Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 24 آیات ) Al-Hashr Al-Hashr
Go
  • الحشر (The Mustering, The Gathering, Exile, Banishment)

    24 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ ۔۔۔ المجادلۃ ۔۔۔ میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کر رہے ہیں وہ بالآخر ذلیل و خوار ہو کے رہیں گے، غلبہ اللہ اور اس کے رسولوں کے لیے ہے، اس سورہ میں اسی دعوے کو بعض واقعات سے مبرہن فرمایا ہے جو اس دوران میں پیش آئے اور منافقوں کو آگاہ کیا ہے کہ اگر وہ آنکھیں رکھتے ہیں تو ان واقعات سے سبق لیں کہ جن دشمنوں کو وہ ناقابل تسخیر خیال کیے بیٹھے تھے اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں اپنے گھروں کو اجاڑ کر جلاوطنی کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے اور ان کے حامیوں میں سے کوئی ان کا ساتھ دینے والا نہ بنا۔

    پوری سورہ میں خطاب منافقین ہی سے ہے۔ آخر میں یہ بات بھی ان پر واضح فرما دی گئی ہے کہ ان کے شبہات و شکوک دور کرنے اور ان کے دلوں کے اندر گداز پیدا کرنے کے لیے اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ نازل کر دیا جو ضروری ہے۔ اگر یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی اتارا جاتا تو وہ بھی اللہ کی خشیت سے پاش پاش ہو جاتا۔ اگر یہ تمہارے دلوں پر اثر انداز نہیں ہو رہا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تمہارے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہیں اور تم سزاوار ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ وہی معاملہ کرے جو تمہارے جیسے سنگ دلوں کے ساتھ وہ کیا کرتا ہے۔

  • الحشر (The Mustering, The Gathering, Exile, Banishment)

    24 آیات | مدنی
    الحشر - الممتحنۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں منافقین کو اُن یہودیوں کے انجام سے سبق لینے کی تلقین فرمائی ہے جن کو وہ شہ دے رہے تھے، اور دوسری سورہ میں کمزور مسلمانوں کو اُن مشرکین کے ساتھ رشتہ و پیوند کے نتائج سے خبردار کیا ہے جو اللہ و رسول کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ دونوں میں خطاب ایمان کا دعویٰ رکھنے والوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الحشر—- کا موضوع منافقین کو متنبہ کرنا ہے کہ وہ اگر آنکھیں رکھتے ہوں تو اُن لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں جن کو وہ ناقابل تسخیر سمجھے بیٹھے تھے، قرآن کی دعوت پر لبیک کہیں اور اللہ کی پاداش سے ڈریں۔

    دوسری سورہ—- الممتحنۃ—- کا موضوع اُن مسلمانوں کو ایمان و اسلام کے تقاضے سمجھانا ہے جو ہجرت کرکے آ تو گئے تھے، مگر ہجرت کی حقیقت ابھی اُن پر واضح نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ امتحان کے موقعوں پر اُن سے ایسی کمزوریاں صادر ہو جاتی تھیں جو اُنھیں منافقین کے قریب لے جاتی تھیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہی غالب و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس آیت کی اہمیت اور حکمت: یہ آیت سورۂ حدید کے شروع میں بھی گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے مضمرات کی وضاحت ہو چکی ہے۔ یہاں خاص توجہ کی چیز یہ ہے کہ اس سورہ کا آغاز اور اختتام دونوں، نہایت معمولی فرق کے ساتھ، اسی آیت پر ہوا ہے جس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس میں جو حقائق بیان ہوئے ہیں وہ اس آیت کے مضمرات کی تائید و تصدیق کرتے ہیں۔ گویا یہ سورہ اپنے اصل دعوے کو بھی ثابت کرتی ہے جو سابق سورہ میں بیان ہوا اور اللہ تعالیٰ کی ان صفات کی شہادت بھی فراہم کرتی ہے جو تمہید کی اس آیت میں بیان ہوئی ہیں۔
      یہ آیت جس حقیقت کی یاددہانی کرتی ہے وہ دراصل یہ ہے کہ یہ ساری کائنات اپنی تسبیح و تقدیس اور اپنی بندگی و سرافگندگی سے اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ اس کا خالق ہر عیب، ہر کمزوری اور ہر شائبہ شرک سے بالکل پاک و منزہ ہے۔ وہ ہر چیز پر قدرت و اختیار رکھتا ہے۔ اس کے کسی ارادے میں کوئی مزاحم نہیں ہو سکتا۔ اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ اس وجہ سے بندوں کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو اسی کے حوالہ کریں، اسی پر بھروسہ کریں، اسی کے احکام کی تعمیل کریں، اسی سے ڈریں اور اسی سے امید رکھیں۔ مصرف حقیقی وہی ہے۔ اس کے اذن کے بغیر کوئی چیز اپنی جگہ سے حرکت نہیں کر سکتی۔
      اسی حقیقت کے ذہن میں راسخ ہونے سے صحیح ایمان پیدا ہوتا ہے جو تمام عزم و قوت کا سرچشمہ ہے اور اسی کے اندر رخنہ پیدا ہونے سے نفاق اور کفر و شرک کو دل کے اندر گھسنے کی راہ ملتی ہے جس سے علم و عمل کے ہر گوشے میں فساد پھیل جاتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی زمین اورآسمانوں کی ہر چیز نے اللہ کی تسبیح کی ہے اور وہی غالب اور حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی کائنات کی ہر چیز نے ہمیشہ اپنے وجود سے اِس حقیقت کا اظہار و اعلان کیا ہے کہ اللہ اِس سے پاک ہے کہ ظالموں اور نیکوکاروں کو انجام کے لحاظ سے یکساں کر دے۔ چنانچہ وہ ظالموں کو پکڑے گا، اِس لیے کہ حکیم ہے اور کوئی ظالم اُس کی پکڑ سے بچ نہ سکے گا، اِس لیے کہ زبردست بھی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی وہی ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا، ان کے گھروں سے حشر اول کے لیے۔ تمہارا گمان نہ تھا کہ وہ کبھی اپنے گھروں سے نکلیں گے اور ان کا گھمنڈ یہ تھا کہ ان کے قلعے ان کو اللہ کی پکڑ سے بچائے رکھیں گے تو اللہ کا قہر ان پر وہاں سے آ دھمکا جہاں سے ان کو گمان بھی نہیں ہوا۔ اور اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ وہ اپنے گھروں کو اجاڑ رہے تھے خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی۔ پس عبرت حاصل کرو اس سے، اے آنکھیں رکھنے والو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      بنی نضیر کی غداری اور ان کا حشر: ’اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ‘ سے مراد مفسرین کے نزدیک یہود بنی نضیر ہیں جو مدینہ منورہ کے قریب آباد تھے۔ بخاریؒ کے بیان کے مطابق مختصراً ان کا واقعہ یہ ہے کہ انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اگرچہ صلح و امن کا معاہدہ کر رکھا تھا لیکن بدر کے چھٹے مہینہ معاہدے کے خلاف انھوں نے اسلام کے دشمنوں سے ساز باز بھی کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی ایک ناکام سازش کے بھی مرتکب ہوئے۔ ان کے اس جرم کی پاداش میں آپ نے ان کو مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا۔ پہلے تو وہ اس حکم کی تعمیل پر آمادہ ہو گئے لیکن بعد میں مشہور منافق عبداللہ بن اُبیّ نے انھیں اکسایا کہ میرے دو ہزار آدمی تمہارے ساتھ ہیں نیز قریش اور غطفان بھی تمہاری حمایت کریں گے، تم نکلنے سے انکار کر دو۔ عبداللہ بن اُبیّ کی ان باتوں سے وہ اس کے چکمہ میں آ گئے اور نکلنے سے انکار کر دیا۔ بالآخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر فوج کشی کی۔ اس وقت نہ بنوقریظہ نے ان کا ساتھ دیا نہ قریش اور غطفان نے۔ ناچار انھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرنی پڑی۔ آپ نے ازراہ عنایت یہ اجازت انھیں دے دی کہ جتنا سامان وہ اونٹوں پر لے جا سکتے ہیں اتنا لے جائیں۔ چنانچہ وہ جتنا سامان لے جا سکے لے کر خیبر اور اذرعات چلے گئے۔ ان کی باقی املاک و جائداد پر آپؐ نے قبضہ کر لیا۔
      ’لِأَوَّلِ الْحَشْرِ‘۔ یعنی ان کا یہ اخراج پہلے حشر کے طور پر ہوا۔ اس کے اندر یہ تنبیہ ہے کہ اس کے بعد بھی انھیں اسی طرح کے حشر سے دوچار ہونا پڑے گا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کے عہد میں انھیں وہاں سے بھی نکلنا پڑا اور سب سے بڑا حشر ۔۔۔ قیامت کا حشر ۔۔۔ آگے آنے والا ہے۔
      منافقوں سے خطاب: ’مَا ظَنَنتُمْ أَنۡ یَخْرُجُوْا وَظَنُّوْا أَنَّہُمْ مَّانِعَتُہُمْ حُصُوْنُہُم مِّنَ اللہِ‘ یہ خطاب انہی منافقین سے ہے جن کا ذکر پچھلی سورہ میں گزر چکا ہے۔ فرمایا کہ تم کو ان کی قوت و جمعیت اور ان کے حلیفوں کی حمایت و نصرت پر بڑا اعتماد تھا، تم سمجھے بیٹھے تھے کہ انھیں یہاں سے ہلایا نہیں جا سکے گا اور خود ان کو بھی اپنے قلعوں اور اپنی گڑھیوں پر بڑا ناز تھا کہ بھلا کسی کی مجال ہے کہ وہ ان سے دوبدو ہونے کی جرأت کر سکے لیکن دیکھ لو ان کا غرور کس طرح پامال ہوا۔
      مغروروں کی ذہنیت: ’مِنَ اللّٰہِ‘ میں عربیت کے قاعدے کے مطابق مضاف محذوف ہے یعنی ’مِنْ بَاْسِ اللّٰہِ‘ یا ’مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ‘ یا ’مِنْ بَطْشِ اللّٰہِ‘ ۔ مطلب یہ ہے کہ انھوں نے قلعے اور گڑھیاں بنا لیں تو اس زعم میں مبتلا ہو گئے کہ وہ صرف انسانوں ہی سے نہیں بلکہ خدا کی پکڑ سے بھی مامون ہو گئے۔ یہ مغروروں کی ذہنیت کی بالکل صحیح تصویر ہے۔ جن کو اس دنیا میں قوت و شوکت حاصل ہو جاتی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ بھلا ان کے قلعہ کے اندر کہاں سے کوئی رخنہ پیدا ہو سکتا ہے! یہاں تک کہ اگر اللہ کا کوئی بندہ ان کو خدا کی پکڑ سے بھی ڈرائے تو بھی ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ان کے اس محفوظ حصار کے اندر خدا کدھر سے آ جائے گا!
      خدا کا حملہ بے امان ہے: ’فَاَتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ حَیْْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا‘۔ یعنی انھوں نے تو اپنی دانست میں اپنے قلعوں کے اندر خدا کے در آنے کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں چھوڑی تھی لیکن خدا وہاں سے ان پر آ دھمکا جہاں سے ان کو سان گمان بھی نہ تھا۔
      ’وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ‘۔ یہ نشان دہی فرمائی ہے کہ خدا نے کدھر سے ان پر تاخت کی۔ فرمایا کہ وہ اپنے ارد گرد اینٹوں اور پتھروں کی دیواریں چن کر سمجھے کہ خدا کی پکڑ سے باہر ہو گئے لیکن اللہ نے ان کی دیواریں ہٹانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی بلکہ براہ راست ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ قلعے اور گڑھیاں رکھتے ہوئے ایسے مرعوب ہوئے کہ اپنے بنائے ہوئے گھروں کو انھوں نے خود اپنے ہاتھوں اجاڑا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اصل طاقت اسلحہ اور قلعوں کی دیواروں کے اندر نہیں بلکہ دلوں کے اندر ہوتی ہے جو اللہ پر ایمان سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر یہ طاقت موجود ہو تو فی الواقع بے تیغ بھی سپاہی لڑتا ہے اور اگر یہ نہ ہو تو ایٹمی آلات کی بڑی سے بڑی مقدار بھی بے سود ہے بلکہ اندیشہ اس بات کا بھی ہے کہ یہ چیزیں دشمن کے بجائے خود اپنی ہی تباہی کا ذریعہ بن جائیں۔
      ’یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَہُم بِأَیْْدِیْہِمْ وَأَیْْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ‘۔ یہ ان کی مرعوبیت کی تصویر ہے کہ اپنے جو مکانات انھوں نے نہ جانے کتنے ولولوں اور ارمانوں سے بنائے تھے خود اپنے ہاتھوں سے اجاڑ رہے تھے۔ ’یُخْرِبُوْنَ‘ یہاں تصویر حال کے لیے ہے۔ اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ ان کو یہ اجازت دے دی گئی تھی کہ اپنے اونٹوں پر جتنا سامان لے جا سکتے ہیں اتنا لے جائیں۔ اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر انھوں نے مکانوں کی شہتیریں، کڑیاں، دروازے اور کھڑکیاں بھی اکھاڑ کر اپنے اونٹوں پر لاد لینے کی کوشش کی۔ حرص مال کے علاوہ مسلمان دشمنی کا جذبہ بھی کارفرما تھا اس وجہ سے انھوں نے یہ کوشش بھی کی ہو گی کہ جو چیز بچ بھی رہے اس کو بھی اس طرح ناکارہ بنا دیں کہ مسلمان اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
      ’وَأَیْْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ‘۔ ان کی اس تخریب میں مسلمانوں نے بھی ہاتھ پٹایا ہو گا کہ یہ مفسدین جس قدر جلد ممکن ہو ان کے قریب سے دفع ہوں۔ علاوہ ازیں آگے کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بعض باغ مسلمانوں نے جنگی ضرورت کے لیے بھی کاٹے۔
      ’فَاعْتَبِرُوْا یَا أُولِی الْأَبْصَارِ‘۔ یہ اس واقعہ سے ان تمام لوگوں کو عبرت حاصل کرنے کی دعوت دی گئی ہے جن کے اندر عبرت پذیری کی صلاحیت ہے کہ دیکھ لو قرآن کی ہر بات کس طرح سچی ثابت ہوئی۔ اللہ و رسول کی مخالفت کرنے والوں کو کس طرح ذلت سے دوچار ہونا پڑا۔ حزب اللہ کے مقابل میں حزب الشیطان کو کس طرح شکست ہوئی۔ اگر اس کے بعد بھی کچھ لوگ اللہ و رسول کے دشمنوں سے دوستی رکھنے کے خواہش مند ہیں تو کر کے دیکھ لیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی وہی ہے جس نے اہل کتاب کے منکروں کو پہلے حشر کے لیے اُن کے گھروں سے نکال باہر کیا ہے۔ تمھیں گمان نہ تھا کہ وہ کبھی (اِس طرح) نکلیں گے اور وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ اُن کے قلعے اُنھیں اللہ کے عذاب سے بچالیں گے۔ مگر اللہ اُن پروہاں سے آ پہنچا، جہاں سے اُنھوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا اور اُن کے دلوں میں ہیبت ڈال دی۔ وہ اپنے گھر اپنے ہاتھوں سے اجاڑ رہے تھے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی۔۷؂ سو عبرت حاصل کرو، اے آنکھیں رکھنے والو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی پہلے حشر کے طور پر۔ اِس میں یہ تنبیہ ہے کہ ابھی کچھ حشر اور بھی ہیں جن سے اُنھیں دوچار ہونا پڑے گا۔
      یہ یہود بنی نضیر کے اخراج کا ذکر ہے جو مدینۂ طیبہ کے قریب آباد تھے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اِن کا واقعہ یہ ہے کہ اِنھوں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اگرچہ صلح و امن کا معاہدہ کر رکھا تھا، لیکن بدر کے چھٹے مہینے معاہدے کے خلاف اِنھوں نے اسلام کے دشمنوں سے سازباز بھی کی اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی ایک ناکام سازش کے بھی مرتکب ہوئے۔ اِن کے اِس جرم کی پاداش میں آپ نے اِن کو مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا۔ پہلے تو وہ اِس حکم کی تعمیل پر آمادہ ہو گئے، لیکن بعد میں مشہور منافق عبداللہ بن ابی نے اِنھیں اکسایا کہ میرے دو ہزار آدمی تمھارے ساتھ ہیں، نیز قریش اور غطفان بھی تمھاری حمایت کریں گے، تم نکلنے سے انکار کر دو۔ عبداللہ بن ابی کی اِن باتوں سے وہ اُس کے چکمے میں آگئے اور نکلنے سے انکارکر دیا۔ بالآخر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن پر فوج کشی کی۔ اُس وقت نہ بنو قریظہ نے اِن کا ساتھ دیا، نہ قریش اور غطفان نے۔ ناچار اِنھیں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرنی پڑی۔ آپ نے ازراہ عنایت یہ اجازت اِنھیں دے دی کہ جتنا سامان وہ اونٹوں پر لے جا سکتے ہیں، اتنا لے جائیں۔ چنانچہ وہ جتنا سامان لے جا سکے، لے کر خیبر اور اذرعات چلے گئے۔ اِن کی باقی املاک و جائداد پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضہ کر لیا۔‘‘*(تدبرقرآن ۸/ ۲۸۳)

      یہ خطاب اُنھی منافقین سے ہے جو اِس سورہ کے مخاطب ہیں۔
      اصل میں ’مِنَ اللّٰہِ‘ کا لفظ آیا ہے۔ اِس میں مضاف عربیت کے قاعدے کے مطابق حذف ہو گیا ہے۔ یعنی ’مِنْ بَاْسِ اللّٰہِ‘ یا ’مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ‘۔
      یہ نشان دہی فرمائی ہے کہ اللہ کہاں سے آ پہنچا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... وہ اپنے اردگرد اینٹوں اور پتھروں کی دیواریں چن کر سمجھے کہ خدا کی پکڑ سے باہر ہو گئے، لیکن اللہ نے اُن کی دیواریں ہٹانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی، بلکہ براہ راست اُن کے دلوں میں رعب ڈال دیا جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ قلعے اور گڑھیاں رکھتے ہوئے ایسے مرعوب ہوئے کہ اپنے بنائے ہوئے گھروں کو اُنھوں نے خود اپنے ہاتھوں اجاڑا۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۲۸۴)

      یعنی کچھ بربادی مسلمانوں کے حملے سے ہوئی اور کچھ اُنھوں نے خود اجاڑ دیے کہ اُن کے نکل جانے کے بعد مسلمان اُن سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
      _____
      * بخاری، رقم ۳۸۰۴۔

       

    • امین احسن اصلاحی اور اگر اللہ نے ان کے لیے جلاوطنی نہ مقدر کر رکھی ہوتی تو ان کو دنیا میں عذاب دیتا اور ان کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی یہ تو اللہ نے ان کے ساتھ رعایت فرمائی کہ ان کو جلاوطنی ہی کی سزا دی۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہی ہوا کہ اسی تنبیہ پر کفایت کی جائے کہ ان کے اندر عبرت پذیری کی کچھ صلاحیت ہو تو وہ اپنے رویہ کی اصلاح کریں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس دنیا ہی میں ان پر اس طرح کا کوئی فیصلہ کن عذاب بھیج دیتا جس طرح کے عذاب عاد و ثمود اور فرعون وغیرہ پر آئے جن سے ان کا قصہ ہی پاک ہو گیا۔
      ’وَلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ‘۔ یعنی اس سے انھوں نے فائدہ نہ اٹھایا تو معاملہ اس جلاوطنی ہی پر ختم نہیں ہو جائے گا بلکہ آخرت میں ان کے لیے دوزخ کا عذاب بھی ہے جو ساری کسر پوری کر دے گا۔

      جاوید احمد غامدی اور اگر اللہ نے اُن کے لیے (اِسی طرح) جگہ جگہ سے اجڑنے کی سزا نہ لکھ دی ہوتی تو وہ اُنھیں دنیا ہی میں عذاب دے ڈالتا اور قیامت میں تو اُن کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی وہی عذاب دے ڈالتا جو عاد و ثموداور فرعون کو دیا گیا اور اِن کا نام و نشان مٹ جاتا، مگر اللہ اِنھیں باقی رکھنا چاہتا ہے تاکہ قیامت تک کے لیے یہ اُس کی جزا و سزا کا نمونہ بن کر جئیں۔ چنانچہ اُس نے طے کر رکھا ہے کہ قومی حیثیت میں اِنھیں ہمیشہ جلا وطنی کی سزا دی جائے گی۔

    • امین احسن اصلاحی یہ اس جرم میں کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی، جو اللہ کا مقابلہ کرتے ہیں تو اللہ سخت پاداش والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی یہ غضب ان پر اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور سنت الٰہی یہی ہے کہ جو اللہ کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس کی شدید پاداش سے دوچار ہوتے ہیں۔
      اس آیت میں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ ’وَمَنْ یُشَاقِّ اللہَ‘ میں ’وَرَسُوْلَہٗ‘ کو حذف کر دیا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ رسول سے مخاصمت درحقیقت اللہ سے مخاصمت ہے اور جو اللہ سے مخاصمت کے لیے اٹھتا ہے وہ اچھی طرح سوچ لے کہ اس کا کیا انجام ہو سکتا ہے!

      جاوید احمد غامدی اِس لیے کہ اُنھوں نے اللہ اور اُس کے رسول کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے اور جو اللہ کا مقابلہ کریں، (وہ اِسی انجام کو پہنچتے ہیں)، اِس لیے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰہَ‘۔ اِن کے بعد ’وَرَسُوْلَہٗ‘ حذف کر دیا ہے، جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ رسول کی مخالفت درحقیقت اللہ کی مخالفت ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کھجوروں کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا جو سلامت چھوڑ دیے تو یہ اللہ کے حکم سے ہوا اور تاکہ وہ نافرمانوں کو رسوا کرے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک اعتراض کا برمحل جواب: ’لِیْنَۃٌ‘ کھجور کے مثمر درخت کو کہتے ہیں۔ یہ یہود اور ان کے حلیفوں کے ایک اعتراض کا برمحل جواب ہے۔ مسلمانوں نے جب بنی نضیر پر فوج کشی کی تو جنگی ضرورت و مصلحت کے تحت ان کے باغوں کے کچھ درخت انھیں کاٹنے پڑے۔ اس چیز کو انھوں نے اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کا ذریعہ بنا لیا کہ مسلمان دعویٰ تو کرتے ہیں کہ وہ ملک میں اصلاح کے لیے اٹھے ہیں لیکن ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے ہمارے باغوں کے پھل لانے والے عمدہ درخت کاٹ کے ڈال دیے۔ بھلا مثمر درختوں کا کاٹنا بھی کوئی اصلاح کا کام ہوا، یہ تو صریح فساد فی الارض ہے!
      ’اَوْ تَرَکْتُمُوْہَا قَائِمَۃً‘ کے بظاہر ذکر کی کوئی ضرورت معلوم نہیں ہوتی اس لیے کہ ان کو اعتراض درختوں کے کاٹنے پر تھا نہ کہ ان کے چھوڑنے پر۔ لیکن اس کے ذکر سے ان کے اعتراض کے ایک خاص پہلو پر روشنی پڑتی ہے جس پر اس کے بغیر روشنی نہیں پڑ سکتی تھی۔ وہ یہ کہ جب انھوں نے یہ اعتراض اٹھایا ہو گا تو اس کو مؤثر بنانے کے لیے یہ بھی کہا ہو گا کہ اگر مسلمانوں کو صرف وقتی ضرورت کے لیے لکڑی مطلوب تھی تو وہ فلاں اور فلاں درخت کاٹ سکتے تھے جن کے کاٹنے سے کچھ زیادہ نقصان نہ ہوتا لیکن وہ درخت تو انھوں نے کھڑے چھوڑ دیے اور یہ اچھے بھلے، مثمر درخت انھوں نے کاٹ کے ڈھیر کر دیے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اقدام کسی واقعی ناگزیر ضرورت کے لیے نہیں بلکہ محض انتقام کے جذبہ کے تحت، معاشی تباہی پھیلانے کے لیے کہا گیا ہے جو اصلاح نہیں بلکہ صریح اِفساد ہے۔
      ’فَبِإِذْنِ اللہِ وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِیْنَ‘۔ یہ اس اعتراض کا جواب دیا ہے لیکن معترضین کو مخاطب کرنے کے بجائے صرف مسلمانوں کو مخاطب کیا ہے کہ تم ان ناصحوں کی مطلق پروا نہ کرو کہ تمہیں کون درخت کاٹنے اور کون چھوڑنے تھے۔ تم نے جو کچھ کیا رسول کی موجودگی میں، اس کی ہدایت کے تحت، کیا جس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کام اللہ کے اِذن کے تحت ہوا ہے اور جب اللہ کے اذن کے تحت ہوا تو اللہ سے بڑھ کر نہ کوئی حکمت و مصلحت کو جاننے والا ہو سکتا اور نہ اصلاح و افساد کے درمیان امتیاز کرنے والا۔
      ’وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِیْنَ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو اس لیے یہ اذن دیا کہ ان عہد شکنوں اور غداروں کو رسوا کرے اور یہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ انھوں نے جو درخت بڑے ارمانوں سے لگائے وہ ان کے سامنے کاٹے جا رہے ہیں لیکن وہ اتنے بے بس ہیں کہ چُوں بھی نہیں کر سکتے۔ لفظ ’فاسق‘ یہاں غدار اور عہد شکن کے مفہوم میں ہے اور اس مفہوم میں یہ لفظ قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔
      یہاں معترضوں اور نکتہ چینوں کو خطاب نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ اعتراض ایک بالکل نامعقول اعتراض تھا جو انھوں نے محض اپنے دل کا بخار نکالنے کے لیے اٹھایا۔ اس وجہ سے وہ لائق خطاب نہ تھے البتہ مسلمانوں کو خطاب کر کے ان کے اس فعل کی تصویب فرما دی تاکہ غداروں کو اس سے رنج بھی پہنچے اور ساتھ ہی منافقوں کو بھی تنبیہ ہو جائے کہ وہ اس کو وسوسہ اندازی کا ذریعہ نہ بنائیں۔
      رہا یہ سوال کہ مسلمان بحالت جنگ دشمنوں کے باغوں اور کھیتوں کو اجاڑ سکتے ہیں یا نہیں تو یہ کوئی اہم سوال نہیں ہے۔ اگر جنگ کی ضرورت داعی ہو تو وہ ان کے گھروں کو بھی مسمار کر سکتے ہیں چہ جائیکہ ان کے باغ اور کھیت۔ لیکن جنگ کی ضرورت داعی نہ ہو تو ان کی کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی نقصان پہنچانا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اِنھیں اعتراض ہے تو پروا نہ کرو، اِس لیے کہ) کھجوروں کے جو درخت (اِن پر حملے کے وقت) تم نے کاٹ دیے یا جن کو جڑوں پر کھڑا رہنے دیا تو یہ اللہ کے اذن سے ہوا، اور اِس لیے ہوا کہ وہ اِن نافرمانوں کو رسوا کر دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اعتراض یہود کی طرف سے ہوا۔ اُن کے خلاف جنگی اقدام کے لیے مسلمانوں کو اُن کے نخلستانوں سے درخت کاٹنا پڑے۔ یہ درخت کسی تخریب کے ارادے سے یا جذبۂ انتقام کے تحت نہیں، بلکہ جنگی ضرورت کے تحت اور اِن مجرموں کوکیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کاٹے گئے تھے۔ اِسی طرح جو چھوڑے گئے تھے، وہ بھی اِس لیے نہیں چھوڑے گئے تھے کہ مسلمانوں کو اُنھیں اپنے لیے باقی رکھنا تھا، بلکہ اِس لیے چھوڑے گئے تھے کہ جنگ کے مقام پر نہ تھے اور اُنھیں کاٹنے کی ضرورت نہ تھی۔ مگر یہود نے اِسے اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کا ذریعہ بنالیا کہ مسلمان اپنے آپ کو اصلاح کا داعی سمجھتے ہیں، لیکن اِن کا حال یہ ہے کہ فاتحین کے عام طریقے کے مطابق اِنھوں نے پھل والے درخت کاٹے اور اِس طرح تباہی پھیلا دی ہے۔ قرآن نے اِس اعتراض کا جواب دیا ہے، لیکن معترضین چونکہ لائق خطاب نہ تھے، اِس لیے اُن کے بجاے مسلمانوں کو مخاطب کیا ہے کہ اِن کی پروا نہ کرو، تم نے جو کچھ کیا ہے ، اللہ کے رسول کی موجودگی میں اور اُن کی ہدایت کے مطابق کیا ہے، لہٰذا اذن الٰہی کے تحت کیا ہے اور اللہ نے یہ اذن اِس لیے دیا کہ اپنی آنکھوں کے سامنے یہ اپنے ہرے بھرے باغوں کو اجڑتے اور مسلمانوں کے قبضے میں جاتے ہوئے دیکھیں اور قیامت سے پہلے اِسی دنیا میں رسوا ہو جائیں تاکہ خدا کی بات پوری ہو کہ جو خدا کی طرف سے اتمام حجت کے بعد بھی اُس کا مقابلہ کرنے کی جسارت کریں، اُن کا انجام بالآخر یہی ہوتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اللہ نے ان کی طرف سے جو کچھ اپنے رسول کی طرف لوٹایا تو تم نے اس پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ بلکہ اللہ ہے جو اپنے رسولوں کو مسلط کر دیتا ہے جن پر چاہتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک دوسرے سوال کا جواب: یہ دوسرے سوال کا جواب ہے جو بنی نضیر کی متروکہ املاک سے پیدا ہوا اور جس کو منافقین نے اپنی حرص مال کی وجہ سے زیادہ شدت کے ساتھ ہوا دی۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ یہ بھی دشمن سے حاصل شدہ مال ہے اس وجہ سے اس کو بھی مال غنیمت کی طرح پانچواں حصہ نکال کر باقی ہر چیز فوجیوں میں تقسیم کر دی جائے۔ اس سے کچھ ہی پہلے جنگ بدر کے موقع پر ایسا ہی کیا گیا تھا۔ اسی کو سامنے رکھ کر اس کے بارے میں بھی وہی مطالبہ کیا گیا لیکن قرآن نے دونوں صورتوں میں نمایاں فرق ہونے کی وجہ سے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا۔ بدر کے موقع پر مجاہدین کو باقاعدہ جنگ کرنی پڑی تھی جس میں ان کو اپنے اسلحہ اور اونٹ گھوڑے کام میں لانے پڑے جب کہ اس موقع پر اس طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی بلکہ اللہ کے رسول کے دبدبہ سے مرعوب ہو کردشمن نے اپنا علاقہ خود خالی کر دیا۔ اس فرق کی وجہ سے اس کے متعلق حکم ہوا کہ اس کی حیثیت مال فے کی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے دشمنوں سے اپنے رسول کو دلوایا ہے چنانچہ یہ کُل کا کُل اللہ و رسول یابالفاظ دیگر اسلامی حکومت کا ملکیت ہو گا اور اسلام اور مسلمانوں کی اجتماعی بہبود میں صرف ہو گا۔
      مال فے اور اس کا حکم: اسی ’مَآ اَفَآءَ اللّٰہُ‘ سے اسلامی مالیات میں ایک مستقل اصطلاح مال فے کی پیدا ہو گئی جس سے وہ مال مراد ہوا کرتا ہے جو دشمن سے بغیر جنگ کے حاصل ہوا ہو۔ ’فے‘ کے معنی لوٹانے کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اس مال کو غاصبوں سے لے کر اس کے حقیقی حق داروں کو لوٹا دیتا ہے۔
      ’فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِْنۡ خَیْلٍ وَّلَا رِکَابٍ‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ فوجیوں کو مال غنیمت سے جو حصہ دیا جاتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ انھیں اپنے ذاتی اسلحہ، گھوڑے اور اونٹ جنگ میں استعمال کرنے پڑتے تھے یہاں تک کہ اپنا زاد راہ بھی ساتھ رکھنا ہوتا تھا۔ اب صورت حال بالکل تبدیل ہو گئی ہے اس وجہ سے اس زمانے میں دشمن سے جو کچھ بھی حاصل ہو گا اس کی حیثیت فے کی ہوگی، خواہ جنگ سے حاصل ہو یا صلح سے۔
      ’وَّلٰکِنَّ اللّٰہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘۔ سورۂ مجادلہ کی آیت ۲۱ میں گزر چکا ہے کہ

      ’کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ‘
      (اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول)

      اس سنت الٰہی کے تحت رسول کے لیے غلبہ ضروری ہے۔ اس غلبہ کے لیے اللہ کا رسول اپنے رب کے سوا کسی اور کی مدد کا محتاج نہیں ہے اور اس کا رب ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ چاہے تو اس کو دشمنوں کے بڑے سے بڑے ملک پر بغیر کسی فوج ہی کے غالب کر دے۔ اہل ایمان سے اگر وہ مدد کا طالب ہوتا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ ان کی مدد کا محتاج ہے بلکہ اس سے ایک مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ ان کے لیے حصول سعادت کی راہ کھلے اور دوسرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مخلص اور منافق میں امتیاز ہو جائے۔

       

      جاوید احمد غامدی اور (منافقین پوچھتے ہیں تو اُنھیں بتاؤ کہ) جو اموال اللہ نے اِن (یہودیوں) کی طرف سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دیے تواُن پر تم نے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے (کہ اُن پر تمھارا کوئی حق قائم ہو)، بلکہ اللہ ہے جو اپنے رسولوں کو جن پر چاہتا ہے، غلبہ عطا فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      پلٹانے کا یہ لفظ بڑا معنی خیز استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ ہی کا مال تھا جسے اِن ظالموں نے غصب کر رکھا تھا۔ اللہ نے اِس کو واپس لے کر اِس کے حقیقی حق داروں کو دے دیا ہے۔
      یہ اُسی غلبے کا ذکر ہے جو سنت الٰہی کے مطابق ہر رسول کو لازماً حاصل ہوتا ہے۔ زمانۂ رسالت کی جنگیں زیادہ تر اِسی سنت کا ظہور تھیں اور اُن میں لڑنے والوں کی حیثیت بھی اصلاً آلات و جوارح کی تھی۔ وہ اللہ کے حکم پر میدان میں اترے اور براہ راست اُس کے فرشتوں کی مدد سے فتح یاب ہوئے تھے۔ لہٰذا اِن جنگوں کے مال غنیمت پر کسی کا کوئی حق نہ تھا۔ تاہم بنی نضیر کے خلاف اِس اقدام سے پہلے جب مسلمان بدر کے معرکے میں اترے تھے تو اُنھیں باقاعدہ جنگ کرنا پڑی تھی۔ اُنھوں نے اِس کے لیے زادراہ کا بندوبست بھی خود کیا تھا اور اِس کی ضرورتوں کے لیے اسلحہ، گھوڑے اور اونٹ وغیرہ بھی خود مہیا کیے تھے۔ چنانچہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ اجتماعی مقاصد کے لیے رکھ کر باقی مجاہدین میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ بنی نضیر کے خلاف اِس اقدام میں اِس طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی، بلکہ اللہ و رسول کے دبدبے سے مرعوب ہو کر یہودیوں نے اپنا علاقہ خود خالی کر دیا۔ اِس لیے اب کوئی ضرورت نہ تھی کہ اِس کا ایک حصہ مجاہدین میں تقسیم کیا جائے۔ لیکن منافقین اپنی حرص مال کی وجہ سے اِس پر راضی نہیں ہوئے اور اُنھوں نے اعتراض کیا ۔ یہ اُس اعتراض کا جواب ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جو کچھ اللہ بستیوں والوں کی طرف سے اپنے رسول کی طرف لوٹائے تو وہ اللہ اور رسول اور قرابت مندوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ تاکہ اس کی گردش تمہارے مال داروں ہی کے اندر محدود ہو کر نہ رہ جائے۔ اور رسول جو تمہیں دے اس کو لو اور جس سے روکے اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سخت پاداش والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مال غنیمت اور مال فے کے درمیان فرق واضح کرنے کے بعد یہ مال فے کا مصرف بتا دیا کہ یہ کل کا کل اللہ، رسول، رسول کے متعلقین ، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہو گا۔ یعنی اس میں جنگ کرنے والوں کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہاں جو مصارف بیان ہوئے ہیں وہ سب سورۂ انفال میں اموال غنیمت کے سلسلہ میں زیربحث آ چکے ہیں۔ اس وجہ سے یہاں ہم صرف خاص خاص باتوں ہی کی طرف توجہ دلائیں گے۔ تفصیل کے طالب تفسیر سورۂ انفال کی مراجعت کریں۔
      ’لِلّٰہِ وَلِلرَّسَوْلِ‘ میں جہاں تک اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے، وہ کسی مال و متاع کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے نام کا حصہ درحقیقت اس کے بندوں ہی کی طرف لوٹتا ہے اور اسلامی حکومت امین کی حیثیت سے اس کو مستحقین اور مسلمانوں کی اجتماعی بہبود کے کاموں میں صرف کرتی ہے۔
      اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اس میں بحیثیت رسول کے نہیں بلکہ بحیثیت اسلامی حکومت کے سربراہ کے ہے۔ رسول کی حیثیت سے آپ کی کفالت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود اپنے اوپر لی تھی جس کی تصریح خود قرآن میں ہے البتہ جب اسلامی حکومت وجود میں آئی اور اس کے فرائض کا بوجھ بھی آپ کے کندھوں پر پڑا تو ضروری ہوا کہ سرکاری خزانے سے آپ کو بھی اپنی ضروریات کے مطابق لینے کا حق ہو۔ آپ کا یہ حق چونکہ بحیثیت سربراہ حکومت کے تھا اس وجہ سے آپ کی وفات کے بعد یہ آپ کے خلیفہ کی طرف لوٹ گیا۔ اس کی نوعیت کسی ذاتی ملکیت کی نہیں تھی کہ آپ کے بعد اس کی وراثت کو سوال پیدا ہو۔ حضرات ابنیاء علیہم السلام دین کی وراثت چھوڑتے ہیں، اموال و املاک کی وراثت نہیں چھوڑتے۔
      ’وَلِذِی الْقُرْبٰی‘ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اقرباء مراد ہیں جن کی کفالت کی آپ پر ذمہ داری تھی۔ یہ چیز درحقیقت آپ کی ذاتی ضرورت ہی کا ایک حصہ تھی۔ اس کی نوعیت بھی کسی ذاتی جائداد کی نہیں تھی کہ آپ کے بعد یہ وراثت کی حیثیت سے آپ کے خاندان کی طرف لوٹے۔ جس طرح اسلام پر کسی خاص خاندان کا اجارہ نہیں ہے اسی طرح اسلام کی حکومت یا اس کے بیت المال کے کسی حصہ پر بھی کبھی کسی خاندان کا اجارہ نہ ہوا نہ ہو سکتا۔ اس قسم کے خیالات یہودیوں کے زیراثر مفسدین کے ایک گروہ نے مسلمانوں کے اندر پھیلائے لیکن ان کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقرباء کے بعد معاً یتامیٰ، مساکین اور مسافروں کے حق کا ذکر اسلامی نظام میں ان کے مرتبہ و مقام کو واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حقوق کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کے حق کے ساتھ فرمایا ہے۔ اسلامی حکومت کی اولین ذمہ داری ان لوگوں کی کفالت و سرپرستی ہے جو معاشرہ کے اندر بے وسیلہ ہیں۔ اس کے دوسرے فرائض کا درجہ اس کے بعد آتا ہے۔ اگر حکومت اس مقدم ضرورت کو نظرانداز کر کے دوسری ضرورتوں پر بیت المال کی آمدنی خرچ کرتی ہے تو ہر چند وہ ضرورتیں رفاہی اور تمدنی نقطۂ نظر سے اہمیت رکھنے والی ہی کیوں نہ ہوں لیکن وہ اصل حق داروں کے حقوق میں خیانت کی مجرم ہے۔ اور اس امر کے جواز کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں ہے کہ کوئی اسلامی حکومت سرکاری خزانے کا ایک پیسہ بھی فضول قسم کی نمائشوں اور عیاشیوں پر صرف کرے۔ جو حکومت ایسا کرتی ہے وہ اسلامی حکومت نہیں بلکہ شیطانی حکومت ہے۔ اسی قسم کی حکومتوں کی بدولت اس دنیا پر وہ آفت نازل ہوئی جس کو اشتراکیت کہتے ہیں، جس نے انفرادی ملکیت کے تصور ہی کو سرے سے ایک جرم بلکہ تمام جرائم کی اصل قرار دے دیا۔ اور اس جرم کے استیصال کے لیے دنیا میں خون کی ندیاں بہا دیں۔
      ’کَیْ لَا یَکُوْنَ دُوْلَۃًم بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْکُمْ‘۔ ’دُوْلَۃٌ‘ کے معنی گردش کے ہیں۔ ’دالت الایّام‘ کے معنی ہوں گے ’دارالزمان‘ زمانہ نے گردش کی۔ اسی سے ’مداولت‘ ہے جو قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے:

      ’وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ‘ (آل عمران ۳: ۱۴۰)
      (اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں)۔


      مطلب یہ ہے کہ غرباء و یتامیٰ اور بے وسیلہ لوگوں کا حق اس لیے سرکاری بیت المال میں محفوظ کر دیا ہے کہ دولت صرف مال داروں ہی کے درمیان نہ گردش کرتی رہے بلکہ اس کو غریبوں تک پہنچنے کی بھی راہ ملے۔
      اس سے اسلامی اقتصادیات کا یہ اصول واضح ہوا کہ اسلام یہ نہیں پسند کرتا کہ دولت کسی خاص طبقہ کے اندر مرتکز ہو کر رہ جائے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کا بہاؤ ان طبقات کی طرف بھی ہو جو اپنی خلقی کمزوریوں یا فقدان وسائل کے سبب سے اس کے حصول کی جدوجہد میں پورا حصہ نہیں لے سکتے۔ اس مقصد کے لیے اس نے افراد کو زیادہ سے زیادہ انفاق پر ابھارا ہے اور ان کے اس آزادانہ انفاق کو ان کی روحانی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا ہے اور قانون کے ذریعہ سے بھی ہر صاحب مال کے مال میں سے ایک حصہ غریبوں کے حق کی حیثیت سے الگ کر کے حکومت کی تحویل میں دے دیا ہے۔
      معترضین کو تنبیہ: ’وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ‘۔ یہ آخر میں تہدید و وعید ہے کہ رسول جو کچھ دے وہ لے لو اور جس چیز سے روکے اس سے رک جاؤ۔ کسی بات کو اعتراض و نکتہ چینی اور نجویٰ و سرگوشی کا بہانہ نہ بناؤ۔ اللہ سے برابر ڈرتے رہو اور یاد رکھو کہ اللہ بڑی ہی سخت سزا دینے والا ہے۔
      یہ تہدید و وعید دلیل ہے کہ جن سوالوں کے جواب یہاں دیے گئے ہیں وہ منافقین کی طرف سے اٹھائے گئے تھے اور ان کے اٹھانے سے مقصود مسئلہ کی تحقیق نہیں بلکہ، ان کی عادت کے مطابق، اعتراض و نکتہ چینی تھا۔ اگر سوال محض حق کے لیے مخلص مسلمانوں کی طرف سے ہوتا تو اس تہدید کا یہاں کوئی موقع نہیں تھا۔
      ایک حکم خاص سے ایک کلیہ کا استنباط: یہاں رسول کا یہ درجہ جو واضح فرمایا گیا ہے کہ ’جو کچھ وہ دے وہ لے لو اور جس سے روکے اس سے رک جاؤ‘ اگرچہ اس کا ایک خاص محل ہے لیکن اس سے جو حکم مستنبط ہوتا ہے وہ بالکل عام ہو گا۔ یعنی زندگی کے ہر معاملے میں رسول کے ہر حکم کی بے چون و چرا تعمیل کی جائے گی اس لیے کہ رسول کی حیثیت، جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیے ہوئے ایک واجب الاطاعت ہادی کی ہوتی ہے۔ فرمایا ہے:

      ’وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ‘۔ (النساء ۴: ۶۴)
      (اور ہم نے نہیں بھیجا کوئی رسول مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے)

      گویا اس ٹکڑے کے دو مفہوم ہوں گے۔ ایک خاص، دوسرا عام۔ اپنے خاص مفہوم کے پہلو سے یہ اپنے سابق مضمون سے مربوط ہو گا اور اپنے عام مفہوم کے اعتبار سے اس کی حیثیت اسلامی شریعت کے ایک ہمہ گیر اصول کی ہو گی۔

       

      جاوید احمد غامدی (اِس لیے) اِن بستیوں کے لوگوں سے اللہ جو کچھ اپنے رسول کی طرف پلٹائے، وہ اللہ اور رسول اور قرابت مندوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے خاص رہے گا تاکہ وہ تمھارے دولت مندوں ہی میں گردش نہ کرتا رہے۔ اور رسول( کا منصب یہی ہے کہ) جو تمھیں دے، وہ لے لو اور جس چیز سے روکے، اُس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک، اللہ بڑی سخت سزا دینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِن اموال کی صحیح نوعیت بتا دینے کے بعد یہ قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ اِنھیں دین و ملت کی اجتماعی ضرورتوں اور قوم کے غربا و مساکین کے لیے خاص کر دیاگیا ہے، اِن کا کوئی حصہ بھی مجاہدین میں تقسیم نہیں ہو گا۔ اِس کے بعد اِن مقاصد کی تفصیل کر دی ہے:
      سب سے پہلے اللہ کا حق بیان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ، ظاہر ہے کہ ہر چیز سے غنی اور بے نیاز ہے۔ اُس کے نام کا حصہ اُس کے دین ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ لہٰذا اِس کا اصلی مصرف وہ کام ہوں گے جو دین کی نصرت اور حفاظت و مدافعت کے لیے مسلمانوں کا نظم اجتماعی اپنی دینی ذمہ داری کی حیثیت سے انجام دیتا ہے۔
      دوسرا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا گیا ہے۔ آپ کی شخصیت میں اُس وقت نبوت و رسالت کے ساتھ مسلمانوں کی حکومت کے سربراہ کی ذمہ داری بھی جمع ہو گئی تھی اور آپ کے اوقات کا لمحہ لمحہ اپنے یہ منصبی فرائض انجام دینے میں صرف ہو رہا تھا۔ اِس ذمہ داری کے ساتھ اپنی معاش کے لیے کوئی کام کرنا آپ کے لیے ممکن نہ تھا۔ اِس صورت حال میں ضروری ہوا کہ اِس مال میں آپ کا حق بھی رکھا جائے۔ اِس کی نوعیت کسی ذاتی ملکیت کی نہیں تھی کہ اِسے آپ کے وارثوں میں تقسیم کیا جاتا۔ لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد یہ آپ سے آپ اُن کاموں کی طرف منتقل ہو گیا جو آپ کی نیابت میں مسلمانوں کے نظم اجتماعی کے لیے انجام دینا ضروری تھے۔
      تیسرا حق ’ذِی الْقُرْبٰی‘کا بیان کیا گیا ہے۔ اِس سے، ظاہر ہے کہ آپ کے وہ قرابت دار مراد ہیں جن کی کفالت آپ کے ذمہ تھی اور جن کی ضرورتیں پوری کرنا اخلاقی لحاظ سے آپ اپنا فرض سمجھتے تھے۔ آپ کی حیثیت تمام مسلمانوں کے باپ کی تھی۔ چنانچہ آپ کے بعد یہ ذمہ داری عرفاً و شرعاً مسلمانوں کے نظم اجتماعی کو منتقل ہوئی اور ذی القربیٰ کا حق بھی جب تک وہ دنیا میں رہے، اِسی طرح قائم رہا۔
      چوتھا حق یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا ہے۔ اُن کا حق بیان کرتے ہوئے اُس ’ل‘ کا اعادہ نہیں فرمایا جو اوپر اللہ،رسول اور ذی القربیٰ، تینوں کے ساتھ آیا ہے، بلکہ اُن کا ذکر ذی القربیٰ کے ذیل ہی میں کر دیا ہے۔ اِس سے مقصود اِس طبقے کی عزت افزائی ہے کہ گویا یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقربا ہی کے تحت ہیں۔ یہ حق کسی وضاحت کا محتاج نہیں ہے۔ ہر وہ معاشرہ جو اِن طبقات کی ضرورتوں کے لیے حساس نہیں ہے، جس میں یتیم دھکے کھاتے، مسکین بھوکے سوتے اور مسافر اپنے لیے کوئی پرسان حال نہیں پاتے، اُسے اسلامی معاشرے کا پاکیزہ نام نہیں دیا جا سکتا۔
      یہ اِس حکم کی مصلحت بتائی ہے کہ اِن اموال کو مجاہدین میں تقسیم کرنے اور اِس طرح نجی ملکیت میں دینے کے بجاے دین و ملت کی اجتماعی ضرورتوں اور قوم کے غربا و مساکین کی مدد اور کفالت کے لیے کیوں وقف رکھا گیا ہے۔ فرمایا ہے: تاکہ یہ تمھارے دولت مندوں ہی میں گردش نہ کرتے رہیں۔ اِس سے یہ رہنمائی قرآن نے مسلمانوں کے ہر نظم اجتماعی کو دی ہے کہ دولت غریب و امیر جس کی بھی نجی ملکیت میں دی جائے گی، بالآخر دولت مندوں ہی میں گردش کرنا شروع کر دے گی، اِس لیے ضروری ہے کہ وہ تمام اموال و املاک جو کسی فرد کی ملکیت نہیں ہیںیا نہیں ہو سکتے، اُنھیں ریاست کی ملکیت میں رکھا جائے اور نظم اجتماعی سے متعلق بعض دوسری ذمہ داریوں کے ساتھ اُن لوگوں کی ضرورتیں بھی اُن سے پوری کی جائیں جو اپنی خلقی کمزوریوں یا اسباب و وسائل سے محرومی کے باعث دوسروں کی مدد کے محتاج ہو جاتے ہیں۔
      یہ تہدید وو عیدبتا رہی ہے کہ اوپر جو وضاحت کی گئی ہے، وہ منافقین کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراض کے جواب میں کی گئی ہے ، اِس لیے کہ سوال اگر محض تحقیق مسئلہ کے لیے اور مخلصین کی طرف سے ہوتا تو اِس تہدید کا کوئی موقع نہیں تھا۔

      zakah
    • امین احسن اصلاحی یہ خاص طور پر ان محتاج مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنی املاک سے نکالے گئے ہیں اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہوئے۔ یہی لوگ اصل راست باز ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اموال فَے کا ایک ہنگامی مصرف: اموال فے کا عام مصرف بتانے کے بعد یہ اس کے ایک خاص مصرف کی طرف اشارہ فرمایا جو وقت کا سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والا مصرف اور تمام مسلمانوں کی یکساں توجہ کا مستحق تھا۔ یعنی مہاجرین کی امداد جو اس وقت ہر طرف سے اپنے گھروں سے اجڑ اکھڑ کر مدینہ آ رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کو ازسرنو بسانے اور ان کی معاشی زندگی کو پھر سے متحرک کرنے کی ذمہ داری اس چھوٹے سے اسلامی معاشرہ ہی پر عائد ہوتی تھی جو ابھی نیا نیا مدینہ کی سرزمین میں ابھر رہا تھا۔ یہ صورت مقتضی تھی کہ اموال فَے کو حکومت کی تحویل میں دیا جائے تاکہ اس طرح کے ملی مسائل کے حل کے لیے اس کے پاس وسائل موجود رہیں۔
      مہاجرین کی تعریف: ان مہاجرین کی تعریف میں فرمایا کہ یہ لوگ اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے مجبور کر کے نکالے گئے ہیں اور انھوں نے اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب اور اللہ اور اس کے رسول کی نصرت کے مقصد سے اپنی املاک سے یہ محرومی اور اپنے گھر در سے یہ مہجوری برداشت کی ہے اس وجہ سے یہ مستحق ہیں کہ ان کے دینی بھائی پوری فراخ دلی اور سیرچشمی سے ان کی مدد کریں۔ ’یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًا‘ سے اشارہ اس ایمانی زادراہ کی طرف ہے جس کے اعتماد پر یہ مہاجرین اپنے گھروں اور اپنی املاک سے بغیر اس بات کی پروہ کیے اٹھ کھڑے ہوئے کہ کیا کھائیں گے اورکہاں سر چھپائیں گے۔ اور ’یَنۡصُرُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ‘ سے اس مقصد کی طرف اشارہ ہے جس مقصد عزیز کے لیے یہ بازی انھوں نے کھیلی۔ یعنی انھوں نے یہ چاہا کہ وہ اللہ کے رسول کے ہم رکاب رہیں تاکہ ہر قدم پر اللہ اور اس کے رسول کی مدد کے لیے سربکف رہ سکیں۔
      ’اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصَّادِقُوْنَ‘۔ فرمایا کہ یہی لوگ درحقیقت اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں کہ انھوں نے اللہ کی رضا طلبی اور رسول کی نصرت کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا نہ کہ یہ منافقین جو مدعی تو ہیں ایمان کے لیکن اللہ کی راہ میں معمولی چوٹ کھانے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ بس یہ چاہتے ہیں کہ گھر بیٹھے بٹھائے انھیں لقمۂ تر ہاتھ آتا رہے۔ ان منافقین ہی کے بارے میں آگے اسی سورہ کی آیت ۱۱ میں فرمایا ہے کہ

      ’وَاللَّہُ یَشْہَدُ إِنَّہُمْ لَکَاذِبُوْنَ‘
      (اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین بالکل جھوٹے ہیں)۔

       

      جاوید احمد غامدی پھر یہ بالخصوص اُن غریب مہاجروں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور جائدادوں سے نکال باہر کیے گئے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل اور اُس کی خوشنودی چاہتے ہوئے اور اللہ اور اُس کے رسول کی حمایت کرتے ہوئے آئے ہیں۔ یہی راست باز ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِن اموال کا ایک خاص مصرف بتایا ہے جو اُس وقت کے حالات میں پیدا ہو گیا تھا اور تمام مسلمانوں کی یکساں توجہ کا مستحق تھا۔ یعنی اُن مہاجرین کی امداد جو ہجرت کرکے مدینہ آ رہے تھے اور اپنے گھروں اور اپنی املاک اور جائدادوں سے محض اللہ کے بھروسے پر اور اِس بات کی پروا کیے بغیر اٹھ کھڑے ہوئے تھے کہ کیا کھائیں گے اور کہاں سر چھپائیں گے۔
      یہ اِن مہاجرین کی تعریف میں فرمایا ہے کہ اِنھیں یہ ہجرت کسی دنیوی مقصد کے لیے نہیں، بلکہ خالص اللہ کی خوشنودی اور اُس کے پیغمبر کی نصرت کے لیے کرنا پڑی ہے۔

      zakah
    • امین احسن اصلاحی اورجو لوگ پہلے سے ٹھکانے بنائے ہوئے اور ایمان استوار کیے ہوئے ہیں وہ دوست رکھتے ہیں ان لوگوں کو جو ہجرت کر کے ان کی طرف آ رہے ہیں اور جو کچھ ان کو دیا جا رہا ہے اس سے وہ اپنے دلوں میں کوئی خلش نہیں محسوس کر رہے ہیں اور وہ ان کو اپنے اوپر ترجیح دے رہے ہیں اگرچہ انھیں خود احتیاج ہو۔ اور جو خود غرضی سے محفوظ رکھے گئے تو درحقیقت وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انصار اور مہاجرین اولین کی سیرچشمی کی تحسین: یہ انصار و مہاجرین اولین کی سیر چشمی اور ان کی فراخ دلی کی تعریف ہے کہ اس بات سے ان کے دل تنگ نہیں ہو رہے ہیں کہ مہاجروں کے قافلے پر قافلے ان کے غنائم و فَے میں حصہ بٹانے کے لیے چلے آ رہے ہیں بلکہ وہ بڑی فراخ دلی سے ان کا خیر مقدم کر رہے ہیں اور ان کی جو مدد کی جا رہی ہے اس سے اپنے دلوں میں کوئی رشک و حسد محسوس کرنے کے بجائے وہ اپنے اوپر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انھیں خود ضرورت لاحق ہو۔
      عربیت کا ایک ضابطہ: ’تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَالْإِیْمَانَ‘ اسی طرح کی ترکیب ہے جس طرح ’عَلّفتہ تبنا وماء‘ (میں نے اس کو چارہ کھلایا اور پانی پلایا) یا ’زججن الحواجب والعیونا، یا قُلّدنی سیفا ورمحا‘ وغیرہ مختلف ترکیبیں عربی میں معروف ہیں۔ اس طرح کی ترکیبوں میں ایک فعل، جو دوسرے مفعول سے مناسبت رکھنے والا ہو، محذوف ہوتا ہے جو قرینہ سے سمجھ لیا جاتا ہے۔ چنانچہ مذکورہ تینوں مثالوں میں ایک ایک فعل محذوف ہے۔ اسی طرح اس آیت میں بھی ایک فعل ’الایمان‘ سے مناسبت رکھنے والا محذوف ہے۔ اگر یہاں ’احکموا‘ یا اس کے ہم معنی کوئی فعل محذوف مانیے تو پوری عبارت یوں ہو گی: ’تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَاَحْکَمُوا الْإِیْمَانَ‘ یعنی جنھوں نے پہلے سے گھر ٹھکانا بھی بنا رکھا ہے اور اپنے ایمان کو بھی مضبوط کر رکھا ہے۔
      اس کے اولین مصداق تو ظاہر ہے کہ انصار ہی ہوں گے اس لیے کہ وہ پہلے سے اپنے گھردر بھی رکھتے تھے اور ایمان کی نعمت سے بھی متمتع تھے لیکن میرے نزدیک اس میں وہ مہاجرین اولین بھی شامل ہیں جو پہلے ہی ہجرت کر کے مدینہ پہنچ چکے تھے اور وہاں اللہ نے ان کے لیے قیام و معاش کی قابل اطمینان صورت بھی پیدا کر دی تھی۔ اس طرف ذہن ’مِنْ قَبْلِہِمْ‘ کے الفاظ سے جاتا ہے۔ اس لیے کہ مہاجرین اولین ہی کا یہ درجہ ہے کہ انھوں نے مہاجرین متاخرین کے مقابل میں ایمان اور ہجرت دونوں میں سبقت کی۔ جہاں تک انصارکا تعلق ہے ان کو گھر در والے ہونے کے معاملے میں تو تقدم ضرور حاصل تھا لیکن ایمان کے معاملہ میں یہ کہنا صحیح نہیں ہو سکتا کہ ان کو تمام مہاجرین کے مقابل میں تقدم حاصل تھا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعد کے مہاجرین کے مقابل میں ان کو بحیثیت مجموعی تقدم حاصل تھا۔ ہاں انصار کے ساتھ اگر مہاجرین اولین کو بھی شامل کر لیجیے تب ان کے اوپر ’الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَالْإِیْمَانَ‘ کے الفاظ ٹھیک ٹھیک منطبق ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ دونوں مل کر بعد والوں کے مقابل میں باعتبار سکونت مدینہ بھی مقدم ہیں اور باعتبار قبول اسلام بھی۔
      فرمایا کہ یہ لوگ نئے آنے والے مہاجرین سے محبت رکھتے اور پوری فراخ دلی سے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ان کے دل اس بات سے تنگ نہیں ہو رہے ہیں کہ مہاجرین کے قافلے پر قافلے چلے آ رہے ہیں اور جو مال انھیں ملنا چاہیے تھا وہ سب ان پر صرف ہو رہا ہے یا اب وہ بھی اس میں حصہ دار بن جائیں گے بلکہ وہ نہایت سیرچشمی کے ساتھ اپنی ضروریات پر ان کی ضرورت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
      ان کی اس تعریف سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ اہل ایمان کو اسی طرح باہم دگر ہمدرد، فیاض اور ایثار کرنے والا ہونا چاہیے۔ یہ گویا ایک آئینہ رکھا گیا ہے ان منافقین کے سامنے جنھوں نے بنی نضیر کے چھوڑے ہوئے اموال سے متعلق یہ مطالبہ پیش کیا کہ اس کو مال غنیمت کی طرح لوگوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ اس آئینہ میں انھیں دکھایا گیا ہے کہ مسلمان اپنے دوسرے بھائی کے لیے اس طرح فیاض ہوتا ہے تاکہ انھیں اپنی خود غرضی پر کچھ شرم آئے۔
      ’وَمَنْ یُوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَأُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‘۔ یہ ان انصار و مہاجرین کے لیے فلاح کی بشارت بھی ہے اور نفس انسانی کی ایک بہت خطرناک بیماری سے آگاہی بھی۔ ’شُحَّ‘ کے معنی حرص و طمع اور لالچ کے ہیں۔ نفس کی طرف اس کی نسبت سے یہ بات تو نکلتی ہے کہ یہ نفس کے وداعی میں سے ایک داعیہ ہے لیکن ساتھ ہی اس سے بچتے رہنے کے لیے جو آگاہی دی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطرناک داعیہ ہے۔ اگر اس کو آدمی قابو میں نہ رکھ سکے تو یہ چیز اس کی آخرت کو برباد کر دیتی ہے۔ اس ٹکڑے میں منافقین کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ وہ اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ اگر انھوں نے اس کے علاج کی فکر نہ کی تو وہ ابدی خسران سے دوچار ہوں گے۔ میں نے اس کے اسی خطرناک پہلو کو واضح کرنے کے لیے اس کا ترجمہ خود غرضی کیا ہے۔ ایک حدیث میں اس کی وضاحت یوں آئی ہے۔:

      ’ایّاکم والشحّ فانہ اھلک من کان قبلکم امرھم بالظلم فظلموا وامر بالفجور ففجروا امرھم بالقطیعۃ فقطعوا‘
      (شحّ (خود غرضی) سے بچو! یہی چیز ہے جس نے تم سے پہلے کی قوموں کو تباہ کیا، اس نے ان کو ظلم کی راہ سجھائی تو انھوں نے ظلم کیے، اس نے ان کو فسق و فجور کا حکم دیا تو انھوں نے فسق و فجور کا ارتکاب کیا، اس نے ان کو قطع رحم پر ابھارا تو انھوں نے قطع رحم کیا)۔

      ایک سوال اور اس کا جواب: ایک اہم سوال اس آیت کے موقع و محل سے متعلق بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہاں یہ کیا بات بتانے کے لیے وارد ہوئی ہے؟ ہمارے مفسرین کا خیال تو یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں جس طرح یہ بات بیان ہوئی ہے کہ اموال فے میں مہاجرین کا حصہ ہے اسی طرح اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اس میں انصار کا بھی حصہ ہے، لیکن یہ بات کسی طرح سمجھ میں نہیں آتی۔ مہاجرین کے ذکر کی ضرورت تو اس وجہ سے تھی کہ ان کے سبب سے اس وقت حکومت ایک ایسی صورت حال سے دوچار تھی جو مقتضی ہوئی کہ حکومت کے پاس ایسے وسائل موجود رہیں کہ وہ اس طرح کی نازک صورت حال سے عہدہ برآ ہو سکے۔ گویا ان کا ذکر اموال فے کے حکومت کی ملک میں دینے کی ایک دلیل کے طور پر آیا۔ اس ذیل میں انصار کے ذکر کی کیا ضرورت تھی؟ یہ شبہ تو کسی کے ذہن میں تھا نہیں کہ انصار اس مال میں حق دار نہیں ہیں۔ جب تمام یتامیٰ، فقراء اور مساکین کا حق اس میں بیان ہوا تو ظاہر ہے کہ انصار کے فقراء و مساکین بھی اس میں حق دار ٹھہرے۔ پھر انصار کے خاص طور پر ذکر کرنے کی ضرورت کیا پیش آئی اور وہ بھی ’وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَالْإِیْمَانَ‘ کی صفت کے ساتھ، جو ان کی احتیاج کو نہیں بلکہ ان کے مستغنی ہونے کو ظاہر کرتی ہے؟
      ہمارے نزدیک مفسرین نے اس آیت کا موقع و محل بالکل نہیں سمجھا ہے۔ اس آیت کو اس بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ انصار اموال فے میں حصہ دار ہیں یا نہیں۔ نہ کسی کے ذہن میں یہ سوال تھا، نہ اس کے پیدا ہونے کی کوئی وجہ تھی اور نہ اس کے جواب کا کوئی فائدہ تھا۔ یہاں جو بات بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ انصار اور مہاجرین اولین (جو پہلے سے گھر در والے اور ایمان سے بہرہ مندہ ہیں) اپنی طرف ہجرت کر کے آنے والے بھائیوں کو منافقین کی طرح اپنے لیے کوئی معاشی خطرہ نہیں سمجھتے بلکہ ان کا محبت سے خیر مقدم کرتے اور ان کے لیے ہر قسم کا ایثار کرتے ہیں اور یہی رویہ ایمانی اخوت کا حقیقی تقاضا ہے۔ جو ہر سچے مسلمان کو اختیار کرنا چاہیے۔

       

      جاوید احمد غامدی (اِس کے برخلاف) جو لوگ اِس دیار کو اِن سے پہلے ٹھکانا بنائے ہوئے اور اپنا ایمان محکم کیے ہوئے ہیں، وہ اُن لوگوں سے محبت رکھتے ہیں جو( اُن کے بعد اب) ہجرت کرکے اُن کی طرف آ رہے ہیں اور جو کچھ اِن (مہاجروں) کو دیا جا رہا ہے، اُس سے اپنے دلوں میں کوئی خلش محسوس نہیں کرتے اور اُنھیں اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں، خواہ اپنی جگہ خود ضرورت مند ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو خودغرضی سے بچا لیے جائیں، وہی فلاح پانے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی انصار اور مہاجرین اولین جو ابتداہی میں ہجرت کرکے آگئے تھے۔ اُن کے لیے اصل میں ’تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِیْمَانَ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ کس طرح کی ترکیب ہے؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...(یہ) اُسی طرح کی ترکیب ہے، جس طرح ’علفتہ تبنًا وماءً‘ (میں نے اُس کو چارہ کھلایا اور پانی پلایا) یا ’زججن الحواجب والعیونا‘، یا ’قلدنی سیفًا ورمحًا‘ وغیرہ مختلف ترکیبیں عربی میں معروف ہیں۔ اِس طرح کی ترکیبوں میں ایک فعل جو دوسرے مفعول سے مناسبت رکھنے والا ہو، محذوف ہوتا ہے جو قرینے سے سمجھ لیا جاتا ہے۔ چنانچہ مذکورہ تینوں مثالوں میں ایک ایک فعل محذوف ہے۔ اِسی طرح اِس آیت میں بھی ایک فعل ’الْاِیْمَان‘ سے مناسبت رکھنے والا محذوف ہے۔ اگر یہاں ’احکموا‘ یا اِس کے ہم معنی کوئی فعل محذوف مانیے تو پوری عبارت یوں ہو گی: ’تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَاَحْکَمُوا الْاِیْمَانَ‘، یعنی جنھوں نے پہلے سے گھر ٹھکانا بھی بنا رکھا ہے اور اپنے ایمان کو بھی مضبوط کر رکھا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۲۹۴)

      یہ اُن منافقین کے سامنے گویا آئینہ رکھ دیا ہے جن کے اعتراض کا جواب اوپر دیا ہے کہ سچے اہل ایمان اِس طرح ایک دوسرے کے ہمدرد، سیر چشم، فیاض اور ایثار کرنے والے ہوتے ہیں۔ اِس سے مقصود یہ ہے کہ اُنھیں بھی اپنی خودغرضی پر کچھ شرم آئے۔

       

      zakah
    • امین احسن اصلاحی اور جو ان کے بعد آئے وہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم کو بھی بخش اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش جنھوں نے ایمان لانے میں ہم پر سبقت کی اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کینہ نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے رب، بے شک تو نہایت شفیق و مہربان ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مہاجرین متاخرین کی تحسین: انصار اور مہاجرین اولین کا رویہ بیان کرنے کے بعد یہ مہاجرین متاخرین کا رویہ بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ان کے دلوں میں بھی اپنے سابق الایمان اور سابق الہجرت بھائیوں کے لیے بڑا اخلاص اور بڑی محبت ہے۔ ان کو یہ حسد نہیں ہے کہ انھوں نے پہلے پہنچ کر تمام میسر وسائل و اسباب پر قبضہ جما لیا اور گھردر والے بن گئے جب کہ یہ ابھی ہر چیز سے محروم ہیں بلکہ یہ نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے اور اپنے ان بھائیوں کے لیے دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم کو بھی بخش اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش جن کو ایمان و ہجرت میں ہم پر سبقت کی سعادت حاصل ہوئی اور اے ہمارے رب، ہمارے دلوں کے اندر ہمارے باایمان بھائیوں کے خلاف کوئی کدورت نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے رب، تو نہایت شفیق و مہربان ہے۔
      ’وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلّاً لِّلَّذِیْنَ آمَنُوْا‘ میں ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اپنے مقابل میں ان کے بہتر حالات دیکھ کر شیطان ہمارے دلوں میں کوئی کینہ و حسد کا جذبہ پیدا کرے۔ بلکہ تو اپنی شفقت و عنایت سے ان کے حق میں ہمارے دلوں کو مہر و محبت سے معمور رکھنا۔ یہاں منافقین کے دلوں کے اس روگ پر نظر رہے جو اوپر ’شُحّ‘ کے لفظ سے بیان ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان اصحاب صدق و صفا کے دل اس قسم کے امراض سے بالکل پاک صاف ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اور یہ جو اُن کے بعد آئے ہیں، وہ بھی یہی دعا کرتے ہیں کہ پروردگار، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ایمان لانے میں ہم پر سبقت لے گئے اور اِن اہل ایمان کے لیے ہمارے دلوں میں کوئی بغض نہ پیدا ہونے دے۔ پروردگار، تو بڑا مہربان ہے،تیری شفقت ابدی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی انصار اور مہاجرین اولین اگر سراپا ایثار ہیں تو بعد میں ہجرت کرکے آنے والے بھی اُن کے اخلاص کی قدر کرتے اور اُن سے بڑی محبت رکھتے ہیں۔ اُن کو یہ حسد نہیں ہے کہ اِن لوگوں نے مدینہ کے وسائل پر ہم سے پہلے قبضہ جما رکھا ہے۔ چنانچہ وہ دعا کرتے ہیں کہ اُن کے دل اپنے بھائیوں کے لیے مہر و محبت سے معمور رہیں اور شیطان اُن کے اندر کسی مسلمان بھائی کے لیے بغض اور کینہ و حسد پیدا نہ کر دے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو نفاق میں مبتلا ہیں وہ اپنے ان بھائیوں سے، جنھوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا ہے، کہتے ہیں کہ اگر آپ لوگ نکالے جاؤ گے تو ہم بھی لازماً آپ لوگوں کے ساتھ نکل جائیں گے اور آپ لوگوں کے بارے میں ہم کسی کی بھی بات نہیں مانیں گے اور اگر آپ لوگوں سے جنگ کی گئی تو ہم ضرور آپ لوگوں کی مدد کریں گے! اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین کا سازباز بنو قریظہ سے: ’اَلَمْ تَرَ‘ کا خطاب اظہار تعجب کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ذرا ان مدعیان ایمان کو تو دیکھو، ایک طرف ایمان کا دعویٰ ہے دوسری طرف ان اہل کتاب سے، جنھوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دعوت و رسالت کا انکار کیا ہے، محبت کی پینگیں بھی بڑھائی جا رہی ہیں۔
      ’لِإِخْوَانِہِمُ‘ کے الفظ سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ جن منافقین کا ذکر ہے یہ یہودیوں ہی کے اندر سے آئے ہوئے تھے۔ اپنے مصالح کی خاطر یہ یہودیوں سے تو نکل آئے لیکن یہودیت ان کے اندر سے نہیں نکلی تھی۔ اپنے سیاسی و معاشی مفادات کے حد تک یہ مسلمانوں کے ساتھ تھے باقی ان کی اصل ہمدردی اپنے بھائیوں ہی کے لیے تھی۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ منافقین میں زیادہ تعداد انہی افراد کی تھی جو پہلے یہودی تھے او رانہی کا رویہ ان سورتوں میں زیربحث ہے۔ عربوں میں سے جو لوگ اسلام لائے ان میں منافق بہت کم تھے اور ان کے نفاق کی نوعیت بھی مختلف تھی۔ آگے سورۂ ممتحنہ میں اس گروہ کا رویہ زیربحث آئے گا۔
      ’اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ‘ میں یہود کے جس گروہ کی طرف اشارہ ہے اس کے تعین میں لوگوں کو بڑا اضطراب پیش آیا ہے لیکن میں اس بات پر مطمئن ہوں کہ یہ اشارہ یہود بنی قریظہ کی طرف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مدینہ کے جوار میں یہود کے تین ہی بڑے قبیلے آباد تھے: بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ۔ بنو قینقاع کا قصہ پہلے ہی پاک ہو چکا تھا۔ بنو نضیر کا حشر اسی سورہ میں اوپر بیان ہوا۔ اس کے بعد صرف بنو قریظہ بچ رہے تھے جو مدینہ سے کچھ فاصلہ پر آباد تھے اس وجہ سے منافقین کے جس سازباز کا ذکر ہے وہ انہی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ ان کا خاتمہ غزوۂ خندق کے معاً بعد ہوا ہے جس کی تفصیل سورۂ احزاب میں گزر چکی ہے۔
      ’لَئِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ وَلَا نُطِیْعُ فِیْکُمْ أَحَدًا أَبَدًا وَإِنۡ قُوْتِلْتُمْ لَنَنصُرَنَّکُمْ‘۔ ان منافقین نے ان کو اطمینان دلانا شروع کیا کہ اگر آپ لوگوں کو بھی بنو نضیر کی طرح یہاں سے نکالنے کی کوشش کی گئی تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکل جائیں گے اور آپ لوگوں کے معاملے میں ہم کسی کے حکم یا مشورہ کی ہرگز کوئی پروا نہ کریں گے۔ اور اگر جنگ کی نوبت آئی تو ہم آپ لوگوں کی مدد کریں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنو قریظہ کو یہ اندیشہ تھا کہ اب جلد ہی ان کی باری بھی آنے والی ہے اور یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان منافقین کے وعدوں پر ان کو کچھ زیادہ بھروسہ نہیں تھا۔ وہ بنو نضیر کے معاملے میں اندازہ کر چکے تھے کہ یہ صرف زبان کے غازی ہیں۔ چنانچہ منافقین کو بڑی تاکید و توثیق کے ساتھ ان کو اپنے عہد پر مطمئن کرنے کی کوشش کرنی پڑی۔ یہاں تک کہ یہ اطمینان بھی انھوں نے دلایا کہ وہ اس معاملے میں کسی کی پروا نہیں کریں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ اشارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں اپنے اس عہد کی خاطر ان لوگوں سے قطع تعلق بھی کر لینا پڑا تو ہم یہ بھی کر گزریں گے۔
      ’وَاللہُ یَشْہَدُ إِنَّہُمْ لَکَاذِبُوْنَ‘ ۔ جس قسم و تاکید کی ساتھ ان منافقین نے بنو قریظہ کو اپنی حمایت کا یقین دلایا اسی تاکید و توثیق کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹا قرار دیا۔ ’وَاللہُ یَشْہَدُ‘ کے الفاظ، ہم واضح کر چکے ہیں، کہ قسم کے مفہوم میں آتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی تم نے دیکھے نہیں وہ لوگ جو منافقت میں مبتلا ہیں؟ وہ اپنے اُن اہل کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں جو (پیغمبر کے) منکر ہیں (اور باقی رہ گئے ہیں): تمھیں نکالا گیا تو ہم بھی لازماً تمھارے ساتھ نکلیں گے اور تمھارے معاملے میں ہم کسی کی بات کبھی نہ مانیں گے اور تم سے جنگ کی گئی تو ضرور تمھاری مدد کریں گے۔ مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ خطاب اظہار تعجب کے لیے ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...مطلب یہ ہے کہ ذرا اِن مدعیان ایمان کو تو دیکھو، ایک طرف ایمان کا دعویٰ ہے، دوسری طرف اُن اہل کتاب سے جنھوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دعوت و رسالت کا انکار کیا ہے، محبت کی پینگیں بھی بڑھائی جارہی ہیں۔‘‘ (تدبرقرآن ۸/ ۳۰۰)

      اِس سے بنو قریظہ مراد ہیں۔ مدینہ کے جوار میں یہود کے تین ہی بڑے قبیلے آباد تھے: بنوقینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ۔ بنو قینقاع پہلے ہی نکالے جا چکے تھے۔ بنو نضیر کا حشر اوپر بیان ہو گیا ہے۔ اِس کے بعد صرف بنو قریظہ باقی رہ گئے تھے۔ چنانچہ یہ منافقین جو یہودہی سے آئے تھے، اب اپنے اِن بھائیوں کے ساتھ سازباز کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ قرآن نے آگے اِسی سے پردہ اٹھایا ہے۔
      یعنی تمھارے معاملے میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کچھ کہیں یا مسلمان، کسی کی بات نہ مانیں گے۔ بنو قریظہ کو اِس تاکید و توثیق کے ساتھ اپنی مدد کا یقین دلانے کی ضرورت اِن منافقین کو غالباً اِس لیے پیش آئی کہ اِس سے پہلے بنو نضیر کے ساتھ بھی یہ اِسی طرح کے وعدے کرتے رہے تھے، لیکن وقت آیا تو صرف زبان کے غازی ثابت ہوئے تھے۔

       

    • امین احسن اصلاحی اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر ان کی مدد بھی کریں گے تو پیٹھ دکھائیں گے پھر ان کی کوئی مدد نہیں ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین کی تردید: یہ قرآن نے ان کے ایک ایک قول و قرار کی تکذیب کر دی کہ وقت آنے پر یہ اپنی ایک بات میں بھی سچے ثابت نہیں ہوں گے۔ اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کا ساتھ نہیں دیں گے، اگر ان پر حملہ ہوا تو یہ ان کی حمایت میں اٹھنے والے نہیں ہیں اور اگر اٹھے تو منہ کی کھائیں گے اور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ چنانچہ یہی ہوا کہ وقت پر کوئی بھی ان کے کام نہ آیا۔ ان کے عبرت انگیز انجام کی تفصیل سورۂ احزاب کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
      وقت پر بنو قریظہ کا کسی نے ساتھ نہ دیا: یہاں بالاجمال اتنی بات یاد رکھیے کہ بنو نضیر کی طرح انھوں نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ امن و صلح کا معاہدہ کر رکھا تھا۔ غزوۂ خندق کے موقع پر مشہور یہودی حیّ بن اخطب نے ان کو نقض عہد پر ابھارا۔ اس نے ان کو سمجھایا کہ اس وقت قریش اور غطفان اپنی پوری جمعیت کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں، اگر تم بھی میدان میں آ جاؤ تو بس سمجھو کہ مسلمانوں کا خاتمہ ہے۔ اس کے چکمے میں آ کر بنو قریظہ بھی، معاہدہ توڑ کر حملہ آوروں میں شریک ہو گئے۔ غزوۂ خندق کا جو انجام ہوا وہ معلوم ہے۔ اس سے فارغ ہوتے ہی حضورؐ نے بنو قریظہ کا رخ کیا اور ان کا محاصرہ کر لیا۔ اس وقت کسی نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا بالآخر انھیں مجبور ہو کر اپنی قسمت کا فیصلہ حضرت سعد بن معاذؓ کے ہاتھ میں دینا پڑا۔ اس فیصلہ کی تفصیل سورۂ احزاب میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سعدؓ کے ہاتھوں ان کی جڑ ہی کاٹ دی۔
      ’ثُمَّ لَا یُنۡصَرُوْنَ‘۔ یعنی پھر ان کے لیے امید کے تمام دروازے بند ہو جائیں گے۔ یہ اللہ کی فیصلہ کن پکڑ ہو گی اور جو لوگ اللہ کی پکڑ میں آ جاتے ہیں ان کو پھر کوئی بھی سہارا نہیں دے سکتا۔

      جاوید احمد غامدی وہ نکالے گئے تو یہ ہرگز اُن کے ساتھ نہ نکلیں گے اور اُن سے جنگ کی گئی تو یہ ہرگز اُن کی مدد نہ کریں گے اور (بالفرض) کریں گے تو لازماً پیٹھ دکھائیں گے، پھر کہیں سے کوئی مدد نہ پائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      قرآن کی یہ بات حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ غزوۂ خندق کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا محاصرہ کیا تو کوئی بھی اُن کے کام نہ آیا اور اُنھیں مجبور ہو کر اپنی قسمت کا فیصلہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دینا پڑا۔ اُن کے اِس عبرت ناک انجام کا قصہ سورۂ احزاب میں بیان ہوا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ کے بالمقابل تمہاری دہشت ان کے دلوں میں زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سمجھ رکھنے والے لوگ نہیں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جو اللہ سے نہیں ڈرتے وہ بندوں سے ڈرتے ہیں: یعنی تمہارے مقابل میں یہ اپنے بھائیوں کی نصرت کے لیے اس وجہ سے نہیں اٹھیں گے کہ اللہ سے زیادہ تمہاری دہشت ان کے دلوں میں سمائی ہوئی ہے۔ اللہ کی مخالفت اور نافرمانی تو یہ سِرّاً بھی کرتے ہیں اور علانیۃً بھی لیکن تمہارے مقابل میں اٹھنے کا حوصلہ یہ کبھی کرنے والے نہیں ہیں۔
      ’ذٰلِکَ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ‘۔ یعنی یہ بات ہے تو عجیب سی کہ یہ خدا سے ڈھیٹ اور تم سے دہشت زدہ ہیں لیکن جن کی مت ماری جاتی ہے ان کا یہی حال ہوتا ہے کہ وہ صاحبِ تازیانہ سے نہیں بلکہ صرف تازیانہ سے ڈرتے ہیں۔ اگر ان کے اندر ذرا بھی عقل و ایمان کی رمق ہوتی تو یہ سوچ سکتے تھے کہ جب وہ اپنے اصل مالک کو اپنے اوپر غضب ناک بنا چکے ہیں تو اس کے دربانوں اور نوکروں سے چھپ کر کتنے دن اپنے کو بچا سکیں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ عقل اور فطرت کے بدیہی حقائق کے سمجھنے سے دل اس وقت محروم ہوتا ہے جب بدیہیات کی خلاف ورزی کے جرم میں اللہ تعالیٰ اس پر مہر کر دیا کرتا ہے۔ چنانچہ منافقین ہی کے باب میں ارشاد ہوا ہے کہ

      ’ذٰلِکَ بِأَنَّہُمْ آمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لَا یَفْقَہُوْنَ‘ (المنٰفقون ۶۳: ۳)
      (یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ پہلے ایمان لائے پھر انھوں نے کفر کیا پس ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی، پس وہ سمجھنے سے رہ گئے)۔

       

      جاوید احمد غامدی اِن کے دلوں میں خدا سے بڑھ کر تمھاری دہشت ہے، اِس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ ایک حقیقت کا بیان ہے، اِس لیے کہ اُس شخص سے زیادہ بے سمجھ کون ہو سکتا ہے جو بندوں سے ڈرے اور خدا سے نہ ڈرے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ تم سے کبھی اکٹھے ہو کر میدان میں نہیں لڑیں گے بلکہ قلعہ بند بستیوں میں یا دیواروں کی اوٹ سے لڑیں گے۔ ان کے درمیان شدید مخاصمت ہے۔ تم ان کو متحد گمان کر رہے ہو حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ عقل سے کام نہیں لیتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی ان بزدلوں کی ان گیدڑ بھبکیوں کو ذرا اہمیت نہ دو۔ ان میں اتنا جِیوٹ نہیں ہے کہ یہ کبھی میدان میں نکل کر، منظم فوج کشی کی صورت میں، تم سے نبرد آزمائی کا حوصلہ کر سکیں۔ میدان میں نکلنا تو درکنار، ان پر تو اگر حملہ بھی ہوا تو یہ باہر نکل کر مدافعت کا حوصلہ نہیں کریں گے بلکہ بستیوں میں قلعہ بند ہو کر یا گھروں میں محصور ہو کر، دیواروں کی اوٹ ہی سے، اپنے کو بچانے کی کوشش کریں گے۔ یہ امر واضح رہے کہ قلعہ بند یا محصور ہو کر اول تو صرف دفاعی جنگ ہی لڑی جا سکتی ہے، حملہ آورانہ جنگ کا اس صورت میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ثانیاً دفاعی پہلو سے بھی سب سے زیادہ کمزور جنگ یہی ہے۔ صرف مجبوری کی حالت ہی میں یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ یہود کے متعلق یہ بات یا درکھیے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف قریش اور ان کے حلیفوں کو ابھارنے کے معاملے میں تو بڑے شاطر رہے ہیں لیکن یہ کبھی کھل کر میدان میں نہیں آئے اور جب مسلمانوں نے ان پر کبھی حملہ کیا تو انھوں نے ہمیشہ قلعہ بند اور محصور ہو کر مدافعت کی کوشش کی اور اس میں ناکامی بلکہ ذلت سے دوچار ہوئے۔
      بزدلوں کی اصل کمزوری: ’بَأْسُہُمْ بَیْْنَہُمْ شَدِیْدٌ تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَقُلُوْبُہُمْ شَتّٰی‘۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو تم سے کھلے میدان میں مقابلہ کا حوصلہ تو جب ہو کہ ان کے دل آپس میں جڑے ہوئے ہوں۔ جہاں تک اسلام دشمنی کا تعلق ہے اس میں تو یہ بے شک متحد ہیں جس سے آدمی کو دھوکا ہوتا ہے کہ ان کے اندر وحدت فکر ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ مخالفت اسلام کے منفی مقصد کے سوا ہر معاملے میں ان کے دلوں کے اندر ایک دوسرے کے خلاف شدید بغض و عناد ہے۔ یہود کی مختلف شاخوں کے اندر بھی عداوت جاگزیں ہے اور قریش و قبائل مشرکین کے ساتھ بھی ان کی دوستی بالکل نمائشی، محض اسلام کی مخالفت کے حد تک ہے۔ ایسے بے ثبات اور نمائشی اتحاد میں اتنا دم داعیہ کہاں کہ وہ کھلے میدان میں ان لوگوں کے مقابل میں پابرجا رہ سکے جن کے دلوں کو اللہ کے ایمان نے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا ہے۔
      ’ذٰلِکَ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ‘۔ یہ ان کی بیماری کے اصل سبب کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ عقل سے کام لینے والے لوگ نہیں ہیں۔ یعنی حقائق پر غور کرنے، سنجیدگی سے ان کا موازنہ کرنے اور پھر پورے عزم و ثبات سے ان کا مواجہہ کرنے کی جگہ انھوں نے اپنی باگ اپنی خواہشوں کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے اور جب کوئی قوم عقل کی جگہ اپنی خواہشوں کو امام بنا لیتی ہے تو وہ اسی طرح کے انتشار فکر میں مبتلا ہو کر تباہ ہو جاتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ کبھی اکٹھے ہو کر( میدان میں) تمھارا مقابلہ نہ کریں گے، بلکہ قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر لڑیں گے۔ اِن کی آپس میں سخت مخالفت ہے۔ تم اِنھیں اکٹھا سمجھتے ہو، دراں حالیکہ اِن کے دل پھٹے ہوئے ہیں، اِس لیے کہ یہ عقل سے کام نہیں لیتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت میں بظاہر متحد نظر آتے ہیں، لیکن اندر سے نہ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہیں اور نہ قریش اور مشرکین کے دوسرے قبائل کے ساتھ اِن کا تعلق دلی دوستی کا ہے۔ یہ تمام اتحاد و اتفاق جو بظاہر نظر آتا ہے، بالکل بے ثبات اور محض نمایشی ہے۔
      یہ اِن کی بیماری کا اصلی سبب بتایا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یعنی حقائق پر غور کرنے، سنجیدگی سے اُن کا موازنہ کرنے اور پھر پورے عزم و ثبات سے اُن کا مواجہہ کرنے کی جگہ اِنھوں نے اپنی باگ اپنی خواہشوں کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے۔ اور جب کوئی قوم عقل کی جگہ اپنی خواہشوں کو امام بنا لیتی ہے تو وہ اِسی طرح کے انتشار فکر میں مبتلا ہو کر تباہ ہو جاتی ہے۔‘‘( تدبرقرآن ۸/ ۳۰۳)

       

    • امین احسن اصلاحی (جن کو یہ شہ دے رہے ہیں) ان کا وہی حال ہو گا جو ان لوگوں کا ہوا جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کیے کا وبال چکھ چکے ہیں اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب بھی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      بنو نضیر کے انجام کی مثال: یہ مثال دی ہے ان لوگوں کے انجام کی جن کو یہ منافقین ابھار رہے تھے کہ اگر آپ لوگ نکالے گئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکل جائیں گے اور اگر آپ لوگوں پر حملہ ہوا تو ہم بھی آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں گے۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ ان کی بھڑی میں آ کر کوئی غلط قدم اٹھا بیٹھے تو یاد رکھیں کہ ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو ان لوگوں کا ہو چکا ہے جو ابھی جلدی ہی اپنی شرارت کا مزا چکھ چکے ہیں۔
      ’الَّذِیْنَ مِنۡ قَبْلِہِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ أَمْرِہِمْ‘ سے عام طور پر لوگوں نے قریش کو مراد لیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ اشارہ غزوۂ بدر کی طرف ہے کہ جس طرح بدر میں قریش کو منہ کی کھانی پڑی اسی طرح یہ لوگ بھی منہ کی کھائیں گے۔
      یہ اشارہ اگرچہ قریش کی طرف بھی ہو سکتا ہے، بلکہ بنو قینقاع کی طرف بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ ابن کثیرؒ نے سمجھا ہے، لیکن میں اوپر عرض کر چکا ہوں کہ ان آیات میں اس سازش کی تفصیل بیان ہو رہی ہے جو بنو نضیر کی جلا وطنی کے بعد منافقین نے بنو قریظہ کے ساتھ کرنی شروع کی تھی، اس وجہ سے میرے نزدیک یہ اشارہ بنو نضیر کے انجام کی طرف ہے۔ اس کی وجہ اول تو یہ ہے کہ بنو نضیر کی مثال بالکل تازہ تھی، جیسا کہ ’قَرِیْبًا‘ کے الفاظ سے واضح ہے۔ دوسری یہ ہے کہ یہود کے کسی گروہ کے لیے سب سے زیادہ مؤثر مثال یہود ہی کے کسی گروہ کی ہو سکتی تھی۔
      ’وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ‘۔ یعنی دنیا میں تو وہ اس طرح کے کسی انجام سے دوچار ہوں گے اور آخرت میں ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ بنو قریظہ دنیا میں بھی بنو نضیر کی نسبت کہیں زیادہ سخت انجام سے دوچار ہوئے اور آخرت میں ان کے سامنے جو کچھ آنے والا ہے اس کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ جن کو شہ دے رہے ہیں)، اُن کے ساتھ بھی وہی ہو گا جو اُن کے اگلوں کے ساتھ ہوا ہے جو (ابھی) کچھ پہلے اپنے کیے کا مزہ چکھ چکے ہیں اور (آگے) اُن کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی بنو نضیر کے ساتھ جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ ’قَرِیْبًا‘ کے لفظ سے قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ اِس سے وہی مراد ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی (اور یہ شہ دینے والے) شیطان کے مانند ہیں جو انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر، پھر جب وہ کفر کر بیٹھتا ہے تو اس وقت وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں، میں اللہ رب العٰلمین سے ڈرتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین کی مثال شیطان سے: یہ بنو قریظہ کو ابھارنے والے منافقین کی مثال بیان ہوئی ہے کہ یہ کہتے تو ہیں کہ آپ لوگ نکالے گئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکلیں گے اور اگر آپ لوگوں پر حملہ ہوا تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے اور اس معاملے میں ہرگز کسی کا کوئی دباؤ نہیں قبول کریں گے لیکن یہ شیطان کے بھائی ہیں اور اسی کا رویہ اختیار کریں گے۔ جس طرح وہ انسان کو خدا کی نافرمانی کی راہ سجھاتا؂۱ ہے اور جب آدمی اس کے چکمے میں آ کر کوئی جرم کر بیٹھتا ہے تو وہ ناصح بن کر اس کو ملامت کرتا اور اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ اسی طرح یہ منافقین بھی آج تو ان لوگوں کی پیٹھ ٹھونک رہے ہیں لیکن جب یہ کوئی اقدام کر بیٹھیں گے اور اس کا انجام بد ان کے سامنے آئے گا پیٹھ ٹھونکنے والے شیاطین دم دبا کر بھاگیں گے اور ان کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے پر ہرگز تیار نہیں ہوں گے۔
      غزوۂ بدر میں یہود کی شرارت: سورۂ انفال آیت ۴۸ میں بسلسلۂ واقعات غزوۂ بدر، بیان ہوا ہے کہ جب قریش اور مسلمانوں کی فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو پہلے تو شیطان نے کفار کو شہ دی کہ شاباش، بھڑ جاؤ

      ’لاَ غَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّیْ جَارٌ لَّکُمْ‘
      (لوگوں میں کسی کی تاب نہیں کہ آج تم پر غالب آ سکے، میں تمہاری پشت پر ہوں)

      لیکن جب دونوں فوجیں بھڑ گئیں اور فرشتوں کی کمک سے میدان جنگ کا نقشہ بالکل بدلا ہوا نظر آیا تو اس نے فوراً پینترا بدل کر پکارا کہ

      ’إِنِّیْ بَرِیْءٌ مِّنکُمْ إِنِّیْ أَرٰی مَا لاَ تَرَوْنَ إِنِّیَ أَخَافُ اللہَ وَاللہُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ‘
      (میں تمہارے اس اقدام کی ذمہ داری سے بری ہوں، میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ہو۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سخت پاداش والا ہے)۔

      ہم نے سورۂ انفال کی تفسیر میں واضح کیا ہے کہ بدر کی جنگ یہود کی سازش سے پیش آئی تھی۔ انہی نے قریش کو ابھارا اور اس کا سارا نقشہ بنا کر ان کو دیا اور اپنی مدد کا بھی ان کو اطمینان دلایا لیکن جب اصل وقت آیا تو یہ شیطان کی طرح ان سے بری الذمہ ہو گئے۔
      شیطان لیڈروں کا معروف طریقہ: قرآن مجید میں جگہ جگہ یہ بات واضح فرمائی گئی ہے کہ قیامت کے دن جب مجرمین اپنے جرم کی ذمہ داری اپنے شیطان لیڈروں پر ڈالنی چاہیں گے تو وہ صاف کہہ دیں گے کہ تم خود شامت زدہ تھے کہ تم نے ہماری پیروی کی۔ ہمیں تمہارے اوپر کوئی اختیار حاصل نہیں تھا کہ ہم تمہارے جرموں کے ذمہ دار ہوں۔ تم نے جو کچھ کیا خود کیا، اب اس کا خمیازہ بھگتو۔
      اس دنیا میں بھی شیطان کے ایجنٹوں کا طریقۂ کار یہی ہے کہ وہ جرائم پر لوگوں کو ابھار تو دیتے ہیں لیکن جب ان کے نتائج سامنے آتے ہیں تو ان کی ذمہ داری سے اپنے کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
      _____
      ؂۱ ’قَالَ‘ مختلف معنوں میں آتا ہے مثلاً کہنا، سمجھانا، اشارہ کرنا، دعوت دینا ابھارنا اور کسی اقدام پر آمادہ کرنا۔

       

      جاوید احمد غامدی یہ بالکل شیطان کی طرح ہیں کہ وہ انسان سے کہتا ہے کہ منکر ہو جاؤ اور جب وہ منکر ہو جاتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تم سے بری ہوں، میں تو اللہ رب العٰلمین سے ڈرتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پس انجام کار دونوں ہی دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے بن کر پڑیں گے۔ اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کا بدلہ یہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی جرم کر گزرنے کے بعد اس طرح اپنے کو بچانے اور دوسرے کو متہم کرنے کی جو کوشش کی جاتی ہے اس کا فائدہ کسی فریق کو بھی نہیں پہنچتا بلکہ دونوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں پڑتے اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کا انجام یہی ہوا کرتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی سو دونوں کا انجام یہ ہے کہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیں، اور ظالموں کی یہی جزا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور چاہیے کہ ہر نفس اچھی طرح جائزہ لے رکھے اس کا جو اس نے کل کے لیے کیا ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      روز حساب کی یاددہانی: خطاب، باعتبار الفاظ، اگرچہ عام مسلمانوں سے ہے لیکن موقع و محل بتا رہا ہے کہ روئے سخن اصلاً ان منافقین ہی کی طرف ہے جن کی کمزوریاں اس سورہ میں شروع سے زیربحث ہیں۔ ان کو آخر میں گویا اس حقیقت الحقائق کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے جس سے غفلت نفس کی تمام بیماریوں کی جڑ اور جس کی یادداشت ہی انسان کی تمام عقلی و روحانی اور اخلاقی بیماریوں کا واحد علاج ہے۔ فرمایا کہ اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، تمہارے ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اپنے رب سے ڈرتے اور اپنے اعمال کا برابر جائزہ لیتے رہو کہ کل روز حساب آنے والا ہے اس کے لیے تم نے کیا تیاری کی ہے۔ ’ڈرتے رہو‘ کی تاکید اس لیے فرمائی کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑا رہے کہ یہ دنیا کوئی کھیل تماشا ہے جو یوں ہی ختم ہو جائے گا۔ یہ یوں ہی نہیں ختم ہو گا بلکہ اس کے بعد جزاء و سزا بھی ہے جو لازمی ہے۔
      روز قیامت کو لفظ ’غد‘ سے تعبیر فرمایا ہے جس سے مقصود اس کے قرب اور اس کی قطعیت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے میں دفع الوقتی سے کام نہ لو کہ ابھی بہت دن پڑے ہیں، جب وقت قریب آ جائے گا تو دیکھ لیں گے۔ وہ دن دور نہیں ہے۔ جس طرح آج کے بعد کل ہے اسی طرح اس کو بھی آیا ہی سمجھو۔
      ’وَاتَّقُوا اللہَ إِنَّ اللہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ‘۔ معاملہ کی اہمیت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ’اتَّقُوا اللہَ‘ کو پھر دہرایا اور اس کے بعد اس حقیقت کی یاددہانی فرمائی کہ اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ خدا تمہارے کسی عمل سے بے خبر ہے۔ وہ تمہارے ایک ایک قول و فعل سے واقف ہے اس وجہ سے سلامتی اسی میں ہے کہ جو کچھ کرو یہ پیش نظر رکھ کر کرو کہ تمہارا یہ عمل خدا کے علم میں رہے گا اور ایک دن تمہیں اس کی جزا یا سزا ملنی ہے۔

      جاوید احمد غامدی ایمان کا دعویٰ رکھنے والو، اللہ سے ڈرو اور (تم میں سے) ہر شخص دیکھے کہ اُس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے۔ (اِسے دیکھو) اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقیناًجانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی قیامت کی حاضری کے لیے ۔ اِسے ’کل‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔اِس سے مقصود یہ ہے کہ اِس کے قرب اور اِس کی قطعیت کی طرف توجہ دلائی جائے۔
      اوپر ’اِتَّقُوا اللّٰہَ‘ کے بعد یہ وہی الفاظ ایک مرتبہ پھر اِس لیے دہرائے ہیں کہ معاملے کی اہمیت مخاطبین پر واضح ہو۔

    • امین احسن اصلاحی اور تم ان لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جو اللہ کو بھول بیٹھے تو اللہ نے ان کو خود ان کی جانوں سے غافل کر دیا۔ یہی لوگ اصلی نافرمان ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرمایا کہ ان لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جنھوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ان کو خود ان کے انجام سے غافل کر دیا۔ ’کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللہَ‘ سے اشارہ یہود کی طرف ہے۔ یہود ہی ان منافقین کے مرشد تھے۔ قرآن نے ان کو آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کی طرح اگر تم بھی خدا کو بھلا بیٹھے تو یاد رکھو کہ خدا کا کچھ نہین بگاڑو گے بلکہ اپنے ہی کو تباہ کر لو گے۔
      جو خدا کو بھلا دیتے ہیں وہ خود اپنے کو بھلا دیتے ہیں: ’فَأَنسَاہُمْ أَنفُسَہُمْ‘ میں ایک بڑی اہم حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جو لوگ خدا کو بھلا دیتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے خیر و شر اور اپنی عاقبت سے بالکل بے پروا ہو جاتے ہیں۔ زندگی کی ساری قدر و قیمت اور اس کا سارا شرف و جمال اس حقیقت کے سمجھنے پر منحصر ہے کہ خالق نے اس کو محض چند روزہ عیش دنیا کے لیے نہیں بنایا ہے بلکہ اس لیے بنایا ہے کہ انسان اس کو خدا کے احکام کے تحت گزار کر اپنے کو ابدی بادشاہی کا سزاوار بنائے۔ یہ معراج ظاہر ہے کہ اسی کو حاصل ہو گی جو ہمیشہ اس حقیقت کو یاد رکھے کہ یہ زندگی اس کو اتفاقیہ نہیں مل گئی ہے بلکہ ایک بخشنے والے کی بخشی ہوئی ہے۔ اور اس نے ایک خاص مقصد سے یہ اس کو بخشی ہے۔ اگر اس مقصد کے تحت میں اس کو گزاروں گا تب تو یہ عظیم ابدی نعمت ہے اور اگر اس مقصد کو بھلا بیٹھا تو یہ آپ سے آپ ایک ابدی لعنت بن جائے گی۔
      ’اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْنَ‘۔ فرمایا کہ خدا کے اصل نافرمان یہی لوگ ہیں۔ انھوں نے خدا کو بھلایا تو خدا کے ساتھ اپنی زندگی کے تعلق کی نوعیت بھی بھول بیٹھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خدا کے بالکل ہی نافرمان بن گئے۔
      اس سے خدا کی یاد کی حقیقت بھی واضح ہوئی کہ اس کی اصل روح یہ ہے کہ آدمی اس تعلق کی نوعیت کو ہمیشہ اپنے سامنے مستحضر رکھے جو اس کے اور اس کے رب کے مابین ہے۔ اسی کے استحضار سے یہ یاد زندگی پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو یاد کچھ نتیجہ خیز نہیں ہوتی بلکہ یہ بالکل رسمی سی چیز بن کے رہ جاتی ہے جس کا ہونا نہ ہونا دونوں یکساں ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اللہ کو بھول گئے اور اللہ نے خود اُن کو اُنھیں بھلا دیا۔ (حقیقت یہ ہے کہ) یہی نافرمان ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اشارہ ہے یہود کی طرف جن سے منافقین الہام پاتے ،اور اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کے لیے درپردہ ساز باز رکھتے تھے۔ اُن کے لیے ’فَاَنْسٰھُمْ اَنْفُسَھُمْ‘ کے جو الفاظ اصل میں آئے ہیں، اُن میں ایک بڑی حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اُس کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’... جو لوگ خدا کو بھلا دیتے ہیں، اُس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے خیر و شر اور اپنی عاقبت سے بالکل بے پروا ہو جاتے ہیں۔ زندگی کی ساری قدر و قیمت اور اُس کا سارا شرف و جمال اِس حقیقت کے سمجھنے پر منحصر ہے کہ خالق نے اُس کو محض چند روزہ عیش دنیا کے لیے نہیں بنایا ہے، بلکہ اِس لیے بنایا ہے کہ انسان اُس کو خدا کے احکام کے تحت گزار کر اپنے کو ابدی بادشاہی کا سزاوار بنائے۔ یہ معراج ، ظاہر ہے کہ اُسی کو حاصل ہو گی جو ہمیشہ اِس حقیقت کو یاد رکھے کہ یہ زندگی اُس کو اتفاقیہ نہیں مل گئی ہے، بلکہ ایک بخشنے والے کی بخشی ہوئی ہے اور اُس نے ایک خاص مقصد سے یہ اُس کو بخشی ہے۔ اگر اِس مقصد کے تحت میں اِس کوگزاروں گا، تب تو یہ عظیم ابدی نعمت ہے اور اگر اِس مقصد کو بھلا بیٹھا تو یہ آپ سے آپ ایک ابدی لعنت بن جائے گی۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۳۰۸)

       

    • امین احسن اصلاحی دوزخ میں پڑنے والے اور جنت میں جانے والے یکساں نہیں ہوں گے۔ جنت والے ہی کامیاب ہونے والے بنیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک نہایت اہم حقیقت: یہ ایک اور نہایت اہم حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے جس کو پیش نظر رکھنا زندگی کی حقیقی قدر و قیمت سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ وہ یہ کہ اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان جو فرق ہو گا وہ ایسا نہیں ہے کہ اس کو اہمیت نہ دی جائے۔ آج خواہشات نفس سے مغلوب ہو کر اگر کوئی جنت اور دوزخ کے تفاوت کو محسوس نہیں کر رہا ہے تو اس کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دونوں میں صرف ڈگری کا فرق نہیں ہے کہ کسی نہ کسی درجے میں اہل دوزخ کی زندگی پر بھی قناعت کی جا سکے۔ بلکہ دونوں کے درمیان ابدی نقمت اور ابدی رحمت کا فرق ہو گا۔ فوز و فلاح صرف اہل جنت کے لیے خاص ہو گی۔ اہل دوزخ کے لیے لعنت اور عذاب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اِس بات کو سمجھو کہ) دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہ ہوں گے۔ یہ صرف جنت میں جانے والے ہیں جو کام یاب ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List