Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 55 آیات ) Al-Qamar Al-Qamar
Go
  • القمر (The Moon)

    55 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس سورہ کا آغاز اسی مضمون سے ہوا ہے جس پر سابق سورہ ختم ہوئی ہے۔ سابق سورہ ’أَزِفَتْ الْاٰزِفَۃُ‘ (۵۷) (قریب آ پہنچی قریب آنے والی) کی تنبیہ پر تمام ہوئی۔ اس سورہ کا آغاز ’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ‘ (۱) (عذاب کی گھڑی قریب آ پہنچی اور چاند شق ہو گیا) سے ہوا ہے۔ گویا ’أَزِفَتْ الْاٰزِفَۃُ‘ کے اجمال کی اس میں تفصیل فرما دی گئی ہے۔ اس مناسبت کے علاوہ ایک اور ظاہری مناسبت بھی دونوں میں واضح ہے۔ پہلی سورہ میں ستاروں کے ہبوط و سقوط سے دعوے پر شہادت پیش کی گئی ہے اور اس میں چاند کے پھٹنے سے۔ اس میں آیت ’وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ‘ باربار دہرائی گئی ہے۔ جس سورہ میں کسی آیت کی ترجیع ہو اس کو سورہ میں خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ گویا متکلم تھوڑے تھوڑے وقفہ سے اپنے دعوے پر دلائل بیان کرتے ہوئے ضدی مخاطب کو باربار توجہ دلاتا ہے کہ اپنی ضد ہی پر کیوں اڑے ہوئے ہو، اس واضح حقیقت پر کیوں نہیں غور کرتے جو تمہارے سامنے دلائل کی روشنی میں پیش کی جا رہی ہے۔

    مخاطب اس میں وہ مکذبین ہیں جو قرآن کے انذار کی تصدیق کے لیے کسی ایسی نشانئ عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے جو انھیں قائل کر دے کہ فی الواقع قرآن کی یہ دھمکی سچی ہو کے رہے گی اگر وہ اس کو جھٹلاتے رہے۔ ان کو پچھلی قوموں کی تاریخ، جس کی طرف پچھلی سورہ میں بھی اشارہ ہے، نسبتاً تفصیل کے ساتھ سنا کر متنبہ فرمایا ہے کہ آخر ان قوموں کے انجام سے کیوں عبرت نہیں حاصل کرتے؟ کیوں مچلے ہوئے ہو کہ جب یہی کچھ تمہارے سروں پر بھی گزر جائے گا تب مانو گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے تمہیں عذاب کی نشانی دکھانے کی جگہ ایک ایسی کتاب تم پر اتاری ہے جو تمہاری تعلیم و تذکیر اور تمہارے شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے ہر پہلو سے جامع و کامل اور تمام ضروری اوصاف و محاسن سے آراستہ ہے۔ لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت کی جگہ تم اس کے عذاب کے طالب بنے ہوئے ہو۔

  • القمر (The Moon)

    55 آیات | مکی
    القمر ——- الرحمٰن

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں ترجیع ہے، چنانچہ یہظاہری مناسبت بھی بالکل واضح ہے۔ دونوں سورتوں کا موضوع اثبات قیامت اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ پہلی سورہ میں خدا کی دینونت کے ظہور اور دوسری سورہ میں انفس و آفاق کے اندر اُس کی رحمت، قدرت اور حکمت و ربوبیت کی نشانیوں سے استدلال کیا گیا ہے۔

    دونوں میں خطاب قریش سے ہے جو عذاب کے لیے کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اُنھیں ایک ایک واقعے اور ایک ایک نشانی کی طرف توجہ دلاکر متنبہ کیا گیا ہے کہ اِن نشانیوں کو کیوں نہیں دیکھتے اور اِن واقعات سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ترجیع کی آیتیں دونوں سورتوں میں اِنھی ہٹ دھرم اور ضدی مخاطبین کو جھنجھوڑنے کے لیے آئی ہیں۔

    اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی عذاب کی گھڑی سر پر آ گئی اور چاند شق ہو گیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رسول قوم کے لیے خدا کی عدالت ہوتا ہے: ’اَلسَّاعَۃُ‘ سے مراد فیصلہ اور عذاب کی گھڑی ہے جس سے قریش کو، یوں تو اس گروپ کی تمام ہی سورتوں میں، آگاہ کیا گیا ہے لیکن سابق سورہ میں خاص اہتمام کے ساتھ ان کو جھنجھوڑا گیا ہے کہ ’أَزِفَتْ الْاٰزِفَۃُ‘ (۵۷) یہ قریب آنے والی قریب آ لگی ہے۔ اس کو بہت دور نہ سمجھو، جاگو اور اٹھو اور اس سے بچنے کی واحد تدبیر پر، جو تمہیں سمجھائی جا رہی ہے، عمل کر کے اپنے کو اس کی آفتوں سے بچانے کی کوشش کرو۔
      یہ بات ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ اللہ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک تو اس عذاب سے جو اس دنیا میں لازماً قوم پر آ کے رہتا ہے اگر وہ رسول کے انذار کو خاطر میں نہیں لاتی بلکہ اس کی تکذیب پر اڑ جاتی ہے۔ دوسرے اس عذاب سے جو آخرت میں پیش آئے گا۔ ان دونوں عذابوں میں فرق صرف آغاز و تکمیل یا تمہید اور خاتمہ کا ہے۔ رسول کی تکذیب کے عذاب میں جو قوم پکڑی جاتی ہے وہ درحقیقت آخرت کے عذاب ہی کے لیے پکڑی جاتی ہے اس وجہ سے لفظ ’اَلسَّاعَۃُ‘ بسا اوقات ان دونوں ہی عذابوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ہر قوم جس کے اندر رسول آ گیا اس کے فیصلہ کی گھڑی سر پر آ گئی۔ گویا ’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ‘ کا اسلوب بیان مبالغہ کا اسلوب نہیں بلکہ یکسر بیان حقیقت ہے۔
      ظہور عذاب کی ایک نشانی: ’وَانْشَقَّ الْقَمَرُ‘۔ یہ علامت بیان ہوئی ہے عذاب کی گھڑی کے قریب آنے کی۔ اللہ تعالیٰ کی ایک سنت کا حوالہ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ دے چکے ہیں کہ یوں تو اس زمین و آسمان کے چپہ چپہ پر اس کی قدرت و حکمت کی نشانیاں موجود ہیں اور آئے دن نئی نئی نشانیاں بھی ظاہر ہوتی رہتی ہیں لیکن رسولوں کی بعثت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ خاص طور پر ایسی نشانیاں ظاہر فرماتا ہے جس سے رسول کے انذار اور اس کے دعوائے رسالت کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔ قرآن میں اس سنت الٰہی کا ذکر جگہ جگہ ہوا ہے۔ ہم ایک آیت بطور مثال پیش کرتے ہیں۔ فرمایا ہے:

      ’سَنُرِیْہِمْ آیَاتِنَا فِیْ الْآفَاقِ وَفِیْ أَنفُسِہِمْ‘ (حٰمٓ السجدہ ۵۳)
      (ہم عنقریب ان کو دکھائیں گے اپنی نشانیاں اس کائنات میں بھی اور خود ان کے اندر بھی)۔

      ان نشانیوں کا مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، رسول کے انذار کو تقویت پہنچانا ہوتا ہے۔ رسول جن باتوں کی منادی زبان سے کرتا ہے اس کی تائید کے آثار و شواہد اس کائنات میں بھی، مختلف شکلوں میں، ظاہر ہوتے ہیں تاکہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت اچھی طرح پوری ہو جائے۔ اسی طرح کی ایک نشانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انذار کی تائید کے لیے چاند کے پھٹنے کی صورت میں ظاہر ہوئی تاکہ منکرین عذاب و قیامت پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے کہ قرآن ان کو جو ڈرا رہا ہے کہ زمین اس دن ہلا دی جائے گی، پہاڑ پاش پاش ہو کر فضا میں اڑنے لگیں گے، سمندر ابل پڑیں گے، سورج تاریک ہو جائے گا؛ یہ باتیں ان کو مرعوب کرنے کے لیے نہیں بیان ہوئی ہیں بلکہ یہ حقائق ہیں جو ایک دن پیش آ کے رہیں گے اور یہ بعید از امکان بھی نہیں ہیں، ان کے شواہد کسی نہ کسی شکل میں اس دنیا میں بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔
      اس طرح کی نشانیوں کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ رسول نے ان کو اپنے معجزے کے طور پر پیش کیا ہو بلکہ ان کا ظہور کسی اعلان و تحدی کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کفار نے بعینہٖ اسی نشانی کا مطالبہ کیا ہو جو ظاہر ہوئی بلکہ ان کی طرف سے کسی مطالبہ کے بغیر محض اس لیے بھی ان کا ظہور ہوتا ہے کہ کفار کے پیش کردہ شبہات کا ان کو جواب مل جائے۔ کفار قیامت کو جو بہت بعید از عقل چیز خیال کرتے تھے اس کا ایک بہت بڑا سبب یہ بھی تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ یہ ساری کائنات ایک دن بالکل درہم برہم ہو جائے۔ پہاڑوں سے متعلق ان کا جو سوال قرآن میں نقل ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں کو وہ بالکل اٹل، غیرمتزلزل اور غیر فانی سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شق قمر کی نشانی دکھا کر ان کو بتایا کہ اس کائنات کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی خواہ وہ کتنی ہی عظیم ہو، نہ خود مختار ہے، نہ غیر فانی، نہ غیر متزلزل، بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے۔ وہ جب چاہے گا ان سب کو درہم برہم کر کے رکھ دے گا۔
      ایک سوال کا جواب: رہا یہ سوال کہ اس طرح کا کوئی واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیش آیا بھی ہے تو اس کا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ سے، یہی بات نکلتی ہے کہ یہ پیش آیا اور حدیثوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ صورت واقعہ کے بارے میں تو حدیثیں ضرور مختلف ہیں لیکن نفس واقعہ کے بارے میں کوئی اختلاف منقول نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ قیامت کے دن پیش آنے والے واقعہ کی خبر ہے۔ جس کو ماضی کے صیغہ سے اس کی قطعیت کے اظہار کے لیے بیان فرمایا گیا ہے۔ ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ جائے گا۔ یہ قول اگرچہ اگلوں میں سے بھی بعض لوگوں سے نقل ہوا ہے اور اس زمانے میں بھی اس کو ایک گروہ کے اندر حسن قبول حاصل ہے لیکن سیاق کلام اس سے اِباء کرتا ہے۔ اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ قیامت میں پیش آنے والے واقعات قرآن میں ماضی کے اسلوب میں بیان ہوئے ہیں لیکن یہاں یہ معنی لیے جائیں تو کلام آگے والی بات سے بے جوڑ ہو جاتا ہے۔ آگے فرمایا گیا ہے کہ یہ کوئی سی نشانی بھی دیکھیں گے تو اس سے اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے کہ اس میں کوئی خاص ندرت نہیں، یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ غور کیجیے کہ چاند کے پھٹنے کا تعلق قیامت سے ہوتا تو اس کے بعد یہ بات کہنے کا کیا محل تھا؟ قیامت کے دن تو کٹر سے کٹر منکر بھی کسی چیز کو جادو نہ کہہ سکے گا بلکہ سب اعتراف کریں گے کہ رسولوں نے جو خبر دی وہ حرف حرف سچی نکلی۔ چنانچہ آگے بیان بھی ہوا ہے کہ

      ’یَقُوْلُ الْکَافِرُونَ ہٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ‘ (۸)
      (اس دن کافر کہیں گے کہ یہ تو بڑا ہی کٹھن دن آ گیا)۔

      یہ شبہ صحیح نہیں ہے کہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آیا ہوتا تو دوسری قوموں کی تاریخ میں بھی اس کا ذکر ہوتا۔ ہماری زمین اور دوسرے کُرّوں میں اس طرح کی شکست و ریخت اور ان کے ٹکڑوں کے درمیان انفصال و اتصال کے کتنے واقعات ہیں جو آئے دن ہوتے رہتے ہیں لیکن پہلے زمانہ میں ان کا مشاہدہ ایک خاص دائرہ ہی کے اندر محدود رہتا تھا۔ ہمارے زمانے میں اس طرح کے تغیرات کی تحقیق کے لیے بین الاقوامی ادارے اور رصد گاہیں وجود میں آ گئی ہیں اس وجہ سے کوئی واقعہ ظہور میں آتا ہے تو اس کی تحقیق کے لیے فوراً ساری دنیا کے تحقیقاتی ادارے بھاگ دوڑ شروع کر دیتے ہیں اور برق کی رفتار سے اس کی اطلاع دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچ جاتی ہے۔ پہلے تحقیق و اطلاع کے یہ وسائل موجود نہیں تھے اس وجہ سے اس کی خبر ایک خاص دائرے ہی میں محدود رہ گئی۔ لیکن یہ دائرہ نہایت ثقہ لوگوں کا ہے اس وجہ سے نفس واقعہ کی تکذیب کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کل کو سائنس دانوں کے لیے چاند کی تحقیق کی وسیع راہیں کھل جائیں اور علمی تحقیقات سے ثابت ہو جائے کہ چاند کا فلاں حصہ فلاں حصہ سے مربوط تھا لیکن اتنے سو سال پہلے وہ الگ ہو کر فلاں حصے سے جا ملا۔ اس طرح کے کتنے انکشافات ہیں جو ہمارے کرۂ ارض سے متعلق آج ہمارے سامنے آ رہے ہیں اور لوگ ان کو باور کر رہے ہیں تو آخر چاند سے متعلق قرآن کی اس خبر پر تعجب کی کیا وجہ ہے؟ سائنس نے اگر ابھی اس کی تصدیق نہیں کی ہے تو یہ اس کی نارسائی کی دلیل ہے۔ انتظار اور صبر کیجیے، شاید مستقبل میں وہ بھی اس کے اعتراف پر مجبور ہو جائے۔

       

      جاوید احمد غامدی وہ گھڑی قریب آ گئی (جس سے اِنھیں خبردار کیا جا رہا ہے )اور چاند شق ہو گیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی قیامت کی گھڑی جو رسول کے مکذبین کے لیے اُس عذاب سے شروع ہو جاتی ہے جو اُس کی تکذیب پر اصرار کے نتیجے میں اُن پر لازماً آتا ہے۔
      قیامت کی جس گھڑی سے خبردار کیا ہے، یہ اُس کی علامت بیان ہوئی ہے۔ سورۂ حٰم السجدہ (۴۱) کی آیت ۵۳ میں فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انذار کی تقویت اور آپ کی قوم پر اتمام حجت کے لیے اللہ تعالیٰ عنقریب انفس و آفاق میں اپنی بعض غیر معمولی نشانیاں دکھائیں گے۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اِنھی میں سے ایک نشانی چاند کے شق ہو جانے کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’اِس طرح کی نشانیوں کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ رسول نے اِن کو اپنے معجزے کے طور پر پیش کیا ہو، بلکہ اِن کا ظہور کسی اعلان و تحدی کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کفار نے بعینہٖ اُسی نشانی کا مطالبہ کیا ہو جو ظاہر ہوئی، بلکہ اُن کی طرف سے کسی مطالبے کے بغیر محض اِس لیے بھی اِن کا ظہور ہوتا ہے کہ کفار کے پیش کردہ شبہات کا اُن کو جواب مل جائے۔ کفار قیامت کو جو بہت بعید از عقل چیز خیال کرتے تھے، اُس کا ایک بہت بڑا سبب یہ بھی تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ یہ ساری کائنات ایک دن بالکل درہم برہم ہو جائے۔ پہاڑوں سے متعلق اُن کا جو سوال قرآن میں نقل ہوا ہے ، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن چیزوں کو وہ بالکل اٹل، غیر متزلزل اور غیر فانی سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شق قمر کی نشانی دکھا کر اُن کو بتایا کہ اِس کائنات کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی خواہ وہ کتنی ہی عظیم ہو، نہ خودمختار ہے، نہ غیر فانی، نہ غیرمتزلزل ، بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے۔ وہ جب چاہے گا، اِن سب کو درہم برہم کرکے رکھ دے گا۔‘‘ (تدبر قرآن ۸/ ۹۱)

       

    • امین احسن اصلاحی اور یہ کوئی سی بھی نشانی دیکھیں گے تو اس سے اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے کہ یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      پیغمبر صلعم کو تسلی: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی اور مکذبین کو ملامت ہے کہ ان لوگوں کی تکذیب کی اصل علت یہ نہیں ہے کہ ان کو کوئی نشانی نہیں دکھائی جا رہی ہے۔ نشانیاں تو قدم قدم پر موجود ہیں اور آئے دن ان کو نئی نئی نشانیاں بھی دکھائی جا رہی ہیں لیکن یہ ہٹ دھرم لوگ جزاء و سزا کو ماننا نہیں چاہتے اس وجہ سے کسی بڑی سے بڑی نشانی سے بھی سبق نہیں لیتے۔ اگر پیغمبرؐ نے ان کو شق قمر سے بھی بڑی کوئی نشانی دکھا دی تو اس کو بھی یہ جادو کا کرشمہ قرار دے کر نظرانداز کر دیں گے۔
      ’مستمرّ‘ کا مفہوم: ’سحر‘ کے ساتھ ’مستمرّ‘ کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ وہ اس نشانی کو صرف جادو ہی نہیں کہیں گے بلکہ لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے یہ بھی کہیں گے کہ جادو ہونے کے اعتبار سے بھی اس میں کوئی ایسی ندرت و جدت نہیں ہے کہ اس کو کوئی خاص اہمیت دی جائے بلکہ یہ اسی قسم کا جادو ہے جس قسم کے جادو پچھلے جادوگروں نے دکھائے اور سکھائے اور جو برابر منتقل ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ اس نشانی کی وجہ سے ان کو خدا کا نذیر ماننا تو درکنار کوئی غیر معمولی جادوگر سمجھنے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے ’مستمرّ‘ کے معنی فانی کے لیے ہیں لیکن اس معنی میں اس کا استعمال میرے علم میں نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی (مگر یہ نہ مانیں گے) اور خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ جملہ اِس بات کی صریح دلیل ہے کہ شق قمر کا یہ واقعہ مستقبل کی کوئی خبر نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے جس سے قرآن نے عذاب اور قیامت کے وقوع پر استدلال کیا ہے۔ اِس لیے کہ ’اِنْشَقَّ الْقَمَرُ‘ کے معنی اگر یہ کیے جائیں کہ چاند شق ہو جائے گا تو اِس کے بعد یہ جملہ بالکل بے جوڑ ہو جاتا ہے۔چنانچہ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً ۵ سال پہلے پیش آیا۔ قمری مہینے کی چودھویں رات تھی ۔چاند تھوڑی دیر پہلے طلوع ہوا تھا۔ یکایک وہ شق ہوا اور اُس کا ایک ٹکڑا سامنے کی پہاڑی کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا۔ ایک لحظے کے لیے لوگوں نے یہ کیفیت دیکھی اور پھر دونوں ٹکڑے باہم مل گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت منیٰ میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے لوگوں کو توجہ دلائی کہ خدا کی یہ نشانی دیکھو اور گواہ رہو۔ قریش نے اِسے جادو قرار دے کر جھٹلانے کی کوشش کی۔* قرآن نے اِسی پر تبصرہ کیا ہے کہ اِس طرح کی ہر نشانی کے بارے میں یہ منکرین یہی کہیں گے کہ جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ اِس سے وہ یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ جادو ہونے کے لحاظ سے بھی اِس میں کوئی ندرت نہیں ہے۔ یہ اُسی طرح کے کرشمے ہیں جو اِ س سے پہلے کے جادوگر دکھاتے رہے اور جو برابر منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں۔
      _____
      * بخاری، رقم ۳۶۵۶، ۴۵۸۳۔ احمد، رقم ۱۶۷۹۶۔

    • امین احسن اصلاحی اور انھوں نے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کفار کو ڈھیل دینے کی حکمت: یہ ان کی تکذیب، سبب تکذیب اور اس کے انجام کا بیان ہے کہ انھوں نے (یعنی قریش نے) خدا کے نذیر اور اس کے انذار کی تکذیب کر دی اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کے سبب سے وہ سنت الٰہی کے مطابق عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر کام ایک معین پروگرام کے مطابق ہوتا ہے۔ جب ان کی اجل معین پوری ہو جائے گی تو پکڑ لیے جائیں گے۔ یعنی ان کو جو ڈھیل مل رہی ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ پیغمبرؐ کا انذار محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کررکھا ہے تاہم وہ بالکل قریب آ گیا ہے۔
      تکذیب کی علت: ’کَذَّبُوْا‘ کے بعد ’وَاتَّبَعُوْا أَہْوَآءَ ہُمْ‘ کے الفاظ سے ان کی تکذیب کی علت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ انھوں نے رسول کے انذار کی جو تکذیب کی ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے پاس اس تکذیب کی کچھ دلیلیں ہیں یا فی الواقع کچھ شبہات ہیں جو ابھی صاف نہیں ہوئے ہیں یا ان کو کوئی ایسی نشانی نہیں دکھائی گئی ہے جو ان کو مطمئن کر دے بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشوں کے غلام ہیں۔ اگر وہ جزاء و سزا کو مان لیں تو اپنی ان خواہشوں سے انھیں دست بردار ہونا پڑتا ہے جس کا حوصلہ ان کے اندر نہیں ہے اس وجہ سے وہ مختلف قسم کی باتیں بنا رہے ہیں۔ یہ مضمون سورۂ نجم کی آیت ۲۹ کے تحت وضاحت سے گزر چکا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (چنانچہ یہی ہوا ہے) اور اِنھوں نے (اب بھی) جھٹلا دیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے۔ اور (ہم نے اُسی وقت اِن کو نہیں پکڑا، اِس لیے کہ ہمارے ہاں) ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ تکذیب کی علت بیان فرمائی ہے کہ یہ اپنی خواہشوں کے غلام ہو چکے ہیں، اِ س لیے خیال کرتے ہیں کہ جزا و سزا کو مانیں گے تو اِن خواہشوں سے دستبردار ہونا پڑے گا، لہٰذا انکار کر دیتے ہیں اور پیغمبر کو جھٹلانے کے لیے طرح طرح کی سخن سازیاں کرتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان کو ماضی کی سرگزشتیں پہنچ چکی ہیں جن میں کافی سامان عبرت موجود ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عاقل وہ ہے جو دوسروں کے انجام سے سبق حاصل کرے: یہ اسی اوپر والی بات ہی کی وضاحت ہے کہ اگر ان پر ابھی عذاب نہیں آیا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت میں کوئی تبدیلی ہو گئی ہے۔ ان کو پچھلی قوموں کی جو سرگزشتیں سنائی گئی ہیں اگر وہ غور کریں تو ان کے اندر کافی سامان عبرت موجود ہے۔ ان سرگزشتوں سے انھیں معلوم ہو جائے گا کہ جس قوم نے بھی رسول کے انذار کی تکذیب کی بالآخر وہ عذاب الٰہی کی گرفت میں آ گئی۔ تاخیر عذاب سے وہ قومیں بھی انہی کی طرح اس مغالطے میں مبتلا ہوئیں کہ پیغمبر کی دھمکی محض خالی خولی دھمکی ہے لیکن وہ بالکل سچی ثابت ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے حق میں بہتر ہے کہ تاریخ سے سبق لیں۔ اس انتظار میں نہ رہیں کہ جب سب کچھ ان کے اپنے سروں پر سے گزر جائے گا تب مانیں گے۔ اس وقت کا اعتراف نہ پہلوں کے لیے مفید ہوا ہے نہ ان کے لیے مفید ہو گا۔
      قوموں کی یہ سرگزشتیں پچھلی سورتوں میں بھی اجمالاً و تفصیلاً گزر چکی ہیں اور اس سورہ میں بھی آیت ۹ سے وہ آ رہی ہیں۔ وہاں آپ دیکھیں گے کہ ہر سرگزشت کے بعد ’فَکَیْْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ‘ کی آیت باربار آئی ہے تاکہ مخاطب پر واضح کر دیا جائے کہ رسول کے انذار کی صداقت یوں ثابت ہو کے رہتی ہے اور اس کو جھٹلانے والے یوں عذاب میں پکڑے جاتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اِن کے سامنے ماضی کی وہ سرگذشتیں آ چکی ہیں جن میں (اِن کے لیے) بہت کچھ سامان عبرت ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی نہایت دل نشین حکمت۔ لیکن تنبیہات کیا کام دے رہی ہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی ان سرگزشتوں کے اندر نہایت دل نشین حکمت موجود ہے، مگر دیکھ لو یہ تنبیہات کیا نفع دے رہی ہیں! ’ما‘ نافیہ بھی ہو سکتا ہے اور استفہامیہ بھی؛ لیکن استفہامیہ میں زیادہ زور بھی ہے اور موقع کلام سے زیادہ مناسبت بھی۔

      جاوید احمد غامدی نہایت دل نشیں حکمت۔ مگر تنبیہات (اِن سرکشوں کے معاملے میں) کیا کام دیں گی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی تو ان سے اعراض کرو اور اس دن کا انتظار کرو جس دن پکارنے والا ان کو ایک نہایت ہی نامطلوب چیز کی طرف پکارے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نبی صلعم کو تسلی آمیز ہدایت: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی آمیز ہدایت ہے کہ ایسے اندھوں کی آنکھوں کی پٹی کھولنا اور ان کو راہ دکھانا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ اب تم ان سے اعراض کرو اور اس دن کا انتظار کرو جس دن اسرافیل صور پھونکیں گے اور یہ قیامت کے عذاب کی طرف پکارے جائیں گے۔
      ’تَوَلَّ‘ یہاں ’اِنْتَظِرْ‘ کے مفہوم پر متضمن ہے۔ یہی مضمون دوسری آیت میں یوں آیا ہے:

      ’وَاسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّکَانٍ قَرِیْبٍ‘ (قٓ ۴۱)
      (اور کان لگاؤ اس دن کی پکار کے لیے جس دن پکارنے والا نہایت قریب کی جگہ سے پکارے گا)۔

      ’نکر‘ سے اشارہ ہول قیامت کی طرف ہے۔ اس کی ہولناکی کی شدت ظاہر کرنے کے لیے ابہام کا اسلوب اختیار فرمایا ہے۔ یعنی آج تو ان کو اس دن کے لیے تیاری کی جو دعوت دی جا رہی ہے اس کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں، لیکن جلد وہ وقت آ رہا ہے کہ ایک داعی اسی ہولناک چیز کی طرف پکارے گا اور سب اس کی طرف نہایت فرماں برداری و خشیت کے ساتھ بھاگیں گے۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے اِن سے رُخ پھیر لو اور اُس دن کا انتظار کرو، جس دن پکارنے والا اُس چیز کے لیے پکارے گا جو سخت ناگوار ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’فَتَوَلَّ عَنْھُمْ، یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ‘۔ جملے کی تالیف سے واضح ہے کہ ’تَوَلَّ‘ یہاں ’اِنْتَظِرْ‘ کے مفہوم پر متضمن ہے۔ ہم نے ترجمے میں اِسے کھول دیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور یہ نکلیں گے قبروں سے جس طرح منتشر ٹڈیاں نکلتی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نفخ صور کے بعد قبروں سے نکلنے کی تصویر: یعنی آج تو اللہ کا رسول ان کو اس دن کے ہول سے بچنے کے لیے تیاری کی دعوت دے رہا ہے تو یہ اس سے اکڑتے ہوئے اعراض کر رہے ہیں لیکن جب روز قیامت کا داعی پکارے گا تو یہ اس طرح قبروں سے نکلیں گے کہ جس طرح ٹڈی دَل نکلتا ہے اور ان کا حال یہ ہو گا کہ ان کی نگاہیں ذلت سے جھکی ہوئی ہوں گی اور داعی کی طرف نہایت تیزی سے بھاگ رہے ہوں گے۔
      ’خُشَّعاً‘ اور ’مُہْطِعِیْنَ‘ دونوں حال ہیں۔ ’کَأَنَّہُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ‘ تفخ صور کے بعد لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی تمثیل ہے۔ برسات میں کبھی سرشام پتنگوں کو زمین سے ابھرتے دیکھا ہو گا۔ معلوم ہوتا ہے زمین سے پتنگوں کا طوفان ابل پڑا ہے۔ یہی صورت ٹڈیوں کے ابھرنے کی بھی ہوتی ہے اور یہی شکل لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی بھی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ شانیں دکھائی ہی اس لیے ہیں کہ انسان کو قیامت کی یاددہانی زمین و آسمان کے گوشے گوشے سے برابر ہوتی رہے۔

      جاوید احمد غامدی اِن کی نگاہیں (اُس دن) جھکی ہوں گی۔ [یہ پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوئے] اِس طرح قبروں سے نکلیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی بھاگتے ہوئے پکارنے والے کی طرف۔ اس وقت کافر کہیں گے، یہ تو بڑا کٹھن دن آ گیا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نفخ صور کے بعد قبروں سے نکلنے کی تصویر: یعنی آج تو اللہ کا رسول ان کو اس دن کے ہول سے بچنے کے لیے تیاری کی دعوت دے رہا ہے تو یہ اس سے اکڑتے ہوئے اعراض کر رہے ہیں لیکن جب روز قیامت کا داعی پکارے گا تو یہ اس طرح قبروں سے نکلیں گے کہ جس طرح ٹڈی دَل نکلتا ہے اور ان کا حال یہ ہو گا کہ ان کی نگاہیں ذلت سے جھکی ہوئی ہوں گی اور داعی کی طرف نہایت تیزی سے بھاگ رہے ہوں گے۔
      ’خُشَّعاً‘ اور ’مُہْطِعِیْنَ‘ دونوں حال ہیں۔ ’کَأَنَّہُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ‘ تفخ صور کے بعد لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی تمثیل ہے۔ برسات میں کبھی سرشام پتنگوں کو زمین سے ابھرتے دیکھا ہو گا۔ معلوم ہوتا ہے زمین سے پتنگوں کا طوفان ابل پڑا ہے۔ یہی صورت ٹڈیوں کے ابھرنے کی بھی ہوتی ہے اور یہی شکل لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی بھی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ شانیں دکھائی ہی اس لیے ہیں کہ انسان کو قیامت کی یاددہانی زمین و آسمان کے گوشے گوشے سے برابر ہوتی رہے۔
      ’یَقُوْلُ الْکَافِرُوْنَ ہٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ‘۔ یعنی آج تو جب اللہ کا رسول ان لوگوں کو اس دن کے ہول سے ڈراتا ہے تو ان کو ہر چیز انہونی اور ناممکن نظر آتی ہے اور نہایت ڈھٹائی سے اس کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن جب وہ دن سامنے آ جائے گا تو نہایت حسرت و یاس کے ساتھ پکار اٹھیں گے کہ لاریب وہ کٹھن دن آ گیا جس سے نبیوں اور رسولوں نے آگاہ کیا تھا!

      جاوید احمد غامدی یہ پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوئے [اِس طرح قبروں سے نکلیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں]۔ (اُس وقت) یہ منکر کہیں گے: یہ دن تو بہت مشکل آیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ان سے پہلے قوم نوح نے بھی جھٹلایا۔ انھوں نے ہمارے بندے کی تکذیب کر دی اور کہا کہ یہ تو خبطی ہے اور وہ جھڑک دیا گیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قوم نوح کے انجام کی طرف اشارہ: ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں کہ آیت ۴ میں قوموں کی تاریخ کی طرف جو اجمالی اشارہ فرمایا ہے یہ اسی کی تفصیل ہے۔ سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے واقعہ کو لیا ہے اس لیے کہ یہاں بیان واقعات کی ترتیب تاریخی ہے۔ فرمایا کہ ان سے (یعنی قریش سے) پہلے قوم نوح بھی اللہ کے رسول کے انذار کی تکذیب کر چکی ہے۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ تنہا تمہی کو اپنی قوم کی طرف سے تکذیب سے دوچار نہیں ہونا پڑا ہے؛ ان مکذبین کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ان سے پہلے قوم نوح بھی اپنے پیغمبر کی تکذیب کر چکی ہے اور دوسری قومیں بھی جن کی تفصیل آگے آ رہی ہے اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کرتی آئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تاریخ کی ایک پرانی اور معروف حکایت ہے جو کچھ اگلے رسولوں کو پیش آیا ہے اس سے تمہیں بھی سابقہ پیش آئے گا اور تکذیب کے جس انجام سے دوسری قومیں دوچار ہوئی ہیں اسی سے تمہاری قوم بھی دوچار ہو گی اگر اس نے انہی قوموں کی تقلید کی۔
      ’فَکَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَازْدُجِرَ‘۔ ’ف‘ تفصیل کے لیے ہے۔ واقعہ کا اجمالاً حوالہ دینے کے بعد اب یہ اس کی تفصیل سنائی جا رہی ہے کہ انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا، اس کو دیوانہ اور خبطی ٹھہرایا اور اس کو جھڑک دیا گیا۔
      لفظ ’عَبْدَنَا‘ سے حضرت نوح علیہ السلام کے لیے اللہ تعالیٰ کی جس محبت خاص کا اظہار ہو رہا ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ عزت و جاہ کے سرمستوں اور عیش دنیا کے متوالوں کو اللہ کے رسولوں نے جب عذاب دنیا اور عذاب آخرت سے ڈرایا اور اس طرح ڈرایا کہ اس کے لیے اپنے رات دن ایک کر دیے تو یہ چیز ان پر بہت شاق گزری۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ آخر ان پر عذاب کیوں اور کدھر سے آ جائے گا؟ اگر وہ سزاوار عذاب ہیں تو انھیں جو دولت و عزت حاصل ہے وہ کیوں حاصل ہوئی؟ یہ عزت و شوکت تو دلیل ہے کہ وہ خدا کی نظروں میں معزز ہیں اور اگر آخرت ہوئی تو وہاں بھی اسی طرح معزز رہیں گے جس طرح یہاں ہیں۔ اس مغالطہ میں پڑ کر وہ رسول کے ہر وقت کے انذار عذاب سے اس درجہ برافروختہ ہوئے کہ اس کو انھوں نے دیوانہ اور خبطی کہنا شروع کر دیا کہ اس شخص کو عذاب اور قیامت کا مالیخولیا ہو گیا ہے۔ اٹھتے بیٹھتے اس کو ہر طرف سے عذاب ہی آتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ کہہ کر وہ اپنے دل کا غصہ بھی نکال لیتے اور اپنے عوام کو بھی اطمینان دلانے کی کوشش کرتے کہ رسول کے انذار سے وہ متاثر نہ ہوں۔ یہ کوئی رسول نہیں بلکہ ایک خطبی ہے جو ہر وقت عذاب عذاب کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔
      ’وَازْدُجِرَ‘ سے اشارہ قوم نوح کی ان دھمکیوں کی طرف ہے جو حضرت نوحؑ کو سنگسار کر دینے کی دی گئیں۔ مثلاً سورۂ شعراء میں آیا ہے:

      ’قَالُوا لَئِنۡ لَّمْ تَنتَہِ یَا نُوْحُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَ‘ (116)
      (انھوں نے دھمکایا کہ اے نوح، اگر تم اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے تو سنگسار کیے ہوئے لوگوں میں سے ہو کے رہو گے!)

       

      جاوید احمد غامدی اِن سے پہلے نوح کی قوم نے بھی (اِسی طرح) جھٹلایا۔ سوہمارے بندے کواُنھوں نے جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور وہ بری طرح جھڑکا گیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے آگے اُسی استدلال کی تفصیل ہے جو آیت ۴ میں بالاجمال بیان ہوا ہے۔ یہ رسولوں کی بعثت کے بعد ظہور دینونت کے واقعات ہیں جو تاریخی ترتیب سے بیان کیے گئے ہیں۔
      اصل میں لفظ ’عَبْدَنَا‘ آیا ہے۔نوح علیہ السلام کے لیے اِس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس التفات و محبت کا اظہار ہو رہا ہے، وہ محتاج بیان نہیں ہے۔
      مدعا یہ تھا کہ اِس شخص کو عذاب اور قیامت کا خبط ہو گیا ہے۔ اب کوئی اور چیز اِسے نظر نہیں آتی، اٹھتے بیٹھتے عذاب ہی آتا دکھائی دیتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تو اس نے اپنے رب سے فریاد کی کہ میں مغلوب ہوں، اب تو ان سے انتقام لے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جب قوم کی عداوت اس حد کو پہنچ گئی کہ حضرت نوح علیہ السلام کو سنگسار کر دینے کی دھمکی دے دی گئی تب انہوں نے اپنے رب سے فریاد کی کہ اے رب! میرے اندر جتنا زور تھا وہ میں نے ان کو رام کرنے پر صرف کر دیا لیکن میں اپنی کوشش میں ناکام رہا۔ اب میری طاقت جواب دے چکی ہے اس وجہ سے تجھ سے فریاد کی ہے کہ تو ان سرکشوں سے نمٹ۔
      ’اِنۡتِصَار‘ کے معنی مدافعت کرنے اور انتقام لینے کے ہیں۔ یعنی میری طرف سے مدافعت کر اور ان کی سرکشی کا انتقام لے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعا کی پوری تفصیل آگے سورۂ نوح میں آئے گی۔

      جاوید احمد غامدی آخر اُس نے اپنے پروردگار سے فریاد کی کہ میں مغلوب ہو چکا، اب تو اِن سے بدلہ لے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پس ہم نے آسمان کے دروازے موسلا دھار بارش سے کھول دیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس سائیکلونی طوفان کی تصویر ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کی دعا کے بعد ان کی قوم پر آیا۔ اس کی تفصیل سورۂ ذاریات کی تفسیر میں ہم پیش کر چکے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے ایک موسلا دھار بارش کے ساتھ ان پر آسمان سے تمام دروازے کھول دیے اور زمین کو چشمے ہی چشمے کر دیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی طوفانی بارش جس کے لیے آسمان کے تمام گیٹ کھول دیے گئے ہوں تھوڑی ہی دیر میں زمین کو دریاؤں، ندیوں اور نالوں کی شکل میں تبدیل کر دے گی۔

      جاوید احمد غامدی تب ہم نے موسلادھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور زمین کو چشمے ہی چشمے کر دیا۔ پس پانی جا ٹکا اس نشان پر جو ٹھہرا لیا گیا تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس سائیکلونی طوفان کی تصویر ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کی دعا کے بعد ان کی قوم پر آیا۔ اس کی تفصیل سورۂ ذاریات کی تفسیر میں ہم پیش کر چکے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے ایک موسلا دھار بارش کے ساتھ ان پر آسمان سے تمام دروازے کھول دیے اور زمین کو چشمے ہی چشمے کر دیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی طوفانی بارش جس کے لیے آسمان کے تمام گیٹ کھول دیے گئے ہوں تھوڑی ہی دیر میں زمین کو دریاؤں، ندیوں اور نالوں کی شکل میں تبدیل کر دے گی۔
      ’فَالْتَقَی الْمَآءُ عَلٰٓی أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نشان پانی کے بلند ہونے کے لیے ٹھہرا لیا گیا تھا اس نقطہ پر زمین اور آسمان کا پانی باہم جا ملا اور اس نے پوری قوم نوح کو اس طرح چھا لیا کہ کسی کے لیے بھی اس سے بچنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔

      جاوید احمد غامدی اور زمین کو (اِس طرح) پھاڑ ا کہ وہ چشمے ہی چشمے ہو گئی۔ پھر (زمین و آسمان کا) پانی اُس نشان پر باہم مل گیا جو اُس کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس طوفان کی تصویر ہے جو نوح علیہ السلام کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اُن کی قوم پر آیا۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے اس کو ایک تختوں اور میخوں والی پر اٹھا لیا جو چلتی رہی ہماری حفاظت میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اصل محافظ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے: ’ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ‘ سے مراد ظاہر ہے کہ وہ کشتی ہے جو حضرت نوح علیہ السلام نے، اللہ تعالیٰ کی خاص ہدایت کے تحت، بنائی۔ اس کا ذکر اس کے اجزائے تعمیر کی تفصیل کے ساتھ یہاں، میرے نزدیک، اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت، عنایت، رحمت اور شان کے اظہار کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طوفان نے پوری قوم کی قوم کا بیڑا غرق کر دیا، جس سے کوئی متنفس بھی نہ بچ سکا، اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے جن بندوں کو بچانا چاہا ان کو میخوں سے جڑے ہوئے لکڑی کے تختوں پر بچا لیا۔ یعنی اصل چیز اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت ہے، وہ شامل حال ہو تو لکڑی کے چند تختے طوفان نوح سے بچا لیتے ہیں اور وہ شامل حال نہ ہو تو بڑے سے بڑے جنگی جہاز چشم زدن میں بلبلے کی طرح بیٹھ جاتے ہیں اور مضبوط سے مضبوط بند تنکوں کی طرح سیلاب کے زور میں بہ جاتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی پر اٹھا لیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      نوح علیہ السلام کی کشتی کے لیے اِس تعبیر میں بڑی بلاغت ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’... اِس کا ذکر اِس کے اجزاے تعمیر کی تفصیل کے ساتھ یہاں، میرے نزدیک، اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت، عنایت، رحمت اور شان کے اظہار کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طوفان نے پوری قوم کی قوم کا بیڑا غرق کر دیا، جس سے کوئی متنفس بھی نہ بچ سکا، اُس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے جن بندوں کو بچانا چاہا، اُن کو میخوں سے جڑے ہوئے لکڑی کے تختوں پر بچا لیا۔ یعنی اصل چیز اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت ہے، وہ شامل حال ہو تو لکڑی کے چند تختے طوفان نوح سے بچا لیتے ہیں اور وہ شامل حال نہ ہو تو بڑے سے بڑے جنگی جہاز چشم زدن میں بلبلے کی طرح بیٹھ جاتے ہیں اور مضبوط سے مضبوط بند تنکوں کی طرح سیلاب کے زور میں بہ جاتے ہیں۔‘‘ (تدبر قرآن۸/ ۹۸)

       

    • امین احسن اصلاحی یہ ہم نے بدلہ لینے کے لیے کیا اس کا جس کی ناقدری کی گئی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی یہ کشتی چونکہ خاص ہماری حفاظت اور ہماری نگرانی میں تھی اس وجہ سے وہ بے خوف و خطر چلتی رہی، طوفان کے تھپیڑے اس کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ کشتی اکیلے حضرت نوح علیہ السلام کے پاس ہی تو نہیں تھی، دوسروں کے پاس بھی کشتیاں رہی ہوں گی۔ لیکن ان کی کشتیاں ان کے کچھ کام نہ آ سکیں۔ اس لیے کہ ان کو خدا کی حفاظت حاصل نہیں تھی۔
      ’جَزَآءً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ شان اپنی اس لیے دکھائی کہ اپنے اس بندے کی داد رسی فرمائے جس کی ناشکری اور ناقدری کی گئی، یہاں تک کہ اس کو مضطر ہو کر ’اَنِّیْ مَغْلُوۡبٌ فَانتَصِرْ‘ (۱۰) کی فریاد کرنی پڑی۔

      جاوید احمد غامدی جو ہماری حفاظت میں چلتی رہی۔ یہ ہم نے اِس لیے کیا کہ ہم اُس کی خاطر بدلہ لیں جس کی ناقدری کی گئی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے اس سرگزشت کو ایک داستان عبرت بنا کر چھوڑا (عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے) تو ہے کوئی عبرت حاصل کرنے والا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نشانیاں بہت ہیں لیکن عبرت حاصل کرنے والے تھوڑے ہیں: ضمیر مفعول کا مرجع وہ سرزمین بھی ہو سکتی ہے جس کا ذکر اوپر ’وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُیُوۡنًا‘ (۱۲) کے الفاظ سے ہو چکا ہے اور قوم نوح کی یہ سرگزشت بھی ہو سکتی ہے جس کی تفصیل تورات کے صحیفوں میں بھی نقل ہوئی ہے اور جس کو ہر دور میں تواترعام کی حیثیت بھی حاصل رہی ہے۔ عربی زبان میں ضمیروں کا اس طرح استعمال ایک معروف چیز ہے۔ اس کی متعدد مثالیں اس کتاب میں ہم پیش کر چکے ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔ بعض لوگوں نے اس سے کشتئ نوح کے ڈھانچے کو مراد لیا ہے جس کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ امت کے بعض اگلوں نے کوہ جودی کے کسی حصہ میں اس کو دیکھا تھا۔ لیکن اس روایت کی ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سورۂ حاقہ کی تفسیر میں ان شاء اللہ ہم اس پر مزید روشنی ڈالیں گے۔
      ’فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ‘۔ یعنی نشانیاں اور عبرت انگیز واقعات تو بہت ہیں جو صفحۂ ارض پر بھی ثبت ہیں اور تاریخ کے اوراق میں بھی محفوظ ہیں لیکن عبرت حاصل کرنے والے دل کہاں ہیں!

      جاوید احمد غامدی اور اِس سرگذشت کو ہم نے (عبرت کی) ایک نشانی بنا کر چھوڑ دیا۔ پھر ہے کوئی عبرت حاصل کرنے والا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی دیکھ لو کس طرح سچا ثابت ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’نُذُرِ‘ اصل میں ’نُذُرِیْ‘ ہے۔ ’ی‘ قافیہ کی رعایت سے گر گئی، کسرہ اس کی نشانی کے طور پر باقی رہ گیا ہے۔ ’نُذُر‘ یہاں ’انذار‘ سے اسم ہے اور اس کے معنی ڈراوے، تنبیہ اور آگاہی کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس سننے والے کان اور عبرت پکڑنے والا دل ہو تو وہ اس سرگزشت میں دیکھ سکتا ہے کہ اللہ کا عذاب کیسا بے پناہ ہوتا ہے اور اس کی دھمکی کس طرح پوری ہوتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی دیکھ لو، کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھی میری تنبیہ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’نُذُرِ‘ آیا ہے۔ یہ انذار سے اسم ہے، یعنی ڈراوا، تنبیہ، آگاہی اور تہدید و وعید۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے قرآن کو تذکیر کے لیے نہایت موزوں بنایا ہے تو ہے کوئی یاددہانی حاصل کرنے والا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ آیت ہر سرگزشت کے بعد، ٹیپ کے بند کے طور پر، بار بار آئے گی۔ اس کا مطلب اچھی طرح ذہن نشین کر لیجیے تاکہ ہر جگہ وضاحت کی ضرورت پیش نہ آئے۔
      ’تیسیر‘ اور ’ذکر‘ کا مفہوم: اس آیت کا مطلب عام طور پر لوگوں نے یہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو حفظ کرنے یا نصیحت حاصل کرنے کے لیے نہایت آسان کتاب بنایا ہے۔ یہ بات اگرچہ بجائے خود صحیح ہے کہ قرآن حفظ کرنے کے لیے بھی آسان ہے اور نصیحت حاصل کرنے کے لیے بھی سہل ہے لیکن آیت کا مفہوم اس سے بہت وسیع ہے۔
      لفظ ’تیسیر‘ عربی میں کسی چیز کو کیل کانٹے سے درست کرنے، پیش نظر مقصد کے لیے اس کو اچھی طرح موزوں بنانے اور جملہ لوازم سے اس کو آراستہ و پیراستہ کرنے کے معنوں میں آتا ہے۔ مثلاً ’یَسّر الْفَرْسَ للرکوب‘ کے معنی ہوں گے گھوڑے کو تربیت دے کر، اس کو کھلا پلا کر، زین، لگام، رکاب سے آراستہ کر کے سواری کے لیے بالکل ٹھیک ٹھاک کر دیا۔ یہیں سے یہ لفظ کسی شخص کو کسی مہم کے لیے تیار اور جملہ لوازم سے مسلح کر کے اس کو اس کا اہل بنا دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ایک جاہلی شاعر کہتا ہے:

      ونعین فاعلنا اذا مانا بہ
      حتّٰی تیسّرہ لفعل السید

      (اور جب ہمارے سربراہ کار کو کوئی مہم پیش آتی ہے تو ہم اس کی مدد کرتے ہیں یہاں تک کہ سرداروں کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی راہ اس کے لیے ہموار کر دیتے ہیں)۔

      لفظ ’ذکر‘ بھی یہاں وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی تعلیم، تذکیر، آگاہی، تنبیہ، نصیحت، موعظت، حصول عبرت اور اتمام حجت سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ ان تمام مفہوموں میں یہ لفظ قرآن میں بھی آیا ہے۔ یہ حقیقت بھی یہاں پیش نظر رہے کہ قرآن مجید ہمارے اوپر کوئی چیز خارج سے نہیں لادتا بلکہ ہماری ہی فطرت اور ہماری ہی عقل کے اندر اللہ تعالیٰ نے علم و معرفت کے جو خزانے ودیعت فرمائے ہیں لیکن ہم ان سے غافل ہیں، انہی کو ہمارے سامنے اجاگر کرتا اور اس سے بہرہ مند ہونے کی دعوت دیتا ہے۔
      ان دونوں لفظوں کا صحیح مفہوم سمجھ لینے کے بعد اب آیت کے موقع و محل اور اس کے مفہوم پر غور فرمائیے۔ اوپر یہ بات ارشاد ہوئی ہے کہ پیغمبر جس عذاب سے تمہیں آگاہ کر رہے ہیں وہ ایک امرشدنی ہے۔ آفاق و انفس سب اس کے گواہ ہیں۔ رسولوں اور ان کی قوموں کی تاریخ اس کی شاہد ہے لیکن تم مچلے ہوئے ہو کہ جب اس عذاب کی نشانی دیکھ لو گے تب مانو گے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لیے قرآن اتارا ہے جو ہر پہلو سے اس مقصد کے لیے جملہ لوازم سے آراستہ و مسلح ہے تو آخر اس عظیم نعمت سے کیوں فائدہ نہیں اٹھاتے، عذاب کے تازیانے ہی کے لیے کیوں بے قرار ہو!!

       

      جاوید احمد غامدی ہم نے اِس قرآن کو یاددہانی کے لیے نہایت موزوں بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی یاددہانی حاصل کرنے والا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’یَسَّرْنَا‘ آیا ہے۔ اِس کے معنی محض آسان بنانے کے نہیں ہیں، بلکہ کسی چیز کو پیش نظر مقصد کے لیے موزوں بنانے اور تمام لوازم و متعلقات سے آراستہ کرکے پوری طرح تیار کر دینے کے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ تمھاری تعلیم و تذکیر کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن اتارا ہے جو تمھاری فصیح و بلیغ ٹکسالی زبان میں ہے؛ اسے تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا جا رہا ہے تاکہ پوری جمعیت خاطر کے ساتھ اِس سے استفادہ کر سکو؛ اِس کی سورتیں محکم بھی ہیں اورمفصل بھی تاکہ ایجاز کے طالب اِنھیں آسانی کے ساتھ حرزجاں بنا لیں اور وضاحت کے خوگر ہر چیز کو تفصیل کے ساتھ سمجھ لیں؛ ایک ہی مضمون کو اتنی مختلف صورتوں اور گونا گوں پیرایوں میں بیان کیا گیا ہے کہ کسی معاملے میں کوئی ابہام باقی نہ رہے؛ سورتیں اِس طرح ترتیب دی گئی ہیں کہ یہ ترتیب بجاے خود فہم مدعا کی کلید بن گئی ہے۔لہٰذا خدا کی اِس عنایت اور اِس نعمت عظمیٰ سے کیوں فائدہ نہیں اٹھاتے؟ تم کیوں یہ چاہتے ہو کہ اِس کے بجاے عذاب کا تازیانہ تمھاری پیٹھ پر برسا دیا جائے؟

    • امین احسن اصلاحی عاد نے بھی تکذیب کی تو دیکھو کس طرح واقع ہوا میرا عذاب اور میرا ڈراوا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عاد کی سرگزشت کا حوالہ: ’کَذَّبَتْ عَادٌ‘ کے بعد ’بالنذرِ‘ بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ آگے کے ذکر میں اس کی وضاحت ہو گئی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے: ’کَذَّبَتْ ثَمُوۡدُ بِالنُّذُرِ‘۔ ’نذر‘ ’نذیر‘ کی جمع بھی ہے اور ’انذار‘ سے اسم یا حاصل مصدر بھی۔ اگر ’نذیر‘ کی جمع مانیے تو اس کے معنی ہوں گے ڈرانے والے رسول، آگاہی دینے والی نشانیاں، بیدار کرنے والی تنبیہات، اور اگر اس کو حاصل مصدر کے مفہوم میں لیجیے تو اس کے معنی ہوں گے ڈراوا، تنبیہ، آگاہی اور تہدید و وعید۔ قرآن میں یہ لفظ ان تمام معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا ترجمہ کرتے وقت موقع و محل کی مناسبت کا لحاظ ضروری ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اِسی طرح)عاد نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھی میری تنبیہ! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’نُذُرِ‘ آیا ہے۔یہ انذار سے اسم ہے، یعنی ڈراوا، تنبیہ، آگاہی اور تہدید و وعید۔

    • امین احسن اصلاحی ہم نے ان پر مسلط کر دی باد تند ایک مسلسل نحوست کے وقت میں (جو لوگوں کو اکھاڑ پھینکتی گویا وہ اکھڑے ہوئے کھجوروں کے تنے ہوں)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس عذاب کی وضاحت ہے جو قوم عاد پر اللہ تعالیٰ نے مسلط کیا۔ فرمایا کہ ہم نے ان پر شمال کی بادتند مسلط کر دی۔ ’صرصر‘ شمال کی اس بادتند کو کہتے ہیں جو سردیوں میں چلتی ہے، جس سے ہر چیز پر ایک عام نحوست و یبوست چھا جاتی ہے۔ یہ زمانہ عرب میں قحط کا زمانہ ہوتا اس وجہ سے اہل عرب اس کو ’یوم نحس‘ یا ’ایام نحسات‘ کہتے۔ آیت میں ’یوم نحس‘ سے کوئی معین دن مراد نہیں ہے بلکہ وقت اور زمانہ مراد ہے۔ عربی میں یہ اس معنی میں معروف ہے۔ چنانچہ دوسرے مقام میں یہی مضمون ’ایام نحسات‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے اور بعض مقامات میں یہ تصریح بھی ہے کہ یہ بادتند ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلط رہی۔ لفظ ’مُسْتَمِرّ‘ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ یہ ہوا وقتی جھونکے کی طرح نہیں چلی کہ لوگ اس کو سہ لے جاتے بلکہ سات آٹھ دن کے لیے وہ ان پر عذاب الٰہی بن کر مسلط رہی۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن اُن پر بادتند مسلط کر دی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      باد تند کے لیے اصل میں ’صَرْصَر‘ کا لفظ آیا ہے۔ یہ شمال کی اُس طوفانی ہوا کو کہتے ہیں جو سردیوں میں چلتی ہے۔ پیہم نحوست کے دن سے مراد کوئی معین دن نہیں ہے، بلکہ عربی زبان کے عام اسلوب کے مطابق وقت اور زمانہ ہے۔ چنانچہ دوسری جگہ یہی مضمون ’اَیَّامٌ نَّحِسَات‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے اور یہ تصریح بھی آئی ہے کہ یہ عذاب اُن پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلط رہا۔ لفظ ’مَسْتَمِرّ‘ سے اِسی حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے۔

    • امین احسن اصلاحی (ہم نے ان پر مسلط کر دی باد تند ایک مسلسل نحوست کے وقت میں) جو لوگوں کو اکھاڑ پھینکتی گویا وہ اکھڑے ہوئے کھجوروں کے تنے ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ہوا کے زور اور اس کی قہر مانیت کا یہ حال تھا کہ وہ لوگوں کو اس طرح اکھاڑ پھینکتی گویا وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں۔ سورۂ حاقہ میں ’منقعر‘ کی جگہ لفظ ’خاویۃ‘ آیا ہے جس کے معنی کھوکھلے کے ہیں۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں یہ اشارہ موجود ہے کہ جب بادتند چلنی شروع ہوئی تو جو جہاں تھا وہیں زمین سے چمٹ کر رہ گیا لیکن ہوا کا زور بڑھتا ہی گیا اس وجہ سے کسی کو اٹھنا نصیب نہ ہوا۔ اسی حال میں سب فنا ہو گئے اور ان کی لاشیں ہوا کے زور میں اس طرح لڑھکتی پھرتی تھیں جس طرح کھجوروں کے کھوکھلے تنے لڑھکتے پھرتے ہیں۔
      ان کے عذاب کی پوری تفصیل سورۂ ذاریات کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی جو لوگوں کو اِس طرح اکھاڑ پھینکتی تھی جیسے وہ اکھڑے ہوئے کھجوروں کے تنے ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List