Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 40 آیات ) Al-Qiyamah Al-Qiyamah
Go
  • القیامۃ (The Day of Resurrection, Rising Of The Dead)

    40 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ بھی، گروپ کی سابق سورتوں کی طرح، انذار قیامت کی سورہ ہے۔ سابق سورہ کا خاتمہ اس مضمون پر ہوا ہے کہ اس یاددہانی سے اعراض کرنے والوں کے اعراض کی اصل وجہ یہ ہے کہ انسان کے اندر نیکی اور بدی کا جو شعور اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرمایا ہے یہ سرگشتگان دنیا اس کو ضائع کر بیٹھے ہیں۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جو لوگ اس کو زندہ رکھتے ہیں ان کو مزید ہدایت و روشنی نصیب ہوتی ہے اور جو اس کو ضائع کر بیٹھتے ہیں وہ ایسے اندھے بہرے بن جاتے ہیں کہ ان پر کوئی تذکیر بھی کارگر نہیں ہوتی۔

    اس سورہ میں اسی حقیقت کو اچھی طرح مبرہن کر دینے کے لیے نفس لوامہ کی، جو ہر انسان کی فطرت کے اندر ودیعت ہے، اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے اور اس کو قیامت کے ثبوت میں ایک دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ انسان کے اندر ایک مخفی زاجر کی حیثیت رکھتا ہے جو اس کو، جب وہ کسی بدی کا ارتکاب کرتا ہے، ملامت اور سرزنش کرتا ہے۔ انسان کے اندر اس کا پایا جانا نہایت واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ وہ اس دنیا میں مطلق العنان اور غیر مسؤل بنا کر نہیں چھوڑا گیا کہ چاہے وہ نیکی کرے یا بدی اس کے خالق کو اس سے کچھ بحث نہ ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کے اندر اس طرح کے کسی زاجر کو بٹھانے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ انسان ایک عالم اصغر ہے اس کے اندر نفس لوامہ کا پایا جانا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس عالم اکبر کے اندر بھی ایک نفس لوامہ ہے جس کو قیامت کہتے ہیں۔ وہ ایک دن ظہور میں آئے گی اور ان تمام لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں پر سرزنش کرے گی جنھوں نے اپنے اندر کے مخفی زاجر کی تنبیہات کی پروا نہ کی۔

    اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کی عدالت کبریٰ کا ایک عکس ہر انسان کے اپنے وجود کے اندر نفس لوامہ کی عدالت صغریٰ کی شکل میں موجود ہے جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہوئے کہ جو شخص کوئی برائی کرتا ہے وہ کہیں پس پردہ نہیں کرتا بلکہ خدا کی عدالت کے دروازے پر اور اس کے مقرر کیے ہوئے کوتوال کے روبرو کرتا ہے۔ چنانچہ نفس لوامہ کی شہادت پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ

    بَلْ یُرِیْدُ الْإِنسَانُ لِیَفْجُرَ أَمَامَہٗ‘ (۵)

    (بلکہ انسان اپنے ضمیر کے روبرو شرارت کرنا چاہتا ہے)۔

    اسی حقیقت کی وضاحت آگے کی آیات میں یوں فرمائی ہے کہ

    بَلِ الْإِنسَانُ عَلَی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ ۵ وَلَوْ أَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ‘ (۱۴-۱۵)

    (بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے اگرچہ وہ کتنے ہی عذرات تراشے)۔

    یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جدید فلسفۂ اخلاق کے ماہروں نے بھی چند بنیادی نیکیوں کا نیکی ہونا اور چند معروف برائیوں کا برائی ہونا بطور اصول موضوعہ تسلیم کر کے اپنی بحث کا آغاز کیا ہے۔ اگرچہ وہ یہ نہیں بتا سکے کہ ان نیکیوں کا نیکی یا ان برائیوں کا برائی ہونا انھوں نے کہاں سے جانا جس کے سبب سے ان کی ساری عمارت بے بنیاد رہ گئی ہے لیکن یہ حقیقت انھیں تسلیم ہے کہ بنیادی نیکیوں اور بنیادی برائیوں کے شعور سے انسان محروم نہیں ہے۔ قرآن نے اس سورہ میں اس حقیقت سے یوں پردہ اٹھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر نہ صرف نیکی اور بدی کا شعور ودیعت فرمایا ہے بلکہ اس کے اندر ایک مخفی زاجر (ضمیر) بھی رکھا ہے جو برائیوں کے ارتکاب پر اس کو سرزنش کرتا اور نیکیوں پر اس کو شاباش دیتا ہے اور پھر اسی نفسیاتی حقیقت پر اس نے قیامت اور جزا و سزا کی دلیل قائم کی ہے کہ جس فاطر نے ہر انسان کے نفس کے اندر اس کی بدعملی پر سرزنش اور اس کی نیکی پر تحسین کے لیے یہ اہتمام فرمایا ہے یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس مجموعی کائنات کے لیے کوئی ایسا دن نہ لائے جس میں اس پوری دنیا کا محاسبہ ہو اور ہر شخص اپنی نیکیوں کا صلہ اور اپنی بدیوں کی سزا پائے۔

  • القیامۃ (The Day of Resurrection, Rising Of The Dead)

    40 آیات | مکی
    القیامۃ - الدھر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ نفس لوامہ کی شہادت سے قیامت کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں یہی دعویٰ انسان کے وجود میں خیر و شر کے الہام سے ثابت کیا گیا ہے۔ پہلی میں انذار اور دوسری میں بشارت کا پہلو نمایاں ہے۔ دونوں سورتوں میں خطاب اصلاً قریش کے سرداروں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت کا اثبات اور اِس کے حوالے سے قریش کو انذار ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی نہیں، میں قسم کھاتا ہوں روز محشر کی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قسم سے پہلے ’لا‘ کے استعمال کی نوعیت: عربیت کے اس اسلوب کی وضاحت ایک سے زیادہ مقامات میں ہو چکی ہے کہ قسم سے پہلے جب اس طرح ’لا‘ آیا کرتا ہے جس طرح یہاں ہے تو وہ قسم کی نفی کے لیے نہیں بلکہ مخاطب کے اس خیال کی نفی کے لیے آتا ہے جس کی تردید اس قسم سے مقصود ہوتی ہے! اس کی مثالیں جس طرح عربی زبان میں بکثرت موجود ہیں اسی طرح ہماری زبان میں بھی یہ اسلوب معروف ہے۔ آپ جس کسی شخص کی بات کی فوری تردید کرنی چاہتے ہیں تو کہتے ہیں: نہیں، خدا کی قسم، اصل حقیقت یوں ہے۔ اس اسلوب قسم سے اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ متکلم کے نزدیک مخاطب کی بات اتنی لغو ہے کہ وہ اس کی تردید میں اتنے توقف کا بھی روادار نہیں کہ قسم کے بعد اس کی تردید کرے بلکہ اس سے پہلے ہی اس کی تردید بلکہ اپنی بیزاری کا اظہار ضروری سمجھتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس ’لا‘ کو زائد اور بعضوں نے اس کو فعل سے متصل مانا ہے لیکن یہ دونوں رائیں عربیت کے خلاف ہیں۔ ہم نے جگہ جگہ اس کتاب میں اس کی تردید کی ہے۔ استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی تفسیر سورۂ قیامہ میں اس پر وضاحت سے بحث کی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو اس کی مراجعت فرمائیے۔
      یہاں قسم کا مقسم علیہ مذکور نہیں ہے۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔
      مقسم علیہ کے حذف کی بلاغت: ایک یہ کہ یہاں مقسم علیہ اتنا واضح ہے کہ اس کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے۔ گویا قسم خود اپنے مقسم علیہ پر دلیل ہے۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب۔ اس کی متعدد مثالیں پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔ سورۂ قٓ اور سورۂ صٓ میں ’وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ‘ اور ’وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ‘ کی قسمیں بھی اسی طرح مقسم علیہ کے بغیر آئی ہیں۔ اس طرح کی قسموں سے مقصود مخاطب پر یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ وہ جس چیزکی تردید یا تکذیب کر رہا ہے وہ خود اپنی صداقت پر ایسی شاہد عدل ہے کہ اس کے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔
      دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کے بعد ’نفس لوامہ‘ کی جو قسم ہے وہ قیامت کے حق ہونے پر ایسی بدیہی دلیل ہے کہ اس کی تکذیب، جیسا کہ آگے وضاحت آئے گی، آدمی کے خود اپنے قلب و ضمیر کی تکذیب کے ہم معنی ہے۔ اس شہادت کے ہوتے قیامت کسی دلیل کی محتاج نہیں رہ جاتی بلکہ وہ بجائے خود دعویٰ اور دلیل قسم اور مقسم علیہ دونوں کی حیثیت حاصل کر لیتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ قیامت کو جھٹلاتے ہیں)؟ نہیں، میں قیامت کے دن کو گواہی میں پیش کرتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      ہم اپنی زبان میں فوراً کسی بات کی تردید کرنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں: نہیں، خدا کی قسم اصل بات یوں ہے۔ یہ بالکل اِسی طرح کا اسلوب ہے۔ لہٰذا ’نہیں‘ یہاں گواہی کی نفی کے لیے نہیں، بلکہ مخاطب کے اُس خیال کی نفی کے لیے آیا ہے جس کی تردید اِس گواہی سے پیش نظر ہے۔
      اصل میں یہاں قسم کا اسلوب ہے جس کا مقسم علیہ محذوف ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قسم خود مقسم علیہ پر اِس طرح دلالت کر رہی ہے کہ اُس کے اظہار کی ضرورت نہیں رہی۔ قسم کا یہ اسلوب اُس وقت اختیار کیا جاتا ہے، جب مخاطب کو یہ بتانا مقصود ہو کہ وہ جس چیز کو جھٹلا رہا ہے، وہ خود اپنے وجود پر اِس طرح گواہی دے رہی ہے کہ کسی عاقل کے لیے اُس سے انکار کی گنجایش نہیں ہے۔ گویا جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، اُس نے بجاے خود دعویٰ اور دلیل اور قسم اور مقسم علیہ، دونوں کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں نفس ملامت گر کی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نفس لوامہ کی شہادت قیامت پر: یہ دوسری قسم ہے اور اس کا مقسم علیہ بھی مذکور نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مقسم علیہ خود قسم کے اندر ہی مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر نفس لوامہ کا وجود شاہد ہے کہ قیامت حق ہے۔ گویا اس دوسری قسم نے قسم ہی کے پیرایہ میں دعوے اور دلیل دونوں کی وضاحت کر دی اور اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ قیامت کسی خارجی دلیل کی محتاج نہیں ہے۔ اس کا عکس ہر انسان کے اپنے باطن کے اندر موجود ہے اور وہ اس کو دیکھتا بھی ہے اگرچہ اس کی تردید میں کتنی ہی دلیل بازیاں کرے۔
      ’نفس لوامہ‘ سے مراد کوئی علیحدہ اور مستقل نفس نہیں ہے بلکہ یہ نفس انسانی ہی کا ایک پہلو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کی تشکیل اس طرح فرمائی ہے کہ اس کے اندر نیکی اور بدی دونوں کا شعور ودیعت فرمایا ہے اور اس کی سعادت و شقاوت کے لیے ضابطہ یہ ٹھہرایا ہے کہ جو اپنے نفس کو برائیوں سے پاک رکھے گا وہ فلاح پانے والا بنے گا اور جو اس کو برائیوں سے آلودہ رکھے گا وہ نامراد ہو گا۔ سورۂ شمس میں اس کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے:

      وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاہَا ۵ فَأَلْہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَتَقْوَاہَا ۵ قَدْ أَفْلَحَ مَنۡ زَکَّاہَا ۵ وَقَدْ خَابَ مَنۡ دَسَّاہَا (الشمس ۹۱: ۷-۱۰)
      ’’اور شاہد ہے نفس اور اس کی تشکیل۔ پس اس کو الہام کر دی اس کی بدی اور نیکی۔ جس نے اس کو پاک رکھا اس نے فلاح پائی اور جس نے اس کو آلودہ رکھا وہ نامراد ہوا۔‘‘

      اپنی تشکیل کی اس نوعیت کے سبب سے نفس بعض اوقات اپنی خواہشوں سے مغلوب ہو کر اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے اور وہ انسان کو کسی برائی پر آمادہ کر دیتا ہے۔ نفس کے اس رجحان کو قرآن میں نفس امارہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے نفس کے اس پہلو کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے:

      وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِیْ إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَۃٌ بِالسُّوۡءِ (یوسف ۱۲: ۵۳)
      ’’اور میں اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہراتا۔ نفس بڑا ہی برائی کی راہ سمجھانے والا ہے۔‘‘

      لیکن یہ نفس نیکیوں کا شعور بھی رکھتا ہے، اس وجہ سے جب تک اس کا توازن برقرار رہتا ہے اس وقت تک وہ اپنے کو بھی، اگر اس سے کوئی برائی صادر ہو جاتی ہے، ملامت کرتا ہے اور دوسروں کی برائیوں کو دیکھ کر بھی کڑھتا اور بسا اوقات ملامت کرتا ہے۔ نفس کے اسی پہلو کو یہاں نفس لوامہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
      نفس کے توازن کو قائم رکھنے کی تدبیر: نفس کے توازن کو درست رکھنے کی تدبیر اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ آدمی برابر اپنے رب اور روز جزا و سزا کو یاد رکھے۔ یہ یاد نفس کے توازن کو درست رکھتی ہے اور وہ کبھی اس کی خواہشوں سے اتنا مغلوب نہیں ہوتا کہ بالکل ان کے آگے سپرانداز ہو جائے۔ اگر کبھی کوئی لغزش ہو جاتی ہے تو نفس لوامہ اس کو فوراً ٹوکتا ہے اور وہ متنبہ ہو کر توبہ و انابت سے اس داغ کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ جس نفس کے اندر یہ توازن پیدا ہو جائے قرآن نے اس کو نفس مطمئنہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ تربیت نفس کا سب سے اونچا مرتبہ یہی ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو دعوت دی ہے اور شریعت کے ذریعہ سے جس کا اہتمام فرمایا ہے۔ اسی نفس کو آخرت میں ’رَاضِیَۃً مَرْضِیَّۃ‘ کا مقام حاصل ہو گا جو نفس انسانی کی معراج ہے۔
      بدی کے بدی ہونے کا شعور انسان کی فطرت کے اندر موجود ہے: اس تفصیل سے واضح ہوا کہ بدی کے بدی ہونے کا شعور انسان کی فطرت کے اندر روز اول سے ودیعت ہے۔ آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے حسد سے مغلوب ہو کر اپنے بھائی ہابیل کو قتل تو کر دیا لیکن قتل کر دینے کے بعد اس کی لاش کو چھپانے کی بھی کوشش کی۔ یہ کوشش ظاہر ہے کہ اسی وجہ سے اسے کرنی پڑی کہ اس کے گناہ ہونے کا اسے احساس ہوا۔ برے سے برا آدمی بھی گناہ کرتا ہے تو اس کو نیکی سمجھ کر نہیں کرتا بلکہ جذبات اور خواہشوں سے مغلوب ہو کر ہی کرتا ہے۔ اگر اس گناہ کے معاملے میں وہ اپنے نفس کو الاؤنس بھی دیتا ہے تو یہ بھی اپنی فطرت کے خلاف دیتا ہے اس لیے کہ وہی برائی اگر کوئی دوسرا اس کے ساتھ کر بیٹھتا ہے تو وہ اس کو برائی ٹھہراتا اور اس کے خلاف احتجاج کرتا ہے۔ بروں کے ضمیر کو ٹٹولیے تو معلوم ہو گا کہ ان کے اندر بھی احترام اور عزت نیکی ہی کے لیے ہے اگرچہ ان کا عمل اس کے خلاف ہے۔ انسان نے جب سے معاشرتی و اجتماعی زندگی کی کوئی شکل اختیار کی ہے اس کے اندر اس نے حق و انصاف کے قیام کے لیے لازماً ایک نظام بھی قائم کیا ہے۔ اگرچہ بسا اوقات بعض برائیوں نے معاشرے پر ایسا غلبہ پا لیا ہے کہ نیکیاں ان کے نیچے دب گئی ہیں، لیکن معاشرے کا مجموعی ضمیر اس پر کبھی راضی نہیں ہوا بلکہ اس کے اندر ایسے لوگ موجود رہے ہیں جنھوں نے معاشرے کے اندر وہی فریضہ انجام دیا ہے جو ہر صحیح الفطرت انسان کے اندر اس کا نفس لوامہ انجام دیتا ہے۔ اگر معاملہ اس حد سے گزر گیا ہے یعنی نیکی کی کوئی رمق سرے سے باقی ہی نہیں رہ گئی ہے تو قانون قدرت نے اس معاشرے کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا ہے۔
      چند سوال اور ان کے جواب: اب سوال یہ ہے کہ جب انسان خود اپنے ضمیر کے اندر ایک نگران رکھتا ہے جو اس سے صادر ہو جانے والی برائیوں پر اس کو ٹوکتا رہتا ہے، تو اس کے لیے یہ تصور کرنا کس طرح معقول قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ ایک شتر بے مہار ہے، جس طرح کی زندگی وہ چاہے بسر کرے اور جس قدر چاہے اس نگران کی مخالفت کرے لیکن کوئی اس سے بازپرس کرنے کا حق نہیں رکھتا؟ اگر انسان شتر بے مہار ہے تو یہ نفس لوامہ اس کے اندر کہاں سے آ گھسا؟ اگر اس کا خالق لوگوں کی نیکی اور بدی دونوں سے بے تعلق ہے تو اس نے نیکی کی تحسین اور بدی پر سرزنش کے لیے انسان کے اندر یہ خلش کیوں اور کہاں سے ڈال دی؟ پھر یہیں سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب اس نے ہر انسان کے اندر یہ چھوٹی سی عدالت قائم کر رکھی ہے تو اس پورے عالم کے لیے وہ ایک ایسی عدالت کبریٰ کیوں نہ قائم کرے گا جو سارے عالم کے اعمال خیر و شر کا احتساب کرے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے؟ ان سوالوں پر جو شخص خواہشوں سے آزاد ہو کر غور کرے گا وہ ان کا یہی جوا ب دے گا کہ بے شک انسان کا اپنا وجود گواہ ہے کہ وہ خیر و شر کے شعور کے ساتھ پیدا ہوا ہے، وہ شتر بے مہار نہیں ہے بلکہ اس کے لیے لازماً ایک پرسش کا دن آنے والا ہے جس میں اس کو اس کی بدیوں کی سزا ملے گی اگر اس نے یہ بدیاں کمائی ہوں گی اور نیکیوں کا صلہ ملے گا اگر اس نے نیکیاں کی ہوں گی۔ اسی دن کی یاددہانی ہی کے لیے خالق نے اس کا ایک چھوٹا سا نمونہ خود انسان کے نفس کے اندر رکھ دیا ہے تاکہ انسان اس سے غافل نہ رہے اور اگر کبھی غفلت ہو جائے تو خود اپنے نفس کے اندر جھانک کر اس کی تصویر دیکھ لے۔ یہی حقیقت حکماء اور عارفین نے یوں سمجھائی ہے کہ انسان ایک عالم اصغر ہے جس کے اندر اس عالم اکبر کا پورا عکس موجود ہے، اگر انسان اپنے کو صحیح طور پر پہچان لے تو وہ خدا اور آخرت سب کو پہچان لیتا ہے۔ سقراط کا مقولہ مشہور ہے کہ ’’اے انسان! تو اپنے کو پہچان!‘‘

       

      جاوید احمد غامدی اور نہیں، میں (تمھارے اندر تمھارے) ملامت کرنے والے نفس کو گواہی میں پیش کرتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ پہلے ’نہیں‘ پر عطف ہے جس کی وضاحت اوپر ہوئی ہے۔
      یہ دوسری قسم ہے ۔ اِس کا مقسم علیہ بھی حذف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر اُس کا ضمیر جو اُسے برائیوں پر متنبہ کرتا ہے، اپنے وجود ہی سے گواہی دیتا ہے کہ قیامت ہو کر رہے گی۔ اِس کی تقریر اِس طرح ہے کہ انسان کے اندر ایک ملامت کرنے والا نفس برائی پر سرزنش کے لیے ہر وقت موجود ہے۔ اُس کے باطن کی یہ عدالت ہر موقع پر اپنا بے لاگ فیصلہ سنا رہی ہے۔ اِس کے معنی ہی یہ ہیں کہ انسان شتر بے مہار نہیں ہے۔ پھر جب وہ شتر بے مہار نہیں ہے تو لازم ہے کہ اُس سے باز پرس ہو۔ قیامت کا دن اللہ تعالیٰ نے اِسی بازپرس کے لیے مقرر کر رکھا ہے جس کی خبر اُس کے پیغمبر ہمیشہ دیتے رہے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اگر انسان شتر بے مہار ہے تو یہ نفس لوامہ اُس کے اندر کہاں سے آ گھسا؟ اگر اُس کا خالق لوگوں کی نیکی اور بدی، دونوں سے بے تعلق ہے تو اُس نے نیکی کی تحسین اور بدی پر سرزنش کے لیے انسان کے اندر یہ خلش کیوں اور کہاں سے ڈال دی؟ پھر یہیں سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب اُس نے ہر انسان کے اندر یہ چھوٹی سی عدالت قائم کر رکھی ہے تو اُس پورے عالم کے لیے وہ ایک ایسی عدالت کبریٰ کیوں نہ قائم کرے گا جو سارے عالم کے اعمال خیر و شر کا احتساب کرے اور ہر شخص کو اُس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے؟ اِن سوالوں پر جو شخص خواہشوں سے آزاد ہو کر غور کرے گا، وہ اِن کا یہی جواب دے گا کہ بے شک انسان کا اپنا وجود گواہ ہے کہ وہ خیر و شر کے شعور کے ساتھ پیدا ہوا ہے۔ وہ شتر بے مہار نہیں ہے، بلکہ اُس کے لیے لازماً ایک پرسش کا دن آنے والا ہے جس میں اُس کو اُس کی بدیوں کی سزا ملے گی، اگر اُس نے یہ بدیاں کمائی ہوں گی اور نیکیوں کا صلہ ملے گا، اگر اُس نے نیکیاں کی ہوں گی۔ اُسی دن کی یاددہانی ہی کے لیے خالق نے اُس کا ایک چھوٹا سا نمونہ خود انسان کے نفس کے اندر رکھ دیا ہے تاکہ انسان اُس سے غافل نہ رہے اور اگر کبھی غفلت ہوجائے تو خود اپنے نفس کے اندر جھانک کر اُس کی تصویر دیکھ لے۔ یہی حقیقت حکما اور عارفین نے یوں سمجھائی ہے کہ انسان ایک عالم اصغر ہے جس کے اندر اُس عالم اکبر کا پورا عکس موجود ہے۔ اگر انسان اپنے کو صحیح طور پر پہچان لے تو وہ خدا اور آخرت، سب کو پہچان لیتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۸۰)

       

    • امین احسن اصلاحی کیا انسان نے گمان کر رکھا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر پاویں گے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حقیقت سے فرار کے لیے منکرین قیامت کی سخن سازی: اگرچہ لفظ ’انسان‘ عام ہے لیکن روئے سخن قریش کے انہی منکرین قیامت کی طرف ہے جن کے شبہات پچھلی سورتوں میں زیربحث آئے ہیں۔ ان سے اظہار بیزاری کے لیے بات عام لفظ سے فرما دی ہے۔ فرمایا کہ قیامت کو ثابت کرنے کے لیے یہ شہادت تو ہر انسان کے اپنے اندر ہی موجود ہے۔ اس کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ لوگ یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ ان کے مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد ہم ان کی ہڈیوں کو جمع نہیں کر پائیں گے۔ فرمایا کہ اگر یہ چیز ان کو بعید از امکان نظر آئی ہے اور اس بنا پر وہ اپنے ضمیر کی شہادت کے خلاف قیامت کو جھٹلا رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ ہم ان کی ہڈیوں کو صرف جمع ہی نہیں کریں گے بلکہ اس قدرت و کمال کے ساتھ جمع کریں گے کہ ان کے جوڑ جوڑ پور پور ٹھیک کر دیں گے۔ ’بنان‘ انگلیوں کے پور کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی حقیر سے حقیر جزو بھی ایسا نہ ہو گا جس کے جمع کرنے اور جوڑنے سے ہم قاصر رہ جائیں۔ ’قٰدِرِیْنَ‘ حال واقع ہے ’نَجْمَعَ‘ کی ضمیر جمع سے۔

      جاوید احمد غامدی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم اِس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      روے سخن قریش کے منکرین کی طرف ہے، لیکن اُن سے اظہار بے زاری کے لیے بات ایک عام لفظ ’انسان‘ سے فرما دی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ہاں، ہم جمع کریں گے اس طرح کہ اس کے پور پور کو ٹھیک کر دیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حقیقت سے فرار کے لیے منکرین قیامت کی سخن سازی: اگرچہ لفظ ’انسان‘ عام ہے لیکن روئے سخن قریش کے انہی منکرین قیامت کی طرف ہے جن کے شبہات پچھلی سورتوں میں زیربحث آئے ہیں۔ ان سے اظہار بیزاری کے لیے بات عام لفظ سے فرما دی ہے۔ فرمایا کہ قیامت کو ثابت کرنے کے لیے یہ شہادت تو ہر انسان کے اپنے اندر ہی موجود ہے۔ اس کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ لوگ یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ ان کے مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد ہم ان کی ہڈیوں کو جمع نہیں کر پائیں گے۔ فرمایا کہ اگر یہ چیز ان کو بعید از امکان نظر آئی ہے اور اس بنا پر وہ اپنے ضمیر کی شہادت کے خلاف قیامت کو جھٹلا رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ ہم ان کی ہڈیوں کو صرف جمع ہی نہیں کریں گے بلکہ اس قدرت و کمال کے ساتھ جمع کریں گے کہ ان کے جوڑ جوڑ پور پور ٹھیک کر دیں گے۔ ’بنان‘ انگلیوں کے پور کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی حقیر سے حقیر جزو بھی ایسا نہ ہو گا جس کے جمع کرنے اور جوڑنے سے ہم قاصر رہ جائیں۔ ’قٰدِرِیْنَ‘ حال واقع ہے ’نَجْمَعَ‘ کی ضمیر جمع سے۔

      جاوید احمد غامدی نہیں، ہم تو اِس کی پور پور درست کر سکتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’بَلٰی قٰدِرِیْنَ‘۔ ’قٰدِرِیْنَ‘ اِن میں ’نَجْمَعَ‘ کی ضمیر جمع سے حال واقع ہوا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بلکہ انسان اپنے (ضمیر کے) آگے شرارت کرنا چاہتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی قیامت کا انکار اس بنا پر کہ ہڈیوں کو جمع کرنا ان کو بعید از امکان نظر آتا ہے محض حقیقت سے فرار کے لیے سخن سازی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنی خواہشوں کے ایسے غلام بن چکے ہیں کہ ان کی پیروی میں وہ خدا کے مقرر کیے ہوئے محتسب کے سامنے شرارت کرنا چاہتے ہیں جو کہیں دور نہیں بلکہ خود ان کے اندر ہی بیٹھا ہوا ہے۔ ان کی مثال اس چور کی ہے جو کوتوال کی موجودگی میں چوری کرے۔
      ’اَمَامَہٗ‘ کا مطلب عام طور پر لوگوں نے یہ لیا ہے کہ انسان اپنی آگے کی زندگی میں برابر اپنے گناہوں پر جما رہنا چاتا ہے اس وجہ سے قیامت کے انکار کے لیے بہانے تلاش کرتا ہے لیکن یہ مطلب لینے میں نہ نفس لوامہ کی شہادت سے اس کا کوئی تعلق واضح ہوتا اور نہ اس میں انسان پر اس کے اس رویے کے خلاف کوئی حجت ہی قائم ہوتی۔ ’اپنے آگے‘ سے مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ انسان اپنے ضمیر اور اپنے نفس لوامہ کے روبرو، اس کی تذکیر و تنبیہ کے علی الرغم، شرارتیں کرنا چاہتا ہے۔ قیامت کی سب سے بڑی شہادت انسان کے نفس کے اندر ہی موجود ہے لیکن جو شخص خود اپنی تردید و تکذیب کے لیے اٹھ کھڑا ہو اس کا کیا علاج ہے!
      اس میں دلیل کا پہلو یہ ہے کہ قیامت پر حجت قائم کرنے کے لیے تو انسان کا ضمیر ہی کافی ہے لیکن جو شخص ’دروغ گویم بروئے تو‘ کی جسارت کرنے پر تلا بیٹھا ہو اس کا منہ نہیں بند کیا جا سکتا۔
      اس سے یہ بات بھی نکلی کہ جو شخص اپنے نفس لوامہ یا دوسرے لفظوں میں اپنے ضمیر کے خلاف کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے وہ درحقیقت خدا کے روبرو برائی کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس لیے کہ ضمیر درحقیقت، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، خدا کا مقرر کردہ محتسب اور قاضی ہے تو جس نے اس کے آگے برائی کی اس نے خدا ہی کے آگے برائی کی۔

      جاوید احمد غامدی (نہیں، یہ بات نہیں ہے)، بلکہ (حق یہ ہے کہ) انسان اپنے ضمیر کے روبرو شرارت کرنا چاہتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی یہ بات نہیں ہے کہ ہڈیوں کو جمع کرنا اِنھیں بعید از امکان نظر آتا ہے۔ یہ محض سخن سازی ہے جو حقیقت سے فرار کے لیے کی جا رہی ہے۔
      یعنی ضمیر کی تذکیر و تنبیہ کے باوجود شرارت کرنا چاہتا ہے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ جو شخص قیامت کو جھٹلاتا ہے، وہ درحقیقت اپنے آپ کو جھٹلاتا ہے، اِس لیے کہ قیامت کی سب سے بڑی گواہی خود نفس انسانی کے اندر موجود ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پوچھتا ہے قیامت کب ہو گی؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک احمقانہ مطالبہ اور اس کا معتدل جواب: یہ منکرین قیامت کی جسارت اور ڈھٹائی کا بیان ہے کہ باوجودیکہ خدا کا محتسب خود ان کے اندر ہی موجود ہے اور وہ اس کو محسوس بھی کر رہے ہیں لیکن جب ان کو قیامت سے ڈرایا جاتا ہے تو یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ قیامت کہاں ہے؟ وہ کب آئے گی! اگر اس کو آنا ہے تو آ کیوں نہیں جاتی! ہم اس کے ڈراوے سنتے سنتے تو تھک گئے لیکن اس کو نہ آنا تھا، نہ آئی تو اب ہم ان ڈراوں سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں۔ جو لوگ اس سے ڈرا رہے ہیں وہ اس کو لا کر ہمیں دکھائیں تو ہم اس کا حق مانیں گے۔ محض زبانی دھونس سے ہم ماننے والے نہیں ہیں۔

      جاوید احمد غامدی پوچھتا ہے: قیامت کب آئے گی؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پس جب نگاہیں خیرہ ہو جائیں گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی آج تو وہ اس کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں گویا اس کے مقابلہ کے لیے ہر قسم کی تیاری کیے بیٹھے ہیں لیکن جب اس کی ہولناکی سے سابقہ پیش آئے گا تو کہیں گے، اب کہاں بھاگیں؟
      قیامت کے دکھا دیے جانے کا مطالبہ چونکہ ایک بالکل ہی احمقانہ مطالبہ ہے اس وجہ سے اس سے تو یہاں تعرض نہیں کیا لیکن اس کی ہولناکی کے بعض پہلو ان کے سامنے رکھ دیے۔ فرمایا کہ اس دن نگاہیں خیرہ ہو جائیں گی، چاند گہنا جائے گا، سورج اور چاند، جو آج اپنے الگ الگ مداروں میں گردش کر رہے ہیں، ان کی حد بندیاں ٹوٹ جائیں گی اور وہ آپس میں ٹکرا جائیں گے۔
      یہ قیامت کے دن کے احوال ہیں جن کا تعلق متشابہات سے ہے۔ اس جہان میں ان کی اصل حقیقت کا سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ یہاں مقصود صرف یہ دکھانا ہے کہ جو دن ایسی ہلچل کا ہو گا کہ چاند اور سورج اپنے مداروں سے ہٹ کر ایک ہی مدار میں جا پڑیں گے۔ اس کی ہولناکی کا اندازہ کون کر سکتا ہے! مطلب یہ ہے کہ اگر عقل کا کوئی شائبہ تمہارے اندر ہے تو اس سے پناہ مانگو اور اس کی آفتوں سے بچنے کی جو راہ دکھائی جا رہی ہے اس کو اختیار کرو نہ کہ اس کے لیے جلدی مچاؤ۔
      یہ امر یہاں واضح رہے کہ یہاں قیامت کے جو احوال بیان ہوئے ہیں وہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، صرف اس کا ہلکا سا تصور دینے کے لیے بیان ہوئے ہیں اور یہ اس کے بے شمار احوال میں سے صرف چند ہیں۔ آگے اسی گروپ کی سورتوں میں اس کے مختلف پہلو سامنے آئیں گے اور وہ بھی اس کے بے شمار پہلوؤں میں سے صرف چند ہی ہوں گے اس لیے کہ زبان ان کی تعبیر و تصویر سے قاصر ہے۔

      جاوید احمد غامدی لیکن اُس وقت جب دیدے پتھرائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور چاند گہنا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی آج تو وہ اس کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں گویا اس کے مقابلہ کے لیے ہر قسم کی تیاری کیے بیٹھے ہیں لیکن جب اس کی ہولناکی سے سابقہ پیش آئے گا تو کہیں گے، اب کہاں بھاگیں؟
      قیامت کے دکھا دیے جانے کا مطالبہ چونکہ ایک بالکل ہی احمقانہ مطالبہ ہے اس وجہ سے اس سے تو یہاں تعرض نہیں کیا لیکن اس کی ہولناکی کے بعض پہلو ان کے سامنے رکھ دیے۔ فرمایا کہ اس دن نگاہیں خیرہ ہو جائیں گی، چاند گہنا جائے گا، سورج اور چاند، جو آج اپنے الگ الگ مداروں میں گردش کر رہے ہیں، ان کی حد بندیاں ٹوٹ جائیں گی اور وہ آپس میں ٹکرا جائیں گے۔
      یہ قیامت کے دن کے احوال ہیں جن کا تعلق متشابہات سے ہے۔ اس جہان میں ان کی اصل حقیقت کا سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ یہاں مقصود صرف یہ دکھانا ہے کہ جو دن ایسی ہلچل کا ہو گا کہ چاند اور سورج اپنے مداروں سے ہٹ کر ایک ہی مدار میں جا پڑیں گے۔ اس کی ہولناکی کا اندازہ کون کر سکتا ہے! مطلب یہ ہے کہ اگر عقل کا کوئی شائبہ تمہارے اندر ہے تو اس سے پناہ مانگو اور اس کی آفتوں سے بچنے کی جو راہ دکھائی جا رہی ہے اس کو اختیار کرو نہ کہ اس کے لیے جلدی مچاؤ۔
      یہ امر یہاں واضح رہے کہ یہاں قیامت کے جو احوال بیان ہوئے ہیں وہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، صرف اس کا ہلکا سا تصور دینے کے لیے بیان ہوئے ہیں اور یہ اس کے بے شمار احوال میں سے صرف چند ہیں۔ آگے اسی گروپ کی سورتوں میں اس کے مختلف پہلو سامنے آئیں گے اور وہ بھی اس کے بے شمار پہلوؤں میں سے صرف چند ہی ہوں گے اس لیے کہ زبان ان کی تعبیر و تصویر سے قاصر ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور چاند گہنائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور سورج اور چاند اکٹھے کر دیے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی آج تو وہ اس کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں گویا اس کے مقابلہ کے لیے ہر قسم کی تیاری کیے بیٹھے ہیں لیکن جب اس کی ہولناکی سے سابقہ پیش آئے گا تو کہیں گے، اب کہاں بھاگیں؟
      قیامت کے دکھا دیے جانے کا مطالبہ چونکہ ایک بالکل ہی احمقانہ مطالبہ ہے اس وجہ سے اس سے تو یہاں تعرض نہیں کیا لیکن اس کی ہولناکی کے بعض پہلو ان کے سامنے رکھ دیے۔ فرمایا کہ اس دن نگاہیں خیرہ ہو جائیں گی، چاند گہنا جائے گا، سورج اور چاند، جو آج اپنے الگ الگ مداروں میں گردش کر رہے ہیں، ان کی حد بندیاں ٹوٹ جائیں گی اور وہ آپس میں ٹکرا جائیں گے۔
      یہ قیامت کے دن کے احوال ہیں جن کا تعلق متشابہات سے ہے۔ اس جہان میں ان کی اصل حقیقت کا سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ یہاں مقصود صرف یہ دکھانا ہے کہ جو دن ایسی ہلچل کا ہو گا کہ چاند اور سورج اپنے مداروں سے ہٹ کر ایک ہی مدار میں جا پڑیں گے۔ اس کی ہولناکی کا اندازہ کون کر سکتا ہے! مطلب یہ ہے کہ اگر عقل کا کوئی شائبہ تمہارے اندر ہے تو اس سے پناہ مانگو اور اس کی آفتوں سے بچنے کی جو راہ دکھائی جا رہی ہے اس کو اختیار کرو نہ کہ اس کے لیے جلدی مچاؤ۔
      یہ امر یہاں واضح رہے کہ یہاں قیامت کے جو احوال بیان ہوئے ہیں وہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، صرف اس کا ہلکا سا تصور دینے کے لیے بیان ہوئے ہیں اور یہ اس کے بے شمار احوال میں سے صرف چند ہیں۔ آگے اسی گروپ کی سورتوں میں اس کے مختلف پہلو سامنے آئیں گے اور وہ بھی اس کے بے شمار پہلوؤں میں سے صرف چند ہی ہوں گے اس لیے کہ زبان ان کی تعبیر و تصویر سے قاصر ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور سورج اور چاند، دونوں اکٹھے کر دیے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی تو اس وقت انسان کہے گا کہ کہاں بھاگوں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی آج تو وہ اس کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں گویا اس کے مقابلہ کے لیے ہر قسم کی تیاری کیے بیٹھے ہیں لیکن جب اس کی ہولناکی سے سابقہ پیش آئے گا تو کہیں گے، اب کہاں بھاگیں؟
      قیامت کے دکھا دیے جانے کا مطالبہ چونکہ ایک بالکل ہی احمقانہ مطالبہ ہے اس وجہ سے اس سے تو یہاں تعرض نہیں کیا لیکن اس کی ہولناکی کے بعض پہلو ان کے سامنے رکھ دیے۔ فرمایا کہ اس دن نگاہیں خیرہ ہو جائیں گی، چاند گہنا جائے گا، سورج اور چاند، جو آج اپنے الگ الگ مداروں میں گردش کر رہے ہیں، ان کی حد بندیاں ٹوٹ جائیں گی اور وہ آپس میں ٹکرا جائیں گے۔
      یہ قیامت کے دن کے احوال ہیں جن کا تعلق متشابہات سے ہے۔ اس جہان میں ان کی اصل حقیقت کا سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ یہاں مقصود صرف یہ دکھانا ہے کہ جو دن ایسی ہلچل کا ہو گا کہ چاند اور سورج اپنے مداروں سے ہٹ کر ایک ہی مدار میں جا پڑیں گے۔ اس کی ہولناکی کا اندازہ کون کر سکتا ہے! مطلب یہ ہے کہ اگر عقل کا کوئی شائبہ تمہارے اندر ہے تو اس سے پناہ مانگو اور اس کی آفتوں سے بچنے کی جو راہ دکھائی جا رہی ہے اس کو اختیار کرو نہ کہ اس کے لیے جلدی مچاؤ۔
      یہ امر یہاں واضح رہے کہ یہاں قیامت کے جو احوال بیان ہوئے ہیں وہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، صرف اس کا ہلکا سا تصور دینے کے لیے بیان ہوئے ہیں اور یہ اس کے بے شمار احوال میں سے صرف چند ہیں۔ آگے اسی گروپ کی سورتوں میں اس کے مختلف پہلو سامنے آئیں گے اور وہ بھی اس کے بے شمار پہلوؤں میں سے صرف چند ہی ہوں گے اس لیے کہ زبان ان کی تعبیر و تصویر سے قاصر ہے۔

      جاوید احمد غامدی تو یہی انسان اُس دن کہے گا: اب کہاں بھاگ کر جاؤں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہرگز نہیں، کہیں پناہ نہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ جواب ہو گا ان کے قول ’اَیْنَ الْمَفَرُّ‘ کا۔ یعنی وہ پکاریں گے کہ اب کہاں بھاگیں! ان کو جواب ملے گا کہ ہرگز نہیں، اب کوئی ٹھکانا اور بھاگنے کی جگہ نہیں ہے۔ اس دن تیرے رب ہی کی طرف سب کا ٹھکانا ہوگا۔ دوسری تمام راہیں فرار کی اس دن بند ہو جائیں گی۔

      جاوید احمد غامدی ہرگز نہیں، اب کہیں پناہ نہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس دن تیرے رب ہی کی طرف ٹھکانا ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ جواب ہو گا ان کے قول ’اَیْنَ الْمَفَرُّ‘ کا۔ یعنی وہ پکاریں گے کہ اب کہاں بھاگیں! ان کو جواب ملے گا کہ ہرگز نہیں، اب کوئی ٹھکانا اور بھاگنے کی جگہ نہیں ہے۔ اس دن تیرے رب ہی کی طرف سب کا ٹھکانا ہوگا۔ دوسری تمام راہیں فرار کی اس دن بند ہو جائیں گی۔

      جاوید احمد غامدی اُس دن تیرے رب ہی کے سامنے ٹھیرنا ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کی غایت: یہ مقصد بیان ہوا ہے اس دن کے آنے کا۔ فرمایا کہ اس دن ہر شخص کو آگاہ کیا جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ آگاہ کرنے سے مقصود یہ ہے کہ اس دن اس کے سارے اعمال کے نتائج سامنے رکھ دیے جائیں گے۔ دنیا کی زندگی میں جو بدیاں اس نے کمائیں وہ بھی اس کے سامنے آ جائیں گی اور جن نیکیوں سے منہ موڑا ان کے نتائج بھی سامنے آ جائیں گے۔ قرآن میں جا بجا یہ تصریح ہے کہ اس دن آخرت سے غافل رہنے والے اپنے سر پیٹیں گے کہ کاش! ہم نے آج کے دن کے لیے فلاں اور فلاں کام کر لیے ہوتے اور یہ بھی کہیں گے کہ کاش! ہم نے رسولوں کے انذار سے انحراف نہ کیا ہوتا بلکہ ان کی دعوت پر ایمان لائے ہوتے۔ ’قَدَّمَ‘ اور ’اَخَّرَ‘ کے الفاظ ان کے تمام اعمال بد اور ان کی ساری کوتاہیوں و کج رویوں کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ آخرت کی فیروزمندی کے لیے انسان کو بہت سے نیک کام کرنے اور بہت سے برے کام چھوڑنے پڑتے ہیں لیکن جو لوگ آخرت سے غافل یا اس کے منکر ہوتے ہیں وہ ان کاموں سے تو غافل یا منحرف رہتے ہیں جو وہاں کے لیے زادراہ کا کام دینے والے ہیں اور جو باتیں آخرت میں تباہی کا باعث بننے والی ہوتی ہیں، ساری زندگی وہ انہی کا ذخیرہ جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اس آیت میں ایسے ہی محروموں کے لیے تذکیر و تنبیہ ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اُس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے: یہ اسی بات کی وضاحت دوسرے الفاظ میں ہے جو اوپر ’بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَہٗ‘ کے الفاظ میں فرمائی گئی ہے۔ وہاں مخالفین قیامت کے سوال ’یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ‘ کے تعلق سے کلام کا رخ تصویر قیامت کی طرف مڑ گیا تھا۔ اس کے بعد اصل سلسلۂ کلام پھر عود کر آیا اور بات پوری کر دی گئی۔ فرمایا کہ انسان قیامت سے گریز کے لیے کتنے ہی بہانے بنائے لیکن وہ اپنے نفس پر خود حجت اور گواہ ہے۔ ’بَصِیْرَۃٌ عَلٰی نَفْسِہٖ‘ کے معنی ہوں گے ’شَاھِدٌ عَلٰی نَفْسِہٖ‘ (وہ اپنے اوپر خود گواہ ہے)۔ اس کی دلیل اوپر بیان ہو چکی ہے کہ انسان کے اندر اس کا نفس لوامہ قیامت کا شاہد ہے، اس کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اپنے ہی ضمیر کے آئینے میں اس کی صورت دیکھ سکتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (نہیں، وہ اِسے نہیں جھٹلا سکتا)، بلکہ (حق یہ ہے کہ) انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اگرچہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’مَعَاذِیْرَہٗ‘ جمع ہے ’مَعْذِرَۃٗ‘ کی۔ یہ دراصل ’مَعَاذِرُ‘ ہے۔ اس میں ’ی‘ زیادہ ہو گئی ہے جس طرح ’مناکیر‘ میں زیادہ ہو گئی ہے۔ اس کے معنی جھوٹے عذرات اور لاطائل بہانوں کے ہیں۔ عربی میں مثل ہے ’اَلمعَاذِرُ مکاذب‘ بعضوں نے اس کو ’معذار‘ کی جمع بتایا ہے جس کے معنی اہل یمن کی بولی میں پردہ کے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ رائے صحیح نہیں ہے۔ قرآن قریش کی ٹکسالی زبان میں نازل ہوا ہے، اہل یمن کی بولی میں نہیں اترا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اگرچہ وہ کتنے ہی بہانے بنائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَلَوْاَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ‘ اِن میں ’مَعَاذِیْرہٗ‘ دراصل ’معذرۃ‘ کی جمع ’معاذر‘ ہے جس میں ’ی‘ زیادہ ہو گئی ہے، جس طرح ’مناکیر‘ میں زیادہ ہو گئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس کو جلدی سیکھ لینے کے لیے اس کے پڑھنے پر اپنی زبان کو جلدی نہ چلاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آیات کا پس منظر: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخالفین کی جلد بازیوں اور ان کے نت نئے مطالبات کے مقابل میں صبر و انتظار کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر انذار عام کی جو بھاری ذمہ داری ڈالی تھی اس سے صحیح طور پر عہدہ برآ ہونے کے لیے آپ کے پاس واحد سہارا وحئ الٰہی ہی کا سہارا تھا۔ آپ کی مثال محاذ پر مامور سپاہی کی تھی اور آپ کوئی بھی قدم اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہیں اٹھا سکتے تھے۔ مخالفین آپ کو زچ کرنے کے لیے طرح طرح کے اعتراضات و مطالبات پیش کر کے آپ کو پسپا کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے تھے۔ اوپر ان کا ایک مطالبہ مذکور ہوا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جس قیامت سے ڈرا رہے ہو وہ کہاں ہے؟ اگر اس کا آنا قطعی ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتی! اسی طرح قرآن میں ان کا یہ مطالبہ بھی مذکور ہوا ہے کہ اگر قرآن اللہ کا کلام ہے تو وہ پورا کا پورا بیک دفعہ کیوں نہیں نازل ہو جاتا۔ غرض ہر طرف سے آپ پر نئے نئے اعتراضات و سوالات کی بارش تھی اور ہر سوال کے اطمینان بخش جواب کے لیے آپ کو برابر وحئ الٰہی کا انتظار رہتا۔ اسی سے آپ کے قلب کو قوت، آپ کی روح کو حیات تازہ، عقل کو رہنمائی اور ارادے کو ثبات و استحکام حاصل ہوتا۔ چنانچہ قرآن اور احادیث دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کبھی حکمت الٰہی کے تحت وحی کے نزول اور جبریل امینؑ کی آمد میں کچھ زیادہ وقفہ ہو جاتا تو آپ کی نگاہیں باربار آسمان کی طرف اٹھ جاتیں۔ اسی شوق و اضطراب کا اظہار آپ سے اس وقت بھی ہوتا جب جبریل امینؑ آپ پر وحی القاء فرماتے۔ آپ ایک پرشوق طالب کی طرح چاہتے کہ جلد سے جلد ساری وحی سن لیں اور اس کو اچھی طرح محفوظ بھی کر لیں کہ مبادا اس ابر نیساں کا کوئی قطرہ ضائع ہو جائے۔ اس تمہید کو ذہن میں رکھ کر اب آیات پر غور فرمائیے۔
      نزول وحی کے وقت آنحضرت کے شوق و اضطراب کی کیفیت: ’لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ‘۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عجلت و بے قراری سے روکا گیا ہے جو آپ پر اس وقت طاری ہوتی جب وحی آتی۔ اگرچہ شوق و عجلت کا مضمون ادب کے پامال مضامین میں سے ہے لیکن اس عجلت و بے قراری کی تعبیر کون کر سکتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت طاری ہوتی ہو گی جب ایک طویل وقفہ کے انتظار کے بعد اور مخالفین کی ژاژ خائیوں کے طوفان کے اندر حضرت جبریل امینؑ اللہ تعالیٰ کے نامہ و پیام کے ساتھ نمودار ہوتے رہے ہوں گے۔ ایک بچہ بھوکا ہو اور ماں اس کو چھاتی سے لگائے تو وہ چاہتا ہے کہ ماں کی چھاتی کا سارا دودھ ایک ہی سانس میں سڑپ لے۔ صحرا کا مسافر پیاس سے تڑپ رہا ہو اور طویل انتظار کے بعد اس کو پانی کا ڈول مل جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ پورا ڈول ایک ہی دفعہ میں انڈیل لینا چاہتا ہے۔ ایک فراق زدہ کو جدائی کی کٹھن گھڑیاں گزارنے کے بعد نامۂ محبوب مل جائے تو وہ چاہے گا کہ ایک ہی نظر میں اس کا ایک ایک حرف پڑھ ڈالے۔ اگرچہ یہ مثالیں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ناقص ہیں، تاہم ان سے کچھ اندازہ اس شوق، اس عجلت اور اس اضطراب کا کیا جا سکتا ہے جن کا اظہار آپ کی طرف سے بے اختیارانہ اس وقت ہوتا رہا ہو گا جب آپ وحی سے مشرف ہوتے رہے ہوں گے۔
      اس کا سبب کوئی ایک نہیں تھا بلکہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، متعدد تھے۔ مثلاً
      o یہ کہ آپ جس فریضۂ منصبی پر مامور تھے اس کا سارا پروگرام اسی سے معلوم ہوتا تھا۔
      o آپ کی عقلی، ایمانی اور روحانی زندگی کا تمام تر انحصار اسی پر تھا۔
      o حاضر اور مستقبل کے حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے رہنمائی اسی سے ملتی تھی۔
      o دشمنوں کے نت نئے اعتراضات و مطالبات کے فیصلہ کن جوابات اسی کے ذریعہ حاصل ہوتے تھے۔
      o علم کا غیر معمولی شوق اور اس کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری کا صحیح احساس بھی اس کا ایک بہت بڑا سبب تھا۔
      ان میں سے ہر محرک ایک پاکیزہ محرک ہے لیکن حکمت الٰہی کا تقاضا یہی تھا کہ قرآن جس تدریج سے نازل ہو رہا ہے اسی طرح نازل ہو۔ چنانچہ آپ کو باربار اسی معاملے میں صبر و انتظار کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ سورۂ طٰہٰ کی آیات ۱۱۴-۱۱۵ میں بھی آپ کو اسی طرح کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ وہاں ہم اس کے بعض خاص پہلوؤں کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ یہاں بھی اصلاً اسی بات کا ذکر ہے لیکن موقع و محل کے تقاضے سے آپ کو یہ اطمینان بھی، جیسا کہ آگے کی آیت سے واضح ہو رہا ہے، یہاں دلا دیا گیا کہ آپ قرآن کی حفاظت و صیانت کی طرف سے بالکل مطمئن رہیں۔ اس کے جمع و ترتیب، اس کو سنانے، یاد کرانے اور اس کے محتاج وضاحت مقامات کی وضاحت کی ذمہ داری اللہ نے اپنے اوپر لے رکھی ہے۔ جتنا جتنا قرآن اترتا جائے اس پر آپ قناعت کریں۔ نہ اس کے اتارے جانے کے لیے کسی عجلت و اضطراب کا اظہار کریں، نہ اس کی حفاظت کے باب میں کسی تشویش میں مبتلا ہوں۔ ان باتوں کو اپنے رب پر چھوڑیں۔ ہر کام اپنے صحیح وقت پر، ٹھیک ٹھیک اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کے مطابق ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی (اِن پر اتمام حجت کی جلدی میں، اے پیغمبر) تم اِس (قرآن) کو جلد پا لینے کے لیے اپنی زبان کو اِس پر نہ چلاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت ۱۶ سے ۱۹ تک یہ پوری عبارت ایک جملۂ معترضہ ہے جو سلسلۂ کلام کو بیچ میں توڑ کر ارشاد فرمائی گئی ہے۔ اِس کے مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پورے قرآن کو جلد حاصل کر لینے کے لیے آپ کے شوق و اضطراب اور عجلت و بے قراری پر یہ برسرموقع آپ کو صبر و انتظار کی تلقین ہے۔ اپنی قوم پر اتمام حجت آپ کا فریضۂ منصبی تھا۔ اِس طرح کی غیر معمولی ذمہ داری کو جلد سے جلداور سرخ روئی کے ساتھ پورا کردینے کی خواہش ایک فطری خواہش تھی۔ پھر قریش بھی بار بار تقاضا کرتے تھے کہ قرآن اگر خدا کی طرف سے نازل کیا جارہا ہے تو ایک ہی مرتبہ پورا کیوں نازل نہیں کر دیا جاتا۔ قرآن جیسی بے نظیر کتاب کسی شخص کو کائنات کے بادشاہ اور جہانوں کے پروردگار کی طرف سے دی جا رہی ہو اور اُس کے اندر یہ خواہش پیدا ہو جائے کہ پوری کتاب جلد اُسے مل جائے تو اِس پر تعجب نہ ہونا چاہیے۔ آپ کے قلب کو تمام قوت، روح کو زندگی، عقل کو رہنمائی اور ارادے کو ثبات و استحکام قرآن ہی سے حاصل ہوتا تھا، یہ چیز بھی اُس کو جلد پالینے کے لیے شوق و اضطراب کا باعث بن جاتی تھی۔ اِن آیتوں میں اِسی عجلت و بے قراری سے آپ کو روکا گیا ہے، جس کا اظہار آپ کی طرف سے بعض ایسے موقعوں پر ہوا ہوگا، جب وحی کے آنے میں کچھ زیادہ وقفہ ہو گیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اگرچہ شوق و عجلت کا مضمون ادب کے پامال مضامین میں سے ہے، لیکن اُس عجلت و بے قراری کی تعبیر کون کر سکتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اُس وقت طاری ہوتی ہو گی، جب ایک طویل وقفے کے انتظار کے بعد اور مخالفین کی ژاژخائیوں کے طوفان کے اندر حضرت جبریل امین علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نامہ و پیام کے ساتھ نمودار ہوتے رہے ہوں گے۔ ایک بچہ بھوکا ہواور ماں اُس کو چھاتی سے لگائے تو وہ چاہتا ہے کہ ماں کی چھاتی کا سارا دودھ ایک ہی سانس میں سڑپ لے۔ صحرا کا مسافر پیاس سے تڑپ رہا ہو اور طویل انتظار کے بعد اُس کو پانی کا ڈول مل جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ پورا ڈول ایک ہی دفعہ پیٹ میں انڈیل لینا چاہتا ہے۔ ایک فراق زدہ کو جدائی کی کٹھن گھڑیاں گزارنے کے بعد نامۂ محبوب مل جائے تو وہ چاہے گا کہ ایک ہی نظر میں اُس کا ایک ایک حرف پڑھ ڈالے۔ اگرچہ یہ مثالیں...ناقص ہیں، تاہم اِن سے کچھ اندازہ اُس شوق، اُس عجلت اور اُس اضطراب کا کیا جا سکتا ہے جن کا اظہار آپ کی طرف سے بے اختیارانہ اُس وقت ہوتا رہا ہو گا، جب آپ وحی سے مشرف ہوتے رہے ہوں گے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۸۵)

       

    • امین احسن اصلاحی ہمارے ذمہ ہے اس کو جمع کرنا اور اس کو سنانا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَ قُرْاٰنَہٗ‘۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تشویش کو رفع فرمایا ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ چونکہ ایک عظیم آسمانی خزانہ آپ کی تحویل میں دیا جا رہا تھا اس وجہ سے قدرتی طور پر اس کو اپنی امانت میں لیتے ہوئے آپ ایک ایک لفظ کو اس طرح محفوظ کرنے کی کوشش کرتے کہ کوئی حرف ضائع نہ ہونے پائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلایا کہ اس کو محفوظ کرنے اور اس کو سنانے کی ذمہ داری ہم نے اپنے اوپر لے رکھی ہے۔
      قرآن کے جمع و ترتیب اور اس کی حفاظت کا وعدہ: لفظ ’جمع‘ یہاں ایک جامع لفظ ہے۔ اس سے مراد اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں محفوظ کرنا بھی ہے اور ان منتشر موتیوں کو ایک لڑی میں پرونا بھی۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے برابر رہنمائی حاصل ہوتی رہی کہ مختلف مواقع پر نازل ہونے والی آیات کو الگ الگ سورتوں میں، کس ترتیب سے آپؐ جمع کرائیں۔ چنانچہ اس رہنمائی کی روشنی میں آپؐ نے الگ الگ سورتوں میں، ان کے مواقع کی تعیین کے ساتھ، جمع کرنے کی ہدایت فرمائی اور جمع کرنے والوں نے آپ کے اس حکم کی تعمیل کی۔
      اس کے علاوہ مزید اہتمام اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہر رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبریل علیہ السلام کے ساتھ اتنے قرآن کا مذاکرہ فرماتے جتنا نازل ہو چکا ہوتا تاکہ کسی سہو و نسیان کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حیات مبارک کے آخری رمضان میں آپ نے یہ مذاکرہ دو مرتبہ فرمایا، اسی کی طرف ’قُرْاٰنَہٗ ‘کے لفظ سے اشارہ فرمایا گیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ اِسی طرح اترے گا۔تم مطمئن رہو)، اِس کا جمع کرنا اور سنانا، سب ہماری ذمہ داری ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِسی تدریج کے ساتھ تھوڑا تھوڑا کرکے اترے گا ، جس طرح اتر رہا ہے۔ دعوت کی حکمت اِسی کا تقاضا کرتی ہے۔ قرآن نے یہ بات لفظوں میں بیان نہیں فرمائی، اِس لیے کہ یہ آپ سے آپ واضح ہے۔ اِس کے ساتھ، البتہ آگے کی آیتوں میں یہ اطمینان دلا دیا ہے کہ قرآن سے متعلق کسی معاملے میں بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اِس کی حفاظت، جمع و ترتیب، قراء ت اور اِس کے جو مقامات وضاحت کا تقاضا کرتے ہیں، اُن کی وضاحت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لے رکھی ہے۔ آپ کسی تشویش میں مبتلا نہ ہوں۔ یہ کام بھی اُس کی طرف سے اپنے وقت پر انجام پا جائیں گے۔ قرآن میں یہ اسلوب دوسرے مقامات میں بھی ہے کہ ایک بات ہوئی ہے تو اُس کی رعایت سے اُس کے بعض متعلقات بھی اُس موقع پر بیان کر دیے گئے ہیں۔
      یعنی جمع و ترتیب کے بعد ایک مرتبہ پھر سنانا۔سورۂ اعلیٰ (۸۷) کی آیت ۶میں یہی بات ’سَنُقْرِءُکَ فَلَا تَنْسآی‘ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔اِسے عرضۂ اخیرہ کی قراء ت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جبریل علیہ السلام نے آپ کی حیات مبارک کے آخری رمضان میں دو مرتبہ آپ کے ساتھ قرآن کا مذاکرہ فرمایا۔* یہ اِسی قراء ت کے مطابق تھا۔ سلف اِسے قراء ت عامہ کہتے رہے ہیں۔** اللہ تعالیٰ کے اِس ارشاد سے واضح ہے کہ قرآن مجید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ جمع کرکے آپ کی زندگی ہی میں سنا دیا گیا تھا۔
      _____
      * بخاری، رقم ۴۹۹۸۔
      ** البرہان، الزرکشی ۱/ ۳۳۱۔

    • امین احسن اصلاحی تو جب ہم اس کو سنا چکیں تو اس سنانے کی پیروی کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فَاِذَا قَرَاْنٰہٗ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ‘ یعنی تم اپنی طرف سے قرآن کے اتارے جانے کے لیے کوئی جلدی نہ کرو۔ یہ معاملہ اپنے رب پر چھوڑو۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جتنا چاہے گا نازل فرمائے گا اور اس کی حفاظت اور اس کے جمع و ترتیب کا اہتمام بھی فرمائے گا۔ تمہاری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ ہم جتنا قرآن سنا چکیں اس کے سنانے کی پیروی کرو۔ اسی کو پڑھو، اسی پر عمل کرو اور اسی کی دعوت دو۔ جو لوگ پورے قرآن کو بیک دفعہ نازل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کے مطالبہ کی کوئی پروا نہ کرو۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے جب (اُس وقت) ہم اِس کو پڑھیں تو اِس کی اُس قراء ت کی پیروی کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُس قراء ت کی پیروی کرو جو ایک کتاب کی صورت میں قرآن کی ترتیب کے بعد ہم کریں گے۔ اِس سے پہلے اگر کوئی آیت اِس سے مختلف طریقے پر پڑھی جاتی رہی ہے تو اُس کا اعتبار نہ ہو گا۔ قرآن اِسی ترتیب اور اِسی قراء ت کے ساتھ اِس وقت ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ چند علاقوں کو چھوڑ کر امت کی عظیم اکثریت اِسی کے مطابق قرآن کی تلاوت کر رہی ہے۔ اِس کے علاوہ کوئی دوسری قراء ت نہ قرآن ہے اور نہ اُسے قرآن قرار دیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ عرضۂ اخیرہ کے بعد ہمیشہ کے لیے اِسی قراء ت کی پیروی کی جائے۔

    • امین احسن اصلاحی پھر ہمارے ہی ذمہ ہے اس کی وضاحت کرنا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ‘۔ اسی سلسلہ میں مزید اطمینان یہ بھی دلا دیا کہ اگر قرآن کے کسی مقام میں کسی وضاحت کی ضرورت ہو گی تو اس کے باب میں بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی وضاحت کی ذمہ داری بھی ہمارے اوپر ہے۔ جب وقت آئے گا تو یہ کام بھی ہم کر دیں گے۔ یہ اشارہ ان آیات کی طرف ہے جو کسی سابق حکم کی توضیح و تبیین یا اس کے نسخ یا تکمیل کے طور پر نازل ہوئیں۔ ان توضیحی آیات کی طرف ہم جگہ جگہ اشارہ کر چکے ہیں اور یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ ان کے بعد بالعموم ’کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ‘ کے الفاظ سے قرآن نے یہ رہنمائی بھی دے دی ہے کہ یہ اسی وعدے کی تکمیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے ’اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ‘ کے الفاظ میں فرمایا ہے۔
      استاذ امامؒ کے بعض افادات: ان آیات کے تحت استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے جو کچھ لکھا ہے اس کے بعض حصے بھی ہم نقل کیے دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

      ’’مفسرین کا خیال ہے کہ ان آیات میں جس عجلت کا ذکر ہے اس کا سبب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اندیشہ تھا کہ مبادا قرآن کی کوئی بات ضائع ہو جائے۔ ہم کواس رائے سے اختلاف نہیں ہے، لیکن اس میں تھوڑی سی تفصیل ہے جو سمجھ لینا ضروری ہے۔‘‘
      ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ محسوس فرماتے کہ یہ ایک عظیم ذمہ داری اور بہت بڑی امانت ہے جو آپ کے سپرد کی جا رہی ہے، اس میں کوئی ادنیٰ کوتاہی بھی ہوئی یا اس کا ایک حرف بھی ضائع ہوا توآپ کو اس کا جوابدہ ہونا پڑے گا۔ ساتھ ہی آپ کو یہ تمنا بھی تھی کہ اس میں اضافہ ہو، شاید آپ کی قوم اس کے کسی حصہ کی برکت سے راہ یاب ہو جائے۔ معاملہ کے یہ دونوں ہی پہلو نہایت واضح تھے چنانچہ اس سورہ میں آپ کو جو تسلی دی گئی اس میں ان دونوں پہلوؤں کی رعایت ہے۔‘‘
      ’’قرآن مجید کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اجمالاً اور تفصیلاً دونوں طرح فرمایا ہے۔ مثلاً

      وَاِنَّہٗ لَکِتٰبٌ عَزِیْزٌ ہ لَّا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْم بَیْنِ یََدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ حٰم السجدہ (۴۱: ۴۱-۴۲)
      ’’اور یہ کتاب عزیز ہے جس میں باطل نہ اس کے آگے سے راہ پا سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔‘‘

      دوسرے مقام میں ارشاد ہے:

      اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰٰفِظُوْنَ (الحجر ۱۵: ۹)
      ’’ہم ہی نے اس یاددہانی کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘

      ’’ان آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں کسی کمی بیشی یا تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ یہ باتیں اس وعدۂ حفاظت کے منافی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں فرمایا ہے۔ چنانچہ اس امر پر پوری امت متفق ہے کہ قرآن بالکل محفوظ ہے۔ امامیہ کے متعلق جو مشہور ہے کہ وہ کہتے کہ قرآن کا کچھ حصہ غائب کر دیا گیا تو یہ بات ان کے اکابر علماء کی تصریحات کے بالکل خلاف ہے۔ سید مرتضیٰ، شیخ الطائفہ محمد بن حسن طوسی، ابو علی طبری صاحب مجمع البیان، محمد بن علی بن بابویہ قمی، سب نے اس بے ہودہ خیال کی، پوری شدت کے ساتھ، تردید کی ہے۔ محمد بن علی بن بابویہ قمی کہتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ جو قرآن اللہ تعالیٰ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا بعینہٖ وہی قرآن ہے جو مابین الدفتین امت کے ہاتھوں میں موجود ہے۔ قرآن ایک حرف بھی اس سے زیادہ نہیں ہے۔ جو شخص ہم سے یہ منسوب کرتا ہے کہ ہم قرآن مجید کے اس سے زیادہ ہونے کے قائل ہیں، وہ جھوٹا ہے۔ اس باب میں ان کے ہاں جو روایات ہیں، ان کے بارے میں سید مرتضیٰ کہتے ہیں کہ امامیہ اور حشویہ میں سے جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے ان کے اختلاف کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ ان کے اختلاف کا تمام تر مدار چند ضعیف روایات پر ہے جن کو یہ صحیح سمجھتے ہیں حالانکہ ان روایات کا یہ درجہ نہیں ہے کہ ان کی بنیاد پر ایک ایسی بات کا انکار کر دیا جائے جس کی صحت قطعیت سے ثابت ہے۔‘‘

      ’’آیت زیربحث سے مولانا علیہ الرحمۃ نے جو استنباط کیے ہیں وہ یہ ہیں:

      o قرآن حضورؐ کی زندگی ہی میں جمع کر کے، ایک خاص ترتیب پر آپ کو سنا دیا گیا۔ اگر یہ وعدہ آپ کی وفات کے بعد پورا ہونے والا ہوتا توآپ کو اس قراء ت کی پیروی کا حکم نہ دیا جاتا، جیسا کہ دیا گیا ہے: ’فَاِذَا قَرَاْنٰہٗ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ‘ (پس جب ہم اس کو سنا دیں تو اس کی پیروی کرو)۔
      o آپ کو حکم تھا کہ جمع قرآن کے بعد جس طرح آپ کو قرآن سنایا جائے اسی طرح آپ اس کو پڑھیں............ اس حکم کا لازمی تقاضا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو اس ترتیب کے مطابق قرآن سنایا ہو جس پر اس کی آخری قراء ت ہوئی۔ اور یہ ترتیب وہی ترتیب ہے جو لوح محفوظ میں ہے۔ آخری قراء ت کا اصل کے ٹھیک ٹھیک مطابق ہونا ضروری ہے۔
      o یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس جمع و ترتیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے وہ باتیں بھی بیان فرما دیں جو تعمیم و تخصیص یا تخفیف و تکمیل کی نوعیت کی تھیں۔‘‘

      آگے مولانا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

      ’’یہ ساری باتیں قرآن مجید سے ثابت ہیں اور ان کی تصدیق روایات سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی پوری پوری سورتیں لوگوں کو سناتے جو بغیر اس کے ممکن نہیں کہ وہ اس خاص ترتیب پر آپ کو سنائی گئی ہوں۔ صحابہؓ اسی ترتیب پر قرآن سنتے، اس کو محفوظ کرتے اور اس کی پابندی کرتے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ آپ آیتوں کو مخصوص سورتوں میں، معین مقامات پر لکھواتے، اور صحابہؓ اس حکم کی تعمیل کرتے۔ پھر جب کوئی توضیحی آیت اترتی تو آپ اس کو بھی قرآن مجید میں اس کے معین مقام میں لکھواتے اور ان کے لکھوانے میں دو اصول ملحوظ رکھے جاتے: یا تو وہ ان آیات کے ساتھ ملا دی جاتیں جن کی وہ تشریح کرتیں یا سورہ کے آخر میں رکھ دی جاتیں اگر ان کا تعلق سورہ کے مجموعی مضمون سے ہوتا۔‘‘
      ’’ان توضیحی آیات کی ایک اور نمایاں علامت بھی قرآن کے تدبر سے سامنے آتی ہے۔ وہ یہ کہ خود ان آیات کے اندر ایسے الفاظ موجود ہیں جن سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ توضیح و تشریح کے طور پر نازل ہوئی ہیں۔ مثلاً ان کے ساتھ بالعموم اس طرح کے الفاظ ہیں: ’کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ‘ (اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کھول رہا ہے)۔‘‘
      ’’اسی طرح یہ بات بھی صحیح اور متفق علیہ روایات سے ثابت ہے کہ آخر میں حضرت جبریلؑ نے پورا قرآن، اس کی اصلی ترتیب کے مطابق آپ کو سنایا۔ اس سے نظام قرآن کے باب میں بہت سے شبہات خود بخود دور ہو جاتے ہیں۔‘‘ ( ماخوذ از تفسیر سورۂ قیامہ مؤلفہ امام فراہیؒ)

       

      جاوید احمد غامدی پھر ہمارے ہی ذمے ہے کہ (اگر کہیں ضرورت ہو تو ) ہم (تمھارے لیے) اِس کی وضاحت کر دیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُن آیات کی طرف اشارہ ہے جو کسی سابق حکم کی شرح و وضاحت کے لیے نازل ہوئی ہیں۔ قرآن میں یہ بالعموم ’کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہ‘ یا اِس کے ہم معنی الفاظ میں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ یہاں فرمایا ہے، یہ اُسی کی تکمیل ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ہرگز نہیں، بلکہ تم لوگ اس دنیا ہی سے عشق رکھتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر و انتظار کی تلقین کے بعد پھر کلام اپنے اصل سلسلہ سے جڑ گیا۔ مکذبین قیامت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ قیامت کے بارے میں تمہارا یہ رویہ اس بنا پر نہیں ہے کہ اس کی کوئی دلیل تمہارے سامنے نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی شہادت تو خود تمہارے اپنے قلب و ضمیر ہی کے اندر موجود ہے۔ بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا اور اس کی مرغوبات سے عشق رکھتے ہو اور اس نقد کو چھوڑ کر آخرت کے نسیہ کے لیے بازی کھیلنے کا حوصلہ تمہارے اندر نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی (لوگو، تم اِسے نہیں جھٹلا سکتے)، ہرگز نہیں، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) تم اِس جلد ملنے والی سے محبت کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر و انتظار کی تلقین کے بعد یہاں سے کلام پھر اصل سلسلۂ بیان کے ساتھ مربوط ہو گیا ہے۔

    Join our Mailing List