Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 22 آیات ) Al-Mujadilah Al-Mujadilah
Go
  • المجادلۃ (The Pleading, She That Disputeth, The Pleading Woman)

    22 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ کا خاتمہ اہل کتاب کے اس اعتراض کے جواب پر ہوا ہے جو انھوں نے جہاد کے خلاف اٹھایا۔ اس اعتراض سے تعرض کی ضرورت ظاہر ہے کہ اس وجہ سے پیش آئی کہ مخالفین کے یہ اعتراضات منافقین اٹھا لیتے اور پھر ان کو چپکے چپکے مسلمانوں کے اندر پھیلانا شروع کر دیتے کہ ان کے عقیدہ کو متزلزل اور ان کے جوش جہاد کو سرد کریں۔ اس سورہ کے زمانۂ نزول میں معلوم ہوتا ہے کہ منافقین کی یہ سرگرمیاں بہت بڑھ گئی تھیں۔ یہ صورت حال داعی ہوئی کہ اس خفیہ پراپیگنڈہ کا سدباب کیا جائے چنانچہ اس سورہ میں منافقین کی اس طرح کی حرکتوں پر نہایت شدت کے ساتھ گرفت بھی کی گئی اور اس کے سدباب کے لیے بعض ضروری تدبیریں اختیار کرنے کی بھی مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی۔ ساتھ ہی ایک نہایت مؤثر عملی مثال سے یہ سبق بھی لوگوں کو دیا گیا کہ اگر کسی کو اسلام کے سبب سے زندگی میں کوئی مشکل پیش آئے تو اس کو نہایت خلوص کے ساتھ اللہ و رسول کے سامنے عرض کرے۔ امید ہے کہ اس کی مشکل حل ہونے کی کوئی راہ اللہ تعالیٰ کھول دے گا۔ رہے وہ لوگ جو کسی فرضی یا واقعی مشکل کو بہانہ بنا کر اسلام کے خلاف پراپیگنڈے کی مہم شروع کر دیتے ہیں وہ درحقیقت اللہ اور رسول کے خلاف محاذ جنگ کھولنا چاہتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ یاد رکھیں کہ وہ ذلیل ہو کے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ غلبہ اور سرفرازی صرف اللہ اور اس کے رسولوں کے لیے ہے۔

  • المجادلۃ (The Pleading, She That Disputeth, The Pleading Woman)

    22 آیات | مدنی
    الحدید —— المجادلۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس جہاد و انفاق کے لیے ابھارا ہے، دوسری میں اُسی کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے منافقین کو اُن کے رویے پر سخت تنبیہ کی گئی ہے۔ دونوں میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الحدید — کا موضوع مسلمانوں کو سابقین اولین کے مرتبے تک پہنچنے کے لیے جہاد و انفاق کی ترغیب اور اُن لوگوں کو تنبیہ و تلقین ہے جو ایمان کے تقاضوں سے پوری طرح آشنا نہ ہونے کی وجہ سے اسلام کے اِن مطالبات کو پورا کرنے سے گریزاں تھے۔

    دوسری سورہ — المجادلۃ — کا موضوع ایمان و اسلام کے تقاضوں کی وضاحت، منافقین کو تہدیدووعید اور اُن کے اُس پروپیگنڈے کا سدباب ہے جو وہ مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل اور اُن کے جوش جہاد کو سرد کرنے کے لیے کر رہے تھے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو تم سے جھگڑتی تھی اپنے شوہر کے بارے میں اور شکوہ کر رہی تھی اللہ سے اور اللہ سن رہا تھا تم دونوں کی گفتگو۔ اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’سننا‘ قبول کرنے کے معنی میں: ’قَدْ سَمِعَ اللہُ‘ کے معنی، موقع کلام دلیل ہے کہ یہاں، صرف سن لینے کے نہیں بلکہ قبول کر لینے کے ہیں۔ اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے اور عربی زبان میں بھی معروف ہے۔ بلکہ ہماری زبان میں بھی ’سننا‘ قبول کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
      ’تُجَادِلُکَ‘ سے پہلے عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق فعل ناقص محذوف ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جن خاتون کا واقعہ یہاں مذکور ہے ان کو اپنا معاملہ پیش کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باربار حاضر ہونا پڑا۔
      ’مُجَادلۃ‘ کا مفہوم: ’مُجَادلۃ‘ قرآن میں اچھے اور برے دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ برے معنی اس کے کٹ حجتی کرنے اور جھگڑنے کے ہیں اور اچھے معنی اس کے کسی سے اپنی بات محبت، اعتماد، حسن گزارش، تدلل اور اصرار کے ساتھ منوانے کی کوشش کرنے کے ہیں۔ اس میں جھگڑنا تو بظاہر ہوتا ہے لیکن یہ جھگڑنا محبت اور اعتماد کے ساتھ ہوتا ہے جس طرح چھوٹے اپنی کوئی بات اپنے کسی بڑے سے، اس کی شفقت پر اعتماد کر کے منوانے کے لیے جھگڑتے ہیں۔ اس مجادلۂ محبت کی بہترین مثال سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا وہ مجادلہ ہے جو انھوں نے قوم لوط کے باب میں اپنے رب سے کیا ہے اور جس کی اللہ تعالیٰ نے نہایت تعریف فرمائی ہے۔ اس کی تفصیل ہم اس کے محل میں پیش کر چکے ہیں۔ یہاں ان خاتون کے جس مجادلہ کی طرف اشارہ ہے اس کی نوعیت بالکل یہی ہے۔ اردو میں اس کا مفہوم ادا کرنے کے لیے کوئی موزوں لفظ سمجھ میں نہیں آیا اس وجہ سے میں نے ترجمہ جھگڑنا ہی کیا ہے لیکن یہ جھگڑنا خاص مفہوم میں ہے اور اس مفہوم میں یہ لفظ اردو میں بھی مستعمل ہے بشرطیکہ آدمی موقع و محل کو ملحوظ رکھ سکے۔
      جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس کی نوعیت: آیت میں جن خاتون کی طرف اشارہ ہے روایات میں ان کا نام خولہ بنت ثعلبہ آیا ہے۔ ان کے شوہر اوس بن صامت انصاری تھے۔ ایک مرتبہ غصہ میں آ کر وہ بیوی کو کہہ بیٹھے کہ ’اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ امّی‘ (اب تجھ کو کبھی ہاتھ لگایا تو گویا اپنی ماں کی پیٹھ کو ہاتھ لگایا)۔ زمانۂ جاہلیت میں بیوی کو اس طرح کی بات کہہ دینے سے ایسی طلاق پڑ جاتی جس کے بعد بیوی لازماً شوہر سے جدا ہو جاتی۔ اس وجہ سے حضرت خولہ کو سخت پریشانی آئی کہ اس عمر میں شوہر اور بچوں سے جدا ہو کر کہاں جائیں! بالآخر انھوں نے معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا اور باصرار و بالحاح آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کی اس پریشانی کا کوئی حل بتائیں۔ آپ کے سامنے وحئ الٰہی کی کوئی واضح رہنمائی اس بارے میں موجود نہیں تھی اس وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے جواب میں کچھ توقف فرمایا جس کے سبب سے ان کو باربار اپنے معاملے کی طرف حضور کو توجہ دلانی پڑی۔
      الفاظ قرآن سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ انھوں نے اس معاملے میں اپنے شوہر کی بھی کچھ مدافعت کی۔ حضرت اوسؓ کے مزاج میں، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے، کچھ تیزی تھی جس کے سبب سے غصہ میں ان کی زبان سے ایک ناروا فقرہ نکل گیا۔ مقصد ہرگز بیوی کو طلاق دینا نہیں تھا اس وجہ سے میاں بیوی دونوں کو سخت پریشانی پیش آئی۔ حضرت خولہؓ نے یہ صورت حال بھی حضورؐ کے سامنے رکھی ہو گی تا کہ یہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے کہ یہ فقرہ کہتے ہوئے ان کے شوہر کے ذہن میں طلاق کا کوئی خیال موجود نہ تھا محض اشتعال میں ایک فقرہ بلاقصد ان کی زبان سے نکل گیا۔
      ایک سوال کا جواب: ظِہار کا ذکر سورۂ احزاب میں بھی آیا ہے، لیکن بالکل ضمناً، صرف اتنا آیا ہے کہ

      ’وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَکُمُ اللَّاءِیْ تُظَاہِرُونَ مِنْہُنَّ أُمَّہَاتِکُمْ‘ (الاحزاب ۳۳: ۴)
      (اور تمہاری وہ بیویاں جن سے تم ظہار کرتے ہو خدا نے ان کو تمہاری مائیں نہیں بنایا ہے)

      لیکن اول تو یہ ضروری نہیں کہ سورۂ احزاب سورۂ مجادلہ سے پہلے نازل ہوئی ہو۔ دوسرے نازل ہوئی بھی ہو تو اس سے صرف اتنی ہی بات معلوم ہوتی ہے کہ ظہار سے کسی کی بیوی اس کی ماں نہیں بن جاتی۔ یہ نہیں واضح ہوتا کہ کوئی شخص یہ حرکت کر بیٹھے تو اس سے اس کے اوپر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس کی تلافی کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے۔ اس وجہ سے حضورؐ کے سامنے سورۂ احزاب والی آیت رہی بھی ہو جب بھی آپ حضرت خولہؓ کے معاملے میں کوئی قطعی فیصلہ اسی صورت میں فرما سکتے تھے جب وحئ الٰہی آپ کی رہنمائی فرمائے۔ چنانچہ آپ نے وحئ الٰہی کے انتظار میں توقف فرمایا یہاں تک کہ ان خاتون کے اس شکوہ و مجادلہ کی برکت سے نہ صرف ان کے لیے بلکہ اللہ کے بے شمار بندوں اور بندیوں کے لیے جاہلیت کی ایک بے ہودہ رسم کے عواقب سے چھوٹنے کی ایک نہایت مبارک راہ کھل گئی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرما کر ان کو اور ان کے اس مجادلہ کو زندۂ جاوید بنا دیا اور لوگوں کو سبق دیا کہ جن کو دین کے معاملے میں کوئی مشکل پیش آئے انھیں اس مومنہ خاتون کی طرح اپنی مشکل اپنے رب کے آگے پیش کرنی چاہیے، منافقون کی طرح اس کو نکتہ چینی، سرگوشی اور اللہ و رسول کے خلاف محاذ آرائی (محادّہ) کا بہانہ نہیں بنا لینا چاہیے۔
      ہر مشکل کی کلید اللہ تعالیٰ سے استعانت ہے: ’وَاللہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا‘۔ یعنی یہ شکوہ و مجادلہ خاص اللہ تعالیٰ ہی سے تھا اس وجہ سے وہ خاص توجہ و مہربانی سے اس کو سنتا رہا۔ چنانچہ اس نے اپنی اس بندی کی مشکل حل کرنے کی راہ کھول دی۔ اس سے یہ بات نکلی کہ جو لوگ اپنی کوئی مشکل اپنے رب سے عرض کرتے ہیں وہ اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو نہایت توجہ و شفقت سے سنتا ہے۔ وہ سمیع و بصیر ہے اور جب وہ سنتا ہے اور ہر چیز کی قدرت بھی رکھتا ہے تو بندہ اس سے مایوس و بدگمان کیوں ہو!
      یہاں یہ بات بھی یاد رکھیے کہ دنیوی و مادی مشکلات کی طرح روحانی و عقلی الجھنوں سے نکلنے کی بھی سب سے زیادہ کامیاب راہ یہی ہے کہ آدمی اس کو اپنے رب کے آگے پیش کرے۔ بسا اوقات کوئی ایسی علمی و عقلی مشکل پیش آ جاتی ہے جس کا حل کچھ سمجھ میں نہیں آتا اور اس سے دین کے معاملے میں شکوک پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں آدمی اگر اپنی مشکل اپنے رب کے آگے پیش کرے اور اس سے ہدایت کا طالب ہو تو ان شاء اللہ اس کو شرح صدر حاصل ہو جائے گا بشرطیکہ آدمی صبر کے ساتھ اپنے رب سے استعانت کرے۔ طالبین حق کا طریقہ ہمیشہ یہی رہا ہے لیکن جو لوگ سفلہ اور جلد باز ہوتے ہیں وہ یہ راہ اختیار کرنے کے بجائے یا تو اپنے اوہام و شکوک ہی کو دین بنا لیتے ہیں یا ان کو دین پر نکتہ چینی کا ذریعہ بنا کر اس کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دیتے ہیں جس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جس کا ذکر اسی سورہ میں آگے تفصیل سے آئے گا۔

       

      جاوید احمد غامدی اللہ نے اُس عورت کی بات سن لی ہے جو تم سے اپنے شوہر کے معاملے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے فریاد کیے جاتی تھی۔ اللہ تم دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔ بے شک، اللہ سمیع و بصیر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      سننے سے مراد یہاں محض سن لینا نہیں ہے، بلکہ قبول کر لینا ہے۔ ہماری زبان میں بھی یہ لفظ قبول کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اِس خاتون کا نام روایتوں میں خولہ بنت ثعلبہ آیا ہے۔ اِن کے شوہر اوس بن صامت انصاری قبیلۂ اوس کے سردار حضرت عبادہ بن صامت کے بھائی تھے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے مزاج میں کچھ تیزی تھی، پھر بڑھاپے میں کچھ چڑچڑے بھی ہو گئے تھے۔ اِس حالت میں بیوی سے ظہار کر بیٹھے۔ یہ اِسی واقعے کا ذکر ہے۔*
      سورہ کی ابتدا میں یہ واقعہ سورہ کے مخاطبین کو یہ بتانے کے لیے سنایا گیا ہے کہ دین کے معاملے میں اگر کوئی مشکل پیش آجائے تو بندۂ مومن کو اِس خاتون کی طرح اپنی مشکل اپنے پروردگار کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔ اپنی مشکلات کو منافقوں کی طرح دین پر نکتہ چینی اور اللہ و رسول کے خلاف محاذ آرائی کا بہانہ نہیں بنا لینا چاہیے۔ اِس میں الحاح و اصرار بھی ممنوع نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اِسے نہایت توجہ اور شفقت سے سنتا ہے۔
      اصل میں ’تُجَادِلُکَ‘ کا لفظ آیا ہے۔ اِس سے پہلے عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق ایک فعل ناقص حذف ہو گیا ہے۔ اِس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس خاتون کا یہ واقعہ ہے، اُنھوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ اور الحاح و اصرار کے ساتھ اپنا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا۔ قرآن نے یہ لفظ ’مُجَادَلَۃ‘ اچھے اور برے دونوں معنوں میں استعمال کیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... برے معنی اِس کے کٹ حجتی کرنے اور جھگڑنے کے ہیں اور اچھے معنی اِس کے کسی سے اپنی بات محبت، اعتماد، حسن گزارش، تدلل اور اصرار کے ساتھ منوانے کی کوشش کرنے کے ہیں۔ اِس میں جھگڑنا تو بظاہر ہوتا ہے، لیکن یہ جھگڑنا محبت اور اعتماد کے ساتھ ہوتا ہے ، جس طرح چھوٹے اپنی کوئی بات اپنے کسی بڑے سے، اُس کی شفقت پر اعتماد کرکے منوانے کے لیے جھگڑتے ہیں۔ اِس مجادلۂ محبت کی بہترین مثال سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا وہ مجادلہ ہے جو اُنھوں نے قوم لوط کے باب میں اپنے رب سے کیا ہے اور جس کی اللہ تعالیٰ نے نہایت تعریف فرمائی ہے... یہاں اِن خاتون کے جس مجادلہ کی طرف اشارہ ہے ، اُس کی نوعیت بالکل یہی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۸/ ۲۴۷)

      اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کو تباہی سے بچانے کے لیے بار بار فریاد کر رہی تھیں اور چاہتی تھیں کہ مسئلے کا کوئی حل نکل آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اُس وقت وحی الٰہی کی کوئی واضح رہنمائی اِس معاملے میں موجود نہیں تھی۔ چنانچہ آپ متردد تھے کہ اُنھیں کیا جواب دیں، یہاں تک کہ اُن کی فریاد اُس پروردگار نے سن لی جو سمیع و بصیر ہے، یہ تمام گفتگو جس کے سامنے ہو رہی تھی اور جو خاص توجہ اور مہربانی سے اُسے سن رہا تھا۔
      _____
      * احمد، رقم۲۷۳۶۰۔

       

    • امین احسن اصلاحی تم میں سے جو اپنی بیویوں سے، ظہار کر بیٹھتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں بن جاتی ہیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہوں گی جنھوں نے ان کو جنا ہے۔ البتہ اس طرح کے لوگ ایک نہایت ناگوار اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ اور اللہ درگزر فرمانے والا اور بخشنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ظہار اور اس کا شرعی حکم: اس سلسلہ میں پہلی اصولی بات یہ فرمائی کہ جو لوگ اپنی بیویوں کو اس طرح کی کوئی بات کہہ بیٹھتے ہیں اس سے ان کی بیویاں ان کی ماؤں کے حکم میں نہیں داخل ہو جاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جنا ہے۔ ان کو جو حرمت حاصل ہوئی ہے وہ جننے کے تعلق سے حاصل ہوئی ہے جو ایک فطری اور ابدی حرمت ہے۔ یہ چیز کسی دوسری عورت کو مجرد اس بنیاد پر نہیں حاصل ہو جائے گی کہ ایک شخص نے اس کو یا اس کے کسی عضو کو اپنی ماں یا اس کے کسی عضو سے تشبیہ دے دی۔ اس طرح کی بات کسی نے کہی ہے تواس کی بات بھونڈی اور جھوٹی ہے جس پر وہ تنبیہ و تادیب کا مستحق ضرور ہے لیکن اس سے اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہو جائے گی۔
      ’وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ‘۔ یعنی اس طرح کی منکر اور خلاف حقیقت بات اشتعال میں آ کر کوئی مسلمان اپنے منہ سے نکال بیٹھا پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تو اللہ تعالیٰ درگزر فرمانے والا اور معاف کرنے والا ہے۔ چنانچہ اس معاملے میں بھی چونکہ غلطی کے مرتکب کو اپنی غلطی کا پورا پورا احساس ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر فرمایا۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جاہلیت میں عربوں نے جس طرح منہ بولے بیٹوں کو بالکل صلبی بیٹوں کا درجہ دے رکھا تھا اسی طرح ظہار کے معاملے میں بھی ان کا رویہ نہایت متشددانہ تھا۔ کوئی شخص اپنی بیوی کو اس طرح کی بات کہہ گزرتا جس کا حوالہ اوپر گزرا تو رواج عام اس کی بیوی کو فی الواقع اس کی ماں ہی کی طرح حرام بنا دیتا۔ مجال نہیں تھی کہ کوئی شخص ظہار کے بعد بیوی سے زن و شو کا تعلق قائم کر سکے۔ کوئی اس طرح کی جسارت کرتا تو لوگ اس کو بالکل اسی نگاہ سے دیکھتے گویا اس نے اپنی ماں کو نکاح میں رکھ چھوڑا ہے۔ اس وجہ سے اسلام نے اس طرح کی خلاف فطرت باتوں کی اصلاح کرتے ہوئے ہر جگہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ فطرت کے قانون میں جس چیز کے لیے جو جگہ ہے اس کو اسی جگہ رکھو۔ اس میں رد و بدل کر کے دین فطرت کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کرو۔ سورۂ احزاب کی تفسیر میں یہ بحث تفصیل سے گزر چکی ہے۔ یہاں بھی اس رسم بد کی اصلاح کرتے ہوئے معترضین کا منہ بند کرنے کے لیے پہلے ہی یہ بات واضح فرما دی کہ اس طرح کی ناروا باتوں سے فطرت کے قوانین نہیں بدل جاتے۔ بیوی محض کسی شخص کی ایک جھوٹ بات کی وجہ سے اس کی ماں نہیں بن جائے گی۔
      ایک نحوی سوال: ’مَّا ھُنَّ اُمَّھٰتِھِمْ‘ میں ایک سوال ’اُمَّھٰتِھِمْ‘ کے اعراب سے متعلق بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس کو نصب کیوں ہے؟ میرے نزدیک یہاں ’مَا‘، معنی میں ’لَیْسَ‘ کے ہے۔ قرآن میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً سورۂ حاقہ میں فرمایا ہے:

      ’فَمَا مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْہُ حٰجِزِیْنَ‘ (۴۷)
      (تو کوئی بھی تم میں سے اس کو بچانے والا نہیں بنے گا)۔

       

      جاوید احمد غامدی تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں، وہ اُن کی مائیں نہیں بن جاتی ہیں۔اُن کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے اُن کو جنا ہے۔ اِس طرح کے لوگ، البتہ بڑی ناگوار اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ (اِس کے باوجود) بڑا معاف کرنے والا اور مغفرت فرمانے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      ایلا کی طرح ظہار بھی عرب جاہلیت کی اصطلاح ہے۔ اِس کے معنی یہ تھے کہ شوہر نے بیوی کے لیے ’أنت علیّ کظھر أمی‘ (تجھے ہاتھ لگایا تو گویا اپنی ماں کی پیٹھ کو ہاتھ لگایا) کے الفاظ زبان سے نکال دیے ہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں بیوی کو اِس طرح کی بات کہہ دینے سے ایسی طلاق پڑ جاتی تھی جس کے بعد بیوی لازماً شوہر سے الگ ہو جاتی تھی۔ اہل عرب سمجھتے تھے کہ یہ الفاظ کہہ کر شوہر نہ صرف یہ کہ بیوی سے اپنا رشتہ توڑ رہا ہے، بلکہ اُسے ماں کی طرح اپنے اوپر حرام قرار دے رہا ہے۔ لہٰذا اُن کے نزدیک طلاق کے بعد تو رجوع کی گنجایش ہو سکتی تھی، لیکن ظہار کے بعد اِس کا کوئی امکان باقی نہ رہتا تھا۔
      یعنی اگر کوئی شخص منہ پھوڑ کر بیوی کو ماں سے یا اُس کے کسی عضو کو ماں کے کسی عضو سے تشبیہ دے دیتا ہے تو اِس سے بیوی ماں نہیں ہو جاتی اور نہ اُس کو وہ حرمت حاصل ہو سکتی ہے جو ماں کو حاصل ہے۔ ماں کا ماں ہونا ایک امر واقعی ہے، اِس لیے کہ اُس نے آدمی کو جنا ہے۔ اُس کو جو حرمت حاصل ہوتی ہے ، وہ اِسی جننے کے تعلق سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ ایک ابدی اور فطری حرمت ہے جو کسی عورت کو محض منہ سے ماں کہہ دینے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا اِس طرح کی تشبیہ سے نہ کسی کا نکاح ٹوٹتا ہے اور نہ اُس کی بیوی ماں کی طرح حرام ہو جاتی ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ اِس طرح کا جملہ اگر کسی شخص کی زبان سے نکلا ہے تو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ایک نہایت بیہودہ اور جھوٹی بات ہے جس کا تصور بھی کسی آدمی کو نہیں کرنا چاہیے، کجا یہ کہ وہ اِسے زبان سے نکالے۔ اِس پر سخت محاسبہ ہو سکتا تھا، لیکن اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مغفرت فرمانے والا ہے۔ لہٰذا کوئی شخص اگر اشتعال میں آ کر اِس طرح کی خلاف حقیقت بات منہ سے نکال بیٹھے اور اُسے اپنی غلطی کا احساس ہو تو اللہ اُس سے درگذر فرمائیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جو لوگ ظہار کر بیٹھیں اپنی بیویوں سے پھر لوٹیں اسی چیز کی طرف جس کو حرام ٹھہرایا تو ایک گردن کو آزاد کرنا ہے قبل اس کے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ یہ بات ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جا رہی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر رہتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ظہار‘ کا کفارہ: یہ اس کا حل بتایا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی سے ظہار کر بیٹھے پھر وہ اس چیزکی طرف لوٹنا چاہے جس کو اس نے حرام ٹھہرایا تواس کو اس سے پہلے کفارہ کے طور پر ایک غلام آزاد کرنا ہو گا۔
      یعنی اس کی بیوی اس کے ظہار کے سبب سے اس کی ماں کی طرح حرام تو نہیں ہوجائے گی لیکن چونکہ نکاح و طلاق کے اثرات معاشرتی زندگی پر نہایت دور رس ہوتے ہیں اس وجہ سے اس معاملے میں جدّ و ہزل دونوں ہی کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ چیز مقتضی ہے کہ ایسے شخص کو کچھ تنبیہ و تادیب کی جائے تاکہ وہ بھی آئندہ احتیاط کی روش اختیار کرے اور دوسروں کو بھی اس سے سبق حاصل ہو۔ چنانچہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیوی کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرے۔ یہاں لفظ ’رقبۃ‘ آیا ہے جس کے معنی گردن کے ہیں۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ غلام یا لونڈی کی کوئی تخصیص نہیں ہے بلکہ بعض فقہاء نے تو مسلم اور غیر مسلم کی کوئی قید بھی ضروری نہیں سمجھی ہے۔ دونوں میں سے جو بھی میسر ہو اس سے کفارہ ادا ہو جائے گا بس اتنی بات ہے کہ مسلم غلام میسر ہو تو اس کو ترجیح حاصل ہو گی۔
      یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ غلام کی آزادی کو مقدم رکھا ہے۔ اگر غلام میسر نہ آئے تو دوسری متبادل شکلیں، جو آگے مذکور ہیں، اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ اس سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے جس کا اظہار ہم نے سورۂ نور کی تفسیر میں کیا ہے کہ اسلام نے اپنے نظام میں غلاموں کی آزادی کی نہایت وسیع راہیں کھول دی تھیں یہاں تک کہ بہت سے چھوٹے بڑے گناہوں کا کفارہ بھی غلام آزاد کرنا قرار دے دیا تاکہ اس مہم کو ہر پہلو سے تقویت حاصل ہو۔
      منکر بات کا ذکر ابہام کے ساتھ: ’ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا‘ میں تھوڑا سا ابہام ہے۔ اس ابہام کی وجہ یہ ہے کہ جس بات کی طرف اشارہ ہے وہ بالبداہت بھی منکر ہے اور قرآن نے بھی اس کو ’مُنْکر‘ اور ’زُور‘ قرار دیا ہے۔ ایک منکر بات کا ذکر صراحت کے ساتھ موزوں نہیں تھا اس وجہ سے قرآن نے مبہم الفاظ میں اس کی طرف اشارہ کر دیا۔ مطلب یہی ہے کہ ظہار کے بعد وہ پھر وہی کام کرنا چاہیں جس کو انھوں نے اپنی ماں کی حرمت کی طرح حرام ٹھہرایا تو ان کے لیے ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنے کا حکم ہے۔
      اس ابہام کی وضاحت اول تو ’مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا‘ کے الفاظ سے بھی ہو جاتی ہے پھر بعینہٖ یہی اسلوب کلام اسی سورہ کی آیت ۸ میں بھی استعمال ہوا ہے۔ فرمایا ہے: ’ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُھُوْا عَنْہُ‘ (پھر وہ کرتے ہیں وہی کام جس سے وہ روکے گئے)۔ اسی طرح یہاں بھی اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پھر وہ کریں وہی کام جس سے رکنے کا انھوں نے عہد کیا یا جس کو اپنے اوپر حرام ٹھہرایا۔ ’قَالُوْا‘ اور ’یَقُوْلُ‘ وغیرہ کے الفاظ میں بتقاضائے بلاغت و ایجاز جو ابہام ہوا کرتا ہے اس کی ایک عمدہ مثال سورۂ مریم کی آیت ۸ میں بھی ہے مزید وضاحت مطلوب ہو تو اس کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
      ’مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا‘ میں زور اس بات پر ہے کہ یہ کفارہ ہاتھ لگانے سے پہلے پہلے ادا کر دیا جائے۔ آگے والی آیت میں بھی اس قید کا اعادہ ہے جس سے اس کا مؤکد ہونا ظاہر ہوتا ہے اس وجہ سے یہ جائز نہیں ہے کہ غلبۂ نفس سے بے بس ہو کر کفارہ ادا کرنے سے پہلے تعلق قائم کر لیا جائے۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ حدود اللہ سے، جیسا کہ آگے ذکر آ رہا ہے، تجاوز ہو گا۔
      ’ذٰلِکُمْ تُوْعَظُوْنَ بِہٖ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ‘۔ یہ تنبیہ ہے کہ ان باتوں کی نصیحت تمہیں تمہارے رب کی طرف سے کی جا رہی ہے۔ اگر تم نے درپردہ یاعلانیہ ان کی خلاف ورزی کی تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سارے اعمال کی خبر رکھتا ہے، مطلب یہ ہے کہ جب وہ خبر رکھتا ہے تو اس کی گرفت سے نہ بچ سکو گے۔ ’ذٰلِکُمْ‘ میں اشارہ ان تمام باتوں کی طرف ہے جو اوپر بیان ہوئیں۔ یعنی نہ تو ظہار کے معاملے میں جاہلیت کے رسوم پر اصرار کرو اور نہ کفارہ سے متعلق جو ہدایت کی جارہی ہے اس سے فرار کے لیے چور دروازے اور فقہی حیلے ایجاد کرو بلکہ ہر حکم کی تعمیل اس کی صحیح سپرٹ میں کرو۔ اسی میں دین و دنیا دونوں کی فلاح ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اِنھیں بتاؤ کہ) جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں، پھر اُسی بات کی طرف پلٹیں جو اُنھوں نے کہی تھی تو ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کیا جائے گا۔ یہ بات ہے جس کی تمھیں نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس سے پوری طرح واقف ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس جملے میں بہ تقاضاے ایجاز و بلاغت کچھ ابہام رکھا ہے جس کی وضاحت ’مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا‘ کے الفاظ سے ہو جاتی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس ابہام کی وجہ یہ ہے کہ جس بات کی طرف اشارہ ہے، وہ بالبداہت بھی منکر ہے اور قرآن نے بھی اُس کو ’مُنْکَر‘ اور ’زُوْر‘ قرار دیا ہے۔ ایک منکر بات کا ذکر صراحت کے ساتھ موزوں نہیں تھا، اِس وجہ سے قرآن نے مبہم الفاظ میں اُس کی طرف اشارہ کر دیا۔ مطلب یہی ہے کہ ظہار کے بعد وہ پھر وہی کام کرنا چاہیں جس کو اُنھوں نے اپنی ماں کی حرمت کی طرح حرام ٹھیرایا تو اُن کے لیے ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنے کا حکم ہے۔‘‘ (تدبرقرآن۸/ ۲۵۰)

      اصل میں لفظ ’رَقَبَۃ‘ استعمال ہوا ہے جس کے معنی گردن کے ہیں۔اِس سے یہ بات نکلتی ہے کہ لونڈی یا غلام کی کوئی تخصیص نہیں ہے، دونوں میں سے جو بھی میسر ہو، اُس سے کفارہ ادا ہو جائے گا۔ غلاموں کی آزادی کے لیے جو اقدامات اسلام نے کیے، یہ بھی اُنھی میں سے ہے۔ چنانچہ دیکھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے اِسے بعد کی دونوں صورتوں پر مقدم رکھا ہے۔ غلامی ختم ہو جانے کے بعد اب ظاہر ہے کہ وہی دو صورتیں باقی رہ جائیں گی جن کا ذکر آگے ہوا ہے۔
      یعنی یہ اللہ کا حکم ہے اور اللہ کی طرف سے جو حکم بھی دیا جائے اُس کی تعمیل لفظ اور معنی، دونوں کے لحاظ سے پورے اخلاص کے ساتھ ہونی چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے، اُس سے کسی کی کوئی بات چھپی نہ رہے گی۔

       

    • امین احسن اصلاحی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاذ آرائی کر رہے ہیں وہ ذلیل ہوں گے جس طرح ان سے پہلے ان کے ہم مشرب ذلیل ہوئے۔ اور ہم نے نہایت واضح تنبیہات اتار دی ہیں اور کافروں کے لیے نہایت سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’مُحَآدَّۃ‘ کا مفہوم: ’مُحَآدَّۃ‘ کے معنی مخالفت اور دشمنی کرنے کے ہیں۔ یہ لفظ ’موآدّۃ‘ کا مقابل ہے۔ اسی سورہ میں یہ دونوں لفظ ایک ہی آیت میں نہایت خوبی سے استعمال ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے مفہوم پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ فرمایا ہے:

      ’لَا تَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ‘ (۲۲)
      (تم کوئی ایسی قوم نہیں پا سکتے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہو پھر وہ ان لوگوں کو دوست بنائے جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہوں)۔

      جھوٹے مدعیان اسلام کا کردار: اوپر کے پیرے میں، جیسا کہ واضح ہوا، ان لوگوں کا کردار بیان ہوا ہے جن کو دین کے معاملے میں کوئی مشکل پیش آئی تو وہ اس کو اللہ و رسول کے آگے ہی پیش کرتے اور اپنا شکوہ و مجادلہ اللہ و رسول ہی سے کرتے۔ اب ان کے مقابل میں یہ ان لوگوں کا کردار بیان ہو رہا ہے جو مدعی تو تھے ایمان و اسلام کے لیکن ان کا رویہ اللہ و رسول کے ساتھ مخالفت کا تھا۔ اسلام کی جو بات ان کو اپنے مفاد اور اپنی خواہشوں کے خلاف محسوس ہوتی اس کے خلاف سرگوشیوں اور خفیہ پراپیگنڈے کی مہم شروع کر دیتے تاکہ مخلص مسلمانوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کر کے ان کے ایمان و اسلام کو بھی متزلزل کر دیں۔ ان کی ساری ہمدردیاں، جیسا کہ آگے واضح ہو گا، اسلام کے دشمنوں بالخصوص یہود کے ساتھ تھیں۔ یہ مسلمانوں کے اندر یہود کے ایجنٹ تھے اور انہی کے زیرہدایت برابر اس کوشش میں رہتے کہ جو موقع بھی ملے اس سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضرت زینبؓ کے معاملے میں انھوں نے جو فتنے اٹھائے ان کی تفصیلات سورۂ نور اور سورۂ احزاب کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ ظہار کا مسئلہ بھی ان مسائل میں سے تھا جس کے بارے میں وہ قرآن کی رعایت کو نکتہ چینی کا ہدف بنا سکتے تھے جس سے سادہ لوحوں کے اندر غلط فہمیاں پھیل سکتی تھیں۔ دورجاہلیت میں، جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں، اس کو لوگوں نے طلاق مغلظ کا درجہ دے رکھا تھا۔ یہ اشرار آسانی سے لوگوں میں یہ سرگوشی کر سکتے تھے کہ اسلام نے نعوذ باللہ اپنے پیروؤں کے لیے ماں کے ساتھ نکاح کو بھی جائز کر دیا۔ یہ صورت مقتضی تھی کہ اس موقع پر ان شریروں کو اچھی طرح بے نقاب کر دیا جائے تاکہ کوئی فتنہ اٹھانے کی کوشش وہ کریں تو اس کا سدباب ہو سکے۔
      رسول کے مخالفین کا انجام: ’کُبِتُوْا کَمَا کُبِتَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ‘۔ ’کبت‘ کے معنی ذلیل و خوار کر کے تباہ کرنے کے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ ذلیل و خوار ہو کر ان لوگوں کی طرح تباہ ہوں گے جس طرح ان سے پہلے ان کے ہم مشرب تباہ ہو چکے ہیں۔

      ’وَقَدْ أَنزَلْنَا آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ‘
      (اور اس دعوے کی صداقت کی نہایت واضح دلیلیں ہم قرآن میں اتار چکے ہیں)۔

      یہ اشارہ ان تاریخی حقائق کی طرف ہے جو قرآن میں نہایت تفصیل سے یہ واضح کرنے کے لیے بیان ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسولوں کی مخالفت کرنے والے بالآخر ذلیل و خوار ہو کر تباہ ہوتے ہیں۔
      ’وَلِلْکَافِرِیْنَ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ‘ فرمایا کہ ان کافروں کے لیے بھی ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ یہ اشارہ ان کافروں کی طرف ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں سرگرم تھے۔ فرمایا کہ یہ بھی بالآخر اسی طرح ذلیل و خوار ہوں گے جس طرح ان کے پیش رو ذلیل و خوار ہو چکے ہیں۔ جب ان کا کردار وہی ہے جو ان کا تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کی تاریخ ان سے مختلف ہو۔ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کے لیے ایک ہی ہے۔
      قرآن کی یہ دھمکی اس وقت پوری ہو گئی جب قریش کی طاقت بھی ختم ہو گئی اور یہود بھی اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ اس وقت ان منافقین کے لیے بھی کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہی جو یہود کی زیرسرپرستی ریشہ دوانیاں کرتے تھے۔ ان کا حشر بھی وہی ہوا جو ان کے مرشد یہود کا ہوا۔ آگے کی سورتوں میں ان کے انجام کی عبرت انگیز تفصیل آ رہی ہے۔
      ان کے عذاب کو ذلیل کرنے والا عذاب اس لیے کہا گیا کہ ان کو نہایت رسوا کن قتل و جلاوطنی اور غلامی کی سزاؤں سے دوچار ہونا پڑا اور کسی کو بھی ان کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہوئی بلکہ سب نے ان پر لعنت ہی کی۔

       

      جاوید احمد غامدی (اِس کے برخلاف) جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول کے خلاف محاذ آرائی کر رہے ہیں، وہ ذلیل ہوں گے، جس طرح اُن کے پہلے ہم مشرب ذلیل ہوئے۔ (اِس کی) بہت واضح دلیلیں ہم نے (اِس قرآن میں) اتار دی ہیں، اور اِن منکروں کے لیے بڑی ذلت کی مار ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اشارہ ہے اُن منافقین کی طرف جن کی تمام ہمدردیاں اسلام کے دشمنوں، بالخصوص یہود کے ساتھ تھیں۔ اسلام کی جس بات کو وہ اپنے مفادات اور خواہشات کے خلاف محسوس کرتے تھے، اُس کے بارے میں سرگوشیوں اور خفیہ پروپیگنڈے کی مہم شروع کر دیتے تھے تاکہ کمزور مسلمانوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کریں اور اپنی طرح اُن کو بھی ایمان و اسلام میں رسوخ سے محروم کر دیں۔
      یعنی اِن کا انجام وہی ہو گا جو رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اُن کے منکرین کا ہمیشہ ہوا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور اللہ اپنی سنت میں کسی کے لیے تبدیلی نہیں کرتا۔ اُس کا قانون سب کے لیے ایک ہی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس دن کو یاد رکھیں جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا اور ان کو ان کے سارے اعمال سے آگاہ کرے گا۔ اللہ نے اس کو شمار کر رکھا ہے اور یہ لوگ اس کو بھلائے بیٹھے ہیں اور اللہ ہر چیز کے پاس حاضر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’یَوْمَ‘ کا نصب اگرچہ ’عَذَابٌ مُّہِیْنٌ‘ سے بھی ہو سکتا ہے لیکن میرے نزدیک یہ معروف ضابطۂ عربیت کے مطابق، فعل محذوف سے منصوب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں تو جو پیش آئے گا آئے گا ہی، یہ لوگ اس دن کو بھی یاد رکھیں جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھائے گا اور جو کچھ انھوں نے کیا ہو گا وہ سب ان کے آگے رکھ دے گا۔ ’جَمِیْعًا‘ کی قید اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ہے کہ آج جو سازشیں اور سرگوشیاں ہو رہی ہیں ان کے تمام ارکان و عوامل جمع کیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کے سامنے اس کے سارے راز بے نقاب کر دے گا کہ کس نے کیا مشورے دیے اور کس نے کس طرح اس کی تعمیل کی۔
      ’فَیُنَبِّئُہُمۡ‘ سے مراد ظاہر ہے کہ اس کا لازم ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کے سارے کیے دھرے سے ان کو آگاہ کرے گا تاکہ وہ اس کے نتائج بھگتیں۔
      ایک مغالطہ پر تنبیہ: ’اَحْصَاہُ اللہُ وَنَسُوۡہُ‘ میں ایک بہت بڑے مغالطہ سے آگاہ فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ جس طرح یہ سب کچھ کر کے بھول گئے اللہ بھی اس کو بھول گیا ہے۔ ان لوگوں کو ان کی شرارتوں کی سزا نہیں ملی اس وجہ سے سمجھ بیٹھے کہ اللہ بھول گیا ہے لیکن اللہ نے ان کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رکھی ہے اور جزاء و سزا کے لیے ایک دن مقرر کر رکھا ہے جس دن سب کی نیکی بدی اس کے سامنے آ جائے گی۔
      ’وَاللہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَہِیْدٌ‘۔ یہ اس کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کہیں غائب نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے سامنے ہوتا ہے اور وہ ہر جگہ موجود ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ اُس دن کو یاد رکھیں، جب اللہ اِن سب کو اٹھائے گا، پھر اِن کا ہر عمل اِن کو بتائے گا۔ اللہ نے اُسے گن رکھا ہے اور یہ اُسے بھلائے بیٹھے ہیں اور ہر چیز اللہ کے سامنے ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کیا سمجھتے نہیں کہ اللہ جانتا ہے اس سارے کو جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے! نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین کے درمیان مگر ان کا چوتھا اللہ ہوتا ہے اور نہ پانچ کے مابین مگر چھٹا وہ ہوتا ہے۔ اور نہ اس سے کم یا زیادہ کی مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں بھی وہ ہوں پھر وہ ان کو ان کے سارے کیے سے آگاہ کرے گا قیامت کے دن۔ بے شک اللہ ہر بات کا علم رکھنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے: یہ اوپر والی بات کی مزید وضاحت ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ ایک ایک چیز سے باخبر ہے۔ وہ ہر ایک کے سامنے اس کا ایک ایک عمل رکھ دے گا۔ ’اَلَمْ تَرَ‘ کا خطاب یہاں عام ہے اور یہ اسلوب بیان اس موقع پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ ایک ایسی بات ہے جو ہر شخص پر واضح ہونی چاہیے۔ جب اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کا خالق ہے، وہی اس سارے نظام کو چلا رہا ہے، اس کے ایک ایک پرزے کی حرکت اس کے اذن سے ہوتی ہے اور اسی کے حکم سے اس کے ایک ایک متنفس کی زندگی ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ آسمانوں اور زمین کی کسی چیز سے بھی وہ بے خبر رہے۔

      ’اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ‘
      (کیا وہ نہ جانے گا جس نے سب کو پیدا کیا ہے)۔

      ’مَا یَکُوْنُ مِنۡ نَّجْوٰی ثَلَاثَۃٍ ..... الاٰیۃ‘۔ فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو محیط ہے تو یہ اللہ اور رسول کے خلاف سرگوشیاں کرنے والے یاد رکھیں کہ جب ان کے تین سرگوشیاں کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ چوتھا اللہ ہوتا ہے اور جب ان کے پانچ سرگوشیاں کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ چھٹا اللہ ہوتا ہے، علیٰ ہٰذا القیاس اس سے کم ہوں یا زیادہ اللہ ان کے پاس لازما! ہوتا ہے۔
      ’اَیْْنَ مَا کَانُوْا‘۔ اور یہ بات بھی یاد رکھیں کہ وہ جہاں کہیں بھی چھپ کر سرگوشی کریں گے، اللہ وہاں ان کے پاس موجود ہو گا۔ آسمانوں اور زمین میں کوئی گوشہ وہ ایسا نہیں تلاش کر سکتے جہاں وہ اپنے آپ کو خدائے عالم الغیب سے چھپا سکیں۔

       

      جاوید احمد غامدی تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز سے واقف ہے؟ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ تین سرگوشی کریں اور اُن میں چوتھا اللہ نہ ہو۔ اور پانچ سرگوشی کریں اور اُن میں چھٹا اللہ نہ ہو۔ وہ اِس سے کم ہوں یا زیادہ، جہاں بھی ہوں، اللہ اُن کے ساتھ ہوتا ہے۔ پھر قیامت کے دن وہ اِن کا سب کیا دھرا اِنھیں بتا دے گا۔ بے شک، اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کیا نہیں دیکھتے ان کو جو سرگوشیوں سے روکے گئے، پھر وہ وہی کام کر رہے ہیں جن سے روکے گئے اور یہ لوگ گناہ، تعدی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تم کو سلام کرتے ہیں ایسے لفظ سے جس سے اللہ نے تم کو سلام نہیں بھیجا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ اس کی پاداش میں ہم کو عذاب کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں۔ ان کے لیے جہنم ہی کافی ہے۔ یہ اس میں پڑیں گے۔ پس وہ برا ٹھکانا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سرگوشیوں کی اصل غایت: یہ ان کی حالت پر اظہار تعجب ہے کہ ذرا ان کی جسارت تو دیکھو کہ یہ جس نجویٰ سے روکے گئے ہیں اسی کا ارتکاب باربار کر رہے ہیں اور اس سے بڑی جسارت یہ ہے کہ یہ گناہ، تعدی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی کرتے ہیں اور ان کو نہ ذرا اپنی اس حرکت پر شرم آتی ہے اور نہ ان کو خوف خدا ہے۔
      معلوم ہوتا ہے کہ جب ان کی سرگوشیوں کا آغاز ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حرکتوں پر توجہ دلائی لیکن اس کا انھوں نے کوئی اثر قبول نہیں کیا بلکہ یہ شرارت بڑھتی ہی گئی۔ بالآخر ان آیات میں ان کو آخری تنبیہ فرمائی گئی۔
      ’وَیَتَنَاجَوْنَ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ‘۔ یعنی ان کی ساری سرگوشی میں خیر کا کوئی پہلو نہیں ہوتا حالانکہ سرگوشی، جیسا کہ آگے ذکر آ رہا ہے، خیر کی بھی ہو سکتی ہے لیکن ان کے سینے خیر سے بالکل خالی ہیں اس وجہ سے ان کی ہر سرگوشی گناہ و تعدی اور رسول کے خلاف لوگوں کو بغاوت پر ابھارنے کے لیے ہوتی ہے۔ ’اثم‘ ان گناہوں کو کہتے ہیں جن میں حق تلفی کا پہلو نمایاں ہوتا ہے اور ’عُدْوَانِ‘ ان گناہوں کے لیے آتا ہے جن میں تعدی، سرکشی اور طغیان کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ یہ دونوں لفظ جب ایک ساتھ استعمال ہوتے ہیں تو گناہ کی تمام اقسام پر حاوی ہو جاتے ہیں۔
      ’مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ‘ کے الفاظ یہاں ان اشرار کی سرگرمیوں کے اصل ہدف کے اظہار کے لیے آئے ہیں کہ ان کی اس تمام تگ و دو کا مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر اللہ کے رسول کے خلاف بغاوت کا جذبہ ابھاریں تاکہ یہ شیرازہ درہم برہم ہو جائے۔
      یہ منافقین، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا اور آگے تفصیل آ رہی ہے، یہود کے ساختہ پر داختہ تھے اور ان کی تمام سرگرمیوں کا منتہا یہ تھا کہ صحابہؓ کے اندر کوئی ایسا فتنہ برپا کریں کہ یہ گروہ ایک ناقابل شکست طاقت بننے سے پہلے پہلے ختم ہو جائے۔ ان کے ان فتنوں کی تفصیلات پیچھے بھی اس کتاب میں گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و رسوا کیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت سے جو حزب اللہ منظم ہوئی وہ حق کے تمام دشمنوں پر غالب آ گئی۔
      اشرار کی کینہ توزی: ’وَإِذَا جَاؤُوْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللہُ‘۔ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ان شریروں کی کینہ توزی کی ایک مثال بیان ہوئی ہے کہ جب یہ تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں سلام کرتے ہوئے اس لفظ کے بالکل برعکس لفظ استعمال کرتے ہیں جو اللہ نے تمہارے لیے پسند فرمایا۔ اللہ اور اس کے ملائکہ تو تمہارے اوپر رحمت اور سلام بھیجتے ہیں؂۱ اور ان بدبختوں کا حال یہ ہے کہ تمہیں سلام کرتے ہوئے لفظ ’السلام‘ اس طرح بگاڑ کر نکالتے ہیں کہ ’السَّلامُ عَلَیْکَ‘۔ ’اَلسَّامُ عَلَیْکَ‘ بن؂۲ جاتا ہے۔
      ’بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللہُ‘ کے الفاظ سے مقصود ان کی شقاوت کو ظاہر کرنا ہے کہ ان لوگوں کی بدبختی و محرومی میں کیا شک کی گنجائش رہی جو اس ذات اقدس کے لیے موت کی بددعا کریں جس پر اللہ اور اس کے فرشتے درود و سلام بھیجیں! اس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیام تسلی بھی ہے کہ اگر یہ تمہارے لیے موت کے متمنی ہیں تو رہیں، تمہارے اوپر خدا کی رحمت اور اس کے فرشتوں کی دعائے رحمت ہے تو تمہیں کسی اور کی دعا و بددعا کی کیا پروا!
      یہود اور ان کے ایجنٹ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے لیے اپنی زبان توڑ مروڑ کر الفاظ کو جس طرح بگاڑتے تھے اس کی مثالیں سورۂ بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ ’رَاعِنَا‘ اور ’سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا‘ کے تحت ہم ان کی اس شرارت پر روشنی ڈال چکے ہیں۔؂۳ اسی قسم کا تصرف لفظ ’السَّلَامُ‘ میں کر کے اس کو وہ ’اَلسَّامُ‘ کر دیتے کہ سننے والے کو دھوکا ’السَّلامُ عَلَیْکَ‘ کا ہوتا حالانکہ فی الحقیقت وہ ’اَلسَّامُ عَلَیْکَ‘ کہتے۔
      ’وَیَقُوْلُوْنَ فِیْ أَنفُسِہِمْ لَوْلَا یُعَذِّبُنَا اللہُ بِمَا نَقُوْلُ‘۔ یہ ان کے اس مغالطے کی طرف اشارہ ہے جس کے سبب سے وہ اپنی ان شرارتوں میں دلیر ہوتے جا رہے تھے۔
      فرمایا کہ ان کی ان شرارتوں پر چونکہ فوراً پکڑ نہیں ہو رہی ہے اس وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ رسول کی تکذیب و تضحیک میں یہ بالکل بجانب حق ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہوتے تو لازماً ان باتوں پر ہماری پکڑ ہو جاتی لیکن جب اس طرح کی کوئی بات نہیں ہو رہی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کا دعویٰ محض دھونس ہے۔
      ’حَسْبُہُمْ جَہَنَّمُ یَصْلَوْنَہَا فَبِئۡسَ الْمَصِیْرُ‘۔ فرمایا کہ ان کے لیے جہنم ہی کافی ہے جس میں وہ لازماً پڑیں گے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ اس کے ہوتے اس دنیا میں اگر ان کے اوپر عذاب نہ بھی آئے تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ وہی ساری کسر پوری کر دینے کے لیے کافی ہے۔
      ان اشرار کو اس دنیا میں بھی عذاب کی دھمکی دی گئی ہے، جیسا کہ اوپر آیت ۵ میں اشارہ گزر چکا ہے اور آگے بھی آ رہا ہے، لیکن اصل حقیقت یہی ہے کہ جب جہنم موجود ہے تو اس کے ہوتے دنیا کی پکڑ سے کوئی بچ بھی گیا تو اس میں اس کے لیے اطمینان کا کوئی پہلو نہیں ہے۔
      شریروں کا اصل مغالطہ: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ انسان کی غفلت اور سرکشی میں سب سے زیادہ اضافہ اس کے اسی مغالطہ سے ہوتا ہے جو یہاں مذکور ہوا۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کی شرارتوں پر اس دنیا میں کوئی گرفت نہیں ہو رہی ہے تو وہ مطمئن ہو بیٹھتا ہے کہ اس پر کہیں بھی اور کبھی بھی گرفت نہیں ہو گی اور ملا جو ڈراوے سناتے پھر رہے ہیں یہ محض ان کی دھونس ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ حالانکہ یہ محض انسان کی بے بصیرتی ہے۔ اگر اعمال کے نتائج فوراً سامنے آ جانے والے ہوتے تو کس کی مجال تھی کہ وہ نیکی کے سوا کبھی بدی کی جرأت کر سکتا۔ پھر تو سبھی صالح و متقی بن کے رہتے۔ اس دنیا کا اصل بھید تو یہی ہے کہ یہ دارالجزاء نہیں بلکہ دارالامتحان ہے۔ دارالجزاء آگے ہے اور وہ اس کائنات کی سب سے زیادہ واضح اور اٹل حقیقت ہے۔ اگر وہ نہ ہو تو یہ سارا عالم ایک اندھیر نگری اور کسی کھلنڈرے کا کھیل بن کر رہ جائے گا حالانکہ اس عالم کا خالق کوئی کھلنڈرا نہیں بلکہ وہ بالداہت ایک عزیز و حکیم ہے۔
      _____
      ؂۱ چنانچہ الاحزاب ۳۳: ۵۶ میں ارشاد ہے:

      ’إِنَّ اللہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ..... الاٰیۃ‘ (بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر سلام بھیجتے ہیں)۔

      ؂۲ عربی میں لفظ ’سام‘ موت کے معنی میں آتا ہے۔
      ؂۳ ملاحظہ ہو تدبر قرآن ۔ جلد اول، صفحات ۲۵۰-۲۵۲ اور ۲۸۲۔

      جاوید احمد غامدی تم نے دیکھا نہیں اُنھیں جو سرگوشیوں سے روکے گئے، پھر وہی کرتے ہیں جس سے روکے گئے؟اور (ہمیشہ) حق تلفی اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی سرگوشی کرتے ہیں۔ اور(اے پیغمبر)، جب تمھارے پاس آتے ہیں تو تمھیں اُس طرح سلام کرتے ہیں، جس طرح اللہ نے تمھیں سلام نہیں کیا ہے اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (یہ پیغمبر ہیں تو) اللہ ہماری اِن باتوں پر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا؟ اِن کے لیے دوزخ ہی کافی ہے۔ یہ اُس میں پڑیں گے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اِس خفیہ پروپیگنڈے کی ابتدا ہوئی تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں توجہ دلائی، مگر اُنھوں نے اِس کا کوئی اثر قبول نہیں کیا اور بدستور اِس میں مصروف رہے۔
      یہ اُس اصل ہدف کی طرف اشارہ ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے یہ سرگوشیاں کی جاتی تھیں۔ اُن کا مقصود یہ تھا کہ مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آمادۂ بغاوت کیا جائے تاکہ وہ بنیاد ہی ختم ہو جائے جس پر اِس نئے دین کی عمارت کھڑی کی جا رہی ہے۔
      اللہ تعالیٰ نے اُن کے الفاظ نقل کرنا پسند نہیں فرمایا۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ’السلام علیک‘ کا تلفظ کچھ اِس انداز سے کرتے تھے کہ سننے والا سمجھے سلام کیا ہے، مگر دراصل وہ ’السام‘ کہتے تھے جس کے معنی موت کے ہیں۔*
      یہ اللہ اور اُس کے فرشتوں کی طرف سے اُس سلام و رحمت کا حوالہ ہے جس کا ذکر سورۂ احزاب (۳۳) میں ہوا ہے۔
      اُن کا مدعا یہ تھا کہ چونکہ ایسا نہیں ہوتا، اِس لیے اِن کا یہ دعویٰ بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔
      _____
      * بخاری، رقم ۵۶۷۸۔

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو! جب تم سرگوشی کرو تو گناہ، تعدی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی نہ کرو بلکہ نیکی اور تقویٰ کی سرگوشی کرو اور اللہ سے ڈرو جس کے حضور میں تم سب اکٹھے کیے جاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نجویٰ کی پاکیزہ قسم: یہ مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ ’نجویٰ‘ بجائے خود کوئی بری چیز نہیں ہے۔ اجتماعی و معاشرتی زندگی میں ایسے مواقع بھی پیش آتے ہیں جب باہم دگر رازدارانہ مشورت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ شوریٰ اجتماعی زندگی کی اساسات میں سے ہے اور اس میں رازداری کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔ اگر یہ مشورت نیکی، تقویٰ اور اصلاح ذات البین کے لیے ہے تو یہ نجویٰ باعث خیر و برکت ہے اور تم جب بھی کوئی رازدارانہ مشورت کرو تو کسی مقصد خیر ہی کے لیے کرو۔ البتہ وہ نجویٰ شیطانی نجویٰ ہے جو گناہ، تعدی اور معصیت رسول کے مقصد سے یہ منافقین کرتے ہیں۔ اہل ایمان کو اس سے بچنا چاہیے اور اس اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے جس کے حضور میں سب اکٹھے کیے جائیں گے اور جو سب کے نجویٰ سے اچھی طرح باخبر ہوتا ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، جب آپس میں سرگوشی کرو تو حق تلفی، زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی سرگوشی نہ کرو، بلکہ خیر و تقویٰ کی سرگوشی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے حضور میں تم سب جمع کیے جاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی یہ سرگوشیاں شیطان کی طرف سے ہیں تا کہ وہ ایمان والوں کو غم پہنچائے حالانکہ اللہ کے اذن کے بدون وہ ان کو ذرا بھی نقصان پہنچانے پر قادر نہیں۔ اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل ایمان کو تسلی: یہ مومنین مخصلین کو تسلی دی گئی ہے کہ منافقین کی یہ ساری سرگوشیاں شیطان کی تحریک اور اس کی وسوسہ اندازی سے وجود میں آئی ہیں اور شیطان زیادہ سے زیادہ بس یہی کر سکتا ہے کہ اس طرح کی باتوں سے اہل ایمان کے دلوں کو ذرا رنج و ملال پہنچا دے۔ اس سے زیادہ اس کے امکان میں کچھ نہیں ہے۔ وہ اللہ کے اذن کے بدون اہل ایمان کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا تو اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ شیطان کی ان وسوسہ اندازیوں کی کوئی پروا نہ کریں بلکہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں اور اپنے رب پر بھروسہ رکھیں کہ وہ ان کو ہر شریر کی شرارت سے محفوظ رکھے گا۔

      جاوید احمد غامدی اِس طرح کی سرگوشیاں تو شیطان کی طرف سے ہیں تاکہ وہ ایمان والوں کو غم زدہ کر دے، دراں حالیکہ خدا کی اجازت کے بغیر وہ اُن کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور ایمان والوں کو تو ہر حال میں اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      شیطان جو کچھ کر سکتا ہے، وہ یہی ہے کہ ایمان والوں کو کچھ رنج و ملال پہنچا دے۔اِس سے آگے اگر وہ کچھ کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتا۔

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو، جب تم کو کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھو تو کھل کر بیٹھو، اللہ تمہارے لیے کشادگی پیدا کرے گا اور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جاؤ، اللہ ان لوگوں کے، جو تم میں سے اہل ایمان ہیں اور جن کو علم عطا ہوا ہے، مدارج بلند کرے گا۔ اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مجلس نبوی کو نجویٰ سے پاک رکھنے کے لیے بعض ہدایات: منافقین کی سرگوشیاں یوں تو ہر مجلس و مقام میں ہوتی تھیں لیکن مجالس نبوی میں اس شرارت کے لیے وہ خاص اہتمام کرتے اس لیے کہ اسلام پر طعن، مسلمانوں کی دل آزاری و حوصلہ شکنی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و تضحیک کے مواقع سب سے زیادہ ان کو وہیں ملتے۔ چنانچہ وہ مجلس نبوی میں اپنے مخصوص جتھے بنا کر بیٹھتے اور اس امر کا اہتمام رکھتے کہ کوئی غیر ان کے درمیان نہ گھسنے پائے تاکہ وہ حضورؐ کی باتوں پر جو نقد و تبصرہ اور جو طعن و طنز کرنا چاہیں آسانی سے کر سکیں۔ بسا اوقات وہ یہ بھی کرتے کہ حضورؐ مجلس سے اٹھ جاتے یا مجلس کے برخاست ہونے کا اعلان ہو جاتا لیکن یہ لوگ اپنے مفسدانہ اغراض کے لیے دھرنا دیے بیٹھے رہتے تاکہ لوگوں کے اندر کچھ وسوسہ اندازی کریں یا آپس میں کسی نئی شرارت کی کوئی سکیم بنائیں۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ مجلس نبوی سے متعلق کچھ ایسی ہدایات دے دی جائیں کہ منافقین اس کو اپنے شیطانی نجویٰ کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔
      بعض مجلسی آداب: ’اِذَا قِیْلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوْا‘۔ قرینہ دلیل ہے کہ ’مَجَالِس‘ سے یہاں مراد اصلاً مجلس نبوی ہے لیکن لفظ جمع استعمال کر کے یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ یہاں جو آداب بتائے جا رہے ہیں وہ مسلمانوں کی تمام مجالس کے لیے عام ہیں تاکہ ان کی ہر مجلس میں مجلس نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا عکس پایا جائے۔ قرآن میں اسی طرح بعض جگہ لفظ ’مساجد‘ جمع کی شکل میں استعمال ہوا ہے۔ اگرچہ اصلاً اس سے مراد مسجد حرام ہے، جیسا کہ ’اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللہِ‘ (التوبہ ۹: ۱۸) میں ہے لیکن لفظ جمع استعمال کر کے یہ تعلیم دی گئی کہ جو ہدایت اس مرکزی مسجد سے متعلق دی جا رہی ہے وہی حکم تمام مساجد الٰہی کا ہو گا اس لیے کہ وہ سب اسی کے تابع ہیں۔
      مطلب یہ ہے کہ جب صدر مجلس کی طرف سے ہدایت کی جائے کہ لوگ مجلس میں کھل کر بیٹھیں تو اس حکم کی بے چون و چرا تعمیل ہونی چاہیے اور ایک دوسرے سے ہٹ ہٹ کر بیٹھنا چاہیے تاکہ دوسرے آنے والوں اور بیٹھنے والوں کو آسانی بھی ہو اور منافقین کے لیے مجلس نبوی میں جتھہ بندی کر کے بیٹھنے اور سرگوشیاں کرنے کی گنجائش بھی کم ہو جائے۔ اوپر ہم نے اشارہ کیا کہ منافقین مجلس نبوی میں، ایک پارٹی کی شکل میں اس طرح بیٹھتے کہ ان کے جتھے سے باہر کے کسی آدمی کے لیے ان کے اندر گھسنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے تاکہ وہ جس ردعمل کا اظہار کرنا چاہیں اس میں نہ دوسرے کوئی مزاحمت پیدا کر سکیں، نہ ان کی سرگوشیوں، ان کے اشاروں کنایوں اور ان کے طنزیہ فقروں کی پردہ دری ہو سکے۔ اپنے اس طرز عمل سے انھوں نے بعض اوقات بڑی بڑی الجھنیں پیدا کر دیں جن کی تفصیلات تاریخ کی کتابوں میں بھی موجود ہیں اور قرآن نے بھی ان کی طرف اشارے کیے ہیں۔ اس سورہ کے زمانۂ نزول میں، جیسا کہ واضح ہے، یہ فتنہ بہت بڑھ گیا تھا۔ اس کے سدباب کے لیے ہدایت ہوئی کہ جب صدر مجلس کی طرف سے حکم دیا جائے کہ لوگ کھل کر بیٹھیں تو لوگوں کو اس حکم کی بے چون و چرا تعمیل کرنی چاہیے۔
      ’فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللہُ لَکُمْ‘۔ یعنی اگر تم دوسروں کے لیے کشادگی پیدا کرو گے تو اللہ بھی تمہارے لیے کشادگی پیدا کر دے گا۔ اگرچہ اس کا ظاہر مطلب یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے جنت میں کشادگی پیدا کرے گا لیکن واقعہ یہ ہے کہ جو انسان اپنا سینہ دوسروں کے لیے کشادہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ دوسروں کے سینے اس کے لیے اس دنیا میں بھی کشادہ کر دیتا ہے۔ آدمی کا ہر عمل، ظاہری ہو یا باطنی، نیک ہو یا بد، اپنا ایک قدرتی اثر رکھتا ہے جس کا حقیقی ظہور تو آخرت ہی میں ہو گا لیکن اس کے برگ و بار اس دنیا میں بھی دیکھے جاتے ہیں بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھیں ہوں۔
      ’وَإِذَا قِیْلَ انشُزُوْا فَانشُزُوْا‘۔ یعنی اسی طرح صدر مجلس کی طرف سے اگر اٹھ کھڑے ہونے کا حکم دیا جائے تو اس کی بھی بے چون و چرا، بغیر کسی احساس کہتری کے، تعمیل کی جائے۔
      اس حکم کی نوعیت اجتماعی بھی ہو سکتی ہے، انفرادی بھی۔ مطلب یہ ہے کہ پوری مجلس برخاست کر دی جائے تو لوگ اس کو بھی بخوشی قبول کریں، یہ نہ خیال کریں کہ ہمارے وقت کی ناقدری کی گئی، ذاتی آرام کو جماعتی کام پر ترجیح دی گئی، ہمیں اظہار خیال کا موقع نہیں دیا گیا، اس بارے میں ہماری رائے نہیں لی گئی۔
      اسی طرح انفرادی طور پر بھی اگر کسی شخص کو ہدایت کی جائے کہ وہ مجلس میں اپنی جگہ سے اٹھ کر کسی دوسری جگہ بیٹھ جائے، یا مجلس سے باہر چلا جائے یا اپنی جگہ کسی دوسرے کے لیے خالی کر دے تو وہ اس حکم کی بھی، بغیر کسی نکیر کے، تعمیل کرے۔ اجتماعی نظم زندگی کے احترام میں اگر وہ یہ کسر نفسی گوارا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے اس ایثار کو ذریعۂ رفعت بنائے گا۔
      ’فَانۡشُزُوْا یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنۡکُمْ ....... الاٰیۃ‘۔ یہ بالکل مقابل میں ہے ’فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللہُ لَکُمْ‘ کے۔ یعنی اس کھڑے ہونے میں بظاہر ذلت بھی ہو تو اللہ اس کو ان لوگوں کے لیے باعث عزت و رفعت بنائے گا جو تم میں سے اہل ایمان ہیں۔
      یہاں ’اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنۡکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ‘ کے الفاظ بڑے معنی خیز ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اندر جو منافقین گھسے ہوئے ہیں وہ تو اس قسم کے حکم پر بہت ناک بھوں چڑھائیں گے کہ ان کی توہین ہوئی کہ ان کو اٹھا کر دوسروں کو ان کی جگہ دی گئی۔ ان میں سے بعض یہ بھی محسوس کریں گے کہ کیا وہ باعتبار علم و عمل فلاں اور فلاں سے فروتر تھے کہ ان کو ان کے اوپر ترجیح دی گئی لیکن جو اہل ایمان و اصحاب علم خوش دلی سے اس حکم کی تعمیل کریں گے اللہ تعالیٰ آخرت میں ان کے مدارج پر مدارج بلند کرے گا۔
      ’وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ‘۔ یہ ان اصحاب ایمان و علم کو تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے باخبر ہے۔ اس کو آگاہ ہونے کے لیے اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ تمہاری خدمات کا اشتہار اخباروں میں چھپے تب ہی اس کے علم میں آئے۔ تم دین و ملت کے قیام اور نظم جماعت کے احترام کی خاطر جو ایثار بھی کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے اور وہ اس کا بھرپور صلہ دے گا۔
      عصر حاضر کی مجالس کا حال: یہ ہدایت اگرچہ اصلاً مجلس نبوی سے متعلق دی گئی ہے لیکن، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہی آداب مسلمانوں کی تمام مجالس میں ملحوظ ہونے چاہییں۔ آج اہل مغرب کی کورانہ تقلید میں جو طریقے اختیار کر لیے گئے ہیں اگرچہ ان کو بہت ترقی یافتہ خیال کیا جاتا ہے لیکن یہ انہی کی برکت ہے کہ ہماری پارلیمنٹیں اور کونسلیں اکھاڑے بنتی جا رہی ہیں جن میں مختلف پارٹیاں جتھے بنا بنا کر آتی ہی ایک دوسرے کو شکست دینے، اشارہ بازیاں اور سرگوشیاں کرنے، فقرے اور پھبتیاں چست کرنے کے لیے ہیں، یہاں تک کہ بسا اوقات ایک دوسرے کا منہ نوچنے اور ان پر جوتے اور کرسیاں پھینکنے تک کی بھی نوبت آ جاتی ہے اور صدر مجلس کو آداب مجلس کی یاددہانی کے بجائے پولیس کی مدد حاصل کرنی پڑتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، (یہ اِنھی سرگوشیوں کے لیے جتھے بنا کر بیٹھتے ہیں، اِس لیے) جب تم سے کہا جائے کہ پیغمبرکی مجلسوں میں کھل کر بیٹھو تو کھل کر بیٹھو، اللہ تمھارے لیے وسعت پیدا کرے گا۔ اور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اُٹھ جایا کرو، اللہ اُن لوگوں کے درجے بلند فرمائے گا جوتم میں سے ایمان لائے اور جن کو علم عطا ہوا ہے، اور (مطمئن رہو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس سے با خبر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلسوں میں اپنی سرگوشیوں، اشاروں، کنایوں اور طنز و تعریض کے جملوں سے جو فتنے منافقین پیدا کردیتے تھے، یہ اُن کے سدباب کے لیے فرمایا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہدایت کی جائے کہ لوگ اِس طرح جتھے بنا کر نہ بیٹھیں، بلکہ کھل کر بیٹھیں تو اِس حکم کی بے چون و چرا تعمیل ہونی چاہیے۔
      یعنی آگے جنت میں کشادگی پیدا کرے گا۔ تاہم اِس میں کچھ بشارت دنیا کے لیے بھی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اگرچہ اِس کا ظاہر مطلب یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے لیے جنت میں کشادگی پیدا کرے گا، لیکن واقعہ یہ ہے کہ جو انسان اپنا سینہ دوسروں کے لیے کشادہ رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ دوسروں کے سینے اُس کے لیے اِس دنیا میں بھی کشادہ کر دیتا ہے۔ آدمی کا ہر عمل، ظاہری ہو یا باطنی، نیک ہو یا بد، اپنا ایک قدرتی اثر رکھتا ہے جس کا حقیقی ظہور تو آخرت ہی میں ہو گا، لیکن اِس کے برگ و بار اِس دنیا میں بھی دیکھے جا تے ہیں، بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھیں ہوں۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۲۶۲)

      یعنی پوری مجلس برخاست کر دی جائے یا انفرادی طور پر کسی شخص کو ہدایت کی جائے کہ وہ اپنی جگہ تبدیل کر لے یا مجلس سے اٹھ جائے تو اُسے بغیر کسی نکیر کے اور خوش دلی کے ساتھ پیغمبر کے حکم کی تعمیل کرنی چاہیے۔
      یہ الفاظ بڑے معنی خیز ہیں۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...مطلب یہ ہے کہ تمھارے اندر جو منافقین گھسے ہوئے ہیں، وہ تو اِس قسم کے حکم پر بہت ناک بھوں چڑھائیں گے کہ اُن کی توہین ہوئی کہ اُن کو اٹھا کر دوسروں کو اُن کی جگہ دی گئی۔ اُن میں سے بعض یہ بھی محسوس کریں گے کہ کیا وہ باعتبار علم و عمل فلاں اور فلاں سے فروتر تھے کہ اُن کو اُن کے اوپر ترجیح دی گئی، لیکن جو اہل ایمان و اصحاب علم خوش دلی سے اِس حکم کی تعمیل کریں گے، اللہ تعالیٰ آخرت میں اُن کے مدارج پر مدارج بلند کرے گا۔‘‘ (تدبرقرآن ۸/ ۲۶۳)

      یعنی با خبر ہے تو بھر پور صلہ بھی دے گا۔

       

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو، جب تمہیں رسول سے رازدارانہ بات کرنی ہو تو اپنی رازدارانہ بات سے پہلے کچھ صدقہ کرو۔ یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے۔ پس اگر اس کی استطاعت نہ پاؤ تو اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سرگوشیوں کو روکنے کے لیے ایک ہنگامی حکم: یہ حکم، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، سرگوشیوں کی اس وبائے عام کے زمانے میں اس لیے دیا گیا کہ منافقین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز اوقات میں مداخلت سے روکا جائے۔ جب ان لوگوں کے رویہ پر گرفت ہوئی تو ان میں سے ہر ایک کو فکر ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہائی میں مل کر اپنی چکنی چپڑی باتوں سے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش بھی کرے اور ہو سکے تو اپنے گناہوں کا بوجھ کسی دوسرے بے گناہ کے سر تھوپ دے۔ حضورؐ نے اپنی ملاقاتوں پر چونکہ کوئی پابندی نہیں رکھی تھی اس وجہ سے اس طرح کے اصحاب الاغراض حضورؐ کی اس فیاضی سے بہت غلط فائدہ اٹھاتے۔ اس دور میں انھوں نے اس سے خاص طور پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہو گی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پابندی عائد کر دی گئی کہ جو شخص آپ سے تنہائی میں کوئی رازدارانہ بات کرنی چاہے وہ اس سے پہلے راہ خدا میں کچھ صدقہ کرے۔ اس حکم سے ان لوگوں کو مستثنیٰ رکھا گیا جو نادار ہوں تاکہ یہ حکم کسی غریب مسلمان کے لیے باعث زحمت نہ بنے اور صدقے کی کوئی مقدار بھی معین نہیں کی گئی تاکہ لوگ اس کو زیادہ گراں نہ محسوس کریں۔
      اس سے اصل مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، منافقین کے بڑھتے ہوئے رجحان سرگوشی کی حوصلہ شکنی تھا۔ بخل اور حرص مال کی بیماری ان منافقین میں عام تھی۔ قرآن نے ان کی اس بیماری کی جگہ جگہ نشان دہی کی ہے۔ اس وجہ سے قرآن نے یہ پابندی عائد کر دی تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہائی میں ملاقات کا معاملہ ایک سنجیدہ معاملہ بن جائے کہ اس طرح کے لوگ اپنی بخالت کے سبب سے اول تو اس کا حوصلہ ہی نہ کریں اور اگر کریں تو ان کا انفاق ان کے لیے تطہیر و تزکیہ کا ذریعہ بنے اور فساد کی باتوں سے ان کو بچنے کی توفیق حاصل ہو۔
      ’ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَأَطْہَرُ‘۔ اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ اگر تم اس پر نیک نیتی سے عمل کرو گے تو یہ تمہارے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی کا ذریعہ اور تمہارے دلوں کو پاک کرنے کا وسیلہ ہو گا۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ حکم پیغمبرؐ کے آرام و آسائش کے خیال سے نہیں بلکہ تمہاری صلاح و فلاح کے لیے دیا جا رہا ہے بشرطیکہ تم اس کی قدر کرو۔
      ’فَاِنۡ لَّمْ تَجِدُوۡا فَاِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیْمٌ‘۔ یعنی غریبوں اور ناداروں کے لیے بدستور پیغمبرؐ سے تنہائی میں ملنے اور عرض معروض کرنے کی راہ کھلی ہوئی ہے۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو ، (اب یہ پابندی ہے کہ) جب پیغمبر سے تخلیے میں بات کرو تو اپنی اِس تخلیے کی بات سے پہلے کچھ صدقہ کرو۔ یہ تمھارے لیے بہتر بھی ہے اور پاکیزہ تربھی۔ البتہ، استطاعت نہ ہو تو اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ پابندی اِس لیے عائد کی گئی کہ اوپر جو گرفت ہوئی ہے، اُس کے بعد منافقین تنہائی میں آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے مطمئن کرنے کی کوشش نہ کریں۔ مدعا یہ تھا کہ تنہائی میں ملاقات کا معاملہ ایک سنجیدہ معاملہ بن جائے اور جو شخص بھی آئے، وہ بارگاہ رسالت کے بارے میں متنبہ ہو کر اور کچھ محنت اٹھا کر آئے۔
      یہ حکم چونکہ تمام مسلمانوں کو دیا گیا تھا، اِس لیے مخلصین کو تسلی دی ہے کہ یہ منافقین کی حوصلہ شکنی کرے گا، اِس لیے خود تمھاری جماعت کے لیے بہتر ہے اور دلوں کو خدا و رسول کی اطاعت پر راسخ کرے گا، اِس لیے پاکیزہ تر بھی ہے۔
      یعنی غریب اور نادار اِس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ اُن کے لیے پیغمبر سے تنہائی میں ملنے اور عرض معروض کرنے کی راہ بہ دستور کھلی ہوئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا تم اس بات سے اندیشہ ناک ہوئے کہ اپنی رازدارانہ باتوں سے پہلے صدقے پیش کرو۔ پس جب تم نے یہ نہیں کیا اور اللہ نے تم پر رحم فرمایا تو نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ناسخ اور منسوخ دونوں یکجا ہیں: یہ آیت کچھ عرصہ کے بعد سابق آیت کے حکم کو منسوخ کرنے کے لیے نازل ہوئی لیکن اس کو جگہ یہیں سورہ کے بیچ میں اصل ابتدائی حکم کے ساتھ ہی دی گئی تاکہ منسوخ اور ناسخ دونوں آیتیں یکجا ہو جائیں۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں آیتوں کے درمیان اتنا وقفہ گزرا ہو گا کہ سابق حکم کا مقصد فی الجملہ پورا ہو گیا ہو گا یعنی منافقین کی سرگوشیوں کا وہ فتنہ دب گیا ہو گا جس کو دبانے کے لیے صدقہ کا مذکورہ بالا حکم نازل ہوا۔ لیکن بعض تفسیری روایات سے کچھ ایسا مترشح ہوتا ہے کہ ان دونوں آیتوں کے درمیان بس صبح و شام کا فاصلہ ہے۔ غالباً اس خیال کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں آیتیں قرآن میں ایک ہی جگہ ہیں لیکن یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتی کہ دونوں کے زمانۂ نزول میں سرے سے کوئی فرق ہی نہ ہو یا محض برائے نام فرق ہو۔ قرآن میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ناسخ آیت عرصہ کے بعد نازل ہوئی لیکن ترتیب میں اس کو جگہ منسوخ حکم کے ساتھ ہی ملی۔ اس کی ایک نہایت واضح مثال سورۂ مزمل میں موجود ہے۔
      آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہائی کی ملاقاتوں پر جو پابندی عائد کی گئی وہ، جیسا کہ ہم نے وضاحت کی، ایک خاص فتنہ کے سدباب کے لیے، ایک خاص دور میں عائد کی گئی تھی۔ یہ پابندی اسی وقت اٹھائی گئی ہو گی جب یہ فتنہ یا تو دب گیا ہو گا یا لوگوں کے اندر اس سے احتراز کا احساس پیدا ہو گیا ہو گا۔ یہ مقصد چند گھنٹوں میں پورا نہیں ہو سکتا۔ اس میں لازماً کچھ وقت صرف ہوا ہو گا اس وجہ سے ان دونوں آیتوں کے زمانۂ نزول میں اتنا بُعد لازماً ہو گا جتنا اس طرح کے کسی مقصد کے حاصل ہونے کے لیے ضروری ہے۔
      ’ءَ أَشْفَقْتُمْ أَنۡ تُقَدِّمُوۡا بَیْْنَ یَدَیْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَاتٍ‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرنے کا رجحان جو بہت بڑھ رہا تھا وہ اس حکم کے بعد دب گیا۔ منافقین تو اپنی بخالت کے سبب سے رک گئے ہوں گے اور مخلصین غربت کے علاوہ اس وجہ سے بھی محتاط ہو گئے ہوں گے کہ انھوں نے اندازہ کر لیا ہو گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رازدارانہ کوئی بات کرنی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔ بہرحال اس ہنگامی حکم سے جو اصل مقصود تھا جب ایک حد تک وہ حاصل ہو گیا تو یہ منسوخ کر دیا گیا۔
      ’فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوۡا وَتَابَ اللہُ عَلَیْْکُمْ‘ سے ایک تو یہ بات نکلتی ہے کہ لوگوں نے نہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رازدارانہ بات کرنے کی جرأت کی، نہ صدقہ دینے کی نوبت پیش آئی اور دوسری بات یہ نکلتی ہے کہ لوگوں کے اندر فی الجملہ ندامت کا احساس ابھرا کہ اب تک ان کی جو روش رسول کے معاملے میں رہی وہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں پسندیدہ نہیں تھی اس وجہ سے وہ مستحق تادیب و تنبیہ ٹھہرے۔ ’تَابَ اللہُ عَلَیْْکُمْ‘ کے معنی ہیں اللہ نے تمہاری توبہ قبول کی۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ نظر کرم ان پر اس وجہ سے ہوئی کہ انھوں نے اپنے احساس ندامت سے اپنے آپ کو اس کا سزاوار بنایا۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ سخت دل ایسے بھی رہے ہوں جو اس تنبیہ کے بعد بھی متنبہ نہ ہوئے ہوں لیکن آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیثیت مجموعی لوگوں کے اندر ندامت کا احساس پیدا ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ جب جماعت کے اندر کوئی اچھا احساس بحیثیت مجموعی ابھرتا ہے تو اس کو وہ قبولیت سے محروم نہیں فرماتا۔ چنانچہ یہ پابندی اٹھا لی گئی۔
      ’فَأَقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَآتُوا الزَّکَاۃَ ...... الاٰیۃ‘۔ یہ بات بطور بدرقہ ارشادہ ہوئی ہے کہ یہ پابندی اگرچہ اٹھا لی گئی لیکن احتیاط کے طور پر ضروری ہے کہ نماز و زکوٰۃ اور اللہ و رسول کی اطاعت کا خاص اہتمام رکھو تاکہ معاشرے میں اس طرح کی بحرانی کیفیت پھر نہ پیدا ہونے پائے اور شیطان کو نجویٰ کا فتنہ اٹھانے کا موقع پھر نہ مل سکے۔
      ’وَاللَّہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ‘۔ اور اس حقیقت کو ہمیشہ مستحضر رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے باخبر ہے۔

      جاوید احمد غامدی کیا تم ڈر گئے کہ اپنی تخلیے کی گفتگو سے پہلے تمھیں صدقات پیش کرنا ہوں گے؟ سو جب تم نے ایسا نہیں کیا اور اللہ نے تم پر رحم فرمایا (کہ حکم اٹھا لیا) تو (اب) نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت پر قائم رہو، اور (یاد رکھو کہ)ا للہ تمھارے ہر عمل سے واقف ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس بات سے ڈر گئے کہ یقیناً کوئی خطا ہوئی ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ پابندی عائد کر دی ہے۔
      یعنی کسی نے تخلیے میں ملاقات کے لیے وقت لینے کی درخواست نہیں کی تو منافقین بھی جرأت نہیں کر سکے اور حکم کا منشا پورا ہو گیا۔ چنانچہ اُسے اٹھا دیا گیا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ پابندی اُسی وقت اٹھا ئی گئی ہو گی، جب یہ فتنہ یا تو دب گیا ہو گا یا لوگوں کے اندر اِس سے احتراز کا احساس پیدا ہو گیا ہو گا۔یہ مقصد چند گھنٹوں میں پورا نہیں ہو سکتا۔ اِس میں لازماً کچھ وقت صرف ہو اہو گا، اِس وجہ سے اِن دونوں آیتوں کے زمانۂ نزول میں اتنا بُعد لازماً ہو گا، جتنا اِس طرح کے کسی مقصد کے حاصل ہونے کے لیے ضروری ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۸ / ۲۶۶)

      مطلب یہ ہے کہ اب اِن چیزوں کا خاص اہتمام ہونا چاہیے، اِس لیے کہ یہی وہ چیزیں ہیں جو منافقین کے اٹھائے ہوئے فتنوں کے مقابلے میں تمھیں پابرجا رکھ سکتی ہیں۔

       

    • امین احسن اصلاحی کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اس قوم سے دوستی رکھتے ہیں جس پر اللہ کا غضب ہوا! یہ لوگ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں۔ اور یہ جھوٹی بات پر جانتے بوجھتے قسم کھاتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین اپنے مفاد کے سوا کسی کے ساتھی نہیں ہیں: یہ ان منافقین کے حال پر اظہار تعجب ہے کہ ایک طرف تو یہ ان لوگوں کے دوست بنے ہوئے ہیں جو اللہ کے مغضوب ہیں دوسری طرف یہ تم کو (مسلمانوں کو) بھی قسمیں کھا کھا کے یقین دلاتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ فرمایا کہ ’مَا ہُمْ مِّنْکُمْ وَلَا مِنْہُمْ‘ نہ یہ لوگ تمہارے ساتھ ہیں اور نہ ان کے ساتھ ہیں۔ تمہارے ساتھ تو اس وجہ سے نہیں ہیں کہ اللہ اور رسول پر ایمان اور اللہ کے مغضوبوں کے ساتھ دوستی میں نسبت ضدین کی ہے۔ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہو سکتیں اور ان کے ساتھ یہ اس وجہ سے نہیں ہیں کہ ان کی دوستی اپنے مفاد کے ساتھ ہے۔ اگر ان پر کوئی سخت وقت آیا تو یہ ان کی خاطر کوئی چوٹ کھانے کو تیار نہیں ہوں گے بلکہ شیطان کی طرح اظہار براء ت کر کے بھاگ کھڑے ہوں گے۔
      ’وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْکَذِبِ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ‘۔ یعنی وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اپنے مفاد کے سوا وہ کسی کے ساتھ نہیں ہیں لیکن وہ جھوٹی قسمیں کھا کھا کے تم کو بھی راضی رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کو بھی۔
      ’غَضِبَ اللہُ عَلَیْْہِمْ‘ سے اشارہ یہود کی طرف ہے جن کو قرآن کی پہلی ہی سورہ میں ’مَغۡضُوْبِ عَلَیْہِمْ‘ کہا گیا ہے۔ اگرچہ ان منافقین کی دوستی مشرکین مکہ سے بھی تھی جس کا ذکر تفصیل سے اگلی سورتوں میں آئے گا لیکن یہاں خاص طور پر یہود کے ساتھ ان کے موالات کی طرف اشارہ ہے۔ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کہ یہ منافقین زیادہ تر یہود ہی کے ساختہ پرداختہ اور انہی کے ایجنٹ کی حیثیت سے مسلمانوں کے اندر گھسے ہوئے تھے۔

      جاوید احمد غامدی تم نے دیکھا نہیں اُنھیں جو اُن لوگوں سے دوستی رکھتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ وہ نہ تم میں سے ہیں، نہ اُن میں سے، اور جانتے بوجھتے اپنے اِس جھوٹ پر (کہ تمھارے ساتھ ہیں) قسمیں کھاتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اشارہ ہے مدینے کے یہودیوں کی طرف جنھیں اِن لوگوں نے دوست بنا رکھا تھا۔
      یعنی مخلصانہ تعلق نہ تمھارے ساتھ ہے، نہ یہود کے ساتھ۔ دونوں سے اُن کی دوستی محض اپنے مفادات کے لیے ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ نے ان کے لیے ایک سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ بے شک نہایت برا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی یہ بدقسمت لوگ سمجھ رہے ہیں کہ انھوں نے بڑی دانش مندانہ سیاست اختیار کی ہے کہ اپنی قسموں کے ذریعہ سے دونوں کو مطمئن کر رکھا ہے۔ حالانکہ یہ دانش مندانہ سیاست نہیں بلکہ نہایت مہلک کھیل ہے جو یہ کھیل رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس سے یہ دوچار ہوں گے۔ اللہ اور رسول کے دشمنوں پر اس دنیا میں جو عذاب آئے گا یہ اس میں بھی حصہ پائیں گے اور آخرت میں ان کے لیے جو عذاب ہے وہ تو ہے ہی۔

      جاوید احمد غامدی اللہ نے اُن کے لیے ایک سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ بے شک، بہت برا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی انھوں نے اپنی قسموں کو سپر بنا رکھا ہے اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں تو ان کے لیے ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جھوٹی قسموں کی آڑ میں چھپنے کی کوشش: انھوں نے قسموں کو اپنی ڈھال بنا رکھا ہے۔ ان کی جس غلطی پر بھی گرفت کی جائے اس کے بارے میں جھوٹی قسموں سے یہ اطمینان دہانی کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح اپنی دانست میں اپنے کو بچا لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان قسموں کی آڑ میں انھوں نے اپنے لیے جائے پناہ بنائی ہے تاکہ دین کے مطالبات سے اپنے کو بچائے رکھیں۔ ایمان کا اظہار کر کے اللہ کی راہ میں انھوں نے جو قدم اٹھایا تھا اس کو روک لیا اور اب آگے بڑھنے کے بجائے قسموں کے ذریعہ سے اپنی دین داری کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ اس طرح کب تک اپنا بھرم قائم رکھیں گے۔ بالآخر ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
      لفظ ’صدّ‘ قرآن میں لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوا ہے۔ یہاں یہ لازم معنی میں ہے یعنی اللہ کی راہ میں آگے بڑھنے سے رک گئے۔

      جاوید احمد غامدی اپنی قسموں کو اُنھوں نے ڈھال بنا لیا ہے۔ چنانچہ اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں۔ سو اُن کے لیے بڑی ذلت کا عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ان کے مال اور ان کی اولاد ان کو اللہ کے عذاب سے ذرا بھی بچانے والے نہیں بنیں گے۔ یہ لوگ دوزخ والے ہیں۔ یہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ ان بیڑیوں کی طرف اشارہ ہے جو ان کے پاؤں میں پڑی ہوئی ہیں اور جو اللہ کی راہ میں ان کو آگے نہیں بڑھنے دے رہی ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے اموال و املاک اور بیوی بچوں کی محبت میں گرفتار ہیں اس وجہ سے دین کی راہ میں آگے بڑھنے کا حوصلہ نہیں کر رہے ہیں۔ انھیں معلوم نہیں ہے کہ ان کے مال اور ان کی اولاد خدا کے عذاب سے ان کو ذرا بھی بچانے والے نہیں ہیں۔ ’مِنَ اللہِ‘ میں مضاف محذوف ہے یعنی ’مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ‘ ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اسی طرح مال و اولاد کی محبت میں گرفتار رہے تو یہ چیز ان کو جہنم میں لے جائے گی اور پھر یہ اس سے کبھی نہیں چھوٹیں گے۔

      جاوید احمد غامدی اللہ کے اِس عذاب سے اُن کو بچانے کے لیے نہ اُن کے مال کچھ کام آئیں گے ، نہ اُن کی اولاد۔ وہ دوزخ کے لوگ ہیں، ہمیشہ اُس میں رہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’مِنَ اللّٰہِ‘ کا لفظ آیا ہے۔ اِس میں ایک مضاف حذف ہو گیا ہے، یعنی ’من عذاب اللّٰہ‘۔
      یہ اُن بیڑیوں کی طرف اشارہ ہے جو اُن کے پاؤں میں پڑی ہوئی تھیں۔ اللہ کی راہ میں اِسی مال و اولاد نے اُنھیں آگے بڑھنے سے روک رکھا تھا۔

    • امین احسن اصلاحی جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس سے بھی اسی طرح قسم کھائیں گے جس طرح تم سے کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ وہ ایک بنیاد پر ہیں۔ آگاہ ہو کہ یہ لوگ بالکل ہی جھوٹے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اگر یہ اسی طرح مال و اولاد کی محبت میں پھنسے ہوئے دین کے تقاضوں سے بھاگتے رہے تو اس دن کو یاد رکھیں جس دن اللہ ان کو اور ان کی اولاد کو اٹھائے گا اور اس دن بھی ان کے پاس اس جھوٹی قسم کے سوا کوئی اور سہارا نہیں ہو گا جس کا سہارا انھوں نے آج لے رکھا ہے۔ اس دن وہ اپنے رب کے سامنے اپنی بریت میں اسی طرح جھوٹی قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھا رہے ہیں۔ سورۂ انعام کی آیت ۲۳ میں مشرکین کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ جب عذاب دیکھیں گے تو قسم کھا کر اپنی بے گناہی کا اظہار کریں گے کہ

      ’وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ‘
      (اللہ ہمارے خداوند کی قسم، ہم شریک ٹھہرانے والوں میں نہیں تھے)۔

      ’وَیَحْسَبُوْنَ أَنَّہُمْ عَلَی شَیْءٍ‘۔ یعنی جھوٹی قسم کھا کر سمجھیں گے کہ اپنی بے گناہی کے ثبوت میں ایک بہت بڑی دلیل انھوں نے پیش کر دی اور گمان کریں گے کہ جس طرح اس دنیا میں انھوں نے جھوٹی قسموں سے بہتوں کو فریب دے رکھا ہے اسی طرح آخرت میں بھی ان کا فریب چل جائے گا لیکن وہاں ان کا یہ فریب کچھ کام نہ دے گا۔ اس دن اللہ مجرمین کی زبانوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پاؤں اور ان کے دوسرے اعضاء و جوارح ان کے جرائم کی خود گواہی دیں گے جس کے بعد کسی کے لیے کسی معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔
      ’اَلَا إِنَّہُمْ ہُمُ الْکَاذِبُوْنَ‘۔ فرمایا کہ سب کان کھول کر اچھی طرح سن لیں کہ اگر کسی نے غلط فہمی سے ان کو سچا گمان کر رکھا ہے تو وہ اس گمان کو اپنے ذہن سے نکال دے۔ اصل جھوٹے یہی ہیں جنھوں نے یہاں بھی لوگوں کو اپنے جھوٹ سے مغالطہ دے رکھا ہے اور آخرت میں اپنے رب کو بھی دھوکا دینے کی جسارت کریں گے۔

       

      جاوید احمد غامدی اُس دن، جب اللہ اِن سب کو اٹھائے گا تو اُس کے سامنے بھی اِسی طرح قسمیں کھائیں گے، جس طرح تمھارے سامنے کھاتے ہیں، اور خیال کریں گے کہ اُن کی بھی کوئی بنیاد ہے۔ سنو، درحقیقت وہی جھوٹے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      سورۂ انعام (۶) کی آیت ۲۳ میں بیان ہوا ہے کہ مشرکین جب عذاب دیکھیں گے تو قسم کھا کر اپنی بے گناہی واضح کرنے کی کوشش کریں گے کہ ’وَاللّٰہِ رَبِّنَا، مَاکُنَّا مُشْرِکِیْنَ‘ (اللہ، ہمارے پروردگار کی قسم ، ہم مشرک نہیں تھے)۔

    • امین احسن اصلاحی ان پر شیطان مسلط ہو گیا ہے پس اس نے ان کو خدا کی یاد بھلا دی ہے۔ یہ لوگ شیطان کی پارٹی ہیں۔ سن لو کہ شیطان کی پارٹی ہی نامراد ہونے والی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جو خدا کو بھلا بیٹھتا ہے وہ شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے: ’اِسْتَحْوَذَ عَلَیْْہِمُ‘ کے معنی ہیں ’تسلّط علیہم‘ شیطان نے ان پر اپنا پورا تسلط جما لیا ہے۔ شیطان جن پر پورا تسلط جما لیتا ہے ان کو خدا کی یاد سے بالکل غافل کر دیتا ہے اور جو خدا کو بھلا بیٹھتے ہیں وہ شیطان کی پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جہاں تک وسوسہ اندازی کا تعلق ہے شیطان سب پر اپنا یہ ہنر آزماتا ہے لیکن اس کا تسلط انہی پر جمتا ہے جو اس کی وسوسہ اندازیوں کے لیے اپنے دلوں کے دروازے کھول دیتے اور اس کو اپنا ناصح و مرشد سمجھنے لگتے ہیں۔ جولوگ اس طرح اس کے مرید بن جاتے ہیں ان کے دلوں سے خدا کی یاد بالکل غائب ہو جاتی ہے پھر وہ اپنی عاقبت سے بالکل بے پروا ہو کر اپنی باگ اس کے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ سب شیطان کی پارٹی کے ممبر بن جاتے ہیں اور شیطان ان کا لیڈر بن کر ان کو جدھر چاہتا ہے آوارہ گردی کراتا ہے۔ انسان کی اصل محافظ خدا کی یاد ہے۔ اس سے محروم ہو جانے کے بعد وہ شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور پھر اس کو اس کے چنگل سے چھوٹنا نصیب نہیں ہوتا۔
      شیطان کی پارٹی کے لیے نامرادی مقدر ہے: ’اَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّیْْطَانِ ہُمُ الْخَاسِرُوْنَ‘۔ فرمایا کہ اس دنیا میں اگرچہ ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کے قانون کے تحت ایک خاص حد تک مہلت عمل ملی ہوئی ہے۔ چنانچہ شیطان کی پارٹی کو بھی مہلت دی جاتی ہے کہ وہ اپنا ہنر آزما لے لیکن ہر شخص اچھی طرح جان لے کہ بالآخر شیطان کی پارٹی ہی نامراد ہونے والی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُن پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور اللہ کی یاد اُنھیں بھلا دی ہے۔ وہ شیطان کا جتھا ہیں۔ سنو، شیطان کا یہ جتھا ہی نامراد ہونے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی دنیا اور آخرت، دونوں میں نامراد ہونے والا ہے، اِس لیے کہ رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ شیطان کے ساتھی بنے رہیں، وہ اِسی انجام کو پہنچتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے برسر مخالفت ہیں، وہی لوگ ذلیل ہونے والوں میں ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      شیطان کی پارٹی کا اصل کام اللہ و رسول کی مخالفت اور ان کے مقابل میں محاذ آرائی ہے۔ فرمایا کہ ان کو جتنی ڈھیل ملتی ہے یہ اللہ اور رسول کے خلاف زور آزمائی کرتے ہیں لیکن بالآخر یہ انہی ذلیل ہونے والوں میں شامل ہوتے ہیں جو ان سے پہلے یہ زور آزمائی کر کے ذلیل ہو چکے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول سے دشمنی کریں گے، وہی سب سے بڑھ کر ذلیل ہونے والوں میں ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ بے شک میں غالب رہوں گا اور میرے رسول۔ بے شک اللہ قوی و عزیز ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رسولوں کے باب میں سنت الٰہی: یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کااعلان فرمایا ہے جو ازل سے اس نے لکھ رکھی ہے کہ جو کش مکش اللہ و رسول اور حزب الشیطان کے درمیان برپا ہو گی اس میں غلبہ اللہ اور اس کے رسولوں کو حاصل ہو گا، شیطان کی پارٹی ذلیل و خوار ہو گی۔ اس سنت اللہ کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں کہ رسول ؂۱ جتنے بھی دنیا میں آئے وہ جس قوم کے اندر آئے اس کے لیے خدا کی عدالت بن کر آئے۔ اس کے بعد اس قوم کا لازماً فیصلہ ہو گیا۔ اگر قوم نے بحیثیت مجموعی رسول کی تکذیب کر دی تواس کے اندر سے رسول اور اس پر ایمان لانے والے افراد کو الگ کر کے باقی قوم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی عذاب کے ذریعہ سے فنا کر دیا۔ اور اگر ایمان لانے والوں کی تعداد معتدبہ ہوئی تو اتمام حجت کے بعد اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ وہ جہاد کے لیے تلوار اٹھائیں اور ان اعدائے حق سے مقابلہ کر کے ان کا زور توڑ دیں کہ زمین ان کے فتنہ سے پاک ہو جائے۔ قرآن نے رسولوں کی جو تاریخ پیش کی ہے ان میں سے اکثر کو پہلی صورت پیش آئی یعنی رسول اور اس کے ساتھیوں کی ہجرت کے بعد قوم پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کن عذاب آ گیا۔ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں دوسری صورت پیش آئی کہ ہجرت کے بعد آپ کو جہاد کا حکم ہوا اور آپ کے اعداء نے آپ کے صحابہؓ کی تلوار سے شکست کھائی یہاں تک کہ ان کا بالکل قلع قمع ہو گیا۔
      ’اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ‘۔ یہ اس دعوے کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ کیوں اللہ اور اس کے رسولوں کے لیے غلبہ لازمی ہے۔ فرمایا کہ اللہ کوئی کمزور ہستی نہیں ہے بلکہ وہ قوی و عزیز ہے۔ وہ جب اپنے بندوں کے پاس اپنا رسول بھیجتا ہے تو وہ رسول اللہ کا سفیر ہوتا ہے جو لوگوں کے پاس ان کے حقیقی بادشاہ کے احکام سے آگاہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ اگر لوگ اپنے مالک حقیقی کے احکام کی بجا آوری کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو وہ زمین میں ان کو اقتدار بخشتا اور ان کو اپنے افضال و عنایات سے نوازتا ہے اور اگر وہ خود اللہ سے مقابلہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو وہ باغی قرار پاتے ہیں اور اتمام حجت کے بعد اللہ تعالیٰ ان باغیوں کے وجود سے اپنی زمین کو پاک کر دیتا ہے۔
      _____
      ؂۱ یہاں نبی اور رسول کے درمیان وہ فرق ملحوظ رہے جو ہم نے اس کتاب میں جگہ جگہ واضح کیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اِس لیے کہ) اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑے زور والا اور بڑا زبردست ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس سنت الٰہی کا بیان ہے جو ازل سے لکھ دی گئی ہے کہ رسولوں کی بعثت کے بعد جو کشمکش حق و باطل کے مابین برپا ہوتی ہے، اُس میں غلبہ اللہ اور اُس کے رسولوں کو حاصل ہوتا ہے، اور جو شیاطین اپنے جتھوں کے ساتھ اُن کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ لازماً شکست کھاتے اور ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔
      یہ اُس دعوے کی دلیل بیان ہوئی ہے جو اِس سے پہلے مذکور ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...فرمایا کہ اللہ کوئی کمزور ہستی نہیں ہے، بلکہ وہ قوی و عزیز ہے۔ وہ جب اپنے بندوں کے پاس اپنا رسول بھیجتا ہے تو وہ رسول اللہ کا سفیر ہوتا ہے جو لوگوں کے پاس اُن کے حقیقی بادشاہ کے احکام سے آگاہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ اگر لوگ اپنے مالک حقیقی کے احکام کی بجا آوری کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو وہ زمین میں اُن کو اقتدار بخشتا اور اُن کو اپنے افضال و عنایات سے نوازتا ہے اور اگر وہ خود اللہ سے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو وہ باغی قرار پاتے ہیں اور اتمام حجت کے بعد اللہ تعالیٰ اِن باغیوں کے وجود سے اپنی زمین کو پاک کر دیتا ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۸/ ۲۷۳)

       

    Join our Mailing List