Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 29 آیات ) Al-Fath Al-Fath
Go
  • الفتح (The Victory, Conquest)

    29 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے ربط

    سابق سورہ کی آیت ۳۵ میں اہل ایمان سے یہ وعدہ جو فرمایا ہے کہ اگر تم کمزور نہ پڑے تو تمہی سربلند ہو گے، تمہارے حریف ذلیل و پامال ہوں گے، اس سورہ میں اسی وعدہ کے ایفاء کی واقعاتی شہادت ہے۔ اس کا آغاز صلح حدیبیہ کے ذکر سے ہوا ہے جو فتح مکہ کی تمہید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت پر اتمام نعمت کا فتح باب ثابت ہوئی۔ اس میں فتح و غلبہ کی ان پیشین گوئیوں اور بشارتوں کا بھی حوالہ ہے جو اس امت کے باب میں تورات اور انجیل میں وارد ہوئی ہیں تاکہ اہل ایمان اور اہل کفر دونوں پر اچھی طرح واضح ہو جائے کہ یہ جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور آگے ہو گا، ان میں سے کوئی بات بھی اتفاقی نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی سکیم میں پہلے سے طے ہے اور یہ سکیم پوری ہو کے رہے گی۔ کسی کی طاقت نہیں ہے کہ اس میں مزاحم ہو سکے۔

  • الفتح (The Victory, Conquest)

    29 آیات | مدنی

    محمد ۔ الفتح

    ۴۷ ۔ ۴۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے نتیجے میں جو لوگ آپ پر ایمان لے آئے تھے، اُن کے علم و عمل کا تزکیہ اور اُن کی جماعت کی تطہیر ہے۔ اِس کے ساتھ اُنھیں آخرت میں جنت اور دنیا میں فتح و نصرت کی بشارت بھی نہایت واضح الفاظ میں دی گئی ہے جس کا لازمی نتیجہ منکرین اور مکذبین کی ہزیمت اور اُن کے لیے جہنم کی وعید ہے۔
    اِن سورتوں میں خطاب اصلاً اہل ایمان سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینہ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب منکرین حق کے خلاف فیصلہ کن اقدام میں کچھ زیادہ وقت نہیں رہ گیا تھا۔


  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی بے شک ہم نے تم کو ایک کھلی ہوئی فتح عطا فرمائی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      معاہدۂ حدیبیہ کے ’فتح مبین‘ ہونے کے چند پہلو: ’فتح مبین‘ سے یہاں مراد معاہدۂ حدیبیہ ہے، اس کے سوا کسی اور فتح کو مراد لینے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ اس کو فتح مبین قرار دینے کے متعدد پہلو بالکل واضح ہیں۔ مثلاً
      ایک یہ کہ یہ پہلا موقع ہے کہ قریش نے علانیہ بیت اللہ پر مسلمانوں کا حق تسلیم کیا اور یہ تسلیم کرنا بطور احسان نہیں بلکہ مسلمانوں سے دب کر ہوا۔ آگے آیت ۲۴ سے واضح ہو گا کہ اگر معاہدہ نہ ہوتا اور جنگ چھڑتی تو مسلمانوں کی فتح یقینی تھی۔ قریش نے صورت حال کا اچھی طرح اندازہ کر لیا تھا اس وجہ سے وہ معاہدہ کے دل سے خواہش مند تھے۔ البتہ اپنی ناک ذرا اونچی رکھنے کے لیے یہ چاہتے تھے کہ مسلمان اسی سال عمرہ کرنے پر اصرار نہ کریں بلکہ آئندہ سال آئیں۔ مسلمانوں کو اس بات پر راضی کرنے کے لیے انھوں نے بہت بڑی رشوت بھی دی کہ تین دن کے لیے وہ شہر بالکل خالی کر دیں گے تاکہ کسی تصادم کا کوئی اندیشہ نہ رہے۔ قریش کی طرف سے یہ پیش کش کوئی معمولی بات نہیں تھی۔
      دوسرا یہ کہ قریش نے اس معاہدے کی رو سے مسلمانوں کو اپنے برابر کی ایک حریف قوت عرب میں تسلیم کر لیا۔ ان کی نظر میں مسلمانوں کی حیثیت اب باغیوں اور غداروں کی نہیں رہی تھی، جیسا کہ وہ علانیہ اب تک کہتے رہے تھے، بلکہ مساوی درجے کی ایک سیاسی قوت کی ہو گئی چنانچہ انھوں نے علانیہ ان کے لیے یہ حق تسلیم کر لیا کہ عرب کے جو قبائل ان کے حلیف بننا چاہیں وہ ان کو اپنا حلیف بنا سکتے ہیں۔
      تیسرا یہ کہ قریش نے مسلمانوں کی جنگی صلاحیتوں کا لوہا بھی اس حد تک مان لیا کہ خود اصرار کر کے معاہدے میں دس سال کے لیے جنگ بندی کی شرط رکھوائی۔
      چوتھا یہ کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبرؐ اور مسلمانوں کو جنگ کی اجازت جو نہیں دی تو اس کی وجہ مسلمانوں کی کوئی کمزوری نہیں تھی بلکہ صرف یہ تھی کہ مکہ میں بہت سے ظاہر اور مخفی مسلمان تھے جو وہاں سے ابھی ہجرت نہیں کر سکے تھے۔ اندیشہ تھا کہ جنگ کی صورت میں ان کو خود مسلمانوں کے ہاتھوں نقصان پہنچ جائے گا۔
      غرض اس کے ایک فتح مبین ہونے کے گوناگوں پہلو واضح تھے جو مسلمانوں سے مخفی نہیں ہو سکتے تھے لیکن قریش نے اپنی حمیت جاہلیت کا مظاہرہ کچھ اس طرح کیا اور بعض واقعات نہایت اشتعال انگیز۔ مثلاً ابوجندل کا واقعہ ۔۔۔ اس دوران میں ایسے پیش آ گئے کہ مسلمانوں کے اندر عام احساس یہ پیدا ہو گیا کہ یہ معاہدہ دب کر کیا جا رہا ہے۔ جذبات کے ہیجان میں لوگ اس کے ہر پہلو پر غور کر کے یہ اندازہ نہ لگا سکے کہ اس معاہدے کی رو سے انھوں نے کیا پایا اور کیا کھویا۔ اس سورہ نے جب اصل حقائق کی طرف توجہ دلائی تب لوگوں کو احساس ہوا کہ فی الواقع انھوں نے معاہدے کے مضمرات سمجھنے میں غلطی کی اور جب اس کے نتائج سامنے آئے تو ہر شخص نے کھلی آنکھ سے دیکھ لیا کہ فی الواقع یہی معاہدہ فتح مکہ کی تمہید ثابت ہوا۔

      جاوید احمد غامدی اِس میں کچھ شک نہیں، (اے پیغمبر) کہ ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کر دی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      سورہ کے مطالعے سے واضح ہو جاتا ہے کہ اِس سے حدیبیہ کا معاہدہ مراد ہے جو روایتوں کے مطابق ذی القعدہ ۶ ؍ہجری میں قریش مکہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان طے پایا، جب اپنے ایک رویا کی بنا پر آپ ہدی کے جانور ساتھ لیے ہوئے اپنے کم و بیش چودہ پندرہ سو صحابہ کی معیت میں عمرے کے لیے وہاں پہنچے، لیکن قریش نے آپ کو اِس کی اجازت نہیں دی۔ یہ معاہدہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا اور اِس کے شرائط درج ذیل تھے:

      ۱۔ دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بند رہے گی۔ اِس دوران میں کوئی فریق بھی ایک دوسرے کے خلاف کوئی خفیہ یا علانیہ کارروائی نہیں کرے گا۔
      ۲۔ اِس دوران میں قریش کا کوئی آدمی اگر اپنے ولی کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جائے گا تو آپ اُسے واپس کر دیں گے۔ اور اگر مسلمانوں میں سے کوئی آدمی قریش کے پاس آجائے گا تو وہ اُس کو واپس نہیں کریں گے۔
      ۳۔ قبائل عرب میں سے جو قبیلہ بھی چاہے، فریقین میں سے کسی کاحلیف بن کر اِس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔
      ۴۔ مسلمان اِس سال واپس چلے جائیں گے۔ آیندہ سال وہ عمرے کے لیے آ کر تین دن تک مکے میں ٹھیر سکتے ہیں۔ اسلحہ میں سے ہر شخص صرف ایک تلوار میان میں لا سکتا ہے۔ اِن تین دنوں میں اہل مکہ اُن کے لیے شہر خالی کر دیں گے تاکہ کسی تصادم کا اندیشہ نہ رہے۔*
      یہی معاہدہ ہے جسے قرآن نے یہاں کھلی فتح قرار دیا ہے۔ اِس کے متعدد پہلو بالکل واضح ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’ایک یہ کہ یہ پہلا موقع ہے کہ قریش نے علانیہ بیت اللہ پر مسلمانوں کا حق تسلیم کیا اور یہ تسلیم کرنا بطور احسان نہیں، بلکہ مسلمانوں سے دب کر ہوا۔ آگے آیت۲۴ سے واضح ہو گا کہ اگر معاہدہ نہ ہوتا اور جنگ چھڑتی تو مسلمانوں کی فتح یقینی تھی۔ قریش نے صورت حال کا اچھی طرح اندازہ کر لیا تھا، اِس وجہ سے وہ معاہدے کے دل سے خواہش مند تھے۔ البتہ اپنی ناک ذرا اونچی رکھنے کے لیے یہ چاہتے تھے کہ مسلمان اِسی سال عمرہ کرنے پر اصرار نہ کریں، بلکہ آیندہ سال آئیں۔ مسلمانوں کو اِس بات پر راضی کرنے کے لیے اُنھوں نے بہت بڑی رشوت بھی دی کہ تین دن کے لیے وہ شہربالکل خالی کر دیں گے تاکہ کسی تصادم کا کوئی اندیشہ نہ رہے۔ قریش کی طرف سے یہ پیش کش کوئی معمولی بات نہیں تھی۔
      دوسرا یہ کہ قریش نے اِس معاہدے کی رو سے مسلمانوں کو اپنے برابر کی ایک حریف قوت عرب میں تسلیم کر لیا۔ اُن کی نظر میں مسلمانوں کی حیثیت اب باغیوں اور غداروں کی نہیں رہی تھی، جیسا کہ وہ علانیہ اب تک کہتے رہے تھے، بلکہ مساوی درجے کی ایک سیاسی قوت کی ہو گئی۔ چنانچہ اُنھوں نے علانیہ اُن کے لیے یہ حق تسلیم کر لیا کہ عرب کے جو قبائل اُن کے حلیف بننا چاہیں، وہ اُن کو اپنا حلیف بنا سکتے ہیں۔
      تیسرا یہ کہ قریش نے مسلمانوں کی جنگی صلاحیت کا لوہا بھی اِس حد تک مان لیا کہ خود اصرار کر کے معاہدے میں دس سال کے لیے جنگ بندی کی شرط رکھوائی۔
      چوتھا یہ کہ اِس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور مسلمانوں کو جنگ کی اجازت جو نہیں دی تو اِس کی وجہ مسلمانوں کی کوئی کمزوری نہیں تھی، بلکہ صرف یہ تھی کہ مکہ میں بہت سے ظاہر اور مخفی مسلمان تھے جو وہاں سے ابھی ہجرت نہیں کر سکے تھے۔ اندیشہ تھا کہ جنگ کی صورت میں اُن کو خود مسلمانوں کے ہاتھوں نقصان پہنچ جائے گا۔
      غرض اِس کے ایک فتح مبین ہونے کے گوناگوں پہلو واضح تھے جو مسلمانوں سے مخفی نہیں ہو سکتے تھے، لیکن قریش نے اپنی حمیت جاہلیت کا مظاہرہ کچھ اِس طرح کیا اور بعض واقعات نہایت اشتعال انگیز، مثلاً ابوجندل کا واقعہ ۔۔۔ اِس دوران میں ایسے پیش آگئے کہ مسلمانوں کے اندر عام احساس یہ پیدا ہو گیا کہ یہ معاہدہ دب کر کیا جا رہا ہے۔ جذبات کے ہیجان میں لوگ اِس کے ہر پہلو پر غور کر کے یہ اندازہ نہ لگا سکے کہ اِس معاہدے کی رو سے اُنھوں نے کیا پایا اور کیا کھویا۔ اِس سورہ نے جب اصل حقائق کی طرف توجہ دلائی، تب لوگوں کو محسوس ہوا کہ فی الواقع اُنھوں نے معاہدے کے مضمرات سمجھنے میں غلطی کی اور جب اُس کے نتائج سامنے آئے تو ہر شخص نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ فی الواقع یہی معاہدہ فتح مکہ کی تمہید ثابت ہوا۔‘‘(تدبرقرآن ۷/ ۴۳۶)

      _____
      * السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ۳/ ۲۹۱۔

    • امین احسن اصلاحی کہ اللہ تمہارے تمام اگلے اور پچھلے گناہوں کو بخشے، تم پر اپنی نعمت تمام کرے۔ تمہارے لیے ایک بالکل سیدھی راہ کھول دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس فتح مبین کے چند نتائج: ’ل‘ یہاں غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے یعنی اللہ نے یہ فتح مبین جو عنایت فرمائی ہے یہ تمہید ہے جو منتہی ہو گی مندرجہ ذیل باتوں پر جن سے اللہ تعالیٰ تمہیں سرفراز فرمانے والا ہے۔

      ایک یہ کہ اب وہ وقت فریب ہے کہ تم اپنے مشن کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے اگلے پچھلے گناہوں ہو معاف کر کے اپنی رحمت سے نوازے گا۔
      دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت تمام کرنے والا ہے۔
      تیسری یہ کہ ہدایت کی صحیح راہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کھول دے گا۔
      چوتھی یہ کہ تمہیں اللہ تعالیٰ ایسا غلبہ عطا فرمائے گا جس کو چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
      یہ چاروں باتیں یہاں اجمال کے ساتھ مذکور ہوئی ہیں۔ ان کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ضرورت ہے کہ قرآن کے نظائر کی روشنی میں ان کی وضاحت کی جائے۔
      ’لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ‘۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی بشارت دی گئی ہے کہ اس ’فتح مبین‘ کے بعد فریضۂ رسالت کی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہونے کا وقت آپ کے لیے قریب آ گیا ہے۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ مختلف اسلوبوں سے آیا ہے۔ مثلاً سورۂ نصر میں فرمایا ہے:

      إِذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ ۵ وَرَأَیْْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوۡنَ فِیْ دِیْنِ اللہِ أَفْوَاجًا ۵ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا (۱-۳)
      ’’جب اللہ کی مدد اور فتح ظاہر ہو جائے اور تم دیکھو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بے شک اللہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا ہے۔‘‘

      اس سورہ میں فتح و غلبہ کی بشارت کے ساتھ یہ اشارہ بھی ہے کہ اس کے بعد فریضۂ رسالت کی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہونے کا وقت آپ کے لیے قریب آ جائے گا لیکن صاف الفاظ میں اس کی بشارت دینے کے بجائے اس کے لیے تیاری کرنے کی ہدایت فرمائی گئی کہ تسبیح، نماز اور استغفار سے اس کے لیے تیاری کرو۔ آیت زیرنظر میں یہی مضمون موقع و محل کے تقاضے سے نہایت واضح بشارت کے اسلوب میں آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ فتح مبین جو تمہیں حاصل ہوئی ہے اس کے بعد اب وہ وقت قریب ہے کہ تمہارے رب نے جو ذمہ داری تم پر ڈالی تھی اس سے فارغ فرمائے گا اور نہایت سرخ روئی و سرفرازی کے ساتھ اس طرح فارغ فرمائے گا کہ تمہارے تمام اگلے پچھلے گناہ بخش دے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سب سے بڑی بشارت کوئی ہو سکتی تھی تو لاریب یہی ہو سکتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس عظیم مشن پر مامور فرمایا تھا اس سے آپ کو اس طرح فارغ فرمائے کہ اس کے متعلق کوئی بھی چھوٹی یا بڑی مسؤلیت آپ پر باقی نہ رہے بلکہ یہ اطمینان ہو جائے کہ آپ نے یہ فریضہ ٹھیک ٹھیک اپنے رب کی مرضی کے مطابق انجام دے دیا۔ اس ٹکڑے میں آپ کو خوشنودی کا یہی پروانہ عطا ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ اس سے بڑا پروانہ کوئی اور آپ کے لیے نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی کی شکرگزاری نے آخری دور میں جب آپ کی عبادت کی سرگرمیوں میں بہت اضافہ کر دیا تو لوگ آپ سے سوال کرتے کہ یارسول اللہ آپ کے تو تمام اگلے پچھلے گناہ بخشے جا چکے ہیں تو آپ عبادت میں اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ آپ اس کا جواب دیتے کہ

      ’اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا‘
      (کیا میں اپنے رب کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟)

      انبیاء علیہم السلام سے کس طرح کے گناہ صادر ہوتے ہیں: یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جس ’ذنب‘ کی نسبت کی گئی ہے اس سے متعلق یہ وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام سے اتباع ہوا کی نوعیت کے گناہ تو کبھی صادر نہیں ہوئے لیکن اقامت دین کی جدوجہد میں، نیک دواعی کے تحت، کبھی ان سے بھی ایسی باتیں صادر ہو گئی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت فرمائی ہے۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس منافقین آتے اور کوئی بہانہ پیدا کر کے یہ چاہتے کہ ان کو جہاد میں شرکت سے رخصت دی جائے۔ آپ کو علم ہوتا کہ یہ لوگ محض بہانہ سازی کر رہے ہیں لیکن کریم النفسی کے سبب سے آپ ان کو رخصت دے دیتے کہ ان کا فضیحتا نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ نرمی اگرچہ آپ کی کریم النفسی کا نتیجہ تھی، اس میں اتباع ہوا کا کوئی شائبہ نہیں تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر آپ کی گرفت فرمائی اس لیے کہ نبی ہر معاملے میں حق و عدل کی کسوٹی ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ شریفانہ سلوک کرنے کے معاملے میں بھی اس حد تک متجاوز نہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے شریفانہ سلوک کے لیے ٹھہرا دی ہے۔
      اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی اپنی قوم کے سرداروں کی دلداری، اس خیال سے، زیادہ فرماتے کہ اگر یہ لوگ ایمان لائیں گے تو یہ دعوت کی تقویت و ترقی کا ذریعہ بنیں گے۔ یہ چیز بجائے خود کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ دین کی مصلحت کا ایک نہایت اہم تقاضا ہے لیکن اگر یہ اتنی زیادہ ہو جائے کہ اس سے اصلی حق داروں کے حق سے غفلت ہونے لگے یا نا اہلوں کی رعونت میں اس سے اضافہ ہونے لگے تو اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو اس سے روک دیتا ہے۔ سورۂ عبس میں ایک نابینا کا جو واقعہ بیان ہوا ہے وہ اسی نوعیت کا ہے۔
      اسی طرح کے واقعات دوسرے انبیاء کی زندگیوں میں بھی پیش آئے جن کی وضاحت ہم نے اپنی اس کتاب میں ان کے محل میں کی ہے۔ آیت زیربحث میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جس گناہ کی نسبت کی گئی ہے اس کی نوعیت یہی ہے۔ اس طرح کی تمام باتوں سے متعلق آپ کو بشارت دے دی گئی کہ یہ ساری چیزیں آپ کو بخش دی جائیں گی۔
      ’اگلے اور پچھلے‘ کے الفاظ اصلاً تو احاطہ کے مفہوم پر دلیل ہیں۔ لیکن ان سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس بشارت سے پہلے کی غلطیاں بھی معاف اور اس کے بعد بھی اگر کوئی غلطی ہوئی تو وہ بھی اسی حکم میں داخل ہے۔ اس کے لیے کسی نئی بشارت کی ضرورت نہیں ہے۔
      ’وَیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْْکَ‘۔ یہ نعمت دین کے اتمام اور اس کی تکمیل کی بشارت ہے۔ چنانچہ حجۃ الوداع کے موقع پر جب اس نعمت کی تکمیل ہو گئی تو یہ اعلان کر دیا گیا کہ

      ’اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْنًا‘ (المائدہ ۳)
      (اب میں نے تمہاری رہنمائی کے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کیا)۔

      تکمیل دین کی نعمت کا ثمرہ: ’وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا‘۔ یہ تکمیل دین کی نعمت کا ثمرہ بیان ہوا ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہیں اس صراط مستقیم کی ہدایت بخشے گا، جس سے شیطان نے لوگوں کو ہٹا دیا تھا۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلق کی ہدایت کے لیے جو دین نازل فرمایا تھا یہود اور نصاریٰ نے بھی اس کو ضائع کر دیا تھا اور اہل عرب نے بھی، حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کے تعمیر کردہ مرکز توحید کو ایک بت خانہ کی شکل میں تبدیل کر کے، اصل نشان راہ گم کر دیا تھا۔ جس سے خدا تک پہنچانے والی سیدھی راہ بالکل ناپید ہو چکی تھی۔ یہ راہ خلق کے لیے ازسرنو اس وقت باز ہوئی ہے جب اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اپنے دین کی تجدید و تکمیل فرمائی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعمیر کردہ مینارۂ توحید کفر کے نرغہ سے نکل کر اپنے اصلی ابراہیمی جمال و شان میں نمایاں ہوا ہے۔ اس ٹکڑے میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اب دین بھی نکھر کر سامنے آ جائے گا اور وہ مرکز نور بھی بے نقاب ہو جائے گا جو ہدایت کی اصل شاہراہ کی طرف رہنمائی کے لیے تعمیر ہوا تھا۔
      یہاں یہ بشارت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے دی گئی ہے۔ یہی بشارت اسی سورہ کی آیت ۲۰ میں تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے دی گئی ہے۔ وہاں ان شاء اللہ ہم اس پر مزید روشنی ڈالیں گے۔

       

      جاوید احمد غامدی کہ (تم سرخ روئی کے ساتھ اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہو جاؤ اور اِس کے صلے میں) اللہ تمھارے اگلے اور پچھلے سب گناہوں کو بخش دے اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے اور تمھارے لیے ایک سیدھی راہ کھول دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ عظیم بشارت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اِس فتح کے نتیجے میں اب عنقریب وہ وقت آئے گا کہ آپ فریضۂ رسالت کی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہو جائیں گے اور یہ سبک دوشی نہایت سرخ روئی اور سرفرازی کے ساتھ ہو گی کہ اِس کے دوران میں اگر کوئی لغزش کہیں ہوئی ہے یا بعد میں بھی اگر ہو تو معاف کر دی جائے اور اللہ تعالیٰ نے جس عظیم مشن پر آپ کو مامور فرمایا تھا، اُس کے بارے میں کوئی چھوٹی یا بڑی مسؤلیت آپ پر باقی نہ رہے۔ آپ کے لیے، اگر غور کیجیے تو یہ پروردگار عالم کی خوشنودی کا ایسا پروانہ ہے کہ اِس سے بڑا کوئی پروانہ نہیں ہو سکتا۔ یہ اِسی کی شکر گزاری تھی کہ آخری زمانے میں آپ کا زیادہ وقت تسبیح و مناجات، استغفار اور نماز میں گزرتا تھا۔
      آیت میں لغزش یا ’ذَنْب‘کی جو نسبت آپ کی طرف ہوئی ہے، اُس کی نوعیت کیا ہے؟ اِس کی وضاحت ہم نے سورۂ محمد (۴۷) کی تفسیر میں حاشیہ ۳۵ کے تحت کر دی ہے۔
      یہ دوسری عظیم بشارت ہے کہ جس دین کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے اُس کی تمام تفصیلات کے ساتھ پہلی وحی سے دینا شروع کی تھی، وہ پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا جائے۔ چنانچہ یہ نعمت پوری ہو گئی تو قرآن نے سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۳ میں اعلان کر دیا کہ آج میں نے تمھارے دین کو پورا کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمھارے لیے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند فرمایا ہے۔
      یہ اُس نعمت کا ثمرہ ہے جس کا ذکر ہوا کہ اِس کے نتیجے میں توحید کی راہ ہر سالک کے لیے روشن ہو جائے گی اور ام القریٰ مکہ میں وہ مرکز نور بھی اپنے اصلی جلال و جمال کے ساتھ بے نقاب ہو جائے گا جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ہدایت کی اصل شاہ راہ کی طرف رہنمائی کے لیے تعمیر کیا تھا۔

    • امین احسن اصلاحی اور تمہیں اپنی ناقابل شکست نصرت سے نوازے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’نصر عزیز‘ کا صحیح مفہوم: ’وَیَنْصُرَکَ اللہُ نَصْرًا عَزِیْزًا‘۔ ’نَصْرٌ عَزِیْزٌ‘ سے مراد کفر کے مقابل میں ایسی فتح و نصرت ہے جس کو چیلنج نہ کیا جا سکے۔ اس طرح کی نصرت ظاہر ہے کہ اسی شکل میں آپ کو حاصل ہو سکتی تھی جب کفر کا زور بالکل ہی ٹوٹ جائے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ جب قریش کا زور بالکل ختم ہو جائے اور بیت اللہ مسلمانوں کی تحویل میں آ جائے۔ اب تک مسلمانوں کو قریش کے مقابل میں جو کامیابیاں حاصل ہوئی تھیں وہ بھی اہم تھیں لیکن ایسی نہیں تھیں کہ ان کو چیلنج نہ کیا جا سکے۔ قریش جب تک مکہ پر مسلط تھے اس وقت تک وہ بہرحال ایک طاقت تھے لیکن واقعۂ حدیبیہ نے ان کی یہ طاقت متزلزل کر دی اور وہ وقت اب دور نہیں رہ گیا تھا کہ ان کے اقتدار کی یہ کہنہ عمارت ایک ہی جھٹکے میں زمین بوس ہو جائے۔ یہ اسی ’نصر عزیز‘ کی بشارت دی گئی ہے۔ عزیز کے معنی غالب و مقتدر کے ساتھ منیع کے بھی ہیں یعنی جس تک کسی کی پہنچ نہ ہو سکے۔
      ترتیب بیان کی ایک بلاغت: یہاں ان بشارتوں کے ظہور کی ترتیب میں جو بلاغت ہے وہ بھی قابل توجہ ہے کہ جو چیز سب سے پہلے ظہور میں آنے والی ہے اس کا ذکر سب سے آخر میں ہوا اور جو چیز سب کا خلاصہ ہے اور سب سے آخر میں ظاہر ہو گی اس کا ذکر سب سے پہلے ہوا۔ یہ ترتیب نزولی ہے۔ یعنی بیان مطالب میں نیچے سے اوپر چڑھنے کی نہیں بلکہ اوپر سے نیچے اترنے کی ترتیب اختیار فرمائی گئی ہے۔ اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ یہ موقع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دینے کا تھا۔ فتح مکہ کی بشارت بھی اگرچہ اہم بشارت تھی لیکن اس سے بھی بڑی بلکہ سب سے بڑی بشارت آپ کے لیے یہ تھی کہ وہ انعام اخروی آپ کے سامنے رکھ دیا جائے جو آپ کو ملنے والا ہے اور جس کے ملنے میں اب زیادہ دیر نہیں رہ گئی ہے۔ ’لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ‘۔

      جاوید احمد غامدی اور اللہ تمھاری ایسی مدد کرے جو ناقابل شکست ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جس کے نتیجے میں قریش کا زور بالکل ختم ہو جائے، بیت اللہ مسلمانوں کی تحویل میں آجائے اور سرزمین عرب میں دین حق کا غلبہ قائم ہو جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس مشن کے لیے مامور تھے، اُس کے لیے ایسی مدد ہی ناقابل شکست ہو سکتی تھی۔
      یہ بشارتیں یہاں جس ترتیب سے بیان کی گئی ہیں، اُس کی بلاغت بھی قابل توجہ ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... جو چیز سب سے پہلے ظہور میں آنے والی ہے، اُس کا ذکر آخر میں ہوا اور جو چیز سب کا خلاصہ ہے اور سب سے آخر میں ظاہر ہو گی، اُس کا ذکر سب سے پہلے ہوا۔ یہ ترتیب نزولی ہے، یعنی بیان مطالب میں نیچے سے اوپر چڑھنے کی نہیں، بلکہ اوپر سے نیچے اترنے کی ترتیب اختیار فرمائی گئی ہے۔ اِس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ یہ موقع آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دینے کا تھا۔ فتح مکہ کی بشارت بھی اگرچہ اہم بشارت تھی، لیکن اِس سے بھی بڑی، بلکہ سب سے بڑی بشارت آپ کے لیے یہ تھی کہ وہ انعام اخروی آپ کے سامنے رکھ دیا جائے جو آپ کو ملنے والا ہے اور جس کے ملنے میں اب زیادہ دیر نہیں رہ گئی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۷/ ۴۴۰)

    • امین احسن اصلاحی وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر طمانیت نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان میں مزید ایمان کی افزونی ہو اور آسمانوں اور زمین کی تمام فوجیں اللہ ہی کی ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      وعدۂ نصرت کی دلیل: اوپر والی آیت میں جس نصرت کا وعدہ فرمایا گیا ہے یہ اس کی دلیل ارشاد ہوئی ہے کہ یہ اللہ ہی کی نصرت کا کرشمہ ہے کہ اس نے مومنوں کے دلوں میں یہ حوصلہ پیدا کیا کہ وہ تمہاری دعوت پر عمرہ کے لیے تمہارے ہم رکاب ہو گئے تاکہ جو دولت ایمان ان کو حاصل تھی اس پر وہ اپنی اس حوصلہ مندی اور نبی کی رفاقت سے مزید اضافہ کر لیں۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ سفر اگرچہ عمرہ کے لیے تھا لیکن اس کا ارادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت خطرناک حالات میں فرمایا تھا۔ قریش سے برابر جنگ کی حالت قائم تھی اور اب تک ان کے حوصلہ کا یہ عالم تھا کہ وہ برابر امنڈ امنڈ کر مدینہ پر حملہ کر رہے تھے۔ ایسی حالت میں کسی طرح بھی یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ مسلمان جماعتی حیثیت سے عمرہ کے لیے جائیں گے تو وہ بغیر مزاحمت کے آسانی سے ان کو مکہ میں داخل ہونے دیں گے۔ چنانچہ آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ منافقین اسی بنا پر یہ گمان رکھتے تھے کہ مسلمان موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور اب کے اس سفر سے ان کو گھر پلٹنا نصیب نہیں ہو گا۔ ایسے حالات کے اندر چودہ پندرہ سو صحابہؓ کا اپنے گھروں کو چھوڑ کر، ڈھائی سو میل دور کے سفرکے لیے اٹھ کھڑے ہونا اور وہ بھی بالکل غیر مسلح، کوئی معمولی بات نہیں تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان میں برکت دی، ان پر خاص اپنے پاس سے عزم و حوصلہ اتارا اور وہ اس سفر کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا نے تمہارے ساتھیوں کو اس موقع پر یہ حوصلہ عطا فرمایا وہ آگے کے مراحل میں بھی ان کی حوصلہ افزائی فرمائے گا اور اللہ تم سے جس ’نصر عزیز‘ کا وعدہ فرما رہا ہے وہ پورا ہو کے رہے گا۔
      اہل ایمان کو جو آزمائشیں پیش آتی ہیں وہ ان کے ایمان کی جانچ کے لیے پیش آتی ہیں: ’لِیَزْدَادُوْآ إِیْمَانًا مَّعَ إِیْمَانِہِمْ‘ میں دین کی اس حکمت کی طرف اشارہ ہے کہ اس دنیا میں اہل ایمان کو جو آزمائشیں پیش آتی ہیں وہ درحقیقت ان کے ایمان کی جانچ کے لیے پیش آتی ہیں۔ اگر وہ اس جانچ میں پورے اترتے جاتے ہیں تو ان کے ایمان کی قوت میں مزید اضافہ ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ ان کو ’نفس مطمئنہ‘ کی بادشاہی حاصل ہو جاتی ہے اور اگر وہ فیل ہو جاتے ہیں اور برابر فیل ہی ہوتے رہتے ہیں تو بالآخر ان کا نور ایمان بالکل ہی بجھ جاتا ہے۔
      ایمان کے گھٹنے بڑھنے سے متعلق امام ابوحنیفہؒ کے مسلک کا صحیح پہلو: اس سنت الٰہی کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں اور اس سنت کا یہ بدیہی تقاضا ہے کہ ایمان ایک گھٹنے بڑھنے والی چیز ہے۔ اگر وہ کوئی جامد شے ہوتا تو اس امتحان کی ضرورت نہیں تھی۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ سے یہ بات جو منسوب کی جاتی ہے کہ وہ ایمان کے گھٹنے بڑھنے کے قائل نہیں تھے تو اس کا ایک محل ہے۔ اس سے ان کی مراد وہ قانونی ایمان ہے جس پر ایک اسلامی ریاست میں ایک مسلمان کے شہری حقوق قائم ہوتے ہیں نہ کہ وہ ایمان جس پر آخرت کے مدارج و مقامات مبنی ہیں۔ قانونی و فقہی ایمان کے اعتبار سے ہر مسلمان جو ضروریات دین کا قائل ہے، برابر ہے اور اسلامی ریاست سب کے ساتھ مسلمان ہی کی حیثیت سے معاملہ کرے گی۔ اس پہلو سے ایک بدوی اور ایک شہری میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔ رہا آخرت کا معاملہ تو اس کا انحصار حقیقی ایمان پر ہے جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہو سکتا ہے اور وہی اس کا فیصلہ فرمائے گا۔ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مسلک بجائے خود ہمارے نزدیک بالکل صحیح ہے لیکن اس کی وکالت بھی بالکل غلط طریقہ پر کی جاتی ہے اور اعتراض کرنے والوں نے ان کی بات سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔
      جو رسول کی مدد کرتے ہیں وہ اپنے لیے کسب سعادت کی راہ کھولتے ہیں: ’وَلِلّٰہِ جُنُوۡدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَکَانَ اللہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تمہاری رفاقت کے لیے جو آمادہ کر دیا تو یہ ان پر اس نے احسان فرمایا کہ وہ اپنی اس نیکی سے اپنے ایمان پر مزید ایمان کا اضافہ کر لیں ورنہ وہ اپنے رسول اور اپنے دین کی نصرت کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تمام قوتیں اور تمام فوجیں اللہ ہی کے تصرف میں ہیں، وہ جب چاہے کفار سے اپنی ان فوجوں کے ذریعہ انتقام لے سکتا ہے لیکن اس نے اہل ایمان کو اپنے رسول کی نصرت کی دعوت دے کر یہ چاہا کہ ان کے لیے ایک فوز عظیم کے حصول کی راہ کھولے۔ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے۔ اس کا ہر کام علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے اور اس کے اس کام میں بھی اس کی عظیم حکمت ہے۔ اس مضمون کی مزید وضاحت مطلوب ہو تو سورۂ محمد کی آیت ۴ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ آگے یہی آیت ایک اور پہلو سے آ رہی ہے۔ وہاں اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔

      جاوید احمد غامدی وہی ہے جس نے (فتح کے اِس سفر کے لیے نکلتے وقت) مسلمانوں کے دلوں میں طمانیت نازل فرمائی تاکہ اُن کے ایمان کے ساتھ اور ایمان کا اضافہ ہو، (ورنہ اللہ اپنے دین کی نصرت کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہے)۔ زمین اورآسمانوں کے تمام لشکر اللہ ہی کے ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جب آپ عمرے کے ارادے سے اپنے صحابہ کے ساتھ مکے سے نکل رہے تھے۔
      اوپر جس نصرت کا وعدہ فرمایا ہے، یہ اُس کی دلیل ارشاد ہوئی ہے کہ مسلمان جب اِس سفر کے لیے نکل رہے تھے تو دیکھنے والے یہی خیال کر رہے تھے کہ یہ لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور اِن کو اب گھر پلٹنا نصیب نہیں ہو گا، مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا عزم و حوصلہ اُن کے اندر پیدا کر دیا کہ حضور نے جیسے ہی اپنا ارادہ ظاہر فرمایا، وہ بغیر کسی تردد کے اٹھ کھڑے ہوئے۔ لہٰذا ہر شخص کو مطمئن رہنا چاہیے، اللہ آگے بھی اِسی طرح مدد فرمائے گا۔
      یہ حقیقی ایمان کا ذکر ہے اور وہ ہرگز کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ خدا کی نشانیوں کے ظہور کو دیکھ کر یقیناً اُس میں افزونی ہوتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ اور تاکہ ان سے ان کے گناہوں کو جھاڑ دے اور اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی یہی ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ازدیاد ایمان کا صلہ: یہ ’لِیَزْدَادُوْآ إِیْمَانًا مَّعَ إِیْمَانِہِمْ‘۔ کا صلہ بیان ہوا ہے اور اسلوب بیان بدلیت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے نور باطن میں اضافہ کی راہیں جو کھولتا ہے تو اس لیے کہ اس طرح وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور ان سے ان کے سارے گناہ دور فرما دے گا۔ یعنی یہ کوئی خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ تمام تر نفع ہی نفع ہے۔
      یہاں ممکن ہے کہ کسی کے ذہن مین یہ سوال پیدا ہو کہ دخول جنت کا ذکر پہلے ہے اور گناہوں کے جھاڑنے کا ذکر بعد میں۔ حالانکہ لوگ جنت میں گناہوں کے جھاڑے جانے کے بعد داخل ہوں گے، ہمارے نزدیک یہ تقدیم و تاخیر محض ظاہری ہے۔ بشارت کے پہلو کو نمایاں کرنے کے لیے دخول جنت کا ذکر پہلے کر دیا گیا ہے، مقصود یہی بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو گناہوں سے پاک کر کے جنت میں داخل کرے گا۔
      منافقین پر تعریض: ’وَکَانَ ذٰلِکَ عِنۡدَ اللہِ فَوْزًا عَظِیْمًا‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصلی اور سب سے بڑی کامیابی یہی ہے تو مبارک ہیں وہ جنھوں نے یہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے تمام خطرات سے بے پروا ہو کر بازی کھیلی۔ یہ ٹکڑا تمہید ہے منافقین کے ذکر کی جو آگے آ رہا ہے اور جن کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ وہ قریش کے ڈر سے گھروں میں دبک کر بیٹھ رہے اور سمجھ رہے ہیں کہ ان کی سیاست بڑی کامیاب رہی اور بڑی ہوشیاری سے انھوں نے اپنے کو ایک بہت بڑے خطرے سے بچا لیا ہے حالانکہ انھوں نے اپنے کو خطرے سے بچایا نہیں بلکہ خطرے میں جھونک دیا ہے جس کا اندازہ ان کو بہت جلد ہو جائے گا۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے کہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور اِس لیے کہ وہ اُن کے گناہ اُن سے جھاڑ دے۔ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی یہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ چیز، ظاہر ہے کہ مقدم ہے، اِس لیے کہ لوگ گناہوں کے جھاڑے جانے کے بعد ہی جنت میں داخل ہوں گے، لیکن بیان میں اِسے موخر اِس لیے کر دیا ہے کہ بشارت کا پہلو نمایاں رہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور تاکہ اللہ سزا دے منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ کے باب میں بُرے گمان کرتے رہے، برائی کی گردش انہی پر ہے! اور ان پر اللہ کا غضب ہوا اور ان پر اس نے لعنت کی اور ان کے لیے اس نے جہنم تیار کر رکھی ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ تعالیٰ کے امتحان کا دوسرا پہلو: یہ اس امتحان کے دوسرے پہلو کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ جس امتحان سے اہل ایمان کے لیے فوز عظیم کی راہ کھولتا ہے وہی امتحان لازماً منافقین و منافقات اور مشرکین و مشرکات کے لیے سب سے بڑی تباہی یعنی دوزخ کی راہ کھولتا ہے اس لیے کہ اس سے ان کے کھوٹ ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں اور اللہ کی حجت ان پر تمام ہو جاتی ہے۔
      ’اَلظَّانِّیْنَ بِاللہِ ظَنَّ السَّوْءِ‘ سے ان منافقین کے ان گمانوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر آگے آیت ۱۲ میں بدیں الفاظ آیا ہے:

      ’بَلْ ظَنَنۡتُمْ أَن لَّنۡ یَنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَالْمُؤْمِنُوۡنَ إِلٰی أَہْلِیْہِمْ أَبَدًا وَزُیِّنَ ذٰلِکَ فِیْ قُلُوبِکُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَکُنتُمْ قَوْمًا بُورًا‘
      (بلکہ تم نے یہ گمان کیا کہ رسول اور مسلمانوں کو اس سفر سے اپنے گھر والوں کی طرف کبھی پلٹنا نصیب نہ ہو گا۔ یہ گمان تمہارے دلوں میں رچ بس گیا اور تم نے برے برے گمان کیے اور اس طرح تم ہلاک ہونے والے بنے)۔

      منافقین اور مشرکین میں مماثلت: منافقین و منافقات کے ساتھ مشرکین و مشرکات کا جوڑ اس گہری قلبی و ذہنی مماثلت کی بنا پر ہے جو دونوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ جس طرح ایک مشرک اپنے رب کے ساتھ عہد بندگی کا مدعی ہوتے ہوئے دوسرے معبودوں کی پرستش کرتا ہے۔ اسی طرح ایک منافق بھی اللہ و رسول کے ساتھ عہد ایمان و اطاعت کا مدعی ہوتے ہوئے غیروں سے

      ’سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ‘ (محمد ۲۶)
      (بعض معاملات میں ہم آپ ہی لوگوں کے ساتھ رہیں گے)

      کی سازشیں کرتا ہے۔ اس اشتراک کی بنا پر قرآن نے نفاق کو شرک قرار دیا ہے جس کی وضاحت ہم نے اپنی کتاب ’’حقیقت شرک‘‘ میں کی ہے۔ یہاں منافقین کا ذکر مشرکین کے ساتھ کر کے قرآن نے ان کا درجہ معین کر دیا کہ اس طرح کے مدعیان ایمان کا حشر بالآخر ان مشرکوں کے ساتھ ہی ہو گا جن کے یہ ہم مسلک و ہم مشرب ہیں۔
      ایک بلیغ جملہ معترضہ: ’عَلَیْْہِمْ دَآئِرَۃُ السَّوْءِ‘ کا فقرہ بطور جملہ معترضہ ہے۔ جب اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل سے متعلق ان کے برے گمانوں اور ان کی بری تمناؤں کا ذکر آیا تو سلسلۂ کلام کے بیچ میں، بغیر توقف کے، فرما دیا کہ یہ لوگ مسلمانوں کے اوپر بری گردش کے منتظر ہیں حالانکہ بری گردش درحقیقت خود انہی کے اوپر ہے اس لیے کہ یہ لوگ جن لوگوں سے لو لگائے ہوئے ہیں ان کا انجام بہت جلد ان کے سامنے آ جانے والا ہے اور اسی انجام سے یہ بھی دوچار ہوں گے۔ ان پر اللہ کی لعنت ہے، ان کے لیے اللہ نے جہنم تیار کر رکھی ہے اور وہ نہایت ہی برا ٹھکانا ہے۔
      مردوں کے پہلو بہ پہلو عورتوں کے ذکر کی حکمت: یہاں ایک بات اور بھی قابل توجہ ہے۔ اوپر اہل ایمان کے بیان میں بھی اور پھر منافقین و مشرکین کے ذکر میں بھی مردوں کے ساتھ عورتوں کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آزمائش کے دور کے حالات پر تبصرہ ہو رہا ہے۔ اس دور میں اگر کسی گروہ کے اندر نفاق پرورش پاتا ہے تو اس کی پرورش میں بڑا دخل بیوی بچوں کا ہوتا ہے۔ اس کی طرف اشارہ منافقین کے اس قول سے بھی ہو رہا ہے جس کا حوالہ آگے آیت ۱۱ میں ہے کہ

      ’شَغَلَتْنَآ أَمْوَالُنَا وَاَہْلُوۡنَا‘
      (ہم کو ہمارے مال اور اہل و عیال نے پھنسائے رکھا)

      اور حدیث میں بھی ارشاد ہے کہ ’الولد مبخلۃ مجبنۃ‘ (آل و اولاد سب سے زیادہ بخل و بزدلی میں مبتلا کرنے والے ہیں) اسی طرح اگر کسی گروہ کے اندر ایمان مستحکم ہوتا ہے تو اس میں بھی بیوی بچوں کے عزم و صبر اور ان کے اعتماد علی اللہ کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ اہل ایمان اور اہل نفاق دونوں کے ذکر میں عورتوں کا کردار بھی سامنے آ جائے تاکہ مومنات اور منافقات دونوں اپنی اپنی جگہ پر واقف ہو جائیں کہ ان کا رب نہ اپنی مومنہ بندیوں کی جاں نثاریوں سے بے خبر ہے اور نہ منافقات کی تن آسانیوں اور دنیا پرستیوں سے۔

      جاوید احمد غامدی اور اِس لیے بھی کہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں، اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے حق میں طرح طرح کی بدگمانیاں کرتے رہے۔ (یہ مسلمانوں کے لیے بری گردش کے منتظر ہیں)۔ بری گردش اِنھی پر ہے۔ اِن پر اللہ کا غضب ہوا اور اُس نے اِن پر لعنت کی اور (آگے) اِن کے لیے اُس نے جہنم تیار کر رکھی ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ (یہ اللہ سے بے پروا ہیں تو اللہ کو بھی اِن کی کوئی ضرورت نہیں ہے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی وہی سفر جس سے اہل ایمان کے لیے فوزوفلاح کے دروازے کھلیں، منافقین اُسی سے گریز و فرار کے راستے تلاش کرکے اپنے لیے دوزخ کے دروازے کھول لیں۔ اِس پر تعجب نہ ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی ہے، اِس میں بارہا ایک ہی چیز کسی کے لیے نعمت اور کسی کے لیے نقمت کا باعث بن جاتی ہے ۔ آیت میں منافقین اور مشرکین کا ذکر ساتھ ساتھ ہوا ہے۔ یہ اُس گہری ذہنی اور قلبی مماثلت کی بنا پر ہے جو دونوں کے درمیان پائی جاتی تھی۔
      اِن بدگمانیوں کی تفصیل آگے آیت ۱۲ میں آرہی ہے۔ اِن آیتوں میں مردوں کے ساتھ عورتوں کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ ہوا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بڑی آزمایش کا دور تھا جس میں اگر مومن عورتیں اپنے عزم و صبر سے مومن مردوں کی ہمت بندھا رہی تھیں تو منافق مردوں کے اندر نفاق کی پرورش میں منافق عورتوں کا بھی بڑا دخل تھا۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ اُن کا کرداربھی نمایاں ہو اور دونوں کو معلوم ہو جائے کہ اُن کا پروردگاراُن کے حالات سے بے خبر نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اللہ ہی کی ہیں آسمانوں اور زمین کی فوجیں اور اللہ غالب و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین سے اظہار بیزاری: یہی ٹکڑا صرف ایک لفظ ’عزیز‘ کے فرق کے ساتھ اوپر آیت ۴ میں بھی شامل ہے۔ وہاں یہ ایک خاص پہلو سے آیا ہے۔ یہاں یہ ان منافقین کے اظہار سے بیزاری و بے نیازی کے لیے وارد ہوا ہے کہ اگر یہ منافقین جہنم کے ایندھن بننا چاہتے ہیں تو بن جائیں۔ خس کم جہاں پاک؛ اللہ کو ان بزدل لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر اس کے اپنے ہیں۔ وہ ہر چیز پر غالب و مقتدر ہے اور ساتھ ہی وہ حکیم بھی ہے۔ اپنی حکمت کے تحت وہ ان لشکروں کو جس طرح چاہے استعمال کر سکتا ہے۔ کسی کی بزدلی اور پست ہمتی اس کے ارادوں پر اثرانداز نہیں ہو سکتی۔

      جاوید احمد غامدی زمین اور آسمانوں کے لشکراللہ ہی کے ہیں اور اللہ زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی بے شک ہم نے تم کو گواہی دینے والا، خوشخبری پہنچانے والا اور آگاہ کر دینے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نبی صلعم کے مرتبہ و مقام کا بیان: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا کہ ہم نے تم کو لوگوں کی طرف اپنے دین کی گواہی دینے والا اور مبشر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ ’گواہی دینے والا‘ یعنی اپنے دین کی گواہی دینے والا کہ ہم اپنے بندوں کو کس چیز کا حکم دیتے اور کس بات سے روکتے ہیں۔ ساتھ ہی اس لیے بھی بھیجا ہے کہ ان لوگوں کو جنت کی بشارت دو جو تمہاری گواہی قبول کر کے اپنی زندگیاں سنوار لیں اور ان لوگوں کو دوزخ کے عذاب سے ڈراؤ جو تمہاری گواہی کو رد کر دیں یا اس کو وہ اہمیت نہ دیں جس کی یہ سزاوار ہے۔ یہ بات اگرچہ ایک عام کلیہ کی حیثیت سے ارشاد ہوئی ہے لیکن کلام کے تدریجی ارتقاء سے یہ حقیقت آپ سے آپ واضح ہو جائے گی کہ روئے سخن منافقین کی طرف ہے جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا زبان سے اقرار تو کر لیا تھا لیکن اس اقرار کے تضمنات سے وہ گریز اختیار کرنے کی راہیں ڈھونڈھتے رہتے تھے۔
      شاہد کا مفہوم: ’شَاہِدٌ‘ کے معنی ہیں ’گواہی دینے والا‘ یعنی لوگوں کے سامنے اللہ کے دین کی گواہی دینے والا۔ عام طور پر لوگوں نے اس سے وہ گواہی مراد لی ہے جو آپ آخرت میں دیں گے لیکن ہمارے نزدیک یہ بات صحیح نہیں ہے۔ آخرت میں حضرات انبیاء علیہم السلام جو گواہی دیں گے وہ اسی بنا پر تو دیں گے کہ انھوں نے اس دنیا میں لوگوں پر اللہ کے دین کی گواہی دی ہے۔ اس گواہی پر الاحزاب کی آیات ۴۵-۴۷ کے تحت ہم بحث کر آئے ہیں۔ تفصیل مطلوب ہو تو اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ حضرات انبیاء جو گواہی آخرت میں دیں گے المائدہ کی تفسیر میں اس پر مفصل بحث ہو چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے ، (اے پیغمبر)، تم کو گواہی دینے والا، خوش خبری پہنچانے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس گواہی کے معنی قرآن کی اصطلاح میں یہ ہیں کہ حق لوگوں پر اِس طرح واضح کر دیا جائے کہ اِس کے بعد کسی شخص کے لیے اُس سے انحراف کی گنجایش نہ ہو۔ اِس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں میں سے بعض کو اپنی دینونت کے ظہور کے لیے منتخب فرماتے اور پھر قیامت سے پہلے ایک قیامت صغریٰ اُن کے ذریعے سے اِسی دنیا میں برپا کر دیتے ہیں۔ اُنھیں بتا دیا جاتا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ اپنے میثاق پر قائم رہیں گے تو اِس کی جزا اور اُس سے انحراف کریں گے تو اِس کی سزا اُنھیں دنیا ہی میں مل جائے گی۔ اِس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اُن کا وجود لوگوں کے لیے ایک آیت الٰہی بن جاتا ہے اور وہ خدا کو گویا اُن کے ساتھ زمین پر چلتے پھرتے اور عدالت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اِس کے ساتھ اُنھیں حکم دیا جاتا ہے کہ جس حق کو وہ بچشم سر دیکھ چکے ہیں، اُس کی تبلیغ کریں اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت بے کم و کاست اور پوری قطعیت کے ساتھ لوگوں تک پہنچا دیں۔ یہی گواہی ہے۔ یہ جب قائم ہو جاتی ہے تو دنیا اور آخرت، دونوں میں فیصلۂ الٰہی کی بنیاد بن جاتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اِن نبیوں کو غلبہ عطا فرماتا اور اِن کی دعوت کے منکرین پر اپنا عذاب نازل کر دیتا ہے۔
      یعنی جو اِس گواہی کو قبول کرکے اپنی زندگیاں سنوار لیں، اُن کو جنت کی بشارت دینے والا اور جو رد کر دیں، اُن کو دوزخ کے عذاب سے خبردار کرنے والا۔یہ بات اگرچہ ایک عام کلیہ کی حیثیت سے ارشاد ہوئی ہے، لیکن کلام کے تدریجی ارتقاسے واضح ہو جائے گا کہ روے سخن اُنھی منافقین اور منافقات کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تاکہ لوگو، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ رسول کی مدد اور اس کی توقیر کرو اور اللہ کی تسبیح کرو صبح و شام۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رسول اللہ صلعم کی بعثت کا مقصد اور امت پر آپ کا حق: ’لِتُؤْمِنُوۡا بِاللہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَتُعَزِّرُوۡہُ وَتُوَقِّرُوۡہُ وَتُسَبِّحُوۡہُ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاً‘۔ یہ مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ ہم نے اپنے رسول کو شاہد اور مبشر اور نذیر بنا کر اس مقصد سے بھیجا ہے کہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، رسول کی مدد اور اس کی توقیر کرو اور اللہ کی صبح و شام تسبیح کرو۔ ایمان سے مراد ظاہر ہے کہ سچا اور پکا ایمان ہے اللہ پر بھی اور اس کے رسول پر بھی۔ اس کے بعد صعودی ترتیب سے یعنی نیچے سے اوپر کو چڑھتے ہوئے اس ایمان کے وہ تقاضے بیان ہوئے جو بالکل بدیہی ہیں۔ رسول پر ایمان کا یہ تقاضا بیان فرمایا کہ اللہ کے دین کی اقامت کے لیے جو جدوجہد وہ کر رہے ہیں اس میں ان کے دست و بازو بنو اور ان کی توقیر و تعظیم اللہ کے رسول کی حیثیت سے کرو۔ پھر اللہ پر ایمان کا تقاضا یہ بیان فرمایا کہ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو۔
      مفسرین کی ایک غلط فہمی کا ازالہ: عام طور پر لوگوں نے ’تُعَزِّرُوۡہُ وَتُوَقِّرُوۡہُ‘ کا تعلق بھی اللہ تعالیٰ ہی سے مانا ہے۔ ان کے خیال میں اگر ضمیر مفعول کا مرجع رسول مانا جائے تو اس سے بُعد پیدا ہو جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ خیال غلط فہمی پر مبنی ہے۔ یہاں ترتیب، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، صعودی ہے، اس وجہ سے بُعد نہیں پیدا ہوتا۔ اللہ و رسول پر ایمان کے مطالبہ کے بعد پہلے رسول کا حق اس لیے بیان فرمایا کہ رسول کا ذکر ترتیب میں مؤخر تھا اس وجہ سے اس کے ذکر سے متصل ہی اس کا حق بیان فرما دیا پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا حق بیان فرمایا۔ یہ ترتیب بیان قرآن میں جگہ جگہ اختیار فرمائی گئی ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اگر ’تُعَزِّرُوۡہُ وَتُوَقِّرُوۡہُ‘ کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ مانا جائے تو اس سے کلام میں بعض خرابیاں پیدا ہو جائیں گی جن سے کلام کو پاک ہونا چاہیے۔ مثلاً
      ایک یہ کہ یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کے بیان کے سیاق و سباق میں ہے۔ اس میں غایت بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس مقصد سے شاہد اور مبشر و نذیر بنا کر بھیجا لیکن یہ تاویل اختیار کر لی جائے تو آیت آپ کے حقوق کے ذکر سے خالی رہ جاتی اور سیاق و سباق سے کٹ جاتی ہے۔
      دوسری یہ کہ یہاں روئے سخن اصلاً منافقین کی طرف ہے جن کی اصلی کمزوری یہ تھی کہ وہ، ایمان کے مدعی ہونے کے باوجود، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت، جہاد میں آپ کی نصرت اور آپ کی صحیح تعظیم و توقیر (جس کی وضاحت اگلی سورہ میں آئے گی) سے عاری تھے۔ یہ صورت حال مقتضی تھی کہ ان کو رسول پر ایمان کے یہ بدیہی تقاضے بتائے جائیں۔ اگر ’تُعَزِّرُوۡہُ وَتُوَقِّرُوۡہُ‘ کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ مانا جائے تو آیت اپنے موقع و محل سے بے تعلق ہو جائے گی۔
      تیسری یہ کہ ’تعزیر‘ اور ’توقیر‘ کے الفاظ اللہ تعالیٰ کے لیے موزوں نہیں ہیں، یہ اپنے مواقع استعمال کے لحاظ سے رسول ہی کے لیے موزوں ہیں۔ ’وَتُوَقِّرُوۡہُ‘ کا لفظ تو اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل ہی ناموزوں ہے۔ ’تُعَزِّرُوۡہُ‘ بھی کہیں قرآن میں اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں استعمال ہوا ہے۔ جہاں بھی استعمال ہوا ہے رسولوں ہی کے لیے ہوا ہے۔ ملاحظہ ہو المائدہ: ۱۲ اور الاعراف ۱۵۷۔ الفاظ کی موزونیت پر ہم نے سورۂ محمد کی آیت ۲۵ کے تحت جو کچھ لکھا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ قرآن میں بہت سی آیتیں ایسی ہیں جن میں مختلف افعال استعمال ہوئے ہیں اور صرف فعل سے یہ متعین ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی فعل کا فاعل یا مفعول کون ہے۔ اس چیز کا تعلق زبان کے ذوق سے ہے۔ اگر اس کا پورا لحاظ نہ رکھا جائے تو اس سے آیات کی تاویل میں بڑی غلط فہمیاں پیدا ہونے کا احتمال ہے۔

      جاوید احمد غامدی تاکہ (لوگو)، تم اللہ اور اُس کے رسول پر سچا ایمان لاؤ، رسول کا ساتھ دو، اُس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اللہ اور رسول پر ایمان کے یہ تقاضے صعودی ترتیب سے بیان ہوئے ہیں تاکہ رسول کا حق اُس کے ذکر سے متصل ہی بیان ہو جائے اور اللہ کا ذکر چونکہ مقدم تھا، لہٰذا اُس کا حق اِس ترتیب کی رعایت سے بعد میں بیان کیا جائے۔ ہم پچھلی سورہ کے حواشی میں بیان کر چکے ہیں کہ بعض اوقات مجرد فعل بتا دیتا ہے کہ اُس کا فاعل یا مفعول کون ہے اور اہل ذوق اُس کو سمجھ لیتے ہیں۔ یہاں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ تو جس نے عہد توڑا وہ اس نقض عہد کا وبال اپنے ہی سر لیتا ہے اور جو پوری کرے گا وہ بات جس کا اس نے اللہ سے عہد کیا تو اللہ اس کو ایک اجر عظیم دے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رسول کے ہاتھ پر بیعت کی ذمہ داریاں: یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید تائید ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ تمہارے ہاتھ پر سمع و طاعت کی بیعت کرتے ہیں انھیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ تم سے بیعت نہیں کرتے بلکہ درحقیقت وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔ بیعت کے وقت ان کے ہاتھوں کے اوپر جو ہاتھ ہوتا ہے وہ تمہارا نہیں بلکہ اللہ کا ہوتا ہے۔ اگر وہ یہ بیعت کر کے اس کی ذمہ داریوں سے گریز اختیار کریں گے اور اپنے عمل سے اس عہد کو توڑیں گے جس کو اپنے قول سے انھوں نے باندھا ہے تو یاد رکھیں کہ اس کا وبال انہی کے اوپر آئے گا اس لیے کہ اس معاہدے میں اصل فریق اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس کے ساتھ بدعہدی کرنے والا خود ہی خسارے میں پڑتا ہے۔ اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جو شخص وہ ذمہ داری پوری کرے گا جس کے اٹھانے کا اس نے عہد کیا ہے وہ ہرگز خسارے میں نہیں رہے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس وہ اس کا بہت بڑا اجر پائے گا۔
      عام طور پر لوگوں نے اس آیت کو بیعت رضوان سے متعلق سمجھا ہے حالانکہ اس کو بیعت رضوان سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ بیعت رضوان کا ذکر آگے آیت ۱۸ میں آئے گا۔ یہ سمع و طاعت کی اس عام بیعت کا ذکر ہے جو ہر ایمان لانے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر کرتا تھا۔ یہاں اس کی عظمت و اہمیت اور اس کی ذمہ داریاں منافقین کو غیرت دلانے کے لیے بیان کی گئی ہیں کہ وہ رسول کے ہاتھ پر بیعت تو کر بیٹھے لیکن جب اس کے مطالبات پورے کرنے کا وقت آیا تو منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ ان پر یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ رسول کے ہاتھ پر بیعت درحقیقت اللہ تعالیٰ سے معاہدہ ہے۔ اگر کوئی اس بیعت کی ذمہ داریوں سے گریز اختیار کرتا ہے تو وہ اللہ سے کیے ہوئے معاہدے کو توڑتا ہے اور اس کا انجام دنیا اور آخرت دونوں میں رسوائی ہے۔
      ایک نحوی شبہ کا ازالہ: اس آیت میں ’عَلَیْہُ اللہَ‘ کی ضمیر مجرور پر جو ضمّہ ہے اس کی بنا پر بعض مستشرقین نے قرآن کی نحو پر اعتراض کیا ہے۔ ان بے چاروں کو پتا نہیں ہے کہ نحو کی کتابیں قرآن کے اسلوب و اعراب کو پرکھنے کے لیے کسوٹی نہیں ہیں بلکہ قرآن نحو کی کتابوں کے جانچنے کے لیے کسوٹی ہے۔ قرآن قریش کی ٹکسالی زبان کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہے اور ہر پہلو سے بالکل محفوظ بھی ہے۔ اس وجہ سے اگر اس کی کوئی چیز نحو کے مروجات کے خلاف نظر آئے گی تو اس کی بنا پر قرآن کو متہم نہیں کریں گے بلکہ اس کو اہل نحو کے تتبع کے نقص پر محمول کریں گے۔ سیبویہ فن نحو کا امام ہے۔ میرے استاذ مولانا فراہیؒ بھی اس کو امام مانتے ہیں لیکن اس کے باوجود انھوں نے اس کے متعدد مسائل پر کلام عرب کی روشنی میں تنقید کر کے بتایا ہے کہ معروف اسلوب وہ ہے جو قرآن نے اختیار کیا ہے نہ کہ وہ جو سیبویہ نے قرار دیا ہے۔
      فصیح عربی میں صرف آہنگ و صوت کے تقاضوں کے تحت بھی الفاظ، حروف اور ضمیروں پر ایسے ایسے تصرفات ہوئے ہیں کہ اگر کسی شخص کا علم صرف نحو کی کتابوں ہی تک محدود ہو تو وہ ان کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ یہ ضمیروں ہی کا مسئلہ لیجیے۔ قرآن میں متعدد مثالیں ایسی موجود ہیں کہ ضمیر لفظ کے اندر بالکل مدغم ہو کے رہ گئی ہے اور اس کی وجہ آہنگ و صوت کے تقاضے کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ مثلاً اعراف کی آیت ۱۱۱ میں ہے: ’اَرْجِہٗ وَاَخَاہُ‘ (اس کو اور اس کے بھائی کو ابھی ٹالو) اسی طرح سورۂ نور ’یَخْشَ اللّٰہَ وَیَتَّقْہِ‘ (اللہ سے ڈرے اور اس سے تقویٰ اختیار کرے)۔
      آیت زیربحث میں جس طرح ضمّہ لوگوں کو عجیب معلوم ہوتا ہے بعینہٖ یہی صورت سورۂ کہف آیت ۶۳ میں بھی ہے:

      ’وَمَا اَنْسٰنِیْہُٓ اِلَّا الشَّیْطٰنُ‘
      (اور مجھے اس سے نہیں غافل کیا مگر شیطان نے)

      یہاں مثالوں کا استقصاء مقصود نہیں ہے۔ اس مسئلہ کی مزید تحقیق کے خواہش مندوں کو آخری گروپ کی سورتوں میں بہت سی مثالیں ملیں گی کہ صرف آہنگ و صوت کے تقاضے سے حروف، الفاظ اور ضمیروں کی ہیئت میں ایسی تبدیلیاں ہو گئی ہیں جن کی اہل نحو کوئی توجیہ نہیں کر پاتے۔ یہاں بھی وہی صورت ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (یہ تمھارے ہاتھ پر بیعت کی اہمیت کو سمجھتے نہیں ہیں)۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں، وہ (تم سے نہیں، بلکہ) اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں۔ اُن کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ سو جس نے یہ عہد توڑا، وہ اِس عہدشکنی کا وبال اپنے ہی سر لیتا ہے اور جس نے اُس بات کو پورا کر دیا جس کا عہد اُس نے اللہ سے کیا تھا تو اللہ عنقریب اُس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس عام بیعت کا ذکر ہے جو ہر ایمان لانے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر کرتا تھا۔
      اصل الفاظ ہیں: ’بِمَا عٰھَدَ عَلَیْہُ اللّٰہَ‘۔ اِن میں ’عَلَیْہُ‘ کی ضمیر مجرور پر عام طریقے کے خلاف ضمہ پڑھا گیا ہے۔ یہ تبدیلی محض صوت و آہنگ کے تقاضے سے ہے۔ اِس پر تعجب نہ ہونا چاہیے۔ اِس کی متعدد مثالیں عربی زبان میں موجود ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی جو لوگ اہل بدو میں سے پیچھے چھوڑ دیے گئے وہ اب تم سے عذر کریں گے کہ ہم کو ہمارے مال مویشی اور اہل و عیال کی ذمہ داریوں نے پھنسائے رکھا اس وجہ سے آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا کیجیے۔ یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ ان سے کہو، کون ہے جو تمہارے لیے اللہ سے کچھ اختیار رکھتا ہو اگر وہ تم کو کوئی نقصان یا نفع پہنچانا چاہے؟ بلکہ ان سب باتوں سے باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین کی پردہ دری: اب یہ وہ اصل بات ارشاد ہوئی ہے جس کے لیے اوپر کی تمہید استوار کی گئی ہے۔ فرمایا کہ جب تم اس سفر سے بخیریت گھر پہنچو گے تو بدویوں میں سے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے۔ جھوٹے عذرات لے کر تمہارے پاس آئیں گے کہ مال مویشی کی ذمہ داریوں اور بیوی بچوں کی دیکھ بھال کی مصروفیتوں نے ہمیں آپ کی ہم رکابی کے شرف سے محروم رکھا۔ ہماری مجبوریوں پر نگاہ فرما کر اس کوتاہی کی معافی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے۔ ان لوگوں کی یہ معذرت درخوراعتنا نہیں۔ یہ زبانوں سے وہ بات کہیں گے جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔
      ’قُلْ فَمَنْ یَمْلِکُ لَکُم مِّنَ اللہِ شَیْْئًا إِنْ أَرَادَ بِکُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِکُمْ نَفْعًا‘۔ یعنی ان لوگوں سے پوچھو کہ اگر اپنے مفادات و مصالح کی اتنی اہمیت ہے کہ ان کی خاطر خدا اور رسول کے حقوق نظرانداز کرتے ہو تو بتاؤ کہ خدا اگر تمہیں کوئی ضرر یا نفع پہنچانا چاہے تو اس کے مقابل میں کون آڑے آئے گا!
      ’بَلْ کَانَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیْرًا‘۔ یعنی اس قسم کے لاطائل عذرات کی آڑ میں چھپنے کی کوشش نہ کرو۔ اللہ تمہارے تمام کارناموں سے، جو پس پردہ تم کرتے رہے ہو، اچھی طرح باخبر ہے۔
      لفظ ’مخلف‘ کا مفہوم: یہاں ان منافقین کے لیے لفظ ’مُخَلَّفُوْنَ‘ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے درآنحالیکہ یہ لوگ خود پیچھے رہ جانے والے تھے۔ اس کی وجہ ہم سورۂ براءت میں بسلسلۂ منافقین غزوۂ تبوک واضح کر چکے ہیں کہ جب ان لوگوں نے پیچھے بیٹھ رہنے ہی کو اپنی دانش مندانہ سیاست سمجھا تو اللہ نے بھی ان کو پیچھے پھینک دیا، جیسا کہ فرمایا ہے: ’فَلَمَّا زَاغُوۡا أَزَاغَ اللہُ قُلُوبَہُمْ‘ (الصف ۵)۔ یعنی یہ لوگ اپنی بزدلی کے سبب سے آگے بڑھنے والے نہ بنے۔ اس وجہ سے خدا نے بھی ان کو پیچھے دھکیل دیا۔ یہ لوگ زیادہ تر اطراف مدینہ کے دیہاتوں سے تعلق رکھنے والے تھے اس وجہ سے ان کے لیے لفظ ’اعراب‘ استعمال ہوا ہے جو اہل بدو کے لیے معروف ہے۔
      ’قُلْ فَمَنْ یَمْلِکُ لَکُمۡ مِّنَ اللہِ شَیْْئًا‘۔ میں ’یَمْلِکُ‘ متضمن ہے۔ ’یَمْنَعُ‘ کے معنی پر اور ’مِنْ‘ کا صلہ اس تضمین پر دلیل ہے۔ ترجمہ میں ہم نے لفظ کے اس مضمر مفہوم کو کھول دیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (تم اِس سفر سے واپس گھر پہنچو گے تو) اہل بدو میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے، وہ اب تم سے عذر کریں گے (کہ ہم آپ کے ساتھ نکل نہیں سکے تھے)۔ ہم کو ہمارے مال مواشی اور اہل وعیال کی ذمہ داریوں نے مشغول کیے رکھا۔ (یہ ہماری کوتاہی تھی)، سو آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔ یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو اِن کے دلوں میں نہیں ہے ۔ اِن سے کہنا، (تم نے دنیا کو اہمیت دی اور خدا کا حق نہیں پہچانا، ذرا بتاؤ کہ) پھر کون ہے جو تمھارے لیے اللہ کو روک دینے کا کچھ اختیار رکھتا ہے،اگر اللہ تم کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا تم کو نفع پہنچانا چاہے ؟(نہیں، یہ کوئی عذر نہیں)، بلکہ جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اُس سے با خبر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ لفظ نہایت بلیغ استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ یہ لوگ خود پیچھے رہے، لیکن درحقیقت خدا کی طرف سے پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے۔ اِس لیے کہ اللہ نے پسند نہیں فرمایا کہ اِس طرح کے لوگ خدا کے پیغمبر کی ہم رکابی کا شرف حاصل کریں۔ اِن کے دلوں میں جو کچھ تھا، یہ اللہ کی طرف سے اُس کی سزا تھی اور یہ اِسی کے حق دار تھے۔
      اصل الفاظ ہیں:’فَمَنْ یَّمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا‘۔ اِن میں ’مِنْ‘ کا صلہ دلیل ہے کہ ’یَّمْلِکُ‘ یہاں ’یَمْنَعُ‘ کے مفہوم پر متضمن ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بلکہ تم نے یہ گمان کیا کہ رسول اور ان کے ساتھیوں کو اب کبھی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹنا نصیب نہ ہو گا اور یہ بات تمہارے دلوں میں رچ بس گئی ہے۔ اور تم نے برے برے گمان کیے اور بالآخر ہلاک ہونے والے بنے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین کے دلوں کا اصلی بھید: اوپر والی آیت میں ان کے دلوں کے جس بھید کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ اس کی وضاحت ہے کہ اصل چیز جس نے تم کو اس سفر سے روکا وہ تمہارا یہ گمان تھا کہ اب کے قریش ان مسلمانوں کو کچا ہی کھا جائیں گے اور کبھی ان کو اور ان کے پیغمبر کو اپنے اہل و عیال کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہو گا۔
      ’وَزُیِّنَ ذٰلِکَ فِیْ قُلُوۡبِکُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ‘۔ یعنی یہ گمان چونکہ تمہارا ایک دل پسند گمان تھا اس وجہ سے تم نے اپنے دلوں میں اس کو اچھی طرح آراستہ کیا اور سنت الٰہی کے مطابق یہ تمہارے دلوں میں اچھی طرح کھبا دیا گیا۔ پھر اس کے زیراثر تم نے اسلام کے مستقبل سے متعلق نہایت برے برے گمان کیے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ بس اب چند دنوں کے اندر اندر اس کا قصہ تمام ہوا جاتا ہے۔
      ’وَکُنۡتُمْ قَوْمًا بُوْرًا‘۔ یعنی تم تو اسلام اور مسلمانوں کی تباہی کے منتظر رہے لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے علی الرغم ان کو ’فتح مبین‘ عطا فرمائی البتہ تم لوگ جو اس بات پر نازاں رہے کہ پیغمبر کا ساتھ نہ دے کر تم نے بڑی دانش مندانہ اور کامیاب سیاست اختیار کی، اپنے آپ کو ہلاکت کے کھڈ میں گرانے والے بنے۔
      ’بُوْرٌ‘ جمع ہے ’بَائِرٌ‘ کی۔ اس کے معنی ہلاک ہونے والے کے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (اُسے معلوم ہے کہ تم اِس لیے پیچھے نہیں رہے)، بلکہ تم نے یہ گمان کیا کہ رسول اور (اُس کے ساتھی) اہل ایمان اب کبھی اپنے گھروں کی طرف پلٹ کر نہیں آسکیں گے اور یہ بات تمھارے دلوں میں کھبا دی گئی اورتم نے برے برے گمان کیے اور (اِس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) بالآخر تم لوگ برباد ہوئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُسی قانون کے مطابق ہوا جو ہدایت و ضلالت کے باب میں بیان ہوا ہے کہ جب کوئی شخص برائی کو پسند کرتا ہے تو کچھ مہلت دینے اور تنبیہ کرنے کے بعد وہ برائی اُس کے لیے پسندیدہ تر بنا دی جاتی ہے، یہاں تک کہ بالآخر اُسی کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جو ایمان نہ لایا اللہ اور اس کے رسول پر تو ہم نے ان کافروں کے لیے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ: یہ انھی منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ سنایا ہے کہ جو لوگ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہوئے اللہ و رسول کے حقوق ادا کرنے کے معاملے میں ایسے بزدل اور اسلام کے غلبہ کے بجائے اس کی تباہی کی آرزوئیں اپنے دلوں میں پرورش کر رہے ہیں وہ اللہ اور رسول پر ایمان رکھنے والے نہیں بلکہ کافر ہیں اور یہ کافر لوگ یاد رکھیں کہ ہم نے ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (یاد رکھو)، جو اللہ اور اُس کے رسول پر سچا ایمان نہیں لائے تو اِسی طرح کے منکرین ہیں جن کے لیے ہم نے دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے۔ وہی بخشے گا جس کو چاہے گا اور سزا دے گا جس کو چاہے گا اور اللہ مغفرت فرمانے والا اور رحیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اور یہ لوگ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ خدا کی پکڑ سے کوئی اور بچانے والا نہیں ہو گا۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے۔ کوئی دوسرا اس کی اس بادشاہی میں شریک نہیں ہے۔ وہی جس کو چاہے گا بخشے گا، جس کو چاہے گا سزا دے گا۔
      ’وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیْمًا‘۔ البتہ یہ اطمینان ہر شخص کو رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ وہ لوگوں کر پکڑنا اور سزا دینا نہیں بلکہ ان پر مہربانی کرنا چاہتا ہے۔ اس وجہ سے لوگوں کو چاہیے کہ وہ غلط سہارے ڈھونڈنے کے بجائے اس کی رضا طلبی کی وہ راہ اختیار کریں جو اس نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ سے لوگوں کے لیے کھولی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور (وہاں کوئی کسی کے کام نہ آئے گا، اِس لیے کہ) زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے۔ وہی جس کو چاہے گا، بخشے گا اور جس کو چاہے گا، (اپنے قانون کے مطابق) سزا دے گا۔ (ہاں، جواب بھی پلٹنا چاہیں تو) اللہ مغفرت فرمانے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی جب تم غنیمتیں لینے کے لیے چلو گے تو یہ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ کہیں گے کہ ہمیں بھی اجازت دی جائے کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ چلیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی بات کو بدل دیں۔ کہہ دو، تم ہمارے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے۔ یہی بات تو اللہ نے تم کو پہلے بھی فرمائی تھی! تو وہ کہیں گے کہ بلکہ تم لوگ ہم پر حسد کرتے ہو۔ بلکہ یہی لوگ بہت کم سمجھتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی اس موقع پر تو یہ بزدل لوگ بہانے بنا کر اپنے گھروں میں بیٹھ رہے لیکن آگے جب ایسے مواقع آئیں گے جن میں تم کو بغیر کسی جنگ کے بھرپور مال غنیمت حاصل ہونے کی توقع ہو گی تو یہ بھی بڑے شیرمرد بن کر تمہارے پاس آئیں گے کہ انھیں بھی ساتھ چلنے کی اجازت دی جائے۔ اس طرح وہ چاہیں گے کہ اللہ نے ان کے بارے میں جو فیصلہ فرمایا ہے اس کو بھی بدل دیں اور بغیر کوئی خطرہ مول لیے مال غنیمت بھی حاصل کر لیں۔ فرمایا کہ جب اس طرح کا موقع آئے تو ان سے کہہ دینا کہ تم لوگ ہمارے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے۔ اللہ نے اسی طرح کا حکم تمہیں اس سے پہلے بھی دیا لیکن اس وقت تم اپنے گھروں میں بیٹھ رہے تو اب ہمارے ساتھ نکلنے کے لیے کیوں بے چین ہو!
      ’اِلٰی مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوۡہَا‘ سے خیبر وغیرہ کی ان غنیمتوں کی طرف اشارہ ہے جو واقعۂ حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ ان غنیمتوں کے لیے مسلمانوں کو کوئی خاص جنگ نہیں کرنی پڑی بلکہ دشمن نے مسلمانوں سے مرعوب ہو کر خود ہی میدان خالی کر دیا۔ خیبر کے یہودی بڑے مال دار تھے اس وجہ سے مسلمانوں کو کثیر مقدار میں مال غنیمت ہاتھ آیا۔ ’لِتَأْخُذُوۡہَا‘ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ گویا مسلمان گھروں سے نکلے ہی اس لیے کہ بغیر لڑے بھڑے مال غنیمت باندھ کر واپس آ جائیں۔
      ’یُرِیْدُوْنَ أَن یُبَدِّلُوۡا کَلَامَ اللہِ‘۔ یعنی یہ منافقین اس طرح کے مواقع پر ساتھ دینے کی پیش کش کر کے یہ چاہیں گے کہ اللہ کی اس بات کو بدل دیں جو ان کے بارے میں اس نے فرمائی ہے۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے جو اوپر آیت ۶ میں بدیں الفاظ ارشاد ہوئی ہے:

      ’وَیُعَذِّبَ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکَاتِ الظَّانِّیْنَ بِاللہِ ظَنَّ السَّوْءِ عَلَیْْہِمْ دَائِرَۃُ السَّوْءِ وَغَضِبَ اللہُ عَلَیْْہِمْ وَلَعَنَہُمْ وَأَعَدَّ لَہُمْ جَہَنَّمَ وَسَآءَتْ مَصِیْرًا‘
      (اور تاکہ اللہ عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرکین و مشرکات کو جو اللہ کے باب میں برے گمان رکھنے والے ہیں۔ برائی کی گردش انہی پر ہے! اور ان پر اللہ کا غضب ہوا اور اللہ نے ان پر لعنت کی اور ان کے لیے جہنم اس نے تیار کر رکھی ہے! اور وہ برا ٹھکانا ہے)

      مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ انھیں دین کے لیے کچھ کرنا تو نہ پڑے لیکن دنیا اور آخرت دونوں میں اس کے فوائد ان کو حاصل ہوں لیکن ان کی یہ خواہش پوری ہونے والی نہیں ہے۔ ان کے باب میں اللہ کی بات اس وقت تک نہیں بدل سکتی جب تک وہ اپنی حالت دین کے صحیح تقاضوں کے مطابق بدل نہ لیں۔
      ’قُلْ لَّنۡ تَتَّبِعُوۡنَا کَذٰلِکُمْ قَالَ اللہُ مِنۡ قَبْلُ‘۔ یعنی اگر وہ تمہارے ساتھ نکلنے کی اجازت چاہیں گے تو ان کو اجازت نہ دیجیو بلکہ ان سے صاف صاف کہہ دیجیو کہ تم ہمارے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے۔ اسی طرح کا حکم تو اللہ نے تم کو پہلے دیا تھا لیکن تم نے اس کی تعمیل نہ کی بلکہ دبک کر گھروں میں بیٹھ رہے۔ ہمارے نزدیک یہ اشارہ عمرہ کی اس منادئ عام کی طرف ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کرائی لیکن ان منافقین نے اس کی تعمیل سے، جیسا کہ اوپر تفصیل سے واضح ہوا، گریز اختیار کیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس سے پہلے تم رسول اور مسلمانوں کے ساتھ نکلنے سے گریز اختیار کر چکے ہو تو اب اس کے لیے اتنے کیوں بے قرار ہو؟ کیا اس لیے کہ اب کے تمہیں بغیر کسی خطرے کے لقمۂ تر کی توقع ہے۔
      ایک غلط فہمی: بعض لوگوں نے ’کَذٰلِکُمْ قَالَ اللہُ مِنْ قَبْلُ‘ سے اس قول کو مراد لیا ہے جس کا ذکر سورۂ توبہ کی آیت ۸۲ میں ہے۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہو سکتی۔ سورۂ توبہ میں ان منافقین کا ذکر ہے جنھوں نے غزوۂ تبوک کے موقع پر بزدلی دکھائی تھی۔ یہ غزوہ، حدیبیہ کے واقعہ کے بہت بعد پیش آیا اور یہاں اشارہ کسی ایسے واقعہ کی طرف ہے جو حدیبیہ سے پہلے پیش آیا ہو۔ ’مِنْ قَبْلُ‘ کے الفاظ اس پر دلیل ہیں۔
      ’فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوۡنَنَا ....... الایۃ‘ یعنی اگرچہ یہ لوگ اجازت نہ دینے پر بہت جزبز ہوں گے اور حسد کرنے کا طعنہ دیں گے لیکن ان کے اس طعنہ کی مطلق پروا نہ کی جائے اس لیے کہ یہ نہایت کم فہم لوگ ہیں۔ اپنی کم فہمی کے سبب سے یہ چاہتے ہیں کہ دین کے نام پر فوائد تو سب حاصل کریں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، لیکن قربانی ان کو کوئی نہ دینی پڑے۔ ان پر اب یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ ان کی اس طرح کی طفلانہ آرزوئیں پوری ہونے والی نہیں ہیں۔

       

      جاوید احمد غامدی تم لوگ (آیندہ) جب غنیمتیں لینے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ کہیں گے کہ ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم بھی آپ لوگوں کے ساتھ چلیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کی بات کو بدل دیں۔ اِن سے صاف کہہ دینا کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہی بات تو اللہ نے تم کو پہلے فرمائی تھی، (جب پیغمبر سفر کے لیے نکلے تھے)! اِس کے جواب میں یہ کہیں گے کہ نہیں، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کرتے ہو۔ (ہرگز نہیں)، بلکہ یہی لوگ بہت کم سمجھتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ایسے معرکوں کے لیے جانے لگو گے جن میں بغیر کسی جنگ کے بہت کچھ مال غنیمت حاصل ہونے کی توقع ہو گی۔ آیت میں اِس کے لیے ’لِتَاْخُذُوْھَا‘ کا لفظ ہے۔ استاذ امام کے الفاظ میں، اِس سے یہ بات نکلتی ہے کہ گویا مسلمان گھروں سے نکلے ہی اِس لیے کہ بغیر لڑے بھڑے مال غنیمت باندھ کر واپس آ جائیں۔
      یعنی وہ بات جو سورہ کے شروع میں فرمائی ہے کہ اللہ اِن منافقین اور منافقات کو، جو اللہ کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیاں کرتے رہے، اب اِن کے جرائم کی سزا دینا چاہتا ہے۔
      یعنی تم کو ساتھ چلنے کی دعوت دی تھی، جس کا اب تقاضا کر رہے ہو۔
      یعنی عمرے کے سفر کے لیے، جس کے نتیجے میں حدیبیہ کا معاہدہ ہوا۔

    • امین احسن اصلاحی اہل بدو میں سے ان پیچھے چھوڑے ہوئے لوگوں سے کہہ دو کہ عنقریب تم لوگ ایک طاقت ور حریف سے لڑنے کے لیے بلائے جاؤ گے، تم کو ان سے جنگ جاری رکھنی ہو گی یا وہ اسلام لائیں گے۔ تو اگر تم نے اس حکم کی اطاعت کی تو اللہ تم کو ایک اچھا اجر دے گا اور اگر تم نے منہ موڑا جیسا کہ تم نے پہلے منہ موڑا تو وہ تم کو ایک دردناک عذاب دے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین کے لیے امتحان ایک کسوٹی: یہ ان منافقین کے سامنے امتحان کے لیے ایک کسوٹی رکھ دی گئی ہے کہ ان کو آگاہ کر دیا جائے کہ اگر تم فی الواقع اللہ و رسول کے وفادار ہو تو اس کا ثبوت تم اس طرح نہیں پہنچا سکتے کہ بغیر کوئی خطرہ مول لیے مال غنیمت حاصل کرنے کی توقع کرو بلکہ آگے وقت آ رہا ہے جب تمہیں ایک طاقت ور گروہ سے جنگ کی دعوت دی جائے گی جس سے تمہیں اس عزم کے ساتھ جنگ کرنی پڑے گی کہ یا تو وہ اسلام قبول کرے یا تلوار۔ اگر تم نے یہ دعوت قبول کی اور اس دشمن سے نبرد آزما ہونے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ تمہیں نہایت اچھا صلہ دے گا اور اگر تم اس وقت بھی بزدل ثابت ہوئے، جیسا کہ اس سے پہلے ثابت ہو چکے ہو، تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہایت دردناک عذاب دے گا۔
      بیت اللہ کی آزادی کے لیے قریش سے فیصلہ کن جنگ ناگزیر تھی: ’قَوْمٍ أُوْلِیْ بَأْسٍ شَدِیْدٍ‘ سے مراد قریش ہیں۔ عرب میں انہی کی قوت و صولت ایسی تھی جس کی تعبیر کے لیے یہ الفاظ موزوں ہو سکتے ہیں۔ ان سے اگرچہ جنگ بندی کا معاہدہ ہو چکا تھا لیکن بیت اللہ کو ان کے تسلط سے آزاد کرانے کے لیے ایک فیصلہ کن جنگ ناگزیر تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد بعثت کی تکمیل اس کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔
      مشرکین عرب کے لیے دو ہی راہیں تھیں۔ اسلام یا تلوار: ’تُقَاتِلُوۡنَہُمْ أَوْ یُسْلِمُوۡنَ‘۔ قریش کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت چونکہ براہ راست ہوئی تھی، اللہ تعالیٰ نے انہی کے اندر سے ایک رسول مبعوث کر کے، انہی کی زبان میں، ان پر حجت تمام کر دی تھی اس وجہ سے ان کے لیے دو ہی راہیں باقی رہ گئی تھیں یا تو اسلام قبول کریں یا تلوار۔ دوسری قوموں کے لوگ ذمی اور معاہد بنائے جا سکتے تھے لیکن مشرکین بنی اسماعیل کے لیے اس قسم کی کوئی گنجائش نہیں تھی یہاں تک کہ وہ غلام بھی نہیں بنائے جا سکتے تھے۔ بنی اسماعیل کے معاملے کی اس خاص نوعیت پر سورۂ براءت میں ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔
      ’وَإِنْ تَتَوَلَّوْا کَمَا تَوَلَّیْْتُمۡ مِّنۡ قَبْلُ‘۔ یعنی اگر اس وقت بھی تم نے وہی بزدلی دکھائی جو اس سے پہلے عمرہ کے موقع پر دکھا چکے ہو تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بھی اسی طرح کا دردناک عذاب دے گا جس طرح کا عذاب اس نے اسلام کے کھلے ہوئے معاندین کے لیے مقدر کر رکھا ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ جو اہل بدو میں سے پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے، اِن سے کہنا کہ عنقریب تمھیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لیے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں۔ تم اُن سے لڑو گے یا وہ اسلام قبول کر لیں گے۔ پھر اگر تم نے حکم کی اطاعت کی تو اللہ تمھیں اچھا اجر دے گا اور اگر (کہیں اُس وقت بھی) سرتابی کی،جیسے پہلے سرتابی کر چکے ہو تو اللہ تم کو دردناک عذاب سے دوچار کر دے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اشارہ قریش کی طرف ہے۔ عرب میں اُنھی کی قوت و صولت ایسی تھی جس کے لیے یہ الفاظ موزوں ہو سکتے ہیں۔ پھر اسلام یا تلوار کا معاملہ بھی اُنھی کے ساتھ تھا،اِس لیے کہ خدا کے رسول کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اُس کی قوم کے لیے یہی دو راہیں باقی رہ جاتی ہیں۔ یہ ایک سنت الٰہی ہے جس کی وضاحت ہم پیچھے کئی جگہ کر چکے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی نہ نابینا پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ مریض پر کوئی گناہ ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا رہے گا اللہ اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور جو روگردانی کرے گا تو اللہ اس کو ایک دردناک عذاب دے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      معذورین کا بیان: یہ ان معذورین کا بیان ہے جن کی جہاد سے غیر حاضری نفاق پر محمول نہیں کی جائے گی۔ فرمایا کہ اندھے، لنگڑے اور مریض پر کوئی الزام نہیں ہے اگر وہ جہاد میں حصہ نہ لے سکیں، بشرطیکہ وہ صدق دل سے اللہ و رسول کی اطاعت کرتے رہیں۔ اگر وہ اللہ و رسول کی اطاعت کرتے رہیں گے تو اپنی اس مجبورانہ کوتاہی خدمت کے سبب سے جنت سے محروم نہیں کیے جائیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو بہشت میں داخل کرے گا اور اگر وہ اللہ و رسول سے اعراض کی روش اختیار کریں گے تو وہ بھی اسی دردناک عذاب سے دوچار ہوں گے جو دوسرے کفار و معاندین کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔
      ان معذورین کا بیان سورۂ توبہ کی آیات ۹۱-۹۳ میں بھی ہوا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ وہاں اس کے بعض وہ پہلو واضح ہو گئے ہیں جو یہاں واضح نہیں کیے گئے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (اِس سے صرف معذورین مستثنیٰ ہوں گے، اِس لیے کہ) اندھے پر کوئی گناہ نہیں، (اگر وہ جہاد کے لیے نہ نکلے۔ اِسی طرح)لنگڑے پر بھی گناہ نہیں اور نہ مریض پر کوئی گناہ ہے، (اگر وہ اطاعت پر قائم ہوں)۔اور جو اللہ او راُس کے رسول کی اطاعت پر قائم رہے گا، اللہ اُس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جو روگردانی کرے گا، اُسے وہ دردناک عذاب کی سزا دے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب کہ وہ تم سے بیعت کر رہے تھے درخت کے نیچے تو اللہ نے ان کے دلوں کا حال جان لیا تو اتاری ان پر طمانیت اور ان کو ایک عنقریب ظاہر ہونے والی فتح سے نوازا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جاں بازوں کا صلہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر چکنے کے بعد اس بیعت کے حقوق سے گریز اختیار کرنے والوں کے ذکر کے بعد یہ ان لوگوں کا بیان ہے جنھوں نے نہایت نازک حالات میں آپ کے ہاتھ پر حدیبیہ میں جہاد کی بیعت کی اور اس بیعت کا پورا پورا حق ادا کیا۔ ان بیعت کرنے والوں کے ذکر کا آغاز ہی ’لَقَدْ رَضِیَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ‘ کے الفاظ سے فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان جانبازوں کی اس بیعت ہی نے اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں ایسی قدر کی جگہ پائی کہ ان کے لیے ابدی خوشنودی کا اعلان ہو گیا۔ چنانچہ اسلام کی تاریخ میں یہ بیعت، بیعت رضوان کے نام سے موسوم ہے۔ یہ بیعت جن حالات میں آپ نے کی اور مسلمانوں نے جس جوش و خروش کے ساتھ، عین دشمن کے مرکز میں، یہ بیعت کی، اس کی طرف ہم سورہ کی تمہید میں اشارہ کر چکے ہیں۔ ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔
      ’اِذْ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ‘۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیعت کیکر کے ایک درخت کے نیچے ہوئی تھی۔ ’الشَّجَرَۃِ‘ سے اشارہ کیکر کے اسی درخت کی طرف ہے۔ اس اشارے سے مقصود غربت و مسافرت کی اس حالت کو سامنے لانا ہے جس میں اسلام کی تاریخ کا یہ عظیم واقعہ پیش آیا۔
      اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینت کا نزول: ’فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوبِہِمْ فَأَنزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْْہِمْ‘۔ اس بیعت میں شرکت کرنے والے مسلمانوں کی تعداد چودہ پندرہ سو سے زیادہ نہیں تھی۔ عمرہ کی پابندیوں کے سبب سے وہ نہتے بھی تھے۔ صرف حمیت دینی کے تقاضے سے، اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بھروسے پر، قریش کی زبردست طاقت سے ٹکر لینے کے لیے وہ کمربستہ ہو گئے۔ ایسے حالات میں ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ و انابت کی جو حالت طاری رہی ہو گی اس کا اندازہ اللہ تعالیٰ کے سوا کون کر سکتا ہے؟ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے ان کے دلوں کا حال جان لیا اور ان کی دل داری کے لیے خاص اپنے پاس سے ان پر سکینت و طمانیت نازل فرمائی۔ یہ بات اس سنت الٰہی کے مطابق ہوئی جس کا ذکر اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ جب اللہ کے بندے اس کی راہ میں جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو ظاہری حالات خواہ کتنے ہی نامساعد ہوں لیکن رب کریم ان کی حوصلہ افزائی فرماتا ہے اور یہی حوصلہ افزائی وہ اصل قوت ہے جس کو کوئی طاقت ور سے طاقت ور دشمن بھی شکست نہیں دے سکتا۔
      حدیبیہ کے بعد کی فتوحات کی طرف اشارہ: ’وَأَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا ۵ وَمَغَانِمَ کَثِیْرَۃً یَأْخُذُوۡنَہَا‘۔ یہ اشارہ فتح خیبر اور ان غنائم کی طرف ہے جو حدیبیہ سے واپسی کے بعد معاً مسلمانوں کو حاصل ہوئیں اور جن سے مسلمانوں کے دلوں کے اندر یہ اعتماد راسخ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے فتح و نصرت کے جو وعدے فرمائے ہیں وہ پورے ہوں گے اور حدیبیہ کا معاہدہ ان کی شکست نہیں بلکہ فتح مبین ہے اور یہ فتح مبین ان شاء اللہ فتح مکہ کا دیباچہ ثابت ہو گی۔

      جاوید احمد غامدی (تمھیں خوش خبری ہو کہ) اللہ ایمان والوں سے راضی ہو گیا، جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے،اُس وقت اللہ نے جان لیا جو کچھ اُن کے دلوں میں تھا تو اُس نے اُن پر طمانیت اتار دی اور اُن کو ایسی فتح عطا فرما دی جو عنقریب ظاہر ہونے والی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس بیعت کا ذکر ہے جو حدیبیہ کے مقام پر صحابۂ کرام سے اُس وقت لی گئی تھی، جب یہ افواہ پھیل گئی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کی حیثیت سے اُن کے پاس مذاکرات کے لیے گئے تھے۔ اِس میں درخت کے ذکر سے قرآن نے غربت و مسافرت کی اُس حالت کی طرف اشارہ کرنا چاہا ہے جس میں اسلام کی تاریخ کا یہ عظیم واقعہ پیش آیا۔ اِسے بیعت رضوان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اِس کو یہ نام اِسی آیت میں خدا کی خوشنودی کے اعلان سے ملا ہے۔ صحابۂ کرام نے یہ بیعت اُس وقت کی، جب اُنھیں معلوم تھا کہ اُن میں سے کسی کے پاس ایک تلوار کے سوا کوئی اسلحہ نہیں ہے، وہ جنگی لباس بھی ساتھ نہیں لائے، بلکہ احرام کی چادریں باندھے ہوئے ہیں، اُن کا جنگی مستقر بھی میلوں دور ہے اور دشمن کا مستقر، جہاں سے وہ ہر قسم کی مدد لا سکتا ہے، چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اِس طرح کے خطرناک حالات میں یہ بیعت وہی لوگ کر سکتے تھے جو انتہائی صادق و مخلص اور خدا و رسول کی وفاداری میں درجۂ کمال پر فائز ہوں۔
      یہ اُس توجہ اور انابت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بھروسے پر بالکل بے سروسامانی کی حالت میں یہ بیعت کرتے وقت اُن کے دلوں میں پیدا ہوئی ہو گی۔
      یعنی اپنی خاص عنایت سے ایسا اطمینان اُن کے دلوں میں پیدا کر دیا کہ وہ پوری قوت کے ساتھ اپنے فیصلے پر جمے رہے۔یہ وہ سب سے بڑی نصرت ہے جو سنت الٰہی کے مطابق اُن لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو خدا کے حکم پر اُس کی راہ میں جہاد کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور بہت سی غنیمتوں سے بھی جن کو وہ حاصل کریں گے اور اللہ غالب و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حدیبیہ کے بعد کی فتوحات کی طرف اشارہ: ’وَأَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا ۵ وَمَغَانِمَ کَثِیْرَۃً یَأْخُذُوۡنَہَا‘۔ یہ اشارہ فتح خیبر اور ان غنائم کی طرف ہے جو حدیبیہ سے واپسی کے بعد معاً مسلمانوں کو حاصل ہوئیں اور جن سے مسلمانوں کے دلوں کے اندر یہ اعتماد راسخ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے فتح و نصرت کے جو وعدے فرمائے ہیں وہ پورے ہوں گے اور حدیبیہ کا معاہدہ ان کی شکست نہیں بلکہ فتح مبین ہے اور یہ فتح مبین ان شاء اللہ فتح مکہ کا دیباچہ ثابت ہو گی۔
      ’وَکَانَ اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ان صفات کا حوالہ دیا ہے جو اس بات کی ضمانت ہیں کہ اس کے تمام وعدے ضرور پورے ہوں گے۔ ظاہری حالات خواہ کتنے ہی نامساعد ہوں لیکن اس کی قدرت و حکمت ہر چیز پر غالب ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور بہت سی غنیمتیں بھی، جن کو وہ حاصل کریں گے۔ اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُن فتوحات اور غنائم کی طرف اشارہ ہے جو حدیبیہ سے واپسی کے بعد معاً مسلمانوں کو حاصل ہو ئے۔اِن میں سب سے نمایاں فتح خیبر تھی جس سے یہ اعتقاد اُن کے دلوں میں راسخ ہو گیا کہ اللہ کے دوسرے وعدے بھی لازماً پورے ہوں گے اور حدیبیہ کا جو معاہدہ وہ کر کے آئے ہیں، وہ بھی درحقیقت اُن کی شکست نہیں، بلکہ اُن کے لیے فتح مبین ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جن کو تم پاؤ گے۔ پس یہ اس نے تم کو فوری طور پر دے دی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے کہ یہ موجب طمانیت اور مسلمانوں کے لیے نشانی ہو اور تمہیں سیدھی راہ کی ہدایت بخشے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اوپر والی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمائی گئی تھی، یہ بات مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمائی گئی کہ اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کو تم مستقبل قریب میں حاصل کرو گے۔ ان وعدوں کی تصدیق کے لیے اللہ نے تمہیں یہ نقد نقد غنیمت بخش دی تاکہ تمہارے لیے یہ حوصلہ افزائی کا ذریعہ اور اسلام کے غلبہ کی ایک نشانی ہو۔
      ’فَعَجَّلَ لَکُمْ ہٰذِہٖ‘ سے مفسرین نے خیبر کی غنیمت مراد لی ہے۔ یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ خیبر کی فتح کا واقعہ حدیبیہ سے واپسی کے معاً بعد ہوا ہے۔
      ’وَکَفَّ أَیْْدِیَ النَّاسِ عَنۡکُمْ‘۔ ’النَّاس‘ سے مراد قریش ہیں۔ معاہدۂ حدیبیہ میں دونوں فریق، مسلمان اور قریش یہ پابندی قبول کر چکے تھے کہ دس سال تک ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگی اقدام نہیں کریں گے۔ اس سے مسلمانوں کو یہ فائدہ پہنچا کہ انھیں خیبر کے یہودیوں کے خلاف اقدام کے لیے ایک اچھا موقع مل گیا اور وہ یہ خیال کر کے کہ اب ان کو قریش کی پشت پناہی نہیں حاصل ہو سکے گی بڑی جلدی حوصلہ ہار بیٹھے۔ اس طرح معاہدۂ حدیبیہ نے مسلمانوں کے لیے ایک قریبی فتح کی راہ کھول دی اور یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ معاہدہ مسلمانوں کی شکست نہیں بلکہ درحقیقت ایک فتح عظیم اور آئندہ کی فتوحات کا دیباچہ ہے۔
      ’وَلِتَکُوۡنَ آیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ‘۔ یہاں معطوف علیہ عربی کے معروف قاعدے کے مطابق محذوف ہے۔ یعنی اللہ نے خیبر کی یہ نقد نقد غنیمت مسلمانوں کو اس لیے عطا فرمائی کہ یہ ان کے لیے معاہدۂ حدیبیہ کے فتح مبین ہونے کی بھی ایک دلیل ہو اور مستقبل میں اسلام کے غلبہ و تمکن کی بھی ایک نشانی کا کام دے۔
      فتح مکہ کی بشارت: ’وَیَہْدِیَکُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا‘۔ یہ ٹکڑا آیت ۲ کے تحت بھی گزر چکا ہے وہاں ہم اس کی وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اب وہ وقت قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تکمیل دین کی نعمت سے سرفراز فرمائے گا اور اپنے بندوں کے لیے ہدایت کی وہ صراط مستقیم پھر کھول دے گا جو اعدائے حق نے بند کر رکھی تھی۔ اس صراط مستقیم کے لیے اصلی نشان راہ کی حیثیت چونکہ خانہ کعبہ کو حاصل تھی اس وجہ سے اس میں کفار کے تسلط سے اس کے آزاد ہونے کی بشارت بھی مضمر ہے۔

      جاوید احمد غامدی (ایمان والو)، اللہ نے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ تم سے کیا ہے جو تم حاصل کرو گے۔ سو یہ (پہلی فتح کے) غنائم تو اُس نے فوری طور پر تمھیں عطا کر دیے ہیں اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے ہیں کہ یہ موجب طمانیت ہو اور ایمان والوں کے لیے (خدا کی نصرت کی) ایک نشانی بن جائے اور وہ تم کو سیدھی راہ کی ہدایت بخشے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی فیصلہ کر دیا ہے کہ اِبھی تم حملہ کرو گے اور اِبھی اِنھیں حاصل کر لو گے۔ یہ اشارہ غالباً خیبر کی طرف ہے، اِس لیے کہ روایتوں کے مطابق حدیبیہ کے فوراً بعد اِسی کے غنائم مسلمانوں کو حاصل ہوئے تھے۔
      یعنی قریش کے ہاتھ، جو معاہدۂ حدیبیہ کی رو سے پابند ہو چکے تھے کہ دس سال تک مسلمانوں کے خلاف کوئی جنگی اقدام نہیں کریں گے۔ چنانچہ مسلمانوں کو اچھا موقع مل گیا کہ حدیبیہ کے فوراً بعد وہ اُن یہودیوں سے نمٹ لیں جو خیبر میں اُن کے خلاف مورچے بنائے بیٹھے تھے۔
      یہ جملہ معللہ کا معطوف علیہ ہے جو عربیت کے اسلوب پر اصل میں حذف کر دیا ہے۔
      یعنی ٹھیک اُس طریقے پر لے آئے جس کی روایت ابراہیم علیہ السلام نے اِس سرزمین میں قائم کی تھی اور جسے اب صدیوں سے فراموش کر دیا گیا ہے۔

    Join our Mailing List