Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 13 آیات ) Al-Mumtahanah Al-Mumtahanah
Go
  • الممتحنۃ (The Examined One, She That Is To Be Examined, Examining Her)

    13 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    پچھلی سورتوں میں منافقین کا اہل کتاب، بالخصوص یہود، سے قطع تعلق کا حکم دیا گیا ہے اور یہ منافقین تھے بھی، جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں، بیشتر اہل کتاب ہی میں سے۔ اس سورہ میں مشرکین مکہ سے قطع تعلق کا حکم دیا گیا ہے اور خطاب خاص طور پر ان لوگوں سے ہے جو اسلام میں داخل بھی تھے اور دین کی خاطر انھوں نے ہجرت بھی کی تھی لیکن اہل مکہ سے رشتہ و برادری کے جو تعلقات تھے اس کی زنجیریں ابھی انھوں نے نہیں توڑی تھیں اس وجہ سے امتحان کے مواقع پر ان سے ایسی کمزوریاں صادر ہو جاتیں جو ایمان و اخلاص کے منافی ہوتیں۔ گویا نفاق کی بیخ کنی یا تطہیر مومنین جو تمام مسبحات کا مشترک مضمون ہے وہی مضمون اس سورہ کا بھی ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ اس میں روئے سخن ان مسلمانوں کی طرف ہے جنھوں نے ہجرت تو کی لیکن ہجرت کی اصل ابراہیمی حقیقت ابھی ان پر اچھی طرح واضح نہیں ہوئی تھی۔ ان کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوۂ حسنہ کی یاددہانی فرمائی گئی ہے کہ اگر ہجرت کی برکات سے متمتع ہونا چاہتے ہو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنے سابق ماحول سے ہر قسم کا تعلق منقطع کر کے کلیۃً اللہ اور رسول سے وابستہ ہو جاؤ۔

  • الممتحنۃ (The Examined One, She That Is To Be Examined, Examining Her)

    13 آیات | مدنی
    الحشر - الممتحنۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں منافقین کو اُن یہودیوں کے انجام سے سبق لینے کی تلقین فرمائی ہے جن کو وہ شہ دے رہے تھے، اور دوسری سورہ میں کمزور مسلمانوں کو اُن مشرکین کے ساتھ رشتہ و پیوند کے نتائج سے خبردار کیا ہے جو اللہ و رسول کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ دونوں میں خطاب ایمان کا دعویٰ رکھنے والوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الحشر — کا موضوع منافقین کو متنبہ کرنا ہے کہ وہ اگر آنکھیں رکھتے ہوں تو اُن لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں جن کو وہ ناقابل تسخیر سمجھے بیٹھے تھے، قرآن کی دعوت پر لبیک کہیں اور اللہ کی پاداش سے ڈریں۔

    دوسری سورہ — الممتحنۃ — کا موضوع اُن مسلمانوں کو ایمان و اسلام کے تقاضے سمجھانا ہے جو ہجرت کرکے آ تو گئے تھے، مگر ہجرت کی حقیقت ابھی اُن پر واضح نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ امتحان کے موقعوں پر اُن سے ایسی کمزوریاں صادر ہو جاتی تھیں جو اُنھیں منافقین کے قریب لے جاتی تھیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم ان سے محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو اور ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے اس حق کا انکار کیا جو تمہارے پاس آیا، وہ رسول کو اور تم کو اس بنا پر جلاوطن کرتے ہیں کہ تم اللہ، اپنے خداوند پر، ایمان لائے! ۔۔۔ اگر تم میری راہ میں جہاد اور میری رضا جوئی کو نکلتے ہو، ان سے رازدارانہ نامہ و پیام کرتے ہوئے، درآں حالیکہ میں جانتا ہوں جو تم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہو، اور جو تم میں سے ایسا کرتے ہیں وہ راہ راست سے بھٹک گئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مصلحت پرست مسلمان کو تنبیہ: خطاب اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن انہی مسلمانوں کی طرف ہے جو ہجرت کے مرحلہ سے گزرنے کے بعد بھی مشرکین مکہ کے ساتھ اپنے سابق خاندانی اور عزیزانہ تعلقات کا لحاظ باقی رکھے ہوئے تھے۔ جب تک مشرکین سے عام جنگ کا حکم نہیں ہوا اس وقت تک تو ان کی اس کمزوری پر پردہ پڑا رہا لیکن جب ان کے عام تعاقب کا حکم ہو گیا تو ان کی یہ کمزوری ظاہر ہونے لگی۔ یہ لوگ اپنے خاندان اور قبیلہ والوں کے خلاف تلوار اٹھانے سے بھی جھجکتے تھے اور قریش کے لیڈروں کو خوش رکھنے کے بھی خواہش مند تھے کہ وہ ان کے عزیزوں کے درپے آزار نہ ہو جائیں۔ اگرچہ ان کی یہ روش نفاق سے زیادہ مصلحت پرستی پر مبنی تھی۔ ان کا گمان تھا کہ اگر انھوں نے اپنے ان مشرک عزیزوں سے اچھے تعلقات باقی رکھے تو ان کے رویے سے متاثر ہو کر وہ ایک دن سچے مسلمان بن جائیں گے۔ لیکن قرآن نے اس مصلحت کو ایمان کے منافی قرار دیا اوران پر واضح فرمایا کہ جس ایمان کے تم مدعی ہو اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان لوگوں سے رشتۂ موالات نہ رکھو جو اللہ کے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی۔
      لفظ ’عدوّ‘ واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ’فَعُوْل‘ کے وزن پر ہے اور عربی میں یہ وزن دونوں کے لیے یکساں ہے بلکہ اس میں مذکر و مؤنث کا بھی امتیاز نہیں ہے۔
      ’تُلْقُوْنَ إِلَیْْہِم بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوا بِمَا جَاء کُم مِّنَ الْحَقِّ یُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِیَّاکُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللہِ رَبِّکُمْ‘۔ یہ اوپر والی بات ہی کی وضاحت ہے کہ تم تو ان سے موالات و محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی۔ ان کی یہ دشمنی اس سے واضح ہے کہ جو دین تمہارے پاس آیا اس کا بھی انھوں نے انکار کیا اور رسول کو اور تم کو اس جرم میں جلاوطن کرنے کے درپے ہیں کہ تم اللہ پر جو تمہارا رب ہے، ایمان کیوں لائے۔
      ’تُلْقُوْنَ إِلَیْْہِم بِالْمَوَدَّۃِ‘ اسی طرح کا اسلوب بیان ہے جس طرح ’وَلاَ تُلْقُوْا بِأَیْْدِیْکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ‘ (البقرہ ۲: ۱۹۵) ہے۔ اس طرح کے کام نامہ و پیام اور وسائل و وسائط سے انجام پاتے ہیں اس وجہ سے تعبیر مطلب کے لیے یہ اسلوب نہایت موزوں ہے۔ ہم نے اسلوب کی معنویت ملحوظ رکھنے کے لیے ترجمہ ’محبت کی پینگیں بڑھانا‘ کیا ہے۔
      ’یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَإِیَّاکُمْ‘ میں حال کا صیغہ صورت حال کو نگاہوں کے سامنے کر دینے کے لیے ہے تا کہ ان لوگوں کو غیرت دلائی جائے جو ایسے بے درد لوگوں سے موالات کے خواہش مند تھے جنھوں نے رسول اور ان کے ساتھیوں کو ان کے وطن سے جلاوطن کیا۔ فرمایا کہ اگر اس کے باوجود تم ان سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہو تو اپنے ایمان و اسلام کا جائزہ لو اس لیے کہ ان کا سارا غصہ تو اسی بات پر ہے کہ تم اللہ پر، جو تمہارا رب ہے، ایمان لائے! ’رَبِّکُمْ‘ یہاں دلیل کے محل میں ہے کہ اللہ ہی جب رب ہے تو وہی ایمان کا حق دار ہوا۔ اگر تم اس پر ایمان لائے تو تم نے اصل حق دار کا حق پہچانا لیکن تمہاری یہی حق شناسی ان کے غضب کا سبب بن گئی ہے۔
      ’اَنْ تُؤْمِنُوْا‘ کے اسلوب کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں کہ ’اَنْ‘ سے پہلے بعض اوقات مضاف محذوف ہو جایا کرتا ہے۔ اگر اس کو کھول دیجیے تو مطلب یہ ہو گا کہ اس الزام یا اس گناہ پر تمہیں نکال رہے ہیں کہ تم اللہ پر، جو تمہارا پروردگار ہے، ایمان کیوں لائے؟ گویا تمہاری سب سے بڑی نیکی اور سب سے بڑی حق شناسی ان کے نزدیک تمہارا سب سے بڑا گناہ بن گئی ہے۔
      ایک اسلوب کی وضاحت: ’اِنْ کُنتُمْ خَرَجْتُمْ جِہَاداً فِیْ سَبِیْلِیْ وَابْتِغَاء مَرْضَاتِیْ تُسِرُّوْنَ إِلَیْْہِم بِالْمَوَدَّۃِ وَاَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَیْْتُمْ وَمَا أَعْلَنتُمْ وَمَنْ یَفْعَلْہُ مِنکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ‘۔ اس ٹکڑے کی نحوی تالیف مفسرین پر اچھی طرح واضح نہیں ہوئی اس وجہ سے وہ اس کا مطلب واضح نہ کر سکے۔ پہلے اس کی تالیف نحوی سمجھ لیجیے، پھر ہم اس کا مطلب واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ مفسرین نے عام طور پر ’شرط‘ کا جواب محذوف مانا ہے اور قرینہ سے اس کو معین کرنے کی کوشش کی ہے لیکن میرے نزدیک یہاں ’اِنْ کُنتُمْ‘ اور ’مَنْ یَفْعَلْہُ‘ دونوں شرطوں کا جواب ایک ہی یعنی ’فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ‘ ہے۔ ’تُسِرُّوْنَ‘ ضمیر خطاب سے حال واقع ہوا ہے اور ’اَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَیْْتُمْ وَمَآ أَعْلَنتُمْ‘ جملہ معترضہ کے محل میں ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ اگر تم میری راہ میں جہاد اور رضا طلبی کے لیے اس حال میں نکلے کہ تم اپنے دلوں میں اللہ و رسول کے دشمنوں کے ساتھ موالات کی خواہش چھپائے ہوئے ہو، درآنحالیکہ میں تمہارے باطن اور ظاہر دونوں کو جانتا ہوں، تو یاد رکھو کہ جو تم میں سے ایسا کریں گے وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے۔
      اللہ کی رضا طلبی اور اس کے دشمنوں سے موالات ایک جگہ نہیں جمع ہو سکتیں: سیدھی راہ سے بھٹک جانے کی وجہ ظاہر ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد اور اس کی رضا طلبی اور اللہ و رسول کے دشمنوں کے ساتھ دوستی، دو بالکل متضاد چیزیں ہیں۔ یہ دونوں بیک وقت کسی کے دل میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ اگر اللہ ظاہر و باطن دونوں سے آگاہ نہ ہوتا تب تو اس کو دھوکا دیا جا سکتا تھا لیکن جب وہ ہر ایک کے ظاہر و باطن سے اچھی طرح آگاہ ہے تو اس کو کس طرح دھوکا دیا جا سکتا ہے! جو لوگ اس طرح کی دو متضاد خواہشیں اپنے دلوں میں رکھ کے نکل رہے ہیں انھیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ خدا کی راہ میں نہیں بلکہ شیطان کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ع

      ایں رہ

      کہ تو میردی بہ ترکستان است

      شان نزول سے متعلق ایک نکتہ: اس آیت کے تحت مفسرین نے حضرت حاطب بن بلتعہؓ کا ایک واقعہ، بطور شان نزول، نقل کیا ہے۔ شان نزول سے متعلق ہم مقدمۂ کتاب میں استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کی رائے نقل کر چکے ہیں کہ سلف جب کسی آیت کے تعلق سے کوئی واقعہ بطور شان نزول نقل کرتے ہیں تو اس کا مطلب لازماً یہی نہیں ہوا کرتا کہ بعینہٖ وہی واقعہ آیت کے نزول کا سبب ہے بلکہ اس سے ان کا مقصود صرف یہ رہنمائی دینا ہوتا ہے کہ اس آیت میں اس طرح کے واقعات کے لیے بھی حکم موجود ہے۔ اس آیت پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس میں کسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ ایک خاص قسم کی صورت حال کی طرف اشارہ ہے۔ جس کمزوری کی طرف آیت میں اشارہ ہے بعض لوگوں کے اندر اس کا پایا جانا کچھ عجیب بھی نہیں ہے بلکہ یہ عام بشری کمزوری کا نتیجہ یا، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مصلحت خیر پر بھی مبنی ہو سکتی ہے اور یہاں یہی پہلو، جیسا کہ آگے آیات سے واضح ہو گا، قرین عقل ہے۔ لیکن مصالح کا اصل جاننے والا خدائے علیم و حکیم ہی ہے۔ بسا اوقات آدمی نیک نیتی سے ایک رائے قائم کرتا ہے لیکن اس میں اس کے نفس کی کوئی کمزوری بھی چھپی ہو سکتی ہے جس تک اس کی نظر نہیں پہنچتی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اسی طرح کی کمزوریوں پر متنبہ فرمایا ہے تاکہ اس امت کے ہراول دستہ کا ہر عمل بعد والوں کے لیے نمونہ ہو۔

       

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم اُن سے محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو، دراں حالیکہ جو حق تمھارے پاس آیا ہے، وہ اُس کا انکار کر چکے ہیں۔ وہ خدا کے رسول کو اور تمھیں محض اِس لیے وطن سے نکال دیتے ہیں کہ تم اپنے رب، اللہ پر ایمان لائے ہو۔ تم اُنھیں رازدارانہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہوئے اگر میری راہ میں جہاد کے لیے اور میری رضا کی طلب میں نکلتے ہو، دراں حالیکہ میں جانتا ہوں جو تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو (تو سوچو کہ کیا کرتے ہو)۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تم میں سے جو یہ کرتے ہیں، وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ خطاب اگرچہ عام ہے، لیکن روے سخن اُنھی مسلمانوں کی طرف ہے جو ہجرت کرکے مدینہ آگئے تھے، مگر اپنی طبعی کمزوریوں اور مصلحت پرستی کے باعث مشرکین مکہ سے اپنے سابق خاندانی اور عزیزانہ تعلقات ختم نہیں کر سکے تھے۔ قرآن نے اِسے ایمان کے منافی قرار دیا اور فرمایا کہ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو تو یہ تعلقات اب ختم کر دو، اِس لیے کہ یہ لوگ صرف منکر نہیں ہیں، بلکہ اِس سے آگے بڑھ کر میرے اور تمھارے دشمن بن چکے ہیں اور تمھارے خلاف برسر جنگ ہیں۔
      اصل الفاظ ہیں: ’تُلْقُوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ‘۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...(یہ) اُسی طرح کا اسلوب بیان ہے، جس طرح ’وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ‘* ہے۔ اِس طرح کے کام نامہ و پیام اور وسائل و وسائط سے انجام پاتے ہیں، اِس وجہ سے تعبیر مطلب کے لیے یہ اسلوب نہایت موزوں ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۸/ ۳۲۴)

      یہ حال کا صیغہ اِس لیے اختیار فرمایا ہے کہ صورت حال بالکل نگاہوں کے سامنے آجائے۔ چنانچہ حال یہاں تصویر حال کا فائدہ دے رہا ہے۔
      یعنی جو تمھارا رب ہے، تم نے اُسی کا حق پہچانا ہے، لیکن تمھاری یہ حق شناسی تمھارے ساتھ اُن کی دشمنی کا باعث بن گئی ہے۔
      اِس جملے میں ’اِنْ کُنْتُمْ‘ کا جواب محذوف ہے۔ یہ آگے ’وَمَنْ یَّفْعَلْہُ‘ سے واضح ہو جاتا ہے جو اِسی پر عطف کیا گیا ہے۔ ہم نے ترجمے میں اُسے کھول دیا ہے۔مطلب یہ ہے کہ خدا کی رضا کے لیے اور اُس کی راہ میں جہاد کی غرض سے نکلنا ہے تو خدا کے اِن دشمنوں سے موالات کی خواہش دلوں میں لیے ہوئے اور اِن سے نامہ و پیام کرتے ہوئے نہیں نکل سکتے۔ یہ موقع موالات کا نہیں، دشمنی کے اظہار کا ہے۔ اللہ کی راہ میں جہاد اور اُس کی رضا طلبی اوراللہ و رسول کے دشمنوں کے ساتھ دوستی دو بالکل متضاد چیزیں ہیں، اِس لیے یک سو ہو جاؤ اور اُن کے ساتھ دوستی کے خیالات ذہن سے نکال دو۔ تمھارا رویہ یہی رہا تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم خدا کا راستہ چھوڑ کر شیطان کے راستے پر چل پڑے ہو۔
      _____
      * البقرہ ۲: ۱۹۵۔ ’’اور اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔‘‘

       

    • امین احسن اصلاحی اگر وہ تم کو پا جائیں تو وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے اور تم پر دست درازی بھی کریں گے اور زبان درازی بھی اور چاہیں گے کہ تم کافر ہو جاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کفار کے عناد کا حال: یعنی تم تو ان سے دوستی کے خواہش مند ہو لیکن ان کے دلوں میں تمہارے خلاف ایسا عناد بھرا ہوا ہے کہ اگر وہ تم پر کہیں قابو پا گئے تو نہ دست درازی سے باز رہیں گے نہ زبان درازی سے بلکہ ان کی پوری کوشش یہ ہو گی کہ تمہیں مرتد کر کے چھوڑیں۔ یہی بات سورۂ توبہ میں اس طرح بیان ہوئی ہے:

      ’وَإِنْ یَظْہَرُوْا عَلَیْْکُمْ لاَ یَرْقُبُوْا فِیْکُمْ إِلاًّ وَلاَ ذِمَّۃً‘ (التوبہ ۹: ۸)
      (اگر وہ تم پر قابو پا گئے تو پھر تمہارے معاملہ میں نہ وہ قرابت کا پاس کریں گے نہ کسی عہد کا)۔

      مطلب یہ ہے کہ تمہارے ساتھ ان کی دشمنی من حیث الجماعت ہے اور اس میں وہ اتنے سخت ہیں کہ کسی رشتہ و قرابت یا کسی عہد و پیمان کا لحاظ کرنے والے نہیں ہیں تو ان سے کسی نیکی کی توقع نہ رکھو بلکہ تمہارے لیے بھی صحیح رویہ یہی ہے کہ ان سے موالات کی ہر خواہش سے دست بردار ہو جاؤ۔

       

      جاوید احمد غامدی (اُن کا رویہ تو یہ ہے کہ) اگر تمھیں پا جائیں تو تمھارے ساتھ دشمنی کریں گے اور تم پر اپنے ہاتھ چلائیں گے اور اپنی زبانیں بھی ، اور یہی چاہیں گے کہ تم بھی کافر ہو جاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی تمھارے ساتھ اپنی دشمنی میں ایسے سخت ہیں کہ تم پر قابو پا لیں تو کسی رشتہ و قرابت اور عہد و پیمان کا لحاظ نہ کریں گے اور جو آزار ممکن ہو گا، تمھیں لازماً پہنچائیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی تمہارے رشتے ناتے اور تمہارے آل و اولاد قیامت کے دن تمہارے کچھ بھی کام آنے والے نہیں بنیں گے۔ اس دن اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت میں رشتے کام نہیں آئیں گے: ’ارحام‘ یہاں ’قرابات‘ یعنی رشتے ناتے کے مفہوم میں ہے۔ یہ تنبیہ ہے کہ جو لوگ دینی تقاضوں کے مقابل میں اپنے رشتوں ناتوں کو زیادہ اہمیت دیں گے وہ یاد رکھیں کہ یہ چیزیں قیامت میں کام آنے والی نہیں ہیں۔ اس دن اللہ تعالیٰ اس طرح کے تمام رشتہ داروں کے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ اس دن کی تصویر یوں کھینچی گئی ہے:

      وَلَا یَسْأَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا ۵ یُبَصَّرُوْنَہُمْ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہِ وَأَخِیْہِ ۵ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤْویْہِ ۵ وَمَن فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنجِیْہِ (المعارج ۷۰: ۱۰-۱۴)
      ’’اور اس دن کوئی دوست کسی دوست کا پرسان حال نہیں ہو گا۔ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم کی تمنا یہ ہو گی کاش! اس دن کے عذاب سے وہ اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اپنے بھائی اور اپنے اس خاندان کو جو اس کی پناہ گاہ رہا ہے اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اپنے کو بچا لے۔‘‘

      یہی حقیقت سورۂ عبس میں یوں واضح فرمائی گئی ہے:

      یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِیْہِ ۵ وَأُمِّہِ وَأَبِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہِ وَبَنِیْہِ (عبس ۸۰: ۳۴-۳۶)
      ’’اس دن کو یاد رکھو جس دن آدمی اپنے بھائی، اپنے ماں باپ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔‘‘

      اسی قسم کے مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہی تنبیہ سورۂ توبہ میں یوں فرمائی گئی ہے:

      یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا آبَآءَ کُمْ وَإِخْوَانَکُمْ أَوْلِیَآءَ إَنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الإِیْمَانِ وَمَن یَتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمْ فَأُولٰٓئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْنَ ۵ قُلْ إِنۡ کَانَ آبَاؤُکُمْ وَأَبْنَآؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَأَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَا أَحَبَّ إِلَیْْکُم مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہِ فَتَرَبَّصُوْا حَتَٰی یَأْتِیَ اللّٰہُ بِأَمْرِہِ وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ (التوبہ ۹: ۲۳-۲۴)
      ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وہ کفر کو ایمان پر ترجیح دیتے ہیں اور جو تم میں سے ان کو دوست بنائیں گے تو وہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔ کہہ دو، اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارا خاندان، تمہارا وہ مال جو تم نے کمایا، وہ کاروبار جس کی کساد بازاری کا تمہیں اندیشہ اور اور وہ مکانات جو تمہیں پسند ہیں۔ تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔ اور اللہ نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کرے گا۔‘‘

      آیت زیربحث میں ’یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ اس خوب صورتی سے بیچ میں آیا ہے کہ وہ آگے اور پیچھے آنے والے دونوں فعلوں کا ظرف بن گیا ہے۔
      ’وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ‘۔ یہ ایک دوسری تنبیہ ہے کہ اس مغالطہ میں نہ رہو کہ جو کچھ تم چھپا کر کرنے کی کوشش کر رہے ہو یہ اللہ سے بھی چھپا رہے گا۔ اللہ سے کوئی چیز بھی چھپی نہیں رہتی۔ تمہارا ہر عمل اس کی نگاہوں میں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (اِن سے بچو، اِس لیے کہ) تمھاری یہ قرابتیں اور تمھارے آل و اولاد ہرگز تمھارے کام نہ آئیں گے، قیامت کے دن، اللہ تمھارے درمیان جدائی ڈال دے گا، اور جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ لفظ اِس خوبصورتی کے ساتھ بیچ میں آیا ہے کہ آگے اور پیچھے آنے والے دونوں فعلوں کا ظرف بن گیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تمہارے لیے بہترین نمونہ تو ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ہے جب کہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور ان سے، جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، بالکل بری ہیں۔ ہم نے تمہارا انکار کیا اور ہمارے اور تمہارے مابین ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بیزاری آشکارا ہو گئی تاآنکہ تم اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ پر ایمان لاؤ۔ مگر ابراہیم کی اپنے باپ سے اتنی بات کہ میں آپ کے لیے مغفرت مانگوں گا اگرچہ میں آپ کے لیے اللہ کی طرف سے کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں رکھتا ۔۔۔ اے ہمارے رب، ہم نے تیرے اوپر بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع ہوئے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اسوۂ ابراہیمی کی پیروی کی تلقین: فرمایا کہ اس معاملے میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے تمہیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہارے جدّ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین قابل تقلید نمونہ پہلے سے موجود ہے۔ ’قَدْ کَانَتْ‘ کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ پہلے سے تمہارے سامنے ہے۔ یہ امر واضح رہے کہ اہل عرب کو اس بات پر ناز تھا کہ وہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی اولاد ہیں۔ انھیں ان کی ہجرت اور قربانی کی روایات کا بھی علم تھا۔ اگرچہ امتداد زمانہ سے ان پر گرد و غبار کی تہیں بھی جم گئی تھیں اور بدعات نے ان کے بعض پہلوؤں کو مسخ بھی کر دیا تھا تاہم یہ بات نہیں تھی کہ وہ ان سے بالکل ہی ناآشنا ہوں، جیسا کہ بعض مورخین نے گمان کیا ہے۔
      ’وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب ہجرت فرمائی ہے تو تنہا نہیں ہجرت فرمائی ہے بلکہ ان کی قوم کے کچھ لوگ جو ان پر ایمان لائے تھے، اس ہجرت میں ان کے ہم رکاب تھے۔
      حضرت ابراہیمؑ کا اعلان براء ت: ’اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ ..... الاٰیۃ‘۔ یہ اس اعلان براء ت کا حوالہ ہے جو حضرت ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں نے اپنی قوم کے سامنے کیا۔ انھوں نے ڈنکے کی چوٹ ان کو سنایا کہ ہم تم سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے، جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو، بالکل بری ہوئے۔ تمہارے مسلک و مذہب کا ہم نے انکار کیا اور اس اعلان براء ت کے بعد ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور نفرت اس وقت تک کے لیے آشکارا ہو گئی جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ۔
      ’وَبَدَا بَیْْنَنَا وَبَیْْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ‘۔ یعنی اب تک تو ہم نے تمہارے ساتھ اس لیے رعایت برتی کہ تمہیں دین کی دعوت پہنچا دیں لیکن اب جب کہ تم پر حجت قائم ہو چکی ہے اور تم اپنی ضلالت پر اڑے ہوئے ہو، ہم تم سے اعلان براء ت کر کے الگ ہو رہے ہیں۔ اب تمہارے ساتھ ہمارا تعلق کھلم کھلا عداوت ہی کا رہے گا الاّآنکہ تم اپنے شرک سے تائب ہو کر توحید کی دعوت قبول کر لو۔
      ’اِلَّا قَوْلَ إِبْرَاہِیْمَ لِأَبِیْہِ‘۔ عام طور پر ہمارے مفسرین نے سمجھا ہے کہ یہ ’اسوۂ حسنہ‘ سے استثناء ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ اعلان براء ت سے استثناء ہے۔ یعنی اس کھلم کھلا اعلان براء ت میں اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے ساتھ کوئی رعایت برتی تو صرف یہ کہ اپنے باپ سے انھوں نے یہ وعدہ کر لیا کہ میں آپ کے لیے اپنے رب سے مغفرت کی دعا کروں گا اگرچہ میں خدا کی طرف سے آپ کے معاملہ میں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ یعنی ہو گا تو وہی جو اللہ تعالیٰ چاہے گا تاہم میں دعا کروں گا۔
      اس رعایت کی وجہ، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے، یہ تھی کہ وہ نہایت درد مند اور بردبار تھے، انھوں نے خیال فرمایا کہ اگر وہ اپنے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں تو یہ چیز اس اعلان براء ت کے منافی نہیں ہو گی جو وہ اپنی قوم سے کر رہے ہیں بلکہ یہ اس برّ و احسان کا مقتضیٰ ہے جو ہر بیٹے پر اس کے والدین کا ایک واجبی حق ہے۔ اس وقت تک ان کو یہ اندازہ بھی پورا پورا نہیں تھا کہ دین کے ساتھ باپ کی دشمنی کس درجے کی ہے۔ انھوں نے خیال فرمایا کہ باپ کا سارا غصہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنے زعم کے مطابق اپنے بیٹے کو ایک گمراہی سے بچانا چاہتا ہے لیکن جب ان پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ ان کا باپ اللہ کے دین کا کٹر دشمن ہے تو انھوں نے اس سے کلیۃً اعلان براء ت کر دیا۔
      ’وَمَا أَمْلِکُ لَکَ مِنَ اللہِ مِنۡ شَیْءٍ‘۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے وعدۂ مغفرت کے ساتھ ہی توحید کی اصل حقیقت بھی واضح فرما دی کہ مجھے جو اختیار حاصل ہے صرف اتنا ہی ہے کہ میں تمہارے لیے مغفرت کی دعا کروں۔ رہا تمہارا بخشا جانا یا نہ بخشا جانا تو یہ کلیۃً اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس معاملے میں مجھے کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ کسی کے لیے استغفار اس کے حق میں ایک قسم کی سفارش ہے۔ اس سفارش کے معاملے میں جب حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ جیسے جلیل القدر پیغمبر اپنی اس بے اختیاری کا اظہار فرماتے ہیں تو تابہ دیگراں چہ رسد!
      مرحلۂ ہجرت کی دعا: ’رَبَّنَا عَلَیْْکَ تَوَکَّلْنَا وَإِلَیْْکَ أَنَبْنَا وَإِلَیْْکَ الْمَصِیْرُ‘۔ اس دعا کا تعلق اعلان براء ت سے ہے۔ بیچ میں ’اِلَّا قَوْلَ إِبْرَاہِیْمَ‘ کا ٹکڑا جملہ معترضہ کے طور پر آ گیا تھا۔ اس کے ختم ہوتے ہی وہ دعا نقل ہوئی ہے جو اس نازک موقع پر حضرت ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ دوسرے مقامات میں ہم اس حقیقت کی وضاحت کر چکے ہیں کہ اعلان براء ت کے بعد لازماً پیغمبر اور اس کے ساتھیوں کے لیے ہجرت کا مرحلہ آ جاتا ہے۔ یہ مرحلہ نہایت کٹھن ہوتا ہے۔ اپنی پوری قوم سے ابدی دشمنی اور بیزاری کا اعلان کر کے الگ ہو جانا کوئی سہل بازی نہیں ہے اس وجہ سے ہر رسول نے اپنی ہجرت کے وقت اپنا اور اپنے ساتھیوں کا معاملہ اپنے رب کے حوالے کیا ہے۔ ہجرت کے وقت اسی طرح کی دعا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمائی اور اسی طرح کی دعا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی منقول ہے۔ یہ دعا اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ بندے کا نیک سے نیک ارادہ بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی سے انجام پاتا ہے اس وجہ سے ہر قدم اسی کی مدد کے بھروسے پر اٹھانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی آزمائشوں میں وہی سرخ رو ہوتے ہیں جن کے دل ہر وقت اس کی طرف جھکے رہتے ہیں اور جن کے اندر یہ یقین راسخ ہوتا ہے کہ بالآخر ان کو ایک دن اپنے رب ہی کی طرف پلٹنا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (تم سمجھنا چاہو تو) حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم اور اُس کے ساتھیوں میں تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے، جب اُنھوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ ہم تم سے اور تمھارے اِن معبودوں سے، جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، بالکل بری ہیں۔ ہم تمھارے منکر ہیں اور ہمارے اور تمھارے درمیان (اب)ہمیشہ کے لیے عداوت اور بے زاری ظاہر ہو گئی ہے، یہاں تک کہ تم اللہ واحد پر ایمان لے آؤ ۔۔۔ اتنی بات کے سوا جو ابراہیم نے اپنے باپ سے کہی تھی کہ میں آپ کے لیے مغفرت کی دعا ضرورکروں گا، اگرچہ اللہ کی طرف سے میں آپ کے لیے کسی چیز پر زور نہیں رکھتا ۔۔۔(پھر اُس نے اور اُس کے ساتھیوں نے دعا کی تھی کہ) پروردگار، ہم نے تجھ پر بھروسا کیا ہے اور تیری طرف رجوع ہوئے ہیں اور ہم کو تیرے ہی حضور میں پلٹ کر آنا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ‘۔ یہ اسلوب بتاتا ہے کہ جو بات سنائی جا رہی ہے ، وہ پہلے سے لوگوں کے سامنے ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اہل عرب کو اِس بات پر ناز تھا کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ اُنھیں اُن کی ہجرت اور قربانی کی روایات کابھی علم تھا۔ اگرچہ امتداد زمانہ سے اُن پر گردوغبار کی تہیں بھی جم گئی تھیں اور بدعات نے اُن کے بعض پہلوؤں کو مسخ بھی کر دیا تھا۔ تاہم یہ بات نہیں تھی کہ وہ اُن سے بالکل ہی ناآشنا ہوں۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۳۲۸)

      اِس کے بعد ’وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت ابراہیم نے ہجرت فرمائی تو اُن کے ساتھ وہ لوگ بھی تھے جو اُن کی قوم میں سے اُن پر ایمان لے آئے تھے۔
      یعنی جو کچھ تم مانتے ہو، اُس کے منکر ہیں۔
      اتمام حجت کے بعد یہ اعلان براء ت ہر پیغمبر نے اپنی قوم سے کیا ہے۔ اِس کے بعد دعوت و تذکیر کا تعلق اصلاً ختم ہو جاتا ہے اور رسول کے منکرین کو صاف بتا دیاجاتا ہے کہ اُن کے اور رسول کے ساتھیوں کے درمیان موالات اور محبت کا کوئی تعلق اب قائم نہیں رہ سکتا۔ وہ خدا اور خدا کے دین کے دشمن ہیں تو اِدھر سے بھی اُن کے لیے عداوت اور بے زاری کا اعلان ہے، یہاں تک کہ شرک سے توبہ کرکے وہ توحید کی دعوت قبول کر لیں۔
      یہ اعلان براء ت سے استثنا ہے۔ یعنی اِس کھلم کھلا اعلان براء ت میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اُن کے ساتھ اگر کوئی رعایت برتی تو صرف یہ کہ اپنے باپ سے مغفرت کی دعا کا وعدہ کر لیا۔ اِس رعایت کی وجہ کیا تھی؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’اِس رعایت کی وجہ ، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے، یہ تھی کہ وہ نہایت دردمند اور بردبار تھے، اُنھوں نے خیال فرمایا کہ اگر وہ اپنے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں تو یہ چیز اُس اعلان براء ت کے منافی نہیں ہو گی جو وہ اپنی پوری قوم سے کر رہے ہیں، بلکہ یہ اُس برواحسان کا مقتضٰی ہے جو ہر بیٹے پر اُس کے والدین کا ایک واجبی حق ہے۔ اُس وقت تک اُن کو یہ اندازہ بھی پورا پورا نہیں تھا کہ دین کے ساتھ باپ کی دشمنی کس درجے کی ہے۔ اُنھوں نے خیال فرمایا کہ باپ کا سارا غصہ اِس وجہ سے ہے کہ وہ اپنے زعم کے مطابق اپنے بیٹے کو ایک گمراہی سے بچانا چاہتا ہے، لیکن جب اُن پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ اُن کا باپ اللہ کے دین کا کٹر دشمن ہے تو اُنھوں نے اُس سے کلیتاً اعلان براءت کر دیا۔‘‘(تدبر قرآن ۸/ ۳۲۹)

      یعنی میرے پاس بھی اِس سے زیادہ کوئی اختیار نہیں ہے کہ آپ کے لیے مغفرت کی دعا کروں۔ اِسے قبول کرنا یا نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ میں اُس میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا۔

       

    • امین احسن اصلاحی اے ہمارے رب، ہم کو ان لوگوں کا تختۂ مشق نہ بننے دینا جنھوں نے کفر کیا ہے اور اے ہمارے رب، ہم کو بخش، بے شک تو عزیز و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ بھی اسی دعا کا حصہ ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ ’فِتْنَۃ‘ یہاں ہدف فتنہ کے معنی میں ہے اور اس سے مراد کفار کی وہ اذیتیں ہیں جو مسلمانوں کو وہ پہنچا سکتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تو تیری توحید کی غیرت و حمیت میں ان مشرکوں سے اعلان براء ت و عداوت کر دیا۔ اب ان کی طرف سے جو کچھ پیش آئے ہم اس کے لیے سینہ سپر ہیں۔ لیکن ہمارا بھروسہ تیری مدد پر ہے۔ ان کو اتنی ڈھیل نہ دینا کہ وہ ہم کو اپنے مظالم کا تختۂ مشق بنا لیں۔
      ’وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا‘۔ اے ہمارے رب ہماری کمزوریوں اور ہمارے گناہوں کو بخش۔ ہمارے گناہ اس بات کا سبب نہ بن جائیں کہ ہمارے دشمن ہمیں کمزور پا کر اپنی ستم رانیوں کا ہدف بنا لیں۔ اس فقرے میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ہمیں کوئی آزمائش پیش آئی تو وہ ہمارے اپنے ہی اعمال کی پاداش میں پیش آئے گی اور تیرے اختیار میں سب کچھ ہے۔ تو ہمارے گناہوں کو بخش دے تو ہم ان کے وبال سے بچ جائیں گے۔
      ’إِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘۔ یہ کامل تفویض کا کلمہ ہے۔ تو ہر چیز پر غالب ہے۔ جو چاہے کر سکتا ہے۔ کوئی تیرا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔ ساتھ ہی تو حکیم بھی ہے۔ تیرا ہر کام حکمت پر مبنی ہوتا ہے اس وجہ سے ہم اپنا معاملہ کلیۃً تیرے حوالے کرتے ہیں۔ تو جو کرے گا اسی میں خیر اور اسی میں حکمت و مصلحت ہے۔

      جاوید احمد غامدی پروردگار، اِن منکروں کو ہم پر نہ آزما اور ہم سے درگذر فرما،اے ہمارے پروردگار۔ بے شک، تو ہی زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’فِتْنَۃ‘ ہدف فتنہ کے معنی میں ہے اور اِس سے مراد وہ اذیتیں ہیں جو منکرین حق مسلمانوں کو پہنچا سکتے تھے۔
      اِس طرح کی دعا ہجرت و براء ت کے موقع پر ہر پیغمبر نے کی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ دعا اِس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ بندے کا نیک سے نیک ارادہ بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی سے انجام پاتا ہے، اِس وجہ سے ہر قدم اُسی کی مدد کے بھروسے پر اٹھانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی آزمایشوں میں وہی سرخ رو ہوتے ہیں جن کے دل ہر وقت اُس کی طرف جھکے رہتے ہیں اور جن کے اندر یہ یقین راسخ ہوتا ہے کہ بالآخر اُن کو ایک دن اپنے رب ہی کی طرف پلٹنا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۸/ ۳۳۰)

       

    • امین احسن اصلاحی بے شک تمہارے لیے ان لوگوں کے اندر بہترین نمونہ ہے۔ ان کے واسطے جو خدا اور آخرت کے متوقع ہیں۔ اور جو اعراض کریں گے تو یاد رکھیں کہ اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک برمحل تنبیہ: یہ ’قَدْ کَانَتْ لَکُمْ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ‘ سے بدل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے اس اعلان براء ت و عداوت میں نمونہ تو بے شک نہایت بہترین ہے لیکن ان کے اس اسوہ کی پیروی کرنا ہر بوالہوس کا کام نہیں ہے۔ اس کا حوصلہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اللہ کی نصرت کی امید بھی رکھتے ہوں اور آخرت کے ظہور کے بھی متوقع ہوں۔ جن کے اندر یہ دونوں باتیں راسخ نہ ہوں وہ یہ بازی نہیں کھیل سکتے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے گھر در، اموال و املاک، وطن اور قوم ہر چیز سے دست بردار ہو کر اٹھ کھڑے ہونا صرف انہی کے لیے ممکن ہے جو اپنے اس اقدام میں ہر قدم پر خدا کی نصرت کے متوقع ہوں اور جن کا اصل بھروسہ اس دنیا کے مال و متاع پر نہیں بلکہ آخرت کے فضل و انعام پر ہو۔ اس آیت سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو کر سامنے آ گئی کہ ہجرت کی راہ میں اصل زاد راہ کیا ہے اور یہ بات بھی معلوم ہو گئی کہ جن لوگوں سے اس مرحلے میں کمزوریاں صادر ہو رہی تھیں ان کی کمزوریوں کی تہ میں کیا چیز چھپی ہوئی تھی۔
      ’وَمَنْ یَتَوَلَّ فَإِنَّ اللہَ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ‘۔ یہ ان لوگوں کو تنبیہ ہے کہ فلاح کا راستہ یہی ہے کہ تم ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے اسوہ کی پیروی کرو ورنہ یاد رکھو کہ جو اس سے اعراض کریں گے اللہ کو ان کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ سب سے مستغنی اور خود اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔ اس کی خدائی دوسروں کے بل پر نہیں بلکہ خود اس کے اپنے بل پر قائم و دائم ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِن لوگوں میںیقیناًتمھارے لیے بہترین نمونہ ہے، (تم میں سے) ہر اُس شخص کے لیے جو خدا اور آخرت کی امید رکھتا ہے۔ ( اِس نمونے کی پیروی کرو) اور (یاد رکھو کہ) جو اعراض کریں گے، (اللہ کو اُن کی کچھ پروا نہیں)، اِس لیے کہ اللہ بے نیاز ہے، وہ اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ ’قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ‘ سے بدل ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...مطلب یہ ہے کہ تمھارے لیے ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے ساتھیوں کے اِس اعلان براء ت و عداوت میں نمونہ تو بے شک نہایت بہترین ہے، لیکن اُن کے اِس اسوہ کی پیروی کرنا ہر بوالہوس کا کام نہیں ہے۔ اِس کا حوصلہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اللہ کی نصرت کی امید بھی رکھتے ہوں اور آخرت کے ظہور کے بھی متوقع ہوں ۔ جن کے اندر یہ دونوں باتیں راسخ نہ ہوں، وہ یہ بازی نہیں کھیل سکتے۔‘‘ (تدبرقرآن۸/ ۳۳۰)

       

    • امین احسن اصلاحی توقع ہے کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تم نے دشمنی کی، دوستی پیدا کر دے۔ اللہ قدرت والا اور غفور رّحیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک عظیم بشارت: یہ ایک بہت بڑی بشارت ہے کہ آج اگر تم جی کڑا کر کے اپنے ان اقرباء سے اپنی دشمنی کا اعلان کر دو گے تو یہ نہ خیال کرو کہ یہ دشمنی ہمیشہ ہی رہے گی بلکہ امکان اس کا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دشمنی کو محبت سے بدل دے اور جن سے آج تمہیں عداوت کرنی پڑ رہی ہے وہ ایمان و اسلام کی توفیق سے بہرہ مندہ ہو کر تم سے گلے ملیں۔
      ’وَاللہُ قَدِیْرٌ وَاللہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ‘۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ وہ چاہے تو جانی دشمنوں کو جگری دوست بنا دے۔ اور اللہ غفور رّحیم ہے۔ وہ لوگوں کو عذاب میں ڈالنے کے بہانے نہیں ڈھونڈتا بلکہ مغفرت و رحمت سے نوازنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ اس کے کٹر سے کٹر دشمنوں سے متعلق بھی یہ گمان نہیں رکھنا چاہیے کہ وہ ہمیشہ دشمن ہی رہیں گے، کیا عجیب اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے لیے بھی توفیق خیر کی راہ کھول دے۔
      یہاں ’غَفُورٌ رَّحِیْمٌ‘ کی صفت کے حوالے سے بشارت کا یہ پہلو بھی ہے کہ اب تک جو لوگ اللہ کے ان دشمنوں سے خفیہ روابط رکھتے ہیں اس تنبیہ کے بعد اگر وہ چوکنّے ہو گئے اور اپنی روش کی انھوں نے اصلاح کر لی تو اللہ تعالیٰ غفور رّحیم ہے، وہ ان کی ان کمزوریوں کو معاف کر دے گا۔
      ہجرت کا ایک نفسیاتی پہلو: اس آیت میں اہل مکہ کے قبول ایمان کی جو بشارت ہے اس کی ایک خاص نفسیاتی وجہ بھی ہے جو یہاں ملحوظ رکھنے کی ہے۔ وہ یہ کہ جب انھوں نے دیکھا کہ ان کے بہت سے بھائی بہن، عزیز قریب محض دین کی خاطر اپنے گھر در، اپنے اہل و عیال اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر ان سے جدا ہو رہے ہیں درآنحالیکہ یہ لوگ ہر اعتبار سے ان کے اندر کے بہترین اشخاص تھے تو وہ سونچنے لگ گئے کہ اس دعوت کا مقابلہ ظلم و تعدی سے کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ ہمیں خود اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے۔ شاید اسی کتاب میں یا اپنے کسی اور مضمون میں ہم نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عمرؓ جیسے عظیم شخص کو جس چیز نے سب سے پہلے اسلام کی طرف مائل کیا وہ کچھ مظلوم مردوں اور عورتوں کی حبشہ کی طرف ہجرت ہے۔ ہجرت کا یہ اثر ہر حساس مرد اور عورت پر پڑنا لازمی تھا چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہجرت کے بعد قبول اسلام کی رفتار بہت تیز ہو گئی۔ اس عمل کو اپنی فطری رفتار پر قائم رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ مہاجرین میں سے کوئی گروہ اہل مکہ کے آگے اپنی کمزوری کا اظہار نہ کرتا۔ اگر ان کی طرف سے کسی کمزوری کا اظہار ہوتا تو اہل مکہ یہ خیال کرتے کہ مسلمان ہجرت تو کر گئے لیکن اب وہ اپنے اقدام پر پچھتا رہے ہیں اور ہم سے دوستانہ و نیاز مندانہ روابط قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ چیز ان کے اندر بھی اسلام کے احساس کو دبا دیتی اور مکہ میں گھرے ہوئے دوسرے مظلوم مسلمانوں کے حوصلے بھی پست کر دیتی۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کمزوری پر شدت سے گرفت کی اور لوگوں کو متنبہ کیا کہ دین کے دشمنوں کے ساتھ روابط نہ بڑھاؤ۔ آج اگر کفر میں لتھڑے ہوئے لوگوں کو سینے سے لگاؤ گے تو یہ تمہارے لیے موجب ہلاکت ہوں گے۔ البتہ اگر ان سے دشمنی پر جمے رہے تو توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو مسلمان بنا کر تمہارا دوست بنائے۔ چنانچہ یہ بشارت اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی اور فتح مکہ کے وقت خلق نے ’یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللَّہِ أَفْوَاجًا‘ (النصر ۱۱۰: ۲) کا منظر اپنی آنکھوں دیکھ لیا۔

      جاوید احمد غامدی (تم ایمان پر قائم رہے تو) بعید نہیں کہ اللہ تمھارے اور اُن لوگوں کے درمیان دوستی پیدا کر دے ، جن سے (آج )تم نے عداوت مول لی ہے۔ اللہ بڑی قدرت والا ہے، اور اللہ غفور و رحیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ایمان پر استقامت بسا اوقات خود ایک ذریعۂ دعوت بن جاتی ہے۔ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص محض دین کی خاطر اپنے بھائی بہن، اعزہ و اقربا، دوست احباب، بلکہ اپنے اہل و عیال کو بھی چھوڑنے کے لیے تیار ہو گیا ہے تو سوچنے لگتے ہیں کہ اِس دعوت میں کیا چیز ہے جو اِس درجہ استقامت کا باعث بن گئی ہے۔ چنانچہ بات کو سننے اور اُس پر غور کرنے کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں، اور یہی چیز اُن کی دشمنی کو دوستی میں بدل دیتی ہے۔
      یعنی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اِس لیے چاہے تو جانی دشمنوں کو جگری دوست بنا دے۔ اِس کے ساتھ غفور و رحیم بھی ہے، لہٰذا ہر وقت منتظر رہتا ہے کہ لوگ آگے بڑھیں تو اُنھیں اپنی مغفرت کے دامن میں سمیٹ لے، اُن کی کمزوریوں کو معاف کرے اور آگے اُن کے لیے توفیق خیر کی راہیں کھول دے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنھوں نے دین کے معاملے میں نہ تم سے جنگ کی ہے اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ممانعت کے حدود کی تعیین: ’برّ‘ کی تحقیق سورۂ بقرہ کی آیت ۴۴ کی تفسیر کے تحت گزر چکی ہے۔؂۱ اس کے معنی صلۂ رحم، احسان اور ادائے حقوق کے ہیں۔ ’اقساط‘ کے معنی عدل و انصاف کرنے کے ہیں۔ یعنی جس کا جو حق واجب ہے وہ پورا پورا ادا کیا جائے، اس میں کوئی کمی بیشی نہ کی جائے۔
      فرمایا کہ تمہیں یہ حکم جو دیا گیا ہے کہ

      ’لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَآءَ‘ (۱)
      (میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ)

      تو اس سے مقصود یہ نہیں ہے کہ تم ان کفار کے ساتھ احسان اور عدل بھی نہ کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں نہ تم سے جنگ کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا۔ ممانعت جس چیز کی کی جا رہی ہے وہ، جیسا کہ آگے والی آیت میں تصریح آ رہی ہے، موالات کی ہے نہ کہ عدل و احسان کی اور یہ ممانعت بھی تمام کفار کے حق میں نہیں بلکہ صرف ان کے حق میں ہے جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی اور تم کو جلاوطن کیا۔
      ’دین‘ کی قید سے مقصود اس حقیقت کو ظاہر کرنا ہے کہ یہاں زیربحث وہ نزاعات نہیں ہیں جو خاندانی و قومی مفادات کے تصادم سے آپس میں پیدا ہو جایا کرتی ہیں بلکہ صرف وہ جنگ مراد ہے جو محض دین کی مخالفت میں کفار نے برپا کی اور جس سے مقصود ان کا لوگوں کو اللہ واحد کی بندگی سے روکنا تھا۔ دین تمام اہل ایمان کی مشترک متاع ہے اور اسی پر ان کی نجات و فلاح کا انحصار ہے اس وجہ سے کوئی مسلمان دین کے دشمنوں کے ساتھ دوستی رکھتا ہے تو وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹا ہے۔
      ایک سوال اور اس کا جواب: ’اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ‘۔ یہ انصاف کرنے والوں کی حوصلہ افزائی فرمائی کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اوپر جب ’برّ‘ اور ’قسط‘ دو چیزوں کا ذکر آیا ہے تو مناسب تھا کہ یہاں دونوں نیکیوں کے کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی، صرف عدل کرنے والوں ہی کی محبوبیت کا ذکر کیوں آیا؟ میرے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ صلۂ رحم وغیرہ کے قسم کی نیکیاں نفس پر اتنی بھاری نہیں ہیں جتنی عدل و انصاف کے قسم کی نیکیاں ہیں، بالخصوص جب کہ ان کا تعلق کفار سے ہو۔ کمزوروں کو سہارا دے دینا، محتاجوں کی مدد کر دینا اور اپنے کافر ماں باپ کے ساتھ صلۂ رحم کر دینا زیادہ مشکل کام نہیں ہیں۔ انسانی فطرت کے اندر ان کے لیے نہایت قوی محرکات موجود ہیں لیکن عدل و انصاف کا حق ادا کرنا اور وہ بھی اپنے دشمنوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں، کوئی سہل بازی نہیں ہے۔ اس وجہ سے قرآن نے ان لوگوں کو اپنی محبوبیت کا خاص مقام بخشا جو یہ بازی کھیلیں گے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ قیام عدل و قسط اس امت کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔ جو لوگ دوست اور دشمن دونوں کے ساتھ یکساں انصاف کریں گے وہی اس امت کے گل سرسبد ہیں اور وہی اللہ کو محبوب ہیں۔ یہ حق ادا کیے بغیر دوسری نیکیاں بالکل بے اثر ہو کر رہ جاتی ہیں۔
      _____
      ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن جلد اول، صفحات ۱۴۳-۱۴۴۔

      جاوید احمد غامدی اللہ تمھیں اِس بات سے نہیں روکتا کہ تم اُن لوگوں کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ بے شک، اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’اَلْبِّر‘ آیا ہے ۔ عربی زبان میں یہ صلۂ رحم، عدل و احسان اور اداے حقوق کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
      یعنی اگر کسی دنیوی معاملے میں تمھارا اُن سے کوئی خاندانی ، قبائلی یا قومی جھگڑا ہے تو وہ الگ بات ہے۔ دین و اخلاق کے عام اصولوں کی روشنی میں تم اُس کے بارے میں جو فیصلہ چاہے، کر سکتے ہو، لیکن دین کا جھگڑا نہیں ہے تو اللہ کسی بات سے نہیں روکتا ۔
      اِس میں شبہ نہیں کہ اللہ بھلائی کرنے والوں کو بھی پسند کرتا ہے، لیکن اِس کے محرکات چونکہ انسانی فطرت میں ہیں، لہٰذا انسان محتاج کی مدد کرنے، کمزور کو سہارا دینے اور اعزہ و اقربا سے صلۂ رحمی کے لیے آسانی کے ساتھ آمادہ ہو جاتا ہے۔ انصاف کا معاملہ، البتہ مشکل ہے۔ اپنے دشمنوں کے ساتھ انصاف کرنا کوئی آسان بازی نہیں ہے، اِس لیے بطور خاص فرمایا ہے کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ بس ان لوگوں سے تم کو موالات کرنے سے روکتا ہے جنھوں نے تمہارے ساتھ دین کے معاملے میں جنگ کی ہے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے نکالنے میں مدد کی ہے۔ اور جو اس طرح کے لوگوں سے دوستی کریں گے تو وہ اپنے ہی اوپر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      روکا کن سے اور کس چیز سے گیا ہے؟ یہ صراحت کے ساتھ بتا دیا کہ اللہ تم کو کن لوگوں سے روکتا ہے اور خاص طور پر کس چیز سے روکا ہے۔ فرمایا کہ روک ان لوگوں سے رہا ہے جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی ہے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے یا تمہارے نکالنے میں تمہارے دشمنوں کی مدد کی ہے۔ اور روک جس چیز سے رہا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ان کو اپنا دوست بناؤ۔ دوست بنانے سے مقصود ظاہر ہے کہ یہی ہو سکتا ہے کہ تم ملت کے مفاد سے قطع نظر کر کے کسی معاملے میں اپنا دست تعاون اس غرض سے ان کو پیش کرو کہ وہ تمہاری کوئی ذاتی غرض پوری کرنے کا ذریعہ بنیں۔
      اس آیت پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس میں جو حضر ہے اس کا زور ’اَنْ تَوَلَّوْہُمْ‘ پر ہے یعنی ممنوع جو چیز ہے وہ ’تَوَلّی‘ یعنی ان کفار کو دوست اور کارساز بنانا ہے نہ کہ ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنا۔
      نیکی ایک یک طرفہ عمل ہے۔ اس کا انحصار اس شخص کے رویہ پر نہیں ہوتا جس کے ساتھ نیکی کی جاتی ہے۔ ایک شخص حاجت مند ہے تو ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم اس کی مدد کریں، خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان۔ اور ہمارے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس سے نہ کسی شکریہ کے طالب ہوں نہ کسی صلہ کے ’لَا نُرِیْدُ مِنۡکُمْ جَزَآءً وَلَا شُکُوْرًا‘ (الدہر ۷۶: ۹)۔ یہاں تک کہ اگر کسی سبب سے اس کے خلاف ہمارے دل میں عداوت بھی ہو جب بھی ہمارے لیے صحیح رویہ یہی ہے کہ ہم اس کے ساتھ نیکی کریں۔ اس طرح کی نیکی کا ہم کو، جیسا کہ قرآن و حدیث میں تصریح ہے، زیادہ ثواب ملے گا۔
      رہا عدل و قسط کا معاملہ تو اس کی بنیاد قانون، معاہدے اور معروف پر ہوتی ہے۔ اس میں کافر و مومن یا دوست و دشمن کے امتیاز کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ قانون اور معاہدے کا جو تقاضا ہو گا وہ بہرحال پورا کرنا ہو گا اس سے بحث نہیں کہ معاملہ دوست کا ہے یا دشمن کا۔ آگے کفار قریش کے ساتھ چند نزاعات کا فیصلہ آ رہا ہے اور اس میں آپ دیکھیں گے کہ کس طرح قرآن نے بے لاگ فیصلہ کیا ہے اور اسی بے لاگ فیصلہ پر عمل کرنے کی مسلمانوں کو تاکید فرمائی ہے۔
      ’وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ فَأُولٰٓئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْنَ‘۔ یعنی اس تنبیہ کے بعد بھی جو مسلمان ان کافروں سے موالات کریں گے وہ یاد رکھیں کہ نہ وہ خدا کا کچھ بگاڑیں گے نہ اسلام کا بلکہ وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔

      جاوید احمد غامدی اللہ جس بات سے تم کو روکتا ہے، وہ یہ ہے کہ تم اُن لوگوں سے دوستی کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہے اور تمھارے نکالنے میں (دوسروں کی) مدد کی ہے۔ (وہ اِس سے روکتا ہے اور تمھیں متنبہ کرتا ہے کہ) جو اِس طرح کے لوگوں سے دوستی کریں گے، وہی ظالم ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں جوحصر ہے، اُس کا سارا زور اِسی لفظ پر ہے۔ یعنی ممنوع صرف دوستی ہے جو ذاتی مفادات اور خاندانی، قبائلی اور قومی تعصبات کو دین و ملت پر ترجیح دینے کا باعث بن جاتی ہے۔ نیکی اور انصاف ممنوع نہیں ہے۔ اِس کا اہتمام تو ہر حالت میں ہو گا۔ اِس میں دوست، دشمن اور کافر و مومن کے امتیاز کا کوئی سوال نہیں ہے۔ بر و تقویٰ اور قیام بالقسط ایمان کا تقاضا ہے۔ اِسے کوئی بندۂ مومن کسی حال میں بھی پس پشت نہیں ڈال سکتا۔
      لفظ ’الظّٰلِمُوْنَ‘ یہاں ’الظّٰلِمُوْنَ لِاَنْفُسِھِمْ‘ کے معنی میں ہے۔ یعنی وہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہوں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کی تحقیق کرو، یوں اللہ تو ان کے ایمان سے اچھی طرح واقف ہی ہے، پس اگر تم ان کو مومنہ پاؤ تو ان کو کفار کی طرف نہ لوٹاؤ، نہ وہ عورتیں ان کے لیے جائز ہیں اور نہ وہ ان عورتوں کے لیے جائز ہیں۔ اور انھوں نے جو کچھ خرچ کیا ہو وہ ان کو ادا کر دو اور تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم ان سے نکاح کر لو بشرطیکہ ان کے مہر ان کو ادا کرو۔ اور کافرہ عورتوں کی عصمتوں پر قابض نہ رہو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا اس کا مطالبہ کرو اور وہ بھی مطالبہ کریں اس کا جو انھوں نے خرچ کیا ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو وہ تمہارے درمیان کر رہا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مکہ سے ہجرت کر کے آنے والی عورتوں سے متعلق تحقیق کی ہدایت: مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی کہ جو مسلمان عورتیں دارالکفر سے ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں ان کو کفار کی طرف واپس کرنے کی ذمہ داری تو، جیسا کہ اوپر تمہیدی بحث میں اشارہ گزرا، تم پر نہیں ہے لیکن ان کے کفر و ایمان کی تحقیق کیے بغیر یوں ہی اپنے گھروں میں ان کو مفت کا مال سمجھ کر ڈال لینا بھی جائز نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ جو عورتیں آئیں ان کے باب میں اچھی طرح تحقیق کر لی جائے کہ فی الواقع ان کی ہجرت اسلام ہی کے لیے ہے یا کوئی اور غرض ان کے اس نقل مکان کا سبب ہوئی ہے۔ اگر تحقیق سے اطمینان ہو جائے کہ ان کی ہجرت اسلام ہی کے لیے ہے تب تو ان کو واپس کرنا جائز نہیں ہے، لیکن یہ اطمینان وہ نہ دلا سکیں تو پھر ان کو روکنا بھی جائز نہیں ہے اس لیے کہ اسلامی معاشرہ طیبوں اور طیبات کا معاشرہ ہے، خبیثوں اور خبیثات کا معاشرہ نہیں ہے۔
      اس امتحان و تحقیق کی نوعیت حضرت ابن عباسؓ کی ایک روایت سے واضح ہوتی ہے جو اس طرح نقل ہوئی ہے:

      سئل ابن عباس کیف کان امتحان رسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) النساء. قال کان یمتحنھن باللّٰہ ما خرجت من بغض الزوج و باللّٰہ ما خرجت رغبۃ عن ارض الی ارض و باللّٰہ ما خرجت التماس دنیا و باللّٰہ ما خرجت الّا حبّا للّٰہ ورسولہ.
      ’’ابن عباسؓ سے سوال کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی تحقیق کس طرح فرماتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ آپ قسم لیتے تھے کہ خدا کی قسم وہ شوہر سے بیزار ہو کر نہیں نکلی ہیں، خدا کی قسم محض جگہ کی تبدیلی کے شوق میں نہیں نکلی ہیں، خدا کی قسم کوئی اور دنیوی غرض بھی اس نکلنے کا محرک نہیں ہوئی ہے، خدا کی قسم وہ محض اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں نکلی ہیں۔‘‘

      ’اَللہُ أَعْلَمُ بِإِیْمَانِہِنَّ‘۔ یہ ایک جملہ معترضہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم قَسم اور دوسرے قرائن و حالات سے جس حد تک تحقیق کر سکتے ہو کرنے کی کوشش کرو۔ رہی اصل حقیقت تو وہ اللہ کو خوب معلوم ہے۔ اگر کوشش کے باوجود تم صحیح نتیجہ تک نہ پہنچ سکے تو عند اللہ تم معذور ہو اور اگر انھوں نے تم کو دھوکا دیا تو یاد رکھیں کہ اللہ ان کے ایمان و کفر سے اچھی طرح آگاہ ہے۔
      ’فَإِنْ عَلِمْتُمُوۡہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوۡہُنَّ إِلَی الْکُفَّارِ‘۔ یعنی میسر ذرائع تحقیق سے اگر یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جائے کہ وہ مومنہ ہیں تو ان کو کفار کے حوالہ نہ کرو، اس لیے کہ نہ وہ کفار کے لیے جائز ہیں اور نہ کفار ان کے لیے جائز ہیں بلکہ دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے حرام ہیں۔
      منصفانہ فیصلہ: اس حکم سے قرآن نے اس نزاع کا فیصلہ کر دیا جو معاہدۂ حدیبیہ کی دفعہ کے بارے میں پیدا ہو گئی تھی اور غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہ فیصلہ نہایت ہی منصفانہ ہے۔ اگر قرآن کا فیصلہ یہ بھی ہوتا کہ ازروئے معاہدہ کسی عورت کی بھی واپسی کے مسلمان پابند نہیں ہیں تو یہ بھی بے جا نہ ہوتا بلکہ یہ محض الفاظ سے فائدہ اٹھانے والی بات ہوتی۔ قرآن نے صرف الفاظ سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ ایک ایسا فیصلہ کیا جس کی ایک نہایت محکم عقلی و اخلاقی بنیاد ہے۔ یعنی ان عورتوں کو تو واپس کر دینے کی ہدایت فرمائی جن کی ہجرت اللہ و رسول کے لیے نہیں بلکہ کسی حقیر دنیوی مقصد کے لیے ہو البتہ جن کا مومنہ ہونا ثابت ہو جائے ان کو واپس کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ ایک ایسی اصولی بات ہے جس کا کوئی عاقل انکار نہیں کر سکتا۔ انسان اپنی ایک عقلی و اخلاقی ہستی رکھتا ہے اس وجہ سے یہ اس کے اوپر صریح ظلم ہے کہ اس کو کسی ایسے معاشرے کے ساتھ بندھے رہنے پر مجبور کیا جائے جس کے اندر اس کا یہ اخلاقی و عقلی تشخص محفوظ نہ رہ سکے۔ بالخصوص عورتیں جنس ضعیف ہونے کے سبب سے اور بھی حق دار ہیں کہ ان کا تحفظ کیا جائے۔
      ’وَاٰتُوۡہُم مَّا أَنفَقُوۡا‘۔ یہ ایک اور منصفانہ بات کی ہدایت فرمائی کہ جو مومنہ روکی گئی ہے اگر وہ کسی کافر کی زوجیت میں رہی ہے تو مسلمانوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے شوہر نے جو مہر اس کو ادا کیا ہے وہ مسلمانوں کی طرف سے اس کو واپس کر دیا جائے۔ اس کے واپس کیے جانے کی عملی شکل یہی ہو گی کہ اس کی واپسی کا ذمہ دار بیت المال ہو گا۔ ’مَآ أَنفَقُوْا‘ کے الفاظ اگرچہ عام ہیں لیکن میاں بیوی کی جدائی کی صورت میں مہر ہی زیربحث آتا ہے اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ وہی مراد ہے۔
      ’وَلَا جُنَاحَ عَلَیْْکُمْ أَن تَنکِحُوہُنَّ إِذَا آتَیْْتُمُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ‘۔ یعنی ان مراحل کے طے ہو جانے کے بعد اگر کوئی مسلمان ان سے نکاح کرنا چاہے تو وہ بے تکلف کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ مہر ادا کرے۔ یعنی جو مہر سابق شوہر کو دیا گیا ہے اس کے علاوہ عورت کو بھی اس کا مہر دینا ہو گا جو نکاح کرنے والا ادا کرے گا۔
      ’لَا جُنَاحَ‘ کے الفاظ اس امر کے اظہار کے لیے ہیں کہ جو عورت اس طرح دارالاسلام میں آ کر اسلامی معاشرہ میں شامل ہو گئی اس کے ساتھ نکاح میں یہ چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی کہ وہ دارالکفر میں کسی کے نکاح میں رہی ہے یا اس کے ماں باپ یا دوسرے اولیاء ہیں جن کی اجازت کی ضرورت ہے۔ اب وہ اپنے کافر شوہر اور کافر اقرباء کی جملہ پابندیوں سے آزاد اور اسلامی شریعت کے حدود کے اندر اپنی مرضی کی آپ مالک ہو گی۔
      ایک اور فیاضانہ قدم: ’وَلَا تُمْسِکُوْا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ‘۔ ’عِصَم‘ جمع ہے ’عِصْمَۃ‘ کی۔ یہ اسی سلسلہ میں اسلام نے ایک اور قدم بھی نہایت فیاضانہ اور بالکل یک طرفہ اٹھایا کہ مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ تم میں سے جن کی بیویاں دارالکفر میں ہیں اور وہ اپنے کفر پر قائم ہیں ان کی عصمتوں کے مالک نہ بنے رہو بلکہ ان کو اپنے نکاح کی قید سے آزاد کر دو، وہ جس سے چاہیں نکاح کر لیں۔
      ’وَاسْأَلُوْا مَا أَنفَقْتُمْ وَلْیَسْأَلُوْا مَا أَنفَقُوْا‘۔ اس اعلان کے بعد گویا معاملہ کی شکل یہ ہوئی کہ جو عورتیں مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آ گئی ہیں ان کا نکاح ان کے کافر شوہروں کے ساتھ ختم اور جو عورتیں مسلمانوں کے نکاح میں تھیں لیکن وہ دارالکفر ہی میں رہ گئیں اور کفر ہی پر قائم ہیں ان کے نکاح مسلمانوں کے ساتھ کالعدم۔ رہا ان کے مہروں کا معاملہ تو ان کا مبادلہ اجتماعی طور پر کر لیا جائے۔ مسلمانوں نے جو مہر اپنی کافر بیویوں کو دیے وہ کفار مسلمانوں کو واپس کر دیں اور کفار نے جو مہر اپنی ان بیویوں کو دیے جو مسلمان ہو گئیں ان کے مہر مسلمان کفار کو واپس کریں۔
      ’ذٰلِکُمْ حُکْمُ اللہِ یَحْکُمُ بَیْْنَکُمْ وَاللَّہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ‘۔ یہ اَخیر میں واضح فرما دیا کہ یہ اس نزاع کا فیصلہ ہے جو عورتوں کی واپسی سے متعلق، معاہدۂ حدیبیہ کی تشریح میں، تمہارے اور قریش کے درمیان ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن نے قریش کے اس مطالبہ کو تو تسلیم نہیں کیا کہ معاہدہ کی رو سے مسلمانوں پر ان عورتوں کی واپسی لازمی ہے جو ہجرت کر کے ان کے پاس جائیں البتہ اس نزاع کا ایک معقول، مبنی بر انصاف اور جامع فیصلہ ایسا کر دیا جس سے اس وقت کی ایک بہت بڑی اجتماعی الجھن بھی دور ہو گئی اور آئندہ ابھرنے والے بعض جھگڑوں کا بھی سدباب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے اس وجہ سے بندوں کو چاہیے کہ اس کے فیصلوں پر اعتماد کریں۔

       

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، (اِسی رویے کا تقاضا ہے کہ) مسلمان عورتیں جب ہجرت کرکے تمھارے پاس آئیں تو اُن کی تحقیق کرو ۔۔۔ اللہ تو اُن کے ایمان سے واقف ہی ہے ۔۔۔ (لیکن تم تحقیق کرو)، پھر اگر معلوم ہو جائے کہ مومنہ ہیں تو اُنھیں اِن کافروں کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ یہ اُن کے لیے جائز ہیں اور نہ یہ کافر اِن عورتوں کے لیے جائز ہیں۔ اِن پر جو کچھ وہ خرچ کر چکے ہیں، وہ اُنھیں ادا کر دو اور تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اِن سے نکاح کر لو، بشرطیکہ اِن کے مہر اِنھیں ادا کرو۔ اور کافر عورتوں کے ناموس تم خود بھی اپنے قبضے میں نہ رکھو اور جو مہر تم نے اُنھیں دیے تھے، واپس مانگ لو اور جو اُنھوں نے دیے تھے، وہ بھی واپس مانگ لیں۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو وہ تمھارے درمیان کر رہا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جس رویے کی تلقین اوپر کی گئی ہے، اُس کا تقاضا ہے۔
      یعنی اِس بات کی تحقیق کرو کہ وہ اسلام قبول کرکے اور اسلام ہی کے لیے آئی ہیں یا کوئی اور دنیوی غرض، مثلاً شوہر سے بے زاری یا کسی سے محبت یا محض جگہ کی تبدیلی کا شوق اِس اقدام کا باعث بن گیا ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ اللہ کو کوئی دھوکا نہیں دے سکتا اور اُسے کسی تحقیق کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ یہ اگر جھوٹ بولیں گی تو اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گی، لیکن تمھارے لیے یہی کافی ہے کہ قسم اور دوسرے قرائن و حالات سے جو تحقیق کر سکتے ہو، کر لو۔ اِس کے بعد تم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
      یعنی اگر تحقیق سے معلوم ہو جائے کہ ایمان و اسلام نہیں، بلکہ کوئی دنیوی غرض اُن کے آنے کا محرک ہوئی ہے تو اُنھیں واپس کر دیا جائے۔ تزکیہ و تطہیر کے اِس مرحلے میں صرف سچے اہل ایمان ہی مدینے کے معاشرے میں قبول کیے جا سکتے ہیں، منکرین کے لیے یہاں کوئی گنجایش نہیں ہے۔
      یہ اُسی حکم کی فرع ہے جو اوپر بیان ہوا ہے کہ دین کے دشمنوں سے دوستی کا کوئی تعلق باقی نہیں رہنا چاہیے۔ میاں بیوی کا رشتہ اِسی تعلق سے وجود میں آتا اور اِسی بنا پر قائم رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اِن کافروں سے دوستی کے تمام رشتے منقطع کرنے کی ہدایت فرمائی تو اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر اُن عورتوں کے نکاح بھی ختم کر دیے جو اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے ہجرت کرکے مدینہ آگئی تھیں۔ اِس سے واضح ہے کہ یہ حکم اُنھی کافروں سے متعلق ہے جو معاندین ہوں اور دین کے دشمن بن کر اُس کی مخالفت پر اتر آئیں۔
      یہ مزید وضاحت ہے کہ جو عورتیں مسلمان ہو کر مدینہ آجائیں، اُن کے نکاح اُن کے سابق شوہروں کے ساتھ آپ سے آپ ختم ہو جائیں گے۔ اُنھیں کسی طلاق کی یا اولیا سے اجازت کی ضرورت نہ ہو گی۔ لہٰذا وہ اگر چاہیں تو اُن کے مہر واپس کرکے بغیر کسی تردد کے تم اُن کے ساتھ نکاح کر سکتے ہو۔
      یعنی جو مہر اُن کے سابق شوہروں نے دیا تھا، وہ بھی واپس کیا جائے گا اور نکاح کرنے والا عورت کو بھی اُس کے نکاح کا مہر ادا کرے گا۔
      یعنی جو عورتیں تمھارے نکاح میں تھیں، لیکن مکہ ہی میں رہ گئیں اور ابھی تک مسلمان نہیں ہوئیں، اُن کے نکاح بھی تمھارے ساتھ کالعدم ہیں۔ اُن کے عصمتوں کے مالک نہ بنے رہو، بلکہ اُنھیں اپنے نکاح کی قید سے آزاد کر دو۔ رہا اُن کے مہروں کا معاملہ تو اُن کا مبادلہ کر سکتے ہو۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے۔ اِس سے مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور کسی کا کوئی نقصان بھی نہ ہو گا۔
      یہ پورا حکم اُس قضیے کا فیصلہ بھی ہے جو معاہدۂ حدیبیہ کی ایک دفعہ کے بارے میں پیدا ہو گیا تھا۔ اِس دفعہ کا مضمون یہ تھا کہ قریش میں سے کوئی شخص مسلمانوں سے جا ملے گا تو اگرچہ وہ اسلام لا چکا ہو، لیکن مسلمان اُس کو واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ اِس کے برخلاف کوئی مسلمان اگر قریش سے آ ملے گا تو وہ اُس کو واپس کرنے کے پابند نہ ہوں گے۔*
      مسلمانوں نے مردوں کی حد تک تو اِس دفعہ کو قبول کر لیا، مگر عورتوں کے معاملے میں اِسے صریح تسلیم نہیں کیا اور صاف کہہ دیا کہ شرط مردوں کے بارے میں تھی نہ کہ عورتوں کے بارے میں۔** اِس چیز نے قریش اور مسلمانوں کے درمیان ایک قضیے کی صورت اختیار کر لی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہ فیصلہ نہایت ہی منصفانہ ہے۔ اگر قرآن کا فیصلہ یہ بھی ہوتا کہ ازروے معاہدہ کسی عورت کی بھی واپسی کے مسلمان پابند نہیں ہیں تو یہ بھی بے جا نہ ہوتا، لیکن یہ محض الفاظ سے فائدہ اٹھانے والی بات ہوتی۔ قرآن نے صرف الفاظ سے فائدہ نہیں اٹھایا، بلکہ ایک ایسا فیصلہ کیا جس کی ایک نہایت محکم عقلی و اخلاقی بنیاد ہے۔ یعنی اُن عورتوں کو تو واپس کر دینے کی ہدایت فرمائی جن کی ہجرت اللہ و رسول کے لیے نہیں، بلکہ کسی حقیر دنیوی مقصد کے لیے ہو۔ البتہ جن کا مومنہ ہونا ثابت ہو جائے، اُن کو واپس کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ ایک ایسی اصولی بات ہے جس کا کوئی عاقل انکار نہیں کر سکتا۔ انسان اپنی ایک عقلی و اخلاقی ہستی رکھتا ہے، اِس وجہ سے یہ اُس کے اوپر صریح ظلم ہے کہ اُس کو کسی ایسے معاشرے کے ساتھ بندھے رہنے پر مجبور کیا جائے جس کے اندر اُس کا یہ اخلاقی و عقلی تشخص محفوظ نہ رہ سکے۔ بالخصوص عورتیں جنس ضعیف ہونے کے سبب سے اور بھی حق دار ہیں کہ اُن کا تحفظ کیا جائے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۳۴۰)

      _____
      * بخاری، رقم ۲۵۸۱۔
      ** احکام القرآن، ابن العربی ۴/ ۲۲۹۔

       

    • امین احسن اصلاحی اور اگر تمہاری بیویوں کے مہر میں سے کچھ کافروں کی طرف رہ جائے تو جب تمہیں موقع ہاتھ آ جائے تو جن کی بیویاں گئی ہیں ان کو ادا کر دو جو کچھ انھوں نے خرچ کیا ہے اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’عَاقَبْتُمْ‘ کے معنی ہیں کہ ’صارت العقبٰی لَکم‘ یعنی پھر تمہاری باری آ گئی یا تمہیں موقع مل گیا۔
      بدلے کی ایک منصفانہ شکل: مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ کفار کی طرف سے ’وَاسْأَلُوْا مَا أَنفَقْتُمْ وَلْیَسْأَلُوْا مَا أَنفَقُوْا‘ کے اصول کی خلاف ورزی ہو، وہ کسی ایسی عورت کا مہر واپس نہ کریں جو اس کے مسلمان شوہر نے اس کو دیا، تو اس صورت میں مسلمانوں کو حق ہو گا کہ اگر ان کو کسی عورت کا مہر کفار کو ادا کرنا ہے تو ان کو ادا کرنے کے بجائے اپنے اس بھائی کو ادا کر دیں جس کی چلی جانے والی بیوی کا مہر واپس نہیں ہوا۔ یہ گویا بدلہ لینے کی ایک منصفانہ اور مبنی برعدل کارروائی ہوئی جس کی اجازت اس لیے دی گئی کہ ایک فریق نے ناانصافی کی راہ اختیار کی۔
      ’وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیْ أَنتُمۡ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ‘۔ یہ اس اجازت سے فائدہ اٹھانے میں خاص احتیاط کی تاکید فرمائی کہ دشمن کے ساتھ بھی معاملہ کرنے میں اپنے اس اللہ سے ڈرتے رہو جس پر ایمان لائے ہو۔ بلا کسی وجہ معقول کے نہ کوئی انتقامی اقدام کرنے کے بہانے ڈھونڈے جائیں نہ اپنے واجبی حق سے زیادہ کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے۔

      جاوید احمد غامدی اور اگر (وہ راضی نہ ہوں اور) تمھاری بیویوں کے مہر میں سے تمھاراکچھ کافروں کی طرف رہ جائے، پھر تمھاری باری آئے تو جن کی بیویاں جاتی رہی ہیں، اُن کو اتنا دے دو، جتنا اُنھوں نے خرچ کیا ہے اور (اِن دشمنوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں بھی) اللہ سے ڈرتے رہو، جس پر ایمان لائے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی کفار اِس مبادلے پر راضی نہ ہوں تو مبنی بر انصاف طریقہ یہ ہو گا کہ عورت کا مہر اُنھیں ادا کرنے کے بجاے اپنے کسی بھائی کو ادا کر دیا جائے جس کی بیوی اُدھر رہ گئی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ گویا بدلہ لینے کی ایک منصفانہ اور مبنی بر عدل کارروائی ہوئی جس کی اجازت اِس لیے دی گئی کہ ایک فریق نے نا انصافی کی راہ اختیار کی۔‘‘ (تدبرقرآن ۸/ ۳۴۲)

       

    • امین احسن اصلاحی اے پیغمبر، جب تمہارے پاس مومنہ عورتیں اس بات پر بیعت کے لیے آئیں کہ وہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ وہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کی مرتکب ہوں گی اور نہ وہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان سے متعلق کوئی بہتان تراشیں گی اور نہ کسی امر معروف میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور اُن کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کرو، بے شک اللہ غفور رّحیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عام عورتوں سے متعلق ایک احتیاطی ہدایت: اور جس طرح مہاجرات کے امتحان کی ہدایت فرمائی اسی طرح اس آیت میں یہ ہدایت فرمائی کہ جو عورتیں اسلام میں داخل ہونے کے لیے آئیں وہ بھی یوں ہی داخل نہ کر لی جائیں بلکہ ان سے اسلام کے تمام معروفات کی پابندی کے ساتھ ساتھ خاص طور پر ان برائیوں سے بچتے رہنے کا اقرار لیا جائے جو جاہلی معاشرے میں عام رہی ہیں تاکہ اسلامی معاشرہ میں ان برائیوں کے جراثیم پھیلنے نہ پائیں۔
      یہاں یہ امر واضح رہے کہ یہ ہدایت اس زمانے میں فرمائی گئی ہے جب مردوں کی طرح عورتوں کے بھی ہجوم کے ہجوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت کے لیے آنے لگے ہیں اور ان میں بہت سی عورتیں ان طبقات سے تعلق رکھنے والی بھی ہوتیں جن کا اخلاقی معیار زمانۂ جاہلیت میں بہت پست تھا۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ ان کو برائیوں سے بچتے رہنے کی خاص طور پر تاکید کی جائے تاکہ جس نئے معاشرے میں وہ داخل ہو رہی ہیں اس کی خصوصیات سے ان کو آگاہی ہو اور وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کا ارادہ کر کے اس میں داخل ہوں۔ یہاں ان سے جن برائیوں سے بچنے کا اقرار لینے کی ہدایت فرمائی گئی ہے وہ یہ ہیں:
      ’عَلٰٓی أَن لَّا یُشْرِکْنَ بِاللہِ شَیْْئًا‘۔ یہ کہ وہ کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ تمام دین کی بنیاد توحید خالص پر ہے اس وجہ سے سب سے پہلے شرک سے اجتناب کا اقرار لینے کی ہدایت فرمائی۔ ایک متوسط درجہ کے ذہن کے لیے توحید تک پہنچنے کا آسان راستہ شرک کی نفی ہی کی راہ سے کھلتا ہے۔ اگر شرک سے اجتناب کا شعور نہ ہو تو بہت سے لوگ شرک کی تمام آلودگیوں میں لتھڑے ہوئے بھی یہ زعم رکھتے ہیں کہ وہ توحید خالص پر ہیں۔
      ’وَلَا یَسْرِقْنَ‘۔ دوسری چیز یہ ہے کہ چوری نہ کریں یعنی جس طرح خدا کے حقوق میں کسی قسم کا غلط تصرف ناجائز ہے اس طرح بندوں کے مال میں بھی بے جا تصرف ناجائز ہے۔
      ’وَلَا یَزْنِیْنَ‘۔ تیسری چیز یہ ہے کہ زنا کی مرتکب نہ ہوں۔ زنا اور شرک کی مشابہت کی طرف اس کتاب میں جگہ جگہ ہم اشارے کرتے آ رہے ہیں۔ یہاں اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔
      ’وَلَا یَقْتُلْنَ أَوْلَادَہُنَّ‘۔ چوتھی چیز یہ ہے کہ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی۔ زمانۂ جاہلیت میں قتل اولاد کا ارتکاب مشرکانہ توہمات کے تحت بھی ہوتا تھا، اندیشۂ فقر اور بے جا غیرت کے تحت بھی۔ اس زمانے میں اس کے دوسرے محرکات بھی پیدا ہو گئے ہیں جو معروف ہیں۔ یہ ممانعت ان سب پر حاوی ہے۔
      ’وَلَا یَأْتِیْنَ بِبُہْتَانٍ یَفْتَرِیْنَہُ بَیْْنَ أَیْْدِیْہِنَّ وَأَرْجُلِہِنَّ‘۔ پانچویں چیز یہ ہے کہ کسی کے متعلق، خواہ مرد ہو یا عورت، کوئی ایسا بہتان نہ تراشیں جس کا تعلق ان کے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان سے متعلق ہو۔
      ’بَیْنَ أَیْْدِیْہِنَّ وَأَرْجُلِہِنَّ‘ سے اشارہ میرے نزدیک جنسی اعضاء کی طرف ہے۔ یہ اعضاء ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان ہی ہوتے ہیں۔ ان کی طرف اشارہ کے لیے یہ ایک شائستہ اسلوب بیان ہے۔ اس میں پردہ پوشی کے ساتھ پورا احاطہ بھی ہے۔ نہایت مہذب اسلوب سے ان تمام تہمتوں کی طرف اشارہ ہو گیا ہے جو جنسی نوعیت کی ہو سکتی ہیں، مثلاً زنا، تقبیل اور ملامست وغیرہ۔
      بہتان لگانا، کسی قسم کا بھی ہو، نہایت سنگین برائی ہے لیکن جس بہتان کا تعلق جنسی امور سے ہو اس کی سنگینی دوچند بلکہ دہ چند ہو جاتی ہے اس لیے کہ اس طرح کا بہتان اس شخص کی (خواہ مرد ہو یا عورت) حیثیت عرفی پر نہایت خطرناک حملہ ہے جس پر بہتان لگایا گیا ہے۔ اس سے معاشرے کے اندر بسا اوقات ایسے فتنے بھی اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جن کو دبانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ بہتان کوئی مرد لگائے یا کوئی عورت دونوں ہی کے لیے گناہ ہے اور شریعت میں دونوں ہی کے لیے اس کو جرم قرار دیا گیا ہے لیکن یہاں خاص طور پر عورتوں کو اس سے روکا گیا ہے اس لیے کہ عورتوں کا بہتان اور وہ بھی جنسی نوعیت کا ایک ایسا خطرناک وار ہے جس کا دفاع نہایت مشکل ہے۔
      عام طور پر ہمارے مفسرین نے اس ٹکڑے کا یہ مطلب لیا ہے کہ کوئی عورت کسی غیر مرد کے حمل کو اپنے شوہر سے منسوب نہ کرے لیکن اس کو اس قدر محدود کر دینے کی کوئی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی۔ میں نے اس کے الفاظ کی روشنی میں اس کی وسیع تاویل کی ہے جس کے اندر وہ ساری باتیں آ جاتی ہیں جو اس کے تحت آ سکتی ہیں۔
      ’وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوۡفٍ‘۔ چھٹی چیز یہ ہے کہ کسی معروف کی تعمیل میں وہ تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی۔ ’معروف‘ یہاں ’منکر‘ کے مقابل میں ہے۔ اوپر جن جن باتوں کا حوالہ ہے ان سب کا تعلق منکرات کے باب سے ہے، ان میں معروفات یعنی نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج اور عدل و احسان کے قسم کی چیزوں میں سے کسی چیز کا بھی ذکر نہیں آیا ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ ہے کہ یہ ان عورتوں کی بیعت کا ذکر ہے جو فتح مکہ کے دور میں بکثرت اسلام میں داخل ہو رہی تھیں اور جن کے اندر زمانۂ جاہلیت میں یہ برائیاں پائی جاتی تھیں جن کا یہاں ذکر ہے۔ یہ خاص صورت حال مقتضی ہوئی کہ منکرات سے بچتے رہنے کا تو ان سے صراحت و تفصیل کے ساتھ اقرار کرایا جائے اور معروفات سے متعلق آخر میں ایک جامع اقرار لے لیا جائے کہ شریعت کے معروفات میں سے کسی معروف کی تعمیل میں وہ پیغمبرؐ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ شریعت کے معروفات معلوم و مشہور ہیں اس وجہ سے ان کی تفصیل کی ضرورت یہاں نہیں تھی۔
      ایک غلط فہمی: بعض لوگوں نے ’فِیْ مَعْرُوۡفٍ‘ کے الفاظ یہاں قید و شرط کے مفہوم میں لیے ہیں اور اس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ اسلام میں پیغمبر کی اطاعت بھی معروف کی قید سے مقید و مشروط ہے تو تابہ دیگراں چہ رسد! ہمارے نزدیک یہ نکتہ محض ایک نکتۂ بارد ہے۔ پیغمبر نہ کسی منکر کا حکم دیتا ہے نہ دے سکتا ہے۔ وہ دین کے معاملے میں وہی بات کرتا ہے جو معروف ہوتی ہے اس لیے کہ وہ خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے اور اس کی حیثیت حق و باطل کے امتیاز کے لیے ایک کسوٹی کی ہوتی ہے اس وجہ سے اس کے ہر حکم کی اطاعت لازمۂ ایمان ہے۔ جب وہ خود معروف و منکر کے امتیاز کی کسوٹی ہوا تو کسی دوسرے کے لیے اس کی کسی بات کو معروف کے خلاف قرار دینے کے کیا معنی! پیغمبر کے ہاتھ پر بیعت کرنے میں صرف تابہ حدِّ استطاعت، کی قید ہو سکتی ہے اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ بیعت کرنے والوں کو خود یاددہانی فرما کر یہ قید لگوا دیتے تھے لیکن اس کی اطاعت کے معروف کی قید سے مقید ہونے کی بات بالکل بے معنی ہے۔ البتہ پیغمبرؐ کے خلفاء و امراء کے ہاتھ پر جو بیعت ہو گی وہ ’اطاعت فی المعروف‘ کی قید سے مشروط ہو گی اس لیے کہ ان سے امکان ہے کہ وہ کوئی ایسا حکم دے بیٹھیں جو معروف کے خلاف ہو۔ چنانچہ رسول کے بعد کسی کی بھی مطلق اطاعت کا عہد کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے۔
      عورتوں سے بیعت لینے کے طریقہ کی وضاحت روایات میں موجود ہے۔ اس کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں جو حدیثوں میں بیان ہوئی ہیں، البتہ یہ بات مسلم ہے کہ عورتوں سے بعیت لینے میں حضورؐ نے ان کے ہاتھ کبھی اپنے ہاتھ میں نہیں لیے۔
      ’فَبَایِعْہُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَہُنَّ اللہَ إِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیْمٌ‘۔ فرمایا کہ جو عورتیں ان تمام منکرات سے بچتے رہنے اور دین کے تمام معروفات کی پابندی کا اقرار کریں ان سے بیعت لو اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگو کہ اس سے پہلے ان سے جو غلطیاں صادر ہوئی ہیں وہ ان سے درگزر فرمائے۔ اللہ تعالیٰ غفور رّحیم ہے، وہ ان پر رحم فرمائے گا۔

      جاوید احمد غامدی (اِسی طرح) اے پیغمبر، جب مسلمان عورتیں بیعت کے لیے تمھارے پاس آئیں (اور عہد کریں) کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی اور چوری نہ کریں گی اور زنا نہ کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی اور اپنے ہاتھ اور پاؤں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی اور بھلائی کے کسی معاملے میں تمھاری نافرمانی نہ کریں گی تو اُن سے بیعت لے لو اور اُن کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کرو۔ بے شک، اللہ غفور و رحیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ جنسی اعضا کی طرف اشارے کے لیے ایک شایستہ اسلوب ہے، اِس لیے کہ یہ اعضا ہاتھ اور پاؤں کے درمیان ہی ہوتے ہیں۔ اِس اسلوب کا فائدہ یہ ہے کہ پردہ پوشی کے ساتھ تمام اعضا کا احاطہ بھی ہو گیا ہے اور وہ سب تہمتیں بھی اِس کے ذیل میں آگئی ہیں جو جنسی نوعیت کی ہو سکتی ہیں، مثلاً زنا، تقبیل اورملامست وغیرہ۔
      اصل میں لفظ ’مَعْرُوْف‘ آیا ہے۔ یعنی بھلائی کے وہ کام جن سے ہر سلیم الفطرت انسان واقف ہے۔ بیعت کے الفاظ میں اِن کا ذکر بالاجمال اور منکرات کا ذکر تفصیل کے ساتھ اِس لیے ہوا ہے کہ عورتوں کے جو ہجوم بیعت کے لیے آ رہے تھے، اُن میں سے زیادہ تر اُن طبقات سے تعلق رکھنے والی تھیں جن میں یہ منکرات زمانۂ جاہلیت میں پائے جاتے تھے۔
      مطلب یہ ہے کہ جانچ پڑتال کے بعد بھی اُن کو اسلام میں اُس وقت داخل کرو، جب وہ اِن باتوں کا عہد کریں۔ عورتوں سے یہ عہد لینے کے مختلف طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمائے، لیکن اتنی بات مسلم ہے کہ اُن کا ہاتھ ہاتھ میں لے کر کبھی بیعت نہیں لی۔*
      یعنی اِس بات کی دعا کہ اسلام لانے سے پہلے جو غلطیاں اُن سے صادر ہوئی ہیں، اللہ تعالیٰ اُن سے درگذر فرمائے۔
      _____
      * بخاری، رقم ۲۵۶۴،۴۶۰۹۔

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو، ان لوگوں سے دوستنی نہ کرو جن پر اللہ کا غضب ہوا۔ وہ آخرت سے نا امید ہوئے جس طرح کفار قبر والوں سے نا امید ہوئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آخر میں ابتدائی مضمون کا اعادہ: اس آخری آیت میں اس مضمون کی پھر یاددہانی ہے جس سے سورہ کا آغاز ہوا ہے۔ قرآن میں ایسی مثالیں بہت ہیں کہ جس مضمون سے سورہ کا آغاز ہوتا ہے اس پر اس کا اختتام بھی ہوتا ہے۔ یہ چیز قرآن میں نظم کی ایک بہت بڑی شہادت ہے۔
      پہلی آیت میں فرمایا ہے:

      ’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَآءَ‘
      (اے ایمان والو، میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ)

      اللہ اور اہل ایمان کے دشمن یہود بھی تھے اور مشرکین قریش بھی، اس سورہ (الممتحنۃ) سے پہلے جو مسبحات سورتیں گزری ہیں ان میں زیادہ تر یہود کی سازشوں اور ان کے ساتھیوں کا رویہ زیربحث آیا ہے اور مسلمانوں کو ان سے دور رہنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ اب اس کی آخری آیت میں دونوں دشمنوں کو جمع کر کے مسلمانوں کو متنبہ فرمایا کہ نہ ان یہود کی دوستی تمہارے لیے کسی خیر کا باعث ہو سکتی نہ کفار کی۔ یہ دونوں ہی اپنے عقیدے اور عمل کے اعتبار سے ایک ہی سطح کے اور ایک ہی انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ جو ان کا ساتھی بنے گا اس کا حشر بھی وہی ہو گا جو ان کا ہونے والا ہے۔
      ’قَوْمًا غَضِبَ اللہُ عَلَیْْہِمْ‘ سے ظاہر ہے کہ یہود ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ صفت کی حیثیت سے قرآن میں یہ الفاظ یہود ہی کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ پہلی ہی سورہ میں ان کے لیے ’مَغضُوْبِ عَلَیْہِمْ‘ کی صفت آئی ہے۔
      ’قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْآخِرَۃِ‘۔ یعنی اگرچہ زبان سے یہ آخرت کا اقرار کرتے ہیں لیکن ان کی دنیا پرستی، ان کی ہوس زر اور موت سے ان کا فرار گواہ ہیں کہ یہ آخرت کی توقع نہیں رکھتے۔ اگر یہ آخرت کی توقع رکھتے ہوتے تو یہ ان حرکتوں کے مرتکب نہ ہوتے جن کے مرتکب ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی شدید تنبیہات کے بعد بھی ان سے باز نہ آئے۔
      ’کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُوْرِ‘۔ یعنی جس طرح کفار اب ان مُردوں کے جی اٹھنے سے مایوس ہیں جو قبروں میں پہنچ چکے اور کہتے ہیں کہ

      ’ءَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا ذٰلِکَ رَجْعٌ بَعِیْدٌ‘ (قٓ ۵۰: ۳) (کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے تو دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، یہ لوٹایا جانا تو نہایت مستبعد ہے) اسی طرح یہ یہود بھی آخرت سے مایوس ہیں۔ آخرت کے معاملے میں دونوں ایک ہی سطح پر ہیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ قرآن نے جگہ جگہ یہود اور کفار کی مشابہت نمایاں فرمائی ہے تاکہ جو مسلمان اہل کتاب ہونے کی بنا پر ان سے کسی حسن ظن میں مبتلا تھے ان کی غلط فہمی رفع ہو اور ان پر واضح ہو جائے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے بدتر ہے۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، (اِسی طرح) اُن لوگوں سے بھی دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ وہ بھی آخرت سے (اُسی طرح) مایوس ہو چکے ہیں، جس طرح یہ منکرین اُن لوگوں (کے جی اٹھنے) سے مایوس ہیں جو قبروں میں پڑے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی یہود کے ساتھ۔ یہ تعبیر قرآن میں اُنھی کے لیے اختیار کی گئی ہے۔
      یعنی زبان سے آخرت کا اقرار کرنے کے باوجود اپنی حرکتوں کی وجہ سے اُس کے متوقع نہیں رہے۔ اِن میں اور قریش کے منکرین میں کوئی فرق نہیں ہے، آخرت کے معاملے میں دونوں ایک ہی سطح پر ہیں، اِس لیے دونوں سے برتاؤ بھی ایک جیسا ہونا چاہیے۔

    Join our Mailing List