Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 53 آیات ) Ash-Shuraa Ash-Shuraa
Go
  • الشوری (The Consultation)

    53 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور زمانۂ نزول

    اس سورہ کا بھی مرکزی مضمون توحید ہی ہے۔ اسی کے تحت قیامت سے بھی ڈرایا گیا ہے اس لیے کہ توحید کی اصلی اہمیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب اس بات پر ایمان ہو کہ انصاف کا ایک دن لازماً آنے والا ہے اور اس دن ہر شخص کو سابقہ اللہ واحد و قہار ہی سے پیش آئے گا، کسی کی مجال نہیں ہو گی کہ اس کی پکڑ سے کسی کو بچا سکے یا اس کے اذن کے بغیر اس کے سامنے زبان ہلا سکے۔
    استدلال کی بنیاد اس میں دعوت انبیاء کی تاریخ پر ہے کہ آدمؑ و نوحؑ سے لے کر اب تک تمام انبیاء نے اسی دین توحید کی دعوت دی اور ان کو بھی اللہ نے اسی طرح وحی کے ذریعہ سے تعلیم دی جس طرح یہ قرآن وحی کیا جا رہا ہے۔ مختلف حلقوں نے دین کے معاملہ میں جو اختلاف کیا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ کے رسولوں نے الگ الگ دینوں کی تعلیم دی بلکہ اس کی وجہ صرف باہمی عداوت و رقابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحیح علم آ جانے کے باوجود مختلف گروہوں نے اپنی ضد اور اپنی برتری قائم رکھنے کے زعم میں حق سے اختلاف کیا اور اس طرح لوگ مختلف گروہوں اور حلقوں میں بٹتے گئے۔ یہ قرآن اسی اختلاف کو مٹانے کے لیے ایک میزان حق بن کر نازل ہوا ہے۔ اگر لوگ اس میزان کے فیصلہ کو قبول نہیں کریں گے تو اب قیامت کی میزان عدل لوگوں کا فیصلہ کرے گی۔
    سورہ کے مطالب پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مکی دور کے آخر میں، ہجرت سے متصل زمانے میں نازل ہوئی ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قریش کے لیڈروں کو اس میں جو خطاب ہے اس کی نوعیت ودَاعیِ خطاب کی ہے، گویا ان سے متعلق پیغمبرؐ کی جو ذمہ داری تھی وہ پوری ہو گئی، اب ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے۔ اگر انھوں نے یہ ذمہ داری اب بھی محسوس نہ کی تو اس کے نتائج کے لیے تیار رہیں۔ اسی طرح مسلمانوں سے متعلق اس میں جو باتیں فرمائی گئی ہیں ان سے مترشح ہوتا ہے کہ اب وہ ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس میں ان کو ایک ہیئت اجتماعی کی شکل میں اپنے فرائض ادا کرنے ہیں جس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے انھیں تیار رہنا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں بار بار یہ تسلی دی گئی ہے کہ تمہاری ذمہ داری لوگوں کو واضح طور پر حق پہنچا دینے کی تھی وہ تم نے پوری کر دی۔ لوگوں کے دلوں میں ایمان اتار دینا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ اب ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ اسی ضمن میں بعض اعتراضات کے جواب بھی دیے گئے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر مخالفین کی طرف سے کیے گئے۔

  • الشوری (The Consultation)

    53 آیات | مکی

    حٰم السجدہ ۔ الشوریٰ

    ۴۱ ۔۴۲

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع توحید کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو انذار و بشارت ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ تنبیہ اور دوسری میں تفہیم کا پہلو نمایاں ہے۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ حٰمٓ (ہے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس سورہ کا قرآنی نام ہے۔ یاد ہو گا، پچھلی دو سورتوں کا نام بھی ’حٰمٓ‘ ہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورۂ ’حٰمٓ (عٓسٓقٓ‘ ہے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر دیا ہے۔ پچھلی سورہ کا نام بھی ’حٰمٓ‘ ہے۔ یہاں اُس پر ’عٓسٓقٓ‘ کا اضافہ ہے۔ یہ اِس بات کا قرینہ ہے کہ سورۂ حٰم السجدہ کے ساتھ اِس سورہ کا تعلق ایک تکملہ یا تتمہ کا ہے جس میں بعض خاص مطالب کی توضیح کی گئی ہے جو پچھلی سورہ میں بیان نہیں ہوئے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی عٓسٓقٓ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہاں اس پر ’عٓسٓقٓ‘ کا اضافہ ہے ۔ ناموں کا اشتراک عمود کی وحدت پر دلیل ہے اور یہ اضافہ اس بات کا قرینہ ہے کہ اس سورہ میں کچھ خاص مطالب بھی ہیں جو پچھلی دونوں سورتوں میں نہیں ہیں چنانچہ مطالب کے تجزیہ پر ایک نظر ڈال کر ان خاص مطالب کو الگ کیا جا سکتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ (سورۂ ’حٰمٓ) عٓسٓقٓ‘ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر دیا ہے۔ پچھلی سورہ کا نام بھی ’حٰمٓ‘ ہے۔ یہاں اُس پر ’عٓسٓقٓ‘ کا اضافہ ہے۔ یہ اِس بات کا قرینہ ہے کہ سورۂ حٰم السجدہ کے ساتھ اِس سورہ کا تعلق ایک تکملہ یا تتمہ کا ہے جس میں بعض خاص مطالب کی توضیح کی گئی ہے جو پچھلی سورہ میں بیان نہیں ہوئے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اسی طرح خدائے عزیز و حکیم وحی کرتا ہے تمہاری طرف اور اسی طرح وہ وحی کرتا رہا ہے ان کی طرف جو تم سے پہلے گزرے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تمام نبیوں کی تعلیم بھی ایک ہی رہی ہے اور طریقۂ تعلیم بھی ایک ہی رہا ہے: ’کَذٰلِکَ‘ کا اشارہ ان مطالب کی طرف ہے جو اس سورہ میں بیان ہوئے ہیں۔ ان مطالب کا ایک اجمالی تصور اس سورہ کے نام نے دے دیا ہے اس وجہ سے ’کَذٰلِکَ‘ کے ذریعہ سے ان کی طرف اشارہ بالکل موزوں ہے۔ یعنی اس نام سے موسوم سورہ میں جو باتیں وحی کی جا رہی ہیں یہ جس طرح تمہاری طرف وحی کی جا رہی ہیں اسی طرح تم سے پہلے آنے والے نبیوں کو بھی وحی کی جا چکی ہیں۔ ادائے مطلب میں بتقاضائے بلاغت ایجاز ہے۔ پوری بات گویا یوں ہے کہ ’اس طرح اللہ تم پر وحی کر رہا ہے اور اسی طرح اس نے ان نبیوں پر بھی وحی کی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں‘۔ اس قسم کے ایجاز کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔
      ’کَذٰلِکَ‘ وحدت مدعا کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے اور طریقۂ وحی کی یکسانی کی طرف بھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو تعلیم بھی انہی باتوں کی دی جن کی تعلیم تم کو دی جا رہی ہے اور اس تعلیم کے لیے طریقہ بھی وہی اختیار فرمایا جو تمہارے لیے اختیار فرمایا اس وجہ سے کسی پہلو سے بھی قرآن میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو لوگوں کے لیے باعث وحشت ہو۔ اگر یہ اس سے وحشت زدہ ہو رہے ہیں تو یہ ان کی اپنی طبیعت کا فساد ہے۔
      وحدت مدعا کی طرف اشارہ: وحدت مدعا کی طرف آگے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے:

      شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصَّی بِہِ نُوحاً وَالَّذِیْ أَوْحَیْْنَا إِلَیْْکَ وَمَا وَصَّیْْنَا بِہِ إِبْرَاہِیْمَ وَمُوسَی وَعِیْسَی أَنْ أَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیْہِ کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوہُمْ إِلَیْْہِ (۱۳)
      ’’تمہارے لیے اس نے اسی دین کو مقرر کیا جس کی تعلیم نوح کو دی اور اسی کی وحی ہم نے تم کو کی اور جس کی تلقین ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو بھی کی کہ اللہ کے دین کو قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ برپا کرو۔ مشرکین پر وہ چیز شاق گزر رہی ہے جس کی تم دعوت دے رہے ہو۔‘‘

      اس سے معلوم ہوا کہ جس اسلام اور جس دین توحید کی دعوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی اسی کی دعوت پر تمام انبیاء علیہم السلام مامور ہوئے لیکن مشرکین نے جو دین شرک ایجاد کیا اس کی عصبیت کے جوش میں اس دین حق کے مخالف بن کر اٹھ کھڑے ہوئے اور اسی قسم کی عصبیت کے جنون میں اہل کتاب بھی مبتلا ہو گئے۔
      طریقہ کی یکسانی کی طرف اشارہ: طریقہ کی یکسانی کی طرف آگے اس سورہ میں اس طرح اشارہ فرمایا ہے:

      وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَن یُکَلِّمَہُ اللَّہُ إِلَّا وَحْیْاً أَوْ مِن وَرَاء حِجَابٍ أَوْ یُرْسِلَ رَسُولاً فَیُوحِیَ بِإِذْنِہِ مَا یَشَاءُ إِنَّہُ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ ۵ وَکَذَلِکَ أَوْحَیْْنَا إِلَیْْکَ رُوحاً مِّنْ أَمْرِنَا مَا کُنتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتَابُ وَلَا الْإِیْمَانُ وَلَکِن جَعَلْنَاہُ نُوراً نَّہْدِیْ بِہِ مَنْ نَّشَاء مِنْ عِبَادِنَا (۵۱-۵۲)
      ’’اور کسی بشر کی یہ شان نہیں ہے کہ اللہ اس سے بات کرے مگر یہ کہ وحی کے ذریعہ سے یا پردہ کی اوٹ سے یا بھیجے اپنا کوئی فرشتہ پس وہ وحی کر دے اس کے اذن سے جو وہ چاہے۔ بے شک وہ بڑا ہی بلند اور حکیم ہے۔ اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی وحی کی ایک روح کی اپنے امر میں سے۔ تم نہ کتاب سے آشنا تھے اور نہ ایمان سے لیکن ہم نے اس کو ایک نور بنایا جس سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔‘‘

      اس سے واضح ہوا کہ آج جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر خدا پیغمبر سے کلام کرتا ہے تو ان سے بھی کلام کرے یا وہ اس طرح نمودار ہو کہ وہ اس کو دیکھیں اور اس کا کلام سنیں، یہ محض ان کی خود سری اور بددماغی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس طرح نہ کسی سے بات کرتا اور نہ اس طرح جلوہ نمائی کرنا اس کی شان ہے، بلکہ ہمیشہ سے اس کا طریقہ یہ رہا کہ اس نے اپنے جن بندوں کو نبوت کے کارخاص کے لیے منتخب فرمایا ان سے وحی کے ذریعہ سے بات کی اور اس وحی کا ایک خاص ضابطہ ہے۔
      آنحضرت صلعم کے لیے تسلی اور مخالفین پر اتمام حجت: اس بات کے کہنے سے مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا بھی ہے اور مخالفین پر اتمام حجت بھی۔ ظاہر ہے کہ جب آپ اسی دین حق کی دعوت دے رہے ہیں جس کی دعوت تمام نبیوں اور رسولوں نے دی تو آپ کوئی ایسی بات نہیں پیش کر رہے ہیں جس سے لوگ وحشت زدہ ہوں۔ جو لوگ اس سے وحشت زدہ ہیں وہ تمام نبیوں کی دعوت کے مخالف اور تعصب و عناد میں مبتلا ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس اگر آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا مشاہدہ نہیں کرا سکتے یا اس کو کلام کرتے دوسروں کو سنا نہیں سکتے تو یہ چیز بھی آپ کی نبوت کا کوئی نقص نہیں۔ آپ اللہ کی وحی پیش کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس سے بھی بات کرتا ہے وحی کے ذریعہ ہی سے کرتا ہے۔ اس سے زیادہ وہ کسی کو بھی نہیں نوازتا۔
      اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ’عزیز و حکیم‘ کا حوالہ یہاں تسلی کے مضمون سے بھی تعلق رکھتا ہے اور تہدید کے مضمون سے بھی۔ جب اللہ تعالیٰ ’عزیز‘ ہے تو وہ گردن کشوں کو جب چاہے دبا سکتا ہے۔ اگر وہ فوراً نہیں دباتا تو وہ اپنی حکمت کے تحت ان کو مہلت دے رہا ہے اس وجہ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے رب عزیز و حکیم پر بھروسا رکھنا اور ان لوگوں کا معاملہ اسی کے حوالہ کرنا چاہیے۔

       

      جاوید احمد غامدی اللہ ، غالب اور حکیم اِسی طرح تمھاری طرف وحی کرتا ہے اور جو تم سے پہلے گزرے ہیں، اُن کی طرف بھی اِسی طرح وحی کرتا رہا ہے، (اِنھی مطالب کے ساتھ اور اِسی طریقے سے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جو زبردست ہے اور چاہے تو گردن کشوں کی گردن دبا سکتا ہے، لیکن وہ حکیم بھی ہے، اِس لیے اُنھیں مہلت دیتا اور اُن کی ہدایت کے لیے یہ اہتمام فرماتا ہے مدعا یہ ہے کہ آپ بھی اپنے رب عزیز و حکیم پر بھروسا رکھیں۔ آپ کے مخاطبین کی مہلت ختم ہو جائے گی تو یہ بھی اُس کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔
      یعنی اُسی دین کی تعلیمات کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے تمام پیغمبروں کو وحی کے ذریعے سے دیا۔ چنانچہ اِس قرآن میں نہ کوئی نیا دین بیان ہوا ہے اور نہ اُس کے دینے کے لیے پچھلے پیغمبروں کے طریقے سے مختلف کوئی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ قرآن کے مخاطبین جن چیزوں پر اصرار کر رہے ہیں کہ خدا خود اپنے فرشتوں کے ساتھ بدلیوں میں نمودار ہو یا اُن میں سے ہر شخص سے براہ راست رابطہ کرکے اُس کو اپنا پیغام پہنچائے، اِن میں سے کوئی طریقہ بھی خدا نے کبھی اختیار نہیں کیا۔ اُس کا طریقہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ انسانوں میں سے اپنے کچھ خاص بندوں کو وہ نبوت کے لیے منتخب کرتا ہے، پھر اُن کو وحی کے ذریعے سے اپنا پیغام دیتا اور اُنھی کے ذریعے سے اُس کو لوگوں تک پہنچاتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہ بڑی ہی بلند اور عظیم ہستی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      صفت ’عزیز‘ کی وضاحت: یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ’عزیز‘ کی وضاحت ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ نہ کسی چیز میں کسی کا ساجھا ہے اور نہ کوئی چیز اس کے حیطۂ اقتدار و اختیار سے باہر ہے۔ وہ بڑی ہی بلند اور بڑی ہی عظیم ہستی ہے، کسی کا بھی یہ درجہ نہیں کہ اس کا کفو اور ہمسر ہو سکے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ لوگوں کو مہلت دے رہا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ لوگ اس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہو گئے اور اگر اس نے کسی کو عزت و شوکت بخشی ہے تو اس کو اتنا مغرور نہیں ہونا چاہیے کہ وہ خدا کو دیکھنے اور اس سے ہم کلام ہونے کا حوصلہ کر بیٹھے۔ اللہ کی بارگاہ بہت بلند اور اس کی ہستی بڑی عظیم ہے۔

      جاوید احمد غامدی آسمانوں میں جو کچھ ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اُسی کا ہے اور وہ برتر اور عظیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      لہٰذا اُس کی بارگاہ میں اِس طرح کے مطالبات پیش کرنے کی جسارت کسی کو بھی نہیں کرنی چاہیے کہ وہ سامنے آئے اور لوگوں سے خود ہم کلام ہو۔

    • امین احسن اصلاحی قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح اور زمین والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ آگاہ کہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا اللہ ہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’علّی‘ و ’عظیم‘ کی وضاحت: یہ خدائے ’علّی‘ و ’عظیم‘ کے علو اور اس کی عظمت کا بیان ہے کہ اس کی عظمت کے بوجھ سے آسمانوں کا یہ حال ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اوپر سے پھٹ پڑیں گے اور ملائکہ کا حال ’بایں ہمہ قربت‘ یہ ہے کہ اس کی خشیت کے سبب سے وہ ہر وقت اس کی تسبیح و تحمید میں لگے رہتے اور زمین والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ یعنی نادانوں نے تو فرشتوں کو خدائی میں شریک بنا رکھا ہے اور یہ توقع لیے بیٹھے ہیں کہ خدا کی بارگاہ میں ان کو وہ مقام حاصل ہے کہ وہ اپنے پجاریوں کو بڑے بڑے مرتبے دلوائیں گے اور خود ان کا حال یہ ہے کہ وہ ہر وقت اس کی خشیت سے لرزاں و ترساں اور مصروف تسبیح و تحمید ہیں۔
      ’تسبیح‘ اور ’حمد‘ کے فرق پر اس کے محل میں گفتگو ہو چکی ہے۔ ’تسبیح‘ میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے اور ’حمد‘ میں اثبات کا۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کو تمام خلاف شان باتوں سے، جن میں سب سے زیادہ نمایاں شرک ہے، پاک اور تمام اعلیٰ صفات سے، جن میں سب سے مقدم توحید ہے، متصف ٹھہراتے ہیں۔
      ’وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ‘ میں وہی بات فرمائی گئی ہے جو سورۂ مومن میں بدیں الفاظ گزر چکی ہے:

      اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِرَبِّھِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا. (۷)
      (جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں جو اس کے اردگرد ہیں وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے، اس پر ایمان رکھتے اور ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں)۔

      ملائکہ کا استغفار اہل زمین کے لیے: اس سے معلوم ہوا کہ ملائکہ اہل زمین میں سے ان لوگوں کے لیے استغفار کرتے ہیں جو اہل ایمان ہیں۔ چونکہ یہ بات واضح تھی اس وجہ سے آیت زیربحث میں یہ حذف کر دی گئی ہے۔ ملائکہ کا یہی استغفار ان کی شفاعت ہے جو وہ اپنے رب کی بارگاہ میں اہل ایمان کے لیے کر رہے ہیں۔ اس سے مشرکین کی مزعومہ شفاعت کی تردید ہو گئی۔
      ’اَلَآ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ‘۔ یہ مشرکین کو ایک برمحل تنبیہ ہے کہ کان کھول کر اچھی طرح سن لو کہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا اللہ ہی ہے۔ اگر یہ چیز فرشتوں کے اختیار میں ہوتی تو وہ اس تذلل کے ساتھ لوگوں کی مغفرت کے لیے اللہ تعالیٰ سے کیوں درخواست کرتے؟

       

      جاوید احمد غامدی قریب ہے کہ آسمان (اُس کی ہیبت کے مارے) اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے، (وہ تو) اپنے پروردگار (کی خشیت کے سبب سے اُس) کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح اور زمین والوں کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ سنو، حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے اور حمد میں اثبات کا۔ استاذ امام کے الفاظ میں، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کو تمام خلاف شان باتوں سے، جن میں سب سے زیادہ نمایاں شرک ہے، پاک اور تمام اعلیٰ صفات سے، جن میں سب سے مقدم توحید ہے، متصف قرار دیتے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ تمام قربت کے باوجود ، جو فرشتوں کو خدا کی بارگاہ میں حاصل ہے، اُن کا حال یہ ہے کہ خدا کی خشیت سے لرزاں و ترساں ہیں اور یہ احمق اُنھیں معبود بنائے بیٹھے ہیں، جبکہ وہ اِس کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کسی کو خدا کا شریک ٹھیرا دیں۔
      یعنی زمین پر جو اہل ایمان ہیں، اُن کی مغفرت کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ یہی اُن کی شفاعت ہے۔ اِس سے آگے کوئی چیز اُن کے اختیار میں نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اللہ ان پر نگرانی رکھے ہوئے ہے اور تم ان پر داروغہ نہیں مقرر کیے گئے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مشرکین کو نہایت سخت وعید: یہ مشرکین کو نہایت سخت انداز میں وعید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ ان واضح دلائل کے بعد بھی جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اور تمام تنبیہ و تذکیر کے باوجود اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں، اللہ ان کی کڑی نگرانی کر رہا ہے کہ جونہی وہ اپنی مہلت پوری کر لیں ان کو اپنے قہر و غضب کے پنجہ میں گرفتار کر لے۔ اس کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی کہ خدا نے تم پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی ہے کہ لازماً تم ان کو ایمان کی راہ پر لگا ہی دو۔ تمہاری ذمہ داری تبلیغ حق کی تھی وہ تم نے کر دی اور جب تک تمہارے رب کا حکم ہے، کرتے رہو۔ اگر یہ ایمان نہ لائے تو اس کی پرسش انہی سے ہونی ہے، تم سے نہیں ہونی ہے۔ یہی مضمون آگے اسی سورہ میں یوں آیا ہے:

      فَإِنْ أَعْرَضُوا فَمَا أَرْسَلْنَاکَ عَلَیْْہِمْ حَفِیْظاً إِنْ عَلَیْْکَ إِلَّا الْبَلَاغُ (۴۸)
      ’’پس اگر یہ اعراض کریں تو ہم نے تم کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا ہے، تمہارے اوپر ذمہ داری صرف واضح طور پر پہنچا دینے کی ہے۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی اِس کے باوجود جن لوگوں نے اُس کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں، اللہ اُن پر نگران ہے اور، (اے پیغمبر)، تم اُن پر ذمہ دار نہیں بنائے گئے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ نہایت سخت وعید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نگران ہے تو اِن کے تمام کرتوتوں کو دیکھ بھی رہا ہے، لہٰذا مہلت پوری ہو جائے گی تو اِن کواِن کے انجام تک پہنچا دے گا۔
      یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ تمھاری ذمہ داری صرف دعوت و تبلیغ کی ہے۔ اِس لیے یہ نہیں مانتے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اِن کی پرسش اِنھی سے ہونی ہے، تم سے نہیں ہونی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف ایک عربی قرآن وحی کیا ہے تاکہ تم اہل مکہ اور اس کے گرد و پیش والوں کو آگاہ کر دو اور اس دن سے ڈرا دو جو سب کے اکٹھے کرنے کا دن ہو گا جس کے آنے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ اس دن ایک گروہ جنت میں داخل ہو گا اور ایک گروہ دوزخ میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس ’کَذٰلِکَ‘ کا اشارہ آیت ۱ کے مضمون کی طرف ہے کہ جس طرح ہم نے تم سے پہلے آنے والے نبیوں اور رسولوں کو اپنی وحی سے سرفراز کیا اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی یہ قرآن بزبان عربی اتارا ہے تاکہ تم عرب کی مرکزی بستی اور اس کے گردوپیش کے لوگوں کو آگاہ کر دو۔
      قرآن کے ساتھ ’عربی‘ کی صفت بطور امتنان اور اتمام حجت ہے، جیسا کہ ’حٰمٓ السجدہ‘ کی آیت ۲۴ میں گزر چکا ہے کہ اہل عرب کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے کہ ان کے لیے اللہ کے دین کی پوری وضاحت نہیں کی گئی۔
      ’اُمّ الْقُرٰی‘ میں اتمام حجت کا پہلو: ’اُمُّ الْقُرٰی‘ سے مراد مکہ ہے اس لیے کہ ’اُمُّ الْقُرٰی‘ مرکزی بستی کو کہتے ہیں اور عرب میں مرکزی بستی کی حیثیت مکہ ہی کو حاصل تھی۔ یہاں مکہ کے بجائے ’اُمُّ الْقُرٰی‘ کے لفظ میں بھی اتمام حجت کا پہلو ہے۔ اگر ایک پیغام مرکزی بستی کے لوگوں کو پہنچا دیا گیا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس ملک کے لوگوں کو ان کے سرپر چڑھ کر پکار دیا گیا ہے۔ اگر ’اُمُّ الْقُرٰی‘ کے بجائے عرب کے کسی گوشے سے یہ دعوت اٹھتی تو باتیں بنانے والے یہ بات بنا سکتے تھے کہ آخر ہمارے اکابر و سادات اور ہمارے ذہین طبقہ کو چھوڑ کر قرآن نے سب سے پہلے عوام کے طبقہ کو کیوں مخاطب کیا، اس کے حق و باطل کے اصلی پرکھنے والے تو مکہ کے سادات ہو سکتے تھے!
      ’وَمَنْ حَوْلَھَا‘ سے کیا مراد ہے؟ ’وَمَنْ حَوْلَھَا‘ سے بعض لوگوں نے تمام عالم کو مراد لیا ہے۔ ان کے اس خیال کی بنیاد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تمام عالم کے لیے ہوئی ہے، اس وجہ سے صرف اطراف مکہ یا ملک عرب ہی کے شہر مراد نہیں ہیں، بلکہ پوری دنیا مراد ہے۔ یہ بات اگرچہ بجائے خود ایک حقیقت ہے کہ آنحضرتؐ خاتم النبیین ہیں، اس وجہ سے آپ کی بعثت تمام عالم کے لیے ہوئی، لیکن ’وَمَنْ حَوْلَھَا‘ کی یہ تاویل الفاظ کے حدود سے اول تو صریح تجاوز ہے پھر اصل مقصد کے لیے اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ آپ دو بعثتوں کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں۔ ایک بعثت خاص، دوسری بعثت عام۔ آپ کی بعثت خاص اہل مکہ اور اہل عرب کی طرف ہوئی اور ان پر آپ نے براہ راست حجت قائم فرمائی۔ رہی آپ کی بعثت عام تو وہ تمام عالم کے طرف ہے اور اہل عالم پر دین حق کی شہادت دینے کی ذمہ داری قرآن نے بھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی، قیامت تک کے لیے ملت مسلمہ پر ڈالی ہے اور اس ذمہ داری ہی کی بنا پر اس امت کو اللہ تعالیٰ نے ’شُھَدَآءُ اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ‘ کے منصب پر سرفراز فرمایا ہے۔ یہ اس امت کا فریضۂ منصبی ہے کہ اللہ کے رسول نے دین حق کی گواہی جس طرح اس امت کے لوگوں پر دی اسی طرح یہ برابر دوسروں کے سامنے یہ گواہی دیتی رہے۔ اسی فریضہ کے تقاضے سے اس امت کو یہ شرف بھی حاصل ہوا کہ ایک گروہ اس میں ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ یہاں تک کہ یہ اس وقت بھی حق پر قائم رہے گا جب دنیا کی رگ رگ میں باطل کا زہر سرایت کر جائے گا۔ ۱؂
      عدالت عام سے انذار: ’وَتُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْہِ‘۔ انذار عام کے بعد یہ انذار خاص کا ذکر ہے کہ ان لوگوں کو خاص طور پر ’یَوْمَ الجمع‘ سے ڈرا دو۔ ’یَوْمَ الجمع‘ سے اشارہ ظاہر ہے کہ روز قیامت کی طرف ہے۔ روزقیامت کو ’یَوْمَ الجمع‘ سے تعبیر کرنے میں اس بات کی آگاہی ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ بلااستثناء سب کو اکٹھا کرے گا۔ عابدوں کو بھی اور معبودوں کو بھی؛ لیڈروں کو بھی، ان کے پیرؤوں کو بھی، انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو بھی؛ کفار اور ان کے حمایتیوں کو بھی۔ اور ان سب کی موجودگی میں، بھری عدالت میں، فیصلہ فرمائے گا کہ اللہ کے دین کے معاملے میں کس کا رول کیا رہا ہے؟ کس نے اس میں اختلاف برپا کیا اور فساد ڈالا اور کس نے اس کی وحدت و پاکیزگی قائم رکھنے کی کوشش کی۔ کون انعام کا مستحق ہے اور کون سزا کا؟
      ’فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّۃِ وَفَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ‘۔ یہ اس کھلی عدالت کے فیصلہ کا بیان ہے کہ اس دن ایک گروہ یعنی اہل ایمان کا گروہ لازماً جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ یعنی اہل کفر کا گروہ لازماً دوزخ میں۔
      _____
      ۱؂ اس مسئلہ پر مفصل بحث ہم اپنی کتاب ’دعوت دین اور اس کا طریق کار‘ میں کر چکے ہیں۔ جن لوگوں کو دلائل کی تفصیل مطلوب ہو، اس کی مراجعت کریں۔

      جاوید احمد غامدی اِسی طرح، (جیسے کہ بیان ہوا) ہم نے ایک عربی قرآن تمھاری طرف وحی کیا ہے تاکہ تم مکہ والوں کو اور اُس کے گردوپیش رہنے والوں کو خبردار کردو، خاص کر اُس دن سے خبردار کر دو جو سب لوگوں کے جمع ہونے کا دن ہے، جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اُس دن ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ جہنم میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      قرآن کے ساتھ ’عَرَبِیّ‘ کی صفت بطور امتنان اور اتمام حجت ہے کہ اِس کے بعد اہل عرب کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔
      اصل میں لفظ ’اُمَّ الْقُرٰی‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ مرکزی بستی کو کہتے ہیں اور عرب میں مرکزی بستی کی حیثیت مکہ ہی کو حاصل تھی۔ یہ بھی، ظاہر ہے کہ اتمام حجت کے پہلو سے ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اگر ایک پیغام مرکزی بستی کے لوگوں تک پہنچا دیا گیا ہے تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ اُس ملک کے لوگوں کو اُن کے سر پر چڑھ کر پکار دیا گیا ہے۔ اگر ’اُمُّ الْقُرٰی‘ کے بجاے عرب کے کسی گوشے سے یہ دعوت اٹھتی تو باتیں بنانے والے یہ بات بنا سکتے تھے کہ آخر ہمارے اکابر و سادات اور ہمارے ذہین طبقہ کو چھوڑ کر قرآن نے سب سے پہلے عوام کے طبقے کو کیوں مخاطب کیا، اُس کے حق و باطل کے اصلی پرکھنے والے تومکہ کے سادات ہو سکتے تھے!‘‘(تدبرقرآن۷/ ۱۴۳)

      نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت براہ راست اہل عرب کی طرف ہوئی تھی۔ اِس میں شبہ نہیں کہ دنیا کی دوسری تمام قومیں بھی آپ پر ایمان اور آپ کی اطاعت کی مکلف ہیں، لیکن اُن تک پیغام پہنچانے کی ذمہ داری قرآن نے براہ راست آپ پر نہیں، بلکہ آپ کی قوم بنی اسمٰعیل پر ڈالی ہے جس میں تبعاً دوسرے مسلمان بھی شریک ہیں۔ اِس کی وضاحت دوسرے مقامات میں ہوگئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ داخل کرتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے اور جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں نہ ان کا کوئی کارساز ہو گا اور نہ مددگار۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک شبہ کا جواب: اب یہ ایک شبہ کا جواب دیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ایک ہی دین دیا تو اس نے یہ کیوں نہیں پسند فرمایا کہ سب اسی دین پر رہتے؟ اس نے یہ موقع کیوں دیا کہ لوگ اس میں اختلاف برپا کریں اور اس اختلاف کا نتیجہ بالآخر یہ نکلے کہ ایک گروہ تو جنت کا حق دار ٹھہرے اور دوسرا دوزخ کا سزاوار قرار پائے؟
      اس کا جواب یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرنا چاہتا تو کر سکتا تھا، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں تھا۔ لیکن اس نے یہ نہیں پسند فرمایا کہ وہ لوگوں کو اپنی ہدایت قبول کرنے پر مجبور کرے بلکہ اس نے چاہا کہ لوگوں کو اختیار دے کر ان کے سامنے اپنی ہدایت رکھے کہ لوگ اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر، اپنی آزادئ رائے کے ساتھ، ہدایت کو اختیار کریں اور اللہ کی رحمت میں داخل ہونے کے سزاوار بنیں۔ ’یُدْخِلُ مَنۡ یَشَاءُ فِیْ رَحْمَتِہٖ‘ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی جس مشیت کا ذکر فرمایا ہے وہ اس کی رحمت اور اس کے عدل کے تحت ہے۔ اس وجہ سے اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جن کے لیے اس کا عدل مقتضی ہو کہ وہ اس کی رحمت میں داخل ہوں ان کو وہ اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ اس مضمون کو اس کے بعد ’وَالظَّالِمُونَ مَا لَہُم مِّن وَلِیٍّ وَلَا نَصِیْرٍ‘ فرما کر واضح بھی کر دیا کہ جو لوگ ظالم یعنی کافر و مشرک ہیں نہ ان کا کوئی کارساز ہو گا، نہ کوئی مددگار۔ یعنی نہ ان کے مزعومہ اولیاء ان کے کام آنے والے بنیں گے اور نہ ان کی کوئی جمعیت و جماعت ہو گی جو ان کی کوئی مدد کر سکے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صرف وہ لوگ محروم ہوں گے جو ظالم و مشرک ہوں گے اور ایسا اس لیے ہو گا کہ یہ اس کے عدل کا تقاضا ہے۔ اس کی مشیت اس کے عدل پر مبنی ہے اور کسی کی طاقت نہیں ہے کہ اس کی مشیت کو بدل سکے۔
      یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے اور اس کتاب میں بار بار اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔ ہم مزید وضاحت کے لیے یہاں بھی چند آیات کا حوالہ دیے دیتے ہیں۔ سورۂ یونس میں فرمایا ہے:

      وَلَوْ شَاء رَبُّکَ لآمَنَ مَنۡ فِی الأَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعاً أَفَأَنتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتَّی یَکُونُواْ مُؤْمِنِیْنَ ۵ وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّہِ وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یَعْقِلُوۡنَ (یونس: ۹۹-۱۰۰)
      ’’اور اگر تیرا رب چاہتا تو زمین میں جو بھی ہیں سب ایمان پر ہوتے تو کیا تم لوگوں کو مجبور کرو گے کہ وہ مومن بن جائیں اور کوئی جان بھی ایمان نہیں لا سکتی مگر اللہ کے اذن سے اور اللہ ان لوگوں پر گندگی لاد دیتا ہے جو اپنی عقل سے کام نہیں لیتے۔‘‘

      اس سے معلوم ہوا کہ ایمان و ہدایت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر منحصر ہے اور اس کی مشیت ان لوگوں کو ایمان کی توفیق بخشتی ہے جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں۔ جو عقل سے کام نہیں لیتے ان کی عقل ایسی گندگی کے ڈھیر کے نیچے دب جاتی ہے کہ ان کو ایمان و ہدایت کی روشنی نظر نہیں آتی۔ یہی مضمون سورۂ سجدہ میں اس طرح بیان ہوا ہے:

      وَلَوْ شِئۡنَا لَآتَیْْنَا کُلَّ نَفْسٍ ہُدَاہَا (السجدہ: ۱۳)
      ’’اور اگر ہم چاہتے تو ہر جان کو اس کی ہدایت دے دیتے۔‘‘

      یعنی اگر ہم لوگوں کو ایمان پر مجبور کرنا چاہتے تو سب کو مومن بنا دیتے لیکن ہم نے لوگوں کو اختیار دے کر آزمایا ہے کہ کون ایمان کی راہ اختیار کرتا ہے، کون کفر کی۔ پس جو کفر کی راہ اختیار کریں گے ہم ان سب کو جہنم میں بھر دیں گے اور ان لوگوں کو جنت میں داخل کریں گے جو ایمان لائیں گے۔
      یہی بات نہایت وضاحت سے سورۂ دہر میں اس طرح ارشاد ہوئی ہے:

      إِنَّ ہَذِہِ تَذْکِرَۃٌ فَمَن شَاء اتَّخَذَ إِلَی رَبِّہِ سَبِیْلاً ۵ وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَن یَشَاءَ اللَّہُ إِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلِیْماً حَکِیْماً ۵ یُدْخِلُ مَن یَشَاءُ فِیْ رَحْمَتِہِ وَالظَّالِمِیْنَ أَعَدَّ لَہُمْ عَذَاباً أَلِیْماً (الدہر: ۲۹-۳۱)
      ’’یہ قرآن تو بس ایک یاددہانی ہے تو جس کا جی چاہے اپنے رب کی راہ اختیار کرے اور تمہارا چاہنا کچھ نہیں ہے مگر یہ کہ اللہ بھی چاہے۔ بے شک اللہ علیم و حکیم ہے۔ وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ رہے اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تو ان کے لیے اللہ نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

      اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو تسلی دی گئی ہے کہ لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی سے پریشان نہ ہو۔ یہ قرآن لوگوں پر زبردستی لادنے کی چیز نہیں ہے۔ یہ صرف ایک یاددہانی ہے۔ تو اس کے ذریعہ سے لوگوں کو یاددہانی کرو۔ جس کا جی چاہے ایمان لائے، جس کا جی چاہے کفر کی راہ اختیار کرے۔ اگر تم لوگ ان کے ایمان کے خواہش مند ہو تو تمہاری خواہش سے کچھ نہیں ہو سکتا جب تک اللہ کی مشیت نہ ہو اور اللہ کی مشیت اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔ وہ اپنی رحمت میں انہی کو داخل کرتا ہے جن کو چاہتا ہے اور وہ انہی کو چاہتا ہے جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے نہیں ہوتے بلکہ اللہ کی بخشی ہوئی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے اور اس کی ہدایت کی قدر کرتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو آنکھیں رکھتے ہوئے اندھے بن کر چلتے ہیں تو ایسے ظالموں کے لیے اللہ نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (اِس سے زیادہ تمھاری کوئی ذمہ داری نہیں ہے)۔ اگر اللہ چاہتا تو اِن سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن (اُس نے لوگوں کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی، لہٰذا اب) وہ جس کو چاہتا ہے، (اپنے قانون کے مطابق) اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور رہے وہ لوگ جو اپنی جان پر ظلم ڈھانے والے ہیں تو اُن کا نہ کوئی کارساز ہو گا اور نہ مددگار۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس قانون کے مطابق کہ اُس کی رحمت کے مستحق وہی ہوں گے جو شرک اور نافرمانی اختیار کرکے اپنی جان پر ظلم نہیں ڈھائیں گے، بلکہ خدا کی بخشی ہوئی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں گے اور اُس کی ہدایت کی قدر کریں گے۔قرآن میں یہ قانون متعدد جگہوں پر بیان ہوا ہے اور ہر جگہ یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کو کوئی بدل نہیں سکتا، لیکن اُس کی یہ مشیت اندھا دھند نہیں ہے، یہ اُس کے عدل اور اُس کی حکمت کے تحت ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا ان لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں تو یاد رکھیں کہ کارساز اللہ ہی ہے اور وہ مُردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سوال یہاں اظہار تعجب اور انکار کے مفہوم میں ہے۔ اوپر والی آیت میں فرمایا ہے کہ ان کے لیے نہ کوئی کارساز ہو گا، نہ مددگار۔ یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ اگر انھوں نے اللہ کے سوا کچھ دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں تو یہ محض ان کی بوالفضولی ہے۔ کارساز صرف اللہ ہی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وہی ہے جو مردوں کو زندہ کرے گا اور ہر ایک کی پیشی اس کے حضور میں ہونی ہے تو کارساز کوئی دوسرا کیسے بن جائے گا۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے تو اس کے ہوتے کسی کارساز کی ضرورت کیا رہی اور اس کے آگے کسی بڑے سے بڑے کارساز کی کارسازی کیا کارگر ہو سکتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی کیا اِن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں؟ تو یاد رکھیں کہ اللہ ہی کارساز ہے، وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور (یہ اُس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں)، وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور جس کسی چیز میں بھی تم نے اختلاف کیا ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کے حوالہ ہے۔ وہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حوالہ جو اپنی ضد پر اڑے ہوئے تھے: اوپر آیت ۸ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ مخالفین کی ضد اور مکابرت سے آپ پریشان نہ ہوں۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ نے جو سنت مقرر کر رکھی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہ لوگ اللہ کے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہیں اس وجہ سے ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیجیے۔ اسی ہدایت کے بموجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حوالہ فرما دیا۔ چونکہ یہ بات اوپر والی آیت ہی کی تعمیل میں تھی اس وجہ سے اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نئی ہدایت کی ضرورت نہیں تھی بلکہ کہنے کی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلا دی گئی۔ فرمایا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے دین کی جس بات میں بھی تم نے اختلاف کیا، خواہ وہ توحید ہو یا آخرت، میری ذمہ داری اس میں صرف حق پہنچا دینے کی تھی سو وہ میں نے تم کو پہنچا دیا۔ اب اس کا فیصلہ اللہ کے حوالہ ہے۔ وہ فیصلہ فرمائے گا کہ میں نے حق پہنچانے میں کوتاہی کی یا تم نے حق کو پہچان کر اس کو جھٹلایا! وہی اللہ میرا رب ہے اس وجہ سے میں نے اس پر بھروسہ کیا اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے۔

      جاوید احمد غامدی تم جن چیزوں میں بھی کوئی اختلاف رکھتے ہو، (خواہ وہ توحید ہے یا آخرت)، اُس کا فیصلہ اللہ ہی کے حوالے ہے۔ وہی اللہ میرا پروردگار ہے، اُسی پر میں نے بھروسا کیا ہے اور اُسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے متکلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہو گئے ہیں۔ گویا اوپر جو فرمایا تھا کہ تمھاری ذمہ داری صرف دعوت و تبلیغ ہے، اِس کے بعد لوگوں کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے تو آپ نے اُس کی تعمیل کر دی۔

    • امین احسن اصلاحی وہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے پیدا کیے اور چوپایوں کی جنس سے بھی جوڑے پیدا کیے۔ اس مزرعہ کے اندر وہ تمہاری تخم ریزی کرتا ہے۔ اس کے مانند کوئی شے بھی نہیں ہے۔ اور وہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ تعالیٰ کی یکتائی کی دلیل: اوپر آیت ۱۰ میں یہ جو فرمایا ہے۔ ’ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبِّیْ عَلَیْْہِ تَوَکَّلْتُ‘ اس کی یہ مزید وضاحت ہے کہ آسمانوں اور زمین کا خالق اور تمام انسانوں اور دوسری مخلوقات کو وجود میں لانے والا وہی ہے۔ دوسرا کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اس کی ذات یا صفات میں اس کا مثیل ہو سکے تو کوئی اور کس طرح حق دار ہو سکتا ہے کہ اس کو اس کا شریک ٹھہرایا اور مولیٰ و مرجع بنایا جائے!
      ’یَذْرَؤُکُمْ فِیْہِ‘۔ میں ضمیر مجرور کا مرجع الفاظ کے اندر نہیں ہے بلکہ اس مفہوم کے اندر ہے جو الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے۔ الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور چوپایوں کے اندر ان کی جنس سے جو جوڑے پیدا کیے ہیں تو اس طرح گویا انسانوں اور چوپایوں کی تخلیق کے لیے ان کے اپنے نوعی نظام کے اندر ہی ایک فارم یا مزرعہ بنا دیا ہے جس میں وہ ان کی برابر تخم ریزی کرتا اور ان کو پروان چڑھاتا ہے۔ عربی زبان میں اس طرح ضمیریں آتی ہیں۔ اس کتاب میں اس کی بعض نہایت واضح مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
      ’لَیْْسَ کَمِثْلِہِ شَیْءٌ‘۔ اوپر والے ٹکڑے میں خالق آسمان و زمین کی جس قدرت و حکمت کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ اس کا نتیجہ سامنے رکھ دیا ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین جیسی عظیم چیزیں پیدا کیں، جس نے انسانوں اور چوپایوں کی نسل چلانے کے لیے یہ حیرت انگیز نظام قائم فرمایا آخر دوسرا کون ایسا ہو سکتا ہے جس کو اس کا مثل قرار دیا جا سکے؟ کوئی چیز بھی نہ اس کے مثل ہے، نہ ہو سکتی ہے۔ وہ اپنی ذات اور صفات میں بالکل یکتا ہے۔ پھر اس سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ جب آسمانوں کا خالق وہ ہے تو ان سے جو کچھ اترتا ہے اس کا اتارنے والا بھی وہی ہے، جب زمین کا بنانے والا وہ ہے تو اس سے جو کچھ برآمد ہوتا ہے اس کا برآمد کرنے والا بھی لازماً وہی ہے۔ جب عورت اور مرد، نر اور ناری کا خالق وہ ہے تو جو خلق ان سے وجود میں آتی ہے ان کا وجود میں لانے والا بھی وہی ہوا۔ مطلب یہ نکلا کہ جب آسمانوں اور زمین اور عورت و مرد کا خالق خدا کے سوا کسی دوسرے کو نہیں قرار دیا جا سکتا تو ان کے باہمی تفاعل سے وجود میں آنے والی چیزوں کو کس طرح کسی دوسرے کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے؟ کون ہے جس نے ان کاموں میں سے کوئی ایک بھی کیا ہو یا کر سکے جو خدا نے کیے ہیں کہ اس کو اس کا ہم پایہ بنا دیا جائے؟
      ’وَہُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ‘۔ یہ اس سبق سے نکلا ہوا آگے کا سبق ہے کہ جس طرح اس کائنات کے مشاہدے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کوئی اس کا مثیل نہیں ہے اسی طرح یہ حقیقت بھی اس سے نکلتی ہے کہ حقیقی سمیع و بصیر وہی ہے۔ ایک سمیع و بصیر خالق ہی اتنی وسیع کائنات کو وجود میں لا سکتا ہے اور وہی اس کو برقرار بھی رکھ سکتا ہے ۔۔۔ تو جب اس کی قدرت بھی بے مثال اور اس کا علم بھی محیط کل تو سب اسی کی بندگی کریں اور اسی سے اپنی ضرورتیں مانگیں۔ وہ سب کی باتیں سنتا اور سب کچھ دیکھتا ہے۔ اس سے مانگنے کے لیے کسی واسطہ اور وسیلہ کی ضرورت نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی وہی زمین اور آسمانوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اُسی نے تمھاری جنس سے تمھارے لیے جوڑے بنائے اور چوپایوں کی جنس سے بھی جوڑے بنائے۔وہ اِس مزرعہ میں تمھاری تخم ریزی کرتا ہے۔ اُس کے مانند کوئی چیز نہیں ہے اور وہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں:’یَذْرَؤُکُمْ فِیْہِ‘۔ اِن میں ضمیر مجرور کا مرجع اُس مفہوم کے اندر ہے جو الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے، یعنی انسانوں اور جانوروں کے اندر پیدایش کا وہ نظام جو گویا ایک فارم یا مزرعہ ہے جس سے وہ اگتے رہتے ہیں۔ عربی زبان میں ضمیریں اِس طریقے سے آتی ہیں۔
      یہ پچھلی بات کا نتیجہ ہے کہ جس نے یہ عظیم چیزیں پیدا کیں اور تخلیق کا یہ حیرت انگیز نظام قائم کیا ہے، اُس کے مثل کوئی چیز آخر کیسے ہو سکتی ہے؟ یقیناً کوئی چیز بھی اُس کے مثل نہیں ہے۔
      یعنی حقیقی سننے والا اور دیکھنے والا وہی ہے، اِس لیے کہ ایک سمیع و بصیر خالق ہی ایسی وسیع کائنات کو وجود میں لا سکتا ہے اور وہی اُسے قائم رکھ سکتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں۔ وہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ بے شک وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جو خالق ہے وہی مالک بھی ہے: جب اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ وہی ان کا مالک بھی ہو۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ان کو پیدا تو کرے لیکن پیدا کرنے کے بعد ان کے خزانوں کی کنجیاں دوسروں کو پکڑا دے؟ اسی کے حکم سے بارش ہوتی ہے اور اسی کے حکم سے زمین اپنے خزانے اگلتی ہے اور وہی ہے جو اپنے علم اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے تحت جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں کشادگی دیتا ہے، جس کے لیے چاہتا ہے اس کے رزق کو تنگ کر دیتا ہے۔ نہ رزق کے پیدا کرنے میں کسی دیوی دیوتا کا کوئی دخل ہے اور نہ اس کی تقسیم میں کسی کو دخل ہے۔ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں اس وجہ سے شکر کا حقیقی سزاوار وہی ہے۔ وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے اس وجہ سے بندوں کو اسی سے امید بھی رکھنی چاہیے اور اسی سے ڈرنا بھی چاہیے اور اگر کسی کے رزق میں تنگی ہو تو اس بدگمانی میں اس کو نہیں مبتلا ہونا چاہیے کہ خدا کو اس کی خبر نہیں ہے یا اس نے اس کے ساتھ کوئی ناانصافی کی ہے بلکہ یہ اطمینان رکھنا چاہیے کہ جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے خدا کے علم سے ہو رہا ہے اور اسی میں حکمت ہے۔

      جاوید احمد غامدی زمین اور آسمانوں کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں۔ وہ جس کی روزی چاہتا ہے ، کشادہ کرتا ہے اور جس کی چاہتا ہے، تنگ کر دیتا ہے۔ بے شک، وہ ہر چیز سے واقف ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جب وہ خالق ہے تو وہی مالک بھی ہے۔ اُس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد اُن کے خزانوں کی کنجیاں کسی اور کے ہاتھ میں نہیں دے دی ہیں۔ وہ اُسی کے پاس ہیں۔ اِس لیے عنایت و رحمت کی تمام امیدیں بھی اُسی سے رکھنی چاہییں۔ کسی دوسرے کے پاس کچھ ہے ہی نہیں کہ اُس سے کوئی امید رکھی جائے۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی ہدایت اس نے نوح کو فرمائی اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ پیدا کیجیو۔ مشرکین پر وہ چیز شاق گزر رہی ہے جس کی طرف تم ان کو دعوت دے رہے ہو۔ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف آنے کے لیے چن لیتا ہے اور وہ اپنی طرف رہنمائی ان کی کرتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہی دین تمام نبیوں کا دین ہے: سورہ کی تمہید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے یہ جو فرمایا ہے کہ تمہیں اسی دین حق کی وحی کی جا رہی ہے جس کی وحی تم سے پہلے آنے والے نبیوں اور رسولوں کو کی گئی، یہ اسی مضمون کی وضاحت قریش اور اہل عرب کو مخاطب کر کے کی جارہی ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے وہی دین پسند فرمایا ہے جو اس نے نوحؑ کو دیا تھا اور جس کی وحی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کی جا رہی ہے۔ اسی دین کی تلقین ابراہیم، موسیٰ ؑ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو بھی کی گئی تھی۔ یہ کوئی ایسا دین نہیں ہے جو تمہارے لیے انوکھا اور اجنبی ہو بلکہ شروع سے لے کر اس آخری نبی تک سب کا دین یہی رہا ہے اور یہی اللہ کا حقیقی دین ہے۔
      حضرات انبیاء علیہم السلام کا حوالہ یہاں اس طرح دیا ہے کہ پہلے ابتدائی اور آخری کڑی یعنی حضرت نوحؑ اور حضرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر فرمایا، پھر بیچ کے انبیاء میں سے تین جلیل القدر نبیوں ۔۔۔ حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام ۔۔۔ کا نام خاص طور پر لیا۔ اس اہتمام خاص کے ساتھ ان کے ذکر کی وجہ یہ ہے کہ انہی تین نبیوں کی پیروی کے مدعی اس وقت قرآن کے سامنے تھے۔ مشرکین عرب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کے مدعی تھے اور یہود و نصاریٰ بالترتیب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔ اس طرح گویا نبیوں کی پوری تاریخ کی طرف بھی اجمالی اشارہ ہو گیا اور قابل ذکر امتیں بھی سامنے آ گئیں۔
      اس دین سے متعلق امتوں کو ہدایت: ’اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ‘۔ یہ اس دین کا بھی بیان ہے جس کی تلقین ان نبیوں کو کی گئی اور اس ہدایت کا بھی جو اس دین سے متعلق ان نبیوں کے واسطہ سے ان کے پیروؤں کو کی گئی۔ ’الدِّیْنَ‘ پر الف لام اسی طرح کا ہے جس طرح ’الکتاب‘ پر ہے۔ جس طرح ’الکتاب‘ کے معنی اللہ کی کتاب کے ہیں اسی طرح ’الدین‘ کے معنی اللہ کے دین کے ہیں۔ اللہ کا دین شروع سے اسلام ہے، جیسا کہ ارشاد ہے:

      ’اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ‘
      (اصلی دین اللہ کے نزدیک اسلام ہے)۔

      اس دین کی بنیاد خالص اور کامل توحید پر ہے۔ یہی دین اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام بلکہ حضرت آدم علیہ السلام ۱؂  کو بھی دیا اور یہی دین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی نازل فرمایا۔ اس کے عقائد اور اس کی اساسات شروع سے آخر تک بالکل ایک ہیں۔ فرق اگر ہوا ہے تو جزئیات شریعت میں ہوا ہے جس کو قرآن نے ’شرعۃ ومنہاج‘ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔
      اس دین سے متعلق امتوں کو یہ ہدایت بھی فرمائی گئی تھی کہ اس کو قائم رکھا اور اس میں اختلاف اور تفرق نہ برپا کرنا۔ یہ اسی طرح کی ہدایت ہے جس طرح فرمایا ہے کہ

      ’وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا‘ (آل عمران ۱۰۳)
      (سب مل کر اللہ کی رسی کو پکڑو اور متفرق نہ ہو)۔

      قائم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ اس کی جو باتیں ماننے کی ہیں وہ سچائی کے ساتھ مانی جائیں، جو کرنے کی ہیں وہ دیانت داری اور راست بازی کے ساتھ کی جائیں۔ نیز لوگوں کی برابر نگرانی کی جائے کہ وہ اس سے غافل یا منحرف نہ ہونے پائیں۔ اور اس بات کا بھی پورا اہتمام کیا جائے کہ اہل بدعت اس میں کوئی رخنہ نہ پیدا کر سکیں۔
      ’لَا تَفَرَّقُوْا‘ کا مطلب یہ ہے کہ دین حبل اللہ ہے اس وجہ سے سب کا فرض ہے کہ سب مل کر اس کو تھامیں۔ ایسا نہ ہو کہ جس کے ہاتھ میں جو رسی آ جائے اسی کو وہ حبل اللہ سمجھ بیٹھے اور اس رسی کو چھوڑ دے۔ اگر اس حبل اللہ سے تعلق منقطع ہوا تو سارا شیرازہ درہم برہم ہو جائے گا۔ پھر کوئی چیز بھی لوگوں کی شیرازہ بندی نہ کر سکے گی۔
      وہ خاص چیز جس سے مشرکین کو چڑ تھی: ’کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوْھُمْ اِلَیْہِ‘۔ مشرکین سے مراد مشرکین قریش ہیں۔ فرمایا کہ ان کے لیے اللہ نے دین تو وہی اتارا جو تمام انبیاء کا دین ہے اور اسی دین کی تعلیم ان کے جد اعلیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی دی ہے لیکن وہ چیز ان پر شاق گزر رہی ہے جس کی طرف تم ان کو دعوت دے رہے ہو۔ ’مَا تَدْعُوْھُمْ اِلَیْہِ‘ اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد توحید ہے۔ قرآن میں اس بات کی جگہ جگہ تصریح ہے کہ مشرکین کو سب سے زیادہ چڑ قرآن کی دعوت توحید ہی سے تھی۔
      ہدایت کے باب میں سنت الٰہی: ’اَللّٰہُ یَجْتَبِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یَّشَآءُ وَیَھْدِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یُّنِیْبُ‘۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کے معاملہ میں صبر کرو۔ تم ان کے ایمان کے کتنے ہی چاہنے والے بنو لیکن ہو گا وہی جو اللہ چاہے گا۔ اور اللہ کا چاہنا اس کی حکمت اور اس کی سنت کے تحت ہے۔ وہ اپنی طرف رہنمائی انہی لوگوں کی کرتا ہے جو خود بھی اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جو اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے وہ توفیق ہدایت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ’یَجْتَبِیْ‘ کے بعد ’اِلٰی‘ کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں تضمین ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت جگہ جگہ ہو چکی ہے۔
      _____
      ۱؂ حضرت انبیاء کی اصل تاریخ تو حضرت آدمؑ سے شروع ہوتی ہے لیکن قرآن نے بالعموم حضرت نوحؑ ہی سے آغاز فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت نوحؑ سے پہلے کی تاریخ بالکل پردۂ خفا میں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اُس نے تمھارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی ہدایت اُس نے نوح کو فرمائی اور جس کی وحی، (اے پیغمبر)، ہم نے تمھاری طرف کی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا کہ (اپنی زندگی میں)اِس دین کو قائم رکھو اور اِس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔ تم جس چیز کی طرف اِن مشرکوں کو بلا رہے ہو (کہ یہ خدا کو ایک مانیں)، وہ اِن پر بہت شاق گزر رہی ہے۔ اللہ جس کو چاہتا ہے ، اپنی طرف آنے کے لیے چن لیتا ہے ، لیکن اپنی طرف آنے کی راہ وہ اُنھی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اب اُسی مضمون کی تفصیل فرمائی ہے جو سورہ کی ابتدا میں بیان ہوا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسا دین لے کر نہیں آئے ہیں جو اہل عرب کے لیے انوکھا اور اجنبی ہو، بلکہ اُسی دین کی دعوت دے رہے ہیں جس کی دعوت اُن سے پہلے کے پیغمبر دیتے رہے ہیں۔اُس کے عقائدوہی ہیں، اُس کی اساسات وہی ہیں، اُس کی اخلاقی تعلیمات وہی ہیں اور چند ترامیم اور اضافوں کے سوا اُس کی شریعت بھی بالکل وہی ہے ۔ اِس کے لیے انبیاعلیہم السلام کا حوالہ جس طریقے سے دیا ہے، استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اُس کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...پہلے ابتدائی اور آخری کڑی، یعنی حضرت نوح اور حضرت خاتم الانبیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر فرمایا، پھر بیچ کے انبیا میں سے تین جلیل القدر نبیوں ۔۔۔ حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام ۔۔۔ کا نام، خاص طور پر لیا۔ اِس اہتمام خاص کے ساتھ اِن کے ذکر کی وجہ یہ ہے کہ اِنھی تینوں نبیوں کی پیروی کے مدعی اُس وقت قرآن کے سامنے تھے۔ مشرکین عرب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کے مدعی تھے اور یہود و نصاریٰ بالترتیب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔ اِس طرح گویا نبیوں کی پوری تاریخ کی طرف بھی اجمالی اشارہ ہو گیا اور قابل ذکر امتیں بھی سامنے آگئیں۔‘‘(تدبرقرآن ۷/ ۱۵۲)

      یعنی اِس کو برقرار رکھو اور اِس پر قائم رہو۔ اِس کا کوئی حکم اگر فرد سے متعلق ہے تو فرد اُس پر قائم رہے اور معاشرے سے متعلق ہے تو معاشرے کے ارباب حل و عقد اُس پر قائم رہیں اور اُس کو پوری طرح برقرار رکھیں۔ اقامت دین کا صحیح مفہوم یہی ہے۔ جن اہل علم نے اِسے دین کو دنیا میں جاری او رنافذ کرنے یا رکھنے کے معنی میں لیا ہے، اُن کی راے عربیت کے بالکل خلاف ہے۔ ہم نے ’’تاویل کی غلطی‘‘ کے زیرعنوان اپنی کتاب ’’برہان‘‘ میں اِس راے کی غلطی واضح کر دی ہے۔ یہ بالکل اُسی طرح کی تعبیر ہے، جیسے اقامت صلوٰۃ ہے۔ جس طرح اُس کے معنی نماز کو دنیا میں جاری اور نافذ کرنے کے نہیں ہیں، اِسی طرح اقامت دین کے بھی نہیں ہیں۔ قرآن نے ’عَلٰی صَلَاتِھِمْ دَآءِمُوْنَ‘ اور ’یُحَافِظُوْنَ‘* کی تعبیرات سے بالکل واضح کر دیا ہے کہ وہ جب لوگوں کو نماز قائم کرنے کا حکم دیتا ہے تو اُس سے اُس کی مراد کیا ہوتی ہے۔یعنی یہی کہ اُس کا اہتمام رکھو، اُس کی حفاظت کرو اور اُس پر قائم رہو۔ یہی بات یہاں دین کے بارے میں فرمائی ہے۔ چنانچہ اقامت دین ، جیسا کہ بعض اہل علم نے سمجھا ہے، دین کے فرائض میں سے ایک فرض اور اُس کے احکام میں سے ایک حکم نہیں ہے کہ اُسے ’’فریضۂ اقامت دین‘‘ قرار دے کر فرائض دینی میں ایک فرض کا اضافہ کیا جائے، بلکہ پورے دین کے متعلق ایک اصولی ہدایت ہے، بالکل اُسی طرح جیسے ’وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا‘** (اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ میں نہ پڑو) ایک اصولی ہدایت ہے۔
      یعنی پورے کا پورا اختیار کرو جس طرح کہ وہ ہے اور جس نظم و ترتیب کے ساتھ دیا گیا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اُس میں اپنی طرف سے کمی بیشی کردو یا اُس کی ترجیحات خود طے کرو یا اپنی تاویلات سے اُس کو کچھ کا کچھ بنا دو۔ اِن میں سے جو کام بھی کرو گے، اُس کا لازمی نتیجہ تفرقہ ہو گا۔
      اصل میں ’یَجْتَبِیْٓ اِلَیْہِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’اِلٰی‘ اِس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں تضمین ہے۔
      _____
      * المعارج ۷۰: ۲۳، ۳۴۔
      ** اٰل عمرٰن ۳: ۱۰۳۔

    • امین احسن اصلاحی اور یہ لوگ صحیح علم آ چکنے کے بعد محض باہمی ضدم ضدا کے باعث متفرق ہوئے اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات ایک مدت معین کے لیے طے نہ پا چکی ہوتی تو ان کے درمیان فوراً فیصلہ کر دیا جاتا۔ اور جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے ان کے بعد وہ اس کے باب میں ایک الجھن میں ڈالنے والے شک میں مبتلا ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      امتوں کو ملامت: یہ ان امتوں کو ملامت ہے کہ انھوں نے علم الٰہی کی روشنی پانے کے بعد محض اپنی باہمی ضدم ضدا کے باعث آپس میں اختلاف کیا اور گمراہی میں مبتلا ہوئیں۔ اگر رات کی تاریکی میں کوئی ٹھوکر کھا جائے تو اس کو ایک حد تک معذور قرار دیا جا سکتا ہے لیکن جو شخص پورے دن کی روشنی میں، محض اپنی ضد کے سبب سے، ٹھوکر کھاتا ہے وہ اپنی اس حماقت کا خود ذمہ دار ہے۔ اس ’تفرق‘ کی نوعیت سمجھنے کے لیے یہ اشارہ غالباً یہاں کافی ہو گا کہ یہود کے علماء اور فقہاء میں بالکل اسی طرح کے اختلافات برپا ہوئے جس طرح کے اختلافات ہمارے ہاں برپا ہوئے۔ بس فرق یہ ہے کہ اس امت کے پاس قرآن محفوظ ہے اس لیے رفع اختلاف کی کسوٹی موجود ہے لیکن یہود نے تورات بھی ضائع کر دی اس وجہ سے ان کے اختلاف کے رفع ہونے کی کوئی شکل باقی ہی نہیں رہی۔
      حضرت عیسیٰؑ کی دعوت سے جو امت ظہور میں آئی اس کے اور یہود کے درمیان شروع ہی سے ایک چپقلش برپا رہی اور اس میں اصلی دخل علمائے یہود کے عناد کو تھا۔ وہ محض ضد اور حسد کے باعث ان کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ بعد میں خود نصاریٰ کے اندر بے شمار فرقے پیدا ہو گئے اور پال نے ان کو تورات اور انجیل دونوں کی روشنی سے محروم کر دیا۔ اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے ان کو قرآن کی روشنی دکھانی چاہی تو یہود اور نصاریٰ اور قریش تینوں نے مل کر اس روشنی کو گل کرنے کی جو سعئ نامراد کی اس کی پوری تفصیل قرآن میں آپ پڑھ رہے ہیں۔ یہود کو قرآن سے اس بنا پر عناد تھا کہ مذہبی پیشوائی بنی اسماعیل کو منتقل نہ ہونے پائے اور قریش کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو پرخاش تھی اس کے وجوہ خود ان سورتوں سے واضح ہیں۔ اسی صورت حال کو قرآن نے ’وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاء ہُمُ الْعِلْمُ بَغْیْاً بَیْْنَہُمْ‘ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے کہ جس امت نے بھی تفرق اور اختلاف کی راہ اختیار کی ہے محض اپنی شامت اعمال اور باہمی عناد کے سبب سے اختیار کی ہے۔ جہاں تک اللہ اور اس کے رسول کا تعلق ہے ان کی طرف سے برابر لوگوں کو صراط مستقیم ہی کی رہنمائی کی گئی۔
      ’وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّکَ إِلَی أَجَلٍ مُّسَمًّی لَّقُضِیَ بَیْْنَہُمْ‘۔ یہ ان امتوں کو زجر و توبیخ بھی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی بھی کہ چونکہ تمہارے رب کی طرف سے یہ بات طے ہو چکی ہے کہ اتمام حجت کے لیے ہر امت کو ایک خاص حد تک مہلت دی جائے گی اس وجہ سے ان کو مہلت دی جا رہی ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو بلاتاخیر ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا۔
      ’وَإِنَّ الَّذِیْنَ أُورِثُوا الْکِتَابَ مِن بَعْدِہِمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ‘۔ اس ٹکڑے کا تعلق اوپر والے جملے ’وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِنۡ بَعْدِ مَا جَآءَ ہُمُ الْعِلْمُ بَغْیْاً بَیْْنَہُمْ‘ سے ہے۔ بیچ کا جملہ محض بطور جملہ معترضہ اور بغرض تنبیہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم آنے کے بعد ان ملتوں نے آپس میں جو اختلاف برپا کیا تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعد میں جو لوگ کتاب یعنی تورات کے وارث ہوئے وہ اس تورات کی طرف سے الجھن میں ڈال دینے والے شکوک میں مبتلا ہو گئے۔ یہ مضمون بعینہٖ سابق سورہ میں بھی بدیں الفاظ گزر چکا ہے:

      ’وَلَقَدْ آتَیْْنَا مُوسَی الْکِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِیْہِ وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْْنَہُمْ وَإِنَّہُمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ‘ (حم السجدہ: ۴۵)
      (اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تو اس میں اختلاف پیدا کر دیا گیا، اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات طے نہ ہو چکی ہوتی تو ان کا جھگڑا چکا دیا جاتا، اور بے شک وہ اس کی طرف سے ایک الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑ گئے ہیں)۔

      لفظ ’مریب‘ کی تحقیق اس کے محل میں بیان ہو چکی ہے۔ ’الَّذِیْنَ أُورِثُوا الْکِتَابَ‘ سے مراد یہود ہی کے اختلاف ہیں جو اپنے اگلوں کے بعد تورات کے وارث ہوئے۔ چونکہ تورات ان کو بالکل متناقض شکل میں ملی اس وجہ سے ان کا اس کی طرف سے شکوک میں مبتلا ہو جانا ایک امر فطری تھا اور یہ چیز مقتضی تھی کہ وہ اس اختلاف کو رفع کرنے والی کتاب ۔۔۔ قرآن ۔۔۔ کی دل سے قدر کرتے لیکن انھوں نے محض ضد اور حسد کے سبب سے اس کی مخالفت کی۔ عام طور پر لوگوں نے ’کتاب‘ سے قرآن کو مراد لیا ہے لیکن اس کا کوئی قرینہ نہیں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (اور یہ جو اِن پیغمبروں کے ماننے والے ہیں)، یہ صحیح علم اپنے پاس آ چکنے کے بعد محض باہمی ضدم ضدا کی وجہ سے متفرق ہوگئے ہیں۔ اور تمھارے پروردگار کی طرف سے اگر ایک مقرر مدت تک مہلت کی بات پہلے سے طے نہ ہو چکی ہوتی تو اِن کے درمیان اُسی وقت فیصلہ کر دیا جاتا۔ (پھر یہی نہیں)، اِن کے بعد جو (خدا کی طرف سے) اُس کی کتاب کے وارث بنائے گئے، وہ اُس کتاب کی طرف سے ایسے شک میں پڑے ہوئے ہیں جو سخت الجھن میں ڈال دینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ وجہ بیان فرمائی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہر پیغمبر کو اپنا دین اِس ہدایت کے ساتھ دیا کہ اُس میں تفرقہ پیدا نہ کیا جائے تو اُن کی امتوں میں جو تفرقہ پیدا ہوا، یہاں تک کہ حاملین کتاب بھی اُس سے محفوظ نہیں رہے اور اب وہ اپنی کتاب ہی کے بارے میں نہایت اضطراب انگیز شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں تو اِس کی بنیاد علم و استدلال یا تحقیق و اجتہاد پر نہیں تھی، یہ محض ضدم ضدا اور باہمی عناد کی وجہ سے پیدا ہوا۔ ورنہ صحیح علم آ چکنے کے بعد یہ تو ممکن ہے کہ کسی چیز کے سمجھنے میں کوئی جزوی اختلاف ہو جائے، مگر وہ اِس طرح کے تفرقے کی صورت کبھی اختیار نہیں کرتا کہ ایک دوسرے کی تکفیر کی جائے یا اُس کو ضال و مضل قرار دیا جائے اورایک ہی دین کے ماننے والے ایک دوسرے کے جان و مال اور آبرو کے درپے ہو جائیں۔

    • امین احسن اصلاحی پس تم اسی دین کی دعوت دو اور اس پر جمے رہو جیسا کہ تم کو حکم ہوا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کیجیو۔ اور اعلان کر دو کہ اللہ نے جو کتاب اتاری ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں اور مجھے یہ حکم ہے کہ میں تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں۔ اللہ ہی ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہمارے درمیان کسی بحث کی ضرورت نہیں رہی۔ اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نبیؐ کو استقامت کی تلقین: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی کہ تم اسی دین حق کی دعوت دو جو تمام انبیاء کا مشترک دین ہے اور تمہارے یہ مخالفین خواہ کتنا ہی زور لگائیں لیکن تم ان کی مطلق پروا نہ کرو، بلکہ ٹھیک ٹھیک اسی طرح جس طرح تمہیں ہدایت ہوئی ہے اس پر جمے رہو۔
      ’وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَآءَ ہُمْ‘۔ یہ اس استقامت کی وضاحت اس کے منفی پہلو سے ہے کہ ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔ یعنی اپنی خواہشوں کو دین بنانے کے لیے انھوں نے اللہ کے دین میں جو بدعتیں گھسائی ہیں ان کی پیروی نہ کرو۔ ’اَہْوَاء‘ سے مراد، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں، بدعات ہیں۔ اس لیے کہ بدعات تمام تر خواہشوں ہی سے وجود میں آتی ہیں۔
      ’وَقُلْ اٰمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللّٰہُ مِن کِتَابٍ‘۔ یعنی ان لوگوں کو، جو تم سے اپنی ایجاد کردہ بدعات کی حمایت میں لڑ رہے ہیں، بتا دو کہ میں اللہ کی اتاری ہوئی کتاب پر ایمان لایا ہوں تو تمہاری بدعات و خواہشات کی پیروی کس طرح کر سکتا ہوں؟
      ’وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَیْْنَکُمُ‘۔ یعنی میں تمہاری بدعات و خواہشات کی پیروی کرنے نہیں بلکہ تمہارے درمیان انصاف کرنے آیا ہوں۔ تم نے اللہ کے دین میں جو جھگڑے پیدا کر دیے ہیں، مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں اس جھگڑے کا فیصلہ کر کے بتاؤں کہ اس میں کیا حق ہے اور کیا باطل؟ سو تم مجھ سے اپنی بدعات کی پیروی کی توقع نہ رکھو بلکہ اگر توفیق ہے تو مجھ سے یہ جاننے کی کوشش کرو کہ تم میں سے کس کے ساتھ کتنا حق ہے اور کتنا باطل اور اللہ کا اصلی اور بے آمیز دین کیا ہے؟
      ’اَللّٰہُ رَبُّنَا وَرَبُّکُمْ ....... الاٰیۃ‘۔ یہ تنبیہ و تحذیر ہے کہ یاد رکھو کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے، وہی تمہارا بھی رب ہے۔ اسی کے آگے ہماری بھی پیشی ہونی ہے اور اسی کے حضور میں تمہاری پیشی بھی ہو گی۔ اس مغالطہ میں نہ رہنا کہ تمہارا مولیٰ و مرجع کوئی اور ہو گا۔ اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہوں گے اور تم اپنے اعمال کے۔ اگر ہم نے تمہیں حق پہنچا دیا تو ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہوئے، اب خدا کے سامنے تمہاری ذمہ داری ہمارے اوپر نہیں ہے بلکہ خود تمہارے اوپر ہے۔ اس کے نیک و بد کو تم خود بھگتو گے۔ سورۂ یونس میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے:

      ’وَإِنۡ کَذَّبُوکَ فَقُل لِّیْ عَمَلِیْ وَلَکُمْ عَمَلُکُمْ أَنتُمْ بَرِیْئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَاْ بَرِیْءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوۡنَ‘ (یونس: ۴۱)
      (اور اگر وہ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو کہہ دو کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل۔ تم بَری ہو میرے عمل سے اور میں بری ہوں تمہارے اعمال سے)۔

      ’لَا حُجَّۃَ بَیْْنَنَا وَبَیْْنَکُمُ‘۔ یعنی اتنی رد و قدح اور اتنی توضیح و تفصیل کے بعد بھی اگر بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی تو اب ہمارے اور تمہارے درمیان مزید طول کلام کی ضرورت نہیں رہی۔ اب معاملہ ان کے حوالہ ہے ۔۔۔ وہ ہم سب کو اکٹھا کر کے فیصلہ کرے گا اور یاد رکھو کہ سب کا ٹھکانا اسی کی طرف ہے۔

      جاوید احمد غامدی سو، (اے پیغمبر)، تم اُسی دین کی دعوت دو (جو سب پیغمبروں کا دین ہے) اور جس طرح تم کو حکم دیا گیا ہے، اُس پر مضبوطی سے جمے رہو اور اِن کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو اور اعلان کر دو کہ جو کتاب اللہ نے اتاری ہے، میں اُس پر ایمان لایا ہوں اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں (حق و باطل کے معاملے میں) تمھارے درمیان انصاف کا فیصلہ کر دوں۔ (یاد رکھو)، اللہ ہی ہمارا پروردگار ہے اور تمھارا بھی۔ (تم نہیں مانتے تو) ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اعمال تمھارے لیے۔ ہمارے اور تمھارے درمیان مزید کسی بحث کی ضرورت نہیں رہی۔ اللہ (قیامت کے دن) ہم سب کو جمع کرے گا اور اُسی کی طرف سب کو جانا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُن بدعتوں کی ، جو اُنھوں نے اپنی خواہشوں سے دین میں پیدا کر رکھی ہیں۔
      مطلب یہ ہے کہ وہی مولیٰ و مرجع ہے، لہٰذا اُسی کے سامنے ہماری بھی پیشی ہونی ہے اور تم بھی اُسی کے حضور میں پیش کیے جاؤ گے۔ وہاں کوئی اور مولیٰ و مرجع نہیں ہو گا کہ خدا کو چھوڑ کر کوئی شخص اُس کی طرف رجوع کرے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جو لوگ اللہ کے باب میں حجت کر رہے ہیں بعد اس کے کہ اس کو مانا جا چکا ہے، ان کی حجت ان کے رب کے آگے بالکل پسپا ہے اور ان پر غضب اور ان کے لیے عذاب شدید ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’مُحَاجّۃ‘ کے معنی مجادلہ اور کٹ حجتی کرنے کے ہیں اور ’فِی اللّٰہِ‘ میں مضاف محذوف ہے یعنی ’فِیْ توحید اللّٰہ‘ اس لیے کہ جھگڑا جن سے بھی تھا اللہ کے باب میں نہیں بلکہ اس کی توحید ہی کے باب میں تھا۔ اہل کتاب تو درکنار مشرکین عرب بھی خدا کے منکر نہیں تھے۔ لیکن خدا کو شرک کے ساتھ ماننا دین میں معتبر نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ اس کی توحید کے ساتھ اس پر ایمان لایا جائے، اگر کوئی توحید کے معاملہ میں جھگڑتا ہے تو وہ گویا خدا ہی کے باب میں جھگڑتا ہے اور اسی کی نفی کر رہا ہے۔
      ’مِنْ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَہُ‘ کا مفہوم کم و بیش وہی ہے جو ’مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَھُمُ الْعِلْمُ‘ کا ہے یعنی یہ جھگڑا خدا کو ماننے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک تمام نبیوں کی تعلیم ایک ہی رہی ہے، سب نے توحید ہی کی دعوت دی ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ قریش، یہود اور نصاریٰ سب کے اصل اسلاف اللہ تعالیٰ کی توحید کو مان چکے ہیں۔ اب اس ماننے کے بعد اگر خدا کی توحید میں ان امتوں کی طرف سے جھگڑے اٹھائے جا رہے ہیں تو یہ حجت نہیں بلکہ کٹ حجتی ہے اور یہ کٹ حجتی خدا کے آگے کام آنے والی نہیں بلکہ یہ پسپا ہو کر رہے گی۔

      جاوید احمد غامدی جو لوگ اللہ کے بارے میں حجت کر رہے ہیں (کہ اُس کے شریک ثابت کریں)، اِس کے بعد کہ (اُن کی طرف سے) اُس کو مانا جا چکا ہے، اُن کی حجت اُن کے پروردگار کے آگے بالکل پسپا ہونے والی ہے اور اُن پر غضب اور اُن کے لیے سخت عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی قریش مکہ اور یہود و نصاریٰ کی طرف سے، جن میں سے ہر ایک خدا کو مانتا تھا۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ ہی ہے جس نے اتاری کتاب قول فیصل کے ساتھ اور میزان اتاری اور کیا پتا شاید قیامت بھی قریب ہی آ لگی ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن میزان ہے: ’الکتٰب‘ سے مراد قرآن اور ’المیزان‘ اسی کا بیان ہے۔ فرمایا کہ امتوں کے باہمی اختلاف کو رفع کرنے اور حق و باطل کو ممیز کر دینے کے لیے اللہ نے قرآن اتارا ہے جو درحقیقت ایک میزان عدل ہے۔ اوپر آیت ۱۵ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جو یہ اعلان کرایا گیا ہے کہ

      ’وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنْ کِتٰبٍ وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ‘
      (اور یہ کہ بتا دو کہ اللہ نے جو کتاب اتاری ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں اور مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں تمہارے درمیان فیصلہ کروں)

      یہ وہی بات دوسرے الفاظ میں فرمائی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس کام پر مامور فرمایا کہ ملتوں کے درمیان اللہ کے دین کے بارے میں جو اختلاف ہے آپ اس کا فیصلہ کریں تو ضروری ہوا کہ آپ کو ایک ایسی کتاب بالحق عطا ہو جو میزان عدل کا کام دے اور آپ اس پر پرکھ کر بتا سکیں کہ کس کے پاس کتنا حق ہے اور کتنا باطل۔ قرآن کی اسی خصوصیت کی وجہ سے اس کا ایک نام ’مُھیْمِن‘ بھی ہے جس کے معنی کسوٹی کے ہیں۔ یہی مضمون سورۂ حدید میں بھی ہے

      ’وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ...‘ (۲۵)
      (اور ہم نے ان رسولوں کے ساتھ کتاب اور میزان اتاری کہ لوگ ٹھیک نقطۂ عدل پر استوار ہوں)۔

      ’وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْبٌ‘۔ یہ فقرہ یہاں نہایت ہی جامع اور نہایت ہی بلیغ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جو اس میزان عدل کے مطابق اپنے حق و باطل میں امتیاز اور اپنے اختلافات کو رفع کر لیں گے ورنہ قیامت تو بہرحال فیصلہ کر کے رہے گی اور اس کے فیصلہ سے کسی کے لیے بھی فرار کی گنجائش نہیں ہو گی اور قیامت کو بہت دور نہ سمجھو، کیا عجب کہ وہ بھی اب قریب آ لگی ہو۔ جو لوگ قرآن کی میزان عدل سے گریز کر رہے ہیں آخر قیامت کی میزان سے وہ کہاں بھاگیں گے!

       

      جاوید احمد غامدی اللہ ہی ہے جس نے اپنی یہ کتاب قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے اور (اِس طرح حق و باطل کو الگ الگ کرنے کے لیے) اپنی میزان نازل کر دی ہے۔ (اِنھیں توفیق ہو تو اِس سے فائدہ اٹھا لیں، ورنہ) تم کو کیا پتا کہ شاید قیامت قریب ہی آ لگی ہو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس کے لیے جلدی وہ لوگ مچائے ہوئے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ترساں ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ شدنی ہے۔ آگاہ کہ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں وہ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی یہ لوگ قیامت کو محض ایک خیالی ڈراوا سمجھتے ہیں اس وجہ سے ان کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے بلکہ ڈھیٹ ہو کر یہ کہتے ہیں کہ اگر اس کو آنا ہے تو آ کیوں نہیں جاتی؟ فرمایا کہ جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے وہ تو اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک وہ محض ایک مذاق ہے۔ مگر جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کی ہولناکی کو سمجھتے اور اس سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔
      ’اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَۃِ لَفِیْ ضَلَالٍ بَعِیْدٍ‘۔ یہ ان لوگوں کی محرومی پر اظہار حسرت ہے جو قیامت جیسی واضح حقیقت کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑے ہیں ان کی آنکھیں اس وقت کھلیں گی جب ان کے کھلنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ بلکہ ہر ایک کے سامنے اس کا انجام موجود ہو گا جس سے کسی کے لیے بھی مفر نہیں ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی اُس کے لیے وہی جلدی مچا رہے ہیں جو اُس پر ایمان نہیں رکھتے۔ ایمان والے تو اُس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ یقیناًبرحق ہے۔ سنو، جو لوگ قیامت (جیسی حقیقت)کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں، اِس میں کچھ شک نہیں کہ وہ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      چنانچہ استہزا کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ وہ رزق بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ نہایت زور آور اور غالب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نافرمانوں کو ڈھیل دینے کی حکمت: یہ سبب بیان فرمایا ہے اس بات کا کہ کیوں اللہ تعالیٰ نافرمانوں اور شریروں کو اتنی ڈھیل دیتا ہے کہ وہ دلیر ہو کر عذاب اور قیامت کے لیے جلدی مچانے اور اس کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے۔ وہ رحمت کرنے میں سبقت کرتا ہے، عذاب نازل کرنے میں جلدی نہیں کرتا۔ وہ نافرمانوں کی نافرمانی کے باوجود ان کو رزق دیتا رہتا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر توبہ و اصلاح کر لیں اور اپنے رب کی ابدی رحمت کے سزاوار بن جائیں۔
      ’وَہُوَ الْقَوِیُّ العَزِیْزُ‘۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ خدا نہایت ہی قوی و عزیز ہے۔ کسی کی تاب نہیں ہے کہ اس کی پکڑ سے بچ سکے تو جب کوئی نہ اس کی گرفت سے باہر ہے اور نہ باہر ہو سکتا تو وہ جلدی کیوں کرے! جلدی کی ضرورت اسے پیش آتی ہے جس کو اندیشہ ہو کہ شکار اس کے قابو سے باہر نکل جائے گا۔

      جاوید احمد غامدی (اِن کو یہ ڈھیل اِس لیے مل رہی ہے کہ) اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ (اُن کی نافرمانی کے باوجود) وہ جس کو چاہتا ہے، رزق عطا فرماتا ہے اور (اِس لیے مل رہی ہے کہ) وہ بڑی قوت والا ہے، بڑا ہی زبردست ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      لہٰذا اُس کو کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ اِس ڈھیل کے نتیجے میں یہ اُس کی گرفت سے نکل جائیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جو آخرت کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے ہم اس کی کھیتی میں افزونی دیتے ہیں (اور دنیا میں سے بھی اس کا حصہ دیتے ہیں) اور جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے ہم اس کو اس میں سے کچھ دیتے ہیں اور آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اسی سنت الٰہی کی مزید وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ نہیں ہے کہ وہ اپنے رزق و فضل سے انہی کو نوازے جو اس کی بندگی کرنے والے ہوں بلکہ نیکوکاروں اور بدکاروں دونوں کو وہ روزی دیتا ہے البتہ جو لوگ آخرت کی کھیتی کرتے ہیں اللہ ان کی آخرت کی کھیتی میں بھی برکت دیتا ہے اور اس دنیا کے رزق و فضل میں سے بھی جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو دنیا ہی کے طالب ہوتے ہیں، آخرت کی پروا انھیں نہیں ہوتی تو اللہ ان کو بھی اتنا ہی دے دیتا ہے جتنا اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے۔ البتہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔
      ’نَزِدْ لَہُ فِیْ حَرْثِہٖ‘ کے بعد ’نُؤتِہٖ مِنَ الدُّنْیَا‘ کے الفاظ بربنائے قرینہ محذوف ہیں۔ تقابل اس حذف پر دلیل ہے اس لیے کہ دوسرے ٹکڑے میں ’نُؤتِہِ مِنْہَا‘ کے الفاظ موجود ہیں۔ سورۂ بنی اسرائیل میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے:

      مَنٓ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہُ فِیْہَا مَا نَشَاء لِمَن نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہُ جَہَنَّمَ یَصْلاہَا مَذْمُوماً مَّدْحُوراً ۵ وَمَنْ أَرَادَ الآخِرَۃَ وَسَعَی لَہَا سَعْیَہَا وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَءِکَ کَانَ سَعْیُہُم مَّشْکُوراً ۵ کُلاًّ نُّمِدُّ ہَؤُلاء وَہَؤُلاء مِنْ عَطَاء رَبِّکَ وَمَا کَانَ عَطَاء رَبِّکَ مَحْظُوۡرًا (بنی اسرائیل: ۱۸-۲۰)
      ’’جو دنیا ہی کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کو اسی دنیا میں دے دیتے ہیں جو چاہتے ہیں اور جن کے لیے چاہتے ہیں۔ پھر ہم نے ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں وہ مذموم و مطرود ہو کر داخل ہوں گے اور جو آخرت کے طالب ہوتے ہیں اور اس کے شایان شان جدوجہد کرتے ہیں اور وہ مومن بھی ہیں تو دراصل وہ ہیں جن کی سعی مشکور و مقبول ہو گی۔ تیرے رب کی بخشش سے ہم اُن کی بھی مدد کرتے ہیں اور اِن کی بھی۔ اور تیرے رب کی بخشش کا دروازہ کسی پر بھی بند نہیں ہے۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی (لوگو، ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ ) جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے، ہم اُس کی کھیتی میں اُس کے لیے برکت عطا فرماتے ہیں (اور دنیا میں بھی اُس کا حصہ اُسے دیتے ہیں) اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے، اُس کو ہم اُس میں سے (جتنا چاہتے ہیں)، دے دیتے ہیں، مگر (اِس کے بعد پھر) آخرت میں اُس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ الفاظ اصل میں بربناے قرینہ محذوف ہیں۔ یہ تقابل کے اصول پر ہے، اِس لیے کہ دوسرے ٹکڑے میں ’نُؤْتِہٖ مِنْھَا‘ کے الفاظ موجود ہیں۔

    Join our Mailing List