Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 85 آیات ) Ghafir Ghafir
Go
  • غافر (The Forgiver (God), The Believer)

    85 آیات | مکی

    سورہ کا عمود

    گروپ کی پچھلی سورتوں کی طرح اس سورہ کی بنیاد بھی توحید ہی پر ہے۔ قرآن کے دوسرے اصولی مطالب بھی اس میں زیر بحث آئے ہیں لیکن اصلاً نہیں بلکہ ضمناً توحید کے لوازم و مقتضیات کی حیثیت سے آئے ہیں۔
    اس کا قرآنی نام ’حٰمٓ‘ ہے اور یہی نام اس کے بعد کی چھ سورتوں کا بھی ہے۔ یہ ساتوں ’حوامیم‘ کے نام سے مشہور ہیں اور اپنے ناموں کی طرح اپنے مطالب میں بھی مشترک ہیں۔ یہ تمام سورتیں دعوت کے اس دور سے تعلق رکھنے والی ہیں جب توحید و شرک کی بحث نے اتنی شدت اختیار کر لی تھی کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں پر مکہ میں عرصۂ حیات تنگ ہونے لگا تھا۔ ہجرت کی طرف ایک ہلکا سا اشارہ پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکا ہے۔ اب اس میں اور آگے کی سورتوں میں وقت کے یہ حالات بالتدریج نمایاں ہوتے جائیں گے اور ان کے تقاضے سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدۂ نصرت و حمایت بھی بالکل واضح ہوتا جائے گا۔ جو مسلمان اس وقت حالات سے نبرد آزما تھے ان کی اس میں حوصلہ افزائی کی گئی ہے، جو خطرات میں تھے ان کو تسلی دی گئی ہے اور جو دعوت کے ساتھ ہمدردی رکھنے کے باوجود، کسی مصلحت سے، اب تک کھل کر اس کی حمایت کے لیے میدان میں نہیں اترے تھے ان کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ مصلحتوں سے بے پروا ہو کر وہ کلمۂ حق کی سربلندی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں، اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو گا۔

  • غافر (The Forgiver (God), The Believer)

    85 آیات | مکی

    الزمر ۔ المؤمن

    ۳۹ ۔ ۴۰

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں انذار و بشارت کے ساتھتوحید پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ اثبات اور دوسری میں منکرین کے لیے تنبیہ و انذار اور اہل ایمان کے لیے تسلی، تشویق اور حوصلہ افزائی کا پہلو نمایاں ہے۔ اِسی طرح جو لوگ ابھی تذبذب میں تھے، اُنھیں بھی رہنمائی دی گئی ہے کہ مصلحتوں سے بے پروا ہو کر وہ بھی آگے بڑھیں اور دعوت حق کی اِس جدوجہد میں پیغمبر کے ساتھی بن جائیں۔ دونوں کی ابتدا الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ ایک ہی آیت سے ہوئی ہے۔ اِس سے خود قرآن نے اِن کے اِس تعلق کی طرف اشارہ کر دیا ہے اور الفاظ کے اِس فرق سے یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ پہلی سورہ میں خدا کی حکمت اور دوسری میں اُس کاعلم بناے استدلال ہے۔
    اِن سورتوں سے آگے مزید چھ سورتوں کے مطالب بھی کم و بیش وہی ہیں جو اوپر سورۃ ’المؤمن‘ کے بیان ہوئے ہیں۔ چنانچہ اِن کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے ایک ہی، یعنی ’حٰم‘ رکھا ہے اور اِسی بنا پر یہ حوامیم کہلاتی ہیں۔
    دونوں سورتوں کے مخاطب قریش ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ حٰمٓ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تمام حوامیم نام کی طرح مزاج میں بھی بالکل یکساں ہیں: ’حٰمٓ‘ اس سورہ کا قرآنی نام ہے۔ حروف مقطعات پر مفصل بحث سورۂ بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ بس اتنی بات یہاں یاد رکھیے کہ یہ سورہ اور اس کے بعد کی تمام مکی سورتیں، جو اس گروپ میں شامل ہیں، سب اسی نام سے موسوم بھی ہیں اور سب کا مزاج بھی بالکل یکساں ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورۂ ’حٰمٓ‘ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر دیا ہے۔ یہی نام اِس سے آگے تمام مکی سورتوں کا بھی ہے اور یہ اُن کے اسلوب، مضامین اور مزاج میں فی الجملہ اشتراک پر دلالت کرتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس کتاب کی تنزیل خدائے عزیز و علیم کی طرف سے ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مخالفین پر امتنان اور ان کو تنبیہ: ’تَنزِیْلُ الْکِتَابِ ....... الاٰیۃ‘۔ یہ قرآن کے مخالفین پر امتنان بھی ہے اور ان کو تنبیہ بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب نہایت اہتمام سے جو اتاری ہے تو اس لیے اتاری ہے کہ لوگ اس کی قدر کریں، اس سے ہدایت حاصل کریں اور اپنے رب کے اس اہتمام کے شکرگزار ہوں جو ان کی ہدایت کے لیے اس نے کیا ورنہ یاد رکھیں کہ جس نے یہ کتاب اتاری ہے وہ ’عزیز‘ بھی اور علیم بھی۔ ’عزیز‘ ہے اس وجہ سے وہ ہر چیز پر قدرت و اختیار رکھتا ہے۔ وہ مخالفت کرنے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں، ہر سزا دے سکتا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں بن سکتا۔ ’عزیز‘ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ علیم بھی ہے اس وجہ سے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کتاب کی تنزیل سے جو کشمکش برپا ہوئی ہے وہ کس مرحلہ میں ہے، اس کے پیش کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے اور اس کی مخالفت کرنے میں جو لوگ پیش پیش ہیں ان کے ارادے کیا ہیں، وہ کہاں تک پہنچ چکے ہیں اور کب ان کا ہاتھ پکڑا جانا ضروری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں ہے بلکہ خدائے عزیز و علیم کا اتارا ہوا صحیفۂ ہدایت ہے اس وجہ سے اس کی موافقت بھی بڑی اہمیت رکھنے والی بات ہے اور اس کی مخالفت کے نتائج بھی نہایت سنگین اور دور رس ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اِس کتاب کی تنزیل اللہ کی طرف سے ہے، جو زبردست ہے، سب کچھ جاننے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      لفظ ’تَنْزِیْل‘ اہتمام پر دلالت کے لیے ہے اور اِس میں یہ اشارہ ہے کہ جس نے یہ اہتمام فرمایا ہے، لوگ اُس کے شکر گزار ہوں اور اُس نے جو کتاب نازل کی ہے، اُس کی قدر کریں اور اُس سے ہدایت حاصل کریں۔
      یعنی اگر قدر کرنے اور ہدایت حاصل کرنے کے بجاے آمادۂ مخالفت ہوں گے تو وہ زبردست ہے اور مخالفت کرنے والوں کو دنیا اور آخرت، دونوں میں سزا دے سکتا ہے۔
      چنانچہ یہ بھی جانتا ہے کہ اِس کتاب کی تنزیل سے جو کشمکش برپا ہوئی ہے، اُس میں کون کیا کر رہا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جو گناہوں کو بخشنے والا، توبہ کو قبول کرنے والا، سخت پاداش اور بڑی قدرت والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ ذِیْ الطَّوْلِ ... الاٰیۃ‘۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مزید صفات بیان فرمائیں کہ وہ گناہوں کو بخشنے والا اور توبہ کو قبول کرنے والا بھی ہے اور سخت پاداش والا اور بڑی قدرت والا بھی۔ ’طَوْل‘ کے معنی فضل، غنٰی، قدرت اور بخشش کے ہیں۔ یہاں تقابل کے اصول کو پیش نظر رکھ کر میں نے قدرت کے معنی کو ترجیح دی ہے۔
      فیصلہ کن مرحلہ: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں قسم کی صفات سے متصف اور دونوں طرح کے اختیارات کا مالک ہے تو اس کتاب کی تنزیل کے بعد ہر شخص کے لیے راہ کھلی ہوئی ہے کہ وہ یا تو اس کو قبول کر کے خدا کی رحمت و مغفرت کا امیدوار بن جائے یا اس کی مخالفت کر کے اس کے عذاب اور اس کی قدرت کی شان کے ظہور کا انتظار کرے۔
      ’لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ إِلَیْْہِ الْمَصِیْرُ‘۔ یعنی اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہو کہ خدا کے سوا کوئی اور معبود بھی ہے تو وہ اپنی اس غلط فہمی کی اصلاح کر لے۔ خدا کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے۔ قیامت کے دن سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے اور سب کے معاملات کا فیصلہ وہی فرمائے گا، نہ کسی اور کی طرف لوٹنا ہو گا نہ کوئی اور خدا کے اذن کے بغیر کسی کے لیے سفارش کر سکے گا۔

      جاوید احمد غامدی گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے، سخت سزا دینے والا اور بڑی قدرت والا ہے۔ اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، (بالآخر) اُسی کی طرف لوٹنا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ ترغیب کے لیے فرمایا ہے کہ جو لوگ اب تک سرکشی کرتے رہے ہیں، وہ بھی اگر اپنی روش سے باز آ جائیں تو خدا کا دامن رحمت وسیع ہے، وہ اُس میں جگہ پا سکتے ہیں۔
      اصل میں ’ذِی الطَّوْلِ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ ’طَوْل‘کا لفظ کئی معنی کے لیے آتا ہے۔ یہاں تقابل کے اصول کو پیش نظر رکھ کرقدرت کے معنی کو ترجیح دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کی صفات کا یہ پہلو بھی سامنے رہنا چاہیے کہ وہ اگر توبہ کرنے والوں کی توبہ آگے بڑھ کر قبول کرتا ہے تو مخالفت کرنے والوں کے لیے اُس کے عذاب اور اُس کی قدرت کی شانیں بھی اِسی طرح ظاہر ہو جایا کرتی ہیں۔
      یعنی اُس کے سوا نہ کوئی سہارا دے سکتا ہے اور نہ اُس سے بھاگ کر کہیں جانے کی کوئی جگہ ہے۔ بالآخر لوٹنا اُسی کی طرف ہو گا اور اُس کے اذن کے بغیر کوئی بھی کسی کے کام نہ آ سکے گا۔
      سورہ کی یہ تمہید، اگر غور کیجیے تو مخاطبین کے لیے اظہار امتنان بھی ہے اور اُن کو تنبیہ بھی۔ اِس میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا حوالہ اِن دونوں ہی پہلوؤں سے دیا گیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ کی ان آیات میں وہی لوگ کج بحثیاں کر رہے ہیں جو جزا کے منکر ہیں۔ تو ملک میں ان کا دندنانا تمہیں کسی مغالطہ میں نہ ڈالے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اٰیٰتِ اللّٰہِ‘ سے مراد اس کتاب کی آیات ہیں جس کی تنزیل کا ذکر اوپر آیت ۲ میں ہوا ہے۔ یہاں اس کو ’اٰیٰتِ اللّٰہِ‘ سے تعبیر کر کے اس کے دلیل و حجت ہونے کے پہلو کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
      ’اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جو اس عذاب کے منکر تھے جس سے قرآن آگاہ کر رہا تھا۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ کے رسولوں نے جب اپنی قوموں کو خدا کے عذاب سے ڈرایا تو انھوں نے اس کو بالکل جھوٹ جانا اور اپنی دنیوی کامیابیوں کو دلیل بنا کر رسول کے اس انذار کی تکذیب کی اور اس کا مذاق اڑایا۔
      انذار کی تکذیب کرنے والوں کو تنبیہ: اس آیت میں اسی چیز کی طرف اشارہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے واسطہ سے مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ آج قرآن کی مخالفت میں جو کج بحثیاں کر رہے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو اس کے انذار عذاب کے منکر ہیں۔ ان کے کبر پر یہ چیز بہت شاق گزر رہی ہے کہ انھوں نے اس کتاب اور اس کے لانے والے کا انکار کیا تو ان پر کوئی عذاب آ جائے گا۔ وہ یہ بات اپنی رعونت کے سبب سے ماننی نہیں چاہتے اور ظاہری حالات کے اعتبار سے وہ اپنے کو کامیاب و خوش حال دیکھ رہے ہیں اس وجہ سے وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن ان کی موجودہ خوش حالی سے کسی کو مغالطہ نہ ہو۔ تاریخ شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتنی ہی قوموں کو عین ان کے دور عروج و اقبال میں پکڑ لیا اور وہ اس کی پکڑ سے اپنے کو بچا نہ سکیں۔
      ’فَلَا یَغْرُرْکَ تَقَلُّبُہُمْ فِی الْبِلَادِ‘ میں خطاب اگرچہ، ظاہر الفاظ کے اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن اس میں جو زجر و عتاب ہے اس کا رخ قریش کے منکرین کی طرف ہے جو اپنے اقتدار اور اپنی سیادت و امارت کے گھمنڈ میں یہ بات سمجھنے سے قاصر تھے کہ ان پر کوئی عذاب آنے والا ہے۔ وہ قرآن کی بار بار کی تنبیہ پر حیران تھے کہ بھلا ان پر عذاب کیوں اور کدھر سے آئے گا!
      ’تَقَلُّبٌ‘ کے معنی چلت پھرت اور آزادانہ آمد و شد کے ہیں۔ موقع و محل سے اس کے اندر غرور و تکبر کا مفہوم بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھنے کی میں نے کوشش کی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اللہ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑے نکالتے ہیں جو (اُس کی پکڑ کے) منکر ہیں۔ سو اِس ملک میں اِن کی چلت پھرت تم کو کسی دھوکے میں نہ ڈالے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اُسی کتاب کی آیتیں مراد ہیں جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔
      یہ خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، لیکن اِس میں عتاب کا رخ، اگر غور کیجیے تو قریش کے اُنھی مستکبرین کی طرف ہے جو اپنی سیادت و امارت کے غرور میں آپ کی کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں تھے اور قرآن جب اُنھیں عذاب کی وعید سناتا تھا تو اُس کا مذاق اڑاتے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی ان سے پہلے نوح کی قوم نے تکذیب کی اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی اور ہر امت نے اپنے رسول پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا اور باطل کے ذریعہ سے کج بحثیاں کیں تاکہ اس سے حق کو پسپا کر دیں تو میں نے ان کو دھر لیا تو دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مذکورہ وعدے پر تاریخ سے دلیل: یہ اوپر والی بات ’فَلَا یَغْرُرْکَ تَقَلُّبُہُمْ فِی الْبِلَادِ‘ کی دلیل تاریخ سے پیش کی گئی ہے کہ ان سے (قریش سے) پہلے قوم نوح اور ان کے بعد آنے والی قوموں (اشارہ عاد و ثمود وغیرہ کی طرف ہے) نے بھی اسی طرح اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور ہر قوم نے اپنے رسول کو پکڑ لینا چاہا اور اپنی کٹ حجتیوں سے اس کے حق کو پسپا کرنے کی کوشش کی لیکن قبل اس کے کہ وہ رسول پر ہاتھ ڈالیں اللہ نے انھی کو پکڑ لیا، پھر دیکھو کہ خدا نے ان کے عمل کی پاداش میں ان کو کیسا سخت پکڑا! اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت ’شَدِیْدُ الْعِقَابِ‘ جو بیان فرمائی ہے یہ اس کی شہادت پیش کی گئی ہے اور عذاب کے لیے لفظ ’عقاب‘ جو یہاں آیا ہے اس سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کے متمردین پر جو عذاب بھیجتا ہے وہ ان کے اعمال کا قدرتی ردعمل ہوتا ہے۔ وہ ہرگز ان کے اوپر کوئی ظلم نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے ان کے انجام سے عبرت تو پکڑنی چاہیے لیکن وہ ہمدردی کے مستحق ہرگز نہیں ہوتے۔
      قریش کو ایک بروقت تنبیہ: اس آیت سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یہ سورہ اس دور میں نازل ہوئی جب قریش کے لیڈر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہاتھ ڈالنے کے لیے مشورے کرنے لگے تھے۔ قرآن نے ان کو آگاہی دے دی کہ اگر وہ اس قسم کا کوئی اقدام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس کے نتائج پر دور تک نگاہ ڈالیں! اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے لیے جو تسلی ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِن سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور اُن کے بعد کے گروہوں نے بھی۔ ہر گروہ نے اپنے رسول پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا اورباطل کے ہتھیاروں سے جھگڑے کہ اِس سے حق کو پسپا کر دیں تو میں نے اُن کو پکڑ لیا۔ پھر کیسی تھی میری سزا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      چنانچہ تمھارے یہ منکرین بھی اِس کی جسارت کریں گے تو اِسی طرح پکڑے جائیں گے۔
      آیت میں اِس کے لیے لفظ ’عِقَابِ‘ استعمال ہوا ہے۔ اِس سے یہ اشارہ مقصود ہے کہ اِس طرح کے متمردین پر اللہ جو عذاب بھیجتا ہے، وہ درحقیقت اُن کے اعمال کا قدرتی ردعمل ہوتا ہے، اُس میں اُن پر کوئی زیادتی نہیں کی جاتی۔

    • امین احسن اصلاحی اور اسی طرح تیرے رب کی بات ان لوگوں پر پوری ہو چکی ہے جنھوں نے کفر کیا ہے۔ یہ لوگ دوزخ میں پڑنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’کَلِمَۃُ رَبّ‘ سے وہی ’کلمۃ العذاب‘ مراد ہے جس کا ذکر سورۂ زمر کی آیت ۷۱ میں گزر چکا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا وہ کلی فیصلہ جس سے اس نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں آگاہ فرما دیا تھا کہ جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی کریں گے، اللہ ان سب کو جہنم میں بھر دے گا۔ فرمایا کہ تیرے رب کا یہ فیصلہ جس طرح پچھلی قوموں پر صادق آیا اسی طرح ان کافروں (کفار قریش) پر بھی صادق آ چکا ہے اور یہ بھی انہی کی طرح جہنم میں پڑنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنا فرض انجام دو۔ ان کے لیے جو انجام مقدر ہو چکا ہے یہ اس سے دوچار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب چونکہ جہنم کا دیباچہ ہے اس وجہ سے عذاب کو تعبیر جہنم سے کیا۔

      جاوید احمد غامدی تیرے پروردگار کی بات اِن منکروں پر بھی اِسی طرح پوری ہو چکی ہے کہ یہ دوزخ میں پڑنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی وہ بات جو روز ازل کہہ دی گئی تھی کہ جو لوگ اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی کریں گے، اللہ اُن سب کو جہنم میں بھر دے گا۔

    • امین احسن اصلاحی جو عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے ارد گرد ہیں وہ اپنے رب کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، اس کی حمد کے ساتھ، اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں جو ایمان لائے ہیں۔ اے ہمارے رب، تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے تو ان لوگوں کی مغفرت فرما جو توبہ کریں اور تیرے راستہ کی پیروی کریں اور ان کو عذاب جہنم سے بچا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرشتوں کی حیثیت کی وضاحت: اب یہ فرمایا کہ اگر ان لوگوں کو فرشتوں کی سفارش اور ان کی مدد پر بھروسہ ہے اور ان کے بل پر یہ پیغمبر کے انذار کی تکذیب کر رہے ہیں تو ان کا حال یہ لوگ کان کھول کر سن لیں کہ عام فرشتے تو درکنار، خدا کے جو خاص مقرب فرشتے ہیں یعنی حاملین عرش اور ان کے زمرہ سے تعلق رکھنے والے، وہ بھی برابر خدا کی خشیت سے لرزاں و ترساں اور اس کی حمد و تسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔
      ’وَیُؤْمِنُونَ بِہٖ‘۔ وہ الوہیت کے کسی زعم میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ خدا کے بندوں کی طرح اس پر ایمان رکھنے والے ہیں۔
      ’وَیَسْتَغْفِرُوۡنَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوۡا‘۔ اور ان لوگوں کے لیے جو خدا پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ برابر استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت دونوں کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ گویا یہی استغفار ان کی سفارش ہے اور یہ اہل ایمان کے لیے مخصوص ہے۔
      فرشتوں کی اس خشیت اور اہل ایمان کے لیے ان کے استغفار کا ذکر سابق سورہ کی آخری آیت میں بھی گزر چکا ہے اور سورۂ شوریٰ میں بھی بدیں الفاظ آیا ہے:

      تَکَادُ السَّمَاوَاتُ یَتَفَطَّرْنَ مِن فَوْقِہِنَّ وَالْمَلَائِکَۃُ یُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیَسْتَغْفِرُونَ لِمَن فِی الْأَرْضِ (الشوریٰ: ۵)
      ’’اور خدا کی خشیت و جلال سے قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی اس کی حمد کے ساتھ، تسبیح اور زمین والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔‘‘

      فرشتوں کی اس خشیت کے بیان سے مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں نے ان کی نسبت یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ خدا کے اتنے چہیتے اور اس پر اتنا زور و اثر رکھنے والے ہیں کہ اپنے پجاریوں پر وہ کسی حال میں بھی خدا کو ہاتھ ڈالنے نہیں دیں گے وہ اس حقیقت سے باخبر ہو جائیں کہ فرشتے اس قسم کے کسی زعم میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ وہ ہر وقت خدا کے آگے سرفگندہ اور اس کے قہر و غضب سے پناہ مانگتے رہنے والے ہیں۔
      فرشتوں کی سفارش کی نوعیت: ’رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَۃً وَعِلْماً فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوا وَاتَّبَعُوۡا سَبِیْلَکَ وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ‘۔ یہ فرشتوں کے استغفار کی وضاحت ہے کہ وہ کوئی بات اپنے رب سے ناز و تدلل کے ساتھ نہیں کرتے بلکہ وہ معاملہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے علم ہی کے حوالہ کرتے ہیں کہ تیری رحمت بھی ہر چیز پر حاوی ہے اور تیرا علم بھی ہر چیز کو محیط ہے اس وجہ سے تو ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جو تیری رحمت اور علم کے تقاضوں کے مطابق ہو گا۔ اس عقیدے کے ساتھ وہ ان لوگوں کے لیے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں جو اپنی غلطیوں سے توبہ کر لیں اور ان کی اصلاح کر کے اللہ کے رستہ کے پیرو بن جائیں۔ مطلب یہ ہے کہ فرشتے دعا اور سفارش تو برابر کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی دعا اور سفارش ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی جاہلیت کی بدعقیدگی و بدعملی سے توبہ کر کے اللہ کے رستہ کے پیرو بن جائیں نہ کہ ان لوگوں کے لیے جو اس کے رسول اور اس کے دین کے دشمن ہیں۔

       

      جاوید احمد غامدی (خدا کے فرشتوں کو اُس کے شریک ٹھیرا کر یہ اُن سے اپنے لیے سفارش کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ اِنھیں بتاؤ کہ) عرش الٰہی کے حاملین اور جو اُس کے ارد گرد ہیں، وہ تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اُس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے مغفرت کی دعائیں مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب، تیری رحمت اور تیراعلم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اِس لیے جو توبہ کریں اور تیرے راستے کی پیروی کریں، تو اُن کی مغفرت فرما اور اُنھیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُسی طرح ایمان رکھتے ہیں، جس طرح خدا کے بندوں کو رکھنا چاہیے۔ وہ الوہیت کے کسی زعم میں مبتلا نہیں ہیں۔
      مطلب یہ ہے کہ فرشتے دعا اور سفارش تو یقیناً کرتے ہیں، لیکن اُنھی کے لیے کرتے ہیں جو ایمان کے ساتھ صحیح راستے پر گامزن ہوں۔ وہ خدا کے شریک ٹھیرانے والوں کی سفارش نہیں کرتے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اے ہمارے رب! ان کو ہمیشگی کے ان باغوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ اور ان کو بھی جو ان کے آباء اور ازواج و دّرّیات میں سے جنت کے لائق ٹھہریں۔ بے شک عزیز و حکیم تو ہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرشتے اس حقیقت سے واقف ہیں کہ جنت توبہ اور اصلاح سے حاصل ہو گی: ’رَبَّنَا وَأَدْخِلْہُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِیْ وَعَدتَّہُم وَمَنۡ صَلَحَ مِنْ آبَائِہِمْ وَأَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ إِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘ یہ اسی استغفار کی مزید تفصیل ہے کہ وہ ان لوگوں کے لیے جنت کی دعا کرتے ہیں جو توبہ اور اصلاح کر کے اس کا حق پیدا کر لیتے ہیں اور جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ نیز وہ ان کے آباء، ازواج اور ذریات میں سے صرف ان لوگوں کے لیے دعا کرتے ہیں جو توبہ و اصلاح سے اس کے لیے استحقاق پیدا کر لیں۔ مطلب یہ ہے کہ فرشتے اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ مجرد کسی کے طفیل اور کسی کے نسب و خاندان کی بنا پر کسی کو جنت حاصل ہونے والی نہیں ہے بلکہ جس کو بھی حاصل ہو گی اس کے استحقاق اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہو گی۔
      ’إِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘۔ یہ بعینہٖ کلمۂ شفاعت سے جو مائدہ کی آیت ۱۲۰ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی زبان سے نقل ہوا ہے۔ وہاں اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔ یہ تفویض الی اللہ کا کلمہ ہے یعنی تو جو چاہے کر سکتا ہے لیکن ساتھ ہی تو حکیم بھی ہے اس وجہ سے وہی کرے گا جو عدل و حکمت پر مبنی ہو گا۔ فرشتوں کا یہی استغفار درحقیقت اہل زمین کے لیے سفارش ہے اور اس کی نوعیت یہی ہے جو قرآن نے بیان فرمائی ہے نہ کہ وہ جو جاہلوں نے سمجھی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اے ہمارے رب، اور تو اُن کو ہمیشہ رہنے والے باغوں میں داخل کر، جن کا تو نے اُن سے وعدہ کیا تھا اور اُن کو بھی جو اُن کے باپ دادوں اور اُن کی بیویوں اور اُن کی اولاد میں سے صالح ہوں۔ بے شک ،تو ہی زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ تفویض الی اللہ کا کلمہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تو زبردست ہے، اِس لیے جو چاہے، کر سکتا ہے۔ لیکن اِس کے ساتھ حکیم بھی ہے، چنانچہ وہی کرے گا جو عدل و حکمت کا تقاضا ہو گا۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان کو برے نتائج اعمال سے بچا اور جن کو تو نے اس دن برے نتائج سے بچایا تو وہی ہیں جن پر تو نے رحم فرمایا۔ اور یہی درحقیقت بڑی کامیابی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَقِہِمُ السَّیِّئَاتِ وَمَنْ تَقِ السَّیِّئَاتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہُ وَذَلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ‘۔ لفظ ’سَیّاٰت‘ یہاں نتائج ’سیّاٰت‘ کے معنی میں ہے۔ عمل اور نتیجہ کے لزوم کو ظاہر کرنے کے لیے بعض اوقات فعل نتیجۂ فعل کے مفہوم میں بولتے ہیں یعنی فرشتے اہل ایمان کے لیے یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے رب، تو ان کو بدیوں کے نتائج سے محفوظ رکھ۔ یعنی ان کے گناہوں کو جھاڑ دے کہ وہ ان کے شر سے محفوظ رہیں۔
      ’وَمَنْ تَقِ السَّیِّئَاتِ ...... الاٰیۃ‘ فرشتوں کے اس فقرے سے روز حساب و کتاب کی ہولناکی کا اندازہ ہو رہا ہے کہ ان کی نگاہوں میں اصلی خوش قسمت وہ ہے جس کو اللہ نے اس دن اس کے گناہوں کے نتائج سے محفوظ رکھا۔ ان کے نزدیک سب سے بڑی کامیابی یہی ہے اور اصل خوش بخت وہی ہے جس نے یہ کامیابی حاصل کی۔
      فرشتوں کے اس استغفار کے بیان سے مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ واضح کرنا ہے کہ فرشتے اہل زمین کے لیے سفارش تو ہر وقت کر رہے ہیں لیکن ان کی سفارش کی نوعیت یہ ہے کہ جو بیان ہوئی ہے نہ کہ وہ جس کے بل پر لوگ آخرت سے نچنت بیٹھے ہیں اور جب ان کو اصل حقیقت کی یاددہانی کی جاتی ہے تو مناظرہ و مجادلہ کے لیے آستینیں چڑھا لیتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اور اُن کو، (اے پروردگار)، برے اعمال کے نتائج سے بچا۔ حقیقت یہ ہے کہ اُس دن جن کو تو نے برے اعمال کے نتائج سے بچالیا تو وہی ہیں جن پر تو نے رحم فرمایا۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں:’وَقِھِمُ السَّیِّاٰتِ‘۔ لفظ ’سَیِّاٰت‘ یہاں نتائج سیئات کے معنی میں ہے۔ یہ اُس قاعدے کے مطابق ہے کہ عمل اور نتیجہ عمل کے لزوم کو بیان کرنے کے لیے فعل نتیجۂ فعل کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جنھوں نے کفر کیا ان کو منادی کی جائے گی کہ خدا کی بیزاری تم سے اس کی نسبت سے کہیں زیادہ رہی ہے جتنی تم کو اس وقت اپنے سے ہے جب کہ تم کو ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر کرتے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اصل صورت حال جس سے جھوٹی شفاعت پر تکیہ کرنے والوں کو سابقہ پیش آئے گا: یعنی یہ لوگ تو امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے سفارشی ان کو اللہ کے ہاں اونچے سے اونچے درجے دلوائیں گے لیکن وہاں ان کو منادی کے ذریعہ سے یہ آگاہی دی جائے گی کہ آج جتنا غم و غصہ تم کو اپنی بدبختی و محرومی اور اپنے لیڈروں کی کج اندیشی و ضلالت پر ہے اس سے زیادہ تمہارے حال پر غصہ و غضب خدا کو اس وقت تھا جب کہ تم کو رسول کے ذریعہ سے ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم نہایت رعونت کے ساتھ دعوت کو ٹھکراتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اب اپنی اس رعونت اور خدا کے اس غصہ و غضب کا انجام بھگتو اور اپنی بدبختی پر اپنے سر پیٹو۔ اب یہاں کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے۔ یہ جو کچھ تمہارے سامنے آیا ہے اللہ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد آیا ہے اس وجہ سے تم اسی کے سزاوار ہو۔
      ’إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَی الْإِیْمَانِ‘ ظرف ہے ’لَمَقْتُ اللّٰہِ أَکْبَرُ‘ کا۔ ’ایمان‘ سے خاص طور پر توحید پر ایمان مراد ہے۔ اس لیے کہ خدا کے ہاں معتبر ایمان وہی ہے جو توحید کے ساتھ ہو۔ سورۂ زمر آیت ۴۵ میں یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ منکرین آخرت کو سب سے زیادہ چڑ توحید کی دعوت سے ہے۔ یہاں بھی آگے والی آیت میں وضاحت فرما دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ غصہ ان پر اس وجہ سے ہو گا کہ جب ان کو توحید کی دعوت دی جاتی تو اس سے بدکتے اور شرک کو بڑی خوش دلی سے قبول کرتے:

      ’ذٰلِکُم بِأَنَّہُ إِذَا دُعِیَ اللَّہُ وَحْدَہُ کَفَرْتُمْ وَإِن یُشْرَکْ بِہِ تُؤْمِنُوا فَالْحُکْمُ لِلَّہِ الْعَلِیِّ الْکَبِیْرِ‘ (۱۲)
      (یہ سب تمہیں اس وجہ سے پیش آیا کہ جب اللہ واحد کی دعوت دی جاتی تو تم اس کا انکار کر دیتے اور جب اس کے شریک ٹھہرائے جاتے تو تم مانتے تو اب تو فیصلہ خدائے بلند و عظیم ہی کے اختیار میں ہے)۔

       

      جاوید احمد غامدی (یہ سفارش کی امید لگائے بیٹھے ہیں)؟ اِن منکروں کو تو وہاں منادی کی جائے گی کہ اِس وقت جتنی بے زاری تم کو اپنے آپ پر ہے، خدا کی بے زاری تم سے اُس وقت اِس سے کہیں زیادہ رہی ہے، جب تمھیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم (رعونت کے ساتھ) انکار کر دیتے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! تو نے ہم کو دوبار موت دی اور دوبار زندگی دی تو ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا تو کیا یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اقرار بعد از وقت: اس وقت یہ لوگ بڑی سعادت مندی اور بڑی صفائی کے ساتھ کہیں گے کہ اے رب، اب ہم اپنے تمام جرائم کا اقرار کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ناممکن تھا اس وجہ سے ہم تیرے مواخذہ و محاسبہ سے بے خوف ہو کر تیرے رسول اور اس کی دعوت کا مذاق اڑاتے رہے لیکن اب تو نے ہمیں دو بار موت اور دوبار زندگی دے کر موت کے بعد کی زندگی کا اچھی طرح مشاہدہ کرا دیا تو کیا اب اس کی بھی کوئی سبیل ہے کہ اس دوزخ سے ہمیں نکلنا نصیب ہو کہ ہم ازسر نو دنیا میں جا کر ایمان اور عمل صالح کی زندگی بسر کریں! ’دو بار موت‘ سے ایک تو وہ حالت موت مراد ہے جو اس دنیا میں وجود پذیر ہونے سے پہلے انسان پر طاری ہوتی ہے اور دوسری وہ موت ہے جس سے ہر زندہ کو لازماً دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اسی طرح زندگی ایک تو وہ ہے جو اس دنیا میں حاصل ہوتی ہے اور دوسری وہ جو قیامت کو حاصل ہو گی۔

      جاوید احمد غامدی یہ کہیں گے: اے ہمارے رب، تو نے ہم کو دوبار موت اور دوبار زندگی دی، (سو مر کر جی اٹھنے کے بارے میں تو اب کوئی شبہ نہیں رہا)، چنانچہ ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا تو کیا یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      ’دوبار موت اور دوبار زندگی‘ سے مراد وہی چیز ہے جس کا ذکر سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۲۸ میں کیا گیا ہے کہ تم اللہ کے منکر کس طرح ہوتے ہو، دراں حالیکہ تم مردہ تھے تو اُس نے تمھیں زندگی عطا فرمائی، پھر وہی مارتا ہے، اِس کے بعد زندہ بھی وہی کرے گا۔ پھر تم اُسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ انجام تمہارے سامنے اس وجہ سے آیا کہ جب اللہ واحد کی دعوت دی جاتی تو تم اس کا انکار کرتے اور اگر اس کے شریک ٹھہرائے جاتے تو تم مانتے۔ تو اب فیصلہ خدائے بلند و عظیم ہی کے اختیار میں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو جواب دلوایا جائے گا کہ یہ جو کچھ تمہیں پیش آیا تمہاری اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے۔ تمہیں توحید کی دعوت دی جاتی تو تم اس سے بدکتے اور شرک کے تم بڑے حامی بنے رہے تو اب فیصلہ خدائے برتر و عظیم ہی کے اختیار میں ہے اور اس کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہے جس سے تم دوچار ہو۔

      جاوید احمد غامدی (جواب دیا جائے گا): تم اِس انجام کو اِس لیے پہنچے کہ جب اکیلے خدا کو پکارا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کر دیتے تھے اور اگر اُس کے شریک ٹھیرائے جائیں تو تم مان لیتے تھے۔ سو اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر ہی کے اختیار میں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اور اُس کا فیصلہ وہی ہے جس سے تم اِس وقت دوچار ہو۔

    • امین احسن اصلاحی وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا اور تمہارے لیے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔ اور یاددہانی نہیں حاصل کرتے مگر وہی جو متوجہ ہونے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رحمت اور عذاب دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہے: یعنی رحمت اور نقمت دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ اس وجہ سے ڈرنا بھی اسی سے چاہیے اور امید بھی اسی سے رکھنی چاہیے۔ وہ اپنی ان دونوں شانوں کا برابر مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔ وہی آسمان سے رعد و برق اور صاعقہ کا بھی مشاہدہ کراتا رہتا ہے اور وہی بارش بھی نازل کرتا ہے جو زمین کے تمام رزق و فضل کے دروازے کھولتی ہے۔ یہ اس بات کا صاف ثبوت ہے کہ آسمان اور زمین دونوں ایک ہی خدا کے تصرف میں ہیں اور اس کے ہاتھ میں صاعقۂ عذاب بھی ہے اور رزق و فضل کے خزانے بھی۔
      نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے اصل شے توجہ ہے: ’وَمَا یَتَذَکَّرُ إِلَّا مَنۡ یُنِیْبُ‘۔ یعنی خدا کی یہ شانیں لوگوں کو تعلیم و تذکیر کے لیے ظاہر تو برابر ہوتی رہتی ہیں لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آدمی کے اندر متوجہ ہونے اور سوچنے سمجھنے کا ارادہ پایا جاتا ہو۔ اگر اپنی خواہشوں کے پیچھے کوئی ایسا اندھا بن جائے کہ ان سے ہٹ کر کسی اور چیز کی طرف دیکھنے اور اس سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا کوئی حوصلہ اس کے اندر پایا ہی نہ جاتا ہو تو ایسے شخص کی آنکھیں کوئی بڑی سے بڑی نشانی بھی نہیں کھول سکتی۔

      جاوید احمد غامدی وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمھارے لیے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔ (اِس سے) یاددہانی ،البتہ وہی حاصل کرتے ہیں جو رجوع کرنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی رحمت و نقمت، دونوں اُس کے اختیار میں ہیں۔ چنانچہ برق و رعد بھی وہی دکھاتا ہے اور آسمان سے بارش بھی وہی نازل کرتا ہے جس سے رزق و فضل کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
      یعنی جو تعصبات کے پردے چاک کرکے بات کی طرف متوجہ ہونے والے ہیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ بات کو سمجھنے کے لیے یہ شرط اول ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تو اللہ ہی کو پکارو اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ، کافروں کے علی الرغم۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل ایمان کو دعوت عزم: یہ خطاب مسلمانوں سے ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ مشرکین آنکھیں کھولنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور تمہاری دعوت توحید سے یہ چڑتے اور تم سے لڑتے ہیں تو اب ان کی کوئی پروا نہ کرو بلکہ ان کے علی الرغم تم اپنے رب ہی کو بلا شرکت غیرے پکارو اور خالص اطاعت کے ساتھ اسی کی بندگی کرو۔

      جاوید احمد غامدی سو، (رجوع کرنے والو)، تم اللہ ہی کو پکارو، اپنی اطاعت کو اُسی کے لیے خالص کر کے، خواہ اِن منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی وہ بلند درجوں والا اور عرش کا مالک ہے۔ وہ ڈالتا ہے روح، جو اس کے امر میں سے ہے، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو روز ملاقات سے آگاہ کر دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی اللہ تعالیٰ بڑے بلند درجات والا اور تمام کائنات کے عرش حکومت کا مالک ہے۔ اس تک کسی کی رسائی نہیں ہے۔ یہ مشرکین جن کو اس کا شریک و سہیم اور اس کا مقرب بنائے بیٹھے ہیں، یہ سب ان کے خود تراشیدہ مقربین ہیں، خدا کی بارگاہ بلند سب کی پہنچ سے بالا ہے۔
      خدا کی مرضیات کے علم کا واحد ذریعہ وحی ہے: ’یُلْقِی الرُّوحَ مِنْ أَمْرِہِ عَلَی مَن یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہٖ‘۔ ’رُوْح‘ سے مراد یہاں ’وحی‘ ہے۔ وحی کو ’رُوح‘ سے تعبیر کرنے کی وجہ واضح ہے کہ جس طرح روح سے جسم کو زندگی حاصل ہوتی ہے اسی طرح وحی سے انسان کی عقل اور اس کے دل کو زندگی، حرارت اور روشنی حاصل ہوتی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے کہ ’’انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا بلکہ اس کلمہ سے جیتا ہے جو خداوند کی طرف سے آتا ہے۔‘‘ ’مِنْ أَمْرِہٖ‘ کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ یہ وحی امور الٰہیہ میں سے ہے جس کی پوری کیفیت و ماہیت ہر شخص نہیں سمجھ سکتا، اس کی کیفیت وہی سمجھتا ہے جو اس کو نازل کرتا ہے یا پھر وہ سمجھتا ہے جس کو اس کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہی حقیقت دوسرے مقام میں یوں واضح فرمائی ہے کہ

      ’وَیَسْئَلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّیْ وَمَا أُوتِیْتُم مِّن الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیْلاً‘ (الاسراء: ۸۵)
      (وہ تم سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، کہہ دو، روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تم کو علم نہیں دیا گیا ہے مگر تھوڑا)۔

      سورۂ بنی اسرآء کی مذکورہ آیت کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
      یہاں اس ٹکڑے کے لانے سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ خدا کی بارگاہ بلند تک کسی جن و بشر کی رسائی نہیں ہے کہ وہ اس کے غیب سے واقف ہو سکے۔ اس کی مرضیات جاننے کا واحد ذریعہ صرف وہ وحی ہے جو وہ اپنے بندوں میں سے اس پر نازل فرماتا ہے جس کو اس کارخاص کے لیے انتخاب فرماتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین نے اپنے زعم کے مطابق غیب کے جاننے کے جو ذرائع ایجاد کر رکھے ہیں وہ بالکل لا یعنی ہیں۔ خدا کی پسند و ناپسند جاننے کا ذریعہ بس وحی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر نازل فرماتا ہے لیکن یہ شامت زدہ لوگ قرآن اور اس کے لانے والے کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کو زعم ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بنانے والا ہوتا تو ان میں سے کسی کو رسول بناتا۔ ان کو پتا نہیں ہے کہ اس منصب کے لیے اللہ تعالیٰ ہی جس کو چاہتا ہے منتخب فرماتا ہے اور وہ جس کو منتخب فرماتا ہے وہی اس کا اہل ہوتا ہے؛ مدعی اس کا اہل نہیں ہوتا۔
      ’لِیُنذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِ‘۔ ’یَوْمَ التَّلَاقِ‘ سے مراد روز قیامت ہے اس لیے کہ اس دن سب کی پیشی خدا کے آگے ہونی ہے۔ وحی اور رسالت کا مقصود دراصل اسی دن سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے۔ اصل مسئلہ جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے یہی ہے۔ اگر یہ سمجھ میں آ جائے تو دوسرے تمام مسائل کو سمجھنے کے لیے راہ کھل جاتی ہے۔ اگر یہ سمجھ میں نہ آئے تو انسان کا کوئی قدم بھی صحیح سمت میں نہیں اٹھ سکتا۔ اس وجہ سے انبیاء کرام کا اصل مشن اسی منزل کی رہنمائی رہا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی وہ عالی مرتبت ہے، عرش کا مالک ہے، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے، اپنے حکم کی روح ڈال دیتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو ملاقات کے دن سے خبردار کر دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے یہاں وحی مراد ہے جس میں امر الٰہی کلام کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ قرآن نے تصریح کر دی ہے کہ اِسے کوئی شخص اپنی خواہش یا کوشش سے حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ خدا کے حکم سے نازل ہوتی ہے اور وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس پر نازل کرنی ہے۔ اِس کے سوا اِس کے حصول کا کوئی طریقہ نہیں ہے، الاّ یہ کہ آدمی اپنے آپ کو فریب نفس میں مبتلا کر بیٹھے اور اُسی سے الہام حاصل کرتا رہے، جیسا کہ صوفیانہ مذاہب کے ماننے والوں نے کیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جس دن وہ خدا کے آگے بالکل بے نقاب ہوں گے۔ ان کی کوئی چیز بھی خدا سے مخفی نہیں ہو گی۔ آج کی بادشاہی کس کے اختیار میں ہے! خدائے واحد و قہار کے اختیار میں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نہ خدا سے کوئی چیز مخفی ہو گی اور نہ کوئی اس کے قابو سے باہر ہو گا: اس دن ہر شخص کا سارا ظاہر و باطن خدا کے آگے بالکل بے نقاب ہو گا۔ کسی کی کوئی بات بھی اس سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں ہو گی کہ کسی گواہی و ثبوت کی ضرورت پیش آئے یا کوئی غلط بیانی کر سکے یا کوئی اپنے کسی جرم کو چھپا سکے یا اس کی کوئی غلط تاویل کر سکے یا کوئی اس کے باب میں کوئی جھوٹی سفارش کر سکے۔
      ’لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ‘۔ یعنی اس وقت جب کہ ہر شخص خدا کے آگے بالکل بے نقاب اور بے بس ہو گا مجرموں سے خطاب کر کے پوچھا جائے گا کہ اب بولو، آج بادشاہی کس کی ہے؟ تم جن کو خدا کا شریک و سہیم بنائے بیٹھے تھے اور یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ تم کو خدا سے بچا لیں گے، وہ کہاں گئے؟
      ’لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ‘۔ چونکہ اس وقت کسی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہو گا اس وجہ سے خود ہی جواب دیا کہ آج کے دن بادشاہی صرف خدائے واحد و قہار کی ہے۔ یہاں نہ کوئی کسی کا یاور و ناصر بن سکے گا اور نہ کوئی خدا کے کسی فیصلہ کو بدلوا سکے گا۔ لفظ ’قَہّار‘ کی تحقیق اس کے محل میں بیان ہو چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی جس دن وہ خدا کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔ اُن کی کوئی چیز بھی خدا سے چھپی ہوئی نہ ہو گی۔ (پوچھا جائے گا): آج بادشاہی کس کی ہے؟ اللہ واحد و قہار کی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی آج ہر جان کو اس کے کیے کا بدلہ ملے گا۔ آج کوئی ظلم نہیں ہو گا۔ بے شک اللہ جلد حساب چکا دینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی آج کا دن خدا کے عدل کامل کے ظہور کا دن ہے۔ آج ہر شخص کو اس کے اپنے عمل کا بدلہ ملے گا۔ کسی کی کوئی حق تلفی یا کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہو گی اور یہ سارا کام چشم زدن میں ہو گا۔ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس میں بڑی مدت صرف ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ بڑی جلدی حساب چکا دینے والا ہے۔

      جاوید احمد غامدی آج ہر شخص کو اُس کے کیے کا بدلہ ملے گا۔ آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہو گا۔ بے شک، اللہ جلد حساب چکا دینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ان کو قریب آ لگنے والی آفت سے ڈرا جب کہ دل حلق میں آ پھنسیں گے اور وہ غم سے گھٹے ہوئے ہوں گے۔ اس دن ظالموں کا نہ کوئی ہمدرد ہو گا اور نہ کوئی ایسا سفارشی جس کی بات سنی جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’اٰزِفَۃ‘ کا مفہوم: ’اٰزِفَۃ‘ کے معنی وہ چیز جو قریب آ لگی ہو۔ یہاں یہ لفظ قیامت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس صفت کے استعمال سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ قیامت کو بہت بعید نہ سمجھو، وہ بالکل پاس ہی کھڑی ہے۔ ’مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہ‘ (جو مرا اس کی قیامت آ گئی) قیامت کے دن اس فاصلہ کا کسی کو بھی احساس نہیں ہو گا جو اس کے اور قیامت کے درمیان حائل ہے، بلکہ ہر شخص یہی سمجھے گا کہ ابھی سوئے تھے ابھی جاگ پڑے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہر شخص کی قیامت میں بس اتنے ہی دن باقی ہیں جتنے دن اس دنیا میں اس کی زندگی کے باقی ہیں۔ جس طرح ہر شخص کی موت اس کے پہلو میں کھڑی ہے اسی طرح قیامت بھی اس کے بغل میں موجود ہے۔
      اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب کسی قوم کی طرف رسول کی بعثت ہوتی ہے تو وہ رسول اس کے لیے خدا کی عدالت کی منزلت میں ہوتا ہے۔ اگر قوم رسول کی تکذیب کر دیتی ہے تو لازماً تباہ کر دی جاتی ہے۔ یہ اس قوم کے لیے گویا قیامت صغریٰ ہوتی ہے جو تمہید ہوتی ہے قیامت کبریٰ کی۔ اس لفظ (اٰزِفَۃ) کے استعمال سے مقصود قریش کو یہ تنبیہ ہے کہ وہ قیامت کو بعید نہ سمجھیں۔ ان کی عدالت کا وقت اب آ چکا ہے۔ ایک عدالت ان کے لیے قائم ہو چکی ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ آخرت کی عدالت کا انتظار جو سارے معاملات کا آخری فیصلہ کر دے گی۔
      ’إِذِ الْقُلُوۡبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ کَاظِمِیْنَ مَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَلَا شَفِیْعٍ یُطَاعُ‘۔ یہ اس قیامت کی ہولناکی کی تصویر ہے کہ اس دن مجرموں کے دل گویا حلق میں آئے ہوئے ہوں گے اور وہ غم و الم سے گھٹے ہوئے ہوں گے۔ نہ اس دن کسی کے اپنے حلق سے اپنی مدافعت میں کوئی آواز نکلے گی اور نہ ان کا کوئی ہمدرد یا سفارشی ہو گا جو ان کی حمایت یا سفارش میں اپنی زبان کھولے۔
      ’شَفِیْع‘ کے ساتھ ’یُطَاع‘ کی صفت مشرکین کے اس وہم پر ضرب لگانے کے لیے ہے کہ وہ اپنے معبودوں کے متعلق یہ تصور رکھتے ہیں کہ یہ خدا کے ایسے لاڈلے اور چہیتے ہیں کہ خدا ان کی نازبرداری میں ان کی ہر بات لازماً مانے گا۔ فرمایا کہ خدا کے ہاں ان کا کوئی سفارشی ایسا نہیں ہو گا جس کی کوئی شنوائی ہو۔

      جاوید احمد غامدی اِن کو اُس آفت کے دن سے ڈراؤ، (اے پیغمبر)، جو قریب آ لگی ہے، جب کلیجے منہ کو آ رہے ہوں گے اور وہ غم سے گھٹے ہوئے ہوں گے۔ اُس دن ظالموں کا کوئی دوست نہ ہو گااور نہ کوئی سفارشی، جس کی بات مانی جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی قیامت سے، جو موت کے دروازے سے گزرتے ہی ہر شخص کے سامنے کھڑی ہو گی۔ پھر یہاں تو مخاطب قریش ہیں، جنھیں جگہ جگہ اُس قیامت صغریٰ سے بھی خبردار کیا گیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد گویا اُن کے سر پر کھڑی تھی۔

    • امین احسن اصلاحی وہ نگاہوں کی چوری بھی جانتا ہے اور ان بھیدوں کو بھی جو سینے چھپائے ہوئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سفارش کے خلاف ایک دلیل: کسی کے باب میں کسی کی سفارش تو اس کے ہاں کچھ کارگر ہو سکتی ہے جو ساری صورت حال سے خود واقف نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ تو ہر شخص کی ہر چھوٹی بڑی بات سے خود واقف ہے۔ وہ تو نگاہ کی خیانتوں اور سینوں میں چھپے ہوئے رازوں سے بھی پوری طرح باخبر ہے تو اس کے آگے کسی کی کوئی سفارش کیا کارگر ہو سکے گی!

      جاوید احمد غامدی (پھر اُس کے حضور کوئی کیا سفارش کرے گا؟ اِس لیے کہ) اللہ تو نگاہوں کی چوری کو بھی جانتا ہے اور اُن سب بھیدوں کو بھی جو سینوں نے چھپا رکھے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور اللہ عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کریں گے۔ اللہ ہی سننے والا دیکھنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رہی یہ بات کہ کوئی اپنی سفارش سے حق کو باطل اور باطل کو حق بنا سکے تو اس کا بھی امکان نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ حق کے مطابق ہو گا اور کوئی اپنی سفارش سے اس کے فیصلۂ حق کو باطل سے نہیں بدلوا سکتا۔
      ’وَالَّذِیْنَ یَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ لَا یَقْضُوۡنَ بِشَیْءٍ‘۔ رہے ان مشرکین کے معبودان باطل تو ان کے اختیار میں سرے سے کسی امر کا فیصلہ ہی نہ ہو گا کہ وہ کسی کی حمایت یا مخالفت میں کچھ کر سکیں۔
      ’إِنَّ اللّٰہَ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ‘۔ یہ اوپر کی بات کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ حقیقی دیکھنے والا اور سننے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس کے سوا حق کسے ہے کہ وہ کوئی فیصلہ کرے اور جب وہ دیکھنے والا اور سننے والا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئی اپنی سفارش سے اس کو دھوکا دے کر غلط فیصلے کرا سکے اور یہ معبودان باطل جو نہ دیکھتے ہیں نہ سنتے ہیں آخر کس بنا پر ان کے متعلق یہ تصور کیا گیا ہے کہ یہ بھی کسی کے معاملہ کا فیصلہ کرنے والے بنیں گے!

      جاوید احمد غامدی اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا، (اُس پر کسی کی سفارش اثر انداز نہ ہو گی)۔ اور اللہ کے سوا جن کو یہ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں۔ یقیناًاللہ ہی سب کچھ سننے والا ، دیکھنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List