Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 31 آیات ) Al-Insan Al-Insan
Go
  • الانسان (Man, Human)

    31 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ القیٰمۃ ۔۔۔ کی توام ہے۔ سابق سورہ جس مضمون پر ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ اُس کی آخری چار اور اس کی ابتدائی تین آیتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ دونوں نے ایک حلقۂ اتصال کی شکل اختیار کر لی ہے اور یہ چیز توام سورتوں میں بالعموم نمایاں ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔

    دونوں کا عمود بالکل ایک ہی ہے، البتہ نہج استدلال اور طریق بحث دونوں میں الگ الگ ہے۔ پہلی میں قیامت کی دلیل انسان کے اندر نفس لوامہ کے وجود سے پیش کی گئی ہے اور اس میں یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر سمع و بصر کی جو صلاحیت ودیعت فرمائی ہے اور اس کو خیر و شر کے درمیان امتیاز کی جو قابلیت بخشی ہے اس کا بدیہی تقاضا ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں ان لوگوں کو داد ملے جنھوں نے ان اعلیٰ صلاحیتوں کا حق پہچانا اور اپنے پروردگار کے شکرگزار رہے اور وہ لوگ اپنے اندھے پن کی سزا بھگتیں جنھوں نے ان کی ناقدری کر کے کفر کی راہ اختیار کی۔ اگر یہ جزا و سزا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک، العیاذ باللہ، شاکر اور کافر دونوں برابر ہیں۔

    بعض مصاحف میں اس سورہ کو مدنی ظاہر کیا گیا ہے۔ لیکن پوری سورہ کا مدنی ہونا تو الگ رہا اس کی ایک آیت کے بھی مدنی ہونے کا کوئی قرینہ نہیں ہے۔ سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے اصلی کسوٹی ان کے مطالب و مضامین ہیں۔ آگے مطالب کا تجزیہ بھی آپ کے سامنے آئے گا اور آیات کی تفسیر بھی ان سے واضح ہو جائے گا کہ جن لوگوں نے اس کو مدنی خیال کیا ہے ان کے خیال کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

  • الانسان (Man, Human)

    31 آیات | مدنی
    القیامۃ - الدھر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ نفس لوامہ کی شہادت سے قیامت کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں یہی دعویٰ انسان کے وجود میں خیر و شر کے الہام سے ثابت کیا گیا ہے۔ پہلی میں انذار اور دوسری میں بشارت کا پہلو نمایاں ہے۔ دونوں سورتوں میں خطاب اصلاً قریش کے سرداروں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت کا اثبات اور اِس کے حوالے سے قریش کو انذار ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی کیا گزرا ہے انسان پر کوئی وقت، زمانے میں، ایسا جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      استفہامیہ اسلوب کی بلاغتیں: ’ہَلْ‘ کے معنی مفسرین نے استفہام کے بجائے عام طور پر ’قَدْ‘ کے لیے ہیں۔ لیکن کلام عرب میں اس معنی کے لیے مجھے کوئی نظیر نہیں ملی۔ بعض مثالیں جو اس معنی کی شہادت کے طور پر پیش کی گئی ہیں ان پر میں نے غور کر لیا ہے۔ میرے نزدیک ان میں بھی ’ہَلْ‘ استفہام ہی کے لیے ہے۔ البتہ استفہام جس طرح ہماری زبان میں مختلف معانی کے لیے آتا ہے اسی طرح عربی میں بھی اس کے مختلف مفہوم ہوتے ہیں۔ ان سب کی وضاحت کے لیے یہاں نہ گنجائش ہے نہ ضرورت۔ پچھلی سورتوں میں اس کے بعض پہلو زیربحث آ چکے ہیں اور بعض کے لیے آگے کی سورتوں میں موزوں مواقع آئیں گے۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ استفہام کا ایک بلیغ موقع استعمال وہ بھی ہے جب مخاطب سے کسی ایسی بات کا اقرار کرانا ہو جس کی نوعیت ہو تو ایک بدیہی حقیقت کی لیکن مخاطب اس کو تسلیم کرنے کے باوجود عملاً اس سے منحرف ہو۔ مثال سے یوں سمجھیے کہ کوئی ماں اپنے نافرمان بیٹے سے یوں کہے کہ ’کیا تجھے یاد نہیں کہ تو ایک مضغۂ گوشت کی صورت میں میری گود میں ڈالا گیا تھا، میں نے اپنا خون دودھ بنا کر تجھ کو پلایا اور پال پوس کر جوان کیا!‘
      اس پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہ محض ایک سادہ خبریہ جملہ نہیں ہے بلکہ اس کے اندر بہت سے معانی مضمر ہیں۔ مثلاً
      o اس میں بیٹے کو ایک عظیم حق کی یاددہانی ہے جو اس پر عائد ہوتا ہے اور جس سے اس کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے لیکن اس کا رویہ اس کے منافی ہے۔
      o اس میں ملامت، غصہ، رنج اور اظہار حسرت کے بھی گوناگوں پہلو ہیں۔
      o اس میں نہایت مبنی برحقیقت گلہ و شکوہ بھی ہے اور نہایت مؤثر اپیل بھی۔
      یہ سارے مفہوم اس استفہام ہی سے پیدا ہوتے ہیں جو اس جملہ کے اندر ہے۔ اگر اس کو الگ کر کے جملہ کو سادہ خبریہ اسلوب میں کر دیجیے تو یہ تمام معانی ہوا ہو جائیں گے۔ بالکل یہی حال زیربحث آیت کا بھی ہے۔ اس میں جو ’ہَلْ‘ ہے اس کے اندر بہت سے معانی مضمر ہیں جو آگے مضمون کے تدریجی ارتقا سے کھلیں گے۔ اگر اس کو آپ ’قَدْ‘ سے بدل دیں تو یہ آیت ان مطالب کی تمہید کے لیے بالکل ناموزوں ہو جائے گی جو آگے آ رہے ہیں۔
      معلقات کے ایک قصیدے کا مطلع ہے:

      ھل غمادر الشعراء من متردم
      ام ھل عرفت الدار بعد توھمٖ

      (کیا شاعروں نے شاعری میں کوئی خلا چھوڑ دیا تھا یا تجسس کے بعد تم نے منزل جاناں کا سراغ پا لیا ہے!!)

      یہ ایک بہترین مطلع ہے اور اس کا سارا حسن اس کے خاص قسم کے اسفہامیہ اسلوب میں مضمر ہے۔ اگر اس ’ہَلْ‘ کو ’قَدْ‘ سے بدل دیجیے تو یہ حسن بالکل غائب ہو جائے گا۔ شاعر خود اپنے آپ کو مخاطب کر کے پوچھ رہا ہے کہ آج یہ قصیدہ کہنے کا ولولہ دل میں کیوں ابھرا ہے؟ کیا شاعری میں خلا رہ گیا تھا جس کو آج بھر دینے کا ارادہ ہے یا منزل جاناں کے آثار نے آتش عشق بھڑکا دی ہے جس کا حق ادا کرنا ہے! مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں ہیں۔ شاعری میں بھی ایک بہت بڑا خلا رہ گیا تھا جس کو اس قصیدے سے پورا کرنا ہے اور منزل جاناں کے سراغ کا مضمون بھی اب تک کے شاعروں کی ساری خوں فشانیوں اور مضمون آفرینیوں کے باوجود ہنوز تشنہ ہی تھا، آج اس کا بھی حق ادا کر دینا ہے۔
      یہاں اس مطلع کے محاسن کی وضاحت مقصود نہیں ہے، دکھانا صرف یہ ہے کہ اسلوب اور اسلوب میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ باعتبار وزن تو یہ شعر لفظ ’قَدْ‘ سے بھی پورا ہو جاتا لیکن معنی کے اعتبار سے ظاہر ہے کہ اس کی کوئی قدر و قیمت باقی نہ رہ جاتی۔
      آیت زیربحث کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو قیامت اور جزا و سزا کے منکر تھے۔ ان کو مخاطب کر کے قرآن نے یہ سوال ان کے سامنے رکھا ہے کہ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ایک وقت انسان پر ایسا بھی گزرا ہے جب اس کا وجود کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا بلکہ وہ پانی، کیچڑ، مٹی کے اندر رینگنے والی ایک حقیر مخلوق تھا۔ لیکن اسی حقیر مخلوق کو قدرت نے مختلف مراحل سے گزارا اور اس کی صلاحیتوں کو تربیت دے کر ایسے مرتبہ پر پہنچا دیا کہ وہ تمام مخلوقات سے اعلیٰ و اشرف بن گیا! اس سوال سے مقصود انسان کی قوت فکر کو حرکت میں لانا ہے کہ وہ سوچے کہ آخر قدرت نے اس پر یہ اہتمام کیوں صرف فرمایا؟ اس کو ان اعلیٰ صلاحیتوں سے کیوں نوازا؟ کیا محض اس لیے کہ وہ کھائے پیے اور ایک دن ختم ہو جائے! کیا ان صلاحیتوں سے متعلق اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟ کیا جس نے اس اہتمام سے اس کو وجود بخشا اس کا کوئی حق اس پر قائم نہیں ہوتا؟ یہ سوالات اس شخص کے اندر پیدا ہونے چاہییں جو اپنے وجود پر غور کرے۔
      اپنا وجود انسان سے سب سے زیادہ قریب بھی ہے اور اس کی ہر چیز انسان کو دعوت فکر بھی دیتی ہے۔ آیت کے استفہامیہ اسلوب نے اس حسن فکر کو بیدار کرنا چاہا ہے کہ انسان کی نظروں سے خدا اوجھل ہے تو اس کا اپنا وجود تو اوجھل نہیں ہے، وہ خود اپنے اندر خدا کی قدرت و حکمت اور اس کے عدل و رحمت کی نشانیاں دیکھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ غور کرے تو یہ حقیقت بھی اس پر روشن ہو جائے گی کہ ہر چند اس نے قیامت ابھی دیکھی نہیں لیکن خود اس کے نفس کے اندر قیامت کے شواہد اور اس کے دلائل اتنے واضح ہیں کہ وہ ان کا انکار نہیں کر سکتا بشرطیکہ وہ بالکل ہٹ دھرم اور کج رو نہ ہو۔

       

      جاوید احمد غامدی کیا انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      استفہام کا یہ اسلوب اُس وقت اختیار کیا جاتا ہے ، جب مخاطب سے کوئی ایسی بات منوانا پیش نظر ہو، جو اگرچہ بالبداہت واضح ہو اور مخاطب اُسے تسلیم بھی کرتا ہو، لیکن عملاً اُس سے انحراف پر مصر ہو۔ اِس میں گلہ، شکایت، غصہ، رنج، ملامت، اپیل اور یاددہانی ، سب مضامین پنہاں ہوتے ہیں جو سادہ خبریہ اسلوب میں ادا نہیں ہو سکتے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس سوال سے مقصود انسان کی قوت فکر کو حرکت میں لانا ہے کہ وہ سوچے کہ آخر قدرت نے اُس پر یہ اہتمام کیوں صرف فرمایا؟ اُس کو اِن اعلیٰ صلاحیتوں سے کیوں نوازا؟ کیا محض اِس لیے کہ وہ کھائے پیے اور ایک دن ختم ہو جائے! کیا اِن صلاحیتوں سے متعلق اُس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟ کیا جس نے اِس اہتمام سے اُس کو وجود بخشا، اُس کا کوئی حق اُس پر قائم نہیں ہوتا؟ یہ سوالات ہر اُس شخص کے اندر پیدا ہونے چاہییں جو اپنے وجود پر غور کرے۔
      اپنا وجود انسان سے سب سے زیادہ قریب بھی ہے اور اُس کی ہر چیز انسان کو دعوت فکر بھی دیتی ہے۔ آیت کے استفہامیہ اسلوب نے اِس حس فکر کو بیدار کرنا چاہا ہے کہ انسان کی نظروں سے خدا اوجھل ہے تو اُس کا اپنا وجود تو اوجھل نہیں ہے ، وہ خود اپنے اندر خدا کی قدرت و حکمت اور اُس کے عدل و رحمت کی نشانیاں دیکھ سکتا ہے۔ اِسی طرح اگر وہ غور کرے تو یہ حقیقت بھی اُس پر روشن ہو جائے گی کہ ہر چند اُس نے قیامت ابھی دیکھی نہیں، لیکن خود اُس کے نفس کے اندر قیامت کے شواہد اور اُس کے دلائل اتنے واضح ہیں کہ وہ اُن کا انکار نہیں کر سکتا، بشرطیکہ وہ بالکل ہٹ دھرم اور کج رو نہ ہو۔‘‘ (تدبرقرآن ۹/ ۱۰۶)

       

    • امین احسن اصلاحی ہم نے انسان کو پیدا کیا پانی کی ایک مخلوط بوند سے۔ اس کو الٹتے پلٹتے رہے یہاں تک کہ ہم نے اس کو دیکھنے سننے والا بنا دیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انسان کو مزید غور کی دعوت: اوپر کی آیت میں انسان کے اس تاریک ماضی کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو زندگی کے نقطۂ آغاز سے تعلق رکھتا ہے۔ اب یہ اس کی پیدائش کے ان مختلف اطوار کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن کا ہر پہلو اس کے سامنے ہے اور جو اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس کی طرف اوپر والی آیت اشارہ کر رہی ہے کہ انسان پانی کی ایک بوند سے پیدا ہوتا ہے، اسی بوند کو مختلف اطوار و مراحل سے گزار کر قدرت اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ سننے سمجھنے اور عقل و ہوش رکھنے والے انسان کی شکل اختیار کر لیتی ہے؛ انسان غور کرے کہ جس خدا نے پانی کی ایک بوند پر اتنے عجیب کرشمے دکھائے ہیں کیا اس کے لیے اس کو دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہو جائے گا اور پھر اس بات پر بھی غور کرے کہ جس خدائے علیم و حکیم نے پانی کے ایک حقیر قطرے کو سمع و بصر کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا اور اس کو خیر و شر اور شکر و کفر میں امتیاز بخشا، کیا اس نے یہ ایک کارعبث کیا ہے کہ وہ بازپرس اور جزا و سزا کا کوئی دن نہیں لائے گا۔
      ’مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ‘ میں لفظ ’امشاج‘ جمع ہے ’مشج‘ اور ’مشیج‘ کی۔ اس کے معنی ملی جلی اور مخلوط چیز کے ہیں۔ ’امشاج‘ اگرچہ جمع ہے لیکن یہ ان الفاظ میں سے ہے جو جمع ہونے کے باوصف مفرد الفاظ کی صفت کے طور پر آتے ہیں۔ نطفہ کے مخلوط ہونے سے اس کا مختلف قویٰ و عناصر سے مرکب ہونا بھی مراد ہو سکتا ہے اور مرد و عورت کے نطفوں کا امتزاج بھی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جہاں مختلف عناصر اور متضاد طبائع اور مزاجوں کا امتزاج ہو وہاں ان کے اندر ایسا اعتدال و توازن برقرار رکھنا کہ پیش نظر مقصد کے مطابق صالح نتیجہ برآمد ہو بغیر اس کے ممکن نہیں کہ یہ کام ایک حکیم و قدیر کی نگرانی میں ہو۔ کسی اتفاقی حادثہ کے طور پر اس طرح کے حکیمانہ کام کا وقوع ممکن نہیں ہے۔
      لفظ ’ابتلاء‘ کا مفہوم: ’نَبْتَلِیْہِ‘ کو عام طور پر لوگوں نے بیان علت کے مفہوم میں لیا ہے۔ یعنی ہم نے انسان کو آزمانے کے لیے پیدا کیا۔ لیکن یہ علت کے مفہوم میں ہوتا تو اس پر لام علت آنا تھا حالانکہ یہ حال کی صورت میں ہے اور حال کا مفہوم علت کے مفہوم سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ حال ہی کے مفہوم میں ہے اور مطلب اس کا یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اس طرح پیدا کیا کہ درجہ بدرجہ اس کو مختلف اطوار و مراحل سے گزارتے ہوئے ایک سمیع و بصیر مخلوق کے درجے تک پہنچا دیا۔
      ’ابتلاء‘ کے معنی لغت میں جانچنے پرکھنے کے ہیں۔ آدمی جب کسی چیز کو جانچتا ہے تو اس کو مختلف پہلوؤں سے الٹ پلٹ اور ٹھونک بجا کر دیکھتا ہے۔ یہیں سے اس کے اندر ایک طور سے گزار کر دوسرے طور میں لے جانے کا مفہوم بھی پیدا ہو گیا۔ یہاں یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔ اصحاب تاویل میں سے بھی بعض لوگوں نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
      انسان کی خلقت کے مختلف مراحل: انسان کی تخلیق جن اطوار و مراحل سے گزر کر مرتبہ تکمیل تک پہنچی ہے ان کی وضاحت قرآن میں جگہ جگہ ہوئی ہے۔ ہم بعض مثالیں پیش کرتے ہیں:

      یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنْتُمْ فِیْ رَیْْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَغَیْرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمْ وَنُقِرُّ فِی الْأَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰی أَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَبْلُغُوۡا أَشُدَّکُمْ (الحج ۲۲: ۵)
      ’’اے لوگو، اگر تم مرنے کے بعد اٹھائے جانے کے باب میں شک میں ہو تو اس بات پر غور کرو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر پانی کی ایک بوند سے پھر خون کی ایک پھٹکی سے پھر گوشت کی ایک بوٹی سے، کوئی تمام اور کوئی ناتمام، تاکہ ہم تم پر اپنی قدرت و حکمت اچھی طرح ظاہر کر دیں۔ پھر ہم رحموں میں ٹھہراتے ہیں جتنا چاہتے ہیں ایک مدت معین تک پھر ہم تم کو بچے کی صورت میں باہر لاتے ہیں پھر ہم تم کو پروان چڑھاتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو۔‘‘

      انہی اطوار و مراحل کی تفصیل سورۂ مومنون میں یوں آئی ہے:

      وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ ۵ ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۵ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظَامًا فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاہُ خَلْقًا اٰخَرَ فَتَبَارَکَ اللہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ (المومنون ۲۳: ۱۲-۱۴)
      ’’اور ہم نے انسان کو پیدا کیا مٹی کے جوہر سے پھر ہم نے اس کو رکھا پانی کی ایک بوند کی صورت میں ایک محفوظ ٹھکانے میں۔ پھر ہم نے پانی کی اس بوند کو خون کی پھٹکی کی شکل دی پھر خون کی پھٹکی کو مضغۂ گوشت بنایا پھر گوشت میں ہڈیاں پیدا کیں اور ہڈیوں کو گوشت کا جامہ پہنایا پھر اس کو ایک بالکل ہی دوسری مخلوق کی صورت میں لا کھڑا کر دیا۔ پس بڑی ہی بابرکت ذات ہے اللہ، بہترین پیدا کرنے والے، کی۔‘‘

      ان آیات میں جن اطوار و مراحل کی تفصیل ہے انہی کی طرف بالاجمال آیت زیربحث میں اشارہ فرمایا ہے اور انہی مراحل سے درجہ بدرجہ گزارنے کے لیے لفظ ’نَبْتَلِیْہِ‘ آیا ہے جس سے یہ بات نکلی کہ اس قطرے کو گہر ہونے تک بہت سے مرحلے طے کرنے پڑے ہیں اور ہر مرحلہ میں قدرت نے اس کو اچھی طرح جانچا پرکھا ہے کہ جس دور میں جو صلاحیت اس کے اندر پیدا ہونی چاہیے وہ پیدا ہو گئی یا نہیں!
      ’فَجَعَلْنَاہُ سَمِیْعًا بَصِیْرًا‘ یہ اس تمام اہتمام و تدبر کا خلاصہ سامنے رکھا ہے کہ یا تو انسان پانی، مٹی، کیچڑ اور نطفہ کی شکل میں بالکل ’لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا‘ (ناقابل ذکر چیز) کا مصداق تھا یا وہ دور آیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو سمع و بصر کی اعلیٰ صفات سے متصف ہستی بنا دیا۔ سورۂ مومنون کی محولہ بالا آیت میں اسی چیز کی طرف ’ثُمَّ أَنشَأْنَاہُ خَلْقًا اٰخَرَ فَتَبَارَکَ اللہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔
      ’سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ‘۔ انسان کی تمام اعلیٰ صفات کی نہایت جامع تعبیر ہے۔ انہی صفات کے فیض سے انسان کے اندر خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت پیدا ہوئی اور وہ اس قابل ٹھہرا کہ اللہ تعالیٰ اس کا امتحان کرے کہ وہ خیر کی راہ اختیار کر کے اپنے رب کا شکرگزار بندہ بنتا ہے یا شر کی راہ اختیار کر کے ناشکرا اور کافر نعمت بن جاتا ہے۔ پھر اس سے لازماً یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ جو اپنے سمع و بصر کی صلاحیتوں کی قدر کریں وہ اس کا صلہ پائیں اور جو ان کی ناقدری کریں وہ اس کی سزا بھگتیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس سارے اہتمام کا مقصد کیا جو انسان کی پیدائش کے لیے قدرت نے کیا!

       

      جاوید احمد غامدی یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو پانی کی ایک ملی جلی بوند سے پیدا کیا ہے۔ ہم اُس کو الٹتے پلٹتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے اُس کو دیکھتا سنتا بنا دیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’اَمْشَاج‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ ’مشج‘ اور ’مشیج‘ کی جمع ہے اور اُن الفاظ میں سے ہے جو جمع ہونے کے باوجود مفرد کی صفت کے طور پر آتے ہیں۔ ملی جلی بوند سے اُس کا مختلف قویٰ وعناصر سے مرکب ہونا بھی مراد ہو سکتا ہے اور مرد و عورت کے نطفوں کا امتزاج بھی۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جہاں مختلف عناصر اور متضاد طبائع اور مزاجوں کا امتزاج ہو، وہاں اُن کے اندر ایسا اعتدال و توازن برقرار رکھنا کہ پیش نظر مقصد کے مطابق صالح نتیجہ برآمد ہو، بغیر اِس کے ممکن نہیں کہ یہ کام ایک حکیم و قدیر کی نگرانی میں ہو۔ کسی اتفاقی حادثے کے طور پر اِس طرح کے حکیمانہ کام کا وقوع ممکن نہیں ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۱۰۷)

      اصل میں لفظ ’نَبْتَلِیْہِ‘ آیا ہے۔ یہ تالیف کے لحاظ سے حال ہے۔ ’ابتلاء‘ کے معنی لغت میں جانچنے پرکھنے کے ہیں۔ اِس کے لیے چونکہ بالعموم کسی چیز کو مختلف پہلوؤں سے الٹ پلٹ کر دیکھا جاتا ہے، اِس لیے یہیں سے اِس میں مختلف اطوار سے گزارنے کا مفہوم پیدا ہو گیا ہے۔ انسان کی تخلیق کے یہ اطوار سورۂ حج (۲۲) کی آیت ۵ اور سورۂ مومنون (۲۳) کی آیات ۱۲۔۱۴ میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ یہ قطرہ بہت سے مراحل سے گزر کر گوہر ہوا ہے اور ہر مرحلے میں ہم نے اِسے اچھی طرح جانچا ہے کہ جس دور میں جو صلاحیت اِس کے اندر پیدا ہونی چاہیے، اُس کا امتحان ہوجائے اور اُس کے بعد یہ اگلے مرحلے میں داخل ہو۔
      یہ انسان کی تمام اعلیٰ صفات کی نہایت جامع تعبیر ہے۔ یہی انسان کا اصلی امتیاز ہے اور اِسی بنا پر وہ ارادہ و اختیار کی نعمت سے نوازا گیا ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی ہم نے اس کو راہ سجھا دی۔ چاہے وہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سمع و بصر کا ثمرہ: یہ انسان کو سمیع و بصیر بنانے کا ثمرہ بیان ہوا ہے کہ پھر ہم نے اس کو راہ سجھا دی۔ ’راہ سجھانے‘ سے مراد یہ ہے کہ اس کو نیکی اور بدی کی راہ سجھا دی، جیسا کہ دوسرے مقام میں فرمایا ہے:

      ’وَہَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ‘ (البلد ۹: ۱۰)
      (اور ہم نے اس کو دونوں راہیں سجھا دیں)


      سورۂ شمس میں فرمایا ہے:

      ’فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا‘ (الشمس ۹۱: ۸)
      (پس اس کو اس کی بدی اور پرہیزگاری الہام کر دی)


      ان دونوں راہوں کے سجھا دیے جانے کے سبب سے انسان خود اپنے اوپر خیر اور شر کا گواہ بن گیا اور اس کے پاس بدی کی راہ اختیار کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا۔ اس حقیقت کی طرف سابق سورہ میں یوں اشارہ فرمایا ہے:

      ’بَلِ الْإِنۡسَانُ عَلَی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ ۵ وَلَوْ أَلْقٰی مَعَاذِیْرَہُ‘ (القیٰمۃ ۷۵: ۱۴-۱۵)
      (بلکہ انسان اپنے اوپر خود گواہ ہے اگرچہ وہ کتنے ہی عذرات تراشے)۔

      اختیار کی نعمت: ’اِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُوْرًا‘۔ یہ انسان کے اختیار و ارادہ کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو نیکی و بدی کا امتیاز دے کر اس کو اختیار بخشا ہے کہ وہ چاہے تو نیکی کی راہ اختیار کرے، چاہے تو بدی کی راہ چلے۔ اگر نیکی کی راہ اختیار کرے گا تو وہ اپنے رب کا شکرگزار بندہ بنے گا اور اس کا انعام پائے گا اور اگر بدی کی راہ اپنائے گا تو وہ ناشکرا بنے گا اور اس کی سزا بھگتے گا۔

       

      جاوید احمد غامدی ہم نے اُسے خیر و شر کی راہ سجھا دی۔ اب وہ چاہے شکر کرے یا کفر کرے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ انسان کو سمیع و بصیر بنانے کا ثمرہ بیان ہوا ہے۔ استاذ امام کے الفاظ میں ، انسان اِس کے نتیجے میں اپنے اوپر خیراور شر کا گواہ بن گیا ہے اور اُس کے پاس بدی کی راہ اختیار کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا۔
      یہ انسان کے ارادہ و اختیار کا بیان ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ہم نے کفر کرنے والوں کے لیے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خیر اور شر میں امتیاز کا لازمی نتیجہ: یہ خیر اور شر میں امتیاز بخشے جانے کا لازمی نتیجہ بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو شکر و کفر دونوں کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت بخشی ہے تو ضروری ہے کہ وہ ان لوگوں کو انعام سے نوازے جو شکرگزاری کی راہ اختیار کریں اور ان لوگوں کو سزا دے جو کفر کی راہ چلیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس صلاحیت کا دیا جانا لاحاصل رہا درآنحالیکہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، اس کی شان حکمت سے یہ بعید ہے کہ وہ کوئی عبث کام کرے۔
      کافروں کو سزا: فرمایا کہ چونکہ ہم نے انسان کو شکر اور کفر کا امتیاز بخشا ہے اس وجہ سے ہمارے ہاں شاکر اور کافر دونوں یکساں نہیں ہوں گے بلکہ ہم ان کے ساتھ الگ الگ معاملہ کریں گے۔ ناشکروں کے لیے ہم نے زنجیریں، طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ ان کے پاؤں میں زنجیریں پہنائی جائیں گی، گردنوں میں آہنی طوق ڈالے جائیں گے اور پھر ان کو گھسیٹ کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ) ہم نے منکروں کے لیے زنجیریں، طوق اور دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جب ہم نے اِسے خیر و شر کا امتیاز بخشا ہے اور اِس کے ساتھ ارادہ و اختیار کی نعمت بھی عطا فرمائی ہے تو اِس کا نتیجہ یہ ہے اور یہی ہونا چاہیے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں وہ اپنے کفر اور سرکشی کی یہ جزا پا لے۔

    • امین احسن اصلاحی ہاں، وفادار بندے ایسی شراب کے جام نوش کریں گے جس میں چشمۂ کافور کی ملونی ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      شکرگزاروں کو انعام: یہ کافروں کے مقابل میں شاکر بندوں کے صلہ کا بیان ہوا ہے اور ان کو ’ابرار‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس لفظ کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ ’برّ‘ کی اصل روح ایفائے عہد و ذمہ ہے اور لفظ ’شکر‘ کی اصل حیثیت نعمت کے حق کو پہچاننا اور اس کو ادا کرنا ہے۔ ان دونوں میں واضح قدر مشترک موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کے جو بندے اس کی نعمتوں کا حق پہچانتے اور اس کو ادا کرتے ہیں وہی دراصل اس کے وفادار بندے ہیں۔
      لفظ ’کَأْسٌ‘ کی تحقیق بھی اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ یہ ظرف اور مظروف یعنی شراب اور جام شراب دونوں معنوں میں آتا ہے۔
      ’مِزَاجٌ‘ کے معنی ملونی کے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں میں بعض اوقات لذت، خوشبو یا ان کے مزاج میں اعتدال پیدا کرنے کے لیے بعض چیزیں ان کے استعمال کے وقت ملائی جاتی ہیں۔ شراب میں بھی اس طرح کی ملونیوں اور بعض دوسرے لوازم کا ذکر عرب شعراء کرتے ہیں۔ اہل جنت کی شراب میں یہ ملونی چشمۂ کافور کے آب زلال کی ہو گی۔
      ’کَافُوْرٌ‘ سے مراد یہاں معروف کافور نہیں ہے۔ قرآن نے خود وضاحت فرما دی ہے کہ یہ جنت کا ایک چشمہ ہے جس کے کنارے بیٹھ کر اللہ کے خاص بندے شراب نوش کریں گے اور اس چشمہ کے پانی کی ملونی سے اس کے کیف و سرور کو دوچند کریں گے۔ رہا یہ سوال کہ اس کا نام کافور کیوں رکھا گیا ہے تو ناموں سے متعلق اس طرح کا سوال اگرچہ پیدا نہیں ہوتا تاہم ذہن اس طرف جاتا ضرور ہے کہ اسم اور مسمّٰی میں کوئی مناسبت ہو گی۔ یہ مناسبت کس نوع کی ہے؟ اس کا تعلق متشابہات سے ہے۔ اس کی اصل حقیقت اسی دن اور انھی خاص بندوں پر کھلے گی جن کو اس سے بہرہ مند ہونے کی سعادت حاصل ہو گی۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے برخلاف ہمارے) وفادار بندے شراب کے جام پئیں گے جن میں آب کافور کی ملونی ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’کَاْس‘ آیا ہے۔ یہ شراب اور جام شراب، دونوں کے لیے آتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس چشمہ سے اللہ کے خاص بندے پئیں گے اور اس کی شاخیں نکال لیں گے جدھر جدھر چاہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لبِ جُو مے نوشی کا اہتمام: ’یَشْرَبُ بِہَا‘ میں ’ب‘ میرے نزدیک ظرفیہ ہے جس طرح ’یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ‘ اور ’یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَیْبِ‘ میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چشمہ اللہ کے خاص بندوں کی بزم مے نوشی کے لیے مخصوص ہو گا۔ ’عباد اللہ‘ سے مراد وہی ابرار ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا۔ انہی کو یہ خاص شرف حاصل ہو گا کہ ان کی مے نوشی کے لیے اللہ تعالیٰ ایک مخصوص چشمہ کا بھی اہتمام فرمائے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مے نوشی اور لبِ جُو میں بڑی مناسبت ہے۔
      ’یُفَجِّرُوۡنَہَا تَفْجِیْرًا‘۔ ’تَفْجِیْرٌ‘ کے معنی کسی چشمہ کی بہت سی شاخیں نکال نکال کر ان کے جال بچھا دینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس چشمہ پر پہنچنے کے لیے اہل جنت کو کوئی شدِّر حال نہیں کرنا پڑے گا بلکہ جو جہاں چاہے گا اس کی شاخیں نکال لے گا اور اس کی لذتوں اور اس کی سیر سے بغیر کسی زحمت سفر کے خوش وقت اور شاد کام ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی یہ ایک چشمہ ہے جس کے پاس (بیٹھ کر) اللہ کے یہ بندے پئیں گے اور (جس طرف چاہیں گے)، بہ سہولت اُس کی شاخیں نکال لیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ قرآن نے خود وضاحت کر دی ہے کہ کافور سے مراد کافور نہیں، بلکہ یہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے۔ لیکن اِس نام میں کیا رعایت ملحوظ ہے؟ یہ امور متشابہات میں سے ہے جس کی حقیقت ہم یہاں نہیں سمجھ سکتے۔
      اصل الفاظ ہیں: ’یَشْرَبُ بِھَا عِبَادُ اللّٰہِ‘۔ اِن میں ’ب‘ ظرفیت کے لیے ہے۔ لب جو بیٹھ کر پینا مے نوشی کے لوازم میں سے ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ یہ چشمہ خدا کے بندوں کے لیے خاص ہو گااور وہ اُس کے کنارے بیٹھ کر پئیں گے۔
      یعنی اہل جنت کو اِس کے لیے رخت سفر باندھ کر نکلنا نہیں پڑے گا، بلکہ جو جہاں چاہے گا، اُس کی شاخیں نکال لے گا اور استاذ امام کے الفاظ میں اُس کی لذتوں اور اُس کی سیر سے بغیر کسی زحمت سفرکے خوش وقت اور شاد کام ہو گا۔

    • امین احسن اصلاحی یہ اپنی نذریں پوری کرتے اور اس دن سے ڈرتے رہے ہیں جس کا ہول ہمہ گیر ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ابرار کے وہ اعمال جن کے صلہ میں ان کو یہ سرفرازی حاصل ہو گی: یہ ان کے وہ اوصاف و اعمال بیان ہو رہے ہیں جن کے سبب سے ان کو رب کریم کی طرف سے یہ سرفرازی بخشی جائے گی۔
      کوئی نیک کام کرنے کا عہد کر لینے کو ’نذر‘ کہتے ہیں۔ ان وفادار بندوں (ابرار) کے اوصاف میں ایفائے نذر کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ جو لوگ ان نذروں کے پورے کرنے کا بھی اہتمام رکھیں گے جو انھوں نے بطور خود اپنے اوپر واجب کی ہوں ان سے نیکیوں کے بدرجۂ اولیٰ اہتمام کی توقع ہے جو ان کے رب نے ان پر واجب ٹھہرائی ہیں۔ ہمارے مفسرین نے اس لفظ کے مفہوم کو وسیع کر کے تمام نیکیوں پر حاوی کر دیا ہے، خواہ بندے نے اپنے اوپر وہ ازخود عائد کی ہوں یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کی گئی ہوں۔ لیکن یہ اس لفظ کے حقیقی مفہوم سے تجاوز ہے۔
      اسلام سے پہلے نذر کی اہمیت: یہاں یہ امر یاد رکھیے کہ ’نذر‘ کی اہمیت سابق ادیان میں بھی بہت رہی ہے اور عرب جاہلیت میں بھی اس کا بڑا اہتمام تھا۔ جو لوگ کوئی نیکی کا کام کرنا چاہتے، خواہ وہ حج و عمرہ کے قسم کی ہو یا قربانی و انفاق کے نوع کی، وہ اس کی نذر مانتے اور اہتمام سے اپنی نذر پوری کرتے۔ عربوں کے اندر اس کی وجہ زیادہ تر ان کی امیت تھی۔ دین کے طریقے ان کو واضح طور پر معلوم نہیں تھے اس وجہ سے ان کے اندر کے نیک لوگ نذروں کے ذریعہ سے اس خلا کو بھرتے۔ اسلام کے آ جانے کے بعد جب شریعت کے تمام اصول و فروع لوگوں کو معلوم ہو گئے تو اس کا دائرہ محدود ہو گیا۔ وہ نذریں جو مشرکانہ نوعیت کی تھیں وہ تو بالکل ختم کر دی گئیں۔ جو نذریں تکلیف مالایطاق نوعیت کی تھیں وہ بھی یا تو ممنوع قرار پا گئیں یا ان کی اصلاح کر دی گئی۔ یہ سورہ چونکہ اس دور کی ہے جب شریعت کے احکام و آداب لوگوں کو تفصیل سے معلوم نہیں ہوئے تھے اس وجہ سے اس میں اس کا ذکر خاص اہمیت سے ہوا۔ بعد میں جب شریعت کا پورا میثاق نازل ہو گیا تو اس کا دائرہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، نہایت محدود ہو گیا۔
      خوف آخرت: ’وَیَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہُ مُسْتَطِیْرًا‘۔ ’مُسْتَطِیْرٌ‘ کے معنی عام اور ہمہ گیر کے ہیں۔ یہ ان کے اندیشۂ آخرت کا بیان ہے کہ وہ ہمیشہ اس دن کی پکڑ سے ڈرتے رہے ہیں جس کی آفت عام و ہمہ گیر ہو گی۔ یعنی اس دن بڑے اور چھوٹے، امیر اور غریب، راعی اور رعایا یہاں تک کہ عابد اور معبود سب کو اس کے ہول سے سابقہ پیش آئے گا۔ صرف وہی لوگ اس سے محفوظ رہیں گے جن کو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔

      جاوید احمد غامدی یہ اپنی نذریں پوری کرتے اور اُس دن سے ڈرتے رہے جس کا ہول ہر چیز کو گھیر لے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی شریعت کے واجبات تو الگ، نیکی اور خیر کے جو کام وہ خود اپنے اوپر واجب کر لیتے ہیں، اُنھیں بھی نہایت اہتمام کے ساتھ پورا کرتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور وہ مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے رہے ہیں۔ خود اس کے حاجت مند ہوتے ہوئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      غریبوں کی خدمت: یہ خلق کے ساتھ ان کے رویہ کا بیان ہے کہ وہ مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کی ضرورتیں، خود اپنی ضرورتیں نظرانداز کر کے پوری کرتے ہیں۔ لفظ ’اِطْعَامٌ‘ محدود معنی میں نہیں ہے۔ زندگی کی دوسری ناگزیر ضروریات کا اہتمام بھی اس میں شامل ہے۔ قرآن میں یہ لفظ وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
      ’عَلٰی حُبِّہٖ‘ میں ضمیر کا مرجع: ’عَلٰی حُبِّہٖ‘ میں ضمیر کا مرجع عام طور پر لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو مانا ہے۔ ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ وہ مسکینوں اور یتیموں کو اللہ کی محبت میں کھلاتے پہناتے ہیں۔ اگرچہ قاعدہ زبان کی رو سے اس میں کوئی خرابی نہیں ہے لیکن شواہد قرآن کے پہلو سے میں ان لوگوں کے قول کو ترجیح دیتا ہوں جو اس کا مرجع ’طعام‘ کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ اگرچہ وہ خود ضرورت مند ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی ضرورت پر مسکینوں اور یتیموں کی ضرورت کو ترجیح دیتے ہیں۔
      اس قول کو ترجیح دینے کے مختلف وجوہ ہیں:
      ایک وجہ یہ ہے کہ یہ ابرار کا کردار بیان ہو رہا ہے اور ’بر‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچی وفاداری کا مقام حاصل کرنے کے لیے یہ بات ضروری قرار دی گئی ہے کہ آدمی اللہ کی راہ میں وہ چیز خرچ کرے جو اس کو خود عزیز ہو۔ خواہ اس وجہ سے عزیز ہو کہ وہ بذات خود قیمتی ہے یا اس وجہ سے کہ وہ اس کا ضرورت مند ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے:

      ’لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ‘ (آل عمران ۳: ۹۲)
      (تم اللہ کی وفاداری کا درجہ نہیں حاصل کر سکتے جب تک تم ان چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں نہ خرچ کرو جن کو تم محبوب رکھتے ہو)۔

      یہی حقیقت دوسرے لفظوں میں یوں واضح فرمائی گئی ہے:

      ’وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ‘ (الحشر ۵۹: ۹)
      (اور وہ اپنے اوپر غریبوں اور مسکینوں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود ضرورت مند ہوں)۔

      دوسری وجہ یہ ہے کہ ان ابرار کا صلہ آگے آیت ۱۲ میں بدیں الفاظ میں بیان ہوا ہے:

      ’وَجَزَاہُم بِمَا صَبَرُوۡا جَنَّۃً وَحَرِیْرًا‘
      (اور ان کو اللہ نے ان کے صبر کے صلہ میں جنت اور حریر سے نوازا)۔


      یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان کے صبر کے کردار کو واضح کرنے والی واحد چیز یہی ہے کہ وہ یتیموں اور مسکینوں کو خود ضرورت مند ہونے کے باوجود کھلاتے پہناتے رہے ہیں۔ اگر ’عَلٰٰی حُبِّہٖ‘ کی تاویل اس سے مختلف کر دی جائے تو یہاں ان کے صبر کے کردار کو واضح کرنے والی کوئی چیز نہیں رہ جاتی حالانکہ کلام اس کا مقتضی ہے۔ اس وضاحت نے ’عَلٰی حُبِّہٖ‘ کے ضمیر کا مرجع خود متعین کر دیا۔
      تیسری وجہ یہ ہے کہ جو انفاق عزیز و مطلوب مال میں سے، خود اپنی ضرورت کو قربان کر کے ہوتا ہے، درحقیقت وہی اللہ کی رضا جوئی کے لیے ہوتا ہے۔ اس پہلو سے خدا کی محبت کا مضمون خود اس کے اندر پیدا ہوتا ہے۔
      اس آیت میں مسکین و یتیم کے ساتھ اسیر کا ذکر زمانۂ نزول کے حالات کے اعتبار سے ہوا ہے۔ اس زمانہ میں کسی جرم یا مطالبہ میں گرفتار قیدی عموماً اپنی مایحتاج لوگوں سے سوال کر کے پوری کرتے تھے۔ قاضی ابویوسفؒ کے بیان سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ عباسیوں کے زمانے تک یہی حال رہا ہے۔ اب جیل کے نظام میں بڑی تبدیلیاں ہو گئی ہیں اس وجہ سے اس انفاق کی وہ اہمیت باقی نہیں رہی لیکن اب بھی قیدیوں اور ان کے متعلقین کی امداد کی ایسی بہت سی صورتیں ہیں جن میں انفاق اسی حکم میں ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی یہ مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے رہے، اِس کے باوجود کہ خود اُس کے ضرورت مند تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یتیم اور مسکین کے ساتھ قیدی کا ذکر یہاں اُس زمانے کے حالات کے لحاظ سے ہوا ہے، جب جیل کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں تھا اور قید میں پڑے ہوئے لوگ اپنی ضرورتیں لوگوں سے سوال کرکے پوری کرتے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی (اس جذبہ کے ساتھ کہ) ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلاتے ہیں، نہ تم سے کسی بدلے کے طالب ہیں نہ شکریہ کے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انفاق صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے: یہ ان کے اس انفاق کے باطنی محرک کا بیان ہے کہ وہ جس کی مدد کرتے ہیں نہ اس سے اپنے اس انفاق کا کوئی معاوضہ چاہتے نہ اس بات کے خواہش مند ہوتے کہ وہ ان کا ممنون احسان اور شکرگزار ہو بلکہ وہ صرف اپنے رب کی رضا جوئی اور آخرت کے خوف سے ایسا کرتے تھے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ اِس جذبے سے کھلاتے تھے کہ) ہم تمھیں صرف اللہ کے لیے کھلا رہے ہیں۔ نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں، نہ شکر گزاری کی توقع رکھتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہم اپنے رب کی طرف سے ایک ایسے دن سے اندیشہ ناک ہیں جو نہایت عبوس اور سخت ترش رو ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یوم آخرت کی صفت یہاں ’عَبُوس‘ اور ’قَمْطَرِیْر‘ آئی ہے۔ ’عَبُوس‘ کے معنی ترش رو اور روکھے پھیکے کے ہیں۔ ’قَمْطَرِیْر‘ اسی مضمون کی شدت کے اظہار کے لیے بطور تاکید آیا ہے یعنی وہ دن ایسا اکھڑ، اکل کُھرا اور ترش مزاج ہو گا کہ اس میں کوئی بھی کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں بنے گا۔ اس دن سابقہ ہر ایک کو اپنے اعمال سے پیش آئے گا۔ خدا کی رحمت صرف انہی لوگوں کی طرف متوجہ ہو گی جنھوں نے اس کی رضا جوئی میں مسکینوں اور یتیموں کی سرپرستی اور ہمدردی کی ہو گی اور اپنی ضروریات نظر انداز کر کے ان کی احتیاج پوری کرنے پر اپنا مال صرف کیا ہو گا۔
      یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ بات وہ قولاً ہر اس شخص سے کہیں بھی جس کی مدد کریں بلکہ یہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ان کے انفاق کے باطنی محرک کی تعبیر ہے کہ وہ جن حاجت مندوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں صرف للہ وفی اللہ خرچ کرتے، اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور آخرت کے خوف کے سوا کوئی اور غرض ان کے سامنے نہیں ہوتی۔

      جاوید احمد غامدی ہم اپنے پروردگار کی طرف سے اُس دن کا اندیشہ رکھتے ہیں جو نہایت اکل کھرا ہے، بڑا ہی ترش رو ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی تو اللہ نے ان کو اس دن کی آفت سے بچایا اور ان کو تازگی اور سرور سے نوازا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ ان کا صلہ بیان ہوا کہ چونکہ وہ اس ’عبوس‘ اور ’قمطریر‘ دن سے اندیشہ ناک رہے اور اس کی آفتوں سے محفوظ رہنے کے لیے اپنا محبوب مال انھوں نے خرچ کیا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو اس کی آفتوں سے محفوظ رکھے گا اور اس دن جب سب کے چہرے اترے ہوئے ہوں گے ان کے چہرے ہشاش بشاش اور مسرور ہوں گے۔

      جاوید احمد غامدی سو اللہ نے اُنھیں اُس دن کی مصیبت سے بچا لیا اور اُنھیں تازگی اور سرور سے لا ملایا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور انھوں نے جو صبر کیا اس کے صلہ میں ان کو جنت اور ریشمیں لباس عطا فرمایا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      صبر کی صفت کا صلہ: اور چونکہ انھوں نے صبر کیا اس وجہ سے ان کو جنت اور حریر کا صلہ عطا ہوگا۔ ’بِمَا صَبَرُوْا‘ سے اشارہ ان کے اس صبر کی طرف ہے جس کا ذکر اوپر ’وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ خود بھوکے ہوتے ہوئے اپنے آگے کی رکابی دوسرے بھوکے کے آگے وہی سرکائے گا جس کے اندر صبر کی صفت ہو گی۔
      ’جنّت‘ ان کو اس لیے ملے گی کہ اس کے پھل کھائیں اور اس کے عیش دوام سے بہرہ مند ہوں اور ’حریر‘ اس لیے کہ اس کے لباس پہنیں۔ مکان، غذا اور لباس تینوں چیزیں اس کے اندر آ گئیں۔

      جاوید احمد غامدی اور اُن کے صبر کے بدلے میں اُنھیں (رہنے کے لیے) باغ اور (پہننے کے لیے) ریشمی پوشاک عطا فرمائی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جس ضبط نفس ، حوصلے اور برداشت کے ساتھ اُنھوں نے نیکی اورخیر کے سب کام کیے، اُس کے بدلے میں۔

    • امین احسن اصلاحی ٹیک لگائے ہوں گے اس میں تختوں پر۔ نہ اس میں گرمی کے آزار سے دوچار ہوں گے نہ سردی کے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’سورج‘ اور ’زَمْھَرِیْر‘ نہ دیکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ گرمی اور سردی دونوں کی اذیتوں سے بالکل محفوظ، جنت کے تختوں پر براجمان ہوں گے۔ ان کے سورج میں روشنی اور قوت بخشی تو ہو گی مگر اس میں حدت و تمازت نہ ہو گی۔ اسی طرح وہاں کا موسم ہمیشہ خوش گوار، معتدل اور پربہار رہے گا، خزاں کی نحوست اور باد زمہریر کے آزار سے ان کو کبھی سابقہ نہیں پیش آئے گا۔

      جاوید احمد غامدی وہ اُس میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ نہ اُس میں دھوپ کی حدت دیکھیں گے، نہ سرما کی شدت۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی باغ جنت کے سائے ان پر جھکے ہوئے اور اس کے خوشے بالکل ان کی دسترس میں ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی ان کے باغوں کے سائے ان کے سروں پر پھیلے ہوئے ہوں گے اور پھلوں کے خوشے اس طرح نکل رہے ہوں گے کہ بالکل ان کی دسترس کے اندر ہوں گے۔ کسی چیز کے حاصل کرنے کے لیے ان کو کوئی کاوش نہیں کرنی پڑے گی۔

      جاوید احمد غامدی اُس کے درختوں کے سایے اُن پر جھکے ہوئے اور اُن کے خوشے بالکل اُن کی دسترس میں ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ان کے سامنے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش میں ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی ان کے سامنے ہر وقت چاندی کے ظروف اور شیشے کے پیالے گردش میں ہوں گے اور یہ شیشہ بھی دیکھنے میں شیشہ ہو گا، حقیقت میں یہ بھی چاندی ہی کے جوہر سے بنا ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی اُن کے سامنے چاندی کے برتن، (اُن کے کھانے کے لیے) اور شیشے کے پیالے (اُن کے پینے کے لیے) ، گردش میں ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی شیشے چاندی کے ہوں گے۔ ان کو انھوں نے نہایت موزوں اندازوں کے ساتھ سجایا ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’تقدیر‘ کا مفہوم: ’قَدَّرُوْھَا تَقْدِیْرًا‘۔ یعنی یہ ظروف اور پیالے مختلف شکلوں، مختلف پیمانوں اور الگ الگ اندازوں کے بنے ہوں گے اور خدام نے ان کو نہایت قرینہ اور حسن سلیقہ سے الگ الگ خانوں میں سجا کر رکھا ہو گا تاکہ حالات، وقت، ضرورت اور مطلوب شے کی مناسبت سے جس قسم کے سیٹ کی ضرورت ہو، پیش کر سکیں۔ لفظ ’تقدیر‘ ان تمام معانی پر حاوی ہے۔ اردو میں مجھے کوئی لفظ ایسا نہ مل سکا جو ان تمام کا احاطہ کر سکے۔

      جاوید احمد غامدی شیشے بھی چاندی کے،جنھیں اُن کے خدام نے (ہر خدمت کے لیے) نہایت موزوں اندازوں کے ساتھ سجا دیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ایسے شیشے جو دیکھنے میں شیشے ہوں گے، مگر درحقیقت چاندی کے جوہر سے بنے ہوں گے۔
      تاکہ وقت، حالات اور ضرورت کے لحاظ سے وہ اُنھیں پورے اہتمام کے ساتھ خدمت میں پیش کر سکیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور وہ اس میں ایک اور شراب بھی پلائے جائیں گے جس میں ملونی چشمۂ زنجبیل کی ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’زنجبیل‘ اور ’سلسبیل‘: اوپر چشمۂ کافور کا ذکر ہوا۔ یہ ایک دوسرے چشمہ کا ذکر ہے۔ فرمایا کہ اس میں ایک اور شراب بھی ان کو پلائی جائے گی جس میں چشمۂ زنجبیل کی ملونی ہو گی۔ یہ بھی جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ ہے جس کا دوسرا نام ’سلسبیل‘ ہے۔ ناموں سے متعلق ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں کہ ان میں مفہوم کا اعتبار نہیں ہوتا۔ ’زنجبیل‘ کے مشہور معنی تو سونٹھ کے ہیں لیکن نام بادنیٰ مناسبت بھی رکھے جا سکتے ہیں۔ جنت اور دوزخ کی کتنی ہی چیزوں کے نام قرآن میں مذکور ہیں لیکن ان ناموں سے ان کے مسمّٰی کی حقیقت کا صحیح علم ممکن نہیں ہے۔ ہمارے لیے یہ بہت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ناموں سے آگاہ کر دیا۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے علاوہ) اُنھیں وہاں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جس میں آب زنجبیل کی ملونی ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی یہ اس میں ایک چشمہ ہے جو سلسبیل سے موسوم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ان شاء اللہ ایک دن ان کی حقیقت بھی معلوم ہو جائے گی۔ اس چشمہ کا دوسرا نام ’سلسبیل‘ ہے۔ زجاج کے نزدیک اس کے معنی رواں دواں کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ نام بھی محض اس کی روانی کی مناسبت سے رکھا گیا ہے جواس کے گوناگوں اوصاف میں سے صرف ایک ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ بھی جنت میں ایک چشمہ ہے جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      ’زَنْجَبِیْل‘ کے معنی لغت میں سونٹھ کے ہیں۔ ’سَلْسَبِیْل‘ کا لفظ رواں دواں کے معنی میں آتا ہے۔ یہ نام کس مناسبت سے اپنے مسمّٰی پر دلالت کرتے ہیں؟ اِس کی حقیقت قیامت ہی میں واضح ہو گی۔ قرآن میں سورتوں کے نام جس طرح رکھے گئے ہیں، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ نام بادنیٰ مناسبت بھی رکھے جاتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان کی خدمت میں غِلمان گردش میں ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی سِن پر رہیں گے۔ جب تم ان کو دیکھو گے تو ان کو بکھرے ہوئے موتی گمان کرو گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      غلمان اور ان کے اوصاف: یہ ان کی خدمت اور ان کے آگے جام پیش کرنے والے غلمان کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ یہ غلمان ہمیشہ ایک ہی سن و سال کے رہیں گے۔ ’مخلّد‘ کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ اس وصف کے ذکر سے مقصود دو باتوں کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ ایک اس بات کی طرف کہ نوخیز چھوکرے ہوں گے اس وجہ سے خدمت میں نہایت چاق و چوبند، چست اور سرگرم ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ ہمیشہ ایک ہی سن و سال کے رہیں گے جس سے ان کی مستعدی بھی برابر قائم رہے گی اور اپنے مخدوموں کی خدمت میں برابر رہنے کے سبب سے ان کے مزاج، عادت اور ذوق سے بھی اچھی طرح آشنا ہوں گے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ حسن خدمت میں تجربہ کو بڑا دخل ہے۔ بوڑھے خادم میں تجربہ ہوتا ہے لیکن اس کی مستعدی ختم ہو جاتی ہے۔ نئے خادم میں مستعدی ہو سکتی ہے لیکن تجربہ اور ذوق سے ناآشنائی کے سبب سے آقا کو تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ اہل جنت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے خدام مہیا کیے ہیں جن کی ہر خوبی دائمی ہو گی۔
      ’اِذَا رَاَیْتَھُمْ حَسِبْتَھُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا‘۔ یہ ان کے جمال، ان کی نظافت، ان کی خوش ادائی اور ان کی خوش لباسی کی تصویر ہے کہ جب تم ان کو دیکھو گے تو یہ گمان کرو گے کہ گویا ہر طرف موتی بکھرے ہوئے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اُن کی خدمت میں وہ لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، دوڑتے پھرتے ہوں گے۔تم اُن کو دیکھو گے تو یہی خیال کرو گے کہ موتی ہیں جو بکھیر دیے گئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی نوخیزی کے باعث چست، مستعد اور سرگرم بھی رہیں گے اور اپنے مخدوموں کی خدمت میں برابر رہنے کی وجہ سے اُن کے ذوق و مزاج اور عادات سے اچھی طرح واقف بھی ہوں گے۔
      یہ اِن لڑکوں کے حسن و جمال، نظافت، خوش ادائی اور خوش لباسی کی تصویر ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جہاں دیکھو گے وہیں عظیم نعمت اور عظیم بادشاہی دیکھو گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی جب دیکھو گے اور جہاں دیکھو گے وہیں ایک عظیم نعمت اور ایک عظیم بادشاہی کا جلوہ نظر آئے گا۔ گویا ہر قدم پر ع

      کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا ایں جاست

       

      جاوید احمد غامدی اور دیکھو گے تو جہاں دیکھو گے، وہاں بڑی نعمت اور بڑی بادشاہی دیکھو گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List