی کے ذریعہ سے ظاہر ہوئے۔

      جاوید احمد غامدی پھر اُس نے (فرعون کے پاس جا کر) اُسے بڑی نشانی دکھائی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی عصا کے سانپ بن جانے کی نشانی۔

    Join our Mailing List