Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 18 آیات ) Al-Hujurat Al-Hujurat
Go
  • الحجرات (The Private Apartments, The Inner Apartments)

    18 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الفتح ۔۔۔ کا ضمیمہ و تتمہ ہے۔ سورۂ فتح کی آخری آیت میں، تورات کے حوالہ سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ صفت جو وارد ہوئی ہے کہ ’مُّحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ أَشِدََّآءُ عَلَی الْکُفََّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَہُمْ‘ (محمدؐ اللہ کے رسول اور جو ان کے ساتھ ہیں کفار کے لیے سخت اور باہمدگر نہایت مہربان ہوں گے)۔ یہ پوری سورہ اسی ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔ جہاں تک اس کی اہمیت کا تعلق ہے اس کی وضاحت سورۂ فتح کی تفسیر میں ہو چکی ہے۔ اس کی یہ اہمیت مقتضی ہوئی کہ اس کے وہ مضمرات یہاں وضاحت سے بیان کر دیے جائیں جن کا بیان کیا جانا اس وقت مسلمانوں کے معاشرے کی اصلاح کے لیے نہایت ضروری تھا۔ یہ بات اپنے محل میں بیان ہو چکی ہے کہ قرآن میں احکام و ہدایات کا نزول حالات کے تقاضوں کے تحت ہوا ہے تاکہ لوگوں پر ان کی صحیح قدر و قیمت واضح ہو سکے۔ چنانچہ یہ سورہ بھی ایسے حالات میں نازل ہوئی ہے جب نئے نئے اسلام میں داخل ہونے والوں کی طرف سے بعض باتیں ایسی سامنے آئیں جن سے ظاہر ہوا کہ یہ لوگ نہ تو رسول کے اصلی مرتبہ و مقام ہی سے اچھی طرح واقف ہیں اور نہ اسلامی معاشرہ کے اندر اپنی ذمہ داریوں ہی سے۔ چنانچہ اس ضمیمہ میں ضروری ہدایات دے دی گئیں جو اس وقت کے حالات کے اندر ضروری تھیں۔ ان احکامات و ہدایات کا تعلق تمام تر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے باہمی حقوق ہی سے ہے۔ کفار کا معاملہ اس میں زیربحث نہیں آیا۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کو جو رویہ اختیار کرنا چاہیے اس کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے۔
    سورہ کے تیسرے گروپ میں جس نوعیت کا تعلق سورۂ نور کا سورۂ مومنون کے ساتھ ہے اسی نوعیت کا تعلق اس سورہ کا سورۂ فتح کے ساتھ ہے دونوں کا مزاج باہمدگر بالکل ملتا جلتا ہوا ہے۔

  • الحجرات (The Private Apartments, The Inner Apartments)

    18 آیات | مدنی

    الحجرات

    ۴۹

    یہ ایک منفردسورہ ہے جس پر قرآن مجید کا یہ پانچواں باب ختم ہو جاتا ہے۔ اپنے مضمون کے لحاظ سے یہ سابق سورہ ۔۔۔ الفتح ۔۔۔ کا تکملہ ہے۔ سورۂ فتح کی آخری آیت میں تورات کے حوالے سے صحابۂ کرام کی جو تمثیل بیان ہوئی ہے، یہ پوری سورہ گویا اُسی کی تفسیر ہے۔ چنانچہ اِس کا موضوع وہی تزکیہ و تطہیر ہے جو پچھلی دونوں سورتوں سے چلا آرہا ہے۔ اِس کے تحت اِس سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے باہمی حقوق سے متعلق ضروری ہدایات دی گئی ہیں۔
    اِس میں خطاب اہل ایمان سے ہے اور اِس کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں اُس وقت نازل ہوئی ہے، جب آپ کے دنیا سے رخصت ہو جانے کا وقت قریب آگیا تھا اور اندیشہ تھا کہ اخلاقی تربیت کی کمی، باہمی منافرت اور قبائلی عصبیت کے جھگڑے اُن کی قومی وحدت کو پارہ پارہ کر دے سکتے ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ اور رسول کے سامنے اپنی رائے مقدم نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      وہ حالات جن میں یہ سورہ نازل ہوئی: خطاب اگرچہ عام مسلمانوں سے ہے لیکن جن لوگوں کا رویہ اس سورہ میں زیربحث آیا ہے وہ، جیسا کہ آگے کی آیات سے بالتدریج واضح ہوتا جائے گا، اطراف مدینہ کے بدوی قبائل کے وہ لوگ ہیں جو اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت سے متاثر ہو کر مسلمانوں میں شامل تو ہو گئے تھے لیکن ابھی ایمان ان کے دلوں میں اچھی طرح رچا بسا نہیں تھا۔ اس کی وجہ اول تو یہ تھی کہ یہ لوگ اسلام کو سمجھ کر نہیں بلکہ اس سے مرعوب ہو کر اس میں داخل ہوئے، ثانیاً مرکز سے بے تعلق رہنے کے سبب سے ان کی تربیت بھی اچھی طرح نہیں ہوئی تھی۔ ان کے اندر ایک غلط قسم کا پندار بھی تھا کہ انھوں نے کسی جنگ کے بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کر لی جو آپ پران کا ایک احسان ہے۔ اس پندار کا اثر یہ تھا کہ ان کے سردار جب مدینہ آتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس انداز سے بات کرتے گویا وہ اسلام کے بڑے مربی و محسن ہیں۔ بغیر اس کے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی معاملے میں ان کی رائے دریافت کریں آگے بڑھ بڑھ کر اپنی رائیں پیش کرتے اور مشورے دینے کی کوشش کرتے۔ بات کرتے ہوئے حضورؐ کی آواز پر اپنی آواز، تفوق کے اظہار کے لیے بلند رکھتے۔ جب کبھی آتے تو ان کی خواہش یہ ہوتی کہ حضورؐ بلاتاخیر سارے کام چھوڑ کر، ان سے ملاقات کریں اور اگر ذرا تاخیر ہو جاتی تو بے درنگ آپ کے حجروں کے باہر سے، اس طرح آواز دینا شروع کر دیتے جس طرح ایک عام آدمی کو آواز دی جاتی ہے۔ آپس میں ان کے درمیان جو جاہلی رقابتیں زمانۂ جاہلیت سے چلی آ رہی تھیں، ان میں ہر ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کرتا اور اس غرض کے لیے وہ اپنے حریفوں سے متعلق بعض اوقات ایسی خبریں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچاتے جو غلط فہمی پیدا کرنے والی ہوتیں۔ ان کی بنا پر مدینہ کے مسلمان اگر کوئی اقدام کر گزرتے تو یہ چیز مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے لیے نہایت مضر ہوتی۔
        یہ حالات تھے جن میں یہ سورہ نازل ہوئی۔ اس میں رویہ تو زیربحث، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ایک مخصوص گروہ ہی کا ہے لیکن قرآن نے خطاب عام ہی رکھا ہے تاکہ اس کا زیادہ فضیحتا بھی نہ ہو اور وہ رخنے بند بھی ہو جائیں جن سے شیطان کو معاشرہ کے اندر فتنہ انگیزی کی راہ مل سکتی ہے۔
        ممانعت رسول کے سامنے رائے پیش کرنے کی نہیں بلکہ رائے پیش کرنے میں پہل کرنے کی ہے: یہ امر واضح رہے کہ یہاں ممانعت اللہ کے رسول کے سامنے اپنی رائے پیش کرنے میں پہل کرنے یا اپنی رائے کو اللہ اور رسول کے حکم پر مقدر کرنے کی ہے نہ کہ رسول کے سامنے مجرد اپنی کوئی رائے پیش کرنے کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم امور مصلحت میں صحابہؓ سے ان کی رائیں معلوم بھی فرماتے اور صحابہؓ اپنی رائے پیش بھی کرتے۔ اسی طرح صحابہؓ بعض اوقات عام امور مصلحت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بھی عرض کرتے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فلاں اقدام وحی الٰہی پر مبنی نہ ہو تو اس کی جگہ فلاں تدبیر زیادہ قرین مصلحت رہے گی، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات ان کی رائیں قبول بھی فرما لیتے۔ اس آیت میں اس طرح کی باتوں کی نہی نہیں ہے۔ حضورؐ نے خود اپنے طرزعمل سے اس کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضورؐ سب سے زیادہ لوگوں سے مشورہ لینے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی، جیسا کہ آیت ’وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ‘ (آل عمران: ۱۵۹) سے واضح ہے، آپ کو لوگوں سے مشورہ کرتے رہنے کی ہدایت فرمائی گئی تھی۔
        یہاں ممانعت اسی بات کی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ کوئی شخص اللہ کے رسول کو ایک عام آدمی یا مجرد ایک لیڈر سمجھ کر اور اپنے آپ کو ان سے زیادہ مدبر خیال کر کے، بغیر اس کے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کسی معاملہ میں اس کی رائے دریافت کریں، حضورؐ کو اپنی رائے سے متاثر کرنے اور اپنی رائے کو حضورؐ کی بات پر مقدم کرنے کی کوشش کرے۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے تو اس کا رویہ دلیل ہے کہ وہ رسول کے اصلی مرتبہ و مقام سے بالکل بے خبر ہے۔ اللہ کا رسول اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہوتا ہے اور وہ جو کچھ کہتا یا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت کرتا یا کہتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنے کی جسارت کرتا ہے تو دوسرے لفظوں میں اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ اپنی رائے کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر مقدم کرنا چاہتا ہے درآنحالیکہ یہ چیز اس کے تمام ایمان و عمل کو ڈھا دینے والی ہے اگرچہ اس کو اس کا شعور نہ ہو۔
        اللہ اور رسول کا معاملہ الگ الگ نہیں ہے: ’بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ‘ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ و رسول کا معاملہ الگ الگ نہیں ہے۔ اللہ کا رسول اللہ کا سفیر و نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کو بن پوچھے مشورہ دینا خود اللہ تعالیٰ کو مشورہ دینا ہے، اس کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنا اللہ کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنا ہے اور اس سے بڑھ کر اپنے کو مدبر سمجھنا خود خدائے علیم و حکیم سے بڑھ کر اپنے کو مدبر و حکیم سمجھنا ہے۔ یہ آدمی کے اس رویہ کے لازمی نتائج ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو اس کی بلادت کے سبب سے ان نتائج کا احساس نہ ہو لیکن ان کے لازمی نتائج ہونے سے انکار ناممکن ہے۔
        ’وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ‘۔ یہ ان لوگوں کو تنبیہ ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ اور رسول سے زیادہ دانش مند اور مدبر ہونے کے خبط میں مبتلا نہ ہو۔ اللہ سمیع و علیم ہے۔ وہ تمھاری ساری باتوں کو سن بھی رہا ہے اور ان کے پیچھے جو محرکات کام کر رہے ہیں ان سے بھی اچھی طرح واقف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے تو اس کا مکافات عمل کا قانون لازماً ظہور میں آئے گا۔ اس قانون کا ذکر آگے والی آیت میں آ رہا ہے۔
        موجودہ زمانے کے مدعیان اصلاح کی کج فہمی: اس آیت میں ہمارے زمانے کے ان لوگوں کو بھی تنبیہ ہے جو اسلام کی خدمت کے دعوے کے ساتھ اس کے اقدار کو مسخ اور اس کے قوانین کی تحریف کر رہے ہیں۔ ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ اور رسول نے جس شکل میں اسلام دیا ہے اس شکل میں وہ اس دور میں نہیں چل سکتا۔ ضروری ہے کہ زمانہ کے تقاضوں کے مطابق اس کی اصلاح کی جائے۔ چنانچہ وہ شریعت کے احکام میں اپنی رائے کے مطابق ترمیم کر رہے ہیں۔ بس یہ فرق ہے کہ آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو پہلے ہی سے سبقت کر کے چاہتے تھے کہ اللہ و رسول کے آگے اپنے مشورے پیش کر دیں، اس زمانے کے مدعیان اسلام کو یہ موقع نہ مل سکا اس وجہ سے وہ اب ان غلطیوں کی اصلاح کر رہے ہیں جو ان کے نزدیک اللہ و رسول سے ’العیاذ باللہ‘ دین کے معاملے میں ہو گئی ہیں۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، اللہ اور اُس کے رسول کے آگے اپنی راے کو مقدم نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک، اللہ سمیع و علیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ خطاب اگرچہ عام ہے، لیکن مضمون کے تدریجی ارتقا سے واضح ہو جائے گا کہ روے سخن درحقیقت اُن اہل بدو کی طرف ہے جو مسلمانوں کی طاقت سے مرعوب ہو کر اسلام تو لے آئے تھے، مگر ابھی تک نہ ایمان و اسلام کے تقاضوں کو پوری طرح سمجھتے تھے اور نہ صحابۂ کرام کی صحبت سے دور ہونے کی وجہ سے اپنی کچھ تربیت ہی کر پائے تھے۔ پھر یہی نہیں، اُن کے سردار خاص کر ایک غلط قسم کے پندار میں بھی مبتلا تھے کہ اُنھوں نے بغیر کسی جنگ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت قبول کر لی ہے تو آپ پر یہ اُن کا احسان ہے۔ چنانچہ اُن کا یہ پندار اُن کے انداز گفتگو اور طرزعمل، ہر چیز سے نمایاں ہوتا تھا۔
      یعنی خدا کے رسول کو اپنے سرداروں کی طرح ایک سردار سمجھ کر اور اپنے آپ کو اُن سے زیادہ مدبر خیال کرکے اپنی راے سے آپ کو متاثر کرنے یا آپ کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنے کی کوشش نہ کرو، اِس لیے کہ یہ درحقیقت خدا کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’(آیت میں) ’بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ‘ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ و رسول کا معاملہ الگ الگ نہیں ہے۔ اللہ کا رسول اللہ کا سفیر و نمایندہ ہوتا ہے۔ اُس کو بن پوچھے مشورہ دینا خود اللہ تعالیٰ کو مشورہ دینا ہے، اُس کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنا اللہ کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنا ہے اور اُس سے بڑھ کر اپنے آپ کو مدبر سمجھنا خود خداے علیم و حکیم سے بڑھ کر اپنے کو مدبر و حکیم سمجھنا ہے۔ یہ آدمی کے اِس رویے کے لازمی نتائج ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کواُ س کی بلادت کے سبب سے اِن نتائج کااحساس نہ ہو، لیکن اِن کے لازمی نتائج ہونے سے انکار ناممکن ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۷/ ۴۸۷)

      یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد یہی حیثیت آپ کی لائی ہوئی ہدایت کی ہے ۔ اب وہ آپ کی قائم مقام ہے اور اُس کے ساتھ بھی ہر مسلمان کا رویہ وہی ہونا چاہیے جو یہاں بتایا گیا ہے۔
      لہٰذا جو کچھ کرو گے، وہ اُس سے چھپا نہیں رہے گا۔ اُس کے نتائج بھی لازماً بھگتنا پڑیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان لانے والو! تم اپنی آواز نبی کی آواز پر بلند نہ کرو اور نہ اس کو اس طرح آواز دے کر پکارو جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ مبادا تمہارے اعمال ڈھے جائیں اور تم کو احساس بھی نہ ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جن کے اندر پندار ہو اس کا اثر ان کے انداز کلام سے نمایاں ہوتا ہے: یہ اسی اوپر والی بات کے ایک دوسرے پہلو کی طرف اشارہ ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ خناس سمایا ہوا ہو کہ وہ اللہ و رسول کو مشورہ دینے کے پوزیشن میں ہیں یا جن کو یہ زعم ہو کہ ان کا اسلام قبول کر لینا اسلام اور پیغمبرؐ پر ایک احسان ہے۔ ان کا طرز خطاب اور انداز کلام رسول کے آگے متواضعانہ و نیاز مندانہ نہیں ہو سکتا تھا۔ بلکہ ان کے اس پندار کا اثر ان کی گفتگو سے نمایاں ہونا ایک امر فطری تھا۔ چنانچہ یہ لوگ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرتے تو ان کے انداز کلام سے یہ واضح ہوتا کہ یہ اللہ کے رسول سے کچھ سیکھنے نہیں بلکہ ان کو کچھ سکھانے اور بتانے آئے ہیں۔ چنانچہ جس طرح یہ اپنی رائیں پیش کرنے میں سبقت کرتے اسی طرح ان کی کوشش یہ بھی ہوتی کہ ان کی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر بلند و بالا رہے اور اگر آپ کو مخاطب کرتے تو ادب سے ’یا رسول اللہ‘ کہنے کے بجائے ’یا محمد‘ کہہ کر خطاب کرتے جس طرح اپنے برابر کے ایک عام آدمی کو خطاب کیا جاتا ہے۔ یہاں ان کو اس غیر مہذب طریقۂ کلام و خطاب سے روکا گیا ہے کیونکہ یہ چیز غمازی کر رہی تھی کہ انھوں نے نہ صرف یہ کہ رسول کا اصل مرتبہ و مقام نہیں پہچانا ہے بلکہ ان کے اندر اپنی برتری کا وہ زعم بھی چھپا ہوا ہے جو بالآخر ان کے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دینے والا ہے۔
        ’اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ‘ میں ’ان‘ سے پہلے، جیسا کہ ہم جگہ جگہ واضح کرتے آرہے ہیں ’کراھۃ‘ یا ’مخافۃ‘ یا ان کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو مطلب یہ ہو گا کہ اس بے ادبی سے تمہیں اس لیے روکا جا رہا ہے کہ مبادا تمہاری یہ حرکت اس بات کا سبب بن جائے کہ عنداللہ تمہارے سارے اعمال ڈھے جائیں۔
        ’وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘۔ یعنی تم تو اس پندار میں مبتلا رہو گے کہ تم نے اسلام کی بڑی خدمت کی ہے اور نبیؐ کو اپنی رایوں سے مستفید کرنے کے لیے تمہاری بے چینی بھی خدمت دین ہی کے عشق میں ہے لیکن ادھر تمہارے وہ سارے اعمال ڈھے جائیں گے جو اپنے زعم میں تم نے دین کی خاطر انجام دیے اور تمہیں اس بات کا شعور بھی نہ ہو گا۔
        ایک نہایت اہم حقیقت: اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ایک شخص بہت سے کام اپنی دانست میں دین کے کام سمجھ کر دین ہی کی خدمت کے لیے کرتا ہے لیکن اس کے اندر اگر یہ پندار سمایا ہوا ہو کہ وہ اللہ و رسول پر یا اللہ کے دین پر کوئی احسان کر رہا ہے اور اس زعم میں نہ وہ اللہ تعالیٰ کی صحیح عظمت کو ملحوظ رکھے، نہ اس کے رسول کے اصلی مرتبہ و مقام کا احترام کرے تو اس کے سارے اعمال اکارت ہو کے رہ جائیں گے اور اس کو اپنی اس بے شعوری کا پتہ آخرت میں چلے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو اللہ و رسول کا محسن سمجھ بیٹھے۔ اس کے ہاں قبولیت کا شرف صرف انہی لوگوں کے اعمال کو حاصل ہو گا جو اس کے دین کی خدمت صرف اس کی رضا کے لیے، ٹھیک ٹھیک اس کے مقرر کردہ شرائط کے مطابق، انجام دیں گے اور ساتھ ہی دل سے اس حقیقت کے معترف رہیں گے کہ یہ خدمت انجام دے کر انھوں نے اللہ و رسول پر کوئی احسان نہیں کیا ہے بلکہ یہ اللہ کا فضل و احسان خود ان کے اوپر ہوا ہے کہ اس نے ان کو اپنے دین کی کسی خدمت کی توفیق بخشی۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز پر اونچا نہ ہونے دو اور نہ اُس کو اُس طرح آواز دے کر پکارو، جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ایسا نہ ہو کہ تمھارا کیا کرایا سب اکارت ہو جائے اور تمھیں احساس بھی نہ ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے کہ یہ چیز غمازی کرتی ہے کہ تم نے نہ صرف یہ کہ خدا کے رسول کا مرتبہ نہیں پہچانا، بلکہ اپنی برتری کے زعم میں مبتلا ہو کر اِس حقیقت کو بھی نہیں سمجھے کہ تم کسی عام آدمی یا اپنے کسی سردار سے نہیں، بلکہ خدا کے رسول سے مخاطب ہو اور اُس سے کچھ سیکھنے کے لیے آئے ہو، اُس کو سکھانے یا بتانے کے لیے نہیں آئے۔
      یعنی رسول کا درجہ ایسا غیر معمولی ہے کہ اُس کی عزت اور احترام میں ذرا سی کمی بھی ہو جائے تو یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ اِس سے آدمی کی عمر بھر کی کمائی غارت ہو سکتی ہے۔ اِس لیے متنبہ ہو جاؤ ، اِس ہستی کا احترام ، درحقیقت خدا کا احترام ہے جس نے اِس کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔
      یعنی اِس بات کا احساس بھی نہ ہو کہ اسلام قبول کر لینے اور بظاہر دین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوجانے کے باوجود کیا کھو بیٹھے ہو۔

    • امین احسن اصلاحی یاد رکھو کہ جو لوگ نبی کے آگے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں وہی ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کی افزائش کے لیے منتخب کیا ہے۔ ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رسول کے معاملے میں صحیح ادب کی تعلیم: یہ اس صحیح ادب کی تعلیم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں ہر صاحب ایمان کو اختیار کرنا لازم ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے رسول کے آگے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کی افزائش کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ لفظ ’اِمْتَحَنَ‘ یہاں ’اِصْطَفٰی‘ یا اس کے ہم معنی کسی لفظ پر متضمن ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر دل تقویٰ کی تخم ریزی اور اس کی افزائش کے لیے موزوں نہیں ہوتا بلکہ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ امتحان کر کے دلوں کا انتخاب کرتا ہے اوراس انتخاب میں اصل چیز جو ترجیح دینے والی بنتی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر اللہ و رسول کے لیے انقیاد و اطاعت کا سچا جذبہ اور ان کے آگے فروتنی کا صحیح شعور ہے یا نہیں۔ یہ چیز جس کے اندر جتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اس کو اتنی ہی زیادہ تقویٰ کی نعمت عطا ہوتی ہے اور جو لوگ جس درجے میں اس شعور سے عاری ہوتے ہیں وہ اتنے ہی تقویٰ سے بعید ہوتے ہیں۔ آواز بلند کرنے کا ذکر، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، انسان کے باطن کے ایک مخبر کی حیثیت سے ہوا ہے۔ جو شخص کسی کی آواز پر اپنی آواز بلند رکھنے کی کوشش کرتا ہے اس کا یہ عمل شہادت دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس سے اونچا خیال کرتا ہے۔ یہ چیز اکتساب فیض کی راہ بالکل بند کر دیتی ہے اگر استاد کے آگے کسی شاگرد کا یہ طرزعمل ہو تو وہ اس کے فیض سے محروم رہتا ہے۔ اسی طرح اگر اللہ کے رسول کے آگے کسی نے یہ روش اختیار کی تو وہ صرف رسول ہی کے فیض سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے بھی محروم ہو جائے گا اس لیے کہ رسول، اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہوتا ہے۔
      کتاب و سنت کے فیوض سے بہرہ مند ہونے کے لیے صحیح رویہ: یہی درجہ اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت کا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو تقویٰ کے لیے منتخب فرماتا ہے جو اس کی کتاب اور رسول کی سنت کے سامنے فروتنی کی یہی روش اختیار کرتے ہیں جس کی ہدایت رسول کے معاملے میں ہوئی ہے۔ جس شخص کے اندر اللہ و رسول کی ہر بات کے آگے سرجھکا دینے کا سچا جذبہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے تقویٰ کی راہیں کھولتا ہے اور ہر قدم پر غیب سے اس کی رہنمائی ہوتی ہے اور اگر کوئی شخص اس خبط میں مبتلا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی اصلاح کرنے کی پوزیشن میں ہے تو اس کا یہ پندار اس کے سارے عمل کو غارت اور اس کی آخرت کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔
      ’لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ عَظِیْمٌ‘۔ اوپر والی آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر آواز بلند کرنے کا انجام یہ بتایا ہے کہ یہ روش اعمال کو برباد کر دینے والی روش ہے۔ اس کے مقابل میں یہ ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اپنی آواز رسول کے آگے پست رکھیں گے۔ فرمایا کہ ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ یعنی ان کی لغزشیں اور کوتاہیاں اللہ تعالیٰ بخش دے گا اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور رسول کے آگے فروتنی کی روش اختیار کی۔ کسی گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو اس سے بڑا سمجھنے کی جسارت نہیں کی۔ ان کی اس فروتنی کا انعام ان کو یہ ملا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کی افزائش کے لیے منتخب فرمایا جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (یاد رکھو)، جو اللہ کے رسول کے آگے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، وہی ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کی افزایش کے لیے جانچ کر منتخب کر لیا ہے۔ اُن کے لیے مغفرت بھی ہے اور اجر عظیم بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’اِمْتَحَنَ‘ آیا ہے۔ یہ یہاں ’اِصْطَفٰی‘ یا اِس کے ہم معنی کسی لفظ پر متضمن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ ہر دل کو تقویٰ کی تخم ریزی اور اُس کی افزایش کے لیے منتخب نہیں کرتا۔ اِس کے لیے وہی دل منتخب کیے جاتے ہیں جن کے اندر اللہ و رسول کے لیے انقیاد و اطاعت کا سچا جذبہ اور اُن کے آگے عاجزی کا صحیح شعور ہوتا ہے۔ یہ اُس سنت کی فرع ہے جو ہدایت و ضلالت کے باب میں مقرر ہے۔ لہٰذا یہ جذبہ و شعور جس کے اندر جتنا کم یا زیادہ ہوتا ہے، اُس کو تقویٰ کی نعمت بھی اُسی کے لحاظ سے ملتی ہے۔ یہاں اِسے پیغمبر کے آگے اپنی آواز کو پست رکھنے سے متعلق کیا ہے۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اِسی باطن کا ظاہر ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...جو شخص کسی کی آواز پر اپنی آواز بلند رکھنے کی کوشش کرتا ہے، اُس کا یہ عمل شہادت دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اُس سے اونچا خیال کرتا ہے۔ یہ چیز اکتساب فیض کی راہ بالکل بند کر دیتی ہے ۔اگر استاد کے آگے کسی شاگرد کا یہ طرزعمل ہو تو وہ اُس کے فیض سے محروم رہتا ہے۔ اِسی طرح اگر اللہ کے رسول کے آگے کسی نے یہ روش اختیار کی تو وہ صرف رسول ہی کے فیض سے نہیں،بلکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے بھی محروم ہو جائے گا۔ اِس لیے کہ رسول اللہ تعالیٰ کا نمایندہ ہوتا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۷/ ۴۸۹)

    • امین احسن اصلاحی بے شک جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر سمجھ رکھنے والے نہیں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کم عقلوں کے ایک ناشائستہ طریقہ پر ان کو تنبیہ: یہ لوگ جس طرح مجلس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے میں غیر مہذب تھے اسی طرح یہ حرکت بھی وہ کرتے کہ جب دیکھتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں موجود نہیں ہیں تو آتے ہی ازواج مطہراتؓ کے حجروں کے باہر ہی سے آپ کو چیخ چیخ کر پکارنا شروع کر دیتے۔ اس قسم کی حرکت بجائے خود بھی نہایت ناشائستہ ہے لیکن اس کا باطنی محرک اس کے ظاہر سے بھی زیادہ مکروہ تھا۔ یہ لوگ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا اور آگے اس کی پوری وضاحت آئے گی، اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ انھوں نے بغیر لڑے بھڑے جو اسلام قبول کر لیا تو یہ اسلام اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کا بہت بڑا احسان ہے اس وجہ سے یہ اپنا حق سمجھتے تھے کہ جب یہ آئیں تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بلا تاخیر ان کا خیر مقدم کریں۔ اگر کسی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تشریف فرما نہ ہوتے تو انتظار کی زحمت گوارا نہ کرتے بلکہ فوراً ازواج مطہراتؓ کے حجروں کا چکر لگانا اور چیخ چیخ کر نہایت بھونڈے طریقہ سے، آپ کا نام لے لے کر، پکارنا شروع کر دیتے۔ فرمایا کہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔ ’اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوۡنَ‘ کے الفاظ میں ان لوگوں کی ناسمجھی پر ملامت بھی ہے اور لطیف انداز میں ان کی اس نادانی سے درگزر کرنے کا اشارہ بھی کہ ہر چند ہے تو ان کی یہ حرکت نہایت ناشائستہ لیکن ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو نہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ و مقام سے آشنا ہیں اور نہ اپنی اس حرکت کے انجام سے، اس وجہ سے یہ ترتیب کے محتاج اور درگزر کے لائق ہیں۔
      ’وَرَآءِ الْحُجُرَاتِ‘ میں لفظ ’وَرَآءِ‘ جو آیا ہے اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ وہ حجروں کے پیچھے سے پکارتے تھے اس وجہ سے ان کی یہ حرکت قابل اعتراض ٹھہری۔ لفظ ’وَرَآءِ‘ پیچھے یا پچھواڑے کے مفہوم کے لیے خاص نہیں ہے۔ عربی میں ’نَادَانِیْ مِنْ وَرَآءِ الدَّارِ‘ کا مفہوم صرف یہ ہو گا کہ اس نے گھر کے باہر سے مجھے پکارا، قطع نظر اس سے کہ مکان کے پیچھے سے پکارا یا مکان کے سامنے سے۔ قابل اعتراض ان کا اس بھونڈے طریقہ سے پکارنا تھا۔ یہ امر واضح رہے کہ ایک عام مسلمان کو بھی اس طرح پکارنا اسلامی تہذیب کے خلاف ہے چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کو۔ سورۂ نور کی تفسیر میں وہ طریقہ آپ پڑھ آئے ہیں جو کسی صاحب خانہ سے ملاقات کے لیے اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِس میں کچھ شک نہیں، (اے پیغمبر) کہ جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں، اُن میں سے اکثر سمجھ نہیں رکھتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُنھی لوگوں کا طرزعمل بیان ہوا ہے، اوپر جن کے انداز گفتگو کا ذکر ہے۔ اِس کا باعث وہی پندار تھا جس میں یہ لوگ مبتلا تھے۔ اِن کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارا احسان مند ہونا چاہیے کہ ہم نے آپ کی اطاعت قبول کر لی ہے۔ لہٰذا ملنے کے لیے آئیں تو آپ کو چاہیے کہ بلاتاخیر ہمارا خیر مقدم کریں۔چنانچہ اگر کبھی آپ کو مجلس میں تشریف فرما نہ دیکھتے تو حجروں کے باہر ہی سے آپ کو پکارنا شروع کر دیتے تھے۔ آیت میں اِن کی نا سمجھی پر ملامت بھی ہے اور اُس سے درگذر کرنے کا اشارہ بھی کہ ہر چند اِن کی حرکت نہایت نا شایستہ ہے، مگر اِن کی اکثریت آپ کے مقام و مرتبہ سے آشنا نہیں ہے، اِس لیے عفو و درگذر ہی بہتر ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اگر یہ لوگ صبر کے ساتھ اتنا انتظار کر لیتے کہ تم خود ان کے پاس نکل کے آ جاتے تو یہ بات ان کے حق میں بہتر ہوتی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ ان کو صحیح ادب کی ہدایت فرمائی گئی کہ اگر وہ صبر کے ساتھ تمہارے نکلنے تک انتظار کر لیتے تو یہ چیز ان کے لیے بڑے خیر و برکت کا موجب ہوتی۔ آیت کا اسلوب ان کی محرومی پر اظہار حسرت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جس چشمہ فیض پر پہنچے تھے اگر انہوں نےاس کی صحیح قدر پہچانی ہوتی تو اس سے سیراب ہو کر لوٹتے لیکن یہ ان کی محرومی ہے کہ وہاں سے کچھ پانا تو درکنار اپنی نادانی و ناقدر شناسی کے باعث یہ کچھ کھو کے پلٹے۔
      ’وَاللَّهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‘- یہ اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی صفات ’غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‘ کی یاد دہانی فرمائی ہے اور مقصود اس سے نہایت لطیف انداز میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اگرچہ ان کی یہ حرکتیں نہایت ناگوار ہیں لیکن یہ سمجھ رکھنے والے لوگ نہیں ہیں اس وجہ سے ابھی ان کی اس طرح کی باتوں سے درگزر کرو۔ اللہ تعالی غفور رحیم ہے اور یہی عفو و درگزر اس کے رسول کے بھی شایان شان ہے۔

      جاوید احمد غامدی اگر یہ لوگ صبر کے ساتھ انتظار کر لیتے کہ تم خود اِن کے پاس نکل کے آجاتے تو یہ اِن کے حق میں بہت بہتر ہوتا۔ بہرحال (درگذر کرو)، اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت کا اسلوب اِن لوگوں کی محرومی پر اظہارحسرت کا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جس چشمۂ فیض پر پہنچے تھے، اگر اِنھوں نے اُس کی صحیح قدر پہچانی ہوتی تو اُس سے سیراب ہو کر لوٹتے۔ لیکن یہ اِن کی محرومی ہے کہ وہاں سے کچھ پانا تو درکنار، اپنی نادانی و ناقدر شناسی کے باعث یہ کچھ کھو کے پلٹے!‘‘ (تدبرقرآن ۷/ ۴۹۱)

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی اہم خبر لائے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو مبادا کسی قوم پر نادانی سے جا پڑو، پھر تمہیں اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خبر کے قبول کرنے کے معاملہ میں احتیاط کی تاکید: یہ مرکز (یعنی مدینہ) کے مسلمانوں کو اس طرح کے لوگوں کی طرف سے ایک سیاسی خطرہ سے آگاہ فرمایا گیا ہے۔ اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ یہ اطراف مدینہ کے بدوی قبائل کے بعض سرداروں کا رویہ بیان ہوا ہے۔ ان کے اندر تربیت سے محرومی کے باعث جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا صحیح شعور مفقود تھا اسی طرح اسلامی اخوت کے صحیح احساس سے بھی یہ لوگ ابھی نا آشنا تھے۔ زمانۂ جاہلیت میں ان کے اندر جو رقابتیں اور رنجشیں آپس میں تھیں ان کے اثرات ہنوز باقی تھے۔ یہ لوگ مدینہ آتے تو ان میں سے بعض اپنے حریفوں کے خلاف غلط صحیح اطلاعات دے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بدگمان کرنے کی کوشش کرتے اور صحابہؓ میں سے بھی، جن پر ان کا اثر کارگر ہوتا، ان کو اپنے حق میں ہموار کرتے تاکہ مدینہ کی مرکزی طاقت کو اپنے حریفوں کے خلاف اپنے حق میں استعمال کر سکیں۔ یہ صورت حال ایک نازک صورت حال تھی۔ مدینہ کی حکومت اول تو ابھی اچھی طرح مستحکم نہیں ہوئی تھی۔ ثانیاً اس قسم کی بے بنیاد افواہ انگیزیوں کی بنا پر اس کا کوئی اقدام خاص طور پر مسلمانوں ہی کے کسی گروہ کے خلاف، عدل اور اجتماعی مصلحت دونوں کے خلاف ہوتا۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ مرکز کے مسلمانوں کو یہ ہدایت کر دی جائے کہ وہ اس طرح کے اہم معاملات میں فیصلہ کلیۃً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صواب دید پر چھوڑیں، غیرثقہ لوگوں کی روایات پر اعتماد کر کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رائے سے متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں۔ چنانچہ ان کو ہدایت ہوئی کہ اگر کوئی فاسق شخص کسی اہم بات کی خبر دے تو نفس واقعہ کی اچھی طرح تحقیق کیے بغیر اس کی بات پر اعتماد کر کے کوئی اقدام نہ کر بیٹھو، مبادا کہ تم جوش و جذبہ سے مغلوب ہو کر کسی بے گناہ گروہ کے خلاف اقدام کر گزرو جس پر تمہیں بعد میں پچھتانا پڑے۔
      فاسق سے مراد شریعت کے حدود و قیود سے بے پروا لوگ ہیں۔ لفظ ’نبأ‘ کی تحقیق اس کے محل میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس سے مراد کوئی اہم خبر ہوتی ہے جس کو باور کر لینے یا اس پر عمل کرنے سے دور رس نتائج کے پیدا ہونے کاا مکان ہو۔ اس طرح کی اہم خبر اگر کوئی ایسا شخص دے جو دینی و اخلاقی اعتبار سے ناقابل اعتبار ہو تو عقل اور اخلاق دونوں کا تقاضا یہی ہے کہ اس کی بات اس وقت تک باور نہ کی جائے جب تک خبر اور مخبر دونوں کی اچھی طرح تحقیق نہ کر لی جائے۔ ہو سکتا ہے کہ خبر دینے والے نے فاسد محرکات کے تحت خبر دی ہو اور خبر یا تو بالکل جھوٹی ہو یا کسی بدنیتی سے اس میں ایسی کمی بیشی کر دی گئی ہو کہ سننے والوں کے جذبات میں اس سے جوش و اشتعال پیدا ہو۔ لفظ ’جہالت‘ یہاں جوش و ہیجان کے معنی میں ہے۔ اس کی تحقیق جگہ جگہ اس کتاب میں ہم کر چکے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، اگر (اِن پکارنے والوں میں سے) کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی اہم خبر لائے تو اُس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔ایسا نہ ہو کہ تم جذبات سے مغلوب ہو کر کسی قوم پر جا چڑھو، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین و اخلاق کے حدود سے بے پروا ہوں۔
      یعنی کوئی ایسی خبر جو دور رس نتائج کی حامل ہو۔ اوپر بدوی قبائل کے جن سرداروں کا رویہ بیان ہوا ہے، وہ بعض اوقات اپنے حریفوں سے پرانے حساب چکانے کے لیے اُن کے بارے میں غلط صحیح خبریں صحابہ تک پہنچاتے اور اُن کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہوں گے۔ یہ غالباً اِسی طرح کی خبروں کا ذکر ہے۔
      یعنی خبر کی بھی اور خبر دینے والے کی بھی۔ اِس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اطلاع دینے والا اگر کوئی مجہول شخص ہے جس کا نہ فسق معلوم ہے اور نہ ثقاہت تو اُس کی تحقیق بھی لازماً ہونی چاہیے۔ ہمارے محدثین نے اِسی اصول پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل کی روایت کرنے والوں کی تحقیق کی ہے اور اگر کسی راوی کی تحقیق میں اُن کو کامیابی نہیں ہوئی تو اُسے مجہول قرار دے کر اُس کی روایت کو اُنھوں نے ردکر دیا ہے۔ اِسی طرح فقہا اور مجتہدین نے خبر کی تحقیق کے اصول وضع کیے ہیں جنھیں درایت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ آیت پر غور کیجیے تو اِس میں اصلاً اِسی دوسری بات کی تاکید ہے، اِس لیے کہ راوی کا فسق تو یہاں پہلے سے معلوم ہے۔
      اصل میں اِس کے لیے لفظ ’جَہَالَۃ‘آیا ہے۔ یہ جوش و ہیجان کے معنی میں ہے۔ عربی زبان میں یہ جس طرح لا علمی کے معنی میں آتا ہے، اُسی طرح اِس مفہوم کے لیے بھی آتا ہے۔
      یعنی اِن لوگوں کی باتوں میں آکر کسی بے گناہ قبیلے یا گروہ کے خلاف کوئی اقدام کر بیٹھو۔ اِس طرح کا اقدام، خاص طور پر مسلمانوں ہی کے کسی گروہ کے خلاف اگر کیا جاتا تو یہ نہ صرف صریح عدوان ہوتا جس کی دین و اخلاق میں کوئی گنجایش نہیں ہے، بلکہ اجتماعی مصالح کے بھی خلاف ہوتا جن کی رعایت اُس وقت کی نازک صورت حال میں اور بھی ضروری تھی۔

    • امین احسن اصلاحی اور اچھی طرح جان رکھو کہ تمہارے اندر اللہ کا رسول موجود ہے۔ اگر بہت سے معاملات میں وہ تمہاری بات مان لیا کرے تو تم بڑی مصیبت میں پھنس جاؤ گے لیکن اللہ نے تمہارے سامنے ایمان کو محبوب بنایا اور اس کو تمہارے دلوں میں کھبایا اور کفر و فسق اور نافرمانی کو تمہاری نگاہوں میں مبغوض کیا۔ یہی لوگ ہیں جو (اللہ کے فضل و انعام سے) راہ راست پانے والے بنے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      صحیح رویہ: یہ اسی تنبیہ کی مزید تاکید ہے کہ جب تمہارے اندر اللہ کا رسول موجود ہے تو تمہیں اپنی رایوں اور اپنے مشوروں کو اتنی اہمیت نہیں دینی چاہیے کہ رسول کو اپنے پیچھے چلانے کی کوشش کرو بلکہ تمہیں ان کے پیچھے چلنا ہے۔ وہ جو قدم بھی اٹھاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں اٹھاتے ہیں اس وجہ سے تمہاری دنیا اور آخرت کی فلاح ان کی پیروی میں ہے نہ کہ اپنے جذبات کی پیروی میں۔ اگر تمہیں کوئی رائے پیش کرنی ہو تو ادب سے اپنی رائے پیش کر کے فیصلہ رسول کی صوابدید پر چھوڑو۔ یہ خواہش نہ کرو کہ تمہاری ہر رائے لازماً مان ہی لی جائے۔ اچھی طرح یاد رکھو کہ تمہاری بہت سی رائیں خام ہوتی ہیں، اللہ کا رسول ان سب کو اگر مان لیا کرے تو تم بڑی مصیبت میں پھنس جاؤ گے۔ وہ تمہاری انہی رایوں کو مانتے ہیں جو صائب ہوتی ہیں۔ ان کی بدولت تمہیں ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کی رہنمائی حاصل ہے تو اس نعمت کی قدر کرو اور اپنے رب کے شکر گزار رہو۔
      ’عنت‘ کے معنی زحمت اور مشقت کے ہیں۔ ’لَعَنِتُّمْ‘ یعنی تم بڑی مشقت و مصیبت میں پھنس جاؤ گے۔ اگر کوئی مریض طبیب کی صوابدید پر عمل کرنے کے بجائے چاہے کہ طبیب اس کے مشوروں پر عمل پیرا ہو تو ایسے مریض کا خطر ے میں پڑ جانا ایک امر بدیہی ہے۔
      زبان کے بعض لطائف: ’وَلٰکِنَّ اللہَ حَبَّبَ إِلَیْْکُمُ الْإِیْمَانَ وَزَیَّنَہُ فِیْ قُلُوبِکُمْ وَکَرَّہَ اِلَیْْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس زحمت و مشقت سے بچانے ہی کے لیے یہ اہتمام فرمایا کہ ایمان کو تمہاری نگاہوں میں محبوب بنایا اور اس کو تمہارے دلوں میں رچایا بسایا اور کفر، فسق اور عصیان کو تمہاری نگاہوں میں مکروہ و مبغوض ٹھہرایا تو اس اہتمام کا حق یہ ہے کہ اب تمہارے اندر ایمان کی محبت و محبوبیت قائم و دائم رہے اور کبھی تمہارے کسی قول و فعل سے اس پر کفر و عصیان کا کوئی دھبہ نہ پڑنے پائے۔
      ’حَبَّبَ‘ اور ’کَرَّہَ‘ کے بعد ’اِلٰی‘ کا صلہ اس اہتمام خاص کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ کی نگاہوں میں ایمان کو محبوب اور کفر و فسق کو مبغوض بنانے کے لیے اپنے رسول کے ذریعہ سے فرمایا۔ دور جاہلیت کی تاریکی میں تمام اقدار بالکل تلپٹ ہو گئے تھے۔ شیطان نے ایمان کو لوگوں کی نگاہوں میں مکروہ و مبغوض اور کفر و فسق کو محبوب و مطلوب بنا دیا تھا۔ ایمان اس طرح تہ بہ تہ پردوں کے اندر محجوب و مستور ہو گیا تھا کہ ان کو چاک کر کے ایمان کے حقیقی حسن و جمال کو خلق کے لیے بے نقاب کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف بن گیا تھا۔ اسی طرح کفر کو شیطان نے مصنوعی غازوں سے اس طرح پر فریب بنا دیا تھا کہ اس کی اصل گھنونی شکل و صورت لوگوں کو دکھانا ہفت خواں طے کرنے کے برابر تھا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی عنایت ہوئی کہ اس نے اپنا رسول بھیجا جس نے ایک طویل جدوجہد اور جہاد کے بعد ایمان کو اس کی اصلی محبوب شکل میں لوگوں کو دکھایا اور اس کے جمال کو ان کے دلوں میں بسایا۔ اسی طرح کفر کے چہرے کے مصنوعی غازہ کو اتار کر اس کی اصل مکروہ اور گھنونی شکل سے لوگوں کو آشنا اور اس سے بیزار کیا۔ اسی مضمون کو یہاں ’حَبَّبَ اِلٰی‘ اور ’کَرَّہَ اِلٰی‘ کے الفاظ سے ادا فرمایا ہے۔ یعنی ایمان اور کفر دونوں کو ان کی حقیقی شکل و صورت میں تمہارے آگے پیش کیا جس سے تم ایمان کے دل دادہ بنے اور کفر سے بیزار ہوئے۔ گویا یہ دونوں فعل ’قدّم‘ کے مضمون پر متضمن ہیں اور حرف ’اِلٰی‘ اس کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
      یہاں ’حَبَّبَ‘ کے مفعول کی حیثیت سے تو صرف ’ایمان‘ کا ذکر ہے لیکن ’کَرَّہَ‘ کے ساتھ کفر، فسق اور عصیان تین چیزوں کا ذکر ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں جن لوگوں کے کردار پر تبصرہ ہو رہا ہے وہ ابھی، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ان باتوں سے اچھی طرح آشنا نہیں تھے جو ایمان کی ضد ہیں۔ یہ چیز مقتضی ہوئی کہ ان کو وضاحت سے یہ بات بتائی جائے کہ صرف کفر ہی ایمان کے منافی نہیں ہے بلکہ فسق و عصیان کے قسم کی ساری باتیں بھی اسی شجرۂ ملعونہ کے برگ و بار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی مبغوض ٹھہرایا۔
      لفظ ’فسق‘ یوں تو قرآن میں کفر کی جگہ بھی استعمال ہوا ہے لیکن یہاں چونکہ یہ کفر کے ساتھ آیا ہے اس وجہ سے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ حکم عدولی ہو گی جس کا ارتکاب کوئی شخص ایمان کا مدعی ہوتے ہوئے کرے۔ لفظ ’عصیان‘ یہاں موقع و محل اشارہ کر رہا ہے کہ رسول کی نافرمانی کے لیے آیا ہے۔ رسول کے خلفاء و امراء کی نافرمانی بھی چونکہ بالواسطہ رسول ہی کی نافرمانی ہے اس وجہ سے یہ چیز بھی اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہے۔
      ’اُولٰٓئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُونَ ۵ فَضْلاً مِّنَ اللَّہِ وَنِعْمَۃً وَاللَّہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ‘۔ فرمایا کہ یہی لوگ، جن کے دلوں میں ایمان کا جمال گھر کیے ہوئے ہے اور جو کفر، فسق اور عصیان کے ہر شائبہ سے بیزار و نفور ہیں، درحقیقت اصل ہدایت پر ہیں اور یہ ہدایت ان کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعام سے حاصل ہوئی ہے اس وجہ سے ان کو اس پر اپنے رب ہی کا شکرگزار رہنا چاہیے خام کاروں کی طرح اس وہم میں نہیں مبتلا ہونا چاہیے کہ اس کو یہ چیز ازخود مل گئی ہے اور وہ خدا و رسول کا کوئی محسن بن گیا ہے۔ ’عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ‘ کی صفات کا حوالہ اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کی تقسیم کسی اندھے کی تقسیم نہیں ہے۔ وہ اپنے دین کی نعمت انہی کو دیتا ہے جن کو وہ اس کا اہل پاتا ہے۔
      یہ آیت مدینہ کے مسلمانوں کی تعریف میں ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے برابر فیض یاب اور اللہ کے رنگ میں اچھی طرح رنگے ہوئے تھے اور سیاق و سباق دلیل ہے کہ اس میں ان خام کار مسلمانوں پر تعریض بھی ہے جن کی خامیوں پر سورہ کی ابتداء ہی سے تبصرہ ہو رہا ہے اور جن کا تعلق اطراف مدینہ کے قبائل سے تھا۔
      ایک بے بنیاد شان نزول: آیت ۶ کے تحت ہمارے مفسرین نے، اپنی عادت کے مطابق، ایک شان نزول کا بھی ذکر کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو تحصیل زکوٰۃ کے لیے بنی مصطلق کے پاس بھیجا۔ جب یہ وہاں پہنچے تو بنی مصطلق کے لوگ بشکل جلوس ان کے خیر مقدم کے لیے نکلے۔ ولید نے گمان کیا کہ یہ لوگ ان سے لڑنے کو نکلے ہیں۔ وہ ڈر کر فوراً وہاں سے واپس آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ وہ لوگ مرتد ہو گئے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرنے سے انھوں نے انکار کر دیا۔؂۱ یہ خبر سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بنی مصطلق پر نہایت برہم ہوئے اور ان کی سرکوبی کے لیے آپؐ نے ایک دستہ بھیج دیا یا بھیجنے کا فیصلہ فرما لیا کہ اتنے میں بنی مصطلق والوں کو اطلاع ہو گئی اور ان کے سردار نے فوراً مدینہ حاضر ہو کر بقید قسم حضورؐ کو اطمینان دلایا کہ ہم نے تو ولید کی شکل بھی نہیں دیکھی، زکوٰۃ روکنے کا کیا سوال؟ ان کی طرف سے صفائی کے بعد ان کا معاملہ تو رفع دفع ہو گیا لیکن ہمارے مفسرین کے نزدیک ولیدؓ کی اسی روایت کی بنا پر یہ آیت اتری اور مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ وہ کسی فاسق کی روایت پر اعتماد کر کے کوئی عاجلانہ قدم نہ اٹھایا کریں۔
      ہمارے مفسرین کوئی نہ کوئی شان نزول تو تقریباً ہر آیت کے تحت درج کرتے ہیں، اوپر آیت ’إِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوۡنَکَ ....... الاٰیۃ‘ کے تحت بھی انھوں نے ایک شان نزول کا حوالہ دیا ہے لیکن اس سے ہم نے اس وجہ سے تعرض نہیں کیا کہ بعض ناقدین نے اس پر جرح بھی کر دی ہے مگر اس شان نزول پر سب متفق ہیں اس وجہ سے اس سے تعرض ناگزیر ہے۔
      شان نزول سے متعلق وہ اصولی حقیقت ہمیشہ مستحضر رکھیے جس کا ذکر ہم نے مقدمۂ تفسیر میں کیا ہے کہ سلف کسی آیت کے تحت اگر کسی واقعہ کا ذکر شان نزول کی حیثیت سے کرتے ہیں تو اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ بعینہٖ وہی واقعہ اس آیت کے نزول کا سبب ہوا ہے بلکہ اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ آیت سے اس واقعہ کا حکم بھی مستنبط ہوتا ہے۔ یہ رائے اصول تفسیر کے ماہرین کی ہے اس وجہ سے میں نے اس کا حوالہ دیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ امر بھی معلوم ہے کہ شان نزول سے متعلق روایات بیش تر ضعیف بلکہ بے بنیاد ہیں، اس وجہ سے ان کو عقل و نقل کی کسوٹی پر پرکھے بغیر مان لینے سے اسی فتنہ میں پڑ جانے کا اندیشہ ہے جس سے آیت زیربحث میں اہل ایمان کو روکا گیا ہے۔
      اس شان نزول کو درایت کی کسوٹی پر جانچیے تو معلوم ہو گا کہ اس کی کوئی کل بھی سیدھی نہیں ہے۔
      سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آیت میں فاسق کی روایت پر اعتماد کرنے سے روکا گیا ہے۔ جب کہ ولیدؓ کے متعلق اس واقعے سے پہلے کوئی بات بھی ایسی لوگوں کے سامنے نہیں آئی تھی جس سے معلوم ہو سکتا کہ نعوذ باللہ وہ فاسق ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ ان کے فسق کی کوئی شہادت موجود نہیں تھی بلکہ ان کی ثقاہت و عدالت کا یہ مرتبہ تھا کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تحصیل زکوٰۃ کے ذمہ دارانہ منصب پر مامور فرمایا۔ اگر ان کے اندر اس قسم کا کوئی کھوٹ ہوتا تو حضورؐ ان کو اس اہم خدمت کے لیے کس طرح منتخب فرماتے۔
      دوسری بات یہ ہے کہ اس شان نزول کو باور کر لیجیے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ’نعوذ باللہ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہؓ سے اتنے ناواقف تھے کہ ایسے لوگوں کو ذمہ دارانہ مناصب پر مامور فرما دیتے تھے جو اپنی دروغ بافی سے حکومت اور رعایا دونوں کو خطرے میں ڈال دیں۔ اس قسم کی بے بصیرتی ایک عام معقول آدمی سے بھی بعید از قیاس ہے چہ جائیکہ اس کا صدور سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔
      تیسری بات یہ ہے کہ اگر ولیدؓ استقبال کرنے والی پارٹی کو جنگجو پارٹی سمجھ کر اس سے ڈر کے واپس آ گئے تھے اور اپنا تاثر انھوں نے حضورؐ کے سامنے یہ بیان کیا کہ بنی مصطلق نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے تو ان کی یہ بات سادہ لوحی اور کمزوری تو قرار دی جا سکتی ہے لیکن ازروئے شریعت اس کو فسق نہیں کہا جا سکتا۔ پھر تو اس مضمون کی آیت اترنی تھی کہ ’مسلمانو، تم اپنے ذمہ دارانہ عہدے ایسے سادہ لوحوں کے سپرد نہ کیا کرو جو استقبال کرنے والوں اور لڑنے والوں کے درمیان امتیاز کرنے سے بھی قاصر ہوں‘۔ غور کرنے کی بات ہے کہ ولیدؓ اتنے سادہ لوح ہوتے تو کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ایسی اہم مالی اور سیاسی ذمہ داری سپرد کر دیتے؟ کیا کسی شخص کے اندر سادہ لوحی کوئی ناگہانی طور پر پیدا ہو جانے والی چیز ہے جو لوگوں سے مخفی رہے، یہاں تک کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کا اندازہ نہ ہو سکے!
      چوتھی بات یہ ہے کہ یہی ولیدؓ ہیں جن کو سیدنا عثمان غنیؓ نے اپنے دور خلافت میں کوفہ کا گورنر بنایا۔ غور کیجیے کہ کیا حضرت عثمان غنیؓ اس بات سے واقف نہیں تھے کہ یہ شخص ازروئے نص قرآن فاسق قرار پا چکا ہے اور گورنری تو درکنار اسلامی قانون کی رو سے یہ کسی روایت یا شہادت کا بھی اہل نہیں ہے؟ اگر ناواقف تھے تو یہ جانیے کہ حضرت عثمانؓ جیسے خلیفۂ راشد، جن کو جامع قرآن ہونے کا بھی شرف حاصل ہے، نعوذ باللہ، قرآن کا اتنا علم بھی نہیں رکھتے تھے جتنا علم شان نزول کی روایتیں کرنے والے ان راویوں کو تھا۔
      میں نے اس شان نزول کے صرف چند پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے، ورنہ اضطراب اس کے ہر پہلو میں ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تادیبی دستہ روانہ کر دیا تھا، بعض میں ہے کہ روانہ کرنے کا فیصلہ فرما لیا تھا اور بنی مصطلق کو الٹی میٹم دے دیا تھا کہ اگر تم لوگ اپنی حرکت سے باز نہ آئے تو میں تمہاری سرکوبی کے لیے ایسے شخص کو بھیجوں گا جو ’عندی کنفسی‘ (جو میرے نزدیک میری اپنی ذات کی طرح ہے) ساتھ ہی حضرت علیؓ کے شانے پر تھپتھپاتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی کہ اس مہم کو یہ سر کریں گے۔ بعض روایات میں اس کے برخلاف یہ ہے کہ اس مہم پر آپؐ نے حضرت خالدؓ کو بھیجا۔ غرض جتنے منہ ہیں اتنی ہی باتیں ہیں، حالانکہ ’لَوْ یُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْأَمْرِ‘ سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح کی کوئی بات آئی بھی تو آپ نے ٹال دی اور لوگوں کو تنبیہ کر دی گئی کہ وہ پیغمبرؐ کو اپنی رایوں سے متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں۔
      میرے نزدیک یہ شان نزول روافض کی ’ایجادات‘ میں سے ہے جس سے انھوں نے صرف ولیدؓ ہی کو بدنام کرنا نہیں چاہا ہے بلکہ حضرت عثمانؓ کو بھی مطعون کرنے کی کوشش کی ہے کہ انھوں نے یہ جانتے بوجھتے کہ یہ شخص فاسق ہے محض ازراہ کنبہ پروری؂۲ اس کو کوفہ کا گورنر بنا دیا۔ پھر کوفہ کی گورنری کے دوران میں بھی ان ظالموں نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا بلکہ ان کے فسق کے ایسے واقعات کی روایت کی ہے جن کو سن کر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔ ہنسی ان ظالموں کی ذہانت پر آتی ہے اور رونا اپنے مفسرین کی سادگی پر کہ اس قسم کی بے سروپا روایتیں تفسیر کی کتابوں میں نقل کر دیتے ہیں حالانکہ آیت کے الفاظ اور اس کے سیاق و سباق سے ان کو کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔
      _____
      ؂۱ بعض راویوں کا بیان ہے کہ ڈرے نہیں بلکہ ان کے دل میں پہلے سے بنی مصطلق کے خلاف رنجش تھی اسی وجہ سے ان سے ملے بغیر واپس آ گئے اور یہ بات بنائی کہ انھوں نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا۔
      ؂۲ یہ امر واضح رہے کہ حضرت ولیدؓ سیدنا عثمانؓ کے رشتہ دار بھی تھے۔

      جاوید احمد غامدی تم اچھی طرح جان رکھو کہ تمھارے اندر خدا کا رسول موجود ہے ، (لہٰذا کسی طرح مناسب نہیں ہے کہ اپنی رایوں پر اصرار کرو)۔ اگر وہ بہت سے معاملات میں تمھاری بات مان لیا کرے تو تم بڑی مشکل میں پڑ جاؤ گے، (جس طرح اِس سے پہلے پڑے رہتے تھے)، مگر اللہ نے تمھارے آگے ایمان کو محبوب اور اُس کو تمھارے دلوں میں اچھا کر دکھایا ہے اور کفر اور فسق اور (پیغمبر کی) نافرمانی کو تمھاری نگاہوں میں مبغوض ٹھیرایا ہے۔ (اللہ کے فضل و احسان سے) یہی لوگ راست رو ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے کہ تمھاری زیادہ باتیں سنی سنائی اور خام ہوتی ہیں جنھیں تم تحقیق کیے بغیر محض اِن فتنہ پردازوں کے زیر اثر کر دیتے ہو اور پھر اِنھی کے ایما سے اُن پر اصرار بھی کرتے ہو۔
      یعنی ایمان اور کفر، دونوں کو اُن کی حقیقی صورت میں تمھارے سامنے پیش کیا ہے جس سے ایمان تمھارے لیے محبوب اور کفر و عصیان مبغوض بن گیا ہے۔ اِس اہتمام کا اب یہ حق ہے کہ تمھارے کسی قول و فعل میں نہ کفر و عصیان کی کوئی آمیزش ہو اور نہ ایمان کی محبت اور محبوبیت میں کوئی کمی آئے، بلکہ یہ ہمیشہ قائم و دائم رہے۔ آیت میں ’حَبَّبَ‘ اور ’کَرَّہَ‘، دونوں فعل ’قَدَّمَ‘ کے مفہوم پر متضمن ہیں جس سے وہ اہتمام خاص نمایاں ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو ایمان کا دل دادہ اور کفر و عصیان سے نفور بنانے کے لیے اپنے رسول کے ذریعے سے فرمایا۔ اِسی طرح یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ’حَبَّبَ‘ کے مفعول کی حیثیت سے صرف ایمان کا ذکر ہے، لیکن ’کَرَّہَ‘ کے ساتھ کفر، فسق اور عصیان، تین چیزوں کا ذکر ہوا ہے۔ اِس کی وجہ کیا ہے؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’... اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں جن لوگوں کے کردار پر تبصرہ ہو رہا ہے، وہ ابھی... اُن باتوں سے اچھی طرح آشنا نہیں تھے جو ایمان کی ضد ہیں۔ یہ چیز مقتضی ہوئی کہ اُن کو وضاحت سے یہ بات بتائی جائے کہ صرف کفر ہی ایمان کے منافی نہیں ہے، بلکہ فسق و عصیان کے قسم کی ساری باتیں بھی اِسی شجرۂ ملعونہ کے برگ و بار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اِن کو بھی مبغوض ٹھیرایا۔‘‘(تدبرقرآن۷/ ۴۹۴)

    • امین احسن اصلاحی (یہی لوگ ہیں جو) اللہ کے فضل و انعام سے (راہ راست پانے والے بنے)۔ اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فَضْلاً مِّنَ اللَّہِ وَنِعْمَۃً وَاللَّہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ‘۔ فرمایا کہ یہی لوگ، جن کے دلوں میں ایمان کا جمال گھر کیے ہوئے ہے اور جو کفر، فسق اور عصیان کے ہر شائبہ سے بیزار و نفور ہیں، درحقیقت اصل ہدایت پر ہیں اور یہ ہدایت ان کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعام سے حاصل ہوئی ہے اس وجہ سے ان کو اس پر اپنے رب ہی کا شکرگزار رہنا چاہیے خام کاروں کی طرح اس وہم میں نہیں مبتلا ہونا چاہیے کہ اس کو یہ چیز ازخود مل گئی ہے اور وہ خدا و رسول کا کوئی محسن بن گیا ہے۔ ’عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ‘ کی صفات کا حوالہ اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کی تقسیم کسی اندھے کی تقسیم نہیں ہے۔ وہ اپنے دین کی نعمت انہی کو دیتا ہے جن کو وہ اس کا اہل پاتا ہے۔
      یہ آیت مدینہ کے مسلمانوں کی تعریف میں ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے برابر فیض یاب اور اللہ کے رنگ میں اچھی طرح رنگے ہوئے تھے اور سیاق و سباق دلیل ہے کہ اس میں ان خام کار مسلمانوں پر تعریض بھی ہے جن کی خامیوں پر سورہ کی ابتداء ہی سے تبصرہ ہو رہا ہے اور جن کا تعلق اطراف مدینہ کے قبائل سے تھا۔
      ایک بے بنیاد شان نزول: آیت ۶ کے تحت ہمارے مفسرین نے، اپنی عادت کے مطابق، ایک شان نزول کا بھی ذکر کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو تحصیل زکوٰۃ کے لیے بنی مصطلق کے پاس بھیجا۔ جب یہ وہاں پہنچے تو بنی مصطلق کے لوگ بشکل جلوس ان کے خیر مقدم کے لیے نکلے۔ ولید نے گمان کیا کہ یہ لوگ ان سے لڑنے کو نکلے ہیں۔ وہ ڈر کر فوراً وہاں سے واپس آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ وہ لوگ مرتد ہو گئے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرنے سے انھوں نے انکار کر دیا۔؂۱ یہ خبر سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بنی مصطلق پر نہایت برہم ہوئے اور ان کی سرکوبی کے لیے آپؐ نے ایک دستہ بھیج دیا یا بھیجنے کا فیصلہ فرما لیا کہ اتنے میں بنی مصطلق والوں کو اطلاع ہو گئی اور ان کے سردار نے فوراً مدینہ حاضر ہو کر بقید قسم حضورؐ کو اطمینان دلایا کہ ہم نے تو ولید کی شکل بھی نہیں دیکھی، زکوٰۃ روکنے کا کیا سوال؟ ان کی طرف سے صفائی کے بعد ان کا معاملہ تو رفع دفع ہو گیا لیکن ہمارے مفسرین کے نزدیک ولیدؓ کی اسی روایت کی بنا پر یہ آیت اتری اور مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ وہ کسی فاسق کی روایت پر اعتماد کر کے کوئی عاجلانہ قدم نہ اٹھایا کریں۔
      ہمارے مفسرین کوئی نہ کوئی شان نزول تو تقریباً ہر آیت کے تحت درج کرتے ہیں، اوپر آیت ’إِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوۡنَکَ ....... الاٰیۃ‘ کے تحت بھی انھوں نے ایک شان نزول کا حوالہ دیا ہے لیکن اس سے ہم نے اس وجہ سے تعرض نہیں کیا کہ بعض ناقدین نے اس پر جرح بھی کر دی ہے مگر اس شان نزول پر سب متفق ہیں اس وجہ سے اس سے تعرض ناگزیر ہے۔
      شان نزول سے متعلق وہ اصولی حقیقت ہمیشہ مستحضر رکھیے جس کا ذکر ہم نے مقدمۂ تفسیر میں کیا ہے کہ سلف کسی آیت کے تحت اگر کسی واقعہ کا ذکر شان نزول کی حیثیت سے کرتے ہیں تو اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ بعینہٖ وہی واقعہ اس آیت کے نزول کا سبب ہوا ہے بلکہ اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ آیت سے اس واقعہ کا حکم بھی مستنبط ہوتا ہے۔ یہ رائے اصول تفسیر کے ماہرین کی ہے اس وجہ سے میں نے اس کا حوالہ دیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ امر بھی معلوم ہے کہ شان نزول سے متعلق روایات بیش تر ضعیف بلکہ بے بنیاد ہیں، اس وجہ سے ان کو عقل و نقل کی کسوٹی پر پرکھے بغیر مان لینے سے اسی فتنہ میں پڑ جانے کا اندیشہ ہے جس سے آیت زیربحث میں اہل ایمان کو روکا گیا ہے۔
      اس شان نزول کو درایت کی کسوٹی پر جانچیے تو معلوم ہو گا کہ اس کی کوئی کل بھی سیدھی نہیں ہے۔
      سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آیت میں فاسق کی روایت پر اعتماد کرنے سے روکا گیا ہے۔ جب کہ ولیدؓ کے متعلق اس واقعے سے پہلے کوئی بات بھی ایسی لوگوں کے سامنے نہیں آئی تھی جس سے معلوم ہو سکتا کہ نعوذ باللہ وہ فاسق ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ ان کے فسق کی کوئی شہادت موجود نہیں تھی بلکہ ان کی ثقاہت و عدالت کا یہ مرتبہ تھا کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تحصیل زکوٰۃ کے ذمہ دارانہ منصب پر مامور فرمایا۔ اگر ان کے اندر اس قسم کا کوئی کھوٹ ہوتا تو حضورؐ ان کو اس اہم خدمت کے لیے کس طرح منتخب فرماتے۔
      دوسری بات یہ ہے کہ اس شان نزول کو باور کر لیجیے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ’نعوذ باللہ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہؓ سے اتنے ناواقف تھے کہ ایسے لوگوں کو ذمہ دارانہ مناصب پر مامور فرما دیتے تھے جو اپنی دروغ بافی سے حکومت اور رعایا دونوں کو خطرے میں ڈال دیں۔ اس قسم کی بے بصیرتی ایک عام معقول آدمی سے بھی بعید از قیاس ہے چہ جائیکہ اس کا صدور سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔
      تیسری بات یہ ہے کہ اگر ولیدؓ استقبال کرنے والی پارٹی کو جنگجو پارٹی سمجھ کر اس سے ڈر کے واپس آ گئے تھے اور اپنا تاثر انھوں نے حضورؐ کے سامنے یہ بیان کیا کہ بنی مصطلق نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے تو ان کی یہ بات سادہ لوحی اور کمزوری تو قرار دی جا سکتی ہے لیکن ازروئے شریعت اس کو فسق نہیں کہا جا سکتا۔ پھر تو اس مضمون کی آیت اترنی تھی کہ ’مسلمانو، تم اپنے ذمہ دارانہ عہدے ایسے سادہ لوحوں کے سپرد نہ کیا کرو جو استقبال کرنے والوں اور لڑنے والوں کے درمیان امتیاز کرنے سے بھی قاصر ہوں‘۔ غور کرنے کی بات ہے کہ ولیدؓ اتنے سادہ لوح ہوتے تو کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ایسی اہم مالی اور سیاسی ذمہ داری سپرد کر دیتے؟ کیا کسی شخص کے اندر سادہ لوحی کوئی ناگہانی طور پر پیدا ہو جانے والی چیز ہے جو لوگوں سے مخفی رہے، یہاں تک کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کا اندازہ نہ ہو سکے!
      چوتھی بات یہ ہے کہ یہی ولیدؓ ہیں جن کو سیدنا عثمان غنیؓ نے اپنے دور خلافت میں کوفہ کا گورنر بنایا۔ غور کیجیے کہ کیا حضرت عثمان غنیؓ اس بات سے واقف نہیں تھے کہ یہ شخص ازروئے نص قرآن فاسق قرار پا چکا ہے اور گورنری تو درکنار اسلامی قانون کی رو سے یہ کسی روایت یا شہادت کا بھی اہل نہیں ہے؟ اگر ناواقف تھے تو یہ جانیے کہ حضرت عثمانؓ جیسے خلیفۂ راشد، جن کو جامع قرآن ہونے کا بھی شرف حاصل ہے، نعوذ باللہ، قرآن کا اتنا علم بھی نہیں رکھتے تھے جتنا علم شان نزول کی روایتیں کرنے والے ان راویوں کو تھا۔
      میں نے اس شان نزول کے صرف چند پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے، ورنہ اضطراب اس کے ہر پہلو میں ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تادیبی دستہ روانہ کر دیا تھا، بعض میں ہے کہ روانہ کرنے کا فیصلہ فرما لیا تھا اور بنی مصطلق کو الٹی میٹم دے دیا تھا کہ اگر تم لوگ اپنی حرکت سے باز نہ آئے تو میں تمہاری سرکوبی کے لیے ایسے شخص کو بھیجوں گا جو ’عندی کنفسی‘ (جو میرے نزدیک میری اپنی ذات کی طرح ہے) ساتھ ہی حضرت علیؓ کے شانے پر تھپتھپاتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی کہ اس مہم کو یہ سر کریں گے۔ بعض روایات میں اس کے برخلاف یہ ہے کہ اس مہم پر آپؐ نے حضرت خالدؓ کو بھیجا۔ غرض جتنے منہ ہیں اتنی ہی باتیں ہیں، حالانکہ ’لَوْ یُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْأَمْرِ‘ سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح کی کوئی بات آئی بھی تو آپ نے ٹال دی اور لوگوں کو تنبیہ کر دی گئی کہ وہ پیغمبرؐ کو اپنی رایوں سے متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں۔
      میرے نزدیک یہ شان نزول روافض کی ’ایجادات‘ میں سے ہے جس سے انھوں نے صرف ولیدؓ ہی کو بدنام کرنا نہیں چاہا ہے بلکہ حضرت عثمانؓ کو بھی مطعون کرنے کی کوشش کی ہے کہ انھوں نے یہ جانتے بوجھتے کہ یہ شخص فاسق ہے محض ازراہ کنبہ پروری؂۲ اس کو کوفہ کا گورنر بنا دیا۔ پھر کوفہ کی گورنری کے دوران میں بھی ان ظالموں نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا بلکہ ان کے فسق کے ایسے واقعات کی روایت کی ہے جن کو سن کر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔ ہنسی ان ظالموں کی ذہانت پر آتی ہے اور رونا اپنے مفسرین کی سادگی پر کہ اس قسم کی بے سروپا روایتیں تفسیر کی کتابوں میں نقل کر دیتے ہیں حالانکہ آیت کے الفاظ اور اس کے سیاق و سباق سے ان کو کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔
      _____
      ؂۱ بعض راویوں کا بیان ہے کہ ڈرے نہیں بلکہ ان کے دل میں پہلے سے بنی مصطلق کے خلاف رنجش تھی اسی وجہ سے ان سے ملے بغیر واپس آ گئے اور یہ بات بنائی کہ انھوں نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا۔
      ؂۲ یہ امر واضح رہے کہ حضرت ولیدؓ سیدنا عثمانؓ کے رشتہ دار بھی تھے۔

      جاوید احمد غامدی اللہ کے فضل و احسان سے (یہی لوگ راست رو ہیں کہ اِس نعمت سے بہرہ یاب ہیں) اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان مصالحت کراؤ۔ پس اگر ان میں سے ایک دوسرے پر تعدی کرے تو اس سے جنگ کرو جو تعدی کرے۔ تا آنکہ وہ اللہ کے فیصلہ کی طرف رجوع کرے۔ پس اگر وہ رجوع کرے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ مصالحت کرا دو اور ٹھیک ٹھیک انصاف کرو۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اگر مسلمانوں کے دو گروہوں میں تصادم ہو جائے تو دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری: اوپر کی آیت میں اس بات کی ممانعت فرمائی گئی ہے کہ کسی فاسق کی روایت پر اعتماد کر کے مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کی کسی جماعت کے خلاف کوئی اقدام کر بیٹھیں۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کے دو گروہ اگر آپس میں لڑ پڑیں تو دوسرے مسلمانوں یا ان کی حکومت کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ فرمایا کہ ان کے درمیان اصلاح احوال کی کوشش کرو۔ اگر دونوں میں سے کوئی ایک پارٹی مصالحت پر آمادہ نہ ہو یا مصالحت کے بعد مصالحت کے شرائط کے خلاف دوسری پارٹی پر تعدی کرے تو اس صورت میں دوسرے مسلمانوں یا ان کی حکومت کو تعدی کرنے والی پارٹی سے جنگ کرنی چاہیے یہاں تک کہ وہ حق کے آگے جھکنے پر مجبور ہو جائے۔
      ’تَفِیۡءَ اِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ‘ سے مراد اس فیصلہ کے آگے جھکنا ہے جو مصالحت کرانے والوں نے فریقین کے سامنے رکھا ہے۔ اگر کوئی پارٹی اس مصالحت سے گریز اختیار کر رہی ہے تو وہ گویا اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے جھکنے سے گریز اختیار کر رہی ہے۔ اس لیے کہ اس صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسی بات کا حکم دیا ہے اور جب اللہ نے اس کا حکم دیا ہے تو اس کی حیثیت ’اَمْرُ اللّٰہِ‘ کی ہے۔
      ’فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا‘۔ یعنی مسلمانوں کے اس اجتماعی ایکشن کے بعد اگر وہ فیصلہ کے آگے سر جھکا دے تو اس بنیاد پر اس کے خلاف کوئی مزید کارروائی نہیں کی جائے گی کہ اس نے سرکشی کی روش اختیار کی، بلکہ فریقین کے درمیان انصاف کے تقاضوں کے مطابق صلح کرا دی جائے گی۔ جس فریق کا نقصان ہوا ہے اس کی تلافی ٹھیک ٹھیک کرا دی جائے گی۔
      لفظ ’اَقْسِطُوْا‘ اسی عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے کی تاکید کے لیے آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ کسی کے ساتھ بے جا رعایت کی جائے نہ کسی کو انصاف کے خلاف دبایا جائے۔ بلکہ بے رو رعایت جو کچھ عدل کا تقاضا ہے وہ پورا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ہی انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
      چند اجتماعی اصول جو آیت سے نکلتے ہیں: اس آیت سے مندرجہ ذیل اجتماعی اصول نکلتے ہیں۔
      اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دوسرے مسلمان اس کو پرایا جھگڑا سمجھ کر نہ تو اس سے بالکل الگ تھلگ رہیں اور نہ ان کے لیے یہ جائز ہے کہ بغیر اس بات کی تحقیق کیے کہ کون حق پر ہے کون ناحق پر، محض خاندانی، قبائلی اور گروہی عصبیت کے جوش میں کسی کے ساتھی اور کسی کے مخالف بن جائیں بلکہ انھیں ساری صورت معاملہ سمجھ کر فریقین کے درمیان مصالحت کی کوشش کرنی چاہیے۔
      اگر ایک فریق مصالحت پر راضی نہ ہو بلکہ جنگ ہی پر ضد کرے یا مصالحت کے لیے من مانے طور پر ایسی شرطیں پیش کرے جو عدل کے منافی ہوں تو اس صورت میں مسلمانوں کا یہ فرض ہو گا کہ وہ اس کے خلاف طاقت استعمال کر کے اس کو مصالحت کے شرائط کے آگے جھکنے پر مجبور کریں۔
      اس طرح کی نزاعات میں غیرجانبدارانہ مسلمان اللہ و رسول کی ہدایات اور عدل کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کے مصالحت کے لیے جو شرطیں طے کریں گے فریقین پر ان کی اطاعت اسی طرح لازمی ہو گی جس طرح شریعت کے احکام کی اطاعت لازمی ہے، یہاں تک کہ جو فریق اس سے انحراف اختیار کرے گا اس سے جنگ کی جائے گی۔
      مصالحت ہو جانے کے بعد اس کی شرائط کے خلاف اگر کوئی فریق دوسرے فریق پر تعدی کرے گا تو وہ تعدی کرنے والا قرار پائے گا۔ مسلمانوں کا فرض ہو گا کہ اس کی سرکوبی کریں۔
      موجودہ زمانے کی ایک مشکل: یہ امر واضح رہے کہ یہ ہدایات اس صورت حال کے لیے دی گئی ہیں جب نزاع مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان واقع ہو اور ان کی ایک مرکزی طاقت فریقین کے درمیان مداخلت کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ اس زمانے میں یہ پیچیدہ صورت حال پیدا ہو گئی ہے کہ بہت سی چھوٹی بڑی مسلمان حکومتیں الگ الگ قائم ہو گئی ہیں۔ ان کے درمیان اگر خدانخواستہ کوئی جنگ چھڑ جائے تو دوسری مسلمان حکومتوں کے لیے اس قضیہ سے بالکل الگ تھلگ رہنا تو جائز نہیں ہے، مصالحت کی کوشش، جس کا آیت میں حکم دیا گیا ہے، ہر ایک کو کرنی ہو گی البتہ عملاً مداخلت کا معاملہ صورت حال پر منحصر ہے۔ جس کا تعلق وقت کے سیاسی تقاضوں سے ہے۔ اگر صورت حال اجازت دے گی تو تعدی کرنے والے فریق کو حق کے آگے جھکانے کے لیے اس کے خلاف طاقت استعمال کرنا بالکل جائز ہوگا اور اگر اس سے مزید بین الملّی یا بین الاقوامی پیچیدگیاں پیدا ہو جانے کا اندیشہ ہو تو عملی مداخلت سے تو گریز اختیار کیا جائے گا لیکن مصالحت کی جدوجہد سے گریز کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی (تمھاری وحدت اِسی سے قائم ہے، لہٰذا) اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو اُن کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر اُن میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو جو زیادتی کرے، اُس سے جنگ کرو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے فیصلے کی طرف رجوع کر لے۔ پھراگر رجوع کر لے تو دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ مصالحت کرا دو اور ٹھیک ٹھیک انصاف کرو۔ یقیناً، اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے مصالحت کرانے والوں کا فیصلہ مراد ہے۔ اِس کا حکم چونکہ اللہ نے دیا ہے، اِس لیے اِسے اللہ کے فیصلے سے تعبیر کیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی مسلمان باہمدگر بھائی بھائی ہیں تو اپنے بھائیوں کے مابین مصالحت کراؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ تم پر رحم کیا جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ان کے درمیان کسی نزاع کا برپا ہونا ہی اول تو ان کی باہمی اخوت کے منافی ہے لیکن شیطان کی انگیخت سے کوئی نزاع برپا ہو ہی جائے تو دوسرے مسلمانوں کو ان کے درمیان مصالحت کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ اس آگ کو مزید بھڑکانے کی۔ ’وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوۡنَ‘- یعنی اللہ تعالی سے ڈرتے رہو۔ اگر تمہارے ہاتھوں کوئی ایسا کام ہوا جو بھائیوں اور بھائیوں کے درمیان قتل وخون کا سبب ہوا یا تم محض قومی، قبائلی، علاقائی یا سیاسی مصلحتوں کی خاطر کسی پہلو سے اس خون خرابے میں حصہ لینے والے بنے تو یاد رکھو کہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکو گے۔ اللہ تعالی کی رحمت کے مستحق وہی ٹھہریں گے جو اس کی قائم کی ہوئی اس اخوت کو ہمیشہ استوار و پائیدار رکھنے کی کوشش کریں گے، نہ خود اس میں کوئی رخنہ پیدا کریں گے اور نہ اپنے امکان کے حد تک کسی کو اس میں کوئی رخنہ پیدا کرنے کا موقع دیں گے۔
      ’بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ‘- میں مثنیٰ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ جنگ دو بھائیوں ہی کے درمیان ہو، بلکہ یہ مثنیٰ مسلمانوں کے دو گروہوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مثنیٰ کا اس طرح استعمال عربی میں معروف ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والے تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے دو بھائیوں کے مابین مصالحت کراؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِن آیتوں میں جو حکم بیان ہوا ہے، اُس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
      ۱۔ مسلمانوں کے دو گروہ اگر کبھی آپس میں لڑ پڑیں تو دوسرے مسلمانوں کو اُسے پرایا جھگڑا سمجھ کر اُس سے الگ تھلگ نہیں بیٹھ رہنا چاہیے۔ اِسی طرح یہ بات بھی اُن کے لیے جائز نہیں ہے کہ حق اور ناحق کی تحقیق کیے بغیر محض خاندانی ، قبائلی اور گروہی عصبیت کے جوش میں کسی کے حامی اور کسی کے مخالف بن جائیں۔ اُن کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ معاملے کو پوری طرح سمجھ کر فریقین کے درمیان مصالحت کی کوشش کریں۔
      ۲۔ اگر ایک فریق مصالحت پر راضی نہ ہو یا راضی ہو جانے کے بعد پھر ظلم و عدوان کا رویہ اختیار کرے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ طاقت رکھتے ہوں تو اپنی کسی منظم حکومت کے تحت اُس کے خلاف جنگ کریں، یہاں تک کہ وہ اُس فیصلے کے سامنے سر جھکادے جو مصالحت کرانے والوں نے فریقین کے سامنے رکھا ہے۔ قرآن نے اِس فیصلے کو ’اَمْرُ اللّٰہِ‘سے تعبیر کیا ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ اگر کوئی فریق اِس سے گریز کرے گا تو وہ گویا اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے جھکنے سے گریز کرے گا۔
      ۳۔فریقین مصالحت پر آمادہ ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اُن میں سے کسی کے ساتھ نہ بے جا رعایت کی جائے اور نہ کسی کو عدل کے خلاف دبایا جائے، بلکہ ٹھیک انصاف کے مطابق صلح کرائی جائے اور جس کا جو نقصان ہوا ہے، اُسے پورا کرا دیا جائے۔
      یہ حکم ، ظاہر ہے کہ صرف اُسی صورت سے متعلق ہے، جب مسلمانوں کی کوئی باقاعدہ حکومت موجود ہوجس کے تحت جنگ کی جا سکے۔ یہ صورت نہ ہو تو سیدنا حذیفہ کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ ہر مسلمان کو اِس فتنے سے بالکل الگ ہو جانا چاہیے۔*
      _____
      * بخاری، رقم ۷۰۸۴۔

    • امین احسن اصلاحی اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، نہ مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کا مذاق اڑائے، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ٹھہریں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، کیا عجب وہ ان سے بہتر نکلیں۔ اور نہ اپنوں کو عیب لگاؤ۔ اور نہ آپس میں ایک دوسرے پر برے القاب چسپاں کرو۔ ایمان کے بعد فسق کا تو نام بھی برا ہے! اور جو لوگ توبہ نہ کریں گے تو وہی لوگ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافیٔ ایمان باتوں سے اجتناب کی تاکید: ’یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘ کا خطاب یہاں صرف خطاب ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ آگے وہ برائیاں بیان ہو رہی ہیں جو داخل فسق اور منافئ ایمان ہیں۔ اس خطاب سے اہل ایمان کو گویا اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جو لوگ ایمان سے مشرف ہو چکے ہیں ان کے لیے زیبا نہیں کہ وہ ایمان کے بعد فسق کے داغ دھبوں سے اپنے دامن کو آلودہ کریں۔
      فرمایا کہ ایمان میں داخل ہو جانے کے بعد نہ مردوں کے لیے یہ زیبا ہے کہ وہ دوسرے مردوں کو حقیر خیال کر کے ان کا مذاق اڑائیں نہ عورتوں کے لیے جائز ہے کہ وہ دوسری عورتوں کو تمسخر کا نشانہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرافت و رذالت کا انحصار آدمی کے ایمان و عمل پر ہے اور ایمان و عمل کا صحیح وزن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی میزان عدل سے معلوم ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھ رہا ہو لیکن قیامت کے دن کھلے کہ خدا کی میزان میں اس کا وزن پرِکاہ کے برابر بھی نہیں ہے۔ اسی طرح امکان اس کا بھی ہے کہ جس کو اہل دنیا نے کبھی اپنی آنکھوں میں جگہ نہیں دی قیامت کے دن پتہ چلے کہ خدا کی بادشاہی میں جو مقام اس کا ہے وہ ان لوگوں کا نہیں ہے جنھوں نے اس کو حقیر جانا۔
      یہاں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا ذکر بھی خاص اہتمام سے ہوا ہے حالانکہ بظاہر اس کی ضرورت نہیں تھی۔ ’لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ‘ کے عام الفاظ ان کے لیے بھی کافی تھے۔ لیکن قرآن نے فضائل و رذائل دونوں کے بیان میں یہ اسلوب ملحوظ رکھا ہے کہ عورتوں کا ذکر ان مواقع میں خاص اہتمام کے ساتھ ہوا ہے جہاں تاکید کے ساتھ ان کو کسی فضیلت کے لیے ابھارنا یا کسی فتنہ سے بچانا مقصود ہے۔ یہاں یہی دوسری صورت ہے۔ جس برائی سے یہاں مردوں کو روکا گیا ہے وہ عورتوں کے اندر اس سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں پائی جاتی جتنی مردوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ جن عورتوں کے اندر اپنی خاندانی، نسبی اور مالی برتری یا اپنے ظاہری حسن و جمال کا غرور ہوتا ہے ان کا انداز خطاب و کلام ان عورتوں کے ساتھ حقارت آمیز ہوتا ہے جن کو وہ اپنے مقابل میں فروتر خیال کرتی ہیں۔
      یہاں جن باتوں سے روکا گیا ہے ان کا ایک خاص باطن ہے اور مقصود درحقیقت اسی کی بیخ کنی ہے۔ پیرے کی آخری آیت میں اس باطن کی طرف اشارہ ہے۔ شیطان نے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے جو فتنے ایجاد کیے ہیں ان میں ایک بہت بڑا فتنہ نسل و نسب، خاندان، برادری، کنبہ اور قبیلہ کے شرف و امتیاز کا فتنہ بھی ہے۔ جو لوگ اس فتنہ میں مبتلا ہوتے ہیں (اور بہت کم ایسے خوش قسمت نکلتے ہیں جو اپنے کو اس فتنہ سے محفوظ رکھ سکیں) ظاہر ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے مقابل میں حقیر خیال کرتے ہیں اور جب حقیر خیال کرتے ہیں تو لازماً ان کے قول، فعل اور رویہ سے اس کا اظہار بھی ہوتا ہے یہاں تک کہ یہ چیزیں پختہ ہو کر ان کے ہاں روایت کی حیثیت حاصل کر لیتی ہیں بلکہ ان کا بس چلتا ہے تو وہ ان کو مذہب کا درجہ بھی دے دیتے ہیں۔ چنانچہ ہندوؤں میں برہمنوں نے، یہود میں بنی لاوی نے اور عربوں میں قریش نے اسی طرح تقدس کا ایک ایسا مقام اپنے لیے پیدا کر لیا جس کو چیلنج کرنا دوسروں کے لیے ممکن نہیں رہ گیا۔ یہی حال ہر قوم کا ہوا ہے اور مساوات انسانی کے بلند بانگ دعووں کے باوجود آج بھی یہی ہے۔ یہاں تک کہ مسلمان جو اس فتنہ کی بیخ کنی کے لیے برپا کیے گئے تھے وہ بھی آج نہ جانے کتنی برادریوں، قوموں اور قبیلوں میں تقسیم ہیں اور ہر ایک ’ہمچومن دیگرے نیست‘ کے نشہ سے سرشار ہے جس کا اظہار ہر قوم و قبیلہ کے عوام و خواص کے بیانات اور نعروں سے ہوتا رہتا ہے جس سے فطری طور پر دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت و کدورت پیدا ہوتی ہے جو عداوت و بغضاء کی شکل اختیار کر کے بالآخر خون خرابے اور تقسیم و تفریق تک نوبت پہنچا دیتی ہے۔
      یہاں قرآن نے مسلمانوں کو اسی آفت سے محفوظ رہنے کی ہدایت فرمائی کہ تم کو اللہ نے اپنے فضل سے جاہلیت کی تاریکی سے نکال کر ایمان کی روشنی بخشی ہے۔ تمہارا معاشرہ ’اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ‘ کی اساس پر قائم ہے اور تم آپس میں ایک دوسرے کے لیے ’رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ‘ بنائے گئے ہو تو اپنے دوسرے بھائیوں کو حقیر سمجھ کر یا ان کو اپنے طنزیہ اور حقارت آمیز الفاظ کا ہدف بنا کر اس معاشرہ کا حلیہ مسخ کرنے کی کوشش نہ کرو۔
      ’عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْہُمْ‘۔ یہ اصل حکمت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو اس بات میں صحیح رہنمائی دینے والی ہے کہ عزت و شرف کی بنیاد نسل، نسب، خاندان، برادری، قوم و قبیلہ اور مال و دولت پر نہیں بلکہ آدمی کے دین و تقویٰ پر ہے اور اس بات کا فیصلہ کل کو قیامت کے دن ہو گا کہ کس کا تقویٰ زیادہ ہے اور وہ اللہ کے نزدیک اشرف و اعلیٰ ہے اور کون اپنے تمام ادعائے حسب و نسب اور غرور عز و شرف کے باوجود خدا کے نزدیک بالکل بے وزن اور بے حقیقت ہے۔
      طنز اور پھبتی کی ممانعت: ’وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَکُمْ‘۔ ’لمز‘ کے معنی کسی پر طعن کرنا، آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے اس پر کوئی طنز آمیز فقرہ چست کر دینا ہے۔ مثلاً سورۂ توبہ آیت ۷۹ میں منافقین کے بارے میں فرمایا ہے کہ ’وَالَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ‘۔ یعنی جب غریب مسلمان اپنی گاڑھی کمائی میں سے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو منافقین ان کی حوصلہ شکنی کے لیے ان پر بانداز استخفاف طنزیہ فقرے چست کرتے ہیں کہ لو، آج حاتم کی قبر پر لات مارنے یہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس قسم کے زہرآلود فقرے قائل کے حسد کی بھی غمازی کرتے ہیں اور اس کے کبر و غرور کی بھی، اور ان کا اثر دوسروں پر یا تو حوصلہ شکنی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے یا نفرت و عناد کی صورت میں اور یہ دونوں ہی چیزیں معاشرے کے اندر زہر پھیلانے والی ہیں۔
      ’اَنْفُسَکُمْ‘ یہاں اسی طرح استعمال ہوا ہے جس طرح النساء کی آیت ۲۹ میں ’لَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ‘ (اپنے آپ کو قتل نہ کرو) آیا ہے۔ اس سے یہ بات نکلی کہ جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان پر طعن کرتا ہے وہ گویا اپنے ہی اوپر طعن کرتا ہے اس لیے کہ تمام مسلمان آپس میں ’اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ‘ کے اصول پر بھائی بھائی ہیں تو جس نے اپنے کسی بھائی کو اپنے کسی طعن و طنز کا ہدف بنایا اس نے گویا اپنے ہی سینہ کو اپنے تیر کا نشانہ بنایا اور اپنے ہی کو مجروح کیا۔
      ’وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ‘۔ ’تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ‘ کے معنی آپس میں ایک دوسرے پر برے القاب چسپاں کرنا ہے۔ اچھے القاب سے ملقب کرنا جس طرح کسی فرد یا قوم کی عزت افزائی ہے اسی طرح برے القاب کسی پر چسپاں کرنا اس کی انتہائی توہین و تذلیل ہے۔ ہجویہ القاب لوگوں کی زبانوں پر آسانی سے چڑھ جاتے ہیں اور ان کا اثر نہایت دوررس اور نہایت پائدار ہوتا ہے۔ ان کی پیدا کی ہوئی تلخیاں پشت ہا پشت تک باقی رہتی ہیں اور اگر معاشرے میں یہ ذوق اتنا ترقی کر جائے کہ ہر گروہ کے شاعر، ادیب، ایڈیٹر اور لیڈر اپنی ذہانت اپنے حریفوں کے لیے برے القاب ایجاد کرنے میں لگا دیں تو پھر اس قوم کی خیر نہیں ہے۔ اس کی وحدت لازماً پارہ پارہ ہو کے رہتی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ دور جاہلیت میں عربوں کے اندر یہ ذوق بدرجۂ کمال ترقی پر تھا۔ قبیلہ کا سب سے بڑا شاعر اور خطیب وہی مانا جاتا جو دوسروں کے مقابل میں اپنے قبیلہ کے مفاخر بیان کرنے اور حریفوں کی ہجو و تحقیر میں یکتا ہو۔ ان کے ہجویہ اشعار پڑھیے تو کچھ اندازہ ہو گا کہ اس فن شریف میں انھوں نے کتنا نمایاں مقام حاصل کر لیا تھا۔ ان کی اس چیز نے ان کو کبھی ایک قوم بننے نہیں دیا۔ وہ برابر اپنوں ہی کو گرانے اور پچھاڑنے میں لگے رہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلام نے ان کو انسانی وحدت اور ایمانی ہم آہنگی سے آشنا کیا جس کی بدولت وہ دنیا کی ہدایت و قیادت کے اہل بنے۔ قرآن نے یہاں ان کو دور جاہلیت کے انہی فتنوں سے آگاہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان و اسلام کی برکات سے نوازا ہے تو اس کی قدر کرو۔ شیطان کے ورغلانے سے پھر انہی لاف زنیوں اور خاک بازیوں میں نہ مبتلا ہو جانا جن سے اللہ نے تمہیں بچایا ہے۔
      ’بِئۡسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ‘۔ ’بِئۡسَ‘ اور ’نِعْمَ‘ کے اندر فی الجملہ مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس کا ٹھیک معنی خیز ترجمہ یہ ہو گا کہ ’نہایت ہی برا لفظ ہے فسق ایمان کے بعد‘۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جس طرح کہیں ’الشریر کاسمہٖ‘ شریر کا تو لفظ بھی برا ہے پھر شریر کے برے ہونے کا کیا ٹھکانا ہے! ہماری زبان میں بھی کسی شے کی انتہائی برائی کے اظہار کے لیے یہ اسلوب موجود ہے۔ مثلاً کہتے ہیں ’بھائی‘ اس چیز کے تو نام سے بھی گھن آتی ہے۔
      ’بَعْدَ الْاِیْمَانِ‘ کے اضافہ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اگر تم ایمان سے آشنا نہ ہوئے ہوتے اور تم سے کوئی بات فسق کے قسم کی صادر ہو جاتی تو یہ چیز زیادہ تعجب انگیز نہ ہوتی لیکن جب تمہیں اللہ نے ایمان کی حلاوت سے آشنا کر دیا، جیسا کہ فرمایا ہے ’وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ‘ تو اب تو تمہیں ’فسق‘ کے نام سے بھی گھن محسوس کرنی چاہیے چہ جائیکہ تم سے کسی عمل فسق کا صدور ہو!
      اس ٹکڑے سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ اوپر جن چیزوں سے روکا گیا ہے، یہ سب فسق میں داخل ہیں اور اہل ایمان کی حس ایمانی اتنی بیدار ہونی چاہیے کہ ارتکاب فسق تو درکنار لفظ فسق سے بھی وہ نفور و بیزار ہوں۔
      ’وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ‘۔ یہ نہایت سخت الفاظ میں ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو اس وضاحت کے بعد بھی اس قسم کے کسی فسق کے مرتکب ہوں گے۔ فرمایا کہ جو لوگ ان باتوں سے توبہ نہیں کریں گے وہ یاد رکھیں کہ ظالم وہی ٹھہریں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے سامنے ایمان کی برکتیں بھی واضح کر دی ہیں اور ان کو کفر و فسق کے نتائج سے بھی اچھی طرح آگاہ کر دیا ہے۔ اب ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ اپنی روش سے باز نہیں آئیں گے وہ اس کے نتائج سے لازماً دو چار ہوں گے اور یہ ان کے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہو گا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، (اِسی اخوت کا تقاضا ہے کہ) نہ (تمھارے) مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں۔ اور نہ اپنوں کو عیب لگاؤ اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو برے القاب دو۔(یہ سب فسق کی باتیں ہیں، اور) ایمان کے بعد تو فسق کا نام بھی بہت برا ہے۔ اور جو (اِس تنبیہ کے بعد بھی) توبہ نہ کریں تو وہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ایمان و عمل کے لحاظ سے بہتر ہوں جن کا صحیح وزن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی میزان عدل ہی سے معلوم ہو گا کہ کون رائی ہے اور کون پربت۔ اُس میں اُن چیزوں کا سرے سے کوئی وزن نہیں ہو گا جنھیں تم دنیا میں بڑی اہمیت دیتے ہو۔ چنانچہ یہ حسب و نسب کا ادعا اور عز و شرف کا غرور اُس میں بالکل بے حقیقت ثابت ہو گا۔
      آیت میں ’لاَ یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ‘ کے عام الفاظ اگرچہ کافی تھے، لیکن قرآن نے یہاں مردوں کے ساتھ عورتوں کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ کیا ہے۔ اِس کی وجہ کیا ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... قرآن نے فضائل و رذائل، دونوں کے بیان میں یہ اسلوب ملحوظ رکھاہے کہ عورتوں کا ذکر اُن مواقع میں خاص اہتمام کے ساتھ ہواہے، جہاں تاکید کے ساتھ اُن کو کسی فضیلت کے لیے ابھارنا یاکسی فتنے سے بچانا مقصود ہے۔ یہاں یہی دوسری صورت ہے۔ جس برائی سے یہاں مردوں کو روکا گیا ہے، وہ عورتوں کے اندر اُس سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں پائی جاتی، جتنی مردوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ جن عورتوں کے اندر اپنی خاندانی، نسبی اور مالی برتری یااپنے ظاہری حسن و جمال کا غرور ہوتا ہے، اُن کا انداز خطاب و کلام اُن عورتوں کے ساتھ حقارت آمیز ہوتا ہے جن کو وہ اپنے مقابل میں فروتر خیال کرتی ہیں۔‘‘(تدبرقرآن ۷/ ۵۰۵)

      اصل میں لفظ ’لَمْز‘ استعمال ہوا ہے جس کے معنی طعن کرنے اور آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کسی پر کوئی طنزیہ فقرہ چست کر دینے کے ہیں۔ اِس قسم کے زہر آلود فقرے قائل کے حسد اور اُس کے کبر و غرور کی غمازی کرتے ہیں جس سے دوسروں کی حوصلہ شکنی ہوتی اور باہمی تعلقات میں ایسا بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے جو بارہا نفرت و عناد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ آیت میں اِس کا مفعول ’اَنْفُسَکُمْ‘ نہایت بلیغ استعمال ہوا ہے۔ اِس سے قرآن نے توجہ دلا دی ہے کہ جو لوگ اپنے کسی بھائی کو ہدف طعن بناتے ہیں، استاذ امام کے الفاظ میں، وہ گویا اپنے ہی سینے کو اپنے تیر کا نشانہ بناتے اور اپنے ہی کو مجروح کرتے ہیں۔
      برا لقب دینا کوئی معمولی برائی نہیں ہے۔ یہ طریقہ بالعموم کسی فرد یا قوم کی انتہائی تذلیل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس طرح کے القاب آسانی سے زبانوں پر چڑھ جاتے اور نہایت پایدار اور دور رس نتائج پیدا کرتے ہیں۔ چنانچہ اِن کی پیدا کی ہوئی تلخیاں پشت ہا پشت تک باقی رہتی ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ افراد میں خیرخواہی کا رشتہ ختم ہو جاتا اور قومی وحدت پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔
      یہ مبالغے کا اسلوب ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... یہ اُسی طرح کی بات ہے، جس طرح کہیں: ’الشریر کاسمہٖ‘ ۔شریر کا تو لفظ بھی برا ہے، پھر شریر کے برے ہونے کا کیا ٹھکانا ہے! ہماری زبان میں بھی کسی شے کی انتہائی برائی کے اظہار کے لیے یہ اسلوب موجود ہے۔ مثلاً کہتے ہیں: بھائی، اِس چیز کے تو نام سے بھی گھن آتی ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۷/ ۵۰۸)

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو، بہت سے گمانوں سے بچو، کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں اور ٹوہ میں نہ لگو اور نہ تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے! سو اس چیز کو تو تم نے ناگوار جانا! اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا، مہربان ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      بعض برائیاں جو بظاہر چھوٹی لیکن باطن کے اعتبار سے بڑی ہیں: یہ اہل ایمان کو ازسر نو خطاب کر کے بعض ایسی باتوں سے روکا گیا ہے جو بظاہر تو معمولی نظر آتی ہیں لیکن یہ انسان کے خود اپنے دل کو ایسے روگ میں مبتلا کر دیتی ہیں کہ وہ تقویٰ کی روئیدگی کے لیے بالکل ناسازگار ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے جن کو ایمان عزیز ہو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان آفتوں سے اپنے کو محفوظ رکھیں۔
      بدگمانی: پہلی بات یہ اشارہ ہوئی کہ انسان اپنے دل کو دوسروں سے متعلق بدگمانیوں کی پرورش گاہ نہ بنا لے کہ جس کی نسبت جو برا گمان بھی دل میں پیدا ہو جائے اس کو کسی گوشے میں محفوظ کر لے۔ انسان کو جن سے زندگی میں واسطہ پڑتا ہے ان کی بابت کوئی اچھا یا برا گمان دل میں پیدا ہونا ایک امر فطری ہے۔ یہی گمان آدمی کو آدمی سے جوڑتا ہے یا توڑتا ہے۔ اس پہلو سے معاشرے میں یہ وصل و فصل کی بنیاد ہے۔ اس کی اس اہمیت کا تقاضا ہے کہ آدمی اس کے رد و قبول کے معاملے میں بھی بے پروا و سہل انگار نہ ہو بلکہ نہایت ہوشیار اور بیدار مغز رہے۔ اہل ایمان کو اسلام نے اس باب میں یہ رہنمائی دی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے بارے میں ہمیشہ نیک گمان رکھے اِلّاآنکہ یہ ثابت ہو جائے کہ وہ اس نیک گمان کا سزاوار نہیں ہے۔ یہ نیک گمانی اس ایمانی اخوت کا لازمی تقاضا ہے جس پر اسلام نے معاشرے کی بنیاد رکھی ہے اور جس کی وضاحت اوپر ہو چکی ہے۔ اگر کوئی شخص اس کے برعکس یہ اصول ٹھیرا لے کہ جو رطب و یابس گمان اس کے دل میں پیدا ہوتے جائیں ان سب کو سینت کے رکھتا جائے تو گمانوں کے ایسے شوقین کی مثال اس شکاری کی ہے جو مچھلیاں پکڑنے کے شوق میں ایسا اندھا ہو جائے کہ مچھلیاں پکڑتے پکڑتے سانپ بھی پکڑ لے۔ ظاہر ہے کہ مچھلیوں کے شوق میں جو شخص ایسا اندھا بن جائے گا اندیشہ ہے کہ اسی شوق میں کسی دن وہ اپنی زندگی ہی گنوا بیٹھے گا۔ قرآن نے یہاں اسی خطرے سے مسلمانوں کو روکا ہے کہ گمانوں کے زیادہ درپے نہ ہو کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں جو انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں۔ اس سے یہ تعلیم نکلتی کہ ایک مومن کو بدگمانیوں کا مریض نہیں بن جانا چاہیے بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں سے حسن ظن رکھنا چاہیے۔ اگر کسی سے کوئی ایسی بات صادر ہو جو بدگمانی پیدا کرنے والی ہو تو حتی الامکان اس کی اچھی توجیہ کرے اگر کوئی اچھی توجیہ نکل سکتی ہو۔ اس کے برے پہلو کو اسی شکل میں اختیار کرنا جائز ہے جب اس کی کوئی اچھی توجیہ نہ نکل سکے۔ اگر بدگمانی کے سزاوار سے آدمی کو خوش گمانی ہو تو یہ اس بات کے مقابل میں اہون ہے کہ وہ کسی خوش گمانی کے حق دار سے بدگمانی رکھے۔ حدیث شریف میں مومن کی تعریف یہ آئی ہے کہ

      ’اَلْمُؤۡمِنُ عزٌّ کَرِیْمٌ‘
      (مومن بھولا بھالا شریف ہوتا ہے)۔

      اس زمانہ میں لوگوں کا عام پسندیدہ اصول یہ ہے کہ ہر شخص سے بدگمانی رکھو الاآنکہ وہ ثابت کر دے کہ وہ اپنے گَوں کا آدمی ہے۔ اس چیز کو لوگ سیاست اور زیرکی خیال کرتے ہیں۔ دشمن کے مقابل میں یہ زیرکی و ہوشیاری ضروری ہے۔ ’اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ‘ کے تحت ہم اس کی وضاحت کر چکے ہیں لیکن اہل ایمان کے مقابل میں یہ سیاست کس طرح صحیح ہو سکتی ہے جب کہ ان کو ’اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ‘ اور ’رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ‘ ہونے کی قرآن نے ہدایت فرمائی ہے؟
      دوسری بات آیت میں یہ فرمائی گئی ہے کہ

      ’وَّلَا تَجَسَّسُوْا‘
      (ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگو)۔

      جس طرح اوپر والے ٹکڑے میں اچھے گمان سے نہیں بلکہ برے گمان سے روکا گیا ہے اسی طرح یہاں ممانعت اس ٹوہ میں لگنے کی ہے جو برے مقصد سے ہو۔ یعنی تلاش اس بات کی ہو کہ دوسروں کی پرائیویٹ زندگی سے متعلق کوئی بات ہاتھ آئے جس سے اس کی خامیوں سے آگاہی اور اس کے اندرون خانہ کے اسرار تک رسائی ہو۔ یہ چیز کبھی تو حسد کے جذبہ سے پیدا ہوتی ہے کہ حریف کی زندگی کا کوئی ایسا پہلو سامنے آئے جس سے کلیجہ ٹھنڈا ہو۔ کبھی بغض و عناد کی شدت اس کا باعث ہوتی ہے کہ کوئی ایسی بات ہاتھ لگے جس کی عند الضرورت تشہیر کر کے مخالف کو رسوا کیا جا سکے۔ اس زمانے میں اس نے ایک پیشہ کی شکل بھی اختیار کر لی ہے جس کو جدید اخبار نویسی نے بہت ترقی دی ہے۔ بعض اخبار نویس رات دن کسی نہ کسی اسکینڈل کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ شاطر وہ اخبار نویس سمجھا جاتا ہے جو کسی نمایاں شخصیت کی پرائیویٹ زندگی سے متعلق کوئی ایسا اسکینڈل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائے جس سے اس کا اخبار یا رسالہ ہاتھوں ہاتھ بکے۔ اس طرح کا تجسس ظاہر ہے کہ اس اخوت اور باہمی ہمدردی کے بالکل منافی ہے جو اسلامی معاشرہ کی اساس ہے، اس وجہ سے اہل ایمان کو اس سے روکا گیا ہے۔ رہا وہ تجسس جو ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے حالات کا اس مقصد سے کرتا ہے کہ اس کی مشکلات و ضروریات میں اس کا ہاتھ بٹا سکے یا ایک اسلامی حکومت اس غرض سے کرتی ہے کہ رعایا کے حالات سے پوری طرح باخبر رہے تو یہ تجسس نہ یہاں زیربحث ہے اور نہ یہ ممنوع ہے بلکہ ہر شریف پڑوسی کے لیے یہ نہایت نیکی کا کام ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے حالات و مسائل سے آگاہ رہے تاکہ ان کی مشکلات میں ان کی مدد کر سکے اور خدمت کے لیے تو یہ صرف نیکی ہی نہیں بلکہ اس کا فریضہ ہے کہ وہ رعایا کے اچھے اور برے دونوں طرح کے حالات سے پوری طرح باخبر رہنے کا اہتمام رکھے تاکہ اپنی ذمہ داریوں سے صحیح طور پر عہدہ برآ ہو سکے۔
      غیبت: تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ

      ’وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا‘
      (تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے)

      کے معنی کسی کی اس کی پیٹھ پیچھے برائی بیان کرنے کے ہیں۔ پیٹھ پیچھے کے مفہوم ہی میں یہ بات داخل ہے کہ غیبت کرنے والا چاہتا ہے کہ اس کے اس فعل کی خبر اس کو نہ ہو جس کی وہ برائی بیان کر رہا ہے۔ اسی خواہش کی بنا پر وہ یہ کام اس کے پیٹھ پیچھے صرف ان لوگوں کے سامنے کرتا ہے جو یا تو اس کے ہم راز و ہم خیال اور شریک مقصد ہوتے ہیں یا کم از کم ان سے یہ اندیشہ نہیں ہوتا کہ وہ اس کے ہمدرد ہوں گے جس کی وہ برائی بیان کر رہا ہے اور اس کے سامنے یہ راز فاش کر دیں گے۔ غیبت کی یہی خصوصیت اس کو ایک نہایت مکروہ اور گھنونا فعل بناتی ہے اس لیے کہ اس سے نہ کسی حق کی حمیت و حمایت کا مقصد حاصل ہوتا نہ کسی اصلاح کی توقع ہو سکتی ہے بلکہ اس طرح ایک بزدل شخص کسی کے خلاف صرف اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔
      بعض خوش فہم کسی کی برائی کے ذکر کی ہر صورت کو غیبت قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک محدثین کا راویوں پر جرح کرنا، کسی کے خلاف عدالت میں گواہی دینا، کسی کے منکر پر نکیر کرنا، کسی کے خلاف تھانے میں رپٹ لکھوانا، کسی کے باب میں کسی مشورہ چاہنے والے کو اس کے کسی واقعی عیب سے آگاہ کرنا اور اس قبیل کی ساری ہی باتیں ہیں تو داخل غیبت، لیکن یہ غیبتیں حکمت عملی کے تحت جائز کر دی گئی ہیں۔ پھر وہ یہیں سے اپنے لیے ایک شرعی اصول یہ نکال لیتے ہیں کہ شریعت کی تمام حرمتیں ابدی نہیں ہیں اس وجہ سے انھیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ ان کی حکمت عملی کسی حرام کو مباح کرنے کی اگر مقتضی ہو تو وہ اس کو جائز قرار دے سکتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ دین کے خلاف ایک نہایت شدید قسم کا فتنہ ہے جس سے بہت سے نئے فتنوں کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اس وجہ سے ہم نے اس کی تردید میں مستقل مضامین بھی لکھے ہیں اور یہاں بھی ہم آگے ایک مستقل فصل میں اس کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے۔
      ’اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْ کُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِھْتُمُوْہُ‘۔ یہ غیبت کے گھنونے پن کو مثال سے واضح فرمایا ہے کہ جو شخص اپنے کسی بھائی کی، اس کے پیٹھ پیچھے، برائی بیان کرتا ہے وہ گویا اس حال میں اس کا گوشت کھا رہا ہے جب کہ وہ مردہ پڑا ہوا اور اپنی مدافعت سے بالکل قاصر ہے فرمایا کہ یہ چیز تو ایسی ہے کہ تم میں سے کوئی بھی اس کو پسند نہیں کرتا، تو جب تم اس کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تو اسی طرح کی مکروہ چیز، غیبت کو کیوں گوارا کرو! ’مَیْتًا‘ یہاں ’اَخِیْہِ‘ میں مضاف سے حال پڑا ہوا ہے اور یہ تصویر ہے اس کی اپنی مدافعت سے بے بسی کی۔
      ’وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ‘۔ یہ تنبیہ بھی ہے اور توبہ و اصلاح حال کی ترغیب بھی۔ فرمایا کہ اللہ سے ڈرو۔ جو لوگ اس طرح اپنے بھائیوں کا گوشت مفت میں کھانے کے عادی ہو جاتے ہیں ان کو اس کی ایسی چاٹ پڑ جاتی ہے کہ وہ اس کے پیچھے اپنا ایمان ہی گنوا بیٹھتے ہیں۔ اللہ نے تمہیں بروقت تنبیہ فرما دی ہے تاکہ توبہ اور اصلاح کر کے اپنے کو اس خطرہ سے محفوظ کر لو۔ اگر تم نے توبہ کر لی تو اللہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا اور اپنے بندوں پر رحم کرنے والا ہے۔
      ان دونوں آیتوں (۱۱-۱۲) میں جن چھ باتوں سے روکا گیا ہے ان پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ ان میں سے اوپر کی تین باتیں ۔۔۔ مذاق اڑانا، طعن کرنا اور برے القاب چسپاں کرنا ۔۔۔ ان برائیوں میں سے ہیں جن کا ارتکاب انسان علانیہ پبلک میں کرتا ہے۔ باقی تین برائیاں ۔۔۔ سوء ظن، تجسس اور غیبت ۔۔۔ انسان کی پرائیویٹ زندگی سے تعلق رکھنے والی ہیں جن کو وہ دوسروں سے چھپا کر یا اپنے محرمان راز کے اندر محدود رکھ کر کرتا ہے۔ ان دونوں ہی قسم کی برائیوں کی ممانعت اسلامی تزکیہ و تطہیر کے اس اصول پر مبنی ہے جو قرآن میں

      ’وَذَرُوْا ظَاھِرَ الْاِثْمِ وَبَاطِنَہٗ‘ (الانعام: ۱۲۰)
      (اور گناہ کے ظاہر اور اس کے باطن دونوں ہی کو چھوڑو)

      کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ جب تک انسان اپنے آپ کو ان برائیون سے پاک نہیں کرتا جو اس کے باطن سے تعلق رکھنے والی ہیں، اس وقت تک اس کے اندر اللہ تعالیٰ کے علام الغیوب ہونے کا وہ شعور راسخ نہیں ہوتا جس کے بغیر دل کے اندر تقویٰ کی روئیدگی بالکل خارج از امکان ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، بہت سے گمانوں سے بچو، اِس لیے کہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں۔ اور (دوسروں کی) ٹوہ میں نہ لگو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تمھارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے؟ سو اِسے تو گوارا نہیں کرتے ہو، (پھر غیبت کیوں گوارا ہو)! تم اللہ سے ڈرو۔ یقیناً،اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ برے گمانوں سے اجتناب کی ہدایت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے کسی بھائی کے بارے میں جو رطب و یابس گمان دل میں پیدا ہو جائے، اُس کو وہیں جگہ دے کر نہ بیٹھ جاؤ، اِس لیے کہ گمانوں کے زیادہ درپے ہو گے تو شدید اندیشہ ہے کہ کسی صریح گناہ میں مبتلا ہو جاؤ گے جو تم کو ہلاکت میں ڈال دے گا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اِس سے یہ تعلیم نکلی کہ ایک مومن کو بدگمانیوں کا مریض نہیں بن جانا چاہیے، بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں سے حسن ظن رکھنا چاہیے۔ اگر کسی سے کوئی ایسی بات صادر ہو جو بدگمانی پیدا کرنے والی ہو تو حتی الامکان اُس کی اچھی توجیہ کرے ،اگر کوئی اچھی توجیہ نکل سکتی ہو۔ اُس کے برے پہلو کو اُسی شکل میں اختیار کرنا جائز ہے، جب اُس کی کوئی اچھی توجیہ نہ نکل سکے۔ اگر بدگمانی کے سزاوار سے آدمی کو خوش گمانی ہو تو یہ اِس بات کے مقابل میں اہون ہے کہ وہ کسی خوش گمانی کے حق دار سے بدگمانی رکھے۔ ‘‘(تدبرقرآن۷/ ۵۰۹)

      اوپر جس طرح اچھے گمان سے نہیں، بلکہ برے گمان سے روکا ہے، اُسی طرح یہاں اُس ٹوہ میں لگنے سے منع فرمایا ہے جو برے مقصد سے ہو۔ یہ چیز حسد کے جذبے سے بھی پیدا ہوتی ہے اور بغض و عناد کی شدت سے بھی اور یہ دونوں ہی چیزیں اخوت اور باہمی ہم دردی کے اُس تعلق کے بالکل منافی ہیں جو اوپر اہل ایمان کا بیان کیا گیا ہے۔ رہی یہ بات کہ اپنے کسی بھائی کی مدد کے لیے اُس کے حالات کو جاننے کی کوشش کی جائے یا ریاست کی سطح پر لوگوں کے اچھے یا برے حالات کی خبر رکھی جائے تاکہ لوگوں کی خیرخواہی اور امن و امان کو قائم رکھنے کی جو ذمہ داریاں ریاست پر عائد ہوتی ہیں، اُنھیں پورا کیا جا سکے تو اِس کا اِس ممانعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
      یہ نہایت سخت فہمایش کا اسلوب ہے۔ مدعا یہ ہے کہ غیبت انتہائی گھناؤنا فعل ہے۔ اِس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ کوئی شخص اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے۔ مردے کا گوشت کھانا بجاے خود قابل نفرت ہے۔ پھر وہ گوشت بھی اپنے بھائی کا ہو تو اُسے کوئی شخص کس طرح کھانا پسند کر سکتاہے ؟ اِس میں، اگر غور کیجیے تو اپنی مدافعت سے اُس کی بے بسی کی تصویر بھی نمایاں ہے۔ قرآن نے اِس تشبیہ کو پیش کرکے پوچھا ہے کہ تم جب اِس کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تو اِسی طرح کی ایک نہایت مکروہ اور قابل نفرت چیز، غیبت کو کس طرح گواراکرتے ہو؟
      یہ غیبت کیا ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...غیبت کے معنی کسی کی اُس کی پیٹھ پیچھے برائی بیان کرنے کے ہیں۔ پیٹھ پیچھے کے مفہوم ہی میں یہ بات داخل ہے کہ غیبت کرنے والا چاہتا ہے کہ اُس کے اِس فعل کی خبر اُس کو نہ ہو جس کی وہ برائی بیان کر رہا ہے۔ اِسی خواہش کی بنا پر وہ یہ کام اُس کے پیٹھ پیچھے صرف اُن لوگوں کے سامنے کرتا ہے جو یا تو اُس کے ہم راز و ہم خیال اور شریک مقصد ہوتے ہیں یا کم از کم اُن سے یہ اندیشہ نہیں ہوتا کہ وہ اُس کے ہم درد ہوں گے جس کی وہ برائی بیان کررہا ہے اور اُس کے سامنے یہ راز فاش کر دیں گے۔‘‘(تدبرقرآن ۷/ ۵۱۰)

      یہ تنبیہ بھی ہے اور توبہ و اصلاح کی ترغیب بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اِن گناہوں سے باز آجاؤ۔ اگر اِس ہدایت پر عمل کرکے توبہ کر لو گے تو خدا مہربان ہے۔ وہ تمھاری توبہ ضرور قبول فرمائے گا۔

    • امین احسن اصلاحی اے لوگو! ہم نے تم کو ایک ہی نر اور ناری سے پیدا کیا ہے اور تم کو کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے کہ تم باہمدگر تعارف حاصل کرو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ اشرف وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔ بے شک اللہ بڑا ہی علیم و خبیر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نسلی اور خاندانی غرور پر ضرب: ایک عام خطاب سے یہ اس نسلی، خاندانی اور قبائلی غرور کا یک قلم خاتمہ کر دیا جو ان برائیوں میں سے اکثر کا سبب بنتا ہے جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ فرمایا کہ اے لوگو! اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین رکھو کہ ہم نے سب کو ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت سے پیدا کیا ہے۔ یعنی تمام بنی نوع انسان کا آغاز آدمؑ اور حواؑ ہی سے ہوا ہے اس وجہ سے باعتبار خلقت کسی کو کسی پر کوئی شرف و تفوق حاصل نہیں ہے۔ خاندانوں اور قبائل کی تقسیم محض تعارف اور شناخت کے لیے ہے۔ کسی خاص خاندان یا قبیلہ کو اللہ تعالیٰ نے بجائے خود یہ امتیاز نہیں بخشا ہے کہ جو اس میں پیدا ہو وہ اللہ کے ہاں معزز بن جائے اور دوسروں کے مقابل میں وہ اپنے کو اشرف و اعلیٰ سمجھنے لگے۔ جس طرح اللہ نے لوگوں کی شکلوں، ان کے رنگوں اور ان کے قد و قامت میں فرق رکھا تاکہ لوگ ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔ اس سے زیادہ ان حد بندیوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ کسی خاندان یا قبیلہ کے لوگ اس پندار میں مبتلا ہو جائیں کہ وہ اللہ کے نزدیک معزز ہیں، اس نے ان کو دوسروں پر کوئی برتری بخشی ہے۔ اللہ کے ہاں عزت کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔ اس کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو اس سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اور اس کی حدود کی سب سے بڑھ کر پابندی قائم رکھنے والا ہے۔
      ’اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ‘۔ یعنی اس مقرر کردہ معیار پر لوگوں کو پرکھنے میں اللہ تعالیٰ کو کوئی زحمت یا کوئی مغالطہ پیش آنے کا امکان نہیں ہے۔ وہ ہر چیز کو جاننے والا اور ہر ایک کے ہر قول و فعل کی خبر رکھنے والا ہے۔ جو عزت کا مستحق ہو گا وہ اپنا عزت کا مقام پا کے رہے گا، اگرچہ وہ کتنے ہی گمنام اور حقیر خاندان کے اندر سے اٹھا ہو اور جو اس کا مستحق نہیں ہو گا وہ خواہ کتنا ہی بڑا قرشی و ہاشمی یا سورج بنسی اور چاند بنسی ہو لیکن اللہ تعالیٰ اس کو اسی کھڈ میں پھینکے گا جس کا وہ سزاوار ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی لوگو، (ایک دوسرے کو بھائی خیال نہیں کرو گے تو اِنھی برائیوں میں پڑے رہو گے، اِس لیے خوب سمجھ لو کہ) ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ ایک دوسرے کو (الگ الگ) پہچانو۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ (وہ قیامت میں اِسی بنیاد پر فیصلہ کرے گا)۔ یقینا، اللہ علیم و خبیر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ قرآن نے اُس نسلی، خاندانی اور قبائلی غرور کی بنیاد ڈھا دی ہے جو اُن برائیوں میں سے زیادہ تر کا باعث بنتا ہے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ فرمایا کہ تمام انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ کسی گورے کو کالے اور کسی کالے کو گورے پر ، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عز و شرف کی بنیاد کسی شخص کے خاندان اور قبیلہ یا رنگ و نسل پر نہیں، بلکہ تقویٰ پر ہے۔ اُس کے ہاں وہی عزت پائے گا جو سب سے بڑھ کر اُس سے ڈرنے والا اور اُس کے حدود کی پابندی کرنے والا ہے، اگرچہ کتنے ہی حقیر اور گم نام خاندان سے اٹھا ہو۔ اور جو سرکشی اور استکبار اختیار کرے گا، وہ لازماً ذلت سے دوچار ہو گا، اگرچہ کتنا ہی بڑا قریشی اور ہاشمی ہو۔ خاندانوں کی یہ تقسیم محض تعارف اور پہچان کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح لوگوں کے چہرے مہرے، رنگ اور قد وقامت میں فرق رکھا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچان سکیں، اُسی طرح خاندانوں کی تقسیم بھی اِسی مقصد سے کی ہے۔ اِس سے زیادہ اِن کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اہل بدو نے کہا کہ ہم ایمان لائے۔ ان کو بتا دو کہ تم ایمان نہیں لائے، ہاں یوں کہو کہ ہم نے اطاعت کر لی اور ابھی ایمان تمہارے دلوں کے اندر داخل نہیں ہوا ہے۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے ذرا بھی کم نہیں کرے گا۔ اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ان لوگوں کے غرور پر ضرب جو اپنے کو اسلام کا محسن سمجھتے تھے: ’اعراب‘ سے مراد اطراف مدینہ کے وہی دیہاتی لوگ ہیں جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ یہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتے ہیں تو آپ کو اس طرح خطاب کرتے ہیں جس طرح کوئی شخص اپنے برابر کے آدمی کو خطاب کرتا ہے۔ اگر کبھی آپ سے ملنے آتے ہیں تو آتے ہی ان کی خواہش ہوتی ہے کہ بلاتاخیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملاقات کریں۔ یہاں تک کہ اگر آپ گھر کے اندر تشریف فرما ہوتے ہیں تو یہ انتظار کی زحمت اٹھانا گوارا نہیں کرتے بلکہ گھر کے باہر ہی سے آپ کو نام لے کر پکارنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے اس گنوار پن میں جہاں تربیت سے محرومی کو دخل تھا وہیں اس بات کو بھی دخل تھا کہ یہ لوگ اس وہم میں مبتلا تھے کہ انھوں نے بغیر کسی جنگ و جدال کے اسلام میں داخل ہو کر آپؐ کے اوپر احسان کیا ہے جس کا صلہ ان کو یہ ملنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنا اور اسلام کا محسن سمجھیں اور ہر موقع پر ان کی نازبرداری فرمائیں۔ ان لوگوں کی اسی ذہنیت پر یہاں ضرب لگائی جا رہی ہے۔
      ’قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا‘۔ فرمایا کہ یہ اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں! ان کے اس قول کا حوالہ یہاں محض ان کے اقرار ایمان کی حیثیت سے نہیں دیا گیا ہے بلکہ آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ یہ بات وہ بطور اظہار احسان کہتے تھے۔ یعنی وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر بات بات میں یہ احسان جتاتے تھے کہ انھوں نے ایمان قبول کر کے آپ کی عزت و شوکت بڑھائی ہے۔ اس وجہ سے وہ حق دار ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ ان کا لحاظ فرمائیں اور جو مشورے وہ دیں ان کو بسر و چشم قبول کریں۔
      ’قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوۡا وَلَکِنۡ قُوۡلُوۡا أَسْلَمْنَا‘۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ان کو جواب دلوایا گیا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ تمہارا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ تم ایمان لائے ہو البتہ یہ دعویٰ تم کر سکتے ہو کہ تم نے اطاعت کر لی ہے۔ لفظ ’اسلام‘ یہاں اپنے لغوی مفہوم یعنی ظاہری اطاعت کے معنی میں ہے۔ اسلام کا حقیقی مفہوم تو اپنے آپ کو بالکلیہ اپنے رب کے حوالے کر دینا ہے، لیکن یہ مجرد ظاہری اطاعت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ان دونوں معنوں کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے یہاں یہ اسی دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ان لوگوں کی نسبت ہم اوپر ظاہر کر چکے ہیں کہ دعوت ایمان سے زیادہ اسلام کی ابھرتی ہوئی سیاسی طاقت سے مرعوب ہو کر یہ لوگ مسلمانوں میں شامل ہو گئے تھے اس وجہ سے ایمان کی روح ان کے دلوں میں ابھی نہیں اتری تھی البتہ اسلام کے سیاسی اقتدار کے ماتحت یہ لوگ آ گئے تھے۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے جواب دیا کہ ایمان کا دعویٰ تو ابھی تمہیں زیب نہیں دیتا البتہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ تم نے اسلام کے اقتدار کے سامنے سر جھکا دیا ہے۔ اس جواب کے اندر یہ بات مضمر ہے کہ جب تم نے اسلام کی سیاسی طاقت سے مرعوب ہو کر اطاعت کی ہے تو یہ چیز جتانے کی نہیں ہے بلکہ یہ بھی ایک قسم کی مغلوبیت ہی ہے، بس یہ فرق ہے کہ تم بغیر مقابلہ کیے مغلوب ہو گئے اور یہ چیز ایسی نہیں ہے کہ اس کا احسان جتاؤ۔
      ایمان کی حقیقت: ’وَلَمَّا یَدْخُلِ الْإِیْمَانُ فِیْ قُلُوبِکُمْ‘۔ یعنی ابھی اپنے ایمان کی حکایت زیادہ نہ بڑھاؤ۔ اس نے تمہارے دلوں کے دروازے پر دستک ضرور دی ہے لیکن وہ دلوں کے اندر گھسا نہیں ہے۔ یہ ایمان اللہ کے ہاں معتبر نہیں ہے۔ اللہ کے ہاں معتبر ایمان وہ ہے جو رگ و پے میں اترے اور دل کو اپنے رنگ میں اس طرح رنگ لے کہ اس سے الگ ہو کر سوچنا اور کوئی عمل کرنا انسان کے لیے آسان نہ رہ جائے۔
      ’وَإِن تُطِیْعُوا اللہَ وَرَسُولَہُ لَا یَلِتْکُم مِّنْ أَعْمَالِکُمْ شَیْْئًا‘۔ یہ ان کے اظہار احسان پر تنبیہ ہے کہ اگر تم ایمان لائے یا تم نے اسلام کی کوئی خدمت کی تو اس کا احسان کیوں جتاؤ! اللہ تمہارے کسی عمل میں ذرا بھی کمی کرنے والا نہیں ہے بلکہ ہر چھوٹے بڑے عمل کا بھرپور صلہ دینے والا ہے۔ ایک کرو گے، ستر پاؤ گے۔ تمہارا ہر عمل تمہارے ہی کام آنے والا ہے، خدا کے کام آنے والا نہیں ہے تو جب تم اپنا ہی کام کر رہے ہو تو اس کا احسان اللہ اور رسول پر کیوں رکھتے ہو!
      ’إِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیْمٌ‘۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی غفور رّحیم ہے۔ وہ تمہاری کوتاہیوں اور خامیوں سے درگزر فرمائے گا، صلہ دینے میں ذرا بھی کمی نہیں کرے گا۔ اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ تمہارے اعمال کی قیمت کم کرنے کے لیے تمہارے چھوٹے چھوٹے نقائص کو بہانہ بنائے۔
      اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اگر اب تک تمہارے ذہن میں یہ غلطی سمائی رہی ہے کہ اسلام کے لیے تم نے جو کچھ کیا یہ اللہ اور رسول پر تمہارا احسان ہے تو اب اس تنبیہ کے بعد تم اس غلطی کی اصلاح کرو اور اللہ سے مغفرت مانگو، وہ تمہاری مغفرت فرمائے گا۔ وہ بڑا ہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (تم کو حجروں کے باہر سے پکارنے والے) یہ بدوی (بڑا احسان جتا کر) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں۔ اِنھیں بتاؤ کہ تم ایمان نہیں لائے۔ ہاں، یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کر لی ہے۔ ایمان تو ابھی تمھارے دلوں کے اندر داخل تک نہیں ہوا ہے۔ اگر تم اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تمھارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔ (سو اپنی اصلاح کر لو)؟ یقیناً، اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’اَسْلَمْنَا‘ استعمال ہواہے۔ یہ یہاں ظاہری اطاعت کے مفہوم میں ہے۔ عربی زبان میں یہ اِس معنی کے لیے بھی آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان کا دعویٰ تو تمھیں زیب نہیں دیتا۔البتہ یہ کہہ سکتے ہو کہ تم نے جب دیکھا کہ اسلام ایک سیاسی طاقت بن گیا ہے تو تم نے بھی اُس کے سامنے سر جھکا دیا۔ یہ بھی ایک قسم کی مغلوبیت ہی ہے۔ اِس میں احسان کی کیا بات ہے؟
      یعنی وہ حقیقی ایمان جو رگ و پے میں اترتا ہے تو دل و دماغ کو اِس طرح اپنی گرفت میں لے لیتا ہے کہ انسان کے فکر و عمل میں کوئی چیز اُس سے الگ اور اُس کے اثرات سے خالی نہیں رہ جاتی۔
      یعنی اُن کا پورا پورا اجر دے گا۔ لہٰذا یہ اطاعت تمھارے ہی کام آئے گی، اِس میں کوئی چیز اللہ کے کام آنے والی نہیں ہے۔
      یہ اصلاح کی دعوت ہے۔ اِن میں زیادہ لوگ نا سمجھ تھے، اِس لیے تنبیہ کے ساتھ جگہ جگہ دعوت بھی دی ہے کہ رجوع کرو اور مغفرت مانگو، تمھارے پروردگار کی رحمت منتظرہے، وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہیں پڑے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی لوگ سچے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حقیقی اہل ایمان کے اوصاف: فرمایا کہ ہر مدعی ایمان، اللہ کے نزدیک مومن نہیں بن سکتا۔ حقیقی مومن اللہ کے نزدیک وہی ہیں جو اللہ اور رسول پر صدق دل سے ایمان لائے، پھر شک و تذبذب میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ مال و جان دونوں سے اللہ کی راہ میں برابر جہاد کیا۔ اپنا مال بھی دین کی تقویت و تائید کے لیے صرف کیا اور جان قربان کرنے کی نوبت آئی تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا۔ فرمایا کہ یہی لوگ اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان کا دعویٰ تو بڑی بلند آہنگی سے کرتے ہیں لیکن اپنے تذبذب کے سبب سے اس راہ میں نہ کوئی چوٹ کھانے کے لیے تیار ہیں اور نہ جان و مال کی قربانی کا کوئی حوصلہ رکھتے ہیں، وہ محض دکھاوے کے مجنوں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔
      یہان غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ’جٰھَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِھِمْ‘ کا ذکر ان کے عدم تذبذب کی شہادت کے طور پر ہوا ہے۔ ایک شخص اگر ایک نصب العین کے لیے جان و مال کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا تو یہ ایک ناقابل انکار شہادت اس بات کی ہے کہ اس کو اس نصب العین کی صداقت پر پورا یقین ہے اور اگر وہ اس کی خاطر نہ مال قربان کرنے پر تیار ہے نہ اپنی جان کو کسی خطرے میں ڈالنے کا حوصلہ رکھتا ہے تو اگرچہ وہ اس کے عشق میں کتنی ہی لاف زنی کرے لیکن اس کا عمل گواہ ہے کہ وہ اس کے باب میں ابھی مبتلائے شک ہے۔

      جاوید احمد غامدی (یاد رکھو)، مومن تو درحقیقت وہی ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لائے، پھر شک میں نہیں پڑے اور اپنے مال اور اپنی جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی سچے لوگ ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِس بات کی شہادت کے طور پر فرمایا ہے کہ وہ کبھی شک میں نہیں پڑے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنا جان و ما ل کسی مقصد کے لیے قربان کرنے پر تیار ہو جاتا ہے تو یہ اُس کے ایمان و یقین کی ایسی شہادت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔

    • امین احسن اصلاحی کہہ دو، کیا تم اپنے دین سے اللہ کو آگاہ کر رہے ہو! درآنحالیکہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی یہ لوگ بڑے سرپرستانہ انداز میں کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں تو ان سے پوچھو کہ کیا تم لوگ اللہ کو اپنے دین سے آگاہ کر رہے ہو! اگر یہ لوگ اللہ کو آگاہ کر رہے ہیں تو ان کو بتا دو کہ اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور اللہ ہر بات سے باخبر ہے۔ وہ فعلاً بھی ہر چیز کو جانتا ہے اور صفۃً بھی ہر بات سے باخبر ہے۔ کوئی چیز بھی اس سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کو اپنے ایمان پر ناز ہے تو اس پر وہ کسی ایسے کے سامنے ناز کریں جو ان کے دین و ایمان سے بے خبر ہو۔ اس کے سامنے ناز کرنے سے کیا فائدہ جو اس کائنات کے ہر سرّ و علانیہ سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ کیا جو ہر چیز سے آگاہ ہے وہ ان کے ایمان کے طول و عرض سے آگاہ نہیں ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی اِن سے کہو، کیا تم اللہ کو اپنے دین سے آگاہ کر رہے ہو؟ دراں حالیکہ جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ آسمانوں میں ہے، اللہ اُسے جانتا ہے اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی یہ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ یہ لوگ اسلام لائے۔ کہہ دو کہ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھو بلکہ یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی توفیق بخشی، اگر تم سچے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مدعیان احسان کو جواب: ان لوگوں کے دعوائے ایمان کی قلعی کھولنے کے بعد ان کے دعوائے اسلام کی حقیقت واضح فرمائی کہ یہ لوگ تمہارے اوپر (خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے) احسان جتاتے ہیں کہ وہ اسلام لائے۔ یعنی ان کا زعم یہ ہے کہ اسلام لا کر انھوں نے پیغمبر کی عزت بڑھائی اور اسلام کو قوت و شوکت بخشی اس وجہ سے وہ پیغمبر اور اسلام دونوں کے محسن ہیں اور پیغمبر کا فرض ہے کہ وہ ان کے اس احسان کا احترام کریں۔ فرمایا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم لوگ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ جتاؤ۔ اگر تم فی الواقع اپنے دعوے میں سچے ہو تو تمہارا احسان میرے اوپر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان تمہارے اوپر ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی توفیق بخشی۔ ’اِنْ کُنتُمْ صَادِقِیْنَ‘ کے الفاظ پر نظر رہے، یعنی اول تو تمہارا ایمان و اسلام کا دعویٰ ہی محض لاف زنی ہے اور اگر تمہاری بات میں کچھ صداقت ہے تو تمہیں اللہ کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ اس نے تمہیں اس کی توفیق بخشی۔ ’ہدایت‘ کے بعد ’ل‘ کا صلہ دلیل ہے کہ یہ لفظ یہاں توفیق کے مضمون پر متضمن ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔
      اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ دین کی کوئی چھوٹی یا بڑی خدمت کر کے کوئی شخص نہ اللہ و رسول پر کوئی احسان کرتا نہ دین پر بلکہ وہ خود اپنے اوپر احسان کرتا ہے کہ اپنی عاقبت سنوارتا ہے۔ احسان، درحقیقت، اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے کہ وہ اس کو اپنے دین کی خدمت کی توفیق دے کر اس کے لیے ابدی فیروز مندی کی راہ کھولتا ہے۔ یہاں اس بات پر بھی نظر رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ جواب نہیں دلوایا گیا کہ تم لوگ اپنے ایمان و اسلام کا احسان مجھے نہ جتاؤ، بلکہ میرا احسان تمہارے اوپر ہے کہ میں نے تمہارے سامنے ہدایت کی راہ کھولی۔ اگر یہ جواب دلوایا جائے تو اس کا ایک محل تھا، لیکن نبی جو کچھ کر سکتا ہے وہ صرف اتنا ہی ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت کی راہ پر لانے کے لیے اپنی ساری طاقت صرف کر دے لیکن لوگوں کو ہدایت کی توفیق دینا اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ اس کی توفیق بخشنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے اور معاملہ کا سارا انحصار اسی توفیق بخشی پر ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ اِنھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ کہہ دو کہ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اُس نے تم کو ایمان کی توفیق عطا فرمائی، اگر تم (اپنے اِس دعوے میں) سچے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      سورہ کے شروع میں اِن کا جو طرزعمل بیان ہوا ہے، وہ اِسی کا نتیجہ تھا کہ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ اسلام لا کر اِنھوں نے پیغمبر کی عزت بڑھائی اور مسلمانوں کی شوکت میں اضافہ کیا ہے، لہٰذا ہر ایک کو اب اِن کا یہ احسان مان کر اِن کے ساتھ معاملہ کرنا چاہیے۔
      اصل میں ’اَنْ ھَدٰکُمْ لِلْاِیْمَانِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’ھَدٰی‘ کے بعد ’ل‘ کا صلہ دلیل ہے کہ یہ لفظ یہاں توفیق کے مضمون پر متضمن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اول تو تمھارا ایمان و اسلام کا دعویٰ ہی محل نظر ہے، لیکن اگر اِس میں کچھ صداقت ہے تو خدا کا شکر ادا کرو کہ اُس نے تمھیں یہ توفیق بخشی اور ہلاکت کے اُس گڑھے میں گرنے سے بچا لیا جس میں تمھاری قوم کے بہت سے لوگ گر چکے ہیں۔ اِس میں ضمناً یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ ایمان و ہدایت کی توفیق جو کچھ ملتی ہے، خدا کی طرف سے ملتی ہے۔ اِس میں پیغمبر بھی اِس کے سوا کچھ نہیں کر سکتا کہ دعوت و تبلیغ اور انذار و تبشیر میں اپنی پوری طاقت صرف کر دے۔ چنانچہ یہ نہیں فرمایا کہ میرا تم پر احسان ہے کہ میں نے تمھیں ہدایت کی راہ دکھائی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کے سارے غیب کو۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      وہی آیت ۱۶ والا مضمون ایک دوسرے اسلوب سے بیان فرمایا کہ اپنے ایمان و اسلام کو زیادہ بتانے اور جتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ آسمانوں اور زمین کے سارے بھیدوں کو خود جانتا ہے اور یہ یاد رکھو کہ اللہ تمہارے سارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اصل چیز دعویٰ نہیں بلکہ عمل ہے۔ اگر عمل کرو گے تو تمہارا دعویٰ بغیر اظہار و اعلان کے اللہ کے ہاں ثابت ہو جائے گا اور اگر عمل نہیں کرو گے تو زبان سے کتنا ہی دعویٰ کرو، یہ بالکل بے حقیقت و بے سود ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی اِس میں کچھ شک نہیں کہ زمین اور آسمانوں کا سارا غیب اللہ کے علم میں ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ آخر میں وہی بات ایک دوسرے اسلوب سے دہرا دی ہے جو اوپر آیت ۱۶ میں فرمائی ہے کہ خدا کو کچھ بتانے کی کوشش نہ کرو، وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اگر کچھ کرنا ہے تو اپنے ایمان و اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے عمل کرو۔ اِس کے بعد زبان سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

    Join our Mailing List