Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 40 آیات ) An-Naba An-Naba
Go
  • النبا (The Great News, Tidings, The Announcement)

    40 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ المرسلٰت ۔۔۔ کی توام سورہ ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ جس طرح اس میں آفاقی، تاریخی اور انفسی دلائل سے یہ حقیقت ثابت کی گئی ہے کہ اس دنیا کے بامقصد و باغایت ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ یہ ایک دن ختم ہو اور اس کے بعد ایک ایسا فیصلہ کا دن آئے جس میں نیکوکاروں کو ان کی نیکیوں کا صلہ ملے اور جو مجرم ہوں وہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں اسی طرح اس سورہ میں بھی ایک یوم الفصل کا اثبات فرمایا ہے جس میں خدا کے باغی اپنی سرکشی کی سزا بھگتیں گے اور خدا ترس اپنی خدا ترسی کا انعام پائیں گے۔ استدلال اس میں خدا کی ربوبیت کے آثار و شواہد سے ہے جس سے آسمان و زمین کا چپہ چپہ معمور ہے۔

    لب و لہجہ دونوں سورتوں کا بالکل ایک ہی ہے۔ کلام استفہام اقراری کے انداز میں شروع ہوا ہے جو ان مستکبرین و مکذبین کو خطاب کرنے کے لیے مخصوص ہے جو بالکل بدیہی حقائق کو جھٹلانے کے درپے ہوں۔ دلائل کے پہلو بہ پہلو زجر و ملامت اور تہدید و توبیخ ہر آیت میں نمایاں ہے۔ اہل ایمان کے لیے جو بشارت ہے وہ بھی گویا ان مکذبین کی تہدید ہی کے پہلو سے آئی ہے کہ وہ اس کو سامنے رکھ کر اپنے انجام بد کا موازنہ کر لیں۔

  • النبا (The Great News, Tidings, The Announcement)

    40 آیات | مکی
    المرسلات - النبا

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ آفاق کے آثار و شواہد، تاریخ کے حقائق اور انسان کی خلقت میں خدا کی قدرت و حکمت کی نشانیوں سے قیامت کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں یہی دعویٰ آفاق میں بالخصوص خدا کی ربوبیت کے آثار و شواہد سے ثابت کیا گیا ہے۔ دونوں میں دلائل کے پہلو بہ پہلو زجر و توبیخ اور تہدید و ملامت، ہر آیت سے نمایاں ہے۔

    روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو انذار ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ لوگ کس چیز کے بارے میں چہ میگوئیاں کر رہے ہیں؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’عَمَّ‘ دراصل ہے تو ’عَمَّا‘ لیکن عام استعمال میں جس طرح بعض حروف کی آواز دب جاتی ہے اسی طرح ’عَمَّا‘ سے بھی ’الف‘ ساقط ہو گیا ہے اور یہ اسی طرح استعمال ہوتا ہے۔
      منکرین قیامت کا استہزاء: ’تَسَاءُ لٌ‘ کے معنی آپس میں کسی چیز سے متعلق پوچھ گچھ کرنے کے ہیں۔ پوچھ گچھ دریافت حال اور تحقیق کے لیے بھی ہوتی ہے اور
      بعض اوقات محض سخن گستری اور استہزاء کے لیے بھی۔ یہاں یہ استہزاء کے مفہوم میں ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو جب انذار قیامت پر مشتمل سورتیں سنائیں تو لب و لہجہ کی حرارت، انداز بیان کی سطوت و ہیبت اور دلائل کی قطعیت نے ان کا چرچا بہت جلد ہر حلقہ میں پھیلا دیا۔ قریش نے اپنے عوام کو اس کے اثر سے بچانے کے لیے جہاں بہت سی احمقانہ تدبیریں اختیار کیں وہاں یہ اوچھی تدبیر بھی اختیار کی کہ اپنی مجالس میں اس کو اپنے مذاق اور طبع آزمائی کا موضوع بنا لیا تاکہ لوگوں پر یہ اثر ڈالیں کہ یہ چیز کسی سنجیدہ غور و فکر کے لائق نہیں ہے بلکہ محض خیالی ہوّا ہے جس سے متاثر ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا کہ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ جب لوگ مر کر سڑ گل جائیں گے تو وہ ازسرنو زندہ کیے جائیں! بعض نے اس پر گرہ لگائی کہ کیا بھلا ہمارے اگلے بھی اٹھائے جائیں گے جو نہیں معلوم کب پیوند زمین ہوئے اور ان کی قبروں کا کوئی نشان بھی باقی نہیں رہا! تیسرے نے پرزور لہجہ میں اس کی تائید کی کہ ناممکن، ناممکن، ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، یہ سب محض خیالی باتیں ہیں۔
      دوزخ اور اس کی آگ کا یوں مذاق اڑاتے کہ خوب ہو گی وہ آگ جس میں پانی بھی ہو گا اور درخت بھی! دوسرا اس نکتہ پر اس کو داد دیتا کہ بھلا یہ باتیں کسی کی عقل میں سمانے والی ہیں۔
      جب قرآن نے ان کو آگاہ کیا کہ دوزخ پر انیس سرہنگ مامور ہوں گے تو اس کو انھوں نے اپنی طبع آزمائی کا موضوع بنا لیا۔ کوئی بولا کہ اگر اتنے ہی ہوں گے تو ان میں سے اتنوں سے تو میں تنہا نمٹ لینے کے لیے کافی ہوں۔ دوسرے نے ڈینگ ہانکی کہ پھر کوئی اندیشہ کی بات نہیں ہے، باقی سے نمٹنے کے لیے میں کمزور نہیں ہوں!
      غرض قیامت اور اس کے احوال سے متعلق جو باتیں بھی ان کو سنائی گئیں ان سے سبق لینے کے بجائے انھوں نے ان کو مذاق میں اڑا دینے کی کوشش کی تاکہ ان کے عوام ان سے متاثر نہ ہونے پائیں ان کی اسی طرح کی باتوں کو یہاں ’تَسَاءُ لٌ‘ سے تعبیر فرمایا ہے اور نہایت تیز و تند انداز میں پوچھا ہے کہ یہ لوگ کس چیز کے بارے میں چہ میگوئیاں کر رہے ہیں۔
      اس سوال سے اس سورہ کا آغاز اس کے مزاج کا پتہ دے رہا ہے کہ اس میں ان کو بتایا جائے گا کہ جس چیز کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں وہ مذاق اڑانے اور ہنسی دل لگی کی چیز نہیں بلکہ وہ سوچیں تو ان کے لیے سر پیٹنے اور خون کے آنسو بہانے کی چیز ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ لوگ کس چیز کے بارے میں باہم پوچھ رہے ہیں؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’تَسَاءُ ل‘ آیا ہے۔ اِس کے معنی آپس میں کسی چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کے ہیں۔ یہ بعض اوقات محض سخن گستری اور استہزا کے لیے بھی ہوتی ہے۔ یہاں یہ اِسی مفہوم میں ہے، یعنی کس چیز کا مذاق اڑا رہے ہیں اور اُس کے بارے میں چندرا چندرا کر پوچھ رہے ہیں؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’اِس سوال سے اِس سورہ کا آغاز اِس کے مزاج کا پتا دے رہا ہے کہ اِس میں اُن کو بتایا جائے گا کہ جس چیز کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں، وہ مذاق اڑانے اور ہنسی دل لگی کی چیز نہیں، بلکہ وہ سوچیں تو اُن کے لیے سر پیٹنے اور خون کے آنسو بہانے کی چیز ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹ /۱۵۷)

       

    • امین احسن اصلاحی اس بڑی خبر کے بارے میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زبان کا ایک اسلوب: ’نبا‘ کسی بڑے واقعہ یا اہم خبر کو کہتے ہیں۔ اس آیت سے پہلے اگرچہ حرف استفہام لفظاً مذکور نہیں ہے لیکن معناً یہ بھی اسی استفہام کے تحت ہے جو پہلے آیا ہے۔ اس کی نہایت واضح مثال سورۂ انشراح میں موجود ہے۔ فرمایا ہے:

      ’اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ۵ وَوَضَعْنَا عَنۡکَ وِزْرَکَ‘ (الانشراح ۹۴: ۱-۲)
      (کیا ہم نے تمہارے سینہ کو کھول نہیں دیا اور تمہارے بوجھ کو اتار نہیں دیا؟)

      یہاں ’وَوَضَعْنَا عَنۡکَ وِزْرَکَ‘ کا ٹکڑا دیکھ لیجیے لفظاً استفہام کے تحت نہیں ہے بلکہ بالکل سادہ خبریہ اسلوب میں ہے لیکن معناً یہ اسی کے تحت ہے۔ اس کی مثالیں قرآن میں بہت ہیں۔ اس سورہ میں بھی آگے اس کی مثالیں آ رہی ہیں۔ مترجمین عام طور پر اس اسلوب زبان سے نا آشنا ہیں اس وجہ سے وہ اس طرح کے انشائیہ جملوں کا ترجمہ خبریہ اسلوب میں کر دیتے ہیں جس سے کلام کا اصل زور واضح نہیں ہوتا اس لیے کہ انشاء اور خبر میں بڑا فرق ہوتا ہے۔
      آیت کا مطلب یہ ہے کہ کیا یہ لوگ اس بے دردی اور جسارت سے اس عظیم خبر کا مذاق اڑا رہے ہیں جو قیامت اور روز جزا و سزا سے متعلق ان کو سنائی جا رہی ہے؟ یہ خبر تو ایسی ہے کہ حق تھا کہ اس کی فکر خواب و خور کی لذت سے ان کو محروم کر دیتی لیکن یہ ایسے شامت زدہ ہیں کہ اس سے ڈرنے اور اس کے لیے تیاری کرنے کے بجائے اس کو اپنے طنز و مذاق کا موضوع بنائے ہوئے ہیں۔

       

      جاوید احمد غامدی کیا اُس بڑی خبر کے بارے میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں اگرچہ اصل میں حرف استفہام نہیں ہے، لیکن معنوی لحاظ سے یہ اُسی استفہام کے تحت ہے جو اِس سے پہلے آیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جس میں کوئی کچھ کہہ رہا ہے کوئی کچھ! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منکرین قیامت کا تناقض فکر: ’اَلَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوۡنَ‘۔ لفظ ’اختلاف‘ بیک وقت دو معنوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک اختلاف رائے کو دوسرے تناقض فکر کو اور یہ دونوں معانی غور کیجیے تو معلوم ہو گا لازم و ملزوم ہیں۔ اختلاف رائے تناقض فکر ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ مشرکین عرب سے متعلق ہم جگہ جگہ اس حقیقت کا اظہار کر چکے ہیں کہ قیامت کے باب میں وہ نہایت شدید قسم کے تناقض فکر میں مبتلا تھے۔؂۱ ایک گروہ ان کے اندر اس کا کھلم کھلا انکار کرتا تھا اور دوسرا، جس کی تعداد زیادہ تھی، صریح انکار کے بجائے اس پر مختلف قسم کے شبہات وارد کرتا تھا۔ ان کا گمان تھا کہ اول تو اس کا ہونا ہی بہت مستبعد اور بعید از قیاس ہے اور ہوئی بھی تو اس کے لیے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا ٹوٹنا ہمارے دیوتاؤں کی طرف ہو گا جو ہمیں خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے اور اگر خدا سے سابقہ پڑا بھی تو اتنی بے شمار مخلوق کے سارے اعمال و اقوال کو کون جان سکتا ہے کہ وہ ان کا حساب کرنے بیٹھے۔ یہ اس خبط میں بھی مبتلا تھے کہ جب اس دنیا میں ان کا حال اچھا ہے، جو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کی نظروں میں اچھے ہیں، تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ جو عزت و سرفرازی اس نے ان کو اس دنیا میں دے رکھی ہے قیامت میں ان کو اس سے محروم کر دے۔
      ان غلط خیالات کے ساتھ ساتھ وہ بہت سے ایسے صحیح عقائد کا اقرار بھی کرتے تھے جن سے ان باطل خیالات کی نفی ہوتی تھی لیکن قیامت اور جزا و سزا کو ماننا ان کی خواہش کے خلاف تھا اس وجہ سے وہ قرآن کی بار بار کی تذکیر کے بعد بھی اپنے فکری تناقض کا جائزہ لینے اور اس کو دور کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے حالانکہ عقل اور فطرت کا یہ بدیہی تقاضا ہے کہ انسان کو زندگی کے کسی ایسے معاملے میں اگر ذہنی یکسوئی حاصل نہ ہو جس میں اس کی ابدی فلاح یا ابدی ہلاکت کا راز مضمر ہے تو ان لوگوں کی بات توجہ سے سنے جو اس کے تضاد فکر سے اس کو آگاہ کر رہے ہوں تاکہ ہلاکت سے محفوظ رہے۔ یہ درحقیقت اس کی اپنی ضرورت ہے نہ کہ یاددہانی کرنے والوں کی۔ قرآن نے یہاں اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قرآن ان کو جس عظیم واقعہ کی خبر دے رہا ہے اس کے بارے میں ان کا فکری تناقض اور کسی ذہنی الجھن میں مبتلا رہنا کسی طرح ان کے لیے خوش انجام نہیں ہے۔ یہ ابدی ہلاکت یا ابدی سعادت کا معاملہ ہے۔ قرآن کا یہ بڑا احسان ہے کہ اس نے اس تضاد و اختلاف سے نکلنے کی ان کو راہ دکھائی ہے۔ حق تھا کہ وہ اس کی قدر کرتے لیکن انھوں نے اپنی بدبختی سے اس کو تفریح طبع کا موضوع بنا لیا ہے۔
      _____
      ؂۱ مثلاً ملاحظہ ہو تفسیر سورۂ نمل (۲۷) آیت ۶۶۔

      جاوید احمد غامدی جس کے متعلق اِن میں سے ہر ایک اپنی سی کہہ رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ اُسے جھٹلانے کے لیے اِن میں سے کوئی کچھ کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ۔ یہ اُس کے بارے میں سخت تناقض فکر میں مبتلا ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی ہرگز نہیں، وہ عنقریب جان لیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منکرین کو تنبیہ: یہ نہایت زوردار الفاظ میں ان کو تنبیہ ہے کہ جو لذیذ خواب وہ دیکھ رہے ہیں یہ ہرگز پورے ہونے والے نہیں ہیں۔ قرآن جس انجام سے ان کو آگاہ کر رہا ہے وہ عنقریب ان کے سامنے آ کے رہے گا۔ یہاں جملہ کی تکرار محض دعوے کو مؤکد کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ بیان حقیقت کے لیے ہے۔ اللہ کے رسولوں نے، جیسا کہ ہم ایک سے زیادہ مقامات میں لکھ چکے ہیں، اپنی قوموں کو بیک وقت دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ اول اس عذاب سے جو سنت الٰہی کے مطابق ہر اس قوم پر لازماً آیا ہے جس نے رسول کی تکذیب کر دی ہے۔ دوسرے اس عذاب سے جس میں وہ قیامت کے دن مبتلا ہو گی۔ ان دونوں عذابوں کو سامنے رکھ کر اس تنبیہی کلمہ کو دو بار دہرایا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اِن کی یہ باتیں کچھ نہیں)، ہرگز نہیں۔ یہ عنقریب جان لیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پھر ہرگز نہیں، وہ جلد جان لیں گے!! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منکرین کو تنبیہ: یہ نہایت زوردار الفاظ میں ان کو تنبیہ ہے کہ جو لذیذ خواب وہ دیکھ رہے ہیں یہ ہرگز پورے ہونے والے نہیں ہیں۔ قرآن جس انجام سے ان کو آگاہ کر رہا ہے وہ عنقریب ان کے سامنے آ کے رہے گا۔ یہاں جملہ کی تکرار محض دعوے کو مؤکد کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ بیان حقیقت کے لیے ہے۔ اللہ کے رسولوں نے، جیسا کہ ہم ایک سے زیادہ مقامات میں لکھ چکے ہیں، اپنی قوموں کو بیک وقت دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ اول اس عذاب سے جو سنت الٰہی کے مطابق ہر اس قوم پر لازماً آیا ہے جس نے رسول کی تکذیب کر دی ہے۔ دوسرے اس عذاب سے جس میں وہ قیامت کے دن مبتلا ہو گی۔ ان دونوں عذابوں کو سامنے رکھ کر اس تنبیہی کلمہ کو دو بار دہرایا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (ہم) پھر (کہتے ہیں کہ) ہرگز نہیں، یہ عنقریب جان لیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی یہاں بھی جان لیں گے ،جب اتمام حجت کے بعد ہمارا فیصلہ صادر ہو جائے گا اور وہاں بھی، جہاں پکڑ بلائے جائیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا ہم نے زمین کو گہوارہ (اور پہاڑوں کو میخیں) نہیں بنایا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آثار ربوبیت سے استدلال: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے ان آثار کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس کی قدرت، حکمت، رحمت، ربوبیت، توحید، قیامت اور ایک روز جزا و سزا کے لازمی ہونے پر ایسی واضح حجت ہیں کہ کوئی سلیم الفطرت ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ آخر میں یہ نتیجہ سامنے رکھ دیا ہے کہ ’اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا‘ جو شخص بھی ان نشانیوں پر غور کرے گا وہ اس اعتراف پر مجبور ہو گا کہ اس کے بعد ایک فیصلہ کا دن ضرور آئے گا اور اس کا وقت اس کائنات کے خالق کے نزدیک معین ہے۔
      ’اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا‘۔ سب سے پہلے زمین اور اس کے پہاڑوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انسان اگر روز جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے تو کیا وہ ربوبیت کے اس اہتمام پر غور نہیں کرتا جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے، بغیر کسی استحقاق کے، کر رکھا ہے کہ زمین کو اس کے لیے گہوارے کی طرح قرار و سکون کی جگہ بنایا ہے اور اس میں پہاڑوں کی میخیں ٹھونکی ہیں تاکہ یہ اپنی جگہ پر برقرار رہے، کوئی تزلزل اس میں نہ پیدا ہونے پائے۔
      زمین کے اندر پہاڑوں کے لنگرانداز کرنے کی مختلف حکمتوں کی طرف قرآن نے جگہ جگہ اشارے کیے ہیں۔ سابق سورہ میں بھی اس کی ایک عظیم مصلحت کی طرف اشارہ ہے۔ بعض مقامات میں اس کی یہ حکمت بھی بتائی ہے کہ زمین میں پہاڑ اس لیے گاڑے کہ وہ تمہارے سمیت کسی طرف لڑھک نہ جائے۔ 

      ’وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ‘ (النحل ۱۶: ۱۵)
      (اور زمین میں اس نے پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے کہ مبادا وہ تمہارے سمیت لڑھک جائے)۔

      یہاں اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان اگر غور کرے تو یہ سمجھنے سے وہ قاصر نہیں رہے گا کہ جو رب اس زمین کے گہوارے میں اس اہتمام سے اس کی پرورش کر رہا ہے کس طرح ممکن ہے کہ وہ ایک ایسا دن نہ لائے جس میں ان لوگوں کو انعام دے جنھوں نے اس کی ربوبیت کا حق پہچانا اور اس کو ادا کیا ہو اور ان لوگوں کو سزا دے جنھوں نے اس کی ناشکری اور نافرمانی کی ہو۔ ربوبیت کے ساتھ مسؤلیت لازمی ہے۔ ایسا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کائنات کے خالق کے نزدیک شکرگزار اور نابکار دونوں برابر ہیں۔ یہ ایسی بھونڈی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سے متعلق اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

       

      جاوید احمد غامدی (یہ دیکھیں تو سہی)، کیازمین کو ہم نے گہوارہ نہیں بنایا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے آگے آفاق میں ربوبیت کے اُن آثار کی طرف توجہ دلائی ہے جو ایک روزجزا کے لازمی ہونے پر ایسی واضح حجت ہیں کہ کوئی سلیم الفطرت انسان اُن کا انکار نہیں کر سکتا اور اپنے آپ کو ہر حال میں اِس اعتراف پر مجبور پاتا ہے کہ یقیناًفیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...انسان اگر غور کرے تو یہ سمجھنے سے وہ قاصر نہیں رہے گا کہ جو رب اِس زمین کے گہوارے میں اِس اہتمام کے ساتھ اُس کی پرورش کر رہا ہے، کس طرح ممکن ہے کہ وہ ایک ایسا دن نہ لائے جس میں اُن لوگوں کو انعام دے جنھوں نے اُس کی ربوبیت کا حق پہچانا اور اُس کو ادا کیا ہو اور اُن لوگوں کو سزا دے جنھوں نے اُس کی ناشکری اور نافرمانی کی ہو۔ ربوبیت کے ساتھ مسؤلیت لازمی ہے۔ ایسا نہ ہو تو اِس کے معنی یہ ہوئے کہ اِس کائنات کے خالق کے نزدیک شکر گزار اور نابکار، دونوں برابر ہیں۔ یہ ایسی بھونڈی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سے متعلق اِس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۱۵۹)

      اِس لیے کہ تمھارے سمیت وہ کسی طرف لڑھک نہ جائے۔

       

    • امین احسن اصلاحی (کیا ہم نے زمین کو گہوارہ) اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آثار ربوبیت سے استدلال: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے ان آثار کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس کی قدرت، حکمت، رحمت، ربوبیت، توحید، قیامت اور ایک روز جزا و سزا کے لازمی ہونے پر ایسی واضح حجت ہیں کہ کوئی سلیم الفطرت ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ آخر میں یہ نتیجہ سامنے رکھ دیا ہے کہ ’اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا‘ جو شخص بھی ان نشانیوں پر غور کرے گا وہ اس اعتراف پر مجبور ہو گا کہ اس کے بعد ایک فیصلہ کا دن ضرور آئے گا اور اس کا وقت اس کائنات کے خالق کے نزدیک معین ہے۔
      ’اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا‘۔ سب سے پہلے زمین اور اس کے پہاڑوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انسان اگر روز جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے تو کیا وہ ربوبیت کے اس اہتمام پر غور نہیں کرتا جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے، بغیر کسی استحقاق کے، کر رکھا ہے کہ زمین کو اس کے لیے گہوارے کی طرح قرار و سکون کی جگہ بنایا ہے اور اس میں پہاڑوں کی میخیں ٹھونکی ہیں تاکہ یہ اپنی جگہ پر برقرار رہے، کوئی تزلزل اس میں نہ پیدا ہونے پائے۔
      زمین کے اندر پہاڑوں کے لنگرانداز کرنے کی مختلف حکمتوں کی طرف قرآن نے جگہ جگہ اشارے کیے ہیں۔ سابق سورہ میں بھی اس کی ایک عظیم مصلحت کی طرف اشارہ ہے۔ بعض مقامات میں اس کی یہ حکمت بھی بتائی ہے کہ زمین میں پہاڑ اس لیے گاڑے کہ وہ تمہارے سمیت کسی طرف لڑھک نہ جائے۔ 

      ’وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ‘ (النحل ۱۶: ۱۵)
      (اور زمین میں اس نے پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے کہ مبادا وہ تمہارے سمیت لڑھک جائے)۔

      یہاں اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان اگر غور کرے تو یہ سمجھنے سے وہ قاصر نہیں رہے گا کہ جو رب اس زمین کے گہوارے میں اس اہتمام سے اس کی پرورش کر رہا ہے کس طرح ممکن ہے کہ وہ ایک ایسا دن نہ لائے جس میں ان لوگوں کو انعام دے جنھوں نے اس کی ربوبیت کا حق پہچانا اور اس کو ادا کیا ہو اور ان لوگوں کو سزا دے جنھوں نے اس کی ناشکری اور نافرمانی کی ہو۔ ربوبیت کے ساتھ مسؤلیت لازمی ہے۔ ایسا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کائنات کے خالق کے نزدیک شکرگزار اور نابکار دونوں برابر ہیں۔ یہ ایسی بھونڈی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سے متعلق اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

       

      جاوید احمد غامدی اور پہاڑوں کو (اُس کی) میخیں نہیں بنایا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے کہ تمھارے سمیت وہ کسی طرف لڑھک نہ جائے۔

    • امین احسن اصلاحی تم کو جوڑے جوڑے نہیں پیدا کیا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَّخَلَقْنٰکُمْ اَزْوَاجًا‘۔ اگرچہ اسلوب کلام باعتبار الفاط خبریہ ہو گیا ہے لیکن معناً یہ ’اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا‘ ہی پر معطوف ہے۔ اس کی وضاحت اوپر آیات ۱-۲ کے تحت ہو چکی ہے۔
      یہ اشارہ ہے اس سب سے بڑے سامان تسلی کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں آدمی کے لیے مہیا کیا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے تمہیں تنہا نہیں پیدا کیا بلکہ تمہارے ساتھ تمہاری ہی جنس سے تمہارا جوڑا بھی بنایا تاکہ وہ تمہارے لیے طمانیت اور سکینت کا ذریعہ بنے۔ یہ امر واضح رہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز جوڑا جوڑا بنائی ہے اور یہ جوڑے آپس میں ایسی گہری وابستگی رکھتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی تنہا اپنے مقصد تخلیق کو پورا نہیں کر سکتا۔ ان میں بظاہر تو نسبت ضدین کی ہے لیکن قدرت نے ان کے اندر ایسے ظاہری و باطنی داعیات رکھے ہیں کہ وہ باہم مل کر رہنے ہی میں سکون و راحت پاتے اور ایک برتر مقصد کو پورا کرتے ہیں۔ یہ خصوصیت جس طرح اس دنیا کے تمام اضداد میں ہے اسی طرح میاں اور بیوی کے درمیان بھی ہے۔ اس چیز کی طرف قرآن نے سورۂ روم (۳۰) آیت ۲۱ میں یوں اشارہ فرمایا ہے:

      ’اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً‘
      (اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان اس نے محبت اور غم گساری رکھی)۔

      اضداد کے اندر اس توافق و سازگاری کو قرآن نے توحید اور قیامت کی دلیل کی حیثیت سے جگہ جگہ پیش کیا ہے جس کی وضاحت ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔

       

      جاوید احمد غامدی اور تم کو جوڑوں کی صورت میں پیدا نہیں کیا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      تاکہ تم ایک دوسرے سے طمانیت اور سکینت حاصل کرو۔ یہاں سے اسلوب کلام اگرچہ الفاظ کے اعتبار سے خبریہ ہو گیا ہے ، لیکن معنوی لحاظ سے یہ ’اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا‘ ہی پر عطف ہے۔ ہم نے ترجمہ اِسی کے لحاظ سے کیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تمہاری نیند کو دافع کلفت نہیں بنایا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا‘۔ ’سبت‘ اور ’سبات‘ کے اصل معنی تو کانٹے کے ہیں لیکن یہاں یہ دفع کلفت اور راحت و سکون کے معنی میں ہے۔ نیند کو ’سبات‘ اس وجہ سے کہا کہ یہ حرکت و عمل کے تسلسل کو منقطع کر کے کلفت سے نجات دیتی اور راحت و سکون حاصل کرنے کا موقع بہم پہنچاتی ہے جس سے قویٰ تازہ دم ہو جاتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اور تمھاری نیند کو (تمھارے لیے) باعث راحت نہیں بنایا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں لفظ ’سُبَاتًا‘ استعمال ہوا ہے۔ اِس کے اصل معنی کاٹنے کے ہیں۔ نیند کو ’سُبَات‘ اِس وجہ سے کہا ہے کہ یہ عمل کو منقطع کرتی ہے اور اِس طرح انسان کو راحت اور سکون حاصل کرنے کا موقع بہم پہنچاتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی رات کو تمہارے لیے پردہ (اور دن کو وقت معاش) نہیں بنایا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا‘۔ رات کو تمہارے لیے لباس بنایا۔ رات کے لباس ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح لباس آدمی کو اپنے اندر چھپا لیتا اور سکون و اطمینان بخشتا ہے اسی طرح شب کی چادر بھی اس کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے جس سے وہ خلل انداز ہونے والی چیزوں سے محفوظ ہو کر سکون حاصل کرتا اور ازسرنو میدان عمل میں اترنے کے لیے صلاحیت بہم پہنچاتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور رات کو لباس (نہیں بنایا)؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ایک ایسی چیز جو انسان کو لباس کی طرح ہر چیز سے محفوظ کر کے اپنے اندر چھپا لیتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی (رات کو تمہارے لیے پردہ) اور دن کو وقت معاش نہیں بنایا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَّجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا‘ اور دن کو حصول معاش کی سرگرمیوں کا وقت بنایا۔
      ان نشانیوں کی طرف توجہ دلانے سے مقصود یہ ہے کہ جو شخص بھی ان پر غور کرے گا اس میں بصیرت ہو گی تو وہ لازماً اس نتیجے پر پہنچے گا کہ یہ رات اور دن نہ ازخود چکر کر رہے ہیں اور نہ ان کا یہ چکر بالکل بے غایت و بے مقصد ہے بلکہ ایک حکیم و قدیر پروردگار اپنی خدمت کے لیے ان کو اس سرگرمی کے ساتھ مصروف کیے ہوئے ہے تاکہ لوگ ان کی خدمت سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے اس رب کے شکرگزار رہیں جس نے ان کی معاش و معیشت اور راحت و آسائش کے لیے یہ عظیم اہتمام فرمایا ہے۔ ساتھ ہی یاد رکھیں کہ ربوبیت کا یہ اہتمام مستلزم ہے کہ ایک ایسا دن بھی آئے جس میں وہ دیکھے کہ کس نے اس دنیا میں آنکھیں کھول کر زندگی گزاری اور کون اندھے بہرے بنے رہے اور پھر دونوں کے ساتھ ان کے رویے کے مطابق معاملہ کرے۔

      جاوید احمد غامدی اور دن کو وقت معاش نہیں بنایا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی تمہارے اوپر سات محکم آسمان نہیں بنائے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَبَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعًا شِدَادًا‘۔ زمین کی نشانیوں کے بعد آسمان کی طرف توجہ دلائی۔ فرمایا اب اوپر دیکھو ہم نے تمہارے اوپر سات محکم آسمان بنائے۔ آسمان کا ذکر اگرچہ یہاں الفاظ میں نہیں ہے لیکن جو صفات مذکور ہیں وہ خود دلیل ہیں کہ مراد آسمان ہی ہے۔ ’شداد‘ سے مراد وہی بات ہے جو سورۂ ملک میں یوں فرمائی گئی ہے:

      خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِءًا وَّھُوَ حَسِیْرٌ.(الملک ۶۷: ۳-۴)
      ’’جس نے پیدا کیے ساتھ آسمان تہ بہ تہ۔ تم خدائے رحمان کی کاری گری میں کوئی خلل نہیں پا سکتے۔ تو نگاہ دوڑاؤ کہیں اس میں کوئی شگاف دیکھتے ہو! پھر نگاہ دوڑاؤ دوبارہ۔ نگاہ ناکام ہو کر تمہاری طرف پلٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہو گی۔‘‘

      مطلب یہ ہے کہ تم اس ناپیداکنار چھت کو جہاں تک دیکھو گے اس کو محکم اور بالکل بے خلل پاؤ گے کسی گوشے میں کسی ادنیٰ نقص کی بھی نشان دہی نہیں کر سکتے۔

       

      جاوید احمد غامدی اور تمھارے اوپر سات محکم آسمان نہیں بنائے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور اس کے اندر ایک روشن چراغ نہیں رکھا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا‘۔ اور آسمان میں ہم نے ایک روشن چراغ رکھا۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد سورج ہے۔ یہی سورج اس دنیا میں روشنی، حرارت اور قوت کا ذریعہ ہے۔ یہ نہ ہو تو یہ سارا عالم تیرہ و تار ہو جائے۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ آسمان اور زمین میں الگ الگ دیوتاؤں کی حکمرانی نہیں ہے بلکہ دونوں میں ایک ہی خدائے قادر و قیوم کی حکومت ہے ورنہ ان میں یہ سازگاری کس طرح وجود میں آئی کہ آسمان کا سورج زمین والوں کی اس طرح خدمت گزاری کرتا۔

      جاوید احمد غامدی اور (اِن میں) ایک دہکتا چراغ نہیں بنایا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی سورج۔

    • امین احسن اصلاحی اور کیا ہم نے پانی سے لبریز بدلیوں سے موسلا دھار پانی نہیں برسایا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا‘۔ ’مُعْصِرٰتِ‘ بادلوں کی صفت کے لیے معروف ہے۔ یہ صفت پانی سے لبریز بادلوں کے لیے بھی آتی ہے اور پانی نچوڑنے والی بدلیوں کے لیے بھی۔ دونوں صورتوں میں کوئی خاص فرق واقع نہیں ہو گا۔
      ’مَآءٌ ثَجَّاجٌ‘۔ زور دار، کثیر اور موسلادھار بارش کو کہتے ہیں۔
      بارش سے قرآن نے اپنے تمام بنیادی دعاوی پر دلیل قائم کی ہے جس کی تفصیلات گزر چکی ہیں۔ یہاں اگرچہ آسمان و زمین کے توافق کے پہلو سے توحید کی دلیل بھی اس میں موجود ہے لیکن خاص طور پر ربوبیت کا پہلو زیادہ نمایاں ہے جو مسؤلیت اور جزا و سزا کی نہایت اہم دلیلوں میں سے ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور نچڑتی بدلیوں سے چھاجوں مینہ نہیں برسایا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کہ اس کے ذریعہ سے اگائیں غلہ اور نباتات (اور گھنے باغ)؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’لِّنُخْرِجَ بِہ حَبًّا وَّنَبَاتًا وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا‘۔ فرمایا کہ آسمانوں سے یہ بارش ہم اس لیے برساتے ہیں کہ اس سے تمہارے لیے غلے اور تمہارے مویشیوں کے لیے گھاس اور سبزے اگائیں اور مزید برآں گھنے باغ۔

      جاوید احمد غامدی کہ اُس سے اناج اور سبزہ (اگائیں)؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی (کہ اس کے ذریعہ سے اگائیں غلہ اور نباتات) اور گھنے باغ؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’لِّنُخْرِجَ بِہ حَبًّا وَّنَبَاتًا وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا‘۔ فرمایا کہ آسمانوں سے یہ بارش ہم اس لیے برساتے ہیں کہ اس سے تمہارے لیے غلے اور تمہارے مویشیوں کے لیے گھاس اور سبزے اگائیں اور مزید برآں گھنے باغ۔

      جاوید احمد غامدی اور گھنے باغ اگائیں؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی بے شک فیصلہ کے دن کا وقت مقرر ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا‘۔ یہ اوپر کی ساری بحث و تفصیل کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ یہ اہتمام ربوبیت اور آسمان سے لے کر زمین تک یہ انتظام پرورش صاف گواہی دے رہا ہے کہ جس پروردگار نے یہ سب کچھ کیا ہے وہ انسان کو غیر مسؤل نہیں چھوڑے گا بلکہ لازماً ایک فیصلہ کا دن اس نے مقرر کر رکھا ہے جس میں وہ سب کو جمع کر کے فیصلہ کرے گا کہ کس نے اس کی ربوبیت کا حق پہچانا اور کس نے اس کی ناقدری کی۔ پھر ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔
      یہاں یہ آیت اس طرح آئی ہے گویا یہ یوم الفصل اس کائنات کے نظام کے اندر سے خود اپنی منادی کر رہا ہے۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس کو سن نہیں رہے ہیں۔ سعدیؒ نے کیا خوب بات کہی ہے:ع

      ابر و باد و مہ و خورشید و فلک درکارند
      تاتو نانے بکف آری و بغفلت نہ خوری

       

      جاوید احمد غامدی (یہ سب منادی کر رہا ہے کہ) یقیناًفیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس بات کی منادی کر رہا ہے کہ جس پروردگار نے انسان کے لیے ربوبیت کا یہ اہتمام کیا ہے، وہ اُسے غیر مسؤل نہ چھوڑے گا اور لازماً ایک ایسا دن لائے گا جس میں ہر ایک اپنے عمل کے مطابق جزا یا سزا پالے گا۔

    • امین احسن اصلاحی جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم آؤ گے فوج در فوج۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کی ہلچل کی تصویر: اوپر کی آیات میں یوم الفصل کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب ان آیات میں اس ہلچل کی تصویر کھینچی گئی ہے جو اس دن اس پوری کائنات میں برپا ہو گی اور ساتھ ہی وہ انجام بھی سامنے رکھ دیا گیا ہے جس سے سرکشوں اور نافرمانوں کو سابقہ پیش آئے گا۔
      ’یَوْمَ یُنفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَأْتُوْنَ أَفْوَاجًا‘۔ فرمایا کہ اس یوم الفصل کے لیے اللہ تعالیٰ تمہیں جمع کرنا چاہے گا تو اس کام میں اس کو ذرا بھی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ بس ایک صور پھونکا جائے گا اور تم فوج در فوج قبروں سے نکل کر اللہ کے داعی کی طرف چل کھڑے ہو گے۔ دوسرے مقام میں یہ تصریح بھی ہے کہ لوگ قبروں سے اس طرح نکلیں گے جس طرح ٹڈیاں نکلتی ہیں اور داعی کی طرف اس طرح بھاگیں گے کہ ذرا بھی راہ سے منحرف نہیں ہوں گے۔

      جاوید احمد غامدی جس دن صور پھونکا جائے گا تو فوج در فوج تم سب آؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور آسمان کھولا جائے گا تو اس میں دروازے ہی دروازے ہو جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَفُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتْ أَبْوَابًا‘۔ اور یہ آسمان جو آج نہایت محکم اور ایک گنبد بے در کی شکل میں نظر آتا ہے اس دن اس طرح کھول دیا جائے گا کہ اس میں ہر طرف دروازے ہی دروازے نظر آئیں گے۔

      جاوید احمد غامدی اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اُس میں دروازے ہی دروازے ہو جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور پہاڑ چلا دیے جائیں گے تو وہ بالکل سراب بن کر رہ جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَکَانَتْ سَرَابًا‘۔ اور یہ پہاڑ جو آج زمین میں گڑے ہوئے ہیں اس دن اکھاڑ کر چلا دیے جائیں گے، نیز آج وہ ٹھوس پتھر ہیں لیکن اس دن یہ ریت کے تودوں کی طرح پھُس پھُسے ہو جائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ سراب بن کر رہ جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List