Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 28 آیات ) Nuh Nuh
Go
  • نوح (Noah)

    28 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ ۔۔۔ المعارج ۔۔۔ میں آپ نے دیکھا کہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو جواب اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر و انتظار کی تلقین ہے۔ اس سورہ میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کے مراحل، ان کے طویل صبر و انتظار اور بالآخر ان کی قوم کے مبتلائے عذاب ہونے کی سرگزشت اختصار لیکن جامعیت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ اور مقصود اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی قوم کے سامنے ایک ایسا آئینہ رکھ دینا ہے جس میں آپ بھی دیکھ لیں کہ اللہ کے رسول کو اپنی آخری منزل تک پہنچنے کے لیے صبر و انتظار کے کن زہرہ گداز مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، ساتھ ہی آپ کی قوم بھی دیکھ لے کہ اللہ تعالیٰ جلد بازوں اور ان کے طنز و طعن کے باوجود ان کو ڈھیل اگرچہ ایک طویل مدت تک دیتا ہے لیکن بالآخر پکڑتا ہے اور جب پکڑتا ہے تو اس طرح پکڑتا ہے کہ کوئی ان کو چھڑانے والا نہیں بنتا۔

  • نوح (Noah)

    28 آیات | مکی
    نوح - الجن

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ قوم نوح کی سرگذشت کے آئینے میں قرآن کے انذار اور اُس کے نتائج کی جو تصویر دکھاتی ہے، دوسری اُسی کے اثبات میں جنوں کی شہادت پیش کرتی اور قریش کو اِس کے بارے میں اپنے رویے پر نظرثانی کی دعوت دیتی ہے۔

    اِس لحاظ سے دیکھیے تو سورۂ حاقہ میں جو مضمون اِس سے پہلے ’مَا تُبْصِرُوْنَ‘ اور ’مَا لَا تُبْصِرُوْنَ‘ کے الفاظ میں بالاجمال بیان ہوا ہے، یہ دونوں سورتیں بالترتیب اُسی کی تفصیل ہیں۔

    دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- نوح—- کا موضوع قریش کے لیے رسولوں کی دعوت اور اُس کے مختلف مراحل کی وضاحت کرنا اور اُس کے اُن نتائج سے اُنھیں خبردار کرنا ہے جو سنت الٰہی کے مطابق اُسے نہ ماننے والوں کے لیے لازماً نکلتے ہیں۔

    دوسری سورہ—- الجن—- کا موضوع جنوں کی شہادت سے قرآن مجید اور اُس کی حقانیت قریش پر ثابت کرنا اور اُنھیں یہ سمجھانا ہے کہ جس عذاب کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں، اُس کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ خدا کے پیغمبر عذاب کا وقت بتانے کے لیے نہیں، خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے آتے ہیں۔ وہ خدا سے عذاب نہیں، بلکہ اُس کی رحمت چاہیں۔ اِس کے لیے پیغمبر کے مقابلے میں سرکشی اور تمرد کا رویہ چھوڑ کر اُس کی دعوت پر لبیک کہیں اور خدا کے گھر میں خدا ہی کی عبادت کریں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا کہ اپنی قوم کو، قبل اس کے کہ اس پر ایک دردناک عذاب آ جائے، ہوشیار کر دو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قوموں کے معاملہ میں سنت الٰہی: یہ اس سنت الٰہی کا بیان ہے جس کی وضاحت قرآن مجید میں جگہ جگہ ہوئی ہے کہ جب کسی قوم کا اخلاقی فساد اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کن عذاب کی مستحق ہو گئی ہے تو عذاب بھیجنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر اپنا ایک رسول بھیج کر اس پر اپنی حجت تمام کر دی ہے تاکہ کسی کے پاس گمراہی میں پڑے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ اسی سنت کے مطابق اس نے قوم نوح پر عذاب بھیجنے سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اچھی طرح آگاہ کر دیں کہ اللہ کا عذاب آیا ہی چاہتا ہے۔ اس سے نجات مطلوب ہے تو لوگ اپنی گمراہی کی روش چھوڑ کر اس طریقہ کی پیروی کریں جس کی وہ دعوت دے رہے ہیں ورنہ یاد رکھیں کہ اللہ کے قہر سے کسی کے لیے بھی کوئی راہ فرار نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے نوح کو اُس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا کہ اپنی قوم کو خبردار کرو، اِس سے پہلے کہ ایک دردناک عذاب اُن پر آ جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی عذاب سے پہلے اتمام حجت کے لیے اُسی طرح رسول بنا کر بھیجا،جس طرح اب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بھیجا ہے۔ یہ اُس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کے تحت اللہ کے رسول مختلف قوموں کی طرف بھیجے جاتے رہے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے پکارا کہ اے میری قوم کے لوگو! میں تمہارے لیے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت نوح علیہ السلام کا انذار: ’نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ‘ کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔؂۱ حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی قوم کو آگاہ کیا کہ جس طرح ایک نذیر عریاں اپنی قوم کو حملہ آور دشمن سے آگاہ کرتا ہے اسی طرح میں تمہارے لیے ایک نذیر مبین ہوں اور اللہ نے مجھے تمہاری طرف اس لیے بھیجا ہے کہ میں تمہیں اس عذاب سے ہوشیار کر دوں جو تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔
      _____
      ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد سوم، صفحہ ۳۸۶؛ تدبر قرآن جلد چہارم، صفحہ ۴۰۴۔

      جاوید احمد غامدی اُس نے کہا: میری قوم کے لوگو، میں تمھارے لیے ایک صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کہ اللہ کی بندگی کرو، اس کے حدود کی پابندی کرو اور میری بات مانو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس انذار کی تفصیل ہے کہ اللہ کی بندگی کرو، اس کے مقرر کردہ حدود کی خلاف ورزی سے بچو اور میری اطاعت کرو۔
      ’اَنِ اعْبُدُوا اللَّہَ‘۔ یعنی اپنے خود تراشیدہ معبودوں کی (جن کی تفصیل اسی سورہ میں آگے آ رہی ہے) پوجا چھوڑو اور اپنے رب حقیقی، اللہ واحد کی بندگی کرو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
      ’وَاتَّقُوْہُ‘۔ یعنی اللہ نے جو حدود و قیود تمہاری زندگی کی رہنمائی کے لیے مقرر کیے ہیں ان کی پابندی کرو کہ اس کے غضب سے محفوظ رہو۔ ’تقویٰ‘ کا اصل مفہوم، جیسا کہ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ واضح کر چکے ہیں، یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے، زندگی کے ہر شعبہ میں، اپنی شریعت کے ذریعہ سے جو حدود قائم فرما دیے ہیں، بندہ ان کا پورا احترام کرے اور ان کی خلاف ورزی سے برابر ڈرتا رہے۔ جو لوگ ان حدود کی خلاف ورزی میں بے باک ہو جاتے ہیں بالآخر وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی زد میں آ جاتے ہیں۔
      ’وَاَطِیْعُوۡنِ‘۔ یعنی اپنے مفسد لیڈروں کی اطاعت چھوڑ کر میری اطاعت کرو۔
      آگے اسی سورہ میں ان مفسد لیڈروں کا ذکر آ رہا ہے۔ حضرت نوحؑ نے قوم کو یہ آگاہی بھی دی کہ تمہارے لیڈر تمہیں خدا کے عذاب کی طرف لے جا رہے ہیں۔ اگر اس عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو ان کی پیروی چھوڑو اور میں جس راہ کی دعوت دے رہا ہوں اس کو اختیار کرو۔
      حضرت نوحؑ کی دعوت کے تین ارکان: حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کے تین بنیادی ارکان اس آیت میں بیان ہوئے ہیں: توحید، شریعت الٰہی کی پابندی اور رسول کی اطاعت ۔۔۔ انہی تین ارکان پر تمام رسولوں کی دعوت مبنی رہی ہے۔ انہی کے استحکام پر دین کے استحکام کا انحصار ہے۔ جب تک کوئی قوم ان پر استوار رہتی ہے اس کے قدم جادۂ مستقیم پر استوار رہتے ہیں۔ جہاں اس سے قدم ہٹے اس کی راہ کج ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اصل راہ سے اتنی دور ہو جاتی ہے کہ اس کے لیے بازگشت کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ پھر وہ بہتر سے بہتر ناصحوں کی نصیحت بھی ٹھکرا دیتی ہے اور بالآخر خدا کے عذاب کی گرفت میں آ جاتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (میں تمھیں دعوت دیتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اُس کے حدود کے پابند رہو اور میری بات مانو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’تَقْوٰی‘ استعمال ہوا ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں اِس کے معنی زندگی کے تمام معاملات میں حدودالٰہی کی پابندی کرنے کے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ تمہارے (پچھلے گناہ) معاف کر دے گا اور تم کو مہلت دے گا ایک معین مدت تک۔ بے شک اللہ کی مقرر کی ہوئی مدت جب آ جائے گی تو وہ ٹالے نہیں ٹلے گی۔ کاش کہ تم اس کو سمجھتے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زبان کی ایک بحث: یعنی اگر تم نے میری یہ تینوں باتیں مان لیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے ان جرائم کو معاف کر دے گا جن کے سبب سے تم مستحق عذاب قرار پائے ہو اور ایک معین مدت تک کے لیے تم کو اس دنیا میں کھانے بلسنے کی مہلت مل جائے گی۔
      ’یَغْفِرْ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوبِکُمْ‘ میں حرف ’مِنْ‘ کو بعض لوگوں نے زائد قرار دیا ہے اور بعض لوگوں نے اس کو ’عَنْ‘ کے معنی میں لیا ہے لیکن یہ دونوں رائیں عربیت کے خلاف ہیں۔ قرآن میں کوئی حرف بھی زائد نہیں ہے۔ اگر کہیں کوئی حرف بظاہر زائد نظر آتا ہے تو وہ بھی زبان کے معروف ضابطہ کے تحت کسی خلا کو بھرنے کے لیے آیا ہے۔ اس طرح کے حروف مخصوص ہیں۔ ہر حرف کو بغیر کسی سند کے زائد نہیں قرار دیا جا سکتا۔ ’مِنْ‘ کے زائد آنے کی کوئی مثال قرآن یا مستند کلام میں موجود نہیں ہے۔
      اسی طرح اس کو ’عَنْ‘ کے معنی میں لینا بھی ایک بالکل بے سند بات ہے۔ اول تو اس کے ’عَنْ‘ کے معنی میں آنے کی کوئی قابل اعتماد مثال موجود نہیں ہے اور ہو بھی تو ’غفر‘ کا صلہ ’عَنْ‘ کے ساتھ نہیں آتا۔ آپ دعا میں کہتے ہیں: ’رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا‘ یوں نہیں کہتے کہ ’اِغْفِرْلَنَا عَنْ ذُنُوْبِنَا‘۔ اگر یوں کہیں گے تو اس کو صحیح ثابت کرنے کے لیے یہ تاویل کرنی پڑے گی کہ یہاں ’غفر‘ لفظ ’صفح‘ یا اس کے ہم معنی کسی ایسے لفظ پر متضمن ہے جس کا صلہ ’عَنْ‘ کے ساتھ آتا ہے۔ اس کے بغیر ’غفر‘ کے ساتھ ’عَنْ‘ کا استعمال عربیت کے خلاف ہو گا۔
      میرے نزدیک یہاں ’مِنْ‘ اپنے معروف معنی یعنی تبعیض ہی کے لیے آیا ہے۔ پوری بات گویا یوں ہے کہ

      ’یَغْفِرْلَکُمْ مَّا تَقَدَّمَ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ‘
      (اگر تم میری باتیں مان لو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے وہ سارے گناہ معاف فرما دے گا جو اب تک تم سے صادر ہوئے ہیں)۔

      یہاں وضاحت قرینہ کی بنا پر ’مَا تَقَدَّمَ‘ کے الفاظ حذف ہو گئے ہیں اس لیے کہ یہ بات معلوم بھی ہے اور عقلاً معقول بھی کہ کفر کے بعد ایمان کی زندگی اختیار کرنے سے آدمی کے وہ گناہ، معاف ہو جاتے ہیں جو جاہلیت کی زندگی میں اس سے صادر ہوئے ہوتے ہیں۔ رہے وہ گناہ جن کا ارتکاب آدمی ایمان کی زندگی اختیار کرنے کے بعد کرتا ہے تو ان کے معاف ہونے کے لیے ایک مخصوص ضابطہ ہے جو آیت ’إِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِن قَرِیْبٍ فَأُولٰٓئِکَ یَتُوْبُ اللّہُ عَلَیْْہِمْ وَکَانَ اللّہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا‘ (النساء ۴: ۱۷) میں بیان ہوا ہے اور جس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ اس آیت میں حرف ’مِنْ‘ اسی حقیقت کے اظہار کے لیے آیا ہے کہ اگر تم اس دعوت کو قبول کر کے ایمان میں داخل ہو جاؤ گے تو دور جاہلیت کے تمہارے سارے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ اگر یہ ’مِنْ‘ یہاں نہ ہوتا تو آیت کے یہ معنی بھی نکل سکتے تھے کہ تمہارے تمام اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ درآنحالیکہ یہ بات صحیح نہیں ہے اس لیے کہ کفر کے بعد ایمان صرف پچھلے گناہوں ہی کا ہادم بنتا ہے، آگے کے گناہوں کا ہادم نہیں بنتا۔
      اس دنیا کی ہر فرصت فانی ہے: ’وَیُؤَخِّرْکُمْ إِلٰی أَجَلٍ مُّسَمًّی‘۔ یعنی میری یہ تینوں باتیں مان لو گے تو اللہ تعالیٰ اس عذاب کو، جس سے میں ڈرا رہا ہوں، ٹال دے گا اور تمہیں اس دنیا میں جینے اور کھانے بلسنے کی ایک معین مدت تک مہلت دے دے گا۔
      ’معین مدت‘ کی قید اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ اس دنیا میں کوئی مہلت بھی غیر محدود نہیں ہے۔ یہ دنیا اور اس کی ہر چیز وقتی اور فانی ہے۔ آدمی ایمان و عمل صالح کی زندگی گزارے جب بھی اس کو یہاں غیر محدود زندگی نہیں مل جاتی بلکہ لازماً وہ ایک دن اپنی جان جان آفریں کے حوالہ کرتا ہے۔ البتہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے کسی عذاب سے نہیں ہلاک ہوتا بلکہ وہ اپنی مہلت حیات سے بہرہ مند ہونے کی فرصت پاتا ہے۔ اسی طرح کوئی قوم اگر ایمان، تقویٰ اور اطاعت رسول کی زندگی اختیار کرتی ہے تو اس کو بھی اللہ تعالیٰ اسی وقت تک بہرہ مند رکھتا ہے جب تک وہ ایمان و تقویٰ پر استوار رہتی ہے۔ جوں ہی وہ اس سے منحرف ہوتی ہے اس پر زوال کے آثار طاری ہونے شروع ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ جب اس کا اخلاقی زوال اس نقطہ پر پہنچ جاتا ہے جو آخری ہے تو اس کی ’اجل مسمّی‘ پوری ہو جاتی ہے اور قومی حیثیت سے اس کا وجود صفحۂ ارض سے مٹ جاتا ہے۔ یہی حال اس مجموعی دنیا کا بھی ہے۔ اس کی مدت بھی معین و مقرر ہے۔ ایک دن آئے گا جب اس دارالامتحان کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور ایک نیا عالم نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ ظہور میں آئے گا جس کو دار آخرت کہتے ہیں۔
      حضرت نوح علیہ السلام نے یہاں اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس دنیا کی ہر فرصت بہرحال محدود اور فانی ہے۔ نیک اور بد دونوں ہی اس کو ہمیشہ مستحضر رکھیں۔ جو اس کو مستحضر رکھیں گے وہی اس زندگی کی مہلت سے فائدہ اٹھائیں گے۔ جو اس کو بھول جائیں گے ان کے لیے یہ دنیا سرتاسر وبال اور خسران ہے۔
      ’لَوْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ‘۔ اس زندگی کی فوز و فلاح کا اصل راز اسی نکتہ کے اندر مضمر ہے لیکن اس کو سمجھنے والے بہت تھوڑے ہیں اس وجہ سے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی اس تمنا کا اظہار فرمایا کہ کاش! تم لوگ اس کو جانتے اور سمجھتے!
      اس آیت میں جو سنت الٰہی بیان ہوئی ہے اس کا حوالہ سورۂ نحل آیت ۶۱ میں بھی گزر چکا ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے نتیجے میں) اللہ تمھارے (وہ) گناہ معاف فرمائے گا (جو اِس سے پہلے تم سے ہوئے ہیں)، اور تمھیں ایک مقرر وقت تک مہلت دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا۔ اے کاش، تم (اِس کو) سمجھتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’مِنْ ذُنُوْبِکُمْ‘ ہے۔ اِس سے پہلے ’مَا تَقَدَّمَ‘ کے الفاظ وضاحت قرینہ کی بنا پر حذف ہو گئے ہیں۔ ہم نے ترجمے میں اُنھیں کھول دیا ہے۔
      یعنی اُس وقت تک مہلت دے گا جوافراد اور قوموں کی موت و حیات کے لیے اُس نے مقرر کر رکھی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’’معین مدت‘کی قید اِس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ اِس دنیا میں کوئی مہلت بھی غیر محدود نہیں ہے۔ یہ دنیا اور اِس کی ہر چیز وقتی اور فانی ہے۔ آدمی ایمان و عمل صالح کی زندگی گزارے، جب بھی اُس کو یہاں غیر محدود زندگی نہیں مل جاتی، بلکہ لازماً وہ ایک دن اپنی جان جان آفرین کے حوالے کرتا ہے۔البتہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے کسی عذاب سے نہیں ہلاک ہوتا، بلکہ وہ اپنی مہلت حیات سے بہرہ مند ہونے کی فرصت پاتا ہے۔ اِسی طرح کوئی قوم اگر ایمان، تقویٰ اور اطاعت رسول کی زندگی اختیار کرتی ہے تو اُس کو بھی اللہ تعالیٰ اُسی وقت تک بہرہ مند رکھتا ہے، جب تک وہ ایمان و تقویٰ پر استوار رہتی ہے۔ جوں ہی وہ اِس سے منحرف ہوتی ہے، اُس پر زوال کے آثار طاری ہونے شروع ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب اُس کا اخلاقی زوال اُس نقطہ پر پہنچ جاتا ہے جو آخری ہے تو اُس کی ’اَجَلٌ مُّسَمًّی‘ پوری ہو جاتی ہے اور قومی حیثیت سے اُس کا وجود صفحۂ ارض سے مٹ جاتا ہے۔ یہی حال اِس مجموعی دنیا کا بھی ہے۔ اِس کی مدت بھی معین و مقرر ہے۔ ایک دن آئے گا، جب اِس دارالامتحان کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور ایک نیا عالم نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ ظہور میں آئے گا، جس کو دار آخرت کہتے ہیں۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۵۹۳)

       

    • امین احسن اصلاحی نوح نے اپنے رب سے دعا کی، اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو شب و روز پکارا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت نوحؑ کی دعوت کا دوسرا مرحلہ: یہاں سے حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کے دوسرے مرحلہ کا بیان آ رہا ہے جب آپ نے اپنے رب سے استغاثہ کیا ہے کہ ان کی شب و روز کی ساری تگ و دو جو دعوت کی راہ میں انھوں نے کی وہ قوم پر بالکل بے اثر رہی۔ یہ امر واضح رہے کہ جتنی طویل مدت تک حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت دی ہے اس کی کوئی مثال معلوم نہیں ہے۔ قرآن میں تصریح ہے کہ

      ’فَلَبِثَ فِیْہِمْ أَلْفَ سَنَۃٍ إِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا‘ (العنکبوت ۲۹: ۱۴)
      (پس وہ اپنی قوم کے اندر پچاس سال کم ایک ہزار سال رہا)۔

      ’دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْْلاً وَنَہَارًا‘ کے الفاظ میں بھی ظاہر ہے کہ کسی مبالغے کا شائبہ نہیں ہو سکتا۔ رسول چونکہ اپنی قوم کے لیے عدالت بن کر آتا ہے، اس کی تصدیق یا تکذیب ہی پر اس کی قوم کی زندگی یا موت کا انحصار ہوتا ہے اس وجہ سے یوں تو ہر رسول نے دعوت کی راہ میں اپنے رات دن ایک کر دیے ہیں اور اپنی طاقت کا ایک ایک قطرہ نچوڑ دیا ہے لیکن حضرت نوح علیہ السلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ آپ نے جتنی طویل مدت تک اپنی قوم کو جھنجھوڑا اور جگایا، اس کی کوئی مثال، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، موجود نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کا جو حاصل رہا وہ خود آپؑ ہی کے الفاظ میں یہ ہے کہ

      ’فَلَمْ یَزِدْہُمْ دُعَاءِیْ إِلَّا فِرَاراً‘
      (جتنا ہی زیادہ میں نے ان کو پکارا وہ اتنا ہی زیادہ مجھ سے بھاگے)۔

      یہ گریز و فرار ظاہر ہے کہ اس وجہ سے نہیں تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت میں کوئی بات عقل و فطرت کے خلاف تھی یا ان کی قوم کے لوگوں کو ان کے خلوص اور ان کی راست بازی میں کوئی شبہ تھا۔ ان کی دعوت کی معقولیت بھی ہر شخص پر واضح تھی اور ان کی صداقت کا بھی ہر شخص اپنے دل میں معترف تھا لیکن ان کی دعوت چونکہ نفس کی خواہشوں کے خلاف تھی اور اس کے قبول کرنے سے قوم کے لیڈروں کے استکبار پر چوٹ پڑتی تھی اس وجہ سے حضرت نوح علیہ السلام نے جتنا ہی ان کا تعاقب کیا اتنا ہی وہ بھاگے۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ حضرت نوحؑ کی باتوں کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور اپنی زندگی کو بدلنا ان کے لیے ناممکن ہے تو سلامتی گریز و فرار ہی میں ہے تاکہ اپنے مجرم ضمیر کو احساس جرم کی اذیت سے بچا سکیں۔ اگرچہ یہ تدبیر ایک اوچھی تدبیر ہے لیکن حقیقت سے فرار اختیار کرنے والوں کے پاس اس کے سوا کوئی دوسری تدبیر اور کیا ہو سکتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (وہ یہی دعوت دیتا رہا، مگر وہ لوگ نہیں مانے۔ یہاں تک کہ) اُس نے کہا: میرے مالک، میں نے اپنی اِس قوم کو شب و روز پکارا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی لیکن میری پکار نے ان کے گریز ہی میں اضافہ کیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رسول چونکہ اپنی قوم کے لیے عدالت بن کر آتا ہے، اس کی تصدیق یا تکذیب ہی پر اس کی قوم کی زندگی یا موت کا انحصار ہوتا ہے اس وجہ سے یوں تو ہر رسول نے دعوت کی راہ میں اپنے رات دن ایک کر دیے ہیں اور اپنی طاقت کا ایک ایک قطرہ نچوڑ دیا ہے لیکن حضرت نوح علیہ السلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ آپ نے جتنی طویل مدت تک اپنی قوم کو جھنجھوڑا اور جگایا، اس کی کوئی مثال، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، موجود نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کا جو حاصل رہا وہ خود آپؑ ہی کے الفاظ میں یہ ہے کہ

      ’فَلَمْ یَزِدْہُمْ دُعَاءِیْ إِلَّا فِرَاراً‘
      (جتنا ہی زیادہ میں نے ان کو پکارا وہ اتنا ہی زیادہ مجھ سے بھاگے)۔

      یہ گریز و فرار ظاہر ہے کہ اس وجہ سے نہیں تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت میں کوئی بات عقل و فطرت کے خلاف تھی یا ان کی قوم کے لوگوں کو ان کے خلوص اور ان کی راست بازی میں کوئی شبہ تھا۔ ان کی دعوت کی معقولیت بھی ہر شخص پر واضح تھی اور ان کی صداقت کا بھی ہر شخص اپنے دل میں معترف تھا لیکن ان کی دعوت چونکہ نفس کی خواہشوں کے خلاف تھی اور اس کے قبول کرنے سے قوم کے لیڈروں کے استکبار پر چوٹ پڑتی تھی اس وجہ سے حضرت نوح علیہ السلام نے جتنا ہی ان کا تعاقب کیا اتنا ہی وہ بھاگے۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ حضرت نوحؑ کی باتوں کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور اپنی زندگی کو بدلنا ان کے لیے ناممکن ہے تو سلامتی گریز و فرار ہی میں ہے تاکہ اپنے مجرم ضمیر کو احساس جرم کی اذیت سے بچا سکیں۔ اگرچہ یہ تدبیر ایک اوچھی تدبیر ہے لیکن حقیقت سے فرار اختیار کرنے والوں کے پاس اس کے سوا کوئی دوسری تدبیر اور کیا ہو سکتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی لیکن میری پکار سے یہ اور زیادہ بھاگتے ہی رہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ دعوت کی راہ میں کم و بیش نو ساڑھے نوسو سال کی جدوجہد کے بعد اُس مرحلے کا بیان ہے، جب سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے استغاثہ کیا کہ اُن کی یہ جدوجہد بالکل بے اثر رہی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور میں نے جب جب ان کو توبہ کی دعوت دی کہ تو ان کو بخشے تو انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں، اپنی چادریں اپنے اوپر لپیٹ لیں، اپنی ضد پر اڑ گئے اور نہایت گھمنڈ کا اظہار کیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دعوت سے قوم کے فرار کی تصویر: یہ قوم کے گریز و استکبار کی تصویر ہے اور پیش نظر قوم کے مستکبرین ہیں۔ فرمایا کہ میں نے جب جب ان کو پکارا کہ وہ توبہ و استغفار کریں تاکہ تو ان کی مغفرت فرمائے تو انھوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں، اپنے اوپر اپنی چادریں لپیٹ لیں، اپنی بات پر اڑ گئے اور نہایت گھمنڈ کا اظہار کیا۔
      ’دَعَوْتُہُمْ لِتَغْفِرَ لَہُمْ‘ میں کلام کا کچھ حصہ بتقاضائے بلاغت حذف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ جب جب میں نے لوگوں کو توبہ و استغفار کی دعوت دی تاکہ وہ استغفار کر کے تیری مغفرت کے مستحق بنیں تو انھوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں۔ لیکن یہ بات یوں کہنے کے بجائے حضرت نوح علیہ السلام نے فعل کی جگہ ثمرۂ فعل کو رکھ دیا ہے تاکہ قوم کی بدبختی و محرومی پوری طرح واضح ہو جائے کہ میں نے تو ان کو تیری رحمت و مغفرت کا حق دار بنانے کے لیے بلایا لیکن یہ ایسے شامت کے مارے نکلے کہ انھوں نے میری بات سننی ہی گوارا نہ کی۔
      ’وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَہُمْ‘۔ یہ لیڈروں کے غرور و استکبار کی تصویر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جوں ہی انھوں نے میری بات سنی نہایت بیزاری کے ساتھ اپنے اوپر اپنی چادر لپیٹی اور وہاں سے چل دیے۔
      ’وَاَصَرُّوْا وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا‘۔ ’اَصَرُّوْا‘ کے بعد بھی مصدر محذوف ہے۔ یعنی ’اَصَرُّوْا اِصْرَارًا‘ چونکہ ’اِسْتَکْبَرُوْا‘ کے بعد مصدر کی وضاحت ہو گئی ہے اس وجہ سے ایک جگہ اس کو حذف کر دیا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ میری دعوت استغفار قبول کرنے کے بجائے اپنے شرک و عصیان ہی پر جم گئے۔ اس کی وضاحت آیت ۲۲ میں آ رہی ہے۔
      استکبار کا مفہوم: ’اِسْتِکْبَارٌ‘ کا مفہوم جانتے بوجھتے حق کی مخالفت اور اس کے مقابل میں سرکشی ہے۔ حق چھوٹا ہو یا بڑا خدا کو محبوب و مطلوب ہے اس وجہ سے بندے کا فرض یہی ہے کہ اس کے آگے سر جھکا دے اگرچہ یہ نفس پر کتنا ہی شاق کیوں نہ گزرے۔ اگر کوئی شخص حق کے مقابل میں اکڑ دکھائے تو وہ سنت ابلیس کا پیرو ہے اور وہ اسی کا ساتھی بنے گا۔
      یہ استکبار کا ذکر ان کی ان حرکتوں کی اصل علت کی حیثیت سے ہوا جو اس سے پہلے مذکور ہوئی ہیں۔ یعنی کانوں میں انگلیاں دے لینا، اپنے اوپر اپنی چادریں لپیٹ لینا اور اپنے شرک پر اڑ جانا اس وجہ سے ہوا کہ ان کے اندر سخت استکبار تھا جس کا انھوں نے مظاہرہ کیا۔

      جاوید احمد غامدی میں نے جب بھی اِنھیں بلایا، اِس لیے کہ (اِن کے پلٹنے پر) تو اِنھیں معاف فرمائے تو اِنھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنی چادریں لپیٹ لیں اور اپنی ضد پر اَڑ گئے اور بڑا غرور دکھایا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ الفاظ اصل میں بہ تقاضاے بلاغت حذف ہیں۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...حضرت نوح علیہ السلام نے فعل کی جگہ ثمرۂ فعل کو رکھ دیا ہے تاکہ قوم کی بدبختی و محرومی پوری طرح واضح ہو جائے کہ میں نے تو اِن کو تیری رحمت و مغفرت کا حق داربنانے کے لیے بلایا، لیکن یہ ایسے شامت کے مارے نکلے کہ اِنھوں نے میری بات سننی ہی گوارا نہ کی۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۵۹۵)

      یہ لیڈروں کے غرور و تکبر کی تصویر ہے کہ اُنھوں نے جوں ہی یہ بات سنی، نہایت بے زاری کے ساتھ اپنی چادر لپیٹی اور چل دیے۔
      اصل میں ’اَصَرُّوْا وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا‘ کے جو الفاظ اِس مفہوم کے لیے آئے ہیں، اُن میں ’اَصَرُّوْا‘ درحقیقت ’اَصَرُّوْا اِصْرَارًا‘ ہے۔ ’اِسْتَکْبَرُوا‘ کے بعد چونکہ مصدر کی وضاحت ہو گئی ہے، اِس لیے یہاں اِسے حذف کر دیا ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی پھر میں نے ان کو ڈنکے کی چوٹ پکارا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دعوت کا تیسرا مرحلہ: یہ نہایت بلیغ الفاظ میں حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی دعوت کے تیسرے مرحلہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جب میں نے دیکھا کہ انھوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی ہیں اور اپنے اوپر اپنی چادریں بھی لپیٹ لی ہیں تو میں نے بھی اپنی دعوت کے لب و لہجہ کو تیز سے تیز تر اور بلند سے بلند تر کر دیا۔ ع

      حدی را تیز ترمی خواں چو محمل را گراں بینی!

      حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کا طریق دعوت یہی رہا ہے کہ ان کی قوم کی بیزاری دعوت سے جتنی ہی بڑھتی گئی ہے اتنا ہی ان کا جوش دعوت مضاعف، ان کا لب و لہجہ بلند، جھنجھوڑنے والا اور پرجوش ہوتا گیا ہے۔ حق اور اہل حق کی فطرت یہی ہے۔ مزاحمت کی شدت حق کی سطوت کو نمایاں کرتی اور اہل حق کے ولولہ کو دبانے کے بجائے ابھارتی ہے۔ ع

      رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور

       

      جاوید احمد غامدی پھر میں نے اِن کو کھلم کھلا دعوت دی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      انذار کے بعد یہ مرحلۂ انذارعام کا بیان ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پھر میں نے ان کو کھلم کھلا بھی سمجھایا اور چپکے چپکے بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ثُمَّ إِنِّیْٓ اَعْلَنْتُ لَہُمْ وَأَسْرَرْتُ لَہُمْ إِسْرَارًا‘۔ یعنی جہاں ڈنکے کی چوٹ بات کہنے کی ضرورت ہوئی وہاں میں نے بے دریغ ڈنکے کی چوٹ اپنی بات سنائی تاکہ بہروں تک بھی میری آواز پہنچ جائے اور جہاں دیکھا کہ ان کے اندر گھس کر کچھ سنانے سمجھانے کا موقع ہے تو میں نے یہ طریقہ بھی آزمایا تاکہ جن میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہے وہ چاہیں تو فیصلہ کی گھڑی آنے سے پہلے پہلے اپنے انجام کی فکر کر لیں۔ غرض میں نے نرم و گرم اور پوشیدہ و علانیہ ہر پہلو سے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کی ہے تاکہ فرض بلاغ میں کوئی کوتاہی نہ رہ جائے۔
      ’اَعْلَنْتُ لَہُمْ‘ کے بعد بھی میرے نزدیک مصدر محذوف ہے جس طرح اوپر ’اَصَرُّوْا‘ کے بعد محذوف ہے۔

      جاوید احمد غامدی پھر ہانکے پکارے بلایا اور چپکے چپکے بھی سمجھایا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’ثُمَّ اِنِّیْٓ اَعْلَنْتُ‘ ۔اِن کے بعد بھی مصدر اُسی طرح محذوف ہے، جس طرح اوپر ’اَصَرُّوْا‘ کے بعد محذوف ہے۔

    • امین احسن اصلاحی میں نے کہا، اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، بے شک وہ بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دعوت میں دل سوزی: یہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی اس دعوت کی وضاحت فرمائی ہے جو نہایت دل سوزی اور محبت سے انھوں نے اپنی قوم کو دی۔ فرمایا کہ میں نے ان کو سمجھایا کہ لوگو، اپنے رب سے اپنے گناہوں کی مغفرت مانگو۔ ہر چند تمہارے گناہ بہت ہیں لیکن اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ وہ بڑا ہی مغفرت فرمانے والا ہے۔
      ’اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا‘ میں یہ مضمون بھی مضمر ہے کہ اس کی مغفرت حاصل کرنے کے لیے اس کی طرف تمہارا رجوع ہی کافی ہے، تمہارے مزعومہ دیویوں دیوتاؤں کی سفارش کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بڑا ہی غفار ہے۔ صدق دل سے مغفرت مانگنے والوں کو کسی سفارش کے بغیر وہ خود ہی اپنے دامن رحمت میں چھپا لیتا ہے۔
      خدا سے بڑا کوئی غفار نہیں کہ اس کی سفارش چاہی جائے: یہ امر یہاں واضح رہے کہ ہر دور کے مشرکین اس غلط فہمی میں بھی مبتلا رہے ہیں کہ خدا کی سرکار چونکہ بہت بلند ہے اس وجہ سے جب تک کچھ سفارشی نہ ہوں ہر شخص کے لیے اس سے اپنی التجا و درخواست منظور کرانا ممکن نہیں ہے۔

      ’مَا نَعْبُدُہُمْ إِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَا إِلَی اللہِ زُلْفٰی‘ (الزمر ۳۹: ۳)
      (ہم تو ان معبودوں کو صرف اس لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہم کو خدا سے قریب تر کر دیں)

      ان کے اسی خیال کی ترجمانی ہے۔ قرآن نے ان کے اس وہم کی مختلف پہلوؤں سے تردید کی ہے۔ یہاں ’اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا‘ میں بھی اس کی تردید ہے کہ جب وہ خود ہی سب سے بڑا مغفرت فرمانے والا ہے تو اس سے بڑا غفار کون ہے جس کو اس کے پاس کوئی سفارشی بنا کر لے جائے گا۔

      جاوید احمد غامدی اِس طرح کہ میں نے کہا: اپنے رب سے معافی مانگ لو۔ بے شک، وہ بڑا معاف کر دینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ اُس کی مغفرت حاصل کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم صدق دل سے اُس کی طرف رجوع کرو۔ اُس سے بڑا کوئی معاف کرنے والا نہیں ہے کہ جس کی سفارش لے کر اُس کے حضور میں جانے کی ضرورت ہو۔

    • امین احسن اصلاحی وہ تم پر اپنے ابر رحمت کے دونگڑے برسائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      استغفار کی برکت: ’یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْْکُمۡ مِّدْرَارًا‘۔ لفظ ’سَمَآءٌ‘ جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہو چکی ہے، ابرباراں کے لیے بھی آتا ہے۔ ’مِدْرَارًا‘ کے معنی ’کثیر الدر‘ یعنی خوب برسنے والے کے ہیں۔ یہ مذکر و مؤنث دونوں کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا استغفار تمہارے رب کی رحمت کو جوش میں لائے گا اور وہ تمہیں رزق کی فراوانی اور مال و اولاد کی کثرت سے بہرہ مند کرے گا۔
      مشرکین کے بعض اوہام کی تردید: مشرکین اس وہم میں بھی مبتلا تھے کہ بارش ان کے دیوتا برساتے ہیں اور اولاد ان کی برکت و عنایت سے ملتی ہے اس وجہ سے وہ ان کے خلاف ایک لفظ بھی کہنے یا سننے سے بہت ڈرتے تھے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ اشارہ ہے کہ انھوں نے رسولوں کی مخالفت اس اندیشہ کی بنا پر بھی کی ہے کہ وہ بتوں کی ہجو کرتے ہیں جس سے وہ ناراض ہو جائیں گے اور اپنی عنایات سے خلق کو محروم کر دیں گے۔ یہاں تک کہ رسولوں کے دور میں اگر انھیں کوئی آزمائش پیش آئی تو اس کو انھوں نے العیاذ باللہ رسول اور اس کے ساتھیوں ہی کی نحوست پر محمول کیا کہ انھوں نے دیوتاؤں کو ناراض کر دیا ہے اس وجہ سے فلاں افتاد پیش آئی ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے اس ارشاد سے ان کے اس وہم پر بھی ضرب لگائی کہ بارش اور مال و اولاد کے خزانوں پر تمہارے دیوی دیوتا قابض نہیں ہیں کہ تم نے ان کو چھوڑ دیا تو وہ تم کو ان نعمتوں سے محروم کر دیں گے۔ ان سب چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور اس کی رحمت توبہ و استغفار سے حاصل ہوتی ہے۔ تم یہ کام کرو اور پھر دیکھو کہ کس طرح اس کی رحمت کی گھٹائیں امنڈ امنڈ کر آتیں اور تم پر برستی ہیں! سورۂ ہود آیت ۵۲ میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔
      یہاں حکمت دین کا ایک نکتہ بھی حرزجاں بنانے کے لائق ہے جو سیدنا عمر فاروقؓ کے افادات سے ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ نماز استسقاء میں صرف استغفار پر کفایت فرمائی، دعا میں بارش کا کوئی ذکر نہیں آیا۔ لوگوں نے پوچھا کہ امیرالمومنین! آپ نے دعا میں بارش کا تو کوئی ذکر کیا ہی نہیں! امیر المومنینؓ نے انہی آیات کی روشنی میں لوگوں کو بتایا کہ خدا کی رحمت کی کلید استغفار ہے اور یہ کام ہم نے کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ استغفار ہی جالب رحمت بنے گا۔ ہماری ضرورت اور احتیاج کو ہمارا رب خود ہم سے بہتر جانتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے نتیجے میں) وہ تم پر چھاجوں مینہ برسائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا‘۔ ’مِدْرَارًا‘ کے معنی ’کثیر الدر‘، یعنی خوب برسنے والے کے ہیں اور لفظ ’سَمَآء‘ ابر باراں کے لیے آیا ہے۔ عربی زبان میں یہ اِس معنی کے لیے بھی آتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور مال و اولاد سے تمہیں فروغ بخشے گا اور تمہارے واسطے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اسی اوپر والے مضمون کی یہ مزید توسیع ہے کہ مال، اولاد، باغ اور نہریں سب خدا ہی کے دیے ملتی ہیں۔ اگر تم توبہ و استغفار سے اپنے رب کو راضی رکھو گے تویہ ساری چیزیں تمہیں ملیں گی۔ ان میں سے کوئی چیز بھی تمہارے یہ دیوی دیوتا نہیں دیتے کہ وہ راضی نہ رہے تو نہیں دیں گے یا دے کر چھین لیں گے۔
      ہٹ دھرموں کی بلادت پر اظہار تعجب: ’وَیَجْعَلۡ لَّکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلۡ لَّکُمْ أَنْہَارًا‘ میں فعل کے اظہار اور اس کی تکرار سے ان نعمتوں کی گراں قدری اور محبوبیت کا جو مضمون پیدا ہوتا ہے وہ عربیت کا ذوق رکھنے والوں سے مخفی نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور مال و اولاد سے تم کو برکت دے گا اور تمھارے لیے باغ اگائے گا اور تمھارے لیے نہریں بہا دے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس سنت الٰہی کا بیان ہے جو رسولوں کی دعوت قبول کر لینے والوں کے لیے لازماً ظاہر ہوتی ہے۔ آیت میں ’یَجْعَلْ لَّکُمْ‘ کی تکرار سے اِن نعمتوں کی گراں قدری کا جو مضمون پیدا ہوتا ہے، وہ عربیت کا ذوق رکھنے والوں سے مخفی نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم خدا کی عظمت کے ظہور کے متوقع نہیں ہو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ قوم کے ہٹ دھرموں کی بلادت پر اظہار تعجب ہے کہ میں جو تمہیں اس طرح ٹوٹ ٹوٹ کر استغفار کی دعوت دے رہا ہوں تو آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم کانوں میں تیل ڈالے پڑے ہو اور میری سنی ان سنی کیے دے رہے ہو! کیا تم سمجھتے ہو کہ تم اسی طرح اپنی دلچسپیوں میں مگن رہو گے اور جس رب نے تمہیں یہ سب کچھ دے رکھا ہے اس کا جلال، تمہاری بدمستیوں کے باوجود کبھی ظہور میں نہیں آئے گا! مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے ایسا سمجھ رکھا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تمہاری نگاہوں میں اس کی عظمت و جلالت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ تم اس کو العیاذ باللہ بالکل بے حس، بے حمیت اور بے بس خیال کیے بیٹھے ہو کہ اس کی دنیا میں جو دھاندلی چاہو مچاتے پھرو لیکن اس کی غیرت و حمیت کبھی جوش میں نہیں آئے گی۔ بعینہٖ یہی مضمون

      ’مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ‘ (الانفطار ۸۲: ۶)
      (اے انسان! تجھ کو تیرے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے)

      والی آیت میں بیان ہوا ہے۔ یعنی انسان جب اپنے دائیں بائیں نعمتوں کے انبار دیکھتا ہے اور یہ بھی دیکھتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے لیکن اس کی پکڑ نہیں ہو رہی ہے تو وہ آہستہ آہستہ ڈھیٹ ہو کر خدا کی پکڑ سے بالکل نچنت ہو جاتا ہے۔ حالانکہ وہ سونچتا تو آسانی سے سمجھ سکتا تھا کہ خدا نے اس کے لیے اپنی کریمی کی یہ شانیں دکھائی ہیں تو اس لیے نہیں دکھائی ہیں کہ وہ اس کی دنیا میں دھاندلی مچائے بلکہ ان نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے رب کا شکرگزار اور اس امر کا منتظر رہے کہ ایک دن ان نعمتوں کے باب میں اس سے پرسش ہونی ہے اور اس دن ناشکروں اور نافرمانوں کو اس کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔
      ’تَرْجُوْنَ‘ کے معنی یہاں منتظر اور متوقع رہنے کے اور ’وقار‘ کے معنی عظمت، شان اور جلال کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ میں جمال کی صفات کے ساتھ جلال کی صفات بھی ہیں جو ان لوگوں کے لیے ظاہر ہوتی ہیں جو اس کے رسولوں کی نافرمانی کرتے اور اس کے آگے اکڑتے ہیں۔ صراط مستقیم پر استوار رہنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان ان دونوں ہی قسموں کی صفات کی یادداشت تازہ رکھے۔ اگر ان میں عدم توازن پیدا ہو جائے تو آدمی کا ذہن صفات الٰہی کے باب میں غیر متوازن ہو جاتا ہے جس سے اس کی ساری زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ یہاں خطاب چونکہ سرکشوں سے ہے اس وجہ سے صرف صفت جلال ہی کا حوالہ دیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی تمھیں کیا ہو گیا ہے، تم اللہ کے لیے کسی شان کی توقع نہیں رکھتے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس بات کی توقع نہیں رکھتے کہ تمھاری بد مستیوں کے باوجود اُس کا جلال کبھی ظہور میں آئے گا اور اُس کی دنیا میں جوفساد تم برپا کر رہے ہو، اُس پر وہ تمھارا محاسبہ کرے گا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے ایسا سمجھ رکھا ہے تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ تمھاری نگاہوں میں اُس کی عظمت و جلالت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ تم اُس کو العیاذ باللہ بالکل بے حس، بے حمیت اور بے بس خیال کیے بیٹھے ہو کہ اُس کی دنیا میں جو دھاندلی چاہو، مچاتے پھرو، لیکن اُس کی غیرت و حمیت کبھی جوش میں نہیں آئے گی۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۵۹۸)

       

    • امین احسن اصلاحی حالانکہ اس نے تم کو خِلقت کے مختلف مراحل سے گزارا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عظمت الٰہی کے ظہور کی دلیل: یہ دلیل ہے اس بات کی کہ خدا کی عظمت کے ظہور کا دن کوئی مستبعد اور ناممکن چیز نہیں ہے۔ فرمایا کہ اگر تم اپنی ہی خلقت کے تمام مراحل پر غور کرو تو نہایت آسانی سے سمجھ سکتے ہو کہ جس خدا نے خود تمہارے وجود کے اندر اپنی قدرت کی یہ شانیں دکھائی ہیں اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ تمہارے مر کھپ جانے کے بعد ازسرنو تمہیں اٹھا کھڑا کرے اور تم اپنی آنکھوں سے اس کا جلال دیکھو کہ سرکشوں اور باغیوں کو وہ کس طرح کیفر کردار کو پہنچاتا ہے۔ یہ دلیل بعینہٖ اسی سیاق و سباق میں، قیامت ہی کے اثبات کے پہلو سے، قرآن کے دوسرے مقامات میں نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے۔ سورۂ حج میں فرمایا ہے:

      یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمْ فِیْ رَیْْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَغَیْرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمْ وَنُقِرُّ فِی الْأَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰٓی أَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَبْلُغُوۡا أَشُدَّکُمْ وَمِنْکُم مَّنْ یُتَوَفّٰی وَمِنْکُم مَّنْ یُرَدُّ اِلٰٓی أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْْلَا یَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْْئًا وَتَرَی الْأَرْضَ ہَامِدَۃً فَاِذَآ أَنْزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَآءَ اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَہِیْجٍ ۵ ذٰلِکَ بِأَنَّ اللہَ ہُوَ الْحَقُّ وَأَنَّہٗ یُحْیِی الْمَوْتٰی وَأَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (الحج ۲۲: ۵-۶)
      ’’اے لوگو! اگر تم مرنے کے بعد اٹھائے جانے کے بارے میں شک میں ہو تو سونچو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر خون کی پھٹکی سے، پھر مضغۂ گوشت سے، کوئی کامل، کوئی ادھورا، ہم نے اپنی یہ شانیں اس لیے دکھائیں کہ تم پر اپنی قدرت واضح کر دیں اور رحموں میں ہم ٹھہراتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک معین مدت تک۔ پھر ہم تم کو ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں۔ پھر ہم تم کو مہلت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو۔ اور تم میں کچھ پہلے ہی مر جاتے ہیں اور تم میں سے بعض ارذل عمر تک پہنچائے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہیں جانتے اور تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ بالکل خشک ہوتی ہے تو جب ہم اس پر برساتے ہیں بارش تو وہ لہریں لینے لگتی اور پھول جاتی ہے اور نوع بنوع کی خوش منظر چیزیں اگاتی ہے یہ اس وجہ سے کہ اللہ ہی کارساز حقیقی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

      یہی مضمون سورۂ مومنون کی آیات ۱۴-۱۶ میں بھی بیان ہوا ہے۔ تفصیل کے طالب اس پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔

       

      جاوید احمد غامدی دراں حالیکہ اُس نے (تخلیق کے) کئی مدارج سے گزار کر تمھیں بنایا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مدعایہ ہے کہ جب اُس نے تمھاری خِلقت میں اپنی قدرت و حکمت کی یہ شانیں دکھائی ہیں تو اُس کے لیے کیا مشکل ہے کہ مرنے کے بعد تمھیں ازسر نو اٹھا کھڑا کرے؟

    • امین احسن اصلاحی کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کس طرح اس نے بنائے تہ بہ تہ سات آسمان۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      چند آیتیں بطور تضمین: یہ چھ آیتیں حضرت نوح علیہ السلام کی تقریر کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں لیکن میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہ بطور تضمین اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوح علیہ السلام کی تقریر کی تکمیل کے لیے ہیں۔ اس طرح کی تضمین کی متعدد مثالیں پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔ اس کے تضمین ہونے کا قرینہ یہ ہے کہ آیت ۲۱ سے حضرت نوحؑ کی اس تقریر کا بقیہ حصہ آ رہا ہے جس کا آغاز ’قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ‘ سے ہوا ہے۔ اگر آیات ۱۵-۲۰ بھی حضرت نوح علیہ السلام کی تقریر ہی کا حصہ ہوئیں تو ان کے بعد ’قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ‘ کے اعادہ کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ اعادہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کے لیے ہے کہ اوپر کی آیات بیچ میں بطور تضمین آ گئی تھیں۔ آگے کے حصہ کو حضرت نوح علیہ السلام کی دعا کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے یہ ظاہر فرما دیا کہ یہ حضرت نوح علیہ السلام کا قول ہے۔
      اللہ تعالیٰ کی قدرت کی سب سے زیادہ واضح نشانی: ’أَلَمْ تَرَوْا کَیْْفَ خَلَقَ اللہُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا‘۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کائنات کی سب سے زیادہ نمایاں نشانی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جو خدا یہ تہ بہ تہ ساتوں آسمان پیدا کرنے پر قادر ہو گیا کیا اس کے لیے تم کو دوبارہ پیدا کر دینا ناممکن ہو جائے گا؟ یہ وہی دلیل ہے جو

      ’ءَاَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَآءُ بَنَاہَا‘ (النازعات ۷۹: ۲۷)
      (کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا جس کو بنایا)

      کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے اور جو ذرا مختلف اسلوب میں پچھلی سورہ کی آیات ۴۰-۴۱ میں بھی گزر چکی ہے۔
      ’طِبَاقًا‘۔ یعنی تہ بہ تہ۔ اس لفظ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ کپڑے کی تہوں کی طرح آسمان کی بھی سات تہیں ہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ الگ الگ ایک سے ایک بلند سات عالم ہیں اور ان کے الگ الگ سات آسمان ہیں۔ اس طرح کی باتیں جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ کی غیر محدود قدرت کا ایک اجمالی تصور دینے کے لیے بیان ہوئی ہیں۔ ان پر اجمالی ایمان ہی کافی ہے۔ صحیح حقیقت اس دن ظاہر ہو گی جس دن پردہ اٹھے گا۔ اس پردے کو اٹھانا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے بس میں نہیں ہے۔ ابھی ہماری سائنس کی رسائی بہت محدود ہے اور جتنی بھی اس کی رسائی ہوئی ہے اس سے حقیقت کے انکشاف کے بجائے انسان کی حیرت ہی میں اضافہ ہوا ہے۔ اصل حقیقت آخرت ہی میں کھلے گی۔

      جاوید احمد غامدی کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بر تہ بنائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے آگے کی آیات نوح علیہ السلام کی تقریر کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ اُن کی تقریر کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطورتضمین ہیں۔ اِس کا قرینہ یہ ہے کہ اِن کے بعد اگلا پیرا پھر’قَالَ نُوْحٌ‘سے شروع ہوا ہے۔ یہ اگر بطور تضمین نہ ہوتیں تو اِس کی ضرورت نہ تھی۔

    • امین احسن اصلاحی اور چاند کو ان کے اندر روشنی بنایا اور سورج کو چراغ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آسمانوں کے اندر کی دو نشانیوں کی طرف اشارہ: ’وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِیْہِنَّ نُوۡرًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا‘۔ آسمانوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد ان کے اندر کی دو عظیم نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ یہ خدا ہی ہے جس نے ان آسمانوں کے اندر چاند کو روشن اور سورج کو چراغ بنا کر رکھا ہے جن سے ان کے اندر اجالا ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کے ساتھ ساتھ اس کی بے نہایت حکمت اور عالم گیر ربوبیت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر اس نے ان میں چاند کا دیا اور سورج کا چراغ نہ رکھا ہوتا تو یہ عالم ظلمات ہوتا۔ ان روشن نشانیوں کے بعد بھی جن کو آخرت ناممکن نظر آئے ان کی آنکھیں کوئی چیز بھی نہیں کھول سکتی۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ اس کائنات میں خدا کی رحمت اور ربوبیت کی جو نشانیاں ہیں وہ ایک روز عدل کے ظہور کو واجب کرتی ہیں۔ اس مسئلہ پر مفصل بحث اس کے محل میں گزر چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور اُن میں چاند کو روشنی اور سورج کو چراغ بنایا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے اگایا خاص اہتمام سے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ: ’وَاللہُ اَنْبَتَکُمْ مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا ۵ ثُمَّ یُعِیْدُکُمْ فِیْہَا وَیُخْرِجُکُمْ اِخْرَاجًا‘۔ آسمان اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی اور سب سے پہلے زمین کی سب سے اشرف مخلوق یعنی خود انسان کو لیا۔ فرمایا کہ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا اور اگانے کے بعد پھر اسی میں تمہیں مرنے کے بعد لوٹا دیتا ہے اور پھر اسی سے تمہیں ایک دن نکالے گا۔
      دعویٰ ہی دلیل بھی ہے: یہ قرآن کی بلاغت کا اعجاز ہے کہ اس آیت میں جو دعویٰ ہے وہی اس دعوے کی نہایت واضح دلیل بھی ہے۔ اس کے مفہوم کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ جس طرح زمین سے سبزہ اگتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسی زمین سے اگایا ہے اور جس طرح زمین سے اگنے والی چیزیں فنا ہو کر زمین میں مل جاتی ہیں اسی طرح تم بھی مر کر زمین میں مٹی بن جاتے ہو۔ پھر جس طرح تم دیکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے فنا شدہ سبزوں کو ازسرنو زندہ کر دیتا ہے اسی طرح جب چاہے گا تمہیں بھی بغیر کسی زحمت کے اٹھا کھڑا کرے گا۔
      ’نَبَاتًا‘ اور ’اِخْرَاجًا‘ تاکید فعل کے لیے آئے ہیں اور تاکید فعل کے پہلو مختلف ہوتے ہیں اس وجہ سے اردو میں ان کا ترجمہ مشکل ہوتا ہے۔ مثلاً ’اَنْبَتَکُمْ نَبَاتًا‘ کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ تمہیں زمین سے اگایا نہایت قدرت و حکمت سے، یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ تمہیں زمین سے اگایا نہایت آسانی سے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ تمہیں زمین سے اگایا نہایت اہتمام سے۔ میں نے ترجمہ میں اہتمام اور قدرت و حکمت کے پہلو کو اختیار کیا ہے اس لیے کہ قرآن کے نظائر سے اسی پہلو کی تائید ہوتی ہے۔ اوپر ’وَقَدْ خَلَقَکُمْ أَطْوَارًا‘ کے تحت اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ ’یُخْرِجُکُمْ اِخْرَاجًا‘ مین سہولت کے پہلو کو میں نے مدنظر رکھا ہے یعنی اللہ تعالیٰ جب چاہے گا تمہیں بالکل بے روک نہایت آسانی سے اٹھا کھڑا کرے گا۔ یہ پہلو اختیار کرنے میں بھی میں نے قرآن کے نظائر ہی کو ملحوظ رکھا ہے اگرچہ امکان دوسرے پہلوؤں کا بھی ہے لیکن اردو میں ان کا کوئی ایسا ترجمہ سمجھ میں نہیں آیا جو تمام پہلوؤں پر حاوی ہو جائے۔

      جاوید احمد غامدی اور (دیکھتے نہیں ہوکہ) اللہ ہی نے خاص اہتمام کے ساتھ تمھیں زمین سے اگایا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ ایک حقیقت کا بیان ہے، اِس لیے کہ ماں کے پیٹ سے انسانوں کی پیدایش کا سلسلہ شروع کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اُنھیں براہ راست زمین کے پیٹ ہی سے پیدا کیا ہے۔ موقع کلام کے لحاظ سے دیکھیے تو اِس میں بلاغت کا یہ اعجاز ہے کہ جو دعویٰ ہے ، وہی اُس دعوے کی دلیل بھی ہے۔ یعنی خدا نے سبزے کی طرح تمھیں زمین سے اگایا ہے، لہٰذا مرے ہوئے سبزے کو جس طرح وہ ازسرنو زندہ کر دیتا ہے، اُسی طرح جب چاہے گا، تمھیں بھی زمین سے دوبارہ نکال کھڑا کرے گا۔

    • امین احسن اصلاحی پھر وہ تم کو اسی میں لوٹاتا ہے اور اسی سے تم کو نکالے گا بے روک۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ: ’وَاللہُ اَنْبَتَکُمْ مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا ۵ ثُمَّ یُعِیْدُکُمْ فِیْہَا وَیُخْرِجُکُمْ اِخْرَاجًا‘۔ آسمان اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی اور سب سے پہلے زمین کی سب سے اشرف مخلوق یعنی خود انسان کو لیا۔ فرمایا کہ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا اور اگانے کے بعد پھر اسی میں تمہیں مرنے کے بعد لوٹا دیتا ہے اور پھر اسی سے تمہیں ایک دن نکالے گا۔
      دعویٰ ہی دلیل بھی ہے: یہ قرآن کی بلاغت کا اعجاز ہے کہ اس آیت میں جو دعویٰ ہے وہی اس دعوے کی نہایت واضح دلیل بھی ہے۔ اس کے مفہوم کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ جس طرح زمین سے سبزہ اگتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسی زمین سے اگایا ہے اور جس طرح زمین سے اگنے والی چیزیں فنا ہو کر زمین میں مل جاتی ہیں اسی طرح تم بھی مر کر زمین میں مٹی بن جاتے ہو۔ پھر جس طرح تم دیکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے فنا شدہ سبزوں کو ازسرنو زندہ کر دیتا ہے اسی طرح جب چاہے گا تمہیں بھی بغیر کسی زحمت کے اٹھا کھڑا کرے گا۔
      ’نَبَاتًا‘ اور ’اِخْرَاجًا‘ تاکید فعل کے لیے آئے ہیں اور تاکید فعل کے پہلو مختلف ہوتے ہیں اس وجہ سے اردو میں ان کا ترجمہ مشکل ہوتا ہے۔ مثلاً ’اَنْبَتَکُمْ نَبَاتًا‘ کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ تمہیں زمین سے اگایا نہایت قدرت و حکمت سے، یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ تمہیں زمین سے اگایا نہایت آسانی سے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ تمہیں زمین سے اگایا نہایت اہتمام سے۔ میں نے ترجمہ میں اہتمام اور قدرت و حکمت کے پہلو کو اختیار کیا ہے اس لیے کہ قرآن کے نظائر سے اسی پہلو کی تائید ہوتی ہے۔ اوپر ’وَقَدْ خَلَقَکُمْ أَطْوَارًا‘ کے تحت اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ ’یُخْرِجُکُمْ اِخْرَاجًا‘ مین سہولت کے پہلو کو میں نے مدنظر رکھا ہے یعنی اللہ تعالیٰ جب چاہے گا تمہیں بالکل بے روک نہایت آسانی سے اٹھا کھڑا کرے گا۔ یہ پہلو اختیار کرنے میں بھی میں نے قرآن کے نظائر ہی کو ملحوظ رکھا ہے اگرچہ امکان دوسرے پہلوؤں کا بھی ہے لیکن اردو میں ان کا کوئی ایسا ترجمہ سمجھ میں نہیں آیا جو تمام پہلوؤں پر حاوی ہو جائے۔

      جاوید احمد غامدی پھر وہ اِسی میں تمھیں لوٹاتا ہے اور (اِسی سے) یکایک نہایت آسانی کے ساتھ تم کو نکال کھڑا کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      ’نَبَاتًا‘ اور ’اِخْرَاجًا‘ کے الفاظ اِن آیتوں میں تاکید فعل کے لیے آئے ہیں۔ اِن کے لیے اردو میں کوئی ایسا اسلوب نہیں ہے جو اِن کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کر سکے۔ ہم نے جو پہلو اختیار کیا ہے، وہ موقع کلام سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اللہ ہی نے تمہارے لیے زمین کو ہموار بنایا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زمین بجائے خود ایک عظیم نشانی ہے: ’وَاللہُ جَعَلَ لَکُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا ۵ لِتَسْلُکُوْا مِنْہَا سُبُلاً فِجَاجًا‘۔ اب یہ خود زمین کی نشانی کی طرف توجہ دلائی جس سے اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت و حکمت کا بھی اظہار ہوتا ہے اور اس کی بے نہایت رحمت و عنایت کا بھی۔ فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے زمین کو ایک فرش کی طرح بچھایا۔ اس کو متوازن اور پابرجا رکھنے کے لیے اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دی ہیں اور پہاڑوں کے اندر درے اور راستے نکال دیے ہیں تاکہ تم پہاڑوں کی دیواروں کے پیچھے محصور ہو کے نہ رہ جاؤ بلکہ دروں سے گزر کر ایک جگہ سے دوسری جگہ آ جا سکو۔
      یہ امر یہاں واضح رہے کہ زمین کے گہوارہ یا فرش بننے کے لیے اس کے اندر توازن کا پایا جانا لازمی ہے چنانچہ قرآن میں یہ تصریح ہے کہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے پہاڑ اسی لیے گاڑے ہیں کہ اس کا توازن قائم رہے۔ ’اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ‘ (النحل ۱۶: ۱۵) اور ’أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِہَادًا ۵ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا‘ (النبا ۷۸: ۶-۷) اور اس مضمون کی دوسری آیات میں اسی اہتمام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ پھر مزید عنایت اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی کہ پہاڑ گاڑے تو اس طرح کہ ان کے اندر درے اور راستے بھی رکھے تاکہ انسان کے لیے آمد و شد کی راہیں کھلی رہیں۔ آیت میں لفظ ’فِجَاجٌ‘ استعمال ہوا ہے جو ’فَجٌّ‘ کی جمع ہے۔ یہ لفظ عام راستوں کے لیے نہیں بلکہ پہاڑی دروں اور راستوں کے لیے آتا ہے۔ سورۂ حج میں ’فَجٌّ عَمِیْقٌ‘ کے تحت اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور (دیکھتے نہیں ہو کہ) اللہ ہی نے زمین کو تمھارے لیے ایک بچھونے کی طرح بچھا دیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کہ تم اس کی کھلی راہوں میں چلو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زمین بجائے خود ایک عظیم نشانی ہے: ’وَاللہُ جَعَلَ لَکُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا ۵ لِتَسْلُکُوْا مِنْہَا سُبُلاً فِجَاجًا‘۔ اب یہ خود زمین کی نشانی کی طرف توجہ دلائی جس سے اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت و حکمت کا بھی اظہار ہوتا ہے اور اس کی بے نہایت رحمت و عنایت کا بھی۔ فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے زمین کو ایک فرش کی طرح بچھایا۔ اس کو متوازن اور پابرجا رکھنے کے لیے اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دی ہیں اور پہاڑوں کے اندر درے اور راستے نکال دیے ہیں تاکہ تم پہاڑوں کی دیواروں کے پیچھے محصور ہو کے نہ رہ جاؤ بلکہ دروں سے گزر کر ایک جگہ سے دوسری جگہ آ جا سکو۔
      یہ امر یہاں واضح رہے کہ زمین کے گہوارہ یا فرش بننے کے لیے اس کے اندر توازن کا پایا جانا لازمی ہے چنانچہ قرآن میں یہ تصریح ہے کہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے پہاڑ اسی لیے گاڑے ہیں کہ اس کا توازن قائم رہے۔ ’اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ‘ (النحل ۱۶: ۱۵) اور ’أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِہَادًا ۵ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا‘ (النبا ۷۸: ۶-۷) اور اس مضمون کی دوسری آیات میں اسی اہتمام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ پھر مزید عنایت اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی کہ پہاڑ گاڑے تو اس طرح کہ ان کے اندر درے اور راستے بھی رکھے تاکہ انسان کے لیے آمد و شد کی راہیں کھلی رہیں۔ آیت میں لفظ ’فِجَاجٌ‘ استعمال ہوا ہے جو ’فَجٌّ‘ کی جمع ہے۔ یہ لفظ عام راستوں کے لیے نہیں بلکہ پہاڑی دروں اور راستوں کے لیے آتا ہے۔ سورۂ حج میں ’فَجٌّ عَمِیْقٌ‘ کے تحت اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی کہ تم (پہاڑوں کے درمیان) اِس کے کھلے راستوں میں چلتے رہو؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      تضمین کی آیتیں یہاں ختم ہوئیں اور کلام پھر نوح علیہ السلام کی دعا سے مربوط ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت، بے نہایت حکمت اور عالمگیر ربوبیت کی جن نشانیوں کی طرف اِن آیتوں میں توجہ دلائی گئی ہے، وہ صاف بتاتی ہیں کہ جو خدا اپنی تخلیق کے یہ معجزے دکھانے پر قادر ہو گیا، اُس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کردینا بھی کچھ مشکل نہ ہو گا۔

    Join our Mailing List