Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 12 آیات ) At-Talaq At-Talaq
Go
  • الطلاق (Divorce)

    12 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق و لاحق سے تعلق

    سابق سورہ ۔۔۔ التغابن ۔۔۔ کی آیات ۱۴-۱۶ میں یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ آدمی کے بیوی بچے اس کے لیے بڑی آزمائش ہیں۔ اگر وہ چوکنا نہ رہے تو ان کی محبت میں گرفتار ہو کر وہ اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے جی چرانے لگتا ہے یہاں تک کہ یہ چیز اس کو بالآخر نفاق میں مبتلا کر دیتی ہے اور اس طرح ان کے ساتھ اس کی دوستی خود اپنے ساتھ دشمنی بن جاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی فرمائی ہے کہ ان سے چوکنے رہنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ بالکل ہی قطع تعلق کر لے بلکہ تاحد امکان اس طرح عفو و درگزر کا معاملہ رکھے کہ ان کی اصلاح بھی ہو اور اپنے کو ان کے ضرر سے محفوظ بھی رکھ سکے۔

    سورۂ تغابن کے بعد دو سورتوں ۔۔۔ الطلاق اور التحریم ۔۔۔ میں اسی نازک مسئلہ کی مزید وضاحت فرمائی اور نفرت و محبت دونوں طرح کے حالات کے اندر صحیح رویہ کے حدود معین کر دیے تاکہ کسی بے اعتدالی کی گنجائش نہ باقی رہے۔ سورۂ طلاق میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر بیوی سے کسی سبب سے نفرت پیدا ہو جائے تو اس کے معاملے میں کس طرح حدود الٰہی کی پابندی کا اہتمام کرے اور سورۂ تحریم میں یہ واضح فرمایا ہے کہ محبت میں کس طرح اپنے آپ کو اور ان کو حدود الٰہی کا پابند رکھنے کی کوشش کرے۔ میاں بیوی کے رشتہ ہی پر تمام معاشرت کی بنیاد ہے اور ہر شخص کو اس سے سابقہ بھی پیش آتا ہے لیکن اس رشتہ کے نازک حدود و قیود کا اول تو سب کو علم نہیں ہوتا اور جن کو ہوتا بھی ہے وہ نفرت یا محبت کی ہلچل میں ان کو ٹھیک ٹھیک ملحوظ رکھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ کوئی سبب اگر اختلاف یا افتراق کا پیدا ہو گیا ہو تو وہ ایسی نفرت و عداوت کی شکل اختیار کر لیتا ہے کہ شریعت کے تمام حدود و احکام پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر تعلقات محبت پر قائم ہیں، جیسا کہ ہونا چاہیے، تو خدا کے حدود و آداب کا احترام اس محبت پر قربان کر دیا جاتا ہے۔ یہ دونوں ہی حالتیں حدود الٰہی سے تجاوز اور شریعت سے انحراف کی ہیں جن کا نتیجہ آخرت کی نامرادی ہے اس وجہ سے قرآن نے دو الگ الگ سورتوں میں تفصیل سے بتایا کہ نفرت اور محبت دونوں قسم کے حالات کے اندر آدمی کا معاملہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ مجرد اندھے بہرے جذبات پر نہیں بلکہ خدا کے حدود پر مبنی ہونا چاہیے۔

    اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں سورتیں درحقیقت سورۂ تغابن ہی کے اجمال کی شرح کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان دونوں ہی میں خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور یہ خطاب بغیر کسی تمہید کے شروع ہو گیا ہے جو اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ سابق سورہ ہی کا تکملہ و تتمہ ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست خطاب شخصاً نہیں بلکہ امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے۔ اس طرح کے خطاب کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں۔ اس براہ راست خطاب سے ان احکام کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے جو ان سورتوں میں بیان ہوئے ہیں۔ یہاں جن خرابیوں کی اصلاح کی گئی ہے وہ جاہلیت کی سوسائٹی میں عام رہی ہیں بلک شاید یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو کہ اس تہذیب و تمدن کے دور میں بھی یہ عام ہیں۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ ان کی اصلاح کے احکام براہ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے دیے جائیں تاکہ لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ جب پیغمبرؐ کو بھی ان باتوں کی پابندی کی ہدایت ہے تو تابہ دیگراں چہ رسد!

  • الطلاق (Divorce)

    12 آیات | مدنی
    الطلاق - التحریم

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں بیویوں سے مفارقت اور دوسری میں اُن سے محبت کے موقعوں پر جو حدود وقیود ایک بندۂ مومن کو ملحوظ رکھنے چاہییں، اُن کی وضاحت فرمائی ہے۔ دونوں میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الطلاق—- کا موضوع مسلمانوں کو یہ بتانا ہے کہ اگر بیوی سے مفارقت کی نوبت آجائے تو اُس کے معاملے میں کس طرح اور کس درجے میں حدود الٰہی کی پابندی کا اہتمام ہونا چاہیے۔

    دوسری سورہ—- التحریم—- کا موضوع اُنھیں یہ بتانا ہے کہ التفات و محبت کے موقعوں پر اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو کس طرح حدودالٰہی کا پابند رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نیزہر شخص کوکس درجہ متنبہ رہنا چاہیے کہ اللہ کے ہاں کام آنے والی چیز آدمی کا اپنا عمل ہے۔ یہ نہ ہو تو کسی بڑی سے بڑی شخصیت کی نسبت بھی اُسے کچھ نفع پہنچانے والی نہیں بن سکتی۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے حساب سے طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اللہ سے، جو تمہارا پروردگار ہے، ڈرتے رہو اور ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو۔ اور نہ وہ خود ہی نکلیں الّاآنکہ وہ کسی کھلی ہوئی بدکاری کی مرتکب ہوں۔ اور یہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے حدود ہیں اور جو اللہ کے حدود سے تجاوز کریں گے تو انھوں نے اپنی ہی جان پر ظلم ڈھایا۔ تم نہیں جانتے شاید اللہ اس کے بعد کوئی اور صورت پیدا کر دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نبی صلعم سے خطاب کی اہمیت: تمہید میں ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب شخصاً نہیں بلکہ امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ کو خطاب کرنے کے بعد معاً ’طَلَّقْتُمْ‘ میں ضمیر خطاب جمع آ گئی ہے جس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ یہاں جو احکام دیے جا رہے ہیں وہ ہیں تو تمام مسلمانوں کے لیے البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے یہ احکام دینے سے ان کی اہمیت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، بہت بڑھ گئی ہے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ لوگوں کے اندر ان کی عظمت کا احساس پیدا ہو کہ جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ان باتوں کی پابندی لازمی ہے تو دوسروں پر تو بدرجہا زیادہ ہو گی۔
      طلاق کے باب میں حدودِ الٰہی کا احترام: جاہلیت میں طلاق کا عام طریقہ یہ رہا ہے کہ جس کو بھی بیوی پر کسی سبب سے غصہ آیا وہ نتائج و عواقب کا لحاظ کیے بغیر، ایک ہی سانس میں تین ہی نہیں بلکہ ہزاروں طلاقیں دے ڈالتا اور ساتھ ہی اس کو گھر سے باہر بھی نکال دیتا کہ جب طلاق دے چھوڑی تو اب اپنے گھر میں اس کی ایک وقت کی روٹی کا بھی خرچ کیوں برداشت کرے! اس طرح طلاق دینے میں عورت، مرد، بچوں بلکہ پورے کنبہ کے لیے یہاں تک کہ اس بچہ کے لیے بھی، جو عورت کے پیٹ میں بصورت حمل ہو سکتا ہے، جو مضرّتیں ہیں ان پر سورۂ بقرہ کی تفسیر میں بحث ہو چکی ہے۔ یہاں انہی مضرّتوں کو پیش نظر رکھ کر ہدایت فرمائی کہ غصہ اور نفرت کے جوش میں اللہ کے مقرر کیے ہوئے حدود و قیود کو نہ بھولو۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔
      ’اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ‘۔ فرمایا کہ جب کسی کو طلاق دینے کی نوبت آئے تو وہ عدت کے حساب سے طلاق دے اور اس عدت کا اہتمام سے شمار رکھے۔ اس کی وضاحت سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہے۔ وہاں فرمایا ہے: ’اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌم بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌم بِاِحْسَانٍ‘ (البقرہ ۲: ۲۲۹) جس سے معلوم ہوا کہ یہ جائز نہیں ہے کہ ایک ہی سانس میں تین یا تین سے زیادہ طلاقیں دے کر بیوی کو جدا کر دے بلکہ دو مہینوں میں، دو طُہروں کے اندر، طلاق دے اور پھر تیسرے طُہر میں اگر چاہے تو مراجعت کر لے اگر اس کو حسن سلوک کے ساتھ، بیوی کی طرح رکھنا مقصود ہو، ورنہ دستور کے مطابق رخصت کر دے۔ اگر آخری فیصلہ قطع تعلق ہی کا ہے۔ اس عدت کا شمار میاں اور بیوی دونوں کے لیے ضروری ہے۔ بیوی کے لیے اس وجہ سے ضروری ہے کہ ان تین مہینوں کے اندر، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۲۸ میں بیان ہوا، وہ اس بات کی پابند ہے کہ کسی اور مرد کی زوجیت میں نہیں جا سکتی۔ میاں کے لیے اس وجہ سے ضروری ہے کہ اس مدت کے اندر اس کو حق حاصل ہے کہ اگر وہ اس کو بیوی کی طرح رکھنا چاہے تو مراجعت کر لے۔ اس مدت کے گزر جانے کے بعد اس کا یہ حق ختم ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں اس وجہ سے بھی ضروری ہے کہ اس دوران میں اگر معلوم ہوا کہ عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل تک ممتد ہوجائے گی اور اس دوران میں عورت کے نان نفقہ اور اس کی رہائش کی ساری ذمہ داری مرد پر ہو گی۔
      ’وَاتَّقُوا اللّٰہَ رَبَّکُمْ‘۔ فرمایا کہ اللہ سے، جو تمہارا خداوند ہے، ڈرتے رہو۔ ’ڈرتے رہو‘ یعنی اس کے مقرر کیے ہوئے ان حدود کی پابندی، اس غصہ کے باوجود کرتے رہو جو تمہارے اندر بیوی کے خلاف پیدا ہو چکا ہے۔ اگر حدود توڑو گے تو یاد رکھو کہ اپنے اس خداوند کے حدود توڑو گے جس کی اطاعت تم پر واجب ہے اور جس کی پکڑ اور جس کے قہر و غضب سے تمہیں کوئی نہ بچا سکے گا۔
      طلاق میں عدت کی پابندی کی بعض مصلحتیں: ’لَا تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْ م بُیُوْتِھِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ‘۔ اس عدت کے دوران نہ تو تمہیں یہ حق حاصل ہے کہ ان کو ان کے گھروں سے نکالو اور نہ انہی کے لیے جائز ہے کہ وہ وہاں سے اٹھ کھڑی ہوں بلکہ دونوں یکجا ایک ہی گھر میں رہیں تاکہ باہمی سازگاری اور اصلاح احوال کی کوئی گنجائش ہو تو یہ یکجائی اس میں مددگار ہو۔ اللہ تعالیٰ کو میاں بیوی کا رشتہ ٹوٹنا پسند نہیں ہے۔ طلاق ایک مجبوری کا علاج ہے۔ اللہ نے بندوں کی مجبوریوں کے تحت اس کو جائز تو رکھا ہے لیکن یہ ’اکرہ المباحات‘ یعنی جائز چیزوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مکروہ ہے۔ چنانچہ اس نے اپنے بندوں کو اس سے بچانے ہی کے لیے طلاق پر عدت کی شرط عائد کی ہے اور یہ بھی ضروری قرار دیا ہے کہ اس مدت میں میاں بیوی دونوں ایک ہی گھر میں رہیں تاکہ دونوں ٹھنڈے دل سے اچھی طرح سوچ سمجھ کر فیصلہ کر سکیں کہ آخری قدم اٹھانے سے پہلے سازگاری اور اصلاح احوال کا کوئی امکان ہے یا نہیں؟
      زمانۂ عدت میں شوہر کا گھر بیوی کا بھی گھر ہے: ’لَا تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْ م بُیُوْتِھِنَّ‘ میں لفظ ’بُیُوْتِھِنَّ‘ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ مرد کو یہ نہیں خیال کرنا چاہیے کہ گھر اسی کا ہے بلکہ یہ گھر جس طرح اس کا ہے اسی طرح زمانۂ عدت میں بیوی کا بھی ہے اس وجہ سے نہ تو مرد کے لیے جائز ہے کہ بیوی کو اس کے گھر سے نکالے اور نہ بیوی کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ برہم ہو کر گھر سے چل کھڑی ہو۔ یہاں نکلنے سے مراد وہ نکلنا نہیں ہے جو معمولاً اپنی چھوٹی موٹی ضروریات کے لیے ہوا کرتا ہے بلکہ وہ نکلنا ہے جو کسی گھر کے خیرباد کہنے کے معنی میں ہوتا ہے۔
      ایک مستثنیٰ صورت: ’اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ‘۔ یعنی اس سے صرف ایک شکل مستثنیٰ ہے وہ یہ کہ مرد نے عورت کو طلاق کسی ایسی حرکت کی بنا پر دی ہو جو ’فَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ‘ کے حکم میں داخل ہو۔ اس سے ظاہر ہے کہ زنا یا اس کے لوازم و مقدمات ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ ان سے کم درجے کی برائی کے لیے اس لفظ کا استعمال معروف نہیں ہے۔ اگر مرد کی نگاہ عورت کی کسی ایسی حرکت پر پڑی ہے اور اس سے مشتعل ہو کر اس نے طلاق دی ہے تو پھر نہ مرد سے یہ مطالبہ کرنا جائز ہے کہ وہ ایسی عورت کو اپنے گھر میں ڈالے رکھے اور نہ اس سے اس فائدہ کے حاصل ہونے ہی کی توقع ہے جس کے لیے شریعت نے یہ یکجائی ضروری قرار دی ہے۔ کسی باحمیت مرد سے یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ اس کے دل کے اندر کسی ایسی عورت کے لیے کبھی گنجائش پیدا ہو سکے گی جس کی بے وفائی اس کے علم میں آ چکی ہو۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جن میاں بیوی کے درمیان لعان تک نوبت پہنچ جاتی ہے ان کے درمیان فقہاء جدائی کرا دینے ہی میں بہتری خیال کرتے ہیں اس لیے کہ جو مرد بقید قسم اپنی بیوی کو فاحشہ قرار دے چکا ہر چند اس کے الزام کا قانونی توڑ عورت کی جوابی قسم سے ہو جاتا ہو لیکن اس جوابی قسم سے مرد کے دل کو نہیں بدلا جا سکتا۔ اسی طرح اگر کسی نے اپنی بیوی کو ایسی بنیاد پر طلاق دی ہے جو ’فاحشہ مبینہ‘ سے تعلق رکھنے والی ہے تو اس سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ اس کا دل کبھی عورت سے صاف ہو سکے گا۔
      حدود الٰہی کی خلاف ورزی کا ضرر خلاف ورزی کرنے والوں کو پہنچتا ہے: ’وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ‘۔ یہ تنبیہ اور نہایت اہم تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ یہ اللہ کی قائم کی ہوئی حدیں ہیں تو جو ان کو لانگنے کی جسارت کرے گا وہ یاد رکھے کہ وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا بلکہ اپنی ہی جان پر ظلم ڈھائے گا۔ اللہ نے جو قیدیں اور پابندیاں بندوں پر عائد کی ہیں کسی اپنے نفع کے لیے نہیں عائد کی ہیں بلکہ بندوں ہی کی بہبود کے لیے عائد کی ہیں۔ جو لوگ ان کو توڑتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ ان کو توڑ کر اپنے ہی شخصی، نوعی، عائلی اور اجتماعی مصالح برباد کرتے ہیں۔
      ایک عظیم حکمت: ’لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا‘۔ یہ اس مصلحت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ’لَا تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْ م بُیُوْتِھِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ‘ کی ہدایت میں مضمر ہے۔ فرمایا کہ تم نہیں جانتے، شاید اللہ تعالیٰ اس طرح کوئی ایسی بات پیدا کر دے کہ میاں بیوی میں اختلاف کے بعد ملاپ کی صورت پیدا ہوجائے۔ یعنی اس یکجائی کے دوران میں میاں اور بیوی دونوں کے اندر اپنے رویہ کے جائزہ لینے کا احساس ابھرے اور ان کے پھٹے ہوئے دل ایک دوسرے سے ازسرنو جڑ جائیں اور ان کا اجڑتا گھر پھر آباد ہو جائے۔ اگر ایسا ہو تو اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت پسند ہے۔ وہ دلوں کو جڑا ہوا اور گھروں کو آباد دیکھنا پسند کرتا ہے۔ یہ پسند نہیں کرتا کہ میاں بیوی میں ایسی ناچاقی پیدا ہو کہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں اور صرف وہی جدا نہ ہوں بلکہ ان کے بچے ہوں تو وہ بھی اپنی ماں سے اور ماں بھی اپنے بچوں سے جدا ہو جائے۔

      جاوید احمد غامدی اے نبی، تم لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دو تواُن کی عدت کے حساب سے طلاق دو، اور عدت کا زمانہ ٹھیک ٹھیک شمار کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمھارا پروردگار ہے۔ (زمانۂ عدت میں) نہ تم اُنھیں اُن کے گھروں سے نکالو، نہ وہ خود نکلیں، الاّ یہ کہ وہ کسی صریح بے حیائی کی مرتکب ہوں۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کریں گے، (وہ یاد رکھیں کہ)اُنھوں نے اپنی ہی جان پر ظلم ڈھایا ہے۔ تم نہیں جانتے، شاید اللہ اِس کے بعد کوئی اور صورت پیدا کر دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، لیکن اگلے ہی لفظ میں ضمیر خطاب سے واضح کر دیا ہے کہ مخاطب تمام مسلمان ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے احکام دینے سے مقصود یہ ہے کہ جب خدا کا پیغمبر بھی اِن کا پابند ہے تو دوسروں کو تو اِن کے معاملے میں اور بھی محتاط ہونا چاہیے۔
      اِس کے معنی یہ ہیں کہ بیوی کو فوراً علیحدہ کر دینے کے لیے طلاق دینا جائز نہیں ہے۔ یہ جب دی جائے گی، ایک متعین مدت کے پورا ہو جانے پر مفارقت کے ارادے سے دی جائے گی۔ عدت کا لفظ اصطلاح میں اُس مدت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں بیوی شوہر کی طرف سے طلاق یا اُس کی وفات کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی۔ یہ مدت چونکہ مقرر ہی اِس لیے کی گئی ہے کہ عورت کے پیٹ کی صورت حال پوری طرح واضح ہو جائے، اِس لیے ضروری ہے کہ بیوی کو حیض سے فراغت کے بعد اور اُس سے زن و شو کا تعلق قائم کیے بغیر طلاق دی جائے۔ ہر مسلمان کو اِس معاملے میں اُس غصے کے باوجود جو اِس طرح کے موقعوں پر بیوی کے خلاف پیدا ہو جاتا ہے، اللہ اپنے پروردگار سے ڈرنا چاہیے۔
      طلاق کا معاملہ چونکہ نہایت نازک ہے۔ اِس سے عورت اور مرد اور اُن کی اولاد اور اُن کے خاندان کے لیے بہت سے قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں، اِس لیے ضروری ہے کہ جب طلاق دی جائے تو اُس کے وقت اور تاریخ کو یاد رکھا جائے اور یہ بھی یاد رکھا جائے کہ طلاق کے وقت عورت کی حالت کیا تھی۔ عدت کی ابتدا کس وقت ہوئی، یہ کب تک باقی رہے گی اور کب ختم ہو جائے گی۔ معاملہ گھر میں رہے یا خدانخواستہ کسی مقدمے کی صورت میں عدالت تک پہنچے، دونوں صورتوں میں اِسی سے متعین کیا جائے گا کہ شوہر کو رجوع کا حق کب تک ہے، اُسے عورت کو گھر میں کب تک رکھنا ہے، نفقہ کب تک دینا ہے، وراثت کا فیصلہ کس وقت کے لحاظ سے کیا جائے گا، عورت اُس سے کب جدا ہو گی اور کب اُسے دوسرا نکاح کر لینے کا حق حاصل ہو جائے گا۔
      یعنی اُس کے حدود کی پابندی کرتے رہو۔
      یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ اِس طرح اکٹھا رہنے کے نتیجے میں توقع ہے کہ دلوں میں تبدیلی پیدا ہو جائے، دونوں اپنے رویے کا جائزہ لیں اور اُن کا اجڑتا ہوا گھر ایک مرتبہ پھر آباد ہو جائے۔
      یعنی اِس ہدایت سے مستثنیٰ صرف یہ صورت ہے کہ مرد نے عورت کو طلاق ہی کسی ’فَاحِشَۃٌ مُّبَیِّنَۃ‘ کے ارتکاب پر دی ہو۔ عربی زبان میں یہ تعبیر زنا اور اُس کے لوازم و مقدمات کے لیے معروف ہے۔ اِس صورت میں، ظاہر ہے کہ نہ شوہر سے یہ مطالبہ کرنا جائز ہے کہ وہ ایسی عورت کو گھر میں رہنے دے، اور نہ اِس سے وہ فائدہ ہی حاصل ہو سکتا ہے جس کے لیے یہ ہدایت کی گئی ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ اللہ کے قائم کردہ اِن حدود سے جو شخص بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا، وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا، بلکہ اپنے ہی مصالح برباد کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حدود اپنے کسی فائدے کے لیے قائم نہیں کیے، بندوں کی بہبود کے لیے قائم کیے ہیں۔ لہٰذا اِنھیں کوئی شخص اگر توڑتا ہے تو اپنی ہی جان پر ظلم ڈھاتا ہے۔
      یعنی کوئی ایسی صورت پیدا کردے کہ میاں بیوی اختلاف کے بعد دوبارہ ملاپ کے لیے تیار ہو جائیں۔ یہ اُس مصلحت کی طرف اشارہ ہے جس کے لیے ’لَا تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْ بُیُوْتِھِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ‘ (نہ تم اُنھیں گھروں سے نکالو، نہ وہ خود نکلیں) کی ہدایت فرمائی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اگر ایسا ہو تو اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت پسند ہے۔ وہ دلوں کو جڑا ہوا اور گھروں کو آباد دیکھنا پسند کرتا ہے۔ یہ پسند نہیں کرتا کہ میاں بیوی میں ایسی ناچاقی پیدا ہو کہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں اور صرف وہی جدا نہ ہوں، بلکہ اُن کے بچے ہوں تو وہ بھی اپنی ماں سے اور ماں بھی اپنے بچوں سے جدا ہو جائے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۴۳۸)

       

    • امین احسن اصلاحی پس جب وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو ان کو یا تو دستور کے مطابق نکاح میں رکھو یا دستور کے مطابق جدا کر دو اور اپنے میں سے دو ثقہ آدمیوں کو گواہ بنا لو۔ اور گواہی کو قائم رکھو اللہ کے لیے۔ یہ نصیحت ان کو کی جاتی ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اللہ سے ڈریں گے تو اللہ ان کے لیے راہ نکالے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مرد کو اپنا حق عورت کی ضرررسانی کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے: فرمایا کہ جب وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں یعنی تیسرے طہر میں داخل ہو جائیں تب ان کے رکھنے یا الگ کر دینے کا آخری فیصلہ کرو۔ اگر ان کو رکھنا ہو تو دستور کے مطابق رکھو جس طرح ایک خدا ترس مسلمان اپنی بیوی کو رکھتا ہے اور جدا کر دینے ہی کا فیصلہ ہو تو یہ بھی شریفوں کے دستور کے مطابق یعنی کچھ دے دلا کر، احسان و مروت کے ساتھ ہو۔ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۳۱ میں فرمایا ہے: ’وَلَا تُمْسِکُوْھُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا‘ یعنی اگر ان کو روکو تو یہ مراجعت اس قصد سے نہ ہو کہ وہ تمہارے پنجہ میں اسیر رہیں اور تم ان کو تنگ کر سکو۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص ایسا کرنا چاہے تو کر سکتا ہے اس لیے کہ اس کو مراجعت کا حق حاصل ہے لیکن یہ حق اگر کوئی عورت کو ضرر پہنچانے اور تنگ کرنے کے لیے استعمال کرے گا تو وہ خدا کے بخشے ہوئے ایک حق کو ایک نہایت ظالمانہ مقصد کے لیے استعمال کرے گا جس کا وبال بہت ہی سخت ہے۔
      گواہ اور گواہی کی اہمیت: ’وَّاَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ وَاَقِیْمُوا الشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ‘۔ یعنی اس کو بیوی کی حیثیت سے رکھنا ہو تو اور جدا کرنا ہو تو، دونوں صورتوں میں اس پر اپنے اندر سے دو ثقہ مسلمانوں کو گواہ بنا لو تاکہ اس واقعہ کی بنا پر کوئی نزاع پیدا ہونے کا امکان باقی نہ رہے ورنہ اندیشہ ہے کہ فریقین میں سے کسی کی موت پر وراثت وغیرہ کے جھگڑے اٹھ کھڑے ہوں۔ اس شہادت کے حکم کو فقہاء نے تو عام طور پر استحسان ہی کے درجے میں رکھا ہے، اور ایک اچھے معاشرے میں اگر یہ استحسان ہی کے درجے میں رہے جب بھی کافی ہے، لیکن اس زمانے میں معاشرے کے فساد کے سبب سے جس طرح نکاح کے لیے رجسٹریشن کا طریقہ اختیار کر لیا گیا ہے اسی طرح طلاق کے لیے بھی یہ طریقہ اختیار کر لیا جائے تو اس سے بہت سی نزاعات کا سدباب ہو سکتا ہے۔
      ’وَاَقِیْمُوا الشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ‘۔ یہ مسلمانوں کو عام طور پر اور گواہوں کو خاص طور پر تاکید ہے کہ گواہی کے فرائض کو اللہ کے لیے انجام دو۔ یعنی اول تو گواہی سے حتی الامکان کترانا نہیں چاہیے ثانیاً جب گواہی کی نوبت آئے تو بے رو رعایت اور بے خوف و خطر صرف اللہ کی خاطر گواہی دو۔ یہ بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مسلمانوں کو ’شہدآءَ اللّٰہ فی الارض‘ کے منصب پر سرفراز فرمایا ہے اس وجہ سے مسلمان کسی معاملہ میں کسی شخص یا کسی فریق کا گواہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ کا گواہ ہوتا ہے اور اسی گواہی پر امت کے اندر اس کی حیثیت عرفی کا انحصار ہے۔
      ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا لازمی تقاضا: ’ذٰلِکُمْ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ‘۔ فرمایا کہ یہ تین باتیں جو اوپر کی آیات میں بتائی گئی ہیں ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے لازمی نتائج میں سے ہیں۔ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان کے مدعی ہیں ان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان کو حرزجان بنائیں۔ ورنہ یاد رکھیں کہ ان کا ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا دعویٰ بالکل بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔
      حدود الٰہی کی پابندی کرنے والوں کو عظیم بشارت: ’وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا‘۔ یہ حدود کی پابندی کرنے والوں کو اطمینان دلایا ہے کہ وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں کہ ان کو کوئی مشکل پیش آئی تو اللہ ان کے لیے راہ نکالے گا۔ وہ اپنے بندوں کا مشکلات کے ذریعہ سے امتحان کرتا ہے۔ جو ان سے پست حوصلہ ہر کر برگشتہ ہو جاتے ہیں خدا بھی ان کو چھوڑ دیتا ہے لیکن جو مشکلات کے علی الرغم خدا کے حدود کا احترام قائم رکھنے کا عزم کر لیتے ہیں اللہ تعالیٰ بالآخر ان کی راہ آسان کر دیتا ہے:

      ’وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا‘(العنکبوت ۲۹: ۶۹)
      (جو موانع کے علی الرغم ہماری راہ پر چلنے کی جدوجہد کریں گے ہم ضرور ان کے لیے اپنی راہیں کھولیں گے)۔

       

      جاوید احمد غامدی (اِسی طرح طلاق دو)، پھر جب وہ اپنی عدت کے خاتمے پر پہنچ جائیں تو اُنھیں بھلے طریقے سے نکاح میں رکھو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو۔ اور(نباہ کا ارادہ ہو یا جدائی کا، دونوں صورتوں میں) دو ثقہ آدمیوں کو اپنے میں سے گواہ بنا لو، اور (گواہوں کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ گواہی دینے والو)، تم اِس گواہی کو اللہ کے لیے قائم رکھو۔ یہ بات ہے جس کی نصیحت (تم میں سے) اُن لوگوں کو کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور جو لوگ اللہ سے ڈریں گے، (اُنھیں کوئی مشکل پیش آئی) تو اللہ اُن کے لیے نکلنے کا راستہ پیدا کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے واضح ہے کہ عدت کے پورا ہو نے تک شوہر کو رجوع کا حق ہے۔ چنانچہ ہدایت کی گئی ہے کہ یہ خاتمے کو پہنچ رہی ہو تو شوہر کو فیصلہ کر لینا چاہیے کہ اُسے بیوی کو روکنا ہے یا رخصت کر دینا ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں اللہ کا حکم ہے کہ معاملہ معروف کے مطابق، یعنی بھلے طریقے سے کیا جائے۔ سورۂ بقرہ میں مزید وضاحت ہے کہ روکنا مقصود ہو تو یہ ہرگز ہرگز دست ستم دراز کرنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ محبت اور سازگاری کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے کے لیے ہونا چاہیے، ورنہ یہ محض ظلم ہو گا جو قیامت میں اللہ کی شدید ناراضی کا باعث بن جائے گا۔
      اِس سے مقصود یہ ہے کہ فریقین میں سے کوئی بعد میں کسی بات کا انکار نہ کرے اور اگر کوئی نزاع پیدا ہو تو اُس کا فیصلہ آسانی کے ساتھ ہو جائے۔ مزید یہ کہ اِس معاملے میں کسی قسم کے شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں اور لوگوں کے لیے ہر چیز بالکل واضح اور متعین رہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ ہو گا اور جو اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ اللہ اپنے ارادے پورے کر کے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ ٹھہرا رکھا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ‘۔ یہ اوپر والی بات ہی کی مزید وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو گا۔ اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ ایک ہی سانس میں تین طلاقیں دے کر بیوی کو گھر سے نکال باہر کرنے کا ایک بڑا محرک، خاص طور پر غربا کے لیے، ان کا معاشی مسئلہ بھی ہوتا ہے۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ جب ایک عورت کو طلاق دے چھوڑی تو اب اس کے نان نققہ کی ذمہ داری مفت میں کیوں اٹھائیں! اللہ تعالیٰ نے ان کو اطمینان دلایا ہے کہ اگر تم اللہ کے حدود کے احترام کے لیے یہ بوجھ اٹھاؤ گے تو وہ تمہیں وہاں سے رزق فراہم کرے گا جہاں سے تم کو گمان بھی نہ ہو گا۔ یہ خیال نہ کرو کہ خدا کی رحمت اور اس کی مدد کے راستے اتنے ہی ہیں جتنے تم نے سوچ رکھے ہیں یا جو تم قیاس کر سکتے ہو بلکہ اس کے بے شمار راستے ہیں جن کا علم اسی وقت ہوتا ہے جب وہ کھلتے ہیں۔ اس وقت انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اس کے لیے خدا کی مدد اس گوشے سے نمودار ہوئی جدھر سے اس کے نمودار ہونے کا وہ کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
      ’وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ‘۔ فرمایا کہ اس کے لیے شرف صرف یہ ہے کہ خدا پر پورا بھروسہ رکھو۔ اگر تم خدا پر بھروسہ رکھو گے تو وہ تمہاری دست گیری کے لیے کافی ہے۔ وہ اسباب و وسائل کا محتاج نہیں ہے۔ اسباب و وسائل سب اس کے تابع ہیں۔ بندے کو یہ اندیشہ نہیں رکھنا چاہیے کہ جن نامساعد حالات میں وہ گھرا ہوا ہے خدا ان کو بدلنے سے قاصر رہ جائے گا۔ جب وہ مدد کرنا چاہے گا تو اس کے ارادے میں کوئی چیز مزاحم نہ ہو سکے گی۔
      اللہ کی مدد کے ظہور کے لیے ایک وقت مقرر ہوتا ہے: ’اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا‘۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اسی طرح اس کی نصرت کے ظہور کے لیے بھی ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ اس کے ظہور میں اگر کچھ دیر ہوتی ہے تو اس سے مقصود بندوں کے صبر کا امتحان ہوتا ہے۔ بندے کو اطمیان رکھنا چاہیے کہ اللہ نے جو وعدہ کر رکھا ہے وہ ضرور پورا کرے گا۔ اگر اس میں دیر ہو گی تو اتنی ہی ہو گی جتنی اس کے صبر کے امتحان کے لیے ضروری ہے اور یہ امتحان اسی کی بھلائی کے لیے ہے۔
      ایک سوال اور اس کا جواب: یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان آیات میں جو طریقہ طلاق دینے کا بتایا گیا ہے اگر کوئی شخص اس پر عمل نہیں کرتا بلکہ ایک ہی وقت میں تین یا اس سے زئد طلاقیں دے کر بیوی کو علیحدہ کر دیتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟
      اس سوال کے جواب میں حنفیہ اور دوسرے ائمہ کے درمیان اختلاف ہے۔ دوسرے ائمہ کے نزدیک تو اس طرح طلاق دینے والے کی ایک سے زیادہ طلاقیں ایک ہی حکم میں محسوب ہوں گی لیکن حنفیہ کے نزدیک اس طرح طلاق دینے والے کی طلاق واقع ہو جائے گی البتہ صحیح طریقہ اختیار نہ کرنے کے سبب سے وہ عند اللہ گنہ گار ہو گا۔
      ہمارے نزدیک ان دونوں ہی مسلکوں میں تھوڑی تھوڑی کسر ہے جس کی اصلاح، احترام شریعت کے نقطۂ نظر سے، ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن کی اتنی واضح ہدایات کے باوجود، ایک ہی سانس میں کئی طلاقیں دے ڈالتا ہے اور اس کی جسارت پر اس کو کوئی تادیب نہیں ہوتی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ دین کے ساتھ اس نے جو مذاق کیا اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ اس کا نوٹس لینا ضروری ہے ورنہ لفظ ’طلاق‘ ایک بالکل بے معنی لفظ بن کے رہ جاتا ہے حالانکہ شریعت میں نکاح و طلاق کے الفاظ نہایت اہم ہیں جن کو مذاق کے طور پر بھی استعمال کیا جائے تو یہ حقیقت بن جاتے ہیں۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو حنفیہ کا مسلک، احترام شریعت کے نقطۂ نظر سے، زیادہ قرین صواب معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی طلاق کو واقع کر دیتے ہیں۔ لیکن ایک خامی اس میں بھی ہے۔ وہ یہ کہ اگر اس کو کوئی تادیب و تعزیر نہ کی جائے تو مجرد اس بات سے کہ اس طرح طلاق دینے والا عند اللہ گنہ گار ہو گا لوگوں کے اندر قرآن کے بتائے ہوئے طریقہ کا صحیح احترام پیدا نہیں کیا جا سکتا اس وجہ سے ضروری ہے کہ اس کی طلاق کو نافذ کرنے کے ساتھ دین کے ساتھ کھیل کرنے کی کوئی سزا بھی اس کو دی جائے تاکہ جو لوگ طلاق دینے کا یہ غلط طریقہ اختیار کرتے ہیں ان کی حوصلہ شکنی ہو۔
      حنفیہ کے اس فتوے کی بنیاد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک اجتہاد پر ہے اور ہمیں جہاں تک علم ہے ان کا اجتہاد یہ ہے کہ اس طرح طلاق دینے والے کی طلاق نافذ تو کر دینی چاہیے اس لیے کہ اس نے ضائع کیا ہے تو اپنا حق رجعت ضائع کیا ہے لیکن ساتھ ہی حدود الٰہی کی جو خلاف ورزی اس نے کی ہے اس کی سزا بھی اس کو ملنی چاہیے تاکہ دوسروں کو حدود شریعت کی خلاف ورزی کی جرأت نہ ہو۔ یہ اجتہاد نہایت حکیمانہ ہے۔ ہم نے اس کتاب میں فقہی جزئیات پر بحث کے لیے ایک خاص حد مقرر کر لی ہے اس وجہ سے اشارہ پر کفایت کرتے ہیں۔ اپنے بعض فقہی مقالات میں ہم نے اس پر بحث کی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور اُنھیں وہاں سے رزق دے گا، جدھر اُن کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ اور جو اللہ پر بھروسا کریں گے، وہ اُن (کی دست گیری) کے لیے کافی ہے۔ اللہ اپنے ارادے پورے کرکے رہتا ہے۔ (ہاں، یہ ضرور ہے کہ) اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ کوئی شخص طلاق دے کر محض اِس لیے بیوی کو نکال باہر نہ کرے کہ طلاق دے دی ہے تو اب اِس کے نان و نفقہ کی ذمہ داری مفت میں کیوں اٹھائی جائے۔
      چنانچہ اُس کی نصرت کے ظہور کے لیے بھی ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس کے ظہور میں اگر کچھ دیر ہوتی ہے تو اِس سے مقصود بندوں کے صبر کا امتحان ہوتا ہے۔ بندے کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ اللہ نے جو وعدہ کر رکھا ہے، وہ ضرور پورا کرے گا۔ اگر اُس میں دیر ہو گی تو اتنی ہی ہو گی، جتنی اُس کے صبر کے امتحان کے لیے ضروری ہے اور یہ امتحان اُسی کی بھلائی کے لیے ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۴۴۰)

       

    • امین احسن اصلاحی اور تمہاری عورتوں میں جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر ان کے باب میں شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور اسی طرح ان کی بھی جن کو حیض نہ آیا ہو اور حمل والیوں کی مدت وضع حمل ہے اور جو اللہ سے ڈرے گا تو اللہ اس کے لیے اس کے معاملے میں آسانی پیدا کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عورتوں کے اختلاف حالات کے سبب سے ان کی عدت میں فرق: اوپر ان عورتوں کی عدت بتائی ہے جن کو حیض آتا ہے اور جن کی عدت کی حدبندی حیض اور طہر سے ہو سکتی ہے۔ اب یہ ان عورتوں کی عدت بتائی جا رہی ہے جو آئسہ ہو چکی ہوں یا ابھی ان کو حیض آیا ہی نہ ہو یا وہ حاملہ ہوں جس کے سبب سے ان کو حیض نہ آ رہا ہو۔ فرمایا کہ جو آئسہ ہو چکی ہوں یا جن کو ابھی حیض آیا ہی نہ ہو ان کی عدت تو تین مہینے ہے اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔
      ارباب تاویل کی ایک الجھن اور اس کا حل: آئسہ عورتوں کے ساتھ ’اِنِ ارْتَبْتُمْ‘ کی جو شرط لگی ہوئی ہے اس کے سبب سے ہمارے ارباب تاویل کو اس میں بڑا ارتیاب پیش آیا ہے۔ عام طور پر تو لوگ اس کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر تمہیں ان کی عدت کے بارے میں کوئی شبہ ہو تو ہم تم کو بتاتے ہیں کہ ان کی عدت تین مہینے ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ عورت کو خون تو آتا ہو لیکن یہ معین نہ ہو رہا ہو کہ یہ حیض ہے یا استحاضہ تو اس کی عدت تین مہینے ہے۔
      پہلا قول سعید ابن جبیرؒ سے مروی ہے اور ابن جریرؒ نے اسی کو ترجیح دی ہے لیکن یہ قول کچھ قوی نہیں معلوم ہوتا۔ اگر مقصود محض لوگوں کے سوال کا حوالہ ہے تو اس مضمون کی تعبیر کے لیے موزوں ترین لفظ ’سوال‘ ہے جو قرآن میں اس طرح کے مواقع میں ہر جگہ استعمال ہوا ہے۔ اس کے لیے ’اِرْتَبْتُمْ‘ کا لفظ موزوں نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر سوال ہوتا تو ان تینوں ہی قسم کی عورتوں سے متعلق ہوتا جن کا حکم یہاں بیان ہوا ہے، جیسا کہ روایات سے معلوم بھی ہوتا ہے، لیکن ’اِرْتَبْتُمْ‘ اس طرح استعمال ہوا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آئسہ عورتوں کے ساتھ بطور ایک شرط مذکور ہوا ہے۔
      دوسرا قول مجاہدؒ ، زہریؒ اور ابن زیدؒ سے مروی ہے۔ اس میں ایک تو یہ بات کھٹکتی ہے کہ اگر یہ مسئلہ ایسی عورتوں کا ہے جن کو خون آتا ہے لیکن یہ شک پیدا ہو رہا ہے کہ یہ حیض ہے یا استحاضہ تو ان کو آئسہ سے تعبیر کرنا موزوں نہیں تھا حالانکہ یہاں ان کے لیے ’وَالّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس آئسہ کے بارے میں اس طرح کا شک نہ ہو اس کے لیے کوئی عدت نہیں ہے۔ وہ طلاق کے معاً بعد الگ ہو جائے گی حالانکہ جہاں تک ہمیں علم ہے غیرمدخولہ آئسہ کے لیے تو کسی عدت کی قید نہیں ہے لیکن جو آئسہ مدخولہ ہے اس کے لیے تین ماہ کی عدت کی قید بہرشکل ہے۔
      ان شبہات کے سبب سے میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ ’اِنِ ارْتَبْتُمْ‘ کی شرط یہاں آئسہ غیرمدخولہ اور آئسہ مدخولہ کے درمیان امتیاز کے لیے آئی ہے۔ یعنی آئسہ اگر مدخولہ ہے تو آئسہ ہونے کے باوجود اس کا امکان ہے کہ شاید یاس کی حالت عارضی ہو، پھر امید کی شکل پیدا ہو گئی ہو اور اس کے رحم میں کچھ ہو۔ یہی صورت اس کو بھی پیش آ سکتی ہے جس کو ابھی اگرچہ حیض نہیں آیا ہے لیکن وہ مدخولہ ہے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر آئسہ غیرمدخولہ اور صغیرہ غیرمدخولہ کے لیے تو کسی عدت کی ضرورت نہیں ہے لیکن آئسہ یا صغیرہ، جس کو حیض نہ آیا ہو، اگر مدخولہ ہوں تو ان کے بارے میں چونکہ شبہ کا امکان ہے اس وجہ سے ان کے لیے عدت ہے۔ ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ اگر بات یہی کہنی تھی تو صاف صاف یوں کیوں نہ کہہ دی کہ اگر آئسہ مدخولہ ہو تو اس کی عدت تین مہینے ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر بات یوں کہی جاتی تو اس سے عدت کی اصل علت واضح نہ ہوتی جب کہ اس کا واضح ہونا ضروری تھا۔ اس عدت کی اصل علت عورت کا مجرد مدخولہ ہونا نہیں بلکہ یہ اشتباہ ہے کہ ممکن ہے اس کے رحم میں کچھ ہو۔
      ’وَاُوۡلَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ‘۔ فرمایا کہ اسی طرح وہ عورتیں جو حاملہ ہوں ان کی عدت وضع حمل ہے۔
      ایک سوال اور اس کا جواب: اس حکم کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۳۴ میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن بیان ہوئی ہے اور یہاں حاملہ کی عدت وضع حمل بیان ہوئی ہے تو اگر کسی حاملہ مطلقہ کا شوہر انتقال کر جائے تو وہ عدت کے چار مہینے دس دن پورے کرے گی یا وضع حمل کے ساتھ ہی اس کی عدت ختم ہو جائے گی؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حاملہ کی عدت مہینوں اور دنوں کے حساب سے مقرر نہیں کی جا سکتی۔ وہ تو بہرحال وضع حمل ہی کے ساتھ مشروط ہو گی۔ یہ چار ماہ دس دن سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے، کم بھی ہو سکتی ہے۔ اگر زیادہ ہو جائے تو عورت بہرحال اس کو گزارنے کی پابند ہو گی تو جب کم ہو تو عورت کو اس کمی سے فائدہ اٹھانے کا بھی حق ہونا چاہیے۔ گویا یہ دونوں حکم دو الگ الگ حالتوں سے متعلق ہیں اور دونوں اپنے اپنے دائروں میں نافذ العمل رہیں گے۔
      حدود شریعت کی پابندی کرنے والوں کو اطمینان دہانی: ’وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا‘۔ یہ وہی بات جو آیت ۲ میں فرمائی ہے معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ یہاں بھی دہرائی ہے۔ احکام کے ساتھ ساتھ یہ تنبیہات اس لیے ضروری ہیں کہ لوگ شریعت الٰہی کو بوجھ نہ محسوس کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ان مطلقات کے زمانۂ عدت کے قیام اور مصارف کا بار بعضوں کی طبیعت پر گراں تو گزرے گا لیکن جو لوگ اللہ سے ڈریں گے اور حتی الامکان اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کو قائم رکھیں گے اللہ تعالیٰ ان کے لیے آسانی پیدا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر جو بوجھ ڈالتا ہے اگر بندے اس کو اٹھانے کا حوصلہ کر لیتے ہیں تو وہ اس کے اٹھانے میں ان کی مدد فرماتا ہے اور جیسا کہ اوپر فرمایا ہے ان کی مدد وہاں سے کرتا ہے جہاں سے ان کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق نہ تو یہ سوء ظن ہونا چاہیے کہ وہ اپنے بندوں پر کوئی ایسا بوجھ ڈالے گا جو ان کی قوت برداشت سے زیادہ ہو اور نہ یہ اندیشہ ہونا چاہیے کہ وہ بندے پر بوجھ ڈال کر اس کو تنہا چھوڑ دے گا۔

      جاوید احمد غامدی تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں، اور وہ بھی جنھیں (حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود) حیض نہیں آیا، اُن کے بارے میں اگر کوئی شک ہے تو اُن کی عدت تین مہینے ہو گی۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ حمل سے فارغ ہو جائیں۔ (یہ اللہ کی ہدایات ہیں، اِن کی پیروی کرو) اور(یاد رکھو کہ) جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے لیے اُس کے معاملے میں سہولت پیدا کر دے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’وَالّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ ’لَمْ‘ عربی زبان میں نفی جحد کے لیے آتا ہے۔ لہٰذا اِس سے وہ بچیاں مراد نہیں ہو سکتیں جنھیں ابھی حیض آنا شروع نہیں ہوا، بلکہ وہی عورتیں مراد ہوں گی جنھیں حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود حیض نہیں آیا۔
      اِس حکم کے ساتھ ’اِنِ ارْتَبْتُمْ‘ (اگر کوئی شک ہے) کی جو شرط لگی ہوئی ہے، اُس سے کیا مراد ہے؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...میرا ذہن اِس طرف جاتا ہے کہ ’اِنِ ارْتَبْتُمْ‘ کی شرط یہاں آئسہ غیر مدخولہ اور آئسہ مدخولہ کے درمیان امتیاز کے لیے آئی ہے۔ یعنی آئسہ اگر مدخولہ ہے تو آئسہ ہونے کے باوجود اِس کا امکان ہے کہ شاید یاس کی حالت عارضی ہو، پھر امید کی شکل پیدا ہو گئی ہو اور اُس کے رحم میں کچھ ہو۔ یہی صورت اُس کو بھی پیش آ سکتی ہے جس کو ابھی اگرچہ حیض نہیں آیا ہے، لیکن وہ مدخولہ ہے... ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ اگر بات یہی کہنی تھی تو صاف صاف یوں کیوں نہ کہہ دی کہ اگر آئسہ مدخولہ ہو تو اُس کی عدت تین مہینے ہے؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ اگر بات یوں کہی جاتی تو اُس سے عدت کی اصل علت واضح نہ ہوتی، جبکہ اُس کا واضح ہونا ضروری تھا۔ اِس عدت کی اصل علت عورت کا مجرد مدخولہ ہونا نہیں، بلکہ یہ اشتباہ ہے کہ ممکن ہے اُس کے رحم میں کچھ ہو۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۴۴۲)

      یعنی مطلقہ عورتوں کے زمانۂ عدت کے قیام اور دوسرے مصارف کا بوجھ اٹھانے میں اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے لیے آسانی پیدا کر دے گا۔

       

    • امین احسن اصلاحی یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا ہے تو جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس سے اس کے گناہ دور کر دے گا اور اس کے اجر کو بڑھائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید تاکید ہے کہ یہ اللہ کے احکام ہیں جو اس نے تمہاری طرف اتارے ہیں تو ان کو نہ گراں سمجھو، نہ ان کو حقیر جانو اور نہ یہ گمان کرو کہ وہ تم پر احکام اتار کر خود بے تعلق ہو جائے گا بلکہ وہ تمہاری مدد کرے گا اگر تم ان کو اٹھاؤ گے اور سزا بھی دے گا اگر ان کو پھینکنے کی کوشش کرو گے۔
      ’وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰتِہٖ وَیُعْظِمْ لَہٗٓ اَجْرًا‘۔ یہ تسلی دی ہے کہ اللہ کے جو بندے اپنی حد تک حدود الٰہی کو قائم رکھنے کی کوشش کریں گے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ کرے گا۔ چھوٹی موٹی غلطیاں اور کوتاہیاں جو ان سے صادر ہو جائیں گی ان کو معاف کر دے گا اور ان کے نیکیوں کے اجر کو بڑھائے گا۔

      جاوید احمد غامدی یہ اللہ کا حکم ہے جو اُس نے تمھاری طرف نازل کیا ہے اور جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے گناہ اُس سے دور کرے گا اور اُس (کی نیکیوں) کا اجر بڑھا دے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ان کو رکھو جس طرح اپنی حیثیت کے مطابق تم رہتے ہو اور ان کو ضیق میں ڈالنے کے لیے ضرر نہ پہنچاؤ اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر خرچ کرو تاآنکہ وہ حمل سے فارغ ہو جائیں۔ پس اگر وہ تمہارے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کو ان کا معاوضہ دو اور دستور کے مطابق ایک قرارداد کر لو۔ اگر تم کوئی زحمت محسوس کرو تو اس کے لیے کوئی اور دودھ پلائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زمانۂ عدت میں عورتوں کو ساتھ رکھنے کا طریقہ: فرمایا کہ زمانۂ عدت میں ان عورتوں کو ساتھ رکھنے کا طریقہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے ان کی خودداری مجروح ہو بلکہ تمہاری آمدنی کے لحاظ سے رہائش کا جو معیار تمہارا ہو وہی معیار رہائش ان کے لیے بھی مہیا کرو اور اس دوران میں کسی پہلو سے ان کو تنگ کرنے کی تدبیریں نہ اختیار کرو کہ چند ہی دنوں میں پریشان ہو کر وہ تمہارا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔
      ’وجد‘ کے معنی یافت کے ہیں۔ آدمی کا معیار زندگی اس کی آمدنی کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ اسی کی ہدایت ان عورتوں کے باب میں فرمائی کہ ان کو اسی معیار پر رکھنا ہو گا جو معیار آدمی کا اپنا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ خود تو کوٹھیوں اور بنگلوں میں رہیں اور بیوی کو نوکروں کے کسی کوارٹر یا گیراج میں ڈال دیں اور بچا کھچا اس کو کھانے کو بھیج دیں۔
      ’وَلَا تُضَآرُّوْھُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْھِنَّ‘۔ اگر کسی نے دل سے اللہ تعالیٰ کے یہ احکام قبول نہ کیے ہوں تو وہ ظاہر میں ان کی خانہ پری کرتے ہوئے بھی تنگ کرنے کی ایسی تدبیریں اختیار کر سکتا ہے کہ عورت کے لیے چوبیس گھنٹے بھی اس کے گھر میں گزارنا محال ہو جائے۔ اگر ایسا ہو تو وہ ساری مصلحت یک قلم فوت ہو جائے گی جس کے لیے یہ احکام دیے گئے ہیں اس وجہ سے منفی پہلو سے بھی اس بات کی وضاحت فرما دی کہ اس دوران میں ان کو تنگ کر کے بھگا دینے کی تدبیریں نہ کی جائیں۔
      ’وَاِنْ کُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْھِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَھُنَّ‘۔ یہ خاص طور پر حاملہ عورتوں کے بارے میں ہدایت فرمائی کہ ان پر اس وقت تک خرچ کرو جب تک وہ حمل سے فارغ نہ ہو جائیں۔ اس خاص اہتمام سے ذکر کی وجہ ظاہر ہے کہ ان کی مدت قیام طویل بھی ہو سکتی ہے اور بعض حالات میں ان کے مصارف کی نوعیت بھی مختلف ہو سکتی ہے۔
      بعض احکام درباب رضاعت: ’وَاِنْ اَرْضَعْنَ لَکُمْ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ وَاْتَمِرُوْا بَیْنَکُمْ بِمَعْرُوْفٍ‘۔ یہ وضع حمل کے بعد کا مرحلہ ہے کہ اگر تمہارے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کو اس کا معاوضہ دو اور اس معاوضہ سے متعلق باہمی مشورہ سے ایک قرار داد طے کر لو جو وقت کے دستور اور مرد کے معیار زندگی کے مطابق ہو۔
      ’وَاِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَہٗٓ اُخْرٰی‘۔ یعنی اس طرح کی قرار داد میں اگر فریقین زحمت محسوس کر رہے ہیں تو کسی دوسری عورت سے دودھ پلانے کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ یعنی اس کا انحصار فریقین کی باہمی رضامندی، سہولت اور مفاہمت پر ہے۔ کسی کو اس معاملے میں اس کی مرضی کے خلاف مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۳۳ کے تحت رضاعت سے متعلق بنیادی مسائل پر گفتگو ہو چکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ ہمارے لیے فقہی جزئیات کی تفصیل کا زیادہ موقع نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی (زمانۂ عدت میں) اِن عورتوں کو وہیں رکھو، جہاں اپنی حیثیت کے مطابق تم رہتے ہو اور اُن کو تنگ کرنے کے لیے ستاؤ نہیں۔ اور اگر وہ حاملہ ہوں تو اُن پر اُس وقت تک خرچ کرتے رہو، جب تک وہ حمل سے فارغ نہ ہو جائیں۔ پھر اگر وہ( تمھارے بچے کو) تمھارے لیے دودھ پلائیں تو اُن کا معاوضہ اُنھیں دو اور یہ معاملہ دستور کے مطابق باہمی مشورے سے طے کرلو۔ اور اگر تم کوئی زحمت محسوس کرو تو بچے کو کوئی دوسری عورت دودھ پلا لے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ عورت کو ساتھ رکھنے کا طریقہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے اُس کی خودداری مجروح ہو، بلکہ تمام معاملات شوہر کی آمدنی کے لحاظ سے اور اُس کے معیارزندگی کے مطابق ہونے چاہییں۔ یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ طلاق دے دینے کے بعد مرد اِس معاملے میں بہت کچھ خست کا رویہ اختیار کر سکتا ہے۔
      یعنی اِس عرصے میں عورت کو کسی پہلو سے تنگ کرنے کی تدبیریں اختیار نہ کی جائیں کہ چند ہی دنوں میں پریشان ہو کر وہ شوہر کا گھر چھوڑنے کے لیے مجبور ہو جائے۔
      مطلب یہ ہے کہ کسی کو اُس کی مرضی کے خلاف مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اِس طرح کے تمام معاملات باہمی رضامندی کے ساتھ اور مفاہمت کے جذبے سے طے ہونے چاہییں۔ ایسا نہ ہو سکے تو بہتر یہی ہے کہ کوئی دوسرا بندوبست کر لیا جائے۔

    • امین احسن اصلاحی چاہیے کہ کشادگی والا اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور جس کو کم ہی رزق دیا گیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اس کو دیا ہے۔ جتنا جس کو اللہ نے دیا ہے اس سے زیادہ کسی پر وہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اللہ تنگی کے بعد کشادگی بھی پیدا کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خرچ کا معیار: یہ خرچ کا معیار بتا دیا کہ کشادہ حال کو اپنی کشادہ حالی کے معیار پر خرچ کرنا پڑے گا اور تنگ حال کو اپنی آمدنی کے مطابق۔ نہ کشادہ حال کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے معیار زندگی سے ان کو فروتر حال میں رکھے اور نہ غریب پر اس کی حیثیت سے زیادہ بوجھ ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص پر ذمہ داری اس کی حیثیت کے اعتبار سے ڈالی ہے۔
      غریبوں کو اطمینان دہانی: ’سَیَجْعَلُ اللّٰہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا‘۔ یہ غریبوں کو برسر موقع تسلی دی ہے کہ اگر وہ اپنی حالت پر قانع و صابر اور تنگ حالی کے باوجود خدا کے حدود کو قائم رکھنے کا اہتمام کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے تنگی کے بعد آسانی پیدا کرے گا۔ غربت اور احتیاج کے باوجود اللہ کی خوشنودی کے لیے جو لوگ ایثار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے رزق میں برکت دیتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (تم میں سے) جو خوش حال ہو، وہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور جس کو نپا تلا ہی ملا ہے، وہ اُسی میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اُسے دیا ہے۔ اللہ نے جس کو جتنا دیا ہے، اُس سے زیادہ کا وہ اُس پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ (تم مطمئن رہو)، اللہ تنگ دستی کے بعد جلد کشادگی بھی عطا فرمائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ بڑی بشارت ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ غربت اور احتیاج کے باوجود اللہ کی خوشنودی کے لیے ایثار کرتے ہیں، اللہ اُن کے رزق میں برکت دیتا اور تنگ دستی کے بعد فراخی بھی عطا فرماتا ہے۔ تاہم اِس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی صبر سے کام لے اور ہر حال میں خدا کے حدود کو قائم رکھنے کا اہتمام کرے۔

    • امین احسن اصلاحی اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہوئی ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا سخت محاسبہ کیا اور ان کو نہایت ہولناک عذاب دیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک عام تنبیہ: اس آیت کا موقع و محل سمجھنے کے لیے سورۂ تغابن کی آیات ۶-۸ پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہ ایک عام تنبیہ ہے جس کے مخاطب قریش اور مسلمان سب ہیں کہ اللہ نے تمہاری رہنمائی کے لیے اپنی ہدایات نازل کر دی ہیں۔ اگر تم نے ان کی قدر کی تو ان کا فائدہ تمہی کو پہنچے گا اور اگر نافرمانی کی تو یاد رکھو کہ تم سے پہلے کتنی ہی قومیں گزر چکی ہیں جنھوں نے اپنے رب کے احکام اور اس کے رسولوں کی تعلیمات کی ناقدری کی تو اللہ نے ان کا سخت محاسبہ کیا اور ان کو نہایت ہولناک عذاب دیا۔ یہ اشارہ عاد و ثمود وغیرہ کی طرف بھی ہے جن کی سرگزشتیں قرآن میں سنائی گئی ہیں اور یہود کی طرف بھی جن کو اللہ نے اپنی شریعت سے نوازا لیکن انھوں نے اس کی قدر نہیں کی تو وہ اللہ کے نہایت سخت عذاب کی گرفت میں آئے۔
      ’عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّہَا‘ میں ’عَنْ‘ اس امر کا قرینہ ہے کہ ’عَتَتْ‘ یہاں ’اَعْرَضَتُ‘ کے مفہوم پر متضمن ہے یعنی سرکشی کے سبب سے انھوں نے اپنے رب کے حکم سے اعراض کیا۔ ’حَاسَبْنَا‘ یہاں محاسبہ کے مفہوم میں ہے یعنی اللہ نے ان پر سخت گرفت کی اور ان کو ہولناک عذاب دیا۔ ’نُکر‘ کے معنی شدید اور ہولناک کے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (یہ اللہ کے حدود ہیں۔ اِن سے روگردانی کرو گے تو یاد رکھو کہ تم سے پہلے) کتنی ہی بستیاں ایسی ہوئی ہیں جنھوں نے اپنے پروردگار اور اُس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے اُن سے سخت محاسبہ کیا اور اُنھیں بڑی ہول ناک سزا دی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّھَا‘۔ اِن میں ’عَنْ‘ اِس امر کا قرینہ ہے کہ ’عَتَتْ‘ یہاں اعراض کے مفہوم پر متضمن ہے، یعنی سرتابی کی اور منہ موڑا۔

    • امین احسن اصلاحی تو انھوں نے اپنے کیے کا وبال چکھا اور ان کا انجام نامرادی ہوا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی جب وہ خدا کے محاسبہ کی زد میں آ گئیں تو انھیں اپنی سرکشی کا انجام بھگتنا پڑا اور ان کا انجام نامرادی ہوا۔ اس لیے کہ فلاح و بہبود کی واحد راہ وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے بتائی ہے۔ اگر قومیں اپنی سرکشی کے سبب سے اس سے انحراف اختیار کرتی ہیں تو لازماً نامرادی سے دوچار ہوتی ہیں۔

      جاوید احمد غامدی سو اُنھوں نے اپنے کیے کا مزہ چکھ لیا اور اُن کا انجام کار محرومی ہوا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُن قوموں کی طرف اشارہ ہے جن کے لیے دنیا ہی میں دینونت کا ظہورہوا۔ قرآن میں اُن کی سرگذشتیں کئی مقامات پر سنائی گئی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ نے ان کے لیے ایک سخت عذاب بھی تیار کر رکھا ہے۔ تو اللہ سے ڈرو، اے عقل والو، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو۔ اللہ نے تمہاری طرف ایک یاددہانی اتار دی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک مؤثر تنبیہ و ترغیب: یہ نہایت واضح الفاظ میں مسلمانوں کو تنبیہ بھی ہے ساتھ ہی نہایت مؤثر انداز میں ترغیب بھی کہ اللہ نے تمہاری طرف اپنی یاددہانی (قرآن) بھی نازل کر دی اور اپنا رسول بھی بھیج دیا ہے۔ اب آگے کا کام تمہارا ہے کہ تاریکی سے روشنی کی طرف نکالنے کے لیے جو اہتمام اللہ نے فرمایا ہے اس کی قدر کرتے ہو یا ان قوموں کی تقلید کرتے ہو جن کا انجام نامرادی ہوا اور جن کے لیے اللہ نے ایک سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔
      ’فَاتَّقُوا اللَّہَ یَا أُولِی الْأَلْبَابِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘۔ یعنی جب قوموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ اسی سنت کے مطابق ہوا جو مذکور ہوئی تو اے اہل عقل جو ایمان لائے ہو، دانش مندی کا راستہ یہی ہے کہ اپنے اللہ سے ڈرو۔ مطلب یہ ہے کہ تم نے ایمان کی راہ میں جو قدم بڑھایا ہے اس سے یہ بات تو ثابت ہوئی کہ تم خواہشوں کے غلام نہیں بلکہ عقل سے کام لینے والے لوگ ہو کہ ایمان کی راہ اختیار کی تو اب تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے اللہ سے ڈرو اور اس کے حدود سے انحراف نہ اختیار کرو ورنہ تمہارا انجام بھی وہی ہو گا جو ان قوموں کا ہوا جنھوں نے اللہ کی بتائی ہوئی راہ سے انحراف کیا۔
      عقل و ایمان لازم و ملزوم ہیں: ’یَا أُولِی الْأَلْبَابِ‘ کے بعد ’اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ عقل اور ایمان میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ جو شخص عاقل ہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ ایمان سے بہرہ ور ہو۔ اگر کوئی شخص ایمان سے بہرہ ور نہیں ہے تو خواہ وہ آسمان و زمین کا طول و عرض ناپنے میں کتنا ہی ماہر ہو لیکن اس کی عقل میں بہت بڑا فتور ہے۔
      ہدایت کے لیے اہتمام: ’قَدْ أَنزَلَ اللہُ إِلَیْْکُمْ ذِکْرًا ۵ رَّسُوْلاً یَتْلُوْا عَلَیْْکُمْ آیَاتِ اللہِ مُبَیِّنَاتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّوْرِ‘۔ یہ اس اہتمام کی طرف اشارہ ہے جو اللہ نے اپنی حجت تمام کر دینے کے لیے فرمایا ہے کہ تمہاری طرف اپنی یاددہانی بھی اس نے نازل کر دی ہے اور ایک رسول بھی بھیج دیا ہے جو ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کرنے والوں کو اللہ کی آیات سنا رہا ہے تاکہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی شاہراہ پر لائے۔ مطلب یہ ہے کہ اس اہتمام کے بعد بھی اگر تم نے روشنی پر تاریکی ہی کو ترجیح دی تو اس کی ذمہ داری تمہارے ہی اوپر ہو گی اور اس گمراہی کے لیے اپنے رب کے سامنے تم کوئی عذر نہ پیش کر سکو گے۔
      رسول کی زندگی سراپا ذکر الٰہی ہوتی ہے: ’ذِکْراً ۵ رَّسُوْلاً‘ میں ’ذکر‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن کو ’ذِکْرٰی‘ اور ’ذِی الذِّکْرِ‘ کے الفاظ سے بھی تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اس تعبیر کے مضمرات کی طرف ہم اس کے محل میں اشارہ کر چکے ہیں۔ یہ انسانی فطرت کے تمام مضمرات کی یاددہانی کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے خلق کی رہنمائی کے لیے جو ہدایات بھیجیں اور جن کو قومیں فراموش کرتی رہیں ان کی بھی یاددہانی کرتا ہے، رسولوں کی تکذیب کرنے والوں اور ان پر ایمان لانے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جو معاملہ کیا اس کی بھی یاددہانی کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر اس جزا اور سزا کی یاددہانی کرتا ہے جس کا ایک معین دن اس زندگی کے بعد لازماً ظہور میں آنے والا ہے جو اس دنیا کی غایت و نہایت ہے۔
      ’رَسُوْلًا‘ یہاں ’ذِکْرًا‘ سے بدل ہے اور اس کا بدل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان دونوں میں روح اور قالب کا رشتہ ہے۔ چنانچہ قرآن کے لیے جس طرح لفظ ’ذکر‘ آیا ہے اسی طرح رسول کے لیے ’مُذَکِّرٌ‘ آیا ہے

      ’اِنَّمَا اَنْتَ مُذَکِرٌ‘ (الغاشیہ ۸۸: ۲۱)
      (تم تو بس ایک مُذکّر ہو)۔

      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سراپا ان حقائق کی یاددہانی تھی جن کی یاددہانی کے لیے قرآن نازل ہوا۔ یعنی قرآن نے جو کچھ بتایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سب کچھ کر کے بھی دکھا دیا جس سے لوگوں پر اللہ کی حجت اس طرح پوری ہو گئی کہ اس میں کسی پہلو سے کوئی کسر باقی نہیں رہی۔

       

      جاوید احمد غامدی اللہ نے (آخرت میں) اُن کے لیے ایک سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اِس لیے اللہ سے ڈرو، عقل والو جو ایمان لائے ہو۔ اللہ نے تمھاری طرف ایک یاددہانی نازل کر دی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے معلوم ہوا کہ عقل اور ایمان میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ آدمی عاقل ہے تو لازماً ایمان لائے گا اور ایمان نہیں رکھتا تو اُس کی عقل میں ضرور کوئی فتور ہے اور وہ جذبات، خواہشات اور تعصبات سے مغلوب ہو چکی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ایک رسول جو تمہیں اللہ کی واضح آیتیں پڑھ کر سناتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالے۔ اور جو ایمان لائیں گے اور عمل صالح کریں گے ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ اللہ نے ان کو نہایت اچھی روزی دی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ہدایت کے لیے اہتمام: ’قَدْ أَنزَلَ اللہُ إِلَیْْکُمْ ذِکْرًا ۵ رَّسُوْلاً یَتْلُوْا عَلَیْْکُمْ آیَاتِ اللہِ مُبَیِّنَاتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّوْرِ‘۔ یہ اس اہتمام کی طرف اشارہ ہے جو اللہ نے اپنی حجت تمام کر دینے کے لیے فرمایا ہے کہ تمہاری طرف اپنی یاددہانی بھی اس نے نازل کر دی ہے اور ایک رسول بھی بھیج دیا ہے جو ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کرنے والوں کو اللہ کی آیات سنا رہا ہے تاکہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی شاہراہ پر لائے۔ مطلب یہ ہے کہ اس اہتمام کے بعد بھی اگر تم نے روشنی پر تاریکی ہی کو ترجیح دی تو اس کی ذمہ داری تمہارے ہی اوپر ہو گی اور اس گمراہی کے لیے اپنے رب کے سامنے تم کوئی عذر نہ پیش کر سکو گے۔
      رسول کی زندگی سراپا ذکر الٰہی ہوتی ہے: ’ذِکْراً ۵ رَّسُوْلاً‘ میں ’ذکر‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن کو ’ذِکْرٰی‘ اور ’ذِی الذِّکْرِ‘ کے الفاظ سے بھی تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اس تعبیر کے مضمرات کی طرف ہم اس کے محل میں اشارہ کر چکے ہیں۔ یہ انسانی فطرت کے تمام مضمرات کی یاددہانی کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے خلق کی رہنمائی کے لیے جو ہدایات بھیجیں اور جن کو قومیں فراموش کرتی رہیں ان کی بھی یاددہانی کرتا ہے، رسولوں کی تکذیب کرنے والوں اور ان پر ایمان لانے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جو معاملہ کیا اس کی بھی یاددہانی کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر اس جزا اور سزا کی یاددہانی کرتا ہے جس کا ایک معین دن اس زندگی کے بعد لازماً ظہور میں آنے والا ہے جو اس دنیا کی غایت و نہایت ہے۔
      ’رَسُوْلًا‘ یہاں ’ذِکْرًا‘ سے بدل ہے اور اس کا بدل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان دونوں میں روح اور قالب کا رشتہ ہے۔ چنانچہ قرآن کے لیے جس طرح لفظ ’ذکر‘ آیا ہے اسی طرح رسول کے لیے ’مُذَکِّرٌ‘ آیا ہے

      ’اِنَّمَا اَنْتَ مُذَکِرٌ‘ (الغاشیہ ۸۸: ۲۱)
      (تم تو بس ایک مُذکّر ہو)۔

      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سراپا ان حقائق کی یاددہانی تھی جن کی یاددہانی کے لیے قرآن نازل ہوا۔ یعنی قرآن نے جو کچھ بتایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سب کچھ کر کے بھی دکھا دیا جس سے لوگوں پر اللہ کی حجت اس طرح پوری ہو گئی کہ اس میں کسی پہلو سے کوئی کسر باقی نہیں رہی۔
      رزق آخرت کی بشارت: ’قَدْ أَحْسَنَ اللہُ لَہٗ رِزْقًا‘۔ یعنی جو ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کرے گا اور حدود الٰہی کی حفاظت کی خاطر ایثار کرے گا وہ مطمئن رہے کہ یہ خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ اللہ نے اس کے لیے آخرت میں نہایت اعلیٰ رزق تیار کر رکھا ہے۔ اوپر آیت ۳ میں ایثار و توکل کرنے والوں کو اس دنیا میں تائید الٰہی کی بشارت دی ہے۔ یہ رزق آخرت کی بشارت ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی ایک ایسا پیغمبر جو تمھیں اللہ کی آیتیں سناتا ہے جو ہر چیز کو واضح کر دینے والی ہیں تاکہ اُن لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئے جو ایمان لائے اور اُنھوں نے اچھے عمل کیے ہیں۔ اور جو اللہ پر ایمان لائیں اور اچھے عمل کریں، (اُن سے اللہ کا وعدہ ہے کہ) اُنھیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ نے اُن کے لیے بہترین روزی کا اہتمام کر رکھا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ یاددہانی سے بدل ہے اور یاددہانی سے قرآن مراد ہے۔ گویا قرآن اور پیغمبر ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ یہ اسلوب اِس لیے اختیار کیا ہے کہ پیغمبر قرآن کے ذریعے سے یاددہانی کرتے تھے اور قرآن پیغمبر ہی کی زبان فیض ترجمان سے لوگوں تک پہنچتا تھا۔ اِسے یاددہانی کے لفظ سے کیوں تعبیر کیا ہے؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...یہ انسانی فطرت کے تمام مضمرات کی یاددہانی کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے خلق کی رہنمائی کے لیے جو ہدایات بھیجیں اور جن کو قومیں فراموش کرتی رہیں، اُن کی بھی یاددہانی کرتا ہے، رسولوں کی تکذیب کرنے والوں اور اُن پر ایمان لانے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جو معاملہ کیا، اُس کی بھی یاددہانی کرتا ہے، اور سب سے بڑھ کر اُس جزا اور سزا کی یاددہانی کرتا ہے جس کا ایک معین دن اِس زندگی کے بعد لازماً ظہور میں آنے والا ہے جو اِس دنیا کی غایت و نہایت ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۸/ ۴۴۶)

       

    • امین احسن اصلاحی اللہ ہی ہے جس نے بنائے سات آسمان اور انہی کے مانند زمین بھی۔ ان میں اس کے احکام نازل ہوتے رہتے ہیں۔ اس سے جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      صفات الٰہی کا حوالہ تاکہ لوگوں کا عقیدہ محکم ہو: یہ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت قدرت اور صفت علم کی یاددہانی فرمائی ہے تاکہ اوپر جو باتیں فرمائی گئی ہیں، خواہ ان کا تعلق تنبیہ و تہدید سے ہو یا تسکین و تسلی سے، ان کا اعتقاد لوگوں کے اندر راسخ ہو اور وہ یہ جانیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بے پناہ ہے، وہ جو چاہے کر سکتا ہے اور اس کا علم بھی محیط کل ہے۔ سات آسمانوں اور سات زمینوں کی کوئی چیز بھی اس سے مخفی نہیں ہے۔ اگر کسی نے کوئی نیکی کی ہے تو وہ بھی اس کے علم میں ہے اور اگر کسی نے کوئی بدی کی ہے تو وہ بھی اس کے علم میں ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ سے متعلق یہ شعور اچھی طرح دلوں کے اندر راسخ نہ ہو اس وقت تک اس کی شریعت کے احترام کا صحیح حق ادا نہیں ہو سکتا۔
      سات آسمان اور سات زمین: ’اَللہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَہُنَّ‘۔ اپنی قدرت کی وسعت کا تصور دینے کے لیے فرمایا کہ یہ نہ گمان کرو کہ خدا کی کائنات کل اتنی ہی ہے جتنی تمہیں نظر آتی ہے۔ یہ تو اس کی کائنات کا ایک نہایت ہی حقیر اور محدود حصہ ہے۔ یہ آسمان جو تمہیں نظر آتا ہے اس جیسے سات آسمان خدا نے بنائے ہیں اور زمین بھی یہی نہیں ہے جس پر تم چلتے پھرتے ہو بلکہ زمینیں بھی ہر آسمان کے ساتھ الگ الگ سات ہیں۔
      سات آسمانوں کا ذکر تو قرآن میں بھی باربار ہوا ہے اور دوسرے آسمانی صحیفوں میں بھی ہے لیکن سات زمینوں کا ذکر صرف اس سورہ میں ہوا ہے لیکن جب سات آسمانوں کا ذکر ہوا ہے تو ان کے ساتھ سات زمینوں کا پایا جانا تو لازمی ہوا۔ آسمان اور زمین میں وہی نسبت ہے جو مکان اور اس کی چھت میں ہوتی ہے تو جب چھتیں سات ہیں تو مکان بھی سات ہونے چاہییں۔ جس طرح آسمان کے بغیر زمین کا تصور نہیں کیا جا سکتا اسی طرح زمین کے بغیر آسمان کا بھی کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ بلندی کے لیے پستی کا وجود ناگزیر ہے۔
      رہا یہ سوال کہ ان ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں میں ایک ہی طرح کے قوانین و نوامیس نافذ ہیں اور ایک ہی قسم کی مخلوق آباد ہے یا الگ الگ مخلوق اور الگ الگ نوامیس و قوانین ہیں تو مجرد ’مِثْلَہُنَّ‘ کے لفظ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ ہر عالم میں ایک ہی مخلوق اور ایک ہی قسم کے نوامیس و قوانین ہوں۔ اس مثلیت کا تعلق صرف پیدا کرنے سے ہے کہ اللہ نے جس طرح سات آسمان بنائے ہیں اسی طرح زمینیں بھی سات بنائی ہیں۔ رہے ان کے نوامیس و قوانین تو یہ چیز نہ اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے اور نہ ہماری اور آپ کی سمجھ میں آنے والی ہی ہے۔ ہمارے لیے یہ اجمالی ایمان بس ہے کہ ع

      ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

      ہماری سائنس ابھی خلائے لامتناہی میں آوارہ گردی کر رہی ہے۔ وہ ایک راز کا انکشاف کرتی ہے تو اس سے سینکڑوں معمے دوسرے پیدا ہو جاتے ہیں۔ تاہم مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اگر سائنس سراغ نہ دے سکی تو آخرت میں ان شاء اللہ سارے راز کھل جائیں گے۔ اس دنیا میں انسان کو جو علم ملا ہے وہ بہت قلیل ہے۔ ’وَمَآ أُوۡتِیْتُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیْلاً‘ (بنی اسرائیل ۱۷: ۸۵)
      ’یَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَیْنَہُنَّ‘۔ یعنی جس طرح تمہارے آسمان و زمین کے درمیان خدا کے احکام و قوانین کا نزول ہوتا ہے اسی طرح دوسرے آسمانوں اور زمینوں کے اندر بھی اس کے احکام نازل ہوتے ہیں۔
      ’لِتَعْلَمُوْٓا أَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی کائنات کا یہ راز تم پر اس لیے کھولا ہے کہ تم پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کوئی حد و نہایت نہیں ہے۔ ’لِتَعْلَمُوْا‘ سے پہلے ایک مناسب موقع فعل محذوف ہے اور اس قسم کے حذف کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
      ’وَأَنَّ اللہَ قَدْ أَحَاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا‘۔ یہ اس کا دوسرا مقصد واضح فرمایا کہ جس طرح اس کی قدرت کی کوئی حد و نہایت نہیں اسی طرح اس کے علم کی بھی کوئی حد و نہایت نہیں ہے۔ اس کا علم ان تمام عوالم کی ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اللہ وہی ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اُنھی کے مانند زمینیں بھی۔ اُس کے احکام اُن کے درمیان نازل ہوتے رہتے ہیں۔ (یہ اِس لیے بتا دیا ہے ) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور (جان لو کہ) اللہ کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی یہ آسمان جو تمھیں نظر آتا ہے، اِس جیسے چھ اور بنائے ہیں اور اِسی طرح ہر آسمان کے ساتھ الگ الگ زمینیں بھی بنائی ہیں جن کے لیے ، ظاہر ہے کہ اپنے نوامیس و قوانین اور اپنی مخلوقات ہوں گی۔
      یہ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت قدرت اور صفت علم کی یاددہانی کر دی ہے تاکہ لوگوں پر واضح رہے کہ اوپر جو تہدید و تنبیہ اور تسکین و تسلی ہے، وہ کس ہستی کی طرف سے ہے۔

    Join our Mailing List