Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 60 آیات ) Adh-Dhariyat Adh-Dhariyat
Go
  • الذاریات (The Wind That Scatter, The Winnowing Winds)

    60 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سابق سورہ ۔۔۔ قٓ ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ سورۂ قٓ کی تفسیر میں آپ نے دیکھا کہ ان لوگوں کو جواب دیا گیا ہے جو قرآن کے اس دعوے کو بعید از امکان قرار دیتے تھے کہ لوگ مرنے کے بعد ازسرنو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ اس سورہ میں ایک قدم اور آگے بڑھ کر قرآن کے انذار عذاب کو بھی ثابت کیا گیا ہے اور جزا و سزا کو بھی۔ سورہ کا عمود اس کی تمہید ہی میں ان الفاظ سے واضح فرما دیا گیا ہے: ’إِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ وَإِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ‘ (بے شک جو وعید تم کو سنائی جا رہی ہے وہ بالکل سچی ہے اور جزا و سزا لازماً واقع ہو کے رہے گی)۔

    خطاب قریش کے مکذبین ہی سے ہے اور استدلال کی بنیاد تمام تر آفاق و انفس کے دلائل پر ہے۔ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورہ میں بھی اسی طرح تسلی دی گئی ہے جس طرح سابق سورہ میں دی گئی ہے۔

  • الذاریات (The Wind That Scatter, The Winnowing Winds)

    60 آیات | مکی
    ق - الذاریات

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات قیامت اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ دوسری سورہ میں اثبات قیامت کے تاریخی دلائل، البتہ پہلی سورہ کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ اِس کے ساتھ قرآن کے انذار عذاب کو بھی ثابت کیا گیا ہے۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ ام
    القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا خاتمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کے مضمون پر ہوا ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی شاہد ہیں تند ہوائیں جو اڑاتی ہیں غبار۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’و‘ قسم کے لیے ہے اور قسم شہادت کے لیے: ’وَالذَّارِیَاتِ‘ میں ’و‘ قسم کے لیے ہے اور اس بات کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں اس طرح اشیاء کی جو قسمیں کھائی گئی ہیں اس کا مقصود ان اشیاء کی تعظیم نہیں، بلکہ ان کو اس دعوے پر شہادت کے لیے پیش کرنا ہے جو قسم کے بعد مذکور ہوتا ہے یا سیاق کلام سے سمجھا جاتا ہے؛ چنانچہ یہ قسم بھی شہادت ہی کے لیے ہے۔ اس کا ترجمہ اگر شہادت کے لفظ سے کیا جائے تو ہمارا خیال ہے کہ یہ زیادہ معنی خیز ہو گا۔
      ’ذَارِیَاتٌ‘: ’ذَارِیَاتٌ‘۔ غبار اڑانے والی ہواؤں کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ہواؤں کی صفت کے طور پر آتا ہے۔ لیکن یہ اپنے موصوف کے لیے اس طرح معروف ہو چکا ہے کہ اس کے قائم مقام کے طور پر استعمال ہونے لگا ہے۔ ’ذَارِیَاتٌ‘ کے بعد لفظ ’ذَرْوًا‘ کے اضافے سے معنی میں اسی طرح کا اضافہ ہو گیا ہے جس طرح ’ضَرَبَ ضَرْبًا‘ کے اندر تاکید فعل کا مفہوم پیدا ہو گیا ہے۔ اس طرح کی تاکیدات کا مفہوم اردو ترجمے میں منتقل کرنا بعض اوقات مشکل ہوتا ہے۔ یہاں اگر ہواؤں کے ساتھ ’تند‘ کا اضافہ کر دیا جائے تو ہمارا خیال ہے کہ یہ مفہوم ادا ہو جائے گا۔

      جاوید احمد غامدی تند ہوائیں گواہی دیتی ہیں جو غبار اڑاتی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَالذّٰرِیٰتِ ذَرْوًا‘۔ اِن میں ’ذَرْوًا‘ تاکید فعل کے لیے ہے۔ لفظ ’تند‘ سے ہم نے اِسی مفہوم کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ عربی زبان کا یہ خاص اسلوب ہے جسے اردو ترجمے میں منتقل کرنا آسان نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پھر اٹھا لیتی ہیں بوجھ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ف‘ کے ساتھ عطف کے فوائد: ’فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا‘۔ جب صفات کا عطف ’ف‘ کے ساتھ ہو تو یہ دو باتوں پر دلیل ہوتا ہے۔ ایک اس بات پر کہ ان کے اندر ترتیب ہے، دوسری اس بات پر کہ یہ تمام صفتیں ایک ہی موصوف کی ہیں۔ عربیت کے اس قاعدے کی رو سے یہاں جو تین صفتیں ’ف‘ کے ساتھ بیان ہوئی ہیں وہ لازماً ہواؤں ہی کی ہوں گی۔ جن لوگوں نے ان کو الگ الگ چیزوں کی صفت مانا ہے ان کی رائے عربیت کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے نظائر کے بھی۔
      سورۂ عادیات میں ہے:

      وَالْعَادِیَاتِ ضَبْحاً ۵ فَالْمُورِیَاتِ قَدْحاً ۵ فَالْمُغِیْرَاتِ صُبْحاً ۵ فَأَثَرْنَ بِہِ نَقْعاً ۵ فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا (۱-۵)
      ’’گواہی دیتے ہیں وہ جو ہانپتے دوڑتے ہیں، پھر ٹھوکروں سے چنگاریاں نکالتے ہیں، پھر صبح کو دھاوا کرتے ہیں، پھر غبار اٹھاتے ہیں، پھر غول کے اندر گھس جاتے ہیں۔‘‘

      ظاہر ہے کہ یہ تمام صفتیں الگ الگ چیزوں کی نہیں ہیں، بلکہ گھوڑوں ہی کی ہیں اور غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان کے بیان میں ترتیب بھی ملحوظ ہے۔
      کلام عرب میں بھی اس اسلوب کی مثالیں بہت ہیں۔ ہم صرف ابن زیابہ کا ایک مشہور شعر نقل کرتے ہیں:

      یا لھف زیابۃ للحارث
      الصابح، فالغانم، فالاٰئب
      (زیابہ کی طرف سے افسوس ہے حارث پر، جس نے غارت گری کی، لوٹا اور چل دیا)

      ’وِقْرٌ‘: ’وِقْرٌ‘ کے معنی بوجھ اور بار کے ہیں۔ یوں تو اس سے ہر وہ بوجھ اور بار مراد ہو سکتا ہے جس کو ہوائیں اٹھاتی ہیں، مثلاً غبار اور کنکر وغیرہ لیکن اس کا معروف استعمال بادلوں کے لیے ہے۔ مثلاً

      وَہُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیَاحَ بُشْراً بَیْْنَ یَدَیْْ رَحْمَتِہِ حَتَّی إِذَا أَقَلَّتْ سَحَاباً ثِقَالاً سُقْنَاہُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَأَنزَلْنَا بِہِ الْمَآءَ (الاعراف ۵۷)
      ’’اور وہی ہے جو بھیجتا ہے ہواؤں کو خوش خبری بنا کر اپنے باران رحمت سے پہلے۔ یہاں تک کہ جب وہ بوجھل بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں ہم ان کو ہانکتے ہیں کسی مردہ زمین کی طرف اور وہاں بارش برسا دیتے ہیں۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی پھر (پانی سے لدے ہوئے بادلوں کا) بوجھ اٹھاتی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ اور اِس کے بعد کی دونوں صفتیں بھی ہواؤں کی ہیں، اِس لیے کہ ’ف‘ سے عطف ہوئی ہیں جو یہاں ترتیب پر دلالت کر رہا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پھر چلنے لگتی ہیں آہستہ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’جاریات‘ کا مفہوم اور ایک غلط فہمی کا ازالہ: ’فَالْجَارِیَاتِ یُسْرًا‘۔ یہ صفت بھی ہواؤں ہی کی ہے۔ جن لوگوں نے اس سے کشتیاں مراد لی ہیں ان کی رائے اس قاعدے کے خلاف ہے جس کا حوالہ ہم نے اوپر دیا ہے۔ ’یُسْرٌ‘ کے معنی آہستہ اور نرم کے ہیں۔ عام قاعدہ یہ ہے کہ پہلے تند اور غبار انگیز ہوائیں چلتی ہیں جو مختلف سمتوں سے بادلوں کو ہانک ہانک کر لاتی اور جس علاقہ کو سیراب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے، اس پر ان کو تہ بہ تہ جما دیتی ہیں۔ پھر ہوا کی رفتار نرم ہو جاتی ہے اور مینہ برسنا شروع ہو جاتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی پھر نرمی کے ساتھ چلتی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ برسنے سے پہلے ہواؤں کی کیفیت بیان ہوئی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...عام قاعدہ یہ ہے کہ پہلے تند اور غبار انگیز ہوائیں چلتی ہیں جو مختلف سمتوں سے بادلوں کو ہانک ہانک کر لاتی اور جس علاقے کو سیراب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے، اُس پر اُن کو تہ بہ تہ جما دیتی ہیں۔ پھر ہوا کی رفتار نرم ہو جاتی ہے اور مینہ برسنا شروع ہو جاتا ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۷/ ۵۷۹)

       

    • امین احسن اصلاحی پھر الگ الگ کرتی ہیں معاملہ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’تقسیم امر‘ کا مفہوم: ’فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْراً‘۔ ’قَسِّمَ الْاَمْرَ‘ کے معنی ہوں گے کہ جس کے لیے جو بات طے تھی یا جو امر مقدر تھا وہ اس کو پہنچا دیا۔ یعنی یہ ہوائیں بادلوں کو لاد کر لانے کے بعد اپنے رب کے حکم کے مطابق تقسیم امر کرتی ہیں۔ یعنی جس علاقہ کے لیے جتنا پانی برسانے کا حکم ہوتا اتنا ہی برسا دیتی ہیں۔ بعض کو جل تھل کر دیتی ہیں، بعض کو نیم تشنہ اور بعض کو خشک چھوڑ جاتی ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ ان کو حکم دے دیتا ہے تو بعض علاقوں پر وہ طوفان و سیلاب بن کر نازل ہوتی ہیں اور پورے علاقے کا علاقہ ان کی زد میں آ کر تباہ ہو جاتا ہے۔ ہواؤں کے تصرفات اور ان کے فرق و امتیاز کی نیرنگیاں نہایت حیرت انگیز ہیں۔ ایک قوم کے ساتھ ان کا معاملہ کچھ ہوتا ہے، دوسری قوم کے ساتھ کچھ۔ کسی قوم کے لیے یہ ابر رحمت کی بشارت بن کر ظاہر ہوتی ہیں۔ کسی قوم کے لیے طوفان عذاب بن کر۔ آگے، ان شاء اللہ، اس کی تفصیل آئے گی۔

      جاوید احمد غامدی پھر الگ الگ معاملہ کرتی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جہاں برسنا ہے، برستی ہیں اور جس علاقے کو نیم تشنہ اور خشک چھوڑنا ہوتا ہے، چھوڑ دیتی ہیں۔ اِسی طرح کسی قوم کے لیے ابر رحمت کی بشارت بنتی ہیں اور کسی کے لیے عذاب کا طوفان بلاخیز، جس کی زد میں جو آتا ہے، تباہ ہو جاتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کہ جس عذاب کی تم کو وعید سنائی جا رہی ہے وہ سچ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قسم کا مقسم علیہ: یہ اوپر کی قسم کا مقسم علیہ ہے۔ یعنی ہواؤں کے یہ عجائب تصرفات، جن کا تم برابر مشاہدہ کرتے رہتے ہو، اس بات پر شاہد ہیں کہ جس چیز کی تم کو وعید سنائی جا رہی ہے وہ بالکل سچ ہے اور جزا و سزا لازماً واقع ہو کے رہے گی۔
      ’توعدون‘ کا مفہوم: ’اِنَّمَا تُوۡعَدُوْنَ‘۔ استاذ امام فراہیؒ کے نزدیک ’تُوۡعَدُوْنَ‘ ’وعد‘ سے ہے جس کے تحت وہ تمام چیزیں داخل ہیں جن کا نبیوں کی زبانی وعدہ کیا گیا ہے، یعنی حشر نشر، جزا سزا اور رحمت و نقمت وغیرہ۔ وہ ’إِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ‘ کو اسی پر عطف خاص علی العام کی حیثیت دیتے ہیں؛ لیکن میرا رجحان اس طرف ہے کہ ’تُوۡعَدُوْنَ‘ ’وعید‘ سے ہے اور یہاں اس سے مراد وہ عذاب ہے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً اس کے مکذبین پر نازل ہوتا ہے۔ گویا ہواؤں کے عجائب تصرفات کی قسم یہاں میرے نزدیک دو چیزوں پر کھائی گئی ہے۔ ایک اس بات پر کہ قریش کو جس عذاب کی بصورت تکذیب دھمکی دی جا رہی ہے اور جس کو وہ محض ایک دھونس گمان کر رہے ہیں وہ دھونس نہیں ہے بلکہ بالکل سچی دھمکی ہے اور اس طرح وہ جزا و سزا بھی ایک امر شدنی ہے جس کو وہ بہت بعید از امکان سمجھ رہے ہیں۔
      میرے اس رجحان کے حق میں کئی باتیں جاتی ہیں، لیکن ان کی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف تین باتوں کی طرف اشارہ کافی ہے۔
      ایک یہ کہ اس طرح مقسم علیہ کے دونوں اجزاء کا محل بے تکلف الگ الگ معین ہو جاتا ہے۔
      دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا۔ ایک اس عذاب سے جو اس دنیا میں ان پر نازل ہوا اگر وہ اپنی تکذیب پر اڑی رہ گئیں، دوسرے اس عذاب سے جس سے لازماً ان کو آخرت میں سابقہ پیش آئے گا اگر ان کا خاتمہ کفر ہی پر ہوا۔ ان دونوں عذابوں کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے اور ہم اس کی وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ یہ حقیقت مقتضی ہے کہ یہاں ان دونوں عذابوں کا ذکر ہو جب کہ قسم ان دونوں پر شاہد ہے۔ اس کی وضاحت آگے آئے گی۔
      تیسری یہ کہ آگے رسولوں کی تکذیب کرنے والی بعض قوموں کا حوالہ قرآن نے اسی وعید کی تصدیق کے طور پر دیا ہے۔ وہاں آپ دیکھیں گے کہ ان کی تباہی میں ہواؤں کے تصرفات کو قرآن نے خاص طور پر نمایاں فرمایا ہے۔
      زبان کا ایک نکتہ: یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ عذاب دنیا کی وعید کا ذکر تو فعل سے کیا ہے اور آخرت کی جزا و سزا کا ذکر اسم ’دین‘ سے کیا ہے۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ اس دنیا میں قوموں پر جو عذاب آتا ہے وہ ایک امر حادث اور مشروط بشرائط و حالات ہوتا ہے۔ لیکن جزا و سزا کا قانون اس دنیا کی خلقت کی غایت اور اس کا لازمی نتیجہ ہے اس وجہ سے پہلے کو فعل سے تعبیر فرمایا اور دوسرے کو اسم سے۔

      جاوید احمد غامدی کہ جس عذاب کی وعید تمھیں سنائی جا رہی ہے، وہ یقیناً سچ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے مراد وہ عذاب ہے جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجے میں اُن کی قوموں پر اِسی دنیا میں آ جاتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جزاء و سزا بے شک واقع ہو کے رہے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قسم کا مقسم علیہ: یہ اوپر کی قسم کا مقسم علیہ ہے۔ یعنی ہواؤں کے یہ عجائب تصرفات، جن کا تم برابر مشاہدہ کرتے رہتے ہو، اس بات پر شاہد ہیں کہ جس چیز کی تم کو وعید سنائی جا رہی ہے وہ بالکل سچ ہے اور جزا و سزا لازماً واقع ہو کے رہے گی۔
      ’توعدون‘ کا مفہوم: ’اِنَّمَا تُوۡعَدُوْنَ‘۔ استاذ امام فراہیؒ کے نزدیک ’تُوۡعَدُوْنَ‘ ’وعد‘ سے ہے جس کے تحت وہ تمام چیزیں داخل ہیں جن کا نبیوں کی زبانی وعدہ کیا گیا ہے، یعنی حشر نشر، جزا سزا اور رحمت و نقمت وغیرہ۔ وہ ’إِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ‘ کو اسی پر عطف خاص علی العام کی حیثیت دیتے ہیں؛ لیکن میرا رجحان اس طرف ہے کہ ’تُوۡعَدُوْنَ‘ ’وعید‘ سے ہے اور یہاں اس سے مراد وہ عذاب ہے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً اس کے مکذبین پر نازل ہوتا ہے۔ گویا ہواؤں کے عجائب تصرفات کی قسم یہاں میرے نزدیک دو چیزوں پر کھائی گئی ہے۔ ایک اس بات پر کہ قریش کو جس عذاب کی بصورت تکذیب دھمکی دی جا رہی ہے اور جس کو وہ محض ایک دھونس گمان کر رہے ہیں وہ دھونس نہیں ہے بلکہ بالکل سچی دھمکی ہے اور اس طرح وہ جزا و سزا بھی ایک امر شدنی ہے جس کو وہ بہت بعید از امکان سمجھ رہے ہیں۔
      میرے اس رجحان کے حق میں کئی باتیں جاتی ہیں، لیکن ان کی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف تین باتوں کی طرف اشارہ کافی ہے۔
      ایک یہ کہ اس طرح مقسم علیہ کے دونوں اجزاء کا محل بے تکلف الگ الگ معین ہو جاتا ہے۔
      دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا۔ ایک اس عذاب سے جو اس دنیا میں ان پر نازل ہوا اگر وہ اپنی تکذیب پر اڑی رہ گئیں، دوسرے اس عذاب سے جس سے لازماً ان کو آخرت میں سابقہ پیش آئے گا اگر ان کا خاتمہ کفر ہی پر ہوا۔ ان دونوں عذابوں کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے اور ہم اس کی وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ یہ حقیقت مقتضی ہے کہ یہاں ان دونوں عذابوں کا ذکر ہو جب کہ قسم ان دونوں پر شاہد ہے۔ اس کی وضاحت آگے آئے گی۔
      تیسری یہ کہ آگے رسولوں کی تکذیب کرنے والی بعض قوموں کا حوالہ قرآن نے اسی وعید کی تصدیق کے طور پر دیا ہے۔ وہاں آپ دیکھیں گے کہ ان کی تباہی میں ہواؤں کے تصرفات کو قرآن نے خاص طور پر نمایاں فرمایا ہے۔
      زبان کا ایک نکتہ: یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ عذاب دنیا کی وعید کا ذکر تو فعل سے کیا ہے اور آخرت کی جزا و سزا کا ذکر اسم ’دین‘ سے کیا ہے۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ اس دنیا میں قوموں پر جو عذاب آتا ہے وہ ایک امر حادث اور مشروط بشرائط و حالات ہوتا ہے۔ لیکن جزا و سزا کا قانون اس دنیا کی خلقت کی غایت اور اس کا لازمی نتیجہ ہے اس وجہ سے پہلے کو فعل سے تعبیر فرمایا اور دوسرے کو اسم سے۔

      جاوید احمد غامدی اور جزا و سزا واقع ہو کر رہے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ وہ بات ہے جس پر ہوا اور بادلوں کے عجائب تصرفات کی گواہی پیش کی گئی ہے۔ مدعا یہ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں بارہا دیکھ چکے ہو کہ یہی ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی اور سرکش قوموں پر ایسا طوفان بنا کر برساتی رہی ہیں کہ چشم زدن میں وہ خس و خاشاک کی طرح اڑ جاتی تھیں، اور یہی ہوائیں بہت سی قوموں کے لیے خدا کی رحمت و برکت اور دشمنوں سے اُن کی نجات کا ذریعہ بنتی رہی ہیں۔ لہٰذا بصیرت کی نگاہ ہو تو اب بھی دیکھ سکتے ہو کہ ہوا اور بادلوں کے ذریعے سے جزا و سزا کے یہ واقعات گواہی دے رہے ہیں کہ جس عذاب کی وعید تمھیں سنائی جا رہی ہے اور جس قیامت سے خبردار کیا جا رہا ہے، وہ آکر رہیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی شاہد ہے دھاریوں والا آسمان! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ذات الحبک‘ کی تحقیق: ’سَمَآءٌ‘ سے آسمان کو بھی مراد لے سکتے ہیں اور بادلوں کو بھی۔ یہ دونوں معنوں کے لیے قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن آسمان کو مراد لیں گے تو یہاں لازماً ’ذات الحبک‘ کی صفت کے ساتھ ہی مراد لیں گے۔ اس وجہ سے اصل تحقیق طلب چیز یہ صفت ہی ہے۔ استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر سورۂ ذاریات میں اس لفظ کی تحقیق کلام عرب کے شواہد کی روشنی میں بیان فرمائی ہے۔ ہم اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں یہاں درج کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

      ’’’حُبُکٌ‘ کے معنی باندھنے اور گرہ لگانے کے ہیں۔ یہیں سے یہ اس مضبوطی و استواری کے لیے استعمال ہوا جو کسی چیز کی بناوٹ میں پیدا کی جائے۔ اسی سے ’حَبَاک‘ ہے جس کی جمع ’حُبُک‘ آتی ہے۔ ’حُبُک‘ ان دھاریوں، شکنوں اور لہروں کو کہتے ہیں جو کسی گف اور مضبوط بناوٹ کے کپڑے میں نمایاں کی گئی ہوں ۔۔۔۔۔۔ فرّاء کی تحقیق یہ ہے کہ ’حُبُک‘ سے مراد وہ لہریں اور شکنیں ہیں جو ریت یا ساکن پانی میں، جب کہ اس پر ہوا چل گئی ہو، پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہیں سے یہ بادلوں کی تعریف میں استعمال ہونے لگا کیونکہ بادلوں کے ٹکڑے بھی آسمان میں تہ بہ تہ موجوں اور تو بر تو روئی کے گالوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ امروء القیس فلک بوس محلوں کی تعریف کرتے ہوئے، جن پر بادل چھائے ہوئے ہیں، کہتا ہے۔

      مکللۃ حمراء ذات اسرۃ
      لھا حبک کانھا من وصائل
      (ان محلوں پر سرخ دھاریوں والے بادل چھائے ہوئے ہیں گویا کہ دھاریوں والی چادریں ہیں)

      یہ موسم سرما کے بادلوں کی تعریف ہے اور یہ ان کے رنگ اور ان کی تہوں کی نہایت صحیح تصویر ہے ۔۔۔۔۔۔
      جن لوگوں نے ’ذات الحبک‘ سے چرخ مکوکب مراد لیا ہے ، خواہ اس کی مضبوطی و استواری کے پہلو سے یا اس وجہ سے کہ اس میں تارے ٹنکے ہوئے ہیں، ہمارے نزدیک ان کی رائے صحیح نہیں ہے۔
      ۔۔۔۔۔۔ لفظ دھاریوں، شکنوں، لہروں اور خطوط کے معنی پر استعمال ہوتا ہے۔‘‘

      مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ کی اس تحقیق کی روشنی میں یہ قَسم سرما کے سرخ دھاریوں والے بادلوں کی ہے جو شمال کی بادتند کے ساتھ نمایاں ہوتے اور جن کو پچھلی معذّب قوموں کی تباہی میں، جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی، بڑا دخل رہا ہے۔ گویا ہواؤں کی قسم کے بعد یہ بادلوں کی قسم اسی قسم کی تکمیل ہے اس لیے کہ ہواؤں اور بادلوں میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ اس قسم کے اضافے سے ہواؤں کی ہلاکت انگیزی کے پہلو کی طرف خاص طور پر اشارہ مقصود ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (یہ گواہی دیتی ہیں) اور دھاریوں والا آسمان بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس آسمان کی تصویر ہے جس میں بادلوں کے ٹکڑے تہ بر تہ موجوں اور توبرتو روئی کے گالوں کی طرح بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہواؤں کے بعد یہ بادلوں کی گواہی اُسی مضمون کی تکمیل کے لیے ہے جو ہواؤں کی گواہی سے بیان کرنا مقصود ہے۔ ہوا اور بادلوں میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ پچھلی قوموں کی تباہی میں شمال کی باد تند اور سرما کے سرخ دھاریوں والے بادلوں کو بڑا دخل رہا ہے۔ چنانچہ ہواؤں کی ہلاکت خیزی کو نمایاں کرنے کے لیے یہ اضافہ کر دیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بے شک تم ایک اختلاف میں پڑے ہوئے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مخالفین کو ملامت: قرینہ شاہد ہے کہ یہ ٹکڑا جوابِ قَسم نہیں ہے بلکہ مخالفین کے رویہ پر ان کو ملامت ہے۔ جواب قسم اوپر گزر چکا ہے اور یہ دوسری قسم اوپر والی قسم ہی کی تکمیل ہے اس وجہ سے اس کے بعد جواب قسم کے اعادے کی ضروت نہیں تھی بلکہ اس کی جگہ مکذبین کو سرزنش کر دی گئی کہ تم لوگ ایک صریح قسم کے اختلاف اور تناقض فکر میں مبتلا ہو ورنہ شہادتوں کے ہوتے نہ وعید عذاب کو جھٹلانے کی گنجائش ہے، نہ وعدۂ جزاء و سزا میں شک کرنے کی۔
      قرآن مجید میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ وضاحت قرینہ کی بنا پر جواب قسم حذف کر کے اس کی جگہ کوئی سرزنش و ملامت کا جملہ رکھ دیا گیا ہے۔ اس کی ایک نہایت واضح مثال سورۂ قٓ میں گزر چکی ہے:

      قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ ۵ بَلْ عَجِبُوا أَن جَاء ہُمْ مُنذِرٌ مِّنْہُمْ فَقَالَ الْکَافِرُونَ ہَذَا شَیْْءٌ عَجِیْبٌ (قٓ ۱-۲)
      ’’یہ قٓ ہے۔ قرآن بزرگ و برتر کی قسم (یہ کلام الٰہی ہے) بلکہ ان کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس ایک آگاہ کرنے والا انہی میں سے آیا تو کافروں نے کہا یہ تو عجیب بات ہے!‘‘

      اس آیت میں دیکھ لیجیے جواب قسم مذکور نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ مخالفین کو ان کی صریح دھاندلی پر ملامت کر دی گئی ہے۔ یہی اسلوب سورۂ بروج میں بھی اختیار فرمایا گیا ہے:

      وَالسَّمَاء ذَاتِ الْبُرُوجِ ۵ وَالْیَوْمِ الْمَوْعُودِ ۵ وَشَاہِدٍ وَمَشْہُودٍ ۵ قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُوۡدِ (البروج ۱-۴)
      ’’قسم ہے برجوں والے آسمان کی اور وعدہ کیے ہوئے دن کی اور شاہد و مشہود کی! ناس ہوں آگ کی گھاٹی والے!‘‘

      مخالفین کا تضاد فکر: ’قول مختلف‘ سے قیامت اور جزا و سزا کے باب میں ان کے تضاد فکر اور تضاد قول کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین عرب کے بارے میں ہم جگہ جگہ یہ لکھ چکے ہیں کہ ان میں سے قیامت کے کھلے منکر ہی نہیں تھے بلکہ انکار کرنے والوں کے ساتھ ان کے اندر ایک گروہ مذبذبین کا بھی تھا جو صریح طور پر انکار نہیں کرتے تھے بلکہ اس کو ایک مستبعد بات سمجھتے تھے۔ اسی طرح ان کے اندر ایک بہت بڑا گروہ ان لوگوں کا بھی تھا جو قیامت کو بعید از امکان تو نہیں سمجھتے تھے لیکن ان کا گمان یہ تھا کہ قیامت کے دن ان کا معاملہ ان کے شرکاء سے متعلق ہو گا، وہ اپنے پجاریوں کو اپنی شفاعت سے بچا لیں گے۔ یہ لوگ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کے لیے وہ تمام صفتیں تسلیم کرتے تھے جو اس کی بدیہی اور لازمی صفات ہیں اور جو جزا و سزا کو لازم کرتی ہیں دوسری طرف ان کے بدیہی نتائج و لوازم کے بارے میں یا تو مبتلائے شک تھے یا ان کا انکار کرتے تھے۔ ان کی اسی ذہنی الجھن کی طرف یہاں اشارہ فرمایا گیا ہے۔ مقصود ان کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ قرآن ان کو جس بات سے آگاہ کر رہا ہے وہ تو اس کائنات کی ایک بدیہی حقیقت ہے بشرطیکہ یہ لوگ اپنے ذہن کو سیدھی راہ پر سوچنے دیں، اس میں غیر فطری اڑنگے نہ ڈالیں۔ پچھلی سورہ میں ’فَہُمْ فِیْ أَمْرٍ مَّرِیْجٍ‘ (۵) کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔ ہمارے نزدیک دونوں جگہ ایک ہی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی یہ حقیقت ہے کہ تم لوگ ایک صریح تضاد میں مبتلا ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ایک چیز کو مانتے ہو اور اُسی کے لوازم اور مقتضیات کو ماننے سے انکار کر دیتے ہو۔

    • امین احسن اصلاحی اس سے وہی روگردانی کرتے ہیں جن کی عقل الٹ دی گئی ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ جملہ ’قول مختلف‘ کی صفت نہیں بلکہ ایک مستقل جملہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اپنے ذہن کو تناقض سے پاک کر کے سوچیں تو جزا و سزا کا معاملہ بالکل بدیہی حقیقت ہے لیکن جن لوگوں کی عقل الٹ جاتی ہے وہ اس سے برگشتہ کر دیے جاتے ہیں۔ ’اِفک‘ کے معنی الٹ دینے کے ہیں اور ’مافوک‘ اس شخص کو کہتے ہیں جس کی عقل الٹ دی گئی ہو۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو ’فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللہُ قُلُوۡبَہُمْ‘ (الصف ۵) اور اس مضمون کی دوسری آیات میں بیان ہوئی ہے، یعنی ان لوگوں نے اپنی عقل صحیح طور پر استعمال نہیں کی اس وجہ سے قانون الٰہی کے مطابق ان کی عقل الٹ دی گئی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کو وہ چیز بھی نظر نہیں آ رہی ہے جس کی شہادت اس کائنات کے ہر گوشے سے مل رہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (ہماری) اِس (وعید) سے وہی منہ موڑ سکتا ہے جس کی عقل الٹ دی گئی ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جو صحیح طریقے سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہی سے محروم کر دیا گیا ہو۔ یہ ہدایت و ضلالت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ چنانچہ انسان جب اپنی عقل کو خواہشوں اور تعصبات کا تابع بنا لیتا ہے تو اُسے وہ چیز بھی نظر نہیں آتی جس کی شہادت خود اُس کے وجود سے اور اُس کے گردوپیش میں پھیلی ہوئی کائنات کے ہر گوشے سے مل رہی ہو۔

    • امین احسن اصلاحی اٹکل کے تیر تکے چلانے والے ہلاک ہوں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      گمان کا سہارا لینے والوں کی تباہی: یہ جملہ بھی ملامت و سرزنش کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اٹکل کے تیر تکے چلانے والے لوگ ہیں۔ انھوں نے اپنی عقل سے کام لینا چھوڑ دیا ہے اس وجہ سے آفاق و انفس اور ارض و سماء کی وہ تمام دلیلیں جن کی طرف قرآن ان کو توجہ دلا رہا ہے، ان کی سمجھ میں نہیں آ رہی ہیں۔ بصیرت سے محروم ہونے کے باعث اب ان کا تمام اعتماد قیاس و گمان پر رہ گیا ہے۔ اسی قیاس و گمان کے بل پر وہ اس واضح سے واضح حق کو بھی جھٹلانے پر کمربستہ ہیں جو ان کی خواہشوں کے خلاف ہے حالانکہ گمان کسی درجے میں بھی ان کے لیے حق کا بدل نہیں بن سکے گا بلکہ ایک دن ان پر واضح ہو جائے گا کہ حق کے انکار کے لیے انھوں نے وہم و گمان کا جو سہارا لیا یہی ان کی تباہی کا اصل سبب بنا۔
      جو امور جتنے ہی اہم ہیں ان کے لیے اتنا ہی اہتمام ہے: ’خرص‘ کے معنی اندازہ اور تخمینہ کرنے کے ہیں ’خرص النخل والکرم‘ کے معنی ہیں کھجور کے درخت یا انگور کی بیل کے پھلوں کا اندازہ کیا۔ ’خرص فی الحدیث‘ کے معنی ہوں گے کہ ایک امر پر، غور کیے بغیر، اس کے بارے میں ایک اٹکل پچو بات اڑا دی۔
      انسان کی زندگی سے متعلق جو امور جتنے ہی اہم اور دوررس نتائج کے حامل ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے اتنا ہی زیادہ اہتمام فرمایا ہے۔ اٹکل اور اندازوں پر وہی امور اس نے چھوڑے ہیں جن کی انجام کار کے پہلو سے کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ جن امور کی خاص اہمیت ہے، جو دور رس نتائج کے حامل ہیں اور جن پر انسان کی صلاح و فلاح کا انحصار ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے قیاس و گمان پر نہیں چھوڑا ہے بلکہ ان میں ہر پہلو سے اس نے حجت تمام کر دی ہے تاکہ انسان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ ان امور میں اٹکل کے گھوڑے دوڑانا بالکل ایسا ہی ہے کہ ایک شخص اندھیری رات میں اللہ کی بخشی ہوئی روشنی کو گل اور اپنی آنکھیں بند کر کے محض اٹکل سے راستہ معلوم کرنے کی کوشش کرے۔
      انسان کے لیے اس کی عاقبت کا مسئلہ سب سے زیادہ اہم ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کے کسی پہلو کو بھی مبہم نہیں چھوڑا ہے بلکہ ہر جہت سے صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرما دی ہے تاکہ گمراہی کا اندیشہ نہ رہے۔ آسمان و زمین میں اس نے قدم قدم پر نشانات راہ گاڑ دیے ہیں جو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ آنکھیں دے دی ہیں جو ان نشانات کو دیکھ سکتی ہیں اگر انسان آنکھیں کھلی رکھے۔ عقل بخشی ہے جو ان اشاروں کو سمجھتی ہے یا سمجھ سکتی ہے بشرطیکہ انسان اس سے صحیح طور پر فائدہ اٹھائے۔ علاوہ ازیں انسان کی فطرت میں وہ تمام داعیات و محرکات ودیعت فرما دیے ہیں جو صحیح سمت میں قدم بڑھانے، خطرات کا مقابلہ کرنے اور انسان کو برابر بیدار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ پھر مزید اور سب سے اعلیٰ و اشرف انتظام یہ فرمایا کہ اپنے نبیوں، رسولوں اور اپنی اتاری ہوئی کتابوں کے ذریعہ سے اچھی طرح واضح فرما دیا کہ زندگی کی صحیح شاہراہ کیا ہے اور اس راہ کے لیے کیا زاد و راحلہ مطلوب ہے۔
      اتنے گوناگوں اہتمام کے بعد بھی انسان ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے محض اپنی اٹکل سے اپنے لیے کوئی اور راہ ڈھونڈنے کے درپے ہو تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اسے روشنی سے نفرت ہے، وہ تاریکی ہی میں بھٹکنا چاہتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے بارے میں) یہ اٹکل دوڑانے والے ہلاک ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی قیامت کو جھٹلانے کے لیے جن کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ محض اٹکل کے گھوڑے ہیں جنھیں وہ فکر و خیال کی وادیوں میں دوڑاتے رہتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، بالکل بے خبر۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اٹکل کی پیروی کا سبب: ’اَلَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ غَمْرَۃٍ سَاہُوۡنَ‘۔ یہ ان اٹکل کے تیر تکے چلانے والوں کی صفت بیان ہوئی ہے جس سے اس بات کی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ انھوں نے خدا کی روشنی چھوڑ کر اپنا رہنما اٹکل کو کیوں بنایا ہے! فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ خواہشات نفس کے اندھیرے میں گھرے ہوئے ہیں اور ان پر ایسی غفلت طاری ہے کہ اس کا تسلسل کبھی ٹوٹتا ہی نہیں کہ اس سے نکلنے کی کوشش کریں۔ ’غَمْرَۃٍ‘ سے مراد خواہشات نفس اور مطامع دنیا کی تاریکی ہے۔ ’سَاہُوۡنَ‘ خبر کے بعد دوسری خبر ہے جس سے ان کی غفلت کا تسلسل ظاہر ہوتا ہے کہ یہ چیز ان پر اس طرح مسلط ہے کہ وہ اس سے باہر نکلنے کا کبھی نام ہی نہیں لیتے۔ اگر کبھی کوئی ان کو جگانے اور حقیقت سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ چیز ان کے دلوں پر شاق گزرتی ہے اور وہ اپنے کو مطمئن رکھنے کے لیے جو غلط سے غلط سہارا بھی مل جاتا ہے اس پر تکیہ کر لیتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی جو ہر چیز سے بے خبر ہیں، غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ قرآن نے وجہ بتائی ہے کہ اِن لوگوں نے خدا کی دی ہوئی روشنی کو چھوڑ کر اپنے قیاسات کو رہنما کیوں بنایا ہے۔ اِس کے لیے اصل میں ’الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ غَمْرَۃٍ سَاھُوْنَ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’سَاھُوْنَ‘ خبر کے بعد دوسری خبر ہے جس سے اُن کی غفلت کا تسلسل ظاہر ہوتا ہے اور ’غَمْرَۃ‘ کا لفظ اُس غفلت کو بیان کرتا ہے جو خواہشات نفس کی تاریکی میں گھر جانے کے بعد انسان پر طاری ہوتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پوچھتے ہیں جزاء و سزا کا دن کب آئے گا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منکرین جزاء کا معارضہ: یعنی وہ جزاء و سزا سے آگاہ کرنے والوں کا منہ بند کرنے کے لیے یہ سوال کرتے ہیں کہ جس یوم الجزاء سے ڈرا رہے ہو وہ کہاں ہے؟ اس کا ظہور کب ہو گا! اس سوال کے اندر انکار، استہزاء اور جلد بازی تینوں ہی باتیں موجود ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر فی الواقع اس طرح کا کوئی دن آنے والا ہے تو وہ آتا کیوں نہیں! اس کے ڈراوے سنتے سنتے تو ہمارے کان پک گئے لیکن اس کو نہ آنا تھا نہ آیا۔ یہ محض ایک ہوّا ہے جس سے تم ہمیں مرعوب کرنا چاہتے ہو۔ اگر اس کی کوئی حقیقت ہے تو اس کو لاؤ۔ اس کو دیکھے بغیر ہم تمہاری ان خیالی باتوں سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں!
      یہ سوال نقل کرنے سے قرآن کا مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ اس قماش کے لوگ حقائق سے گریز اختیار کرنے کے لیے اسی طرح کے بہانوں کی آڑ میں چھپتے ہیں حالانکہ انھیں اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ اگر یوم الجزاء کا آنا آفاق و انفس کے دلائل سے ثابت ہے اور اس کا ظہور اس کائنات کے خالق کی صفات کا لازمی تقاضا ہے تو اس دلیل سے اس کو نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ اس سے ڈرانے والے اس کو دکھا نہیں سکتے یا اس کا وقت نہیں بتا سکتے۔ اس قسم کا معارضہ ایک حقیقت کو ظن و تخمین سے جھٹلانے کے ہم معنی ہے اس وجہ سے قرآن نے ان لوگوں کے لیے ’خَرَّاصُوْنَ‘ کا لفظ استعمال فرمایا۔

      جاوید احمد غامدی پوچھتے ہیں: روز جزا کب آئے گا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی استہزا کے انداز میں پوچھتے ہیں کہ جس روز جزا سے ڈرا رہے ہو، وہ کہاں ہے؟ اُس کا ظہور کب ہو گا؟

    • امین احسن اصلاحی جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جواب منکرین کی ذہنیت کے مطابق: یہ سوال تحقیق کے لیے نہیں بلکہ، جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا، انکار اور استہزاء کے لیے تھا، اس وجہ سے قرآن نے جواب ان کی ذہنیت کو پیش نظر رکھ کر دیا۔ یہ امر واضح رہے کہ جو لوگ اس طرح کے سوال کرتے تھے وہ اس حقیقت سے ناواقف نہیں تھے کہ اس کے ظہور کا وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ کسی کو اس کا علم نہیں ہے اور اس کا علم نہ ہونے سے اصل حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کے وقت اور دن سے تعرض کرنے کے بجائے اس صورت حال کی تصویر ان کے سامنے رکھ دی جس سے اس دن سابقہ پیش آئے گا کہ یہ جزا کا دن اس وقت ظہور میں آئے گا جب یہ آگ پر تپائے جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں تو اڑا لیں لیکن یاد رکھیں کہ اس دن ان کا یہ حشر ہونا ہے۔
      لفظ ’فتن‘ کی تحقیق اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ یہ لفظ جلانے اور تپانے کے معنی میں بھی آتا ہے اور کسی کو امتحان میں ڈال کر جانچنے اور پرکھنے کے معنی میں بھی۔ یہاں ’یُفْتَنُوْنَ‘ سے دو معنوں کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔ ایک تو جلانے اور تپانے کے معنی کی طرف، دوسرے اس حقیقت کی طرف کہ جس آگ پر یہ لوگ تپائے جائیں گے یہ ان شہوات و زخارف کی آگ ہو گی جن سے وہ دنیا میں آزمائے گئے اور جن کی محبت میں گرفتار ہو کر وہ جزا کے دن سے بے پروا ہوئے۔ آگے اس کی وضاحت آ رہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُس دن آئے گا، جس دن یہ آگ پر تپائے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      تپانے کے لیے جو لفظ اصل میں آیا ہے، اُس کی بلاغت استاذ امام نے واضح فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...یہاں ’یُفْتَنُوْنَ‘ سے دو معنوں کی طرف اشارہ ہو رہا ہے: ایک تو جلانے اور تپانے کے معنی کی طرف، دوسرے اِس حقیقت کی طرف کہ جس آگ پر یہ لوگ تپائے جائیں گے، یہ اُن شہوات و زخارف کی آگ ہو گی جن سے وہ دنیا میں آزمائے گئے اور جن کی محبت میں گرفتار ہو کر وہ جزا کے دن سے بے پروا ہوئے۔‘‘ (تدبرقرآن ۷ /۵۸۶)

       

    • امین احسن اصلاحی چکھو مزا اپنے فتنہ کا، یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے تھے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’فتنۃ‘ یہاں میرے نزدیک اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے یعنی دنیا کی وہ چیزیں جو تمہیں فتنہ میں ڈالنے والی بنیں اور جن کے عشق میں مبتلا ہو کر تم آخرت سے برگشتہ ہوئے، اپنی اصلی شکل و صورت میں وہ تمہارے سامنے نمایاں ہو گئیں، اب ان کا مزا چکھو۔ یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے تھے۔

      جاوید احمد غامدی اب چکھو، اپنے اُس فتنے کا مزہ جس میں تم مبتلا رہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی بے شک پرہیز گار باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تقویٰ کی روح: ’مُتَّقِیْنَ‘ ایک جامع صفت ہے جو قرآن میں ان لوگوں کے لیے استعمال ہوئی ہے جو خدا کے مقرر کردہ حدود و قیود کے اندر زندگی گزارنے والے ہیں۔ یہاں بھی اصلاً مراد وہی ہیں لیکن اوپر کی آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہوا ہے جو آخرت اور جزا و سزا سے نچنت لاابالیانہ زندگی گزارتے ہیں اس وجہ سے یہاں، تقابل کے اصول پر، اس صفت کے اندر جزا و سزا کے اندیشہ کا پہلو نمایاں ہے یعنی اس سے خاص طور پر وہ لوگ مراد ہیں جنھوں نے زندگی میں جو قدم بھی اٹھائے یہ سوچ کر اٹھائے کہ ایک دن ہر قول و فعل کا حساب دینا اور حدود الٰہی سے ہر تجاوز کی سزا بھگتنی ہے۔ درحقیقت جزا و سزا کا یہی اندیشہ تقویٰ کی اصل روح ہے۔ جس تقویٰ کے اندر یہ روح نہ ہو وہ محض نمائشی اور کاروباری تقویٰ ہے جس کی خدا کے ہاں کوئی پوچھ نہیں ہے۔ ان لوگوں کی نسبت فرمایا کہ بے شک یہ لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ اوپر لاابالیانہ زندگی گزارنے والوں کا انجام یہ بیان ہوا کہ وہ جن زخارف پر ریجھ کر آخرت سے بے پروا ہوئے انہی کی آگ پر تپائے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ اب ان زخارف کا مزہ چکھو۔ اس کے برعکس ان لوگوں نے چونکہ آخرت کے مقابل میں دنیا کے زخارف کو کوئی وقعت نہیں دی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو باغوں اور چشموں میں اتارے گا۔ ’جَنَّاتٍ‘ اور ’عُیُونٍ‘ دونوں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ آخرت کی نعمتوں کی جامع تعبیر ہیں۔ ’فِیْ‘ یہاں اس بات پر دلیل ہے کہ یہ لوگ جنت کی نعمتوں میں بالکل گھرے ہوئے ہوں گے۔ ان کے لیے ہر طرف نعمت ہی نعمت ہو گی۔

      جاوید احمد غامدی پرہیزگار، البتہ (اُس دن) باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’الْمُتَّقِیۡنَ‘ آیا ہے۔ اِس سے یہاں خاص طور پر وہ لوگ مراد ہیں جو روز جزا سے بے پروا نہیں رہے، بلکہ ہمیشہ متنبہ رہے کہ ایک دن خدا کے حضور میں پیش ہو کر اپنے قول و فعل کا حساب دینا ہے۔
      یعنی باغوں اور چشموں میں گھرے ہوئے ہوں گے۔ اُن کے لیے ہرطرف نعمت ہی نعمت ہو گی۔

    • امین احسن اصلاحی پا رہے ہوں گے جو کچھ ان کے رب نے ان کو بخشا۔ بے شک وہ اس سے پہلے خوب کاروں میں تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جنھوں نے دنیا میں خدا کی پابندیوں کا احترام کیا ان کے لیے آخرت میں آزادی: یہ ان نعمتوں سے ان کے آزادانہ متمتع ہونے کی تصویر ہے۔ ’اٰخِذِیْنَ‘ حال واقع ہے اس وجہ سے میرے نزدیک یہ صورت حال کی تصویر کا فائدہ دے رہا ہے یعنی وہ دم بدم وہ کچھ پار ہے ہوں گے جو ان کے رب نے ان کو عطا فرمایا۔ ’مَآ آتَاہُمْ رَبُّہُمْ‘ میں صیغۂ ماضی اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جہاں تک دیے جانے کا تعلق ہے اس کا فیصلہ اور وعدہ تو ان کے رب نے پہلے ہی سے کر رکھا ہے، اس بات میں ان کو کسی نئے فیصلے کا انتظار نہیں کرنا ہو گا۔ اب صرف ان نعمتوں سے متمتع و محظوظ ہونے کا دور ہو گا۔ وہ جس چیز کے خواہش مند ہوں گے اپنے رب کے بخشے ہوئے غیرفانی ذخائر میں سے لیں گے اور جتنا چاہیں گے اور جب چاہیں گے لیں گے۔ ان کے اوپر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔ انھوں نے دنیا میں اپنے رب کی عائد کردہ پابندیوں کا احترام کیا۔ اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ ان کو تمام نعمتیں بخش کر آزادانہ چھوڑ دے گا کہ اب ان سے جس طرح چاہو متمتع ہو، تم پر کوئی پابندی باقی نہیں رہی۔
      تقویٰ کے اندر احسان کی روح: ’اِنَّہُمْ کَانُوۡا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ‘۔ یہ ان کے اوپر اس بے پایاں انعام کی علت بیان ہوئی ہے کہ یہ لوگ اس سے پہلے دنیا کی زندگی میں ’محسنین‘ میں رہے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان پر یہ انعام فرمائے گا۔ ’محسنین‘ کا ترجمہ ہم نے اس کتاب میں جگہ جگہ ’خوب کار‘ کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے رب کے ہر حکم کی تعمیل اس طرح کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس طرح اس کے کرنے کا حق ہے۔ یہ صفت صرف ان لوگوں کے اندر پیدا ہوتی ہے جن کے اندر جزا و سزا کا عقیدہ راسخ ہو۔ یہ عقیدہ جن کے اندر راسخ ہوتا ہے وہ ہر کام اس طرح کرتے ہیں گویا وہ خدا کو دیکھ رہے ہیں، اس لیے کہ وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر وہ خدا کو نہیں دیکھ رہے ہیں توخدا تو بہرحال ان کو دیکھ رہا ہے۔
      ’مُتَّقِیْنَ‘ کے لیے ’محسنین‘ کا لفظ استعمال کر کے ان کے باطن پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ یہ لوگ چونکہ جزا و سزا پر یقین رکھنے والے تھے اس وجہ سے ان کا تقویٰ محض ظاہر دارانہ تقویٰ نہیں تھا بلکہ اس کے اندر احسان کی روح بھی تھی۔ اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ یہی تقویٰ اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر و قیمت رکھتا ہے اور ہر جزا و سزا کے راسخ اعتقاد سے پیدا ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُن کے پروردگار نے جو کچھ اُنھیں بخشا ہے، لے رہے ہوں گے۔ وہ اِس سے پہلے خوبی سے عمل کرنے والے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی بخش دیا ہے۔ اب وہ جس طرح چاہیں اور جب چاہیں، اُس سے متمتع اور محظوظ ہوں۔ اصل میں ماضی کا صیغہ اِسی مفہوم پر دلالت کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔
      اصل میں ’اٰخِذِیْنَ‘ کا لفظ آیا ہے۔ یہ حال واقع ہوا ہے اور تصویر حال کا فائدہ دے رہا ہے کہ وہ ہر گھڑی وہ کچھ پا رہے ہیں جو اُن کے پروردگار نے اُنھیں عطا فرمایا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی وہ راتوں میں کم ہی سوتے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تقویٰ اور احسان کی بعض علامات: یہ ان کے تقویٰ اور احسان کی علامات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ راتوں کو کم سوتے تھے۔ یعنی وہ بے فکروں اور لاابالیوں کی طرح اپنی راتیں عیش کے بستروں میں نہیں بلکہ روز حساب کی تیاریوں میں گزارتے تھے، ان کی راتوں کا زیادہ حصہ خدا کے آگے سجود و قیام اور ذکر و فکر میں بسر ہوتا۔
      یہ فکر آخرت کا ایک لازمی اثر بیان ہوا ہے۔ جن کو آخرت کی فکر ہوتی ہے وہ گھوڑے بیچ کر نہیں سوتے۔ ان کو یہ اندیشہ دامن گیر رہتا ہے کہ ممکن ہے یہ زندگی کی آخری رات ہو اس وجہ سے ان کی نیند کھٹکے کی نیند ہوتی ہے۔ وہ راتوں میں اٹھ اٹھ کر اپنے رب کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ اسی طرح کے لوگوں کا حال دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:

      ’تَتَجَافٰی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ خَوْفاً وَطَمَعاً وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ‘ (السجدہ ۱۶)
      (ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں۔ وہ اپنے رب کو یاد کرتے ہیں، بیم و امید کے ساتھ، اور جو روزی ہم نے ان کو بخشی ہے اس میں سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں)۔

      اس جملہ کی تالیف کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں، لیکن مطلب ہر شکل میں ایک ہی ہو گا۔ ایک شکل یہ ہو سکتی ہے کہ

      ’اِنَّھُمْ کَانُوْا قَلِیْلًا ہُجُوْعُھُمْ‘
      (ان کا شب میں سونا تھوڑا تھا)

      دوسری شکل یہ ہو سکتی ہے کہ

      ’کَانُوا یَہْجَعُوۡنَ قَلِیْلاً مِّنَ الَّیْْلِ‘
      (رات میں وہ تھوڑا سوتے تھے)

      الغرض نحوی تالیف کی صورتیں تو مختلف ہو سکتی ہیں لیکن مفہوم میں کوئی خاص فرق نہیں ہو گا۔ بعض لوگوں نے اس کا مفہوم اس سے مختلف لیا ہے، لیکن ان کی رائے عربیت کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے نظائر کے بھی، اس وجہ سے اس سے تعرض کی ضرورت نہیں ہے۔
      ’ہُجُوْع‘ کے معنی سونے کے ہیں اور اس آیت سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اہل تقویٰ اور اہل احسان کی یہ خاص علامت ہے کہ وہ رات میں کم سوتے ہیں، زیادہ حصہ اس کا وہ اللہ تعالیٰ کی یاد، ذکر و فکر اور توبہ و استغفار میں گزارتے ہیں۔ یہی بات قرآن کے نظائر سے بھی نکلتی ہے، مثلاً

      ’یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ ۵ قُمِ اللَّیْْلَ إِلَّا قَلِیْلاً‘ (المزمل ۱-۲)
      (اے چادر لپیٹنے والے، رات میں قیام کر، بجز تھوڑے حصہ کے)۔

      اس کے بعد مقدار کی وضاحت بھی فرما دی ہے۔

      ’نِصْفَہُ أَوِ انقُصْ مِنْہُ قَلِیْلاً ۵ أَوْ زِدْ عَلَیْْہِ‘ (المزمل ۳-۴)
      (آدھی رات قیام کر یا اس سے کچھ کم کر دے یا اس پر کچھ اضافہ کر لے)۔

      اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ شب بیداری ان اہل تقویٰ کی خاص علامات میں سے ہے جو مرتبۂ احسان پر فائز ہیں اور یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ جو لوگ اس مرتبہ کے حصول کی تمنا رکھتے ہیں ان کے لیے بھی اس کا اہتمام لازمی ہے۔ رہے ہما شما جو ان عقبات کو عبور کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے تو ان کے لیے بعض رخصتیں ہیں جن کی وضاحت ان شاء اللہ سورۂ مزمل کی تفسیر میں آئے گی۔

       

      جاوید احمد غامدی راتوں میں بہت کم سوتے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے واضح ہے کہ شب بیداری اُن لوگوں کی خاص علامت ہے جو پرہیز گار اور خوبی سے عمل کرنے والے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور صبح کے وقتوں میں مغفرت مانگتے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      پو پھٹنے سے کچھ پہلے کا وقت سحر کا وقت ہے۔ یہ ان کی تمام شب خیزی اور تمام رکوع و سجود کی غایت بیان ہوئی ہے۔ یعنی آخری کام ان کا یہ ہوتا ہے کہ سحر کے وقت اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں کہ رب کریم جزا و سزا کے دن ان کے گناہوں سے درگزر فرمائے اور ان کو اپنے دامن عفو و کرم میں جگہ دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ نہ تو اس بات کے متوقع ہوتے کہ اس شب بیداری اور رکوع و سجود کے صلہ میں ان کو حضور و شہود کا کوئی بڑا مقام حاصل ہو گا اور نہ وہ اس طرح کی کسی چیز کے طلب گار ہی بنتے بلکہ ان کی طلب صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے۔ چنانچہ ان کی شب کی تمام عبادت و ریاضت کا اختتام استغفار پر ہوتا ہے۔
      اسلام میں عبادت و ریاضت کا اصل مقصد: اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ اسلام میں عبادت و ریاضت کا مقصود دوسرے مذاہب سے بالکل مختلف ہے۔ دوسرے مذاہب میں عبادت و ریاضت کا اصل مقصود کشف، مشاہدہ، تجلی ذات، ذات خداوندی میں انضمام اور اس قبیل کی دوسری چیزیں ہیں۔ جوگی، سنیاسی اور راہب جو ریاضتیں کرتے ہیں ان سے ان کے پیش نظر یہی چیزیں ہوتی ہیں، لیکن اسلام میں ریاضت و عبادت کا اصل مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی کی طلب ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسری چیز اگر عبادت کے مقصد کی حیثیت حاصل کر لے تو اسلام میں اس عبادت کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ہندوؤں کے فلسفہ سے متاثر ہو کر ہمارے ہاں صوفیوں کے ایک طبقہ نے بھی عبادت و ریاضت کا مطمح نظر انہی چیزوں کو بنا لیا ہے جن کا ذکر اوپر ہوا اس وجہ سے ان کے تزکیۂ نفس کی ساری جدوجہد نے ایک بالکل ہی مختلف راہ اختیار کر لی۔ یہاں اس مسئلہ پر بحث کی گنجائش نہیں ہے۔ ہم نے اپنی کتاب ’تزکیۂ نفس‘ میں اس کے بعض پہلو واضح کیے ہیں۔
      استغفار کے لیے سازگار ساعت: قرآن اور حدیث دونوں سے ثابت ہے کہ استغفار کے لیے سب سے زیادہ سازگار وقت آخر شب اور سحر کا وقت ہے۔ اس وقت، جیسا کہ مشہور حدیث قدسی سے ثابت ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت استغفار کرنے والوں کے انتظار میں ہوتی ہے۔ لیکن اس وقت سے فائدہ اٹھانے کا حوصلہ صرف طالب صادق ہی کر سکتے ہیں۔ ہر بوالہوس۔ یہ حوصلہ نہیں کر سکتا کہ رات رکوع و سجود میں گزارے۔ پھر صبح کو مغفرت کا سائل بن کر اپنے رب کے دروازے پر حاضر ہو۔ اللہ کے جو بندے یہ حوصلہ دکھاتے ہیں ان کا یہ حوصلہ ہی ان کے اخلاص کا ضامن ہوتا ہے، اس وجہ سے اللہ کی رحمت ان کی طرف ضرور متوجہ ہوتی ہے۔ اصل جالب رحمت تو بندے کا خلوص ہے۔ جب یہ چیز موجود ہے تو اللہ تعالیٰ کے پاس فضل و رحمت کی کیا کمی ہے!

      جاوید احمد غامدی اور صبح کے وقتوں میں (اپنے پروردگار سے) مغفرت مانگتے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی شب خیزی کے بعد جب سحر طلوع ہوتی ہے تو اپنے پروردگار سے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس سے معلوم ہوا کہ وہ نہ تو اِس بات کے متوقع ہوتے کہ اِس شب بیداری اور رکوع و سجود کے صلے میں اُن کو حضور و شہود کا کوئی بڑا مقام حاصل ہو گا اور نہ وہ اِس طرح کی کسی چیز کے طلب گار ہی بنتے، بلکہ اُن کی طلب صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگذر فرمائے۔ چنانچہ اُن کی شب کی تمام عبادت و ریاضت کا اختتام استغفار پر ہوتا ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۷/ ۵۹۳)

       

    • امین احسن اصلاحی اور ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’’محسنین‘‘ خدا کے حقوق کی طرح بندوں کے حقوق بھی پہچانتے ہیں: یعنی یہ ’محسنین‘ جس طرح خدا کا حق پہچاننے والے ہیں اسی طرح اس کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے والے ہیں۔ وہ اپنے مالوں میں صرف اپنے نفس ہی کا حق نہیں بلکہ سائلوں اور محروموں کا حق بھی سمجھتے ہیں اور اس کو اسی طرح ادا کرتے تھے جس طرح اہل حق کے حقوق ادا کیے جاتے ہیں یعنی وہ اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں کہ ان کے پاس جو مال ہے وہ تنہا انہی کا ہے بلکہ وہ اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ خدا نے اگر ان کی ناگزیر ضروریات سے ان کو زیادہ دیا ہے تو یہ دوسروں کا حق ہے جو ان کی امانت میں دیا گیا ہے۔ اس امانت کا یہ حق ہے کہ وہ اس کے مستحقین کو ادا کی جائے۔ اگر یہ امانت ادا نہ کی گئی تو یہ خیانت ہو گی اور ہر خیانت کی خدا کے ہاں پرسش ہونی ہے۔
      ’محروم‘ سے کون مراد ہیں؟ ’محروم‘ سے مراد یوں تو ہر وہ شخص ہے جو مال سے محروم ہو لیکن اس کے مفہوم میں وہ لوگ خاص طور پر شامل ہیں جو پہلے صاحب مال رہے ہوں بعد میں کسی افتاد نے ان کو محروم بنا دیا ہو۔ اس طرح کے لوگوں کے لیے قرآن میں لفظ ’غارمین‘ استعمال ہوا ہے اور ان کو صدقات کے مستحقین میں شامل کیا گیا ہے۔ محرومین میں بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو احتیاج کے باوجود سوال کرنے کا ننگ گوارا نہیں کرتے۔ خاص طور پر جو لوگ کبھی صاحب مال رہ چکے ہوں ان کو اپنی خودداری بہت عزیز ہوتی ہے۔ یہاں یہ لفظ چونکہ ’سائل‘ کے مقابل میں استعمال ہوا ہے اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد وہ محتاج ہیں جو سوال نہیں کرتے۔ اس طرح کے خودداروں کی خودداری کی لاج رکھنا بہت بڑی نیکی ہے۔ قرآن میں دوسری جگہ یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اس طرح کے محتاجوں کی مدد کے لیے مال رکھنے والوں کو خود ان کے پاس پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ مال داروں کے دروازوں پر سائل بن کر حاضر ہوں گے سورۂ بقرہ میں اس طرح کے خودداروں کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:

      لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِز یَحْسَبُھُمُ الْجَاھِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِج تَعْرِفُھُمْ بِسِیْمٰھُمْج لَا یَسْءَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا (البقرہ ۲۷۳)
      ’’یہ صدقات ان محتاجوں کے لیے ہیں جو اللہ کی راہ میں مصروف ہیں، تلاش معاش کی جدوجہد میں زمین میں نقل و حرکت نہیں کر سکتے۔ ان کے حال سے ناواقف ان کی خودداری کے سبب سے ان کو غنی سمجھتے ہیں۔ تم ان کو چہرے بشرے سے پہچان سکتے ہو۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی اور اُن کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے مراد وہ محتاج ہیں جو اپنی خودداری کے باعث کسی مال دار کے دروازے پر سائل بن کر حاضر نہیں ہوتے۔ قرآن میں دوسری جگہ ہدایت فرمائی ہے کہ اِس طرح کے محتاجوں کی مدد کے لیے دینے والوں کو خود اُن کے پاس پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    • امین احسن اصلاحی اور زمین میں بھی نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آسمان و زمین اور انسان کے اندر کی نشانیوں کی طرف اشارہ: اوپر جزا و سزا کی جو نشانیاں مذکور ہوئی ہیں اس آیت کا عطف انہی پر ہے۔ ابر و ہوا کی نشانیوں کا تعلق زمین و آسمان کے درمیان کی نشانیوں سے ہے۔ اب آگے آسمان و زمین اور خود انسان کے اندر کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی اور اقرب فالاقرب کے اصول پر سب سے پہلے زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ فرمایا، اس کے بعد انفس کی نشانیوں کی طرف، پھر آسمان کی نشانیوں کی طرف۔ یوں تو ان چیزوں سے قرآن نے اپنی دعوت کے تمام بنیادی حقائق ۔۔۔ توحید، معاد، رسالت ۔۔۔ پر استدلال کیا ہے جس کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے لیکن یہاں سورہ کے عمود کے تقاضے سے صرف معاد اور جزا و سزا کی نشانیوں ہی کی طرف اشارہ ہے اس وجہ سے ہم بھی اپنی بحث صرف جزا و سزا کے دلائل ہی تک محدود رکھیں گے، اور جس طرح قرآن نے اشارے پر اکتفا کیا ہے اسی طرح ہم بھی اشارات ہی پر اکتفا کریں گے اس لیے کہ یہ تمام بحثیں پچھلی سورتوں میں پوری تفصیل سے گزر چکی ہیں۔
      سب سے پہلے سورۂ نبا کی مندرجہ ذیل آیات پر ایک نظر ڈال لیجیے جن میں قرآن نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی مختلف چیزوں سے معاد اور جزا و سزا پر استدلال فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:

      أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِہَاداً ۵ وَالْجِبَالَ أَوْتَاداً ۵ وَخَلَقْنَاکُمْ أَزْوَاجاً ۵ وَجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتاً ۵ وَجَعَلْنَا اللَّیْْلَ لِبَاساً ۵ وَجَعَلْنَا النَّہَارَ مَعَاشاً ۵ وَبَنَیْْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعاً شِدَاداً ۵ وَجَعَلْنَا سِرَاجاً وَہَّاجاً ۵ وَأَنزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاء ثَجَّاجاً ۵ لِنُخْرِجَ بِہِ حَبّاً وَنَبَاتاً ۵ وَجَنَّاتٍ أَلْفَافاً ۵ إِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا (النبا ۶-۱۷)
      ’’کیا ہم نے زمین کو ایک گہوارہ نہیں بنایا؟ اور اس میں پہاڑوں کی میخیں نہیں گاڑیں؟ اور تم کو جوڑے جوڑے نہیں پیدا کیا؟ اور تمہاری نیند کو دافع کلفت نہیں بنایا؟ اور رات کو پردہ پوش نہیں بنایا؟ اور دن کو معاش کا وقت نہیں ٹھہرایا؟ اور تمہارے اوپر سات محکم آسمان نہیں بنائے اور اس میں ایک روشن چراغ نہیں رکھا؟ اور بدلیوں سے دھڑ دھڑاتا پانی نہیں برسایا تاکہ اس سے غلے اور نباتات اور گھنے باغ اگائیں؟ بے شک فیصلہ کا دن مقرر ہے!!‘‘

      ان آیات میں اپنی قدرت، رحمت اور ربوبیت کے ان گوناگوں آثار سے، جو آسمان، زمین اور ان کے درمیان موجود ہیں اور جن کا مشاہدہ ہر شخص بادنیٰ توجہ کر سکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت ثابت کی ہے کہ یہ کارخانہ بے مقصد اور عبث نہیں ہو سکتا اس وجہ سے لازم ہے کہ ایک ایسا دن جس میں اس کا خالق نیکوں اور بدوں کے درمیان فیصلہ فرمائے۔ اس دلیل کے ہر پہلو کی وضاحت سابق سورتوں کی تفسیر میں ہو چکی ہے اس وجہ سے یہاں ہم مختصر الفاظ میں زمین کی چند نشانیوں کی طرف، جو جزا و سزا پر دلیل ہیں، اشارہ کریں گے۔
      زمین کی بعض نشانیاں جو جزا و سزا پر دلیل ہیں: ۔ امکان معاد پر قرآن نے زمین کے آثار سے یوں دلیل قائم کی ہے کہ دیکھتے ہو کہ زمین بالکل مردہ اور بے آب و گیاہ ہوتی ہے، اس کے کسی گوشے میں بھی زندگی و روئیدگی کا کوئی نشان نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی گھٹا بھیجتا ہے اور بارش کا ایک ہی چھینٹا اس کو زندگی اور شادابی سے معمور کر دیتا ہے۔ غور کرو کہ جو خدا اپنی قدرت کی یہ شان برابر دکھا رہا ہے وہ لوگوں کے مرکھپ جانے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرنا چاہے گا تو کیا نہیں کر سکے گا۔
      ۔ اس زمین میں رب کریم نے اپنے بندوں کی پرورش کے لیے جو گوناگوں اہتمام کر رکھے ہیں ان کا حوالہ دے کر یہ سوال کیا ہے کہ کیا جس رب کریم نے تمہاری پرورش کے لیے یہ سامان کر رکھا ہے وہ تمہیں اس زمین میں یوں ہی مطلق العنان چھوڑے رکھے گا اور کوئی ایسا دن نہیں لائے گا جس میں وہ ان لوگوں سے بازپرس کرے جنھوں نے اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کو اسی کے خلاف بغاوت کا ذریعہ بنایا ہو اور ان لوگوں کو انعام دے جنھوں نے اس کی نعمتوں کا حق پہچانا ہو! کیا تم ایسے حکیم و کریم پروردگار کے متعلق یہ گمان رکھتے ہو کہ وہ کوئی کھلنڈرا ہے جس کی نگاہوں میں نیکی و بدی یکساں ہے اور کیا تم اس فریب نفس میں مبتلا ہو کہ تمہارے رب کی یہ بے پایاں نعمتیں تم پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں کرتیں!
      ۔ اس زمین میں قوموں کی تباہی کے جو آثار ہیں قرآن نے ان کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور واضح فرمایا ہے کہ یہ قومیں اپنے طغیان و تمرد کے باعث اللہ کے عذاب سے تباہ ہوئیں۔ ان کی تباہی کے بعد ان کے آثار اس نے اس لیے محفوظ رکھے ہیں کہ ان کے بعد آنے والی قومیں ان سے سبق حاصل کریں کہ اس کائنات کا خالق اس دنیا کے خیر اور شر سے بے تعلق نہیں ہے بلکہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ چنانچہ جب کسی قوم کا طغیان حد سے، متجاوز ہو جاتا ہے تو وہ لازماً اس کے قانون مکافات سے دوچار ہوتی ہے۔ قوموں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی یہ سنت اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ ایک ایسا دن بھی وہ لائے گا جس میں اس کا ہمہ گیر عدل ظاہر ہو گا۔ ہر شریر اپنی شرارت کی سزا بھگتے گا اور ہر نیکوکار اپنی نیکی کا بھرپور صلہ پائے گا۔
      یہ زمین کے چند نہایت واضح آثار کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے جو جزا و سزا پر دلیل ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی گوناگوں نشانیاں ہیں جن کی طرف قرآن نے توجہ دلائی اور ہم نے اس کتاب میں ان کی وضاحت کی ہے۔ یہاں ان کے اعادے میں طوالت ہو گی۔
      حقائق کو ماننے کا حوصلہ نہ ہو تو دلائل کام نہیں دیتے: ’لِلْمُوْقِنِیْنَ‘۔ یعنی زمین میں نشانیوں کی تو کمی نہیں ہے۔ قدم قدم پر نشانیاں موجود ہیں۔ بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھیں، غور کرنے والی عقلیں اور غور و فکر کے نتائج پر یقین کرنے والے دل ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ ایک حقیقت کو قبول کرنے کے لیے مجرد یہ چیز کافی نہیں ہے کہ اس کے دلائل موجود ہیں بلکہ اس کے لیے یہ چیز بھی ضروری ہے کہ مخاطب کے اندر دلائل پر غور کرنے اور ان کے بدیہی نتائج کو تسلیم کرنے کا ارادہ پایا جاتا ہو۔ اگر آدمی کے اندر یہ ارادہ نہ ہو تو وہ واضح سے واضح حقیقت کو جھٹلا دینے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر ہی لیتا ہے۔ اس دنیا میں حقائق کی تکذیب صرف اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ ان کے حق میں دلائل نہیں تھے یا ان کو پیش کرنے والے موجود نہیں تھے بلکہ اکثر و بیشتر نہ ماننے کی خواہش ان کی تکذیب کی محرک ہوئی ہے اور یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج کسی کے پاس نہیں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (ہوا اور بادلوں ہی میں نہیں)، جو یقین کرنا چاہیں، اُن کے لیے زمین میں بھی نشانیاں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی معاد اور روزجزا کی نشانیاں، جیسے بارش کے بعد مردہ زمین سے زندگی کی نمود اور انسان کے لیے ربوبیت کا غیرمعمولی اہتمام جو تقاضا کرتا ہے کہ اُسے اُن نعمتوں کے لیے مسؤل ٹھیرایا جائے جو اُسے دی گئی ہیں۔ اِسی طرح قوموں کی تباہی کے آثار اور ذریت ابراہیم کی دینونت جسے ہر شخص بچشم سر دیکھ سکتا ہے۔

    Join our Mailing List