Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 96 آیات ) Al-Waqiah Al-Waqiah
Go
  • الواقعۃ (The Inevitable, The Event)

    96 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورتوں سے تعلق

    یہ اس گروپ کی ساتویں سورہ ہے جس پر گروپ کی مکی سورتیں تمام ہوئیں۔ اس میں اس ساری بحث کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے، جو جزاء و سزا سے متعلق، سورۂ قٓ سے لے کر سورۂ رحمٰن تک ہوئی ہے۔ پچھلی سورتوں میں اس موضوع کے تمام اطراف، آفاق و انفس اور عقل و فطرت کے دلائل کی روشنی میں، زیربحث آئے ہیں، اس سورہ میں دلائل کی وضاحت کے بجائے اصل نتیجہ سے قریش کے مستکبرین کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت ایک امرشدنی ہے جس میں ذرا شبہے کی گنجائش نہیں ہے۔ تمہیں لازماً ایک ایسے جہان سے سابقہ پیش آنے والا ہے جس میں عزت و ذلت کے اقدار اور پیمانے ان اقدار اور پیمانوں سے بالکل مختلف ہوں گے جو اس جہان میں معروف ہیں۔ وہاں عزت و سرفرازی ان کے لیے ہو گی جنھوں نے اس دنیا میں ایمان اور عمل صالح کی کمائی کی ہو گی، وہ مقربین اور اصحاب الیمین کے درجے پائیں گے۔ جنت کی تمام کامرانیاں انہی کا حصہ ہوں گی۔ رہے وہ جو اسی دنیا کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں اور اسی کے عشق میں مگن ہیں وہ اصحاب الشمال میں ہوں گے اور ان کو دوزخ کے ابدی عذاب سے سابقہ پیش آئے گا۔

  • الواقعۃ (The Inevitable, The Event)

    96 آیات | مکی
    الواقعۃ

    یہ ایک منفرد سورہ ہے جس پر اِس باب کی مکی سورتیں ختم ہوجاتی ہیں۔ اِس میں اُس تمام بحث کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے جو سورۂ ق سے سورۂ رحمن تک جزا و سزا سے متعلق ہوئی ہے۔ ق سے رحمن تک عقل و فطرت، انفس و آفاق اور انسانی تاریخ میں خدا کی دینونت کے ظہور سے ایک روز جزا کے واقع ہونے پر استدلال کیا گیا ہے۔اِس سلسلے کی آخری سورہ سورۂ رحمن ہے، جس میں اِس کے ساتھ انذار و بشارت کا مضمون بھی پوری طرح نمایاں ہو گیا ہے۔ یہی مضمون اِس سورہ میں اِس کی تمام تفصیلات کے ساتھ پایۂ تکمیل کو پہنچا ہے۔ اِس لحاظ سے یہ پچھلی
    سورتوں کا تکملہ و تتمہ ہے۔

    اِس کے مخاطب قریش کے متکبرین ہیں جنھیں خبردار کیا گیا ہے کہ قیامت ایک شدنی امر ہے۔ یہ ہر حال میں واقع ہو جائے گی۔ تمھیں لازماًایک ایسی دنیا میں جینے کے لیے اٹھنا ہے، جہاں عزت و ذلت کے پیمانے بدل چکے ہوں گے۔ عزت اور سرفرازی وہاں سابقین اور اصحاب الیمین کے لیے ہوگی اور متکبرین اصحاب الشمال ہوں گے جن کے لیے دوزخ کا ابدی عذاب ہے۔

    اِس کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یاد رکھو، جب کہ واقع ہو پڑے گی واقع ہونے والی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت شدنی ہے: ’وَاقِعَۃُ‘ سے مراد قیامت ہے۔ اس لفظ سے تعبیر اس کے ایک امرشدنی ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے دلائل، پوری تفصیل کے ساتھ، گروپ کی پچھلی سورتوں میں، بیان ہو چکے ہیں اور ان شبہات و سوالات کا بھی ایک ایک کر کے جواب دیا جا چکا ہے جو منکرین نے اس کے امکان اور اس کے وقوع کے باب میں اٹھائے ہیں۔ اب یہ فرمایا کہ اس وقت کو یاد رکھو جب کہ وہ واقع ہونے والی، تمہارے ان تمام لایعنی شبہات و اعتراضات کے علی الرغم، واقع ہو کے رہے گی اور تم کسی طرح بھی اس سے بھاگ نہ سکو گے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ اُس دن کو یاد رکھیں) جب واقع ہونے والی واقع ہو جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی قیامت، جس کے دلائل پچھلی سورتوں میں بیان ہو چکے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اس کے واقعہ ہونے میں کسی جھوٹ کا شائبہ نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’لَیْْسَ لِوَقْعَتِہَا کَاذِبَۃٌ‘۔ یہاں ’کَاذِبَۃٌ‘ میرے نزدیک ’عاقبۃ‘ اور ’عافیۃ‘ کی طرح مصدر ہے یعنی اس کے واقع ہونے میں ذرا کسی شک و شبہ اور جھوٹ کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر تم اس وہم میں مبتلا ہو کہ تم کو جھوٹ موٹ ایک ہوّے سے ڈرایا جا رہا ہے تو اس میں جھوٹ کا ادنیٰ شائبہ بھی نہیں۔ یہ ایک امر واقعہ ہے جس سے تمہیں لازماً دوچار ہونا ہے تو عاقبت کی بہبود چاہتے ہو تو اس کے مواجہہ کے لیے تیاری کرو۔

      جاوید احمد غامدی اُس کے واقع ہو جانے میں کچھ جھوٹ نہیں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’کَاذِبَۃٌ‘ آیا ہے۔ یہ ہمارے نزدیک ’عاقبۃ‘ اور ’عافیۃ‘ کی طرح مصدر ہے۔ ہم نے ترجمہ اِسی کے لحاظ سے کیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت میں عزت کا معیار ایمان ہو گا: یعنی اس وہم میں نہ رہو کہ تم کو جو سربلندی آج حاصل ہے وہ ہمیشہ رہے گی اور جن کو حقیر و متبذل گمان کر رہے ہو وہ اسی طرح حقیر و پست حال رہیں گے بلکہ جب وہ واقع ہونے والی واقع ہو گی تو یہ آسمان و زمین نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ نمودار ہوں گے۔ آج عزت و شرف کے جو معیارات ہیں وہ یک قلم تبدیل ہو جائیں گے۔ اس دن تمام عزت و سرفرازی ایمان و عمل صالح کو حاصل ہو گی۔ وہ لوگ سربلند و سرفراز ہوں گے جن کے پاس ایمان و عمل صالح کا سرمایہ ہو گا اور وہ پست و ذلیل ہوں گے جو اس دولت سے محروم اٹھیں گے۔ یہاں بات اجمال کے ساتھ فرمائی ہے۔ آگے آیت ۷ سے اس خفض و رفع کی تفصیل آ رہی ہے۔ اس سے واضح ہو جائے گا کہ اس کے لیے کسوٹی کیا ہو گی۔

      جاوید احمد غامدی وہ گرانے والی اور اٹھانے والی ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جو آج سربلند ہیں، اُن میں سے بہت سے پست ہو جائیں گے اور جو پستی اور ذلت میں پڑے ہوئے ہیں، وہ اگر ایمان اور اعمال صالحہ کا سرمایہ رکھتے ہوں گے تو سربلند ہوجائیں گے۔ آگے اِسی بلندی اور پستی کی تفصیل ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جب کہ زمین بالکل جھنجھوڑ دی جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کے دل کی ہلچل: یہ اس قیامت کی تصویر ہے کہ اس دن زمین بالکل ہلا دی جائے گی اور یہ اونچے اونچے پہاڑ جن کو نادان لوگ غیر فانی اور غیر متزلزل گمان کیے بیٹھے ہیں، غبار کی طرح پراگندہ ہو جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دن اس زمین کی ساری ہی بلندیاں پست کر دی جائیں گی۔ ایک ایسا زلزلہ آئے گا جو پوری زمین کو جھنجھوڑ کر اس کے تمام ایوانوں اور محلوں کو زمین بوس کر دے گا یہاں تک کہ یہ فلک بوس پہاڑ بھی غبار بن کر فضا میں اڑنے لگیں گے۔ یہی مضمون سورۂ حاقہ میں یوں بیان ہوا ہے:

      ’وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَاحِدَۃً ۵ فَیَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ‘ (الحاقہ ۶۹: ۱۴-۱۵)
      (اور اس دن زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا کر بیک دفعہ پاش پاش کر دیے جائیں گے، پس اس دن واقع ہونے والی واقع ہو جائے گی)۔

       

      جاوید احمد غامدی (اُس دن) جب زمین ہلا ڈالی جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہو (کر منتشر غبار بن) جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کے دل کی ہلچل: یہ اس قیامت کی تصویر ہے کہ اس دن زمین بالکل ہلا دی جائے گی اور یہ اونچے اونچے پہاڑ جن کو نادان لوگ غیر فانی اور غیر متزلزل گمان کیے بیٹھے ہیں، غبار کی طرح پراگندہ ہو جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دن اس زمین کی ساری ہی بلندیاں پست کر دی جائیں گی۔ ایک ایسا زلزلہ آئے گا جو پوری زمین کو جھنجھوڑ کر اس کے تمام ایوانوں اور محلوں کو زمین بوس کر دے گا یہاں تک کہ یہ فلک بوس پہاڑ بھی غبار بن کر فضا میں اڑنے لگیں گے۔ یہی مضمون سورۂ حاقہ میں یوں بیان ہوا ہے:

      ’وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَاحِدَۃً ۵ فَیَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ‘ (الحاقہ ۶۹: ۱۴-۱۵)
      (اور اس دن زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا کر بیک دفعہ پاش پاش کر دیے جائیں گے، پس اس دن واقع ہونے والی واقع ہو جائے گی)۔

       

      جاوید احمد غامدی اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی (اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہو کر) منتشر غبار بن جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کے دل کی ہلچل: یہ اس قیامت کی تصویر ہے کہ اس دن زمین بالکل ہلا دی جائے گی اور یہ اونچے اونچے پہاڑ جن کو نادان لوگ غیر فانی اور غیر متزلزل گمان کیے بیٹھے ہیں، غبار کی طرح پراگندہ ہو جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دن اس زمین کی ساری ہی بلندیاں پست کر دی جائیں گی۔ ایک ایسا زلزلہ آئے گا جو پوری زمین کو جھنجھوڑ کر اس کے تمام ایوانوں اور محلوں کو زمین بوس کر دے گا یہاں تک کہ یہ فلک بوس پہاڑ بھی غبار بن کر فضا میں اڑنے لگیں گے۔ یہی مضمون سورۂ حاقہ میں یوں بیان ہوا ہے:

      ’وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَاحِدَۃً ۵ فَیَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ‘ (الحاقہ ۶۹: ۱۴-۱۵)
      (اور اس دن زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا کر بیک دفعہ پاش پاش کر دیے جائیں گے، پس اس دن واقع ہونے والی واقع ہو جائے گی)۔

       

      جاوید احمد غامدی اِس طرح کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور تم تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لوگوں کی تقسیم تین گروہوں میں: یہ اس خفض و رفع کی تفصیل ہے جس کا ذکر اوپر آیت ۳ میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ اس دن تم تین گروہوں میں تقسیم کیے جاؤ گے۔ ایک گروہ اصحاب المیمنہ کا ہو گا، دوسرا گروہ اصحاب المشئمہ کا ہو گا اور تیسرا سابقون پر مشتمل ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی (اُس دن) تم تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ایک گروہ داہنے والوں کا ہو گا، تو کیا کہنے ہیں داہنے والوں کے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ‘ سے مراد، خود قرآن کی تصریح کے مطابق، وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ چنانچہ سورۂ حاقہ میں فرمایا ہے:

      ’فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیْنِہٖ فَیَقُوْلُ ھَآؤُمُ اقْرَءُ وْا کِتٰبِیَہْ اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَہْ‘ (الحاقہ ۶۹: ۱۹-۲۰)
      (تو اس دن جس کا اعمال نامہ اس کے دہنے ہاتھ میں پکڑایا جائے گا وہ لوگوں سے خوش ہو کر کہے گا کہ یہ لو میرا اعمال نامہ پڑھو۔ میں دنیا میں برابر اندیشہ ناک رہا کہ بالآخر مجھے اپنے اعمال کے حساب سے دوچار ہونا ہے)۔

      ’مَآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ‘ میں جو استفہام ہے یہ اظہار شان و عظمت کے لیے بھی آتا ہے اور اظہار نفرت و کراہت کے لیے بھی۔ یہاں یہ اظہار شان و عظمت کے لیے ہے یعنی دہنے والوں کی شان و عظمت، ان کے عیش جاوداں، ان کی رفاہیت و خوش حالی اور ان کی عالی مقامی کا کیا پوچھنا ہے! بھلا اس کی تفصیل کس طرح بتائی جا سکتی ہے اور اس کا صحیح اندازہ کون کرسکتا ہے! یہ اسلوب کلام اس صورت میں اختیار کیا جاتا ہے جب صورت واقعہ الفاظ کے احاطہ اور قیاس و گمان کی رسائی سے مافوق ہو۔ قرآن میں اس کی مثالیں بہت ہیں۔ ہماری زبان میں بھی یہ اسلوب معروف ہے۔
      اس تفصیل سے ایک تو یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ان لوگوں کا خیال غلط ہے جنھوں نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ دربار الٰہی میں جگہیں پانے والوں کی ترتیب بیان ہوئی ہے۔ اللہ جل شانہٗ کے دربار سے متعلق اول تو دہنے بائیں اور آگے پیچھے کا تصور ہی ایک بے معنی تصور ہے اور اگر اس تصور کی گنجائش تسلیم بھی کر لی جائے تو یہ امر اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ اس دربار میں اصحاب الشمال کے لیے کوئی جگہ بھی نہیں ہو گی نہ بائیں نہ پیچھے بلکہ ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا جس کی وضاحت آگے اس سورہ میں بھی آ رہی ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی آئی ہے۔
      دوسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ عام مسلمانوں کے مفہوم میں نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے بطور اعزاز داہنے ہاتھ میں دیے جائیں گے اور وہ اپنے شان دار کارناموں پر نہایت شاداں و فرحاں بھی ہوں گے۔ عام مسلمانوں میں تو بے شمار ایسے لوگ بھی ہیں جن کی نسبت یہ گمان کرنا بڑا ہی فیاضانہ حسن ظن ہو گا کہ ان کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے اور وہ جوش مسرت میں ’ھَآؤُمُ اقْرَءُ وْا کِتٰبِیَہْ‘ کا نعرہ بھی لگانے کے لائق ہوں گے۔ رہا یہ سوال کہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ اور ’سَابِقُوْنَ‘ میں کس نوعیت کا فرق ہے تو اس کی طرف اوپر بھی ہم اشارہ کر چکے ہیں اور آگے بھی اس کی وضاحت آ رہی ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی پھر ایک گروہ دائیں والوں کا ہو گا، سو کیا کہنے ہیں دائیں والوں کے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے وہ لوگ مراد ہیں جن کے اعمال نامے اُن کے دائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ سورۂ حاقہ (۶۹) کی آیت ۱۹میں قرآن نے اِس کی صراحت کر دی ہے۔ ’مَآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ‘ کے جو الفاظ اِن لوگوں کے لیے اصل میں آئے ہیں، اُن میں استفہام اظہار شان و عظمت کے لیے ہے۔ یعنی اِن کی رفاہیت و خوشحالی، اِن کے عیش مدام اور اِن کی عالی مقامی کا کیا پوچھنا ہے! استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... یہ اسلوب کلام اُس صورت میں اختیار کیا جاتا ہے، جب صورت واقعہ الفاظ کے احاطہ اور قیاس و گمان کی رسائی سے مافوق ہو۔ قرآن میں اِس کی مثالیں بہت ہیں۔ ہماری زبان میں بھی یہ اسلوب معروف ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۸/ ۱۶۰)

       

    • امین احسن اصلاحی دوسرا گروہ بائیں والوں کا ہو گا، تو کیا حال ہو گا بائیں والوں کا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ سورۂ حاقہ میں ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:

      ’وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ بِشِمَالِہٖ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتٰبِیَہْ وَلَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَہْ یٰلَیْتَھَا کَانَتِ الْقَاضِیَۃَ مَآ اَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَہْ ھَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ‘ (الحاقہ ۶۹: ۲۵-۲۹)
      (رہا وہ جس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا کہ کاش! میرا اعمال نامہ مجھ کو ملتا ہی نہ! اور مجھ کو یہ خبر ہی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے! اے کاش! پہلی موت ہی فیصلہ کن بن گئی ہوتی! میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا! میرا اقتدار ہوا ہو گیا!)

      ’مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ‘ میں وہی اسلوب اس کے برعکس یعنی اظہار نفرت و کراہت کے مفہفوم میں ہے یعنی جس طرح ’اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ‘ کی خوش حالی و بلند اقبالی کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا اسی طرح ’اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ‘ کی بدبختی، ان کی ذلت و مصیبت اور ان کی بدانجامی کا حال بھی کچھ نہ پوچھو! اس کی تصویر بھی الفاظ میں نہیں کھینچی جا سکتی۔ اس کا اندازہ انہی کو ہو گا جن کو اس سے سابقہ پیش آئے گا۔
      اس تفصیل سے ایک تو یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ان لوگوں کا خیال غلط ہے جنھوں نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ دربار الٰہی میں جگہیں پانے والوں کی ترتیب بیان ہوئی ہے۔ اللہ جل شانہٗ کے دربار سے متعلق اول تو دہنے بائیں اور آگے پیچھے کا تصور ہی ایک بے معنی تصور ہے اور اگر اس تصور کی گنجائش تسلیم بھی کر لی جائے تو یہ امر اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ اس دربار میں اصحاب الشمال کے لیے کوئی جگہ بھی نہیں ہو گی نہ بائیں نہ پیچھے بلکہ ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا جس کی وضاحت آگے اس سورہ میں بھی آ رہی ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی آئی ہے۔
      دوسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ عام مسلمانوں کے مفہوم میں نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے بطور اعزاز داہنے ہاتھ میں دیے جائیں گے اور وہ اپنے شان دار کارناموں پر نہایت شاداں و فرحاں بھی ہوں گے۔ عام مسلمانوں میں تو بے شمار ایسے لوگ بھی ہیں جن کی نسبت یہ گمان کرنا بڑا ہی فیاضانہ حسن ظن ہو گا کہ ان کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے اور وہ جوش مسرت میں ’ھَآؤُمُ اقْرَءُ وْا کِتٰبِیَہْ‘ کا نعرہ بھی لگانے کے لائق ہوں گے۔ رہا یہ سوال کہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ اور ’سَابِقُوْنَ‘ میں کس نوعیت کا فرق ہے تو اس کی طرف اوپر بھی ہم اشارہ کر چکے ہیں اور آگے بھی اس کی وضاحت آ رہی ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی دوسرا بائیں والوں کا، تو کیا بد بختی ہے بائیں والوں کی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      قرآن کی تصریح کے مطابق اِس سے وہ لوگ مراد ہیں جن کے اعمال نامے اُن کے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ یہاں بھی وہی استفہام ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ یہ لوگ جس ذلت و مصیبت اور بد انجامی سے دوچار ہوں گے، اُس کی تصویر بھی الفاظ میں کھینچی نہیں جا سکتی۔ چنانچہ استفہام کا وہی اسلوب یہاں نفرت و کراہت ظاہر کرنے کے لیے اختیار فرمایا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی رہے سابقون، تو وہ تو سبقت کرنے والے ہی ہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’سَابِقُوْنَ‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے دعوت حق کے قبول کرنے میں سبقت کی اور اس دور میں اپنے جان و مال سے اس کی خدمت کی توفیق پائی جب اس کی خدمت کرنے والے تھوڑے تھے اور اس کی مدد کے لیے حوصلہ کرنا اپنے آپ کو جوکھوں میں ڈالنا تھا۔ چنانچہ سورۂ حدید میں، جو اس کی مثنیٰ سورہ ہے، اس حقیقت پر یوں روشنی ڈالی ہے:

      ’لَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ اُولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْ م بَعْدُ وَقٰتَلُوْا وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی‘ (الحدید ۵۷: ۱۰)
      (تم میں سے جو لوگ فتح مکہ سے پہلے اللہ کی راہ میں انفاق اور جہاد کریں گے اور دوسرے جو اس سعادت سے محروم رہیں گے، یکساں نہیں ہوں گے۔ پہلے انفاق و جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا ہے ان لوگوں سے جنھوں نے بعد میں انفاق و جہاد کیا اگرچہ اللہ کا وعدہ دونوں سے اچھا ہی ہے)۔

      ’وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ‘ میں دوسرا ’سَابِقُوْنَ‘ خبر کے محل میں ہے اور اس ایجاز میں غایت درجہ بلاغت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ’سَابِقُوْنَ‘ کی عالی مقامی کا کیا پوچھنا ہے، وہ تو ’سَابِقُوْنَ‘ ہی ہوئے! جب وہ سابقون ہیں تو ان کے درجہ و مرتبہ کو کون پہنچ سکتا ہے! وہ لازماً وہاں تک پہنچیں گے جو انسانی شرف و مزیّت کا آخری نقطہ ہے اور اس نقطۂ کمال کا اندازہ بھلا اس عالم ناسوت میں کون کر سکتا ہے!
      اس تفصیل سے ایک تو یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ان لوگوں کا خیال غلط ہے جنھوں نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ دربار الٰہی میں جگہیں پانے والوں کی ترتیب بیان ہوئی ہے۔ اللہ جل شانہٗ کے دربار سے متعلق اول تو دہنے بائیں اور آگے پیچھے کا تصور ہی ایک بے معنی تصور ہے اور اگر اس تصور کی گنجائش تسلیم بھی کر لی جائے تو یہ امر اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ اس دربار میں اصحاب الشمال کے لیے کوئی جگہ بھی نہیں ہو گی نہ بائیں نہ پیچھے بلکہ ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا جس کی وضاحت آگے اس سورہ میں بھی آ رہی ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی آئی ہے۔
      دوسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ عام مسلمانوں کے مفہوم میں نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے بطور اعزاز داہنے ہاتھ میں دیے جائیں گے اور وہ اپنے شان دار کارناموں پر نہایت شاداں و فرحاں بھی ہوں گے۔ عام مسلمانوں میں تو بے شمار ایسے لوگ بھی ہیں جن کی نسبت یہ گمان کرنا بڑا ہی فیاضانہ حسن ظن ہو گا کہ ان کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے اور وہ جوش مسرت میں ’ھَآؤُمُ اقْرَءُ وْا کِتٰبِیَہْ‘ کا نعرہ بھی لگانے کے لائق ہوں گے۔ رہا یہ سوال کہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ اور ’سَابِقُوْنَ‘ میں کس نوعیت کا فرق ہے تو اس کی طرف اوپر بھی ہم اشارہ کر چکے ہیں اور آگے بھی اس کی وضاحت آ رہی ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُن لوگوں کا ذکر ہے جنھوں نے دعوت حق کے قبول کرنے میں سبقت کی، بھلائی کے ہر کام میں سب سے آگے رہے اور اُس زمانے میں اپنے جان و مال سے خدمت حق کی توفیق پائی، جب اِس خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنا جان جوکھم میں ڈالنے کے مترادف تھا۔

    • امین احسن اصلاحی وہی لوگ مقرب ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’سَابِقُوْنَ‘ کا صلہ: چونکہ گل سرسبد اور سرخیل قافلہ کی حیثیت انہی ’سَابِقُوْنَ‘ کو حاصل ہو گی اس وجہ سے انہی کا مرتبہ اور صلہ سب سے پہلے بیان فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ انہی لوگوں کو مقربین کا درجہ حاصل ہو گا۔ ’مقربین‘ سے مراد ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقربین ہیں لیکن ان مقربین کا ٹھکانا ’جَنّٰتِ النَّعِیْمِ‘ ہی بتایا ہے، دربار الٰہی کے قسم کی کسی چیز کا کوئی تصور نہیں دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقربین الٰہی کے لیے خاص ان کے درجے و مرتبے کے لحاظ سے جنتیں ہوں گی جن میں وہ رکھے جائیں گے۔ آگے ان کی جنت سے متعلق بعض اشارات آ رہے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی وہی مقرب ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی خدا کی جنت میں اُس کے مقرب ہوں گے۔ اِن کا ٹھکانا بھی ’جَنّٰتُ النَّعِیْمِ‘ ہی بتایا گیا ہے۔ دربار الٰہی کے قسم کی کسی چیز کا تصور قرآن میں نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی نعمت کے باغوں میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’سَابِقُوْنَ‘ کا صلہ: چونکہ گل سرسبد اور سرخیل قافلہ کی حیثیت انہی ’سَابِقُوْنَ‘ کو حاصل ہو گی اس وجہ سے انہی کا مرتبہ اور صلہ سب سے پہلے بیان فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ انہی لوگوں کو مقربین کا درجہ حاصل ہو گا۔ ’مقربین‘ سے مراد ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقربین ہیں لیکن ان مقربین کا ٹھکانا ’جَنّٰتِ النَّعِیْمِ‘ ہی بتایا ہے، دربار الٰہی کے قسم کی کسی چیز کا کوئی تصور نہیں دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقربین الٰہی کے لیے خاص ان کے درجے و مرتبے کے لحاظ سے جنتیں ہوں گی جن میں وہ رکھے جائیں گے۔ آگے ان کی جنت سے متعلق بعض اشارات آ رہے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی نعمت کے باغوں میں رہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ان میں بڑی تعداد اگلوں کی ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اب یہ واضح فرمایا کہ اس مبارک گروہ میں شامل ہونے کی سعادت کن لوگوں کو حاصل ہو گی۔ فرمایا کہ ان میں زیادہ تعداد تو اگلوں کی ہو گی اور ایک قلیل تعداد پچھلوں کی بھی ہو گی۔ ’ثُلَّۃٌ‘ کے اصل معنی تو گروہ اور جماعت کے ہیں لیکن اس کے مقابل میں چونکہ لفظ ’قَلِیْلٌ‘ استعمال ہوا ہے اس وجہ سے یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اس کو گروہ کثیر کے مفہوم میں لیا جائے۔
      ’اوّلین‘ اور آخرین سے مراد: ’اوّلین‘ اور ’آخرین‘ سے مراد ہمارے نزدیک اسی امت کے اولین و آخرین ہیں۔ اوپر ہم نے سورۂ حدید کا حوالہ دیا ہے جس سے واضح ہوا کہ ان لوگوں کے انفاق اور جہاد کا درجہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اونچا ہے جنھوں نے فتح مکہ سے پہلے جہاد و انفاق کی سعادت حاصل کی۔ بعد والوں کے جہاد و انفاق کا درجہ وہ نہیں ہو گا تاہم اللہ تعالیٰ کا وعدہ دونوں ہی سے اچھا ہے۔ یعنی بعد والے اگرچہ من حیث العموم اگلوں کے مرتبہ کو تو نہ پہنچ سکیں گے تاہم اپنے اخلاص و حسن عمل سے ان کے لیے ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ میں جگہ حاصل کرنے کی راہ کھلی ہو گی۔
      ’ثُلَّۃٌ مِّنَ الْأَوَّلِیْنَ‘ کے الفاظ سے یہ بات بھی نکلی کہ اگلوں میں سے لازماً سب ہی مقربین کا درجہ حاصل نہیں کر لیں گے بلکہ ان کی اکثریت کو یہ مقام حاصل ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس درجے کا تعلق مجرد زمانے ہی سے نہیں ہے بلکہ اس میں اصلی دخل اوصاف و اعمال کو ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اسلام قبول کرنے کے اعتبار سے تو اولین میں ہو لیکن اپنی عزیمت، رسوخ اور قربانیوں کے اعتبار سے مقربین کا درجہ نہ حاصل کر سکا بلکہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ ہی کے درجے تک رہ گیا۔
      ایک خاص نکتہ: اسی طرح ’قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ‘ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس امت کے پچھلوں میں سے بھی ایسے لوگ نکلیں گے جو سابقون الاولون کے زمرے میں شامل ہونے کا شرف حاصل کریں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو فتنوں کے زمانے میں بھی حق پر قائم رہیں گے، حق ہی کی دعوت دیں گے، اور حالات خواہ کتنے ہی صبر آزما ہو جائیں اور ان کی تعداد خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو لیکن وہ ہمت نہیں ہاریں گے۔ اس قسم کا ایک گروہ اس امت میں، جیسا کہ احادیث میں بشارت ہے، ہر دور میں پیدا ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ زمانے کے اعتبار سے تو آخرین میں ہوں گے لیکن اپنی خدمات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ہاں اولین کے زمرے میں جگہ پائیں گے۔ اسی حقیقت کی طرف سیدنا مسیح علیہ السلام نے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ ’’کتنے پیچھے آنے والے ہیں جو آگے ہو جائیں گے‘‘۔
      یہاں یہ حقیقت پیش نظر رکھنے کی ہے کہ ہر چند ان آیات کا تعلق اسی امت سے ہے لیکن اصولی طور پر یہ بات ہر نبی و رسول کی امت پر منطبق ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں دوسری جگہ یہی بات ایک عام کلیہ کی حیثیت سے ارشاد ہوئی ہے۔ فرمایا ہے:

      ’ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہِ وَمِنْہُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْْرَاتِ بِإِذْنِ اللہِ‘ (فاطر ۳۲)
      (پھر ہم نے کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنایا جن کو اپنے بندوں میں سے اس کار خاص کے لیے منتخب کیا تو ان میں سے کچھ تو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے نکلے، کچھ میانہ رو ہوئے اور کچھ اللہ کی توفیق سے بھلائیوں کی راہ میں سبقت کرنے والے ہوئے)۔

      اس آیت پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ الفاظ بدلے ہوئے ہیں لیکن اس میں بھی انہی تین گروہوں کا ذکر ہے جن کا ذکر اوپر ’اصحب المیمنۃ‘، ’اصحب المشئمۃ‘ اور ’سابقون‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اگلوں میں بہت۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’ثُلَّۃٌ‘ آیا ہے۔ اِس کے معنی گروہ یا جماعت کے ہیں، لیکن یہاں چونکہ یہ ’قَلِیْلٌ‘ کے مقابل میں آیا ہے، اِس لیے گروہ کثیر کے معنی اِس میں پیدا ہوگئے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور تھوڑے پچھلوں میں سے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اب یہ واضح فرمایا کہ اس مبارک گروہ میں شامل ہونے کی سعادت کن لوگوں کو حاصل ہو گی۔ فرمایا کہ ان میں زیادہ تعداد تو اگلوں کی ہو گی اور ایک قلیل تعداد پچھلوں کی بھی ہو گی۔ ’ثُلَّۃٌ‘ کے اصل معنی تو گروہ اور جماعت کے ہیں لیکن اس کے مقابل میں چونکہ لفظ ’قَلِیْلٌ‘ استعمال ہوا ہے اس وجہ سے یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اس کو گروہ کثیر کے مفہوم میں لیا جائے۔
      ’اوّلین‘ اور آخرین سے مراد: ’اوّلین‘ اور ’آخرین‘ سے مراد ہمارے نزدیک اسی امت کے اولین و آخرین ہیں۔ اوپر ہم نے سورۂ حدید کا حوالہ دیا ہے جس سے واضح ہوا کہ ان لوگوں کے انفاق اور جہاد کا درجہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اونچا ہے جنھوں نے فتح مکہ سے پہلے جہاد و انفاق کی سعادت حاصل کی۔ بعد والوں کے جہاد و انفاق کا درجہ وہ نہیں ہو گا تاہم اللہ تعالیٰ کا وعدہ دونوں ہی سے اچھا ہے۔ یعنی بعد والے اگرچہ من حیث العموم اگلوں کے مرتبہ کو تو نہ پہنچ سکیں گے تاہم اپنے اخلاص و حسن عمل سے ان کے لیے ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ میں جگہ حاصل کرنے کی راہ کھلی ہو گی۔
      ’ثُلَّۃٌ مِّنَ الْأَوَّلِیْنَ‘ کے الفاظ سے یہ بات بھی نکلی کہ اگلوں میں سے لازماً سب ہی مقربین کا درجہ حاصل نہیں کر لیں گے بلکہ ان کی اکثریت کو یہ مقام حاصل ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس درجے کا تعلق مجرد زمانے ہی سے نہیں ہے بلکہ اس میں اصلی دخل اوصاف و اعمال کو ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اسلام قبول کرنے کے اعتبار سے تو اولین میں ہو لیکن اپنی عزیمت، رسوخ اور قربانیوں کے اعتبار سے مقربین کا درجہ نہ حاصل کر سکا بلکہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ ہی کے درجے تک رہ گیا۔
      ایک خاص نکتہ: اسی طرح ’قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ‘ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس امت کے پچھلوں میں سے بھی ایسے لوگ نکلیں گے جو سابقون الاولون کے زمرے میں شامل ہونے کا شرف حاصل کریں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو فتنوں کے زمانے میں بھی حق پر قائم رہیں گے، حق ہی کی دعوت دیں گے، اور حالات خواہ کتنے ہی صبر آزما ہو جائیں اور ان کی تعداد خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو لیکن وہ ہمت نہیں ہاریں گے۔ اس قسم کا ایک گروہ اس امت میں، جیسا کہ احادیث میں بشارت ہے، ہر دور میں پیدا ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ زمانے کے اعتبار سے تو آخرین میں ہوں گے لیکن اپنی خدمات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ہاں اولین کے زمرے میں جگہ پائیں گے۔ اسی حقیقت کی طرف سیدنا مسیح علیہ السلام نے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ ’’کتنے پیچھے آنے والے ہیں جو آگے ہو جائیں گے‘‘۔
      یہاں یہ حقیقت پیش نظر رکھنے کی ہے کہ ہر چند ان آیات کا تعلق اسی امت سے ہے لیکن اصولی طور پر یہ بات ہر نبی و رسول کی امت پر منطبق ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں دوسری جگہ یہی بات ایک عام کلیہ کی حیثیت سے ارشاد ہوئی ہے۔ فرمایا ہے:

      ’ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہِ وَمِنْہُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْْرَاتِ بِإِذْنِ اللہِ‘ (فاطر ۳۲)
      (پھر ہم نے کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنایا جن کو اپنے بندوں میں سے اس کار خاص کے لیے منتخب کیا تو ان میں سے کچھ تو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے نکلے، کچھ میانہ رو ہوئے اور کچھ اللہ کی توفیق سے بھلائیوں کی راہ میں سبقت کرنے والے ہوئے)۔

      اس آیت پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ الفاظ بدلے ہوئے ہیں لیکن اس میں بھی انہی تین گروہوں کا ذکر ہے جن کا ذکر اوپر ’اصحب المیمنۃ‘، ’اصحب المشئمۃ‘ اور ’سابقون‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اور پچھلوں میں کم۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اگلوں اور پچھلوں سے مراد اِسی امت کے اگلے اور پچھلے ہیں۔ بہ اعتبار اصول، البتہ کہہ سکتے ہیں کہ یہی بات ہر نبی اور رسول کی امت پر منطبق ہو گی۔ چنانچہ سورۂ فاطر (۳۵) کی آیت ۳۲ میں اِنھی تینوں گروہوں کا ذکر ایک عام کلیے کی حیثیت سے بھی ہوا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جڑاؤ تختوں پر، ٹیک لگائے، (آمنے سامنے بیٹھے) ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مقربین کی جنت کی تمثیل: یہ ان مقربین کی جنت کی تمثیل ہے۔ پہلے ان کی نشست گاہ اور ان کے انداز نشست کی تصویر کھینچی ہے کہ وہ جڑاؤ اور زرنگار تختوں پر گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ’مَوْضُوْنَۃ‘ کے معنی بعض لوگوں نے دوسرے بھی لیے ہیں لیکن میرے نزدیک اس کا صحیح مفہوم وہی ہے جو ہم اپنی زبان میں لفظ ’جڑاؤ‘ سے ادا کرتے ہیں۔ قدیم زمانے کے شاہان عجم اپنے درباروں میں اسی طرح کے زرنگار، سونے، ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے تختوں پر جلوہ افروز ہوا کرتے تھے۔

      جاوید احمد غامدی مرصع تختوں پر۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی (جڑاؤ تختوں پر، ٹیک لگائے)، آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’مُتَّکِئِیْنَ‘ کے لفظ کے اندر گاؤ تکیوں کا مفہوم خود مضمر ہے اس لیے کہ ٹیک لگانے کے لیے مسندیں اور گاؤ تکیے ضروری ہیں اور زمانۂ قدیم میں تخت شاہی کے لوازم میں یہ شامل بھی رہے ہیں۔
      ’آمنے سامنے‘ بیٹھنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے دل باہمی رنج و رقابت اور کینہ و حسد سے بالکل پاک ہوں گے۔ جن کے دلوں کے اندر کدورت ہوتی ہے وہ ایک دوسرے سے منہ پھیر کے بیٹھتے ہیں لیکن اہل جنت کے دل کینہ و حسد سے، جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے، بالکل پاک ہوں گے اس وجہ سے وہ مخلص اور محبت کرنے والے عزیزوں اور ساتھیوں کی طرح ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے بیٹھیں گے۔

      جاوید احمد غامدی تکیے لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ایک دوسرے سے منہ پھیر کر نہیں، بلکہ محبت و اخلاص کے ساتھ ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوں گے۔ حسد و کینہ اور باہمی رنج و رقابت سے اُن کے دل بالکل پاک کر دیے جائیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی ان کی خدمت میں غلمان، جو ہمیشہ غلمان ہی رہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس سامان ضیافت کی طرف اشارہ ہے جو ان کے لیے وہاں مہیا ہو گا۔ فرمایا کہ ان کی خدمت میں غلمان پیالے، جگ اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے ہر وقت حاضر باش ہوں گے۔
      ’مُخَلَّدُوۡنَ‘ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایک ہی سن و سال کے رہیں گے۔ ان کی حیثیت دائمی خدام کی ہو گی۔ مجلسی خدمات کے لیے ایک خاص سِن کے لڑکے ہی زیادہ موزوں، خوش آداب اور مستعد و سرگرم خیال کیے جاتے ہیں اس وجہ سے ان کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ ایک ہی سِن کا رکھے گا اور چونکہ مزاج شناس خادم ہی اپنے آقا کی سب سے زیادہ بہتر طریقہ پر خدمت کرسکتا ہے اس وجہ سے جو لڑکے جن کے ساتھ لگا دیے جائیں گے وہ برابر انہی کی خدمت میں رہیں گے۔ قرآن کے الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان لڑکوں کو اللہ تعالیٰ خاص اسی مقصد کے لیے بنائے گا۔ بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ کفار کے بچے، جو نابالغی میں وفات پا جائیں گے، ان کو اللہ تعالیٰ اہل جنت کی خدمت میں لگا دے گا۔ اس رائے کے حق میں اگرچہ قرآن میں کوئی اشارہ نہیں ہے لیکن کوئی ایسی چیز بھی نہیں ہے جو اس کے خلاف جاتی ہو۔ اس لیے کہ کفار کے بچوں کے دوزخ میں جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے لیکن یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ اس خدمت ہی میں لگائے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی جنت بہت وسیع اور وہ بڑا کریم ہے۔ وہ ان کو ان کی بے گناہی کے صلہ میں بھی جنت دے سکتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُن کی خدمت میں لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ اہل جنت کی دائمی خدمت کے لیے وہ ہمیشہ موزوں، خوش آداب اور مستعد و سرگرم رہیں گے۔ وقت کے گزرنے اور عمر کے بڑھنے سے اُن میں کوئی اضمحلال نہ آئے گا۔

    • امین احسن اصلاحی پیالے، جگ اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے گردش کر رہے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس سامان ضیافت کی طرف اشارہ ہے جو ان کے لیے وہاں مہیا ہو گا۔ فرمایا کہ ان کی خدمت میں غلمان پیالے، جگ اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے ہر وقت حاضر باش ہوں گے۔
      ’اَکْوَابٌ‘ ’کَوْبٌ‘ کی جمع ہے اور ’کوب‘ اور کپ (CUP) ایک ہی چیز ہے۔ ’اَبَارِیْقَ‘ جمع ہے ’اِبْرِیْقٌ‘ کی۔ ’ابریق‘ فارسی کے آب ریز سے معرب معلوم ہوتا ہے اور یہ چیز اپنی جگہ پر ثابت ہے کہ عربوں نے بہت سے تمدنی الفاظ عجمیوں سے لیے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی پیالے، صراحیاں اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے دوڑتے پھرتے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’مَعِیْن‘ آیا ہے۔ قرآن میں یہ شراب خالص کے چشمے کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ یہاں اِسی مفہوم میں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جس سے نہ تو ان کو درد سر لاحق ہو گا اور نہ وہ فتور عقل میں مبتلا ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس سامان ضیافت کی طرف اشارہ ہے جو ان کے لیے وہاں مہیا ہو گا۔ فرمایا کہ ان کی خدمت میں غلمان پیالے، جگ اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے ہر وقت حاضر باش ہوں گے۔
      لفظ ’کَاْسٌ‘ ظرف اور مظروف یعنی شراب اور جام شراب دونوں کے لیے آتا ہے۔ ’مَعِیْنٌ‘ خالص پانی اور خالص پانی کے چشمہ کے لیے بھی قرآن میں آیا ہے اور شراب خالص کے ایک چشمہ کے لیے بھی جو جنت میں ہے۔ یہاں یہ اسی مفہوم میں ہے۔

      جاوید احمد غامدی جس سے نہ اُن کا سر چکرائے گا، نہ عقل میں کوئی فتور آئے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور میوے ان کی پسند کے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس سامان ضیافت کی طرف اشارہ ہے جو ان کے لیے وہاں مہیا ہو گا۔ فرمایا کہ ان کی خدمت میں غلمان پیالے، جگ اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے ہر وقت حاضر باش ہوں گے۔
      ’لَا یُصَدَّعُونَ عَنْہَا وَلَا یُنۡزِفُوۡنَ‘۔ یہ شراب ایسی ہو گی کہ اس سے شراب کا جو اصل فائدہ ہے یعنی سرور، وہ تو حاصل ہو گا لیکن اس دنیا کی شراب کے تمام مضر اثرات سے وہ بالکل پاک ہو گی۔ یہاں کی شراب سے اعضاء شکنی، خمار اور درد سر بھی لاحق ہوتا ہے، جنت کی شراب میں یہ مفاسد نہیں ہوں گے۔ اسی طرح اس دنیا کی شراب کا سب سے بڑا مفسدہ یہ ہے کہ اس سے عقل جاتی رہتی ہے درآنحالیکہ عقل ہی انسان کا اصل جوہر ہے اور ایک منٹ کے لیے بھی اس کا فتور نہ جانے کن کن ہلاکتوں میں اس کو ڈال سکتا ہے۔ جنت کی شراب اس زہر سے محفوظ ہو گی۔ ’نُزِف الرجل‘ کے معنی ہیں ’ذھب عقلہ‘ آدمی کی عقل جاتی رہی۔

      جاوید احمد غامدی اور اُن کے سامنے میوے پیش کریں گے جنھیں وہ پسند کریں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List