Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 54 آیات ) Fussilat Fussilat
Go
  • فصلت (Expounded, Explained In Detail)

    54 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس سورہ کا بھی اصل مضمون سابق سورہ کی طرح توحید ہی ہے۔ اس میں توحید کے دلائل بھی بیان ہوئے ہیں اور ان لوگوں کو انذار بھی کیا گیا ہے جو قرآن کی دعوت توحید کی مخالفت کر رہے تھے۔ ساتھ ہی ان ایمان والوں کو ابدی کامیابی کی بشارت دی گئی ہے جو مخالفوں کی تمام مخالفانہ سرگرمیوں کے علی الرغم، توحید پر استوار رہیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ تمہارے دشمن خواہ کتنا ہی جاہلانہ رویہ اختیار کریں لیکن تم ان کی جہالت کا جواب صبر و بردباری سے دینا۔ یہی طریقہ بابرکت اور اسی میں تمہاری دعوت کی کامیابی مضمر ہے۔

  • فصلت (Expounded, Explained In Detail)

    54 آیات | مکی

    حٰم السجدہ ۔ الشوریٰ

    ۴۱ ۔۴۲

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع توحید کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو انذار و بشارت ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ تنبیہ اور دوسری میں تفہیم کا پہلو نمایاں ہے۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ حٰمٓ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’حٰمٓ‘ اس سورہ کا قرآن نام ہے۔ پچھلی سورہ میں ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ جو سورتیں اس نام سے موسوم ہیں ان سب میں مضامین مشترک سے ہیں۔ تالیف کلام اگرچہ یوں بھی ہو سکتی ہے کہ اس کو مبتدا مان کر بعد کے جملہ کو اس کی خبر قرار دیجیے لیکن ہمارے نزدیک یہ مستقل جملہ ہے اور مبتدا اس میں محذوف ہے۔ ترجمہ میں ہم نے اس کو کھول دیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورۂ ’حٰمٓ‘ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر دیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی قرآن خدائے رحمان و رحیم کی تنزیل ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’تَنزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘ میں بھی مبتداء میرے نزدیک حذف ہے یعنی یہ قرآن خدائے رحمان و رحیم کی تنزیل ہے۔ پچھلی سورہ ۔۔۔ سورۂ مومن ۔۔۔ میں یہی بات یوں فرمائی گئی ہے: ’تَنزِیْلُ الْکِتَابِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ‘۔ بعد والی آیت میں اس اجمال کی وضاحت بھی ہو گئی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے: ’کِتَابٌ فُصِّلَتْ آیَاتُہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً ........ الآیۃ‘۔
      لفظ ’تَنزِیْلٌ‘ پر اس کے محل میں ہم گفتگو کر چکے ہیں کہ یہ لفظ اہتمام، تدریج اور تفخیم شان پر دلیل ہوتا ہے۔ یعنی یہ خدائے رحمان و رحیم کی طرف سے نہایت اہتمام کے ساتھ اتاری ہوئی کتاب ہے۔ اس کے اتارنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو اہتمام فرمایا اس کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔
      رحمت کی جگہ عذاب کا مطالبہ کرنے والوں کو ملامت: اسمائے حسنیٰ میں سے یہاں رحمان و رحیم کا حوالہ ہے جس سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ خدائے رحمان کی صفت رحمت ہی ہے جو بندوں کے لیے قرآن کو اس اہتمام کے ساتھ اتارنے کا باعث ہوئی ہے۔ اس حقیقت کی طرف سورۂ رحمان میں بھی اشارہ ہے:

      ’ الرَّحْمَنُ ۵ عَلَّمَ الْقُرْآنَ‘ (الرحمن: ۱-۲)
      (خدائے رحمان ہے جس نے قرآن کی تعلیم دی)۔

      ان اسماء کے حوالہ سے مقصود یہاں ان لوگوں کی تکذیب کی شناعت ظاہر کرنا بھی ہے جو قرآن جیسی عظیم رحمت کی ناقدری اور اس پر ایمان لانے کے بجائے اس عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے جس سے قرآن ان کو آگاہ کر رہا تھا۔ گویا ان کو بتایا جا رہا ہے کہ خدائے رحمان و رحیم نے تو ان کے لیے ایک عظیم برکت و رحمت نازل فرمائی لیکن وہ اپنی شامت کے باعث رحمت کی جگہ نقمت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آگے کی آیات سے بالتدریج یہ مضمون واضح ہوتا جائے گا۔

       

      جاوید احمد غامدی یہ خداے رحمٰن و رحیم کی تنزیل ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘۔ اِن میں مبتدا ہمارے نزدیک محذوف ہے۔ لفظ ’تَنْزِیْل‘ کے بارے میں معلوم ہے کہ یہ اہتمام، تدریج اور تفخیم شان پر دلیل ہوتا ہے۔ چنانچہ یہاں بھی اِسی رعایت سے استعمال کیا گیا ہے، یعنی یہ خداے رحمٰن و رحیم کی طرف سے نہایت اہتمام کے ساتھ اتاری ہوئی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے رحمٰن و رحیم کی صفات کا حوالہ تکذیب کی شناعت کو ظاہر کرتا ہے کہ اُس نے تو اِن لوگوں پر ایک عظیم رحمت و برکت نازل فرمائی، لیکن اِن پر افسوس، یہ اُس کے بجاے عذاب اور نقمت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آگے اِسی کی تفصیل ہے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ ایسی کتاب ہے جس کی آیتوں کی تفصیل عربی قرآن کی صورت میں ان لوگوں کے لیے کی گئی ہے جو جاننا چاہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل عرب پر قرآن کا خاص حق: یہ خبر کے بعد دوسری خبر اور اللہ تعالیٰ کی اس رحمت و عنایت کی تفصیل ہے جو قرآن کی صورت میں خاص طور پر اس نے اہل عرب پر فرمائی کہ اس کو عربی زبان میں اتارا تاکہ ان کو اس کلام کے سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ یہ اعتراض اٹھاتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کی وضاحت ان کے لیے خود ان کی زبان میں کیوں نہیں فرمائی؟ چنانچہ آگے اسی سورہ میں اسی بات کی وضاحت یوں فرمائی گئی ہے:

      وَلَوْ جَعَلْنَاہُ قُرْآناً أَعْجَمِیّاً لَّقَالُوا لَوْلَا فُصِّلَتْ آیَاتُہُ أَأَعْجَمِیٌّ وَعَرَبِیٌّ(فصّلت: ۴۴)
      ’’اور اگر ہم اس کو عجمی قرآن کی صورت میں اتارتے تو یہ لوگ اعتراض اٹھاتے کہ اس کی آیتیں ہمارے لیے اچھی طرح کھولی کیوں نہ گئیں؟ کلام عجمی اور مخاطب عربی!‘‘

      ’لِّقَوْمٍ یَعْلَمُوۡنَ‘ میں فعل ہمارے نزدیک ارادۂ فعل کے مفہوم میں ہے۔ یعنی ہم نے یہ سارا اہتمام ان لوگوں کے لیے کیا جو جاننے اور سمجھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو جاننے کی خواہش ہی سے محروم ہیں ان کے لیے سارے جتن بے کار ہیں۔ اس اسلوب بیان میں عربوں کے لیے ایک تحریص و ترغیب بھی ہے کہ انھیں جاننے اور سمجھنے کا حریص ہونا چاہیے اس لیے کہ وہ امّی رہے ہیں اور اب پہلی بار اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کی تعلیم کے لیے ان کی زبان میں اپنی کتاب اتاری ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی یہ ایسی کتاب ہے جس کی آیتوں کی تفصیل کی گئی ہے۔ عربی قرآن کی صورت میں، اُن لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں فعل ہمارے نزدیک ارادۂ فعل کے مفہوم میں ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اِس اسلوب بیان میں عربوں کے لیے ایک تحریص و ترغیب بھی ہے کہ اُنھیں جاننے اور سمجھنے کا حریص ہونا چاہیے،اِس لیے کہ وہ امی رہے ہیں اور اب پہلی بار اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اُن کی تعلیم کے لیے اُن کی زبان میں اپنی کتاب اتاری ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۷/ ۷۸)

    • امین احسن اصلاحی خوشخبری دینے والی اور آگاہ کر دینے والی۔ پس ان کی اکثریت نے اس سے اعراض کیا اور وہ اس کو نہیں سن رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن کے ردّ و قبول دونوں کے دوررس اثرات: ’بَشِیْراً وَنَذِیْراً‘۔ یہ قرآن کی دوسری صفت بیان ہوئی ہے کہ یہ بشیر و نذیر بن کر نازل ہوا ہے۔ جو لوگ اس کو قبول کریں گے ان کے لیے یہ دنیا اور آخرت دونوں میں فوز و فلاح کی بشارت ہے اور جو تکذیب کریں گے ان کے لیے یہ عذاب الٰہی کا پیش خیمہ ہے۔ یعنی کوئی اس کو سہل چیز نہ سمجھے۔ اب یہ سب سے بڑی رحمت بھی ہے اور سب سے بڑی نقمت بھی اس وجہ سے جو لوگ اس کی مخالفت کے درپے ہیں وہ اس مخالفت کے انجام کو دور تک سوچ لیں۔
      قرآن محض وعظ نہیں بلکہ خدائی انذار ہے: ’فَأَعْرَضَ أَکْثَرُہُمْ فَہُمْ لَا یَسْمَعُوۡنَ‘۔ یعنی اکثر لوگوں نے اس کی اس اہمیت کو ملحوظ نہیں رکھا بلکہ انھوں نے اس کو ایک معمولی چیز سمجھ کر اس سے اعراض اختیار کر رکھا ہے اور اس کو سننے سمجھنے کے لیے کسی طرح تیار نہیں ہو رہے ہیں۔ انھیں یہ اندازہ نہیں ہے کہ یہ محض کسی واعظ کا وعظ نہیں ہے بلکہ یہ خدائی انذار ہے اور یہ جن باتوں سے آگاہ کر رہا ہے ان میں سے ہر بات لازماً سامنے آ کے رہے گی۔

      جاوید احمد غامدی بشارت دینے والی اور خبردار کرنے والی۔ (اِن پر افسوس)، اِن کی اکثریت نے مگر اِس سے منہ موڑ لیا ہے، لہٰذا سن کر نہیں دے رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل ان باتوں سے اوٹ میں ہیں جن کی تم ہمیں دعوت دے رہے ہو اور ہمارے کان اس چیز سے بہرے ہیں جو تم ہمیں سنا رہے ہو اور ہمارے اور تمہارے درمیان ایک حجاب حائل ہے تو جو کچھ تمہیں کرنا ہے وہ کر گزرو، ہم بھی جو کچھ کرنے والے ہیں کر کے رہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس اعراض اور نہ سننے کی تفصیل ہے کہ وہ بڑی رعونت و تمکنت کے ساتھ کہتے ہیں کہ جن چیزوں کی طرف تم ہمیں دعوت دے رہے ہو ان کو قبول کرنے کے لیے ہمارے دل بالکل بند ہیں یعنی جس توحید اور آخرت کی تم دعوت لے کر اٹھے ہو یہ دعوت کسی طرح ہمارے دل پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہ بالکل وہی بات ہے جو یہود کی زبانی: ’قَالُوْا قُلُوبُنَا غُلْفٌ‘ کے الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔ لفظ ’اَکِنَّۃٌ‘ پر اس کے محل میں گفتگو ہو چکی ہے۔
      ’وَفِیْ آذَانِنَا وَقْرٌ‘ کے بعد ’من استماع القراٰن‘ یا اس کے ہم معنی الفاظ حذف ہیں۔ ’مِّمَّا تَدْعُوۡنَا إِلَیْْہِ‘ کا تقابل اس حذف کی طرف اشارہ کر رہا ہے؛ ترجمہ میں ہم نے اس کو کھول دیا ہے۔ یعنی یہ قرآن جو تم ہم کو سنا رہے ہو اس کے سننے کے لیے ہمارے کان بہرے ہیں۔
      ’وَمِنْ بَیْْنِنَا وَبَیْْنِکَ حِجَابٌ‘۔ یعنی ہمارے اور تمہارے درمیان عقائد و نظریات اور مسلک و مذہب کے اختلاف کی ایک ایسی دیوار حائل ہو گئی ہے کہ اب ہمارے مل سکنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔
      مخالفین قرآن کا آخری مطالبہ: ’فَاعْمَلْ إِنَّنَا عَامِلُوۡنَ‘۔ یعنی جب ہمارے درمیان ایسی دیوار حائل ہو چکی ہے کہ اب ہم ایک دوسرے سے کبھی مل ہی نہیں سکتے تو اب جو کچھ تم کر سکتے ہو وہ کر گزرو اور ہم بھی جو کچھ کرنے والے ہیں وہ اب بلا پس و پیش کر کے رہیں گے۔ اگرچہ الفاظ سے ظاہر نہیں ہے لیکن اوپر ’بشیر و نذیر‘ کے جو الفاظ وارد ہوئے ہیں ان کو سامنے رکھ کے غور کیجیے تو ’فَاعْمَلْ‘ کے اندر ان کی طرف سے عذاب کا مطالبہ مضمر ہے۔ یعنی تم اپنے قرآن میں جس عذاب کی روز دھمکی سنا رہے ہو اب ہمارے اس فیصلہ کن اعلان کے بعد اس کو لاؤ اگر اپنے دعوے میں سچے ہو ورنہ ہم تو بہرحال جو کچھ کرنے والے ہیں کر کے رہیں گے۔

      جاوید احمد غامدی اور (بڑی رعونت کے ساتھ) کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو، ہمارے دل اُس سے پردوں میں ہیں اور جو کچھ ہمیں سنا رہے ہو، ہمارے کان اُس سے بہرے ہیں اور ہمارے اور تمھارے درمیان ایک حجاب حائل ہے۔ سو جو کچھ تمھیں کرنا ہے، کر گزرو، ہم بھی، جو کچھ کرنا ہے، کر کے رہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ الفاظ اصل میں محذوف ہیں۔ ’مِمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَیْہِ‘ کا تقابل اِس حذف کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
      اوپر ’بَشَیْرًا وَّنَذِیْرًا‘ کے جو الفاظ وارد ہوئے ہیں، اُن کو سامنے رکھ کر دیکھیے تو گویا مدعا یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ کہنا تھا، کہہ دیا ہے۔ اب وہ عذاب وغیرہ لے آؤ، جس کی دھمکی روز ہمیں سناتے ہو۔

    • امین احسن اصلاحی ان سے کہہ دو، میں تو تمہارے ہی مانند ایک بشر ہوں۔ میرے پاس یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے تو اسی کی طرف یکسو ہو کر اپنا رخ کرو اور اس سے مغفرت مانگو اور ان مشرکوں کے لیے تباہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آنحضرتؐ کی طرف سے مطالبہ کا جواب: لفظ ’فَاعْمَلْ‘ کے اندر جو مطالبہ مضمر ہے اور جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا، اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ آنحضرت صلعم سے جواب دلوایا جا رہا ہے کہ ان لوگوں کو آگاہ کر دو کہ میں تو تمہارے ہی طرح ایک بشر ہوں۔ میں خدا نہیں ہوں کہ تمہارے مطالبے پر عذاب لا دوں یا جو چاہوں کر دوں۔ اس قسم کا کوئی اختیار مجھے حاصل نہیں ہے البتہ یہ وحی مجھ پر آئی ہے کہ تمہارا ایک ہی معبود ہے، کوئی اور اس کا شریک و سہیم نہیں ہے تو بالکل یکسو ہو کر اسی کی طرف توجہ کرو اور اب تک جس شرک میں آلودہ رہے ہو اس کی معافی مانگو اور اپنے رب حقیقی کی طرف رجوع کرو۔ اور ساتھ ہی یہ بھی سن لو کہ ان مشرکوں کے لیے ہلاکی و بربادی ہے جو اللہ کی راہ میں انفاق تو کرتے نہیں، بس اپنے مزعومہ سفارشیوں کے بل پر نچنت بیٹھے ہیں۔ فرمایا کہ آخرت کے اصلی منکر یہی ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اِن سے کہہ دو، (مجھے کیا کرنا ہے، میں خدا نہیں ہوں کہ تم پر عذاب نازل کر دوں)۔ میں بھی اُسی طرح ایک انسان ہی ہوں، جیسے تم ہو۔ مجھے وحی کے ذریعے سے بتایا جاتا ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ سو اپنا رخ سیدھے اُسی کی طرف کیے رہو اور اُس سے مغفرت چاہو۔ اور (کہہ دو کہ) اِن مشرکوں کے لیے تباہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی جو انفاق نہیں کرتے اور آخرت کے تو اصلی منکر وہی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ زکوٰۃ انفاق کے عام مفہوم میں: ’لَا یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ‘ میں ’زکوٰۃ‘ سے مراد ’انفاق فی سبیل اللہ‘ ہے۔ اس مفہوم کے لیے یہ لفظ اسلام کے مکی دور میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ مدنی دور میں آ کر اس کی ایک باضابطہ شکل معین ہو گئی اور پھر اس کا اطلاق اسی پر ہونے لگا۔ یہاں یہ لفظ اپنے عام مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور اس مفہوم میں اس زمانے میں معروف تھا۔
      اس جواب کا مدعا یہ ہے کہ قرآن جس عذاب کی دھمکی سنا رہا ہے اس کو لانا تو میرا کام نہیں ہے بلکہ اللہ ہی کا کام ہے البتہ یہ انذار کان کھول کر سن لو کہ جو مشرکین ایمان و عمل صالح کے بجائے اپنے شرکاء و شفعاء پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں ان کی ہلاکی ہے!!
      شرک و شفاعت کے ساتھ آخرت کو ماننا اس کے انکار کے حکم میں داخل ہے: ’وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ‘۔ اس جملہ میں مبتداء کے اعادہ سے حصر کا مضمون پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے معنی صرف یہ نہیں ہیں کہ یہ لوگ آخرت کے منکر ہیں بلکہ اس کا صحیح مفہوم یہ ہو گا کہ آخرت کے منکر یہی ہیں، اس حصر کا فائدہ یہ ہوا کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ جب یہ آخرت کو مانتے ہیں، اگرچہ شرک و شفاعت کے تصور کے ساتھ سہی، تو کسی نہ کسی درجے میں ان کے اس ماننے کا بھی اعتبار ہونا چاہیے۔ فرمایا کہ ہرگز نہیں، جن لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کے شفعاء و شرکاء ان کو بہرحال بخشوا ہی لیں گے خواہ ان کے اعمال کچھ ہی ہوں وہ آخرت کے ماننے والے نہیں بلکہ اس کے اصلی منکر و مکذب وہی ہیں۔ اس زور و تاکید کے ساتھ اس بات کے کہنے کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے خدا کے اس عدل اور اس حکمت ہی کی نفی کر دی جس پر آخرت کی بنیاد ہے۔ دوسرے اگر منکر ہیں تو محض استبعاد و شک میں مبتلا ہیں لیکن انھوں نے تو قیامت کا سارا فلسفہ ہی ہدم کر دیا۔ آگے آپ دیکھیں گے کہ قرآن نے شرک کو بھی صاف صاف کفر سے تعبیر کیا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ شرک درحقیقت اللہ تعالیٰ کی تمام بنیادی صفات کی نفی کر دیتا ہے جن کی نفی کے بعد خدا کو ماننا اور نہ ماننا دونوں بالکل یکساں ہو کر رہ جاتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی جو زکوٰۃ (کی صورت میں لوگوں کا جو حق اُن پر عائد ہے، اُسے) ادا نہیں کرتے اور یہی آخرت کے منکر ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے کہ اگر مانتے بھی ہیں تو اِس عقیدے کے ساتھ کہ یہ کچھ بھی کرتے رہیں، اِن کے شرکا و شفعا اِن کو بہرحال بخشوا لیں گے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس زور و تاکید کے ساتھ اِس بات کے کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اِنھوں نے خدا کے اُس عدل اور اُس حکمت ہی کی نفی کر دی جس پر آخرت کی بنیاد ہے۔ دوسرے اگر منکر ہیں تو محض استبعاد یا شک میں مبتلا ہیں، لیکن اِنھوں نے تو قیامت کا سارا فلسفہ ہی ہدم کر دیا۔‘‘(تدبرقرآن۷/ ۸۰)

    • امین احسن اصلاحی البتہ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل بھی کیے ان کے لیے دائمی صلہ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      توحید خالص پر قائم رہنے والوں کے لیے بشارت: یہ اس انذار کے مقابل میں بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں غیر منقطع اجر صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان اور عمل صالح کی روش اختیار کریں گے یعنی بلا شائبہ شرک توحید پر ایمان لائیں گے اور خدا کی بندگی اور اطاعت کے جو حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں ان کو پورے اخلاص اور کامل استقامت کے ساتھ ادا کریں گے۔
      ’غَیْْرُ مَمْنُوۡنٍ‘ کی تاویل بعض لوگوں نے اس سے مختلف بھی کی ہے لیکن قرآن کے نظائر سے تائید اسی تاویل کی ہوتی ہے جو ہم نے اختیار کی ہے۔ قرآن میں بعض جگہ یہی مضمون ’عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ‘ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے معنی ایسی بخشش کے ہیں جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہو۔

      جاوید احمد غامدی (اِن میں سے)، البتہ جو ایمان لے آئے ہیں اور اُنھوں نے نیک عمل کیے ہیں، اُن کے لیے، یقیناً ایسا صلہ ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ان سے پوچھو، کیا تم لوگ اس ہستی کا انکار کر رہے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو، وہی تو تمام عالم کا خداوند ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نظام کائنات میں توحید کے شواہد: اب یہ آسمان و زمین کے نظام کے اندر خالق کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور اس کی توحید کے جو آثار نمایاں ہیں ان کی طرف توجہ دلائی ہے اور آگے آیت ۱۲ میں اس بحث کا خلاصہ یہ نکالا ہے کہ ’ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ‘۔ یعنی جو شخص اس کائنات کے ان پہلوؤں پر غور کرے گا وہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ یہ نہ تو ایک حادثہ کے طور پر آپ سے آپ وجود میں آ گئی ہے، نہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشا ہے اور نہ یہ مختلف دیویوں دیوتاؤں کی بازی گاہ یا رزم گاہ ہے بلکہ یہ خدائے عزیز و علیم کی منصوبہ بندی اور اس کے علم و حکمت سے وجود میں آئی ہے۔ یہ مضمون چار آیتوں میں پھیلا ہوا ہے اس وجہ سے قارئین کی سہولت کے لیے ہم پہلے آیتوں پر الگ الگ بحث کریں گے پھر آخر میں خلاصۂ بحث پیش کر کے اس پر جو شبہات وارد ہوتے ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔
      اس سلسلہ کی پہلی آیت کو لیجیے جو اوپر نقل ہوئی ہے۔ فرمایا کہ کیا تم لوگ اس ذات کا انکار کر رہے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو، عالم کا خداوند تو وہی ہے!
      خدا کو ماننا صرف وہ معتبر ہے جو اس کی تمام صفات کے اقرار کے ساتھ ہو: یہاں پہلی قابل توجہ بات یہ ہے کہ خطاب اگرچہ مشرکین قریش سے ہے جو خدا کے منکر نہیں بلکہ اس کے شریک ٹھہرانے والے تھے لیکن قرآن نے ان کے اس شرک کو کفر (اَئِنَّکُمْ لَتَکْفُرُوْنَ) سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کو ماننا معتبر صرف وہ ہے جو اس کی تمام صفات اور ان کے تمام حقوق و مقتضیات کے ساتھ ہو۔ اگر کوئی شخص خدا کو مانے لیکن اس طرح مانے کہ اس سے خدا کی کل یا بعض صفات کی نفی ہو رہی ہو تو یہ ماننا دین میں معتبر نہیں ہے بلکہ یہ درحقیقت کفر ہی ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے شرک کو جگہ جگہ کفر سے تعبیر اور مشرکین کو صریح الفاظ میں ’یَاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ‘ سے خطاب فرمایا ہے۔ اوپر ہم نے مشرکین کے منکر قیامت ہونے کی جو توجیہ کی ہے اس کو بھی پیش نظر رکھیے۔ یہ دونوں باتیں درحقیقت ایک ہی اصول پر مبنی ہیں۔
      خدائی ایام ہمارے دنوں سے مختلف ہیں: ’فِیْ یَوْمَیْنِ‘ میں دو دنوں سے مراد یہ ہمارے دن نہیں ہیں بلکہ، جیسا کہ اس کے محل میں ہم وضاحت کر چکے ہیں، اس سے خدائی دن مراد ہیں جو ہمارے شمار سے ہزار سال بلکہ بعض صورتوں میں پچاس ہزار سال کے برابر بھی ہو سکتے ہیں اس وجہ سے ان کو ادوار کے مفہوم میں لینا چاہیے۔
      آسمانوں اور زمین کی خلقت کی تفصیل: قرآن کے دوسرے مقامات میں آسمان و زمین اور ان کے متعلقات کی خلقت چھ دنوں میں بیان ہوئی ہے۔ یہاں اس مجموعی تعداد کی تفصیل بیان ہو رہی ہے کہ کس چیز کی خلقت پر کتنے دن صرف ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا۔ اس کے اس کام میں کوئی اس کا ساجھی اور شریک و مدد گار نہیں ہوا لیکن تم اس کے شریک ٹھہراتے ہو! حالانکہ جو اس کا خالق ہے وہی اس زمین اور تمام عالم کا خداوند بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہی خداوند ہے بھی اور اسی کو ہونا چاہیے بھی اس لیے کہ وہی خالق ہے لیکن تمہاری خرد باختگی کا یہ حال ہے کہ تم نے عقل و فطرت کے بالکل خلاف اور بالکل بے دلیل اس کے شریک اور مدمقابل بنا رکھے ہیں! یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین عرب آسمان و زمین بلکہ تمام چیزوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے لیکن اس کے باوجود اس کے شریک بھی ٹھہراتے تھے یہاں ان کے اسی مسلمہ پر دلیل قائم فرمائی ہے اور انداز ملامت کا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِن سے پوچھو، کیا تم اُس ہستی کا انکار کر رہے ہو جس نے دو دنوں میں زمین بنائی اور اُس کے شریک ٹھیراتے ہو؟یہ ہے جہانوں کا پروردگار۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      قرآن نے یہاں شرک کو خدا کے انکار سے تعبیر فرمایا ہے۔ اِس کی وجہ کیا ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... خدا کو ماننا معتبر صرف وہ ہے جو اُس کی تمام صفات اور اُن کے تمام حقوق و مقتضیات کے ساتھ ہو۔ اگر کوئی شخص خدا کو مانے، لیکن اِس طرح مانے کہ اُس سے خدا کی کل یا بعض صفات کی نفی ہو رہی ہو تو یہ ماننا دین میں معتبر نہیں ہے، بلکہ یہ درحقیقت کفر ہی ہے۔ اِسی وجہ سے قرآن نے شرک کو جگہ جگہ کفر سے تعبیر اور مشرکین کو صریح الفاظ میں ’یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ‘ سے خطاب فرمایا ہے۔ ‘‘(تدبرقرآن۷/ ۸۱)

      اِن سے خدائی دن مراد ہیں جن کے بارے میں تصریح ہے کہ بعض صورتوں میں ہمارے شمار سے پچاس ہزار سال کے برابر بھی ہو تے ہیں۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں بیان کیا گیا ہے کہ زمین اور آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا گیا۔ یہاں اُن کی تفصیل کی جا رہی ہے کہ کس چیز کی خلقت میں کتنے دن صرف ہوئے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اس نے اس زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیے اور اس میں برکتیں رکھیں اور اس میں اس کے غذائی ذخیرے ودیعت کیے سب ضرورت مندوں کے لیے یکساں طور پر۔ یہ سب ملا کر چار دنوں میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زمین اور اس کے بعض آثار: یہ زمین کی برکات کی تفصیل بیان ہو رہی ہے کہ اللہ ہی نے اس کے اندر پہاڑ گاڑے۔ ان پہاڑوں کے گاڑنے کی ایک حکمت دوسرے مقام میں بیان فرمائی ہے کہ یہ زمین کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں ورنہ اندیشہ ہے کہ یہ تمام مخلوقات سمیت کسی طرف کو لڑھک جائے۔ ’مِنْ فَوْقِھَا‘ کے الفاظ سے مقصود ان کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی یہ نشانیاں کچھ ڈھکی چھپی نہیں ہیں بلکہ یہ زمین کے اوپر ہی موجود ہیں جن کو ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ سورۂ غاشیہ میں بھی پہاڑوں کی طرف اسی پہلو سے توجہ دلائی گئی ہے:

      ’اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ وَاِلَی السَّمَآءِ کَیْفَ رُفِعَتْ وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ‘ (الغاشیہ: ۱۷-۲۰)
      (کیا وہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح ان کی خلقت ہوئی ہے اور آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح اس کو بلند کیا گیا ہے اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح وہ گاڑے گئے ہیں اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح وہ مسطح کی گئی ہے!!)

      ’وَبٰرَکَ فِیْھَا وَقَدَّرَ فِیْھَآ اَقْوَاتَھَا‘۔ یعنی اس میں برکتیں رکھیں اور اس میں تمام قسم کے غذائی ذخیرے ودیعت کیے۔
      زمین اور اس کی برکات: اسی برکت کا کرشمہ ہے کہ یہ ہر قسم کی نباتات اگاتی ہے جن کے پھل اور پھول انسان اور دوسری مخلوقات کے کام آتے ہیں، یہ اسی کا فیض ہے کہ ایک دانہ انسان بوتا ہے اور زمین سینکڑوں دانوں کی شکل میں اس کا حاصل اس کو واپس کرتی ہے۔ ایک گٹھلی یا ایک قلم آدمی زمین میں لگاتا ہے اور ایک مدت دراز تک اس کا پھل وہ اور اس کے اخلاف کھاتے ہیں۔ علاوہ بریں یہ اسی برکت کا ثمرہ ہے کہ انسان اپنی سائنس کے ذریعہ سے اس کے جتنے پرت الٹتا جاتا ہے اتنے ہی اس کے اندر سے خزانے پر خزانے نکلتے آ رہے ہیں اور صاف نظر آتا ہے کہ انسان کی سائنس تھک جائے گی لیکن زمین کے خزانے کم ہونے والے نہیں ہیں۔
      ’وَقَدَّرَ فِیْھَآ اَقْوَاتَھَا‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کی آغوش میں جتنی مخلوقات ڈالی ہیں یا ڈالے گا اسی حساب سے اس کے اندر غذائی ذخائر بھی مقدر کر دیے ہیں۔ یہ ذخائر قیامت تک انسان کی سعی و تدبیر سے برآمد ہوتے رہیں گے۔ ہر مخلوق جو اس زمین پر پیدا ہو گی اس کے حصے کا رزق اللہ تعالیٰ نے زمین کو تحویل میں دے رکھا ہے اور اس کے برآمد کرنے کی تدبیر بھی انسان کو الہام کر رکھی ہے۔
      ایام کی مجموعی تعداد جو آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں لگے: ’فِیْٓ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍ‘۔ یہ سارے کام چار دنوں میں انجام پائے۔ یعنی زمین کی خلقت کے دن اور اس کے اندر پہاڑ گاڑنے اور تقدیر اقوات کے دن سب ملا کر چار دن ہوئے۔ مذکورہ کاموں میں جتنے دن صرف ہوئے۔ یہ آخر میں ان سب کو جمع کر دیا ہے۔
      اللہ نے ہر قسم کی مخلوقات کے لیے ان کے جبلی تقاضوں کے مطابق غذا فراہم کی ہے: ’سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنی قسم کی مخلوقات پیدا کی ہیں اور ان کے بقا کے لیے جس قسم کی غذا کی احتیاج ان کے اندر رکھی ہے، ان سب کی جبلی احتیاج کے اعتبار سے یہ غذائی ذخیرے ودیعت فرمائے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ کچھ مخلوقات تو وجود میں آ گئی ہوں لیکن ان کی پرورش کے لیے جس غذا کی ضرورت ہے وہ وجود میں نہ آئی ہو۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر، زمین کی تہوں میں، سمندروں کی تاریکیوں میں، جہاں کہیں بھی کوئی چھوٹی یا بڑی مخلوق موجود ہے اس کے گرد و پیش میں اس کا طبعی رزق موجود ہے۔ ایک بکری گھاس کھا کر زندہ رہتی ہے اس کے لیے اللہ نے گھاس پیدا کی ہے۔ ایک شیر گوشت سے زندہ رہتا ہے اس کو اللہ نے شکار کے اسلحہ بھی دیے ہیں اور شکار کے لیے جانور بھی پیدا کیے ہیں۔ اور یہ بات بھی صاف نظر آتی ہے کہ کسی کو بھی اپنی مایحتاج سے زبردستی مناسبت نہیں پیدا کرنی پڑی ہے بلکہ جس کو جو کچھ بھی ملا ہے اس کے جبلی تقاضوں کے مطابق ملا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے کہ یہ اللہ ہی کی شان ہو سکتی ہے کہ وہ اتنی بے شمار قسم کی مخلوقات پیدا کرے اور پھر ہر جنس و نوع کے جبلی تقاضوں کے مطابق ان کے لیے غذا فراہم کرے۔ خدا کے سوا اور کون ہے جو اس پر قادر ہو سکے؟
      لفظ ’سوال‘ ایک خاص مفہوم میں: لفظ ’سوال‘ یہاں اسی معنی میں ہے جس معنی میں سورۂ ابراہیم کی آیت ۳۷ میں ہے:

      ’وَاٰتٰکُمْ مِّنْ کُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْہُ‘
      (اور تم کو ان سب میں سے دیا جن کے تم محتاج ہوئے)

      یعنی تمہارے اندر اس نے جن چیزوں کی احتیاج رکھی وہ چیزیں بھی مہیا فرمائیں۔
      اشتراکیت پسندوں کا ایک بے بنیاد استدلال: زیر بحث ٹکڑے سے اشتراکی حضرات نے غذائی مساوات کا ثبوت فراہم کرنے کی جو کوشش کی ہے اس کی تردید کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نے آیت کی صحیح تاویل واضح کر دی اور یہی ہماری ذمہ داری ہے۔ لوگوں کے اندر صحیح بات سمجھنے اور اس کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کر دینا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اور اُس نے زمین کے اندر اُس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیے اور اُس میں برکتیں رکھ دیں اور سب ضرورت مندوں کے لیے یکساں، اُس کی غذائیں اُس میں ودیعت کر دیں۔ یہ سب ملا کر چار دنوں میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ایسے نمایاں کہ ہر شخص اُن کو دیکھ سکتا ہے۔ دوسری جگہ مزید وضاحت ہے کہ یہ زمین کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں، ورنہ اندیشہ ہے کہ اپنی تمام مخلوقات کو لے کر یہ کسی طرف لڑھک جائے۔
      زمین میں انسان کی پرورش کا جو اہتمام ہے، یہ اُس کی نہایت جامع تعبیر ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’ اِسی برکت کا کرشمہ ہے کہ یہ ہر قسم کی نباتات اگاتی ہے جن کے پھل اور پھول انسان اور دوسری مخلوقات کے کام آتے ہیں۔ یہ اِسی کا فیض ہے کہ ایک دانہ انسان بوتا ہے اور زمین سینکڑوں دانوں کی شکل میں اُس کا حاصل اُس کو واپس کرتی ہے۔ ایک گٹھلی یا ایک قلم آدمی زمین میں لگاتا ہے اور ایک مدت دراز تک اُس کا پھل وہ اور اُس کے اخلاف کھاتے ہیں۔ علاوہ بریں یہ اِسی برکت کا ثمرہ ہے کہ انسان اپنی سائنس کے ذریعے سے اِس کے جتنے پرت الٹتا چلاجاتا ہے، اتنے ہی اِس کے اندر سے خزانے پر خزانے نکلتے آرہے ہیں اور صاف نظر آتا ہے کہ انسان کی سائنس تھک جائے گی، لیکن زمین کے خزانے کم ہونے والے نہیں ہیں۔‘‘(تدبرقرآن۷/ ۸۲)

      غذاکے یہی ذخائر ہیں جو انسان کی سعی و تدبیر سے برآمد ہوئے ہیں اور قیامت تک برآمد ہوتے رہیں گے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنی قسم کی مخلوقات پیدا کی ہیں اور اُن کے بقا کے لیے جس قسم کی غذا کی احتیاج اُن کے اندر رکھی ہے، اُن سب کی جبلی احتیاج کے اعتبار سے یہ غذائی ذخیرے ودیعت فرمائے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ کچھ مخلوقات تو وجود میں آ گئی ہوں، لیکن اُن کی پرورش کے لیے جس غذا کی ضرورت ہے، وہ وجود میں نہ آئی ہو۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر، زمین کی تہوں میں، سمندروں کی تاریکیوں میں، جہاں کہیں بھی کوئی چھوٹی یا بڑی مخلوق موجود ہے، اُس کے گرد و پیش میں اُس کا طبعی رزق موجود ہے۔ ایک بکری گھاس کھا کر زندہ رہتی ہے، اُس کے لیے اللہ نے گھاس پیدا کی ہے۔ ایک شیر گوشت سے زندہ رہتا ہے، اس کو اللہ نے شکار کے اسلحہ بھی دیے ہیں اور شکار کے لیے جانور بھی پیدا کیے ہیں۔ اور یہ بات بھی صاف نظر آتی ہے کہ کسی کو بھی اپنی مایحتاج سے زبردستی مناسبت نہیں پیدا کرنی پڑی ہے، بلکہ جس کو جو کچھ بھی ملا ہے، اُس کے جبلی تقاضوں کے مطابق ملا ہے۔‘‘(تدبرقرآن۷/ ۸۳)

      یعنی دو دن زمین کی خلقت کے اور دو دن اِن سب کاموں کے جن کا ذکر ہوا ہے۔ یہ آخر میں سب کو جمع کرکے فرمایا ہے: ’فِیْٓ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍ‘۔ آیت میں ’سُؤَال‘ کا لفظ اُسی معنی میں ہے، جس میں یہ سورۂ ابراہیم (۱۴) کی آیت ۳۴ میں استعمال ہوا ہے: ’وَ اٰتٰکُمْ مِّنْ کُلِّ مَا سَأَلْتُمُوْہُ‘۔

    • امین احسن اصلاحی پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی، اور وہ اس وقت دھوئیں کی شکل میں تھا۔ پس اس کو اور زمین کو حکم دیا کہ تم ہمارے احکام کی تعمیل کرو، طوعاً یا کرہاً، وہ بولے کہ ہم رضا مندانہ حاضر ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      پہلے آسمان پیدا ہوا یا زمین؟ ’اِسْتَوٰی اِلَی الشَّیْءِ‘ کے معنی ہیں ’اس کی طرف توجہ کی‘۔ ’اس کا قصد فرمایا‘۔ اس کا ارادہ کیا۔ فرمایا کہ تخلیق زمین کے ان مراحل کے بعد آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور اس وقت وہ دھوئیں کی شکل میں تھا۔ ’دھوئیں‘ سے مراد غبار ہے یا سائنسدانوں کی اصطلاح میں اس کو نیبولا (NEBULA) یا سحابیے کہہ لیجیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت آسمان اپنی ایک ابتدائی اور ناتمام شکل میں موجود تھا۔ اس کی یہ شکل ظاہر ہے کہ انہی دو دنوں میں وجود پذیر ہوئی ہو گی جن میں زمین کی ابتدائی خلقت کا مرحلہ طے پایا ہے اس وجہ سے اس ’استواء‘ سے مقصود وہ توجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آسمان کو ایک تکمیلی شکل دینے کے لیے فرمائی ۔ چنانچہ آگے کی آیات سے واضح ہے کہ اس مرحلہ میں اللہ تعالیٰ نے آسمان کو سات آسمانوں کی صورت میں مشکّل کیا اور نظام کائنات میں ہر آسمان کا جو فریضہ ہے اس کا اس کو پابند کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین دونوں کی خلقت کا آغاز تو ایک ہی ساتھ ہوا ہے لیکن جس طرح ایک وسیع الاطراف عمارت کے مختلف حصوں میں تعمیر کے مصالح کے تحت کبھی اس کے کسی گوشہ میں کام ہوتا ہے کبھی کسی گوشہ میں اسی طرح آسمان و زمین کی تعمیر کا کام بھی ہوا ہے اس وجہ سے یہ سوال غیرضروری ہے کہ پہلے زمین پیدا ہوئی ہے یا آسمان؟ ایک مکان کی پلاننگ لازماً ایک ہی وقت میں ہوتی ہے۔ اس کے ہر حصہ کی تعمیر کے لیے ضروری میٹیریل بھی فراہم کر لیا جاتا ہے۔ کام کا آغاز اگرچہ بنیادوں اور دیواروں سے ہوتا ہے لیکن ابھی ان کی تکمیل کا مرحلہ باقی ہی ہوتا ہے کہ چھت کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ چھت سے متعلق ابھی کچھ مزید کام باقی ہی رہتے ہیں کہ دیواروں کے پلاستر کا کام سامنے آ جاتا ہے۔ اس سے فارغ ہوئے کہ چھت کا بقیہ کام تکمیل کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس سے فراغت حاصل ہوئی تو فرش کی تکمیل کی طرف توجہ ہوئی۔ غرض ایک مکان کی تعمیر کا معاملہ ایک مرکب اور مجموعی نوعیت رکھتا ہے اور اسی حیثیت سے اس پر غور کرنا پڑتا ہے۔
      اگرچہ اس چھوٹی سی مثال کو آسمان و زمین سے کوئی نسبت نہیں ہے لیکن بات کو سمجھنے کے لیے اسی پر آسمان و زمین کو بھی قیاس کرنا پڑے گا اس لیے کہ قرآن نے ان دونوں کا ذکر ایک مکان ہی کی نوعیت سے کیا ہے۔ کبھی آسمان کا ذکر مقدم کیا ہے کہیں زمین کا۔ کہیں یہ خیال گرزتا ہے کہ چھت پہلے بنی ہے اور کہیں یہ شبہ دل میں پیدا ہوتا کہ چھت سے پہلے فرش کی تکمیل ہوئی ہے حالانکہ اس قسم کے شبہات محض اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ آسمان وزمین دونوں کو ایک مجموعہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ان کو الگ الگ دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں ان اشارات پر قناعت کیجیے۔ ان شاء اللہ نازعات کی آیات ۳۰-۳۳ کے تحت ہم اس کی مزید وضاحت کریں گے۔
      اس کائنات کی ہر چیز اپنی جبلت کے اعتبار سے مسلم ہے: ’فَقَالَ لَھَا وَلِلْاَرْضِ ائۡتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا قَالَتَآ اَتَیْنَا طَآئِعِیۡنَ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین دونوں کو وجود بخشنے کے بعد یہ ہدایت فرمائی کہ تم دونوں کو بہرحال میری اطاعت کرنی ہے، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہم رضامندانہ اطاعت کے لیے حاضر ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کائنات کی جو چیزیں جبلی طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتی ہیں ان کی اطاعت بھی مجبورانہ نہیں بلکہ رضامندانہ ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی جبلت اسلام ہی کے سانچہ پر بنائی ہے۔ گویا اس کائنات کی ہر چیز اپنی جبلت کے لحاظ سے مسلم ہے۔ فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی جو نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ خدا کی فرماں برداری پر مجبور ہیں بلکہ ان کی فطرت اللہ تعالیٰ نے اسلام کے رنگ میں اس طرح رنگی ہے کہ ان سے کبھی اس کی خلاف ورزی صادر نہیں ہو سکتی۔
      ’ائۡتِیَا طَوْعًا‘ اسی طرح کا اسلوب ہے جس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکۂ سبا کو اپنے نامہ میں لکھا تھا کہ ’وَاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْن‘ جن لوگوں نے اس کے معنی اس سے الگ لیے ہیں انھوں نے اسلوب زبان سے ناواقفیت کے باعث بالکل غلط معنی لیے ہیں۔
      جمادات بھی اپنے رب کے احکام کے سمجھنے اور ان کی تعمیل کے معاملہ میں عاقل ہیں: اس آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس کائنات کی جن چیزوں کو ہم لایعقل جمادات کے درجہ میں رکھتے ہیں وہ بھی اپنے رب کے حکموں کو سمجھنے، اس کی باتوں کا جواب دینے، اس کے ارشادات کی تعمیل کرنے اور اس کی تحمید و تسبیح کے معاملہ میں پوری طرح عاقل ہیں۔ چنانچہ یہاں آسمان و زمین کی زبان سے جو قول نقل ہوا ہے اس میں بھی لفظ ’طَآئِعِیۡنَ‘ آیا ہے جو ذوی العقول اور ذی ارادہ چیزوں کے لیے موزوں ہے۔ اگر ہم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے یا ان کو خطاب نہیں کر سکتے تو اس کی بنا پر ہم کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہم ان کو بالکل لایعقل خیال کریں بلکہ یہ محض ہمارے علم کی نارسائی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کائنات کے ایک ایک ذرے کی تحمید و تسبیح کو سمجھتا ہے، اور ہر ذرہ اس کے حکموں کو سمجھ کر اس کی تعمیل کرتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی پھر اُس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی جو (زمین کے ساتھ ہی وجود میں آ چکا تھا اور) اُس وقت دھوئیں کی صورت میں تھا۔سو اُس کو اور زمین کو حکم دیا کہ تعمیل کرو، خوشی سے یا نا خوشی سے۔ دونوں نے کہا: ہم خوشی سے حاضر ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ غالباًوہی چیز ہے جسے اِس زمانے کے سائنس دان سحابیے(nebula) سے تعبیر کرتے ہیں۔ اُن کا تصور بھی یہی ہے کہ کائنات جس مادے سے بنی ہے، ابتدا میں وہ اِسی دخانی یا سحابی شکل میں منتشر تھا۔
      اصل الفاظ ہیں: ’اِئۡتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا‘۔ یہ اُسی طرح کا اسلوب ہے، جیسے حضرت سلیمان نے ملکۂ سبا کو لکھا تھا کہ ’وَاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ‘۔* مطلب یہ ہے کہ میرے مطیع و فرماں بردار بن کر رہو اور جو حکم دیا جائے، اُس سے انحراف کی جسارت نہ کرو۔
      اِس سے معلوم ہوا کہ جن چیزوں کو بظاہر لا یعقل سمجھا جاتا ہے، وہ بھی اپنے رب کی باتوں کو سمجھتی اور اُن کا جواب دیتی ہیں۔ ہم اگر اُن کی باتوں کو یا اُن کی تسبیح و تحمید کو نہیں سمجھتے تو یہ ہماری نارسائی ہے۔ چنانچہ ہمارا یہ حق نہیں ہے کہ اپنے اِس نارسا علم کے ساتھ اِس طرح کی چیزوں پر کوئی حکم لگائیں۔
      _____
      * النمل ۲۷: ۳۱۔

    • امین احسن اصلاحی پس ان کے سات آسمان ہونے کا فیصلہ فرمایا دو دنوں میں۔ اور ہر آسمان میں اس کے متعلقہ فرائض وحی کر دیے اور ہم نے آسمان زیریں کو چراغوں سے سنوارا اور اس کو اچھی طرح محفوظ کیا۔ یہ خدائے عزیز و علیم کی منصوبہ بندی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ساتوں آسمانوں کی تکمیل: اس سے معلوم ہوا کہ جس وقت آسمان کی طرف توجہ فرمائی ہے اس وقت ساتوں آسمانوں کا ہیولیٰ تو موجود تھا اگرچہ ابھی وہ تکمیلی عمل (FINISHING TOUCH) کا محتاج تھا۔ اس کا اشارہ جمع کی ضمیر اور بعد کے قرائن سے نکلتا ہے۔ فرمایا کہ پس ان کا فیصلہ فرما دیا کہ وہ سات آسمان بن جائیں۔
      ’وَاَوْحٰی فِیْ کُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَھَا‘۔ اور ان میں سے ہر آسمان کی اس کائنات کے مجموعی نظام میں جو ڈیوٹی ہے وہ اس کو وحی فرمائی۔
      ’وَزَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ‘۔ اور آسمان زیریں کو ستاروں کے قمقموں سے سجایا۔ یہاں اسلوب کی یہ تبدیلی ملحوظ رہے کہ اوپر کی باتیں غائب کے اسلوب میں ہیں اور یہ بات متکلم کے اسلوب میں۔ اسلوب کی اس تبدیلی کی بلاغت کی طرف اس کے محل میں ہم اشارہ کر چکے ہیں۔
      ’وَحِفْظًا‘۔ یہ مصدر فعل کی تاکید کے لیے ہے یعنی اس آسمان زیریں کو شیاطین جن کی دراندازیوں سے اچھی طرح محفوظ کیا۔ اس کی وضاحت اس کتاب کے متعدد مقامات میں ہو چکی ہے اور آگے سورۂ جن کی تفسیر میں اس کی مزید تفصیل ان شاہ اللہ آئے گی۔ یہ سارے کام دو دنوں میں تکمیل کو پہنچے اور مجموعی طور پر یہ کل چھ دن ہوئے۔ یہ اس اجمال کی تفصیل ہو گئی جو آسمان و زمین کی خلقت سے متعلق قرآن کے دوسرے مقامات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔
      ساری تفصیل کا خلاصہ: ’ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ‘۔ یہ اس ساری تفصیل کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ جو شخص اس کارخانۂ کائنات پر غور کرے گا وہ پکار اٹھے گا کہ یہ ایک عزیز و علیم کی منصوبہ بندی کا کرشمہ ہے۔ یعنی یہ کوئی اتفاقی حادثہ کے طور پر ظہور میں آ جانے والی چیز نہیں ہے بلکہ اس کے اندر نہایت حکیمانہ پلاننگ ہے اور یہ پلاننگ ایک ایسی ہستی کی کی ہوئی ہے جو ہر چیز پر غالب و مقتدر ہے۔ کوئی چیز بھی اس کے حیطۂ اقتدار سے باہر نہیں ہے۔ ساتھ ہی اس کا علم محیط کل ہے کہ اس کائنات کے بعید سے بعید گوشوں کی ہر چیز سے بھی وہ باخبر، اس کی ضروریات سے واقف اور اس کائنات کے مجموعی نظام میں اس کا جو مصرف ہے اس سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ اس خلاصہ کو سامنے رکھتے ہوئے اب ابتداء کے سوال ’اَئِنَّکُمْ لَتَکْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ ...... الآیۃ‘ کو اس کے ساتھ ملائیے تو گویا پوری بات یوں ہو گی کہ یہ کائنات اپنے وجود سے تو اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ یہ ایک عزیز و علیم کی بنائی ہوئی اور اسی کے تصرف میں ہے لیکن تمہاری جہالت کا یہ عالم ہے کہ بہت سے فرضی دیویوں دیوتاؤں کو اس کا شریک مان کر تم اس کا انکار کر رہے ہو۔ اس بات کو سوال کی صورت میں تعجب و کراہیت کے اظہار کے لیے رکھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی حماقت کے لیے کوئی وجہ جواز تو نہیں ہے لیکن جب عقل الٹ جاتی ہے تو انسان سے کوئی حماقت بھی بعید نہیں رہ جاتی۔
      ان آیات کی تعلیم: ان آیات سے جو تعلیم نکلتی ہے اگرچہ آیات کی وضاحت کرتے ہوئے اس کی طرف ہم اشارہ کرتے آ رہے ہیں لیکن چونکہ اس کا تعلق دین کی بنیادی حکمت سے ہے اس وجہ سے آخر میں ہم اس کی پھر یاددہانی کیے دیتے ہیں۔
      پہلی بات یہ نکلتی ہے کہ یہ دنیا نہایت تدریج و اہتمام کے ساتھ ایک طے کردہ پروگرام کے مطابق وجود میں آئی ہے۔ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ اس کو کسی نے بس یوں ہی کھیل تماشے کے طور پر بنایا ہے اور یہ یوں ہی چلتی رہے گی یا یوں ہی ختم ہو جائے گی۔ یہ اہتمام اس کے بامقصد و باغایت ہونے کی ناقابل انکار دلیل ہے اور اس کا باغایت و بامقصد ہونا لازماً آخرت کو مقتضی ہے۔
      دوسری یہ کہ اس کا خالق بے نہایت قدرت اور غیرمحدود علم کا مالک ہے اس وجہ سے اس کام میں نہ اس کو کسی کی مدد کی ضرورت ہوئی اور نہ کوئی اس کی مدد کر سکنے کا اہل ہے۔
      تیسری یہ کہ آسمان و زمین دونوں نے مل کر ایک مکان کی شکل اختیار کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو فروکش کیا ہے اس وجہ سے یہ خیال بالبداہت غلط ہے کہ اس کی چھت پر کسی اور کا تصرف ہے اور اس کے فرش کا کوئی اور مالک ہے بلکہ آسمان و زمین دونوں کی سازگاری اس بات کی دلیل ہے کہ جس عزیز و علیم نے ان کو پیدا کیا ہے وہی ان پر متصرف بھی ہے۔
      چوتھی یہ کہ اس دنیا میں ربوبیت کا جو ہمہ گیر نظام ہے وہ اس بات پر شاہد ہے کہ یہ خدائے عزیز و علیم ہی کا قائم کیا ہوا ہے، کوئی دوسرا اس نظام کو قائم کرنے پر قادر نہیں ہے اس وجہ سے بندوں کو چاہیے کہ اسی کے آگے دست سوال دراز کریں اس لیے کہ حقیقی نافع و ضار وہی ہے۔
      پانچویں یہ کہ ربوبیت کا یہ وسیع نظام اس بات کا مقتضی ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں لوگ اپنے منعم حقیقی کے روبرو حاضر ہوں۔ ان سے نعمتوں کے حق سے متعلق پرسش ہو۔ جنھوں نے ان کا حق پہچانا ہو وہ اس کا صلہ پائیں اور جنھوں نے ناشکری کی ہو وہ اس کی سزا بھگتیں۔

      جاوید احمد غامدی پھر دو دنوں میں اُن کے سات آسمان ہونے کا فیصلہ فرمایا اور ہر آسمان میں اُس کا قانون وحی کر دیا اور (تمھارے) اِس قریبی آسمان کو ہم نے چراغوں سے رونق دی اور اُسے خوب محفوظ بنا دیا۔ یہ خداے عزیز و علیم کا منصوبہ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی آسمان اگرچہ وجود میں آ چکے تھے، لیکن ابھی محض ہیولیٰ تھے، لہٰذا اُن کو بھی آخری صورت دے کر پوری کائنات کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا۔
      آیت میں ’حِفْظًا‘ کا نصب تاکید فعل کے لیے ہے، یعنی اچھی طرح محفوظ بنا دیا۔ یہاں، اگر غور کیجیے تو اسلوب تبدیل ہوگیا ہے اور غائب کے بجاے متکلم کے صیغے استعمال فرمائے ہیں جو التفات و امتنان پر دلالت کرتے ہیں۔
      مطلب یہ ہے کہ کائنات کی شہادت تو یہ ہے اور اِدھر تمھاری جہالت کا یہ عالم ہے کہ اُس کے شریک ٹھیراتے ہو! اِن آیتوں سے جو تعلیم نکلتی ہے، استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اُس کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’پہلی بات یہ نکلتی ہے کہ یہ دنیا نہایت تدریج و اہتمام کے ساتھ ایک طے کردہ پروگرام کے مطابق وجود میں آئی ہے۔ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ اِس کو کسی نے بس یوں ہی کھیل تماشے کے طور پر بنایا ہے اور یہ یوں ہی چلتی رہے گی یا یوں ہی ختم ہو جائے گی۔ یہ اہتمام اِس کے بامقصد و باغایت ہونے کی ناقابل انکار دلیل ہے اور اِس کا باغایت و بامقصد ہونا لازماً آخرت کو مقتضی ہے۔
      دوسری یہ کہ اِس کا خالق بے نہایت قدرت اور غیرمحدود علم کا مالک ہے، اِس وجہ سے اِس کام میں نہ اُس کو کسی کی مدد کی ضرورت ہوئی اور نہ کوئی اُس کی مدد کر سکنے کا اہل ہے۔
      تیسری یہ کہ آسمان و زمین، دونوں نے مل کر ایک مکان کی شکل اختیار کی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو فروکش کیا ہے، اِس وجہ سے یہ خیال بالبداہت غلط ہے کہ اِس کی چھت پر کسی اور کا تصرف ہے اور اِس کے فرش کا کوئی اور مالک ہے، بلکہ آسمان و زمین، دونوں کی سازگاری اِس بات کی دلیل ہے کہ جس عزیز و علیم نے اِن کو پیدا کیا ہے، وہی اِن پر متصرف بھی ہے۔
      چوتھی یہ کہ اِس دنیا میں ربوبیت کا جو ہمہ گیر نظام ہے، وہ اِس بات پر شاہد ہے کہ یہ خداے عزیز و علیم ہی کا قائم کیا ہوا ہے، کوئی دوسرا اِس نظام کو قائم کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اِس وجہ سے بندوں کو چاہیے کہ اُسی کے آگے دست سوال دراز کریں، اِس لیے کہ حقیقی نافع و ضار وہی ہے۔
      پانچویں یہ کہ ربوبیت کا یہ وسیع نظام اِس بات کا مقتضی ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں لوگ اپنے منعم حقیقی کے روبرو حاضر ہوں۔ اُن سے نعمتوں کے حق سے متعلق پرسش ہو۔ جنھوں نے اُن کا حق پہچانا ہو، وہ اُس کا صلہ پائیں اور جنھوں نے ناشکری کی ہو، وہ اُس کی سزا بھگتیں۔‘‘ (تدبر قرآن ۷/ ۸۶)

    • امین احسن اصلاحی پس اگر وہ اعراض کرتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تمہیں اس طرح کے کڑکے سے آگاہ کرتا ہوں جس طرح کا کڑکا عاد اور ثمود پر نازل ہوا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کے اعراض کا ذکر اوپر آیات ۴-۵ میں گزر چکا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انھوں نے اعراض ہی کا فیصلہ کر لیا ہے تو ان کو آگاہ کر دو کہ تمہارا فیصلہ یہی ہے تو میں تم کو اسی طرح کے کڑکے کے عذاب سے ڈراتا ہوں جس طرح کا عذاب عاد اور ثمود اور ان کی ہم مشرب دوسری قوموں پر آیا۔ یہاں اسلوب بیان سے واضح ہے کہ عاد اور ثمود کا ذکر محض بطور مثال ہوا ہے۔ مقصود ان تمام قوموں کے انجام کی طرف اشارہ کرنا ہے جو رسولوں کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک ہوئیں اور جن کا ذکر پچھلی سورتوں میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
      ’صَاعِقَۃٌ‘ کا ذکر بطور عذاب کی ایک نمایاں علامت کے: ’صَاعِقَۃٌ‘ کا ذکر اس عذاب کی ایک نمایاں علامت کے طور پر ہوا ہے جس سے یہ قومیں ہلاک ہوئیں۔ دوسرے مقام میں ہم تفصیل سے واضح کر چکے ہیں کہ ان قوموں پر جو عذاب آیا وہ شمال کی باد تند، ژالہ باری اور ہولناک رعد و برق کا مجموعہ تھا۔ چنانچہ قرآن میں اس کی تعبیر مختلف الفاظ سے ہوئی ہے۔ یہاں اس کے ایک نمایاں وصف ’صَاعِقَۃٌ‘ سے اس کا ذکر فرمایا لیکن مقصود اس کے ان تمام لوازم کی طرف اشارہ کرنا ہے جو دوسرے مقامات میں مذکور ہوئے ہیں اور ان میں بعض کا ذکر یہاں بھی آگے آ رہا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اب بھی اگر منہ موڑتے ہیں تو کہہ دو کہ جیسی کڑک عاد و ثمود پر ہوئی تھی، میں تم کو اُسی طرح کی کڑک سے ڈراتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      عاد عرب کی قدیم ترین قوم ہے۔ یہ سامی نسل سے تعلق رکھتے تھے اور اِن کا مسکن احقاف کا علاقہ تھا جو حجاز، یمن اور یمامہ کے درمیان الربع الخالی کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ ہود علیہ السلام اِنھی کی طرف بھیجے گئے تھے۔ ثمود عاد کے بقایا میں سے ہیں۔ چنانچہ اِنھیں عاد ثانی بھی کہا جاتا ہے۔اِن کی طرف حضرت صالح کی بعثت ہوئی۔ دوسرے مقامات میں تفصیل ہے کہ اِن قوموں پر جو عذاب آیا، اُس میں شمال کی تند ہوائیں، ژالہ باری اور رعد و برق، سب جمع ہو گئے تھے۔ قرآن اِسی بنا پر اُسے کبھی ایک اور کبھی دوسری چیز سے تعبیر کرتا ہے۔ یہاں اُس کے ایک نمایاں وصف ’صٰعِقَۃ‘ سے اُس کا ذکر فرمایا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جب کہ آئے ان کے رسول ان کے آگے اور ان کے پیچھے سے اس دعوت کے ساتھ کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ انھوں نے جواب دیا کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتارتا تو ہم تو اس پیغام کے منکر ہیں جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’رُسل‘ کے جمع لانے کی علت: ان قوموں کی طرف اگرچہ دو ہی رسولوں ۔۔۔ حضرت ہود اور حضرت صالح علیہما السلام ۔۔۔ کا مبعوث ہونا قرآن میں مذکور ہوا ہے لیکن یہاں لفظ ’رسل‘ بصورت جمع استعمال ہونے کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ ان قوموں کا ذکر یہاں بطور مثال ہوا ہے۔ مقصود ان تمام قوموں کی طرف اشارہ کرنا ہے جنھوں نے ان کی روش بد کی پیروی اور اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔
      رسولوں کی ہمہ جہت جدوجہد کی تعبیر: ’مِنْ بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ أَلَّا تَعْبُدُوۡا إِلَّا اللّٰہَ‘۔ یہ ان رسولوں کی اس انتھک، ہمہ جہت اور شبانہ روز جانفشانی کی تعبیر ہے جو انھوں نے اپنی اپنی قوموں کو دعوت توحید پہنچانے میں صرف کی۔ ابلیس نے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے جو چیلنج دیا تھا اس کے الفاظ ہیں: ’لَاٰتِیَنَّھُمْ مِنْ بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ‘ (الاعراف: ۱۷) (میں ان پر ان کے آگے اور پیچھے سے گھیرے ڈالوں گا)۔ قرآن نے یہاں رسولوں کا یہ وصف بیان کر کے گویا یہ واضح فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کو ابلیس کے فتنوں سے بچانے کے لیے اپنے رسول بھی ایسے بھیجے جنھوں نے ان کو ہر جہت سے سمجھانے میں اپنے رات دن ایک کر دیے۔
      قوموں کی طرف سے رسولوں کو جواب: ’قَالُوْا لَوْ شَآءَ ........ الآیۃ‘۔ لیکن رسولوں کی اس ساری تگ و دو کی انھوں نے قدر کی تو یہ کہ ان کی رسالت کی تکذیب کر دی کہ اللہ تعالیٰ ہماری طرف رسول بھیجنے والا ہوتا تو فرشتوں کو رسول بنا کر بھیجتا نہ کہ ہمارے ہی جیسے آدمیوں کو اور تم چونکہ ہمارے ہی جیسے آدمی ہو اس وجہ سے ہم تمہاری رسالت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ پس جو پیغام (اشارہ پیغام توحید کی طرف ہے) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم کو اس کے قبول کرنے سے صاف انکار ہے۔ ’فَإِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِہٖ‘ کے اسلوب میں جو طنز ہے وہ اہل ذوق سے مخفی نہیں ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ آپ لوگ بزعم خویش جس پیغام کے حامل بن کر آئے ہو ہمیں اس سے صاف انکار ہے یعنی نہ ہم آپ لوگوں کو رسول مانتے اور نہ آپ لوگوں کے پیغام کو پیغام۔ اس وجہ سے ہم پر اس قسم کی کوئی دھونس جمانے کی کوشش نہ کی جائے۔

      جاوید احمد غامدی جب اُن کے آگے اور پیچھے سے اُن کے رسول اُن کے پاس آئے (کہ اُنھیں ہر پہلو سے سجھا دیں) کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ اُنھوں نے جواب دیا کہ اگر ہمارا رب چاہتا (کہ کسی کو رسول بنا کر بھیجے) تو فرشتے اتارتا، اِس لیے ہم تو اُس پیغام کے منکر ہیں جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ وہی تعبیر ہے جو ابلیس نے اپنے چیلنج میں اختیار کی تھی کہ میں آگے اور پیچھے سے اُن کو گھیروں گا ، یعنی ہر طرف سے اُن پر حملہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے لیے اِسی تعبیر کو اختیار کرکے واضح فرمایا کہ ابلیس کے فتنوں سے بچانے کے لیے وہ بھی اِسی طرح آگے اور پیچھے، ہر طرف سے آ کر انتھک، ہمہ جہت اور شبانہ روز جاں فشانی کے ساتھ اپنے مخاطبین کو سجھاتے رہے۔
      اِس اسلوب میں جو طنز ہے، وہ اہل ذوق سے مخفی نہیں ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اُن کا مطلب یہ تھا کہ آپ لوگ بزعم خویش جس پیغام کے حامل بن کر آئے ہو، ہمیں اُس سے صاف انکار ہے، یعنی نہ ہم آپ لوگوں کو رسول مانتے اور نہ آپ لوگوں کے پیغام کو پیغام۔ اِس وجہ سے ہم پر اِس قسم کی کوئی دھونس جمانے کی کوشش نہ کی جائے۔‘‘(تدبرقرآن ۷/ ۹۱)

    • امین احسن اصلاحی عاد کا معاملہ یوں ہے کہ انھوں نے زمیں میں بغیر کسی حق کے گھمنڈ کیا اور بولے کہ ہم سے بڑھ کر طاقت میں کون ہے۔ کیا انھوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ جس خدا نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زور آور ہے۔ اور وہ ہماری نشانیوں کا برابر انکار کرتے رہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عاد کا رویہ: یہ ان کے اس رویہ کی کسی قدر وضاحت ہے جو انھوں نے اپنے رسولوں کے انذار کے مقابل میں اختیار کیا۔ پہلے تقدم کی بنا پر عاد کو لیا ہے۔ فرمایا کہ عاد کو جو قوت و شوکت اللہ تعالیٰ نے بخشی اس کو پا کر خدا کے شکرگزار ہونے کے بجائے وہ خدا کی زمین میں اکڑنے والے بن گئے۔ ان کے اس ’اسکتبار‘ کو ’بغیر الحق‘ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ اس کے محل میں ہم اشارہ کر چکے ہیں، یہ ہے کہ تکبر صرف اس کے لیے زیبا ہے جو اس تمام کائنات کا خالق و مالک ہے اس کے سوا اور کسی کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہے۔
      ’وَقَالُوْا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً‘۔ یہ ان کے اسی تکبر کی وضاحت ہے کہ جب اللہ کے رسول نے ان کو ڈرایا کہ اگر وہ اپنی سرکشی کی اس روش پر جمے رہے تو جلد اللہ کی پکڑ میں آ جائیں گے تو اس کا جواب انھوں نے یہ دیا کہ اگر ہماری روش تباہی کی روش ہوتی تو کیا اس کا نتیجہ یہی ہونا تھا کہ آج اس سرزمین پر ہم قوت و شوکت میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے! اس وجہ سے ہمارا خیال تو یہ ہے کہ ہم تباہی کے راستہ پر نہیں جا رہے ہیں۔ بلکہ وہ لوگ دماغی خرابی میں مبتلا ہیں جو ہمیں عذاب سے ڈرا رہے ہیں۔
      ’أَوَلَمْ یَرَوْا ..... الآیۃ‘۔ یہ ان کے مذکورہ احمقانہ چیلنج کا جواب ہے کہ اگر وہ ذرا بھی عقل سے کام لیتے تو وہ یہ بات آسانی سے سمجھ سکتے تھے کہ جس خدا نے ان کو اور اس ساری کائنات کو وجود بخشا ہے وہ زور و قوت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔ وہ جب چاہے اور جہاں سے چاہے ان کو پکڑ سکتا ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ اس سے مزاحم ہو سکے۔
      ’وَکَانُوۡا بِآیَاتِنَا یَجْحَدُوۡنَ‘۔ اس کا تعلق اصل سلسلۂ کلام سے ہے۔ بیچ میں ’أَوَلَمْ یَرَوْا ..... الآیۃ‘ کا ٹکڑا ان کے چیلنج کے فوری جواب کے طور پر آ گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے استکبار کے سبب سے کوئی بات بھی سننے سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اللہ کے رسول نے ان کو جو آیتیں سنائیں یا جو نشانیاں دکھائیں وہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ ان کا انکار کرتے رہے۔

      جاوید احمد غامدی سو عاد کا معاملہ تو یہ تھا کہ وہ بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر طاقت میں کون ہے! کیا اُنھوں نے سوچا نہیں کہ جس خدا نے اُن کو پیدا کیا ہے، وہ اُن سے طاقت میں کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔ (اِس طرح بڑے بن بیٹھے) اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِس لیے فرمایا کہ اپنی بڑائی کا اظہار صرف اُسی کو زیبا ہے جو کائنات کا خالق ہے۔ اُس کے سوا جو بھی اِس کا اظہار کرے گا، ناحق کرے گا۔ یہ اُس کے سوا کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تو ہم نے ان پر چند منحوس دنوں میں ایک باد تند بھیجی تاکہ ان کو دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب چکھائیں اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں زیادہ رسوا کن ہو گا اور وہاں ان کی کوئی مدد نہیں ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عاد پر عذاب: ’ریح صرصر‘ سے مراد وہ باد تند ہے جو عرب میں شدید سردیوں کے زمانے میں شمال سے چلتی ہے اور جس کے ساتھ سرما کے بادل بھی ہوتے ہیں اور گرج چمک بھی۔
      ’اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ‘ سخت سردی کے ان دنوں کو بھی کہتے ہیں جن میں سردی کی شدت کے سبب سے ہر چیز پر اداسی، افسردگی، خشکی اور ایک قسم کی نحوست چھا جاتی ہے۔
      فرمایا کہ چونکہ انھوں نے استکبار اور حق سے اعراض کی روش اختیار کر لی اس وجہ سے ہم نے ان کو دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب چکھانے کے لیے، ان پر سرما کی نحوست کے ایام میں، باد صرصر مسلط کر دی جس نے ان کو بالکل تاراج کر کے رکھ دیا۔ اس طرح وہ ان لوگوں کی نگاہوں میں بھی ذلیل ہوئے جن کے انذار کے جواب میں وہ ’مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً‘ کا نعرہ لگاتے تھے اور اپنی دوسری ہم چشم قوموں کی نگاہوں میں بھی ایک نمونۂ عبرت بن کر رہ گئے اور اس عذاب دنیا کے بعد ان کو عذاب آخرت سے بھی سابقہ پیش آنا ہے جو اس عذاب سے بھی زیادہ رسوا کن ہو گا اس لیے کہ اس کی رسوائی ابدی اور تمام خلائق کے سامنے ہو گی۔
      ’وَہُمْ لَا یُنۡصَرُوۡنَ‘۔ اور اس دن کسی طرف سے بھی ان کی کوئی مدد نہیں ہو گی۔ نہ ان کی وہ قوت و جمعیت ان کے کچھ کام آئے گی جس پر وہ نازاں رہے اور نہ ان کے وہ دیوی دیوتا کچھ کام آئیں گے جن کی حمایت میں انھوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔

      جاوید احمد غامدی سو ہم نے نحوست کے چند دنوں میں اُن پر سرما کی تند ہوا بھیج دی تاکہ اُن کو اِسی دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب چکھائیں اور آخرت کا عذاب تو اِس سے کہیں زیادہ رسوا کر دینے والا ہو گا اور وہاں اُن کو کوئی مدد بھی نہیں پہنچے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جب سردی کی شدت سے ہر چیز پر اداسی، افسردگی اور نحوست چھائی ہوئی تھی۔
      یہ عرب میں شمال سے چلتی تھی اور اِس کے ساتھ سرما کے بادل بھی ہوتے تھے اور گرج چمک بھی۔ اللہ تعالیٰ نے اِسی کو انتہا تک پہنچا کر اُن کے لیے عذاب بنا دیا۔
      یعنی ایسا عذاب جو اُن کو دیکھنے والوں کی نگاہوں میں نمونۂ عبرت بنا دے۔ یہ، ظاہر ہے کہ اُس سنت الٰہی کے مطابق ہوا جو رسولوں کے مکذبین کے لیے مقرر ہے۔
      یعنی نہ اُن کے دیوی دیوتا کچھ کام آئیں گے اور نہ اُن کی قوت و جمعیت، جس پر دنیا میں نازاں رہے۔

    • امین احسن اصلاحی رہے ثمود تو ہم نے ان کو ہدایت کی راہ دکھائی لیکن انھوں نے ہدایت پر اندھے پن کو ترجیح دی تو ان کو بھی عذاب ذلت کے کڑکے نے آ دبوچا ان کے اعمال کی پاداش میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ثمود کا رویہ اور ان پر عذاب: فرمایا کہ یہی حال عاد کے بعد ثمود کا بھی ہوا۔ ہم نے ان کے لیے بھی ہدایت کی راہ کھولی لیکن انھوں نے ہماری ہدایت پر اپنی ضلالت ہی کو ترجیح دی بالآخر ان کے اعمال کی پاداش میں ہم نے ان کو بھی ذلت کے عذاب میں پکڑا اور وہ بالکل پامال و ذلیل ہو کر رہ گئے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ ان کے عذاب کی نوعیت بھی کم و بیش وہی تھی جس کی وضاحت قوم عاد کے عذاب کے سلسلہ میں ہو چکی ہے۔ نظائر قرآن کی روشنی میں اس کی تفصیل اس کے محل میں ہم پیش کر چکے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی رہے ثمود تو ہم نے اُن کو بھی ہدایت کی راہ دکھائی، مگر اُنھوں نے ہدایت پر اندھا بن کر رہنے کو ترجیح دی۔ سو اُن کے اعمال کی پاداش میں اُن کو ذلت کے عذاب کی کڑک نے آ دبوچا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور ڈرنے والے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان عذابوں سے نجات دی۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جو لوگ رسولوں پر ایمان لائے اور انذار سے متنبہ ہو کر انھوں نے تقویٰ کی زندگی اختیار کر لی اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب سے بچا لیا۔ اس آیت میں اشارہ عاد اور ثمود دونوں قوموں کے مومنین کی طر ف ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں تفصیل ہے کہ ان قوموں میں سے جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ نے رسول کے ساتھ ان کو بھی عذاب سے محفوظ رکھا۔

      جاوید احمد غامدی اور ہم نے اُن کو بچا لیا جو ایمان لائے اور ہم سے ڈرنے والے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور اس دن کا دھیان کرو جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے پس ان کی درجہ بندی ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دنیا کے عذاب کے بعد آخرت کی رسوائی: دنیا کے عذاب کے بعد اب یہ ان کی اس رسوائی اور عذاب کا ذکر آ رہا ہے جس سے ان کو قیامت کے دن سابقہ پیش آئے گا۔
      ’یُحْشَرُ‘ کے بعد ’اِلٰی‘ کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہان یہ لفظ ’یُسَاقُوْنَ‘ یا اس کے ہم معنی کسی لفظ پر متضمن ہے۔
      ’یُوۡزَعُوۡنَ‘ کی وضاحت سورۂ نمل کی آیت ۱۷ کے تحت ہو چکی ہے۔ ہمارے نزدیک اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ان کی درجہ بندی کی جائے گی، شاہ عبدالقادر صاحبؒ نے اپنے ترجمہ میں لفظ کے اس مفہوم کا لحاظ رکھا ہے۔
      فرمایا کہ اس دن کا بھی دھیان کرو جس دن اللہ کے یہ سارے دشمن ہانک کر جہنم کے پاس اکٹھے کیے جائیں گے اور وہاں ان کی درجہ بندی ہو گی۔ جو جہنم کے جس طبقہ کے سزاوار ٹھہریں گے وہ اپنے مخصوص دروازے سے اس طبقہ میں داخل ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ الگ الگ مجرمین کے ساتھ، ان کے اعمال کے اعتبار سے، الگ الگ معاملہ ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی اُس دن کا خیال کرو، جب اللہ کے یہ دشمن دوزخ کی طرف ہانک کر اکٹھے کیے جائیں گے۔پھر (اِن کے اعمال کے لحاظ سے) اِن کی درجہ بندی کی جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں ’یُحْشَرُ‘ کے بعد ’اِلٰی‘ ہے۔ یہ اِس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں یہ لفظ ’یُسَاقُوْنَ‘ یا اِس کے ہم معنی کسی لفظ پر متضمن ہے۔

    • امین احسن اصلاحی یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس حاضر ہو جائیں گے تو ان کے کان، اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کے رونگٹے ان پر ان باتوں کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے رہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرمایا کہ جب دوزخ کے پاس سب اکٹھے ہو لیں گے تو یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کون کس درجہ کا مجرم اور جہنم کے کس طبقہ کا سزاوار ہے اللہ تعالیٰ کو کوئی زحمت پیش نہیں آئے گی اس لیے کہ اس دن کوئی اپنے کسی عمل کو چھپا نہیں سکے گا۔ آدمی کے کان، آنکھ، بلکہ اس کے جسم کے رونگٹے تک اس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔
      لفظ ’جُلُوْدٌ‘ یہاں خاص کے بعد عام کی حیثیت سے آیا ہے۔ ’سمع‘ اور ’بصر‘ کا خاص گواہ ہونا تو واضح ہے کہ ہر چیز کے سننے اور دیکھنے والے یہی ہیں لیکن آدمی کے پاس اور بھی اعضاء و جوارح ہیں جن سے وہ بدی یا نیکی میں کام لیتا ہے۔ لفظ ’جُلُوْد‘ نے ان سب کا احاطہ کر لیا ہے۔ گویا اس دن آدمی کے بدن کا رواں رواں گواہی کے لیے زبان بن جائے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ لفظ ’جُلُوْد‘ قرآن مجید میں رونگٹوں کے مفہوم میں آیا ہے۔ آیت ’تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ ...... الاٰیۃ‘ (الزمر: ۲۳) کے تحت لفظ کے اس مفہوم پر ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی یہاں تک کہ جب وہ وقت آ جائے گا کہ دوزخ تک آ پہنچیں گے تو جو کچھ یہ کرتے رہے، اِن کے کان اور اِن کی آنکھیں اور اِن کے جسم کے رونگٹے اِن پر اُس کی گواہی دیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ احاطے کے لیے ہے۔ گویا مدعا یہ ہے کہ آدمی کے جسم کا روآں روآں اُس دن گواہی کے لیے زبان بن جائے گا۔ یہ، اگرچہ یہاں بھی بنا ہوا ہے، لیکن اِس کو سنتے وہی ہیں جن کے دل شنوا ہیں۔

    Join our Mailing List