Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 30 آیات ) Al-Mulk Al-Mulk
Go
  • الملک (The Dominion, Sovereignty, Control)

    30 آیات | مکی
    سورتوں کے ساتویں گروپ پر ایک اجمالی نظر

    سورۂ ملک سے سورتوں کا ساتواں یعنی آخری گروپ شروع ہو رہا ہے۔ اس گروپ میں بھی سورتوں کی ترتیب اسی طرح ہے جس طرح پچھلے گروپوں میں آپ نے دیکھی۔ پہلے مکی سورتیں ہیں آخر میں چند سورتیں مدنی ہیں اور یہ مدنی سورتیں مکی سورتوں کے ساتھ اسی طرح مربوط ہیں جس طرح فرع اپنی اصل سے مربوط ہوتی ہے۔

    اس گروپ کی چند سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں اختلاف ہے اس وجہ سے یہاں یہ بتانا مشکل ہے کہ کہاں سے کہاں تک اس کی سورتیں مکی ہیں اور کہاں سے کہاں تک مدنی۔ جب تمام مختلف فیہ سورتوں پر بحث ہو کر بات منقح ہو جائے گی تب ہی یہ قطعی فیصلہ ہو سکے گا کہ کتنی مکی ہیں اور کتنی مدنی تاہم میری اجمالی رائے یہ ہے کہ سورۂ ملک سے سورۂ کافرون تک ۴۳ سورتیں مکی ہیں اور سورۂ نصر سے سورۂ ناس تک پانچ سورتیں مدنی۔

    اس گروپ میں بھی دوسرے گروپوں کی طرح قرآنی دعوت کی تمام اساسات ۔۔۔ توحید، رسالت اور معاد ۔۔۔ زیربحث آئی ہیں اور دعوت کے تمام مراحل کی جھلک بھی اس میں موجود ہے۔ لیکن اس پورے گروپ کا اصل مضمون انذار ہے۔ اس کی بیشتر سورتیں مکی زندگی کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں انذار کا انداز وہی ہے جس انداز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر چڑھ کر انذار فرمایا تھا۔ اس انذار کے تقاضے سے اس میں قیامت اور احوال قیامت کی بھی پوری تصویر ہے اور اس عذاب کو بھی گویا قریش کی نگاہوں کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ہے جو رسول کی تکذیب کر دینے والوں پر لازماً آیا کرتا ہے۔ استدلال میں بیشتر آفاق کے مشاہدات، تاریخ کے مسلمات اور انفس کی بینات سے کام لیا گیا ہے اور کلام کے زور کا بالکل وہی حال ہے جس کی تصویر مولانا حالیؒ نے اپنے اس شعر میں کھینچی ہے۔ع

    وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی

    عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی

    ان سورتوں نے سارے عرب میں ایسی ہلچل برپا کر دی کہ ایک شخص بھی قرآن کی دعوت کے معاملے میں غیر جانبدار نہیں رہ گیا بلکہ وہ یا تو اس کا جانی دشمن بن کر اٹھ کھڑا ہوا یا سچا فدائی اور ان دونوں کی کشمکش کا نتیجہ بالآخر اس غلبۂ حق کی شکل میں نمودار ہوا جس کا ذکر ہر گروپ کی آخری سورتوں میں ہوا ہے اور اس کے آخر میں بھی آئے گا۔

    ساتویں گروپ کی تفسیر کا آغاز کرتے ہوئے میں سورۂ حجر کی آیت ۸۷: ’اٰتَیْنَاکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْآنَ الْعَظِیْمَ‘۔ کا پھر حوالہ دیتا ہوں جس کا ذکر میں نے مقدمۂ کتاب میں، ساتوں گروپوں کے تعارف کے بعد، اس حقیقت کی طرف توجہ دلانے کے لیے کیا ہے کہ یہ تقسیم ازروئے قرآن منصوص ہے۔ پھر سورۂ حجر کی تفسیر میں آیت کی وضاحت کرتے ہوئے مندرجہ ذیل باتیں میں نے دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ۔۔۔ ایک یہ کہ قرآن نے کسی خاص سورہ کو سبع مثانی نہیں کہا ہے بلکہ ’کِتَابًا مُّتَشَابِھًا مَّثَانِیَ‘ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ پورا قرآن ’سبع مثانی‘ ہے۔

    ۔۔۔ دوسری یہ کہ مثانی کسی بار بار دہرائی ہوئی چیز کو نہیں بلکہ اس چیز کو کہتے ہیں جو جوڑا جوڑا ہو۔

    ۔۔۔ تیسری یہ کہ قرآن کی سورتوں کی ترتیب سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ یہ سات گروپوں میں تقسیم ہیں اور ہر سورہ اپنے ساتھ ایک جوڑا بھی رکھتی ہے جس کی طرف میں برابر اشارہ کرتا آ رہا ہوں۔ یہاں اس بات کی یاددہانی سے مقصود یہ ہے کہ قرآن کے آخری گروپ میں پہنچنے کے بعد آپ بہتر طریقہ سے یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ رائے کچھ وزن رکھتی ہے یا نہیں اور قرآن کی اس ترتیب کے سامنے آنے سے فکر و نظر کے نئے دروازے کھلتے ہیں یا نہیں؟

    میرے نزدیک قرآن کی اسی حقیقت کی طرف وہ حدیث بھی اشارہ کر رہی ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ ’انزل القراٰن علی سبعۃ احرف‘ (قرآن سات حرفوں پر اتارا گیا ہے) سات حرفوں کے معنی اگر یہ لیے جائیں کہ قرآن کے تمام الفاظ سات طریقوں پر پڑھے جا سکتے ہیں تو یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ اس صورت میں قرآن ایک معمہ بن کے رہ جائے گا درآنحالیکہ قرآن خود اپنے بیان کے مطابق کتاب مبین ہے اور قریش کی ٹکسالی زبان میں نازل ہوا ہے۔ جو لوگ قراء توں کے اختلاف کو بڑی اہمیت دیتے ہیں وہ بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ قرآن کے کسی لفظ کی قراء ت سات طریقے پر کی گئی ہو۔ ابن جریرؒ قراء توں کے اختلاف نقل کرنے میں بڑے فیاض ہیں لیکن مجھے یاد نہیں کہ کسی لفظ کی انھوں نے دو تین سے زیادہ قراء تیں نقل کی ہوں۔

    غور کرنے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ قراء توں کا اختلاف دراصل قراء توں کا اختلاف نہیں بلکہ بیشتر تاویل کا اختلاف ہے۔ کسی صاحب تاویل نے ایک لفظ کی تاویل کسی دوسرے لفظ سے کی اور اس کو قراء ت کا اختلاف سمجھ لیا گیا حالانکہ و ہ قراء ت کا اختلاف نہیں بلکہ تاویل کا اختلاف ہے۔ ابھی سورۂ تحریم کی تفسیر میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ بعض لوگوں نے ’فَقَدْ صَغَتْ‘ کو ’فَقَدْ زَاغَتْ‘ بھی پڑھا ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس نے بھی یہ پڑھا ہے اس نے یہ قراء ت نہیں بتائی ہے بلکہ اپنے نزدیک اس نے ’فَقَدْ صَغَتْ‘ کے معنی بتائے ہیں جس کی غلطی، کلام عرب کے دلائل کی روشنی میں، اچھی طرح ہم واضح کر چکے ہیں۔

    پھر یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ اگر قراء توں کا اختلاف ہے بھی تو متواتر قراء ت کا درجہ تو صرف اسی قراء ت کو حاصل ہے جس پر مصحف، جو تمام امت کے ہاتھوں میں ہے، ضبط ہوا ہے۔ اس قراء ت کے سوا دوسری قراء تیں ظاہر ہے کہ غیر متواتر اور شاذ کے درجہ میں ہوں گی جن کو متواتر قراء ت کی موجودگی میں کوئی اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ چنانچہ میں نے اس تفسیر میں اختلاف قراء ت سے مطلق تعرض نہیں کیا بلکہ صرف مصحف کی قراء ت کو اختیار کیا ہے اور مجھے تاویل میں کہیں تکلف نہیں کرنا پڑا بلکہ ہر جگہ نہایت صاف، دل نشین، سیاق و سباق اور نظائر قرآن سے قرین تاویل سامنے آ گئی ہے جو اصل مطلوب و مقصود ہے۔ قراء توں کے اختلاف میں پڑنے کے معنی تو یہ ہیں کہ آپ ان الجھنوں میں پڑنے کے خود خواہاں ہیں جن سے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امت کو محفوظ کرنے کی کوشش فرمائی۔ بہرحال اس حدیث میں ’سبعۃ احرف‘ سے سات قراء تیں مراد لینے کا تو کوئی قرینہ نہیں ہے البتہ اگر ’حرف‘ کو عبارت، بیان اور اسلوب کے معنی میں لیں، جس کی زبان اور لغت کے اعتبار سے پوری گنجائش ہے، تو اس کی تاویل یہ ہو گی کہ قرآن سات اسلوبوں یا عبارتوں میں نازل ہوا ہے اور اس سے اشارہ انہی سات گروپوں کی طرف ہو گا جو قرآن میں ہر تلاوت کرنے والے کو نظر آتے ہیں۔

    ان گروپوں کی نوعیت، جیسا کہ ہم وضاحت کر چکے ہیں، یہ ہے کہ ہر گروپ میں ایک جامع عمود کے تحت قرآنی دعوت کے تمام بنیادی مطالب مختلف اسلوبوں سے اس طرح بیان ہوئے ہیں کہ ہر بات باربار سامنے آنے کے باوجود پڑھنے والا ان سے کبھی تکان محسوس نہیں کرتا بلکہ طرز بیان اور نہج استدلال کے تنوع، پیش و عقب کی تبدیلی، اطراف و جوانب کے فرق اور لواحق و تضمنات کی گوناگونی کے سبب سے ہر بار وہ ایک نیا لطف و حظ حاصل کرتا ہے۔ قرآن کی اسی خصوصیت کا ذکر بعض حدیثوں میں یوں آیا ہے کہ اہل علم اس سے کبھی آسودہ نہیں ہوتے اور اس کی تازگی پر کبھی خزاں کا گزر نہیں ہوتا۔ یہی ساتوں گروپ مل کر قرآن عظیم کی شکل اختیار کرتے ہیں، جیسا کہ سورۂ حجر کی مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں ہم نے واضح کیا ہے کہ ’وَالْقُرْآنَ الْعَظِیْمَ‘ میں ’و‘ تفسیر کے لیے ہے۔

    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا عمود انذار ہے اور اس انذار میں دونوں ہی عذاب شامل ہیں۔ وہ عذاب بھی جس سے رسولوں کے مکذبین کو لازماً اس دنیا میں سابقہ پیش آیا ہے اور وہ عذاب بھی جس سے آخرت میں دوچار ہونا پڑے گا۔ استدلال اس میں آفاق کی نشانیوں سے ہے۔ یعنی اس میں بتایا گیا ہے کہ کائنات کے مشاہدہ سے اس کے خالق کی جو صفات سامنے آتی ہیں وہ اس بات کو مستلزم ہیں کہ یہ دنیا ایک دن اپنی انتہا کو پہنچے گی۔ جن لوگوں نے اس کے اندر بالکل اندھے بہرے بن کر زندگی گزاری وہ جہنم میں جھونک دیے جائیں گے اور جنھوں نے اپنی عقل و فہم سے کام لیا اور غیب میں ہوتے خدا سے ڈرتے رہے وہ اجر عظیم کے مستحق ٹھہریں گے۔

  • الملک (The Dominion, Sovereignty, Control)

    30 آیات | مکی

    الملک - القلم ۶۷ - ۶۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں قیامت اور دوسری میں اُس عذاب سے خبردار کیا گیا ہے جو رسول کی تکذیب کے نتیجے میں اُس کی قوم پر لازماً آتا ہے۔ دونوں میں خطاب اگرچہ جگہ جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہے، لیکن روے سخن ہر جگہ قریش کے سرداروں کی طرف ہے۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الملک—- کا موضوع قریش پر یہ واضح کرنا ہے کہ دنیا جس طرح اور جس غایت کے لیے وجود میں آئی ہے، قیامت اُس کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ لہٰذا اُس سے بے خوف ہو کر اپنے آپ کو اُس انجام تک نہ پہنچاؤ، جہاں اعتراف جرم کے سوا کوئی چارہ اوراِس اعتراف کے نتائج کو بھگتنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔ اُس پروردگار سے ڈرو جو آج بھی، جس وقت اور جس طرح چاہے، تمھیں اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔

    سورہ میں استدلال خدا کی رحمت، قدرت اور ربوبیت کی اُن نشانیوں سے ہے جو انسان ہر لحظہ اپنے گردوپیش دیکھتا ہے۔

    دوسری سورہ—- القلم—- کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کردہ کتاب اور آپ کی سیرت سے قریش کے سرداروں کی سیرت و کردار اور اُن کے مزعومات کا موازنہ کرکے اُنھیں اِس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ خداکی کتاب اور اُس کے پیغمبر کے مقابلے میں وہ سرکشی اور تمردکارویہ اختیار نہ کریں۔ اُن کے سب باغ و بہار اور اُن کا تمام سرمایۂ فخر و مباہات عذاب کی زد میں ہے۔ وہ عقل سے کام لیں، اُن کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وہ صرف اِس لیے باتیں بنا رہے ہیں کہ اُنھیں ڈھیل دی جا رہی ہے۔ خدا کا فیصلہ عنقریب اُن کے بارے میں صادر ہوجائے گا۔

    سورہ کے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کے ساتھ اِس فیصلے کا انتظار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی بڑی ہی عظیم اور بافیض ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں اس کائنات کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس کائنات کے خالق سے متعلق صحیح تصور کی راہ: ’تَبَارَکَ‘ کے اندر عظمت اور برکت دونوں کے مفہوم پائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ صیغہ مبالغہ کا بھی ہے اس وجہ سے اس کے معنی ہوں گے کہ بڑی ہی باعظمت اور بافیض ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں اس کائنات کی باگ ہے۔ ’وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘ اور باعظمت و بافیض ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ہر چیز پر قادر بھی ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا اور مشکل سے مشکل کام بھی ایسا تصور نہیں کیا جا سکتا جو اس کے حیطۂ امکان سے خارج ہو۔؂۱
      یہ حال بیان ہوا ہے اس مشاہدے کا جو ایک عاقل اور صاحب فکر کے سامنے آتا ہے یا آنا چاہیے جب وہ اس کائنات کی نشانیوں پر غور کرتا ہے۔ اس کی دلیل آگے آ رہی ہے۔ یہاں خلاصۂ فکر پہلے بیان کر دیا ہے تاکہ ہر شخص کے سامنے یہ حقیقت آ جائے کہ اس کائنات پر غور کرنے والا کبھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ اس کا خالق کوئی کھلنڈرا ہے یا وہ کوئی لاابالی اور غیر ذمہ دار ہے جس نے یہ دنیا پیدا تو کر ڈالی لیکن اس کو اس کے خیر و شر سے کوئی دلچسپی نہیں، یا وہ محض ایک محرک اول ہے جس سے ایک حرکت تو صادر ہو گئی لیکن اس حرکت کے نتائج سے اسے کچھ بحث نہیں، یا وہ صرف ایک خاموش علۃ العلل ہے جس کو اپنی معلولات سے علت ہونے کے سوا کوئی اور واسطہ نہیں ہے۔
      اس کائنات کے خالق سے متعلق اس قسم کے تصورات میں جو لوگ مبتلا ہوئے یا تو اس وجہ سے ہوئے کہ انھوں نے اس کا صحیح تصور کرنا ہی نہیں چاہا تاکہ ان کی ہوا پرستی میں یہ تصور خلل انداز نہ ہو سکے یا کرنا تو چاہا لیکن اس کی صفات کا عکس اس کی پیدا کی ہوئی وسیع و عظیم کائنات کے آئینہ میں دیکھنے کے بجائے انھوں نے اپنی ان چھوٹی چھوٹی عینکوں سے دیکھنے کی کوشش کی جو ان کے اپنے ہاتھوں کی ایجاد تھیں۔ حالانکہ اس کا صحیح طریقہ صرف ایک ہی تھا کہ بالکل بے لوث اور غیر جانبدار ہو کر اس کی پیدا کی ہوئی کائنات کا مشاہدہ کرتے اور اس کے اندر اس کی صفات کا جلوہ دیکھتے۔ اگر ایسا کرتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوتی کہ اس کا خالق بڑا ہی عظیم بھی ہے اور بڑا ہی بافیض اور حکیم بھی اور ساتھ ہی اس کی قدرت بھی بے پناہ ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے، کوئی کام بھی اس کے لیے مشکل یا ناممکن نہیں۔ اس تصور سے ظاہر ہے کہ ان تمام باطل تصورات کی جڑ بھی کٹ جاتی ہے جن میں مشرک قومیں مبتلا ہوئیں اور ان اوہام کے لیے بھی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے جن میں فلاسفہ اور سائنس دان مبتلا ہوئے۔
      _____
      ؂۱ لفظ ’تَبَارَکَ‘ کے تضمنات پر سورۂ فرقان کی آیات ۱ ، ۱۰ اور ۶۱ کے تحت بحث ہو چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی بہت بزرگ، بہت فیض رساں ہے، وہ (پروردگار) جس کے ہاتھ میں (عالم کی) پادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس مشاہدے کا بیان ہے جو اِس کائنات کی نشانیوں پر غورکیا جائے تو ہر عاقل اور صاحب فکر انسان کے سامنے آجاتا ہے اور وہ یہ ماننے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے کہ کائنات کا خالق نہ کھلنڈرا ہے، نہ غیر ذمہ دار اور نہ محض محرک اول اور ایک خاموش علۃ العلل، جیسا کہ بعض فلاسفہ اور سائنس دانوں نے سمجھا ہے،بلکہ بڑا ہی بزرگ، بہت فیض رساں اور اِس کے ساتھ بے پناہ قدرت والا بھی ہے۔ چنانچہ عالم کے خیر و شر سے وہ نہ غیر متعلق ہو سکتا ہے اور نہ اُس کو کسی انجام تک پہنچانا اُس کے لیے کچھ مشکل ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جس نے پیدا کیا ہے موت اور زندگی کو تاکہ تمہارا امتحان کرے کہ تم میں کون سب سے اچھے عمل والا بنتا ہے۔ اور وہ غالب بھی ہے اور مغفرت فرمانے والا بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      صحیح تصورکے لازمی نتائج: یہ اوپر والی ہی بات دوسرے اسلوب میں فرمائی گئی ہے جس سے اس کی قدرت، حکمت اور فیض بخشی کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ فرمایا کہ وہی ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے کسی پر بھی کسی دوسرے کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ پھر موت زندگی پرمقدم ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور اسی کے فیض سے پردۂ عدم سے عالم وجود میں آئی ہے، وہ نہ چاہتے تو کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
      عدم کے بعد زندگی اور زندگی کے بعد پھر موت اس بات کی شہادت ہے کہ اس دنیا کا کارخانہ بے غایت و بے مقصد نہیں ہے یہ یوں ہی چلتا رہے یا یوں ہی ایک دن ختم ہو جائے۔ اگر ایسا ہو تو یہ ایک کارعبث ہو گا جو ایک حکیم و قدیر اور بافیض ہستی کی شان کے خلاف ہے بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں جس کو زندگی بخشتا ہے اس امتحان کے لیے بخشتا ہے کہ دیکھے کون اس کی پسند کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے اور کون اپنی من مانی کرتا ہے۔ اس امتحان کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں لوگوں کو ازسرنو زندہ کرے، ہر شخص کی نیکی اور بدی کا حساب ہو اور وہ اپنے عمل کے مطابق جزا یا سزا پائے۔
      علاوہ بریں وہ ’عزیز‘ ہے اس وجہ سے جو سزا کے مستحق ہوں گے ان کو اس کی پکڑ سے کوئی بچا نہیں سکتا اور وہ ’غفور‘ بھی ہے اس وجہ سے جو اس کی مغفرت کے مستحق ہوں گے ان کو وہ اس سے محروم نہیں فرمائے گا بلکہ وہ کسی کی سعی و سفارش کے بغیر اس کے حق دار ٹھہریں گے۔

      جاوید احمد غامدی (وہی) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم کو آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ اور وہ زبردست بھی ہے اور درگذر فرمانے والا بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اوپر والی بات ہی دوسرے اسلوب میں بیان فرمائی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’عدم کے بعد زندگی اور زندگی کے بعد پھر موت اِس بات کی شہادت ہے کہ اِس دنیا کا کارخانہ بے غایت و بے مقصد نہیں ہے کہ یوں ہی چلتا رہے یا یوں ہی ایک دن ختم ہو جائے۔ اگر ایسا ہو تو یہ ایک کار عبث ہو گا جو ایک حکیم و قدیر اور با فیض ہستی کی شان کے خلاف ہے، بلکہ یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اِس دنیا میں جس کو زندگی بخشتا ہے، اِس امتحان کے لیے بخشتا ہے کہ دیکھے کون اُس کی پسند کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے اور کون اپنی من مانی کرتا ہے۔ اِس امتحان کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں لوگوں کو ازسرنو زندہ کرے، ہر شخص کی نیکی اور بدی کا حساب ہو اور وہ اپنے عمل کے مطابق جزا یا سزا پائے۔‘‘(تدبر قرآن ۸/ ۴۹۱)

      یعنی وہ زبردست ہے، لہٰذا آزمایش کی یہ مدت گزرنے کے بعد جو سزا کے مستحق ہوں گے، وہ اُس کی پکڑ سے بچ نہ سکیں گے اور درگذر فرمانے والا بھی ہے، لہٰذا جو اُس کی مغفرت کے سزاوار ہوں گے، وہ اُس سے محروم نہ رہیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی جس نے بنائے سات آسمان تہ بہ تہ۔ تم خدائے رحمان کی صنعت میں کوئی خلل نہیں پاؤ گے۔ نگاہ دوڑاؤ، کیا تمہیں کوئی نقص نظر آتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مشاہدۂ کائنات کی دعوت: پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت اور جس فیض بخشی و ربوبیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس آیت میں اس کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دی ہے کہ آؤ، دیکھو اس کائنات کے خالق کی عظمت و شان، اس کی بے مثال صنعت گری اور اس کا کمال فن کہ اس نے تہ بہ تہ سات آسمان بنا ڈالے اور تم اس میں کہیں ڈھونڈھے سے بھی کوئی ناہمواری یا کوئی نقص و خلل نہیں پا سکتے۔ کیا کوئی چیز آسمانوں سے بھی بڑی ہو سکتی ہے لیکن اس وسیع و عریض اور ناپیدا کنار چیز کے اندر بھی اس کے خالق کے کمال فن کا حال یہ ہے کہ مجال نہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا ماہر فن بھی کہیں انگلی رکھ سکے کہ اس جگہ کسی جوڑ بند کو ہموار کرنے میں کوئی کسر رہ گئی۔ لفظ ’تَفٰوُتٌ‘ کے معنی فرق و اختلاف اور ناہمواری کے ہیں۔ اسی مضمون کو آگے لفظ ’فُطُوْرٌ‘ سے بھی تعبیر فرمایا ہے جس کے معنی نقص و خلل کے ہیں۔ اسی مضمون کی تعبیر کے لیے سورۂ قٓ آیت ۶ میں لفظ ’فُرُوْجٌ‘ استعمال فرمایا ہے:

      ’أَفَلَمْ یَنظُرُوْا إِلَی السَّمَآءِ فَوْقَہُمْ کَیْفَ بَنَیْنَاہَا وَزَیَّنَّاہَا وَمَا لَہَا مِن فُرُوْجٍ‘
      (کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا، ہم نے کیسا اس کو بنایا اور سنوارا اور کہیں اس میں کوئی دراڑ اور شگاف نہیں)۔

       

      جاوید احمد غامدی (وہی) جس نے سات آسمان بنائے، تہ بر تہ۔ رحمن کی تخلیق میں تم کوئی خلل نہ پاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پھر بار بار نگاہ دوڑاؤ، تمہاری نگاہ ناکام تھک کر واپس آ جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنۡقَلِبْ إِلَیْْکَ الْبَصَرُ خَاسِأً وَہُوَ حَسِیْرٌ‘۔ اتمام حجت کے لیے پھر دعوت دی کہ ایک ہی بار نہیں بلکہ باربار ناقدانہ نگاہ دوڑاؤ، تمہاری نگاہ تھک کر واپس آ جائے گی لیکن کہیں کوئی نقص یا خلل نہیں پا سکے گی۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا کی یہ بے مثال قدرت و حکمت اپنے سروں پر اس طرح پھیلی ہوئی دیکھتے ہو کہ نہ تم اس کا احاطہ کر سکتے اور نہ اس میں کوئی معمولی سے معمولی نقص ڈھونڈھ سکتے اس کے لیے وہ کون سا کام ہے جو دشوار ہو سکتا ہے؟ کیا مرکھپ جانے کے بعد تم کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا اور جزا اور سزا دینا یا تم کو کسی آفت ارضی و سماوی سے چشم زدن میں یہیں تباہ کر دینا اس آسمان کے پیدا کر دینے سے زیادہ مشکل کام ہے؟

      جاوید احمد غامدی پھر پلٹ کر دیکھو، کیا کوئی نقص کہیں پاتے ہو؟ پھر بار بار نگاہ دوڑاؤ، تمھاری نگاہ تھک کر تمھارے پاس نامراد لوٹ آئے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس قدرت و عظمت اور فیض بخشی و ربوبیت کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ فرمایا ہے۔مطلب یہ ہے کہ جس پروردگار کی یہ نشانیاں تم جب چاہے، اوپر نگاہ اٹھا کر دیکھ سکتے ہو، اُس کے لیے وہ کون سا کام ہے جو دشوار ہو سکتا ہے؟

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے آسمان زیریں کو چراغوں سے سجایا اور ان کو شیاطین کو سنگ سار کرنے کا ٹھکانا بھی بنایا اور ان شیاطین کے لیے دوزخ کا عذاب بھی ہم نے تیار کر رکھا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قدرت کے پہلو بہ پہلو رحمت کے جلوے: سات آسمانوں کا حوالہ دینے کے بعد آسمان زیریں کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی جس کے عجائب کا نسبۃً آسانی سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ فرمایا کہ اس کو دیکھو کس طرح ہم نے اس کو قمقموں سے آراستہ کیا ہے! مطلب یہ ہے کہ ان قمقموں کو دیکھو گے تو تمہارے سامنے یہ پہلو بھی آئے گا کہ اس جہان کا خالق صرف قدرت والا ہی نہیں بلکہ عظیم رحمت والا بھی ہے، جس نے اس چھت کو ایسے قمقموں سے جگمگایا ہے جن کی حسن افروزی اور فیض بخشی کا کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اوپر ’مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ‘ میں صفت رحمان کا حوالہ آیا ہے۔ یہ اسی ایک پہلو کی طرف اشارہ ہے گویا یہ دنیا اپنے وجود سے صرف اس بات کی شہادت نہیں دیتی کہ یہ ایک عظیم قدرت والے کی پیدا کی ہوئی دنیا ہے، ساتھ ہی یہ اس بات کی بھی شہادت دیتی ہے کہ وہ نہایت رحمان، نہایت کریم اور نہایت ہی بندہ نواز بھی ہے جس نے اپنے بندوں کے لیے ایسے لاجواب قمقموں سے آراستہ چھت بنائی ہے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ کی صفت رحمان کا حوالہ بار بار آئے گا۔ ہر جگہ اس کے اس خاص پہلو پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ ورنہ کلام کا اصلی حسن نگاہوں سے اوجھل رہے گا۔
      ستاروں کے ایک ضمنی فائدہ کی طرف اشارہ: ’وَجَعَلْنَاہَا رُجُوۡمًا لِّلشَّیَاطِیْنِ‘ کے الفاظ سے ان ستاروں کے ایک اور ضمنی فائدہ کی طرف اشارہ فرما دیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ شیاطین کو سنگ سار کرنے کے لیے ٹھکانوں کا کام بھی لیتا ہے۔ یہاں بات اجمال کے ساتھ فرمائی گئی ہے۔ اس کی تفصیل قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں آئی ہے کہ ان ستاروں کے اندر اللہ تعالیٰ نے دید بان (بُرُوْجٌ) بنائے ہیں جن میں اس کے کروبی ہر وقت پہرہ دیتے ہیں۔ اگر شیاطین عالم بالا کی سن گن لینے کے لیے اوپر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان پر شہابوں کے راکٹ پھینک کر ان کو کھدیڑتے ہیں۔ ان شہابوں کی نوعیت پر سورۂ رحمان کی تفسیر میں ہم بحث کر چکے ہیں، تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔ اس ضمنی اشارہ سے یہاں مقصود اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو اس شان و اہتمام کے ساتھ پیدا کرنے کے بعد اس کو چھوڑ نہیں دیا ہے کہ شیاطین اس کو اپنی بازی گاہ بنا لیں بلکہ اس نے اس کی نگرانی کا بھی سامان کیا ہے اور جب وہ حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو ان کی سرکوبی بھی ہوتی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خلق بے راعی کا گلہ نہیں ہے بلکہ جس نے اس کو خلق کیا ہے وہ پوری بیداری کے ساتھ اس کی نگرانی فرما رہا ہے اور ایک دن وہ تمام جن و بشر اپنے کیفر کردار کو پہنچیں گے جو اس میں دھاندلی مچائیں گے۔ ان کے لیے دوزخ کا عذاب تیار ہے، ’وَأَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ‘۔

      جاوید احمد غامدی (تم دیکھتے نہیں کہ) چرخ زیریں کو ہم نے چراغوں سے رونق دی ہے اور اِنھی (چراغوں) کو شیطانوں کے لیے ہم نے سنگ ساری بنا دیا ہے، اور اُن کے لیے دہکتی ہوئی آگ کا عذاب بھی ہم نے مہیا کر رکھا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی کائنات کا خالق صرف قدرت والا ہی نہیں، اِس کے ساتھ عظیم رحمت والا بھی ہے کہ اُس نے آسمان کی چھت کو ایسے قمقموں سے سجا دیا ہے جن کی حسن افروزی اور فیض بخشی ہر اندازے اور خیال سے باہر ہے۔
      یہ اُس سنگ ساری کا بیان ہے جو شہابوں کی صورت میں اُن شیطانوں پرعالم بالا میں ہر وقت ہوتی رہتی ہے جو سن گن لینے کے لیے اوپر جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِس سے مقصود اِس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِس اہتمام کے ساتھ دنیا کو پیدا کرکے اُسے چھوڑ نہیں دیا ہے، بلکہ وہ برابر اُس کی نگرانی کر رہا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جنھوں نے اپنے رب کا کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کا انکار خدا کے انکار کے ہم معنی ہے: اوپر شیاطین کے ساتھ جو معاملہ مذکور ہوا ہے اس سے یہ ان انسانوں کے انجام کے ذکر کی طرف گریز ہے جو اپنے رب کا کفر کریں گے۔ ’رب کے کفر‘ سے یہاں مراد قیامت اور جزاء و سزا کا انکار ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم جگہ جگہ اس کتاب میں تفصیل سے واضح کرتے آ رہے ہیں، یہ ہے کہ قیامت کے انکار سے اللہ تعالیٰ کی تمام بنیادی صفات ۔۔۔ قدرت، عدل، رحمت اور ربوبیت ۔۔۔ کی نفی ہو جاتی ہے۔ ان صفات کی نفی کر کے خدا کو ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہے۔ چنانچہ قرآن نے اسی بنیاد پر مشرکین کو جگہ جگہ کفار سے تعبیر کیا ہے حالانکہ وہ خدا کے منکر نہیں تھے۔
      ’وَبِئۡسَ الْمَصِیْرُ‘۔ فرمایا کہ یہ نہایت برا ٹھکانا اور مرجع ہے جو انھوں نے اپنے لیے انتخاب کیا۔ اس کے برے ہونے کے بعض پہلوؤں کی وضاحت آ گے آ رہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا کفر کیا ہے، اُن کے لیے (اِسی طرح) جہنم کی سزا ہے، اور وہ کیا ہی بُرا ٹھکانا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      پروردگار کے کفر سے مراد یہاں قیامت اور جزا و سزا کا انکار ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس کی وجہ ...یہ ہے کہ قیامت کے انکار سے اللہ تعالیٰ کی تمام بنیادی صفات ۔۔۔قدرت، عدل، رحمت اور ربوبیت ۔۔۔ کی نفی ہو جاتی ہے۔اِن صفات کی نفی کرکے خدا کو ماننا اور نہ ماننا، دونوں یکساں ہے۔ چنانچہ قرآن نے اِسی بنیاد پر مشرکین کو جگہ جگہ کفار سے تعبیر کیا ہے، حالاں کہ وہ خدا کے منکر نہیں تھے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۴۹۳)

      اوپر شیطانوں کے ساتھ جس معاملے کا ذکر ہوا ہے، یہ اُس سے اُن انسانوں کے انجام کی طرف گریز ہے جو اپنے پروردگار کی قدرت اور رحمت کی یہ نشانیاں دیکھنے کے باوجود قیامت کا انکار کرتے ہیں اور اِس طرح گویا اپنے پروردگار کا انکار کرتے ہیں۔

       

    • امین احسن اصلاحی جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے اس کا دھاڑنا سنیں گے اور وہ جوش مارتی ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرمایا کہ جب یہ منکرین دوزخ میں جھونکے جائیں گے تو ان کو دیکھ کر جہنم اس طرح دھاڑے گی جس طرح بھوکا شیر شکار کو دیکھ کر دھاڑتا ہے اور وہ جوش مار رہی ہو گی۔ یعنی اس کا بھڑکنا اپنے پورے شباب پر ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی یہ جب اُس میں ڈالے جائیں گے تو اُس کا دھاڑنا سنیں گے اور وہ ابل رہی ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی معلوم ہو گا کہ غصہ سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ جب جب ان کی کوئی بھیڑ اس میں جھونکی جائے گی اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمہارے پاس اس دن سے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جہنم کے جوش غضب کی تصویر: یہ جہنم کے غصہ کی تعبیر ہے کہ معلوم ہو گا کہ وہ غضب سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ اس کے اس غیظ و غضب کی وجہ ظاہر ہے کہ یہی ہو گی کہ اس کے نزدیک اس ہولناک دن سے جن لوگوں نے بے پروا ہو کر زندگی گزاری انھوں نے بالکل آنکھیں اور کان بند کر کے زندگی گزاری۔ ورنہ اس دنیا میں نہ قیامت اور جزا و سزا کی نشانیوں کی کمی تھی اور نہ کبھی یہ منذروں سے خالی رہی۔ پس جن لوگوں نے آنکھیں اور کان رکھتے ہوئے ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا وہ ہرگز کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ جہنم کے داروغے ان کو ملامت کریں گے کہ بدبختو! کیا تمہارے پاس اس دن سے آگاہ کرنے کے لیے کوئی نذیر نہیں آیا کہ تم نے اپنی یہ شامت بلائی! اس وقت یہ لوگ اعتراف کریں گے کہ اس میں تو شبہ نہیں کہ اس سے آگاہ کرنے کے لیے نذیر ہمارے پاس آئے لیکن ہم نے ان کو جھٹلا دیا اور یہ کہہ دیا کہ خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری ہے، تم محض ہم پر دھونس جمانے کے لیے یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ تم کو خدا نے بھیجا ہے کہ ہمیں اس دن سے آگاہ کرو اور خدا کی خوشنودی کے لیے جن تیاریوں کی ضرورت ہے ان کی ہمیں تعلیم دو۔

      جاوید احمد غامدی لگے گا کہ غضب سے پھٹی پڑرہی ہے۔ ہر مرتبہ جب کوئی بھیڑ اُس میں ڈالی جائے گی تو اُس کے نگران اُن سے پوچھیں گے: کیا تمھارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی وہ جواب دیں گے کہ ایک خبردار کرنے والا آیا تو سہی لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم لوگ بس ایک بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جہنم کے جوش غضب کی تصویر: یہ جہنم کے غصہ کی تعبیر ہے کہ معلوم ہو گا کہ وہ غضب سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ اس کے اس غیظ و غضب کی وجہ ظاہر ہے کہ یہی ہو گی کہ اس کے نزدیک اس ہولناک دن سے جن لوگوں نے بے پروا ہو کر زندگی گزاری انھوں نے بالکل آنکھیں اور کان بند کر کے زندگی گزاری۔ ورنہ اس دنیا میں نہ قیامت اور جزا و سزا کی نشانیوں کی کمی تھی اور نہ کبھی یہ منذروں سے خالی رہی۔ پس جن لوگوں نے آنکھیں اور کان رکھتے ہوئے ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا وہ ہرگز کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ جہنم کے داروغے ان کو ملامت کریں گے کہ بدبختو! کیا تمہارے پاس اس دن سے آگاہ کرنے کے لیے کوئی نذیر نہیں آیا کہ تم نے اپنی یہ شامت بلائی! اس وقت یہ لوگ اعتراف کریں گے کہ اس میں تو شبہ نہیں کہ اس سے آگاہ کرنے کے لیے نذیر ہمارے پاس آئے لیکن ہم نے ان کو جھٹلا دیا اور یہ کہہ دیا کہ خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری ہے، تم محض ہم پر دھونس جمانے کے لیے یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ تم کو خدا نے بھیجا ہے کہ ہمیں اس دن سے آگاہ کرو اور خدا کی خوشنودی کے لیے جن تیاریوں کی ضرورت ہے ان کی ہمیں تعلیم دو۔
      ’إِنْ اَنتُمْ إِلَّا فِیْ ضَلَالٍ کَبِیْرٍ‘۔ یعنی یہی نہیں کہ ہم نے ان کی کوئی بات مانی نہیں اور اپنی گمراہی پر متنبہ نہیں ہوئے بلکہ الٹے ان کو گمراہ ٹھہرایا کہ ہم نہیں بلکہ تم ایک بہت بڑی گمراہی میں مبتلا ہو کر ہمیں یہ ڈراوے سنا رہے ہو کہ مرکھپ جانے کے بعد ہم ازسرنو زندہ کیے جائیں گے، ہمارے ایک ایک قول و فعل کا حساب ہو گا اور ہم اور ہمارے آباء و اجداد جہنم میں پڑیں گے۔
      ’اَنتُمْ‘ کی ضمیر جمع ہے حالانکہ اوپر لفظ ’نَذِیْرٌ‘ واحد ہے اس سے یہ اشارہ نکل رہا ہے کہ یہ لوگ یہ اعتراف بھی کریں گے کہ یہی جواب ہم نے ہر اس شخص کو دیا جس نے ہمیں اس دن سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ خواہ وہ اللہ کا رسول رہا ہو یا اس کے ساتھی رہے ہوں۔

      جاوید احمد غامدی وہ جواب دیں گے: ہاں، ایک خبردار کرنے والا تو یقیناہمارے پاس آیا تھا، مگر ہم نے اُسے جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری۔ (ہم نے کہہ دیا کہ) تم لوگ تو بس ایک بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’اِنْ اَنْتُمْ اِلاَّ فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ‘۔ اِن میں ’اَنْتُمْ‘ ضمیر جمع ہے۔ یہ اِس بات پر دلیل ہے کہ یہی جواب اُنھوں نے ہر اُس شخص کو دیا جس نے اُنھیں خبردار کرنا چاہا۔

    • امین احسن اصلاحی اور وہ کہیں گے کہ ہم سننے والے یا سمجھنے والے ہوتے تو ہم دوزخ والوں میں سے نہ بنتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جہنمیوں کا اعتراف کہ انھوں نے اپنی عقل سے کام نہیں لیا: اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر وہ یہ اعتراف بھی کریں گے کہ اگر وہ بات کے سننے والے اور اپنی عقل سے کام لینے والے ہوتے تو حقیقت اتنی واضح تھی کہ وہ بھی ہدایت پر اور جنت کے حق دار ہوتے، جہنم والوں کے ساتھی نہ بنتے۔ لیکن نہ ہم نے ناصحوں کی بات سننے کے لیے اپنے کان کھولے اور نہ خود اپنی عقل سے کام لیا اس وجہ سے اس انجام بد کو پہنچے۔

      جاوید احمد غامدی اور وہ کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو (آج) اِن دوزخ والوں میں نہ ہوتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی تو وہ اپنے گناہ کا اعتراف کر لیں گے۔ پس لعنت ہو دوزخ والوں پر!! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرمایا کہ اس طرح وہ اپنے گناہ کا اعتراف کر لیں گے اور خود اپنے اعتراف کی رو سے جہنم کے مستحق بن جائیں گے تو ان بدبختوں پر خدا کی پھٹکار ہو جنھوں نے جانتے بوجھتے اپنے لیے جہنم کا سامان کیا۔

      جاوید احمد غامدی اِس طرح وہ اپنے گناہ کا اعتراف کر لیں گے، تو (اب) لعنت ہو اِن دوزخ والوں پر۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی بے شک جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں غیب میں رہتے، ان کے لیے مغفرت اور ایک بہت بڑا اجر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منکرین قیامت کے انجام کے بعد یہ ان لوگوں کا صلہ بیان فرمایا ہے جو قیامت کو آنکھوں سے دیکھے بغیر، اس دنیا میں اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے بے شک ایک عظیم رحمت و مغفرت اور ایک بہت بڑا اجر ہے۔
      عقل سے کام لینے والوں کا صلہ: ’یَخْشَوْنَ رَبَّہُم بِالْغَیْْبِ‘ کے الفاظ سے ان لوگوں کا صاحب عقل و بصیرت ہونا واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے کان اور آنکھیں بند کر کے زندگی گزاری اور نہ اس بات کے منتظر رہے کہ جب سب کچھ سامنے آ جائے گا تب مانیں گے بلکہ اس کائنات کی نشانیوں پر انھوں نے غور کیا، جن لوگوں نے ان کو ہوشیار کیا ان کی باتیں انھوں نے توجہ سے سنیں اور ان پر غور کیا اس وجہ سے یہ مستحق ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل عظیم سے نوازے۔ اس دنیا میں انسان کا اصلی امتحان یہی ہے کہ وہ اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر ان حقائق پر ایمان لائے جن کی خبر اللہ کے رسولوں نے دی ہے۔ جس نے یہ امتحان پاس کر لیا وہ اللہ تعالیٰ کے ہر انعام کا حق دار ہے اور جو اس میں ناکام رہا وہ جانور بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہے اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا فلسفی اور سائنس دان مانا گیا ہو۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے برخلاف) جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں، اُن کے لیے مغفرت بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی عقل و بصیرت سے اپنے پروردگار کوپہچانتے اور اِسی بنا پر اُس سے ڈرتے ہیں۔ اُسے کھلم کھلا دیکھنے اور اِس کے بعد ماننے پر اصرار نہیں کرتے۔استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس دنیا میں انسان کا اصلی امتحان یہی ہے کہ وہ اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر اُن حقائق پر ایمان لائے جن کی خبر اللہ کے رسولوں نے دی ہے۔ جس نے یہ امتحان پاس کر لیا، وہ اللہ تعالیٰ کے ہر انعام کا حق دار ہے اور جو اِس میں ناکام رہا، وہ جانور، بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہے، اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا فلسفی اور سائنس دان مانا گیا ہو۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۴۹۵)

       

    • امین احسن اصلاحی اور تم اپنی بات کو چھپا کر کہو یا علانیہ کہو وہ اس کو جانتا ہے۔ وہ تو دلوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منکروں کو تہدید مومنوں کو تسلی: یہ آیتیں تہدید کے محل میں بھی ہو سکتی ہیں اور تسلی کے محل میں بھی۔ یہاں یہ دونوں ہی کے محل میں ہیں۔ اوپر جن منکرین قیامت کا ذکر ہوا ہے ان کے لیے ان میں تہدید و وعید ہے کہ اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تمہارا رب تمہارے کسی جلی یا خفی سے بے خبر رہ سکتا ہے۔ تم پوشیدہ طور پر اپنی بات کہو یا علانیہ طور پر، وہ سب کو جانتا ہے۔ وہ سینوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے تو اس کے سامنے سرّ و علانیہ کا کیا سوال!
      منکرین قیامت کے بعد غیب میں رہتے خدا سے ڈرنے والوں کا بیان ہوا ہے۔ ان کے لیے اس میں تسلی ہے کہ تمہارے کسی قول و فعل کا غیب یا شہادت میں ہونا خدا کے لیے بالکل یکساں ہے۔ رات کی خلوتوں میں تم اپنے رب سے راز و نیاز کی جو باتیں کرتے ہو وہ بھی اس کے علم میں ہیں اور دن کی جلوتوں میں جو کچھ تم کرتے ہو اور کرو گے وہ بھی اس کے سامنے ہے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے وہ بھی اس سے مخفی نہیں تو جب اس سے کوئی چیز مخفی نہیں تو اطمینان رکھو کہ تمہاری رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی نیکی رائگاں جانے والی نہیں بلکہ تم انے ہر عمل کا بھرپور صلہ پاؤ گے۔

      جاوید احمد غامدی (لوگو)، تم اپنی کوئی بات چھپا کر کہو یا علانیہ، وہ دلوں کے بھید تک جانتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ تہدید بھی ہے اور تسلی بھی۔ یعنی مجرموں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اُن کی کوئی چیز خدا سے چھپی ہوئی نہیں ہے اور اُس کے فرماں بردار بندوں کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ دنیا اور آخرت، دونوں میں وہ اُنھیں تنہا نہ چھوڑے گا۔

    • امین احسن اصلاحی کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے وہ تو بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ‘۔ یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں اللہ تعالیٰ تمہارے ہر ظاہر و باطن سے آگاہ ہے یا اسے آگاہ ہونا چاہیے۔ فرمایا کہ جب وہ تمہارا خالق ہے اور اس کے خالق ہونے سے کسی کے لیے مجال انکار نہیں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے ناواقف ہو۔ جس نے تمام قابلیتوں اور صلاحیتوں کو وجود بخشا اور جس کے حکم سے ساری مشینری حرکت کر رہی ہو وہ اپنی مخلوق کی کسی نقل و حرکت سے کس طرح بے خبر رہ سکتا ہے!
      ’وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ‘۔ ’لَطِیْفٌ‘ کے معنی، جیسا کہ جگہ جگہ اس کی وضاحت ہو چکی ہے، باریک بین اور دقیقہ رس کے ہیں۔ فرمایا کہ حقیقی باریک بین اور باخبر تو وہی ہے۔ دوسرا اگر کسی کی زندگی کے کسی پہلو سے واقف ہوتا ہے تو اس کی واقفیت جزوی اور ناتمام ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ سب کو وجود میں لانے والا اور سب کو رزق و زندگی بخشنے والا ہے اس وجہ سے اس کا علم ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ شرک کے عوامل میں سے ایک بہت بڑا عامل وہ گمراہی بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم کے باب میں قوموں کو لاحق ہوئی۔ جب تک خدا کے علیم و خبیر ہونے کا صحیح تصور دل میں راسخ نہ ہو اس وقت تک انسان کے اندر نہ اس کی خشیت پیدا ہو سکتی اور نہ وہ خدا کے اعتماد و توکل کی حقیقی لذت سے آشنا ہو سکتا۔

      جاوید احمد غامدی کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ اور وہ بڑا دقیقہ رس اوربڑا ہی خبردار ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو ایک فرماں بردار ناقہ کے مانند بنایا تو تم اس کے مونڈھوں میں چلو پھرو اور اپنے رب کے بخشے ہوئے رزق میں سے برتو اور اس کی طرف پھر اکٹھے ہونا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زمین کے آثار ربوبیت کی طرف اشارہ: اوپر آسمان کے عجائب قدرت و حکمت سے استشہاد کیا تھا یہ زمین کے آثار ربوبیت سے قیامت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ فرمایا کہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نہایت مطیع و فرماں بردار بنایا ہے کہ تم اس کی بلندیوں اور پستیوں، اس کی وادیوں اور کوہساروں میں چلو پھرو اور اس میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو رزق پھیلا رکھا ہے اس سے بہرہ مند ہو اور اس حقیقت کو یاد رکھو کہ ایک دن اسی کے حضور میں سب کو اکٹھے ہونا ہے۔
      لفظ ’ذَلُوْلٌ‘ اور ’مَنَاکِبُ‘ پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں ایک تمثیل مضمر ہے۔ یعنی اس زمین کی مثال ایک فرماں بردار ناقہ سے دی گئی ہے۔ اس کے اندر جو درے اور راستے اور جو وادی و کہسار ہیں ان کو ناقہ کے ’مناکب‘ یعنی مونڈھوں اور کندھوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور انسانوں کو اس ناقہ کے جسم پر اس طرح فرض کیا گیا ہے گویا وہ اس کے مونڈھوں اور کندھوں میں جوئیں ہوں ان کی پرورش کا سارا سامان ناقہ کے مونڈھوں اور شانوں ہی میں موجود ہوتا ہے۔ وہ انہی کے اندر چلتی پھرتی بھی ہیں اور وہیں سے اپنی غذا بھی حاصل کر لیتی ہیں۔
      ربوبیت کا لازمی تقاضا: ’کُلُوْا مِنۡ رِّزْقِہٖ وَإِلَیْْہِ النُّشُوْرُ‘۔ یہ وہ اشارہ ہے جو ربوبیت کا یہ اہتمام و انتظام زبان حال سے انسان کو کر رہا ہے کہ اس رزق و امن سے فائدہ اٹھاؤ اور اس حقیقت کو یاد رکھو کہ جس خدا نے تمہارے لیے بلا استحقاق یہ اہتمام کیا ہے وہ تمہیں شتر بے مہار اور غیر مسؤل بنا کے چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ ایک دن تمہیں مرنا ہے اور مرنے کے بعد پھر اٹھنا اور اپنے رب کی طرف لازماً جانا ہے۔ اس لیے کہ یہ بات عقل اور فطرت کے بالکل خلاف ہے کہ انسان کو نعمتیں اور حقوق تو حاصل ہوں لیکن وہ مسؤلیت سے بری رہے۔

      جاوید احمد غامدی وہی جس نے زمین کو تمھارے لیے ایک فرماں بردار ناقہ بنا دیا ہے، تو اب تم اُس کے مونڈھوں میں چلو پھرو اور اپنے پروردگارکے رزق میں سے کھاؤ اور (یاد رکھو کہ ایک دن) اُسی کے حضور میں جی اٹھنا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ آسمان کے بعد اب زمین کے آثار کی طرف توجہ دلائی ہے۔
      اصل میں لفظ ’ذَلُوْل‘ استعمال ہوا ہے، لیکن اِس میں ایک تمثیل چھپی ہوئی ہے جس کو ہم نے ترجمے میں کھول دیا ہے۔ لفظ ’ذَلُوْل‘ اور ’مَنَاکِب‘، دونوں اِس پر دلالت کرتے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یعنی اِس زمین کی مثال ایک فرماں بردار ناقہ سے دی گئی ہے۔ اِس کے اندر جو درے اور راستے اور جو وادی و کہسار ہیں، اُن کو ناقہ کے ’مَنَاکِب‘ یعنی مونڈھوں اور کندھوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور انسانوں کو اِس ناقہ کے جسم پر اِس طرح فرض کیا گیا ہے گویا وہ اِس کے مونڈھوں اور کندھوں میں جوئیں ہوں جن کی پرورش کاسارا سامان ناقہ کے مونڈھوں اور شانوں ہی میں موجود ہوتا ہے۔ وہ اُنھی کے اندر چلتی پھرتی بھی ہیں اور وہیں سے اپنی غذا بھی حاصل کر لیتی ہیں۔‘‘(تدبرقرآن۸/ ۴۹۶)

      یعنی کھاؤ اور پیو، لیکن بھول نہ جاؤ کہ ایک دن تمھیں مرنا ہے اور مرنے کے بعد اپنے پروردگار کے سامنے جواب دہی کے لیے پیش ہو جانا ہے۔ یاد رکھو کہ جس خدا نے بغیر کسی استحقاق کے تمھارے لیے یہ سب اہتمام کیا ہے، وہ تمھیں غیر مسؤل نہ چھوڑے گا۔

       

    • امین احسن اصلاحی کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نچنت ہو گئے کہ وہ تمہارے سمیت زمین کو دھنسا دے اور وہ دفعتاً بگٹٹ چل پڑے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک مور ناتواں کے لیے اپنی ہستی پر غرور جائز نہیں: اوپر کی آیت میں انسان کی ناتوانی اور بے حقیقتی کا جو ذکر ہے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ تنبیہ ہے کہ جو انسان اس زمین کے وسیع و عریض اطراف و اکناف میں جوؤں کی طرح رینگ رہا ہے اس کو اپنی طاقت اور اپنے وسائل پر اتنا غرہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسے خدا کے عذاب سے ڈرایا جائے تو وہ اس کا مذاق اڑائے کہ اس پر کدھر سے عذاب آئے گا اور کون عذاب لائے گا! فرمایا کہ کیا تم اس عظیم ہستی سے جو آسمانوں میں ہے بالکل بے خوف اور نچنت ہو گئے کہ وہ زمین کو تمہارے سمیت دھنسا دے اور وہ بالکل بَگ ٹُٹ ہو کر کسی سمت کو چل پڑے!
      ’مُوْرٌ‘ کے معنی تیزی سے حرکت کرنے کے ہیں، جیسا کہ ’یَوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًا‘ (الطور ۵۲: ۹) سے واضح ہے۔ اس کے مختلف ترجمے لوگوں نے کیے ہیں لیکن میرا ذہن بار بار اس طرف جاتا ہے کہ یہاں یہ بَگ ٹُٹ چل پڑنے کے معنی میں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ’مور‘ کے اصل معنی حرکت سریع ہی کے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اوپر اس زمین کو ناقۂ ذلول (فرماں بردار اونٹنی) سے تشبیہ دی ہے۔ اس تعلق سے دیکھیے تو یہ معنی یہاں زیادہ موزوں معلوم ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تو خدا کی عنایت ہے کہ اس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے اور وہ تمہاری خدمت کے لیے ایک فرماں بردار اونٹنی بنی ہوئی ہے لیکن خدا اس کی باگ ذرا ڈھیلی کر دے تو پھر دیکھو وہ کس طرح بھاگ کھڑی ہوتی ہے کہ کسی کے سنبھالے نہ سنبھلے۔

      جاوید احمد غامدی کیا تم اُس سے بے خوف ہوگئے جو آسمان میں ہے کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے؟ پھر یکایک تم دیکھو کہ وہ بگ ٹٹ چل پڑی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’مَوْر‘ استعمال ہوا ہے۔ اِس کے معنی تیزی کے ساتھ حرکت کرنے کے ہیں۔ ترجمے میں اِس کے لیے’ بگ ٹٹ چل پڑی ہے‘ کی تعبیر موقع کلام کی مناسبت سے اختیار کی گئی ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...اِس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ’مَوْر‘ کے اصل معنی حرکت سریع ہی کے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اوپر اِس زمین کو ناقۂ ذلول(فرماں بردار اونٹنی) سے تشبیہ دی ہے۔اِس تعلق سے دیکھیے تو یہ معنی یہاں زیادہ موزوں معلوم ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تو خدا کی عنایت ہے کہ اُس نے زمین کو تمھارے لیے مسخر کر رکھا ہے اور وہ تمھاری خدمت کے لیے ایک فرماں بردار اونٹنی بنی ہوئی ہے، لیکن خدا اُس کی باگ ذرا ڈھیلی کر دے تو پھر دیکھو وہ کس طرح بھاگ کھڑی ہوتی ہے کہ کسی کے سنبھالے نہ سنبھلے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۴۹۷)

       

    • امین احسن اصلاحی کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نچنت ہو گئے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا مسلط کر دے تو تم جان لو گے کہ میرا انذار کیسا ہوتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فضائی عذاب کی دھمکی: اوپر کی آیت میں قدموں کے نیچے سے کسی عذاب کے نمودار ہو جانے کا اشارہ تھا یہ سر کے اوپر سے کسی عذاب کے آ دھمکنے کی دھمکی ہے کہ کیا تم اپنے اس خداوند سے، جو آسمان میں ہے نچنت ہو کہ وہ تم پر کنکر پتھر برسا دینے والی ہوا مسلط کر دے۔
      ’حَاصِبٌ‘ کنکر پتھر برسا دینے والی طوفانی ہوا کو کہتے ہیں۔ اس کی وضاحت ہم اس کتاب میں جگہ جگہ کر چکے ہیں۔ سورۂ ذاریات کی تفسیر میں ہم نے اس کے متعلق استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق بھی نقل کی ہے۔ پچھلی قوموں کی ہلاکت میں اس کو ایک اہم عامل کی حیثیت حاصل رہی ہے، خاص طور پر قوم لوط تو اسی عذاب سے ہلاک ہوئی۔ قریش کو قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں پر سے گزرنے کے مواقع اکثر حاصل ہوتے رہتے تھے اس وجہ سے قوم لوط کی تمثیل ان کے لیے موثر ہو سکتی تھی۔
      ’نَذِیْرِ‘ یہاں مصدر کے معنی میں ہے اور اس معنی میں اس کا استعمال معروف ہے۔ یعنی آج تو تمہیں میرا انذار مذاق معلوم ہوتا ہے لیکن جب وہ سامنے آ جائے گا تب تمہیں پتہ چلے گا کہ جس چیز کا تم مذاق اڑا رہے ہو وہ کس طرح حقیقت بنتی ہے اور کیسی ہولناک شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی کیا تم اُس سے بے خوف ہوگئے جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا بھیج دے؟سو اب تم جانو گے کہ کیسی ہے میری تنبیہ! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’نَذِیْرِ‘ آیا ہے اور یہ یہاں مصدر کے معنی میں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے گزرے تو دیکھو کیسی ہوئی ان پر میری پھٹکار۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تاریخ سے سبق لینے کی ہدایت: یہ قریش کو تاریخ سے سبق لینے کی ہدایت ہے کہ یہ عذاب اگر ان کے اوپر ابھی نہیں آیا ہے تو اس کے سبب سے اس کا مذاق نہ اڑائیں۔ یہ کوئی دانش مندی کی بات نہیں ہے کہ جو کچھ آدمی کے اپنے سر پر گزر جائے اسی کو مانے بلکہ دوسری قوموں کی سرگزشت سے انھیں سبق لینا چاہیے جن کو انہی کی طرح انذار کیا گیا لیکن انھوں نے اس کا مذاق اڑایا بالآخر وہ عذاب ان پر مسلط ہو کر رہا جس کا انھوں نے مذاق اڑایا۔
      ’فَکَیْْفَ کَانَ نَکِیْرِ‘ تو دیکھیں کس طرح ان پر میری پھٹکار ہوئی! یعنی میں نے کس نفرت و بیزاری کے ساتھ ان کو اپنے عذاب کا ہدف بننے کے لیے چھوڑ دیا اور کوئی ان کو بچانے والا نہ بن سکا۔

      جاوید احمد غامدی جو اِن سے پہلے گزرے ہیں،اُنھوں نے بھی (اِسی طرح) جھٹلایا تھاتو (دیکھ لو کہ) کیسی تھی میری پھٹکار! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ قریش کو تاریخ سے سبق لینے کی تلقین ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا انھوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا، وہ پروں کو پھیلائے اڑتے ہیں اور ان کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ ان کو خدائے رحمان ہی سنبھالتا ہے۔ بے شک وہی ہر چیز کی نگرانی رکھنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ہر چیز خدا ہی کے تھامے تھمی ہوئی ہے: یعنی اس دنیا میں کوئی چیز بھی، خواہ اوپر ہو یا نیچے، نہ خود کار ہے نہ اپنے بل بوتے پر ٹکی ہوئی ہے بلکہ اللہ ہی اس کو حرکت دیتا ہے اور وہی اس کو تھامتا ہے۔ زمین ہمارے قدموں کے نیچے ٹکی ہوئی ہے تو اس وجہ سے ٹکی ہوئی ہے کہ خدا نے اس کو ٹکا رکھا ہے۔ اگر وہ اس کو نہ تھامے رکھے تو، جیسا کہ اوپر اشارہ ہے، وہ سب کے سمیت کہیں سے کہیں جا نکلے۔ اسی طرح آسمان اگر ہمارے سروں پر تھما ہوا ہے تو خود نہیں تھما ہوا ہے بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے تھام رکھا ہے۔ اگر وہ اس کو چھوڑ دے تو کیا عجب وہ ہمارے اوپر ہی گر پڑے۔ اسی حقیقت کو یہاں مثال سے سمجھایا ہے کہ کیا یہ لوگ اپنے سروں پر پرندوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ پروں کو پھیلائے ہوئے بھی اڑتے ہیں اور پروں کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ ان دونوں ہی حالتوں میں خدائے رحمان ہی ہے جو ان کو فضا میں تھامے رہتا ہے۔ وہ نہ تھامے تو وہ فوراً گر پڑیں۔ مطلب یہ ہے کہ انہی پر قیاس کرو اس فضائے لامتناہی کے کواکب و نجوم اور اس کے ثوابت اور سیاروں کو۔ وہ اگر ٹکے ہوئے ہیں تو اس وجہ سے کہ خدا نے ان کو سنبھال رکھا ہے ورنہ ان میں سے کوئی ایک بھی گر کر پورے کرۂ زمین کو تہ و بالا کر دے۔
      ’اِنَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ بَصِیْرٌ‘۔ یعنی یہ خدائے رحمان ہی کی رحمت ہے کہ وہ ہر چیز کی دیکھ بھال کر رہا ہے اور اس کو سنبھالے ہوئے ہے ورنہ کسی چیز کا کوئی ایک پیچ بھی ذرا سا ڈھیلا ہو جائے تو یہ سارا عالم چشم زدن میں تباہ ہو جائے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ نہیں سوچتے) ۔ کیا اِن لوگوں نے اپنے اوپر (اڑتے ہوئے) پرندے نہیں دیکھے؟ پر پھیلائے ہوئے، اور وہ (اِسی طرح اُن کو) سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ رحمن کے سوا کوئی نہیں جو اُنھیں تھامے ہوئے ہو۔ بے شک ، وہی ہر چیزپر نگران ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ ایک مثال سے سمجھایا ہے کہ فضاے لا متناہی کے نجوم و کواکب کو بھی خدا نے اِسی طرح سنبھال رکھا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بتاؤ، تمہارے پاس وہ کون سا لشکر ہے جو خدائے رحمان کے مقابل میں تمہاری مدد کر سکے گا! یہ کافر بالکل دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کوئی فوج خدائی حملہ کا دفاع نہیں کر سکتی: یعنی اگر تم عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو کہ تمہیں دکھا دیا جائے تو تمہارے پاس کون سا لشکر ہے جو خدائے رحمان کے مقابل میں تمہاری مدد کرے گا؟
      ’اِنِ الْکَافِرُوْنَ إِلَّا فِیْ غُرُورٍ‘۔ یہ ان لوگوں کی بدبختی پر اظہار افسوس ہے کہ ان کے طنطنہ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بڑا ہی ناقابل تسخیر دفاعی حصار ان لوگوں نے تعمیر کر رکھا ہے جس کو کوئی طاقت بھی توڑ نہیں سکتی لیکن یہ لوگ سخت دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ عذاب الٰہی کا کوئی معمولی سا جھونکا بھی آ گیا تو ان کے سارے قلعے اور حصار خس و خاشاک کی طرح اڑ جائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی (تم عذاب کا مطالبہ کرتے ہو تو) بتاؤ ،تمھارے پاس وہ کون سالشکرہے جو رحمن کے مقابلے میں تمھاری مدد کرے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ منکر نرے فریب میں مبتلا ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List