Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 52 آیات ) Al-Haqqah Al-Haqqah
Go
  • الحاقۃ (The Sure Reality)

    52 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور نظام

    اس سورہ پر تدبر کی نظر ڈالیے تو اس میں اور سابق گروپ کی سورۂ واقعہ میں مختلف پہلوؤں سے بڑی گہری مشابہت نظر آئے گی، مثلاً

    ۔۔۔ دونوں میں قیامت کا اثبات اور اس کے ہول کی تصویر ہے۔

    ۔۔۔ دونوں میں اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال کے انجام کی تفصیل ہے۔

    ۔۔۔ دونوں میں قرآن مجید کی صداقت و حقانیت پر قسم کھائی گئی ہے۔

    سابق سورہ ۔۔۔ القلم ۔۔۔ سے بھی اس کو بڑی گہری مناسبت ہے۔ اس کا عمود وہی ہے جو سابق سورہ کا ہے یعنی اثبات عذاب و قیامت۔ البتہ نہج استدلال دونوں میں الگ الگ ہے۔ قرآن کی عظمت و صداقت جس طرح سابق سورہ میں واضح کی گئی ہے اور اس کی تکذیب کے نتائج سے ڈرایا گیا ہے اسی طرح اس سورہ میں بھی یہی مضمون زیربحث آیا ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ سابق سورہ میں یہ مضمون تمہید کی حیثیت سے ہے اور اس سورہ میں خاتمہ کے طور پر اور تذکیر و تعلیم کے پہلو سے ان دونوں اسلوبوں کی اہمیت الگ الگ ہے۔

  • الحاقۃ (The Sure Reality)

    52 آیات | مکی
    الحاقۃ - المعارج

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ دنیا اور آخرت میں جس عذاب سے قریش کو متنبہ کرتی ہے،دوسری میں اُسی کا مذاق اڑانے اور اُس کے لیے جلدی مچانے والوں کو اُن کے انجام سے خبردار کیا گیا ہے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الحاقۃ — کا موضوع قیامت میں جزا و سزا کا اثبات، اُس کے حقائق کا بیان اور اُس کے بارے میں قرآن کے انذار کو جھٹلانے کے نتائج سے اپنے مخاطبین کو متنبہ کرنا ہے۔

    دوسری سورہ — المعارج — کا موضوع اِنھی نتائج کو استہزا کا نشانہ بنانے اور اِن کے لیے جلدی مچانے والوں کو اُن کے انجام سے خبردار کرنا، پیغمبر کو اُن کے مقابلے میں صبر کی تلقین کرنا اور اُنھیں یہ بتانا ہے کہ جنت حسن عمل کی جزا ہے۔ اِس سے محروم کوئی شخص، خواہ عرب و عجم کے صنادید میں سے کیوں نہ ہو، خدا کی اِس ابدی بادشاہی میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتا۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی شُدنی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اَلْحَاقَّۃُ‘ کا مفہوم: ’اَلْحَاقَّۃُ‘ کے معنی ہیں وہ بات جو شُدنی ہو، جس کا وقوع عقلاً و اخلاقاً لازم ہو، جو بالکل اٹل اور قطعی ہو۔ یہ ایک ہی لفظ جملہ کے قائم مقام ہے۔ جن لوگوں نے ’مَا الْحَاقَّۃُ‘ کو اس کی خبر قرار دیا ہے ان کی رائے صحیح نہیں ہے۔ یہ اسلوب بیان اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب مخاطب، خاص طور پر غافل مخاطب کو ہڑبڑا دینا مقصود ہو۔ ایسی صورت میں صرف مبتدا کا ذکر کافی ہوتا ہے، خبر کی ضرورت نہیں ہوتی تاکہ مخاطب کی پوری توجہ مبتدا ہی پر مرکوز ہو جائے۔ اس طرح جملہ میں جو ابہام پیدا ہوتا ہے وہ مخاطب کی توجہ جذب کرنے کا باعث بنتا ہے۔
      ’اَلْحَاقَّۃُ‘ قیامت کے ناموں میں سے ہے۔ یہ نام اس کے شُدنی اور واقعی ہونے کو بھی ظاہر کرتا ہے اور عقلاً اور اخلاقاً اس کے واجب ہونے کو بھی۔ اس کے ان دونوں پہلوؤں کے دلائل کی تفصیل پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہے، بعض اشارات اس سورہ میں بھی ہیں اور آگے کی سورتوں میں بھی اس کے نہایت اہم پہلو واضح ہوں گے۔
      اصلاً تو اس سے مراد قیامت ہی ہے لیکن ضمناً اس میں وہ عذاب بھی شامل ہے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً اس کی قوم پر آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عذاب قیامت کی تمہید بھی ہوتا ہے اور اس کی تصدیق بھی اور آتا بھی ہے درحقیقت قیامت کی تکذیب ہی کی پاداش میں۔ اللہ کے رسولوں نے بیک وقت دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک عذاب قیامت سے اور دوسرے اس عذاب سے جو تکذیب قیامت کا لازمی نتیجہ ہے۔ قوموں نے جب قیامت کو جھٹلایا اور رسول کی صداقت کی کسوٹی اس عذاب کو ٹھہرایا جس کی دھمکی انھیں تکذیب کے نتیجہ کے طور پر دی گئی تو اتمام حجت کے بعد یہ عذاب ان پر آ گیا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی ہر بات اور رسول کی ہر وعید سچی ہے اس وجہ سے یہ عذاب بھی ’حَاقَّۃُ‘ یعنی شُدنی کی حیثیت رکھتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی ہونی شدنی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’اَلْحَآقَّۃُ‘ آیا ہے۔ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے۔ اِس کے معنی ہیں: وہ چیز جو ہو کر رہے، جس کا واقع ہونا عقلی اور اخلاقی لحاظ سے لازم ہو، جو بالکل اٹل اور قطعی ہو۔ یہ ایک ہی لفظ یہاں جملہ کے قائم مقام ہو کر آیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ اسلوب بیان اُس وقت اختیار کیا جاتا ہے، جب مخاطب، خاص طور پر غافل مخاطب کو ہڑبڑا دینا مقصود ہو۔ ایسی صورت میں صرف مبتدا کا ذکر کافی ہوتا ہے،خبر کی ضرورت نہیں ہوتی تاکہ مخاطب کی پوری توجہ مبتدا ہی پر مرکوز ہو جائے۔ اِس طرح جملے میں جو ابہام پیدا ہوتا ہے، وہ مخاطب کی توجہ جذب کرنے کا باعث بنتا ہے۔‘‘ (تدبرقرآن۸/ ۵۴۱)

       

    • امین احسن اصلاحی کیا ہے شُدنی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’مَا الْحَاقَّۃُ‘۔ یہ سوال اس کے ہول، اس کی دہشت اور اس کی بے پناہی کی تعبیر کے لیے ہے جس کی مزید وضاحت بعد کے الفاظ ’وَمَا اَدْرٰکَ مَا الْحَاقَّۃُ‘ سے ہوتی ہے کہ کون جان سکتا اور کون بتا سکتا ہے کہ یہ شُدنی کیا ہے اور جب یہ ظہور میں آئے گی تو ان لوگوں پر کیا گزرے گی جو آج نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اس کو جھٹلا رہے ہیں!

      جاوید احمد غامدی کیا ہے ہونی شدنی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ سوال قیامت کے ہول، دہشت اور بے پناہی کی تعبیر کے لیے ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا جانو کہ کیا ہے شُدنی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’مَا الْحَاقَّۃُ‘۔ یہ سوال اس کے ہول، اس کی دہشت اور اس کی بے پناہی کی تعبیر کے لیے ہے جس کی مزید وضاحت بعد کے الفاظ ’وَمَا اَدْرٰکَ مَا الْحَاقَّۃُ‘ سے ہوتی ہے کہ کون جان سکتا اور کون بتا سکتا ہے کہ یہ شُدنی کیا ہے اور جب یہ ظہور میں آئے گی تو ان لوگوں پر کیا گزرے گی جو آج نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اس کو جھٹلا رہے ہیں!
      یہی اسلوب کلام سورۂ قارعہ میں بھی ہے۔ وہاں ’ان شاء اللہ‘ اس کی مزید وضاحت ہو گی۔

      جاوید احمد غامدی اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ ہونی شدنی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ثمود اور عاد نے اس کھٹکھٹانے والی کو جھٹلایا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’القارعۃ‘ کا مفہوم: اور جس شُدنی سے ڈرایا گیا ہے رسولوں اور ان کی قوموں کی تاریخ سے یہ اس کی شہادت پیش کی جا رہی ہے کہ جس طرح قریش عذاب اور قیامت کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح ثمود اور عاد نے بھی جھٹلایا تھا جس کا انجام ان کے سامنے آیا۔ یہاں عذاب اور قیامت کی تعبیر کے لیے لفظ ’قَارِعَۃٌ‘ آیا ہے جس کے معنی ٹھونکنے اور کھٹکھٹانے والی کے ہیں۔ قرآن میں عذاب الٰہی اور قیامت دونوں کی یہ خصوصیت بیان ہوئی ہے کہ ان کے آنے کا وقت کسی کو معلوم نہیں۔ یہ اچانک آ دھمکیں گے اور جس طرح کوئی اچانک آ کر دروازے کو کھٹکھٹاتا اور نچنت سونے والوں کو ہڑبڑا دیتا ہے اس طرح یہ بھی ایک ہلچل برپا کر دیں گے۔

      جاوید احمد غامدی ثمود اور عاد نے اِس کھڑکھڑانے والی کو جھٹلایا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ تعبیر بھی قیامت کے لیے ہے اور اِس لیے لائی گئی ہے کہ اِس کے آنے کا وقت کسی کو معلوم نہیں، یہ دفعتاً آ دھمکے گی اور استاذ امام کے الفاظ میں جس طرح کوئی اچانک آ کر دروازے کو کھٹکھٹاتا اور نچنت سونے والوں کو ہڑبڑا دیتا ہے، اِس طرح یہ بھی ایک ہلچل برپا کر دے گی۔

    • امین احسن اصلاحی تو ثمود ایک حد سے بڑھ جانے والی آفت سے ہلاک کر دیے گئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’طاغیۃ‘ کا مفہوم: فرمایا کہ ان میں سے ثمود تو ’طَاغِیَۃٌ‘ سے ہلاک کر دیے گئے۔ ’طَاغِیَۃٌ‘ کے معنی ہیں وہ شے جو اپنے حدود و قیود سے متجاوز ہو جائے۔ اس سورہ میں اس بارش کو جس نے قوم نوح کو غرق کیا ’طَغَا الْمَآءُ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ قوموں کو سزا ان کے رویہ کی مناسبت سے دیتا ہے، جب کوئی قوم طغیان کی روش اختیار کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی کائنات کی انہی چیزوں میں سے، جو انسان کی نفع رسانی کے لیے مسخر ہیں، کسی چیز کو اس کے خلاف طغیان پر ابھار دیتا ہے جو ’طَاغِیَۃٌ‘ بن کر اس کو ہلاک کر دیتی ہے۔ ثمود بھی، جیسا کہ ’کَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاہَا‘ (الشمس ۹۱: ۱۱) سے واضح ہے اپنے رب کے خلاف طغیان میں مبتلا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک آفت (طاغیۃ) مسلط کر دی۔
      یہ آفت کیا تھی؟ اس کی کوئی وضاحت یہاں نہیں ہے لیکن قرآن کے مختلف مقامات میں اس سے متعلق جو اشارات ہیں سورۂ ذاریات کی تفسیر میں ہم نے وہ بیان کر دیے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم ثمود کی تباہی صاعقہ کے ذریعہ سے ہوئی جو سرما کے دھاریوں والے بادلوں کے اندر سے نمودار ہوئی۔ اگرچہ سرما کے بادل اور ان کے ساتھ کڑک دمک کا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ جب چاہے ان کو قوموں کے لیے قیامت بنا دے۔
      اس زمانے میں سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے اور بظاہر انسان نیچر کی بہت سی قوتوں کو مسخر کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے لیکن آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے ساری سائنس اور تمام سائنس دانوں کی بے بسی ظاہر کر دیتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی تو ثمود اُس آفت سے ہلاک ہوئے جو حد سے باہر تھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ آفت کیا تھی؟ قرآن کے اشارات سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ سرما کے دھاریوں والے بادلوں سے یہ ایک صاعقہ کی صورت میں نمودار ہوئی اور اِس نے پوری قوم کو تباہ و برباد کر دیا۔

    • امین احسن اصلاحی رہے عاد تو وہ ایک بے قابو باد تند سے برباد ہوئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’عَاتِیَۃ‘ کا مفہوم: یہ عاد کے انجام کی طرف اشارہ فرمایا کہ ان پر سرما کی تیز و تند باد صر صر چلی اور اس نے ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ جس طرح اوپر ثمود کے بیان میں ’صاعقۃ‘ کو ’طاغیۃ‘ سے تعبیر کیا ہے اسی طرح یہاں باد صرصر کی صفت ’عاتیۃ‘ آئی ہے جس کے معنی ہیں وہ ہوا جو سرکش اور بے قابو ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو انسان کے لیے مسخر کیا ہے اور یہ اس کی زندگی اور بقا کے لیے ناگزیر ہے لیکن جب انسان سرکشی میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسی مسخر ہوا کو جب چاہتا ہے ذرا سی ڈھیل دے کر اس کے لیے عذاب بنا دیتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور عاد اُس تند و تیز آندھی سے برباد ہوئے جو سرکش اور بے قابو ہو گئی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جب اُنھوں نے سرکشی کی تو اللہ پروردگارعالم نے ہوا کی باگ چھوڑ دی اوروہ سرکش اور بے قابو ہو کر اُنھیں جڑ پیڑ سے اکھاڑنے لگی۔

    • امین احسن اصلاحی اس کو اللہ نے سات رات اور آٹھ دن ان کی بیخ کنی کے لیے ان پر مسلط رکھا۔ تم دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح پچھاڑے پڑے ہیں گویا کہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ہوا کو عذاب بنا دینے کی تصویر: یہ ہوا کو عذاب بنا دینے کی تصویر ہے کہ جو ہوا اللہ نے انسان کی خدمت کے لیے مسخر کی ہے اسی کو اس نے عاد کے اوپر عذاب بنا کر مسلط کر دیا اور وہ سات راتیں اور آٹھ دن ان کو جڑ پیڑ سے اکھاڑ دینے کے لیے ان پر چلتی رہی۔ ’حسم‘ اور ’حسوم‘ کے معنی استیصال کر دینے کے ہیں۔
      ’فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعَی کَأَنَّہُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ‘۔ ’تَرٰی‘ کا خطاب اس طرح کے مواقع میں عام ہوتا ہے اور ’اَلْقَوْمَ‘ یہاں حریف اور مدمقابل کے مفہوم میں ہے۔ عاد اپنے ’عُتو‘ (سرکشی) کے سبب سے گویا خدا کے حریف بن کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے اس وجہ سے اس لفظ کا استعمال یہاں نہایت موزوں ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ تم میں سے جو بھی ان کو دیکھتا تو وہ دیکھتا کہ اللہ کے عذاب نے ان کو اس طرح میدان میں پچھاڑ کے ڈال دیا ہے کہ گویا وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں جو ہوا کے زور سے ادھر ادھر لڑھکتے پھر رہے ہوں۔
      ’فِیْہَا‘ کی ضمیر مجرور کا مرجع ہوا بھی ہو سکتی ہے اور سرزمین عاد بھی۔ عربیت کے قاعدے سے یہ دونوں صحیح ہیں اور یہاں یہ دونوں معنی بنتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اللہ نے یہ (آندھی) اُنھیں جڑ پیڑ سے اُکھاڑنے کے لیے سات رات اور آٹھ دن اُن پر ٹھیرا دی۔ پھر تم اُن کو دیکھتے کہ اِس طرح اُس میں پچھڑے پڑے ہیں، جیسے وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی تو کیا تم دیکھتے ہو ان میں سے کوئی بچ رہنے والا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عذاب الٰہی کی بے پناہی: اس کا عطف اوپر والے ’فَتَرٰی‘ پر ہے۔ گویا قوم عاد کی بستیوں کو مخاطب کی چشم تصور کے سامنے کر کے یہ سوال فرمایا ہے کہ ذرا دور دور تک نگاہ دوڑا کے دیکھو کوئی متنفس بھی پوری قوم میں سے زندہ بچا ہوا نظر آتا ہے؟ ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ جب کسی قوم پر اللہ کا عذاب آتا ہے تو اس طرح اس کا ستھراؤ کر کے رکھ دیتا ہے! احمق ہیں وہ جو اس کے دیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ چیز دیکھنے کی نہیں بلکہ پناہ مانگنے کی ہے۔

      جاوید احمد غامدی تو اب کیا اِن میں سے کسی کو باقی دیکھتے ہو؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور فرعون اور اس سے پہلے والوں اور الٹی ہوئی بستیوں والوں نے بھی اسی جرم کا ارتکاب کیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرعون اور قوم لوط کا حوالہ: ’مُؤْتَفِکَۃٌ‘ کے معنی ہیں ’الٹی ہوئی‘۔ اس سے مراد یہاں قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ وہ زلزلہ سے الٹ دی گئی تھیں اور ’حاصب‘ یعنی کنکر برسانے والی ہوا نے ان کو ریت اور کنکروں سے ڈھانک دیا تھا۔ اوپر اقوام بائدہ میں سے دو قوموں کا ذکر ہوا تھا اب یہ فرعون اور قوم لوط وغیرہ کی بستیوں کی طرف اشارہ فرمایا جن کے آثار کے مشاہدہ کے مواقع قریش کو اکثر ملتے رہتے تھے۔ فرمایا کہ انھوں نے بھی اسی جرم کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب عاد و ثمود نے کیا اور ان کے سامنے بھی وہی انجام آیا جو ان کے سامنے آیا۔

      جاوید احمد غامدی اور یہی جرم فرعون اور اُس سے پہلے کے لوگوں نے کیا اور اُن بستیوں نے بھی جو تلپٹ ہو گئیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے قوم لوط اور اِس طرح کی بعض دوسری قوموں کی بستیاں مراد ہیں جن سے قریش واقف تھے۔

    • امین احسن اصلاحی انھوں نے اپنے رب کے رسولوں کی نافرمانی کی تو اس نے ان کو اپنی سخت گرفت میں دبوچ لیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ ان کے جرم کی نوعیت کی طرف اشارہ ہے کہ انھوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو اللہ نے ان کو ایسی پکڑ پکڑا جس سے پھر وہ چھوٹ نہ سکے۔
      رسول کی نافرمانی خدا سے بغاوت ہے: ’عَصَوْا رَسُولَ رَبِّہِمْ‘ کے الفاظ سے ان کے جرم کی سنگینی واضح ہوتی ہے کہ خدا کا رسول شاہ کائنات کا سفیر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جولوگ اس کی نافرمانی کرتے ہیں وہ گویا شاہ کائنات کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہیں جس کی پاداش میں وہ باغیوں کی سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔
      فیصلہ کن عذاب: ’اَخْذَۃً رَّابِیَۃً‘ سے مراد وہ پکڑ ہے جس کی مدافعت نہ ہو سکے اور جو انسان کی برداشت سے زیادہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک پکڑ تو وہ ہوتی ہے جس کا مقصود صرف تنبیہ اور یاددہانی ہوتا ہے۔ اس طرح کی پکڑ سے آدمی چھوٹ جاتا ہے لیکن جب کوئی قوم خدا کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی جسارت کرتی ہے تو وہ اس کو ایسی پکڑ پکڑتا ہے جس کی تاب لانا محال ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِس طرح کہ اُن سب نے اپنے پروردگار کے رسول کی نافرمانی کی۔ چنانچہ اُس نے اُنھیں ایسی پکڑ پکڑا جو(اپنی شدت میں) بڑھتی چلی گئی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِن الفاظ سے اُن کے جرم کی سنگینی واضح ہوتی ہے کہ اُنھوں نے جب خدا کے سفیر کی نافرمانی کی تو گویا خدا کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔

    • امین احسن اصلاحی اور جب پانی حد سے گزر گیا تو ہم ہی نے تم کو کشتی میں سوار کرایا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قوم نوح کی طرف اشارہ: یہ آخر میں قوم نوح کے واقعہ کی طرف بھی اشارہ فرما دیا جو مذکورہ واقعات سے بھی پہلے پیش آ چکا تھا۔ گویا اس طرح بالاجمال رسولوں کی پوری تاریخ مخاطب کے سامنے آ گئی۔
      اس واقعہ کے ذکر کا انداز مخاطب (قریش) پر امتنان و اظہار احسان کا ہے۔ ان کو یاددہانی فرمائی گئی ہے کہ تم جن اسلاف کے اخلاف ہو ان کو ہم ہی نے اپنے فضل سے نوح کی کشتی میں پناہ دی۔ اس پناہ کے مستحق وہ اس وجہ سے ٹھہرے کہ وہ اللہ کے رسول ۔۔۔ حضرت نوح علیہ السلام ۔۔۔ پر ایمان لائے۔ اگر وہ ایمان نہ لائے ہوتے تو وہ بھی اسی طرح غرق کر دیے گئے ہوتے جس طرح ان کی پوری قوم غرق کر دی گئی۔ جب تم انہی کے اخلاف ہو تو ہمارا یہ احسان بالواسطہ تمہارے اوپر بھی ہوا۔ آج تمہیں اپنی یہ تاریخ بھولنی نہیں چاہیے۔ اگر تم یہ بھول گئے اور رسول کی پیروی کی جگہ اس کی نافرمانی کی روش اختیار کی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ خدا تمہارے ساتھ وہی معاملہ نہ کرے جو اس نے نوحؑ کی نافرمانی کرنے والوں کے ساتھ کیا۔

      جاوید احمد غامدی (اِسی طرح نوح کو جھٹلانے کے نتیجے میں) جب (طوفان اٹھا اور ) پانی حد سے گزر گیا تو ہم ہی تھے کہ ہم نے تمھیں کشتی میں اٹھا لیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی تاکہ ہم اس واقعہ کو تمہارے لیے ایک درس موعظت بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اس کو سنیں اور محفوظ رکھیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سرگزشتیں سنانے کا مقصد: ضمیر مفعول کا مرجع صرف ’جَارِیَۃ‘ (کشتی) نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و نقمت کی یہ پوری سرگزشت ہے۔ اس طرح ضمیر لانے کی متعدد مثالیں اس کتاب میں گزر چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ طوفان نوح سے بچ رہنے والوں کو ہم نے اپنی رحمت و نقمت کی یہ شان بھول جانے کے لیے نہیں بلکہ یاد رکھنے، نصیحت حاصل کرنے اور اسلاف کی طرف سے اس کو اخلاف کو منتقل کرنے کے لیے دکھائی تھی۔ لیکن افسوس ہے کہ تم اس کو بھول گئے اور آج اسی طرح اپنے رسول سے لڑنے کو اٹھ کھڑے ہوئے جس طرح قوم نوح اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے کہ اِس (سرگذشت) کو تمھارے لیے نصیحت بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اِس کو سنیں اور یاد رکھیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اور کبھی نہ بھولیں کہ ہمارے اجدادپر یہ خدا نے احسان فرمایا اور اُن کے مقابلے میں مجرموں کا انجام یہ ہوا تھا۔ مگر افسوس کہ تم نے اِسے بھلا دیا اور اب ایک مرتبہ پھر رسول کی نافرمانی کرکے اپنی شامت بلا رہے ہو۔

    • امین احسن اصلاحی پس یاد رکھو جب کہ صور میں ایک ہی بار پھونک ماری جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دنیا کے عذاب آخرت کے عذاب کی شہادت ہیں: عذاب کے تاریخی واقعات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد یہ ظہور قیامت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس طرح قوموں پر عذاب لانے کے لیے ہمیں کوئی خاص اہتمام نہیں کرنا پڑا بلکہ جب چاہا چشم زدن میں عذاب آ گیا اسی طرح قیامت کے لانے کے لیے بھی ہمیں کوئی تیاری نہیں کرنی پڑے گی۔ بلکہ صُور میں صرف ایک پھونک ماری جائے گی جس سے قیامت کی ہلچل برپا ہو جائے گی۔

      جاوید احمد غامدی سو (اِسی طرح) جب صور میں ایک ہی مرتبہ پھونک ماری جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی بار میں پاش پاش کر دیا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَاحِدَۃً‘۔ اور اس زمین اور اس کے پہاڑوں کو بھی کوئی ایسی چیز نہ سمجھو جن کو درہم برہم کرنے میں ہمیں کوئی زحمت پیش آئے گی بلکہ ہم دونوں کو ایک ہی ساتھ اٹھائیں گے۔ ایک ہاتھ میں زمین ہو گی دوسرے میں اس کے پہاڑ اور ان کو ایک ہی بار میں ٹکرا کر پاش پاش کر دیں گے۔ گویا دو شیشے کے گلاس تھے جو ایک ہی مرتبہ میں چور چور ہو گئے ۔۔۔ یہاں وہ بات یاد رکھیے جس کا حوالہ قرآن نے جگہ جگہ دیا ہے کہ منکرین قیامت جب قیامت کا مذاق اڑاتے تو یہ بھی کہتے کہ کیا جب قیامت آئے گی تو ان پہاڑوں کو بھی پاش پاش کر دے گی۔ مطلب یہ کہ یہ انہونی ہے اس وجہ سے ان کے زعم میں قیامت بھی محض ایک خیالی ہوّا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی مرتبہ پاش پاش کر دیا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی تو اس دن واقع ہونے والی واقع ہو جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فَیَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ‘۔ فرمایا کہ اس دن وہ واقع ہونے والی واقع ہو جائے گی جس کو تم بہت بعید از امکان خیال کیے بیٹھے ہو۔
      اوپر کی آیات میں قیامت کو ’حَآقَّۃ‘ اور ’قَارِعَۃ‘ وغیرہ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے یہاں اس کو لفظ ’وَاقِعَۃ‘ سے تعبیر کیا ہے جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی اس کو بعید از امکان چیز سمجھتا ہے تو سمجھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ایک امر واقعی ہے جو لازماً ایک دن پیش آ کے رہے گا۔

      جاوید احمد غامدی تو اُس دن ہونے والی ہو جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      عذاب کے اُن تاریخی واقعات سے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے، یہ اب قیامت کا اثبات فرمایا ہے کہ جس طرح عادو ثمود، فرعون اور قوم نوح کو تباہ کرنے کے لیے ہمیں کوئی تیاری نہیں کرنی پڑی، اِسی طرح قیامت بھی بغیر کسی تردد کے، چشم زدن میں برپا ہو جائے گی۔

    • امین احسن اصلاحی اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن وہ نہایت پھُس پھُسا ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کے دن آسمان کا حال: زمین اور اس کے پہاڑوں کا حشر بیان کرنے کے بعد یہ آسمان کا حال بتایا کہ اس دن یہ بھی پھٹ جائے گا۔ ’فَہِیَ یَوْمَئِذٍ وَاہِیَۃٌ‘ یعنی آج تو یہ دیکھنے والوں کو نہایت ٹھوس اور محکم نظر آتا ہے، کہیں ڈھونڈے سے بھی اس میں کسی نقص یا شگاف کا کوئی نشان نہیں مل سکتا لیکن اس دن یہ بالکل بودا اور پھس پھسا ہو جائے گا اور روئی کے گالوں اور دھوئیں کی طرح اڑے گا۔

      جاوید احمد غامدی اور آسمان پھٹ جائے گا، پھر (تم دیکھو گے کہ) اُس دن وہ بہت ہی بودا ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور تیرے رب کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کے دن فرشتوں کا حال: آسمان کے پھٹ جانے کے بعد آسمان کے فرشتوں کا جو حال ہو گا یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت وہ اس کے اطراف اور کناروں میں سمٹے ہوئے ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس ہلچل سے ان پر بھی ایک سراسیمگی کی حالت طاری ہو گی۔ یہ ان مشرکین کی آگاہی کے لیے واضح فرمایا ہے جو فرشتوں سے لو لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ان کے مرجع بنیں گے اور ان کی سفارش کریں گے۔
      ’وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَھُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ‘۔ یعنی اس انقلاب حال سے سارا عملہ تو اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر ایک طرف ہو جائے گا، بس عرش الٰہی کے اٹھانے والے رہ جائیں گے سو اس کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔
      قرآن مجید میں قیامت کے جو احوال بیان ہوئے ہیں ان کا تعلق متشابہات سے ہے۔ ہمارے فہم سے قریب لانے کے لیے ان کو ایسے لفظوں میں بیان کیا جاتا ہے جن سے فی الجملہ ان کا تصور ہمارے ذہن میں قائم ہو سکے۔ یہ احوال ایک نادیدہ عالم کے ہیں، ان کا تصور دینے کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ان کی اصل حقیقت کا جاننا اس عالم میں ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ قرآن نے ان کے متعلق یہ ہدایت دی ہے کہ وہ جس طرح بیان ہوئے ہیں اسی طرح ان پر اجمالی ایمان رکھا جائے۔ ان کی اصل حقیقت کے درپے نہ ہوا جائے ورنہ اندیشہ ہے کہ آدمی کسی فتنہ میں پڑ جائے۔

      جاوید احمد غامدی اور فرشتے اُس کے کناروں پر (سمٹے ہوئے) ہوں گے اور تمھارے پروردگار کا تخت اُس دن آٹھ فرشتے اپنے اوپر اُٹھائے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جنھیں تم دیویاں بنا کر پوجتے اورخدا کے حضور میں جن سے سفارش کی توقع رکھتے ہو، وہ اِس حادثے سے سراسیمہ ہو کر آسمان کے کناروں پر اِس طرح سمٹے ہوئے ہوں گے۔
      یہ امور متشابہات میں سے ہے جن کی حقیقت ہم دنیا میں نہیں سمجھ سکتے۔استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ احوال ایک نادیدہ عالم کے ہیں، اِن کا تصور دینے کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اِن کی اصل حقیقت کا جاننا اِس عالم میں ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ قرآن نے اِن کے متعلق یہ ہدایت دی ہے کہ وہ جس طرح بیان ہوئے ہیں، اُسی طرح اِن پر اجمالی ایمان رکھا جائے۔ اِن کی اصل حقیقت کے درپے نہ ہوا جائے، ورنہ اندیشہ ہے کہ آدمی کسی فتنے میں پڑ جائے۔‘‘ (تدبرقرآن۸/ ۵۴۶)

       

    • امین احسن اصلاحی اس دن تمہاری پیشی ہو گی۔ تمہاری کوئی بات بھی ڈھکی چھپی نہیں رہے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جزا و سزا کی تفصیل: فرمایا کہ اس دن تم سب پیش کیے جاؤ گے اور تمہاری کوئی چیز بھی ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی۔ پیش کیے جانے سے مراد ظاہر ہے کہ خدا کے حضور پیش کیا جانا ہے۔ اس دن آسمانوں اور زمینوں کی ساری بساط لپیٹ کر رکھ دی جائے گی اس وجہ سے نہ تو کسی کے لیے کوئی جگہ چھپنے کی ہو گی اور نہ کوئی چیز چھپانے کی۔

      جاوید احمد غامدی اُس دن تم پیش کیے جاؤ گے، اِس طرح کہ تمھاری کوئی چھپی ہوئی بات بھی چھپی نہ رہے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پس جس کو دیا جائے گا اس کا اعمال نامہ اس کے دہنے ہاتھ میں تو وہ کہے گا، پڑھو میرا اعمال نامہ! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیشی کے بعد اب یہ اس جزا و سزا کی تفصیل آ رہی ہے جس سے ہر ایک کو سابقہ پیش آنا ہے۔ پہلے اہل ایمان کا حال بیان ہو رہا ہے۔ فرمایا کہ جس کو اس کا اعمال نامہ دہنے ہاتھ میں پکڑایا جائے گا وہ تو دیکھتے ہی خوشی سے اچھل پڑے گا۔ دوسروں سے کہے گا، یہ لو میرا اعمال نامہ پڑھو!
      ’ھا‘ کی حیثیت ہے تو مجرد ایک آواز کی جیسے ’ارے‘ یا ’اُف‘ وغیرہ لیکن یہ اس موقع پر بولتے ہیں جب کہنا ہو ’یہ لو‘۔ یہاں ’ھا‘ اور ’اِقْرَؤُوْا‘ کے بیچ میں ’ؤُمْ‘ محض اس خلا کو بھرنے کے لیے آ گیا ہے جو دونوں کے بیچ میں ہے۔ اس طرح کے زوائد کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ ’کِتَابِیْہْ‘ میں ’ہ‘ سکتہ کی ہے جو محض قافیہ کی رعایت سے آ گئی ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں اور آگے بھی آ رہی ہیں۔

      جاوید احمد غامدی پھر جس کا نامۂ اعمال اُس کے دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: لو پڑھو، میرا نامۂ اعمال۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی میں نے گمان رکھا کہ مجھے اپنے حساب سے دوچار ہونا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ساتھ ہی وہ اپنی اس عظیم کامیابی کا سبب بھی بتائے گا کہ میں نے ہمیشہ اپنے دل میں یہ گمان رکھا کہ مجھے ایک دن اپنے زندگی کے حساب کتاب سے دوچار ہونا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اسی گمان نے میری حفاظت کی اور میں ایک ایسا اعمال نامہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا جس کو دوسروں کے سامنے نہایت خوشی کے ساتھ پیش کر سکوں۔
      جزا اور سزا کو ماننے کے لیے ظن غالب کافی ہے: ’ظَنٌّ‘ یہاں ظن غالب کے مفہوم میں ہے۔ آفاق و انفس اور انبیاء و حکماء کی تعلیم میں جزا و سزا کے ایسے دلائل موجود ہیں کہ آدمی بالکل ہی بلید اور لاابالی نہ ہو تو اس کا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ زندگی یوں ہی نہیں تمام ہو جائے گی بلکہ ایک دن جزا اور سزا سے سابقہ پیش آنا بھی لازمی ہے۔ اگرچہ اس بات پر اس کو اس طرح کا یقین تو نہیں ہوتا جو آنکھوں دیکھی چیز پر ہوا کرتا ہے لیکن ایسا ظن غالب ضرور ہوتا ہے جس کے بعد وہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ اس کو نظر انداز کر کے زندگی گزارے اور عاقبت کی کوئی پروا نہ کرے۔ اس ظن غالب سے آخرت پر جو ایمان پیدا ہوتا ہے وہ بالتدریج ایمانی تجربات سے مضبوط ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ درجہ بدرجہ یقین کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ اگر آدمی اس ظن غالب کو نظر انداز کر کے اس انتظار میں رہے کہ جب اس کو آخرت کا یقین ہو جائے گا تب اس کو مانے گا تو یہ انتظار اسی دن ختم ہو گا جس دن وہ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اس دن کا ایمان اس کے لیے بالکل بے سود ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی مجھے یہ خیال رہا کہ (ایک دن) مجھے اپنے اِس حساب سے دوچار ہونا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’ظَنّ‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ ظن غالب کے مفہوم میں ہے۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جزا و سزا کو ماننے کے لیے یہی کافی ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...آفاق و انفس اور انبیا و حکما کی تعلیم میں جزا و سزا کے لیے ایسے دلائل موجود ہیں کہ آدمی بالکل ہی بلید اور لا ابالی نہ ہو تو اُس کا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ زندگی یوں ہی نہیں تمام ہو جائے گی، بلکہ ایک دن جزا اور سزا سے سابقہ پیش آنا بھی لازمی ہے۔ اگرچہ اِس بات پر اُس کو اِس طرح کا یقین تو نہیں ہوتا جو آنکھوں دیکھی چیز پر ہوا کرتا ہے، لیکن ایسا ظن غالب ضرور ہوتا ہے جس کے بعد وہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ اُس کو نظر انداز کرکے زندگی گزارے اور عاقبت کی کوئی پروا نہ کرے۔ اِس ظن غالب سے آخرت پر جو ایمان پیدا ہوتا ہے ، وہ بالتدریج ایمانی تجربات سے مضبوط ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ درجہ بہ درجہ یقین کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ اگر آدمی اِس ظن غالب کو نظر انداز کرکے اِس انتظار میں رہے کہ جب اُس کو آخرت کا یقین ہو جائے گا، تب اُس کو مانے گا تو یہ انتظار اُسی دن ختم ہو گا، جس دن وہ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اُس دن کا ایمان اُس کے لیے بالکل بے سود ہو گا۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۵۴۷)

       

    Join our Mailing List