Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 56 آیات ) Al-Muddaththir Al-Muddaththir
Go
  • المدثر (The One Wrapped Up, The Cloaked One, The Man Wearing A Cloak)

    56 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ المزّمّل ۔۔۔ کی توام ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ نام بھی دونوں کے بالکل ہم معنی ہیں۔ سابق سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جس ’قول ثقیل‘ کے تحمل کے لیے تیاری کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے اس میں اس کا واضح الفاظ میں اظہار کر دیا گیا ہے کہ آپ کمربستہ ہو کر لوگوں کو انذار کریں، مخالفتوں کے علی الرغم اپنے موقف حق پر ڈٹے رہیں۔ دشمنوں کے معاملہ کو اللہ پر چھوڑیں اور اس امر کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں کہ آپ کا فریضہ اس قرآن کے ذریعہ سے لوگوں کو صرف یاددہانی کر دینا ہے، ہر ایک کے دل میں اس کو اتار دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس کو قبول وہی کریں گے جو سنت الٰہی کے مطابق اس کے قبول کرنے کے اہل ہوں گے۔ جو اس کے اہل نہیں ہیں وہ اس سے بیزار ہی رہیں گے خواہ ان کی ہدایت کے لیے آپ کتنے ہی جتن کریں۔

  • المدثر (The One Wrapped Up, The Cloaked One, The Man Wearing A Cloak)

    56 آیات | مکی
    المزمل - المدثر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جس بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیاریوں کی ہدایت کرتی ہے، دوسری میں آپ کے لیے اُس ذمہ داری کی وضاحت کی گئی ہے کہ انذار کے بعد اب آپ اپنی قوم کو انذارعام کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

    دونوں سورتوں میں خطاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہے اور آپ کے مخاطب قریش کے سرداروں سے بھی۔

    اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا مرحلۂ انذار عام اِنھی دو سورتوں سے شروع ہوا ہے۔

    پہلی سورہ — المزمل — کا موضوع قوم کے ردعمل پر غم کی حالت سے نکل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیاریوں کی ہدایت اور قریش کے لیڈروں کوتنبیہ ہے کہ اُن کی مہلت تھوڑی رہ گئی، وہ اگر اپنے رویوں کی اصلاح نہیں کرتے تو اِس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔

    دوسری سورہ — المدثر — کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اِس ذمہ داری کی وضاحت، اُس کے تقاضوں اور حدود سے آگاہی اور آپ کے مخاطبین کو تنبیہ و تہدید ہے کہ جس قیامت سے کھلم کھلا خبردار کرنے کا حکم ہم نے پیغمبر کو دیاہے، اُسے کوئی معمولی چیز نہ سمجھو۔ وہ ایک ایسا دن ہے جو منکروں کے لیے آسان نہ ہو گا اور ایک ایسی حقیقت ہے جو نہ جھٹلائی جا سکتی ہے اور نہ اُس سے بچنے کے لیے کوئی سفارش کسی کے کام آ سکتی ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی اے چادر لپیٹے رکھنے والے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’مزّمّل‘ اور ’مدّثّر‘ کے خطاب کی بلاغت: ’مُدَّثّر‘ اور ’مُزّمّل‘ دونوں کے معنی جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ایک ہی ہیں۔ ’مُدَّثّر‘ ’دِثَارٌ‘ سے ہے جو اس چادر کے لیے آتا ہے جو سونے والا اپنے اوپر لے لیا کرتا ہے۔
      چادر لپیٹے رکھنا، جیسا کہ ہم نے سابق سورہ میں واضح کیا، آدمی کی فکر مندی کی ایک علامت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائے بعثت میں جو مشاہدات و تجربات ہوئے اول تو وہ خود ہی گراں بار کرنے والے تھے پھر جب آپ نے ان کا اظہار اپنے خاندان والوں کے سامنے کیا اور انھوں نے ان کا مذاق اڑانا شروع کیا تو آپ کی فکرمندی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ایسی حالت میں آپ زیادہ تر چادر لپیٹے ہوئے، لوگوں سے الگ تھلگ رہتے جس طرح ایک فکرمند انسان رہتا ہے۔ آپ کی اسی فکر و پریشانی کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت پیار سے آپ کو ’مزّمّل‘ اور ’مدّثّر‘ سے خطاب فرمایا تاکہ خطاب ہی سے آپ کو تسلی ہو جائے کہ رب کریم آپ کے حال سے اچھی طرح واقف ہے اور جب اس نے اس شفقت سے مخاطب فرمایا ہے تو وہ آپ کی پریشانی دور بھی فرمائے گا۔ چنانچہ سابق سورہ میں آپ کو ’مزّمّل‘ سے خطاب کر کے قیام لیل کی تاکید فرمائی گئی جس میں اس فکر و پریشانی کا علاج بھی تھا اور اس مہم کے لیے تیاری بھی جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اے اوڑھ لپیٹ کر بیٹھنے والے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُسی حالت کی تصویر ہے جس کا ذکر اِس سے پہلے سورۂ مزمل میں ہوا ہے۔ ’مُدَّثِّر‘ اور ’مُزَّمِّل‘ ہم معنی ہیں۔ لفظ ’مُدَّثِّر‘ ’دثار‘ سے بنا ہے۔ یہ اُس چادر کو کہتے ہیں جو سونے کے لیے اوڑھ لی جاتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اٹھ اور لوگوں کو ڈرا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انذار عام کے لیے کھڑے ہونے کا حکم: ’قُمْ فَاَنْذِرْ‘۔ یہ اس مہم کا بیان ہے جس کی طرف پچھلی سورہ میں ’اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا‘ (۵) (ہم تم پر آگے ایک بھاری ذمہ داری ڈالنے والے ہیں) کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ یعنی کمر بستہ ہو کر اٹھو اور پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ اپنی قوم کو انذار کرو۔ مخالفت و مزاحمت، حالات کی نامساعدت اور ماحول کی اجنبیت کی پروا نہ کرو۔ جب تم ہمت کر کے اٹھ کھڑے ہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری راہ آسان کرے گا اور غیب سے تمہاری تائید کے اسباب فراہم ہوں گے۔ سابق سورہ میں یہ اشارہ ہم کر چکے ہیں کہ ’اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا‘ (۵) سے اسی انذار عام کے حکم کی طرف اشارہ ہے جو یہاں دیا گیا ہے۔ عام طور پر لوگوں نے ’قَوْلٌ ثَقِیْلٌ‘ سے خود وحی کو مراد لیا ہے لیکن وحی تو اس سے پہلے بھی نازل ہو چکی تھی تو یہ کہنے کے کیا معنی کہ ’ہم عنقریب تم پر ایک قول ثقیل نازل کریں گے!‘ البتہ انذار کا یہ حکم آپ کے لیے بلاشبہ ایک بہت ہی بھاری حکم تھا۔ مکہ اور طائف کے سرداروں کے کانوں میں توحید کی اذان دینا اور وہ بھی اس دعوے کے ساتھ کہ آپ اللہ کے رسول ہو کر آئے ہیں، اگرا نھوں نے آپ کے انذار کی تکذیب کی تو اس کے عذاب کی زد میں آ جائیں گے کوئی سہل کام نہیں تھا۔ اس بھاری ذمہ داری سے آپ کا ہراس محسوس کرنا ایک امر فطری تھا۔ چنانچہ ابتداءً آپ نے اپنے کام کو اپنے خاص خاندان والوں ہی تک محدود رکھا اور ان پر بھی نہایت احتیاط کے ساتھ صرف اپنے بعض مشاہدات و تجربات کا اظہار فرما کر ان کا ردعمل معلوم کرنا چاہا جو نہایت مخالفانہ صورت میں سامنے آیا۔ چنانچہ اس دور میں آپ پر نہایت شدید فکرمندی کی حالت طاری رہی۔ جس کی تصویر ’مزّمّل‘ اور ’مدّثّر‘ کے الفاظ سے ہمارے سامنے آتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے آپ کو مبعوث فرمایا تھا وہ ہونا تھا چنانچہ پہلے (سورۂ مزمل میں) آپ کو اس صورت حال کے مقابلہ کے لیے تیاری کی ہدایت ہوئی پھر اس سورہ میں کمر باندھ کر انذار عام کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا حکم ہوا۔

      جاوید احمد غامدی اٹھو اور انذار عام کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس ذمہ داری کا بیان ہے جس کی طرف پچھلی سورہ میں ’اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلاً‘ کے الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے۔استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...مکہ اور طائف کے سرداروں کے کانوں میں توحید کی اذان دینا اور وہ بھی اِس دعوے کے ساتھ کہ آپ اللہ کے رسول ہو کر آئے ہیں، اگر اُنھوں نے آپ کے انذار کی تکذیب کی تو اُس کے عذاب کی زد میں آجائیں گے، کوئی سہل کام نہیں تھا۔ اِس بھاری ذمہ داری سے آپ کا ہراس محسوس کرنا ایک امر فطری تھا۔ چنانچہ ابتداءً آپ نے اپنے کام کو اپنے خاص خاندان والوں ہی تک محدود رکھا اور اُن پر بھی نہایت احتیاط کے ساتھ صرف اپنے بعض مشاہدات و تجربات کا اظہار فرما کر اُن کا ردعمل معلوم کرنا چاہا جو نہایت مخالفانہ صورت میں سامنے آیا۔ چنانچہ اِس دور میں آپ پر نہایت شدید فکر مندی کی حالت طاری رہی، جس کی تصویر ’مُزَّمِّل‘ اور ’مُدَّثِّر‘ کے الفاظ سے ہمارے سامنے آتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے آپ کو مبعوث فرمایا تھا، وہ ہونا تھا۔ چنانچہ پہلے (سورۂ مزمل میں) آپ کو اِس صورت حال کے مقابلے کے لیے تیاری کی ہدایت ہوئی، پھر اِس سورہ میں کمر باندھ کر انذار عام کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا حکم ہوا۔‘‘ (تدبرقرآن ۹/ ۴۳)

       

    • امین احسن اصلاحی اور اپنے رب ہی کی کبریائی کی منادی کر۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      توحید خالص کی منادی: یہ اس انذار کا پہلا حکم ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ حضرات انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں توحید کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے یعنی صرف اللہ ہی کی کبریائی و یکتائی کا اعلان۔ مفعول کی تقدیم سے یہاں حصر کا مضمون پیدا ہو گیا ہے۔ یعنی اللہ کے سوا جو بھی کبریائی کے مدعی ہیں یا جن کی کبریائی کا بھی دعویٰ کیا جا سکتا ہے وہ سب باطل، تم صرف اپنے رب ہی کی عظمت و کبریائی کا اعلان کرو۔ ایک جاہلی معاشرہ میں یہ اعلان ساری خدائی سے لڑائی مول لینے کے ہم معنی تھا لیکن دین کی بنیاد چونکہ اسی کلمہ پر ہے اس وجہ سے ہر نبی کو بے درنگ یہ اعلان کرنا پڑا۔

      جاوید احمد غامدی اپنے رب ہی کی کبریائی کا اعلان کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اعلان کرو کہ وہی سب سے بڑا، سب سے یگانہ، یکتا اور بے ہَمتا ہے۔ اُس کے سوا جن کی بڑائی کا دعویٰ کیا جاتا ہے، وہ سب باطل ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور اپنے دامن کو پاک رکھ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’ثیاب‘ کا مفہوم: لفظ ’ثِیَابٌ‘ جمع ہے ’ثَوْبٌ‘ کی جس کے معنی کپڑے کے ہیں لیکن اس کے معنی دامن کے بھی ہو سکتے ہیں۔ بلکہ کلام عرب کے شواہد سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس مفہوم میں بھی آتا ہے جس کو ہم اپنی زبان میں ’دامن دل‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ امرء القیس کا مشہور شعر ہے:

      وان تک قد ساء تک منی خلیفۃ
      فسلی ثیابی من ثیابک تنسل

      ’’اگر میری حرکت تجھے بری ہی لگی ہے تو میرے دامن دل کو اپنے دامن دل سے جدا کر دے تو جدا ہو جائے گی۔‘‘

      اس شعر میں شارحین نے ’ثیاب‘ کو دل ہی کے معنی میں لیا ہے اور یہ معنی اس صورت میں لیے جا سکتے ہیں جب اس کو بطریق استعارہ ’دامن دل‘ کے مفہوم میں سمجھا جائے۔ امرء القیس ہی کا مصرعہ ہے:

      ثیاب بنی عوف طھاری نقیّۃ

      ’’بنی عوف کے دامن بالکل پاک صاف ہیں۔‘‘

      لفظ ’ثیاب‘ کے اس مفہوم کی روشنی میں آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ تم بالکل بے خوف ہو کر اپنے رب کی کبریائی اور وحدت کی منادی کرو۔ مخالفین خواہ کتنی خاک بازی کریں اور کتنا ہی زور لگائیں لیکن تم اپنے دامن دل پر نجاست شرک کا کوئی چھینٹا نہ آنے دو۔ یہ امر واضح رہے کہ قرآن نے نہایت واضح الفاظ میں مشرکوں کو نجس اور شرک کو نجاست سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ ہدایت آپ کو اس لیے فرمائی گئی کہ بعد کے مراحل میں قریش کے لیڈروں نے آپ کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ وہ آپ کی سب باتیں مان لیں گے بشرطیکہ آپ بھی ان کے معبودوں کا کوئی مقام تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات نہایت سختی سے رد فرما دی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی آپ کو نہایت تاکید کے ساتھ یہی ہدایت ہوئی کہ توحید بنیاد دین ہے، اس باب میں آپ کوئی لچک ہرگز قبول نہ کریں:

      ’وَدُّوْا لَوْ تُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ‘ (القلم ۶۸: ۹)
      (وہ چاہتے ہیں کہ تم کچھ نرم پڑو تو وہ بھی کچھ نرم ہو جائیں)

      اور اسی مضمون کی ایک سے زیادہ آیتوں میں اس صورت حال کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ یہاں بھی اسی طرح کی ایک نہایت اہم تنبیہ ہے۔ پیغمبرؐ کو خطاب کرکے مشرکین پر گویا یہ حقیقت واضح کر دی گئی کہ شرک ایک ایسی نجاست ہے جس کا کوئی چھینٹا بھی اللہ کا رسول اپنے دامن پر گوارا کرنے والا نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی اپنے دامن دل کو پاک رکھو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’ثِیَاب‘ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی کپڑے کے ہیں، لیکن کلام عرب میں یہ اُس مفہوم میں بھی آتا ہے جسے ہم اپنی زبان میں ’دامن دل‘ سے ادا کرتے ہیں۔
      یعنی توحید کے معاملے میں ہر آلایش سے پاک رکھو۔آگے اِسی کو ’وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْ‘ کے الفاظ سے واضح کر دیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’اِس ہدایت کی ضرورت اِس لیے نہیں تھی کہ العیاذ باللہ آپ کے کسی شرک میں مبتلا ہونے کا اندیشہ تھا۔ آپ جس طرح دور اسلام میں طاہر و مطہر رہے، اُسی طرح جاہلیت میں بھی شرک کے ہر شائبہ سے پاک رہے۔ مقصود صرف کفار و مشرکین کو آگاہ کرنا تھا کہ وہ جان لیں کہ جو منذر اُن کے پاس آیا ہے، اُس کا موقف اُن کے دین شرک کے معاملے میں کیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے اِس باب میں کن ہدایات کے ساتھ مبعوث ہوا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۴۵)

       

    • امین احسن اصلاحی اور ناپاکی کو چھوڑ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’رُجز‘ ’رِجز‘ اور ’رِجس‘ سب قریب المخرج اور تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں۔ اس کا استعمال اس گندگی کے لیے ہوتا ہے جس کو دیکھ کر طبیعت میں ارتعاش اور گھن پیدا ہو۔ یوں تو اس سے ہر قسم کی گندگی مراد ہو سکتی ہے لیکن یہاں یہ خاص طور پر شرک کی گندگی کے لیے آیا ہے اور مقصود اسی مضمون کی تاکید ہے جو ’وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ یعنی اپنے دامن کو شرک کے چھینٹوں سے محفوظ رکھنے کے لیے شرک کی ناپاکی سے دور رہو۔
      اس ہدایت کی ضرورت اس لیے نہیں تھی کہ العیاذ باللہ آپ کے کسی شرک میں مبتلا ہونے کا اندیشہ تھا۔ آپ جس طرح دور اسلام میں طاہر و مطہر رہے اسی طرح جاہلیت میں بھی شرک کے ہر شائبہ سے پاک رہے۔ مقصود صرف کفار و مشرکین کو آگاہ کرنا تھا کہ وہ جان لیں کہ جو منذر ان کے پاس آیا ہے اس کا موقف ان کے دین شرک کے معاملہ میں کیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے اس باب میں کن ہدایات کے ساتھ مبعوث ہوا ہے۔

      جاوید احمد غامدی شرک کی غلاظت سے دور رہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور اپنی سعی کو زیادہ خیال کر کے منقطع نہ کر۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تالیف کلام کی ایک شکل اور اس کا حل: ’مَنٌّ‘ کے معنی جس طرح احسان کرنے کے آتے ہیں اسی طرح کسی چیز کو کاٹ دینے کے بھی آتے ہیں۔ سورۂ قلم میں فرمایا ہے:

      ’وَاِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ‘ (۳)
      (اور بے شک تمہارے لیے ایک کبھی نہ منقطع ہونے والا صلہ ہے)

      یعنی جس انذار و تبلیغ کی تمہیں ہدایت کی جا رہی ہے اس کو برابر جاری رکھنا۔ یہ خیال ترک کر کے کہ اب کافی انذار کیا جا چکا، مزید کی ضرورت نہیں رہی، اس عمل کو منقطع نہ کر بیٹھنا۔ تمہارے رب کی طرف سے جو حکم دیا جا رہا ہے اس پر اس وقت تک قائم و دائم رہو جب تک رب ہی کی طرف سے اس باب میں کوئی اور ہدایت تمہیں نہ ملے۔
      ’تَسْتَکْثِرُ‘ یہاں نہی کا جواب نہیں ہے۔ اگر جواب ہوتا تو اس پر جزم آنا تھا۔ اگرچہ بعض قاریوں نے اس کو جزم کے ساتھ بھی پڑھا ہے لیکن متواتر قراءت صرف مصحف کی ہے اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس کو ضمّہ کے ساتھ ہی پڑھنا اَولیٰ ہے اور اسی کے مطابق اس کی تاویل بھی ہونی چاہیے۔ اس صورت میں یہ لفظ یا تو حال کے محل میں ہو گا یا اس کو مستقل جملہ کی حیثیت دینی پڑے گی۔ میرے نزدیک یہ حال کے مفہوم میں ہے۔
      لفظ ’اِسْتِکْثَارٌ‘ دو معنوں میں معروف ہے۔ ایک کسی چیز کو زیادہ کرنے اور زیادہ چاہنے کے معنی میں، دوسرے کسی چیز کو زیادہ سمجھ لینے یا زیادہ گمان کر لینے کے معنی میں۔ پہلے معنی کے لیے نظیر ’وَلَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ‘ (الاعراف ۷: ۱۸۸) والی آیت میں ہے۔ دوسرے معنی کی وضاحت اہل لغت نے یوں کی ہے:

      ’استکثر الشئْ راٰہ کثیرًا او عدّہٗ کثیرا‘
      (’استکثر الشئْ‘ کے معنی ہوں گے کسی چیز کو زیادہ خیال کیا یا شمار کیا)

      صاحب اقرب الموارد نے اسی معنی کو پہلے لیا ہے۔ میرے نزدیک آیت میں یہ اسی معنی میں آیا ہے۔ مطلب، جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا، یہ ہو گا کہ انذار کا یہ فرض بغیر کسی وقفہ اور انقطاع کے برابر جاری رکھو، کبھی یہ گمان کر کے چھوڑ نہ بیٹھنا کہ کافی انذار ہوچکا، اب ضرورت نہیں رہی۔
      یہ ہدایت اس لیے فرمائی گئی کہ رسول جس فرض انذار پر مامور ہوتا ہے اس کے متعلق سنت الٰہی جیسا کہ جگہ جگہ ہم ذکر کر چکے ہیں، یہ ہے کہ اگر قوم اس کے انذار کی پروا نہیں کرتی تو ایک خاص مدت تک مہلت دینے کے بعد اللہ تعالیٰ اس کو لازماً ہلاک کر دیتا ہے۔ یہ مہلت اتمام حجت کے لیے ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کسی قوم کو اس کے لیے کتنی مہلت ملنی چاہیے۔ رسول کا فرض یہ ہے کہ وہ اس وقت تک اپنے کام میں لگا رہے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے پاس یہ ہدایت نہ آ جائے کہ اس نے اپنا فرض ادا کر دیا، اب وہ قوم کو اس کی تقدیر کے حوالہ کر کے اس علاقے سے ہجرت کر جائے۔ اگر رسول بطور خود یہ گمان کر کے قوم کو چھوڑ کر ہجرت کر جائے کہ اس نے اپنا فرض ادا کر دیا تو اندیشہ ہے کہ حالات کا اندازہ کرنے میں اس سے اسی طرح کی غلطی صادر ہو جائے جس طرح کی غلطی حضرت یونس علیہ السلام سے صادر ہوئی۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ فرمائی اور ایک سخت امتحان سے گزارنے کے بعد ان کو پھر قوم کے پاس انذار کے لیے واپس بھیجا اور اس دوبارہ انذار سے اللہ تعالیٰ نے ان کی پوری قوم کو ایمان کی توفیق بخشی۔
      نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کی عجلت سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی مرحلہ میں یہ آگاہی دے دی کہ تم جس فرض پر مامور کیے جا رہے ہو اس میں برابر لگے رہنا، کبھی ازخود یہ سمجھ کر چھوڑ نہ بیٹھنا کہ اب وہ فرض کافی حد تک ادا ہو چکا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ فیصلہ تمہارے کرنے کا نہیں بلکہ ہمارے کرنے کا ہے:

      ’فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ‘ (القلم ۶۸: ۴۸)
      (پس صبر کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو اور مچھلی والے کے مانند نہ بن جانا)

      اور اس مضمون کی دوسری آیات میں آپ کو صبر و ثبات کی تعلیم دی گئی ہے اور یہاں بھی آگے والی آیت میں یہی مضمون آ رہا ہے۔
      ہمارے مفسرین نے عام طور پر اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ تم کسی پر کوئی احسان اس خیال سے نہ کرنا کہ اس کا بدلہ اس سے زیادہ احسان کی صورت میں حاصل کرو، اگرچہ آیت کے الفاظ سے یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے لیکن سوال کلام کے موقع و محل کا بھی ہے۔ آخر اس سیاق و سباق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نصیحت کرنے کا کیا موقع ہے! ہمارا خیال ہے کہ ان حضرات سے آیت کے دونوں لفظوں کے مفہوم معین کرنے میں مسامحت ہوئی۔ ہم نے ان کی وضاحت کر دی ہے جس سے آیت کا صحیح مفہوم واضح ہو گیا ہے۔ اب اس پر مزید بحث کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

      جاوید احمد غامدی اور (دیکھو)، اپنی سعی کو زیادہ خیال کر کے منقطع نہ کر بیٹھو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’تَسْتَکْثِرُ‘ استعمال ہوا ہے۔یہ حال کے مفہوم میں ہے۔ اِس کے معنی جس طرح زیادہ چاہنے کے ہیں، اِسی طرح زیادہ سمجھ لینے یا زیادہ خیال کرنے کے بھی ہیں۔ یہاں یہ اِسی دوسرے معنی میں آیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اپنے رب کی راہ میں ثابت قدم رہ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس کا مفہوم وہی ہے جو آیت

      ’وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا‘ (الطور ۵۲: ۴۸)
      (اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو، تم ہماری آنکھوں میں ہو)

      کا ہے۔ ’صَبْرٌ‘ کے ساتھ جب ’ل‘ آئے تو اس کے معنی صبر و استقامت کے ساتھ انتظار کرنے کے ہو جاتے ہیں۔
      اوپر والی آیت میں حضورؐ کو جو ہدایت ہوئی ہے اسی سے متعلق یہ ہدایت بھی ہے کہ اپنے کام کو کافی سمجھ کر کسی مرحلہ میں چھوڑ نہ بیٹھنا بلکہ صبر و استقامت کے ساتھ اس میں لگے رہنا اور اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرنا۔ اسی استقامت پر تمہاری کامیابی اور قوم پر اتمام حجت کا انحصار ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور اپنے پروردگار کے فیصلے کے انتظار میں ثابت قدم رہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ‘۔ اِن میں ’ل‘ اِس بات پر دلیل ہے کہ ’صبر‘ یہاں انتظار کے مفہوم پر متضمن ہے۔ مدعا یہ ہے کہ جب تک اللہ کا حکم نہ آجائے، تم یہ خیال کرکے کہ فرض دعوت ادا ہو گیا، اپنی قوم کو چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔یہ ہدایت کیوں ہوئی؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’یہ ہدایت اِس لیے فرمائی گئی کہ رسول جس فرض انذار پر مامور ہوتا ہے، اُس کے متعلق سنت الٰہی...یہ ہے کہ اگر قوم اُس کے انذار کی پروا نہیں کرتی تو ایک خاص مدت تک مہلت دینے کے بعد اللہ تعالیٰ اُس کو لازماً ہلاک کر دیتا ہے۔ یہ مہلت اتمام حجت کے لیے ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کسی قوم کو اِس کے لیے کتنی مہلت ملنی چاہیے۔ رسول کا فرض یہ ہے کہ وہ اُس وقت تک اپنے کام میں لگا رہے، جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کے پاس یہ ہدایت نہ آجائے کہ اُس نے اپنا فرض ادا کر دیا، اب وہ قوم کو اُس کی تقدیر کے حوالے کرکے اِس علاقے سے ہجرت کر جائے۔ اگر رسول بطور خود یہ گمان کرکے قوم کو چھوڑ کر ہجرت کر جائے کہ اُس نے اپنا فرض ادا کر دیا تو اندیشہ ہے کہ حالات کا اندازہ کرنے میں اُس سے اُسی طرح کی غلطی صادر ہو جائے جس طرح کی غلطی حضرت یونس علیہ السلام سے صادر ہوئی۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے اُن کو تنبیہ فرمائی اور ایک سخت امتحان سے گزارنے کے بعد اُن کو پھر قوم کے پاس انذار کے لیے واپس بھیجا اور اِس دوبارہ انذار سے اللہ تعالیٰ نے اُن کی پوری قوم کو ایمان کی توفیق بخشی۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۴۶)

       

    • امین احسن اصلاحی پس جب صور پھونکا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انذار کا اصل موضوع: یہ ذکر ہے انذار کے اصل موضوع کا جس سے غفلت ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے قریش کی مخاصمت کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ قیامت کو نہ مانتے تھے نہ ماننا چاہتے تھے۔ وہ اول تو اس کو نہایت مستبعد اور بعید از امکان سمجھتے تھے اور اگر کسی درجے میں مانتے تھے تو اپنی دنیوی کامیابیوں کو دلیل بنا کر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ قیامت ہوئی تو جس طرح ان کو یہاں سب کچھ حاصل ہے اسی طرح وہاں بھی حاصل ہو گا اور اگر خدا نے ان پر ہاتھ ڈالا ان کے معبود اپنی سفارش سے انھیں بچا لیں گے۔ فرمایا کہ اس ہولناک دن سے ان کو اچھی طرح آگاہ کر دو کہ جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن بڑا ہی کٹھن ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے کہ جب صور پھونکا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی تو وہ وقت نہایت کٹھن وقت ہو گا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انذار کا اصل موضوع: یہ ذکر ہے انذار کے اصل موضوع کا جس سے غفلت ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے قریش کی مخاصمت کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ قیامت کو نہ مانتے تھے نہ ماننا چاہتے تھے۔ وہ اول تو اس کو نہایت مستبعد اور بعید از امکان سمجھتے تھے اور اگر کسی درجے میں مانتے تھے تو اپنی دنیوی کامیابیوں کو دلیل بنا کر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ قیامت ہوئی تو جس طرح ان کو یہاں سب کچھ حاصل ہے اسی طرح وہاں بھی حاصل ہو گا اور اگر خدا نے ان پر ہاتھ ڈالا ان کے معبود اپنی سفارش سے انھیں بچا لیں گے۔ فرمایا کہ اس ہولناک دن سے ان کو اچھی طرح آگاہ کر دو کہ جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن بڑا ہی کٹھن ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی تو وہ دن بڑا ہی سخت ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کافروں پر آسان نہ ہو گا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’عَلَی الْکَافِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ‘۔ یعنی انھوں نے اس کو بہت آسان سمجھ رکھا ہے لیکن کافروں کے لیے یہ دن آسان نہیں ہو گا۔
      اوپر والی آیت میں مثبت پہلو سے کہنے کے بعد وہی بات منفی پہلو سے بھی فرما دی جس میں ان احمقوں پر نہایت بلیغ طنز بھی ہے جو اس کو ایک ناقابل اہتمام دن سمجھ کر نچنت بیٹھے تھے کہ جب وہ آئے گا تو دیکھ لیں گے۔ فرمایا کہ وہ کوئی آسان دن نہیں ہو گا، بڑا ہی کٹھن دن ہو گا۔ اس کے لیے جو کچھ کیا جا سکتا ہے آج ہی کیا جا سکتا ہے۔ جس نے آج نہیں کیا وہ ہمیشہ کے لیے پکڑا گیا اور اس طرح پکڑا گیا کہ اس کو کوئی بھی چھڑانے والا نہ بنے گا۔

      جاوید احمد غامدی اِن منکروں کے لیے آسان نہ ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ جس دن سے تم بے خوف بیٹھے ہو کہ آئے گا تو دیکھ لیں گے، وہ کوئی آسان دن نہ ہو گا۔ وہ بڑا ہی کٹھن دن ہو گا۔

    • امین احسن اصلاحی چھوڑ مجھ کو اور اس کو جس کو میں نے پیدا کیا اکیلا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مکہ اور طائف کے لیڈروں کو تنبیہ: یہ مکہ اور طائف کے ان برخود غلط لیڈروں کو نہایت تیز و تند لہجہ میں تنبیہ ہے جو اپنی خوشحالی و رفاہیت کو اپنے عقیدہ و عمل کی صحت اور خدا کے منظور نظر ہونے کی دلیل سمجھتے اور یہ توقع رکھتے تھے کہ آخرت ہوئی تو ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں، جیسا کہ ان کو ڈرایا جا رہا ہے۔ بلکہ ان کو یہاں جو کچھ حاصل ہے اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر وہاں حاصل ہو گا۔ فرمایا کہ ایسے سرپھروں کا معاملہ تم ہمارے اوپر چھوڑو۔ ہم ان سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ تم ان کی فکر میں زیادہ پریشانی نہ اٹھاؤ۔
      ’ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا‘۔ یہ وہی اسلوب بیان ہے جو سابق سورہ میں بالکل اسی موقع و محل میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے: ’وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُوْلِی النَّعْمَۃِ وَمَہِّلْہُمْ قَلِیْلاً‘ (المزمل ۷۳: ۱۱) وہاں اس اسلوب کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔
      ’خَلَقْتُ وَحِیْدًا‘ میں اس حقیقت کی  طرف اشارہ ہے کہ انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اس کے ساتھ نہ اس کا مال و جاہ ہوتا ہے نہ اس کا لاؤ لشکر۔ یہ چیزیں ملتی ہیں تو خدا کی عنایت سے ملتی ہیں اور یہ اسی وقت تک ساتھ رہتی ہیں جب تک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ ان کا حق یہ ہے کہ انسان ان کو پا کر اپنے رب کا زیادہ سے زیادہ شکرگزار بنے نہ کہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہو جائے کہ وہ خدا کا بڑا چہیتا ہے اور آخرت ہوئی تو وہ اس سے بھی زیادہ پائے گا۔ یہ مضمون دوسری جگہ اس طرح ادا ہوا ہے:

      ’وَلَقَدْ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ‘ (الانعام ۶: ۹۴)
      (اور تم ہمارے پاس آئے تن تنہا جس طرح ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا)۔

      مطلب یہ ہے کہ تم اس برخود غلط مغرور کو جو دنیا میں آیا تو اسی طرح جس طرح ہر شخص اپنی ماں کے پیٹ سے تنہا آیا ہے لیکن ہم نے اس کو مال و جاہ عنایت کیا تو وہ اپنے کو بہت بڑی چیز سمجھنے لگا اور اب اس کو آخرت سے ڈرایا جا رہا ہے تو وہ اس رعونت کا اظہار کرتا ہے کہ وہ آخرت میں اس سے بھی زیادہ کا حق دار ٹھہرے گا۔
      اشارہ ایک خاص ذہنیت کی طرف نہ کہ خاص شخص کی طرف: یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کسی خاص شخص کی طرف اشارہ ہے یا مکہ اور طائف کے عام دولت مندوں کا ذہن بیان ہو رہا ہے؟ مفسرین نے اس سے قریش کے لیڈروں میں سے ولید بن مغیرہ کو مراد لیا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک اس تخصیص کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ یہ ذہن صرف ولید بن مغیرہ ہی کا نہیں بلکہ قریش کے تمام سرداروں اور دولت مندوں کا تھا اور قریش ہی کی کیا خصوصیت ہے آج بھی جن کو مال و جاہ حاصل ہو جاتا ہے ان کے اندر یہی خناس سما جاتا ہے۔ کوئی ایسا ہی باتوفیق ہوتا ہے جو اس فتنہ سے محفوظ رہتا ہے۔ اس وجہ سے یہ سمجھنا تو صحیح نہیں ہے کہ یہ آیتیں ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں البتہ ان آیات میں جس ذہن اور جس کردار کی تصویر ہے اس کا ایک مصداق اس کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہم مقدمۂ کتاب میں واضح کر چکے ہیں کہ سلف جب کسی آیت کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ یہ فلاں کے بارے میں ہے تو اس سے ان کی مراد لازماً یہی نہیں ہوتی کہ خاص اسی کے بارے میں نازل ہوئی بلکہ بسا اوقات اس سے ان کا مقصود آیت کے ایک مصداق کی طرف اشارہ کر دینا ہوتا ہے۔ یہ مضمون صرف یہیں نہیں بیان ہوا ہے بلکہ قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے اور ہر جگہ اس سے مقصود متمردین کی عام ذہنیت کی طرف اشارہ کرنا ہے نہ کہ کسی خاص شخص کی طرف۔
      یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ یہاں حرف ’مَنْ‘ استعمال ہوا ہے جو واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کے لیے ضمیریں بھی دونوں ہی طرح آ سکتی ہیں۔

       

      جاوید احمد غامدی چھوڑ دو مجھے اور اُس کو جسے میں نے تنہا پیدا کیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ قریش کے برخود غلط لیڈروں کو نہایت تند و تیز لہجے میں تنبیہ ہے جو اپنی رفاہیت کو اپنے عقیدہ و عمل کی صحت اور خدا کے منظور نظر ہونے کی دلیل سمجھتے تھے۔اِس کے لیے جو حرف ’مَنْ‘ اصل میں آیا ہے، وہ واحد اور جمع، دونوں کے لیے آتا ہے اور اِس کے لیے ضمیریں بھی دونوں ہی طرح آ سکتی ہیں۔ اِس سے کوئی خاص شخص مراد نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر مفسرین نے سمجھا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اس کو بخشا مال فراواں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَجَعَلْتُ لَہٗ مَالاً مَّمْدُوۡدًا‘۔ یعنی جب وہ دنیا میں آیا تو نہ مال کے ساتھ آیا نہ اولاد کے ساتھ بلکہ اسی طرح بے سر و سامان اور بے خدم و حشم آیا جس طرح دوسرے آتے ہیں۔ یہ اللہ کا اس کے اوپر احسان ہوا کہ اس نے اس کو پھیلا ہوا مال دیا۔ ’پھیلا ہوا مال‘ سے مراد یہ ہے کہ کہیں اس کے باغ ہیں، کہیں اس کے بنگلے اور کوٹھیاں ہیں، کہیں جانوروں کے گلّے اور ریوڑ ہیں، کہیں رقبے، تجارتی آڑھتیں اور دکانیں ہیں ۔۔۔ اس زمانے کے سرمایہ دار ہر ملک کے بنکوں میں اپنے حساب کھولتے اور ہر ملک کی کمپنیوں میں اپنا سرمایہ لگاتے ہیں ان کو بھی اسی ذیل میں شمار کیجیے۔

      جاوید احمد غامدی اور جگہ جگہ پھیلا ہوا بہت فراواں مال اُس کو بخشا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ہر شخص کی طرح ماں کے پیٹ سے تنہاپیدا ہوا، لیکن ہم نے ایسا پھیلا ہوا مال اُسے عطا فرمایا کہ استاذ امام کے الفاظ میں کہیں اُس کے باغ ہیں، کہیں اُس کے بنگلے اور کوٹھیاں ہیں، کہیں جانوروں کے گلے اور ریوڑ ہیں، کہیں رقبے، تجارتی آڑھتیں اور دکانیں ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور بیٹے دیے حاضر باش۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَبَنِیْنَ شُہُوۡدًا‘۔ مال کے ساتھ اللہ نے اس کو بیٹے بھی دیے جو ہر مجلس، ہر مقام اور ہر محاذ پر اس کے ساتھ کھڑے ہونے والے اور اس کے پھیلے ہوئے کاروبار میں اس کا ہاتھ بٹانے والے ہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قبائلی زندگی میں خاندانی عصبیت و جمعیت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ مدافعت و مقابلہ کا تمام تر انحصار اس پر تھا۔ قوم و قبیلہ میں سرداری کا مقام اسی کو حاصل ہوتا جس کے بیٹے زیادہ اور کنبہ بڑا ہو اور بیٹے ایسی صلاحیت و قابلیت رکھنے والے ہوں کہ ہر ضرورت کے موقع پر باپ کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہو سکیں۔ لفظ ’شُہُوۡد‘ اسی پہلو کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

      جاوید احمد غامدی حاضر باش بیٹے دیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ایسے بیٹے جو ہر موقع اور ہر مقام پر اُس کے ساتھ کھڑے ہونے والے ہیں۔ اِن کے لیے اصل میں لفظ ’شُھُوْد‘ آیا ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...قبائلی زندگی میں خاندانی عصبیت و جمعیت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ مدافعت و مقابلہ کا تمام تر انحصار اِس پر تھا۔ قوم و قبیلہ میں سرداری کا مقام اُسی کو حاصل ہوتا جس کے بیٹے زیادہ اور کنبہ بڑا ہو اور بیٹے ایسی صلاحیت و قابلیت رکھنے والے ہوں کہ ہر ضرورت کے موقع پر باپ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو سکیں۔ لفظ ’شُہُوْد‘ اِسی پہلو کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۴۹)

       

    • امین احسن اصلاحی اور اس کے لیے خوب راہ ہموار کی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَمَہَّدتُّ لَہُ تَمْہِیْدًا‘۔ یعنی اس طرح مال و اولاد دے کر اس کے لیے عزت و وقار اور امارت و سیادت کے حصول کے لیے اچھی طرح راہ ہموار کر دی۔

      جاوید احمد غامدی اور اُس کے لیے (عز و شرف کی) راہ خوب ہموار کر دی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پھر وہ یہ توقع رکھتا ہے کہ میں اس کے لیے اور زیادہ کروں گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ثُمَّ یَطْمَعُ أَنْ أَزِیْدَ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس فضل و انعام کا حق تو یہ تھا کہ وہ اپنے رب کا شکرگزار و فرماں بردار بندہ بنتا لیکن ہوا یہ کہ وہ نعمتیں پا کر اکڑنے اور اترانے والا بن گیا۔ جب اس کو ڈرایا جاتا ہے کہ اس زندگی کے بعد ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جو ناشکروں اور کافروں کے لیے نہایت سخت ہو گا تو وہ دعویٰ کرتا ہے کہ اگر فی الواقع کوئی ایسا دن آیا تو اس دن وہ اس سے بھی زیادہ پائے گا جو اس کو یہاں حاصل ہے۔

      جاوید احمد غامدی پھر وہ توقع رکھتا ہے کہ (جب اُسے یہاں یہ ملا ہے تو قیامت کے دن) اُس کے لیے میں اور زیادہ کروں گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہرگز نہیں! وہ تو ہماری آیتوں کا دشمن نکلا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      برخود غلط مدعیوں کو جواب: یہ اس قسم کے برخود غلط لوگوں کے زعم باطل کی نہایت شدت کے ساتھ تردید ہے۔ فرمایا کہ ان کا یہ خواب ہرگز پورا ہونے والا نہیں ہے۔ اللہ نے ان کو جو نعمتیں دیں نہ ان کے حق کی حیثیت سے دیں نہ ان کے حاصل ہونے میں ان کی تدبیر یا ان کے تدبر کو کوئی دخل ہے بلکہ محض اپنے فضل و کرم سے یہ امتحان کرنے کے لیے دیں کہ دیکھے وہ اپنے رب کے شکرگزار و فرماں بردار رہتے ہیں یا خودسر، مغرور اور خدا کے باغی اور زمین میں فساد برپا کرنے والے بن جاتے ہیں۔ اس امتحان سے ثابت ہو گیا کہ وہ نعمتیں پا کر اللہ کی آیتوں کے دشمن بن گئے۔ ’اٰیات‘ سے مراد بحیثیت مجموعی قرآن اور خاص طور پر اس کی وہ آیتیں ہیں جو عذاب دنیا اور عذاب آخرت سے ڈرانے والی اور اس امر واقعی سے آگاہ کرنے والی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ اس دنیا میں کوئی مصرف ہے اور نہ آخرت میں اس کے سوا کوئی مولیٰ و مرجع بنے گا۔

      جاوید احمد غامدی ہرگز نہیں، وہ تو ہماری آیتوں کا دشمن نکلا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی میں اس کو عنقریب ایک سخت چڑھائی چڑھاؤں گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کی سزا: ’اِرْہَاقٌ‘ کے معنی کسی مشقت میں ڈالنے کے ہیں اور ’صَعُوْدٌ‘ کسی ایسی چوٹی یا گھاٹی کو کہتے ہیں جس کو عبور کرنا نہایت دشوار ہو۔
      یہ سزا بیان ہوئی ہے اس انعام کی ناقدری کی جس کی طرف اوپر ’وَمَہَّدۡتُّ لَہٗ تَمْہِیْدًا‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ نعمتیں پا کر چونکہ وہ انہی کے پرستار بن کر رہ گئے اور اصل منعم کو بھول کر اپنے نفس ہی کی بندگی میں اس طرح لگ گئے کہ اس کی کسی خواہش کا بھی مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہ کر سکے اس وجہ سے ان کو آخرت میں ایک نہایت پرمشقت چڑھائی چڑھنی پڑے گی۔
      نیکی اور بدی کے مزاج کا فرق: یہاں نیکی اور بدی کی یہ فطرت پیش نظر رہے کہ ان دونوں کا امتیاز تو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیا ہے لیکن ساتھ ہی اس امتحان میں بھی اس کو ڈال دیا کہ بدی کی لذتیں تو عاجل رکھی ہیں اور تلخیاں اس کی آخرت میں سامنے آئیں گی۔ برعکس اس کے نیکی کی مشکلیں نقد ہیں اور نفع اس کا نسیہ ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان نیکی کی راہ اختیار کرتا ہے تو اس میں قدم قدم پر اس کو نفس کی مزاحمت کے سبب سے چڑھائیاں چڑھنی اور گھاٹیاں پار کرنی پڑتی ہیں اور بدی کی راہ اختیار کرے تو اس کی لذت تو اس کو نقد نقد ملتی ہے اور اس کے انجام بد کا معاملہ اس کے نزدیک موہوم ہوتا ہے۔ اس کشش کے سبب سے اکثریت اسی راہ کو اختیار کر لیتی ہے۔ نیکی کی راہ اختیار کرنے کا حوصلہ صرف وہی کرتے ہیں جن کے اندر صبر اور عزیمت ہو اور اس وصف کو پیدا کرنے کے لیے آدمی کو ریاضت کرنی پڑتی ہے۔ اس حقیقت کی طرف حضرت مسیح علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایا ہے کہ ’بدی کی راہ فراخ اور اس پر چلنے والے بہت ہیں اور نیکی کی راہ تنگ اور اس پر چلنے والے تھوڑے ہیں‘۔
      سورۂ بلد میں اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے:

      وَہَدَیْْنَاہُ النَّجْدَیْْنِ ۵ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ ۵ وَمَا أَدْرَاکَ مَا الْعَقَبَۃُ ۵ فَکُّ رَقَبَۃٍ ۵ أَوْ إِطْعَامٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ ۵ یَتِیْماً ذَا مَقْرَبَۃٍ ۵ أَوْ مِسْکِیْناً ذَا مَتْرَبَۃٍ ۵ ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ (البلد ۹۰: ۱۰-۱۷)
      ’’اور ہم نے انسان کو نیکی اور بدی دونوں کی راہیں سمجھا دیں۔ پس اس نے گھاٹی پار کرنے کا حوصلہ نہ کیا اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے! غلام کی گردن چھڑانا یا بھوک کے زمانے میں کسی قرابت مند یتیم یا کسی خاک نشین مسکین کو کھلانا۔ مزید برآں یہ کہ وہ بنے ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور جنھوں نے ایک دوسرے کو صبر اور مرحمت کی تلقین کی۔‘‘

      قرآن نے آخرت کی فوز و فلاح کا حق دار صرف انہی کو ٹھہرایا ہے جو دنیا میں نیکی کی راہ کے عقبات کو پار کرنے کا حوصلہ کریں گے۔ جو یہاں ان کو پار کرنے کی ہمت نہیں کریں گے ان کو دوزخ کے عقبات سے سابقہ پیش آئے گا جن کو پار کرنے پر وہ مجبور کیے جائیں گے لیکن وہ ان کو پار نہ کر سکیں گے۔

       

      جاوید احمد غامدی (اِس لیے) عنقریب میں اُسے سخت چڑھائی چڑھاؤں گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی دنیا میں جب یہ خیر و صلاح کی راہ میں کوئی چڑھائی چڑھنے کے لیے تیار نہیں ہوا تو اِس کی سزا کے طور پر اب میں دوزخ میں اِسے ایک سخت چڑھائی چڑھاؤں گا۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے سونچا اور ایک بات بنائی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      معاندین قرآن کے عناد کی تصویر: آیت ۱۶ میں یہ جو فرمایا ہے کہ ’وہ ہماری آیات کا شدید معاند ہے‘ یہ اسی عناد کی تصویر کھینچی گئی ہے اور غور سے دیکھیے کہ کیسی مکمل تصویر کھینچی گئی ہے۔
      ’إِنَّہُ فَکَّرَ وَقَدَّرَ‘۔ یعنی جب قرآن اس کو سنایا گیا تو اس نے اپنا ردعمل فوری طور پر ظاہر کرنے کے بجائے کچھ دیر غور کرنے کا تکلف کیا تاکہ دیکھنے والوں پر یہ اثر پڑے کہ ان کا لیڈر مسئلہ پر سنجیدگی کے ساتھ غور کر کے اپنی رائے ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ ’وَقَدَّرَ‘ یعنی غور کرنے کے بعد جو رائے اس کے ذہن میں آئی اس کو اس نے اپنے ذہن میں اچھی طرح تولا کہ وہ ایسی بات کہے جو دلوں میں اتر جائے اور ہر شخص پکار اٹھے کہ جو رائے ظاہر کی گئی ہے نہایت صائب ہے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ مجرم )، اِس نے سوچااور بات بنائی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے آگے اُس عناد کی تصویر ہے جس کا ذکر اوپر ’اِنَّہٗ کَانَ لاِٰیٰتِنَا عَنِیْدًا‘ (وہ تو ہماری آیتوں کا دشمن نکلا) کے الفاظ میں ہوا ہے۔ یعنی قرآن کے بارے میں اُس کے پیرووں نے جب اُس کی راے پوچھی تو اظہار راے کاجو متکبرانہ انداز اُس نے اختیار کیا، وہ یہ تھا۔یہ تصویر ایسی مکمل ہے کہ اُس کے باطن کو گویا اِس نے ممثل کر دیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پس ہلاک ہو، کیسی بات بنائی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فَقُتِلَ کَیْْفَ قَدَّرَ ۵ ثُمَّ قُتِلَ کَیْْفَ قَدَّرَ‘۔ لیکن وہ غارت ہو کہ اس نے قرآن کا کتنا غلط اندازہ کیا! اور پھر غارت ہو کہ اس نے کتنی بے ہودہ رائے قائم کی۔ رائے کے ذکر سے پہلے دو مرتبہ اس تاکید کے ساتھ اس پر لعنت سے مقصود اس کی رائے کی شناعت کا اظہار بھی ہے اور سننے والوں کو متنبہ کرنا بھی کہ جب آدمی کی مت ماری جاتی ہے تو وہ اسی طرح پاگلوں کی سی باتیں کرتا اور گہر کو پشیز ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کے برابر کا مدبر کوئی دوسرا نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی تو اِس پر خدا کی مار، اِس نے کیا بات بنائی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پھر ہلاک ہو، کتنی غلط بات بنائی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فَقُتِلَ کَیْْفَ قَدَّرَ ۵ ثُمَّ قُتِلَ کَیْْفَ قَدَّرَ‘۔ لیکن وہ غارت ہو کہ اس نے قرآن کا کتنا غلط اندازہ کیا! اور پھر غارت ہو کہ اس نے کتنی بے ہودہ رائے قائم کی۔ رائے کے ذکر سے پہلے دو مرتبہ اس تاکید کے ساتھ اس پر لعنت سے مقصود اس کی رائے کی شناعت کا اظہار بھی ہے اور سننے والوں کو متنبہ کرنا بھی کہ جب آدمی کی مت ماری جاتی ہے تو وہ اسی طرح پاگلوں کی سی باتیں کرتا اور گہر کو پشیز ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کے برابر کا مدبر کوئی دوسرا نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی پھر اِس پر خدا کی مار، اِس نے کیا بات بنائی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List