Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 38 آیات ) Muhammad Muhammad
Go
  • محمد (Muhammad)

    38 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور گروپ کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت

    پچھلی سورہ ۔۔۔ سورۂ احقاف ۔۔۔ پر اس گروپ کی مکی سورتیں تمام ہوئیں۔ اب آگے تین سورتیں مدنی ہیں، سورۂ احقاف کے بعد یہ سورہ اس طرح بلا تمہید شروع ہو گئی ہے گویا احقاف کی آخری آیت میں کفار کے لیے جو وعید ہے اس میں اس کا عملی ظہور ہے۔ پچھلی سورتوں میں آپ نے دیکھا کہ یہ حقیقت اچھی طرح واضح کر دی گئی ہے کہ قریش اور ان کے حامی اہل کتاب جس باطل کی حمایت میں لڑ رہے ہیں نہ آفاق و انفس اور عقل و فطرت کے اندر اس کی کوئی بنیاد ہے نہ انبیاء کی تاریخ اور آسمانی صحیفوں میں اس کی کوئی شہادت ہے۔ یہ گھورے پر اگا ہوا ایک درخت ہے جس نے محض اس وجہ سے جگہ گھیر رکھی ہے کہ اس کو اکھاڑنے والا ہاتھ موجود نہیں ہے۔ اب اس سورہ اور اس کے بعد کی دونوں سورتوں میں یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اس کو اکھاڑ پھینکنے والے ہاتھ اللہ نے پیدا کر دیے ہیں اور تقدیر کا یہ اٹل فیصلہ صادر ہو چکا ہے کہ کفار کی وہ تمام کوششیں رائگاں ہو کے رہیں گی جو انھوں نے خلق کو اللہ کے راستہ سے روکنے کے لیے صرف کی ہیں۔ ساتھ ہی اہل ایمان کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ ان کی مساعی اس دنیا میں بھی بارآور ہو گی اور آخرت میں بھی وہی سرخرو ہوں گے بشرطیکہ وہ اپنے فرائض پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ ادا کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ اسی ضمن میں منافقوں کو دھمکی دی گئی ہے جو مدعی تو ایمان کے تھے لیکن ان کی ہمدردیاں کفار اور اہل کتاب کے ساتھ تھیں۔ ان کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ اگر انھوں نے اس نفاق کو چھوڑ کر یکسوئی کے ساتھ اللہ اور رسول کا ساتھ نہ دیا تو ان کا بھی وہی حشر ہونا ہے جو کفار و مشرکین کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔

  • محمد (Muhammad)

    38 آیات | مدنی

    محمد ۔ الفتح

    ۴۷ ۔ ۴۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے نتیجے میں جو لوگ آپ پر ایمان لے آئے تھے، اُن کے علم و عمل کا تزکیہ اور اُن کی جماعت کی تطہیر ہے۔ اِس کے ساتھ اُنھیں آخرت میں جنت اور دنیا میں فتح و نصرت کی بشارت بھی نہایت واضح الفاظ میں دی گئی ہے جس کا لازمی نتیجہ منکرین اور مکذبین کی ہزیمت اور اُن کے لیے جہنم کی وعید ہے۔
    اِن سورتوں میں خطاب اصلاً اہل ایمان سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینہ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب منکرین حق کے خلاف فیصلہ کن اقدام میں کچھ زیادہ وقت نہیں رہ گیا تھا۔


  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا، اللہ نے ان کے تمام اعمال رائگاں کر دیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کفار قریش کو وعید: سورۂ احقاف کفار کے لیے جس تہدید و وعید پر ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے یہ سورہ بلا کسی تمہید کے، اس طرح شروع ہو گئی ہے گویا اسی تہدید و وعید کا یہ عملی ظہور ہے۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روکا اللہ نے ان کی تمام کوششیں رائگاں کر دیں۔ یہ اشارہ ظاہر ہے کہ مشرکین مکہ کی طرف ہے۔ اس کی تفصیل سورۂ فتح کی آیت ۲۵ کے تحت آئے گی۔ ’اعمال‘ سے مراد ان کی وہ سرگرمیاں ہیں جو انھوں نے اللہ کے بندوں کو ایمان اور عمل صالح کی راہ سے روکنے کے لیے صرف کیں۔ لفظ ’اضلال‘ یہاں اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں سورۂ فیل میں لفظ ’تضلیل‘ استعمال ہوا ہے۔ وہاں فرمایا ہے:

      ’أَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَہُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ‘ (الفیل: ۲)
      (کیا ان کی ساری چال اللہ نے نابود نہ کر دی؟)

      یہ مضمون اسی سورہ کی آیات ۴، ۳۲ اور ۳۳ میں بھی آئے گا۔
      یہاں یہ امر خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ یہ وعید اگرچہ ہے تو مستقبل سے متعلق اس لیے کہ اس سورہ کے نزول کے وقت قریش ابھی مکہ پر مسلط تھے لیکن اس کا بیان ماضی کے صیغہ سے ہوا ہے اس کی وجہ وہی ہے جس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ جو بات اللہ تعالیٰ کے ہاں قطعی طور پر طے ہو گئی اور جس کا ظہور لازمی ہے وہ گویا واقع ہو چکی اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو کوئی بدلنے پر قادر نہیں ہے۔ اس قطعیت کو ظاہر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی وعیدیں قرآن میں ماضی کے صیغوں سے بھی بیان ہوئی ہیں۔ یہ اسلوب ہر زبان میں معروف ہے اور اس کے فوائد بالکل واضح ہیں۔

       

      جاوید احمد غامدی جن لوگوں نے انکار کیا اور اللہ کے راستے سے روکا، اُن کے اعمال اللہ نے رایگاں کر دیے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      سورۂ احقاف (۴۶) منکرین حق کے لیے جس تہدید و وعید پر ختم ہوئی ہے، یہ سورہ بغیر کسی تمہید کے اُسی مضمون سے شروع ہو گئی ہے۔ اعمال کے رایگاں کرنے کا جو ذکر یہاں ہوا ہے، اُس سے مراد اُن کی کوششوں کا رایگاں کرنا ہے جو وہ لوگوں کو خدا کے راستے سے روکنے کے لیے کر رہے تھے۔ یہ مستقبل کی بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی قطعیت کو ظاہر کرنے کے لیے ماضی کے صیغے میں بیان کی گئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اچھے عمل کیے اور ایمان لائے اس چیز پر جو محمد پر نازل کی گئی۔ اور وہی حق ہے ان کے رب کی جانب سے۔ اللہ نے ان سے ان کی برائیاں دور کر دیں اور ان کا حال سنوار دیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل ایمان کے لیے بشارت: اوپر کی آیت میں کفار کے لیے جس درجے کی تہدید و وعید ہے اس آیت میں، اسی اسلوب بیان میں، اہل ایمان کے لیے، دنیا اور آخرت دونوں میں، فیروز مندی کی بشارت ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح بھی کیے، ان کے گناہ اللہ تعالیٰ نے دور فرما دیے اور ان کے تمام احوال بالکل درست کر دیے۔
      جس طرح کفار کے لیے تہدید قطعیت کے اظہار کے لیے ماضی کے اسلوب میں بیان ہوئی ہے اسی طرح اہل ایمان کے لیے بشارت بھی ماضی کے اسلوب میں بیان ہوئی ہے۔
      دین حق وہی ہے جو رسول اللہ صلعم پر نازل ہوا: اس آیت میں ’وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَہُوَ الْحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمْ‘ کے الفاظ خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کے ہیں۔ صرف یہ نہیں فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے ان کے ساتھ اللہ کا یہ معاملہ ہو گا بلکہ اس کے ساتھ یہ تصریح بھی ہے کہ اس چیز پر ایمان لائے جو محمدؐ پر اتاری گئی ہے، پھر مزید تصریح یہ ہے کہ ’اب خدا کی طرف سے حق یہی ہے‘ اس تصریح کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ اس دور میں ایک گروہ ان لوگوں کا بھی پیدا ہو گیا تھا جو کفر اور اسلام دونوں کے درمیان سمجھوتے کی باتیں کرنے لگا تھا۔ اس کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ مسلمانوں کا اپنی انفرادیت پر اصرار ٹھیک نہیں ہے بلکہ کچھ گنجائش دوسروں کے لیے بھی تسلیم کرنی چاہیے۔ اہل کتاب کے اندر بھی ایک گروہ ان لوگوں کا تھا جو کہتا تھا کہ مومن تو ہم بھی ہیں، اس سے کیا فرق پیدا ہوا کہ ہم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان نہیں لائے۔ اس قسم کے باطل رجحانات کی بیخ کنی قرآن نے پچھلی سورتوں میں بھی کی ہے۔ یہاں بھی مذکورہ بالا تصریح نے اسی رجحان پر ضرب لگائی ہے کہ اب ایمان و ہدایت کا واحد راستہ وہی ہے جس کی دعوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دے رہے ہیں، اس سے ہٹ کر کوئی راہ نہیں ہے۔
      ’وَأَصْلَحَ بَالَہُمْ‘ لفظ ’بال‘ ایک جامع لفظ ہے۔ یہ ظاہر و باطن دونوں قسم کے احوال پر حاوی ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن اور دنیا و آخرت دونوں کے تمام احوال درست کر دے گا۔

      جاوید احمد غامدی اور جو ایمان لائے اور اُنھوں نے اچھے عمل کیے اور اُس چیز کو مان لیا جو محمد پر نازل کی گئی ہے ۔۔۔اور اُن کے پروردگار کی طرف سے وہی حق ہے ۔۔۔ اُن کی برائیاں اللہ نے اُن سے دور کر دیں اور اُن کا حال درست کر دیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُن لوگوں کے پروپیگنڈے سے متاثرنہیں ہوئے جو کفر و اسلام میں سمجھوتے کی باتیں کر رہے تھے کہ کچھ گنجایش اُن کے لیے بھی تسلیم کر لی جائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان کے لیے اصرار نہ کیا جائے۔ اِس طرح کے لوگوں کا معاملہ پچھلی سورتوں میں بھی زیر بحث آچکا ہے۔ آگے قرآن ہی کے حق ہونے کی تصریح بھی اِسی لیے کی گئی ہے۔
      یہ ایک جامع تعبیر ہے اور ظاہر و باطن، دونوں قسم کے احوال کا احاطہ کرتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ اس وجہ سے ہوا کہ جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے باطل کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انھوں نے اپنے رب کی طرف سے آئے ہوئے حق کی پیروی کی۔ اس طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کر رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قوت صرف حق کے اندر ہے: یہ وجہ بتائی ہے اس بات کی کہ کیوں کفار کی تمام مساعی رائگاں ہوں گی اور کیوں اہل ایمان اپنی کوششوں میں سرخ رو اور فائز المرام ہوں گے۔ فرمایا کہ ایسا اس وجہ سے ہو گا کہ کفار نے شیطان کے سکھائے ہوئے باطل کی پیروی کی ہے اور اہل ایمان نے اس حق کی پیروی کی ہے جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ باطل کے لیے ان کی عقل اور اس کی فطرت کے اندر کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کی مثال خود رَو جھاڑی کی ہے جو کسان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر اس کی زمین میں اگ پڑتی ہے۔ اگر وہ اکھاڑی نہ جائے تو زمین میں جڑ پکڑ لیتی ہے اور اگر اکھاڑ دی جائے تو وہ بالکل بے ثبات ہوتی ہے۔ چنانچہ اب جب کہ اہل حق اس باطل سے نبرد آزمائی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو اس کا مٹ جانا یقینی ہے:

      ’جَآءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا‘ (بنی اسرائیل: ۸۱)
      (حق آ گیا اور باطل نابود ہوا، بے شک باطل نابود ہی ہونے والی چیز ہے)۔

      اس کے برعکس اہل ایمان نے اس حق کی پیروی کی ہے جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ حق کی فطرت میں ثبات و استحکام ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کا خالق حق ہے اور اس نے یہ دنیا ’بِالْحَق‘ پیدا کی ہے۔ اس کا اصلی مزاج باطل کی پرورش نہیں بلکہ حق کی پرورش ہے۔ اب جب کہ حق آ گیا ہے تو اس باطل کو لازماً ٹھکرا دے گی جو اکاس بیل کی طرح اس پر مسلط ہو گیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصلی زور و قوت اسباب و وسائل کے اندر نہیں بلکہ حق کے اندر ہے۔ اگر کشمکش باطل اور باطل کے درمیان ہی برپا ہو تب تو فیصلہ کی میزان اسباب و وسائل کے ہاتھ ہی میں ہوتی ہے لیکن کشمکش اگر حق اور باطل کے درمیان ہو تو اصلی فیصلہ کن اہمیت حق کو حاصل ہو گی، اسباب و وسائل کی حیثیت ثانوی ہو جائے گی۔
      ’کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللہُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَہُمْ‘۔ مومنین اور کفار کا یہ انجام جو بیان ہوا ہے اس کی نوعیت چونکہ اس مرحلہ میں ابھی ایک پیشین گوئی ہی کی تھی، اس نے واقعہ کی شکل نہیں اختیار کی تھی، اس وجہ سے اس کو مثال بیان کرنے سے تعبیر فرمایا۔ ’لِلنَّاسِ‘ سے مراد یہی اہل ایمان اور کفار ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں کے انجام کی یہ تمثیل بیان فرما دی ہے اور اس کی حقیقت عنقریب سب کے سامنے آ کے رہے گی۔

       

      جاوید احمد غامدی یہ اِس لیے کہ انکار کرنے والوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان والوں نے اُس حق کی پیروی کی ہے جو اُن کے پروردگار کی طرف سے آیا ہے۔ اِس طرح اللہ اُن کی مثالیں لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِس لیے فرمایا کہ پیغمبر کی طرف سے اتمام حجت کے بعد حق و باطل میں وہ فیصلہ لازماً ہوتا ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔
      یعنی تمثیل کے پیرایے میں وہ حقائق سمجھاتا ہے جو عنقریب سب کے سامنے آ جائیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی پس جب ان کافروں سے تمہارے مقابلہ کی نوبت آئے تو ان کی گردنیں اڑاؤ یہاں تک کہ جب ان کو اچھی طرح چُور کر دو تو ان کو مضبوط باندھ لو پھر یا تو احسان کر کے چھوڑنا ہے یا فدیہ لے کر یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔ یہ کام ہے تمہارے کرنے کا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے انتقام لے لیتا لیکن اس نے تم کو یہ حکم اس لیے دیا کہ ایک کو دوسرے سے آزمائے۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے اللہ ان کے اعمال ہرگز رائگاں نہیں کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کفار کے اندر ریڑھ کی ہڈی نہیں ہے: یہ مسلمانوں کو ابھارا ہے کہ کفار حق کے سہارے سے محروم ہیں اس وجہ سے ان کے اندر ریڑھ کی ہڈی گویا نہیں ہے تو جب جنگ میں ان سے مقابلہ ہو تو بے دریغ ان کی گردنیں مارو، اللہ نے ان کو تمہارے لیے شکار اور تمہاری تلواروں کے لیے ایک لقمۂ تر بنا دیا ہے۔ یہی بات سورۂ انفال میں یوں فرمائی گئی ہے:

      ’فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْھُمْ کُلَّ بَنَانٍ‘ (الانفال: ۱۲)
      (پس ان کی گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور اور جوڑ جوڑ پر مارو)۔

      ’حَتّٰٓی اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْھُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ‘۔ ’اِثْخَان‘ کے معنی ہیں اچھی طرح خون ریزی کرنا اور ’وثاق‘ بندھن کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اچھی طرح خون ریزی کر کے ان کے کس بل نکال چکو تو جو بچ رہیں ان کو اچھی طرح بندھنوں میں باندھ لو۔ یہ تمہارے سامنے چُوں نہیں کر سکیں گے۔
      ’فَاِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَھَا‘۔ یعنی اس کے بعد اگر یہ تمہارے ہاتھ سے چھوٹیں تو صرف دو ہی شکلوں سے چھوٹیں۔ یا تو تمہارے احسان کا قلادہ اپنی گردن میں لے کر یا فدیہ دے کر۔ اور تمہارا یہی معاملہ اس وقت تک ان کے ساتھ رہے جب تک ان کے اندر جنگ کا حوصلہ بالکل سرد نہ پڑ جائے اور یہ تمہارے آگے ڈگ نہ ڈال دیں۔ دوسرے مقام میں یہی بات یوں فرمائی گئی:

      ’وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ‘ (الانفال: ۳۹)
      (اور ان سے جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ اس سرزمین سے فتنہ کا خاتمہ ہو جائے اور دین سارے کا سارا اللہ کا ہو جائے)۔

      بنی اسمٰعیل کے معاملے کی خاص نوعیت: یہ امر واضح رہے کہ جہاں تک مشرکین عرب یا بالفاظ دیگر مشرکین بنی اسماعیل کا تعلق ہے ان پر اللہ تعالیٰ نے انہی کے اندر سے ایک رسول بھیج کر ان پر حجت تمام کر دی اس وجہ سے دوسرے غیرمسلموں کی طرح ان کے لیے یہ رعایت نہیں تھی کہ وہ اسلامی حکومت کے اندر ذمی یا معاہد بن کر رہ سکیں یا ان کو غلام بنایا جا سکے۔ ان کے لیے صرف دو ہی راستے تھے یا اسلام قبول کریں یا تلوار۔ اس کے وجوہ کی تفصیل سورۂ براء ت کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ کسی مسلمان قیدی کے فدیہ میں یا نقد و جنس کی شکل میں فدیہ لے کر یا احساناً ان کے کسی قیدی کو چھوڑا بھی جا سکتا تھا اور اگر ان میں سے کوئی اپنے رویہ پر غور کرنے کے لیے امان کا طالب ہو تو اس کو امان بھی دی جا سکتی تھی لیکن بحیثیت جماعت ان کے ساتھ جنگ کی حالت اس وقت تک باقی رہنی تھی جب تک سرزمین حرم کفر و شرک کے ہر شائبہ سے پاک نہ ہو جائے۔ اس مسئلہ میں فقہاء کے اندر جو اختلافات ہیں وہ بڑی الجھن میں ڈالنے والے ہیں۔ اس کی وضاحت سورۂ براء ت کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں معاملہ زیربحث مشرکین بنی اسماعیل کا ہے، دوسرے غیرمسلموں کے مسئلہ پر یہاں بحث نہیں ہوئی ہے۔ امام ابوحنیفہؒ جو یہ فرماتے ہیں کہ مشرکین کے قیدیوں کے باب میں احسان اور فدیہ کی اجازت منسوخ ہو گئی، وہ صرف قتل کیے جا سکتے ہیں یا غلام بنائے جا سکتے ہیں، تو اس کا اتنا حصہ صحیح ہے کہ مشرکین عرب کے ساتھ یہ رعایت موقّت تھی جو بالآخر فتح مکہ کے بعد ختم ہو گئی لیکن ان کا یہ فرمانا کہ وہ غلام بنائے جا سکتے ہیں، ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے۔ مشرکین عرب نہ غلام بنائے جا سکتے تھے نہ ذِمّی نہ معاہد۔
      امام شافعیؒ کے نزدیک امام کو اختیار ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو پیش نظر رکھ کر، اس قسم کے قیدیوں کے ساتھ چار باتوں میں سے جو بات بھی مناسب خیال کرے، کر سکتا ہے۔ چاہے قتل کرا دے، چاہے غلام بنا لے، چاہے فدیہ لے کر چھوڑ دے، چاہے احساناً چھوڑ دے۔ ہمارے نزدیک امام شافعیؒ کی یہ رائے عام غیرمسلم قیدیوں کے حد تک تو صحیح ہے لیکن مشرکین عرب کے باب میں یہ کلیہ صحیح نہیں ہے۔ وہ ذمی یا غلام نہیں بنائے جا سکتے تھے۔ یہاں اس مسئلہ کی تفصیلات میں جانے کی گنجائش نہیں ہے۔ تفصیل کے طالب ہماری کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ میں باب ’اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق‘ کا مطالعہ کریں۔
      ’ذٰلِکَ وَلَوْ یَشَآءُ اللّٰہُ لَانْتَصَرَ مِنْہُمْ وَلٰکِنْ لِّیَبْلُوَاْ بَعْضَکُمْ بِبَعْضٍ‘۔ ’ذٰلِکَ‘ ایک جملہ کا قائم مقام ہے۔ اس کی ایک سے زیادہ مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہو گا کہ یہ کام ہے جو تمہارے کرنے کا ہے۔ یا یہ کام ہے جس کے لیے کمرہمت باندھو یا یہ کام ہے جس کے لیے تمہیں ہدایت کی جاتی ہے۔ اس قسم کے اجمال کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر تفصیل بھی سما جاتی ہے اور جملہ کے اندر زور بھی پیدا ہو جاتا ہے۔
      جہاد کی مصلحت: ’وَلَوْ یَشَآءُ اللّٰہُ ....... الاٰیۃ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ان سے جنگ کا حکم دے رہا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ ان سے نمٹنے کے لیے تمہارا یا کسی کا محتاج ہے۔ وہ چاہتا تو خود ہی کوئی ارضی یا سماوی آفت بھیج کر ان کو ٹھکانے لگا دیتا۔ ان سے پہلے کتنی ہی قومیں گزر چکی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے چشم زدن میں اپنے کسی عذاب سے تباہ کر دیا۔ اسی طرح اللہ ان کو بھی تباہ کر دیتا لیکن اس نے تمہیں ان سے جنگ کا حکم اس لیے دیا کہ اس طرح تمہارا اور ان کا دونوں کا امتحان ہو۔ وہ اپنے باطل کی حمایت کے لیے جو جوش و جذبہ رکھتے ہیں وہ بھی سامنے آ جائے اور تم اپنے حق کے لیے جو جذبہ و فدویت و وفاداری رکھتے ہو وہ بھی بالکل ظاہر ہو جائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہو جائے کہ تمہارے اندر کتنے ہیں جو راست باز و وفاشعار ہیں اور کتنے ہیں جو محض منافقانہ اپنے مفادات کے لیے تمہاری صفوں میں آ گھسے ہیں۔
      ایک سنت الٰہی: یہاں اس سنت الٰہی پر بھی نگاہ رہے کہ رسولوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یوں رہا ہے کہ اگر رسول پر ایمان لانے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہوئی ہے تو رسول اور اس کے ساتھیوں کو ہجرت کا حکم ہوا ہے اور اس کے تمام مکذبین کو اللہ نے کسی ارضی یا سماوی عذاب سے تباہ کر دیا ہے اور اگر رسول کے ساتھیوں کی تعداد بھی معتدبہ ہوئی ہے تو ان کو جہاد کا حکم ہوا ہے اور ان کے ہاتھوں اللہ نے ان کے دشمنوں سے انتقام لیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہی معاملہ ہوا۔ آپ سے پہلے بھی نبیوں اور رسولوں کو جہاد کرنا پڑا ہے۔ فرعون کے مقابل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی مدد اللہ تعالیٰ نے سمندر کے طوفان سے کی۔ پھر دریا پار کرنے کے بعد ان کو متعدد چھوٹی بڑی جنگیں خود لڑنی پڑیں جن میں بنی اسرائیل کا اچھی طرح امتحان ہو گیا۔ وہ بیشتر امتحانوں میں ناکام رہے جس کی ان کو سزا بھگتنی پڑی۔
      منافقین کے ایک گمان کی تردید: ’وَالَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَھُمْ‘۔ فرمایا کہ اس جہاد میں جو لوگ شہید ہوں گے وہ اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی رائگاں نہیں کرے گا بلکہ اس قربانی کا بھرپور صلہ ان کو دے گا۔ ’فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَھُمْ‘ کے الفاظ ان منافقین کے خیال کو سامنے رکھ کر ارشاد ہوئے ہیں جن کا ذکر تفصیل سے آگے آ رہا ہے۔ یہ لوگ چونکہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے تھے اس وجہ سے ہر وہ قربانی ان کے نزدیک خسارہ کے حکم میں تھی جس کا نفع ان کو نقد نقد حاصل نہ ہو جائے۔ یہ الفاظ انہی کے خیال پر ضرب لگانے کے لیے ارشاد ہوئے ہیں۔ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے باب میں یہ جو ارشاد ہوا ہے کہ ان کو مردہ نہ خیال کرو، وہ زندہ ہیں، وہ بھی اسی قسم کے لوگوں کی تردید میں ہے۔
      ’وَالَّذِیْنَ قُتِلُوْا‘ میں مستقبل کی جگہ ماضی کا صیغہ اس لیے استعمال ہوا ہے کہ یہ بشارت ان لوگوں پر بھی حاوی ہو جائے جو راہ حق میں اس سے پہلے قتل ہوئے۔

       

      جاوید احمد غامدی سو، (ایمان والو)، جب اِن منکروں سے تمھارے مقابلے کی نوبت آئے تو بے دریغ گردنیں مارنی ہیں، یہاں تک کہ جب تم اِن کو اچھی طرح کچل دو، تب قیدی بنا کرمضبوط باندھو۔پھر جب باندھ لو تو اُس کے بعد احسان کرکے چھوڑ دینا ہے یا فدیہ لے کر۔ (اِن کے ساتھ تمھارا یہی معاملہ رہنا چاہیے)،یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔ یہ کام ہے جو تمھارے کرنے کا ہے۔اگر اللہ چاہتا تو اِن سے خود ہی انتقام لے لیتا، لیکن اُس نے تم کو حکم دیا، اِس لیے کہ تم میں سے ایک کو دوسرے سے آزمائے۔ (اِس کے نتیجے میں) جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے، اُن کے اعمال اللہ ہرگز رایگاں نہیں ہونے دے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جنگ کی نوبت آجائے تو کرنے کا ایک ہی کام ہے اور وہ بغیر کسی تامل کے، بے دریغ اِن کی گردنیں مارنا ہے۔ اِس کا حق ادا ہونا چاہیے۔ تمھارا پروردگار یہی چاہتا ہے کہ مقابلے پر آئیں تو زیادہ سے زیادہ تہ تیغ کیے جائیں۔ یہ اِس لیے فرمایا کہ اِن لوگوں پر خدا کے رسول نے اتمام حجت کیا تھا اور اُس کی تکذیب پر اصرار کے باعث اب یہ اُس سزا کے مستحق ہو چکے تھے جو رسولوں کے مکذبین کو لازماً دی جاتی ہے۔ قرآن نے جگہ جگہ وضاحت کی ہے کہ یہ خدا کی غیرمتبدل سنت ہے جو تمام رسولوں کے معاملے میں اِسی طرح جاری رہی ہے۔
      اُس زمانے میں قیدی من جملہ غنائم تھے۔ اُنھیں پکڑنے کے لیے اہل عرب کی فطری رغبت کے پیش نظر تاکید فرمائی ہے کہ یہ کام اُس وقت ہونا چاہیے، جب پیغمبر کے اِن مکذبین کو بالکل کچل دیا جائے۔ اِس سے پہلے کسی شخص کو قیدی بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
      یہاں ’فَإِذَا شَدَدْتُمُ الْوَثَاقَ‘ یا اِس کا ہم معنی فقرہ اصل میں محذوف ہے جس پر ’فَشُدُّوا الْوَثَاقَ‘ کے الفاظ دلالت کر رہے ہیں۔
      یہ اِس لیے فرمایا کہ ’ضَرْبَ الرِّقَابِ‘ میں جو ترغیب و تحریض ہے، اُس کی بنا پر لوگ قیدیوں کو قتل بھی کر سکتے تھے، لہٰذا برسرموقع ہدایت فرما دی کہ اِس کے بعد دو ہی صورتیں ہیں: فدیہ لے کر چھوڑ نا یااحسان کرکے۔ مطلب یہ ہے کہ قیدی بنانے کا اقدام اُس وقت ہونا چاہیے، جب تہ تیغ کرنے کا حق ادا ہو چکا ہو، لیکن بنا لو گے تو قتل نہیں کر سکتے اور نہ غلام بنا سکتے ہو۔ اُس کے بعد قانون یہ ہے کہ فدیہ لے کر رہا کیا جائے گا یا بلا معاوضہ احسان کے طور پر چھوڑ دیا جائے گا۔
      یہ حکم اگرچہ مشرکین عرب کے حوالے سے بیان ہوا ہے، لیکن ہر لحاظ سے عام ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قیدی بنا لینے کے بعد جب رسول کے منکرین سے احسان یا فدیے کے سوا کوئی معاملہ نہیں کیا جا سکتا تو دوسروں سے بدرجۂ اولیٰ نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ قرآن کا یہی حکم ہے جس نے قیدیوں کو غلام بنانے کا رواج ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اور اِس طرح غلامی کی جڑ کاٹ دی۔اِس کے بعد صرف وہی مستثنیات باقی رہ گئے جو علم و عقل کے مسلمات کی رو سے ہر قانون، ہر قاعدے اور ہر حکم میں اُس کی ابتدا ہی سے مضمر ہوتے ہیں۔ یعنی مثال کے طور پر، سنگین جرائم کے کسی مرتکب کے ساتھ اُس کے جرائم کی بنا پر اِس سے ہٹ کر کوئی معاملہ کیا جائے۔ اِس سے، ظاہرہے کہ قیدیوں کے بارے میں اِس عام قانون پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
      اصل میں حرف ’ذٰلِکَ‘ہے۔ یہ ایک جملے کا قائم مقام ہے۔ اِس طرح کا اسلوب اُس وقت اختیار کیا جاتا ہے، جب کلام میں خاص زور پیدا کرنا مقصود ہو۔
      یہ وجہ بیان فرمائی ہے کہ قوم نوح، عاد و ثمود اور اِس طرح کی دوسری قوموں کی طرح قریش کو اللہ تعالیٰ نے آسمانی عذاب کے ذریعے سے سزا کیوں نہیں دی ۔ سورۂ آل عمران (۳) میں اِس کی تفصیل ہے۔ رسولوں کے مکذبین کے معاملے میں اللہ تعالیٰ یہ طریقہ اُس وقت اختیار کرتے ہیں، جب رسول کے ساتھی معتد بہ تعداد میں ہوں اور اُنھیں کوئی ایسا دارالہجرت بھی میسر آ جائے، جہاں وہ اپنی حکومت قائم کرکے خدا کے حکم پر جہاد کر سکیں۔
      جنگ سے پہلے یہ ماضی کا صیغہ اِس لیے استعمال فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت اُن لوگوں کو بھی شامل ہو جائے جو اِس سے پہلے بعض سریوّں میں قتل ہو چکے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی وہ ان کی رہنمائی منزل مقصود کی طرف کرے گا اور ان کا حال سنوار دے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اوپر والی آیت میں جو بات ’فَلَنْ یُضِلَّ أَعْمَالَہُمْ‘ کے منفی اسلوب میں فرمائی گئی ہے وہی بات یہ مثبت اسلوب میں ارشاد ہوئی تاکہ بات پوری طرح واضح اور موکد ہو جائے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو راہ یاب کرے گا اور ان کے جملہ حالات سنوار دے گا۔ ہدایت یاب کرنے سے مقصود یہاں منزل مقصود کی ہدایت ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کی آخری منزل ۔۔۔ جنت ۔۔۔ سے ان کو ہم کنار کرے گا۔ لفظ ’ہدایت‘ قرآن میں جگہ جگہ اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں، آگے بھی آئیں گی۔ ’یُصْلِحُ بَالَہُمْ‘ کے اجمال کے اندر وہ ساری تفصیل مضمر ہے جو اہل جنت کی سرفرازی و فیروز مندی سے متعلق قرآن میں مذکور ہوئی ہے بلکہ اس اجمال کے اندر ایک نہایت لطیف اشارہ ان فیروز مندیوں کی طرف بھی ہے جن کا ذکر ’فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِیَ لَہُم مِّن قُرَّۃِ أَعْیُنٍ‘ (السجدہ: ۱۷) کے الفاظ سے ہوا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (چنانچہ) عنقریب وہ اُن کو (اُن کی منزل مقصود کا) راستہ دکھائے گا، اُن کا حال درست کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی بغیر کسی رکاوٹ کے سیدھا جنت کے دروازے تک پہنچا دے گا۔
      اِس اجمال کے اندر وہ ساری تفصیل مضمر ہے جو اہل جنت کی سرفرازی اور فیروزمندی سے متعلق قرآن میں مذکور ہوئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان کو جنت میں داخل کرے گا، جس کی ان کو شناخت کرا دی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جنت کا وعدہ کوئی مبہم وعدہ نہیں ہے: ’وَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ‘ یہ اسی ہدایت کی تفصیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ اس جنت کے باب میں فرمایا کہ ’عَرَّفَہَا لَہُمْ‘ اللہ نے اچھی طرح اس کی شناخت کرا دی ہے۔ اس تصریح کی ضرورت اس وجہ سے ہوئی کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ جنت کا یہ وعدہ ایک مجمل و مبہم وعدہ ہے، کچھ نہیں معلوم کہ اس اسم کا مسمیٰ کیا ہے! اگر کوئی معاہدہ مبہم ہو، اس کی تفصیلات واضح نہ ہوں تو کمزور فریق برابر اندیشہ میں رہتا ہے کہ معلوم نہیں وقت پر اس کی تفسیر و تاویل سامنے آئے۔ جنت کے وعدے سے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس قسم کے اندیشوں سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ کیا ہے کہ اس کی ساری تفصیلات سے ان کو قرآن میں آگاہ کر دیا ہے اور جو باتیں تعبیر و بیان کی گرفت میں نہیں آ سکتی ہیں ان کی طرف بھی اشارہ کر دیا ہے تاکہ بندوں کو پورا اطمینان رہے کہ جس چیز کے عوض میں انھوں نے اپنی جانیں اپنے رب کے حوالہ کی ہیں وہ کوئی مبہم شے نہیں ہے بلکہ اس کی ساری تفصیلات طے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان میں سے ہر بات کے پورا کرنے کا ذمہ لیا ہے بلکہ ان پر مزید اضافوں کا وعدہ فرمایا ہے۔ جنت کی یہ تعریف یوں تو پورے قرآن ہی میں بیان ہوئی ہے لیکن خاص طور پر اس سورہ میں بھی اس کی تفصیل مذکور ہوئی ہے۔ ملاحظہ ہو آیت ۱۵۔ یہ امر واضح رہے کہ ’عَرَّفَہَا لَہُمْ‘ کے الفاظ یہاں ’جنت‘ کی صفت کے طور پر نہیں آئے ہیں۔ ایسا ہوتا تو لفظ ’جنت‘ کو نکرہ آنا تھا بلکہ ان کی حیثیت مستتقل جملہ کی ہے اور اس کے مستقل جملہ ہونے ہی سے وہ مفہوم پیدا ہوتا ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔

      جاوید احمد غامدی اور اُن کو جنت میں داخل کر دے گا۔ اُس کی پہچان اُس نے اُنھیں کرا دی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ کس لیے فرمایا ہے؟ استاذامام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’... اِس تصریح کی ضرورت اِس وجہ سے ہوئی کہ کوئی اِس غلط فہمی میں نہ رہے کہ جنت کا یہ وعدہ ایک مجمل و مبہم وعدہ ہے، کچھ نہیں معلوم کہ اِس اسم کا مسمیٰ کیا ہے! اگر کوئی معاہدہ مبہم ہو، اُس کی تفصیلات واضح نہ ہوں تو کمزور فریق برابر اندیشے میں رہتا ہے کہ معلوم نہیں، وقت پر اِس کی کیا تفسیر و تاویل سامنے آئے۔ جنت کے وعدے سے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اِس قسم کے اندیشوں سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ کیا ہے کہ اُس کی ساری تفصیلات سے اُن کو قرآن میں آگاہ کر دیا ہے اور جو باتیں تعبیر و بیان کی گرفت میں نہیں آ سکتی ہیں، اُن کی طرف بھی اشارہ کر دیا ہے تاکہ بندوں کو پورا اطمینان رہے کہ جس چیز کے عوض میں اُنھوں نے اپنی جانیں اپنے رب کے حوالے کی ہیں، وہ کوئی مبہم شے نہیں ہے، بلکہ اُس کی ساری تفصیلات طے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اُن میں سے ہر بات کے پورا کرنے کا ذمہ لیا ہے ،بلکہ اُن پر مزید اضافوں کا وعدہ فرمایا ہے۔ ‘‘ (تدبرقرآن ۷/ ۴۰۰)

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم اچھی طرح جمائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نصرت الٰہی کا ظہور کب ہوتا ہے: یہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہے کہ تمہارے کرنے کا کام یہ ہے کہ اللہ اور اس کے دین کی نصرت کے لیے اٹھ کھڑے ہو۔ اگر تم عزم و حوصلہ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے تو آگے کا کام تمہارا رب سنبھال لے گا۔ وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدم اس طرح جمائے گا کہ کوئی ان کو اکھاڑ نہ سکے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی راہ میں پہلا قدم وہ اٹھائیں۔ اگر انھوں نے یہ قدم اٹھادیا تو اس کے بعد اس کی شانیں ظاہر ہوں گی۔ ان لوگوں کے لیے اس کی مدد نہیں نازل ہوتی جو گھروں میں بیٹھے بیٹھے اس کا انتظار کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے نازل ہوتی ہے جو اپنے آپ کو میدان میں ڈال دیتے ہیں پھر اس کی نصرت کا انتظار کرتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور (اِن دشمنوں کے مقابلے میں) تمھارے پاؤں جما دے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُس کے دین کی مدد کرو گے۔

    • امین احسن اصلاحی رہے وہ جنھوں نے کفر کیا تو ان کے لیے ہلاکی ہے اور اللہ نے ان کے اعمال رائگاں کر دیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَالَّذِیْنَ کَفَرُوۡا فَتَعْسًا لَّہُمْ‘۔ یہ کفار کا حشر بتایا کہ ان کے لیے خدا کی پھٹکار ہے اور ان کے تمام اعمال برباد و رائگاں ہو کر رہیں گے۔ ان کو جو مہلت ملی وہ محض امتحان اور اتمام حجت کے لیے ملی۔ اب اگر تم ان سے نمٹنے کے لیے اٹھ کھڑے ہو گے تو دیکھو گے کہ ان کی ساری کوششیں نابود ہو جائیں گی۔ ’تَعْسًا لَّہُمْ‘ لعنت اور پھٹکار کا جملہ ہے اور اس کا استعمال اسی طرح معروف ہے۔

      جاوید احمد غامدی رہے وہ جنھوں نے انکار کا فیصلہ کر لیا ہے تو اُن کے لیے ہلاکی ہے اور اُن کے اعمال اللہ نے رایگاں کر دیے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’فَتَعْسًا لَّھُمْ‘۔ یہ لعنت اور پھٹکار کا جملہ ہے اور اِسی طرح استعمال ہوتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ اس سبب سے کہ انھوں نے اس چیز کو برا جانا جو اللہ نے اتاری پس اللہ نے ان کے اعمال ڈھا دیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کفار کی نامرادی کا سبب: ’ذٰلِکَ بِأَنَّہُمْ کَرِہُوۡا مَا أَنزَلَ اللَّہُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَہُمْ‘۔ یہ سبب بتایا ہے اس بات کا کہ کیوں یہ اس قدر بودے، بے ثبات اور خدا کی لعنت کے مستحق بن گئے ہیں؟ فرمایا کہ یہ اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے اس چیز سے نفرت کی جو ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اتاری اور اپنی بدعتوں اور ضلالتوں کے ساتھ چمٹے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے وہ اعمال بھی خدا نے رائگاں کر دیے جو انھوں نے دین کے کام سمجھ کر کیے۔ یہ ان کاموں کی طرف اشارہ ہے جو تھے تو نیکی کے لیکن ان کے شرک کے سبب سے وہ بالکل لاحاصل ہو کے رہ گئے۔ اس طرح کے کاموں میں سے بعض کا قرآن نے سورۂ براء ت میں حوالہ بھی دیا ہے۔ مثلاً حرم کا اہتمام و انتظام اور حجاج کی خدمت۔ مشرکین کو اپنی ان خدمات پر بڑا ناز تھا۔ لیکن یہ تمام دین داریاں خدا کی میزان میں بالکل بے وزن ثابت ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول صرف وہی اعمال ہوتے ہیں جو اس کے شرائط پر انجام دیے جائیں وہ کسی کی نیکی کا محتاج نہیں ہے کہ جس طرح بھی کوئی نیک عمل کر دیا جائے وہ ممنون ہو کر اس کو قبول کر لے۔

      جاوید احمد غامدی یہ اِس لیے کہ اُنھوں نے اُس چیز کو برا جانا جو اللہ نے اتاری ہے تو اللہ نے اُن کے (اچھے) اعمال (بھی) اکارت کر دیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی وہ اعمال جو بظاہر نیکی کے تھے، وہ بھی اکارت کر دیے، جیسے حرم کے انتظام و اہتمام اور حجاج کی خدمت وغیرہ ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صرف وہی اعمال مقبول ہوتے ہیں جو اُس کے بیان کردہ شرائط کے مطابق انجام دیے جائیں۔ استاذ امام کے الفاظ میں، وہ کسی کی نیکی کا محتاج نہیں ہے کہ جس طرح بھی کوئی نیک عمل کر دیا جائے، وہ ممنون ہو کر اُس کو قبول کر لے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ کیا انجام ہو چکا ہے ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ نے ان کو پامال کر چھوڑا اور ان کافروں کے سامنے بھی انہی کی مثالیں آنی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کفار قریش کی بے بصیرتی: یہ ان مشرکین کی کورچشمی اور بے بصیرتی پر اظہار افسوس ہے کہ کیا یہ لوگ اپنے ملک میں اس مقصد سے چلے پھرے نہیں کہ ان قوموں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں، اللہ نے ان کو بالکل پامال کر دیا! آیت کے اسلوب سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ لوگ چلے پھرے تو ہیں، اپنے تجارتی سفروں پر برابر نکلتے رہے ہیں لیکن ان بستیوں پر کبھی عبرت کی نگاہ انھوں نے نہیں ڈالی جو کسی زمانے میں عظیم قوموں کا مسکن تھیں لیکن اب وہ ویرانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ یہ اشارہ ان قوموں کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں پچھلی سورتوں میں سنائی جا چکی ہیں۔
      ’وَلِلْکَافِرِیْنَ أَمْثَالُہَا‘۔ فرمایا کہ کافروں کے لیے تو انہی کی مثالیں ہیں یعنی جب وہ اپنے کفر اور اپنی تکذیب کے نتیجہ میں اس انجام کو پہنچیں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ (قریش) انہی کی روش اختیار کر کے اس سے کسی مختلف انجام سے دوچار ہوں۔ اللہ کا قانون سب کے لیے ایک ہی ہے ۔۔۔ اوپر آیت ۳ ’کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللہُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَہُمْ‘ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔

      جاوید احمد غامدی پھر کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ( کبھی آنکھ اٹھا کر ) دیکھتے کہ اُن لوگوں کا انجام کیا ہوا جو اِن سے پہلے گزرے ہیں؟ اللہ نے اُن کو اُن کی ہر چیز کے ساتھ تہس نہس کر دیا۔ اِن منکروں کے سامنے اب اِنھی کی مثالیں آنی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِن کو بھی اُسی طرح کے نتائج بھگتنا ہیں جو اِن قوموں نے اپنی سرکشی کی پاداش میں بھگتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی یہ اس وجہ سے کہ اللہ اہل ایمان کا کارساز ہے اور کافروں کا کارساز کوئی بھی نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کفار کا کوئی کارساز نہیں: یعنی اس کائنات کا حقیقی کارساز و کارفرما تو اللہ تعالیٰ ہے اور وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے تو وہ کفار ان کے مقابل میں کیا وزن رکھتے ہیں جن کا کوئی کارساز نہیں۔ وہ جن کو اپنا کارساز سمجھے ہوئے ہیں وہ نہ تو اس دنیا میں ان کے کام آنے والے ہیں، نہ آخرت میں ۔۔۔ اوپر آیت ۳ میں یہی مضمون ایک دوسرے اسلوب سے گزر چکا ہے۔ وہ بھی پیش نظر رہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ اِس لیے کہ اللہ ایمان والوں کا حامی و ناصر ہے اور اِن منکروں کا حامی و ناصر کوئی نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ اسی طرح بہرہ مند ہو رہے اور کھا رہے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں۔ دوزخ ان کا ٹھکانا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اہل ایمان کے اعمال کے مثمر اور کفار کے اعمال کے رائگاں ہونے کی مزید وضاحت اور اس شبہ کا جواب ہے کہ جب کفار کے اعمال کی کوئی حیثیت نہیں تو اس دنیا میں وہ کیوں دندناتے پھر رہے ہیں؟ فرمایا کہ اہل ایمان کو تو اللہ تعالیٰ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ رہے یہ کفار تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس دنیا میں ان کو کھانے بلسنے کی جو مہلت ملی ہے یہ کوئی خوش انجام چیز نہیں ہے۔ ان کا کھانا پینا جانوروں کے مانند ہے۔ یہ عقل و خرد سے عاری اور ان حقوق کے شعور سے بالکل نابلد ہیں جو اللہ کی نعمتیں ان پر عائد کرتی ہیں اس وجہ سے یہ چند روز ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا لیں لیکن یہ ان کے لیے موجب وبال ہوں گی اور ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی یقیناً اللہ اُن کو، جو ایمان لائے اور اُنھوں نے اچھے عمل کیے، ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور جنھوں نے انکار کر دیا ہے، (اُن کی رفاہیت پر تعجب نہیں ہونا چاہیے)،وہ اُسی طرح بہرہ مند ہو رہے اور کھا پی رہے ہیں، جس طرح چوپایے کھاتے ہیں اور اُن کا ٹھکانا بالآخر دوزخ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے آگے اِس شبہے کا جواب ہے کہ جب منکرین کے اعمال رایگاں ہیں تو دنیا میں اُن کو اِس قدر رفاہیت اور شان و شوکت کیوں حاصل ہوتی ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ جس طرح چوپایے اخلاقی شعور سے عاری کھانے پینے کے سوا کسی چیز سے غرض نہیں رکھتے، یہ بھی اُسی طرح کھا پی رہے ہیں اور اِسی طرح کھاتے پیتے ایک دن دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اور کتنی ہی بستیاں ہیں جو قوت میں تمہاری اس بستی سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں جس نے تم کو نکالا ہے۔ ہم نے ان کو ہلاک کر چھوڑا پس کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ بن سکا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ آج قریش کو بڑا زور و دبدبہ حاصل ہے، جب انھوں نے رسول اور اس کے ساتھیوں کو مکہ سے نکال چھوڑا تو ایسے زور آور لوگوں کو کون زیر کر سکتا ہے! فرمایا کہ کتنی بستیاں تھیں جو قوت و شوکت میں اس سے بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن اللہ نے ان کو تباہ کر دیا اور کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ بن سکا۔ یہ عاد و ثمود وغیرہ کی طرف اشارہ ہے جن کی سرگزشتیں پچھلی سورتوں میں سنائی جا چکی ہیں اور قریش کو جن کی شوکت و عظمت کا پورا اعتراف تھا۔ ’فَلَا نَاصِرَ لَہُمْ‘ میں ان کی اس دنیوی جمعیت کی نصرت کی بھی نفی ہے جس پر ان کو بڑا ناز اور اعتماد تھا اور ان مزعومہ شرکاء کی نصرت کی بھی نفی ہے جن کو وہ خدا کے مقابل میں اپنی سپر سمجھے ہوئے تھے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ کس بل بوتے پر اکڑ رہے ہیں، اے پیغمبر)۔ کتنی ہی بستیاں ہیں جو قوت میں تمھاری اُس بستی سے کہیں بڑھ کر تھیں، جس نے تمھیں نکالا ہے۔ اُن کو ہم نے ہلاک کر دیا تو کوئی بھی اُن کی مدد کرنے والا نہیں تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی مکہ، جہاں سے آپ کو ہجرت کرنا پڑی۔

    • امین احسن اصلاحی کیا وہ جو اپنے رب کی طر ف سے ایک روشن دلیل پر ہیں ان لوگوں کے مانند ہو جائیں گے جن کی بدعملی ان کی نگاہوں میں کھبا دی گئی ہے اور انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل ایمان کے حسن انجام پر عقل و فطرت کی گواہی: اوپر کی آیت میں ان کے دنیوی انجام کی طرف اشارہ تھا اور اس کی دلیل تاریخ کی مثالوں سے پیش کی گئی ہے۔ یہ ان کے اخروی انجام کی طرف اشارہ ہے اور اس پر انسان کی عقل و فطرت کو گواہ ٹھہرایا گیا ہے۔ فرمایا کہ کیا وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہیں اور اس روشنی میں وہ چلتے ہیں اور وہ لوگ جن کی نگاہوں میں ان کی بدعملی کھبا دی گئی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں دونوں یکساں ہو جائیں گے؟ مطلب یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ یہ بات عقل و فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ اگر ایسا ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے اور اس کا بنانے والا نعوذ باللہ ایک کھلنڈرا ہے!
      لفظ ’بَیِّنَۃٌ‘ پر سورۂ یونس میں مفصل بحث ہو چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک حجت قاطع خود انسان کی فطرت کے اندر ودیعت فرمائی ہے اور اس کی مزید تائید اپنی وحی کی روشنی سے کی ہے۔ یہ دونوں چیزیں مل کر انسان کے باطن کو، جیسا کہ سورۂ نور کی تفسیر میں وضاحت ہو چکی ہے، ’نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ‘ بنا دیتی ہے جس کی جگمگاہٹ لازماً اس کی ظاہری زندگی میں بھی نمایاں ہوتی ہے۔ برعکس اس کے جو شخص اپنی فطرت کے چراغ کو گل کر دیتا ہے وہ وحی کے نور سے بھی محروم رہتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا ظاہر و باطن دونوں ہی تاریک ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کے ظاہر اور باطن دونوں میں اتنا عظیم تفاوت ہے وہ اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں کس طرح ہو سکتے ہیں!
      اس آیت پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ اہل ایمان کے ذکر میں تو صرف ان کے باطن کو نمایاں کیا ہے، ان کے ظاہر کا ذکر نہیں کیا ہے؛ اور اہل کفر کے ذکر میں ان کے ظاہر کا حوالہ دیا ہے، ان کے باطن کو نظرانداز کر دیا ہے۔ آپ تقابل کے اس اصول کی روشنی میں، جس کی مثالیں ہم دیتے آ رہے ہیں، اس خلا کو بھر لیجیے تب اس آیت کی بلاغت واضح ہو گی۔
      آیت میں ’مَنْ‘ کے لیے ضمیریں اور فعل واحد اور جمع دونوں شکلوں میں استعمال ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ واحد جمع، مذکر و مؤنث، سب میں مشترک ہے۔

      جاوید احمد غامدی (آگے قیامت میں بھی یہی ہو گا۔ اگر نہیں مانتے تو اِن سے پوچھو)، پھر کیا جو اپنے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہیں (اور اچھے عمل بھی کرتے ہیں)، وہ اُن لوگوں کی طرح ہو جائیں گے، (جن کے پاس کوئی دلیل نہیں اور) جن کی بدعملی اُن کے لیے خوش نما بنادی گئی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے مراد وہی عقل و فطرت کی روشنی ہے جو خدا نے انسان کے اندر رکھ دی ہے اور جو وحی کی تائید سے ’نُوْرٌ عَلٰی نُوْر‘ ہو جاتی ہے۔
      یہ فقرہ تقابل کے اصول پر اصل میں محذوف ہے، اِس لیے کہ یہاں صرف اہل ایمان کے باطن کا ذکر کیا ہے، اُن کے ظاہر کا ذکر نہیں کیا، جب کہ مقابل میں منکرین کا ذکر ہے اور وہاں صرف ظاہر کا حوالہ ہے،اُن کے باطن کو نظر انداز کر دیا ہے۔
      یہ منکرین کا باطن ہے جو اہل ایمان کے باطن کے مقابل میں آپ سے آپ مفہوم ہو رہا ہے، لہٰذا اصل میں حذف کر دیا ہے، بالکل اُسی طرح جیسے اوپر اہل ایمان کا ظاہر مفہوم ہو رہا ہے اور اُس کو حذف کر دیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس جنت کی مثال جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں نہریں ہوں گی پانی کی جس میں ذرا بھی تغیر نہ ہوا ہو گا، اور نہریں ہوں گی دودھ کی جس کا ذائقہ تبدیل نہ ہوا ہو گا اور نہریں ہوں گی شراب کی جو پینے والوں کے لیے یکسر لذت ہوں گی اور نہریں ہوں گی صاف شفاف شہد کی اور اس میں ان کے لیے ہر قسم کے پھل بھی ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت بھی! کیا یہ لوگ جن کو یہ نعمتیں حاصل ہوں ان لوگوں کے مانند ہوں گے جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں اور جن کو اس میں گرم پانی پلایا جائے گا پس وہ ان کی آنتوں کو ٹکڑے کر کے رکھ دے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جنت کی تمثیل: یعنی جب دونوں گروہوں کا انجام یکساں ہونا عقل و فطرت کے بالکل خلاف ہے تو لازم ہے کہ جس نے پاکیزہ فطرت اور اللہ کی ہدایت کی روشنی میں زندگی گزاری اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت سے نوازے اور جس نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی وہ اپنی ضلالت پسندی کی قرار واقعی سزا بھگتے۔ چنانچہ دونوں کا انجام بالکل مختلف ہوگا۔ اللہ نے اپنے متقی بندوں سے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے جس کی تمثیل یہ ہے کہ اس میں بے آمیز خالص پانی کی نہریں ہوں گی، غیر متغیر دودھ کے چشمے ہوں گے، شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لیے ہر فساد و ضرر سے پاک، یکسر لذت ہی لذت ہوں گی، اسی طرح صاف شفاف شہد کی نہریں ہوں گی، مزید برآں ان کے لیے ہر قسم کے میوے بھی ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے مستقل مغفرت کی بشارت بھی۔ برعکس اس کے دوسرے گروہ کے لوگ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور ان کی پہلی ہی ضیافت ایسے گرم پانی سے ہو گی جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔
      نعمتوں کے بے آمیز ہونے کے پہلو پر ایک نظر: یہاں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ جنت کی جن نعمتوں کا ذکر ہوا ہے ان کے خالص اور بے آمیز ہونے کو خاص طور پر نمایاں فرمایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نعمتیں جتنی بھی ہیں سب کا اصلی منبع جنت ہی ہے لیکن اس عالم ناسوت میں جب ہمیں وہ ملتی ہیں تو اتنے مراحل اور اتنے وسائل و وسائط سے گزر کر ملتی ہیں کہ ان کی حقیقت و ماہیت بھی بالکل بدل جاتی ہے اور ان کی شکل و صورت بھی بالکل مسخ ہو کے رہ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر سب سے زیادہ عام چیز پانی ہی کو لیجیے، یہ فضاؤں، بادلوں، ہواؤں، دریاؤں، ندیوں، نالوں اور زمین کی تہوں کے کتنے مراحل طے کر کے ہم تک پہنچتا ہے! ظاہر ہے کہ ہر مرحلہ کے اثرات سے یہ متاثر ہوتا ہے جس کے سبب سے اس کا وہ مزاج، جو اس کے اصل منبع یعنی جنت میں ہے، بالکل بدل جاتا ہے۔
      علیٰ ہذا القیاس دودھ کو لیجیے۔ اس دنیا میں یہ جن راستوں سے گزر کر ہمیں ملتا ہے اس کے متعلق خود قرآن کا بیان ہے کہ وہ ’مِنْ م بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ‘ (النحل: ۶۶) یعنی گوبر اور خون کے درمیان سے ہو کر ہم تک پہنچتا ہے۔ غور کیجیے کہ جنت کی جو نعمت اس راستہ سے گزر کر ہم تک پہنچے گی وہ اپنی اصلی مزاجی خصوصیات پر کس طرح باقی رہ سکے گی۔ اس وجہ سے جنت کے دودھ اور شہد اور اس دنیا کے دودھ اور شہد میں اتنا ہی فرق ہے جتنا فرق آسمان و زمین میں ہے۔ یہاں کی نعمتوں سے وہاں کی نعمتوں کا ایک مبہم سا تصور تو آپ کر سکتے ہیں اور یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی بھی اسی لیے ہیں کہ ہم ان مجازی نعمتوں سے ان حقیقی نعمتوں کا تصور کر سکیں لیکن دونوں میں نسبت بہرحال حقیقت و مجاز ہی کی ہے۔ اس نسبت کو نظر اندازنہیں کرنا چاہیے۔
      خالص نعمتیں سلیم الفطرت لوگوں کے لیے خاص ہیں: آیت ۱۴ کے ساتھ اس آیت کے ربط پر اگر اچھی طرح تدبر کیجیے تو یہ حقیقت بھی سامنے آئے گی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں، ان کی اصل شکل میں، اپنے ان بندوں کے لیے خاص کر رکھی ہیں جو اپنی فطرت کو، جس کو اللہ تعالیٰ نے ’فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا‘ (الروم: ۳۰) سے تعبیر فرمایا ہے، ہر قسم کے خلل و فساد سے محفوظ رکھیں گے اور قلب سلیم کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹیں گے۔ رہے وہ لوگ جو اپنی فطرت کو مسخ کر کے اپنی خواہشوں کے غلام بن جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ قلب سلیم کو گندگیوں سے آلودہ کر لیں گے تو ان کے لیے ان نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ انھوں نے جتنا فائدہ اٹھانا تھا اس دنیا میں اٹھا لیا۔ آخرت میں ان کے لیے وہ عذاب ہی ہے جو اپنی فطرت کو مسخ کرنے کا لازمی نتیجہ ہے۔
      آیت کا مدعا سمجھ لینے کے بعد ایک نظر الفاظ اور جملوں کے در و بست پر بھی ڈال لیجیے۔
      ’اٰسِنْ‘ صفت کے طور پر اس پانی کے لیے آتا ہے جس کا رنگ اور ذائقہ تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ فاسد پانی سے جو فساد نظام جسم میں پیدا ہوتا ہے اس کا علاج کسی طبیب کے پاس نہیں ہے۔
      دودھ سے متعلق فرمایا کہ ’لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ‘ (اس کا ذائقہ تبدیل نہ ہوا ہو گا)۔ اس سے مراد ذائقہ کی وہ تبدیلی ہے جو اس کے فساد سے نمایاں ہوتی ہے۔ دودھ فطری غذا کی حیثیت رکھتا ہے اس وجہ سے اس کا فساد بھی ایک اہم فساد ہے۔
      ’خَمْرٌ‘ کی صفت ’لذت‘ میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے جس طرح ’زَیْدٌ عَدْلٌ‘ میں مبالغہ کا مفہوم ہے۔ یعنی وہ یکسر لذت ہی لذت ہو گی، پینے والے اس سے نہ کسی قسم کی تلخی، ناگواری یا خمار کا احساس کریں گے نہ وہ بدمستی اور گناہ کی محرک ہو گی۔
      ’عَسَلٌ‘ کے ساتھ ’مُصَفًّی‘ کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اس دنیا میں جو شہد میسر آتا ہے وہ بہرحال مکھیوں ہی کے واسطہ سے میسر آتا ہے جو ان کے غل و غش سے پاک نہیں ہو سکتا۔ جنت کا شہد اپنے اصل منبع سے نکلا ہوا ہو گا۔ اس پر کوئی مگس کی قے ہونے کی پھبتی چست نہ کر سکے گا۔
      ’وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ‘ کا ذکر آخر میں جنت کی سب سے بڑی نعمت کی حیثیت سے آیا ہے اس لیے کہ خدا کی مغفرت اور خوشنودی ہی ہے جو ان تمام نعمتوں کی ضامن بھی ہو گی اور اسی سے آگے کے مدارج کی راہیں بھی کھلیں گی۔
      ’کَمَنْ ھُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ‘ سے پہلے ’اَفَمَنْ کَانَ لَہٗ مثل ھٰذِہِ الْجَنَّۃ‘ یا اس کے ہم معنی الفاظ بربنائے قرینہ محذوف ہیں۔ استفہامیہ اور شرطیہ جملوں میں اس قسم کا حذف معروف ہے۔ پیچھے اس کی مثالیں گزر چکی ہیں۔
      ’مَآءٌ حَمِیْمٌ‘ کا ذکر اہل دوزخ کے لیے ’نُزُلٌ‘ یعنی اولین سامان ضیافت کی حیثیت سے آیا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ بات فرمائی گئی ہے کہ اہل دوزخ کی پہلی ضیافت کھولتے پانی سے ہو گی۔ اس کے بعد ان کے لیے ہر قسم کے عذاب کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی (ہرگز نہیں)، وہ جنت جس کا وعدہ خدا سے ڈرنے والوں کے ساتھ کیا گیا ہے، اُس کی مثال یہ ہے کہ اُس میں پانی کی نہریں ہیں جس میں کوئی آمیزش نہیں ہوگی اور دودھ کی نہریں ہیں جس کے ذائقے میں ذرا فرق نہیں آیا ہو گا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے یکسر لذت ہوگی اور شہد کی نہریں ہیں جو بالکل صاف شفاف ہو گا اور اُن کے لیے اُس میں ہر قسم کے پھل ہیں اور اُن کے پروردگار کی طرف سے مغفرت بھی۔ کیا وہ جن کے لیے یہ نعمتیں ہیں، اُن لوگوں کی طرح ہو ں گے جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں، جنھیں اُس میں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو اُن کی آنتوں کو وہ ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے کہ اِس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے جس کا بنانے والا آسمان پر بیٹھا ہوا اِس کا تماشا دیکھ رہا ہے اور اِس کے خیر و شر سے اُس کو کوئی غرض نہیں ہے۔
      یہ جتنی نعمتیں بیان ہوئی ہیں، اِن میں، اگر غور کیجیے تو اِن کے خالص اور بے آمیز ہونے کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’... اِس کی وجہ یہ ہے کہ نعمتیں جتنی بھی ہیں، سب کا اصلی منبع جنت ہی ہے، لیکن اِس عالم ناسوت میں جب ہمیں وہ ملتی ہیں تو اتنے مراحل اور اتنے وسائل و وسائط سے گزر کر ملتی ہیں کہ اُن کی حقیقت و ماہیت بھی بالکل بدل جاتی ہے اور اُن کی شکل و صورت بھی بالکل مسخ ہو کے رہ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، سب سے زیادہ عام چیز پانی ہی کو لیجیے، یہ فضاؤں، بادلوں، ہواؤں، دریاؤں، ندیوں، نالوں اور زمین کی تہوں کے کتنے مراحل طے کر کے ہم تک پہنچتا ہے! ظاہر ہے کہ ہر مرحلے کے اثرات سے یہ متاثر ہوتا ہے جس کے سبب سے اِس کا وہ مزاج، جو اِس کے اصل منبع ،یعنی جنت میں ہے، بالکل بدل جاتا ہے۔
      علیٰ ہٰذا القیاس دودھ کو لیجیے۔ اِس دنیا میں یہ جن راستوں سے گزر کر ہمیں ملتا ہے، اُس کے متعلق خود قرآن کا بیان ہے کہ وہ ’مِنْ م بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ‘،* یعنی گوبر اور خون کے درمیان سے ہو کر ہم تک پہنچتا ہے۔ غور کیجیے کہ جنت کی جو نعمت اِس راستے سے گزر کر ہم تک پہنچے گی، وہ اپنی اصلی مزاجی خصوصیات پر کس طرح باقی رہ سکے گی۔ اِس وجہ سے جنت کے دودھ اور شہد اور اِس دنیا کے دودھ اور شہد میں اتنا ہی فرق ہے، جتنا فرق آسمان و زمین میں ہے۔ یہاں کی نعمتوں سے وہاں کی نعمتوں کا ایک مبہم سا تصور تو آپ کر سکتے ہیں اور یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی بھی اِسی لیے ہیں کہ ہم اِن مجازی نعمتوں سے اُن حقیقی نعمتوں کا تصور کر سکیں، لیکن دونوں میں نسبت بہرحال حقیقت و مجاز ہی کی ہے۔ اِس نسبت کو نظر اندازنہیں کرنا چاہیے۔ ‘‘(تدبرقرآن ۷/ ۴۰۴)

      تقابل کے اصول پر ’أفمن کان لہ مثل ھذہ الجنۃ‘یا اِس کے ہم معنی الفاظ یہاں بربناے قرینہ محذوف ہیں۔ استفہامیہ اور شرطیہ جملوں میں اِس قسم کا حذف معروف ہے۔
      یہ اہل دوزخ کی اولین ضیافت ہے جس کے بعد ہر قسم کے عذاب کے دروازے اُن کے لیے کھول دیے جائیں گے۔
      _____
      * النحل ۱۶: ۶۶۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو تمہاری طرف کان تو لگاتے ہیں لیکن جب تمہارے پاس سے باہر نکلتے ہیں تو علم والوں سے پوچھتے ہیں کہ ابھی انھوں نے کیا بات فرمائی! یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کر دی اور انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین کے ایک گروہ کی طرف اشارہ: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں سے خبردار کیا ہے جو بظاہر تھے تو مسلمانوں کے ساتھ لیکن ان کی ہمدردیاں تمام تر اسلام کے مخالفین کے ساتھ تھیں۔ ان لوگوں سے خبردار کرنے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ اوپر کی آیات میں مسلمانوں کو جس مہم کے لیے تیار ہونے کی ہدایت فرمائی گئی ہے اس کو سب سے زیادہ نقصان اسی طرح کے لوگوں سے پہنچ سکتا تھا۔ فرمایا کہ انہی میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تمہاری بات سننے کے لیے کان تو لگاتا ہے لیکن سنتا سمجھتا کچھ بھی نہیں۔ ان کا حال تو یہ ہے کہ جب یہ تمہارے پاس سے ہٹتے ہیں تو مجلس کے دوسرے اصحاب علم سے پوچھتے ہیں کہ بھائی، ابھی ابھی انھوں نے کیا فرمایا!
      ’مِنْہُمْ‘ کی ضمیر کا مرجع وہ گروہ ہے جس کا ذکر اوپر ’کَرِہُوْا مَآ أَنزَلَ اللہُ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ یعنی ایک گروہ تو تمہارے پاس اپنی بیزاری کی شدت کے باعث پھٹکتا ہی نہیں اور انہی میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تمہارے پاس آتا تو ہے لیکن سننے سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ بالکل منافقانہ آتا ہے۔
      ’مَاذَا قَالَ آنِفًا‘ کے سوال سے ایک تاثر تو وہ لوگوں کو یہ دینا چاہتے کہ جہاں تک بات سننے کا تعلق ہے وہ تو ہم نے بھی سنی اور اس پر عمل کرنے کے لیے بھی ہم جی جان سے حاضر ہیں لیکن ابھی تو بات ہی ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ وہ فرمانا کیا چاہتے ہیں؟ اس طرح وہ اپنی منافقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے۔
      دوسرا تاثر یہ دینا چاہتے کہ یہ باتیں ایسی نہیں ہیں کہ بے سوچے سمجھے ان پر آمنّا و صدّقنا کہہ دیا جائے بلکہ ان پر اچھی طرح غور کرنے اور ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ گویا درپردہ وہ ان مسلمانوں کی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات پر آمنّا و صدّقنا کہتے، اپنے اس فقرے سے دل شکنی کرتے کہ تم لوگ محض سادہ لوحی کے سبب سے ان کی ہر بات پر سرتسلیم خم کر دیتے ہو، ہم تو ان کی باتیں بہت توجہ سے سنتے ہیں لیکن ان کی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ واضح رہے کہ یہ طریقہ کسی کی عمدہ سے عمدہ بات کو مشتبہ بنا دینے کے لیے ایک نہایت کارگر طریقہ ہے۔ اسی مقصد سے یہ منافقین بعض اوقات یہ بھی کرتے کہ جب کوئی سورہ نازل ہوتی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو سناتے تو یہ مجلس سے اٹھنے کے بعد طنزیہ انداز میں یہ سوال کرتے کہ بھئی! بتاؤ اس سورہ سے کس کس کا ایمان تازہ ہوا ہے! سورۂ توبہ میں ان کی اس شرارت کا ذکر یوں آیا ہے:

      وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَۃٌ فَمِنْہُم مَّن یَقُولُ أَیُّکُمْ زَادَتْہُ ہَذِہِ إِیْمَاناً فَأَمَّا الَّذِیْنَ آمَنُواْ فَزَادَتْہُمْ إِیْمَاناً وَہُمْ یَسْتَبْشِرُونَ ۵ وَأَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوبِہِم مَّرَضٌ فَزَادَتْہُمْ رِجْساً إِلَی رِجْسِہِمْ وَمَاتُواْ وَہُمْ کَافِرُوۡنَ (التوبہ: ۱۲۴-۱۲۵)
      ’’اور جب کوئی سورہ اتاری جاتی ہے تو ان میں بعض یہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کس کس کا ایمان اس نے تازہ کیا ہے! تو جو ایمان لائے ان کے ایمان کو تو اس نے زیادہ کیا اور وہ اس سے بشارت حاصل کرتے ہیں۔ رہے وہ جن کے دلوں میں روگ ہے تو اس نے ان کی ناپاکی پر مزید ناپاکی کا اضافہ کیا اور وہ کفر ہی کے حال میں مرے۔‘‘

      ’اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ وَاتَّبَعُوۡا أَہْوَآءَ ہُمْ‘۔ فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے اور انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے۔ یہ اوپر کی آیت ۱۴ ’کَمَنْ زُیِّنَ لَہُ سُوۡءُ عَمَلِہٖ وَاتَّبَعُوۡا أَہْوَآءَ ہُمْ‘ کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی بدعملی ان کی نگاہوں میں کھبا دی گئی ہے اور یہ اپنی خواہشوں کے پیرو بن گئے ہیں اس وجہ سے اب یہ اسی انجام سے دوچار ہوں گے جو اس طرح کے لوگوں کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔ اس طرح کے لوگ اپنے آپ کو اس نور بصیرت سے محروم کر لیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ودیعت فرمایا ہے اس وجہ سے وہ وحی کے نور سے محروم ہی رہتے ہیں اور ان کی بدعملی کے سبب سے ان کے دلوں پر مہر کر دی جاتی ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اور (جو قرآن کو پسند نہیں کرتے)، اُن میں کچھ ایسے بھی ہیں جو تمھاری طرف کان لگاتے ہیں، (لیکن سنتے سمجھتے کچھ نہیں)۔ یہاں تک کہ جب تمھارے پاس سے باہر نکلتے ہیں تو علم والوں سے پوچھتے ہیں کہ اِبھی اِنھوں نے کیا فرمایا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے، اِس لیے کہ یہ اپنی خواہشوں کے پیرو بنے رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِن کا ذکر پیچھے آیت ۹ میں ہو چکا ہے۔
      یعنی ہماری سمجھ میں تو آیا نہیں، آپ لوگ کچھ سمجھ گئے ہوں تو بتا دیں۔ یہ فقرہ، ظاہر ہے کہ طنزیہ ہے، لیکن گرفت کی جائے تو کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ ہم تو بات کو سمجھنے کے لیے پوچھ رہے تھے، اِس لیے کہ پوری طرح سمجھیں گے تو عمل کریں گے۔
      اِن کے دلوں پر مہر کیوں کی گئی ؟ یہ اِس کی وجہ بتائی ہے کہ جب خواہشوں کی پیروی میں اِنھوں نے اُس نور بصیرت کی قدر نہیں کی جو اللہ نے اِن کی فطرت میں ودیعت فرمایا تھا تو اُس کی سزا کے طور پر اللہ نے اِنھیں اُس نور سے بھی محروم کر دیا جو اِن کے پاس قرآن کی صورت میں آیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور وہ لوگ جنھوں نے ہدایت کی راہ اختیار کی اللہ نے ان کی ہدایت میں افزونی بخشی اور ان کے حصہ کی پرہیز گاری ان کو عطا فرمائی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جنھوں نے اپنے نور فطرت کی حفاظت کی ان کے نور میں اضافہ ہوا: یہی وہی مضمون ہے جو سورۂ توبہ کی اس آیت میں بیان ہوا ہے جس کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے کہ جن کا نور فطرت بجھا نہیں تھا بلکہ انھوں نے اس کو محفوظ رکھا اللہ نے اپنے نبی کی صحبت سے ان کی ہدایت میں اضافہ فرمایا اور ان کی استعداد اور طلب کے اعتبار سے ان کے تقویٰ میں برکت بخشی۔ رہے وہ لوگ جو اپنے اندر نفاق کی پرورش کرتے رہے تو ان سے وہ بھی چھین لیا گیا جو ان کو بخشا گیا تھا۔

      جاوید احمد غامدی اِس کے برخلاف جنھوں نے ہدایت کی راہ اختیار کی ہے، اُن کی ہدایت (اِس قرآن سے) اللہ نے اور بڑھا دی اور اُن کے حصے کی پرہیزگاری اُنھیں عطا فرما دی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی یہ لوگ تو بس اسی بات کے منتظر ہیں کہ قیامت ان پر اچانک آ دھمکے۔ سو یاد رکھیں کہ اس کی علامتیں ظاہر ہو چکی ہیں تو جب وہ گھڑی آ ہی جائے گی تو ان کے لیے نصیحت حاصل کرنے کا موقع کہاں باقی رہے گا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جو عذاب کے منتظر ہیں ان کے لیے عذاب ہی ہے: یعنی اگر پیغمبرؐ کی باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آ رہی ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ اب فیصلہ کی گھڑی ہی کے انتظار میں ہیں کہ وہ اچانک ہی ان کے سر پر آ دھمکے۔ ’اَلسَّاعَۃَ‘ سے مراد قیامت بھی ہو سکتی ہے اور وہ فیصلہ کن عذاب بھی جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً اس کی قوم پر آ جاتا ہے۔ اللہ کے رسول ان دونوں ہی عذابوں سے اپنی اپنی قوموں کو آگاہ کرتے رہے ہیں اور ان دونوں میں نسبت مقدمہ اور تتمّہ کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان لوگوں پر اپنا کرم فرمایا کہ خطرہ سے آگاہ کر دینے کے لیے اپنا رسول بھیجا اور اپنی کتاب نازل فرمائی تاکہ جب وہ فیصلہ کی گھڑی آئے تو وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ان کے پاس کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا لیکن ان کا حال یہ ہے کہ یہ جان کر انجان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہ انجان بن رہے ہیں تو بنیں اللہ تو اپنا رسول آخری اتمام حجت کے لیے بھیجتا ہے۔ اگر اس کی تذکیر سے بھی ان کے کان نہ کھلے تو اب آخری چیز عذاب اور قیامت ہی ہے۔ اب یہ اسی سے دوچار ہوں گے اور جب یہ پیشگی آگاہی کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ اچانک ہی ان پر آ جائے۔
      عذاب کی علامتیں: ’فَقَدْ جَآءَ أَشْرَاطُہَا‘۔ یعنی عذاب کی گھڑی کا انتظار ہے تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی علامتیں اب نمایاں ہو چکی ہیں۔ یہ اشارہ اس سنت الٰہی کی طرف ہے جس کی وضاحت پچھلی سورتوں میں تفصیل سے ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ کن عذاب اس وقت تک کسی قوم پر نہیں بھیجتا جب تک اس کی مرکزی بستی میں اپنا رسول نہ بھیج لے۔ یہ چیز واقع ہو چکی اور اللہ تعالیٰ یہ دیکھ رہا ہے کہ قوم کے لوگ رسول کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں۔ اب تک قوم نے جو کچھ کیا ہے وہ مقتضی تو عذاب ہی کا ہے لیکن اللہ تعالیٰ مزید مہلت دے رہا ہے کہ جس کو سنبھلنا ہو وہ چاہے تو اب بھی سنبھل جائے۔ اگر لوگ اب بھی نہ سنبھلے تو خدا کا قانون ظاہر ہو کے رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو الگ کر لے گا اور ان لوگوں کو تباہ کر دے گا جو سرکشی اور فساد پر اڑے رہ جائیں گے۔ اس انجام کے آثار آفاق اور انفس دونوں میں نمایاں ہو رہے ہیں اور آگے یہ مزید نمایاں ہوں گے۔ یہاں تک کہ ایمان لانے والوں اور کفر کرنے والوں کی عدالت اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کر دے گا اور یہ عدالت تمہید اور توطیہ ہو گی اس عدالت کبریٰ کی جو اس کے بعد آخرت میں قائم ہو گی۔ آخری رسول کی بعثت اور اس کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اب آگے اسی کا مرحلہ ہے۔ چنانچہ بعض احادیث میں حضورؐ نے بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ آپ نے اپنی دو انگلیوں کو اٹھا کر فرمایا کہ جس طرح ان دونوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے اسی طرح میری بعثت اور قیامت کے مابین بھی کوئی فاصل نہیں ہے۔
      ’فَاَنّٰی لَہُمْ إِذَا جَآءَ تْہُمْ ذِکْرَاہُمْ‘۔ ’جَآءَ ت‘ کا فاعل ’اَلسَّاعَۃَ‘ ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ رسول پر ایمان لانے کے لیے فیصلہ کی گھڑی کے منتظر ہیں تو خوہ وہ فیصلہ کن عذاب کی شکل میں ظاہر ہو یا قیامت کی صورت میں، اس وقت ان کے لیے یاددہانی اور نصیحت حاصل کرنے کا موقع کہاں باقی رہے گا! اس تذکیر سے فائدہ اٹھانے کا موقع تو اسی وقت تک ہے جب تک وہ پردے میں ہے۔ اس کے بے نقاب ہو جانے کے بعد تو کسی کے ایمان کی قیمت دو کوڑی کے برابر بھی نہ ہو گی۔

      جاوید احمد غامدی (اِن کی سمجھ میں تمھاری بات نہیں آ رہی) تو اب یہ اِسی کے منتظر ہیں کہ قیامت اِن پر اچانک آجائے۔ سو یاد رکھیں کہ اُس کی علامتیں ظاہرہو چکی ہیں۔پھر جب وہ اِن پر آ ہی جائے گی تواِن کے لیے اِن کے سمجھنے کا موقع کہاں ہو گا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جب پیشگی آگاہی کی قدر نہیں کر رہے تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ یہی چاہتے ہیں اور اِسی کے منتظر ہیں۔
      یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی طرف اشارہ ہے۔ آپ چونکہ آخری نبی تھے، اِس لیے اِس بات کی بھی علامت تھے کہ اب دنیا کی بساط لپیٹی جانے والی ہے۔ پھر مزید یہ کہ آپ کی قوم کے لیے تو قیامت گویا سرپر کھڑی تھی، کیونکہ آپ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد ایک قیامت صغریٰ اُن کے لیے اِسی دنیا میں برپا ہونے والی تھی جو درحقیقت اُس عدالت کبریٰ کے لیے توطیہ اور تمہید ہوتی ہے جو آخرت میں قائم ہو گی۔

    • امین احسن اصلاحی تو جان رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں پس اپنی اور با ایمان مردوں اور عورتوں کی خطاؤں کی معافی مانگتے رہو اور اللہ جانتا ہے تمہاری آمد و شد کی جگہوں اور تمہارے ٹھکانوں کو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اب فیصلہ کی گھڑی قریب آ لگی ہے تو تم اس بات کو اچھی طرح جان رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ جو لوگ اپنے فرضی دیویوں دیوتاؤں کے بل پر اس سے نچنت ہیں ان کو اس وقت اچھی طرح معلوم ہو جائے گا کہ خدا کے مقابل میں کوئی بھی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہے۔
      عذاب سے بچنے کے لیے تیاری کی ہدایت: ’وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ‘۔ یہ اس وقت کی آفات سے محفوظ رہنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تیاری کی ہدایت ہے کہ جو لوگ اس سے نچنت ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑو، تم اپنی کوتاہیوں اور مومنین و مومنات کی کوتاہیوں کی اپنے رب سے معافی مانگتے رہو۔
      یہ خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امت کے وکیل اور شفیع کی حیثیت سے ہے۔ اللہ کا رسول اپنے تمام ساتھیوں کا، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں، بوجھ اپنے سر پر اٹھائے ہوئے برابر اپنے لیے بھی اور ان کے لیے بھی استغفار کرتا رہتا ہے۔ اس عمل کو مزید اہتمام و سرگرمی کے ساتھ جاری رکھنے کی یہ ہدایت ہوئی تاکہ فیصلہ کی گھڑی جب ظاہر ہو تو اہل ایمان اس کی آفتوں سے محفوظ رہیں۔
      یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ’ذنب‘ کی نسبت اول تو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے نہ کہ براہ راست اس کے ذمہ دار کی حیثیت سے۔ پھر انبیاء علیہم السلام سے جو خطائیں صادر ہوتی ہیں وہ اتباع ہوا کی نوعیت کی نہیں ہوتیں بلکہ صرف یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی وہ اتباع حق میں اس کے متعین حدود سے متجاوز ہو جاتے ہیں۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ اس قسم کا تجاوز بجائے خود کوئی معصیت نہیں ہے لیکن حضرات انبیاء علیہم السلام چونکہ حق و باطل کے امتیاز کے لیے کسوٹی ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی اس طرح کی باتوں پر بھی گرفت اور ان کی اصلاح فرماتا رہتا ہے۔
      پیغمبرؐ اور مسلمانوں کو حفاظت کی ضمانت: ’وَاللہُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَکُمْ وَمَثْوَاکُمْ‘۔ ’مُتَقَلَّب‘ مصدری معنی میں بھی ہو سکتا ہے اور ظرف کے مفہوم میں بھی ۔ ہم نے لفظ ’مَثْوٰی‘ کی رعایت سے اس کو ظرف کے مفہوم میں لیا ہے۔ یعنی آمد و شد کی جگہ۔
      یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے کہ اگر تم برابر اپنے رب سے استغفار کرتے رہے تو جہاں بھی ہو گے اللہ تعالیٰ تم کو اپنی حفاظت میں رکھے گا۔ وہ تمہاری آمد و شد کی جگہوں اور تمہارے ٹھکانوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ تم عذاب کی زد میں آ جاؤ۔

      جاوید احمد غامدی تو، (اے پیغمبر)، جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور (فیصلے کی گھڑی قریب آ گئی ہے تو) اپنی اور (اپنے ساتھی) مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی لغزشوں کی معافی مانگتے رہو۔ اللہ تمھارے آنے جانے کی جگہوں اور تمھارے ٹھکانوں کو جانتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ ہدایت جماعت کے وکیل اور شفیع کی حیثیت سے ہے اور اِس لیے کی گئی ہے کہ فیصلے کی گھڑی جب ظاہر ہو تو اہل ایمان اُس کی آفتوں سے محفوظ رہیں۔ آیت میں لغزش یا ’ذَنْب‘کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی ہوئی ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ’ذَنْب‘ کی نسبت اول تو... امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے نہ کہ براہ راست اُس کے ذمہ دار کی حیثیت سے۔ پھر انبیا علیہم السلام سے جو خطائیں صادر ہوتی ہیں، وہ اتباع ہوا کی نوعیت کی نہیں ہوتیں، بلکہ صرف یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی وہ اتباع حق میں اُس کے متعین حدود سے متجاوز ہو جاتے ہیں۔ اِس کی وضاحت اِس کے محل میں ہو چکی ہے۔ اِس قسم کا تجاوز کوئی معصیت نہیں ہے، لیکن حضرات انبیا علیہم السلام چونکہ حق و باطل کے امتیاز کے لیے کسوٹی ہوتے ہیں، اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ اُن کی اِس طرح کی باتوں پر بھی گرفت اور اُن کی اصلاح فرماتا رہتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن۷/ ۴۱۵)

      یہ تسلی کے لیے فرمایا ہے کہ اِس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ تم عذاب کی زد میں آجاؤ۔ تمھاری آمد و شد کی جگہوں اور تمھارے ٹھکانوں کو اللہ جانتا ہے۔ تم برابر اپنے رب سے استغفار کرتے رہے تو جہاں کہیں بھی ہوگے، اللہ تمھاری حفاظت فرمائے گا۔

    • امین احسن اصلاحی اور وہ لوگ جو ایمان لائے کہتے تھے کہ کوئی سورہ (درباب جہاد) کیوں نہیں اتاری جاتی؟ پس جب اتار دی گئی ایک واضح سورہ اور اس میں جنگ کا بھی ذکر ہوا تو جن کے دلوں میں روگ ہے ان کو تم دیکھتے ہو کہ وہ اس طرح تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں گویا ان پر موت کی غشی طاری ہو۔ پس ان کے حال پر افسوس ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین کا جہاد سے فرار: یہ انھی منافقین کے اس رویہ کی طرف اشارہ ہے جو انھوں نے جہاد کا حکم بالفاظ صریح (مذکورہ آیت نمبر ۴) سننے کے بعد اختیار کیا۔ فرمایا کہ پہلے تو یہ لوگ مسلمانوں پر اپنے دعوائے ایمان کی دھونس جمائے رکھنے کے لیے آگے بڑھ بڑھ کر مطالبہ کر رہے تھے کہ جہاد کے باب میں کوئی واضح حکم نازل نہیں ہوتا لیکن جب ایک سورہ نازل کر دی جاتی ہے اور اس میں نہایت غیر مبہم الفاظ میں جہاد کا ذکر آتا ہے تو جن کے دلوں میں نفاق اور حسد کا روگ ہے وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح وہ شخص دیکھتا ہے جس پر سکرات موت کی غشی طاری ہو۔
      ’یَقُوْلُ‘ سے پہلے ہمارے نزدیک عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق فعل ناقص محذوف ہے یعنی یہ مدعیان ایمان کہتے تھے۔
      ’اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘ میں فعل دعوائے فعل کے مفہوم میں ہے اور فعل کا اطلاق دعوائے فعل پر عربی میں معروف ہے۔ مثلاً

      ’یّٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ آمِنُواْ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ‘ (النساء: ۱۳۶)
      (اے لوگو! جنھوں نے ایمان کا دعویٰ کیا، اللہ اور اس کے رسول پر سچا ایمان لاؤ)۔

      ’وَلَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَۃٌ‘ کے بعد ’فِی الْجِھَادِ‘ یا ’فِی الْقِتَال‘ کے الفاظ محذوف ہیں۔ قرآن میں یہ اسلوب بھی معروف ہے کہ اگر ایک چیز کی تفصیل آگے آ رہی ہو تو پہلے اس کا ذکر اجمال کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ آگے اسی سورہ کی آیت ۳۶ میں بھی اس کی مثال آ رہی ہے۔ لوگوں کے سوالات نقل کرنے میں بھی اجمال کا یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ ’یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَھِلَّۃِ‘ (البقرہ ۱۸۹) کے تحت ہم اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے تو یہ لوگ بہت بڑھ چڑھ کر مطالبہ کر رہے تھے کہ صریح الفاظ میں کفار کے خلاف جہاد کا حکم کیوں نہیں نازل ہوتا لیکن اب جبکہ جہاد کا حکم دے دیا گیا اور بالکل قطعی الفاظ میں دے دیا گیا تو یہ مدعیان ایمان چھپتے پھرتے ہیں۔
      لفظ ’سُوْرَۃٌ‘ لفظ ’کِتَابٌ‘ کی طرح قرآن کی کسی سورہ کے مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے اور اس کے کسی اہم حکم کے لیے بھی۔ یہاں دونوں معانی بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ ’مُحْکَمَۃٌ‘ کی صفت اس کی قطعیت اور مستغنی عن التاویل ہونے کو ظاہر کر رہی ہے۔ یعنی اس میں نہ کسی قسم کا اجمال و ابہام ہے کہ وہ تعبیر و تاویل کا محتاج ہو، نہ وہ متشابہات کی قسم کی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اس کی تاویل معلوم نہ ہو۔
      ’رَأَیْْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوبِہِمۡ مَّرَضٌ‘ ’مَرَضٌ‘ سے مراد نفاق بھی ہے اور وہ کینہ و حسد بھی جو ان منافقین کے اندر اسلام اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تھا۔ آگے اسی سورہ کی آیات ۲۹ اور ۳۷ کے تحت اس کی وضاحت آ رہی ہے۔ البقرہ کی تفسیر میں اس کی تحقیق بیان ہو چکی ہے۔
      یہاں ان منافقین کی جو تصویر پیش کی گئی ہے یہی تصویر ان کی سورۂ نساء میں بھی ہے:

      اَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّواْ أَیْْدِیَکُمْ وَأَقِیْمُواْ الصَّلاَۃَ وَآتُواْ الزَّکَاۃَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْْہِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّہِ أَوْ أَشَدَّ خَشْیَۃً (النساء ۷۷)
      ’’تم نے ان لوگوں کا حال نہیں دیکھا جن سے کہا جاتا تھا کہ ابھی اپنے ہاتھ جنگ سے روکے رکھو اور نماز کا اہتمام کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو تو جب ان پر جنگ واجب کر دی گئی تو ان میں سے ایک گروہ کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہا ہے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے بلکہ کچھ اس سے بھی سوا۔‘‘

      یعنی جب تک جہاد کا حکم نہیں ہوا تھا اس وقت تک تو اللہ و رسول کے ساتھ اپنی وفاداری اور جاں نثاری کا مظاہرہ کرنے کے لیے جہاد کا بڑا ولولہ ظاہر کرتے تھے لیکن جب جہاد کا حکم دے دیا گیا تو اللہ سے زیادہ ان کے اندر آدمیوں کا ڈر سمایا ہوا ہے اور چھپتے پھرتے ہیں۔
      ’فَأَوْلٰی لَہُمْ‘۔ لعنت اور اظہار نفرت کا کلمہ ہے۔ اس کا مفہوم وہی ہے جو ’وَیْلٌ لَہُمْ‘ کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان کے دعوے کے ساتھ جب انھوں نے اپنے اندر اس نفاق اور بزدلی کی پرورش کی ہے تو ان پر خدا کی پھٹکار ہو!

       

      جاوید احمد غامدی یہ جو بظاہر ایمان لائے ہیں، کہتے تھے کہ (جنگ کے بارے میں) کوئی سورت کیوں نہیں اتاری جاتی؟ پھر جب ایک واضح سورت اتار دی گئی اوراُس میں جنگ کا ذکر بھی ہوا تو جن کے دلوں میں بیماری ہے، تم اُن کو دیکھتے ہو کہ وہ تمھاری طرف اِس طرح دیکھ رہے ہیں، جس طرح کوئی ایسا شخص دیکھتا ہے جس پر موت کی بے ہوشی طاری ہو۔ سو اِن کے حال پر افسوس۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘۔’الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘ میں فعل دعویٰ فعل کے مفہوم میں ہے اور ’یَقُوْلُ‘ سے پہلے عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق فعل ناقص محذوف ہے۔
      ’لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ‘ کے بعد یہ الفاظ آیت میں محذوف ہیں، یعنی ’فِی الْجِہَادِ‘ یا ’فِی الْقِتَالِ‘۔ قرآن کا عام اسلوب ہے کہ آگے تفصیل آ رہی ہوتو وہ پہلے اجمال کا طریقہ اختیار کرتا ہے جس کے مقدرات اُس تفصیل سے سمجھ لیے جاتے ہیں۔
      یہ بات وہ اپنے دعویٰ ایمان کی دھونس جمائے رکھنے کے لیے کہتے تھے تاکہ سننے والے یہی خیال کریں کہ وہ ایمان کے ہر تقاضے کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں، یہاں تک کہ اُس کے لیے جان بھی دینی پڑی تو دریغ نہیں کریں گے۔
      یعنی جس میں کوئی ابہام و اجمال یا تفسیر و تاویل کی گنجایش نہیں تھی۔
      یعنی کینے، حسد اور نفاق کی بیماری ہے۔
      اصل میں ’فَاَوْلٰی لَھُمْ‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہ بھی ’وَیْلَکَ‘ یا ’وَیْلٌ لَّھُمْ‘ کی طرح لعنت اور اظہار نفرت کا کلمہ ہے۔

    Join our Mailing List