Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 44 آیات ) Al-Maarij Al-Maarij
Go
  • المعارج (The Ways of Ascent, The Ascending Stairways)

    44 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الحآقۃ ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے، دونوں کے عمود میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ انذار عذاب و قیامت جس طرح سابق سورہ کا موضوع ہے اسی طرح اس کا بھی موضوع ہے۔ دونوں کے ظاہری اسلوب میں بھی بڑی مشابہت ہے جس طرح سابق سورہ میں اثبات جزا و سزا پر، وسط سورہ میں، قسم کھائی گئی ہے اسی طرح اس سورہ کے وسط میں بھی اسی نوعیت کی قسم ہے۔ خاص پہلو اس کا یہ ہے کہ اس میں ان متمردین کو تنبیہ فرمائی ہے جو عذاب و قیامت کا مذاق اڑاتے اور اس کے لیے جلدی مچائے ہوئے تھے۔ ان کے رویہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ یہ بہت ہی تنک ظرف اور تھڑ دلے لوگ ہیں۔ اس وقت خدا نے ان کو جو ڈھیل دی ہے تو ان کے پاؤں زمین پر نہیں پڑ رہے ہیں۔ ذرا گرفت میں آ جائیں تو ساری شیخی بھول جائیں گے۔ ان سے چندے درگزر کرو۔ ان کے فیصلہ کا وقت آیا ہی چاہتا ہے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تب انھیں اندازہ ہو گا کہ جس چیز کے لیے جلدی مچائے ہوئے تھے وہ کیسی ہولناک چیز نکلی۔

  • المعارج (The Ways of Ascent, The Ascending Stairways)

    44 آیات | مکی
    الحاقۃ - المعارج

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ دنیا اور آخرت میں جس عذاب سے قریش کو متنبہ کرتی ہے،دوسری میں اُسی کا مذاق اڑانے اور اُس کے لیے جلدی مچانے والوں کو اُن کے انجام سے خبردار کیا گیا ہے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الحاقۃ — کا موضوع قیامت میں جزا و سزا کا اثبات، اُس کے حقائق کا بیان اور اُس کے بارے میں قرآن کے انذار کو جھٹلانے کے نتائج سے اپنے مخاطبین کو متنبہ کرنا ہے۔

    دوسری سورہ — المعارج — کا موضوع اِنھی نتائج کو استہزا کا نشانہ بنانے اور اِن کے لیے جلدی مچانے والوں کو اُن کے انجام سے خبردار کرنا، پیغمبر کو اُن کے مقابلے میں صبر کی تلقین کرنا اور اُنھیں یہ بتانا ہے کہ جنت حسن عمل کی جزا ہے۔ اِس سے محروم کوئی شخص، خواہ عرب و عجم کے صنادید میں سے کیوں نہ ہو، خدا کی اِس ابدی بادشاہی میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتا۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی جلدی مچائی جلدی مچانے والے نے (کافروں کے لیے) واقع ہونے والے عذاب کی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سوال بانداز استعجال: ’سوال‘ کے مختلف معانی پر اس کے محل میں بحث ہو چکی ہے یہاں اس کا صلہ ’ب‘ کے ساتھ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ استعجال یا استہزاء کے مفہوم پر متضمن ہے۔ یعنی ایک سوال کرنے والے نے واقع ہونے والے عذاب کی جلدی مچائی یا اس کا مذاق اڑایا۔ قریش کے متمردین کو جب عذاب سے ڈرایا جاتا تو وہ پوچھتے کہ وہ عذاب کہاں ہے؟ عذاب آنا ہے تو آ کیوں نہیں جاتا؟ ہم کب سے اس کے ڈراوے سن رہے ہیں وہ چلا تو راہ میں کہاں لنگر انداز ہو گیا کہ اب تک وہ نہیں پہنچا؟ اس طرح کے سوالات ظاہر ہے تحقیق کے لیے نہیں بلکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو زچ کرنے اور عذاب کا مذاق اڑانے کے لیے کیے جاتے تھے۔ ان سوالوں کے اندر جلد بازی اور استہزاء دونوں کے مفہوم پائے جاتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ اس جلد بازی کا مقصد ہی مذاق اڑانا ہوتا تھا۔ ’ب‘ کے صلہ نے ’سوال‘ کے اس مضمر مضمون کو واضح کر دیا اس لیے استعجال اور استہزا دونوں کا صلہ ’ب‘ سے آتا ہے، مثلاً ’یَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ‘ (العنکبوت ۲۹: ۵۴) اسی طرح ’اِسْتِھْزَآءٌ‘ کا صلہ بھی ’ب‘ ہی آتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی بہت جلدی مچائی ہے ایک جلدی مچانے والے نے، اُس عذاب کے لیے. (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’سُؤَال‘ استعمال ہوا ہے، لیکن اِس کا صلہ چونکہ آیت میں ’ب‘ آیا ہے، اِس لیے عربیت کی رو سے اِسے استعجال یا استہزا کے مفہوم پر متضمن سمجھنا چاہیے۔ یعنی وہ مذاق اڑانے کے لیے جلدی مچاتے اور کہتے ہیں کہ وہ عذاب کہاں رہ گیا؟ ابھی تک آیا کیوں نہیں؟ ہم کب سے اُس کے ڈراوے سن رہے ہیں، لیکن وہ چلا تو کہیں سستانے کے لیے بیٹھ گیا ہے کہ ابھی تک یہاں نہیں پہنچا؟

    • امین احسن اصلاحی (جلدی مچائی جلدی مچانے والے نے) کافروں کے لیے (واقع ہونے والے عذاب کی)۔ اس کا کوئی دفع کرنے والا نہیں بنے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کی حماقت: ’لِّلْکَافِریْنَ‘ کا تعلق ’وَاقِعٍ‘ سے بھی ہو سکتا ہے، یعنی اس عذاب کا مذاق اڑاتے ہیں جو کافروں کے لیے واقع ہونے والا ہے اور اس کو مستقل جملہ بھی قرار دے سکتے ہیں، یعنی وہ جس عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ کافروں ہی کے لیے ہو گا اور کوئی اس کو دفع کرنے والا نہیں بنے گا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی شامت ہی ہے جو اتنی ڈھٹائی سے اس کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ وہ سیلاب فنا آیا تو آخر کس کے گھر جائے گا؟ انہی کے گھر تو جائے گا! اس کے مقابلہ کا کیا سامان انھوں نے کر رکھا ہے کہ اس طرح چیلنج کر رہے ہیں! اس کو دفع کرنے کا برتا تو کسی میں بھی نہیں ہو گا، نہ ان کے اندر اور نہ ان کے مزعومہ معبودوں کے اندر؛ تو کس برتے پر ان کو دعوت دے رہے ہیں!

      جاوید احمد غامدی جو اِن منکروں پر آ کر رہے گا، اُسے کوئی ہٹا نہ سکے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی وہ مدارج والے خداوند کی طرف سے ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ تعالیٰ کے دنوں کو اپنے دنوں پر قیاس نہ کرو: یعنی وہ عذاب آئے گا تو ضرور۔ جس خدا نے اس کی دھمکی دی ہے اس کا ہر وعدہ اور اس کی ہر وعید شدنی ہے لیکن اس کی بارگاہ بہت بلند ہے۔ وہ بڑی بلندیوں، بڑے مدارج اور زینوں والا ہے۔ اس کے دربار سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہ اس کے اپنے پروگرام کے مطابق ہوتے ہیں اور ان سالوں اور دنوں کے اعتبار سے بنتے ہیں جو اس کے ہاں معتبر ہیں۔ اس کے ہاں کا ایک دن انسانی تقویم کے حساب سے ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے دنوں اور سالوں کو لوگ اپنے محدود پیمانوں سے نہ ناپیں۔ انسان کی یہی تنگ نظری اس کو خدا کے فیصلوں کے بارے میں بے صبرا اور جلد باز بنا دیتی ہے۔ وہ ہر معاملے میں ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی کوشش کرتا اور اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے الگ الگ عالم بنائے ہیں اور ہر ایک کا مدار اور نظام الگ الگ ہے۔ ہم نہ تو اس کی کائنات کے سارے بھیدوں کو جان سکتے اور نہ اپنے دنوں اور اپنی گھڑیوں سے اس کے دنوں کا حساب کر سکتے۔ سورۂ حج میں اسی حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے:

      وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ وَلَنۡ یُخْلِفَ اللہُ وَعْدَہٗ وَإِنَّ یَوْمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَأَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (الحج ۲۲: ۴۷)
      ’’وہ تم سے عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرنے والا نہیں ہے۔ اور واضح رہے کہ تمہارے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار سالوں کے برابر ہوتا ہے۔‘‘

      مطلب یہ ہے کہ تمہارے پیمانے بہت چھوٹے ہیں۔ تم ہر وعدے اور ہر وعید کو اپنے دنوں کے حساب سے جانچتے ہو اس وجہ سے تمہیں محسوس ہوتا ہے کہ فلاں وعدے پر بڑی طویل مدت گزر گئی اور وہ پورا نہیں ہوا حالانکہ خدائی دنوں کے حساب سے ابھی اس پر سیکنڈ یا منٹ سے زیادہ وقت نہیں گزرا ہوتا۔

       

      جاوید احمد غامدی وہ اللہ کی طرف سے آئے گا جو عروج کے زینوں والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ خدا کی بلندی بارگاہ کی تعبیر ہے۔اِس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اُس کے فیصلے اُس کی شان کے مطابق اور اُس کی بارگاہ کے لحاظ سے صادر ہوتے ہیں، اُنھیں تھڑدلے انسانوں کے جذبات و خواہشات اور توقعات پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔

    • امین احسن اصلاحی اس کی طرف فرشتے اور جبریل صعود کرتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ تعالیٰ کے ’ذِی الْمَعَارِجِ‘ ہونے کا مفہوم: یہ اللہ تعالیٰ کے ’ذِی الْمَعَارِجِ‘ ہونے کی وضاحت ہے کہ اس کی بارگاہ بلند تک پہنچنے کے لیے فرشتوں اور جبریلؑ کو بھی پچاس ہزار سال کے برابر کا دن لگتا ہے۔ ’معارج‘ کے معنی زینوں اور سیڑھیوں کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ وراء الوراء اور وراء الوراء ہے۔ اس تک رسائی کے لیے دوسروں کا تو کیا ذکر ملائکہ اور جبریلؑ تک کا یہ حال ہے کہ اس راہ کے مراحل طے کرنے کے لیے انھیں پچاس ہزار سال کے برابر کا دن لگتا ہے۔
      یہ باتیں متشابہات کی نوعیت کی ہیں۔ ان کی اصل حقیقت کا ادراک ہمارے لیے ناممکن ہے۔ مقصود ان سے صرف یہ تصور دینا ہے کہ خدا کے معاملات کو اپنے اوپر قیاس نہ کرو۔ اس کے ہاں کا ایک دن تمہارے ایک ہزار سال کے برابر کا ہوتا ہے اور بعض کاموں کے لیے اس نے پچاس ہزار سال کے برابر کے دن بھی رکھے ہیں۔ آیت زیربحث میں اسی خاص دن کی طرف اشارہ ہے۔
      ’روح‘ سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ان کی عظمت شان کے پہلو سے ہے اس لیے کہ وہ تمام ملائکہ کے سرخیل ہیں۔ یہ لفظ قرآن میں حضرت جبریل علیہ السلام کے لیے آیا ہے۔
      ایک غلط فہمی کا ازالہ بعض لوگوں نے اس دن قیامت کے دن کو لیا ہے اور اس کا یہ طول ان کے نزدیک اس کے ہول اور شدت کی تعبیر ہے۔ ہمارے نزدیک یہ رائے موقع و محل کے بھی خلاف ہے اور عربیت کے بھی۔ یہاں مقصود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کی بلندی کا اظہار ہے نہ کہ روز قیامت کی شدت کا۔ روز قیامت کی شدت اور اس کے ہول کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ ہر چند خدا کی بارگاہ بہت بلند ہے، وہ تمام خلق سے وراء الوراء ہے لیکن وہ ساتھ ہی ہر شخص کی شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ وہ سب کو دیکھتا، سب کی سنتا اور سب کی نگرانی کر رہا ہے۔ ہم اگرچہ اس کو دیکھنے سے قاصر ہیں لیکن وہ ہم کو ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ ہماری نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں لیکن وہ ہماری نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ ’لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ‘ (الانعام ۶: ۱۰۴) اس وجہ سے نہ تو اس سے کسی کو بے خوف ہونا جائز ہے نہ مایوس۔
      یہی حال فرشتوں کا ہے۔ ان کو اگرچہ اس تک صعود کے لیے پچاس ہزار سال کے برابر کا دن لگتا ہے لیکن اس کے باوجود تمام ملائکہ ہر وقت اس کی نگاہوں میں ہیں۔ وہ جب چاہے ان کو حکم دے سکتا ہے اور جب چاہے ان کو پکڑ لے سکتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ ہر چیز کو اپنے پیمانوں سے ناپتے اور پھرجلدی مچادیتے ہیں۔ اِنھیں بتا ؤ کہ) فرشتے اور رُوح الامین (تمھارے حساب سے)پچاس ہزار سال کے برابر ایک دن میں اُس کے حضور چڑھ کر پہنچتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں۔ وہ تمام ملائکہ کے سرخیل ہیں۔ عام کے بعد خاص کا یہ ذکر اُن کے اِسی مرتبے کے پیش نظر ہے۔
      یہ امور متشابہات میں سے ہے جن کی پوری حقیقت ہم یہاں نہیں سمجھ سکتے۔ لیکن مطلب یہی ہے کہ اُنھیں خدا کو اپنے پیمانوں سے نہیں ناپنا چاہیے۔ اُس کی سلطنت میں دن پچاس پچاس ہزار سال کے بھی ہوتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی تو تم خوبصورتی سے صبر کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      پیغمبر صلعم کو صبر جمیل کی ہدایت: عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کے مقابلہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو جو رویہ اختیار کرنا چاہیے یہ اس کا بیان ہے۔ فرمایا کہ ان کی جلد بازی اور ان کے استہزاء پر خوبصورتی اور وقار کے ساتھ صبر کرو۔ ’خوبصورتی کے ساتھ‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے رویہ سے نہ تو دل شکستہ اور مایوس ہو نہ ان کے جواب میں کوئی عاجلانہ قدم اٹھاؤ اور نہ اپنے موقف میں کوئی کمزوری پیدا ہونے دو۔ مختلف صورتوں میں صبر کی ہدایت کے ساتھ ان باتوں کی طرف اشارے بھی فرما دیے گئے ہیں جو صبر کو صبر جمیل بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے، (اے پیغمبر) تم (اِن کی باتوں پر) پورے حسن و وقار کے ساتھ صبر کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا‘۔ اِن سے کیا مراد ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...مطلب یہ ہے کہ اِن کے رویے سے نہ تو دل شکستہ اور مایوس ہو نہ اِن کے جواب میں کوئی عاجلانہ قدم اٹھاؤ اور نہ اپنے موقف میں کوئی کمزوری پیدا ہونے دو۔ مختلف صورتوں میں صبر کی ہدایت کے ساتھ اُن باتوں کی طرف اشارے بھی فرما دیے گئے ہیں جو صبر کو صبر جمیل بنانے کے لیے ضروری ہیں۔‘‘ (تدبرقرآن ۸/ ۵۶۷)

       

    • امین احسن اصلاحی وہ اس کو بہت دور خیال کر رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل بصیرت قیامت کو دور نہیں سمجھتے: ’إِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا ۵ وَنَرَاہُ قَرِیْبًا‘۔ یعنی ان لوگوں کی نظر بہت محدود ہے اس وجہ سے یہ اس عذاب کو جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے بہت دور خیال کر رہے ہیں حالانکہ ہم اس کو بہت قریب دیکھ رہے ہیں اور اصل دیکھنا ہمارا دیکھنا ہے۔ اگر ان کے اندر بھی بصیرت ہوتی تو یہ بھی اس کو قریب ہی دیکھتے لیکن ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے اس وجہ سے انھیں قریب کی چیز دور دکھائی دے رہی ہے۔ وہ دن آئے گا تو یہ پٹی کھل جائے گی اور ہر شخص دیکھ لے گا کہ جس چیز کو وہ بہت دور سمجھا تھا وہ نہایت قریب نکلی۔

      ’فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ‘ (قٓ ۵۰: ۲۲)
      (پس آج تو تیری نگاہ بہت تیز ہے)

      میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔۔۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جن کی نگاہوں میں بصارت کے ساتھ بصیرت ہوتی ہے وہ اس مغالطہ میں مبتلا نہیں ہوتے۔ صاحب بصیرت اللہ کی روشنی سے دیکھتا ہے اس وجہ سے جس طرح اللہ تعالیٰ اس دن کو قریب سے دیکھتا ہے اسی طرح مومن بھی اس کو قریب ہی دیکھتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ اُس کو دور سمجھتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ہم اس کو نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل بصیرت قیامت کو دور نہیں سمجھتے: ’إِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا ۵ وَنَرَاہُ قَرِیْبًا‘۔ یعنی ان لوگوں کی نظر بہت محدود ہے اس وجہ سے یہ اس عذاب کو جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے بہت دور خیال کر رہے ہیں حالانکہ ہم اس کو بہت قریب دیکھ رہے ہیں اور اصل دیکھنا ہمارا دیکھنا ہے۔ اگر ان کے اندر بھی بصیرت ہوتی تو یہ بھی اس کو قریب ہی دیکھتے لیکن ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے اس وجہ سے انھیں قریب کی چیز دور دکھائی دے رہی ہے۔ وہ دن آئے گا تو یہ پٹی کھل جائے گی اور ہر شخص دیکھ لے گا کہ جس چیز کو وہ بہت دور سمجھا تھا وہ نہایت قریب نکلی۔

      ’فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ‘ (قٓ ۵۰: ۲۲)
      (پس آج تو تیری نگاہ بہت تیز ہے)

      میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔۔۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جن کی نگاہوں میں بصارت کے ساتھ بصیرت ہوتی ہے وہ اس مغالطہ میں مبتلا نہیں ہوتے۔ صاحب بصیرت اللہ کی روشنی سے دیکھتا ہے اس وجہ سے جس طرح اللہ تعالیٰ اس دن کو قریب سے دیکھتا ہے اسی طرح مومن بھی اس کو قریب ہی دیکھتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور ہم اُسے بہت قریب دیکھ رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کے ہول کی تصویر: یہ قیامت کی ہلچل اور اس کے ہول کی تصویر ہے تاکہ جو لوگ اس کو بصیرت کی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے ہیں وہ اس تصویر کو دیکھ کر اس سے کچھ عبرت پکڑیں۔ فرمایا کہ اس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند۔
      لفظ ’مُہْلٌ‘ مختلف معانی میں آتا ہے۔ سورۂ کہف میں یہ لفظ گزر چکا ہے وہاں مناسب موقع معنی کی وضاحت ہم نے کر دی۔ یہ تیل اور تیل کی تلچھٹ کے معنی میں بھی آیا ہے۔ یہ معنی لیجیے تو مقصود آسمان کی رنگت کو تیل کی سرخ سیاہی مائل تلچھٹ سے تشبیہ دینا ہو گا۔ سورۂ رحمان میں بھی آسمان کی سرخی کا ذکر آیا ہے:

      ’فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ‘ (الرحمٰن ۵۵: ۳۷)
      (وہ کھال کی مانند سرخ ہو گا)

       

      جاوید احمد غامدی (یہ بھی دیکھیں گے)۔ اُس دن جب آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح ہو جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ‘۔ لفظ ’عِہْنٌ‘ کے معنی اون کے ہیں اور اس سے مراد یہاں دھنی ہوئی اون ہے، جیسا کہ سورۂ قارعہ میں فرمایا ہے:

      ’وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ الْمَنفُوْشِ‘ (القارعہ ۱۰۱: ۵)
      (اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے)۔

      یہ احوال قیامت سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں جو ازقبیل متشابہات ہیں۔ ان کی اصل حقیقت یہاں سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ لیکن ذہن اس طرف جاتا ہے کہ آسمان کی سرخی نتیجہ ہو گی جہنم کے شعلوں کے بھڑکنے کا اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند پراگندہ کر دیے جائیں گے تاکہ جو لوگ پہاڑوں کو لازوال سمجھتے رہے ہیں وہ ان کی بے ثباتی کا مشاہدہ کر لیں۔ ظاہر ہے کہ جب پہاڑوں کا یہ حال ہو گا تو دوسری چیزوں کا کیا ذکر! یہ باتیں ان نادانوں کی تنبیہ کے لیے سنائی گئی ہیں جن کو اپنی قوت و جمعیت اور اپنے قلعوں اور گڑھیوں پر بڑا ناز تھا ۔۔۔ معلوم ہوا کہ اس دن سارا شیرازہ درہم برہم ہو جائے گا اور ایک نیا عالم بالکل نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ ظہور میں آئے گا۔

       

      جاوید احمد غامدی اور پہاڑ دُھنی ہوئی اُون کی طرح ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور کوئی دوست بھی کسی دوست کو نہ پوچھے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس دن کی نفسی نفسی کی تصویر: یعنی اس دن ہر شخص پر ایسی نفسی نفسی کی حالت طاری ہو گی کہ جو عمر بھر اس دنیا میں باہم دگر جگری دوست بنے رہے اور جنھوں نے ایک دوسرے کی خاطر جان اور اپنے مال سب کچھ قربان کیے اس دن اس طرح آنکھیں پھیر لیں گے کہ کوئی کسی کا حال پوچھنے کا بھی روادار نہ ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی اور کوئی سچا دوست بھی (اُس وقت اپنے) کسی دوست کو نہ پوچھے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی وہ ان کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم تمنا کرے گا کہ کاش! اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹوں، (اپنی بیوی، اپنے بھائی اور اپنے اس کنبہ کو جو اس کی پناہ رہا ہے اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اپنے کو بچا لے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی اس دن وہ ایک دوسرے سے اوجھل نہیں ہوں گے کہ ان کے اندر حمیت و حمایت کا جذبہ نہ ابھرے۔ بلکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور یہ ساری مصیبت ان پر ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے گزرے گی لیکن وقت ایسی نفسی نفسی کا ہو گا کہ کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ سورۂ عبس آیت ۳۴ میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ وہاں، ان شاء اللہ، اس کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔
      ’یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہِ وَأَخِیْہِ ۵ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤِْیْہِ ۵ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنۡجِیْہِ‘۔ اس دن کا عذاب ایسا ہولناک ہو گا کہ گنہگار متمنی ہوں گے کہ کاش! اپنے محبوب سے محبوب عزیزوں کو فدیہ میں دے کر اس سے اپنے کو چھڑا سکیں تو چھڑا لیں۔ باپ اپنے بیٹوں کو فدیہ میں دے دینا چاہیں گے، شوہر اپنی بیوی، بھائی اپنے بھائی، صاحب کنبہ اپنے کنبہ و خاندان بلکہ زمین کی ساری مخلوق کو چاہے گا کہ فدیہ میں دے کر اس عذاب سے اپنی جان بچا لے جائے۔ لیکن یہ تمنا تمنا ہی رہے گی۔ اس دن نہ کسی کے پاس کوئی چیز فدیہ میں دینے کے لیے ہو گی اور نہ کسی کا کوئی فدیہ قبول ہو گا بلکہ ہر ایک کو وہ عذاب بھگتنا پڑے گا جس کا وہ مستحق ٹھہرے گا۔
      غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں وہ تمام رشتے مذکور ہوئے ہیں جن کے لیے آدمی میں فطری محبت اور حمایت و مدافعت کی گہری حمیت ہوتی ہے۔ کنبہ و خاندان کے ذکر کے ساتھ خاص طور پر اس کی صفت ’تُؤِْیْہِ‘ آئی ہے یعنی جو خاندان زندگی بھر اس کا ملجا و مامن رہا، جس نے دشمنوں سے اس کی حفاظت کی اور جس کی مدافعت میں وہ خود عمر بھر سربکف رہا، اس کو بھی وہ فدیہ میں دے کر اپنے کو بچانے کی تمنا کرے گا۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ بدویانہ دور زندگی میں خاندان اور قبیلہ کی حفاظت و مدافعت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ جو شخص قبیلہ و خاندان کی مدافعت میں سربکف رہتا وہ ہیرو سمجھا جاتا اور جو قبیلہ کے مفاد کو اپنے مفاد پر قربان کرتا یا کسی خطرے کے وقت اس کی مدافعت سے جی چراتا نہ وہ خود کہیں منہ دکھانے کے قابل رہتا نہ س کی آئندہ نسلیں۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے باوجود کہ) وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ وہ اُس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنے بیٹوں کو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی (مجرم تمنا کرے گا کہ کاش! اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹوں)، اپنی بیوی، اپنے بھائی (اور اپنے اس کنبہ کو جو اس کی پناہ رہا ہے اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اپنے کو بچا لے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی اس دن وہ ایک دوسرے سے اوجھل نہیں ہوں گے کہ ان کے اندر حمیت و حمایت کا جذبہ نہ ابھرے۔ بلکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور یہ ساری مصیبت ان پر ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے گزرے گی لیکن وقت ایسی نفسی نفسی کا ہو گا کہ کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ سورۂ عبس آیت ۳۴ میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ وہاں، ان شاء اللہ، اس کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔
      ’یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہِ وَأَخِیْہِ ۵ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤِْیْہِ ۵ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنۡجِیْہِ‘۔ اس دن کا عذاب ایسا ہولناک ہو گا کہ گنہگار متمنی ہوں گے کہ کاش! اپنے محبوب سے محبوب عزیزوں کو فدیہ میں دے کر اس سے اپنے کو چھڑا سکیں تو چھڑا لیں۔ باپ اپنے بیٹوں کو فدیہ میں دے دینا چاہیں گے، شوہر اپنی بیوی، بھائی اپنے بھائی، صاحب کنبہ اپنے کنبہ و خاندان بلکہ زمین کی ساری مخلوق کو چاہے گا کہ فدیہ میں دے کر اس عذاب سے اپنی جان بچا لے جائے۔ لیکن یہ تمنا تمنا ہی رہے گی۔ اس دن نہ کسی کے پاس کوئی چیز فدیہ میں دینے کے لیے ہو گی اور نہ کسی کا کوئی فدیہ قبول ہو گا بلکہ ہر ایک کو وہ عذاب بھگتنا پڑے گا جس کا وہ مستحق ٹھہرے گا۔
      غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں وہ تمام رشتے مذکور ہوئے ہیں جن کے لیے آدمی میں فطری محبت اور حمایت و مدافعت کی گہری حمیت ہوتی ہے۔ کنبہ و خاندان کے ذکر کے ساتھ خاص طور پر اس کی صفت ’تُؤِْیْہِ‘ آئی ہے یعنی جو خاندان زندگی بھر اس کا ملجا و مامن رہا، جس نے دشمنوں سے اس کی حفاظت کی اور جس کی مدافعت میں وہ خود عمر بھر سربکف رہا، اس کو بھی وہ فدیہ میں دے کر اپنے کو بچانے کی تمنا کرے گا۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ بدویانہ دور زندگی میں خاندان اور قبیلہ کی حفاظت و مدافعت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ جو شخص قبیلہ و خاندان کی مدافعت میں سربکف رہتا وہ ہیرو سمجھا جاتا اور جو قبیلہ کے مفاد کو اپنے مفاد پر قربان کرتا یا کسی خطرے کے وقت اس کی مدافعت سے جی چراتا نہ وہ خود کہیں منہ دکھانے کے قابل رہتا نہ س کی آئندہ نسلیں۔

      جاوید احمد غامدی اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی (مجرم تمنا کرے گا کہ کاش! اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اپنے بھائی) اور اپنے اس کنبہ کو جو اس کی پناہ رہا ہے (اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اپنے کو بچا لے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی اس دن وہ ایک دوسرے سے اوجھل نہیں ہوں گے کہ ان کے اندر حمیت و حمایت کا جذبہ نہ ابھرے۔ بلکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور یہ ساری مصیبت ان پر ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے گزرے گی لیکن وقت ایسی نفسی نفسی کا ہو گا کہ کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ سورۂ عبس آیت ۳۴ میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ وہاں، ان شاء اللہ، اس کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔
      ’یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہِ وَأَخِیْہِ ۵ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤِْیْہِ ۵ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنۡجِیْہِ‘۔ اس دن کا عذاب ایسا ہولناک ہو گا کہ گنہگار متمنی ہوں گے کہ کاش! اپنے محبوب سے محبوب عزیزوں کو فدیہ میں دے کر اس سے اپنے کو چھڑا سکیں تو چھڑا لیں۔ باپ اپنے بیٹوں کو فدیہ میں دے دینا چاہیں گے، شوہر اپنی بیوی، بھائی اپنے بھائی، صاحب کنبہ اپنے کنبہ و خاندان بلکہ زمین کی ساری مخلوق کو چاہے گا کہ فدیہ میں دے کر اس عذاب سے اپنی جان بچا لے جائے۔ لیکن یہ تمنا تمنا ہی رہے گی۔ اس دن نہ کسی کے پاس کوئی چیز فدیہ میں دینے کے لیے ہو گی اور نہ کسی کا کوئی فدیہ قبول ہو گا بلکہ ہر ایک کو وہ عذاب بھگتنا پڑے گا جس کا وہ مستحق ٹھہرے گا۔
      غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں وہ تمام رشتے مذکور ہوئے ہیں جن کے لیے آدمی میں فطری محبت اور حمایت و مدافعت کی گہری حمیت ہوتی ہے۔ کنبہ و خاندان کے ذکر کے ساتھ خاص طور پر اس کی صفت ’تُؤِْیْہِ‘ آئی ہے یعنی جو خاندان زندگی بھر اس کا ملجا و مامن رہا، جس نے دشمنوں سے اس کی حفاظت کی اور جس کی مدافعت میں وہ خود عمر بھر سربکف رہا، اس کو بھی وہ فدیہ میں دے کر اپنے کو بچانے کی تمنا کرے گا۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ بدویانہ دور زندگی میں خاندان اور قبیلہ کی حفاظت و مدافعت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ جو شخص قبیلہ و خاندان کی مدافعت میں سربکف رہتا وہ ہیرو سمجھا جاتا اور جو قبیلہ کے مفاد کو اپنے مفاد پر قربان کرتا یا کسی خطرے کے وقت اس کی مدافعت سے جی چراتا نہ وہ خود کہیں منہ دکھانے کے قابل رہتا نہ س کی آئندہ نسلیں۔

      جاوید احمد غامدی اپنے خاندان کو جو اُسے پناہ دیتا رہا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی (مجرم تمنا کرے گا کہ کاش! اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اپنے بھائی اور اپنے اس کنبہ کو جو اس کی پناہ رہا ہے) اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اپنے کو بچا لے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی اس دن وہ ایک دوسرے سے اوجھل نہیں ہوں گے کہ ان کے اندر حمیت و حمایت کا جذبہ نہ ابھرے۔ بلکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور یہ ساری مصیبت ان پر ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے گزرے گی لیکن وقت ایسی نفسی نفسی کا ہو گا کہ کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ سورۂ عبس آیت ۳۴ میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ وہاں، ان شاء اللہ، اس کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔
      ’یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہِ وَأَخِیْہِ ۵ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤِْیْہِ ۵ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنۡجِیْہِ‘۔ اس دن کا عذاب ایسا ہولناک ہو گا کہ گنہگار متمنی ہوں گے کہ کاش! اپنے محبوب سے محبوب عزیزوں کو فدیہ میں دے کر اس سے اپنے کو چھڑا سکیں تو چھڑا لیں۔ باپ اپنے بیٹوں کو فدیہ میں دے دینا چاہیں گے، شوہر اپنی بیوی، بھائی اپنے بھائی، صاحب کنبہ اپنے کنبہ و خاندان بلکہ زمین کی ساری مخلوق کو چاہے گا کہ فدیہ میں دے کر اس عذاب سے اپنی جان بچا لے جائے۔ لیکن یہ تمنا تمنا ہی رہے گی۔ اس دن نہ کسی کے پاس کوئی چیز فدیہ میں دینے کے لیے ہو گی اور نہ کسی کا کوئی فدیہ قبول ہو گا بلکہ ہر ایک کو وہ عذاب بھگتنا پڑے گا جس کا وہ مستحق ٹھہرے گا۔
      غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں وہ تمام رشتے مذکور ہوئے ہیں جن کے لیے آدمی میں فطری محبت اور حمایت و مدافعت کی گہری حمیت ہوتی ہے۔ کنبہ و خاندان کے ذکر کے ساتھ خاص طور پر اس کی صفت ’تُؤِْیْہِ‘ آئی ہے یعنی جو خاندان زندگی بھر اس کا ملجا و مامن رہا، جس نے دشمنوں سے اس کی حفاظت کی اور جس کی مدافعت میں وہ خود عمر بھر سربکف رہا، اس کو بھی وہ فدیہ میں دے کر اپنے کو بچانے کی تمنا کرے گا۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ بدویانہ دور زندگی میں خاندان اور قبیلہ کی حفاظت و مدافعت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ جو شخص قبیلہ و خاندان کی مدافعت میں سربکف رہتا وہ ہیرو سمجھا جاتا اور جو قبیلہ کے مفاد کو اپنے مفاد پر قربان کرتا یا کسی خطرے کے وقت اس کی مدافعت سے جی چراتا نہ وہ خود کہیں منہ دکھانے کے قابل رہتا نہ س کی آئندہ نسلیں۔

      جاوید احمد غامدی اور روے زمین کے ہر شخص کو فدیے میں دے دے، پھر اپنے آپ کو ( اُس سے) چھڑا لے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہرگز نہیں! وہ ایسی آگ ہو گی۔ (جس کی لپٹ چمڑی ادھیڑ لے گی۔) (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس دن کسی کے لیے کوئی مفر نہ ہو گا: یعنی اس عذاب سے بچنے کی یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہو گی۔ اس کے شعلے دور ہی سے مجرم کی چمڑی ادھیڑ لیں گے۔
      ’کَلَّا‘ ان مجرموں کی تمنا کی تردید کے لیے ہے جو مذکور ہوئی۔ یعنی ان کی عذاب سے بچنے کی یہ تمنا ہرگز پوری نہ ہو گی۔
      ’اِنَّہَا لَظٰی‘۔ ’اِنَّہَا‘ میں ضمیر کا مرجع وہی عذاب ہے جو مذکور ہوا۔ اس سے مراد چونکہ عذاب نار ہے اس وجہ سے ضمیر مؤنث آئی۔ ’لَظٰی‘ کے معنی شعلے کے ہیں۔ ’شوی‘ سر اور اطراف بدن کی کھال کے لیے آتا ہے۔ یعنی اس آگ کے شعلوں کی لپٹ ایسی ہو گی کہ دور ہی سے مجرموں کی کھلڑی کھینچ لے گی۔
      ’نَزَّاعَۃً‘ کو خبر کے بعد دوسری خبر بھی مان سکتے ہیں اور حال بھی۔ دونوں ہی صورتوں میں کوئی قابل لحاظ فرق معنی میں پیدا نہیں ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی ہرگز نہیں، وہ آگ کی لَپٹ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی (ہرگز نہیں! وہ ایسی آگ ہو گی۔) جس کی لپٹ چمڑی ادھیڑ لے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس دن کسی کے لیے کوئی مفر نہ ہو گا: یعنی اس عذاب سے بچنے کی یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہو گی۔ اس کے شعلے دور ہی سے مجرم کی چمڑی ادھیڑ لیں گے۔
      ’کَلَّا‘ ان مجرموں کی تمنا کی تردید کے لیے ہے جو مذکور ہوئی۔ یعنی ان کی عذاب سے بچنے کی یہ تمنا ہرگز پوری نہ ہو گی۔
      ’اِنَّہَا لَظٰی‘۔ ’اِنَّہَا‘ میں ضمیر کا مرجع وہی عذاب ہے جو مذکور ہوا۔ اس سے مراد چونکہ عذاب نار ہے اس وجہ سے ضمیر مؤنث آئی۔ ’لَظٰی‘ کے معنی شعلے کے ہیں۔ ’شوی‘ سر اور اطراف بدن کی کھال کے لیے آتا ہے۔ یعنی اس آگ کے شعلوں کی لپٹ ایسی ہو گی کہ دور ہی سے مجرموں کی کھلڑی کھینچ لے گی۔
      ’نَزَّاعَۃً‘ کو خبر کے بعد دوسری خبر بھی مان سکتے ہیں اور حال بھی۔ دونوں ہی صورتوں میں کوئی قابل لحاظ فرق معنی میں پیدا نہیں ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی چمڑی ادھیڑتی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی وہ عذاب آگ کی لپٹ ہے۔ ’اِنَّھَا‘ میں ضمیر مونث آگ کی رعایت سے آئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی وہ ان سب کو کھینچ بلائے گی جنھوں نے پیٹھ پھیری اور اعراض کیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی آج تو اللہ کی بندگی، اس کے عذاب سے بچنے اور اس کی راہ میں انفاق کی دعوت دی جاتی ہے تو لوگ پیٹھ پھیرتے اور اعراض کرتے ہیں لیکن اس دن جہنم کے عذاب سے پیٹھ پھیرنے اور اعراض کرنے کا کوئی امکان نہ ہو گا۔ جہنم سارے اعراض و انکار کرنے والوں کو کھینچ بلائے گی۔ لفظ ’تَدْعُوْا‘ یہاں نہایت بلیغ ہے۔ یعنی پیغمبرؐ کی پرمحبت دعوت جن کے دلوں پر اثر انداز نہیں ہو رہی ہے وہ یاد رکھیں کہ ان سنگ دلوں کو ایک دن جہنم بلائے گی اور اس طرح بلائے گی کہ کسی کے لیے بھی کوئی راہ فرار باقی نہیں رہے گی۔

      جاوید احمد غامدی ہر اُس شخص کو پکارتی ہوئی جس نے پیٹھ پھیری اور منہ موڑا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      لفظ ’تَدْعُوْا‘ کا استعمال اِس آیت میں نہایت بلیغ ہے۔ یعنی پیغمبر کا بلانا تو اِن پر اثر انداز نہیں ہو رہا، لیکن ایک دن وہ بھی آئے گا، جب اِنھیں دوزخ بلائے گی۔

    • امین احسن اصلاحی مال جمع کیا اور اس کو سینت سینت کر رکھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      بخیلوں کا انجام: یہ خاص طور پر بخیلوں کی طرف اشارہ ہے اس لیے کہ ایمان بالآخرت اور انفاق کی دعوت سب سے شاق انہی کے دلوں پر گزرتی ہے۔ آخرت کی فلاح کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی اپنا مال اس دنیا کی تجوریوں میں بند رکھنے کے بجائے خدا کے بنک میں جمع کرے۔ بخیل اس کو خسارے کا سودا سمجھتا ہے۔ نہ وہ جزا و سزا پر اعتقاد ہی رکھتا اور نہ آخرت کے نسیہ کی خاطر اپنا نقد مال قربان کرنے کا وہ حوصلہ ہی اپنے اندر پاتا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی مخالفت میں بخیل سب سے پیش پیش رہے ہیں۔ بخالت اور جزا و سزا کی تکذیب دونوں باتیں لازم و ملزوم ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہے:

      ’أَرَأَیْْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ ۵ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ ۵ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ‘ (الماعون ۱۰۷: ۱-۳)
      (دیکھا اس کو جو جزا کو جھٹلاتا ہے! وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھلانے پر لوگوں کو نہیں ابھارتا)۔

      ’جَمَعَ‘ کے ساتھ ’فَاَوْعٰی‘ کے لانے سے مقصود اس حقیقت کو ظاہر کرنا ہے کہ انھوں نے آنکھیں بند کر کے، حرام و حلال ہر راہ سے، مال جمع بھی کیا اور پھر اس کو نہایت اہتمام سے گن گن کر محفوظ بھی کیا۔ دوسرے مقام میں بخیلوں کی اسی خصلت کو ’جَمَعَ مَالاً وَعَدَّدَہُ‘ (الھمزۃ ۱۰۴: ۲) (مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا) سے تعبیر کیا ہے ۔۔۔ فرمایا کہ اس طرح کے بخیلوں کو بھی جنھوں نے جزا پر ایمان نہ رکھنے کے سبب سے پیغمبر کی دعوت انفاق سے اعراض کیا اس دن جہنم کی آگ کھینچ بلائے گی۔

       

      جاوید احمد غامدی اور مال جمع کیا، پھر سینت سینت کر رکھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی آنکھیں بند کرکے، حلال و حرام ہر راہ سے مال جمع بھی کیا اور اُسے گن گن کر رکھا بھی۔

    • امین احسن اصلاحی انسان بے صبرا پیدا کیا گیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ھَلوع‘ کے معنی جلد باز، بے صبرے اور تھڑدلے کے ہیں۔
      عام لفظ سے خاص گروہ کی طرف اشارہ: لفظ ’انسان‘ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں اس سے اشارہ انہی انسانوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ اللہ نے ان کو مہلت دی تو اس کی قدر کرنے کے بجائے عذاب کی جلدی مچائے ہوئے ہیں اور ابھی پکڑ میں آ جائیں گے تو واویلا کرنا شروع کر دیں گے۔ خدا نے مال دیا ہے تو اس سے آخرت کی کمائی کرنے کے بجائے اس پر مار گنج بن کر بیٹھ گئے ہیں، اس کو اپنی قابلیت و ذہانت کا ثمرہ اور اپنے استحقاق کا کرشمہ سمجھ رہے ہیں اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ یہ جو کچھ انھیں حاصل ہے اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کے منظور نظر ہیں اس وجہ سے انھیں یہ برابر حاصل رہے گا اور اگر آخرت ہوئی تو وہاں اس سے بھی زیادہ ان کے لیے محفوظ ہے۔ لیکن ابھی کوئی افتاد پیش آ جائے تو فوراً مایوس اور دل شکستہ ہو کر واویلا شروع کر دیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی شیخی اور اکڑ کی پروا نہ کرو۔ یہ نہایت اوچھے اور تھڑ دلے لوگ ہیں۔
      کسی خاص جماعت کو جب اس طرح کسی عام لفظ سے ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے مقصود، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں، بے اعتنائی بلکہ اس کی تحقیر کا اظہار ہوتا ہے۔ گویا متکلم نے اس کو اس قابل نہیں سمجھا کہ اس کو مخاطب کرے یا اس کی طرف اشارہ بھی کرے۔ یہ اسلوب بیان ہماری اپنی زبان میں بھی معروف ہے۔
      داعیات میں عدم توازن: ’اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًا‘ اسی طرح کا اسلوب بیان ہے جس طرح سورۂ انبیاء آیت ۳۷ میں ’خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ‘ یا سورۂ بنی اسرائیل آیت ۱۱ میں ’وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا‘ آیا ہے۔ انسانی فطرت کے اندر جس طرح شہوت، غضب، حرص اور اس قبیل کے دوسرے داعیات کا ایک مقام ہے اسی طرح عجلت کا بھی ایک موقع و محل ہے۔ یہ شے بجائے خود مذموم نہیں ہے۔ مذموم اگر ہے تو اس کا بے محل یا غیر معتدل ظہور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو متضاد داعیات کی کشمکش میں پیدا کر کے اس سے یہ چاہا ہے کہ وہ خدا کے احکام کے مطابق، جن کی تعلیم اس کو نبیوں کے ذریعہ سے دی گئی ہے، ان کے اندر توازن و ہم آہنگی پیدا کرے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی مرضیات اور اس کے قوانین کا تابع بنائے۔ اس امتحان میں کامیابی ہی پر انسان کی تمام اخروی سعادت کا انحصار ہے۔ اختیار کا شرف بھی اس کو اس امتحان کے لیے عطا ہوا ہے۔ یہ امتحان مقصود نہ ہوتا تو انسان کو اختیار سے مشرف کرنے کے کوئی معنی بھی نہ ہوتے اور اس کو دوسری مخلوقات پر برتری حاصل کرنے کی بھی کوئی وجہ نہ ہوتی۔
      آیت میں جس چیز کو ’ھلع‘ سے تعبیر فرمایا گیا ہے یہ بھی جلد بازی اور بے صبری ہی کی ایک شکل ہے۔ اگر یہ چیز انسان پر اس طرح غالب ہو جائے کہ دوسرے مقابل داعیات اس کے آگے مغلوب ہو جائیں تو ایسی صورت میں یہ کہنا بالکل مطابق حال ہوتا ہے کہ اس کی تخلیق گویا اسی عنصر سے ہوئی ہے۔ ہانڈی میں نمک ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہو جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہانڈی نمک ہی سے تیار ہوئی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ اِسی طرح جلدی مچاتے رہیں گے، تم اِن کی پروا نہ کرو)۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت بے صبرا پیدا ہوا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ انسان کی فطرت میں کسی چیز کے غلبہ کی تعبیر ہے۔استاذ امام کے الفاظ میں، ہانڈی میں نمک ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہو جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہانڈی نمک ہی سے تیار ہوئی ہے۔ عجلت کا داعیہ بجاے خود مذموم نہیں ہے اور انسان کی فطرت میں اِس کا ایک مقام بھی ہے، لیکن یہ اگر حد سے بڑھ جائے اور اِس کا ظہور بے محل ہو توقابل مذمت ہے۔
      لفظ ’الْاِنْسَان‘ سے اشارہ اُنھی بدبختوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ کسی خاص جماعت کا ذکر جب اِس طرح عام لفظ سے کیا جائے تو اِس سے بے اعتنائی، بلکہ تحقیر کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جانے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ھَلوع‘ کے معنی جلد باز، بے صبرے اور تھڑدلے کے ہیں۔
      عام لفظ سے خاص گروہ کی طرف اشارہ: لفظ ’انسان‘ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں اس سے اشارہ انہی انسانوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ اللہ نے ان کو مہلت دی تو اس کی قدر کرنے کے بجائے عذاب کی جلدی مچائے ہوئے ہیں اور ابھی پکڑ میں آ جائیں گے تو واویلا کرنا شروع کر دیں گے۔ خدا نے مال دیا ہے تو اس سے آخرت کی کمائی کرنے کے بجائے اس پر مار گنج بن کر بیٹھ گئے ہیں، اس کو اپنی قابلیت و ذہانت کا ثمرہ اور اپنے استحقاق کا کرشمہ سمجھ رہے ہیں اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ یہ جو کچھ انھیں حاصل ہے اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کے منظور نظر ہیں اس وجہ سے انھیں یہ برابر حاصل رہے گا اور اگر آخرت ہوئی تو وہاں اس سے بھی زیادہ ان کے لیے محفوظ ہے۔ لیکن ابھی کوئی افتاد پیش آ جائے تو فوراً مایوس اور دل شکستہ ہو کر واویلا شروع کر دیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی شیخی اور اکڑ کی پروا نہ کرو۔ یہ نہایت اوچھے اور تھڑ دلے لوگ ہیں۔
      کسی خاص جماعت کو جب اس طرح کسی عام لفظ سے ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے مقصود، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں، بے اعتنائی بلکہ اس کی تحقیر کا اظہار ہوتا ہے۔ گویا متکلم نے اس کو اس قابل نہیں سمجھا کہ اس کو مخاطب کرے یا اس کی طرف اشارہ بھی کرے۔ یہ اسلوب بیان ہماری اپنی زبان میں بھی معروف ہے۔
      داعیات میں عدم توازن: ’اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًا‘ اسی طرح کا اسلوب بیان ہے جس طرح سورۂ انبیاء آیت ۳۷ میں ’خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ‘ یا سورۂ بنی اسرائیل آیت ۱۱ میں ’وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا‘ آیا ہے۔ انسانی فطرت کے اندر جس طرح شہوت، غضب، حرص اور اس قبیل کے دوسرے داعیات کا ایک مقام ہے اسی طرح عجلت کا بھی ایک موقع و محل ہے۔ یہ شے بجائے خود مذموم نہیں ہے۔ مذموم اگر ہے تو اس کا بے محل یا غیر معتدل ظہور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو متضاد داعیات کی کشمکش میں پیدا کر کے اس سے یہ چاہا ہے کہ وہ خدا کے احکام کے مطابق، جن کی تعلیم اس کو نبیوں کے ذریعہ سے دی گئی ہے، ان کے اندر توازن و ہم آہنگی پیدا کرے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی مرضیات اور اس کے قوانین کا تابع بنائے۔ اس امتحان میں کامیابی ہی پر انسان کی تمام اخروی سعادت کا انحصار ہے۔ اختیار کا شرف بھی اس کو اس امتحان کے لیے عطا ہوا ہے۔ یہ امتحان مقصود نہ ہوتا تو انسان کو اختیار سے مشرف کرنے کے کوئی معنی بھی نہ ہوتے اور اس کو دوسری مخلوقات پر برتری حاصل کرنے کی بھی کوئی وجہ نہ ہوتی۔
      آیت میں جس چیز کو ’ھلع‘ سے تعبیر فرمایا گیا ہے یہ بھی جلد بازی اور بے صبری ہی کی ایک شکل ہے۔ اگر یہ چیز انسان پر اس طرح غالب ہو جائے کہ دوسرے مقابل داعیات اس کے آگے مغلوب ہو جائیں تو ایسی صورت میں یہ کہنا بالکل مطابق حال ہوتا ہے کہ اس کی تخلیق گویا اسی عنصر سے ہوئی ہے۔ ہانڈی میں نمک ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہو جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہانڈی نمک ہی سے تیار ہوئی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُس پر جب مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List