Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 45 آیات ) Qaf Qaf
Go
  • ق (The Letter Qaf)

    45 آیات | مکی

    گروپ پر ایک اجمالی نظر

    سورۂ قٓ سے سورتوں کا چھٹا گروپ شروع ہو رہا ہے۔ اس میں کل سترہ سورتیں ہیں۔ جن میں سے سات سورتیں ۔۔۔ قٓ، ذاریات، طور، قمر، نجم، رحمان اور واقعہ ۔۔۔ بالترتیب مکی ہیں۔ صرف سورۂ رحمان کو بعض مصاحف میں مدنی ظاہر کیا گیا ہے، لیکن اس کی تفسیر سے واضح ہو جائے گا کہ یہ رائے بالکل بے بنیاد ہے۔ پوری سورہ کا مدنی ہونا تو درکنار اس کی کوئی ایک آیت بھی مدنی نہیں ہے۔

    سورۂ واقعہ کے بعد دس سورتیں ۔۔۔ حدید، مجادلہ، حشر، ممتحنہ، صف، جمعہ، منافقون، تغابن، طلاق اور تحریم ۔۔۔ مدنی ہیں۔

    اس گروپ کا جامع عمود بعث اور حشر و نشر ہے۔ اس کی تمام مکی سورتوں میں یہ مضمون ابھرا ہوا نظر آئے گا۔ اگرچہ قرآن کے بنیادی مطالب، دوسرے گروپوں کی طرح، اس میں بھی زیربحث آئے ہیں لیکن وہ اسی جامع عمود کے تحت آئے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس جو مدنی سورتیں اس میں شامل ہیں وہ بھی اسی اصل کے تحت ہیں۔ بعث اور حشر و نشر پر ایمان کا لازمی نتیجہ اللہ اور اس کے رسول کی کامل اطاعت ہے۔ مدنی سورتوں میں اسی تسلیم و اطاعت کے وہ مقتضیات بیان ہوئے ہیں جن کے بیان کے لیے زمانۂ نزول کے حالات داعی ہوئے ہیں۔

    مکی سورتوں میں تمام رد و قدح کفار قریش کے عقائد و مزعومات پر ہے اور وہی ان میں اصلاً مخاطب بھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے اگر خطاب ہے تو بطور التفات و تسلی ہے۔ مدنی سورتوں میں خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے ہے اور خاص طور پر ان لوگوں کی کمزوریاں زیربحث آئی ہیں جو اللہ و رسول پر ایمان کے مدعی تو بن بیٹھے تھے لیکن ایمان کے تقاضوں سے ابھی اچھی طرح آشنا نہیں ہوئے تھے۔ انہی کے ضمن میں اہل کتاب بھی زیربحث آئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس دور میں اہل کتاب بھی قریش کی حمایت اور اسلام کی مخالفت کے لیے میدان میں اتر آئے تھے، دوسری وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر منافقین کا گروہ جو گھس آیا تھا وہ بیشتر انہی اہل کتاب کے زیراثر تھا۔ اس گروپ کی پہلی سورہ ۔۔۔ قٓ ۔۔۔ ہے۔ اب اللہ کا نام لے کر ہم اس کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔

    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا عمود بعث یعنی زندگی بعد الموت کا اثبات ہے۔ قرآن نے جب لوگوں کو آگاہ کیا کہ مرنے کے بعد لوگ ازسرنو زندہ کیے جائیں گے اور اپنے رب کے آگے اپنے اعمال و اقوال کی جواب دہی کے لیے پیش ہوں گے تو یہ چیز قریش کے لیڈروں پر بہت شاق گزری کہ انہی کے اندر کا ایک شخص مدعئ نبوت بن کر ان کو اس بات سے ڈرا رہا ہے کہ مرنے کے بعد لوگ پھر زندہ کیے جائیں گے۔ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد لوگ ازسرنو زندہ ہوں! اس سورہ میں لوگوں کے اسی استبعاد کو موضوع بحث بنا کر ان کے شبہات کے جواب دیے گئے ہیں۔

  • ق (The Letter Qaf)

    45 آیات | مکی
    ق - الذاریات

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات قیامت اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ دوسری سورہ میں اثبات قیامت کے تاریخی دلائل، البتہ پہلی سورہ کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ اِس کے ساتھ قرآن کے انذار عذاب کو بھی ثابت کیا گیا ہے۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا خاتمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کے مضمون پر ہوا ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ سورۂ قٓ ہے۔ قسم ہے باعظمت قرآن کی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن اپنی حقانیت پر خود گواہ ہے: ’قٓ‘ اس سورہ کا نام ہے۔ مبتداء، جیسا کہ ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں، یہاں بھی محذوف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو مطلب یہ ہو گا کہ یہ سورۂ قٓ ہے۔
      ’مَجِیْدٌ‘ کے معنی بزرگ، برتر اور باعظمت کے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر بھی قرآن میں استعمال ہوا ہے اور قرآن کی صفت کے طور پر بھی۔ ہر کلام متکلم کی صفات کا مظہر ہوتا ہے اس وجہ سے جس طرح اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر ہے اسی طرح اس کا کلام بھی بزرگ و برتر ہے اور یہ برتری و بزرگی قرآن کی ایک ایک آیت سے نمایاں ہے۔ ممکن نہیں ہے کہ کوئی صاحب ذوق قرآن کو سنے یا پڑھے اور اس کی عظمت و شوکت سے متاثر و مرعوب نہ ہو۔ اگر کوئی اس کی عظمت و جلالت سے متاثر نہ ہو تو وہ یا تو نہایت ہی بلید ہے یا اس کا دل بالکل سیاہ ہو چکا ہے۔ آدمی تو درکنار اگر یہ قرآن پہاڑوں پر بھی اتارا جاتا تو وہ بھی، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے، اللہ تعالیٰ کی خشیت سے پاش پاش ہو جاتے۔
      ’وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ‘ جملہ قسمیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اس باعظمت و برتر کتاب کی قسم کھائی ہے اور قسم سے متعلق ہم اس کتاب میں جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں اس طرح کی تمام قسمیں بطور شہادت ہیں۔ یعنی قسم مقسم علیہ پر دلیل کی حیثیت سے کھائی جاتی ہے۔ یہ قسم بھی مقسم علیہ پر دلیل ہے، اگرچہ وہ محذوف ہے۔ مقسم علیہ ان مواقع میں حذف کر دیا جاتا ہے جہاں کلام کا سیاق و سباق اس کو واضح کر دینے کے لیے کافی ہو۔ اس کی ایک نہایت واضح مثال سورۂ صٓ میں موجود ہے۔ فرمایا ہے:
      ’ صٓ وَالْقُرْآنِ ذِی الذِّکْرِ ۵ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوۡا فِیْ عِزَّۃٍ وَشِقَاقٍ‘ (۱-۲)
      (اس کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد، ششم، صفحات ۵۱۱-۵۱۲) تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں قرآن کی عظمت و جلالت کی قسم ان لوگوں کی تردید میں کھائی گئی ہے جو اس کو شاعری، کہانت سحر یا القائے شیطانی کے قسم کی چیز قرار دیتے تھے۔ قرآن کی عظمت، شہادت میں پیش کر کے، ان کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ یہ اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ اپنے وجود سے شاہد ہے کہ اس کا منبع یہ سفلی چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے جس کا ذریعہ جبریل امین ہیں، اور جس کا منبع لوح محفوظ ہے۔ بعینہٖ اسی قسم کے سیاق و سباق کے ساتھ سورۂ بروج میں فرمایا ہے:

      بَلْ ہُوَ قُرْآنٌ مَّجِیْدٌ ۵ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ (۲۱-۲۲)
      ’’بلکہ یہ باعظمت قرآن ہے اور اس کا منبع لوح محفوظ میں ہے۔‘‘

      یہی بات سورۂ تکویر میں یوں فرمائی گئی ہے:

      إِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُولٍ کَرِیْمٍ ۵ ذِیْ قُوَّۃٍ عِندَ ذِیْ الْعَرْشِ مَکِیْنٍ ۵ مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِیْنٍ ۵ وَمَا صَاحِبُکُم بِمَجْنُونٍ ۵ وَلَقَدْ رَآہُ بِالْأُفُقِ الْمُبِیْنِ ۵ وَمَا ہُوَ عَلَی الْغَیْْبِ بِضَنِیْنٍ ۵ وَمَا ہُوَ بِقَوْلِ شَیْْطَانٍ رَجِیْمٍ ۵ فَأَیْْنَ تَذْہَبُونَ ۵ إِنْ ہُوَ إِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعَالَمِیْنَ (۱۹-۲۷)
      ’’یہ ایک باعزت رسول کا اتارا ہوا کلام ہے۔ وہ قوت والا اور عرش کے مالک کے نزدیک بارسوخ ہے۔ وہ مطاع اور مزید برآں امانت دار ہے۔ اور تمہارا ساتھی کوئی دیوانہ نہیں ہے اور اس نے اس کو بالکل کھلے افق میں دیکھا ہے۔ اور وہ غیب کی باتوں کا کوئی حریص نہیں ہے۔ اور یہ کسی شیطان رجیم کا القاء نہیں ہے، تو کہاں بھٹکے جاتے ہو! یہ تو دنیا والوں کے لیے یاددہانی ہے۔‘‘

      قرآن کی عظمت کے اسی پہلو کی طرف

      ’لَا یَأْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِن بَیْْنِ یَدَیْْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ‘ (حٰمٓ السجدہ ۴۲)
      (باطل نہ اس کے آگے سے اس میں آ سکتا اور نہ اس کے پیچھے سے)

      اور

      ’لَّا یَمَسُّہُ إِلَّا الْمُطَہَّرُوۡنَ‘ (الواقعہ ۷۹)
      (اور اس کو صرف پاکیزہ ہی لوگ چھوتے ہیں)

      اور اس مضمون کی دوسری آیتیں بھی اشارہ کر رہی ہیں۔ سورۂ شعراء کے آخر میں قرآن کو کہانت اور شاعری کی تہمت سے بری کرنے کے جو دلائل بیان ہوئے ہیں ان کی وضاحت سورہ کی تفسیر میں ہو چکی ہے، خاص طور پر ’وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیَاطِیْنُ ۵ وَمَا یَنبَغِیْ لَہُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُونَ‘ (الشعراء ۲۱۰-۲۱۱) کے تحت جو کچھ لکھا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
      مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے انذار قیامت کو یہ بہانہ بنا کر نظر انداز کر رہے ہیں کہ یہ وحی الٰہی نہیں بلکہ القائے شیطانی ہے ان کی تردید کے لیے قرآن کی معجزانہ بلاغت اور اس کی لاہوتی حکمت ہی کافی ہے۔ نادان ہیں وہ جو اس کو کسی جن یا شیطان کا کلام سمجھتے ہیں۔ یہ جن یا شیطان کا کلام نہیں ہے بلکہ خدائے عزیز و حکیم کا اتارا ہوا کلام ہے۔

      جوہر جام جم ازکان جہان دگر است

       

      جاوید احمد غامدی یہ سورۂ ’ق‘ ہے۔ قرآن مجید (آپ ہی اپنی) گواہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق ہم نے اپنا نقطۂ نظر سورۂ بقرہ (۲)کی آیت ۱ کے تحت تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔
      اصل میں ’وَالْقُراٰنِ الْمَجِیْدِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’و‘ قسم کے لیے ہے اور اِن کا مقسم علیہ محذوف ہے، اِس کی وجہ یہ ہے کہ کلام کے سیاق و سباق سے وہ خود واضح ہو جاتا ہے۔ قرآن میں اِس طرح کی قسمیں بطور شہادت آتی ہیں۔ لفظ ’الْمَجِیْد‘ قرآن میں اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر بھی آیا ہے اور قرآن کی صفت کے طور پر بھی۔ اِس کے معنی بزرگ، بلند مرتبہ اور صاحب عظمت کے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...ہر کلام متکلم کی صفات کا مظہر ہوتا ہے۔ اِس وجہ سے جس طرح اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر ہے، اِسی طرح اُس کا کلام بھی بزرگ و برتر ہے اور یہ برتری و بزرگی قرآن کی ایک ایک آیت سے نمایاں ہے۔ ممکن نہیں ہے کہ کوئی صاحب ذوق قرآن کو سنے یا پڑھے اور اُس کی عظمت و شوکت سے متاثر و مرعوب نہ ہو۔ اگر کوئی اُس کی عظمت و جلالت سے متاثر نہ ہو تو وہ یا تو نہایت ہی بلید ہے یا اُس کا دل بالکل سیاہ ہو چکا ہے۔ آدمی تو درکنار اگر یہ قرآن پہاڑوں پر بھی اتارا جاتا تو وہ بھی، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے، اللہ تعالیٰ کی خشیت سے پاش پاش ہو جاتے۔‘‘ (تدبرقرآن ۷/ ۵۳۳)

       

    • امین احسن اصلاحی بلکہ ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی کے اندر سے ایک آگاہ کرنے والا آیا تو کافروں نے کہا کہ یہ تو ایک نہایت عجیب بات ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مخالفین کی مخالفت کی اصل علت: یہاں ’بَلْ‘ اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن نے اس اعتراض کو محض حقیقت سے فرار کے لیے ایک بہانہ قرار دیا ہے۔ اس ’بَلْ‘ کے مضمرات کھولیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ جو لوگ قرآن کو جنات و شیاطین کا القاء قرار دیتے ہیں ان کی تردید کے لیے قرآن کی عظمت و جلالت ہی کافی ہے۔ ان کے فرار کی اصل وجہ وہ نہیں ہے جو وہ ظاہر کر رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان کو اس بات پر تعجب ہے کہ ایک شخص انہی کے اندر سے ان کے لیے منذر بن کر اٹھا جو ان کو اس بات سے ڈرا رہا ہے کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اپنے اندر ہی کے ایک آدمی کو خدا کا رسول تسلیم کر لینا چونکہ ان کے دلوں پر بہت شاق ہے، اس وجہ سے اس کی تکذیب میں انھوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ مر کر، سڑ گل جانے کے بعد لوگ اٹھائے جائیں گے! یہ اٹھایا جانا بہت بعید از عقل ہے! اس آیت پر اچھی طرح غور کیجیے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ قرآن کے نزدیک ان کے اس فرار کی اصل علت ان کا استکبار ہے۔ وہ اپنے ہی اندر کے ایک شخص کو رسول ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس وجہ سے وہ قرآن کے وحی الٰہی ہونے کے بھی منکر ہیں اور قیامت کو بھی ایک بعید از قیاس چیز قرار دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ استکبار میں مبتلا نہ ہوتے تو وہ اتنے بلید نہیں ہیں کہ اللہ کے کلام اور کاہنوں کی خرافات میں امتیاز نہ کر سکیں۔ اور قیامت کے اثبات کے جو دلائل قرآن ان کے سامنے پیش کر رہا ہے ان کو سمجھنے سے قاصر رہ جائیں۔
      اس استکبار کی تفصیل پیچھے کی سورتوں میں گزر چکی ہے کہ یہ لوگ اول تو اپنی ہدایت کے لیے کسی رسول کی ہدایت کے قائل ہی نہیں ہیں اور اگر کسی درجے میں قائل ہیں بھی تو ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو وہ کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتا یا مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو رسول بناتا۔ ان سرداروں کے ہوتے یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو رسول بنا دے جو ایک بالکل غریب آدمی ہے۔
      ان اعتراضوں کے جواب پیچھے کی سورتوں، بالخصوص چوتھے گروپ میں جس کا جامع عمود اثبات رسالت ہے اور جو الفرقان سے شروع ہوتا ہے، تفصیل سے دیے جا چکے ہیں۔ یہاں گروپ کے مضمون کے تقاضے سے ان کے ان شبہات سے تعرض کیا ہے جو وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے امکان پر وارد کرتے تھے اور جن کو قرآن اور رسول کی مخالفت کے لیے، جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا، انھوں نے بہانہ بنا رکھا تھا۔

      جاوید احمد غامدی (اِن کے جھٹلانے کی وجہ وہ نہیں ہے جو یہ ظاہر کر رہے ہیں)، بلکہ اِنھیں تعجب اِس بات پر ہوا ہے کہ (روز قیامت کے لیے) ایک خبردار کرنے والا خود اِنھی کے اندر سے اِن کے پاس آ گیا ہے۔ چنانچہ اِن منکروں نے کہا ہے کہ یہ عجیب بات ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے تو دوبارہ لوٹائے جائیں گے! یہ لوٹایا جانا تو بہت بعید ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مخالفین کی مخالفت کی اصل علت: یہاں ’بَلْ‘ اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن نے اس اعتراض کو محض حقیقت سے فرار کے لیے ایک بہانہ قرار دیا ہے۔ اس ’بَلْ‘ کے مضمرات کھولیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ جو لوگ قرآن کو جنات و شیاطین کا القاء قرار دیتے ہیں ان کی تردید کے لیے قرآن کی عظمت و جلالت ہی کافی ہے۔ ان کے فرار کی اصل وجہ وہ نہیں ہے جو وہ ظاہر کر رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان کو اس بات پر تعجب ہے کہ ایک شخص انہی کے اندر سے ان کے لیے منذر بن کر اٹھا جو ان کو اس بات سے ڈرا رہا ہے کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اپنے اندر ہی کے ایک آدمی کو خدا کا رسول تسلیم کر لینا چونکہ ان کے دلوں پر بہت شاق ہے، اس وجہ سے اس کی تکذیب میں انھوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ مر کر، سڑ گل جانے کے بعد لوگ اٹھائے جائیں گے! یہ اٹھایا جانا بہت بعید از عقل ہے! اس آیت پر اچھی طرح غور کیجیے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ قرآن کے نزدیک ان کے اس فرار کی اصل علت ان کا استکبار ہے۔ وہ اپنے ہی اندر کے ایک شخص کو رسول ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس وجہ سے وہ قرآن کے وحی الٰہی ہونے کے بھی منکر ہیں اور قیامت کو بھی ایک بعید از قیاس چیز قرار دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ استکبار میں مبتلا نہ ہوتے تو وہ اتنے بلید نہیں ہیں کہ اللہ کے کلام اور کاہنوں کی خرافات میں امتیاز نہ کر سکیں۔ اور قیامت کے اثبات کے جو دلائل قرآن ان کے سامنے پیش کر رہا ہے ان کو سمجھنے سے قاصر رہ جائیں۔
      اس استکبار کی تفصیل پیچھے کی سورتوں میں گزر چکی ہے کہ یہ لوگ اول تو اپنی ہدایت کے لیے کسی رسول کی ہدایت کے قائل ہی نہیں ہیں اور اگر کسی درجے میں قائل ہیں بھی تو ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو وہ کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتا یا مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو رسول بناتا۔ ان سرداروں کے ہوتے یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو رسول بنا دے جو ایک بالکل غریب آدمی ہے۔
      ان اعتراضوں کے جواب پیچھے کی سورتوں، بالخصوص چوتھے گروپ میں جس کا جامع عمود اثبات رسالت ہے اور جو الفرقان سے شروع ہوتا ہے، تفصیل سے دیے جا چکے ہیں۔ یہاں گروپ کے مضمون کے تقاضے سے ان کے ان شبہات سے تعرض کیا ہے جو وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے امکان پر وارد کرتے تھے اور جن کو قرآن اور رسول کی مخالفت کے لیے، جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا، انھوں نے بہانہ بنا رکھا تھا۔

      جاوید احمد غامدی کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے (تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے)؟ یہ واپسی تو بڑی بعید ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس جملے کی ابتدا لفظ ’بَلْ‘ سے ہوئی ہے۔ یہ اِس بات پر دلیل ہے کہ اِس سے پہلے نفی کا ایک جملہ مقدر ہے۔ ہم نے ترجمے میں اُس کو کھول دیا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ قرآن سے اِن کے فرار کا باعث یہ نہیں ہے کہ یہ فی الواقع اُس کو شاعری، کہانت، سحرو ساحری یا القاے شیطانی کے قسم کی کوئی چیز سمجھتے ہیں اور اِس بات پر دل سے مطمئن ہو گئے ہیں کہ یہ خدا کا کلام نہیں ہے، بلکہ اِس کا باعث اِن کا استکبار ہے کہ یہ اپنے ہی اندر کے ایک شخص کو خدا کا بھیجا ہوا رسول ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ یہ قرآن کے بھی منکر ہو گئے ہیں اور قیامت کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ یہ تو بالکل ہی بعید از قیاس چیز ہے۔ آخر مرنے اور مرکر مٹی ہو جانے کے بعد کوئی شخص دوبارہ کس طرح زندہ ہو سکتا ہے؟

    • امین احسن اصلاحی ہم نے جان رکھا ہے جو کچھ زمین ان کے اندر سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس ایک محفوظ رکھنے والی کتاب بھی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مخالفین کے شبہات کا جواب: فرمایا کہ دوبارہ زندہ کیا جانا اس وجہ سے ان کو بعید از امکان معلوم ہو رہا ہے کہ جسموں کے سڑ گل کر خاک میں مل جانے کے بعد ان کے اجزا کو زمین سے فراہم کرنا، ان کے خیال میں، ناممکن ہے۔ یہ مغالطہ اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے علم کو اپنے علم پر قیاس کیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ جسم انسانی کے جن اجزا کو زمین تحلیل کرتی ہے، وہ ان سب کو جانتا ہے۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔ جس نے ہر چیز کو خلق کیا ہے اور جس کے حکم ہی سے ہر چیز پر موت طاری ہوتی ہے، اس سے کوئی چیز کس طرح مخفی رہ سکتی ہے!

      ’اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ‘ (الملک ۱۴)
      (کیا وہ نہیں جانے گا جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے؟)

      اور جب وہ جانتا ہے تو جب وہ چاہے گا ان تمام اجزا کو فراہم کر کے ہر ایک کے جسم کو ازسرنو مشکّل کر دے گا۔ اس کام میں اس کو ذرا بھی دشواری نہیں پیش آئے گی۔ جس نے ہر چیز کو عدم محض سے وجود بخشا اور اس کو اس میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی، آخر دوبارہ اس کے منتشر اجزاء کو اکٹھا کر دینے میں اس کو کیوں دشواری پیش آئے گی؟
      ’وَعِنۡدَنَا کِتَابٌ حَفِیْظٌ‘۔ یعنی اپنے ذاتی علم کے سوا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا سارا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے ایک دفتر بھی قائم کر رکھا ہے۔ جس میں یہ بھی درج ہے کہ کون شخص زمین کی کس پہنائی میں دفن ہے اور اس کے جسم کے اجزاء کہاں کہاں ہیں اور ہر شخص کے تمام اقوال و افعال بھی اس میں درج ہیں۔ نادانوں کو قیامت کے باب میں جس طرح یہ شبہ پیش آتا ہے کہ سڑ گل کر مٹی میں مل جانے کے بعد جسم انسانی کے اجزا کو فراہم کرنا اور ان کو ازسرنو جسم کی شکل میں مشکّل کرنا بھلا کس کے بس میں ہے اسی طرح یہ شبہ بھی پیش آتا ہے کہ ہر شخص کے ہر قول و فعل کا ریکارڈ محفوظ رکھ سکتا ہے کہ ایک دن وہ سب کا حساب کرنے اور سب کو سزا اور جزا دینے بیٹھے؟ اس ٹکڑے نے اس شبہے کو بھی صاف کر دیا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے تمام اقوال و اعمال کا ریکارڈ بھی ایک دفتر میں محفوظ کر رکھا ہے۔
      یہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کا معاملہ زمانۂ جاہلیت کے عربوں کے لیے تو اچنبھے کا ہو سکتا تھا لیکن اس زمانے میں سائنس نے جو انکشافات کیے ہیں ان کو جاننے کے بعد، اگر کوئی شخص قرآن کے اس دعوے میں شک کرے تو ایسے ہٹ دھرموں کو کوئی بڑی سے بڑی دلیل بھی قائل نہیں کر سکتی۔ یہ لوگ اس وقت مانیں گے جب ان کے ہاتھوں میں ان کے اعمال نامے پکڑا دیے جائیں گے، لیکن اس وقت کا ماننا بالکل بے سود ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی (ہمارے علم کو بھی یہ اپنے لحاظ سے دیکھتے ہیں، دراں حالیکہ) اِن کے اندر سے زمین جو کچھ کھاتی ہے، وہ سب ہم نے جان رکھا ہے اور ہمارے پاس وہ کتاب بھی ہے جو ہر چیز کو محفوظ رکھتی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ایک تو ہمارا ذاتی علم ہے جو ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، دوسرے تمام مخلوقات کا ریکارڈ محفوظ کرنے کے لیے ہم نے ایک دفتر بھی قائم کر رکھا ہے جس میں روح و جسم سے متعلق تمام معلومات اُن کے جزئیات کے ساتھ درج کر دی گئی ہیں۔ انسان کے منتشر اجزا کو اکٹھا کر کے اُسے دوبارہ زندہ کر دینے اور اُس کے اقوال و افعال کا محاسبہ کرنے میں ہمیں کوئی دشواری آخر کس طرح پیش آ سکتی ہے؟

    • امین احسن اصلاحی بلکہ انھوں نے حق کو جھٹلایا ہے جب کہ وہ ان کے پاس آ چکا ہے۔ پس وہ ایک صریح تضاد فکر میں مبتلا ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’حق‘ اسی سورہ کی آیت ۱۹ اور آیت ۴۲ میں قیامت کے لیے آیا ہے لیکن یہاں ’لَمَّا جَآءَ ہُمْ‘ کا قرینہ پتا دے رہا ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے جو قیامت سے لوگوں کو آگاہ کر رہا تھا لیکن لوگ اس کی تکذیب کر رہے تھے اور اس کی تکذیب کے لیے بہانہ کے طور پر قیامت کے خلاف وہ شبہات پیش کر رہے تھے جو اوپر بیان ہوئے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے ان شبہات سے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گویا قیامت فی الواقع ایک بہت بعید از امکان چیز ہے اور یہ اس کا انکار جو کر رہے ہیں تو اس کے لیے معقول وجوہ ان کے پاس ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے ایک بالکل بدیہی حق کی تکذیب کی ہے اور وہ بھی اس وقت جب وہ ان کے سامنے بالکل واضح طور پر آ گیا۔
      ’لَمَّا جَآءَ ہُمْ‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ قرآن مجید جس قیامت کی خبر دے رہا ہے وہ حق تو پہلے بھی تھی لیکن اب تک یہ لوگ اس کے باب میں اگر گرفتار شبہات رہے تو ان کے پاس کچھ عذر بھی تھا کہ یہ قرآن و کتاب سے ناآشنا اُمّی تھے لیکن اب وہ کیا عذر کر سکتے ہیں جبکہ وہ ایک ایسے حق کا انکار کر رہے ہیں جو نصف النہار کے سورج کی طرح ان کے سروں پر چمک رہا ہے!
      مکذبین قیامت کا تضاد فکر: ’فَہُمْ فِیْ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ‘۔ ’اَمْرٍ مَّرِیْجٍ‘ کی تشریح اہل لغت ’امر مختلط‘ یا ’امر ملتبس‘ کے الفاظ سے کرتے ہیں، یعنی ایک ایسی صورت حال جس میں نہایت واضح قسم کا تناقض و تضاد ہو۔ ’مرج‘ کے معنی ’خلط‘ یعنی گڈ مڈ کر دینے کے ہیں۔ سورۂ رحمان میں ہے۔

      ’مَرَجَ الْبَحْرَیْْنِ یَلْتَقِیَانِ‘ (۱۹)
      (اس نے کھاری اور شیریں دونوں قسم کے دریا چھوڑے جو آپس میں ٹکراتے ہیں)۔

      قرآن کی تکذیب کر کے مکذبین جس صورت حال سے دوچار ہوئے یہ اس کی ٹھیک ٹھیک تعبیر ہے کہ یہ لوگ ایک صریح قسم کے تضاد فکر میں مبتلا ہو کے رہ گئے ہیں۔ ایک طرف یہ خدا اور اس کی ان تمام صفات کا اقرار کرتے ہیں جو قیامت کو لازم کرتی ہیں، دوسری طرف قیامت کا انکار کرتے ہیں جو اس اقرار کا بالکل بدیہی تقاضا ہے۔ اس طرح وہ ایک ایسی ذہنی الجھن میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کی کوئی راہ ان کو سجھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس الجھن سے نجات کی واحد راہ وہی ہے جو قرآن ان کو بتا رہا ہے، لیکن اس کو قبول کرنے کے لیے وہ تیار نہیں ہیں حالانکہ حق کی تکذیب کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ آدمی اپنی تکذیب کو جائز ثابت کرنے کے لیے جتنی دلیلیں ایجاد کرتا ہے وہ سب اس کے موقف کے بودے پن کو عریاں کرتے ہیں۔ قرآن نے ان کے اسی تضاد فکر کی طرف سورۂ ذاریات میں، جو اس کی توام سورہ ہے

      ’إِنَّکُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ‘ (۸)
      (بے شک تم لوگ ایک شدید قسم کے تناقض میں گرفتار ہو)

      کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ اس مسئلہ کی پوری وضاحت سورۂ نمل کی آیت ۶۶ ’بَلِ ادَّارَکَ عِلْمُہُمْ فِی الْآخِرَۃِ ......الاٰیۃ‘ کے تحت ہو چکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ انسان کی گمراہی میں سب سے زیادہ دخل اس کے اسی تضاد فکر کو ہے۔ یا تو وہ اپنی سہل انگاری کے سبب سے رطب و یابس ہر قسم کے نظریات اپنے ذہن میں جمع کر لیتا ہے یا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں صحیح نظریات و عقائد کے ساتھ باطل نظریات بھی جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کی زندگی مجموعۂ اضداد بن جاتی ہے۔ اگر انسان اپنے افکار کا برابر جائزہ لیتا رہے، تنقید کی صلاحیت مردہ نہ ہونے دے، اور خواہشات نفس کی پیروی میں حق کے ساتھ باطل کا جوڑ ملانے کی کوشش نہ کرے تو وہ شیطان کے اس فتنہ سے محفوظ رہ سکتا ہے، لیکن ایسے لوگ کم ہوتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (نہیں، وہ بات نہیں جو یہ کہہ رہے ہیں)، بلکہ اِنھوں نے حق کو جھٹلایا ہے، جبکہ وہ اِن کے پاس آ گیا ہے۔ اِس لیے اب یہ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ اِن کے جھٹلانے کی وجہ وہ شبہات نہیں ہیں جو یہ قیامت کے بارے میں پیش کر رہے ہیں، بلکہ ضد اور ہٹ دھرمی ہے۔ چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ اِنھوں نے جانتے بوجھتے ایک صریح حق کو جھٹلایا ہے اور وہ بھی اُس وقت، جب وہ قرآن مجید کی صورت میں بالکل واضح طریقے سے اِن کے سامنے آ گیا ہے۔
      یعنی ایک بات کو مانتے اور اُسی وقت اُس کے کسی بدیہی تقاضے کا انکار کر دیتے ہیں۔ چنانچہ ایسی الجھن میں مبتلا ہو گئے ہیں جس سے نکلنے کی کوئی راہ اِن کو سجھائی نہیں دے رہی۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...انسان کی گمراہی میں سب سے زیادہ دخل اُس کے اِسی تضاد فکر کو ہے۔ یا تو وہ اپنی سہل انگاری کے سبب سے رطب و یابس، ہرقسم کے نظریات اپنے ذہن میں جمع کر لیتا ہے یا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں صحیح نظریات و عقائد کے ساتھ باطل نظریات بھی جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اُس کی زندگی مجموعۂ اضداد بن جاتی ہے۔ اگر انسان اپنے افکار کا برابر جائزہ لیتا رہے، تنقید کی صلاحیت مردہ نہ ہونے دے اور خواہشات نفس کی پیروی میں حق کے ساتھ باطل کا جوڑ ملانے کی کوشش نہ کرے تو وہ شیطان کے اِس فتنے سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ لیکن ایسے لوگ کم ہوتے ہیں۔‘‘ (تدبرقرآن ۷/ ۵۳۸)

       

    • امین احسن اصلاحی کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا، کس طرح ہم نے اس کو بنایا اور اس کو سنوارا اور کہیں اس میں کوئی رخنہ نہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی طرف اشارہ: یہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین قیامت کو اپنی قدرت، ربوبیت اور حکمت کی ان بدیہی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو اوپر اور نیچے ہر جگہ نظر آتی ہیں اور ہر اس شخص کے اندر بصیرت اور یاددہانی پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں جس کے سینہ میں اثرپذیر اور متوجہ ہونے والا دل ہو۔
      سب سے پہلے اپنی عظیم قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ کیا انھوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں اٹھائی کہ دیکھتے کہ کس طرح ہم نے اس کو بلند کیا، اس کو ستاروں سے سجایا اور ہماری قدرت و حکمت کا اعجاز ہے کہ ایسی ناپیدا کنار چھت میں کہیں کسی رخنہ کی نشان دہی وہ نہیں کر سکتے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کی قدرت و حکمت کا یہ کرشمہ وہ اپنے سروں پر دیکھتے ہیں، کیا اس کے لیے ان کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کر دینا مشکل ہو جائے گا؟

      جاوید احمد غامدی (یہ نہیں مانتے) توکیا اِنھوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا؟ ہم نے کس طرح اُس کو بنایا اور اُس کو سنوارا ہے اور اُس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ گاڑ دیے اور اس میں ہر قسم کی خوش منظر چیزیں اُگائیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس کے بعد قدرت و حکمت کے ساتھ اپنی ربوبیت اور پرورش کے اہتمام کی طرف بھی توجہ دلائی۔ فرمایا کہ وہ اپنے نیچے دیکھیں کہ کس طرح ہم نے زمین کو ان کے قدموں کے نیچے بچھایا ہے اور اس کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے اندر پہاڑوں کی میخیں گاڑ دی ہیں اور اس میں طرح طرح کی چیزیں اگا رکھی ہیں جو ان کی غذا کے کام آتی ہیں اور جن کی خوش منظری ان کی باصرہ نوازی بھی کرتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس پروردگار کی قدرت و حکمت اور جس کی پروردگاری کی یہ شانیں وہ دیکھ رہے ہیں کیا اس کے لیے دشوار ہے کہ وہ ان کے مر جانے کے بعد، ان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرے؟ کیا جس پروردگار نے ان کی پرورش کا یہ اہتمام کر رکھا ہے وہ ان کو اسی طرح چھوڑے رکھے گا کہ وہ کھائیں، پئیں، عیش کریں، ان سے کبھی اس باب میں کوئی پرسش نہیں ہو گی۔

      جاوید احمد غامدی اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اُس میں پہاڑ جمائے اور ہر قسم کی خوش منظر چیزیں اُس میں اگا دیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہر متوجہ ہونے والے بندے کی بصیرت اور یاددہانی کے لیے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ دنیا اپنے وجود میں ایک درس گاہ معرفت ہے: ’تَبْصِرَۃً وَّذِکْرٰی لِکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کے اندر اپنی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی یہ شانیں اس لیے نمایاں فرمائی ہیں کہ جو لوگ توجہ کرنے والے ہیں، ان کے اندر یہ بصیرت اور یاددہانی پیدا کریں۔ ’تَبْصِرَۃٌ‘ سے مراد آنکھوں کے اندر بصیرت پیدا کرنا ہے کہ وہ ظاہر سے گزر کر اس حقیقت تک پہنچ سکیں جس کی طرف ظاہر رہنمائی کر رہا ہے۔ اور ’ذِکْرٰی‘ سے مراد غفلت کے حجاب کو دور کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے چپہ چپہ کو ایسے عجائب اور کرشموں سے بھر دیا ہے جو آنکھوں کے پردے اٹھانے اور دلوں کے جھنجھوڑنے اور جگانے کے لیے کافی ہیں۔ لیکن یہ کرشمے ان پر کارگر ہوتے ہیں جن کے اندر اثرپذیری کی حس موجود ہو۔ جو لوگ اپنی محسوس پرستی کی وجہ سے اپنی یہ حس لطیف مردہ کر چکے ہوں ان کے لیے یہ ساری کائنات ایک عالم ظلمات ہے۔ یہاں وہ بات یاد رکھیے جس کی طرف اس کتاب میں جگہ جگہ، ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ یہ دنیا اپنے بقا کے لیے ان تمام رنگا رنگیوں اور گل کاریوں کی محتاج نہیں تھی جو اس کے ہر گوشے میں نمایاں ہیں، لیکن قدرت نے اس فیاضی کے ساتھ اس کے اندر اپنی شانیں جو دکھائی ہیں تو اسی لیے دکھائی ہیں کہ انسان کی وہ حس لطیف جو قدرت، حکمت، حسن اور فیض و کرم سے اثرپذیر اور بیدار ہوتی ہے وہ بیدار ہو اور اس چمن کے ایک ایک پتہ پر جو درس حکمت ثبت ہیں وہ ان کو سیکھے اور سمجھے، لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ خالق نے ہر انسان کے اندر توجہ اور انابت کی جو صلاحیت ودیعت فرمائی ہے وہ اس کو بروئے کار لائے۔ اگر کوئی شخص اپنی اس صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کو ایسے بلید و بے حس جانوروں کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ اس نے انسان کو ذی ارادہ ہستی جو بنایا ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جو شعور اس کو عطا ہوا ہے اس کی قدر کرے اور اس کی رہنمائی میں آگے کے لیے قدم اٹھائے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کو خدا کی طرف سے مزید روشنی عطا ہوتی ہے ورنہ جو کچھ اس کو عطا ہوتا ہے وہ بھی اس کی ناقدری کی پاداش میں سلب ہو جاتا ہے۔
      ان آیتوں میں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی بیان ہوا ہے۔ اطمیان قلب اور شرح صدر کے لیے بعض حوالے ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔ سورۂ بنی اسرائیل میں، ان لوگوں کو خطاب کر کے، جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو مستبعد خیال کرتے تھے، فرمایا ہے:

      اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَآٰی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ.(بنی اسرائیل:۹۹)
      ’’کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ ان کی طرح پھر پیدا کر دے۔‘‘

      منکرین قیامت کے اسی شبہ کا جواب سورۂ نازعات میں ان الفاظ میں دیا ہے۔

      ءَ اَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ بَنٰھَا ہ رَفَعَ سَمْکَھَا فَسَوّٰھَا ہ وَاَغْطَشَ لَیْلَھَا وَاَخْرَجَ ضُحٰھَا ہ وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰھَا ہ اَخْرَجَ مِنْھَا مَآءَ ھَا وَمَرْعٰھَا ہ وَالْجِبَالَ اَرْسٰھَا ہ مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِاَنْعَامِکُمْ. (النازعات: ۲۷-۳۳)
      ’’کیا تمہارا پیدا کیا جانا زیادہ کٹھن ہے یا آسمان کا؟ اس کو بنایا، اس کے گنبد کو بلند کیا، پھر اس کو اچھی طرح ہموار کیا، اور اس کی رات کو ڈھانک دیا اور اس کے دن کو بے نقاب کیا۔ اور اس کے بعد زمین کو بچھایا۔ اس سے اس کا پانی اور چارہ برآمد کیا اور پہاڑوں کو لنگر انداز کیا۔ تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے برتنے کے لیے۔‘‘

      ان آیات پر تدبر کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان میں قدرت، عظمت، حکمت اور ربوبیت کے وہ سارے پہلو، کچھ مزید وسعت کے ساتھ، سمٹ آئے ہیں، جن سے سورۂ قٓ کی زیربحث آیات میں قیامت کے وقوع، اس کی ضرورت اور اس کے مقتضائے صفات الٰہی ہونے پر استدلال فرمایا گیا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی ہر اُس بندے کی بصیرت اور یاددہانی کے لیے جو توجہ کرنے والا ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اُس عظیم قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی ہے جو زمین و آسمان کے ہر حصے اور ہر گوشے سے نمایاں ہے اور جسے ہر صاحب بصیرت کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھ سکتا ہے۔ اِس کے لیے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں: ایک ’تَبْصِرَۃ‘ اور دوسرے ’ذِکْرٰی‘۔ استاذ امام نے اِن کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...’تَبْصِرَۃ‘ سے مراد آنکھوں کے اندر بصیرت پیدا کرنا ہے کہ وہ ظاہر سے گزر کر اُس حقیقت تک پہنچ سکیں جس کی طرف ظاہر رہنمائی کر رہا ہے۔ اور ’ذِکْرٰی‘ سے مراد غفلت کے حجاب کو دور کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے چپہ چپہ کو ایسے عجائب اور کرشموں سے بھر دیا ہے جو آنکھوں کے پردے اٹھانے اور دلوں کے جھنجھوڑنے اور جگانے کے لیے کافی ہیں۔ لیکن یہ کرشمے اُن پر کار گر ہوتے ہیں جن کے اندر اثر پذیری کی حس موجود ہو۔ جو لوگ اپنی محسوس پرستی کی وجہ سے اپنی یہ حس لطیف مردہ کر چکے ہوں، اُن کے لیے یہ ساری کائنات ایک عالم ظلمات ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۷/ ۵۳۹)

       

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا جس سے ہم نے باغ بھی اگائے اور کاٹی جانے والی فصلیں بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ ایک اور پہلو سے: یہ آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف ایک اور زاویہ سے توجہ دلائی جس سے آسمان و زمین کے درمیان توافق کے پہلو سے توحید کی شہادت بھی ملتی ہے۔ ان کے اندر ربوبیت کے جو اسباب ودیعت ہیں ان سے جزا و سزا کا لزوم بھی سامنے آتا ہے اور بارش سے مردہ زمین کے اندر جو حیات تازہ نمودار ہوتی ہے اس سے حیات بعد الممات کے وقوع کا بھی مشاہدہ ہر شخص کو ہوتا ہے۔
      ’مَآءٌ مُّبٰرَکٌ‘ سے مراد وہ بارش ہے جو باعث زرخیزی و شادابی ہو۔ بعض مرتبہ ایسی بارش بھی ہوتی ہے جو زرخیزی کے بجائے تباہی کا باعث بن جاتی ہے اور وہ قوموں کے لیے عذاب کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہاں ’مبارک‘ کی صفت اسی شبہ کے ازالہ کے لیے ہے۔
      ’حَبَّ الْحَصِیْدِ‘ سے وہ اجناس مراد ہیں جن کا دِرو عمل میں آتا ہے اور جو ذخیرہ کی جاتی ہیں۔ مثلاً گندم اور جَو وغیرہ۔ باغوں کے ساتھ ’حَبَّ الْحَصِیْدِ‘ کے ذکر سے مقصود اس اہتمام ربوبیت کی طرف توجہ دلانا ہے جو اس کائنات کے رب نے اپنے بندوں کے لیے فرمایا ہے کہ اس نے لوگوں کے لیے باغوں میں تازہ اور لذیذ پھل بھی پیدا کیے اور کھیتوں میں غذائی اجناس بھی اگائیں جو پکنے پر کاٹ کر ذخیرہ کر لی جاتی اور برابر کام آتی ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اور آسمان سے ہم نے برکتوں والا پانی برسایا، پھر اُس سے باغ اور فصلیں اگائیں جو کاٹ لی جاتی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’مَآءً مُّبٰرَکًا‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اِن میں ’مُبٰرَکًا‘ کی صفت بارش کی اُس فیض بخشی کو نمایاں کرنے کے لیے آئی ہے جو لوگوں کے لیے زرخیزی اور شادابی کا باعث بنتی ہے۔
      یہ اہتمام ربوبیت کے اِس پہلو کی طرف اشارہ ہے کہ یہ فصلیں صرف پکنے کے وقت ہی کام نہیں آتیں، بلکہ کاٹ کر ذخیرہ کر لی جاتی ہیں اور اِس کے بعد برابر کام آتی رہتی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور کھجوروں کے بلند و بالا درخت بھی جن میں تہ بہ تہ خوشے لگتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّھَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌ‘۔ بظاہر ’جَنّٰت‘ کے بعد ’نخل‘ کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی، لیکن یہ عام کے بعد خاص کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب کا خاص میوہ یہی تھا جو ان کے لیے بہترین پھل بھی تھا اور بڑی حد تک ان کی غذائی ضرورت بھی پوری کرتا تھا۔ اس کی دراز قامتی اور اس کے تہ بہ تہ خوشوں کی طرف اشارہ مخاطب کے اندر مشاہدۂ کائنات کی حس اور شکرگزاری کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے ہے کہ وہ قدرت کی ان نشانیوں کو دیکھے اور ان سے وہ اثر لے جو ایک حساس اور بیدار دل کو لینا چاہیے۔

      جاوید احمد غامدی اور کھجوروں کے بلند و بالا درخت اگا دیے جن میں تہ بر تہ خوشے لگتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      باغوں اور فصلوں کے بعد کھجوروں کا ذکر بطور خاص فرمایا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ عام کے بعد خاص کا ذکر اِس لیے ہوا کہ عرب کا خاص میوہ یہی تھا جو اُن کے لیے بہترین پھل بھی تھا اور بڑی حد تک اُن کی غذائی ضرورت بھی پوری کرتا تھا۔ اِس کی دراز قامتی اور اِس کے تہ بہ تہ خوشوں کی طرف اشارہ مخاطب کے اندر مشاہدۂ کائنات کی حس اور شکرگزاری کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے ہے کہ وہ قدرت کی اِن نشانیوں کو دیکھے اور اِن سے وہ اثر لے جو ایک حساس اور بیدار دل کو لینا چاہیے۔‘‘ (تدبرقرآن ۷/ ۵۴۱)

       

    • امین احسن اصلاحی بندوں کی روزی کے لیے۔ اور ہم نے اس سے مردہ زمین کو زندہ کر دیا۔ اسی طرح مرنے کے بعد زمین سے نکلنا بھی ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ‘۔ یعنی تہ بہ تہ خوشے خود اپنی صورت سے گواہی دے رہے ہیں کہ خالق نے ان پر اپنی قدرت، حکمت اور صناعی اس فیاضی کے ساتھ اس لیے صرف فرمائی ہے کہ اس کے بندے ان سے بہرہ مند ہوں، ان کے اندر اس کی حکمت و ربوبیت کی شانوں کا مشاہدہ کریں اور ان نعمتوں کا حق پہچانیں کہ ایک دن لازماً ان کی بابت اس سے پرسش ہونی ہے۔
      ’وَاَحْیَیْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا کَذٰلِکَ الْخُرُوْجُ‘۔ یہ وہ اصل مدعا ہے جس کو اس سورہ کے عمود کی حیثیت حاصل ہے۔ فرمایا کہ جس بارش کی یہ برکتیں دیکھتے ہو اسی بارش کا یہ کرشمہ بھی ہے کہ زمین جو بالکل مردہ اور بے آب و گیاہ ہوتی ہے، اس کے کسی گوشے میں بھی کسی سبزہ یا روئیدگی کا کوئی نشان نہیں ہوتا، بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی اس کے چپہ چپہ سے ایک حیات تازہ نمودار ہو جاتی ہے۔ اسی پر قیاس کرو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کو بھی، جس سے تم کو آگاہ کیا جا رہا ہے، لیکن تم اس کو ناممکن خیال کر رہے ہو۔

      جاوید احمد غامدی بندوں کی روزی کے لیے۔ اور مردہ زمین کو ہم نے اِسی پانی سے زندہ کر دیا۔ (مرنے والوں کا زمین سے) نکلنا بھی اِسی طرح ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      قدرت و حکمت کے بعد اب ربوبیت کے پہلو کو نمایاں کیا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ جس پروردگار کی قدرت، حکمت اور پروردگاری کی یہ شانیں وہ دیکھ رہے ہیں، اُس کے لیے کیا مشکل ہے کہ اِن کی موت کے بعد اِنھیں دوبارہ اٹھا کھڑا کرے؟ اور وہ کیوں ایسا نہ کرے اور اِن سے اپنی نعمتوں کا حساب کیوں نہ لے، جبکہ اِن کی پرورش کے لیے اُس نے یہ غیرمعمولی اہتمام کیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود، (عاد، فرعون اور لوط کے بھائیوں اور اصحب الایکہ اور قوم تبع) نے بھی جھٹلایا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کو تہدید: یہ قریش کو تہدید ہے کہ ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود، عاد، فرعون، قوم لوط، اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے بھی اسی طرح تکذیب کی جب کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان پر اچھی طرح حق کو واضح کر دیا۔ بالآخر اس تکذیب کے جس انجام سے ان کو آگاہ کیا گیا تھا وہ ان کے سامنے ظاہر ہو کر رہا۔ اسی طرح یہ لوگ بھی اگر اس تکذیب پر اڑے رہ گئے تو جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ لازماً آ کے رہے گا اور آسمان و زمین کی کوئی طاقت ان کو خدا کی پکڑ سے بچا نہ سکے گی۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو رسول کے ذریعہ سے اتمام حجت کے بعد لازماً ظہور میں آتی ہے۔ اس کی وضاحت ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔
      اس تہدید کی طرف اشارہ اوپر آیت ۵ میں بھی ہو چکا ہے لیکن وہاں اس اشارے کے بعد کلام کا رخ دلائل معاد کے ذکر کی طرف مڑ گیا تھا۔ دلائل کے بعد اس اشارے کی وضاحت فرما دی کہ اس جسارت کے ساتھ یہ لوگ جو تکذیب کر رہے ہیں تو اپنی ان پیش رو قوموں کے انجام کو سامنے رکھیں جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں کیفر کردار کو پہنچ چکی ہیں۔
      اصحاب الرس: یہاں جن قوموں کا ذکر آیا ہے ان سب کا حوالہ مختلف پہلوؤں سے پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکا ہے اور ہم بقدر ضرورت ان کی تاریخی حیثیت کی وضاحت کر چکے ہیں۔ اصحاب الرس کا ذکر سورۂ فرقان کی آیت ۳۸ میں آیا ہے۔ اس کے تحت ہم ان کے بارے میں مفسرین کے اقوال کے حوالے بھی دے چکے ہیں اور اپنی رائے بھی ظاہر کر چکے ہیں۔ اگرچہ قوموں کے ذکر میں ترتیب یہاں تاریخی نہیں ہے لیکن قوم نوح کے بعد معاً اصحاب الرس کا ذکر اس بات کا قرینہ ضرور ہے کہ ان کا تعلق قدیم اقوام بائدہ سے ہے جن میں اکثر کی تاریخ بالکل ناپید ہو چکی ہے۔
      ’کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ‘ کے الفاظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان کی طرف ایک رسول کی بعثت ہوئی جس کی انھوں نے تکذیب کی اور اس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا جس نے ان کو فنا کر دیا۔ تفسیر کی کتابوں میں ایک روایت یہ بھی نقل ہوئی ہے کہ اس قوم نے اپنے رسول کو کنویں میں دفن کر دیا تھا۔ ’رَسٌّ‘ کنویں کو کہتے ہیں، اس وجہ سے ان کا نام اصحاب الرس ہوا۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ رسولوں میں سے کسی کا اس کی قوم کے ہاتھوں قتل ہونا ثابت نہیں ہے۔ ’رَسّ‘ کے معنی کنویں کے ہوں بھی تو اس کی طرف نسبت کے لیے اس واقعہ کی صحت ضروری نہیں ہے۔
      ’فرعون‘ کے ساتھ اس کی قوم کا ذکر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اصل مجرم کی حیثیت درحقیقت فرعون ہی کو حاصل تھی۔ اسی نے اپنی قوم کو گمراہ کیا۔ سورۂ طٰہٰ میں ہے:

      ’وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ وَمَا ہَدٰی‘ (۷۹)
      (اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور اس نے ان کو ٹھیک راہ نہ دکھائی)۔

      یہی بات دوسرے الفاظ میں یوں ارشاد ہوئی ہے:

      ’اذْہَبْ إِلَی فِرْعَوْنَ إِنَّہُ طَغٰی‘ (۲۴)
      (فرعون کے پاس جاؤ، وہ بہت سرکش ہو گیا ہے)۔

      ’قَوْمُ تُبَّعٍ‘ کا ذکر سورۂ دخان کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اِن سے پہلے نوح کی قوم، اصحاب الرس، ثمود کی قوم نے بھی (اِسی طرح) جھٹلایا تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ عرب کی اقوام بائدہ میں سے کسی قوم کا حوالہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بھیجا اور اُس کو جھٹلانے کی پاداش میں اُس قوم پر اپنا عذاب نازل کر دیا۔

    • امین احسن اصلاحی (ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود،) عاد، فرعون اور لوط کے بھائیوں (اور اصحب الایکہ اور قوم تبع نے بھی جھٹلایا)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کو تہدید: یہ قریش کو تہدید ہے کہ ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود، عاد، فرعون، قوم لوط، اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے بھی اسی طرح تکذیب کی جب کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان پر اچھی طرح حق کو واضح کر دیا۔ بالآخر اس تکذیب کے جس انجام سے ان کو آگاہ کیا گیا تھا وہ ان کے سامنے ظاہر ہو کر رہا۔ اسی طرح یہ لوگ بھی اگر اس تکذیب پر اڑے رہ گئے تو جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ لازماً آ کے رہے گا اور آسمان و زمین کی کوئی طاقت ان کو خدا کی پکڑ سے بچا نہ سکے گی۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو رسول کے ذریعہ سے اتمام حجت کے بعد لازماً ظہور میں آتی ہے۔ اس کی وضاحت ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔
      اس تہدید کی طرف اشارہ اوپر آیت ۵ میں بھی ہو چکا ہے لیکن وہاں اس اشارے کے بعد کلام کا رخ دلائل معاد کے ذکر کی طرف مڑ گیا تھا۔ دلائل کے بعد اس اشارے کی وضاحت فرما دی کہ اس جسارت کے ساتھ یہ لوگ جو تکذیب کر رہے ہیں تو اپنی ان پیش رو قوموں کے انجام کو سامنے رکھیں جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں کیفر کردار کو پہنچ چکی ہیں۔
      اصحاب الرس: یہاں جن قوموں کا ذکر آیا ہے ان سب کا حوالہ مختلف پہلوؤں سے پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکا ہے اور ہم بقدر ضرورت ان کی تاریخی حیثیت کی وضاحت کر چکے ہیں۔ اصحاب الرس کا ذکر سورۂ فرقان کی آیت ۳۸ میں آیا ہے۔ اس کے تحت ہم ان کے بارے میں مفسرین کے اقوال کے حوالے بھی دے چکے ہیں اور اپنی رائے بھی ظاہر کر چکے ہیں۔ اگرچہ قوموں کے ذکر میں ترتیب یہاں تاریخی نہیں ہے لیکن قوم نوح کے بعد معاً اصحاب الرس کا ذکر اس بات کا قرینہ ضرور ہے کہ ان کا تعلق قدیم اقوام بائدہ سے ہے جن میں اکثر کی تاریخ بالکل ناپید ہو چکی ہے۔
      ’کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ‘ کے الفاظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان کی طرف ایک رسول کی بعثت ہوئی جس کی انھوں نے تکذیب کی اور اس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا جس نے ان کو فنا کر دیا۔ تفسیر کی کتابوں میں ایک روایت یہ بھی نقل ہوئی ہے کہ اس قوم نے اپنے رسول کو کنویں میں دفن کر دیا تھا۔ ’رَسٌّ‘ کنویں کو کہتے ہیں، اس وجہ سے ان کا نام اصحاب الرس ہوا۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ رسولوں میں سے کسی کا اس کی قوم کے ہاتھوں قتل ہونا ثابت نہیں ہے۔ ’رَسّ‘ کے معنی کنویں کے ہوں بھی تو اس کی طرف نسبت کے لیے اس واقعہ کی صحت ضروری نہیں ہے۔
      ’فرعون‘ کے ساتھ اس کی قوم کا ذکر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اصل مجرم کی حیثیت درحقیقت فرعون ہی کو حاصل تھی۔ اسی نے اپنی قوم کو گمراہ کیا۔ سورۂ طٰہٰ میں ہے:

      ’وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ وَمَا ہَدٰی‘ (۷۹)
      (اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور اس نے ان کو ٹھیک راہ نہ دکھائی)۔

      یہی بات دوسرے الفاظ میں یوں ارشاد ہوئی ہے:

      ’اذْہَبْ إِلَی فِرْعَوْنَ إِنَّہُ طَغٰی‘ (۲۴)
      (فرعون کے پاس جاؤ، وہ بہت سرکش ہو گیا ہے)۔

      ’قَوْمُ تُبَّعٍ‘ کا ذکر سورۂ دخان کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائیوں نے بھی (اِسی طرح) جھٹلایا تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      قوم فرعون کے بجاے یہ تنہا فرعون کا ذکر اِس لیے ہوا ہے کہ اصل مجرم کی حیثیت درحقیقت اُسے ہی حاصل تھی۔

    • امین احسن اصلاحی اصحب الایکہ اور قوم تبع (نے بھی جھٹلایا)۔ ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہماری وعید ان پر واقع ہو کر رہی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کو تہدید: یہ قریش کو تہدید ہے کہ ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود، عاد، فرعون، قوم لوط، اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے بھی اسی طرح تکذیب کی جب کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان پر اچھی طرح حق کو واضح کر دیا۔ بالآخر اس تکذیب کے جس انجام سے ان کو آگاہ کیا گیا تھا وہ ان کے سامنے ظاہر ہو کر رہا۔ اسی طرح یہ لوگ بھی اگر اس تکذیب پر اڑے رہ گئے تو جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ لازماً آ کے رہے گا اور آسمان و زمین کی کوئی طاقت ان کو خدا کی پکڑ سے بچا نہ سکے گی۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو رسول کے ذریعہ سے اتمام حجت کے بعد لازماً ظہور میں آتی ہے۔ اس کی وضاحت ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔
      اس تہدید کی طرف اشارہ اوپر آیت ۵ میں بھی ہو چکا ہے لیکن وہاں اس اشارے کے بعد کلام کا رخ دلائل معاد کے ذکر کی طرف مڑ گیا تھا۔ دلائل کے بعد اس اشارے کی وضاحت فرما دی کہ اس جسارت کے ساتھ یہ لوگ جو تکذیب کر رہے ہیں تو اپنی ان پیش رو قوموں کے انجام کو سامنے رکھیں جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں کیفر کردار کو پہنچ چکی ہیں۔
      اصحاب الرس: یہاں جن قوموں کا ذکر آیا ہے ان سب کا حوالہ مختلف پہلوؤں سے پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکا ہے اور ہم بقدر ضرورت ان کی تاریخی حیثیت کی وضاحت کر چکے ہیں۔ اصحاب الرس کا ذکر سورۂ فرقان کی آیت ۳۸ میں آیا ہے۔ اس کے تحت ہم ان کے بارے میں مفسرین کے اقوال کے حوالے بھی دے چکے ہیں اور اپنی رائے بھی ظاہر کر چکے ہیں۔ اگرچہ قوموں کے ذکر میں ترتیب یہاں تاریخی نہیں ہے لیکن قوم نوح کے بعد معاً اصحاب الرس کا ذکر اس بات کا قرینہ ضرور ہے کہ ان کا تعلق قدیم اقوام بائدہ سے ہے جن میں اکثر کی تاریخ بالکل ناپید ہو چکی ہے۔
      ’کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ‘ کے الفاظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان کی طرف ایک رسول کی بعثت ہوئی جس کی انھوں نے تکذیب کی اور اس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا جس نے ان کو فنا کر دیا۔ تفسیر کی کتابوں میں ایک روایت یہ بھی نقل ہوئی ہے کہ اس قوم نے اپنے رسول کو کنویں میں دفن کر دیا تھا۔ ’رَسٌّ‘ کنویں کو کہتے ہیں، اس وجہ سے ان کا نام اصحاب الرس ہوا۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ رسولوں میں سے کسی کا اس کی قوم کے ہاتھوں قتل ہونا ثابت نہیں ہے۔ ’رَسّ‘ کے معنی کنویں کے ہوں بھی تو اس کی طرف نسبت کے لیے اس واقعہ کی صحت ضروری نہیں ہے۔
      ’فرعون‘ کے ساتھ اس کی قوم کا ذکر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اصل مجرم کی حیثیت درحقیقت فرعون ہی کو حاصل تھی۔ اسی نے اپنی قوم کو گمراہ کیا۔ سورۂ طٰہٰ میں ہے:

      ’وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ وَمَا ہَدٰی‘ (۷۹)
      (اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور اس نے ان کو ٹھیک راہ نہ دکھائی)۔

      یہی بات دوسرے الفاظ میں یوں ارشاد ہوئی ہے:

      ’اذْہَبْ إِلَی فِرْعَوْنَ إِنَّہُ طَغٰی‘ (۲۴)
      (فرعون کے پاس جاؤ، وہ بہت سرکش ہو گیا ہے)۔

      ’قَوْمُ تُبَّعٍ‘ کا ذکر سورۂ دخان کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اور ایکہ والوں اور تبع کی قوم نے بھی۔ ہر ایک نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو (دیکھ لو کہ) میری وعید اُن پر واقع ہو کر رہی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس سنت الٰہی کا حوالہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے اتمام حجت کے بعد لازماً ظہور میں آ جاتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے عاجز رہے! بلکہ یہ لوگ ازسرنو پیدا کیے جانے کے باب میں مبتلائے شک ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نقاش نقش ثانی بہتر کشد زِاَوّل: اوپر کی آیات ۶-۱۱ میں آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے خاص اہتمام کے ساتھ اپنی اس قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی ہے جو آسمان و زمین کے ہر گوشہ سے نمایاں ہے اور مقصود اس سے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، ان لوگوں کو قائل کرنا تھا جو مرنے کے بعد ازسرنو اٹھا کھڑے کیے جانے کو بعید از امکان تصور کرتے تھے۔ یہ انہی لوگوں کے سامنے سوال رکھا ہے کہ یہ لوگ ہمارے آسمانوں اور ہماری زمین کو دیکھ کر بتائیں کہ کیا پہلی بار ہم ان کو بنانے سے عاجز رہے! ’عَیْیٰ بِالْاَمْرِ‘ کے معنی کی وضاحت اہل لغت نے ’اِذَا لَمْ یَھْتَدْ لِوَجْہِ عَمَلِہٖ‘ کے الفاظ سے کی ہے۔ یعنی کوئی شخص ایک کام کرنے سے عاجز رہ جائے، اس کی سمجھ میں نہ آئے کہ یہ کس طرح انجام دیا جائے۔
      ’بَلْ ہُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ‘۔ یعنی یہ لوگ یہ کہنے کی جرأت تو نہیں کر سکتے کہ ہم پہلی بار آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے قاصر رہے۔ ان کو اعتراف ہے کہ آسمانوں اور زمین کے خالق ہم ہی ہیں۔ البتہ ان کو اس باب میں تردد ہے کہ ازسرنو ان کو نہیں پیدا کر سکیں گے! میرے نزدیک اس جملہ کا انداز طنزیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ پہلی بار پیدا کرنے میں ہم کو کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی تو دوبارہ کیوں رکاوٹ پیش آئے گی! ان لال بجھکڑوں سے کوئی پوچھے کہ کسی چیز کو پہلی بار بنانا مشکل ہوتا ہے یا دوسری بار! اگر ایک نقاش، نقش ثانی نقش اول کے مقابل میں زیادہ بہتر کھینچ سکتا ہے تو ہم دنیا کو ازسرنو زیادہ آسانی سے کیوں نہیں پیدا کر سکتے!

      جاوید احمد غامدی (اِن سے پوچھو)، کیا ہم پہلی مرتبہ تخلیق سے عاجز رہے؟ (اِن میں سے کون یہ کہنے کی جسارت کر سکتاہے)؟ بلکہ ازسرنو پیدا کیے جانے کے بارے میں یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ جملہ طنزیہ ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...مطلب یہ ہے کہ جب یہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ پہلی بار پیدا کرنے میں ہم کو کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی تو دوبارہ کیوں رکاوٹ پیش آئے گی؟ اِن لال بجھکڑوں سے کوئی پوچھے کہ کسی چیز کو پہلی بار بنانا مشکل ہوتا ہے یا دوسری بار! اگر ایک نقاش نقش ثانی نقش اول کے مقابل میں زیادہ بہتر کھینچ سکتا ہے تو ہم دنیا کو ازسرنو زیادہ آسانی سے کیوں نہیں پیدا کر سکتے۔‘‘(تدبرقرآن ۷/ ۵۴۳)

       

    • امین احسن اصلاحی اور انسان کو ہم نے پیدا کیا ہے اور ہم جانتے ہیں اس کے دل میں جو وسوسے گزرتے ہیں اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو محیط ہے: قیامت کے باب میں جہاں نادانوں کو یہ شبہ لاحق ہوتا ہے کہ انسان کے مر کھپ جانے اور زمین میں رل مل جانے کے بعد اس کے تمام اجزائے جسم کو فراہم کرنا اور ازسرنو زندہ کر کے کھڑا کر دینا بھلا کس کے بس میں ہے اسی طرح یہ شبہ بھی بہتوں کو لاحق ہوتا ہے کہ ایک ایک شخص کے خلوت و جلوت کے تمام اقوال و افعال کا ریکارڈ کون رکھ سکتا ہے کہ ایک دن سب کا حساب کرنے بیٹھے اور ہر ایک کو جزا و سزا دے۔ یہ دونوں شبہات بالکل توام ہیں۔ اس وجہ سے اوپر آیت ۴ میں اجمالی طور پر دونوں کا جواب آیا ہے۔ پھر تفصیل کے ساتھ پہلے شبہ کی تردید فرمائی ہے۔ اب یہ دوسرے شبہے سے تعرض فرمایا ہے اور دلائل سے اس کا جواب دیا ہے۔ فرمایا کہ انسان کو ہم نے پیدا کیا ہے اور اس کے اقوال و اعمال تو درکنار اس کے دل میں جو وسوسے خطور کرتے ہیں ہم ان کو بھی جانتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ خالق ہے، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے جوڑ جوڑ، بند بند کو استوار کیا ہے تو لازم ہے کہ وہ اس کے تمام پرزوں کے در و بست اور ان کے عمل سے اچھی طرح آگاہ ہو۔ اسی حقیقت کی طرف دوسرے الفاظ میں یوں توجہ دلائی ہے:

      ’اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ‘ (الملک ۱۴)
      (کیا وہ نہیں جانے گا جس نے پیدا کیا)۔

      اگر خالق اپنی مخلوق کی تمام جزئیات سے باخبر نہ ہو تو وہ اس کی حفاظت اور اس کے بقاء کا انتظام کس طرح کرے گا؟
      ’وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَیْْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ‘۔ ’وَرِیْدِ‘ رگ جاں کو کہتے ہیں۔ یہ عربی زبان کا ایک معروف محاورہ ہے جو غایت درجہ قرب کے اظہار کے لیے آتا ہے۔ فرمایا کہ کوئی شخص اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اگر وہ ہم کو نہیں دیکھ رہا ہے تو ہم اس سے دور ہیں۔ ہم ہر شخص کی رگ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔ ہمارا علم اور ہماری قدرت ہر شخص کا ہر پہلو سے احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس کا تمام ظاہر و باطن ہر لمحہ ہماری نگاہوں میں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اُس کے دل میں جو وسوسے گزرتے ہیں، اُنھیں بھی ہم جانتے ہیں اور ہم تو اُس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اُس سے قریب ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ اقوال و افعال تو ایک طرف، انسان کے دل میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں، ہم اُن کو بھی جانتے ہیں۔ ہمارا علم اور ہماری قدرت لوگوں کے ہر پہلو کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اُن کے ظاہر و باطن کی کوئی چیز ہم سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی دھیان رکھو جب کہ دو اخذ کرنے والے اخذ کرتے رہتے ہیں، ایک دائیں بیٹھا اور دوسرا بائیں بیٹھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لوگوں کے اعمال و اقوال کا ریکارڈ رکھنے کے لیے مزید اہتمام: ’عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ‘ میں تالیف کلام یوں ہے: ’عن الیمین قعید وعن الشمال قعید‘ (ایک داہنے بیٹھا ہوا، دوسرا بائیں بیٹھا ہوا)۔ عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق بتقاضائے ایجاز ایک جگہ لفظ ’قَعِیْدٌ‘ محذوف ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
      یہ اس مزید اہتمام کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اقوال و اعمال کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اول تو بذات خود ہر شخص کے وساوس و خطرات قلب تک سے اچھی طرح باخبر ہے، مزید برآں اس نے اتمام حجت کے لیے یہ اہتمام بھی کیا ہے کہ ہر شخص پر دو دو فرشتے مامور کر رکھے ہیں۔ جن میں سے ایک اس کے دہنے بیٹھا ہوتا ہے، دوسرا بائیں۔ جونہی وہ کوئی لفظ بولتا ہے اپنے پاس ایک مستعد نگران اس کو نوٹ کرنے کے لیے حاضر پاتا ہے۔
      یہاں اعمال کے نوٹ کیے جانے کا ذکر اگرچہ لفظوں میں نہیں ہے لیکن وہ علیٰ سبیل التغلیب اس میں داخل سمجھے جائیں گے، اس لیے کہ جب زبان سے نکلے ہوئے ہر لفظ کے نوٹ کیے جانے کے لیے یہ اہتمام ہے تو ہاتھ پاؤں سے انجام دیے ہوئے اعمال کو نوٹ کیے جانے کا اہتمام تو بدرجۂ اولیٰ ہونا چاہیے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں فرشتوں میں تقسیم کار ہے۔ جو فرشتہ دائیں جانب مامور ہوتا ہے وہ نیک اعمال و اقوال کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ جو بائیں طرف ہوتا ہے وہ برے اعمال و اقوال کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ شہادت کے معاملے میں چونکہ دو گواہوں کی گواہی دین میں معتبر مانی گئی ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی دو دو فرشتے مامور فرمائے۔
      آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ آدمی کے وساوس و خطرات قلب ان فرشتوں کی دسترس سے باہر ہیں۔ غیب صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور یہ اس کی ستّاری ہے کہ اس نے بندوں کے دلوں کے بھیدوں کا علم اپنے ہی تک محدود رکھا ہے۔
      اتمام حجت کے لیے ایک اور اہتمام: اس اہتمام کے علاوہ ایک اور اہتمام بھی اللہ تعالیٰ نے اتمام حجت کا کر رکھا ہے۔ وہ یہ کہ آدمی کے ہاتھ پاؤں اور کان آنکھ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کے تمام اقوال و اعمال کی گواہی دیں گے۔ ہم جو کچھ زبان سے بولتے ہیں اس کا سارا ریکارڈ ہمارے کان محفوظ کر رہے ہیں اور جو کچھ دیکھتے ہیں اس کی پوری فلم ہماری آنکھوں کی تحویل میں ہے۔ یہی حال ہمارے دوسرے اعضاء و جوارح کا ہے۔ ہم جو کچھ بھی کہتے یا کرتے ہیں سب خدا کے مامور کیے ہوئے پاسبانوں کے سامنے اور اسی کے بخشے ہوئے اعضاء و جوارح کے ذریعہ سے کرتے ہیں۔ پھر یہ خیال کرنا کتنی بڑی حماقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ایک ایک قول و فعل کو کس طرح جان سکتا ہے کہ ان کا حساب کرنے بیٹھے گا!
      ’اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیَانِ‘ میں عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق، ’اِذْ‘ سے پہلے ایک فعل محذوف ہے۔ یہاں چونکہ غافلوں کو ایک حقیقت نفس الامری کی یاددہانی کی جا رہی ہے اس وجہ سے کوئی ایسا فعل محذوف مانا جائے گا جس سے مخاطب کو تنبہ ہو۔ یعنی دھیان رکھو، خیال رکھو۔ میں نے ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھا ہے۔ صاحب کشاف نے ایک دوسری شکل اختیار کی ہے، لیکن مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِنھیں یاد رکھنا چاہیے، جب دو لینے والے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے لے رہے ہوتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ‘ ۔اِن میں ’الْیَمِیْنِ‘ کے بعد ’قَعِیْدٌ‘ کا لفظ عربیت کے عام قاعدے کے مطابق بہ تقاضاے ایجاز حذف کر دیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی وہ کوئی لفظ بھی نہیں بولتا ہے مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران موجود ہوتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لوگوں کے اعمال و اقوال کا ریکارڈ رکھنے کے لیے مزید اہتمام: ’عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ‘ میں تالیف کلام یوں ہے: ’عن الیمین قعید وعن الشمال قعید‘ (ایک داہنے بیٹھا ہوا، دوسرا بائیں بیٹھا ہوا)۔ عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق بتقاضائے ایجاز ایک جگہ لفظ ’قَعِیْدٌ‘ محذوف ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
      یہ اس مزید اہتمام کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اقوال و اعمال کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اول تو بذات خود ہر شخص کے وساوس و خطرات قلب تک سے اچھی طرح باخبر ہے، مزید برآں اس نے اتمام حجت کے لیے یہ اہتمام بھی کیا ہے کہ ہر شخص پر دو دو فرشتے مامور کر رکھے ہیں۔ جن میں سے ایک اس کے دہنے بیٹھا ہوتا ہے، دوسرا بائیں۔ جونہی وہ کوئی لفظ بولتا ہے اپنے پاس ایک مستعد نگران اس کو نوٹ کرنے کے لیے حاضر پاتا ہے۔
      یہاں اعمال کے نوٹ کیے جانے کا ذکر اگرچہ لفظوں میں نہیں ہے لیکن وہ علیٰ سبیل التغلیب اس میں داخل سمجھے جائیں گے، اس لیے کہ جب زبان سے نکلے ہوئے ہر لفظ کے نوٹ کیے جانے کے لیے یہ اہتمام ہے تو ہاتھ پاؤں سے انجام دیے ہوئے اعمال کو نوٹ کیے جانے کا اہتمام تو بدرجۂ اولیٰ ہونا چاہیے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں فرشتوں میں تقسیم کار ہے۔ جو فرشتہ دائیں جانب مامور ہوتا ہے وہ نیک اعمال و اقوال کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ جو بائیں طرف ہوتا ہے وہ برے اعمال و اقوال کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ شہادت کے معاملے میں چونکہ دو گواہوں کی گواہی دین میں معتبر مانی گئی ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی دو دو فرشتے مامور فرمائے۔
      آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ آدمی کے وساوس و خطرات قلب ان فرشتوں کی دسترس سے باہر ہیں۔ غیب صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور یہ اس کی ستّاری ہے کہ اس نے بندوں کے دلوں کے بھیدوں کا علم اپنے ہی تک محدود رکھا ہے۔
      اتمام حجت کے لیے ایک اور اہتمام: اس اہتمام کے علاوہ ایک اور اہتمام بھی اللہ تعالیٰ نے اتمام حجت کا کر رکھا ہے۔ وہ یہ کہ آدمی کے ہاتھ پاؤں اور کان آنکھ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کے تمام اقوال و اعمال کی گواہی دیں گے۔ ہم جو کچھ زبان سے بولتے ہیں اس کا سارا ریکارڈ ہمارے کان محفوظ کر رہے ہیں اور جو کچھ دیکھتے ہیں اس کی پوری فلم ہماری آنکھوں کی تحویل میں ہے۔ یہی حال ہمارے دوسرے اعضاء و جوارح کا ہے۔ ہم جو کچھ بھی کہتے یا کرتے ہیں سب خدا کے مامور کیے ہوئے پاسبانوں کے سامنے اور اسی کے بخشے ہوئے اعضاء و جوارح کے ذریعہ سے کرتے ہیں۔ پھر یہ خیال کرنا کتنی بڑی حماقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ایک ایک قول و فعل کو کس طرح جان سکتا ہے کہ ان کا حساب کرنے بیٹھے گا!
      ’اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیَانِ‘ میں عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق، ’اِذْ‘ سے پہلے ایک فعل محذوف ہے۔ یہاں چونکہ غافلوں کو ایک حقیقت نفس الامری کی یاددہانی کی جا رہی ہے اس وجہ سے کوئی ایسا فعل محذوف مانا جائے گا جس سے مخاطب کو تنبہ ہو۔ یعنی دھیان رکھو، خیال رکھو۔ میں نے ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھا ہے۔ صاحب کشاف نے ایک دوسری شکل اختیار کی ہے، لیکن مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی انسان کی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکلتا، مگر ایک حاضر باش نگران اُس کے پاس موجود ہوتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اتمام حجت کے لیے یہ مزید اہتمام بھی ہم نے کر رکھا ہے کہ دو فرشتے انسان کے دائیں اور بائیں مقرر کر دیے ہیں تا کہ اُس کے نیک و بد تمام اقوال و اعمال کا ریکارڈ وہ ہماری عدالت کے لیے تیار رکھیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور موت کی غشی شدنی کے ساتھ آ پہنچی! یہ ہے وہ چیز جس سے تو کتراتا رہا تھا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت ایک شدنی ہے: ’حَقٌّ‘ سے مراد وہی قیامت ہے جس کی قرآن خبر دے رہا تھا اور جس کی تکذیب کا ذکر اوپر آیت ۵ میں گزر چکا ہے۔ چونکہ وہ ایک شدنی اور ایک اٹل حقیقت ہے، اس وجہ سے اس کو ’حق‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ماضی کا صیغہ اس کی قطعیت کے اظہار کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کو بہت دور نہ خیال کرو بلکہ ایک آئی ہوئی چیز سمجھو۔ جتنے دن زندگی کے باقی ہیں بس اتنی ہی دیر قیامت کے آنے میں ہے۔ جونہی موت کی بے ہوشی طاری ہوئی قیامت گویا اس کے ساتھ ہی لگی کھڑی ہے۔ اس وقت صورت حال خود تمہیں بتا دے گی کہ جس چیز سے تم کتراتے رہے تھے بالآخر وہ آ ہی گئی۔
      قیامت ہر آدمی کی موت کے ساتھ لگی ہوئی ہے: قیامت کی یہی حقیقت احادیث میں بھی بیان ہوئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے:

      ’مَنْ مَّاتَ فقد قامتْ قیامتُہ‘
      (جو مرا اس کی قیامت آ گئی)

      اس کی وجہ یہ ہے کہ موت کے بعد برزخ کی جو زندگی ہے وہ درحقیقت قیامت ہی کا دیباچہ ہے۔ موت کے ساتھ ہی عالم آخرت کے احوال کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اہل ایمان کو ایمان کی حقانیت اور اس کے اچھے انجام کی شہادت مل جاتی ہے اور کفار کے سامنے اس انجام کے ظہور کا آغاز ہو جاتا ہے جس کی وہ دنیا کی زندگی میں تکذیب کرتے رہے تھے۔ اس کے بعد کسی شک کی گنجائش کسی کے لیے بھی باقی نہیں رہ جاتی۔
      قیامت کے باب میں اس کے منکروں کے ذہن کی صحیح تعبیر: ’ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیْدُ‘۔ یہ بات زبان حال کی تعبیر بھی ہو سکتی ہے اور قولاً بھی ہو سکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس وقت تم دیکھ لو گے کہ جس چیز سے تم کتراتے رہے وہ بالآخر سر پر آہی دھمکی۔ ’حَادَ یَحِیْدُ‘ کا صحیح مفہوم راستہ سے کترا کر چلنا ہے۔ یہ ٹھیک ٹھیک تعبیر ہے قیامت کے باب میں ان لوگوں کے رویے کی جو اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ قیامت سے بے پروا ہو کر زندگی گزارتے ہیں تو اس وجہ سے نہیں کہ قیامت کے دلائل ان سے مخفی ہیں، اس کے آثار تو ہر قدم پر موجود ہیں لیکن جو لوگ سیدھی راہ نہیں اختیار کرنی چاہتے وہ ان سے کترا کر چلتے ہیں، لیکن اس وقت یہ کیا کریں گے جب وہ ان کے سامنے آن کھڑی ہو گی۔

       

      جاوید احمد غامدی (افسوس، تم لوگ انکار ہی کرتے رہے) اور موت کی جان کنی (اُس) حقیقت کے ساتھ آ پہنچی (جس پر دنیا کی زندگی میں پردہ پڑا ہوا تھا)۔ یہ وہی چیز ہے جس سے تم گریزاں رہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَجَآءَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ‘۔ ماضی کا صیغہ یہاں اور اِس سے آگے کی آیتوں میں اظہار قطعیت اور قیامت کے منظر کو نگاہوں کے سامنے مصور کر دینے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔
      یعنی قیامت، جس کی ابتدا موت کے ساتھ ہی ہو جاتی ہے۔ انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اُس کا انجام کیا ہوا اور آگے اُس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور صور پھونکا جائے گا۔ وہ ہماری وعید کے ظہور کا دن ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی اس کے بعد بس نفخ صور ہی کا مرحلہ ہے۔ صور پھونکا جائے گا اور وہ دن ظاہر ہو جائے گا جس سے تم کو ڈرایا جارہا ہے اور تم اس کی تکذیب کیے جا رہے ہو۔ اس کو بھی اس کی قطعیت کے اظہار کے لیے ماضی کے صیغہ سے ادا کیا ہے تاکہ نگاہوں کے سامنے مصور ہو جائے۔ مطلب یہ ہے کہ اس مغالطہ میں نہ رہو کہ زندگی، پھر موت، پھر برزخ، پھر حشر و نشر بہت دور کی بات ہے۔ جب صور پھونکا جائے گا تو ایسا محسوس کرو گے کہ جس مدت کو تم بہت دراز سمجھتے تھے وہ پلک جھپکتے گزر گئی۔

      جاوید احمد غامدی اور (وہ دیکھو) صور پھونکا گیا۔ یہ وہی دن ہے جس کی وعید ہم نے تمھیں سنائی تھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List