Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 20 آیات ) Al-Muzammil Al-Muzammil
Go
  • المزمل (The Enfolded One, The Enshrouded One, Bundled Up)

    20 آیات | مکی
    سورہ کا زمانۂ نزول اور عمود

    یہ سورہ اور بعد کی سورہ ۔۔۔ المدّثّر ۔۔۔ دونوں بالکل ہم رنگ و ہم مزاج اور توام ہیں۔ عام مفسرین نے ان کو بالکل ابتدائی سورتوں میں سے شمار کیا ہے لیکن ان کے مطالب پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس دور میں نازل ہوئی ہیں جب قریش کے امراء و اغنیاء کی طرف سے دعوت کی مخالفت اتنی شدت اختیار کر چکی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس صورت حال سے نہایت مغموم و متفکر رہنے لگے ہیں۔

    ایک انسان جب اپنے ماحول میں ہر شخص کی مخالفت اور اس کے طعن و طنز کا ہدف بن کر رہ جائے درآنحالیکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ اس ماحول ہی کی اصلاح پر مامور ہو تو اس کے غم و الم کا جو حال ہو گا اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ اس صورت حال سے قدرتاً اس پر خلوت پسندی اور خلق سے بے تکلفی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ اٹھتا ہے تو اپنی چادر لپیٹ کر، چلتا ہے تو اس میں لپٹ کر، بیٹھتا ہے تو اس میں گوشہ گیر ہو کر اور لیٹتا ہے تو اس میں چھپ کر؛ اس لیے کہ تنہا اس کی چادر ہی ہوتی ہے جس کے دامن میں فی الجملہ اس کو اپنے باطن میں غوطہ زن ہونے اور اپنے خالق سے تعلق و توصل کے لیے سکون و اطمینان ملتا ہے۔

    اس کا تھوڑا بہت تجربہ تو ہر اس شخص کو ہوتا ہے جو خلق و خالق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کااحساس رکھنے والا ہو لیکن انبیاء علیہم السلام کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ وہ خلق کے لیے سراپا رحمت و شفقت اور اپنے رب کی ڈالی ہوئی ذمہ داریوں کے معاملے میں نہایت حساس ہوتے ہیں۔ وہ اپنی جان توڑ مساعی و اصلاح کے باوجود جب دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی مخاصمت بڑھتی جا رہی ہے تو ان کو گمان گزرتا ہے کہ مبادا اس میں انہی کی کسی کوتاہی کو دخل ہو۔ یہ چیز ان کے غم و فکر کو اور زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو مطعون کر کے اپنے دل کو تسلی دینے کے بجائے خود اپنے اندر خلوت گزیں ہو کر صورت حال کا صحیح حل ڈھونڈھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ذہنی کیفیت میں ان کو اپنی سب سے بڑی غم گسار اپنی چادر ہی محسوس ہوتی ہے جس میں چھپ کر گویا وہ اپنے ماحول سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔

    چادر میں لپیٹنے والے کو عربی میں ’’مزّمّل‘‘ کہتے ہیں۔ اس لفظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے آپ کی اسی فکرمندی کا سراغ دیا ہے۔ یہ نہایت پیار کا خطاب ہے۔ اس دلنواز خطاب سے مخاطب کر کے آپ کو وہ طریقہ بتایا گیا ہے جو اس غم و الم کو دور کر کے آپ کے اندر وہ قوت و عزیمت پیدا کرے گا جو موجودہ اور آئندہ پیش آنے والے حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری ہے۔ گویا اس سورہ میں حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے آپ کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی گئی ہے اور ساتھ ہی وہ نسخہ بھی بتایا گیا ہے جو حوصلہ کو بلند اور کمر ہمت کو مضبوط رکھنے کے لیے نہایت کیمیا اثر ہے۔

  • المزمل (The Enfolded One, The Enshrouded One, Bundled Up)

    20 آیات | مکی

    مرحلۂ انذار عام

    المزمل - الم نشرح

    ۷۳ - ۹۴

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو انذار عام کے لیے تیاری کی ہدایت — اِس انذارکا حکم، اِس کے حدود، تقاضے اور اِس کی ابتدا ۷۳۔۷۴

    قیامت کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو انذار ۷۵۔۷۶

    قیامت کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو انذار ۷۷۔۷۸

    قیامت کا اثبات، اُس کے حوالے سے قریش کوانذار اور اُس کے بارے میں اُن کے رویے پر اُنھیں تنبیہ ۷۹۔۸۰

    قیامت کی ہلچل اور اُس میں جزا و سزا کے حوالے سے قریش کو تنبیہ ۸۱۔۸۲

    قیامت کی جزا و سزا کے حوالے سے تنبیہ ۸۳۔۸۴

    قیامت سے متعلق قریش کے شبہات کی تردید اور اہل ایمان پر اُن کے ظلم و ستم اور پیغمبر اور اُس کی دعوت کے مقابلے میں اُن کی چالوں پر اُنھیں عذاب کی وعید ۸۵۔۸۶

    انذار قیامت اور نذیر کی حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ۸۷۔۸۸

    انذار قیامت اور قریش کے سرداروں کو اُن کی سرکشی اور طغیان پر تنبیہ ۸۹۔۹۰

    انذار قیامت، سرکشی پر تنبیہ اور خاتمۂ کلام کے طور پر اُن کے لیے فلاح اور خسران کے راستوں کی وضاحت ۹۱۔۹۲

    نذیر کی حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی اور آیندہ ایک بڑی کامیابی کی بشارت ۹۳۔۹۴

    المزمل - المدثر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جس بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیاریوں کی ہدایت کرتی ہے، دوسری میں آپ کے لیے اُس ذمہ داری کی وضاحت کی گئی ہے کہ انذار کے بعد اب آپ اپنی قوم کو انذارعام کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

    دونوں سورتوں میں خطاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہے اور آپ کے مخاطب قریش کے سرداروں سے بھی۔

    اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا مرحلۂ انذار عام اِنھی دو سورتوں سے شروع ہوا ہے۔

    پہلی سورہ — المزمل — کا موضوع قوم کے ردعمل پر غم کی حالت سے نکل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیاریوں کی ہدایت اور قریش کے لیڈروں کوتنبیہ ہے کہ اُن کی مہلت تھوڑی رہ گئی، وہ اگر اپنے رویوں کی اصلاح نہیں کرتے تو اِس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔

    دوسری سورہ — المدثر — کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اِس ذمہ داری کی وضاحت، اُس کے تقاضوں اور حدود سے آگاہی اور آپ کے مخاطبین کو تنبیہ و تہدید ہے کہ جس قیامت سے کھلم کھلا خبردار کرنے کا حکم ہم نے پیغمبر کو دیا ہے، اُسے کوئی معمولی چیز نہ سمجھو۔ وہ ایک ایسا دن ہے جو منکروں کے لیے آسان نہ ہو گا اور ایک ایسی حقیقت ہے جو نہ جھٹلائی جا سکتی ہے اور نہ اُس سے بچنے کے لیے کوئی سفارش کسی کے کام آ سکتی ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی اے چادر میں لپٹنے والے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسے لفظ سے مخاطب فرمایا گیا ہے جس سے آپ کی وہ تصویر سامنے آتی ہے جو اس اندرونی کیفیت کی غماز ہے جو سورہ کے زمانۂ نزول میں آپ پر بیشتر طاری رہتی تھی۔
      ’مُزّمّل‘ دراصل ’متزمل‘ ہے۔ عربیت کے قاعدے کے مطابق ’ت‘ حرف ’ز‘ میں مدغم ہو گئی ہے۔ اسی طرح کا تصرف لفظ ’مدّثّر‘ میں بھی ہوا ہے۔ اس کے معنی، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر چکے ہیں، اپنے اوپر چادر لپیٹے رکھنے والے کے ہیں۔ یہ حالت بالعموم ایسے شخص کی ہوتی ہے جو سامنے کے حالات سے فکرمند اور گردو پیش کے لوگوں کے رویہ سے بددل ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ایک ایسے عذاب سے ڈرا رہے تھے جو ان کے سروں پر منڈلا رہا تھا لیکن لوگوں کی بے گانگی و بے زاری کا یہ حال تھا کہ بات سننا تو درکنار الٹے منہ نوچنے کو دوڑتے اور آپ کی بے قراری و ہمدردی کو خبط و جنون قرار دیتے۔ ایسے حالات میں آپ کا متفکر و مغموم رہنا ایک امر فطری تھا اور فکر و غم کی حالت میں آدمی کی چادر، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اس کی بہترین غم گسار ہوتی ہے۔ وہ اس میں لپٹ کر جب چاہتا ہے خلق سے منقطع اور خالق سے متصل ہو جاتا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ چادر اہل عرب کے لباس کا ایک نہایت اہم جزو بھی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ چادر رکھتے بھی تھے۔
      روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعثت سے پہلے بھی، جب آپ جستجوئے حقیقت میں سرگرداں تھے، آپ پر اسی طرح کی خلوت گزینی کی حالت طاری رہی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے، جیسا کہ سورۂ ضحٰی میں اشارہ ہے، آپ کو راہ دکھائی۔ پھر یہی کیفیت آپ پر مزید شدت کے ساتھ اس وقت طاری ہوئی جب آپ کو اپنی مریض قوم کی دوا بیزاری اور طبیب دشمنی کا ذاتی تجربہ ہوا۔ اس تجربہ سے آپ پر جو کیفیت طاری ہوئی لفظ ’مُزّمّل‘ اسی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
      ایک غلط فہمی کا ازالہ: بعض مفسرین نے اس خطاب سے یہ مطلب سمجھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چادر اوڑھے سوئے پڑے تھے کہ آپ کو وحی کے ذریعہ ہدایت ہوئی کہ اے چادر تان کر سونے والے اٹھ اور نماز پڑھ۔ یہ مطلب اگرچہ اس پہلو سے دلچسپ ہے کہ بعد کی آیات سے بظاہر اس کا جوڑ مل جاتا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات مبارک کے کسی دور میں بھی چادر تان کر غفلت کی نیند سونے والوں میں سے نہیں تھے۔ آپ ہمیشہ کھٹکے کی نیند سوتے اور دن کی طرح آپ کی شب بھی زیادہ تر ذکر و فکر ہی میں گزرتی۔ قرآن کی کسی آیت سے بھی یہ اشارہ نہیں نکلتا کہ آپ کو کبھی خدا سے غفلت کی بنا پر کوئی تنبیہ فرمائی گئی ہو بلکہ اس کے برعکس آپ کو بار بار اس بات پر نہایت پرمحبت انداز میں عتاب ہوا ہے کہ آپ نے اپنے اوپر اس سے زیادہ بوجھ اٹھا رکھا ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالا ہے۔ البتہ یہ بات قرآن میں جگہ جگہ ملتی ہے کہ دعوت کی راہ میں جب آپ کو مشکلات و مصائب سے سابقہ پڑا ہے اور آپ اس صورت حال سے فکر مند رہنے لگے ہیں تو آپ کے عزم و حوصلہ کو مضبوط اور پریشانی کودور کرنے کے لیے نماز بالخصوص تہجد کی نماز کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں بھی یہی صورت ہے۔

      جاوید احمد غامدی اے اوڑھ لپیٹ کر بیٹھنے والے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’مُزَّمِّل‘ آیا ہے۔ یہ دراصل ’متزمل‘ ہے۔ ’ت‘ عربی قاعدے کے مطابق حرف ’ز‘ میں مدغم ہو گئی ہے۔ یہی تصرف اگلی سورہ کے لفظ ’مُدَّثِّر‘ میں بھی ہوا ہے۔ یہ اُس حالت کی تصویر ہے جو اپنی دعوت کے جواب میں قوم کا رد عمل دیکھ کر اُس زمانے میں آپ پر طاری رہتی تھی۔ اِس طرح کی ذہنی کیفیت میں آدمی کو سب سے بڑی غم گسار اپنی چادر ہی محسوس ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ اُسے ہی لپیٹ کر اٹھتا، اُسی میں لپٹ کر چلتا اور اُسی میں چھپ کر اپنے ماحول سے کنارہ کش اور اپنے باطن میں غوطہ زن ہوجاتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ حالت بالعموم ایسے شخص کی ہوتی ہے جو سامنے کے حالات سے فکرمند اور گردوپیش کے لوگوں کے رویے سے بددل ہو۔آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ایک ایسے عذاب سے ڈرا رہے تھے جو اُن کے سروں پر منڈلا رہا تھا، لیکن لوگوں کی بے گانگی و بے زاری کا یہ حال تھا کہ بات سننا تو درکنار الٹے منہ نوچنے کو دوڑتے اور آپ کی بے قراری و ہم دردی کو خبط و جنون قرار دیتے۔ ایسے حالات میں آپ کا متفکر و مغموم رہنا ایک امر فطری تھا اور فکر و غم کی حالت میں آدمی کی چادر ...اُس کی بہترین غم گسار ہوتی ہے۔ وہ اُس میں لپٹ کر جب چاہتا ہے، خلق سے منقطع اور خالق سے متصل ہو جاتا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ چادر اہل عرب کے لباس کا ایک نہایت اہم جزو بھی تھی اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ چادر رکھتے بھی تھے۔‘‘ (تدبر قرآن ۹/ ۲۲)

       

    • امین احسن اصلاحی رات میں قیام کر مگر تھوڑا حصہ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیام لیل کی برکتیں: لفظ ’مُزّمّل‘ میں حضورؐ کی جو فکر مندی اور پریشانی مضمر ہے یہ اس کا علاج بتایا جا رہا ہے اور یہ علاج صرف یہیں نہیں بتایا گیا ہے بلکہ جب جب دعوت کی راہ میں آپ کو پریشانیاں پیش آئی ہیں ان کا یہی علاج آپ کو قرآن نے بتایا ہے اور ہم ہر جگہ اپنے علم کے حد تک اس کی حکمت کی وضاحت کر چکے ہیں۔ یہاں چونکہ اس علاج کی تاثیر اور اس کی قدر و قیمت آگے خود واضح فرما دی گئی ہے اس وجہ سے ہم اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے صرف آیات کی تفسیر پر اکتفا کریں گے جس سے ان شاء اللہ خود یہ بات سامنے آ جائے گی کہ مومن کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیام لیل میں کیا برکتیں ودیعت فرمائی ہیں اور وہ کن پہلوؤں سے اس کی صرف شدہ قوتوں کو بحال اور اس کے عزم و ایمان کو مضاعف کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
      قیام لیل کا وقت: ’قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا ہ نِّصْفَہٗٓ اَوِانْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا ہ اَوْ زِدْ عَلَیْہِ‘۔ رات سے یہاں ظاہر ہے کہ رات کا نصف آخر ہے، جب آدمی کچھ سو چکنے کے بعد اٹھتا ہے۔ اس کی وضاحت آگے ’نَاشِئَۃَ الَّیْلِ‘ کے لفظ سے ہو گئی ہے۔ تہجد کے لیے یہی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی ثابت ہے اور یہی اصل مقصد کے اعتبار سے سب سے زیادہ بابرکت بھی ہے۔ یہ وقت رات کے نصف کے بقدر بھی ہو سکتا ہے، اس سے کچھ کم بھی ہو سکتا ہے اور اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ شب کے پچھلے پہر میں اٹھنا ایک کٹھن کام ہے، اس میں دیر سویر کے ہو جانے کا امکان ہے، اس وجہ سے وقت کے معاملے میں وسعت رکھی گئی ہے تاکہ زیادہ مشقت کا موجب نہ ہو۔ اگرچہ الفاظ قرآن سے پوری نصف شب کے قیام کا اولیٰ ہونا نکلتا ہے لیکن کمی بیشی کی گنجائش الفاظ میں موجود ہے۔

      جاوید احمد غامدی رات کو کھڑے رہو، مگر تھوڑا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      رات سے مراد یہاں رات کا آخری نصف ہے جس میں آدمی کچھ سو کر اٹھتا ہے۔ قرآن نے آگے کی آیات میں اِس کی وضاحت کر دی ہے۔اِس وقت کا اٹھنا ایک کٹھن کام ہے، اِس میں دیر سویر کا امکان بھی ہوتا ہے، اِس وجہ سے وقت کے معاملے میں وسعت رکھی گئی ہے۔اگرچہ الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ پوری نصف شب کا قیام اولیٰ ہے۔

    • امین احسن اصلاحی آدھی رات یا اس میں سے کچھ کم کر دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیام لیل کی برکتیں: لفظ ’مُزّمّل‘ میں حضورؐ کی جو فکر مندی اور پریشانی مضمر ہے یہ اس کا علاج بتایا جا رہا ہے اور یہ علاج صرف یہیں نہیں بتایا گیا ہے بلکہ جب جب دعوت کی راہ میں آپ کو پریشانیاں پیش آئی ہیں ان کا یہی علاج آپ کو قرآن نے بتایا ہے اور ہم ہر جگہ اپنے علم کے حد تک اس کی حکمت کی وضاحت کر چکے ہیں۔ یہاں چونکہ اس علاج کی تاثیر اور اس کی قدر و قیمت آگے خود واضح فرما دی گئی ہے اس وجہ سے ہم اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے صرف آیات کی تفسیر پر اکتفا کریں گے جس سے ان شاء اللہ خود یہ بات سامنے آ جائے گی کہ مومن کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیام لیل میں کیا برکتیں ودیعت فرمائی ہیں اور وہ کن پہلوؤں سے اس کی صرف شدہ قوتوں کو بحال اور اس کے عزم و ایمان کو مضاعف کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
      قیام لیل کا وقت: ’قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا ہ نِّصْفَہٗٓ اَوِانْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا ہ اَوْ زِدْ عَلَیْہِ‘۔ رات سے یہاں ظاہر ہے کہ رات کا نصف آخر ہے، جب آدمی کچھ سو چکنے کے بعد اٹھتا ہے۔ اس کی وضاحت آگے ’نَاشِئَۃَ الَّیْلِ‘ کے لفظ سے ہو گئی ہے۔ تہجد کے لیے یہی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی ثابت ہے اور یہی اصل مقصد کے اعتبار سے سب سے زیادہ بابرکت بھی ہے۔ یہ وقت رات کے نصف کے بقدر بھی ہو سکتا ہے، اس سے کچھ کم بھی ہو سکتا ہے اور اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ شب کے پچھلے پہر میں اٹھنا ایک کٹھن کام ہے، اس میں دیر سویر کے ہو جانے کا امکان ہے، اس وجہ سے وقت کے معاملے میں وسعت رکھی گئی ہے تاکہ زیادہ مشقت کا موجب نہ ہو۔ اگرچہ الفاظ قرآن سے پوری نصف شب کے قیام کا اولیٰ ہونا نکلتا ہے لیکن کمی بیشی کی گنجائش الفاظ میں موجود ہے۔

      جاوید احمد غامدی آدھی رات یا اُس سے کچھ کم کر لو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی یا اس پر کچھ زیادہ کر لے اور قرآن کی تلاوت کر ٹھہر ٹھہر کر۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اَوْ زِدْ عَلَیْہِ‘۔ رات سے یہاں ظاہر ہے کہ رات کا نصف آخر ہے، جب آدمی کچھ سو چکنے کے بعد اٹھتا ہے۔ اس کی وضاحت آگے ’نَاشِئَۃَ الَّیْلِ‘ کے لفظ سے ہو گئی ہے۔ تہجد کے لیے یہی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی ثابت ہے اور یہی اصل مقصد کے اعتبار سے سب سے زیادہ بابرکت بھی ہے۔ یہ وقت رات کے نصف کے بقدر بھی ہو سکتا ہے، اس سے کچھ کم بھی ہو سکتا ہے اور اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ شب کے پچھلے پہر میں اٹھنا ایک کٹھن کام ہے، اس میں دیر سویر کے ہو جانے کا امکان ہے، اس وجہ سے وقت کے معاملے میں وسعت رکھی گئی ہے تاکہ زیادہ مشقت کا موجب نہ ہو۔ اگرچہ الفاظ قرآن سے پوری نصف شب کے قیام کا اولیٰ ہونا نکلتا ہے لیکن کمی بیشی کی گنجائش الفاظ میں موجود ہے۔
      قرآن کی تلاوت کا طریقہ: ’وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا‘ یہ قرآن کے پڑھنے کا طریقہ بتایا گیا کہ نماز میں اس کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ چنانچہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ قرآن لحن اور لَے سے پڑھتے، آیت آیت پر وقف فرماتے، کبھی کبھی ایک ہی آیت شدت تاثر میں بار بار دہراتے علاوہ ازیں کوئی آیت قہر و غضب کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کے غضب سے پناہ مانگتے اور جو آیت رحمت کی ہوتی اس پر ادائے شکر فرماتے۔ بعض آیتیں جن میں سجدہ کا حکم یا اشارہ ہے ان کی تلاوت کے وقت، فوری امتثال امر کے طور پر آپ سجدہ میں بھی گر جاتے۔
      تلاوت قرآن کا یہی طریقہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق بھی ہے اور یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ماثور و منقول بھی ہے۔ قرآن کے مقصد نزول کے پہلو سے بھی یہی طریقہ نافع ہو سکتا ہے لیکن مسلمانوں میں یہ طریقہ صرف اس وقت تک باقی رہا جب تک وہ قرآن کو فکر و تدبر کی چیز اور زندگی کی رہنما کتاب سمجھتے رہے۔ بعد میں جب قرآن صرف حصول ثواب اور ایصال ثواب کی چیز بن کے رہ گیا تو یہ اس طرح پڑھا جانے لگا جس کا مظاہرہ ہمارے حفاظ کرام تراویح اور شبینوں میں کرتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی یا اُس پر کچھ بڑھا دو اور (اپنی اِس نماز میں) قرآن کو ٹھیر ٹھیر کر پڑھو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      روایتوں سے اِس کی تفصیل یہ معلوم ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لحن سے قرآن پڑھتے، ہر آیت پر ٹھیرتے، غضب کے موقع پر اللہ کی پناہ مانگتے، رحمت کی آیتوں پر اُس کا شکر ادا کرتے، آیت میں سجدے کا حکم ہوتا تو امتثال امر کے طور پر فوراً سجدہ ریز ہو جاتے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی ہم تم پر عنقریب ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’قول ثقیل‘ سے مراد: یہ اس مقصد عظیم کی طرف اشارہ ہے جس کے لیے قیام لیل کی یہ ہدایت فرمائی گئی۔ ارشاد ہے کہ ہم عنقریب تم پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس بھاری بات کے تحمل کے لیے ایک پیشگی ریاضت اور تیاری کے طور پر آپ کو اس کا حکم ہوا۔ اس بھاری بات سے کیا مراد ہے؟ اس کے جواب میں اہل تاویل سے مختلف اقوال منقول ہیں لیکن ان کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں ہے اس وجہ سے ان کے نقل کرنے میں کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ استاذ امامؒ اس سے اس انذار عام کو مراد لیتے ہیں جس کا حکم اگلی سورہ میں

      ’یٰٓاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ ہ قُمْ فَاَنْذِرْ‘ (المدثر ۷۴: ۱-۲)
      (اے چادر میں لپٹنے والے، اٹھ اور انذار کر)


      اور اس کے بعد کی آیات میں دیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہی رائے قرین قیاس ہے۔ اس لیے کہ اسی انذارعام سے بعد میں براء ت، ہجرت اور اعلان جنگ کے وہ مراحل سامنے آئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک کے شدید ترین مراحل ہیں، جن میں آپؐ بھی اور آپؐ کے ساتھ صحابہ بھی ایسے کڑے امتحانوں سے گزرے کہ ان کے تصور سے بھی کلیجہ کانپ اٹھتا ہے۔
      اقامت دین کی جدوجہد کی امتیازی خصوصیت: اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام لیل کا حکم اس جہاد عظیم کی تیاری کے لیے دیا گیا جس سے آگے آپؐ کو آپؐ کے صحابہؓ کو اقامت دین کی راہ میں سابقہ پیش آنے والا تھا۔ اقامت دین کی جدوجہد کی یہی وہ امتیازی خصوصیت ہے جو اس کو دوسری تمام تحریفات سے ممتاز کرتی ہے۔ اس کے لیے دوسرے وسائل و ذرائع کے فراہم ہونے سے پہلے صحیح معرفت رب، مستحکم ایمان، غیر متزلزل شب کی نماز ہے بشرطیکہ وہ اس طرح ادا کی جائے جس طرح اس کے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی چٹان پر اقامت دین کی جدوجہد کی بنیاد ہے۔ اس بنیاد کے بغیر اگر دین کی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ کھڑی ہونے سے پہلے ہی زمین بوس ہو جائے گی۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے کہ عنقریب ایک بھاری بات کا بوجھ ہم تم پر ڈال دیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اپنی قوم کو انذار عام کا بوجھ۔ اِسے بھاری بات کے بوجھ سے اِس لیے تعبیر کیا ہے کہ اِسی انذار عام سے بعد میں ہجرت و براء ت اور جہاد و قتال کے وہ مراحل سامنے آئے جن کی شدت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی سیرت و سوانح کا ہر طالب علم واقف ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بے شک رات میں اٹھنا دل جمعی اور فہم کلام کے لیے نہایت خوب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیام لیل کی حکمت: یہ اللہ تعالیٰ نے حکمت بتائی ہے اس بات کی کہ آپ کو قیام لیل کا یہ حکم کیوں دیا گیا۔ فرمایا کہ اس لیے کہ یہ وقت سکون قلب و دماغ کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور فہم قرآن کے لیے سب سے زیادہ سازگار و مددگار ہے۔
      ’نَاشِئَۃٌ‘ ہمارے نزدیک ’نشأ‘ سے، جس کے معنی اٹھنے کے ہیں ’عَاقِبَۃٌ‘ اور ’عَافِیَۃٌ‘ کے وزن پر مصدر یا حاصل مصدر ہے۔ ’نَاشِئَۃَ الَّیْلِ‘ کے معنی ہوں گے قیام لیل یا شب خیزی۔ اس لفظ ہی سے یہ بات نکلی کہ تہجد کا وقت درحقیقت شب میں کچھ سو کر اٹھنے کے بعد یعنی پچھلے پہر کا ہے۔ اس وقت اٹھنا اگرچہ اس اعتبار سے ایک مشکل کام ہے کہ اس وقت کی نیند بہت محبوب ہوتی ہے لیکن اس امتحان میں انسان اگر کامیاب ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی کتاب کے سمجھنے کے لیے اس سے زیادہ بابرکت وقت اور کوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو اس ساعت میمون میں بستر سے اٹھنے کی توفیق دیتا ہے اول تو اس کو اپنے نفس کی خواہشوں پر غلبہ پانے کی ایسی قوت حاصل ہو جاتی ہے جو اس کے لیے اصلاح نفس کی راہ میں فتوحات کے بے شمار دروازے کھول دیتی ہے ثانیاً اللہ تعالیٰ نے، جو رات اور دن کو وجود میں لانے والا ہے، اس وقت کو اپنی رحمتوں کے نزول کے لیے مخصوص فرمایا ہے جن کے دروازے اس کے ان بندوں کے لیے کھلتے ہیں جو اس کی قدر و قیمت پہچانتے اور اس وقت اس کے دروازے پر سائل بن کر حاضر ہوتے ہیں۔
      شب خیزی کی تاثیر ’اَشَدُّ وَطْاً‘ یہ اس وقت اٹھنے کی تاثیر بتائی ہے کہ جب آدمی اس وقت بستر سے اٹھ کر، وضو کر کے، نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کے قدم خوب جمتے ہیں۔ قدم خوب جمنا دماغ کی یکسوئی، دل کے اطمینان اور عقل کی بیداری کی تعبیر ہے۔ اگر دماغ پریشان اور قلب بے سکون ہو تو آدمی کے قدم نہیں جمتے، کوئی بڑا کام تو درکنار وہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی دلجمعی سے نہیں کرسکتا۔ گویا یہاں ظاہر سے ان کے باطن پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ بعض مفسرین نے اس کے یہ معنی لیے ہیں کہ اس وقت اٹھنا نفس کو اچھی طرح کچلنے والا ہے۔ اگرچہ الفاظ میں اس معنی کی بھی گنجائش ہے لیکن آگے کے فقرے سے اسے مناسبت نہیں ہے۔ میں نے جو معنی اختیار کیے ہیں وہ دوسرے مفسرین نے بھی لیے ہیں لیکن انھوں نے اس حقیقت کی طرف اشارہ نہیں کیا کہ ثبات قدم درحقیقت قلبی و عقلی یکسوئی و دلجمعی کی تعبیر ہے۔
      ’وَّاَقْوَمُ قِیْلًا‘ یعنی یہ وقت چونکہ دماغ کے سکون اور دل کی بیداری کا خاص وقت ہے اس وجہ سے زبان سے جو بات نکلتی ہے تیربہدف اور ’ازدل خیزد بردل ریزد‘ کا مصداق بن کر نکلتی ہے۔ آدمی خود بھی اس کو اپنے دل کی گواہی کی طرح قبول کرتا ہے اور دوسرے سننے والوں کے دلوں پر بھی اس کی تاثیر بے خطا ہوتی ہے۔ جنات کا جو واقعہ سورۂ جن میں بیان ہوا ہے روایات اور قرائن دونوں سے ثابت ہے کہ انھوں نے تہجد ہی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن پڑھتے سنا اور اس درجہ متاثر ہوئے کہ نہ صرف اس پر ایمان لائے بلکہ اپنی قوم کے اندر اس کے داعی بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے عظیم انسان کے دل کو بھی اسی طرح کے ایک واقعہ نے فتح کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تہجد میں اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق تلاوت قرآن صرف اپنے ہی نفس کے تہذیب و تزکیہ کے لیے نہیں بلکہ بعض اوقات دوسروں کے ارواح و قلوب کو زندہ کر دینے کے لیے بھی ندائے غیب کی حیثیت رکھتی ہے خواہ وہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے۔

      جاوید احمد غامدی رات کا یہ اٹھنا، درحقیقت دل کی جمعیت اور بات کی درستی کے لیے بہت موزوں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’اَشَدُّ وَطْاً‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جن کے معنی قدم اچھی طرح جمنے کے ہیں۔ لیکن صاف واضح ہے کہ یہ ظاہریہاں انسان کے ’باطن‘ کی تعبیر ہے۔ہم نے ترجمہ اِسی رعایتسے کیا ہے۔استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس وقت اٹھنا اگرچہ اِس اعتبار سے ایک مشکل کام ہے کہ اِس وقت کی نیند بہت محبوب ہوتی ہے، لیکن اِس امتحان میں انسان اگر کامیاب ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اُس کی کتاب کے سمجھنے کے لیے اِس سے زیادہ با برکت وقت اور کوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰجس کو اِس ساعت میمون میں بستر سے اٹھنے کی توفیق دیتا ہے، اول تو اُس کو اپنے نفس کی خواہشوں پر غلبہ پانے کی ایسی قوت حاصل ہو جاتی ہے جو اُس کے لیے اصلاح نفس کی راہ میں فتوحات کے بے شمار دروازے کھول دیتی ہے۔ثانیاً، اللہ تعالیٰ نے، جو رات اور دن کو وجود میں لانے والا ہے، اِس وقت کو اپنی رحمتوں کے نزول کے لیے مخصوص فرمایا ہے، جن کے دروازے اُس کے اُن بندوں کے لیے کھلتے ہیں جو اِس کی قدر و قیمت پہچانتے اور اِس وقت اُس کے دروازے پر سائل بن کر حاضر ہوتے ہیں۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۲۵)

      یعنی بات کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے بہت موزوں ہے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ تہجد کی نماز میں تلاوت قرآن جہاں اپنی تہذیب نفس کے لیے ضروری ہے، وہاں سننے والوں کے دلوں کو زندہ کر دینے کے لیے بھی ایک نداے غیب کی حیثیت رکھتی ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی دن میں بھی تمہارے لیے کافی تسبیح کا موقع ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’سبح طویل‘ کی تاویل: عام طور پر لوگوں نے اس کے معنی یہ لیے ہیں کہ دن میں تمہارے لیے اور بھی بہت سے کام ہیں یعنی دن میں چونکہ دوسرے بہت سے دھندے گھیرے رہتے ہیں، نماز کے لیے دلجمعی کا وقت مشکل ہی سے میسر آتا ہے، اس وجہ سے شب میں تم کو تہجد کے اہتمام کا حکم دیا گیا۔
      لفظ ’سبح‘ کے اندر، ازروئے لغت، اس معنی کی گنجائش موجود ہے لیکن ہمارا دل مختلف وجوہ سے اس تاویل پر نہیں جمتا۔
      اول وجہ یہ ہے کہ قیام لیل کے لیے پچھلے پہر کا وقت اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے نہیں منتخب فرمایا ہے کہ دن میں آدمی کے سامنے دوسری بہت سی مشغولیتیں ہیں بلکہ قرآن کے متعدد اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ شب و روز کے چوبیس گھنٹوں میں اپنے مزاج و کیفیات کے اعتبار سے یہی وقت ان مقاصد کے لیے سب سے زیادہ سازگار ہے جو قیام شب سے مقصود ہیں۔
      دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر یہ بات کہنی ہوتی تو اس کے لیے سادہ اسلوب بیان یہ ہوتا کہ ’اِنَّ لَکَ فِی النَّھَارِ شَغْلًا کَثِیْرًا‘ یا اس کے ہم معنی دوسرے الفاظ ہوتے۔ لفظ ’سبح‘ تیرنے، چلنے وغیرہ کے معنی میں آتا تو ہے لیکن شغل اور مصروفیت کے معنی میں یہ ایسا معروف نہیں ہے کہ بغیر واضح قرینہ کے ذہن اس کی طرف منتقل ہو سکے۔
      تیسری وجہ یہ ہے کہ اگر لفظ ’سبح‘ یہاں اس معنی میں ہوتا تو اس کی صفت ’طَوِیْلًا‘ کی جگہ ’کَثِیْرًا‘ یا ’کَبِیْرًا‘ زیادہ موزوں ہوتی۔
      ان مختلف وجوہ سے اس تاویل پر دل پوری طرح مطمئن نہیں ہوتا۔ ہمارے نزدیک لفظ ’تسبیح‘ یہاں اپنے معروف معنی یعنی تسبیح کرنے ہی کے معنی میں ہے اور آیت کی تاویل یہ ہے کہ شب میں تمہیں جس اہتمام نماز کا حکم دیا جا رہا ہے اس کے علاوہ دن میں بھی تمہارے لیے کافی تسبیح کا موقع ہے جس کا اہتمام رکھو۔ چنانچہ یہ امر واقعہ ہے کہ حضورؐ دن میں بھی اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، کھاتے پیتے اور سوتے جاگتے اللہ تعالیٰ کے ذکر کا اہتمام رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے آپ سے دعائیں منقول ہیں۔ آدمی ان کا اہتمام رکھے تو اس کا کوئی قدم بھی ذکر کے بغیر نہیں اٹھ سکتا اور ان کی برکت سے آدمی کے وہ کام بھی عبادت بن جاتے ہیں جو بظاہر دنیا کے کام خیال کیے جاتے ہیں۔
      دین میں مطلوب ذکر دوام ہے: یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ دین میں مطلوب ذکر دوام ہے۔ اس مسئلہ پر اس کے مقام میں بحث ہو چکی ہے۔ جس طرح انسان کی مادی زندگی کے لیے سانس ضروری ہے اسی طرح اس کی روحانی زندگی کے لیے اللہ کی یاد ضروری ہے۔ سانس رک جائے تو جسم مردہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ سے غفلت ہو جائے تو روح پژمردہ ہو جاتی ہے۔ دل ذکر کی جھڑی ہی سے زندہ رہتا ہے اور دل کی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔
      آیات آفاق و انفس میں تفکر بھی ذکر ہے: یہاں وہ حقیقت بھی پیش نظر رہے جو اس کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات میں بیان ہو چکی ہے کہ اللہ کے دین کی دعوت اور آیات آفاق و انفس میں تدبر و تفکر بھی ذکر ہی میں شامل ہے۔ بلکہ یہ کہنا بھی مبالغہ نہیں ہے کہ اس کو افضل الذکر کی حیثیت حاصل ہے اس لیے کہ اس تفکر ہی سے درحقیقت ذکر کے اندر حقیقی معنویت پیدا ہوتی ہے۔ یہ نہ ہو تو ذکر محض ورزش زبان بن کے رہ جاتا ہے۔ زندگی پر اس کا کوئی مفید اثر مرتب نہیں ہوتا۔ اس مسئلہ پر ’الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘ (آل عمران ۳: ۱۹۱) کے تحت بحث گزر چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے کہ دن میں تو (اِس کام کی وجہ سے) تمھیں بہت مصروفیت رہے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور اپنے رب کے نام کا ذکر کر اور اس کی طرف گوشہ گیر ہو جا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رب کے دامن رحمت میں پناہ گیر ہونے کا طریقہ: ’تَبَتُّلٌ‘ اور ’تَبْتِیْلٌ‘ دونوں کے معنی انقطاع الی اللہ کے ہیں یعنی خلق سے کٹ کر رب کے دامن رحمت میں پناہ گیر ہو جانا۔ یہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو طریقہ بتایا اس بات کا کہ جب جب لوگوں کی حق بیزاری اور دل آزاری سے دل آزردہ ہو تو تم ان ناقدروں سے کٹ کر اپنے رب کے دامن رحمت میں پناہ گیر ہو جایا کرو اور اس کے لیے تمہیں اس کے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے کہ تم اس کے نام کو یاد کرو۔ جب تم اس کے نام کے ساتھ اس کو یاد کرو گے تو وہ خود تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گا۔
      صفات الٰہی کا استحضار: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نام اس کی صفات کی تعبیر ہیں اور ان کی صفات ہی پر تمام دین و شریعت اور سارے ایمان و عقیدہ کی بنیاد ہے۔ ان صفات کا صحیح علم مستحضر رہے تو آدمی کی پشت پر ایک ایسا لشکر گراں اس کے محافظ کی حیثیت سے موجود رہتا ہے کہ شیطان کی ساری فوجیں اس کی نگاہوں میں پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتیں۔ وہ اپنے آپ کو پہاڑوں سے بھی زیادہ مستحکم محسوس کرتا ہے۔ اور اگر خدا کی صفات کی صحیح یادداشت اس کے اندر باقی نہ رہے یا کمزور ہو جائے تو پھر اس کا عقیدہ بے بنیاد یا کمزور ہو جاتا ہے جس کے سبب سے اس کو منافقین کی طرح ہر بجلی اپنے ہی خرمن پر گرتی نظر آتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (لہٰذا اِس وقت پڑھو) اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرواور (رات کی اِس تنہائی میں) سب سے ٹوٹ کر اُسی کے ہو رہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُس کی صفات پر متنبہ ہو کر اپنے دل کو اُس کی یاد سے معمور اور زبان کو اُس کی تسبیح و تحمید سے تر رکھو، اِس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے سب نام اُس کی صفات کی تعبیر ہیں اور دین و شریعت کی ساری عمارت اِنھی صفات پر استوار ہوئی ہے۔ لہٰذا خدا کے نام کا یہی ذکر ہے جو دعوت دین کی جدوجہد میں ہر لحظہ تمھارے ایمان و عقیدہ اور عزم وا ستقلال کی حفاظت کرے گا۔استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...جس طرح انسان کی مادی زندگی کے لیے سانس ضروری ہے، اِسی طرح اُس کی روحانی زندگی کے لیے اللہ کی یاد ضروری ہے۔ سانس رک جائے تو جسم مردہ ہو جاتا ہے۔ اِسی طرح اللہ سے غفلت ہو جائے توروح پژمردہ ہو جاتی ہے۔ دل ذکر کی جھڑی ہی سے زندہ رہتا ہے اور دل کی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۲۷)

      یعنی ہر چیز سے بے تعلق ہو کر اُسی سے لو لگاؤ اور یہ وقت اُسی کی یاد میں بسر کرو۔ اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دعوت دین کی جدوجہد میں صبر و ثبات کے لیے تہجد کی نماز ، اُس میں قرآن کی تلاوت اور ذکر الٰہی کی کیا اہمیت ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی وہی مشرق و مغرب کا خداوند ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بنا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی اللہ کی پناہ کسی کمزور کی پناہ نہیں ہے بلکہ تمام مشرق و مغرب کے خداوند کی پناہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو اس کا شریک و سہیم ہو یا اس کے ارادوں میں مزاحم ہو سکے۔ اس کو وکیل بناؤ گے تو وہ تمہارے لیے کافی ہے۔ ’وَکَفٰی بِاللہِ وَکِیْلاً‘ (النسآء ۴: ۸۱)

      جاوید احمد غامدی وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ اِس لیے اُسی کو اپنا کارساز بناؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کر اور ان کو خوبصورتی سے نظرانداز کر۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مخالفین کی باتوں پر صبر اور اس صبر کا طریقہ: اپنے جھٹلانے والوں کی بے ہودہ گوئیوں پر صبر کرو اور اپنے موقف پر ڈٹے رہو نہ ان کی باتوں کا غم کرو اور نہ زیادہ ان کے درپے ہو، بلکہ ان کو خوبصورتی کے ساتھ چھوڑو۔ وہ اپنی اس روش کا خمیازہ خود بھگتیں گے۔
      چھوڑنا دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک چھوڑنا تو وہ ہے جو فضیحتا اور لعن طعن کے بعد، عناد و انتقام کے جذبہ کے ساتھ ہو۔ اس طرح کا چھوڑنا عام دنیا داروں کا شیوہ ہے۔ اخیار و صالحین یہ طریقہ نہیں اختیار کرتے۔ وہ خلق کی اصلاح کی کوشش اپنی کسی ذاتی منفعت کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی ہدایت اور اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ لوگ ان کی ناقدری اور دل آزاری کرتے ہیں تو انھیں غصہ یا نفرت کے بجائے ان کے حال پر افسوس اور ان کی محرومی و بدانجامی پر صدمہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں وہ ان کے رویہ سے مجبور ہو کر ان کو چھوڑتے تو ہیں لیکن یہ چھوڑنا اسی طرح کا ہوتا ہے جس طرح ایک شریف باپ اپنے نالائق بیٹے کے رویہ پر خاموشی اور علیحدگی اختیار کر لیتا ہے۔ اس طرح کے چھوڑنے کو یہاں ’ہجر جمیل‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس طرح کی علیحدگی بعض اوقات مفید نتائج پیدا کرتی ہے۔ جن کے اندر خیر کی کوئی رمق ہوتی ہے وہ اس شریفانہ طرز عمل سے متاثر اور اپنے رویہ کا جائزہ لینے کی طرف مائل ہوتے ہیں ورنہ کم سے کم انھیں یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ شخص ان کے باطل پر راضی ہونے والا نہیں ہے خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے۔ جب تک پیغمبر اپنی قوم کے اندر رہتا ہے قوم کی زیادتیوں کا مقابلہ وہ اسی ’ہجر جمیل‘ سے کرتا ہے۔ البتہ جب قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو وہ اس کو اعلان براء ت کے ساتھ چھوڑتا ہے اور اس کا یہ چھوڑنا قوم کی موت کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ جو کچھ کہتے ہیں اُس پر صبر کرو، اِن سے نہایت بھلے طریقے سے صرف نظر کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِن کی زیادتیوں کو نظر انداز کر دو۔ ہو سکتا ہے کہ تمھارا یہی ’ہَجْرٌ جَمِیْل‘ اِن کے رویے میں تبدیلی کا باعث بن جائے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان اہل تنعم جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ اور ان کو کچھ دیر اور مہلت دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تکذیب کرنے والوں کو سخت دھمکی: یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے جھٹلانے والوں کو اللہ تعالیٰ نے نہایت سخت دھمکی دی ہے کہ تم ان کا معاملہ مجھ پر چھوڑو اور تھوڑی سی مہلت ان کو اور دو۔ مطلب یہ ہے کہ پھر دیکھو کہ ان کا حشر کیا ہوتا ہے!
      ’وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ‘ کے اسلوب سے یہ بات نکلتی ہے کہ تم الگ ہو کر بیٹھو اور مجھے تنہا ان سرکشوں سے نمٹ لینے دو، تمہارے ہاتھ لگانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
      اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ ان جھٹلانے والوں کی تباہی میں کچھ دیر ہو رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی ان کے اندر تم موجود ہو۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جب تک پیغمبر قوم کے اندر موجود رہتا ہے اس وقت تک قوم پر عذاب نہیں آتا۔ تم چھوڑو تو چشم زدن میں ان سرکشوں کا تیا پانچا ہوا جاتا ہے۔ یہ ان ظالموں کی بدبختی ہے کہ وہ تمہارے درپے آزار ہیں۔ ان کے لیے عذاب کے مقابل میں امان کی دیوار تمہی ہو۔ اگر اس امان سے انھوں نے اپنے کو محروم کر لیا تو عذاب سے ان کو کون بچائے گا۔
      ’اُوْلِی النَّعْمَۃِ‘ کے معنی ارباب تنعم و رفاہیت کے ہیں۔ لفظ ’نَعْمَۃٌ‘ رفاہیت و تنعم کے معنی میں آتا ہے۔ ’مُکَذِّبِیْنَ‘ کی اس صفت کے حوالہ سے مقصود ان کے سبب تکذیب کا سراغ دینا اور ان کی ناشکری پر ان کو ملامت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تنعم و رفاہیت سے بہرہ مند فرمایا تھا تو اس کا حق یہ تھا کہ اپنے رب کے شکر گزار رہتے لیکن اللہ کی بخشی ہوئی خوشحالی ان کے لیے استکبار کا سبب ہوئی اور وہ اپنے رب کے حریف بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔

      جاوید احمد غامدی اور اِن جھٹلانے والوں، اِن اہل نعمت کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو اور اِن کو بس ذرا سی مہلت دو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      جھٹلانے والوں کی یہ صفت اُن کے جھٹلانے کا سبب بتانے کے لیے آئی ہے۔ یعنی اللہ کی بخشی ہوئی نعمتیں اُن کے لیے تمرد اور سرکشی کا باعث بنیں اور وہ اپنے پروردگار کے شکر گزار بننے کے بجاے اُس کے حریف بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
      یعنی تم الگ ہو کر بیٹھو اور مجھے تنہا اِن سرکشوں سے نمٹنے دو، پھر دیکھو کہ اِن کا حشر کیا ہوتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’اِس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اِن جھٹلانے والوں کی تباہی میں کچھ دیر ہو رہی ہے، تو اُس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی اِن کے اندر تم موجود ہو۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جب تک پیغمبر قوم کے اندر موجود رہتا ہے، اُس وقت تک قوم پر عذاب نہیں آتا۔ تم چھوڑو تو چشم زدن میں اِن سرکشوں کا تیا پانچا ہوا جاتا ہے۔ یہ اِن ظالموں کی بدبختی ہے کہ وہ تمھارے درپے آزار ہیں۔ اِن کے لیے عذاب کے مقابل میں امان کی دیوار تمھی ہو۔ اگر اِس امان سے اِنھوں نے اپنے آپ کو محروم کر لیا تو عذاب سے اِن کو کون بچائے گا۔‘‘ (تدبر قرآن ۹/ ۲۹)

       

    • امین احسن اصلاحی ہمارے پاس ان کے لیے بیڑیاں اور دوزخ کی آگ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی جب ہماری بخشی ہوئی رفاہیت اس دنیا میں ان کے لیے استکبار اور رسول کی تکذیب کا سبب ہوئی تو یاد رکھیں کہ ان کے لیے ہمارے پاس آخرت میں بیڑیاں اور جہنم ہے۔ یعنی بیڑیوں اور زنجیروں کے اندر جکڑ کر جہنم کے اندر جھونک دیے جائیں گے۔
      ’اَنْکَالٌ‘ جمع ہے ’نِکْلٌ‘ کی۔ اس کے معنی بیڑی کے بھی ہیں اور آہنی لگام کے بھی۔ دوسرے مقام میں ’سَلَاسِلُ‘ اور ’اَغْلَالٌ‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (اِن کے لیے) ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں اور آگ کا ڈھیر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور نہایت دردناک عذاب۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ وَعَذَابًا أَلِیْمًا‘۔ یعنی ہم نے ان کو جو تر نوالے بخشے انھوں نے ان کا حق نہیں پہچانا تو یاد رکھیں کہ آخرت میں ان کو وہ کھانا ملے گا جو ان کے حلق میں پھنس کر رہ جائے گا اور اس عیش کی جگہ ان کو ایک دردناک عذاب سے سابقہ پیش آئے گا۔

      جاوید احمد غامدی اور گلے میں پھنستا ہوا کھانا ہے اور بہت دردناک عذاب بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس دن جس دن زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑ بھربھرے ٹیلے بن جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس دن کی یاددہانی ہے جس دن ان مغروروں کو مذکورہ حالات سے سابقہ پیش آئے گا۔ فرمایا کہ اس دن یہ زمین اور پہاڑ سب لرز اٹھیں گے اور امراء کے ایوان و محل تو درکنار پہاڑوں کا بھی یہ حال ہو گا کہ وہ بھربھرے ریت کے تودوں کے مانند ہو جائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی اُس دن جب زمین اور پہاڑ لرز اُٹھیں گے اورپہاڑوں کا حال ایسا ہو جائے گا ،گویا ریت کے ٹیلے ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہم نے تم لوگوں کی طرف ایک رسول بھیجا ہے تم پر گواہ بنا کر جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کو تنبیہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ضروری ہدایات دینے کے بعد اب یہ قریش کو تنبیہ فرمائی جا رہی ہے کہ جس طرح ہم نے فرعون کی طرف اپنا ایک رسول بھیجا تھا اسی طرح تمہاری طرف بھی ایک رسول بھیج دیا ہے تاکہ وہ ہمارے خاص شاہد کی حیثیت سے تمہیں بتا دے کہ ہماری پسند اور ہمارے احکام کیا ہیں اور تم نے ان کو قبول کیا تو دنیا اور آخرت میں اس کا کیا صلہ ملے گا اور اگر اس کی نافرمانی کی تو اس کا انجام کیا ہو گا مطلب یہ ہے کہ تم جس شخص کی تکذیب و توہین کر رہے ہو اس کے مرتبہ اور اس کی حیثیت کو اچھی طرح جان اور سمجھ لو کہ اس کی تکذیب کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ وہ کوئی سائل یا محض واعظ نہیں ہے جس کے ردو قبول کی کوئی خاص اہمیت نہ ہو بلکہ اللہ نے اس کو تمہارے اوپر حق کی گواہی دینے کے لیے بھیجا ہے اس وجہ سے اس کے ذریعہ سے لازماً حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہونے والا ہے اور یہ فیصلہ اسی طرح ہو گا جس طرح موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا۔ جس طرح فرعون نے رسول کی نافرمانی کی تو اللہ نے اس کو پکڑا اور اس طرح پکڑا کہ اس کو کوئی پناہ نہ مل سکی اسی طرح تمہیں بھی وہ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی اس کے پنجہ سے تمہیں چھڑا نہ سکے گا۔
      ’شَاہِدًا عَلَیْکُمْ‘ کے مفہوم کی پوری وضاحت ہم ’لِّتَکُونُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا‘ (البقرہ ۲: ۱۴۳) کے تحت کر چکے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی تمھاری طرف، (اے قریش مکہ)، ہم نے اُسی طرح ایک رسول تم پر گواہ بنا کر بھیجا ہے، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی تمھارے اوپر حق کی گواہی دینے والا بنا کربھیجا ہے۔ یہ قرآن کی خاص تعبیر ہے جو اتمام حجت کے معنی میں آتی ہے۔ اِس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ خدا کا پیغمبر درحقیقت خدا کی عدالت ہے جو گواہی قائم ہو جانے کے بعد اُسی طرح حق و باطل کا فیصلہ سنا دے گی جس طرح موسیٰ اور فرعون کے معاملے میں سنایا گیا تھا۔

    • امین احسن اصلاحی تو فرعون نے رسول کی نافرمانی کی، پس ہم نے اس کو پکڑا نہایت سخت پکڑنا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کو تنبیہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ضروری ہدایات دینے کے بعد اب یہ قریش کو تنبیہ فرمائی جا رہی ہے کہ جس طرح ہم نے فرعون کی طرف اپنا ایک رسول بھیجا تھا اسی طرح تمہاری طرف بھی ایک رسول بھیج دیا ہے تاکہ وہ ہمارے خاص شاہد کی حیثیت سے تمہیں بتا دے کہ ہماری پسند اور ہمارے احکام کیا ہیں اور تم نے ان کو قبول کیا تو دنیا اور آخرت میں اس کا کیا صلہ ملے گا اور اگر اس کی نافرمانی کی تو اس کا انجام کیا ہو گا مطلب یہ ہے کہ تم جس شخص کی تکذیب و توہین کر رہے ہو اس کے مرتبہ اور اس کی حیثیت کو اچھی طرح جان اور سمجھ لو کہ اس کی تکذیب کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ وہ کوئی سائل یا محض واعظ نہیں ہے جس کے ردو قبول کی کوئی خاص اہمیت نہ ہو بلکہ اللہ نے اس کو تمہارے اوپر حق کی گواہی دینے کے لیے بھیجا ہے اس وجہ سے اس کے ذریعہ سے لازماً حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہونے والا ہے اور یہ فیصلہ اسی طرح ہو گا جس طرح موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا۔ جس طرح فرعون نے رسول کی نافرمانی کی تو اللہ نے اس کو پکڑا اور اس طرح پکڑا کہ اس کو کوئی پناہ نہ مل سکی اسی طرح تمہیں بھی وہ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی اس کے پنجہ سے تمہیں چھڑا نہ سکے گا۔

      جاوید احمد غامدی پھر فرعون نے اُس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اُس کو بڑے وبال میں پکڑ لیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی تو اگر تم نے بھی کفر کیا تو اس دن کے عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی ابھی پکڑ نہیں ہو رہی ہے تو یہ نہ سمجھو کہ کبھی نہیں ہو گی۔ اس دنیا میں نہ بھی ہوئی تو آخرت تو بہرحال شدنی ہے تو سوچ لو کہ اگر تم نے رسول کا انکار کیا تو اس دن کے ہول سے کس طرح بچو گے جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا! ’بچوں کو بوڑھا بنا دے گا‘ کسی ہول کی شدت اور بے پناہی کی تعبیر ہے۔ ہماری زبان میں بھی بولتے ہیں کہ فلاں صدمہ نے مجھے بوڑھا کر دیا۔ روایات میں بھی آتا ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ ’شیبتنی ھود واخواتھا‘ مجھے سورۂ ہود اور اس کی ہم جنس سورتوں نے بوڑھا کر دیا۔ عرب شعراء نے بھی مختلف اسلوبوں سے یہ محاورہ استعمال کیا ہے۔ یہ معروف ہے اس وجہ سے شواہد نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صاحب کشاف نے بعض شواہد کا حوالہ دیا ہے جو قابل اعتماد ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے اگر تم بھی نہیں مانو گے تو اُس دن سے کس طرح بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ تعبیر کسی ہول کی شدت اور بے پناہی بتانے کے لیے ہماری زبان میں بھی اختیار کی جاتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی آسمان اس کے بوجھ سے پھٹا پڑ رہا ہے اور اللہ کا وعدہ شدنی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی روز قیامت کو کوئی اَن ہونی بات نہ خیال کرو۔ آسمان اس کے بوجھ سے پھٹا پڑ رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پھٹ پڑے اور قیامت اس کے اندر سے نمودار ہو جائے اور تم اسی طرح اس سے غفلت ہی میں رہو۔ یہی مضمون سورۂ اعراف میں اس طرح بیان ہوا ہے:

      ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَا تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغَتَۃً.(الاعراف ۷: ۱۸۷)
      (آسمان و زمین دونوں اس کے حمل سے بوجھل ہیں، وہ تمہارے اوپر اچانک ہی آ دھمکے گی)۔

      یعنی آخرت کوئی محتاج ثبوت چیز نہیں ہے، اس کے ظہور کا وقت اگرچہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے علم میں نہیں ہے لیکن اس کے شواہد آسمان و زمین میں اس طرح نمایاں ہیں جس طرح آخری دنوں میں حاملہ کا حمل ہوتا ہے۔ اس کے جننے کا صحیح وقت کوئی نہیں بتا سکتا لیکن ہر آنکھ رکھنے والا جانتا ہے کہ وہ جنے گی۔ اسی طرح قیامت کے آثار نمایاں ہیں اور آسمان اس کے بوجھ سے اس طرح پھٹا پڑ رہا ہے کہ ہر لمحہ اس کا ظہور متوقع ہے۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو صرف اس بنا پر اس سے نچنت ہیں کہ ان کو اس کا صحیح وقت نہیں بتایا گیا۔

       

      جاوید احمد غامدی آسمان اُس کے بوجھ سے پھٹا پڑ رہا ہے اور اللہ کا وعدہ شدنی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ اہل بصیرت کے لیے قیامت کے آثار و شواہد اِس کے اندر ایسے نمایاں ہیں، جس طرح آخری دنوں میں حاملہ کا حمل ہوتا ہے۔ اُس کا صحیح وقت تو یقیناً کوئی نہیں بتا سکتا، مگر کسی دیکھنے والے کو اِس میں شبہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ بہرحال جنے گی۔

    • امین احسن اصلاحی یہ ایک یاددہانی ہے تو جو چاہے وہ اپنے رب کی راہ اختیار کر لے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ہٰذِہٖ‘ سے اشارہ قرآن کی ان آیات کی طرف ہے جو قریش کو آخرت کی تذکیر کے لیے سنائی گئیں۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب سے پہلے تذکیر و تنبیہ ضروری تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بھیج کر حجت تمام کر دی۔ اب ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے جس کا جی چاہے اپنے رب کی راہ اختیار کر کے اس کی رحمت و رضوان کا مستحق بن جائے اور جس کا چاہے وہ اپنی گمراہی پر اڑا رہے اور اس کا انجام دیکھے۔ اللہ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اُس سے پہلے) یہ ایک یاددہانی ہے۔ سو جس کا جی چاہے، اپنے پروردگار کی طرف جانے کی راہ اختیار کر لے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی بے شک تمہارا رب جانتا ہے کہ تم شب میں دو تہائی رات کے قریب یا نصف یا تہائی رات قیام کرتے ہو اور ایک گروہ تمہارے ساتھیوں میں سے بھی۔ اور اللہ ہی رات اور دن کا اندازہ ٹھہراتا ہے۔ اس نے جانا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر عنایت کی نظر کی تو قرآن میں سے جتنا میسر ہو سکے پڑھ لیا کرو۔ اس کے علم میں ہے کہ تم میں مریض بھی ہوں گے اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اللہ کے فضل کی طلب میں سفر کریں گے اور دوسرے ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے اٹھیں گے تو جتنا میسر ہو سکے اس میں سے پڑھ لیا کرو اور نماز کا اہتمام رکھو، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ کو قرض دو قرض اچھا اور جو کچھ بھی تم اپنے لیے پہلے سے بھیج رکھو گے اس کو اللہ کے پاس اس سے بہتر اور اجر میں برتر پاؤ گے۔ اور اللہ سے استغفار کرتے رہو۔ بے شک اللہ بڑا ہی غفور رّحیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ابتدائے سورہ کے بعض احکام سے متعلق وضاحت: یہ اس سورہ کی آخری آیت ہے۔ اس کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی لیکن اس کا تعلق اسی حکم سے ہے جو ابتدائے سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسل کو، قیام لیل سے متعلق، دیا گیا ہے اس وجہ سے جگہ اس کو اسی سورہ کے اخیر میں ملی تاکہ اس باب کے سابق اور لاحق دونوں حکموں کی نوعیت اور ان کا باہمی تعلق سمجھنے میں مدد ملے۔ اس کی متعدد مثالیں پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں اور یہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ سورتوں میں آیات کی ترتیب ان کی معنوی مناسبت سے ہے اور یہ کام اللہ تعالیٰ کے حکم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے تحت ہوا ہے۔
      ’اِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْمُ اَدْنٰی مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَنِصْفَہٗ وَثُلُثَہٗ‘۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تحسین فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خوب علم ہے کہ تمہیں شب میں قیام کا جو حکم دیا گیا تم پورے اہتمام کے ساتھ اس کی پابندی کر رہے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری یہ سرگرمیاں اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں اور جب اس کے علم میں ہیں تو یہ رائگاں جانے والی نہیں ہیں بلکہ ان کا بھرپور صلہ پاؤ گے۔
      ’وَطَآئِفَۃٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَکَ‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تحسین کے بعد یہ ان مسلمانوں کی تحسین ہے جنھوں نے آپ کے اتباع کے شوق میں ازخود اس حکم کی پابندی اپنے اوپر لازم کر لی۔ یہ حکم تھا تو، جیسا کہ الفاظ سے واضح ہے، خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے لیے لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم ہر اس کام کے لیے سبقت کرتے جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کاربند دیکھتے۔ اگرچہ ایمان بالرسول کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ رسول کے ہر نقش قدم کی پیروی کی جائے لیکن رسول کی قوت برداشت اور دوسروں کی قوت برداشت میں بڑا فرق ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عام مسلمانوں کے لیے اس حکم کی نوعیت میں تبدیلی کردی، جس کی وضاحت آگے کے ٹکڑے میں آ رہی ہے، تاکہ ان کے لیے یہ بوجھ ان کی قوت برداشت سے زیادہ نہ ہو جائے۔
      عام مسلمانوں کے لیے تخفیف: ’وَاللّٰہُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْہُ فَتَابَ عَلَیْکُمْ فَاقْرَءُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ‘۔ فرمایا کہ رات اور دن کو مقدر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے تقاضے اور مطالبے کیا ہیں، زندگی پر کن کن پہلوؤں سے یہ اثر انداز ہوتے ہیں، انسان ان میں سے کس کا کس حد تک محتاج ہے اور اس کو کن حالات و مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ اپنے اس علم کی روشنی میں اس کا فیصلہ یہ ہے کہ تم نصف شب یا ثلث یا دو ثلث شب کے قیام کی پابندی کا اہتمام نہ کر سکو گے تو جتنا بھی ممکن ہو سکے اتنا قرآن پڑھ لیا کرو۔
      ’فَتَابَ عَلَیْکُمْ‘ کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ ’تَابَ‘ کا صلہ جب ’عَلٰی‘ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی عنایت کی نظر کرنے کے ہو جاتے ہیں۔
      ’فَاقْرَءُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ‘ کے الفاظ اگرچہ عام ہیں لیکن یہ بات قیام لیل کے سلسلہ میں فرمائی گئی ہے اس وجہ سے مدعا تہجد ہی میں قرآن پڑھنا ہے۔ اگرچہ تلاوت قرآن بجائے خود بھی عبادت ہے لیکن تہجد میں، ترتیل کے ساتھ، اس کی تلاوت ہی سے وہ برکتیں ظہور میں آتی ہیں جن کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اہتمام کے ساتھ اس سورہ میں اس کا حکم دیا گیا۔
      اس سے معلوم ہوا کہ یہ تخفیف درحقیقت عام مسلمانوں کے لیے اس بنا پر ہوئی کہ وہ اس بھاری بوجھ کو نہیں اٹھا سکتے تھے۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم بدستور اسی اصل حکم پر آخری لمحات حیات تک قائم رہے جو آپ کو دیا گیا۔ عام اہل ایمان کے لیے ایک فضیلت کے درجے میں یہ باقی ہے اور یہ بات ہر ایک کے شوق اور حوصلہ پر چھوڑ دی گئی ہے کہ وہ اس میں کتنا حصہ لیتا ہے۔
      ’عَلِمَ اَنْ سَیَکُوْنُ مِنْکُمْ مَّرْضٰی وَاٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَاقْرَءُ وْا مَاتَیَسَّرَ مِنْہُ‘۔
      تخفیف کے وجوہ: یہ ان امکانات کی طرف اشارہ ہے جو پیش آ سکتے ہیں اور جو اس تخفیف کے متقاضی ہوئے۔ فرمایا کہ تم میں مریض بھی ہوں گے، مختلف دینی و دنیاوی ضروریات کے لیے سفر کرنے والے بھی ہوں گے، اللہ کی راہ میں تمہیں جنگ کے لیے بھی اٹھنا ہو گا اس وجہ سے اس سعادت میں حصہ لینے کے لیے یہ کافی ہے کہ تم جتنا وقت بھی پا جاؤ اور جتنا قرآن بھی پڑھ سکو پڑھ لیا کرو۔
      ’یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ‘ سے مراد ہر وہ سفر ہے جو کسی نیک اور اعلیٰ مقصد سے ہو، عام اس سے کہ وہ طلب علم کے لیے ہو یا حج کے لیے یا تجارت کے لیے۔ تجارتی سفر کے لیے یہ الفاظ قرآن میں جگہ جگہ آئے ہیں۔
      ’وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا‘۔ یہ اس کسر کے جبر کی تدبیر بتائی ہے کہ اگر قیام شب کی برکتوں میں تم پورا پورا حصہ نہیں لے سکتے تو اپنے امکان کے حد تک پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام رکھو، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ کے کلمہ کو بلند اور دین و ملت کی ہنگامی ضروریات میں فراخ دلی سے خرچ کرتے رہو۔ اس طرح تم اپنے رب کا قرب اور اس کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہو۔
      ’وَاَقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا‘ سے یوں تو ہر وہ انفاق مراد ہو سکتا ہے جو اللہ کی راہ میں فراخ دلی سے کیا جائے لیکن جب اس کا ذکر ایتائے زکوٰۃ کے ساتھ ہو تو اس سے خاص طور پر وہ انفاق مراد ہوتا ہے جو جنگ و جہاد یا کسی اہم ہنگامی ضرورت کے لیے کیا جائے۔
      ’وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ ھُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا‘۔ یہ انفاق کے لیے ترغیب و تشویق ہے کہ اللہ کی راہ میں جو خرچ کرو گے وہ کسی دوسرے کے لیے نہیں بلکہ اپنے ہی لیے کرو گے۔ وہ خدا کے ہاں تمہارے ہی کھاتے میں جمع ہو گا اور اس کو نہایت بہتر اور نافع تر شکل میں اپنے رب کے ہاں پاؤ گے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی خسارے کا سودا نہیں بلکہ سب سے زیادہ نفع بخش تجارت ہے۔
      ’وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘۔ یعنی اس اہتمام کے علاوہ جو مذکور ہوا، برابر اپنے رب سے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کی معافی بھی مانگتے رہو اور یہ امید رکھو کہ وہ معاف فرمائے گا۔ وہ بڑا ہی غفور رّحیم ہے۔

      جاوید احمد غامدی (ہم نے، اے پیغمبر تم کو حکم دیا تھا کہ رات میں قیام کرو)۔ تمھارا پروردگار خوب جانتاہے کہ تم کبھی دوتہائی رات کے قریب، کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات (اُس کے حضور میں) کھڑے رہتے ہو اور تمھارے کچھ ساتھی بھی۔(لوگوں کی ضرورت کے لحاظ سے)اللہ ہی رات اور دن کی تقدیر ٹھیراتا ہے۔ اُس نے جان لیا کہ تم لوگ اِسے نباہ نہ سکو گے تو اُس نے تم پر عنایت کی نظر کی۔ چنانچہ اب قرآن میں سے جتنا ممکن ہو،(اِس نماز میں) پڑھ لیا کرو۔ اُسے معلوم ہے کہ تم میں بیمار بھی ہوں گے اور وہ بھی جو خدا کے فضل کی تلاش میں سفر کریں گے اور کچھ دوسرے وہ بھی جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے اُٹھیں گے۔ اِس لیے جتنا ممکن ہو، اِس میں سے پڑھ لیا کرو اور (اپنے شب و روز میں) نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور (دین و ملت کی ضرورتوں کے لیے) اللہ کو قرض دو، اچھا قرض۔ اور (یاد رکھو کہ) جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اُسے اللہ کے ہاں اُس سے بہتر اور ثواب میں برتر پاؤ گے۔ اللہ سے معافی مانگتے رہو۔ بے شک ،اللہ غفور و رحیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      نماز تہجد کا جو حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ کی ابتدا میں دیا گیا ہے، یہ عام مسلمانوں کے لیے اُس میں تخفیف کی آیت ہے جو ہجرت مدینہ سے پہلے کسی وقت نازل ہوئی اور مضمون کی مناسبت سے اِسی سورہ کا حصہ بنا دی گئی ہے۔ اِس تخفیف کی ضرورت اِس لیے پیش آئی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے شوق میںآپ کے بعض ساتھیوں نے یہ نماز اپنے اوپر لازم کر لی تھی۔ دراں حالیکہ نماز تہجد کا یہ حکم آپ کے لیے خاص تھا اور اپنی قوم کو انذار کی جو ذمہ داری بحیثیت پیغمبر آپ پر ڈالی گئی تھی،اُس میں صبر و ثبات کے لیے دیا گیا تھا۔
      یعنی اُن کے تقاضوں، مطالبات اور انسان پر اُن کے اثرات کو مقدر کرتا ہے۔
      اصل الفاظ ہیں: ’فَتَابَ عَلَیْکُمْ‘۔ ’تَابَ‘ کے معنی لوٹنے کے ہیں، لیکن اِس کے ساتھ ’عَلٰی‘ نے وہ معنی پیدا کر دیے ہیں جو ہم نے ترجمے میں اختیار کیے ہیں۔
      آیت کا سیاق دلیل ہے کہ قرآن پڑھنے سے مراد یہاں نماز میں قرآن پڑھنا ہے۔

      zakah

    Join our Mailing List