Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 11 آیات ) Al-Jumuah Al-Jumuah
Go
  • الجمعۃ (The Congregation, Friday)

    11 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سورۂ صف اور سورۂ جمعہ کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ صرف اسلوب بیان اور نہج استدلال دونوں کے الگ الگ ہیں۔ سابق سورہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق حضرت مسیح علیہ السلام کی پیشین گوئی کا حوالہ ہے۔ اس میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی طرف اشارہ ہے۔ بنی اسمٰعیل کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ان کو جس عظیم نعمت سے نوازا ہے اس کی قدر کریں، یہودیوں کی حاسدانہ سازشوں کا شکار ہو کر اپنے کو اس فضل عظیم سے محروم نہ کر بیٹھیں۔ اسی ذیل میں مسلمانوں کے ایک گروہ کو ملامت فرمائی ہے کہ اس نے دنیوی کاروبار کے طمع میں جمعہ اور رسول کا احترام ملحوظ نہیں رکھا۔ اگر تجارت کی طمع لوگوں کو جمعہ کے احترام اور رسول کی موعظت سے زیادہ عزیز ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انھوں نے اس بیع و شراء کی حقیقت نہیں سمجھی جو وہ اپنے رب سے کر چکے ہیں (جس کا ذکر سابق سورہ میں ہو چکا ہے) ، ساتھ ہی اس ناقدری کے انجام سے بھی آگاہ فرمایا ہے کہ یہ روش اختیار کر کے یہود اللہ کی شریعت سے محروم ہو گئے۔ مسلمان فلاح چاہتے ہیں تو ان کی تقلید سے بچیں۔

  • الجمعۃ (The Congregation, Friday)

    11 آیات | مدنی
    الصف - الجمعۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں رسول پر ایمان کے بعد اُس کی نصرت کے لیے جہاد سے گریز کرنے والوں اور دوسری میں اُس کی قدرشناسی اور اتباع و اطاعت میں کوتاہی کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔ دونوں میں خطاب ایمان کا دعویٰ رکھنے والوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیۂ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الصف—- کا موضوع کمزور مسلمانوں کو اِس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ رسول پر ایمان کے بعد اُس کی نصرت کے لیے جہاد سے گریز کرو گے تو تمھارا حال بھی وہی ہو گا جو یہود کا ہوا ہے۔ اِس معاملے میں صحیح رویہ یہود کا نہیں، سیدنا مسیح کے حواریوں کا تھا، اِس لیے پیروی کرنی ہے تو اُن کی کرو، یہ تو ہمیشہ کے لیے خدا کی ہدایت سے محروم ہو چکے ہیں۔

    دوسری سورہ—- الجمعۃ—- کا موضوع اِنھی مسلمانوں کو توجہ دلانا ہے کہ رسول کی حیثیت اُن کے لیے ایک نعمت عظمیٰ کی ہے۔ وہ اُس کی قدر پہچانیں اور یہود کے حاسدانہ پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اپنے آپ کو اِس نعمت سے محروم نہ کر بیٹھیں۔ رسول کی موعظت اور اُس کی لائی ہوئی شریعت کا احترام اُنھیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہونا چاہیے۔ وہ متنبہ رہیں کہ اِس میں
    کوتاہی ہوئی تو اُن کا انجام بھی وہی ہو گا جو اِس سے پہلے یہود کا ہو چکا ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی تسبیح کرتی ہیں آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں اس اللہ ہی کی جو بادشاہ، قدوس، عزیز اور حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تمہید: یہ تمہیدی آیت، معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ، پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہے۔ سابق سورہ میں صیغۂ ماضی ’سَبَّحَ‘ آیا ہے اس میں ’یُسَبِّحُ‘ ہے جو تصویر حال کا فائدہ دے رہا ہے۔
      یہاں اللہ تعالیٰ کی چار صفات بیان ہوئی ہیں۔ ’اَلْمَلِک‘ جس کے معنی بادشاہ کے ہیں۔ ’اَلْقُدُّوۡسِ‘ جس کے معنی ہر نقص و عیب سے پاک کے ہیں۔ ’اَلْعَزِیْزِ‘ جس کے معنی، جیسا کہ بار بار واضح کیا جا چکا ہے، غالب و مقتدر کے ہیں۔ ’اَلْحَکِیْمِ‘ وہ ذات جس کے ہر قول و فعل میں حکمت ہے۔ یہ چاروں صفات آگے والی آیت کی تمہید کے طور پر یہاں آئی ہیں۔ ان کی وضاحت آیت کی تفسیر کے تحت ہی مناسب رہے گی۔

      جاوید احمد غامدی زمین اورآسمانوں کی سب چیزیں اللہ کی تسبیح کرتی ہیں۔ (اللہ)، جو بادشاہ ہے، قدوس ہے، زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ تمہید کا جملہ ہے۔ اِس میں فعل مضارع ’یُسَبِّحُ‘ دوام و استمرار پر دلالت کرتا اور تصویر حال کا فائدہ دے رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ بادشاہ ہے، اِس لیے جب چاہتا ہے، اپنا فرمان واجب الاذعان بندوں کے لیے نازل کر دیتا ہے؛ قدوس ہے، اِس لیے بندوں کے خیر و شر سے بے نیاز نہیں ہو سکتا؛ زبردست ہے، اِس لیے اپنے فیصلوں میں کسی سے مرعوب نہیں ہوتا؛ اور حکیم ہے، اِس لیے جو کام کرتا ہے، ایک خاص مقصد سے اور اپنی اسکیم کے مطابق کرتا ہے، اُس کا کوئی فیصلہ الل ٹپ نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہود اگر امیوں میں پیغمبر کی بعثت پر معترض ہیں تو اُنھیں غور کرنا چاہیے کہ وہ کس ہستی کے فیصلے پر اعتراض کر رہے ہیں۔ زمین و آسمان کی سب چیزیں اُس کی تسبیح کرتی ہیں۔ وہ اِس سے پاک ہے کہ کسی کی جانب داری کرے۔ یہ نہیں مانتے تو نہ مانیں۔ اِن کی خواہشات کے علی الرغم اُس کا فیصلہ ہر حال میں نافذ ہو جائے گا۔

    • امین احسن اصلاحی اسی نے اٹھایا ہے امیوں میں ایک رسول انہی میں سے جو ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اور بے شک یہ لوگ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرمایا کہ اسی خدا نے جو اس کائنات کا حقیقی بادشا ہے امیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ وہ ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔
      تدبر کیجیے تو معلوم ہو گا کہ تمہید کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی جو صفات گنائی ہیں انہی کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کے لیے اس رسول کی بعثت ہوئی ہے جس کا یہاں ذکر ہے۔
      رسول اللہ صلعم کی بعثت اللہ تعالیٰ کی صفات کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے ہوئی: وہی خلق کا بادشاہ حقیقی ہے۔ اس کی اس صفت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس نے اپنی رعیت کو اپنے احکام و ہدایات سے آگاہ کرنے کے لیے اس کی طرف اپنا رسول بھیجا جس کی صفت یہ ہے کہ ’یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ‘ وہ لوگوں کو اس کی تعلیمات و ہدایات پڑھ کر سنا رہا ہے۔
      وہ پاک اور قدوس ہے اس وجہ سے اس نے یہ چاہا کہ وہ اپنے رسول اور اپنی تعلیمات کے ذریعہ سے لوگوں کو پاکیزہ بنائے چنانچہ اس کا رسول لوگوں کو عقائد و اعمال اور اخلاق کی خرابیوں سے پاک کر رہا ہے۔ (یُزَکِّیْھِمْ)۔
      پھر وہ ’عزیز‘ اور ’حکیم‘ ہے اس وجہ سے اس نے ایسا رسول بھیجا ہے جو اس کے بندوں کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دے رہا ہے۔ یہاں لفظ ’کتاب‘ شریعت اور قانون کے مفہوم میں ہے۔ شریعت اور قانون کا مؤثر نفاذ اسی کی طرف سے ہوتا ہے جو غالب و مقتدر ہو لیکن اللہ تعالیٰ صرف غالب و مقتدر ہی نہیں بلکہ ’حَکِیْم‘ بھی ہے اس وجہ سے وہ اپنے رسول کے ذریعہ سے جس قانون کی تعلیم دے رہا ہے وہ مجرد اس کے زور و اقتدار کا مظہر نہیں بلکہ اس کی حکمت اور بندوں کی دنیوی و اخروی مصلحت کا بھی مظہر ہے۔
      یہ آیت بنی اسمٰعیل پر امتنان اور اظہار فضل و احسان کے محل میں ہے اس وجہ سے یہاں ان کے لیے لفظ ’اُمِّیّٖنَ‘ بطور ایک وصف امتیازی کے استعمال ہوا ہے۔ اس لفظ پر اس کے محل میں بحث ہو چکی ہے لیکن اتنی بات کی یاددہانی یہاں بھی ضروری ہے کہ یہ اصطلاح اگرچہ اہل کتاب بالخصوص یہود کی وضع کردہ تھی جس میں ان کے اندر مذہبی پندار کی جھلک بھی تھی اور اہل عرب کے لیے ان کا جذبۂ تحقیر بھی نمایاں تھا، لیکن بنی اسمٰعیل چونکہ کتاب و شریعت سے ناآشنا تھے اس وجہ سے بغیر کسی احساس کہتری کے انھوں نے اس لقب کو اپنے لیے خود بھی اختیار کر لیا۔ پھر جب قرآن نے ان کے لیے اور ان کی طرف مبعوث ہونے والے رسول کے لیے اس لفظ کو بطور ایک وصف امتیازی کے ذکر فرمایا تو اس کا رتبہ اتنا بلند ہو گیا کہ اہل عرب کے لیے اس نے گویا ایک تشریف آسمانی کی حیثیت حاصل کر لی جس سے قدرت کی یہ شان ظاہر ہوئی کہ جن کو ان پڑھ اور گنوار کہہ کر حقیر ٹھہرایا گیا وہ تمام عالم کی تعلیم و تہذیب پر مامور ہوئے اور جن کو اپنے حامل کتاب و شریعت ہونے پر ناز تھا وہ ’کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا‘ ’چار پائے بروکتا بے چند‘ کے مصداق قرار پائے۔
      یہاں یہ لفظ عربوں کے جذبۂ شکرگزاری کو ابھارنے کے لیے استعمال ہوا ہے کہ انھیں اپنے رب کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ اس نے ان پر نظر کرم فرمائی۔ ان کی اصلاح و تربیت اور ان کو کتاب و حکمت سے بہرہ مند کرنے کے لیے انہی کے اندر سے ایک رسول مبعوث فرمایا اور جاہلیت کی اس تاریکی سے ان کو نکالا جس میں وہ اپنی امیت کے سبب سے اب تک گھرے ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کو یہ نعمت مل گئی ہے وہ اس کو حرز جاں بنائیں اور کوشش کریں کہ دوسرے بھی اس کی قدر کریں۔ ایسا نہ ہو کہ ناقدری کے سبب سے وہ اس سے محروم ہو کر رہ جائیں اور حاسدوں کا مقصد پورا ہو جائے۔
      یہاں نبئ امی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفات مذکور ہوئی ہیں ان پر سورۂ بقرہ کی تفسیر میں ہم مفصل بحث کر چکے ہیں۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے تاکہ آپ کی بعثت کے مقاصد سے متعلق جو غلط فہمیاں منکرین حدیث نے پھیلائی ہیں وہ دور ہو جائیں۔ بنی اسمٰعیل کے اندر، بعینہٖ انہی صفات کے پیغمبر اٹھائے جانے کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا فرمائی تھی۔ سورۂ بقرہ میں یہ دعا یوں مذکور ہے:

      رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ ط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (البقرہ ۲: ۱۲۹)
      ’’اے ہمارے رب! اور تو بھیجیو ان کے اندر سے ایک رسول انہی میں سے جو تیری آیتیں ان کو پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے۔ بے شک تو غالب و حکیم ہے۔‘‘

      آنحضرتؐ دعائے ابراہیمی کے مظہر ہیں: اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح یہ پیغمبر اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہیں اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کے بھی مظہر ہیں جو آپ نے اولاد اسمٰعیل سے متعلق فرمائی تھی۔ گویا گوناگون صفتیں آپ کے اندر جمع ہیں۔ یہ نوید مسیح ہیں اور دعائے ابراہیم ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہیں، اور پھر یہ کہ وہ تمہارے ہی اندر سے ایک فرد ہیں۔ تمہارے اور ان کے درمیان اجنبیت و غیریت کا کوئی پردہ حائل نہیں ہے۔ تمہیں حقیر ٹھہرانے والے تمہیں یہ طعنہ نہیں دے سکتے کہ تمہیں ان کے یا کسی اور کے واسطہ سے روشنی ملی بلکہ اللہ نے تمام خلق پر تم کو سربلند کیا کہ تمہارے ذریعہ سے سارے جہان میں اجالا کرنے کا سامان کیا۔
      آنحضرتؐ کی بعثت تمام خلق کی طرف ہے: یہ امر یہاں واضح رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اگرچہ امیوں کے اندر ہوئی لیکن آپ کی دعوت تمام خلق کے لیے ہے۔ اس مسئلہ پر مفصل بحث اس کے محل میں ہم کر چکے ہیں۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو بعثتوں کے ساتھ مبعوث ہوئے: ایک بعثت خاص، دوسری بعثت عام۔ آپ کی بعثت خاص بنی اسمٰعیل کی طرف ہوئی اور اس بعثت کے فرائض کی تکمیل حضورؐ نے بذات خود فرمائی۔ آپ کی بعثت عام، جو تمام خلق کی طرف ہوئی، اس کے فرائض انجام دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو ’شہدآء اللّٰہ فی الارض‘ کے منصب پر سرفراز فرمایا جو اب قیامت تک کے لیے اس فرض کی انجام دہی پر مامور ہے ’شہدآء اللّٰہ فی الارض‘ کے ہراول دستہ کی حیثیت چونکہ امیوں ہی کو حاصل ہوئی اس وجہ سے یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ جو امی تھے اللہ تعالیٰ نے انہی کے واسطہ سے تمام خلق کو روشنی دکھائی۔
      ’وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ‘۔ یہ امیوں کے جذبۂ شکر و سپاس کو ابھارنے کے لیے اس تاریکی کی طرف توجہ دلائی ہے جو ماضی میں ان پر چھائی رہی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ جاہلیت کی اس گھٹا ٹوپ تاریکی کا خیال کریں جس میں وہ گرفتار رہ چکے ہیں تب انھیں اپنے رب کے فضل و احسان کا کچھ اندازہ ہو گا کہ اس نے ان کو کس چاہ ظلمت سے نکالا اور کس آسمان رفعت و عزت پر پہنچایا!

       

      جاوید احمد غامدی اُسی نے امیوں کے اندر ایک رسول اُنھی میں سے اٹھایا ہے جو اُس کی آیتیں اُنھیں سناتا اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے، اور (اِس کے لیے) اُنھیں قانون اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس سے پہلے یہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُن لوگوں کے اندر جو صدیوں سے خدا کی کتاب اور نبوت سے بہرہ یاب نہیں ہوئے تھے۔ اِس سے بنی اسمٰعیل مراد ہیں۔ یہود اِسی بنا پر اُن کو امی کہتے تھے، لیکن بنی اسمٰعیل نے اِس میں چھپے ہوئے مذہبی پندار اور جذبۂ تحقیر کے باوجود اِس پر کبھی اعتراض نہیں کیا، بلکہ اِسے ایک حقیقت کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ قرآن نازل ہوا تو اُس نے بھی یہ لفظ اِسی طریقے سے استعمال فرمایا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...قرآن نے اُن کے لیے اور اُن کی طرف مبعوث ہونے والے رسول کے لیے اِس لفظ کو بطور ایک وصف امتیازی کے ذکر فرمایا تو اِس کا رتبہ اتنا بلند ہو گیا کہ اہل عرب کے لیے اِس نے گویا ایک تشریف آسمانی کی حیثیت حاصل کر لی جس سے قدرت کی یہ شان ظاہر ہوئی کہ جن کو ان پڑھ اور گنوار کہہ کر حقیر ٹھیرایا گیا، وہ تمام عالم کی تعلیم و تہذیب پر مامور ہوئے اور جن کو اپنے حامل کتاب و شریعت ہونے پر ناز تھا، وہ ’کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا‘ ’چارپائے برو کتابے چند‘ کے مصداق قرار پائے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۳۷۸)

      بنی اسمٰعیل میں سے جو لوگ ایمان لا چکے تھے، مگر رسول کی قدر شناسی اور اتباع و اطاعت میں جن سے کوتاہیاں ہو جاتی تھیں، وہی سورہ کے مخاطبین ہیں۔ اُنھیں توجہ دلائی ہے کہ اللہ نے یہ رسول اُنھی کے اندر سے اٹھایا ہے تاکہ وہ جاہلیت کی اُس تاریکی سے نکلیں جو اب تک اُن پر چھائی رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کو یہ نعمت ملی ہے، وہ اِس پر خدا کا شکر ادا کریں ، اِسے حرز جاں بنائیں اور دوسروں کو بھی دعوت دیں کہ وہ اِس کی قدر کریں۔
      یہ اُنھی مسلمانوں پرامتنان اور اظہار فضل و احسان کے لیے مزید وضاحت ہے کہ اِس رسول کے ذریعے سے جو دعوت پیش کی جا رہی ہے ، وہ اُن کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو پاکیزہ بنانے کی دعوت ہے۔ پھر اِس سے بڑھ کر اُن کے حق میں نصح و خیر خواہی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے؟ اِس مفہوم کے لیے عربی زبان کا جو لفظ اختیار کیا گیا ہے ،وہ تزکیہ ہے۔ اِس کے معنی کسی چیز کو آلایشوں سے پاک کرنے کے بھی ہیں اور نشوونما دینے کے بھی۔ انبیا علیہم السلام انسانوں کو جس قانون و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، اُس سے یہ دونوں ہی چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔
      اصل میں ’یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ’الْکِتٰب‘ قرآن کی زبان میں جس طرح خط اور کتاب کے معنی میں آتا ہے، اِسی طرح قانون کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔ قرآن کے نظائر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اور ’الْحِکْمَۃ‘ جب عطف ہو کر آتے ہیں تو ’الْکِتٰب‘ سے شریعت اور ’الْحِکْمَۃ‘ سے دین کی حقیقت اور ایمان و اخلاق کے مباحث مراد ہوتے ہیں۔
      یہ مخاطبین کے جذبۂ شکر و سپاس کو ابھارنے کے لیے اُس تاریکی کی طرف توجہ دلائی ہے جس میں وہ گھرے ہوئے تھے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...مطلب یہ ہے کہ اگر وہ جاہلیت کی اُس گھٹا ٹوپ تاریکی کا خیال کریں جس میں وہ گرفتار رہ چکے ہیں، تب اُنھیں اپنے رب کے فضل و احسان کا کچھ اندازہ ہو گا کہ اُس نے اُن کو کس چاہ ظلمت سے نکالا اور کس آسمان رفعت و عزت پر پہنچایا!‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۳۷۹)

       

    • امین احسن اصلاحی اور اِنہی میں سے اُن دوسروں میں بھی جو ابھی اِن میں شامل نہیں اور اللہ غالب و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اُن امیوں کو بانداز لطیف دعوت جو ابھی اسلام سے محروم تھے: اس کا عطف ’اُمِّیّٖن‘ پر ہے۔ یعنی جن امیوں کے اندر اس رسول کی بعثت ہوئی ہے انہی میں سے وہ دوسرے بھی ہیں جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔ یہ اشارہ ان بنی اسمٰعیل کی طرف ہے جنھوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ اس سے یہ بات نکلی کہ اوپر اگرچہ لفظ ’اُمِّیّٖنَ‘ عام استعمال ہوا ہے لیکن اس سے مراد صرف وہ بنی اسمٰعیل ہیں جو مشرف باسلام ہو چکے تھے۔ چنانچہ آیت کا ٹکڑا ’وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ‘ اس پر دلیل بھی ہے۔ اب اس آیت میں نہایت خوب صورت اور بلیغ اسلوب سے بنی اسمٰعیل کے ان لوگوں کو بھی دعوت دے دی جو ابھی اسلام سے بیگانہ تھے۔ لفظ ’مِنْہُمْ‘ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا کہ انہی امیوں میں سے جن کے لیے یہ آسمان نعمت اتری ہے، کچھ دوسرے بھی ہیں لیکن ابھی وہ اس سے بدکے ہوئے ہیں۔ گویا نہایت لطیف اسلوب سے ان کو دعوت دی گئی کہ جن کے لیے یہ خوان نعمت بچھایا گیا ہے اور جو سب سے پہلے موعود ہیں، حیف ہے اگر وہ اس سے محروم رہیں۔
      ’لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ‘ (ابھی وہ ان سے ملے نہیں ہیں) کے الفاظ کے اندر یہ بشارت بھی مضمر ہے کہ گو ابھی وہ ملے نہیں لیکن عنقریب مل جائیں گے۔ گویا یہ مستقبل قریب میں ان کے قبول اسلام کی اسی طرح کی بشارت ہے جس طرح کی بشارت سورۂ ممتحنہ کی آیت ۷ میں گزر چکی ہے۔
      ہدایت کے باب میں سنت الٰہی: ’وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ایمان و ہدایت کے باب میں اس نے اختیار فرمائی ہے۔ وہ چاہے تو ساری خلق کو ہدایت بخش دے، وہ عزیز و غالب ہے، لیکن وہ حکیم بھی ہے اس وجہ سے وہ ہدایت انہی کو سرفراز فرماتا ہے جو اس کی حکمت کے تحت سزاوار ہوتے ہیں۔ سورۂ دہر میں اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے:

      ’وَمَا تَشَاءُوۡنَ إِلَّا أَنۡ یَشَآءَ اللہُ إِنَّ اللہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا ۵ یُدْخِلُ مَنۡ یَشَآءُ فِیْ رَحْمَتِہٖ‘ (الدہر ۷۶: ۳۰-۳۱)
      (اور تمہارا چاہنا کچھ نہیں مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ بے شک اللہ ہی علم و حکمت والا ہے۔ وہی اپنی رحمت میں جس کو چاہے گا داخل کرے گا)۔

       

      جاوید احمد غامدی اور امیوں میں سے اُن دوسروں میں بھی جو (ایمان لا کر) ابھی اُن میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔ اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے پیچھے اُن لوگوں کا ذکر ہے جو بنی اسمٰعیل میں سے ایمان لا چکے تھے۔ اب فرمایا ہے کہ یہ نعمت اُن کے لیے بھی ہے جنھوں نے اُن میں سے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا۔ اِس میں اگر غور کیجیے تو دعوت بھی ہے اور بشارت بھی۔ یعنی ابھی تک قبول نہیں کیا، لیکن توقع یہی ہے کہ عنقریب کر لیں گے، لہٰذا آگے بڑھیں اور اِس سعادت سے بہرہ یاب ہوں۔
      یعنی زبردست ہے، اِس لیے چاہے تو ساری خلق کو ہدایت بخش دے، لیکن چونکہ حکیم بھی ہے ، اِس لیے اُنھی کو بخشے گاجو اُس کی حکمت کے تحت اِس کے سزاوار ہوں گے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ اللہ کا فضل ہے وہ بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہود کے حسد پر تعریض: یہ اسی فضل عظیم کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے امّیوں پر فرمایا اور جس کا اوپر ذکر ہوا۔ ارشاد ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس پر کسی کا اجارہ نہیں ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے اس کے لیے انتخاب فرماتا ہے اور اس کا ہر چاہنا اس کی اپنی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ کسی دوسرے کو اس میں ذرا بھی دخل نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہود کو اس پر حسد ہے تو وہ جتنا حسد کرنا چاہیں کر لیں۔ اس سے وہ اپنا ہی نقصان کریں گے، کسی دوسرے کا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ خدا نے امیوں کو اپنی چیز دی، کسی دوسرے کی نہیں دی ہے کہ وہ اس پر غصہ کا اظہار کرے۔

      جاوید احمد غامدی یہ اللہ کا فضل ہے، جس کو چاہتا ہے، عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی نبوت و رسالت اللہ کا فضل ہے۔ اِس کا فیصلہ وہی کرتا ہے کہ یہ نعمت کسے عطا فرمائے گا، کوئی دوسرا اِس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔

    • امین احسن اصلاحی اب لوگوں کی تمثیل جن پر تورات لادی گئی پھر انھوں نے اس کو نہ اٹھایا اس گدھے کی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ کیا ہی بری تمثیل ہے اس قوم کی جس نے اللہ کی آیتوں کی تکذیب کی!! اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہود کے پندار پر ضرب: یہ یہود کے پندار پر ضرب لگائی ہے کہ اگر وہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ کتاب و شریعت کے حامل وہی ہو سکتے ہیں، کوئی دوسرا اس شرف میں ان کا حریف نہیں ہو سکتا، تو یہ گھمنڈ اب وہ اپنے دماغ سے نکال دیں۔ اب ان کی مثال اس گدھے کی ہے جو کتابوں کا بوجھ تو اٹھائے ہوئے ہے لیکن اسے کچھ خبر نہیں کہ ان کتابوں میں کیا ہے۔
      ’حُمِّلُوا التَّوْرَاۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْہَا‘۔ یعنی اس میں تو شبہ نہیں کہ ایک زمانے میں ان کے اوپر تورات کا بوجھ لادا گیا لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ہے کہ انھوں نے اس بارگراں کو اٹھایا نہیں۔ اس نہ اٹھانے کی وضاحت ’کَذَّبُوْا بِآیَاتِ اللَّہِ‘ کے الفاظ سے فرما دی گئی کہ تورات کی تعلیمات اور اس کے احکام پر ان کا ایمان باقی نہیں رہا، عملاً انھوں نے ان کی تکذیب کر دی۔ ظاہر ہے کہ جب ان کتابوں کے احکام کی انھوں نے تکذیب کر دی تو ان کے اجر سے تو وہ محروم ہو گئے، صرف ان کا وِزر اور گناہ ان کے سر باقی رہا اور وہ اس مثل کے مصداق ہیں کہ چارپائے بروکتا بے چند۔
      ’حُمِّلُوا التَّوْرَاۃَ‘ میں لفظ ’حُمِّلُوْا‘ نہایت بلیغ ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس تورات کے حامل ہونے پر آج ان کو ناز ہے وہ انہوں نے اس وقت بھی شوق و رغبت سے نہیں قبول کی تھی جس وقت انھیں عطا ہوئی تھی بلکہ وہ گویا ان پر زبردستی لادی گئی تھی۔ اس زبردستی لادنے کی پوری تفصیل سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہے کہ تورات کے ایک ایک حکم کو قبول کرنے میں یہود نے کس کس طرح اپنی ضد و مکابرت کا مظاہرہ کیا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کس سوز و غم کے ساتھ ان کی اس حالت پر ماتم کیا ہے۔ اس کی طرف سرسری اشارہ سورۂ صف کی آیت ۵ میں بھی ہے۔
      ’بِئۡسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِآیَاتِ اللہِ‘۔ فرمایا کہ جن کی مثال اتنی مکروہ ہے ان کے لیے زیبا نہیں ہے کہ وہ اپنے تقدس و تقرب الٰہی کے زعم میں مبتلا ہوں اور یہ سمجھ بیٹھیں کہ ان کے ہوتے خدا کسی دوسرے کو کتاب و شریعت کا حامل نہیں بنا سکتا!
      جو کتاب پر عامل نہیں وہ اس کا حامل بھی نہیں: ’کَذَّبُوْا بِآیَاتِ اللہِ‘ کے الفاظ سے اوپر کے الفاظ ’ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْہَا‘ کی وضاحت ہو گئی کہ تورات کے نہ اٹھانے کے معنی یہ ہیں کہ انھوں نے اس کے احکام کی اپنے عمل سے تکذیب کر دی۔ زبان سے تو دعویٰ ہے کہ وہ اس کے حامل ہیں لیکن جب اس پر عامل نہیں تو اس کے حامل کیسے ہوئے؟
      ’وَاللہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ‘۔ یہ ٹکڑا بعینہٖ سورۂ صف کی آیت ۷ میں بھی گزر چکا ہے۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان کی بداعمالیوں کے سبب سے ان پر لعنت ہو چکی ہے اور اللہ نے ان کے دلوں پر، جیسا کہ سورۂ بقرہ میں تفصیل گزر چکی ہے، مہر کر دی ہے، اس وجہ سے اب ان کو ہدایت نصیب ہونے والی نہیں ہے۔ یہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے ہیں۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ ان کو تورات دی گئی تو اس کی انھوں نے تکذیب کر دی اور اب اسی تورات کے حامل ہونے کے زعم میں اللہ کے آخری رسول کی تکذیب کر رہے ہیں کہ بھلا ان کے ہوتے کسی اور قوم کے اندر کوئی رسول کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ فرمایا کہ ایسے بدبختوں کو خدا ہدایت نہیں دیا کرتا۔ اس طرح کے لوگ ہمیشہ اسی طرح ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (یہود کیا حق رکھتے ہیں کہ اِس پر اعتراض کریں)؟ جن لوگوں پر تورات لادی گئی، پھر اُنھوں نے اُس کو نہیں اٹھایا، اُن کی مثال تو اُس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ کیا ہی بُری مثال ہے اُس قوم کی جس نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلا دیا ہے! (یہ ظالم ہیں) اور ایسے ظالم لوگوں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ لینے کے لیے تیار نہیں تھے، طوعاً و کرہاً قبول کیا، گویا زبردستی وہ اُن پر لادی گئی۔ چنانچہ عملاً اُنھوں نے اُس کی تکذیب ہی کی ہے، یہ بارگراں خوش دلی کے ساتھ اُنھوں نے کبھی نہیں اٹھایا۔
      اوپر فرمایا ہے کہ تورات کو نہیں اٹھایا۔ یہ اُس کی وضاحت کر دی ہے کہ زبان سے تو دعویٰ ہے کہ حامل کتاب ہیں، لیکن اپنے عمل سے مسلسل جھٹلا رہے ہیں۔
      یہ اُسی سنت الٰہی کا بیان ہے جس کا حوالہ اِس سے پہلے سورۂ صف (۶۱) کی آیت ۷ میں گزر چکا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ان سے کہو کہ اے وہ لوگو! جو یہودی ہوئے، اگر تمہارا گمان ہے کہ دوسروں کے مقابل میں تم اللہ کے محبوب ہو تو موت کے طالب بنو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہود کے پندار پر ایک اور ضرب: یہ ان کے اسی پندار پر ایک اور ضرب لگائی کہ اگر تمہارا زعم یہ ہے کہ تم خدا کے محبوب ہو تو اس محبت و محبوبیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ تمہارے اندر خدا کی راہ میں جان دینے کا شوق و ولولہ ہو۔ محب کو سب سے زیادہ آرزو محبوب کی ملاقات کی ہوتی ہے۔ وہ اس چیز سے جان نہیں چراتا جو محبوب سے ملاقات کی راہ کھولے، لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ موت کا مقابلہ کرنے میں تم سے زیادہ بزدل کوئی نہیں۔ سورۂ صف کی آیات ۴-۵ میں ان کے حال پر جو تبصرہ فرمایا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ سورۂ حشر میں بنو قریظہ اور ان کے حلیفوں کی بزدلی کی تصویر ان الفاظ میں کھینچی گئی ہے:

      لَأَنتُمْ أَشَدُّ رَہْبَۃً فِیْ صُدُوْرِہِم مِّنَ اللہِ ذٰلِکَ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ ۵ لَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا إِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ أَوْ مِنۡ وَرَآءِ جُدُرٍ بَأْسُہُمْ بَیْنَہُمْ شَدِیْدٌ تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَقُلُوْبُہُمْ شَتَٰی ذٰلِکَ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ (الحشر ۵۹: ۱۳-۱۴)
      ’’ان کے سینوں میں تمہارا ڈر اللہ کے خوف سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سمجھ رکھنے والے لوگ نہیں۔ یہ کبھی تم سے کھلے میدان میں لڑنے کا حوصلہ نہیں کر سکتے۔ لڑیں گے تو قلعہ بند بستیوں میں یا دیواروں کی اوٹ سے۔ ان کے اپنے اندر شدید مخاصمت ہے۔ تم ان کو متحد گمان کر رہے ہو، حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عقل سے کام لینے والے لوگ نہیں ہیں۔‘‘

      سورۂ بقرہ میں یہی مضمون نسبۃً تفصیل سے اس طرح بیان ہوا ہے:

      قُلْ إِن کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الآَخِرَۃُ عِنۡدَ اللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِنۡ کُنۡتُمْ صَادِقِیْنَ ۵ وَلَنۡ یَتَمَنَّوْہُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَیْْدِیْہِمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالظَّالِمیْنَ ۵ وَلَتَجِدَنَّہُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیَاۃٍ وَمِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُوْا یَوَدُّ أَحَدُہُمْ لَوْ یُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَۃٍ (البقرہ ۲: ۹۵-۹۶)
      ’’کہہ دو، اگر دار آخرت کی تمام نعمتیں اللہ کے پاس، دوسروں کے مقابل میں، تمہارا ہی حق ہیں تو موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو۔ اور یہ کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اپنی ان کرتوتوں کے سبب سے جو انھوں نے کی ہیں اور اللہ ان ظالموں سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اور تم ان کو زندگی کا سب سے زیادہ حریص پاؤ گے۔ یہاں تک کہ یہ مشرکوں سے بھی زیادہ زندگی کے حریص ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی تمنا ہے کہ ہزار سال جیے۔‘‘

      ’مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ‘ سے بنی اسمٰعیل کی طرف اشارہ ہے: آیت زیر بحث میں ’مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ‘ کے الفاظ اگرچہ عام ہیں لیکن یہاں اشارہ خاص طور پر بنی اسمٰعیل ہی کی طرف ہے۔ تورات کی پیشین گوئیوں اور نسلی رقابت کی بنا پر یہود کو سب سے زیادہ پرخاش انہی سے تھی۔ اس پرخاش کی پوری سرگزشت سورۂ بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہ پرخاش تھی تو شروع ہی سے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد، جب انھوں نے تاڑ لیا کہ وہ خطرہ سر پر آ گیا جس سے وہ اندیشہ ناک تھے تو یہ آگ پوری طرح بھڑک اٹھی۔
      یہود کی بزدلی پر ان کی پوری تاریخ گواہ ہے: قرآن نے یہاں یہود کی جس بزدلی پر طنز کیا ہے اگرچہ وہ اس کے جواب میں بے حیائی سے کہہ سکتے تھے کہ ہم موت سے ڈرنے والے لوگ نہیں ہیں لیکن آدمی سے اپنا باطن مخفی نہیں ہوتا۔ انھیں محسوس ہوا کہ قرآن نے ان کی نہایت دکھتی رگ پکڑی ہے۔ چنانچہ انھوں نے خاموشی ہی میں سلامتی دیکھی۔ وہ ایک ایسی بات کی تردید کس طرح کر سکتے تھے جس کی شہادت ان کی ماضی کی تاریخ بھی دے رہی تھی اور حاضر کے واقعات بھی جس کے گواہ تھے۔

       

      جاوید احمد غامدی اِن سے کہو: اے لوگو، جو یہودی بن گئے ہو، اگر تمھارا گمان ہے کہ دوسروں کے مقابل میں تمھی اللہ کے محبوب ہو تو موت کی تمنا کرو، اگر تم سچے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      الفاظ اگرچہ عام ہیں ، لیکن سیاق و سباق سے واضح ہے کہ اشارہ خاص طور پر بنی اسمٰعیل کی طرف ہے۔
      یعنی اپنے اِس دعوے میں سچے ہو تو دنیا کی طلب اور آخرت سے فرار کیوں؟ تمھیں تو ہر معرکے میں شہادت کی تمنا کرنی چاہیے، اِس لیے کہ محب تو یہی چاہے گا کہ جلد سے جلد اپنے محبوب سے ملاقات کرے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’قرآن نے یہاں یہود کی جس بزدلی پر طنز کیا ہے، اگرچہ وہ اُس کے جواب میں بے حیائی سے کہہ سکتے تھے کہ ہم موت سے ڈرنے والے لوگ نہیں ہیں، لیکن آدمی سے اپنا باطن مخفی نہیں ہوتا۔ اُنھیں محسوس ہوا کہ قرآن نے اُن کی نہایت دکھتی رگ پکڑی ہے۔ چنانچہ اُنھوں نے خاموشی ہی میں سلامتی دیکھی۔ وہ ایک ایسی بات کی تردید کس طرح کر سکتے تھے جس کی شہادت اُن کی ماضی کی تاریخ بھی دے رہی تھی اور حاضر کے واقعات بھی جس کے گواہ تھے۔‘‘ (تدبرقرآن ۸/ ۳۸۲)

       

    • امین احسن اصلاحی اور یہ ہرگز اس کے طالب نہ بنیں گے، بوجہ اپنی ان کرتوتوں کے جو وہ کر چکے ہیں۔ اور اللہ اِن ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ ان کی بزدلی کے سبب کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس چیز نے ان کو موت سے اتنا خائف کر رکھا ہے یہ ان کے اعمال ہیں۔ یہ نبیوں کے قاتل ہیں، یہ تورات کے محرّف ہیں، اللہ کی امانتوں میں خیانت کرنے والے ہیں اور انھوں نے ان تمام نشانات ہدایت کو مٹایا ہے جن کو خلق کے سامنے اجاگر کرنے پر یہ مامور ہوئے تھے تو اب یہ کیا منہ لے کر اپنے رب کے سامنے جائیں گے! لیکن ان کو بہرحال اس کے حضور میں حاضر ہونا ہے اور وہ ان ظالموں سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ ہر ایک کو اس کے کیے کی بھرپور سزا دے گا۔

      جاوید احمد غامدی لیکن یہ اپنے اُن کرتوتوں کی وجہ سے جو کر چکے ہیں، اُس کی ہرگز کبھی تمنا نہ کریں گے، اللہ اِن ظالموں سے خوب واقف ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اشارہ ہے یہود کے اُن اعمال کی طرف جن کی تفصیلات بقرہ سے مائدہ تک قرآن کے پہلے باب میں گزر چکی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی ان کو بتا دو کہ جس موت سے تم بھاگ رہے ہو وہ تم سے دوچار ہو کر رہے گی پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے پس وہ تم کو ان سارے اعمال سے آگاہ کرے گا جو تم کرتے رہے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اوپر ’وَاللہُ عَلِیْمٌ بِالظَّالِمِیْنَ‘ میں جو تہدید مضمر تھی وہ اس آیت میں اچھی طرح کھل گئی ہے۔ فرمایا کہ موت سے بھاگتے ہو تو بھاگو، لیکن تم اس سے بھاگ کے کہاں جاؤ گے؟ وہ تمہیں پکڑ ہی لے گی۔ پھر تم اپنی تمام بداعمالیوں کے ساتھ اپنے اس خدا کے سامنے پیش کیے جاؤ گے جو تمام غائب و حاضر کا جاننے والا ہے۔ نہ اس سے تمہارا کوئی فعل مخفی ہے، نہ کوئی چیز تم اس سے چھپا سکو گے۔ وہ تمہارا سارا کچا چٹھا تمہارے سامنے رکھ دے گا اور تمہیں اپنے ہر جرم کی سزا بھگتنی پڑے گی۔

      جاوید احمد غامدی اِنھیں بتا دو کہ جس موت سے تم بھاگ رہے ہو، وہ تمھیں آ کر رہے گی، پھر تم اُس کے سامنے پیش کیے جاؤ گے جو غائب و حاضر کا جاننے والا ہے اور وہ تمھیں بتا دے گا جو تم کرتے رہے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      ’وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالظّٰلِمِیْنَ‘ میں جو تہدید اوپر مضمرتھی ، وہ قرآن نے اِس آیت میں کھول دی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن کی نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف مستعدی سے چل کھڑے ہو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خطاب کا ایک حکیمانہ انداز: خطاب اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن انہی لوگوں کی طرف ہے جن کی کمزوری پر نکیر فرمائی گئی ہے۔ عام خطاب کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ زیادہ رسوائی کا احساس نہیں کرتے جن کا رویہ زیربحث ہوتا ہے بلکہ ان کے اندر سلامت روی ہوتی ہے تو وہ پردہ پوشی کو متکلم کی کریم النفسی پر محمول کرتے اور نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر تعین کے ساتھ نام لے کر ان کو سرزنش کی جائے تو اندیشہ ہوتا ہے کہ ان کے اندر ضد اور انانیت کا جذبہ ابھرے۔
      جمعہ اور اذان جمعہ: ’لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ‘ میں ’مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ‘ کے الفاظ ’صَّلٰوۃِ‘ کی وضاحت کے لیے ہیں تاکہ واضح ہو جائے کہ یہاں زیربحث خاص طور پر جمعہ کی نماز ہے۔ یہ جمعہ کی نماز ہی واحد چیز ہے جو جمعہ کے دن کو دوسرے دنوں سے ممتاز کرتی ہے۔
      یہاں جس اذان کا ذکر ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہی اذان مراد ہو سکتی ہے جو خطبۂ جمعہ سے پہلے دی جاتی ہے۔ روایات سے بلا اختلاف ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور شیخینؓ کے عہد مبارک میں جمعہ کی اذان ایک ہی تھی جو خطبہ سے پہلے دی جاتی تھی۔ ایک اذان کا اضافہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے میں کیا جب مدینہ منورہ کی آبادی زیادہ ہو گئی۔ یہ مدینہ کے بازار میں حضرت عثمانؓ کے مکان سے دی جاتی۔ اگرچہ یہ اذان سیدنا عثمانؓ کا اضافہ ہے لیکن اس اضافے کو امت کے تمام اخیار نے، بلاکسی نکیر کے، قبول کیا۔
      ’فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ‘۔ ’سعی‘ کے معنی صرف دوڑنے کے نہیں آتے بلکہ یہ لفظ اصلاً کسی کام کو مستعدی اور سرگرمی کے ساتھ، چوق و چوبند ہو کر، کرنے کے لیے آتا ہے۔ غلام آقا کی پکار سن کر جب مستعدی سے اس کی طرف لپکتا ہے تو یہ سعی ہے۔ فرمایا کہ جب یہ اذان سنو تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔
      خطبہ اور نماز جمعہ: ’ذِکْرِ اللّٰہِ‘ یہاں خطبہ اور نماز دونوں کے لیے ایک جامع لفظ ہے۔ نماز کا ’ذکر‘ ہونا تو واضح ہے، قرآن میں جگہ جگہ نماز کو ذکر ہی سے تعبیر کیا گیا ہے، رہا جمعہ کا خطبہ تو وہ درحقیقت نماز ہی کا حصہ ہے۔ جمعہ کی نماز ظہر کی نماز کے قائم مقام ہے جس کی چار رکعتیں جمعہ کے دن تخفیف ہو کر دو رہ جاتی ہیں اور ان کی جگہ خطبہ کی شکل میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ ’ذِکْرِ اللّٰہِ‘ امام حاضرین مسجد کو مخاطب کر کے کرتا ہے اس وجہ سے وہ ساری باتیں اس کے دائرہ میں آتی ہیں جو مسلمانوں کی صلاح و فلاح سے متعلق اور جن کے لیے وقت کے حالات مقتضی ہوں۔ اس کو چند رسمی دعاؤں کی شکل میں محدود کر دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
      خطبہ اور نماز کا اہتمام و التزام: ’وَذَرُوا الْبَیْعَ‘۔ لفظ ’بیع‘ اصلاً تو بیچنے کے معنی میں ہے لیکن یہ اپنے عام استعمال میں خرید و فروخت، دونوں ہی کے لیے آتا ہے۔ اگرچہ یہاں ذکر ’بیع‘ ہی کے چھوڑنے کا ہے لیکن جب ’بیع‘ کے چھوڑنے کا ذکر ہو جو نسبۃً زیادہ مرعوب ہے تو ’خرید‘ کا چھوڑنا تو بدرجۂ اولیٰ مطلوب ہو گا۔ مقصود یہ بتانا ہے کہ دنیا کا ہر کام چھوڑ کر نماز کی طرف لپکو۔ ’بیع‘ کے ذکر کی وجہ صرف یہ ہے کہ جو واقعہ مسلمانوں کے لیے آزمائش کا سبب ہوا اور جس پر یہاں تنبیہ فرمائی گئی ہے، وہ بیع و شراء ہی سے متعلق تھا۔
      ’ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ‘۔ یعنی بظاہر تو یہ حکم تم میں سے بعضوں پر گراں گزرے گا، تم اپنے کاروبار کا نقصان محسوس کرو گے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہی طریقہ تمہارے لیے موجب خیر و برکت ہے۔ رزق و فضل سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اس کی خوشنودی کے لیے تم کوئی نقصان گوارا کرو گے تو ابدی زندگی میں اس کا اجر اپنے رب کے پاس محفوظ کر لو گے اور ہو سکتا ہے کہ اس دنیا میں بھی وہ ایسی شکلیں پیدا کر دے کہ تمہارے ہر نقصان کی تلافی ہو جائے۔ ’اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ‘ یعنی تمہیں اپنے نفع نقصان کا اندازہ اس دنیا کی محدود زندگی کو سامنے رکھ کر نہیں کرنا چاہیے بلکہ آخرت کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ لیکن آخرت ایسی چیز ہے کہ اس کو سمجھنا چاہو گے تب ہی سمجھو گے۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، (پیغمبر کی قدر پہچانو اور) جمعہ کے دن جب (اُس کی طرف سے) نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف مستعدی سے چل کھڑے ہو اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ خطاب اگرچہ عام ہے، لیکن روے سخن اُنھی کمزور مسلمانوں کی طرف ہے جن سے کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...عام خطاب کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ زیادہ رسوائی کا احساس نہیں کرتے جن کا رویہ زیر بحث ہوتا ہے، بلکہ اُن کے اندر سلامت روی ہوتی ہے تو وہ اِس پردہ پوشی کو متکلم کی کریم النفسی پر محمول کرتے اور نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر تعین کے ساتھ نام لے کر اُن کو سرزنش کی جائے تو اندیشہ ہوتا ہے کہ اُن کے اندر ضد اور انانیت کا جذبہ ابھرے۔‘‘(تدبرقرآن۸/ ۳۸۵)

      جمعہ کی اذان ایک ہی ہے جو خطبے سے پہلے دی جاتی ہے، یہ اُسی کا ذکر ہے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری اذان کا اضافہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کیا گیا تاکہ اذان کی آواز دور تک پہنچائی جا سکے۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ مدینہ کی آبادی اُس وقت تک کافی بڑھ گئی تھی۔* اذان کا مقصد نماز کے لیے بلانا ہے، اِس لیے ضرورت ہو تو یہ ایک سے زیادہ مرتبہ بھی دی جا سکتی ہے۔
      اللہ کے ذکر سے یہاں خطبہ اور نماز، دونوں مراد ہیں۔ نماز میں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے اور خطبے میں امام اللہ کی یاددہانی کرتا ہے۔ اِس نماز کے بارے میں سنت یہ ہے کہ اِس کا خطاب اور اِس کی امامت مسلمانوں کے ارباب حل و عقد کرتے ہیں اور یہ صرف اُنھی مقامات پر ادا کی جاتی ہے جو اُن کی طرف سے اِس نماز کے لیے مقرر کیے جائیں اور جہاں وہ خود یا اُن کا کوئی نمائندہ اِس کی امامت کے لیے موجود ہو۔ دعوت کی جو ذمہ داری قرآن نے ارباب حل و عقد پر عائد کی ہے، اُس کو ادا کرنے کی یہی صورت دین میں متعین کی گئی ہے۔
      اصل میں لفظ ’الْبَیْع‘ آیا ہے۔اِس کے اصل معنی تو بیچنے کے ہیں، لیکن اپنے عام استعمال میں یہ خرید و فروخت، دونوں کے لیے آجاتا ہے۔ اِس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ ہر کام کو چھوڑ کر پیغمبر کا خطبہ سننے اور اُن کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے آؤ۔ بیع کا ذکر صرف اِس لیے ہوا ہے کہ اُس وقت یہی چیز آزمایش کا سبب ہوئی تھی۔
      _____
      * بخاری، رقم ۸۷۳۔

       

    • امین احسن اصلاحی پھر جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل کے طالب بنو اور اللہ کو زیادہ یاد رکھو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہود کے احترام سبت کے بالمقابل جمعہ کی پابندی آسان ہے: یعنی یہ پابندی صرف اتنی ہی دیر کے لیے ہے کہ نماز سے فارغ ہو جاؤ۔ اس کے بعد تمہیں اجازت ہے کہ تم جہاں چاہو جاؤ اور جس شکل میں چاہو اللہ کے رزق و فضل کے طالب بنو۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اتنے قلیل وقت کی پابندی بھی تم اپنے رب کی خوشنودی کے لیے گوارا نہیں کر سکتے تو پھر تمہارا ایمان و اسلام کیا ہے! یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ یہود پر سبت کے احترام کی پابندی پورے دن کے لیے تھی۔ لیکن اس امت پر جمعہ کے احترام کی پابندی صرف اذان سے لے کر ختم نماز تک کے لیے عائد کی گئی ہے، باقی پورے دن میں اسی طرح آزادی ہے جس طرح دوسرے دنوں میں ہے۔
      ’وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ‘۔ یعنی تمہارے لیے رزق و فضل کی جدوجہد پر کوئی بابندی نہیں ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر اس جدوجہد میں دنیا ہی مطمح نظر نہیں ہے، آخرت کی فلاح بھی مطلوب ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر قدم پر اللہ کو یاد رکھو۔ یہی یاد تمہیں شیطان کے فریبوں اور فتنوں سے بچائے گی ورنہ شیطان تمہیں اس طرح اندھا بنا دے گا کہ تم حرام و حلال کے امتیاز سے عاری ہو کر اس دنیا کے کتے بن کر رہ جاؤ گے اور پھر جہنم ہی کے ایندھن بنو گے۔

      جاوید احمد غامدی پھر جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی پابندی صرف خطبہ اور نماز کے لیے ہے۔ اِس کے بعد تم جہاں چاہو اور جس صورت میں چاہو، اپنی معاش کے لیے جدوجہد کر سکتے ہو۔
      یعنی صرف نماز ہی میں نہیں، بلکہ اٹھتے بیٹھتے، ہمہ وقت دل و دماغ کو خدا کی یاد سے معمور اور زبان کو اُس سے تر رکھو۔ یہی فلاح کا راستہ ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب وہ کوئی تجارت یا دلچسپی کی چیز دیکھ پاتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور تم کو کھڑے چھوڑ دیتے ہیں۔ کہہ دو، جو اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے کہیں بہتر ہے۔ اور اللہ بہترین روزی دینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      واقعہ جو اس تنبیہ کا سبب ہوا: یہ آخر میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو مذکورہ بالا تنبیہات و تعلیمات کے نزول کا سبب ہوا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ باہر کا کوئی تجارتی قافلہ، عین خطبۂ جمعہ کے وقت، مدینہ میں داخل ہوا۔ اس نے اعلان و اشتہار کے لیے، رواج کے مطابق، اپنے ڈھول اور دَف جو بجائے تو کچھ لوگ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے چھوڑ کر اس کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس طرح کے قافلے اس زمانے میں بڑی اہمیت رکھتے تھے۔ ضروری چیزوں کی خرید و فروخت انہی کے ذریعہ سے ہوتی اس وجہ سے لوگوں کو ان کا انتظار رہتا اور جب وہ آتے تو ہر شخص اپنی ضرورت کی چیزیں حاصل کرنے اور اپنا مال فروخت کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت کرنے کی کوشش کرتا۔ یہ فعل جن لوگوں سے صادر ہوا ظاہر ہے کہ ان پر اسلامی تربیت کا رنگ ابھی اچھی طرح چڑھا نہیں تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ خطبۂ جمعہ کی اہمیت سے بھی اچھی طرح واقف نہیں تھے۔ ان کے نزدیک اہمیت صرف نماز ہی کی تھی۔ انھوں نے خیال کیا ہو گا کہ نماز سے پہلے پہلے قافلہ کو دیکھ کر واپس آ جائیں گے۔ بہرحال ان سے جو غلطی ہوئی اس سے امت کو یہ فائدہ پہنچا کہ جمعہ، خطبۂ جمعہ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ایسی ہدایات نازل ہو گئیں جو اس سے پہلے نازل نہیں ہوئی تھیں۔
      آیت میں بات اگرچہ عام صیغہ سے فرمائی گئی ہے لیکن یہ امر واضح رہے کہ یہ فعل، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، صادر کچھ ناتربیت یافتہ لوگوں ہی سے ہوا۔ قرآن کا عام انذار موعظت یہی ہے کہ وہ تعین کے ساتھ ملامت کرنے کے بجائے عام الفاظ ہی میں تنبیہ کرتا ہے تاکہ جماعت کا ہر شخص اس سے فائدہ اٹھائے اور کسی خاص گروہ کو اس سے رسوائی کا احساس نہ ہو۔
      واقعہ کی سنگینی کی طرف اشارہ: ’تَرَکُوۡکَ قَآئِمًا‘ سے اس واقعہ کی سنگینی کا ایک خاص پہلو یہ واضح ہوتا ہے کہ خطبہ خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دے رہے تھے۔ حضورؐ کے خطبہ کو اس طرح چھوڑ کر چل دینے میں سوء ادب اور دین کی ناقدری کے جو پہلو مضمر ہیں وہ نہایت اہم ہیں۔ یہ بعینہٖ وہی روش ہے جو یہود نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اختیار کی۔ جس کے نتیجہ میں اللہ نے ان کے دل، جیسا کہ سورۂ صف میں بیان ہوا ہے، کج کر دیے۔ اس وجہ سے قرآن نے ان پر پہلے ہی مرحلہ میں گرفت فرمائی۔
      ’قُلْ مَا عِنۡدَ اللہِ خَیْْرٌ مِّنَ اللَّہْوِ وَمِنَ التِّجَارَۃِ وَاللہُ خَیْْرُ الرَّازِقِیْنَ‘۔ فرمایا کہ اللہ کے پاس مخلص اہل ایمان کے لیے جو اجر عظیم ہے اس کے طالب بنو۔ وہ اس دنیا کے لہو و لعب اور اس کی تجارت سے کہیں بہتر ہے۔ اگر اس دنیا کا بڑے سے بڑا نقصان کر کے بھی تم نے خدا اور اس کے رسول کی خوشنودی حاصل کر لی تو اپنے خزف ریزوں کے عوض ابدی بادشاہی کے مالک بن جاؤ گے اور اگر خدا و رسول کو ناراض کر کے تم نے ساری دنیا کی دولت بھی سمیٹ لی تو آخر کتنے دنوں کے لیے! پس دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کے پیچھے مت بھاگو بلکہ جو چیز اللہ کے پاس ہے اس کے طالب بنو۔ اللہ بہترین روزی دینے والا ہے۔ وہ وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا اور ایسا رزق دیتا ہے جو ہر اعتبار سے رزق کریم ہوتا ہے۔
      ’لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ‘ اور ’خَیْْرُ الرَّازِقِیْنَ‘ میں عربیت کے جو اسلوب ہیں ان کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔

      جمعہ، خطبۂ جمعہ اور مقام نبوت سے متعلق قرآن کے چند اشارات

      اگرچہ آیات کے تحت ان سے مستنبط ہونے والی اہم باتوں کی طرف ہم توجہ دلاتے آ رہے ہیں لیکن چند باتیں مزید توجہ کی مستحق ہیں۔
      رسول کی تعلیم اللہ کی تعلیم ہے: ایک یہ کہ جمعہ کی نماز، اس کی اذان اور اس کے خطبہ سے متعلق یہاں مسلمانوں کو جو ہدایات دی گئی ہیں اور ان کی ایک غلطی پر جس طرح تنبیہ فرمائی گئی ہے اس کا انداز شاہد ہے کہ جمعہ کے قیام سے متعلق ساری باتیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے انجام پائی ہیں، حالانکہ قرآن میں کہیں بھی جمعہ کا کوئی ذکر نہ اس سے پہلے آیا ہے نہ اس کے بعد ہے بلکہ روایات سے ثابت ہے کہ اس کے قیام کا اہتمام ہجرت کے بعد مدینہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور لوگوں کو آپ ہی نے اس کے احکام و آداب کی تعلیم دی۔ پھر جب لوگوں سے اس کے آداب ملحوظ رکھنے میں کچھ کوتاہی ہوئی تو اس پر قرآن نے اس طرح گرفت فرمائی گویا براہ راست اللہ تعالیٰ ہی کے بتائے ہوئے احکام و آداب کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول کے دیے ہوئے احکام بعینہٖ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں، ان کا ذکر قرآن میں ہو یا نہ ہو۔ رسول کی طرف ان کی نسبت کی تحقیق تو ضروری ہے لیکن نسبت ثابت ہے تو ان کا انکار خود اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار ہے۔

      گفتۂ اور گفتۂ اللہ بود

      خطبۂ جمعہ نماز جمعہ کا ضروری رکن ہے: دوسری یہ کہ خطبۂ جمعہ، نماز جمعہ کا ایک ضروری رکن ہے۔ اس سے بے پروائی یا اس کی ناقدری کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے۔ اس خطبہ ہی کے لیے نماز جمعہ کی رکعتیں چار کی جگہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، صرف دو رکھی گئی ہیں اور دو رکعتوں کی جگہ خطبہ کو دی گئی ہے جو دو رکعتوں ہی کی طرح دو حصوں میں منقسم ہوتا ہے۔ پھر نماز ہی کی طرح خطبہ بھی، قرآن کی تصریح کے مطابق، ذکر اللہ ہے، یعنی خطبہ اور نماز دونوں کی روح ایک ہی بتائی گئی ہے۔ بس اتنا فرق ہے کہ نماز میں امام اور مقتدی سب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر ذکر الٰہی کرتے ہیں اور خطبہ میں امام لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر اللہ کی تذکیر کرتا ہے۔ اس زمانے میں یہ عجیب مصیبت ہے کہ اصل خطبۂ جمعہ چند معروف دعائیہ کلمات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور ائمہ حضرات اپنا سارا زور خطابت ان لمبی لمبی تقریروں پر صرف فرماتے ہیں جو وہ اصل خطبہ سے پہلے کرتے ہیں۔ ان تقریروں میں ذکر اللہ بہت کم اور دوسری غیر ضروری باتیں بہت زیادہ ہوتی ہیں اور نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ سامعین یا تو اونگھتے ہیں یا سوتے ہیں اور جو سننے کی کوشش کرتے ہیں وہ طول بیان سے تھک جاتے ہیں۔
      ایک افسوس ناک صورت حال: بہت سے لوگ ان لمبی تقریروں سے بچنے کے لیے مسجد میں اس وقت پہنچتے ہیں جب وہ خطبہ شروع ہوتا ہے جو ہے تو اصلی لیکن اس زمانے میں وہ بالکل ایک رسمی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ یہ صورت حال نہایت افسوس ناک ہے۔ ضروری ہے کہ اصل خطبہ کی اہمیت بحال کی جائے۔ اس کا طریقہ یہی ہے کہ لمبی لمبی تقریروں کی جگہ امام صاحبان اصل خطبہ ہی میں ضروری باتوں کی تذکیر کریں۔ خطبہ جامع، مختصر اور پرحکمت ہو تاکہ لوگ دل چسپی سے سنیں اور مستفید ہوں۔ لوگوں کو تاکید کی جائے کہ خطبہ سننے کے لیے وہ ٹھیک وقت پر پہنچیں اور اس سے غفلت کے ان عواقب سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔
      جمعہ کے روز مسلمان کے لیے پسندیدہ روش: تیسری یہ کہ قرآن کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ مسلمان کے لیے پسندیدہ روش، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ہے کہ جمعہ سے پہلے کا وقت وہ جمعہ کی تیاریوں میں صرف کرے۔ کوئی اور مصروفیت بلا کسی شدید ضرورت کے، وہ ایسی نہ پیدا کرے جو اس تیاری میں مانع یا مخل ہو۔ یہ بات یوں نکلتی ہے کہ فرمایا ہے کہ ، جب نماز ختم ہو جائے تب زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے رزق و فضل کے طالب بنو۔ ان الفاظ کے اندر یہ مضمون مضمر ہے کہ جمعہ کے دن کاروباری مصروفیت کے لیے موزوں وقت جمعہ سے پہلے کا نہیں بلکہ جمعہ کی نماز کے بعد ہی کا ہے بالخصوص اس طرح کی کاروباری مصروفیت جس کے لیے لوگوں کو بستی سے نکل کر زمین میں پھیلنے پر مجبور ہونا پڑے اور اندیشہ ہو کہ جمعہ کے لیے جو اجتماع مطلوب ہے اس انتشار سے اس کو نقصان پہنچے گا۔ ایک عام آدمی کو ہفتہ میں ایک دن ایسا ضرور ملنا چاہیے جس دن وہ حجامت بنوائے، کپڑے دھوئے، غسل کرے۔ ان کاموں کے لیے موزوں ترین دن جمعہ ہی کا ہو سکتا ہے اس لیے کہ یہ باتیں اس کے آداب میں سے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی کہ جمعہ کے دن دوسری معاشی و کاروباری سرگرمیاں اگر ضروری ہوں تو جمعہ کے بعد ہی شروع ہوں۔ یہی طریقہ ہمارے سلف صالحین کا رہا ہے اور یہی طریقہ آج بھی ان حلقوں میں پسندیدہ ہے جن میں اسلامی شعائر اور اسلامی تہذیب کا شعور زندہ ہے۔
      جمعہ سے متعلق جو باتیں براہ راست قرآن مجید سے مستنبط ہوتی ہیں، ہم نے اپنے طریقہ کے مطابق، اپنی بحث انہی تک محدود رکھی ہے۔ دوسرے مسائل جن کا تعلق فقہ سے ہے، ہم نے ان سے تعرض نہیں کیا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (اِن لوگوں کا حال یہ ہے کہ) جب کوئی تجارت یا کھیل تماشے کی چیز دیکھتے ہیں تو اُس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور تمھیں کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔ اِن سے کہو: جو اللہ کے پاس ہے، وہ کھیل تماشے اور تجارت سے کہیں بہتر ہے ، اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِن الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فعل ایک سے زیادہ مرتبہ صادر ہوا، لیکن روایتوں میں ایک ہی واقعے کا ذکر ہے۔* اِس کی وجہ غالباً یہ ہوئی ہے کہ کچھ ناتربیت یافتہ لوگ وقتاً فوقتاً یہ حرکت کرتے رہے، مگر کسی نے توجہ نہیں دی، یہاں تک کہ ایک موقع پر اُن کی ایک بڑی تعداد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے چھوڑ کر چلی گئی۔ یہ چونکہ آخری درجے میں سوء ادب اور دین و شریعت کی ناقدری تھی، اِس لیے قرآن نے بھی توجہ دلائی اور لوگوں نے بھی اِسی واقعے کو نقل کیا ہے۔
      _____
      * بخاری، رقم ۸۹۴۔ مسلم ، رقم ۸۶۳۔

    Join our Mailing List