Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 29 آیات ) Al-Hadid Al-Hadid
Go
  • الحدید (The Iron)

    29 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الواقعہ ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ اگرچہ دونوں میں مکی اور مدنی ہونے کے اعتبار سے فی الجملہ زمانی اور مکانی بُعد ہے لیکن معنوی اعتبار سے دونوں میں غایت درجہ ربط و اتصال ہے۔ سابق سورہ میں یہ اصولی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ جزاء و سزا کا دن لازماً آ کے رہے گا اور اس دن لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ ایک گروہ سابقون اوّلون کا ہو گا، دوسرا اصحاب یمین کا، تیسرا اصحاب شمال کا۔

    اس سورہ میں خاص طور پر مسلمانوں کو مخاطب کر کے ان کو سابقین اولین کی صف میں اپنی جگہ پیدا کرنے پر ابھارا ہے اور اس کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے پہلے جو لوگ جہاد و انفاق کریں گے وہ سابقین کے زمرے میں شامل ہوں گے اور ان کا مرتبہ ان لوگوں سے اونچا ہو گا جو فتح مکہ کے بعد جہاد و انفاق کی سعادت حاصل کریں گے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ دونوں ہی سے اچھا ہے تاہم تقرب الٰہی کے اعتبار سے دونوں میں جو فرق ہے وہ واضح ہے۔ اسی ضمن میں ان مسلمانوں کو جہاد و انفاق پر ابھارا ہے جو اسلام میں داخل تو ہو گئے تھے لیکن ایمان کے مقتضیات سے اچھی طرح آشنا نہ ہونے کے سبب سے، اس کے مطالبات پورے کرنے کے معاملے میں کمزور تھے۔ ان کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اگر دنیا کی محبت میں پھنس کر تم نے آخرت کی ابدی بادشاہی حاصل کرنے کا حوصلہ کھو دیا تو یاد رکھو کہ بالآخر یہود کی طرح تمہارے دل بھی سخت ہو جائیں گے اور تمہارا انجام وہی ہو گا جو ان کا ہوا۔

    اس معنوی ربط کے ساتھ ساتھ دونوں صورتوں میں ظاہری ربط بھی نہایت واضح ہے۔ سابق سورہ کا خاتمہ ’فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ‘ کے الفاظ پر ہوا ہے اور اس کا آغاز ’سَبَّحَ لِلَّہِ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ... الاٰیۃ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ گویا اُس کی آخری اور اِس کی پہلی آیت نے ایک حلقۂ اتصال کی شکل اختیار کر کے دونوں کو نہایت خوبصورتی سے باہم دگر مربوط کر دیا ہے اس قسم کے ربط کی نہایت خوبصورت مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں اور یہ قرآن کے ایک منظم و مربوط کتاب ہونے کا ایک واضح قرینہ ہے۔

  • الحدید (The Iron)

    29 آیات | مدنی
    الحدید —— المجادلۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس جہاد و انفاق کے لیے ابھارا ہے، دوسری میں اُسی کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے منافقین کو اُن کے رویے پر سخت تنبیہ کی گئی ہے۔ دونوں میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الحدید — کا موضوع مسلمانوں کو سابقین اولین کے مرتبے تک پہنچنے کے لیے جہاد و انفاق کی ترغیب اور اُن لوگوں کو تنبیہ و تلقین ہے جو ایمان کے تقاضوں سے پوری طرح آشنا نہ ہونے کی وجہ سے اسلام کے اِن مطالبات کو پورا کرنے سے گریزاں تھے۔

    دوسری سورہ — المجادلۃ— کا موضوع ایمان و اسلام کے تقاضوں کی وضاحت، منافقین کو تہدیدووعید اور اُن کے اُس پروپیگنڈے کا سدباب ہے جو وہ مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل اور اُن کے جوش جہاد کو سرد کرنے کے لیے کر رہے تھے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہیں ساری چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ غالب و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تسبیح کی حقیقت اور اس کے مختلف پہلو: لفظ ’تسبیح‘ کی وضاحت جگہ جگہ ہو چکی ہے۔ اس کے اندر تنزیہہ کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اور بندگی و عبادت کا بھی۔ یہ چیز قول سے بھی ہوتی ہے اور عمل سے بھی۔ زبان سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا بھی تسبیح ہے اور نماز پڑھنا اور اس کے حضور میں قیام، رکوع اور سجود بھی تسبیح ہے۔ اس کی شکلیں مختلف ہیں۔ کائنات کی ہر چیز کسی نہ کسی صورت میں اپنے رب کی تسبیح کرتی ہے۔ یہاں تک کہ قرآن میں یہ حقیقت بھی واضح فرمائی گئی ہے کہ جو انسان طوعاً تسبیح نہیں کرتے ہیں انھیں تکوینی دائرے میں کرہاً یہ کام کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر لوگوں سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے دائرۂ اختیار اور دائرۂ تکوین میں بے ربطی نہ پیدا کریں۔ اس نکتہ کی وضاحت اس کے محل میں ہم کر چکے ہیں۔
      کائنات کی تمام چیزوں کی تسبیح کا حوالہ قرآن میں جہاں جہاں دیا گیا ہے وہ بالعموم تین مقاصد کو سامنے رکھ کر دیا گیا ہے۔
      ایک یہ کہ لوگوں کو اس حق کی یاددہانی کی جائے کہ جب اس کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز اپنے خالق و مالک کا حق پہچانتی ہے اور اس کی تسبیح کرتی ہے تو انسان پر بدرجۂ اولیٰ یہ حق عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کی تسبیح کرے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اشرف المخلوقات کا درجہ بخشا اور اپنی خلافت کی خلعت سے نوازا ہے۔
      دوسرا یہ کہ اس فرض کو ادا کرنے کے لیے اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ دنیا میں ناسپاسوں کی کثرت دیکھ کر بددل اور پست حوصلہ نہ ہوں۔ اگر انسانوں میں اپنے رب کا حق پہچاننے والے تھوڑے ہیں تو یہ چیز دل برداشتہ ہونے کی نہیں ہے۔ باقی ساری کائنات کی ہر چیز اپنے رب کی تسبیح و تقدیس میں سرگرم ہے۔ اس راہ کا مسافر تنہا نہیں ہے بلکہ قافلوں سے بھری ہوئی راہ یہی ہے۔
      تیسرا یہ کہ ان لوگوں سے اظہار بے نیازی کیا جائے جو یاددہانی کے باوجود اللہ تعالیٰ کی بندگی سے گریز کر رہے ہیں اور ان کو بتایا جائے کہ اگر وہ خدا کی تسبیح نہیں کرتے ہیں تو خدا ان کی تسبیح کا محتاج نہیں ہے۔ اس کائنات کی ہر چیز اس کی تسبیح کر رہی ہے، اگر کچھ بدقسمت انسان اس سے گریز کر رہے ہیں تو وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہیں بلکہ اپنا ہی بگاڑ رہے ہیں۔
      قرآن میں بعض جگہ یہ تینوں مطالب پیش نظر ہیں۔ بعض جگہ ان میں سے ایک یا دو مدنظر ہیں۔ ان میں امتیاز کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے اگر سررشتۂ نظم پر نگاہ جمی رہے تو غور کرنے والا آسانی سے امتیاز کر لیتا ہے۔
      صفات عزیز و حکیم کے تقاضے: ’وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ چونکہ ’عزیز‘ اور ساتھ ہی ’حکیم‘ ہے اس وجہ سے وہی حق دار ہے کہ سب اسی کی تسبیح و بندگی کریں۔ ’عزیز‘ یعنی ہر چیز پر غالب، ہر اختیار کا مالک، کوئی نہیں جو اس کی دسترس سے باہر ہو، کوئی نہیں جو اس کو دبا سکے یا اپنے زور سے اس پر اثرانداز ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حکیم بھی ہے اس وجہ سے اس کا ہر فعل حکمت، عدل اور رحمت پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے زور میں جو چاہے کر ڈالے خواہ اس میں کوئی حکمت و غایت ہو یا نا ہو۔ یہ کائنات اس کی قدرت کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے اور یہ اپنے وجود سے شہادت دے رہی ہے کہ اس کو وجود میں لانے والا ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر کام میں اتھاہ حکمت پوشیدہ ہے۔ اس کی یہ حکمت مقتضی ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں ان لوگوں کو صلہ عطا فرمائے جنھوں نے اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کے اندر زندگی گزاری اور ان لوگوں کو سزا دے جنھوں نے اس کے حدود سے تجاوز کیا۔ اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو یہ اس کی عزت و قدرت کے منافی ہے اور اگر کر سکنے کے باوصف نہ کرے تو یہ اس کی حکمت اور اس کے عدل و رحمت کے منافی ہے۔ اس کے بغیر یہ دنیا بازیچۂ اطفال اور ایک اندھیرنگری بن کے رہ جاتی ہے اور ایک عزیز و حکیم کی شان کے یہ بالکل خلاف ہے کہ وہ اتنا بڑا کارخانہ محض کھیل تماشے کے طور پر بنا ڈالے۔

      جاوید احمد غامدی زمین اور آسمانوں کی ہر چیز نے اللہ کی تسبیح کی ہے اور وہ زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی کائنات کی ہر چیز نے ہمیشہ اپنے وجود سے اِس حقیقت کا اظہار و اعلان کیا ہے کہ اُس کے خالق نے دنیا محض کھیل تماشے کے لیے نہیں بنائی ، وہ اِس سے پاک ہے کہ اِس طرح عبث کوئی کام کرے۔ چنانچہ انسان کو بھی یہی کرنا چاہیے ۔ ورنہ وہ زبردست ہے، ایک دن پکڑ بلائے گا اور اُسے لازماً پکڑ بلانا چاہیے ، اِس لیے کہ وہ حکیم بھی ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ظالموں اور نیکوکاروں کو وہ انجام کے لحاظ سے یکساں کر دے؟

    • امین احسن اصلاحی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مزید صفات کا حوالہ: یعنی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے ہاتھ میں ہے، کوئی دوسرا اس کے اقتدار میں ساجھی نہیں ہے کہ کسی قسم کی مداخلت کر سکے۔ ’یُحْیٖ وَیُمِیْتُ‘ وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے۔ یعنی جب زندگی اس کی بخشی ہوئی ہے اور موت بھی اسی کے حکم سے واقع ہوتی ہے تو اس کی بادشاہی میں کسی اور کی حصہ داری کی گنجائش کہاں سے نکلی!
      ’وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘۔ یعنی کوئی کام اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے کہ وہ کسی معاون و مددگار کا محتاج ہو۔ اپنی مملکت کے ایک ایک چپہ پر وہ خود قابض و متصرف ہے اور جو چاہے براہ راست اپنے کلمۂ کن سے کر سکتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اُسی کی ہے۔ وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی وہی اول بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی اور باطن بھی اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      احاطۂ قدرت کے بعد یہ اس کے احاطۂ علم کا بیان ہے کہ وہی اول ہے اور وہی آخر ہے۔ جب کچھ نہیں تھا وہ تھا اور جب کچھ نہیں ہو گا تب بھی وہ ہو گا۔ اسی نے ہر چیز کا آغاز کیا ہے اور بالآخر ہر چیز کی وراثت اسی کو لوٹنے والی ہے۔
      ’وَالظَّاھِرُ وَالْبَاطِنُ‘ کی تفسیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمائی ہے:

      ’انت الظاھر فلیس فوقک شئ وانت الباطن فلیس دونک شئ‘
      (تو ظاہر ہے پس کوئی چیز تجھ سے اوپر نہیں اور تو باطن ہے پس کوئی چیز تجھ سے اوجھل نہیں)۔


      آیت ۱۳ میں یہ الفاظ بالکل اسی معنی میں استعمال ہوئے ہیں جس معنی میں ہم ’اندر باہر‘ کے الفاظ بولتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کا علم اندر و باہر ہر چیز کو محیط ہے۔
      ’وَھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ‘۔ یہ ایک کلیہ کی شکل میں خلاصہ سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اس کے لیے ظاہر و باطن سب یکساں ہے۔

      جاوید احمد غامدی وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، اور ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      احاطۂ قدرت کے بعد اب یہ اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم کا بیان ہے کہ وہ زمان و مکان کی محدودیتوں سے بالاتر ہے۔ چنانچہ اول ہے، اُس سے پہلے کچھ نہیں ہے؛ آخر ہے، اُس کے بعد بھی کچھ نہیں ہے؛ ظاہر ہے، اُس کے اوپر کچھ نہیں ہے؛ باطن ہے، اُس کے نیچے بھی کچھ نہیں ہے۔ اُس کا علم ابتدا، انتہا اور اندر باہر ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

    • امین احسن اصلاحی وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا چھ دنوں میں پھر وہ عرش پر متکمن ہوا۔ وہ جانتا ہے اس چیز کو جو زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی تم ہوتے ہو اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو وہ سب کو دیکھتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس احاطۂ علم و قدرت کی مزید تفصیل ہے کہ اللہ ہی نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے اور ان کو پیدا کر کے ان کا انتظام دوسروں کے سر ڈال کر وہ کسی گوشے میں نہیں جا بیٹھا ہے بلکہ وہ بذات خود عرش حکومت پر متمکن ہو کر سارے انتظام کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ ’عرش‘ تعبیر ہے زمام اقتدار اور حکومت کی۔ ’فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ‘ کی وضاحت ہم دوسرے مقامات میں کرچکے ہیں کہ اس سے مراد ہمارے ایام نہیں بلکہ خدائی ایام ہیں۔
      کائنات میں جو اہتمام ہے وہ اس کے بامقصد ہونے کی دلیل ہے: قرآن میں جہاں کہیں آسمانوں اور زمین کے چھ دنوں میں پیدا کیے جانے کا ذکر آیا ہے اس سے مقصود اس اہتمام خاص کی طرف ہم کو متوجہ کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے پیدا کرنے میں ملحوظ رکھا ہے۔ اور پھر اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے اس اہتمام سے پیدا کی ہے کس طرح ممکن ہے کہ اس کو پیدا کر کے وہ اس سے بالکل بے تعلق ہو کے بیٹھ رہے؟ نہ اس کے خیر سے اسے کوئی دلچسپی رہے، نہ اس کے شر سے اسے کوئی تعلق، لوگ جو دھاندلی چاہیں اس میں مچاتے پھریں اور وہ خاموش تماشائی کی طرح تماشا دیکھتا رہے! اگر وہ ایسا کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے یہ ساری کائنات محض ایک کھیل کے طور پر بنائی ہے جس میں اہتمام تو اس نے بہت صرف کیا مگر اس کا مقصد کچھ بھی نہیں۔
      ’یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْھَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْھَا وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ‘۔ یہ وضاحت ہے اس بات کی کہ وہ نہایت بیدار مغزی اور جزرسی کے ساتھ اپنی مملکت کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ فرمایا کہ زمین میں جو چیز داخل ہوتی ہے وہ اس کو بھی جانتا ہے اور جو چیز نکلتی ہے اس کو بھی جانتا ہے۔ اسی طرح جو چیز آسمان سے اترتی ہے وہ بھی اس کے علم میں ہوتی ہے اور جو چیز اس میں چڑھتی ہے اس سے بھی وہ باخبر ہوتا ہے۔ نیز تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہوتا ہے اور جو کچھ بھی تم کرتے ہو اس کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی وہی ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر (اُن کی تدبیر امور کے لیے) عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے، اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے، اور جہاں تم ہوتے ہو، وہ تمھارے ساتھ ہوتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے دیکھتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر جس احاطۂ علم و قدرت کا بیان ہے، یہ اُس کی مزید تفصیل ہے کہ اللہ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا اور اُن کو پیدا کرکے وہ اُن سے بے تعلق نہیں ہو گیا، بلکہ اب اُن کا نظم و نسق بھی وہی چلا رہا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’قرآن میں جہاں کہیں آسمانوں اور زمین کے چھ دنوں میں پیدا کیے جانے کا ذکر آیا ہے، اُس سے مقصود اُس اہتمام خاص کی طرف ہم کو متوجہ کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اُن کے پیدا کرنے میں ملحوظ رکھا ہے ۔ اور پھر اِس سے یہ نتیجہ نکالاہے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے اِس اہتمام سے پیدا کی ہے، کس طرح ممکن ہے کہ اُس کو پیدا کرکے وہ اُس سے بالکل بے تعلق ہو کے بیٹھ رہے؟ نہ اُس کے خیر سے اُسے کوئی دل چسپی رہے ، نہ اُس کے شر سے اُسے کوئی تعلق، لوگ جو دھاندلی چاہیں، اُس میں مچاتے پھریں اور وہ خاموش تماشائی کی طرح تماشا دیکھتا رہے! اگر وہ ایسا کرے تو اِس کے معنی یہ ہوئے کہ اُس نے یہ ساری کائنات محض ایک کھیل کے طور پر بنائی ہے جس میں اہتمام تو اُس نے بہت صرف کیا، مگر اُس کا مقصد کچھ بھی نہیں۔‘‘(تدبرقرآن۸/ ۱۹۸)

      یہ اُس بیدار مغزی اور جزرسی کی وضاحت ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنی مملکت کے انتظامات کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور تمام امور کا مرجع اللہ ہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی اللہ تعالیٰ صرف ہر چیز سے واقف ہی نہیں ہے بلکہ عملاً تمام امور کا مرجع و ماویٰ بھی وہی ہے۔ سارے امور اسی کے حکم سے جاری ہوتے ہیں اور پھر ان سب کی رپورٹ اسی کے آگے پیش ہوتی ہے۔ اس کے کارندے جملہ ہدایات کے لیے اسی سے رجوع کرتے اوراپنی کارگزاریاں اسی کے حضور میں پیش کرتے ہیں۔ نہ کوئی اپنی صواب دید پر کچھ کرنے کا مجاز ہے اور نہ کوئی اس کے آگے مسؤلیت سے بری ہے۔

      جاوید احمد غامدی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اُسی کی ہے اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی کوئی معاملہ کسی دوسرے کی صواب دید پر نہیں ہے۔ تمام امور اُسی کے حکم سے جاری ہوتے اور مآل کار اُسی کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی وہی داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ سینوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی یہ رات اور دن کا چکر جو چل رہا ہے نہ اپنے آپ چل رہا ہے اور نہ کوئی اور اس کو چلا رہا ہے بلکہ یہ اللہ ہی ہے جو اس کو چلا رہا ہے۔ وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور نکالتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے تعاقب میں برابر سرگرم تگاپو ہیں۔
      ’وَھُوَ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ‘۔ یعنی جب دن کی روشنی اور رات کی تاریکی دونوں کا لانے والا وہی ہے۔ وہی دن کی روشنی نمودار کر کے رات کی عالم گیر تاریکی کو کافور اور اس کی ڈھانکی ہوئی ہر چیز کو بے نقاب کرتا ہے تو اس سے کوئی چیز کس طرح مخفی رہ سکتی ہے۔ وہ ہر مخفی سے مخفی راز یہاں تک کہ سینوں کے بھیدوں سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔

      جاوید احمد غامدی وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ سینوں کے بھید تک جانتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اس مال میں سے جس میں اس نے تم کو امین بنایا ہے۔ پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں اور خرچ کریں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عام خطاب سے منافقین کو تنبیہ: ’اٰمِنُوْا‘ کا خطاب اگرچہ بظاہر عام ہے لیکن آگے قرائن سے واضح ہو جائے گا کہ روئے سخن درحقیقت خام قسم کے مسلمانوں اور منافقین کی طرف ہے جو اللہ اور رسول پر ایمان کا دعویٰ تو کر بیٹھے لیکن جب اس ایمان کے مطالبے، انفاق اور جہاد کی صورت میں، سامنے آئے تو ان سے کترانے اور منہ چھپانے لگے۔ اس طرح کے مدعیان ایمان سے خطاب کر کے فرمایا کہ اللہ اور رسول پر ایمان لاؤ۔ ظاہر ہے کہ یہاں فعل ’اٰمِنُوْا‘ اپنے حقیقی اور کامل معنی میں ہے جس طرح

      ’یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اٰمِنُوْا‘
      (اے وہ لوگو جو ایمان کے مدعی ہو سچا اور پکا ایمان لاؤ)

      میں ہے۔ فعل کے اپنے ابتدائی معنی اور اپنے کامل معنی میں استعمال کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
      ایمان کا لازمی تقاضا: ’وَأَنفِقُوْا مِمَّا جَعَلَکُم مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ‘۔ یہ اس ایمان کا لازمی تقاضا بھی بیان ہوا ہے اور اس کی نہایت واضح عقلی اور فطری دلیل بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اور رسول پر ایمان کا حق صرف ’اٰمَنَّا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ‘ کے اقرار و اظہار سے نہیں ادا ہو جاتا بلکہ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جب اللہ کی راہ میں مال و جان کی قربانی کی دعوت دی جائے تو اس پر لبیک کہو۔ جو لوگ مال بھی خرچ کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے ان سے جان کی قربانی کی توقع کس طرح کی جا سکتی ہے! اور جو نہ مال قربان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں نہ جان، ان کے دعوائے ایمان کی کیا وقعت ہے۔
      مال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے: ’مِمَّا جَعَلَکُمۡ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ‘۔ یعنی اس مال کے متعلق تمہیں یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ تم نہ تو اس کے خالق ہو نہ مالک بلکہ اللہ تعالیٰ ہی نے تمہیں اس میں خلیفہ بنایا ہے کہ تم اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کے اندر اس میں تصرف کرو اور اس کے حضور میں اس کی پائی پائی کی جواب دہی کے لیے تیار رہو۔ مطلب یہ ہوا کہ جب تم اس مال کے خالق و مالک نہیں بلکہ صرف اس کے امین ہو تو جب اس مال کے خرچ کرنے کا مطالبہ اسی کی طرف سے ہو رہا ہے جس نے تم کو اس کا امین بنایا ہے تو اس سے بخالت کرنے کے کیا معنی؟
      انفاق ایمان کی تصدیق: ’فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنکُمْ وَاَنفَقُوْا لَہُمْ أَجْرٌ کَبِیْرٌ‘۔ یہاں ’اٰمَنُوْا‘ کے بعد ’اَنفَقُوْا‘ ایمان کی تصدیق اور شہادت کے طور پر آیا ہے۔ یعنی جو لوگ ایمان کا اظہار کرنے کے بعد اپنے ’انفاق‘ سے اپنے اس اقرار کی تصدیق کر دیں گے وہ مطمئن رہیں کہ ان کا یہ سودا خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ اللہ کے ہاں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ وہ ایک کا دس پائیں گے تو ایسے نفع بخش کاروبار میں سرمایہ لگانے سے وہ کیوں گھبرائیں۔
      یہاں وہ بات یاد رہے جس کی طرف اوپر ہم نے اشارہ کیا ہے کہ سورہ کی تمہید میں جو صفات الٰہی بیان ہوئی ہیں وہ بمنزلہ ایک آئینہ کے ہیں تاکہ اس کو سامنے رکھ کر وہ لوگ اپنے اخلاق و کردار کو سنواریں جنھوں نے ایمان کا دعویٰ کیا ہے۔ اوپر ارشاد ہوا ہے کہ اللہ ہی اول و آخر ہے اور ساری چیزیں اسی کی طرف لوٹنے والی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب اصل حقیقت یہ ہے تو اس دنیا میں انسان کو جو کچھ بھی حاصل ہوا ہے وہ اس کا مالک نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا امین ہے تو جب اصل مالک اللہ ہے تو اس کا مال اسی سے دریغ رکھنے کے کیا معنی!

      جاوید احمد غامدی (اِس لیے تم بھی اللہ کی تسبیح کرو اور) اللہ اور اُس کے رسول پر فی الواقع ایمان لاؤ اور جن چیزوں کا اللہ نے تمھیں امین بنایا ہے، اُن میں سے خرچ کرو۔ چنانچہ تم میں سے جو (اِس طرح) ایمان لائے اور اُنھوں نے (اللہ کی راہ میں) خرچ کیا ہے، اُن کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں فعل ’اٰمِنُوْا‘ آیا ہے۔ آگے کے مضمون سے واضح ہے کہ یہ اپنے حقیقی اور کامل مفہوم میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان کا دعویٰ ہے تو ایمان لاؤ جس طرح کہ ایمان لانے کا حق ہے، اِس لیے کہ جب معاملہ اُس پروردگار سے ہے جس کی صفات اوپر بیان ہوئی ہیں تو محض ایمان کا دعویٰ کر لینے سے تو تم اُسے راضی نہیں کر سکتے۔
      یہ اُس خرچ کی ترغیب ہے جو زمانۂ رسالت میں جہاد و قتال کی ضرورتوں کے لیے مطلوب تھا۔ آگے کی آیات سے اِس کی وضاحت ہو جائے گی۔

    • امین احسن اصلاحی اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لا رہے ہو درآنحالیکہ رسول تم کو تمہارے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے، اگر تم مومن ہو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس طرح کے کمزور مسلمانوں کے لیے نصیحت بانداز ملامت ہے کہ جب تم رسول سے ’سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا‘ کا عہد کر چکے ہو تو اس عہد کا تقاضا تو یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو حکم اترے اور رسول جس بات کی دعوت دیں اس پر ’اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا‘ کہتے ہوئے عمل کرو لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ رسول، اللہ کی راہ میں انفاق کی دعوت دے رہا ہے اور تم منہ چھپا پھر رہے ہو! تو یہ کس قسم کا عہد اور کس نوع کا ایمان ہے! اور جب آج تمہارے ایمان اور عہد کا یہ حال ہے جب کہ رسول تمہارے اندر موجود ہے اور بذات خود تمہیں ایمان کے تقاضے پورے کرنے کی دعوت دے رہا ہے تو کل تمہارا کیا حال ہو گا جب رسول تمہارے درمیان موجود نہیں ہو گا۔
      اس آیت سے دو باتیں نہایت واضح طور پر سامنے آئیں۔
      ایک یہ کہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے کہ آدمی ہر اس چیز پر ایمان لائے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی اور رسول نے جس کی دعوت دی۔ ان میں سے کسی ایک چیز کا انکار بھی سب کے انکار کے ہم معنی ہے۔
      دوسری یہ کہ ایمان عمل ہی سے متشکّل اور وجود پذیر ہوتا ہے اور انفاق کو اس کے نشوونما اور اس کے تغذیہ و تقویت میں خاص دخل ہے چنانچہ اسی بنا پر یہاں انفاق کی دعوت کو ایمان کی دعوت سے تعبیر فرمایا ہے۔
      میثاق سے سمع و طاعت کا عہد مراد ہے: ’میثاق‘ سے مراد میرے نزدیک یہاں سمع و طاعت کا وہ عہد ہے جو ہر مسلمان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے وقت کرنا پڑتا۔ استاذ امام رحمۃ اللہ کا رجحان اس عہد کی طرف معلوم ہوتا ہے جس کا ذکر سورۂ آل عمران کی آیت ۸۰ میں ہے۔ میں نے اس پر غور کیا لیکن یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ وہ دوسرے سیاق و سباق کی بات ہے، یہاں اس کا محل نہیں ہے۔ میری خیال کی تائید سورۂ مائدہ کی آیت ۷ سے بھی ہوتی ہے:

      ’وَاذْکُرُوۡا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْْکُمْ وَمِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمۡ بِہٖٓ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا‘
      (پس اپنے اوپر اللہ کے فضل اور میثاق کو یاد رکھو جو اس نے تم سے لیا اور تم نے ’سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا‘ کہہ کر اس کا اقرار کیا)۔

       

      جاوید احمد غامدی اور تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ پر فی الواقع ایمان نہیں لاتے ہو، دراں حالیکہ رسول تمھیں تمھارے پروردگار پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے (سمع و طاعت کا) مضبوط عہد بھی لے چکا ہے، اگر تم واقعی مانتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے مراد وہ عہد ہے جس کا ذکر سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۷ میں کیا گیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی وہی ہے جو اتارتا ہے اپنے بندے پر واضح آیات تاکہ تمہیں نکالے تاریکیوں سے روشنی کی طرف اور بے شک اللہ تمہارے حال پر نہایت ہی شفیق اور مہربان ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انفاق تاریکی سے روشنی میں لاتا ہے: یعنی رسول تمہیں انفاق کی جو دعوت دے رہے ہیں اس کو گراں اور اپنے لیے نقصان رساں سمجھ کر اس سے بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر یہ روشن آیتیں اس لیے نازل فرما رہا ہے کہ تمہیں خواہشات نفس اور حب دنیا کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور حب آخرت کی روشنی میں لائے۔ یہ نہ گمان کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں نقصانات اور مشقتوں میں ڈالنا چاہتا ہے۔ وہ رؤف رّحیم ہے۔ وہ تمہاری دنیا اور آخرت دونوں کی بہبود کی راہ کھول رہا ہے نہ کہ تمہیں کسی زحمت و مشقت میں ڈال رہا ہے۔
      ’اٰیَاتٍ بَیِّنَاتٍ‘ سے مراد یوں تو وہ ساری ہی تعلیمات ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے لوگوں کو مل رہی تھیں لیکن یہاں خاص طور پر ان آیات کی طرف اشارہ ہے جو انفاق و جہاد سے متعلق ہیں اور جن کا ایک حصہ آگے اس سورہ میں بھی نہایت روشن دلائل کے ساتھ آ رہا ہے۔
      ’ظُّلُمٰت‘ سے مراد شہوات نفس اور حب دنیا کی تاریکیاں ہیں جن کا واحد علاج اللہ کی راہ میں انفاق ہے اور ’نور‘ سے وہ نور مراد ہے جو انفاق سے پیدا ہوتا ہے اور جس کا ذکر آگے آیت ۱۲ میں آ رہا ہے۔
      ’رَؤُوْفٌ‘ اور ’رَحِیْمٌ‘ کی وضاحت ان کے محل میں ہم کر چکے ہیں۔ پہلے میں دفع شر کا پہلو غالب ہے، دوسرے میں اثبات خیر کا۔

      جاوید احمد غامدی وہی ہے جو اپنے بندے پر یہ روشن آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمھیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور بے حد مہربان ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اشارہ ہے خواہشات نفس اور حب دنیا کی اُن تاریکیوں کی طرف جو انسان کا احاطہ کیے رہتی ہیں۔
      چنانچہ یہی روشنی ہے جو دنیا میں راہ دکھاتی ہے اور آخرت میں انسان کو اُس کی منزل مقصود تک پہنچا دیتی ہے۔
      اصل میں ’رَءُ وْفٌ‘ اور ’رَحِیْمٌ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ زبان کے ادا شناس جانتے ہیں کہ ’رأفت‘ میں دفع شر اور ’رحمت‘ میں اثبات خیر کا پہلو زیادہ ملحوظ ہوتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کو لوٹنے والی ہے! تم میں سے جو لوگ فتح مکہ سے پہلے انفاق و جہاد کریں گے اور جو بعد میں انفاق و جہاد کریں گے یکساں نہیں ہوں گے۔ ان لوگوں کا درجہ ان سے بڑا ہو گا جو بعد میں انفاق اور جہاد کریں گے۔ اگرچہ اللہ کا وعدہ ان میں سے ہر ایک سے اچھا ہی ہے۔ اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ترغیب انفاق کی دو دلیلیں: یہ انہی کمزور قسم کے مسلمانوں کو انفاق پر ابھارا ہے اور اس مقصد کے لیے دو دلیلیں انفاق کے محرک کے طور پر بیان فرمائی ہیں۔ ایک وہی جس کی طرف اوپر آیت ۷ کے تحت اشارہ گزر چکا ہے کہ آسمان و زمین کی تمام چیزوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس دنیا میں انسان کو جن چیزوں پر بھی تصرف حاصل ہوتا ہے وہ بالکل عارضی طور پر، اللہ تعالیٰ کے خلیفہ اور امین کی حیثیت سے، حاصل ہوتا ہے۔ بالآخر ہر چیز اللہ ہی کی طرف لوٹ جانے والی ہے تو جب انسان کی حیثیت چند روزہ امین کی ہوئی تو امانت کے مال پر مارگنج بن کر بیٹھ جانے کے کیا معنی! پھر تو اس کے لیے صحیح رویہ یہی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ بخل کرے تو کرے لیکن جس نے اس کی تحویل میں اپنی امانت رکھی ہے اس کو، جب وہ طلب کرے، پوری فیاضی کے ساتھ دے۔
      دوسرا یہ کہ حالات کے تغیر سے اعمال کی قدر و قیمت میں بڑا فرق ہو جاتا ہے۔ آج جب کہ کفر اور اہل کفر کا مکہ پر غلبہ ہے (واضح رہے کہ یہ سورہ فتح مکہ سے پہلے نازل ہوئی ہے) اور قریش کی ہیبت بدستور عرب پر قائم ہے جو لوگ اسلام کو غالب کرنے کے لیے اپنے مال خرچ کریں گے اور جنگ میں حصہ لیں گے ان لوگوں کا درجہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان سے کہیں زیادہ بلند ہو گا جو فتح مکہ کے بعد، جب کہ قریش کا زور ٹوٹ جائے گا، انفاق اور جہاد کریں گے۔ بڑے ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو آج کے کٹھن حالات میں اسلام کی خدمت کی توفیق پائیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمہیں یہ موقع حاصل ہوا ہے تو اس کو اپنی پست حوصلگی سے ضائع نہ کرو بلکہ ہمت کر کے اسلام کے سابقین اولین اور اللہ تعالیٰ کے مقربین میں اپنی اپنی جگہ محفوظ کرنے کی کوشش کرو۔
      سورۂ واقعہ میں یہ حقیقت واضح کی جا چکی ہے کہ سابقین و مقربین کے زمرے میں زیادہ تعداد انہی لوگوں کی ہو گی جنھوں نے اسلام کی غربت اولیٰ کے دور میں اولوالعزمی کے ساتھ اس کی خدمت کی توفیق پائی۔ بعد کے ادوار کے لوگوں میں سے تھوڑے ہی لوگوں کو ان کے زمرے میں جگہ ملے گی اور یہ وہ لوگ ہوں گے جن کو بڑے سخت امتحانوں سے گزرنا پڑا ہو اور انھوں نے دین کی راہ میں کوئی بہت بڑی بازی کھیلی ہو۔
      ’وَکُلّاً وَعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیْرٌ‘۔ یعنی وعدہ تو اللہ کا دونوں ہی سے اچھا ہے۔ فتح مکہ کے بعد بھی اسلام کے لیے قربانیاں کرنے والوں کے لیے ان کی خدمات کے اعتبار سے درجے اور مرتبے ہیں۔ حسن نیت اور اخلاص کے ساتھ جو لوگ بھی اسلام کی خدمت کریں گے وہ اپنی قربانیوں کا صلہ پائیں گے بلکہ ان میں سے ایسے لوگ بھی نکلیں گے جو اگلوں کی صف میں جگہ حاصل کریں گے تاہم فتح مکہ سے پہلے کا دور اور ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اس دور کی قدر پہچانیں اور اس سے صحیح فائدہ اٹھا لیں۔
      فتح سے فتح مکہ مراد ہے: یہاں ’فتح‘ سے مراد ظاہر ہے کہ فتح مکہ ہی ہے۔ بعض لوگوں نے اس سے صلح حدیبیہ بھی مراد لی ہے۔ لیکن صلح حدیبیہ کی حیثیت اصل فتح کی نہیں بلکہ فتح مکہ کی تمہید کی ہے۔ لفظ ’فتح‘ سے ذہن فتح مکہ ہی کی طرف جاتا ہے۔ اس جدوجہد کے دوران میں ہر مسلمان کے دل میں یہ بات بطور ایک عقیدہ کے راسخ تھی کہ بعثت محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اصل مقصود بیت اللہ کو، کفر و شرک کی تمام آلودگیوں سے پاک کر کے، اس کے اصل ابراہیمی جمال میں خلق کے سامنے نمایاں کرنا ہے۔ چنانچہ ہر سچے مسلمان کو اس واقعہ کے ظہور کا ارمان بھی تھا اور انتظار بھی۔ صرف منافقین اپنے تھڑ دلے پن کے سبب سے مذبذب تھے۔ ان کے اس تذتذب کا ذکر آگے ان کے نفاق کی دلیل کی حیثیت سے آ رہا ہے۔

      جاوید احمد غامدی تمھیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو، دراں حالیکہ زمین اور آسمانوں کی میراث، سب اللہ ہی کو لوٹنے والی ہے۔ (تم پر واضح ہونا چاہیے کہ) تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد انفاق کریں گے اور (راہ حق میں) لڑیں گے، وہ کبھی اُن لوگوں کے برابر نہ ہوں گے جنھوں نے فتح سے پہلے انفاق کیا اور (راہ حق میں) لڑے۔ اُن کا درجہ یقیناً اُن لوگوں سے بڑا ہو گا جو اِس کے بعد انفاق کریں گے اور لڑیں گے، اگرچہ اللہ کا وعدہ دونوں ہی سے اچھا ہے۔ (یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس سے خوب با خبر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جب ہر چیز اللہ ہی کی طرف لوٹ جانے والی ہے اور انسان اِس چند روزہ زندگی میں محض امین کی حیثیت رکھتا ہے تو خدا کی امانت کو خود خدا سے روکنے کے کیا معنی!
      یہ فتح مکہ کا ذکر ہے۔ اُس وقت اگرچہ قریش کا اقتدار بہ دستور قائم تھا ، مگر مسلمان جانتے تھے کہ سنت الٰہی کے مطابق یہ اُن کے لیے مقدر ہو چکی ہے۔
      یہ اُنھی سابقین کے زمرے میں شامل ہونے کی دعوت ہے جن کا ذکر اِس سے پہلے سورۂ واقعہ میں ہو چکا ہے۔
      یعنی فتح کے بعد بھی نیکوکاروں کی نیکیوں کا اجر اُنھیں ضرور ملے گا اور اُن کی خدمات کے لحاظ سے اُن کے درجے اور مرتبے بھی ہوں گے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...حسن نیت اور اخلاص کے ساتھ جو لوگ بھی اسلام کی خدمت کریں گے، وہ اپنی قربانیوں کا صلہ پائیں گے، بلکہ اُن میں سے ایسے لوگ بھی نکلیں گے جو اگلوں کی صف میں جگہ حاصل کریں گے۔ تاہم فتح مکہ سے پہلے کا دور اور ہے ۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اِس دور کی قدر پہچانیں اور اُس سے صحیح فائدہ اٹھالیں۔‘‘(تدبر قرآن۸/ ۲۰۶)

       

    • امین احسن اصلاحی کون اٹھتا ہے کہ اللہ کو قرض دے اچھا قرض کہ وہ اس کو اس کے لیے بڑھائے اور اس کے لیے باعزت صلہ ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جہاد کے لیے مالی اعانت کی نہایت موثر اپیل: اب یہ نہایت واضح اور مؤثر الفاظ میں جہاد کے لیے مالی اعانت کی اپیل ہے کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دینے کے لیے اٹھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بڑھائے اور اس کو باعزت اجر عطا فرمائے۔ لفظ ’قرض‘ سے اگرچہ عام انفاق بھی مراد ہو سکتا ہے لیکن یہاں سیاق و سباق سے واضح ہے کہ اس سے جہاد کے لیے مالی اعانت ہی مراد ہے۔ آگے ہم اس کے بعض قرائن کی طرف ان شاء اللہ اشارہ کریں گے۔
      انفاق فی سبیل اللہ کے لیے قرض کے لفظ میں جو اپیل ہے وہ محتاج وضاحت نہیں ہے۔ اوپر واضح ہو چکا ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی سپرد کردہ امانت ہے۔ اب یہ کتنا بڑا فضل ہے اس رب کریم کا کہ وہ اپنا ہی عطا کیا ہوا مال اپنی راہ میں خرچ کرنے کی جب بندوں کو دعوت دیتا ہے تو اس کو اپنے ذمہ قرض ٹھہراتا ہے جس کی واپسی کا وہ گویا اسی طرح ذمہ دار ہے جس طرح ایک قرض دار اپنے مہاجن کی رقم کی واپسی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
      ’فَیُضَاعِفَہُ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ یہ قرض اس لیے نہیں مانگ رہا ہے کہ اس کے خزانے میں کوئی کمی ہے۔ جب سب کچھ اسی کا پیدا کردہ اور اسی کا عطا کردہ ہے تو اس کے پاس کمی کا کیا سوال: بلکہ وہ تو صرف اس لیے مانگ رہا ہے کہ لوگوں کے عطا کردہ مال کو وہ اپنے بنک میں جمع کر کے اس کو اچھی طرح بڑھائے تاکہ اس کا منافع ایک ابدی زندگی میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سرمایہ کی صورت میں ان کے کام آئے۔ اس اسلوب بیان میں سود خواروں پر جو تعریض ہے وہ اہل ذوق سے مخفی نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو اپنا سرمایہ اس دنیا کے بنک میں جمع کرتا ہے تو یہ دنیا اور اس کا سرمایہ، ہر چیز چند روزہ ہے البتہ جو اپنا مال اپنے رب کے پاس جمع کرتے ہیں ان کا منافع ابدی اور ہر اندیشہ سے محفوظ ہے۔
      ’مُضَاعَفَۃ‘ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے دگنا کرنا کیا ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ اس کے معنی بڑھانے کے ہیں۔ یہ بڑھانا دگنا، چوگنا، دس گنا بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کا تعلق دینے والے کے خلوص اور ان حالات سے ہے جن میں وہ مال دیا گیا ہے اور سب سے زیادہ اس رب کریم کے فضل سے ہے جس نے اپنے بندوں کے لیے ابدی منفعت کی یہ راہ کھولی ہے۔
      قرض حسن کے شرائط: اس کے ساتھ یہاں صرف ایک شرط لگائی ہے کہ یہ ’قرض حسن‘ ہو۔ قرآن میں اس کی وضاحت میں جو باتیں فرمائی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرض، ’قرض حسن‘ اس شکل میں بنتا ہے جب دل کی پوری فراخی اور بلند حوصلگی کے ساتھ دیا جاتا ہے، دل کی تنگی کے ساتھ محض مارے باندھے یا دکھاوے کے لیے نہیں دیا جاتا، اچھے مال میں سے دیا جاتا ہے، محض چھدّا اتارنے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ محض اللہ کی خوشنودی کے لیے دیا جاتا ہے، کسی غرض دنیوی کے لیے نہ دیا جاتا ہے اور نہ دینے کے بعد اس کے دیے جانے پر احسان جتایا جاتا یا کسی پہلو سے کوئی دل آزاری کی جاتی ہے۔
      ’وَلَہُ أَجْرٌ کَرِیْمٌ‘۔ یعنی اس کے دیے ہوئے مال میں جو بڑھوتری ہو گی وہ تو ہو گی ہی، علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ خاص اپنے فضل سے بھی اس کو نہایت باعزت اجر دے گا۔ اس کی وضاحت آگے آ رہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اب) کون ہے جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض تاکہ وہ اُس کے لیے اُسے (جس قدر چاہے) بڑھائے اور اُس کے لیے باعزت صلہ ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      قرآن میں یہ تعبیر اُس انفاق کے لیے اختیار کی گئی ہے جو اللہ کے کسی مشن کو پورا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہاں سیاق سے واضح ہے کہ یہ اپیل اُس جہاد کے لیے کی گئی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے کیا۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:

      ’’...اوپر واضح ہو چکا ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے، وہ اللہ تعالیٰ ہی کی سپرد کردہ امانت ہے۔ اب یہ کتنا بڑا فضل ہے اُس رب کریم کا کہ وہ اپنا ہی عطا کیا ہوا مال اپنی راہ میں خرچ کرنے کی جب بندوں کو دعوت دیتا ہے تو اُس کو اپنے ذمے قرض ٹھیراتا ہے جس کی واپسی کا وہ گویا اُسی طرح ذمہ دار ہے ،جس طرح ایک قرض دار اپنے مہاجن کی رقم کی واپسی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔‘‘(تدبر قرآن۸/ ۲۰۷)

      اصل میں ’قَرَضًا حَسَنًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس سے مراد وہ قرض ہے جو اچھے مال میں سے، پوری فراخی اور بلند حوصلگی کے ساتھ اور محض اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی اس دن کو یاد رکھو جس دن ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھو گے کہ ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے داہنے چل رہی ہو گی ۔۔۔ تمہارے لیے آج کے دن خوش خبری ہے باغوں کی جن میں نہریں جاری ہوں گی ان میں ہمیشہ رہو گے! یہی دراصل بڑی کامیابی ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انفاق قیامت کے دن روشنی بنے گا: یہ اسی باعزت صلہ کے ایک خاص پہلو کی وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کی رہنمائی جنت کی طرف روز حشر اس طرح کرے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے اور دہنے چل رہی ہو گی اور وہ اس روشنی میں جنت کی طرف بڑھیں گے جب کہ دوسرے لوگ جنھوں نے یہ روشنی اپنے اندر نہیں پیدا کی ہو گی تاریکی میں گھرے ہوئے ہوں گے۔
      آیات کے سیاق و سباق پر نظر ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ یہ روشنی اسی انفاق کے فیض سے حاصل ہو گی جس کی یہاں دعوت دی جا رہی ہے۔ اوپر آیت ۹ ’ہُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلَی عَبْدِہٖٓ اٰیَاتٍ بَیِّنَاتٍ لِیُخْرِجَکُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّوۡرِ‘ کے تحت ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ ’اٰیَاتٍ بَیِّنَاتٍ‘ سے اشارہ یہاں خاص طور پر ان آیات کی طرف ہے جو انفاق کی عظمت و اہمیت واضح کرنے کے لیے نازل ہوئیں اسی انفاق سے نفاق کی جڑ کٹتی ہے اور اسی سے وہ نور حکمت عطا ہوتا ہے جو اس دنیا کی تاریکیوں میں بھی انسان کی رہنمائی کرتا ہے اور آخرت میں بھی یہ رہنمائی کرے گا۔
      ’سعی‘ یہاں دوڑنے کے مفہوم میں نہیں ہے۔ یہ لفظ کسی کام کے سرگرمی اور مستعدی کے ساتھ ہونے یا اس کو مستعدی کے ساتھ کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے بلکہ اس کا غالب استعمال اس معنی میں ہے۔ یہاں یہ اسی مفہوم میں ہے۔ یہ نور صرف ان کے آگے اور ان کے داہنے پھیلے گا، بائیں جانب اس کا عکس نہیں پڑے گا تاکہ اصحاب الشمال اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ آگے ان کی اس نور سے محرومی کا ذکر آ رہا ہے۔
      ’بُشْرَاکُمُ الْیَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ‘۔ یہ بشارت صورت حال کی تعبیر بھی ہو سکتی ہے اور فرشتوں کی زبانی بھی ہو سکتی ہے۔ قرآن میں نظائر دونوں کی تائید میں موجود ہیں۔
      ’ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ‘۔ یعنی اگر کسی کو اللہ نے مال بخشا ہے تو اس سے وہ سب سے بڑا فائدہ جو حاصل کر سکتا ہے وہ یہی ہے کہ اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کر کے اپنے دل کے اندر وہ روشنی پیدا کرے جو قیامت کے اندھیرے میں اس کی رہنمائی کرے۔ اس کے سوا جتنے فائدے بھی ہیں وہ وقتی اور عارضی ہیں اور ان کے اندر جو ضرر مضمر ہے وہ دائمی اور ابدی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر حوصلہ ہے تو اس ’فوز عظیم‘ کو حاصل کرنے کے لیے اپنے مال خرچ کرو۔

      جاوید احمد غامدی اُس دن جبکہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ اُن کی روشنی اُن کے آگے اوراُن کے دائیں چل رہی ہے آج تمھارے لیے خوش خبری ہے اِن باغوں کی جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، اِن میں ہمیشہ رہو گے۔ یہی درحقیقت بڑی کامیابی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ روشنی اُسی انفاق کا فیض ہو گی جس کی دعوت یہاں دی جا رہی ہے اور اُن کے آگے اور دائیں پھیلے گی تاکہ اصحاب الشمال اِس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

    • امین احسن اصلاحی جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں کو آواز دیں گے کہ ذرا ہمیں بھی موقع عنایت کیجیے کہ ہم آپ کی روشنی سے فائدہ اٹھا لیں! ان کو جواب ملے گا کہ تم پیچھے لوٹو اور وہاں روشنی تلاش کرو۔ پس ان کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا۔ اس کے اندر کی جانب میں رحمت ہو گی اور اس کے باہر کی طرف عذاب ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین کی نور سے محرومی: اس دن منافقین کا حال یہ ہو گا کہ وہ اندھیرے میں بھٹک رہے ہوں گے۔ انھوں نے اللہ کی راہ میں انفاق کر کے وہ روشنی اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی جو آخرت میں ان کے کام آتی۔ وہ جب دیکھیں گے کہ ایک گروہ ان لوگوں کا، جن کے اندر وہ دنیا میں رہے بسے، اپنے ساتھ ایسی روشنی رکھتا ہے جو اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ان کی رہنمائی کر رہی ہے تو وہ نہایت حسرت کے ساتھ ان سے درخواست کریں گے کہ ذرا ہمیں بھی قریب پہنچ لینے دیجیے کہ ہم بھی آپ کی روشنی سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کو جواب ملے گا کہ اس روشنی سے فائدہ اٹھانے کی تمنا نہ کرو۔ پیچھے پلٹو اور وہاں روشنی تلاش کرنے کی کوشش کرو اگر کر سکتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اس روشنی کے حاصل کرنے کی جگہ تو تم پیچھے چھوڑ آئے اب اس کو پانے کا وقت گزر چکا۔ تمہارے لیے اب حسرت، ندامت اور اس تاریکی کے سوا یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اس قول کو العیاذ باللہ محض ایک چکمہ سمجھا ہے لیکن یہ چکمہ نہیں بلکہ بیان حقیقت ہے۔ کسب و اکتساب کی جگہ یہ دنیا ہے۔ جس نے اس میں نیکی کی کمائی نہیں کی آخرت میں اس کا حصہ صرف محرومی ہے۔
      اس جواب کے بعد فوراً ان کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں صرف ایک دروازہ ہو گا۔ اس کے اندر کے حصہ میں رحمت ہو گی اور اس کے باہر کی جانب عذاب ہو گا۔ اہل ایمان اس دروازے سے رحمت والے حصہ میں چلے جائیں گے اور منافقین عذاب کی تاریکی میں گھِر جائیں گے۔ اس قسم کی ایک دیوار کا ذکر سورۂ اعراف میں گزر چکا ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو وہاں دیکھیے۔

      جاوید احمد غامدی جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان کو پکاریں گے کہ ذرا ہم پر بھی عنایت فرمائیے کہ تمھاری روشنی سے ہم بھی کچھ فائدہ اٹھا لیں، مگر اُن سے کہا جائے گا : (نہیں)، تم پیچھے کی طرف لوٹ جاؤ اور (وہیں اپنے لیے) روشنی تلاش کرو ۔ پھر اُن کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا۔ اُس کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی یہ ان سے فریاد کریں گے کہ کیا ہم آپ لوگوں کے ساتھ نہیں تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ ساتھ تو تھے لیکن تم نے اپنے کو فتنوں میں مبتلا رکھا، ہمارے لیے گردشوں کے انتظار میں رہے، شبہات میں مبتلا رہے اور آرزوؤں نے تمہیں دھوکے میں رکھا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ظاہر ہو گیا اور فریب دینے والے نے تمہیں اللہ کے باب میں مبتلائے فریب ہی رکھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین کی فریاد اور ان کو جواب: منافقین جب دیکھیں گے کہ روشنی کی جو جھلک نظر آئی تھی وہ بھی اوجھل ہو گئی اور جن کے ساتھ دنیا میں رہے ان سے بالکل ہی رابطہ ٹوٹ گیا تو وہ دل شکستہ ہو کر فریاد کریں گے کہ بھائیو، آپ لوگوں نے ہمیں بالکل ہی کاٹ پھینکا، کیا دنیا میں ہم آپ لوگوں کے ساتھ نہیں رہے بسے! اپنے بھائیوں سے یہ بے اعتنائی و بے پروائی!!
      جواب ملے گا کہ اس میں تو شبہ نہیں کہ دنیا میں تم لوگ بظاہر ہمارے ہی ساتھ رہے لیکن تمہارے دل ہمارے ساتھ نہیں تھے بلکہ تم انہی فتنوں میں مبتلا رہے جن سے اللہ نے تم کو نکالنا چاہا۔ تم نے ایمان کا دعویٰ بڑی بلند آہنگی سے کیا لیکن اس ایمان کے جتنے مطالبے تمہارے سامنے آئے ان میں سے ایک کو بھی پورا کرنے کا حوصلہ تم نے نہیں کیا۔ اپنے مال اور اپنی جان کو اللہ کے دین اور اس کے رسول سے تم نے زیادہ عزیز جانا، تمہاری وفاداریاں اسلام کے دشمنوں کے ساتھ رہیں اور حق کی جگہ ہمیشہ اپنے مفاد ذاتی کو تم نے ترجیح دی۔
      ’وَتَرَبَّصْتُمْ‘۔ یعنی تم برابر ہمارے لیے گردشوں اور آفتوں کے منتظر رہے۔ سورۂ توبہ میں ان منافقین کا کردار ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:

      ’وَمِنَ الأَعْرَابِ مَنۡ یَتَّخِذُ مَا یُنفِقُ مَغْرَمًا وَیَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَائِرَ‘ (التوبہ ۹: ۹۸)
      (اور ان بدوی منافقین میں وہ بھی ہیں جو اگر کبھی اسلام کی راہ میں کچھ خرچ کر بیٹھتے ہیں تو اس کو اپنے اوپر ایک تاوان خیال کرتے ہیں اور تمہارے لیے برابر گردشوں کے انتظار میں رہتے ہیں)

      انہی لوگوں کا کردار سورۂ نساء میں یوں بیان ہوا ہے:

      ’الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوۡنَ بِکُمْ فَإِنۡ کَانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللہِ قَالُوۡا أَلَمْ نَکُنۡ مَّعَکُمْ‘ (النساء ۴: ۱۴۱)
      (جن کا حال یہ ہے کہ وہ تمہارے لیے منتظر تو رہتے ہیں شکست کے لیکن ان کے علی الرغم اگر اللہ تمہیں فتح دے دیتا ہے تو غنیمت کی طمع میں بھاگے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا ہم آپ لوگوں کے ساتھ نہیں رہے ہیں؟)

      ’وَارْتَبْتُمْ‘ یعنی تم برابر شک اور تذبذب میں مبتلا رہے۔ اسلام اور پیغمبر کی حقانیت پر کبھی تمہارا دل نہیں جما۔ تم نے کفر اور اسلام دونوں سے تھوڑا تھوڑا تعلق جوڑے رکھنا چاہا کہ اس کشمکش میں جس کو غلبہ حاصل ہوا اپنا مستقبل اس کے ساتھ وابستہ کر لو گے۔ اس ذہنی کیفیت کی تصویر دوسرے مقام میں اس طرح کھینچی گئی ہے:

      ’مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْْنَ ذٰلِکَ لاَ إِلٰی ہٰٓؤُلَآءِ وَلاَ إِلَی ہٰٓؤُلَآءِ‘ (النساء ۴: ۱۴۳)
      (ان دونوں کے درمیان مذبذب، نہ یکسوئی کے ساتھ ادھر نہ یکسوئی کے ساتھ ادھر)۔

      ’وَغَرَّتْکُمُ الْأَمَانِیُّ حَتَٰی جَآءَ أَمْرُ اللہِ وَغَرَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ‘۔ یعنی تم جھوٹی آرزؤوں میں برابر پھنسے رہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں جو ڈھیل ملی تو تم اس دھوکے میں مبتلا ہو گئے کہ تمہاری یہ دو رخی پالیسی کامیاب ہے اور اس کو تم آخر تک کامیابی کے ساتھ نباہ لے جاؤ گے لیکن یہ آرزو پوری نہ ہو سکی۔ شیطان نے تمہیں دھوکے ہی میں رکھا اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حق کو غالب کرنے کے لیے صادر ہو گیا اور تمہیں یہ روز بد دیکھنا پڑا۔
      ’وَغَرَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ‘۔ میں لفظ ’غرور‘ شیطان کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اللہ کے باب میں دھوکے میں رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں یہ آگاہی جو دی جاتی رہی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول اتمام حجت کے لیے بھیج دیا ہے، جو لوگ اس کے بعد بھی اپنے کفر پر اڑے رہیں گے یا نفاق کے پردے میں چھپنے کی کوشش کریں گے وہ لازماً خدا کی گرفت میں آ جائیں گے، تو شیطان تم کو یہ سبق پڑھا دیتا تھا کہ یہ سب محض دھونس جمانے کی باتیں ہیں، جو نہ پہلے سچی ثابت ہوئی ہیں نہ آئندہ ہوں گی، ان سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی یہ اُن سے فریاد کریں گے: کیا (دنیا میں ) ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ بے شک ساتھ تو تھے، مگر تم نے اپنے آپ کو فتنوں میں ڈالے رکھا، ہمارے لیے گردشوں کے منتظر رہے، شبہوں میں مبتلا رہے اور تمھاری آرزوئیں تمھیں فریب دیتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ظاہر ہو گیا اور وہ بڑا دغا باز آخر وقت تک تمھیں اللہ کے معاملے میں فریب ہی دیتا رہا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے شیطان مراد ہے جو ہمیشہ انسان کو یہ سبق پڑھاتا ہے کہ خدا کے حضور میں پیشی اور آخرت کی جواب دہی، سب لوگوں کے افسانے ہیں۔ یہ نہ پہلے سچے ثابت ہوئے نہ اب ہوں گے۔ اِس لیے کوئی مشقت اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ تمھارے لیے عیش ہی عیش ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پس آج نہ تو تم سے کوئی فدیہ قبول ہو گا اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ تم سب کا ٹھکانا آگ ہے۔ وہی تمہارا مرجع ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے!! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی یہ صورت حال جو تمہیں پیش آئی ہے پوری آگاہی اور اتمام حجت کے بعد پیش آئی ہے اس وجہ سے اب اس سے چھوٹنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے۔ یہاں کسی کے پاس نہ تو کوئی چیز فدیہ میں دینے کی ہے اور نہ کسی سے فدیہ قبول ہی ہو گا۔ نہ تم سے اور نہ ان کافروں سے جن کے ساتھ تمہارا یارانہ رہا ہے۔ تم چونکہ اسلام کی طرف یکسو نہیں ہوئے اس وجہ سے ایمان کے ادعا کے باوجود تمہارا اور ان کفار کا حشر ایک ہی ساتھ ہو گا۔ تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہی تمہارا ’مولیٰ‘ یعنی مرجع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تمہارے لیے نہ خدا کے سامنے کسی داد و فریاد کی گنجائش ہے اور نہ وہاں اب تمہاری کوئی شنوائی ہونی ہے۔ تمہارا مرجع اب دوزخ ہے۔ اب جو کچھ پاؤ گے اسی سے پاؤ گے اور یاد رکھو کہ وہ برا ٹھکانا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول ہو گا اور نہ اُن لوگوں سے جنھوں نے کھلا کفر کیا تھا۔ تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے، وہی تمھارا مرجع ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاددہانی اور اس حق کے آگے جھک جائیں جو نازل ہو چکا ہے اور ان لوگوں کی طرح نہ بن کے رہ جائیں جن کو اس سے پہلے کتاب دی گئی پس ان پر طویل مدت گزر گئی، بالآخر ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے بُہتیرے نافرمان ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین کے سامنے ایمان کے تقاضوں کی وضاحت: ’لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘ سے مراد، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، وہی منافقین ہیں جن کا رویہ یہاں زیربحث ہے۔ چونکہ وہ ایمان کے مدعی تھے اس وجہ سے ان کے دعوے کے مطابق ان کا ذکر ’لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘ کی صفت سے کیا تاکہ وہ ان مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں جو اس دعوائے ایمان کے تعلق سے ان پر عائد ہوتے ہیں اور اگر ان کے اندر اس دعوے کی کچھ لاج ہے تو اس کا حق ادا کریں۔
      ’أَلَمْ یَأْنِ‘ کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ سورہ اس زمانے میں نازل ہوئی ہے جب دعوت حق کی صداقت و حقانیت اور اس کے غلبہ کے اتنے آثار و شواہد نمایاں ہو چکے تھے کہ جن کے اندر کچھ شکوک و شبہات تھے وہ دور ہو جانے چاہییں تھے۔ اگر اتنے آثار دیکھ لینے کے بعد بھی ان کے شبہات علیٰ حالہٖ باقی ہی رہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس وقت تک شرح صدر کے ساتھ اسلام کو قبول کرنے پر تیار نہیں تھے جب تک وہ اس کے ہر دعوے کی صداقت اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ اس طرح کا ایمان اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر نہیں ہے اس وجہ سے ان لوگوں کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اب بھی وہ شبہات ہی میں مبتلا رہے تو ان کا وہی حال ہو گا جو یہود کا ہوا۔ وہ بھی برابر شبہات میں مبتلا رہے اور اسی حالت میں ان پر ایک مدت گزر گئی بالآخر ان کے دل سخت ہو گئے۔ یہاں تک کہ حق کی روئیدگی کی صلاحیت ہی ان کے اندر سے ختم ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی جس کی تفصیل سورۂ بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
      ایک سنت الٰہی: اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ کسی امر حق میں شبہ و تردد کا پیدا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے اور نہ کچھ عرصے تک اس کا باقی رہنا کوئی قابل ملامت چیز ہے۔ ایک نیک نیت آدمی کے اندر بھی یہ حالت پیدا ہو سکتی ہے لیکن کوئی شخص اگر ان شبہات کی آڑ لے کر اپنے اندر حق کی آواز کو برابر دباتا ہی رہے اور اس کو باطل سے چمٹے رہنے کے لیے ایک بہانہ بنا لے تو سنت الٰہی کے مطابق ایسا شخص قبول حق کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص کی طرف سے حق کی ناقدری کو زیادہ عرصے تک گوارا نہیں فرماتا۔
      شک کی بیماری مہلک ہے: ’اَنْ تَخْشَعَ قُلُوۡبُہُمْ لِذِکْرِ اللہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ‘ میں ’ذِکْرِ اللہِ‘ اور ’حق‘ سے مراد تو قرآن مجید ہی ہے لیکن قرآن کے دو خاص پہلوؤں کی طرف توجہ دلانے کے لیے دو الگ الگ لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ ’ذِکْرِ اللہِ‘ سے مراد وہ تنبیہات ہیں جو ان خطرات و مہالک سے آگاہ کرنے کے لیے نازل ہوئی ہیں جن سے ان لوگوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں لازماً دوچار ہونا پڑے گا جو حق سے اعراض کے لیے بہانے ڈھونڈتے رہیں گے اور ’حق‘ سے وہ کلیات مراد ہیں جو قرآن نے ازسرنو باطل سے الگ کر کے اجاگر کیے۔ فرمایا کہ ان کی تائید میں اتنے شواہد و قرائن ظاہر ہو چکے ہیں کہ چاہیے تھا کہ لوگوں کے دل ان کے آگے سرفگندہ ہو جاتے۔ اگر اب بھی نہیں ہوئے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں جس میں یہود مبتلا ہوئے۔
      یہود کے متعلق پیچھے، مختلف سورتوں میں تفصیل سے، یہ بات گزر چکی ہے کہ وہ شک کے ایسے مریض تھے کہ اپنے پیغمبر کی موجودگی میں، قدم قدم پر، اس کے معجزات اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھتے ہوئے، برابر بے یقینی اور تردد میں مبتلا رہے۔ یہاں تک کہ ان کی اسی بیماری نے ان کو تورات سے محروم کر دیا اسی کی پاداش میں ان کی اکثریت قرآن سے بھی محروم رہی۔ یہاں اسی روش بد اور اس کے انجام سے قرآن نے ان منافقین کو متنبہ کیا ہے کہ تم بھی یہود ہی کی طرح، اپنے رسول کی موجودگی میں، بے یقینی کے مرض میں مبتلا ہو، ایسا نہ ہو کہ یہ مرض تمہارے لیے بھی اسی طرح مہلک بن جائے جس طرح ان کے لیے مہلک بنا۔

      جاوید احمد غامدی کیا اِن لوگوں کے لیے جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اِن کے دل اللہ کی یاددہانی کے آگے اور اُس حق کے آگے جھک جائیں جو (اُس کی طرف سے)نازل ہوا ہے اور یہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو اِس سے پہلے کتاب دی گئی، پھر اُن پر لمبی مدت گزر گئی، یہاں تک کہ اُن کے دل سخت ہو گئے اور (آج) اُن میں سے بہتیرے نافرمان بنے ہوئے ہیں؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی دعوت حق کی صداقت کے اتنے آثار و شواہد نمایاں ہو جانے کے بعد بھی وقت نہیں آیا۔
      آیت میں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں: ایک ’ذِکْرُ اللّٰہ‘ اور دوسرا ’حَقّ‘۔ دونوں سے مراد قرآن مجید ہے۔ پہلا اُس کی تنبیہات کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسرا اُن حقائق کی طرف جو اُس نے باطل سے الگ کرکے ہر لحاظ سے واضح کر دیے۔
      مدعا یہ ہے کہ اگر اب بھی یہ لوگ شبہات ہی میں مبتلا رہے اور اِنھوں نے یاددہانی حاصل نہ کی تو اندیشہ ہے کہ اُسی انجام کو نہ پہنچ جائیں جس کو اِس سے پہلے یہود پہنچ چکے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’اِس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ کسی امر حق میں شبہ و تردد کا پیدا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے اور نہ کچھ عرصے تک اُس کا باقی رہنا کوئی قابل ملامت چیز ہے۔ ایک نیک نیت آدمی کے اندر بھی یہ حالت پیدا ہو سکتی ہے، لیکن کوئی شخص اگر اِن شبہات کی آڑ لے کر اپنے اندر حق کی آواز کو برابر دباتا ہی رہے اور اُس کو باطل سے چمٹے رہنے کے لیے ایک بہانہ بنا لے تو سنت الٰہی کے مطابق ایسا شخص قبول حق کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص کی طرف سے حق کی ناقدری کو زیادہ عرصے تک گوارا نہیں فرماتا۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۲۱۶)

       

    • امین احسن اصلاحی یاد رکھو کہ اللہ زندہ کر دیتا ہے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد۔ ہم نے تمہارے لیے اپنی آیتیں واضح کر کے بیان کر دی ہیں تاکہ تم سمجھو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ آیت یہاں نہایت ہی برمحل وارد ہوئی ہے اور اس میں دو مختلف پہلوؤں سے اس بے یقینی کا علاج مضمر ہے جس میں یہ منافقین مبتلا تھے۔
      بے یقینی کا علاج: سب سے نمایاں پہلو تو یہ ہے کہ آدمی میں اگر آخرت کا یقین نہ ہو تو اس کے لیے جان یا مال کی قربانی نہایت کٹھن کام ہے۔ ان منافقین کی اصل بیماری یہی تھی کہ ان کے اندر آخرت کا یقین نہیں تھا اس وجہ سے وہ قرآن کے وعدوں کو محض ایک بہلاوا خیال کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بے یقینی دور کرنے کے لیے اپنی ان نشانیوں اور دلیلوں کی طرف توجہ دلائی جو قیامت کے ایک معلوم و مشہود حقیقت ہونے پر اس نے نہایت تفصیل سے اپنی کتاب میں بیان فرمائی ہیں۔ یہاں چونکہ مقصود محض آخرت کے ایک امر واقعی ہونے کی یاددہانی ہے اس وجہ سے اس کے امکان کی ایک بدیہی دلیل کی طرف اشارہ کر کے بالاجمال یہ فرما دیا کہ اس کی دلیلیں ہم تفصیل سے قرآن میں بیان کر چکے ہیں، ان کو مستحضر کرو اور سمجھو تاکہ تمہارے اندر جان و مال کی قربانی کا حوصلہ پیدا ہو۔
      دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ منافقین مخالفین اسلام کی سطوت سے بہت مرعوب تھے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ مٹھی بھر مسلمان اعداء کی دَل بادل افواج سے کس طرح عہدہ برآ ہو سکیں گے اور کس طرح مکہ سے قریش کی جمی جمائی حکومت اکھاڑ کر بیت اللہ کو پھر دعوت ابراہیمی کا مرکز بنا سکیں گے، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے بعض جنگیں ہو چکی تھیں جن میں مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا تھا لیکن منافقین کے دلوں سے ابھی ڈر نہیں نکلا تھا۔ اسلام کے مستقبل کی طرف سے وہ بدستور مایوسی و بے یقینی میں مبتلا تھے۔ ان کی اس مایوسی کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کی نشانی کی طرف توجہ دلائی کہ جس خدا کی یہ شان برابر دیکھتے ہو کہ وہ مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے اس کی قدرت سے بعید نہ سمجھو کہ وہ اس کفرستان عرب کو ازسرنو ایمان و اسلام کی زندگی سے معمور کر دے۔

      جاوید احمد غامدی (تم آگے بڑھو، کیا بعید ہے کہ اللہ تمھارے دل پگھلا دے)۔ جان رکھو کہ اللہ زمین کو اُس کے مردہ ہو جانے کے بعد بھی زندہ کر دیتا ہے۔ اپنی آیتیں ہم نے تمھارے لیے واضح کر دی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی بے شک اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے مرد اور عورتیں اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ کو قرض دیا اچھا قرض، ان کا دیا ہوا ان کے لیے بڑھایا جائے گا اور ان کے لیے باعزت صلہ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ آیت ۱۱ کے مضمون کو ایک دوسرے پہلو سے لیا ہے اور منافقین کو ابھارا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ نہایت نفع بخش کاروبار ہے۔ جو لوگ برابر صدقہ کرتے رہتے ہیں اور جب کبھی کسی ہنگامی ضرورت کے موقع پر ان سے مدد کی اپیل کی جائے تو اس وقت بھی وہ فراخ دلی سے مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کی پائی پائی خدا کے ہاں محفوظ ہے۔ وہ ان کے لیے اس کو بڑھا رہا ہے اور بڑھا کر ایک لازوال خزانے کی شکل میں ان کو واپس کرے گا۔ علاوہ ازیں ان کے لیے ایک بہت بڑا باعزت اجر بھی ہے۔ یعنی ان کا دیا ہوا تو کئی گنا بڑھ کر ان کو واپس کیا جائے گا ہی، اس کے علاوہ بھی رب کریم ان کو خاص اپنے پاس سے ایک اجر عظیم دے گا۔
      صدقہ اور قرض: یہاں انفاق کے لیے صدقہ اور قرض کے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ پہلا فاعل یا صفت کی شکل میں دوسرا فعل کی صورت میں۔ اس اختلاف کی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ ایک انفاق تو وہ ہے جس کا مطالبہ ہر ذی استطاعت مسلمان سے عام حالات میں ہے اور جو تزکیۂ نفس کے پروگرام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ دوسرا وہ انفاق ہے جس کا مطالبہ کسی ناگہانی ضرورت کے موقع پر ملت کے تحفظ کے لیے کیا جاتا ہے۔ پہلے کو یہاں صدقہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کے لیے فاعل اور صفت کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اس لیے کہ وہ دواماً مطلوب ہے۔ دوسرے کو قرض سے تعبیر فرمایا ہے جو عند الضرورت دیا جاتا ہے اس وجہ سے اس کے لیے فعل کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔
      مردوں کے ساتھ یہاں عورتوں کے خاص طور پر ذکر کی حکمت: ان آیات میں یہ امر بھی خاص توجہ کے لائق ہے کہ نفاق اور انفاق کے بیان میں قرآن نے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی ذمہ داری خاص طور پر نمایاں فرمائی ہے۔ اس کی وجہ، غور کرنے سے، یہ معلوم ہوتی ہے کہ بیوی بچے بخل اور بزدلی کے بڑے اہم عوامل میں سے ہیں اور یہی دو چیزیں دراصل نفاق میں مبتلا کرنے والی ہیں۔ یہ حقیقت حدیث شریف میں بھی واضح فرمائی گئی ہے کہ بیوی بچے بخل و بزدلی کے سبب بنتے ہیں۔ اسی پہلو کے سبب سے یہاں منافقین کے ساتھ منافقات اور مصدقین کے ساتھ مصدقات کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ ہوا ہے تاکہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں پر بھی یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر شخص اپنی ذمہ داریوں سے متعلق مسؤل ہو گا، مرد ہو یا عورت۔

      جاوید احمد غامدی (جان رکھو کہ) اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے مرد اور عورتیں اور جنھوں نے اللہ کو قرض دیا ہے، اچھا قرض، اُن کا دیا ہوا اُن کے لیے کئی گنا بڑھایا جائے گا اور اُن کے لیے باعزت صلہ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      انفاق کے لیے یہاں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں: ایک صدقہ، فاعل یا صفت کی صورت میں ؛ دوسرا قرض، فعل کی صورت میں۔دونوں میں کیا فرق ہے؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...ایک انفاق تو وہ ہے جس کا مطالبہ ہر ذی استطاعت مسلمان سے عام حالات میں ہے اور جو تزکیۂ نفس کے پروگرام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ دوسرا وہ انفاق ہے جس کا مطالبہ کسی ناگہانی ضرورت کے موقع پر ملت کے تحفظ کے لیے کیا جاتا ہے۔ پہلے کو یہاں ’صدقہ‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے اور اُس کے لیے فاعل اور صفت کے صیغے استعمال ہوئے ہیں، اِس لیے کہ وہ دواماً مطلوب ہے۔ دوسرے کو قرض سے تعبیر فرمایا ہے جو عندالضرورت دیا جاتا ہے، اِس وجہ سے اِس کے لیے فعل کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۲۱۸)

       

    • امین احسن اصلاحی اور جو لوگ ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر وہی لوگ اپنے رب کے ہاں صدیقوں اور شہداء کے زمرے میں ہوں گے۔ ان کے لیے ان کا صلہ بھی ہو گا اور ان کی روشنی بھی۔ رہے وہ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کی جنھوں نے تکذیب کی وہ جہنم والے بنیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرینہ دلیل ہے کہ جس طرح آیت ۷ میں لفظ ایمان اپنے کامل مفہوم میں استعمال ہوا ہے اسی طرح اس آیت میں بھی اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے۔
      منافقین کو ایک تنبیہ: یہ منافقین کو بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیقین اور شہداء کے لیے جو درجے ہیں وہ ہر مدعئ ایمان کو نہیں حاصل ہو جائیں گے بلکہ یہ صرف ان لوگوں کے لیے خاص ہیں جو اللہ اور اس کے رسولوں پر سچا اور پکا ایمان لائیں گے اور اپنے عمل سے اپنے دعوائے ایمان کی صداقت ثابت کریں گے۔ یہاں چونکہ زیربحث خاص طور پر انفاق ہے اس وجہ سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو لوگ دین کی نصرت کے لیے فراخ دلی سے اپنے مال خرچ کریں گے درحقیقت وہی لوگ اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں اور وہی لوگ ہیں جن کو صدیقین اور شہداء کے زمرے میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہو گی۔
      صدیق کی تعریف: لفظ ’صدیق‘ کی تحقیق اس کے محل میں ہو چکی ہے کہ اس کی اصل روح قول و عمل کی کامل مطابقت اور اس کی پختگی ہے۔ عربی میں اس نیزے کو ’صادق الکعوب‘ کہیں گے جس کی گرہیں تجربہ سے بھی ویسی ہی محکم ثابت ہوں جیسے وہ دیکھنے میں نظر آتی ہیں۔ صادق اور صدیق اس شخص کو کہیں گے جو اپنے قول کا پکا ہے۔ اس پختگی کی اولین عملی شہادت یہ ہے کہ وہ اس مقصد حق کی خاطر اپنی محنت کی کمائی قربان کرنے والا ہو جس کا اس نے اقرار و اعلان کیا ہے۔ اسی قربانی سے وہ اس مقصد حق کی شہادت دینے والا بنتا ہے اور ایسے ہی مرد حق سے یہ توقع ہوتی ہے کہ اس کو امتحان پیش آیا تو وہ اپنی جان دے کر بھی اس حق کی شہادت دے گا۔ اسلام میں اس وصف کے سب سے نمایاں مصداق حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔ انھوں نے اپنے اقرار ایمان کی صداقت، نازک سے نازک زمانے میں، اپنے انفاق سے جس طرح ثابت کی ہے وہ ہماری تاریخ کا سب سے زیادہ روشن باب ہے۔
      شہید: ’شھدآء‘ یہاں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے جس معنی میں

      ’کَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً لِّتَکُونُواْ شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیْْکُمْ شَہِیْدًا‘ (البقرہ ۲: ۱۴۳)
      (اسی طرح ہم نے تم کو وسط راہ پر قائم رہنے والی امت بنایا کہ تم لوگوں پر اللہ کے دین کی گواہی دینے والے بنو اور رسول تم پر گواہی دینے والا بنے)

      میں استعمال ہوا ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ اس امت کو ’شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ‘ ہونے کا جو عظیم اعزاز حاصل ہے وہ مجرد ایمان کا دعویٰ کر دینے سے کسی کو نہیں حاصل ہو جائے گا بلکہ یہ صرف انہی کو حاصل ہو گا جن کا ہر بُن مُو ان کے ایمان کی گواہی دے۔ یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ خدا کی راہ میں مارے جانے والوں کو جو شہید کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شہادت علی الناس کے فرض منصبی کا حق اس راہ میں اپنی جان قربان کر کے دیتے ہیں۔ یہ شہادت چونکہ سب سے بڑی شہادت ہے اس وجہ سے ان کو شہید کہتے ہیں۔
      بعینہٖ یہی بات ان منافقین ہی کو خطاب کر کے سورۂ نساء میں یوں فرمائی گئی ہے:

      وَمَنۡ یُطِعِ اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ أَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِمۡ مِّنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصَّالِحِیْنَ (النساء ۴: ۷۰)
      ’’اور جو پوری وفاداری سے اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے وہی لوگ اللہ کے انعام یافتوں: انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوں گے۔‘‘

      ’لَہُمْ أَجْرُہُمْ وَنُوْرُہُمْ‘۔ یعنی اوپر آیات ۱۱-۱۲ میں جو اجر اور جو نور بیان ہوا ہے وہ انہی جاں بازوں کے لیے ہے۔ ہر مدعی ان کا حق دار نہیں بن جائے گا۔
      ’وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِآیَاتِنَا أُولٰٓئِکَ أَصْحَابُ الْجَحِیْمِ‘۔ یعنی وہ سارے لوگ جو کفر اور تکذیب کے مرتکب ہوئے وہ جہنم میں پڑیں گے۔ یہاں موقع کلام دلیل ہے کہ یہی حکم ان لوگوں کا بھی ہو گا جنھوں نے اگرچہ زبان سے تکذیب نہ کی ہو لیکن اپنے عمل سے تصدیق بھی نہ کی ہو بلکہ ان کا عمل ان کے دعوے کے بالکل برعکس ہی رہا ہو۔

       

      جاوید احمد غامدی اور جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر پوری سچائی کے ساتھ ایمان لائے ہیں، وہی اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہوں گے۔ اُن کے لیے اُن کا صلہ ہے اور اُن کی روشنی بھی۔ اور جو منکر ہیں اور اُنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلا دیا ہے، وہی دوزخ کے لوگ ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      لفظ ’ایمان‘ یہاں بھی اپنے کامل مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔
      نبوت کے بعد یہ سب سے بڑا درجہ ہے جو خدا کے ہاں کسی شخص کو حاصل ہو سکتا ہے۔ اِس کی اصل روح قول و فعل اور ارادہ، تینوں کی مطابقت اور استواری ہے۔ آدمی کے منہ سے کوئی حرف صداقت کے خلاف نہ نکلے، اُس کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہ ہو اور وہ نیت اور ارادے کی سچائی کے ساتھ اپنی ہر بات کو نباہ دے تو قرآن کی اصطلاح میں ’صدیق‘ ہے۔ اِس وصف کے سب سے نمایاں مصداق سیدنا ابوبکر تھے۔ اُنھیں اِسی بنا پر ’الصدیق‘ کہا جاتا ہے۔
      یہ دوسرا بڑا درجہ ہے۔ یعنی وہ لوگ جو اپنے قول و فعل سے حق کی شہادت دیں، یہاں تک کہ اُس کے لیے جان بھی دینی پڑے تو دریغ نہ رکھیں۔
      یہی حکم اُن لوگوں کا بھی ہو گا جنھوں نے زبان سے تو نہیں جھٹلایا، مگر اُن کا عمل اُن کے دعوے کے برعکس ہی رہا۔

    • امین احسن اصلاحی جان رکھو کہ دنیا کی زندگی ۔۔۔ لہو و لعب، زیب و زینت اور مال و اولاد کے معاملے میں باہمی تفاخر و تکاثر ۔۔۔ کی تمثیل اس بارش کی ہے جس کی اُپجائی ہوئی فصل کافروں کے دل کو موہ لے، پھر وہ بھڑک اٹھے اور تم اسے زرد دیکھو، پھر وہ ریزہ ریزہ ہو جائے اور آخرت میں ایک عذاب شدید بھی ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور خوشنودی بھی، اور دنیا کی زندگی تو بس دھوکے کی ٹٹّی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زرپرستوں کو تنبیہ: یہ ان مال پرست منافقین کو تذکیر و تنبیہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی، یعنی لہو و لعب، زینت و آرائش کا شوق، مال و اولاد کی تکثیر کی بھاگ دوڑ اور معیار زندگی اونچا کرنے کا باہم مقابلہ، جن میں جو تم ہر وقت ڈوبے ہوئے ہو، یہ کوئی خوش انجام سرگرمی نہیں ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ بارش اچھی ہو جائے جس سے فصل لہلہا اٹھے اور اس کو دیکھ کر ناشکرے لوگ پھولے نہ سمائیں لیکن پھر اس پر کوئی ایسی افتاد آ پڑے کہ وہ سوکھ کر زرد ہو جائے پھر ریزہ ریزہ ہو جائے۔ یہی حشر تمہاری ان تمام سرگرمیوں کا ہونا ہے جو تم اس دنیا کے حاصل کرنے اور اس میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے لیے کر رہے ہو۔ ان میں سے کوئی چیز بھی باقی رہنے والی نہیں ہے۔
      ’وَفِی الْآخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ‘۔ یعنی تم نے اپنی نادانی سے اس دنیا کی لذات کو زندگی کا مقصود، اپنی تمام مساعی کا حاصل اور گول قرار دے رکھا ہے حالانکہ یہ دنیا محض ایک سرمایۂ غرور اور دھوکے کی ٹٹّی ہے۔ اصل گول تو آخرت ہے اور وہاں دو چیزوں میں سے ایک سے سابقہ پیش آنا ہے۔ ایک طرف عذاب شدید ہو گا، دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی۔ اگر کوئی شخص اس دنیا کے مطالع کو قربان کر کے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور خوشنودی کے حصول کا حوصلہ نہیں کر پائے گا تو وہ لازماً اس کے عذاب شدید سے دوچار ہو گا۔
      ایک خاص نکتہ: اس آیت میں تالیف کلام عام مفسرین کے نزدیک تو اس طرح ہے کہ وہ ’اَنَّمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا‘ کو مبتداء اور اس کے بعد کی ساری عبارت کو خبر قرار دیتے ہیں لیکن میرے نزدیک ’اَنَّمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا‘ کے بعد ’لَعِبٌ وَلَہْوٌ وَزِیْنَۃٌ وَتَفَاخُرٌ بَیْْنَکُمْ وَتَکَاثُرٌ فِی الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ‘ کے الفاظ بطور بدل بیان آئے ہیں اور ’کَمَثَلِ غَیْثٍ ....... الاٰیۃ‘ اس مبتداء کی خبر ہے۔ اس اسلوب کلام کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں، مثلاً

      ’لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِیَۃِ ۵ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ‘ (العلق ۹۶: ۱۵-۱۶)
      (ہم اس کی چوٹی پکڑ کر گھسیٹیں گے، جھوٹی، نابکار، گنہگار چوٹی)


      اس تالیف کلام سے معنی میں بڑا فرق پیدا ہو جائے گا۔ مفسرین کے نزدیک تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا کی زندگی محض لہو و لعب، زینت و آرائش اور تفاخر و تکاثر ہے۔ میرے نزدیک مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی لہو و لعب، زینت و آرائش اور تفاخر و تکاثر کی تمثیل یوں ہے جس طرح .......
      مفسرین کی تاویل کی رو سے یہ دنیا اور اس کی زندگی بحیثیت مجموعی ایک قابل نفرت و لعنت چیز ٹھہرتی ہے اور اس سے اسی رہبانی تصور کی تائید نکلتی ہے جس کی قرآن نے پوری شدت سے، آگے اسی سورہ میں، تردید کی ہے۔ اور اگر وہ تاویل لی جائے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے تو اس سے دنیا بحیثیت مجموعی نہیں بلکہ اس کا صرف وہ پہلو قابل نفرت قرار پائے گا جس پر کفار و منافقین ریجھتے ہیں اور جو ان کو جہنم میں لے جانے کا سبب بنتا ہے۔
      فلسفۂ دین کے نقطۂ نظر سے غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہ دنیا اور اس کی زندگی بجائے خود لعنت نہیں ہے بلکہ اس کے لعنت یا رحمت ہونے کا تعلق انسان کے رویہ سے ہے۔ اگر انسان ان حدود کے اندر زندگی گزارے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں تو اس دنیا کی حیات چند روزہ اس کے لیے آخرت کی ابدی بادشاہی کی ضامن ہے اور اگر وہ ان حدود سے بے پروا ہو کر اس کو خود معبود بنا بیٹھے اور اس کی لذتوں میں کھو جائے تو یہ اس کے لیے ابدی لعنت بن جاتی ہے، اس آیت میں اس کے اسی پہلو سے ہوشیار کیا گیا ہے۔
      ایک اور نکتہ: آیت میں لفظ ’کفار‘ بھی قابل غور ہے۔ اس کے معنی مفسرین نے عام طور پر ’زرّاع‘ یعنی کسانوں کے لیے ہیں لیکن دل اس پر نہیں جمتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ اس معنی میں معروف نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ جس مادے سے ہے اس کے اندر یہ معنی لینے کی گنجائش بھی ہے۔ لیکن محض اتنی بات ایک ایسے لفظ کو، جو ایک اصطلاح کی حیثیت سے، ایک خاص مفہوم میں قرآن میں کثرت سے استعمال ہوا ہے، ایک ایسے شاذ معنی میں لینے کے لیے کافی نہیں ہے جس معنی میں اس کی کوئی اور مثال قرآن میں نہیں ہے۔ سورۂ فتح کی آیت

      ’فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ‘ (۲۹)
      (پس وہ کھیتی اپنے تنوں پر کھڑی ہو گئی کسانوں کے دلوں کو لبھاتی ہوئی کہ ان سے کافروں کے دل آزردہ ہوں)

      میں دونوں لفظ اپنے اپنے خاص معنوں میں استعمال ہوئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں اپنے معانی میں معروف و متعین ہیں۔ اس وجہ سے میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہاں ’کفار‘ اپنے اصل مفہوم ہی میں ہے۔ چونکہ اس تمثیل میں پیش نظر منکرین آخرت ہی کے رویہ کو نمایاں کرنا ہے اس وجہ سے فرمایا کہ اس دنیا کی عارضی رونقیں منکرین آخرت کے دلوں کو لبھا لیتی ہیں، وہ انہی کے اندر پھنس کے رہ جاتے ہیں اور بالآخر اس عذاب سے دوچار ہوتے ہیں جو اس قسم کے محروم القسمت لوگوں کے لیے مقدر ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ تمثیل و تشبیہ میں بعض اوقات ایسے الفاظ داخل کر دیے جاتے ہیں جن سے مقصود ان لوگوں کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے جو اس تشبیہ یا تمثیل میں پیش نظر ہوتے ہیں۔ اس طرح کی بعض چیزوں کی طرف ہم پیچھے اشارہ کر چکے ہیں۔ ان پر نگاہ رکھنا ضروری ہوتا ہے ورنہ تشبیہ یا تمثیل کا اصل حسن ظاہر نہیں ہوتا۔ یہاں یہ لفظ استعمال کر کے ان لوگوں کا سراغ دے دیا گیا ہے جو تمثیل میں پیش نظر ہیں۔

      جاوید احمد غامدی جان رکھو کہ دنیا کی زندگی، یعنی لہو و لعب، زیب و زینت اور مال و اولاد کے معاملے میں باہم ایک دوسرے پر فخر جتانے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی تگ و دو کرنے کی تمثیل اُس بارش کی ہے جس کی اگائی ہوئی فصل اِن منکروں کے دل لبھائے، پھر زور پر آئے اور تم دیکھو کہ وہ زرد ہو گئی ہے، پھر (کوئی آفت آئے اور)ریزہ ریزہ ہو جائے۔ (جان رکھو کہ) آخرت میں (اِس کے بعد) سخت عذاب بھی ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور اُس کی خوشنودی بھی۔ اور دنیا کی یہ زندگی تو متاع غرور کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      ’اِنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا‘ کے بعد یہ الفاظ بطور بدل بیان آئے ہیں۔ یعنی دنیا کی زندگی کے یہ پہلو جن پر منکرین اور منافقین ریجھتے اور اپنی تمام مساعی کا حاصل اِنھی کو قرار دے کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ اِس سے واضح ہے کہ دنیا کی زندگی پر یہ بحیثیت مجموعی کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ چنانچہ آگے تمثیل میں ’اَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہٗ‘ کے الفاظ سے اشارہ کر دیا ہے کہ یہ تبصرہ اُسی پہلو سے ہے جو منکرین آخرت کو لبھا لیتا ہے۔
      یعنی اِسے خدا اور آخرت پر صحیح ایمان کے ساتھ بسر کرو گے تو ابدی بادشاہی کی ضامن ہے اور آخرت سے بے پروا ہو کر اِسے ہی سب کچھ سمجھ لو گے تو دھوکے کی ٹٹی ہے۔ اِس کے سوا اِس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

    Join our Mailing List