Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 52 آیات ) Al-Qalam Al-Qalam
Go
  • القلم (The Pen)

    52 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور مطالب کا تجزیہ

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الملک ۔۔۔ کا مثنیٰ ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود اور موضوع میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ صرف طرز بیان، نہج استدلال اور لب و لہجہ میں فرق ہے۔ جس طرح سابق سورہ میں قریش کو عذاب اور قیامت سے ڈرایا گیا ہے اسی طرح اس سورہ میں بھی ان کو عذاب و قیامت سے ڈرایا گیا ہے لیکن اس سورہ کا لب و لہجہ سابق سورہ کے مقابل میں تیز ہے۔

    سابق سورہ کے آخر میں قریش کو مخاطب کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہلوایا گیا ہے کہ ’إِنْ أَہْلَکَنِیَ اللَّہُ وَمَن مَّعِیَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن یُجِیْرُ الْکَافِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ أَلِیْمٍ‘ کہ اس خبط میں نہ رہو کہ میں کوئی شاعر اور دیوانہ ہوں جس کو گردش روزگار بہت جلد فنا کر دے گی۔ تمہاری یہ توقع بالفرض پوری بھی ہو جائے جب بھی تمہارے لیے اس میں اطمینان کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ یہ سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ تمہیں خدا کے عذاب سے بچانے والا کون بنے گا؟ اس سورہ میں اسی مضمون کی تائید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت، آپ کی پیش کردہ کتاب اور آپ کے اعلیٰ کردار کا موازنہ قریش کی فاسقانہ قیادت کے کردار سے کر کے یہ دکھایا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب موافق و مخالف دونوں پر واضح ہو جائے گا کہ کن کی باگ فتنہ میں پڑے ہوئے لیڈروں کے ہاتھ میں ہے جو ان کو تباہی کی راہ پر لے جا رہے ہیں اور کون لوگ ہدایت کی راہ پر ہیں اور وہ فلاح پانے والے بنیں گے۔

    اس کے بعد باغ والوں کی تمثیل کے ذریعہ سے قریش کو متنبہ فرمایا ہے کہ آج جو امن و اطمینان تمہیں حاصل ہے اس سے اس دھوکے میں نہ رہو کہ اب تمہارے اس عیش میں کوئی رخنہ پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ جس خدا نے تمہیں یہ سب کچھ بخشا ہے اس کے اختیار میں اس کو چھین لینا بھی ہے۔ اگر تم اس سے نچنت ہو بیٹھے ہو تو یاد رکھو کہ وہ چشم زدن میں تم کو اس سے محروم بھی کر سکتا ہے۔ پھر تم کف افسوس ملتے ہی رہ جاؤ گے۔

    آخر میں مکذبین قیامت کی اس فاسد ذہنیت پر ضرب لگائی ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو عیش و آرام انھیں یہاں حاصل ہے اگر آخرت ہوئی تو وہاں بھی انھیں یہی کچھ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر حاصل ہو گا۔ ان سے سوال کیا ہے کہ آخر انھوں نے خدا کو اتنا نامنصف کس طرح سمجھ رکھا ہے کہ وہ نیکوں اور بدووں میں کوئی امتیاز نہیں کرے گا؟ ساتھ ہی ان کو چیلنج کیا ہے کہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس طرح کا کوئی عہد کرا لیا ہے یا کوئی ان کے لیے اس کا ضامن بنا ہے تو اس کو پیش کریں۔ اسی ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ آج جو سخن سازیاں یہ لوگ کر رہے ہیں اس کا غم نہ کرو، جب قیامت کی ہلچل برپا ہو گی تب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ جو خواب وہ دیکھتے رہے تھے وہ حقیقت سے کتنے دور تھے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے استدراج کے پھندے میں پھنس چکے ہیں اور اس کی تدبیر نہایت محکم ہوتی ہے۔ اس سے بچ نکلنے کا ان کے لیے کوئی امکان نہیں ہے تو صبر کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو اور اس طرح کی عجلت سے بچو جس میں یونس علیہ السلام مبتلا ہوئے اور جس کے سبب سے ان کو ایک سخت امتحان سے دوچار ہونا پڑا۔

  • القلم (The Pen)

    52 آیات | مکی
    الملک - القلم

    ۶۷ - ۶۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں قیامت اور دوسری میں اُس عذاب سے خبردار کیا گیا ہے جو رسول کی تکذیب کے نتیجے میں اُس کی قوم پر لازماً آتا ہے۔ دونوں میں خطاب اگرچہ جگہ جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہے، لیکن روے سخن ہر جگہ قریش کے سرداروں کی طرف ہے۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔ پہلی سورہ—- الملک—- کا موضوع قریش پر یہ واضح کرنا ہے کہ دنیا جس طرح اور جس غایت کے لیے وجود میں آئی ہے، قیامت اُس کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ لہٰذا اُس سے بے خوف ہو کر اپنے آپ کو اُس انجام تک نہ پہنچاؤ، جہاں اعتراف جرم کے سوا کوئی چارہ اوراِس اعتراف کے نتائج کو بھگتنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔ اُس پروردگار سے ڈرو جو آج بھی، جس وقت اور جس طرح چاہے، تمھیں اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔

    سورہ میں استدلال خدا کی رحمت، قدرت اور ربوبیت کی اُن نشانیوں سے ہے جو انسان ہر لحظہ اپنے گردوپیش دیکھتا ہے۔

    دوسری سورہ—- القلم—- کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کردہ کتاب اور آپ کی سیرت سے قریش کے سرداروں کی سیرت و کردار اور اُن کے مزعومات کا موازنہ کرکے اُنھیں اِس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ خداکی کتاب اور اُس کے پیغمبر کے مقابلے میں وہ سرکشی اور تمردکارویہ اختیار نہ کریں۔ اُن کے سب باغ و بہار اور اُن کا تمام سرمایۂ فخر و مباہات عذاب کی زد میں
    ہے۔ وہ عقل سے کام لیں، اُن کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وہ صرف اِس لیے باتیں بنا رہے ہیں کہ اُنھیں ڈھیل دی جا رہی ہے۔ خدا کا فیصلہ عنقریب اُن کے بارے میں صادر ہوجائے گا۔

    سورہ کے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کے ساتھ اِس فیصلے کا انتظار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ سورۂ نٓ ہے۔ قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جو وہ لکھتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حرف ’نٓ‘ کے معنی: جس طرح ’قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ‘ (قٓ ۵۰: ۱) میں ’قٓ‘ سورہ کا نام ہے اسی طرح یہاں ’نٓ‘ اس سورہ کا نام ہے۔ عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق مبتدا یہاں حذف ہو گیا ہے جس کو ہم نے ترجمہ میں کھول دیا ہے۔ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں امام فراہی رحمۃ اللہ علیہ کے اس نظریہ کا حوالہ ہم دے چکے ہیں کہ ابتداءً یہ حروف معانی پر دلیل ہوتے تھے، اب ان کے معانی کا علم اگرچہ باقی نہیں رہا تاہم بعض حروف اب بھی معنی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس دعوے کے ثبوت میں استاذ امامؒ نے جن حروف کا حوالہ دیا ہے ان میں یہ حرف بھی شامل ہے۔ جو اب بھی اپنے قدیم معنی (مچھلی) میں مستعمل ہے۔ اس سورہ کو اس نام سے موسوم کرنے میں اشارہ ہے حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ کی طرف جن کو مچھلی نے نگل لیا تھا، چنانچہ سورہ کے آخر میں ’صَاحِبُ الْحُوْتِ‘ (مچھلی والے) کے لقب سے آنجنابؑ کا ذکر آیا بھی ہے۔ سورۂ انبیاء کی آیت ۸۷ میں ’ذُوا النُّوْنِ‘ کے لقب سے بھی آپ کو ملقب فرمایا گیا ہے جس کے معنی بعینہٖ وہی ہیں جو ’صاحب الحوت‘ کے ہیں۔
      قلم کی شہادت تین دعاوی پر: ’وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوۡنَ‘ یہ ’وَ‘ قسم کے لیے ہے اور یہ بات ہم بار بار ظاہر کر چکے ہیں کہ قرآن میں قسمیں کسی دعوے پر شہادت کے لیے کھائی گئی ہیں۔ یہاں دعوے کے طور پر، جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی، تین باتیں مذکور ہیں جن کو ثابت کرنے کے لیے یہ قسم کھائی گئی ہے۔
      ایک یہ کہ مخالفین آپ کو (پیغمبر صلعم) جو دیوانہ کہتے ہیں یہ ان کی خرد باختگی ہے۔ آپ دیوانے نہیں بلکہ اللہ کے فضل سے تمام فرزانوں سے بڑھ کر فرزانے ہیں۔
      دوسری یہ کہ مخالفین جو یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ آپ کی یہ ساری سرگرمیاں چند روزہ ہیں جو بہت جلد ہوا میں اڑ جائیں گی، یہ بالکل غلط فہمی ہے۔ آپ کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں ایک غیر منقطع اجر مقدر ہے۔
      تیسری یہ کہ آپ ایک اعلیٰ کردار کے مالک ہیں اس وجہ سے جو لوگ آپ کو شاعر، کاہن یا دیوانہ سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں وہ اپنی شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔
      ان دعاوی پر قرآن میں جگہ جگہ خود قرآن ہی کو شہادت میں پیش کیا گیا ہے اس وجہ سے قرینہ اسی بات کا ہے کہ یہاں بھی ’وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوۡن‘ سے قرآن ہی مراد ہو۔ چنانچہ مجاہدؒ سے روایت بھی ہے کہ ’القلم‘ سے مراد وہ قلم ہے جس سے قرآن مجید لکھا جا رہا تھا اور ’وَمَا یَسْطُرُوۡن‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔
      قلم کی اہمیت کے چند پہلو: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ ’تعلیم بالقلم‘ اللہ تعالیٰ کے عظیم احسانات میں سے ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے:

      ’اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ ۵ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۵ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ‘ (العلق ۹۶: ۳-۵)
      (پڑھو اور تمہارا رب نہایت ہی بافیض رب ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے تعلیم دی، انسان کو سکھایا وہ کچھ جو وہ نہیں جانتا تھا)

      سابق انبیاء علیہم السلام نے جو تعلیم دی وہ زبانی تعلیم کی شکل میں تھی جس کو محفوظ رکھنا نہایت مشکل تھا۔ وہ بہت جلد یا تو محرف ہو کر مسخ ہو جاتی یا اس پر نسیان کا پردہ پڑ جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے دین کو اس آفت سے محفوظ رکھنے کے لیے انسان کو قلم اور تحریر کے استعمال کا طریقہ سکھایا جس سے وہ اس قابل ہوا کہ زبانی تعلیم کی جگہ اس کو تحریر کے ذریعہ سے تعلیم دی جائے۔ چنانچہ سب سے پہلے اس کو تورات کے احکام عشرہ الواح میں لکھ کر دیے گئے۔ پھر دوسرے نبیوں کی تعلیمات بھی قلم بند ہوئی اور سب کے آخر میں سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب اس طرح محفوظ کی گئی کہ قیامت تک اس میں کسی تحریف و تغیر کا کوئی ادنیٰ احتمال بھی باقی نہ رہا۔
      قلم سے مراد: ’قلم‘ کی اسی اہمیت کے سبب سے یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھائی ہے۔ ہمارے نزدیک اس سے یہاں کوئی خاص قلم مراد نہیں ہے بلکہ یہ لفظ تعبیر ہے تعلیمات الٰہیہ کے اس پورے مدوّن سرمایہ (WRITTEN RECORD) کی جو قلم کے ذریعہ سے محفوظ ہوا۔ یعنی تورات، زبور، انجیل وغیرہ۔ ان مقدس صحیفوں کی تعلیمات بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتی ہیں اور ان کے اندر آپ کے ظہور کی ناقابل تردید شہادتیں بھی ہیں۔ ان ساری چیزوں کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔
      ’وَمَا یَسْطُرُوۡن‘ کا مفہوم: ’وَمَا یَسْطُرُون‘ سے مراد، قرینہ دلیل ہے کہ، قرآن مجید ہے جو اس وقت نازل بھی ہو رہا تھا اور صحابہؓ کے ہاتھوں لکھا بھی جا رہا تھا۔ پچھلے صحیفوں کی قسم کے بعد یہ خود قرآن مجید کی قسم ہے۔ اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت، رزانت اور رسالت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ جو شخص ایسا اعلیٰ اور برتر کلام پیش کر رہا ہے اس کا یہ کلام ہی دلیل ہے کہ یہ کوئی کاہن یا شاعر یا دیوانہ نہیں ہے بلکہ اللہ کا رسول ہے۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ کفار کے اس قسم کے طعنوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے بالعموم قرآن مجید ہی کو ان کے سامنے پیش کیا ہے کہ وہ اس کو دیکھیں اور انصاف سے فیصلہ کریں کہ یہ کسی دیوانے یا کاہن یا شاعر کا کلام ہو سکتا ہے یا اللہ تعالیٰ کا؟

       

      جاوید احمد غامدی یہ سورۂ نون ہے۔ قلم گواہی دیتا ہے اور جو کچھ (لکھنے والے اُس سے) لکھ رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      نون کے معنی مچھلی کے ہیں۔ سورۂ بقرہ کی ابتدا میں ہم نے بیان کیا ہے کہ ابتداءً یہ حروف معانی پر دلیل ہوتے تھے۔ اِن میں سے بعض اب بھی اپنے اُسی قدیم معنی میں مستعمل ہیں۔ یہ حرف نون بھی اُنھی میں سے ہے۔ اِس کے معنی مچھلی کے ہیں۔ اِس سورہ کا نام نون اِس لیے رکھا گیا ہے کہ اِس میں یونس علیہ السلام کا واقعہ مذکور ہے جنھیں مچھلی نے نگل لیا تھا۔
      یعنی اِس وقت لکھ رہے ہیں۔ اِس سے، ظاہر ہے کہ قرآن مجید مراد ہے۔ یہ بھی قلم سے لکھا گیا اور اِس سے پہلے کے صحیفے بھی قلم ہی کے ذریعے سے محفوظ کیے گئے۔ اِس لحاظ سے دیکھیے تو یہ درحقیقت تعلیمات الٰہیہ کے اُس پورے مدون سرمایے کی گواہی ہے جو تورات، انجیل، زبور اور قرآن کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے۔ اِن کے مضامین، پیشین گوئیاں اور تعلیمات، سب گواہی دیتی ہیں کہ جس طرح تورات و انجیل اور زبور کے پیش کرنے والے کوئی دیوانے نہیں تھے، اِسی طرح قرآن بھی اپنے مضامین کی عظمت، بزرگی اور برتری، اپنے اسلوب کی غیر معمولی قدرت اور بے مثل بلاغت سے گواہی دے رہا ہے کہ اِس کا پیش کرنے والا بھی کوئی کاہن یا شاعر یا دیوانہ نہیں ہو سکتا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...قریش کے لیڈروں کی سمجھ میں یہ بات کسی طرح نہیں آتی تھی کہ آپ جس عذاب سے اُن کو اِس شدومد اور اِس جزم و یقین کے ساتھ ڈرا رہے ہیں کہ گویا اُس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں، آخر وہ کدھر سے آجائے گا؟ اُن کو یہ پریشانی لاحق تھی کہ آپ کے لب و لہجہ میں جو غیر معمولی جزم ویقین ، آپ کے انداز دعوت میں جو مافوق العادت بے چینی و بے قراری اور آپ کی تذکیر میں دلوں کو ہلا دینے والی جو دردمندی و شفقت ہے، اُس سے اُن کے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ اِس اثر کو زائل کرنے کے لیے اُنھوں نے لوگوں کو یہ باور کرانا چاہا کہ اِس شخص کی یہ ساری بے چینی و بے قراری اِس وجہ سے نہیں ہے کہ فی الواقع کوئی عذاب آنے والا ہے جس سے آگاہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اِس کو بھیجا ہے، بلکہ بعض اشخاص کو جس طرح کسی چیز کا مالیخولیا ہو جاتا ہے اور وہ اٹھتے بیٹھتے اُسی کی رٹ لگائے رکھتے ہیں، اِسی طرح اِس شخص کو بھی عذاب کا مالیخولیا ہو گیا ہے جو اِس کو ہر طرف سے آتا دکھائی دے رہا ہے۔ اِس بات کو تقویت دینے کے لیے اِس پر وہ یہ اضافہ بھی کر دیتے کہ کسی نے اِس پر جادو کر دیا ہے جس کے سبب سے اِس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں رہی ہے اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۵۱۴)

    • امین احسن اصلاحی کہ تم اپنے رب کے فضل سے کوئی دیوانے نہیں ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قسم کا مقسم علیہ: یہ مقسم علیہ ہے۔ یعنی تمام پچھلے آسمانی صحیفے اور یہ قرآن، جو لکھا جا رہا ہے، سب اس بات پر شاہد ہیں کہ تم اللہ کے فضل سے کوئی دیوانے نہیں ہو۔ بلکہ تم انہی باتوں سے لوگوں کو آگاہ کر رہے ہو جن سے آدم علیہ السلام سے لے کر مسیح علیہ السلام تک ہر نبی نے آگاہ کیا اور جن کی صداقت پر تاریخ گواہ ہے۔ اگر یہ مدعیان دانش اس جرم میں تمہیں دیوانہ کہہ رہے ہیں تو اس کا غم نہ کرو، تم دیوانے نہیں بلکہ اپنے رب کے سب سے بڑے فضل سے بہرہ مند ہو البتہ ان دانش فروشوں کی عقل ماری گئی ہے کہ یہ دیوانے اور فرزانے میں امتیاز سے قاصر ہیں۔
      آنحضرت صلعم کو مجنون کہنے کی وجہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مجنون کہنے کی وجہ ہم اس کے محل میں ظاہر کر چکے ہیں کہ قریش کے لیڈروں کی سمجھ میں یہ بات کسی طرح نہیں آتی تھی کہ آپؐ جس عذاب سے ان کو اس شد و مد اور اس جزم و یقین کے ساتھ ڈرا رہے ہیں کہ گویا اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں آخر وہ کدھر سے آ جائے گا؟ ان کو یہ پریشانی لاحق تھی کہ آپ کے لب و لہجہ میں جو غیر معمولی جزم و یقین، آپ کے انداز دعوت میں جو مافوق العادت بے چینی و بے قراری اور آپ کی تذکیر میں دلوں کو ہلا دینے والی جو درد مندی و شفقت ہے اس سے ان کے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ اس اثر کو زائل کرنے کے لیے انھوں نے لوگوں کو یہ باور کرانا چاہا کہ اس شخص کی یہ ساری بے چینی و بے قراری اس وجہ سے نہیں ہے کہ فی الواقع کوئی عذاب آنے والا ہے جس سے آگاہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بھیجا ہے بلکہ بعض اشخاص کو جس طرح کسی چیز کا مالیخولیا ہو جاتا ہے اور وہ اٹھتے بیٹھتے اسی کی رٹ لگائے رکھتے ہیں اسی طرح اس شخص کو بھی عذاب کا مالیخولیا ہو گیا ہے جو اس کو ہر طرف سے آتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس بات کو تقویت دینے کے لیے اس پر وہ یہ اضافہ بھی کر دیتے کہ کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے جس کے سبب سے اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں رہی ہے اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔

      جاوید احمد غامدی کہ اپنے پروردگار کی عنایت سے تم کوئی دیوانے نہیں ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور تمہارے لیے یقیناً ایک کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رسول کے لیے ابدی فیروز مندی کی بشارت: یہ اسی بات کی وضاحت مثبت پہلو سے ہے کہ احمق ہیں وہ جو تمہیں دیوانہ سمجھ کر تمہارے لیے گردش روزگار کے منتظر ہیں جو ان کے خیال میں تمہیں تباہ کر دے گی۔ تباہی تمہارے لیے نہیں بلکہ خود ان کے لیے مقدر ہے۔ تمہارے لیے تو کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے اور مغروروں کو جو دنیا ملی ہے اور جس پر یہ نازاں ہیں یہ اب عذاب کی زد میں ہے اور بہت جلد یہ اس کا انجام دیکھ لیں گے لیکن تمہیں تمہاری حق پرستی کا جو صلہ ملنے والا ہے وہ ابدی ہے جس کے لیے کبھی زوال نہیں ہے۔
      ’غَیْْرَ مَمْنُوۡنٍ‘ کے معنی غیر منقطع کے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی اس سے مختلف بھی لیے ہیں لیکن وہ عربیت اور نظائر قرآن کے خلاف ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور تمھارے لیے یقیناً وہ صلہ ہے جس پر کبھی زوال نہ آئے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور تم ایک اعلیٰ کردار پر ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رسول کا کردار اس کے دعوے پر عظیم حجت ہے: یعنی حضرات انبیاء علیہم کی تاریخ نے اعلیٰ کردار کے جو نمونے پیش کیے ہیں تم اسی کی ایک نہایت شان دار مثال ہو اور تمہارا یہ کردار ان لوگوں کے خلاف سب سے بڑی حجت ہے جو تمہیں دیوانہ یا کاہن یا شاعر کہہ کر اپنے کو اور اپنے عوام کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ تمہاری یہ باتیں ہوا میں اڑ جائیں گی۔
      قرآن مجید میں جگہ جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ کردار کو آپ کے دعوے کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سورۂ شعراء میں نہایت تفصیل سے کاہنوں اور شاعروں کے اخلاق کی پستی، ان کی فکری ہرزہ گردی اور ان کے قول و عمل کی بے ربطی کا حوالہ دے کر ان لوگوں کو ملامت کی گئی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ناپاک زمرے میں شامل کرتے تھے۔ ان سے سوال کیا گیا ہے کہ نبی کے اعلیٰ کردار کو ان کاہنوں اور شاعروں کے کردار سے کیا تعلق جن کا ظاہر و باطن دونوں ہی یکساں تاریک ہے!

      جاوید احمد غامدی اور تم بڑے اعلیٰ اخلاق پر ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جس طرح تمھاری پیش کردہ کتاب اُنھی تعلیمات کا بیان ہے جو پہلے پیغمبروں نے پیش کی ہیں ، اِسی طرح تم بھی اُس اعلیٰ کردار کی نہایت شان دار مثال ہو جس کے نمونے انبیا علیہم السلام اِس سے پہلے پیش کر چکے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی پس تم بھی عنقریب دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل ایمان کے لیے بشارت اور مخالفوں کے لیے وعید: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور مخالفین کے لیے دھمکی ہے کہ اگر یہ تمہیں دیوانہ کہہ کر تمہاری باتوں کو بے وزن بنانا چاہتے ہیں تو کچھ دن صبر کرو۔ عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ بھی دیکھ لیں گے کہ دونوں میں سے کس پارٹی کی باگ فتنہ میں پڑے ہوئے لیڈر کے ہاتھ میں ہے؟ اہل ایمان کی باگ، جن کی قیادت تم کر رہے یا قریش کی باگ جن کی قیادت ابولہب اور ابوجہل کر رہے ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ اب فیصلہ کا وقت قریب ہے اور حقیقت کے ظاہر ہونے میں زیادہ دیر نہیں رہ گئی ہے۔ بہت جلد سب دیکھ لیں گے کہ کون لوگ شیطان کے فتنہ میں پڑے ہوئے تھے اور انھوں نے اپنی قوم کو تباہی کے کھڈ میں گرایا اور کون شیطان کے فتنوں سے امان میں رہا اور اس نے اپنے پیروؤں کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کی راہ دکھائی!
      یہاں وہ حقیقت پیش نظر رکھیے جس کی بار بار یاددہانی کی جا چکی ہے کہ رسولوں کے باب میں سنت الٰہی یہ ہے کہ جب وہ آتے ہیں تو اسی دنیا میں اپنی جماعت اور اپنے مخالفوں کے انجام کا فیصلہ کر کے جاتے ہیں۔ آیت میں اہل ایمان کے لیے جو تسلی اور اہل کفر کے لیے جو وعید ہے وہ جس طرح آخرت سے متعلق ہے اسی طرح اس دنیا سے بھی متعلق ہے۔ سابق سورہ کے آخر میں جو فرمایا ہے کہ ’فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ ہُوَ فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ‘ یہ اسی کا اعادہ دوسرے الفاظ میں ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کہ فتنہ میں پڑا ہوا تم میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’بِأَیْیِّکُمُ الْمَفْتُوْنُ‘ میں ’ب‘ بظاہر ’تُبْصِرُ‘ اور ’یُبْصِرُوْنَ‘ کے ساتھ بے جوڑ سی معلوم ہوتی ہے لیکن یہاں تضمین ہے یعنی ’یُبْصِرُوْنَ‘ متضمن ہے ’یَعْلَمُوْنَ‘ کے معنی پر۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ زمخشری کی رائے یہی ہے اور میرے نزدیک یہ رائے اصول عربیت کے مطابق ہے۔ ’بِأَیْیِّکُمُ‘ کے معنی ’بِاَیِّ الْحِزْبَیْنَ‘ کے ہیں۔
      ’مَفْتُوْنٌ‘ کے معنی ’مَجْنُوْنٌ‘ کے نہیں ہیں، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ ’مَفْتُوْنٌ‘ ہی کے ہیں۔ یعنی وہ شخص جو دنیا اور شیطان کے جال میں پھنسا ہوا ہو۔ یہاں ’مجنون‘ کے بجائے ’مفتون‘ کا لفظ استعمال کر کے قرآن نے یہ رہنمائی دی ہے کہ جو لوگ دنیا اور شیطان کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں اصلی مجنون وہی ہوتے ہیں اور جس پارٹی کی باگ ایسے مفتونوں کے ہاتھ میں ہو وہ بالآخر جہنم میں گر کے رہتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی کہ تم میں سے کون فتنے میں پڑا ہوا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’بِاَیِّکُمُ الْمَفْتُوْنَ‘ ۔اِن سے پہلے فعل ’یُبْصِرُوْنَ‘ آیا ہے۔ ’ب‘ کا صلہ دلیل ہے کہ یہ یہاں ’علم‘ کے مفہوم پر متضمن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بہت جلد سب دیکھ لیں گے کہ کون شیطان کے فتنے میں پڑا ہوا ہے اور اُس نے اپنی قوم کو تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا ہے اور کون شیطان کے فتنوں سے مامون ہے اور اُس نے اپنے ماننے والوں کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی راہ دکھائی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ انھیں بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یاب ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اسی اوپر والے مضمون کی تائید و توثیق ہے کہ تمہارا رب نہ تو ان لوگوں سے بے خبر ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور نہ ان لوگوں سے ناواقف ہے جو ہدایت پر ہیں بلکہ وہ دونوں ہی سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ مستحق ہو گا۔ نہ یہ ہو سکتا ہے کہ جو ذلت کے مستحق ہیں وہ ہمیشہ عزت سے سرفراز رہیں اور نہ یہ ہو سکتا کہ جو سرفرازی کے حق دار ہیں وہ برابر ظالموں کے ظلم کے ہدف بنے رہیں۔ یہ دنیا اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ یہ ایک عظیم و خبیر خالق کی پیدا کی ہوئی دنیا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کے لیے ایک روز انصاف آئے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے اس رب پر بھروسہ رکھو۔ وہ نیکوکاروں اور شریروں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ نہیں کرے گا۔

      جاوید احمد غامدی تمھارا پروردگار ہی بہترجانتا ہے کہ کون اُس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور وہی بہتر جانتا ہے کہ کون راہ راست پر ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      لہٰذا مطمئن رہو۔ وہ اِن میں سے ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا، جس کا وہ مستحق ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پس ان جھٹلانے والوں کی باتوں پر کان نہ دھرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی جب اصل حقیقت یہ ہے جو بیان ہوئی تو عذاب اور قیامت کی تکذیب کرنے والوں کی باتوں کا دھیان نہ کرو اور ان کی ہفوات پر کان نہ دھرو۔ یہ لوگ اگر نچنت ہیں کہ نہ عذاب ہے نہ قیامت تو انھیں نچنت رہنے دو۔ اگر یہ مطمئن ہیں کہ قیامت ہوئی تو وہاں بھی ان کو وہی کچھ حاصل ہو گا جو یہاں حاصل ہے تو انھیں یہ خواب خوش دیکھ لینے دو۔ یہ دنیا ان کی خواہشوں کے محور پر نہیں گھوم رہی ہے کہ جو کچھ یہ چاہیں گے انھیں مل جائے گا بلکہ یہ ایک حکیم و عزیز کی پیدا کی ہوئی دنیا ہے اور یہ لازم ہے کہ ایک دن اس کی حکمت اور اس کا عدل اپنی کامل صورت میں ظاہر ہو۔
      لفظ ’اِطَاعَۃٌ‘ یہاں کسی کی بات کا اثر لینے کے مفہوم میں ہے۔ اس مفہوم میں یہ لفظ کلام عرب میں بھی استعمال ہوا ہے اور قرآن میں بھی۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے تم اِن جھٹلانے والوں کی کسی بات پر کان نہ دھرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی عذاب اور قیامت کو جھٹلانے والوں کی کسی بات کا اثر نہ لو۔ اصل میں لفظ ’اِطَاعَۃ‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ اِس مفہوم میں عام استعمال ہوتا ہے۔ اِس کے نظائر کلام عرب میں بھی ہیں اور قرآن مجید میں بھی۔

    • امین احسن اصلاحی یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا تم نرم پڑو تو یہ بھی نرم پڑ جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مخالفین کی اصل پالیسی: یہ ان مکذبین کی مخالفت کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے کہ ان کی یہ ساری تگ و دو اس مقصد سے ہے کہ تم کچھ اپنے رویہ میں لچک پیدا کرو تو یہ بھی نرم پڑ جائیں۔ یعنی تمہاری باتوں کی صداقت میں انھیں شبہ نہیں ہے لیکن ان کو ماننا ان کی خواہشوں کے خلاف ہے اس وجہ سے انھوں نے یہ طوفان اٹھایا ہے کہ تم پر دباؤ ڈال کر تمہیں کچھ نرم کریں تاکہ تم کچھ باتیں ان کی مان لو اور وہ کچھ باتیں تمہاری مان لیں اور اس طرح ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کے اصول پر باہم سمجھوتہ ہو جائے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ مخالفت اپنے دین جاہلی کے ساتھ کسی اخلاص پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ محض ایک قسم کی (BARGAINING) کی کوشش ہے۔ جب تک انھیں توقع ہے کہ وہ تمہیں دبانے میں کچھ کامیاب ہو جائیں گے ان کی یہ کوشش جاری رہے گی۔ جب یہ توقع ختم ہو جائے گی ان کا حوصلہ پست ہو جائے گا۔
      زبان سے متعلق ایک سوال کا جواب: یہاں ایک سوال زبان سے متعلق پیدا ہوتا ہے کہ عربیت کے قاعدے سے تو یہاں ’وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوْا‘ ہونا تھا لیکن ہے ’فَیُدْہِنُوْنَ‘۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اسلوب مختلف اختیار کیا گیا ہے۔ یہاں دراصل مبتدا محذوف کر دیا گیا ہے۔ یعنی اصل میں ’فَھُمْ یُدْہِنُوْنَ‘ ہے۔ مطلب یہ ہو گا کہ ان کی خواہش یہ ہے کہ جب تم کچھ نرم پڑ جاؤ گے تو وہ بھی اپنے رویہ میں نرمی پیدا کر لیں گے۔ اس اسلوب کی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔

      جاوید احمد غامدی یہ تو چاہتے ہیں کہ تم ذرا نرم پڑو، پھر یہ بھی نرم پڑ جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَدُّوْا لَوْ تُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ‘ ۔ عربیت کے عام قاعدے سے یہاں ’فیدھنوا‘ ہونا تھا، لیکن قرآن نے اسلوب تبدیل کر دیا ہے۔ چنانچہ ’فَیُدْھِنُوْنَ‘ اصل میں ’فَھُمْ یُدْھِنُوْنَ‘ ہے۔ اِس میں مبتدا محذوف کر دیا گیا ہے۔ اِس اسلوب کی مثالیں قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اِن کی مخالفت کسی اصول پر نہیں ہے۔ یہ کچھ لو اور کچھ دو کے طریقے پر معاملہ کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اُس وقت تک کوشش کریں گے، جب تک توقع باقی رہے گی۔ جب یہ ختم ہو جائے گی تو اِن کا حوصلہ بھی پست ہو جائے گا۔

    • امین احسن اصلاحی اور تم بات نہ سنو ہر جھوٹی قسمیں کھانے والے، (ذلیل، اشارہ باز، لُترے، خیر سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے، حق مارنے والے، سنگدل، مزید برآں بے نسب) کی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کی پوری قیادت کی اخلاقی تصویر: یہ اسی ’فَلَا تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ‘ پر عطف کر کے تاکید کے ساتھ پھر تنبیہ فرمائی کہ تم ہر لپاٹیے ذلیل کی باتوں پر کان نہ دھرو۔ یہ اشارہ کسی خاص شخص کی طرف نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ قریش کی پوری قیادت کی اخلاقی پستی کی تصویر آگے کی چند آیتوں میں کھینچ دی گئی ہے اور مقصود اس سے یہ دکھانا ہے کہ ایک طرف پیغمبر کا وہ بے مثال ’خلق عظیم‘ ہے جس کا آیت ۴ میں حوالہ ہے اور دوسری طرف قریش کے لیڈروں ۔۔۔ ابولہب، ولید بن مغیرہ، ابوجہل، اخنس بن شریق ۔۔۔ وغیرہ کا یہ کردار ہے جو بیان ہو رہا ہے۔ ان دونوں کو سامنے رکھ کر ہر منصف فیصلہ کر سکتا ہے کہ کون کس انجام سے دوچار ہونے والا ہے!
      یہ بات کہ یہ کسی خاص شخص کا نہیں بلکہ قریش کی پوری قیادت کا کردار بیان ہو رہا ہے مختلف پہلوؤں سے واضح ہے۔
      اول یہ کہ اس کا عطف ’فَلَا تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ‘ پر ہے اور مکذبین سے مراد ظاہر ہے کہ کوئی معین شخص نہیں بلکہ موقع و محل دلیل ہے کہ قریش کی پوری قیادت ہے۔
      دوسرا یہ کہ لفظ ’کُلّ‘ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں زیربحث کسی معین شخص کا کردار نہیں بلکہ جماعت کا کردار ہے۔
      تیسرا یہ کہ آگے ’اِنَّا بَلَوْنٰہُمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں جس میں جمع کی ضمیر ’ہُمْ‘ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا مرجع کوئی فرد نہیں بلکہ جماعت ہے۔
      چوتھا یہ کہ یہاں جو کردار بیان ہوا ہے وہ قریش کی پوری قیادت پر تو ٹھیک ٹھیک منطبق ہو جاتا ہے لیکن ہر بات کسی ایک معین شخص پر اگر منطبق کرنے کی کوشش کی جائے تو تکلف کرنا پڑے گا۔
      اس اصولی بحث کو ذہن نشین کر لینے کے بعد اب الفاظ پر غور فرمائیے۔
      ’حَلَّافٌ‘ کے معنی بہت زیادہ قسم کھانے والے کے ہیں۔ لفظ ’حلف‘ جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہو چکی ہے، اول تو اچھے معنی میں آتا نہیں پھر اس کے ساتھ ’مَّھِیْنٌ‘ کی صفت بھی لگی ہوئی ہے جس کے معنی ذلیل کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ زیادہ قسم وہی شخص کھائے گا جس کو اپنی عزت نفس کا خیال نہیں ہو گا۔ جو لوگ کردار کے اعتبار سے پست یا مطعون ہوتے ہیں وہ ہمیشہ احساس کہتری کے سبب سے شک میں مبتلا رہتے ہیں کہ مخاطب ان کی بات اس وقت تک باور نہیں کرے گا جب تک وہ قسم کھا کے اطمینان نہیں دلائیں گے اس وجہ سے وہ بات بات پر قسم کھاتے ہیں۔ چنانچہ منافقین کے متعلق قرآن میں جگہ جگہ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ وہ اپنے کردار پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے قسموں کا سہارا لیتے ہیں۔ قریش کے لیڈروں کے پاس نہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار پر حرف رکھنے کی گنجائش تھی اور نہ اسلام کے خلاف کوئی مبنی بر دلیل بات کہنے کی۔ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے واحد سہارا ان کے پاس یہی تھا کہ قسمیں کھا کھا کے لوگوں کو اطمینان دلائیں کہ العیاذ باللہ آپ شاعر، کاہن، مجنون اور مفتری ہیں۔

      جاوید احمد غامدی ہرگز کان نہ دھرو کسی ایسے شخص کی بات پر جو بہت قسمیں کھانے والا ہے، ذلیل ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ صاحب خلق عظیم کے مقابلے میں کسی خاص شخص کا نہیں، بلکہ قریش کی پوری قیادت کا کردار بیان ہوا ہے جس کا مظاہرہ اسلام اور پیغمبر کی مخالفت میں وہ شب و روز کر رہے تھے۔ اِس کے قرائن بالکل واضح ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’اول یہ کہ اِس کا عطف ’فَلاَ تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ‘ پر ہے اور مکذبین سے مراد، ظاہر ہے کہ کوئی معین شخص نہیں، بلکہ موقع و محل دلیل ہے کہ قریش کی پوری قیادت ہے۔
      دوسرا یہ کہ لفظ ’کُلّ‘ بھی اِس بات کی دلیل ہے کہ یہاں زیر بحث کسی معین شخص کا کردار نہیں، بلکہ جماعت کا کردار ہے۔
      تیسرا یہ کہ آگے ’اِنَّا بَلَوْنٰھُمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں جس میں جمع کی ضمیر ’ھُمْ‘ اِس بات کی دلیل ہے کہ اِس کا مرجع کوئی فرد نہیں، بلکہ جماعت ہے۔
      چوتھا یہ کہ یہاں جو کردار بیان ہوا ہے، وہ قریش کی پوری قیادت پر تو ٹھیک ٹھیک منطبق ہو جاتا ہے، لیکن ہر بات کسی ایک معین شخص پر اگر منطبق کرنے کی کوشش کی جائے تو تکلف کرنا پڑے گا۔‘‘ (تدبرقرآن ۸/ ۵۱۷)

      زیادہ قسمیں وہی لوگ کھاتے ہیں جنھیں اپنی عزت نفس کا خیال نہیں ہوتا اور اپنے کردار کی پستی کے باعث وہ ہمیشہ اِس شک میں مبتلا رہتے ہیں کہ مخاطبین اُن کی بات اُس وقت تک باور نہیں کریں گے، جب تک وہ قسم کھا کر اُنھیں اطمیناننہ دلائیں۔

       

    • امین احسن اصلاحی (اور تم بات نہ سنو ہر جھوٹی قسمیں کھانے والے)، ذلیل، اشارہ باز، لُترے، (خیر سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے، حق مارنے والے، سنگدل، مزید برآں بے نسب) کی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ھَمَّازٌ‘ ’ھمز‘ سے مبالغہ ہے جس کے معنی اشارہ باز کے ہیں۔ اشارہ بازی اور پھبتی اس قسم کے لوگوں کا خاص شیوہ ہوتا ہے جو کسی کو دوسروں کی نگاہوں سے گرانے کے درپے ہوں۔ یہ اشارہ بازی حرکات اور چشم و ابرو سے بھی ہوتی ہے، الفاظ اور فقروں سے بھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور غریب مسلمانوں کو قریش کے مستکبرین جس قسم کے اشاروں اور فقروں کا ہدف بناتے تھے اس کی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں اوران کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ ’وَیْلٌ لِّکُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃٍ‘ (اللھمزۃ ۱۰۴: ۱) میں اسی کردار کی طرف اشارہ ہے۔ مستکبرین کے پاس دلیل کی قوت نہیں ہوتی اس وجہ سے وہ اسی اوچھے ہتھیار سے حق کو شکست دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس قسم کے تیر تُکے حقیقت کی شمشیر بُرّاں کے مقابل میں کیا کام آ سکتے ہیں!
      ’مَّشَّآءٍم بِنَمِیْمٍ‘۔ ’نمیمۃ‘ اور ’نمیم‘ کے معنی چغلی اور لگانے بجھانے کے ہیں۔ یہ اشارہ ان مفسرین کے جوڑ توڑ کی خصلت کی طرف ہے کہ یہ رات دن جوڑ توڑ میں سرگرم رہتے ہیں اور اس کے ذریعے چغلی کو ذریعہ بناتے ہیں۔ جس کو بھی دوسرے سے کاٹنا اور اپنے سے ملانا چاہا تو اس کے لیے سب سے بڑا حربہ ان کے پاس یہی ہوتا ہے۔
      اسی نسخہ سے وہ اسلام کی مخالفت کا کام بھی لے رہے تھے۔ ان کی رات دن یہی کوشش تھی کہ مختلف قسم کی بے بنیاد غلط فہمیاں مسلمانوں میں پھیلا کر ان کے درمیان پھوٹ ڈلوائیں تاکہ اسلام نے ان کے اندر جو اخوت و مودت پیدا کی ہے وہ مستحکم نہ ہونے پائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں کے دلوں میں بدگمانی پیدا ہو۔

      جاوید احمد غامدی اشارہ باز ہے، چغلی لیے پھرتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اشارہ بازی حرکات اور چشم و ابرو سے بھی ہوتی ہے، اور الفاظ اور فقروں سے بھی۔ جن لوگوں کے پاس دلیل کی قوت نہیں ہوتی، وہ اِسی قسم کی حرکتوں سے کسی کو دوسروں کی نگاہوں میں گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی (اور تم بات نہ سنو ہر جھوٹی قسمیں کھانے والے، ذلیل، اشارہ باز، لُترے)، خیر سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے، (حق مارنے والے، سنگدل، مزید برآں بے نسب) کی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مناع، معتدی اور اثیم: اوپر کی آیات سے واضح ہوا کہ ان کی قیادت کی پوری عمارت جھوٹ، دوسروں کی تحقیر و توہین اور چغلی و نمامی پر قائم ہے۔ اب یہ واضح فرمایا جا رہا ہے کہ یہ نیکی کے کٹر دشمن، اللہ کے حدود کو توڑنے والے، بندوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور ان کو دبا بیٹھنے والے ہیں۔
      ’مَنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ‘ یوں تو عام ہے کہ وہ ہر نیکی اور بھلائی کی راہ میں ایک بھاری پتھر ہیں لیکن یہاں خاص اشارہ ان کی بخالت کی طرف ہے کہ وہ غرباء و مساکین کی امداد میں نہ خود کوڑی خرچ کرنے کا حوصلہ رکھتے اور نہ دوسروں کو خرچ کرتے دیکھ سکتے بلکہ چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی انہی کی طرح مارگنج بنے بیٹھے رہیں تاکہ ان کی بخالت پر پردہ پڑا رہے۔ قرآن مجید میں مختلف اسلوبوں سے بخیلوں کے کردار کا یہ پہلو واضح فرمایا گیا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی بخالت کی راہ سجھاتے ہیں تاکہ خود ان کی بخالت کا راز فاش نہ ہو۔
      ’مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ‘ یعنی صرف یہی نہیں کہ نہ خود خرچ کرتے نہ خرچ کرنے دیتے بلکہ وہ دوسروں کے حقوق پر تعدی کرنے والے بھی ہیں اور جو حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں ان کو دبا بیٹھنے والے بھی۔ ان دونوں لفظوں کی تحقیق اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ ’اعتداء‘ میں دوسروں کے حقوق پر دست درازی کا مفہوم پایا جاتا ہے اور ’اِثم‘ میں حق تلفی کا۔

      جاوید احمد غامدی بھلائی سے روکتا ہے، حد سے بڑھ جانے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’مَنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ اگرچہ عام ہیں، لیکن یہاں خاص اشارہ اِن مستکبرین کی بخالت کی طرف ہے جس کا ذکر قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر ہوا ہے کہ نہ صرف یہ کہ خود غریبوں کی مدد نہیں کرتے، بلکہ دوسروں کو بھی اِس کی ترغیب دیتے ہیں کہ وہ بھی اپنا مال اُن پر نہ لگائیں۔

    • امین احسن اصلاحی (اور تم بات نہ سنو ہر جھوٹی قسمیں کھانے والے، ذلیل، اشارہ باز، لُترے، خیر سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے)، حق مارنے والے، سنگدل، مزید برآں بے نسب کی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’عُتُلٍّ‘ کے معنی سخت دل اور بے مروت کے ہیں۔ جو شخص بخیل ہو گا وہ لازماً سنگ دل بھی ہو گا۔ یہ گویا اوپر کے بیان کردہ کردار کا باطنی پہلو ہے۔ انہی لوگوں کے باب میں ارشاد ہوا ہے:

      ’اَرَءَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ‘ (الماعون ۱۰۷: ۱-۲)
      (ذرا دیکھو تو اس کو جو جزاء کو جھٹلاتا ہے۔ وہی ہے جو یتیموں کو دھکے دیتا ہے)۔

      ’زنیم‘: ’بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ‘۔ ’زنیم‘ کی وضاحت اہل لغت نے یوں کی ہے:

      ’الملحق یقوم لیس منھم ولا یحتاجون الیہ‘
      (وہ شخص جو کسی قوم کے نسب میں شریک بن بیٹھے درآنحالیکہ نہ وہ ان میں سے ہو اور نہ اہل قوم اس کی کوئی ضرورت محسوس کرتے ہوں)

      یہ لفظ ’زنمۃ‘ سے نکلا ہے۔ ’زنمۃ‘ اس غدود کو کہتے ہیں جو بعض بکریوں کی گردن میں لٹک آتا ہے اور جس کی حیثیت جسم میں ایک بالکل فالتو عضو کی ہوتی ہے۔ روایات میں اخنس بن شریق کے متعلق آیا ہے کہ اصلاً وہ ثقیف میں سے تھا لیکن مدعی تھا کہ وہ زہرہ میں سے ہے۔ اسی طرح ولید بن مغیرہ کے متعلق بھی مشہور ہے کہ وہ قریشی ہونے کا مدعی تھا حالانکہ وہ قریش میں سے نہ تھا۔ جو لوگ اپنے نسب کو حقیر سمجھ کر دوسروں کے نسب میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں وہ شیخی باز قسم کے ہوتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کا زیادہ اعتماد تملق، چاپلوسی اور قومی حمیت و حمایت کی جھوٹی نمائش پر ہوتا ہے تاکہ قوم کے اندر ان کا بھرم قائم رہے۔ چنانچہ اس طرح کے کھوٹے قرشی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں خاص طور پر پیش پیش تھے۔ وہ اپنی قوم پرستی کا مظاہرہ کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کو اکساتے کہ آپ کی دعوت سے قریش کی وحدت و جمعیت میں انتشار پیدا ہو رہا ہے۔ انہی شیخی بازوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا کہ اور رذالتیں ان کے اندر جو تھیں وہ تو تھیں ہی مزید برآں یہ بھی ہے کہ ان میں کچھ طفیلی بھی ہیں جو اہل قوم سے بھی زیادہ قوم کے وفادار ہونے کے مدعی اور اس کی جاہلی روایات کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔ یعنی یہ کڑوے کریلے تو تھے ہی ستم بالائے ستم یہ ہوا ہے کہ یہ نیم چڑھے بھی ہیں۔ قرآن نے یہ ضرب اس کردار پر لگائی ہے جو اس قسم کے لوگوں کے اندر لازماً پیدا ہو جاتا ہے جو احساس کہتری کے مریض اور خود اعتمادی سے محروم ہوتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی حق مارتا ہے، پتھر دل ہے اور اِس پر مزید یہ کہ بے نسب بھی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے جس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے،وہ یہ ہے کہ اِن میں کچھ احساس کہتری کے مریض اور خود اعتمادی سے محروم طفیلی بھی ہیں جو اگرچہ قوم میں سے نہیں ہیں، لیکن اِس کے مدعی بنے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اپنی اِس کمزوری کی وجہ سے یہ اہل قوم سے زیادہ قوم کے وفادار بننے کی کوشش کرتے ہیں اور حق کی مخالفت میں وہاں پہنچ جاتے ہیں، جہاں اہل قوم بھی نہیں پہنچتے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ کردار اس وجہ سے ہوا کہ وہ مال و اولاد والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فاسد کردار کا سبب: یہ سبب بیان ہوا ہے اس بات کا کہ ان کے اندر یہ کردار کیوں پیدا ہوا۔ فرمایا کہ اس وجہ سے پیدا ہوا کہ یہ مال و اولاد والے ہوئے۔ یہ فقرہ نہایت بلیغ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ نے ان کو مال و اولاد والا بنایا تو ہونا تو یہ تھا کہ یہ اپنے رب کے شکرگزار، فرماں برداراور اس کے نازل کیے ہوئے حق کے علم بردار بن کر اٹھتے لیکن یہ اس کے برعکس بالکل ناشکرے اور ناہنجار بن کر اٹھے۔ قرآن میں یہ حقیقت جگہ جگہ مختلف اسلوبوں سے واضح فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں جن کو اپی نعمتوں سے بہرہ مند فرماتا ہے وہ ان کا امتحان کرتا ہے کہ دیکھے اس کی نعمتیں پا کر وہ اس کے شکرگزار بنتے ہیں یا غرور میں مبتلا ہو کر شیطان کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ اسی امتحان میں اللہ نے ان لوگوں کو ڈالا لیکن یہ بالکل فیل ہو کر رہ گئے اور اللہ کی نعمت ان کے لیے نقمت کا سبب بن گئی۔

      جاوید احمد غامدی اِس بنا پر کہ اُس کے پاس بہت مال و اولاد ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِس بات کا سبب بیان ہوا ہے کہ اِن کے اندر یہ کردار کیوں پیدا ہوا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ فقرہ نہایت بلیغ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ نے اِن کو مال و اولاد والا بنایا توہونا تو یہ تھا کہ یہ اپنے رب کے شکر گزار ،فرماں بردار اور اُس کے نازل کیے ہوئے حق کے علمبردار بن کر اٹھتے، لیکن یہ اِس کے برعکس بالکل ناشکرے اور ناہنجار بن کر اٹھے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۵۲۰)

    • امین احسن اصلاحی جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے، یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      غرور و استکبار کی تصویر: یہ اس غرور و استکبار کی تصویر ہے جس میں یہ لوگ مبتلا ہوئے۔ فرمایا کہ جب ان قوموں کی سرگزشتیں سنائی جاتی ہیں جو انہی کی طرح غرور و استکبار میں مبتلا ہوئیں اور اس کے نتیجہ میں تباہ کر دی گئیں تو ان سے سبق لینے کے بجائے ان کا مذاق اڑاتے ہیں کہ یہ تو پچھلی قوموں کے فسانے ہیں، ان کو حاضر سے کیا تعلق! مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے قصے سنانے والوں کو نہ ہم نبی ماننے کے لیے تیار ہیں اور نہ ان افسانوں سے ہم مرعوب ہی ہونے والے ہیں۔ اس امر کو کسی کی تصدیق یا تکذیب سے کیا تعلق!

      جاوید احمد غامدی ہماری آیتیں اُسے سنائیے تو کہتا ہے: یہ تواگلوں کے افسانے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہم عنقریب اس کے ناکڑے پر داغیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      استکبار کی سزا: یہ ان مستکبرین کے غرور و استکبار کی سزا بیان ہوئی ہے جو آخرت میں ان کو ملنے والی ہے۔ فرمایا کہ جلد وہ وقت آ رہا ہے جب ہم ان کے ناکڑے پر داغ لگائیں گے۔ ’خرطوم‘ اصل میں سونڈ کو کہتے ہیں۔ یہاں یہ مستکبرین کی ناکوں کے لیے بطریق استعارہ استعمال ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت درحقیقت اپنی ناک ہی اونچی رکھنے کے لیے کر رہے تھے۔ اگر کسی کے اندر ناک اونچی رکھنے کا ایسا جنون پیدا ہو جائے کہ وہ اس کی خاطر بڑے سے بڑے اور واضح سے واضح حق کو بھی جھٹلانے پر کمربستہ ہو جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی ناک صرف ناک نہیں ہے بلکہ اس نے اس کو بڑھا کر اور پھلا کر سونڈ بنا لیا ہے۔ فرمایا کہ اگر انھوں نے اپنی ناک کو ناکڑا بنا لیا ہے تو بنا لیں، ہم عنقریب ان کے ناکڑے پر ذلت کا داغ لگائیں گے جو سب دیکھیں گے۔ یہ استکبار اور اس کی سزا کی بہترین تعبیر ہے جس کی بلاغت احاطۂ بیان میں نہیں آ سکتی۔

      جاوید احمد غامدی (سمجھتا ہے کہ وہ بڑی ناک والا ہے)، اِس کی یہ سونڈ ہم عنقریب داغ دیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      تکبر اور اُس کی سزا کے لیے جو تعبیر اِس آیت میں اختیار کی گئی ہے، اُس کی بلاغت احاطۂ بیان سے باہر ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ہم نے ان کو اس طرح امتحان میں ڈالا ہے جس طرح باغ والوں کو امتحان میں ڈالا جب کہ انھوں نے قسم کھائی کہ وہ صبح سویرے ضروری اس کے پھل توڑ لیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کے لیڈروں کے لیے ایک تمثیل: اوپر قریش کے قائدین کا جو کردار بیان ہوا ہے اس کا کھوکھلا بن واضح کرنے کے لیے یہ ان کے سامنے ایک تمثیل بیان فرمائی ہے جس میں ان کو یہ دکھایا ہے کہ اپنے جس اقتدار پر ان کو یہ ناز و اعتماد ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کے انذار کا مذاق اڑا رہے ہیں اس کی بنیاد بالکل ریت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا چشم زدن میں اس کو خاک میں ملا دے گا۔ اس وقت وہ اپنی بدبختی پر سر پیٹیں گے اور توبہ و استغفار بھی کریں گے لیکن ان کا سارا نالہ و شیون بالکل بے سود ہو گا۔
      ’بَلَوْنَاہُمْ‘ میں ضمیر ’ہُمْ‘ کا مرجع ظاہر ہے کہ وہی لوگ ہوں گے جن کا کردار اوپر زیر بحث آیا ہے۔ یہ اس بات کا، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، نہایت واضح قرینہ ہے کہ یہ کردار کسی معین شخص کا نہیں بلکہ قریش کی پوری قیادت کا ہے۔ اگر کسی ایک شخص کا کردار بیان ہوا ہوتا تو ضمیر جمع کی جگہ واحد کی آتی۔
      اسی طرح یہاں زبان کا ایک دوسرا نکتہ بھی قابل لحاظ ہے۔ وہ یہ کہ ’اَصْحَابَ الْجَنَّۃِ‘ میں لفظ ’اَلْجَنَّۃِ‘ پر الف لام داخل ہے جس سے گمان ہوتا ہے کہ یہ کسی خاص باغ والوں کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ تمثیلات میں لام تعریف یا ’اَلَّذِیْ‘ اور ’اَلَّتِیْ‘ وغیرہ جو آتے ہیں تو اس سے مقصود، جیسا کہ ہم ایک سے زیادہ مواقع میں وضاحت کر چکے ہیں، یہ نہیں ہوتا کہ کوئی معین ذات مدنظر ہے بلکہ اس سے مقصود صرف صورت حال کو مشخص و مصور کرنا ہوتا ہے تاکہ قاری کے سامنے واقعے کی پوری تصویر آ جائے۔ اس وجہ سے یہاں یمن یا صنعاء کے کسی خاص باغ کے مالکوں کے واقعہ کی جستجو کی زحمت اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ ہمارے مفسرین نے اٹھائی ہے، بلکہ یہ ایک خاکہ ہے جس میں قریش کے لیڈروں کے ذہن اور ان کے انجام کی تصویر اس طرح کھینچ دی گئی ہے کہ اس کا کوئی گوشہ مخفی نہیں رہ گیا۔
      ’اِذْ أَقْسَمُوۡا لَیَصْرِمُنَّہَا مُصْبِحِیْنَ‘۔ یہ اس اعتماد کی طرف اشارہ ہے جو باغ والوں کو اپنی کامیابی پر تھا۔ وہ نہایت مطمئن اور پر امید تھے کہ ان کا باغ موسموں کے تمام تغیرات سے گزر کر اب اس مرحلہ میں داخل ہو گیا جس میں اس پر کسی آفت کا کوئی اندیشہ نہیں رہا۔ ان کے خیال میں بس اتنا کام باقی رہ گیا تھا کہ کل صبح وہ جائیں اور پھل توڑ کر اپنے گھروں کو لائیں۔ چنانچہ انھوں نے قسم کھا کر یہ ارادہ کیا کہ صبح ہم اس کے پھل ضرور ہی توڑ لیں گے۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے اِن کو اُسی طرح امتحان میں ڈالا ہے، جس طرح باغ والوں کو امتحان میں ڈالا تھا، جب اُنھوں نے قسم کھائی کہ وہ اپنے باغ کے پھل صبح سویرے لازماً توڑ لیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی قریش کے لیڈروں کو۔
      یہ کسی واقعے کا ذکر نہیں ہے، بلکہ تمثیل ہے۔ عربی زبان میں تمثیلیں اِسی طرح بیان ہوتی ہیں اور اِن میں لام تعریف اور ’الذی‘ یا ’التی‘ وغیرہ محض صورت حال کی تصویر و تشخیص کے لیے آتے ہیں، اِس لیے تاریخ کی کتابوں میں یہاں کوئی خاص باغ اور اُس کے مالکوں کا قصہ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور کچھ بھی نہ چھوڑیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک عام غلط فہمی: عام طور پر لوگوں نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ قسم کھاتے ہوئے انھوں نے ’اِنْ شَآءَ اللّٰہ‘ نہیں کہا۔ ان کو اپنی کامیابی اتنی متیقّن نظر آئی کہ یہ وہم بھی نہ گزرا کہ اس میں کوئی رخنہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اس مطلب پر اگرچہ تمام مفسرین کا اتفاق ہے لیکن میرا دل اس پر نہیں جمتا۔ لفظ ’اِسْتِثْنَاءٌ‘ کے اندر اگرچہ اس مفہوم کی گنجائش ہے لیکن جس اسلوب میں یہاں بات فرمائی گئی ہے وہ اس کے لیے کچھ موزوں نہیں ہے۔ اگر یہ بات کہنی تھی تو ’وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ‘ کی جگہ ’وَلَمْ یَسْتَثْنُوْا‘ یا اس سے ملتا جلتا کوئی اور اسلوب ہونا تھا۔ خود لفظ ’اِسْتِثْنَاءٌ‘ بھی ’اِنْ شَآءَ اللّٰہ‘ کہنے کے مفہوم کے لیے کوئی واضح لفظ نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب جہاں بھی لیا جائے گا قرینہ ہی کی مدد سے لیا جائے گا۔ اور یہاں اس کا قرینہ ایسا واضح نہیں ہے کہ اس پر ذہن پوری طرح مطمئن ہو سکے۔
      میرے نزدیک یہاں ’وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ‘ اپنے اصل لغوی مفہوم ہی میں ہے یعنی انھوں نے قسم کھائی کہ کل ہم اپنے باغ کے پھل ضرور ہی توڑ لیں گے اور اس میں سے کچھ بھی چھوڑیں گے نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کا طریقہ نہیں اختیار کریں گے جو باغ کے پھل توڑتے ہیں تو کچھ غریبوں مسکینوں کے نام پر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ باغوں سے متعلق دین دار اور فیاض لوگوں کے اندر یہ طریقہ قدیم زمانہ سے معروف چلا آ رہا ہے کہ جب باغ کے پھل توڑتے تو کچھ حصہ مسکینوں کے حق کے طور پر چھوڑ دیتے۔ انجیلوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی یہ تعلیم مذکور ہے کہ ’جب تو اپنے باغ کے پھل توڑے تو کُل نہ توڑے بلکہ اس کا کچھ حصہ غریبوں اور مسکینوں کے لیے بھی چھوڑ۔‘ اسی معروف طریقہ کو پیش نظر رکھ کر ان لئیموں نے قسم کھائی کہ ہم ایسا ہرگز کرنے والے نہیں ہیں۔ ان کو اپنی اسی بات کو مؤکد کرنے کے لیے قسم کھانے کی ضرورت پڑی ورنہ جملہ میں قسم کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
      اس تمثیل میں چونکہ قریش کے ان لیڈروں کا کردار نمایاں کیا جا رہا ہے جن کو اوپر ’مَنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ‘، ’عُتُلٍّ‘ اور ’اَثِیْمٍ‘ کہا گیا ہے اس وجہ سے باغ والوں کی مذکورہ بالا قَسم کا خاص طور پر حوالہ دیا گیا تاکہ دونوں کے کردار کی مشابہت پوری طرح واضح ہو جائے۔ قرآن میں ابولہب اور اس کے ہم مشربوں کی بخالت کی جو تصویر جگہ جگہ کھینچی گئی ہے اس کو بھی یہاں ذہن میں تازہ کر لیجیے۔

      جاوید احمد غامدی اور (کسی غریب اور مسکین کے لیے) کچھ بھی نہ چھوڑیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس روایت سے انحراف کی قسم کھائی جو فیاض لوگوں میں ہمیشہ سے قائم رہی ہے کہ جب باغ کے پھل توڑے جائیں یا فصل کاٹی جائے تو کچھ حصہ غریبوں اور مسکینوں کے لیے چھوڑ دیا جائے۔

    • امین احسن اصلاحی تو ابھی وہ سوئے پڑے ہی تھے کہ اس پر تیرے رب کی طرف سے گردش کا ایک جھونکا آیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی مذکورہ فیصلہ بڑے عزم و جزم اور بڑی تاکید و قسم کے ساتھ کر کے وہ رات میں سوئے لیکن ابھی سوئے ہی پڑے تھے کہ ان کے باغ پر کوئی خدائی گردش ایسی آئی جس نے باغ کا ستھراؤ کر دیا اور وہ بالکل کٹی ہوئی فصل کے مانند ہو کر رہ گیا۔ ’طَائِفٌ مِّنۡ رَّبِّکَ‘ میں گردش کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف دو حقیقتوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ایک اس حقیقت کی طرف کہ یہ بالکل بے سان و گمان نمودار ہوئی، دوسری اس کی بے پناہی کی طرف کہ اس نے چشم زدن میں وہ کرشمہ کر دکھایا کہ ہرا بھرا باغ بے نشان ہو کر رہ گیا۔
      ’مِّنۡ رَّبِّکَ‘ میں خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تسلی کے لیے ہے۔ ابتدائی آیات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ آج تم ان کو عذاب الٰہی سے ڈراتے ہو تو وہ اپنے ظاہری حالات کو بالکل ہموار و سازگار دیکھ کر تمہیں دیوانہ کہتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ بھلا ان پر عذاب کدھر سے آ جائے گا؟ اس تمثیل میں دکھا دیا کہ تیرے رب کا عذاب جب آتا ہے تو یوں آتا ہے کہ منصوبہ بندی کرنے والے سارے منصوبے، عہد و قسم کے ساتھ بنا کے سوتے ہیں لیکن جب صبح کو اٹھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ع

      خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

       

      جاوید احمد غامدی پھر وہ سوئے پڑے تھے کہ تمھارے پروردگار کی طرف سے ایک پھرنے والا اُس پر پھر گیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی کوئی ایسی گردش آئی جس نے پورے باغ کا ستھراؤ کر دیا۔ اِس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہوئی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...(یہ) دو حقیقتوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے: ایک اِس حقیقت کی طرف کہ یہ بالکل بے سان و گمان نمودار ہوئی، دوسری اِس کی بے پناہی کی طرف کہ اِس نے چشم زدن میں وہ کرشمہ کر دکھایا کہ ہرا بھرا باغ بے نشان ہو کر رہ گیا۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۵۲۲)

       

    • امین احسن اصلاحی تو وہ کٹی ہوئی فصل کے مانند ہو کر رہ گیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی مذکورہ فیصلہ بڑے عزم و جزم اور بڑی تاکید و قسم کے ساتھ کر کے وہ رات میں سوئے لیکن ابھی سوئے ہی پڑے تھے کہ ان کے باغ پر کوئی خدائی گردش ایسی آئی جس نے باغ کا ستھراؤ کر دیا اور وہ بالکل کٹی ہوئی فصل کے مانند ہو کر رہ گیا۔ ’طَائِفٌ مِّنۡ رَّبِّکَ‘ میں گردش کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف دو حقیقتوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ایک اس حقیقت کی طرف کہ یہ بالکل بے سان و گمان نمودار ہوئی، دوسری اس کی بے پناہی کی طرف کہ اس نے چشم زدن میں وہ کرشمہ کر دکھایا کہ ہرا بھرا باغ بے نشان ہو کر رہ گیا۔
      ’مِّنۡ رَّبِّکَ‘ میں خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تسلی کے لیے ہے۔ ابتدائی آیات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ آج تم ان کو عذاب الٰہی سے ڈراتے ہو تو وہ اپنے ظاہری حالات کو بالکل ہموار و سازگار دیکھ کر تمہیں دیوانہ کہتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ بھلا ان پر عذاب کدھر سے آ جائے گا؟ اس تمثیل میں دکھا دیا کہ تیرے رب کا عذاب جب آتا ہے تو یوں آتا ہے کہ منصوبہ بندی کرنے والے سارے منصوبے، عہد و قسم کے ساتھ بنا کے سوتے ہیں لیکن جب صبح کو اٹھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ع

      خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

       

      جاوید احمد غامدی اور (اُن کا) وہ (لہلہاتا ہوا باغ) اِس طرح ہو کر رہ گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List