Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 50 آیات ) Al-Mursalat Al-Mursalat
Go
  • المرسلات (Those Sent Forth, The Emissaries, Winds Sent Forth)

    50 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ اپنے عمود، تمہید اور طرزاستدلال کے اعتبار سے چھٹے گروپ کی سورۂ ذاریات سے اور اپنے اسلوب بیان اور مزاج میں سورۂ رحمان سے مشابہ ہے۔ سورۂ ذاریات میں، بطریق قسم، ہواؤں کے عجائب تصرفات سے عذاب اور قیامت پر استدلال کیا گیا ہے اور عمود اس کا ’إِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۵ وَّإِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ‘ ہے۔؂۱ اسی طرح اس سورہ میں بھی ہواؤں کے عجائب تصرفات کی بطور شہادت قسم کھا کر فرمایا ہے کہ ’إِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ‘ (بے شک جس چیز کی تمہیں وعید سنائی جا رہی ہے وہ ایک امرشدنی ہے)۔

    مزاج اور اسلوب کلام میں سورۂ رحمان سے اس کی مشابہت یوں ہے کہ جس طرح وہ ترجیع والی سورتوں میں سے ہے، آیت ’فَبِأَیِّ آلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ‘ اس میں بار بار آئی ہے، اسی طرح اس سورہ میں آیت ’وَیْْلٌ یَوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ‘؂۲ دس بار آئی ہے۔ ترجیع والی سورتوں کے باب میں، یہ اصولی حقیقت سورۂ رحمان کی تفسیر میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ ان میں خطاب بالعموم ان ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں سے ہے جو ایک واضح حقیقت کو محض مکابرت اور انانیت کی بنا پر، جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے کان اور آنکھیں کھولنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ متکلم صرف اپنے دلائل بیان کر دینے ہی پر اکتفا نہ کرے بلکہ ہر دلیل کے بعد بطور تنبیہ ان کے جرم اور انجام سے ان کو آگاہ بھی کرتا رہے۔ مخاطب کے اس مزاج کی رعایت ملحوظ نہ رکھی جائے تو جس طرح مریض کے مزاج سے ناواقف معالج کی دوا بے اثر رہ جاتی ہے اسی طرح مخاطب کے مزاج سے ناآشنا متکلم کا کلام بھی بے اثر ہو کے رہ جاتا ہے۔ مخاطبوں کے مزاج کا اختلاف ایک امر فطری ہے اس وجہ سے اس کا لحاظ بلاغت کلام کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ جو لوگ اس نکتہ سے نا آشنا ہیں وہ قرآن کی اس نوع کی ترجیعات کو تکرار پر محمول کرتے ہیں حالانکہ کلام کے ادا شناس جانتے ہیں کہ قرآن میں ہر ترجیع اپنے محل میں انگشتری پر نگینہ کا حسن رکھتی ہے۔

    سابق سورہ سے اس کے تعلق کی نوعیت یہ ہے کہ اس میں استدلال کی اصل بنیاد نفس انسانی کی شہادت پر ہے۔ فطرت کے اندر خیر و شر کے درمیان امتیاز کی جو صلاحیت ودیعت ہے اس کی اساس پر جزا و سزا کو ثابت کر کے ایک روز جزا سے ان لوگوں کو ڈرایا گیا ہے جو اس بدیہی حقیقت کو جھٹلائیں اور ان لوگوں کو بشارت دی گئی ہے جو اپنے باطن کی گواہی قبول کریں اور اپنی زندگیاں اس کے تقاضوں کے مطابق سنواریں۔ اس سورہ میں اصل استدلال آفاق کے آثار و شواہد سے ہے۔ کسی انفسی دلیل کا حوالہ ہے تو محض اشارۃً۔ گویا نوعیت استدلال دونوں میں الگ الگ ہے، موضوع کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ البتہ مزاج میں یہ فرق بالکل واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ سابق میں بشارت کا پہلو نمایاں ہے اور اس میں انذار کا۔ اس کی سب سے بڑی شہادت اس کی ترجیع سے ملتی ہے۔

    _____
    ؂۱ جس عذاب کی تمہیں وعید سنائی جا رہی ہے وہ سچی ہے اور جزاء و سزا ایک امر شدنی ہے۔
    ؂۲ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی۔

  • المرسلات (Those Sent Forth, The Emissaries, Winds Sent Forth)

    50 آیات | مکی
    المرسلات - النبا

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ آفاق کے آثار و شواہد، تاریخ کے حقائق اور انسان کی خلقت میں خدا کی قدرت و حکمت کی نشانیوں سے قیامت کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں یہی دعویٰ آفاق میں بالخصوص خدا کی ربوبیت کے آثار و شواہد سے ثابت کیا گیا ہے۔ دونوں میں دلائل کے پہلو بہ پہلو زجر و توبیخ اور تہدید و ملامت، ہر آیت سے نمایاں ہے۔

    روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو انذار ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی شاہد ہیں ہوائیں جن کی باگ چھوڑ دی جاتی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عذاب کے شدنی ہونے پر شہادت: ’مُرْسَلَاتِ‘ کے معنی چھوڑی ہوئی کے ہیں۔ یہ لفظ یہاں ہواؤں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں نے اس سے ملائکہ کو بھی مراد لیا ہے لیکن بعد کی صفات، جیسا کہ واضح ہو گا، اس سے ابا کرتی ہیں۔ اس خیال کی بنیاد صرف اس غلط فہمی پر ہے کہ یہاں ’و‘ قسم کے لیے ہے اور عام خیال کے مطابق قسم کسی مقدس چیز کی ہونی چاہیے اس وجہ سے انھوں نے ’مُرْسَلَاتِ‘ سے فرشتوں کو مراد لیا۔ لیکن ہم جگہ جگہ تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ قرآن میں قسمیں بیشتر شہادت یعنی دعوے پر دلیل کی نوعیت کی ہیں۔ یہ قسم بھی اسی نوع کی ہے۔ جس طرح سورۂ ذاریات میں ہواؤں کی قسم عذاب اور جزا و سزا کے حق ہونے پر کھائی گئی ہے اسی طرح یہ قسم بھی وعدۂ عذاب و قیامت کے شدنی ہونے پر کھائی گئی ہے۔
      لفظ ’عُرْفٌ‘ گھوڑے کی ایال کے بالوں کے لیے آتا ہے جو پیشانی پر لٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس معنی کے لیے یہ ایک معروف لفظ ہے۔ امرؤ القیس کا مشہور شعر ہے:

      نمش باعراف الجیاد اکفنا
      اذا نحن قمنا عن شواء مضھّبٖ

      (جب ہم شکار کا کچا پکا گوشت کھا کر اٹھتے تو گھوڑوں کی ایال میں اپنے ہاتھ پونچھ لیتے)

      گھوڑوں کی ایال پکڑ کر ان کو روکا بھی جا سکتا ہے اور اس کو چھوڑ کر ان کو جولانی کے لیے چھوڑا بھی جا سکتا ہے۔ آیت میں ہواؤں کو گھوڑوں سے اور ان کے آزاد کرنے کو ان کی ایال چھوڑنے سے تعبیر فرمایا ہے اور یہ تعبیر نہایت بلیغ ہے۔ اس سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہوائیں نہ خودکار ہیں نہ خودمختار بلکہ ان کی پیشانی خدا کی مٹھی میں ہے۔ جب وہ چاہتا ہے ان کو روک لیتا ہے اور جب چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے۔ فرمایا ہے:

      ’مَا مِنْ دَآبَّۃٍ إِلاَّ ہُوَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہَا‘ (ہود ۱۱: ۵۶)
      (نہیں ہے کوئی جاندار مگر وہ اس کی پیشانی کے بال کو پکڑے ہوئے ہے)۔

       

      جاوید احمد غامدی یہ ہوائیں جن کی باگ چھوڑ دی جاتی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا‘۔ ’مُرْسَلٰت‘ کے معنی چھوڑی ہوئی کے ہیں۔ یہ لفظ یہاں ہواؤں کے لیے آیا ہے۔ ’عُرْف‘ ایال کے اُن بالوں کے لیے آتا ہے جو گھوڑوں کی پیشانی پر لٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ اِن بالوں کو پکڑ کر گھوڑوں کو روکا بھی جا سکتا ہے اور اِن کو چھوڑ کر اُنھیں جولانی کے لیے چھوڑا بھی جا سکتا ہے۔ قرآن نے یہاں ہواؤں کو گھوڑوں سے اور اُنھیں چھوڑ دینے کوگھوڑوں کی ایال چھوڑ دینے سے تعبیر کرکے غایت درجہ بلاغت کے ساتھ اِس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ ہوائیں خود مختار نہیں ہیں۔ اِن کی پیشانی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جب چاہتا ہے، اِنھیں روک لیتا ہے اور جب چاہتا ہے ، چھوڑ دیتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پس وہ اڑاتی ہیں غبار اندھا دھند۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’عَصْفٌ‘ کے معنی بگٹٹ اور اندھا دھند چلنے کے ہیں۔ فرمایا ہے:

      ’حَتّٰی إِذَا کُنتُمْ فِی الْفُلْکِ وَجَرَیْْنَ بِہِم بِرِیْحٍ طَیِّبَۃٍ وَفَرِحُوۡا بِہَا جَآءَ تْہَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَجَآءَ ہُمُ الْمَوْجُ مِن کُلِّ مَکَانٍ‘ (یونس ۱۰: ۲۲)
      (یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو لے کر چلتی ہیں موافق ہوا کے ساتھ اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں دفعۃً نمودار ہو جاتی ہے بادتند اور ان کو گھیر لیتی ہیں موجیں ہر جانب سے)۔

      یہ ان ہواؤں کا دوسرا مرحلہ بیان ہوا ہے کہ چھوڑے جانے کے بعد وہ بگٹٹ ہو کر اندھا دھند چلنے لگتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو تند ہو کر بالآخر طوفان اور عذاب بن جاتی ہیں اور قوم کی قوم کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں۔ ان کے عجائب تصرفات کی تاریخ قرآن میں تفصیل سے بیان ہو چکی ہے اور آج بھی ان کی تباہ کاریوں کے تجربات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔

       

      جاوید احمد غامدی پھر وہ اندھا دھند غبار اڑاتی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور شاہد ہیں ہوائیں پھیلانے والی (بادلوں کو)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ابر رحمت والی ہوائیں: ’نَشْرٌ‘ کے معنی پھیلانے، چھینٹنے، ابھارنے، اگانے کے ہیں۔ یہ لفظ ان تمام معانی میں، قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں اس سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو ابر رحمت لاتی ہیں۔ اس لیے کہ ان میں ’نشر‘ کے مختلف پہلو موجود ہیں۔ یہ بادلوں کو ابھارتی ہیں، پھر ان کو فضا میں پھیلاتی ہیں، پھر اپنے رب کی رحمت کو چھینٹتی اور نباتات لگا کر زمین کو سرسبز و شاداب بناتی ہیں۔ فرمایا ہے:

      ’وَہُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوۡا وَیَنۡشُرُ رَحْمَتَہٗ‘ (الشوریٰ ۴۲: ۲۸)
      (اور وہی ہے جو نازل کرتا ہے بارش بعد اس کے کہ لوگ اسے مایوس ہو چکے ہوتے ہیں اور پھیلاتا ہے اپنی رحمت)۔

      اوپر کی قسم تو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، طوفانی ہواؤں کی ہے اور یہ قسم ابررحمت والی ہواؤں کی ہے جن پر زندگی کے قیام و بقا کا انحصار ہے۔
      یہاں زبان کا یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ ’عَاصِفَاتِ‘ کو ’اَلْمُرْسَلَاتِ‘ پر ’ف‘ کے ساتھ عطف کر کے اس کی تدریجی ترقی کو واضح کر دیا۔ اس کے برخلاف اس آیت میں حرف عطف ’و‘ آیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سابق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مستقل وصف ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اور یہ ہوائیں جو بادلوں کو اٹھا کر پھیلاتی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’وَالنّٰشِرٰتِ نَشْرًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس سے پچھلی آیت میں ’عٰصِفٰت‘ کا عطف ’ف‘ کے ساتھ ہے۔ قرآن نے ’النّٰشِرٰت‘ کو ’و‘ کے ساتھ عطف کرکے واضح کردیا ہے کہ ہواؤں کی پہلی قسم سے یہ دوسری قسم الگ ہے۔ پہلی قسم طوفانی ہواؤں کی ہے جو تند ہو کر بستیوں کے لیے عذاب بن جاتی ہیں۔ یہ دوسری قسم اُن ہواؤں کی ہے جو رحمت کے بادل اپنے دوش پر اٹھا کر لاتی ہیں، پھر اُنھیں فضا میں پھیلا دیتی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی پھر وہ معاملہ کرتی ہیں جدا جدا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ہوائیں خود مختار نہیں بلکہ مسخّر ہیں: یہ وہی مضمون ہے جو سورۂ ذاریات میں ’فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے یعنی یہ ہوائی فرق و امتیاز کرتی ہیں۔ کبھی بادلوں کو ہانک کر لاتی ہیں کبھی ان کو اڑا کر لے جاتی ہیں۔ ایک علاقہ کو جل تھل کر دیتی ہیں، دوسرے کو تشنہ چھوڑ جاتی ہیں۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ خود کار و خود مختار نہیں بلکہ ایک بالا تر قوت کے تابع فرمان ہیں۔ یہ فرق و امتیاز چونکہ ’نشر‘ کے ذریعہ سے اور اس کے بعد نمایاں ہوتا ہے اس وجہ سے عطف ’ف‘ کے ذریعہ سے ہوا۔

      جاوید احمد غامدی پھر بانٹ کر الگ الگ معاملہ کرتی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی کسی جگہ بادل ہانک کر لاتی ہیں، کسی جگہ سے اُنھیں اڑا لے جاتی ہیں۔ ایک جگہ برسا دیتی ہیں، دوسری کو پیاسا چھوڑ جاتی ہیں۔ یہاں یہ امرملحوظ رہے کہ یہ سب معاملات چونکہ ’نشر‘ کے بعد اور اِس کے ذریعے سے ہوتے ہیں، اِس وجہ سے ’فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا‘ اور ’فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا‘ اصل میں ’ف‘ کے ساتھ عطف ہوئے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی پھر ڈالتی ہیں یاددہانی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ہواؤں کی یاددہانی: یعنی بارش کے ساتھ ساتھ یہ لوگوں پر یاددہانی بھی اتارتی ہیں۔
      بارش جن باتوں کی تذکیر کرتی ہے وہ قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہیں اور ان کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ یہاں چند نمایاں پہلو ذہن میں تازہ کر لیجیے۔
      o یہ آسمان و زمین میں توافق کے پہلو سے توحید اور اللہ ہی کی شکرگزاری کی یاددہانی کرتی ہے۔
      o اس کے اندر خدا کی ربوبیت کی جو شان ہے وہ خدا کے آگے مسؤلیت کی یاددہانی کرتی ہے۔
      o مردہ زمین کو زندہ کر کے یہ بعث اور حشر و نشر کی یاددہانی کرتی ہے۔
      o کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے عذاب بن کر یہ خدا کے اختیار مطلق اور اس کے عذاب و ثواب کی یاددہانی کرتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی پھر (دلوں میں) یاد دہانی ڈالتی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی الگ الگ معاملہ کر کے انسانوں پر خدا کے اختیار مطلق کی یاددہانی دلوں میں ڈالتی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اتمام حجت کے طور پر یا آگاہ کر دینے کو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ مقصد بیان ہوا ہے ان کرشموں کا جو ہواؤں کے تصرفات سے ہر انسان کے مشاہدے میں آتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ کرشمے اللہ تعالیٰ لوگوں پر اتمام حجت یا ان کو بیدار کرنے کے لیے دکھاتا ہے۔ ’اَوْ‘ یہاں تقسیم کے لیے ہے۔ یعنی ان لوگوں پر حجت تمام ہو جاتی ہے جو غفلت کی سرمستی میں پڑے رہنا چاہتے ہیں اور ان لوگوں کو یاددہانی حاصل ہوتی ہے جو یاددہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سورۂ اعراف میں مصلحین کے ایک گروہ کا قول نقل ہوا ہے جس سے اس ’عُذْرٌ‘ اور ’نُذْرٌ‘ کی وضاحت ہوتی ہے:

      وَإِذَ قَالَتْ أُمَّۃٌ مِّنْہُمْ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوْمًا نِ اللہُ مُہْلِکُہُمْ أَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا قَالُوۡا مَعْذِرَۃً إِلٰی رَبِّکُمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَّقُوۡنَ (الاعراف ۷: ۱۶۴)
      ’’اور جب کہ ان سے ایک گروہ نے کہا کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے سے کیا فائدہ جن کو اللہ تعالیٰ یا تو ہلاک کر دینے والا ہے یا ایک سخت عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ تمہارے رب کے حضور معذرت کے لیے اور اس لیے بھی کہ شاید وہ ڈریں۔‘‘

      یعنی یہ لوگ اگر ہماری نصیحت نہ مانیں گے تو ہم اپنے فرض نصیحت سے سبکدوش ہو جائیں گے، ہم پر کوئی ذمہ داری عند اللہ باقی نہیں رہے گی۔ پھر ذمہ داری ان کی ہو گی اور یہ قیامت کے دن اپنی گمراہی کے لیے کوئی عذر نہ پیش کر سکیں گے اور اگر ہماری بات مان کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے بن گئے تو یہی مقصود ہے۔ یہ چیز ان کے لیے بھی باعث برکت و رحمت ہو گی اور ہمارے لیے بھی۔

       

      جاوید احمد غامدی کسی پر اتمام حجت اور کسی کو انذار کے لیے، یہ گواہی دیتی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس مفہوم کے لیے اصل میں ’عُذْرًا اَوْ نُذْرًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں حرف ’اَوْ‘ تقسیم کے لیے ہے، یعنی اتمام حجت اُن کے لیے جو غفلت کی سرمستی میں پڑے رہنا چاہتے ہیں اور انذار اُن کے لیے جو یاددہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
      یعنی اِس طرح خدا کے اختیار مطلق اور اُس کے عذاب و ثواب کی علامت بن کر گواہی دیتی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی بے شک جو وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے وہ شدنی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قسموں کا مقصود: یہ مذکورہ قسموں کا مقسم علیہ ہے۔ فرمایا کہ جس بات کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ واقع ہو کے رہے گی۔ ’تُوْعَدُوْنَ‘ یہاں عام ہے، اس میں وعدہ اور ’وعید‘ دونوں شامل ہے لیکن یہ سورہ، جیسا کہ ہم تمہید میں اشارہ کر چکے ہیں، انذار کی ہے اس وجہ سے یہاں وعید کا پہلو غالب ہے۔ یعنی جس عذاب اور قیامت سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ اٹل ہے، اس سے تمہیں سابقہ پیش آ کے رہے گا۔
      عذاب اور قیامت پر ہواؤں کے تصرفات کی شہادت گوناگوں پہلوؤں سے پچھلی سورتوں میں بیان ہو چکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو سورۂ ذاریات کی تفسیر پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب اور قیامت کے مکذبین کو ہواؤں کے تصرفات کی طرف توجہ دلا کر متنبہ فرمایا ہے کہ اپنی قوت و سطوت پر زیادہ ناز نہ فرماؤ۔ اللہ عذاب لانا چاہے تو اسے کوئی بڑا اہتمام نہیں کرنا ہے۔ جس ہوا کی لائی ہوئی بارش سے جیتے ہو اسی کے پیچ ذرا ڈھیلے چھوڑ دے تو چشم زدن میں تمہاری ہستی کا نام و نشان ہی مٹ جائے۔ اس دنیا میں کتنی ہی قومیں گزری ہیں جن کو ہوا ہی نے خس و خاشاک کی طرح اڑا دیا۔

      جاوید احمد غامدی کہ جس عذاب کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے، وہ آ کر رہے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پس جب کہ ستارے بے نشان کر دیے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کی ہلچل کی تصویر: ان آیتوں میں قیامت کی ہلچل کی تصویر ہے کہ اس دن اس کائنات کی وہ چیزیں جو بہت عظیم، بڑی ہی پرشوکت اور بالکل غیر فانی اور لازوال نظر آتی ہیں اور جن کو دیکھ کر تم گمان کرتے ہو کہ بھلا ان کو ان کی جگہ سے کون ہلا سکتا ہے وہ بالکل بے نشان اور بے حقیقت ہو کے رہ جائیں گی۔ ہواؤں کے لائے ہوئے طوفانوں سے بڑے بڑے شہروں، محلوں اور قلعوں کو جس طرح بے نشان ہوتے دیکھا ہے اسی طرح اس دن ایسی ہلچل برپا ہو گی کہ ستارے بے نشان ہو جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور زمین کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔
      ’طمس‘ کے معنی کسی چیز کو مٹا دینے اور بے نشان کر دینے کے ہیں۔ فرمایا ہے:

      ’مِّنْ قَبْلِ أَنْ نَّطْمِسَ وُجُوۡہًا فَنَرُدَّہَا عَلٰی أَدْبَارِہَا‘ (النساء ۴: ۴۷)
      (قبل اس کے کہ ہم چہروں کو مٹا دیں اور ان کو ان کے پیچھے پھیر دیں)۔

      ’فَإِذَا النُّجُوۡمُ طُمِسَتْ‘ کے معنی ہوں گے، پس جب کہ ستارے بے نور اور بے نشان کر دیے جائیں گے۔ یہی بات دوسرے مقام میں ’وَإِذَا النُّجُوۡمُ انْکَدَرَتْ‘ (التکویر ۸۱: ۲) اور ’وَإِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ‘ (الانفطار ۸۲: ۲) کے الفاظ میں فرمائی گئی ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اِس لیے جب ستارے مٹا دیے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی آسمان پھٹ جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَإِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْ‘۔ یعنی یہ آسمان جس میں کہیں کسی شگاف اور دراڑ کی نشان دہی نہیں کی جا سکتی، جو بالکل ٹھوس اور محکم نظر آتا ہے قیامت کے دن پھٹ جائے گا۔ قرآن کے دوسرے مقام میں فرمایا ہے: ’وَفُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتْ اَبْوَابًا‘ (اور آسمان کھول دیا جائے گا تو وہ دروازے دروازے بن کے رہ جائے گا)۔ سورۂ انفطار میں فرمایا ہے:

      ’إِذَا السَّمَاء انفَطَرَتْ‘ (الانفطار ۸۲: ۱)
      (اس دن کو یاد رکھو جس دن آسمان پاش پاش ہو جائے گا)۔

       

      جاوید احمد غامدی اور آسمان پھٹ جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ‘۔ ’نَسْفٌ‘ کے معنی ریزہ ریزہ کر دینے، پیس دینے، پراگندہ کر دینے کے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ متعدد مقامات میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً

      ’وَانْظُرْ إِلٰٓی إِلٰہِکَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْہِ عَاکِفًا لَّنُحَرِّقَنَّہُ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّہُ فِی الْیَمِّ نَسْفًا‘ (طٰہٰ ۲۰: ۹۷)
      (اور اپنے اس دیوتا کو، جس پر تو معتکف رہا ہے، دیکھ، ہم اس کو جلائیں گے پھر اس کو ریزی ریزہ کر کے سمندر میں بکھیر دیں گے)۔

      خود پہاڑوں سے متعلق، منکرین قیامت کے سوال کا جواب ان الفاظ میں دیا گیا ہے:

      ’وَیَسْئَلُوۡنَکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنۡسِفُہَا رَبِّیْ نَسْفًا ۵ فَیَذَرُہَا قَاعًا صَفْصَفًا‘ (طٰہٰ ۲۰: ۱۰۵-۱۰۶)
      (اور وہ تم سے پہاڑوں کی بابت سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو، میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کر دے گا اور زمین کو صفا چٹ چھوڑ دے گا)۔


      بعض مقامات میں یہ بات بھی فرمائی گئی ہے کہ قیامت کے دن پہاڑ تودۂ ریگ (کثیب مھیل) اور شراب کے مانند ہو جائیں گے۔
      اوپر کی دو آیتوں میں آسمان کا حشر بیان ہوا تھا، اس آیت میں زمین پر جو کچھ گزرے گی اس کی طرف اشارہ ہے۔ زمین کی چیزوں میں، استحکام اور وسعت و عظمت کے اعتبار سے، سب سے زیادہ اونچا درجہ پہاڑوں ہی کا ہے۔ چنانچہ کفار قیامت کا مذاق اڑاتے تو یہ سوال بھی کرتے کہ قیامت آئے گی تو ان پہاڑوں کا کیا بنے گا، کیا ان کو بھی وہ توڑ پھوڑ دے گی! یہاں پہاڑوں کا انجام بیان کر کے گویا اس پوری زمین کا حشر بیان کر دیا کہ جب پہاڑوں پر، جن کو لوگ اٹل خیال کرتے ہیں یہ گزرے گی تو دوسری چیزوں کا جو حال ہو گا اس کے بیان کی ضرورت نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور رسولوں کے لیے وقت مقرر ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رسولوں اور ان کی قوموں کے مقدمہ کی روبکاری: یہ اس اصل ہولناکی کا بیان ہے جس کی تمہید کے طور پر اوپر کی ہولناکیاں بیان ہوئی ہیں یعنی اس دن رسولوں کے لیے وقت مقرر ہو گا۔ ان کے لیے وقت مقرر کرنے سے مقصود ظاہر ہے کہ یہی ہے کہ ایک مقررہ وقت پر وہ دربار الٰہی میں حاضر ہو کر اپنی قوموں کی موجودگی میں یہ بتائیں کہ جس فریضۂ انذار پر وہ مامور کیے گئے تھے وہ انھوں نے انجام دیا یا نہیں؟ اگر انجام دیا تو قوموں نے ان کو کیا جواب دیا؟ قرآن کے دوسرے مقامات میں رسولوں کے اس مقصد کے لیے جمع اور بارگاہ الٰہی میں ان کی قوموں کے رویہ سے متعلق سوال کیے جانے اور ان کے گواہی دینے کا ذکر تفصیل سے ہوا ہے۔ سورۂ مائدہ کی آیت ۱۰۹ ’یَوْمَ یَجْمَعُ اللہُ الرُّسُلَ فَیَقُوۡلُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوۡا لاَ عِلْمَ لَنَا إِنَّکَ أَنۡتَ عَلاَّمُ الْغُیُوۡبِ‘ کے تحت ہم اس کی تفصیل پیش کر چکے ہیں۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے کہ اس دن رسولوں اور ان کی قوموں کے مقدمہ کی روبکاری ہو گی۔ اللہ تعالیٰ رسولوں کی حاضری کے لیے بھی وقت مقرر فرمائے گا اور ان کی قوموں کی حاضری کے لیے بھی سمن جاری ہو گا۔ مزید تفصیل مطلوب ہو تو سورۂ اعراف کی آیت ۶-۷ کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
      فیصلہ کے دن کی اہمیت: ’اُقِّتَتْ‘ دراصل ’وُقِّتَتْ‘ کی بدلی ہوئی صورت ہے۔ عربی زبان میں الفاظ کے اندر اس طرح کا تصرف ہو جایا کرتا ہے۔ ’الرُّسُلُ اُقِّتَتْ‘ کے معنی ہوں گے رسولوں کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ یہ اسی طرح کا اسلوب ہے جس طرح کہتے ہیں ’الغنی خادمًا‘ یعنی ’ابغ لی خادمًا‘۔

      جاوید احمد غامدی اور رسولوں کے لیے (اُن کے پروردگار کے حضور میں) حاضری کا وقت مقرر ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’اِذَا الرُّسْلُ اُقِّتَتْ‘ یہ ’اُقِّتَتْ‘ درحقیقت ’وقتت‘ ہے۔ اِس جملے میں وہی اسلوب ہے جو عربی زبان میں مثال کے طور پر ’أبغنی خادمًا‘ جیسے جملوں میں اختیار کیا جاتا ہے، یعنی ’أبغ لی خادمًا‘۔ رسولوں کی جس حاضری کا اِس میں ذکر ہوا ہے، وہ اِس لیے ہو گی کہ اپنی قوموں کے سامنے وہ یہ بتائیں کہ انذار کی جو ذمہ داری اُنھیں سونپی گئی تھی، وہ اُنھوں نے پوری کی یا نہیں، اور پوری کی تو قوموں کی طرف سے اُنھیں کیا جواب ملا؟

    • امین احسن اصلاحی کس دن کے لیے وہ ٹالے گئے ہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جب اس دن کے ذکر تک بات پہنچ گئی تو اس کی عظمت و ہیبت کے بیان کے لیے یہ سوال مخاطبوں کے سامنے رکھ دیا کہ کچھ سمجھے کہ کس عظیم دن پر ہم نے ان رسولوں کی پیشی کو ٹالا ہے! اس کے بعد خود ہی جواب دیا ہے کہ نہ جانتے ہو تو کان کھول کر سن لو کہ ’لِیَوْمِ الْفَصْلِ‘ فیصلہ کے دن پر ٹالا ہے یعنی وہ دن ہماری عدالت کا دن ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی (جانتے ہو کہ) اُن کو (اِس حاضری میں) کس دن کے لیے دیر ہوئی؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی فیصلہ کے دن کے لیے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جب اس دن کے ذکر تک بات پہنچ گئی تو اس کی عظمت و ہیبت کے بیان کے لیے یہ سوال مخاطبوں کے سامنے رکھ دیا کہ کچھ سمجھے کہ کس عظیم دن پر ہم نے ان رسولوں کی پیشی کو ٹالا ہے! اس کے بعد خود ہی جواب دیا ہے کہ نہ جانتے ہو تو کان کھول کر سن لو کہ ’لِیَوْمِ الْفَصْلِ‘ فیصلہ کے دن پر ٹالا ہے یعنی وہ دن ہماری عدالت کا دن ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی اِسی فیصلے کے دن کے لیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور تم کیا سمجھے کیا ہے فیصلہ کا دن! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اسلوب کلام، جگہ جگہ ہم وضاحت کر چکے ہیں کہ کسی چیز کی عظمت و ہیبت کے اظہار کے لیے آتا ہے۔ جس طرح ’لِأَیِّ یَوْمٍ أُجِّلَتْ‘ کے سوال سے اس کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے اسی طرح اس سوال سے اس دن کے فیصلہ کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔ گویا اس کی عظمت دو بار یاد دلا دی گئی۔

      جاوید احمد غامدی اور تم کیا سمجھے کہ یہ فیصلے کا دن کیا ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      کس دن کے لیے دیر ہوئی؟‘ تم کیا سمجھے کہ یہ فیصلے کا دن کیا ہے؟ یہ اسالیب کلام قرآن میں بالعموم کسی چیز کی ہیبت و عظمت ظاہر کرنے کے لیے آتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس دن کے فیصلہ کے نتیجے کا بیان ہے کہ اس دن ان لوگوں کی تباہی ہے جو اس کے جھٹلانے والے بنے رہے!
      زبان کا ایک اسلوب: یہ آیت، جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں، اس سورہ میں بار بار آئے گی اور ہر جگہ اپنے ماسبق سے گہرے ربط کے باوصف، اس کی حیثیت بالکل مستقل ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو اس شرط کا جواب قرار دیا ہے جو اوپر مذکور ہوئی ہے لیکن یہ رائے عربیت کے خلاف ہے۔ اگر یہ جواب شرط کے محل میں ہوتی تو اس پر ’ف‘ آنی تھی (الّا آنکہ جواب جملہ فعلیہ یا ظرفیہ ہو) مثلاً فرمایا ہے: ’فَإِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ ۵ فَذٰلِکَ یَوْمَئِذٍ یَوْمٌ عَسِیْرٌ‘ (المدثر ۷۴: ۸-۹) دوسرے مقام میں ہے: ’یَوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًا ۵ وَتَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًا ۵ فَوَیْلٌ یَوْمَئِذٍ لِلْمُکَذِّبِیْنَ‘ (الطور ۵۲: ۹-۱۱) اس قاعدے کی وضاحت ہم نے اس لیے ضروری سمجھی کہ اس جملہ کو جواب شرط مان کر اس کی تاویل کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس کی تاویل صحیح نہیں ہو گی۔ آگے اس کے مواقع پر اس کی وضاحت ان شاء اللہ ہو جائے گی۔ یہاں جواب شرط محذوف ہے جس طرح ’إِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتْ ۵ وَأَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ ۵ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ ۵ وَأَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ ۵ وَأَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ ۵ یٰٓاَیُّہَا الْإِنۡسَانُ إِنَّکَ کَادِحٌ إِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلَاقِیْہِ‘ (الانشقاق ۸۴: ۱-۶) میں محذوف ہے۔ جواب کے محذوف ہونے ہی کی وجہ سے یہ آیت اتنے گوناگوں پہلوؤں کی جامع بن گئی ہے کہ اس سورہ کے تقریباً ہر پیرے کے بعد یہ آئی ہے اور ہر جگہ اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      ترجیع کا یہ جملہ ’اِذَا‘ کا جواب نہیں ہے۔ ’اِذَا‘ کا جواب اِن آیتوں میں شرط ہی سے واضح ہے،چنانچہ حذف کر دیا ہے۔ اِس جملے کی حیثیت یہاں اپنے ماقبل سے گہرے ربط کے باوجود ایک مستقل جملے کی ہے۔ اِس سورہ کے تقریباً ہر پیرے کے بعد یہ بالکل اِسی طرح آیا ہے، اور اِس کے نتیجے میں اتنے مختلف پہلوؤں کا جامع بن گیا ہے کہ موقع و محل کی مناسبت سے ہر جگہ اپنا ایک خاص مفہوم رکھتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دعوے کی تائید میں آفاقی شواہد: یہ اسی دعوے کی تائید میں جو ’إِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ‘ (۷) کے الفاظ میں اوپر مذکور ہوا، تاریخ کے آفاقی شواہد کی طرف اشارہ ہے۔ فرمایا کہ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے تمہارے اگلوں کو ہلاک کیا اور انہی کے پیچھے ان کے بعد والوں کو بھی لگاتے رہے؟ یہ اشارہ ظاہر ہے کہ قوم نوح، عاد اور ثمود اور ان کے بعد آنے والی ان قوموں کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں تفصیل سے قرآن میں بیان ہوئی ہیں مثلاً قوم لوط، مدین اور قوم فرعون وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ جب تاریخ مسلسل اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ جن قوموں نے رسولوں اور ان کے انذار کی تکذیب کی ہم نے ان کو ہلاک کر دیا تو آخر انہی کی روش پر چلنے والے آج کے مجرموں کے باب میں ہماری سنت کیوں بدل جائے گی!

      جاوید احمد غامدی (یہ جھٹلاتے ہیں تو بتائیں)، کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      فیصلے کے دن پر یہ اب اُن قوموں کی تاریخ سے استدلال ہے، جو رسولوں کو جھٹلانے کے نتیجے میں ہلاک کر دی گئیں اور جن کی سرگذشتیں بڑی تفصیل کے ساتھ قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی پھر ان کے پیچھے پچھلوں کو نہیں لگاتے رہے ہیں؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ثُمَّ نُتْبِعُہُمُ الْآخِرِیْنَ‘۔ میں میرے نزدیک فعل ناقص محذوف ہے۔ اس حذف کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اگلوں کے بعد ان کی روش کی تقلید کرنے والے پچھلوں کو بھی ہم برابر ان کے پیچھے لگاتے رہے ہیں۔ سنت الٰہی کا یہ تسلسل اس بات کی دلیل ہے کہ اس متواتر سنت میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہی پہلے ہوا ہے اور یہی آئندہ ہو گا اور یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ کے رسولوں نے جس فیصلہ کے دن یعنی آخرت سے لوگوں کو ڈرایا ہے وہ بھی لازماً ظہور میں آ کے رہے گا۔

      جاوید احمد غامدی پھر اِن کے پچھلوں کو کیا ہم اِنھی کے پیچھے نہیں لگاتے رہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’ثُمَّ نُتْبِعُھُمُ الْاٰخِرِیْنَ‘۔ اِس جملے میں فعل ناقص حذف ہے، یعنی ’کُنَّا نُتْبِعُھُم‘۔ مطلب یہ ہے کہ ہماری یہ سنت ہمیشہ جاری رہی ہے۔ اِس میں کوئی تبدیلی نہ اِس سے پہلے کبھی ہوئی ہے ، نہ اب تمھارے معاملے میں ہو گی۔

    • امین احسن اصلاحی ہم مجرموں کے ساتھ یہی معاملہ کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ‘۔ اگرچہ یہ ایک کلیہ بیان ہوا ہے کہ ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے آئے ہیں اور ایسا ہی کریں گے لیکن اس میں خاص طور پر قریش کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ہم یہی معاملہ ان کے ساتھ بھی کریں گے۔ اگر یہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے اور قیامت کے دن جو حشر تمام مجرموں کا ہو گا وہی حشر ان کا بھی ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کے لیے یکساں ہے۔

      جاوید احمد غامدی ہم مجرموں کے ساتھ یہی کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہلاکی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس کے بعد وہی ترجیع والی آیت ہے جو اوپر گزر چکی ہے۔ اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے لفظ ’وَیْلٌ‘ نے یہاں عذاب کی ان تمام قسموں کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے جن سے مجرموں کو اس دن سابقہ پیش آئے گا اور جن کی تفصیل قرآن میں بیان ہوئی ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ ایک مختصر لفظ ہے لیکن اس کے اختصار و ابہام کے اندر جو ہولناکی مضمر ہے وہ بڑی سے بڑی تفصیل کے اندر بھی نہیں سما سکتی۔

      جاوید احمد غامدی تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ بظاہر ایک مختصر ساجملہ ہے،لیکن اِس کے ابہام میں جو ہولناکی چھپی ہے، وہ محتاج بیان نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک انفسی دلیل: اوپر کی دلیل آفاقی تھی۔ اسی دعوے پر انسان کی خلقت سے یہ انفسی دلیل پیش کی گئی ہے۔ انسان کی خلقت سے قرآن نے قیامت پر متعدد پہلوؤں سے دلیل قائم کی ہے۔ مثلاً
      o مٹی اور پانی کی ایک بوند سے اس کی پیدائش کا حوالہ دے کر امکان بعث اور امکان حشر و نشر کو ثابت کیا ہے۔
      o اس کی خلقت کے اندر خدا کی قدرت، حکمت اور صنعت گری کے جو شواہد نمایاں ہیں ان سے جزا اور سزا کے لازم ہونے پر استدلال کیا ہے۔
      o انسان کی پرورش کے لیے اس نے جو اہتمام فرمایا ہے اس سے بھی جزا اور سزا کے لزوم پر دلیل قائم کی ہے۔
      o انسان کے اندر خیر و شر کے امتیاز کی جو صفت ودیعت فرمائی ہے اس سے ایک روز عدل کے لازمی ہونے پر دلیل پیش کی ہے۔
      یہ مطالب یوں تو پورے قرآن میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن دور جانے کی ضرورت نہیں۔ اگر قریب ہی کی دو سورتوں ۔۔۔ القیٰمۃ اور الدہر ۔۔۔ کے مطالب پر آپ ایک نظر ڈال لیں تو ان تمام نکات کے شواہد آپ کو مل جائیں گے۔
      منکریں قیامت کے شبہ کا جواب: ’أَلَمْ نَخْلُقۡکُّم مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیْنٍ ۵ فَجَعَلْنَاہُ فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۵ اِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوۡمٍ‘۔ یہ منکرین قیامت کے اس شبہ کا جواب ہے جو مرکھپ اور سڑ گل جانے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق وہ ظاہر کرتے۔ ان کو براہ راست مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے حقیر پانی کی ایک بوند سے تم کو پیدا کیا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا تو جب تم خود اپنے وجود کے اندر علانیہ مشاہدہ کرتے ہو کہ تمہارے خالق نے حقیر پانی کی ایک بوند کو انسان بنا کے کھڑا کر دیا تو تمہارے مرکھپ جانے کے بعد اگر وہ تمہیں ازسرنو پیدا کرنا چاہے تو یہ کام اس کے لیے کیوں ناممکن یا مشکل ہو جائے گا۔ پہلی بار پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا دوسری بار!
      ’مَہِیْنٌ‘ کے معنی حقیر و ناچیز کے ہیں۔ اس صفت کے لانے سے مقصود ایک تو یہ دکھانا ہے کہ انسان کی تخلیق کسی ایسے میٹریل سے نہیں ہوئی ہے جو نادر الوجود یا کمیاب ہو کہ اس کو دوبارہ پیدا کرنا ناممکن یا دشوار ہو جائے۔ وہ ایک بے قیمت اور حقیر چیز سے پیدا ہوا ہے جس کا نہایت وافر ذخیرہ قدرت کے پاس موجود ہے۔ دوسرے اس سے خالق کی عظیم و بے نہایت قدرت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جو خدا پانی کی ایک بوند کو انسان بنا دے سکتا ہے اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں ہے۔ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (تم سمجھتے ہو کہ مرنے کے بعد ہم تمھیں اٹھا نہ سکیں گے)؟ کیا ہم نے ایک بے وقعت پانی سے تم کو پیدا نہیں کیا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List