Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 75 آیات ) Az-Zumar Az-Zumar
Go
  • الزمر (The Crowds, The Troops, Throngs)

    75 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ صٓ ۔۔۔ کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس مضمون پر سابق سورہ ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ سورۂ صٓ کے آخر میں فرمایا ہے کہ یہ قرآن دنیا والوں کے لیے ایک عظیم یاددہانی ہے، لوگوں کو یاد دلا رہا ہے کہ آخرت شدنی ہے اور سب کو ایک ہی رب حقیقی کے آگے پیش ہونا ہے تو جو لوگ آج اس کو جھٹلا رہے ہیں وہ بہت جلد اس کی صداقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اب اس سورہ کی تلاوت کیجیے تو اس کا آغاز بھی اسی مضمون سے ہوتا ہے کہ خدائے عزیز و حکیم نے یہ کتاب نہایت اہتمام سے اس لیے اتاری ہے کہ لوگوں نے اللہ کی توحید کے بارے میں جو اختلافات پیدا کر رکھے ہیں ان کا فیصلہ کر دے تاکہ حق واضح ہو جائے اور جو لوگ اپنے فرضی دیویوں دیوتاؤں کے بل پر آخرت سے نچنت بیٹھے ہیں وہ چاہیں تو وقت آنے سے پہلے اپنی عاقبت کی فکر کر لیں۔ اسی پہلو سے اس میں توحید کے دلائل بھی بیان ہوئے ہیں، شرک اور شرکاء کی تردید بھی فرمائی گئی ہے اور قیامت کے دن مشرکین کا جو حشر ہو گا اس کی تصویر بھی کھینچی گئی ہے۔ سورہ کی بنیاد توحید پر ہے اور اسی تعلق سے اس میں قیامت کا بھی بیان ہوا ہے۔ یہ سورہ اس گروپ کی ان سورتوں میں سے ہے جو کشمکش حق و باطل کے اس دور میں نازل ہوئی ہیں جب ہجرت کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ چنانچہ بعد کی سورتوں میں یہ مضمون بالتدریج واضح ہو تا گیا ہے۔

  • الزمر (The Crowds, The Troops, Throngs)

    75 آیات | مکی

    الزمر ۔ المؤمن

    ۳۹ ۔ ۴۰

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں انذار و بشارت کے ساتھتوحید پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ اثبات اور دوسری میں منکرین کے لیے تنبیہ و انذار اور اہل ایمان کے لیے تسلی، تشویق اور حوصلہ افزائی کا پہلو نمایاں ہے۔ اِسی طرح جو لوگ ابھی تذبذب میں تھے، اُنھیں بھی رہنمائی دی گئی ہے کہ مصلحتوں سے بے پروا ہو کر وہ بھی آگے بڑھیں اور دعوت حق کی اِس جدوجہد میں پیغمبر کے ساتھی بن جائیں۔ دونوں کی ابتدا الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ ایک ہی آیت سے ہوئی ہے۔ اِس سے خود قرآن نے اِن کے اِس تعلق کی طرف اشارہ کر دیا ہے اور الفاظ کے اِس فرق سے یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ پہلی سورہ میں خدا کی حکمت اور دوسری میں اُس کاعلم بناے استدلال ہے۔
    اِن سورتوں سے آگے مزید چھ سورتوں کے مطالب بھی کم و بیش وہی ہیں جو اوپر سورۃ ’المؤمن‘ کے بیان ہوئے ہیں۔ چنانچہ اِن کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے ایک ہی، یعنی ’حٰم‘ رکھا ہے اور اِسی بنا پر یہ حوامیم کہلاتی ہیں۔
    دونوں سورتوں کے مخاطب قریش ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ کتاب نہایت اہتمام سے خدائے عزیز و حکیم کی طرف سے اتاری گئی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور منکرین کے لیے تہدید: لفظ ’تَنۡزِیْلُ‘ کی وضاحت اس کے محل میں ہم کر چکے ہیں کہ اس کے معنی صرف اتارنے کے نہیں بلکہ اہتمام کے ساتھ اتارنے کے ہیں۔ یہ تمہیدی آیت اپنے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی بھی رکھتی ہے اور قرآن کے مکذبین کے لیے تہدید و وعید بھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کا پہلو یہ ہے کہ تم نے یہ کتاب نہ خود تصنیف کی ہے نہ خدا سے مانگ کے اپنے اوپر اتروائی ہے، بلکہ تمہارے رب نے خود تمہارے اوپر نہایت اہتمام کے ساتھ، درجہ بدرجہ اتاری ہے اور اتار رہا ہے، تو تم اطمینان رکھو کہ وہی اس کی صداقتیں ظاہر کرے گا اور وہی اس کے لیے راہ ہموار کرے گا۔ جس خدا نے یہ کتاب اتاری ہے وہ کوئی بے بس ہستی نہیں بلکہ ’عَزِیْزٌ‘ یعنی غالب و مقتدر ہے، وہ جو چاہے کر سکتا ہے، کوئی اس کے ارادے میں مزاحم نہیں ہو سکتا۔ لیکن ’عَزِیْزٌ‘ ہونے کے ساتھ وہ ’حکیم‘ بھی ہے۔ اس وجہ سے اگر اس راہ میں کچھ مزاحمتیں پیش آ رہی ہیں یا آئندہ آئیں تو ان کو خدا کی حکمت پر محمول کرو۔ کوئی بات خدا کے حکم کے بغیر نہیں ہوتی اور اس کا ہر کام حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتا ہے۔
      اس کے منکرین کے لیے تہدید کا پہلو یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ، نہایت اہتمام و تدریج کے ساتھ لوگوں کی ہدایت کے لیے اتار رہا ہے۔ اس کا حق یہ ہے کہ لوگ اس نعمت کی قدر اور اس سے ہدایت و روشنی حاصل کریں۔ اگر انھوں نے اس کے برعکس اس کی تکذیب کی راہ اختیار کی تو یاد رکھیں کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ خدائے عزیز و حکیم کا فرمان واجب الاذعان ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ اگر اس کے باوجود وہ تکذیب کرنے والوں کو ڈھیل دے رہا ہے تو یہ محض اپنی حکمت کے تقاضے کے تحت دے رہا ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری گئی ہے، نہایت اہتمام کے ساتھ، جو زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور قرآن کے مکذبین کے لیے تہدید و وعید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا نے یہ کتاب اتاری ہے، اُس کے ارادوں میں کوئی مزاحم نہیں ہو سکتا۔ وہ اگر لوگوں کو ڈھیل دے رہا ہے تو یہ اُس کی حکمت کا تقاضا ہے اور ڈھیل کے اِس عرصے میں اگر کچھ مزاحمتیں اِس کتاب کے منکرین کی طرف سے پیش آ رہی ہیں تو اُنھیں بھی اِسی حکمت پر محمول کرنا چاہیے۔ اِس لیے یہ منکرین بھی متنبہ ہوں اور آپ بھی مطمئن رہیے، اُس کا فیصلہ صادر ہو جائے گا تو کوئی اُسے ٹالنے والا نہیں ہو گا۔

    • امین احسن اصلاحی بے شک ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے تو تم اللہ ہی کی بندگی کرو، اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’حَقٌّ‘ کے معنی یہاں قول فیصل کے اور ’دین‘ کے معنی اطاعت کے ہیں۔ ان الفاظ کے مختلف معانی کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔
      توحید اور شرک کے باب میں قول فیصل: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے۔ اللہ کی توحید کے بارے میں مبتدعین و مشرکین نے جو اختلافات پیدا کر دیے تھے اس کتاب نے ان کا فیصلہ کر دیا تو تم اللہ ہی کی بندگی ’اس کی خالص اطاعت کے ساتھ‘ کرو۔ اطاعت خالص کا سزاوار اللہ ہی ہے۔ وہی سب کا خالق اور پروردگار ہے تو وہی سب کی عبادت کا بھی حق دار ہے اور جو عبادت کا حق دار ہے وہی اطاعت کا بھی حق دار ہے۔ یہ بالکل بے تکی بات ہے کہ عبادت کا حق دار کوئی ہو، اطاعت کا حق دار کوئی اور بن جائے اور جس طرح عبادت کا خالص ہونا ضروری ہے، اسی طرح اطاعت بھی بے آمیز ہونی ضروری ہے۔ اللہ کے سوا کسی دوسرے کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے خلاف جائز نہیں ہے۔
      پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے یہ بات فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کے نازل ہو جانے کے بعد تمہاری راہ معین ہو گئی۔ تم اسی راہ پر چلو۔ اگر دوسرے تمہارا ساتھ دیتے ہیں تو فبہا، نہیں دیتے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ تمہارے اوپر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے، (اے پیغمبر)، اِس کتاب کو تمھاری طرف قول فیصل کے ساتھ اتارا ہے۔ سو اب اللہ ہی کی بندگی کرو، اپنی اطاعت کو اُسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی شرک اور توحید کے باب میں جو اختلافات پیدا کر دیے گئے ہیں، اُن کے لیے قول فیصل کے ساتھ اتارا ہے۔
      یعنی اِس طرح کہ پرستش بھی اُسی کی ہو اور کسی قید و شرط کے بغیر حکم بھی اُسی کا مانا جائے۔
      یعنی ایسی بے آمیز اطاعت جس میں نفس اور غیر، دونوں کی طرف سے کسی شرکت کا شائبہ نہ ہو۔

    • امین احسن اصلاحی یاد رکھو کہ اطاعت خالص کا سزاوار اللہ ہی ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں، کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو خدا سے قریب تر کر دیں، اللہ ان کے درمیان اس بات کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ اللہ ان لوگوں کو بامراد نہیں کرے گا جو جھوٹے اور ناشکرے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا ........ الاٰیۃ‘۔ یعنی یہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنائے بیٹھے ہیں اور ان کے حق میں انھوں نے یہ فلسفہ ایجاد کیا ہے کہ ان کو وہ خدا سمجھ کر نہیں بلکہ خدا کے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر پوج رہے ہیں، اگر اس کتاب کے فیصلہ کو وہ نہیں مان رہے ہیں تو اللہ ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا۔
      ’اِنَّ اللَّہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ہُوَ کَاذِبٌ کَفَّارٌ‘۔ ’ہَدٰی یَھْدِیْ‘ کسی مقصد میں بامراد کرنے کے مفہوم کے لیے بھی قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔
      قیامت کے دن ان لوگوں کا جو فیصلہ ہو گا اس کے متعلق یہ اصولی حقیقت واضح فرما دی کہ جو لوگ جھوٹے اور ناشکرے ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بامراد نہیں کرے گا۔ جھوٹے سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے خدا پر یہ جھوٹ باندھا کہ اس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا ہے درآنحالیکہ خدا نے ان کے باب میں کوئی دلیل یا شہادت نہیں اتاری اور ناشکرے سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو نعمتیں تو سب خدا نے بخشیں لیکن انھوں نے گُن دوسروں کے گائے۔ یہ دونوں صفتیں مشرکین کی ہیں اور یہ دونوں بیک وقت ہر مشرک میں لازماً پائی جاتی ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اس گھمنڈ میں قرآن اور پیغمبرؐ کو جھٹلا رہے ہیں کہ قیامت ہوئی تو وہ اپنے معبودوں کی بدولت خدا کے مقرب بن جائیں گے حالانکہ ایسے جھوٹوں اور ناشکروں کی کوئی امید بھی خدا کے ہاں بر آنے والی نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی سنو، خالص اطاعت اللہ ہی کے لیے ہے۔ اللہ کے سوا جن لوگوں نے دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں، (اور اُس کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ) ہم تو اُن کی عبادت صرف اِس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہم کو اللہ سے قریب تر کر دیں، اللہ یقیناًاُن کے درمیان اُس بات کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔ بے شک، اللہ اُن لوگوں کو راہ یاب نہیں کرتا جو جھوٹے اور ناشکرے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      دنیا بھر کے مشرکین اپنے شرک کے لیے بالعموم یہی استدلال کرتے ہیں۔
      مطلب یہ ہے کہ نہ دنیا میں ہدایت دیتا ہے اور نہ آخرت میں منزل مراد تک پہنچاتا ہے۔
      یعنی اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ اُس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا ہے اور سب نعمتیں اُسی سے پاتے ہیں، لیکن دوسروں کی حمد و ثنا میں رطب اللسان رہتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اگر اللہ اولاد ہی بنانے کا ارادہ کرتا تو وہ چھانٹ لیتا ان چیزوں میں سے جو وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا۔ وہ پاک اور ارفع ہے۔ وہ اللہ واحد ہے، سب پر قابو رکھنے والا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مشرکین کے عقیدے پر تعریض: یہ مشرکین عرب کے عقیدے پر تعریض ہے کہ انھوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مان کر ان کو معبود بنا رکھا ہے اور ان کو خدا کے تقرب کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کم عقلوں نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ اگر خدا اپنے لیے اولاد ہی بنانے کا ارادہ کرتا تو وہ بیٹیاں کیوں بناتا، وہ اپنی مخلوقات میں سے جس بہتر سے بہتر چیز کو چاہتا اپنے لیے منتخب کرتا! ’سُبْحٰنَہٗ‘ وہ ایسی نسبتوں اور ایسی ضرورتوں سے ارفع، منزہ اور بالکل پاک ہے۔ اس کو کسی بیٹے یا بیٹی یا کسی شریک و مددگار کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بالکل یکہ و تنہا اور اپنی پوری کائنات کو اپنے قابو میں رکھنے والا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ احمق سوچتے نہیں کہ) اگر اللہ چاہتا کہ کسی کو اولاد بنائے تو اپنی مخلوقات میں سے جو چاہتا ، (اپنے لیے خود) منتخب کر لیتا۔ (مگر) وہ اِس سے پاک ہے۔ وہ اکیلا خدا ہے، سب پر قابو رکھنے والا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی تمھارا انتظار نہ کرتا کہ تم اپنی طرف سے اُس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تصنیف کرو، بلکہ خود فیصلہ کرتا اور اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے اعلان کر دیتا کہ فلاں اور فلاں کو اُس نے اپنا بیٹا یا بیٹی بنایا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے آسمانوں اور زمین کو غایت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وہ رات کو دن پر ڈھانکتا ہے اور دن کو رات پر اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک وقت مقرر کی پابندی کے ساتھ گردش کر رہا ہے سن رکھو کہ غالب اور بخشنے والا وہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      شرک و شفاعت کا عقیدہ اس دنیا کے بالحق ہونے کے منافی ہے: اس نے آسمان و زمین بے مقصد و غایت نہیں پیدا کیے ہیں کہ نیکی و بدی اور حق و باطل کا اس میں کوئی امتیاز ہی نہ ہو، جو چاہے، سفارشوں کے بل پر، اپنے لیے اونچے سے اونچے مرتبے خدا کے ہاں محفوظ کرا لے، خواہ اس کے اعمال و عقائد کچھ ہی ہوں۔ اگر ایسا ہو تو یہ دنیا ایک بالکل باطل کارخانہ بن جاتی ہے اور ایک حکیم و عادل خالق کی شان کے بالکل خلاف ہے کہ وہ کوئی باطل کام کرے۔
      اللہ تعالیٰ اس دنیا سے بے تعلق نہیں ہے: ’یُکَوِّرُ الَّیْْلَ عَلَی النَّہَارِ ........ الاٰیۃ‘۔ یعنی کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ خدا دنیا کو پیدا کر کے کسی گوشے میں ایک تماشائی یا نرتکار بن کر بیٹھ رہا ہے بلکہ وہ برابر رات کو دن پر ڈھانکتا اور دن کو رات پر اُڑھاتا ہے۔ اسی نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے اور یہ سب اپنے مقررہ نظام الاوقات کے مطابق گردش کر رہے ہیں۔ مجال نہیں ہے کہ ان کی پابندی اوقات میں منٹ اور سیکنڈ کا بھی فرق پیدا ہو جائے۔
      ’اَلَا ہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ‘۔ یعنی کان کھول کر اچھی طرح سن لو کہ خدا عزیز بھی ہے اور غفار بھی۔ وہ ’عزیز‘ ہے اس وجہ سے کوئی اس کے اذن کے بغیر نہ اس کے ہاں رسائی حاصل کر سکتا نہ کسی کے لیے کوئی سفارش کر سکتا اور ’غفار‘ ہے اس وجہ سے وہ ان لوگوں کو خود بخشنے والا ہے جو اپنے لیے مغفرت کا حق پیدا کر لیں گے۔ ان کو کسی سفارشی کی سفارش کی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔

      جاوید احمد غامدی زمین اور آسمانوں کو اُس نے مقصد سے پیدا کیا ہے۔ وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور سورج اور چاند کو اُسی نے مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک وقت مقرر کے لیے چلا جا رہا ہے۔ سنو، وہی زبردست ہے، بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      لہٰذا یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ تمھارے مشرکانہ اوہام کے مطابق اپنے انجام کو پہنچیں اور اِس کے نتیجے میں حق و باطل میں سرے سے کوئی امتیاز ہی باقی نہ رہے۔
      مطلب یہ ہے کہ اُس نے صرف بنایا ہی نہیں، اپنی مخلوقات کا نظم بھی اپنے ہی ہاتھ میں رکھا ہے۔ کسی کا یارا نہیں ہے کہ اُس میں کسی نوعیت کی کوئی مداخلت کر سکے۔ چنانچہ سورج، چاند اور دوسرے سیاروں اور ستاروں کے لیے جو منزل مقرر کر دی گئی ہے، ہر ایک وقت مقرر کی پابندی کے ساتھ اُسی کے لیے چلاجا رہا ہے، کوئی اُسے اپنی راہ سے بے راہ نہیں کر سکتا۔
      یعنی کوئی نہ اُس پر غلبہ پا کر اُس کے ارادوں میں مزاحم ہو سکتا ہے اور نہ اپنی طرف سے کسی کو بخشش کی امید دلا سکتا ہے۔ اُس کے بندے اگر مغفرت کا حق پیدا کر لیں تو وہ خود سب سے بڑھ کر بخشنے اور درگذر فرمانے والا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اسی نے پیدا کیا تم کو ایک ہی جان سے، پھر پیدا کیا اسی کی جنس سے اس کا جوڑ اور تمہارے لیے (نر و مادہ) چوپایوں کی آٹھ قسمیں اتاریں۔ وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے، ایک خِلقت کے بعد دوسری خِلقت میں، تین تاریکیوں کے اندر۔ وہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم کہاں بھٹکا دیے جاتے ہو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ تعالیٰ ہی خالق و رازق ہے تو وہی رب بھی ہے: یہ اسی اوپر والی بات کی مزید وضاحت ہے کہ خدا ہی خالق ہے، اسی نے پرورش کا انتظام فرمایا ہے اور اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے، تو اس کے سوا دوسرا کس حق کی بنا پر رب بن جائے گا! جو لوگ یہ تمام بدیہی حقائق تسلیم کرتے ہیں آخر ان کی عقل کہاں الٹ جاتی ہے کہ وہ دوسروں کو اس کی بادشاہی میں ساجھی بناتے ہیں!
      ’خَلَقَکُمۡ مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا‘۔ یعنی خدا ہی نے تم سب کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا، پھر اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا۔ تمام انسان ایک ہی آدم کی نسل سے ہیں اور سب کا خالق خدا ہی ہے، پھر خدا ہی ہے جس نے آدم کی جنس سے اس کے جوڑے ۔۔۔ عورت ۔۔۔ کو وجود بخشا کہ جب سب کا خالق اللہ ہی ہے اور اس حقیقت سے تمہیں بھی انکار نہیں ہے تو خدا کے سوا دوسرے معبودوں کے لیے کہاں گنجائش پیدا ہوئی!
      ’وَاَنزَلَ لَکُم مِّنْ الْأَنْعَامِ ثَمَانِیَۃَ أَزْوَاجٍ‘۔ یعنی جس خدا نے تم کو پیدا کیا اسی نے تمہاری پرورش کا سامان بھی کیا۔ یہ نہیں ہے کہ تمہیں پیدا کر کے اس نے تمہاری پرورش کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی ہو۔ یہ مختلف قسم کے چوپائے جن پر تمہاری معاش و معیشت کا انحصار ہے؛ خدا ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں، کسی اور نے ان کو نہیں پیدا کیا ہے۔
      یہاں چوپایوں کے لیے ’اَنزَلَ لَکُمْ‘ کے الفاظ اسی طرح استعمال ہوئے ہیں جس طرح ’اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن میں یہ اسلوب بیان اکثر چیزوں کے لیے استعمال ہوا ہے اور اس سے مقصود لوگوں کو ہر چیز کے اصل منبع کی طرف توجہ دلانا ہے کہ ہر چیز کا نازل کرنے والا درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اسی نے لوہا اتارا تو وہ زمین میں پیدا ہو گیا اور اُس سے انسان نے طرح طرح کے اسلحہ ایجاد کر لیے، اسی نے چوپائے اتارے تو وہ انسان کی معاش و معیشت کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے زمین میں پھیل گئے۔ یہی حقیقت بینی انسان کے اندر صحیح جذبۂ شکرگزاری پیدا کرتی ہے ورنہ انسان کی نظر ہر نعمت کے سبب قریب کے ساتھ اٹک کے رہ جاتی ہے اور وہ اپنے حقیقی پروردگار کو بھول جاتا ہے۔
      ’ثَمَانِیَۃَ أَزْوَاجٍ‘۔ لفظ ’زوج‘ جوڑے کے لیے بھی آتا ہے اور جوڑے کے ایک فرد کے لیے بھی۔ یہاں یہ اسی دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ عرب میں پالتو چوپایوں میں سے چار معروف تھے۔ چھوٹے چوپایوں میں بھیڑ بکری، بڑے چوپایوں میں اونٹ اور گائے۔ لفظ انعام انہی کے لیے بولا جاتا ہے۔ ان کے نر و مادہ دونوں کو ملا کر گنیے تو یہ آٹھ بن جائیں گے۔ عرب میں معاش و معیشت کا انحصار زیادہ تر انہی پر تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی یاددہانی کے لیے ان کا خاص طور پر حوالہ دیا۔ اس مضمون کی تفصیل مطلوب ہو تو انعام کی آیات ۱۴۳-۱۴۴ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
      ’یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُونِ أُمَّہَاتِکُمْ خَلْقاً مِن بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ‘۔ خلق اور ربوبیت کی یاددہانی کے بعد یہ اپنی قدرت، کاریگری اور اپنے احاطۂ علم کی طرف توجہ دلائی کہ وہی خدا تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں، تین تین تاریکیوں کے اندر، تخلیق کے مختلف اطوار و مراحل سے گزارتا ہے۔ ان مختلف مراحل کی تفصیل سورۂ مومنون میں یوں فرمائی ہے:

      ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظَاماً فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْماً ثُمَّ أَنشَأْنَاہُ خَلْقًا آخَرَ (المومنون: ۱۴)
      ’’پھر ہم نطفہ کو خون کی پھٹکی کی شکل میں کر دیتے ہیں اور خون کی پھٹکی کو گوشت کا لوتھڑا بنا دیتے ہیں، پھر لوتھڑے میں ہڈیاں پیدا کر دیتے ہیں اور ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیتے ہیں۔ پھر اس کو ایک نئی خلقت میں کر دیتے ہیں۔‘‘

      ’تین تاریکیوں‘ سے اشارہ مشیمہ، رِحم اور پیٹ کی تہ بہ تہ تاریکیاں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ قدرت کا دست صناع اور موقلم یہ صناعی سورج یا بجلی کی روشنی میں نہیں کرتا بلکہ تین تین پردوں کے اندر کرتا ہے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ اس کا علم ہر جلی و خفی کو محیط ہے۔
      ’ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ ....... الاٰیۃ‘۔ یعنی جس خدا کے تمہارے اوپر یہ یہ احسانات ہیں وہی تمہارا آقا اور مالک بھی ہے۔ ہر چیز اسی کی ملکیت اور تمام آسمان و زمین میں اسی کی بادشاہی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، پھر تمہاری عقل کس طرح الٹ جاتی ہے کہ تم سیدھی راہ سے ہٹا کر ایک بالکل غلط سمت میں موڑ دیے جاتے ہو! ’تُصْرَفُوْنَ‘ مجہول کا صیغہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ان واضح حقائق فطرت کے بعد کسی غلط سمت میں بھٹکنے کی گنجائش تو نہیں تھی لیکن تم نے معلوم نہیں کس شیطان کے ہاتھ میں اپنی باگ پکڑا دی ہے جو تمہیں گمراہی کی وادیوں میں گردش کرا رہا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اُسی نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا، پھر اُسی کی جنس سے اُس کا جوڑا بنایا اور تمھارے لیے چوپایوں کی آٹھ قسمیں اتاریں ، نر و مادہ ۔(اِس لیے کہ اُن سے اپنی معیشت کی ضرورتیں پوری کرو)۔ تمھاری ماؤں کے پیٹ میں وہ ایک کے بعد دوسری خلقت میں تمھیں تین اندھیروں کے اندر پیدا کرتا ہے۔ وہی اللہ تمھارا پروردگار ہے۔ اُسی کی بادشاہی ہے۔ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر کہاں بھٹکا دیے جاتے ہو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ’زَوْج‘ کا لفظ جوڑے کے لیے بھی آتا ہے اور جوڑے کے ایک فرد کے لیے بھی۔ یہاں یہ اِسی دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے اور اِس سے بھیڑ، بکری، اونٹ اور گاے کے نرو مادہ مراد ہیں۔ عرب میں یہی چوپاے معروف تھے۔
      آیت میں چوپایوں کے لیے ’اَنْزَلَ لَکُمْ‘ کے الفاظ بالکل اُسی طرح آئے ہیں، جس طرح لوہے کے لیے دوسری جگہ فرمایا ہے کہ ’وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ‘۔ اِس سے مقصود لوگوں کو ہر چیز کے منبع کی طرف توجہ دلانا ہے۔
      یعنی نطفہ، علقہ وغیرہ جن کا ذکر دوسرے مقامات میں تفصیل کے ساتھ ہوا ہے۔
      یہ پیٹ، رحم اور مشیمہ (وہ جھلی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے) کے تہ بر تہ اندھیروں کی طرف اشارہ ہے۔
      اصل میں لفظ ’تُصْرَفُوْنَ‘ استعمال ہوا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... ’تُصْرَفُوْنَ‘ مجہول کا صیغہ اِس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اِن واضح حقائق فطرت کے بعد کسی غلط سمت میں بھٹکنے کی گنجایش تو نہیں تھی، لیکن تم نے، معلوم نہیں، کس شیطان کے ہاتھ میں اپنی باگ پکڑا دی ہے جو تمھیں گمراہی کی وادیوں میں گردش کرا رہا ہے۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۵۶۶)

    • امین احسن اصلاحی اگر تم ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری کا رویہ پسند نہیں کرتا اور اگر تم اس کے شکرگزار رہو گے تو اس کو پسند کرے گا۔ اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ پھر تمہارے رب ہی کی طرف تمہاری واپسی ہے تو وہ تمہیں ان کاموں سے آگاہ کرے گا جو تم کرتے رہے ہو۔ وہ سینوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ تعالیٰ لوگوں کے کفر و ایمان سے بالکل بے نیاز ہے: لفظ ’کفر‘ یہاں ناشکری اور کفران نعمت کے مفہوم میں آیا ہے۔ اس کے مقابل میں ’اِنۡ تَشْکُرُوْا‘ ہے جس سے اس مفہوم کی وضاحت ہو رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے پیدا کرنے اور تمہاری پرورش میں تو خدا کے سوا کسی اور کو کوئی دخل ہے نہیں۔ اگر اس کے باوجود تم دوسروں کو خدا کا شریک بنا کر اس کی ناشکری کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ تم خدا کا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہو۔ خدا تمہارے کفر اور شکر دونوں سے بے نیاز ہے۔ وہ تمہارا محتاج نہیں ہے بلکہ تمہی اس کے محتاج ہو۔ اگر تم اس کے شکرگزار رہو گے تو وہ اس کو پسند فرمائے گا۔ دنیا میں بھی تمہاری نعمتوں میں برکت ہو گی اور آخرت میں بھی اس کا بھرپور صلہ پاؤ گے اور اگر ناشکری کرو گے تو یاد رکھو کہ خدا اپنے بندوں کی طرف سے ناشکری کے رویہ کو پسند نہیں فرماتا تو لازماً اس کا نتیجہ بھی ان کے سامنے آئے گا۔
      ’وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی ............. الاٰیۃ‘۔ اور یہ حقیقت بھی یاد رکھو کہ خدا کے ہاں ہر نفس کی ذمہ داری خود اسی کے اوپر ہے۔ کوئی دوسرا اس کی طرف سے جواب دہی کرنے والا نہیں بنے گا۔ اگر تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ تمہارے یہ دیوی دیوتا تمہاری وکالت و شفاعت کر کے تم کو خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے تو یہ آرزوئے باطل پوری ہونے والی نہیں ہے۔ سب کی واپسی خدا ہی کی طرف ہونی ہے۔ کوئی اور مولیٰ و مرجع نہیں بنے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے سامنے اس کے اعمال کا پورا دفتر رکھ دے گا۔ وہ لوگوں کے دلوں کے بھیدوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے۔ نہ اس کو کسی کے بارے میں کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہے اور نہ کوئی اس کے آگے یہ کہنے والا بنے گا کہ فلاں کے بارے میں اس کی معلومات میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو خدا کے علم میں نہیں ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اگر تم ناشکری کرو گے تو (اللہ کا کچھ نہیں بگاڑو گے)، اِس لیے کہ اللہ تم سے بے نیاز ہے۔ ہاں، وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری کو پسند نہیں کرتا۔ اور اگر شکر گزار ہو گے تو اُس کو وہ تمھارے لیے پسند کرے گا۔ (یاد رکھو، قیامت کے دن) کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمھاری واپسی تمھارے پروردگار ہی کی طرف ہو گی، تو جو کچھ تم کرتے رہے ہو، وہ تمھیں بتا دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تو دلوں کے بھید تک جانتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس کے باوجود ناشکری کرو گے کہ خود بھی جانتے ہو کہ تمھاری پیدایش اور پرورش میں خدا کے سوا کسی اور کو کوئی دخل نہیں ہے۔
      اور اِس کے نتیجے میں دنیا اور آخرت ، دونوں میں اپنی نعمتوں اور برکتوں سے تمھیں نوازے گا۔
      یعنی پروردگار ہی کی طرف ہو گی، تمھارے مزعومہ دیوی دیوتاؤں کی طرف نہیں ہو گی۔

    • امین احسن اصلاحی اور جب انسان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس کی طرف متوجہ ہو کر، پھر جب وہ اپنی طرف سے اس کو فضل بخش دیتا ہے تو وہ اس چیز کو بھول جاتا ہے جس کے لیے پہلے پکارتا رہا تھا اور اللہ کے شریک ٹھہرانے لگتا ہے کہ اس کی راہ سے لوگوں کو گمراہ کرے۔ کہہ دو، اپنے کفر کے ساتھ کچھ دنوں بہرہ مند ہو لو، تم دوزخ والوں میں سے بننے والے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انسان کی ناشکری پر تعجب اور افسوس: یہ انسان کی اس ناشکری کے رویہ پر تعجب اور افسوس کا اظہار ہے کہ اس کا عجیب حال ہے کہ جب اس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تب تو وہ بڑے تضرع اور بڑی انابت کے ساتھ خدا سے فریاد کرتا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت دور کر کے اس کو اپنے فضل سے بہرہ مند کر دیتا ہے تووہ اپنی مصیبت کو بھول جاتا ہے اور خدا کے بخشے ہوئے فضل کو دوسرے شریکوں کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے اور اس طرح خود بھی خدا کی راہ سے برگشتہ ہوتا ہے، دوسروں کو بھی اس سے برگشتہ کرتا ہے۔ یہاں چونکہ کفر کے سرغنوں کا رویہ زیربحث ہے اس وجہ سے فعل ’لِیُضِلَّ‘ متعدی استعمال فرمایا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ اس کے اندر گمراہ ہونے کا مفہوم خود شامل ہے۔
      یہی مضمون آگے اسی سورہ میں اس طرح بیان ہوا ہے:

      فَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاہُ نِعْمَۃً مِّنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِیْتُہُ عَلَی عِلْمٍ (الزمر: ۴۹)
      ’’جب انسان کو کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تب تو وہ ہم کو پکارتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت بخش دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو میرے علم و قابلیت کا ثمرہ ہے۔‘‘

      انسان کی فطرت کے اندر ایک خدا کے سوا کسی اور الٰہ کا کوئی شعور نہیں ہے اس وجہ سے جب اس پر کسی حقیقی افتقار کی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ اسی کی طرف متوجہ ہوتا اور اس سے دعا و فریاد کرتا ہے لیکن جب اس کی مصیبت دور ہو جاتی ہے تو وہ مصیبت کو بھی بھول جاتا ہے اور خدا سے بھی بے نیاز ہو جاتا ہے اور خدا کی بخشی ہوئی نعمت کو یا تو اپنے فرضی دیویوں دیوتاؤں سے منسوب کرتا ہے یا اپنی تدبیر اور اپنی قابلیت و ذہانت کا ثمرہ قرار دیتا ہے اور اس طرح خود شریک خدا بن جاتا ہے۔
      ’قُلْ تَمَتَّعْ بِکُفْرِکَ قَلِیْلاً إِنَّکَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ‘۔ اوپر کی بات اگرچہ عام صیغے سے فرمائی گئی ہے لیکن مقصود مخاطب گروہ کی حالت ہی پر توجہ دلانا تھا اس وجہ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت ہوئی کہ ان سے کہہ دو کہ اپنی اس ناشکری اور اپنے اس کفر کے باوجود اللہ کی نعمتوں سے کچھ دن بہرہ مند ہو لو، بالآخر تو تم جہنم کے ایندھن بننے والے ہی ہو، وہ ساری کسر پوری کر دے گی۔

       

      جاوید احمد غامدی انسان (کا معاملہ بھی عجیب ہے کہ اُس) کو جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو کر اُس کو پکارتا ہے۔ پھر جب اُس کا پروردگار اپنی طرف سے اُس کو فضل عطا فرماتا ہے تو پہلے جس چیز کے لیے پکار رہا تھا،اُس کو بھول جاتا ہے اور اللہ کے شریک ٹھیرانے لگتا ہے کہ اُس کی راہ سے لوگوں کو گمراہ کرے۔ اِس سے کہو، (اے پیغمبر)کہ تھوڑے دن اپنے اِس کفر کے ساتھ بہرہ مند ہو لو، اِس میں شبہ نہیں کہ بالآخر تم دوزخ والوں میں ہو گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ یہاں قریش کے ائمۂ کفر کا معاملہ زیر بحث ہے جو خدا کی راہ سے خود بھی برگشتہ تھے اور دوسروں کو بھی اُس سے برگشتہ کرتے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا وہ جو عاجزانہ شب کے اوقات میں اپنے رب کے آگے سجود و قیام میں، آخرت سے اندیشہ ناک اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے (اور دوسرے جو ان صفات سے عاری ہیں یکساں ہو جائیں گے؟) پوچھو، کیا علم و بصیرت رکھنے والے اور وہ جو علم و بصیرت نہیں رکھتے دونوں برابر ہوں گے؟ یاددہانی تو اہل عقل ہی حاصل کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عربیت کا ایک اسلوب: یہ وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہو چکی ہے کہ اس قسم کے سوالیہ جملوں میں کلام کا ایک جزو محذوف ہوتا ہے جو متکلم کے زور بیان سے واضح ہو جاتا ہے۔ آگے آیت ۲۲ میں بھی اس کی مثال آ رہی ہے۔ یہ اسلوب متکلم کی شدت یقین پر بھی دلیل ہوتا ہے اور اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس سوال کے جواب میں مخاطب کے لیے کسی اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔ مزید برآں بات کا ایک حصہ بغیر اظہار کے ظاہر ہو جاتا ہے۔
      اس استفہام کو کھولیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ کیا جو شخص پوری نیاز مندی اور فروتنی کے ساتھ، شب کے اوقات میں، اپنے رب کے آگے کبھی سجدہ میں ہے کبھی قیام میں، وہ آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے اور وہ شخص جو اپنے غرور میں مست ہے، نہ اس کو آخرت کا کوئی اندیشہ ہے نہ خدا کی کسی رحمت کی کوئی پروا ہے، دونوں یکساں ہو جائیں گے۔
      شفاعت باطل کا عقیدہ حق و باطل دونوں کو یکساں کر دیتا ہے: اس سوال سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ یہ دونوں خدا کے نزدیک یکساں نہیں ہو سکتے اور یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے کہ اس سے مخاطب کے لیے بھی انکار کی گنجائش نہیں تھی لیکن اس کے باوجود نادانوں نے شرک و شفاعت کا عقیدہ ایجاد کر کے دونوں کو بالکل یکساں کر دیا تھا۔ اس لیے کہ جب نجات کا انحصار ایمان و عمل کے بجائے دیویوں دیوتاؤں کی سفارش پر ہوا تو نہ خدا کے عدل کا کوئی اندیشہ باقی رہا نہ ایمان و عمل صالح کی کوئی ضرورت رہی۔
      آیت کے اسلوب اور اس کے موقع و محل کو سمجھ لینے کے بعد اب اس کے اجزاء پر نگاہ ڈالیے۔
      ’قنوت‘ کا اصل مفہوم اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع، فروتنی اور نیاز مندی ہے۔ یہ ایک قلبی حالت ہے جس کا بہترین اظہار نماز بالخصوص شب کی نمازوں سے ہوتا ہے۔ ’اٰنَآءَ الَّیْْلِ‘ کی قید خاص طور پر اس وجہ سے لگائی ہے کہ شب کی نماز ریا کے شائبہ سے پاک ہوتی ہے اس وجہ سے جو لوگ اس کا اہتمام کرتے ہیں اللہ کے لیے ان کی نیاز مندی شبہ سے بالاتر ہے۔
      ’سَاجِدًا وَقَائِمًا‘ ان کی نماز کی تصویر ہے کہ کبھی سجدے میں پڑے ہوئے ہیں، کبھی حالت قیام میں ہیں۔ اس سے ان کی بے چینی کا اظہار ہو رہا ہے جب دوسرے اپنے نرم بستروں میں پڑے ہوئے غافل سو رہے ہوتے ہیں وہ اپنے رب کی رضا کی طلب میں سجود و قیام میں ہوتے ہیں۔
      ’یَحْذَرُ الْآخِرَۃَ وَیَرْجُو رَحْمَۃَ رَبِّہٖ‘۔ یہ ان کی نماز کے باطن کا بیان ہے کہ آخرت کے خوف اور اس کی رحمت کی امید نے ان کے اندر یہ بے قراری پیدا کی ہے کہ وہ اپنے بستروں سے الگ ہو کر کبھی سجدے میں ہیں کبھی قیام میں۔
      خدا کے ساتھ بندے کے تعلق کے متوازن ہونے کی شرط: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خدا کے ساتھ بندے کا تعلق متوازن اسی وقت تک رہتا ہے جب تک وہ خوف اور رجا دونوں کے بین بین رہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک کا بھی زیادہ غلبہ ہو جائے تو توازن بگڑ جاتا ہے۔ اگر رجائیت غالب ہو جائے تو خدا کے عدل سے انسان بے پروا ہو جاتا ہے جس سے مرجیئت بلکہ اباحیت کے دروازے آدمی اپنے لیے کھول لیتا ہے۔ اگر خوف کا غلبہ ہو جائے تو اس سے اس کے اندر مایوسی اور قنوطیت راہ پاتی ہے اور یہ چیز بھی فتنے پیدا کرتی ہے۔ سابق ادیان کے پیروؤں میں اس عدم توازن سے جو خرابیاں پیدا ہوئیں ان کی تفصیل بہت طویل ہے۔ قرآن نے اس کی طرف اشارات کیے ہیں اور ہم ان کی طرف توجہ دلاتے آ رہے ہیں۔
      قرآن کے نزدیک حقیقی اہل علم: ’ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُونَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ‘۔ اس سے اس محذوف پر روشنی پڑ رہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ یعنی یہ کس طرح ممکن ہے کہ اہل علم اور غیر اہل علم دونوں اللہ کے نزدیک یکساں ہو جائیں؟ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ قرآن کے نزدیک اہل علم وہی ہیں جن کی تعریف ’أَمَّنْ ہُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْْلِ سَاجِداً وَقَاءِماً یَحْذَرُ الْآخِرَۃَ وَیَرْجُو رَحْمَۃَ رَبِّہٖ‘ کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے۔ جن کے اندر یہ صفت موجود نہیں ہے۔ وہ قرآن کے نزدیک علم سے عاری ہیں اگرچہ وہ چاند اور مریخ تک سفر کر آئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کی رہنمائی کے لیے اصلی علم یہ ہے کہ انسان کو یہ پتا ہو کہ یہ دنیا کہاں سے آئی ہے، کہاں منتہی ہو گی، اس کے خالق کی صفات کیا ہیں اور اس کے ساتھ انسان کے تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ اگر اس علم کی کلید اس کے ہاتھ آ گئی تو وہ اپنی زندگی کا مقصد و منتہا سمجھ جائے گا۔ اور اگر یہ علم حاصل نہ ہو سکا تو وہ اندھیرے میں ہے اگرچہ وہ آسمان و زمین کا طول و عرض ناپ ڈالے۔
      ’اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ‘۔ یعنی یہ حقائق ہیں تو بالکل واضح لیکن بات کو تسلیم کرنے کے لیے صرف اس کا واضح ہونا کافی نہیں ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ مخاطب عقل والے ہوں اور ان حقائق کو سننے اور سمجھنے کے لیے اپنی عقل استعمال بھی کریں۔ جن لوگوں کے اندر نہ علم ہے نہ عقل وہ لوگ واضح سے واضح بات سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتے۔ اس میں ضمناً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تسلی بھی دے دی گئی کہ اگر یہ لوگ قرآن کی ان یاددہانیوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں تو اس میں قصور نہ تمہارا ہے نہ قرآن کا، بلکہ یہ لوگ خود ہی بالکل بلید اور کَودن ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (لوگو)، کیا وہ جو رات کی گھڑیوں میں (اپنے پروردگار کے آگے) کبھی سجدے اور کبھی قیام میں عاجزی کرنے والے ہیں، آخرت سے اندیشہ ناک اور اپنے پروردگار کی رحمت کے امیدوار ہیں (اور جو اپنے شریکوں کے سہارے پر اُس کو بھلائے ہوئے ہیں، برابر ہو جائیں گے)؟اِن سے پوچھو، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ (اِن سب باتوں سے) یاددہانی تو عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُس وقت، جب کوئی نہیں دیکھتا اور بندے کی عبادت ریا کے ہر شائبے سے پاک ہوتی ہے۔
      یہ اُن کی نماز کے باطن کا بیان ہے جو نرم بستروں سے اٹھا کر اُنھیں خدا کے حضور میں کھڑا کر دیتا ہے۔
      جملے کا یہ حصہ اصل میں محذوف ہے جو متکلم کے زور بیان سے واضح ہو رہا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ اسلوب متکلم کی شدت یقین پر بھی دلیل ہوتا ہے اور اِس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اِس سوال کے جواب میں مخاطب کے لیے کسی اختلاف کی گنجایش نہیں ہے۔ مزید برآں بات کا ایک حصہ بغیر اظہار کے ظاہرہوجاتا ہے۔‘‘ (تدبرقرآن۶/ ۵۷۰)

      اِس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ قرآن کے نزدیک اہل علم وہی ہیں جن کے اوصاف اوپر بیان ہوئے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...جن کے اندر یہ صفت موجود نہیں ہے، وہ قرآن کے نزدیک علم سے عاری ہیں، اگرچہ وہ چاند اور مریخ تک سفر کر آئیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کی رہنمائی کے لیے اصلی علم یہ ہے کہ انسان کو یہ پتا ہو کہ یہ دنیا کہاں سے آئی ہے، کہاں منتہی ہو گی، اِس کے خالق کی صفات کیا ہیں اور اُس کے ساتھ انسان کے تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ اگر اِس علم کی کلید اُس کے ہاتھ آ گئی تو وہ اپنی زندگی کا مقصد و منتہا سمجھ جائے گا۔ اور اگر یہ علم حاصل نہ ہو سکا تو وہ اندھیرے میں ہے، اگرچہ وہ آسمان و زمین کا طول و عرض ناپ ڈالے۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۵۷۲)

      یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ یہ نہیں مان رہے تو اِس میں آپ کا یا قرآن کا کوئی قصور نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ ہی علم و عقل سے عاری ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی کہہ دو کہ اے میرے بندو، جو ایمان لائے ہو، تم اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ جو لوگ اس دنیا میں نیکی کریں گے ان کے لیے آخرت میں نیک صلہ ہے۔ اور اللہ کی زمین کشادہ ہے۔ جو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے، ان کو ان کا صلہ بے حساب پورا کیا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مظلوم مسلمانوں کے لیے پیام تسلی: قریش کے رویہ سے مایوسی کے اظہار کے بعد یہ ان غریب مسلمانوں کو تسلی دی جو قریش کے ہاتھوں ستائے جا رہے تھے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی کہ میرے ان بندوں کو یہ بات پہنچا دو کہ تم اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ یعنی بے وقوف لوگوں نے تو شرک و شفاعت کی راہیں نکال کر خدا کے عدل اور اس کی جزاء و سزا کو بالکل بے معنی کر دیا ہے لیکن تم اپنے رب کے عدل سے برابر ڈرتے رہو۔ ان لوگوں کے لیے خدا کے ہاں اچھا صلہ ہے جو اس دنیا میں نیکی اور بھلائی کی زندگی بسر کریں گے۔ رہے وہ لوگ جو جھوٹی شفاعتوں کے بل پر جنت الحمقاء میں زندگی گزار رہے ہیں وہ اپنی اس حماقت کا انجام دیکھ لیں گے۔
      ’وَأَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ‘۔ یعنی اس راہ میں جو مصائب و شدائد تمہارے دشمنوں کی طرف سے پیش آ رہے ہیں یا آئندہ آئیں ان کو عزم و ہمت کے ساتھ برداشت کرو۔ اگر دیکھو کہ تمہارے وطن کی زمین تمہارے اوپر تنگ کر دی گئی ہے جب بھی بددل و مایوس نہ ہونا، خدا کی زمین بڑی وسیع ہے۔ اگر اس شہر میں تمہارے لیے اللہ کے دین پر قائم رہنا ناممکن بنا دیا گیا تو اللہ تمہاری رہنمائی کسی اور سرزمین کی طرف فرمائے گا جہاں تم بے خوف و خطر اپنے رب کی عبادت کر سکو گے۔
      اس آیت سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ سورہ کشمکش حق و باطل کے اس دور میں نازل ہوئی ہے جب مکہ کی سرزمین مسلمانوں پر تنگ ہو رہی تھی اور مسلمان اپنے مستقبل کے مسئلہ پر سوچنے لگ گئے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ اطمینان دلایا کہ اگر اس شہر کے باشندوں نے تمہیں نکالا تو اطمینان رکھو کہ کوئی اور سرزمین تمہارا خیر مقدم کرے گی۔ بعینہٖ یہی مضمون، اسی سیاق و سباق کے ساتھ، سورۂ عنکبوت میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے:

      یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِیْ وَاسِعَۃٌ فَإِیَّایَ فَاعْبُدُوۡنِ (العنکبوت : ۵۶)
      ’’اے میرے بندو، جو ایمان لائے ہو، میری زمین بڑی کشادہ ہے تو میری ہی بندگی پر جمے رہو۔‘‘

      ’اِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُوۡنَ أَجْرَہُم بِغَیْْرِ حِسَابٍ‘۔ یعنی یہ راہ ہے تو بڑی سخت آزمائشوں کی لیکن اطمینان رکھو کہ میرے جو بندے ان آزمائشوں میں ثابت قدم رہیں گے ان کو اس کا صلہ بھی ان کی توقعات اور ان کے اندازوں اور قیاسوں سے کہیں بڑھ چڑھ کر ملے گا۔ آج وہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

       

      جاوید احمد غامدی (اِنھیں اب اِن کے حال پر چھوڑو، اے پیغمبر، اور میرے بندوں سے) کہہ دو کہ میرے بندو جو ایمان لائے ہو، تم اپنے رب سے ڈرتے رہو (اور یاد رکھو کہ) جو لوگ اِس دنیا میں بھلائی اختیار کریں گے، اُن کے لیے (آخرت میں) بھلائی ہے۔ (تمھارے وطن کی زمین اگرتمھارے لیے تنگ کر دی گئی ہے تو مایوس نہ ہو)، خدا کی زمین وسیع ہے، (وہ اُس کی راہیں تمھارے لیے کھول دے گا اور اُس کے) جو (بندے اِن آزمایشوں میں) ثابت قدم رہیں گے، اُنھی کے لیے اُن کا صلہ بے حساب پورا کیا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کہہ دو کہ مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں، اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مخالفوں سے بے تعلقی کا اعلان: مسلمانوں کو بشارت دینے کے بعد یہ مخالفوں سے بے نیازی و بے تعلقی کا اعلان ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت ہوئی کہ اب زیادہ ان کی نازبرداری کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کو واضح طور پر بتا دو کہ مجھے تو یہ حکم ملا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں؟ اس کی خالص اطاعت کے لیے اور یہ بھی حکم ملا ہے کہ میں پہلا اسلام لانے والا بنوں، قطع نظر اس سے کہ دوسرے کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ حکم قرآن میں جگہ جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے بلکہ نبوت کے روز اول ہی سے یہ حکم آپ کو مل چکا تھا۔ اس سورہ کے شروع میں بھی یہ نہایت واضح الفاظ میں مذکور ہے فرمایا ہے:

      ’إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَیْْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّہَ مُخْلِصاً لَّہُ الدِّیْنَ ۵ أَلَا لِلَّہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ‘ (۲-۳)
      (ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری ہے قول فیصل کے ساتھ تو اللہ ہی کی بندگی کرو اس کی بے آمیز اطاعت کے ساتھ، یاد رکھو کہ اطاعت خالص کا سزاوار اللہ ہی ہے)۔

      یہاں دونوں آیتوں میں دو حکم مذکور ہوئے ہیں۔ ایک اللہ ہی کی عبادت کا دوسرا سب سے پہلا مسلم بننے کا۔ یعنی ایمان اور اسلام دونوں ہی باتوں کا مجھے حکم مل چکا ہے اور یہ ہدایت ہوئی ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں۔ اس وجہ سے میں نے تو اپنے رب کی اطاعت کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال لیا ہے؛ اب جس کا جی چاہے میرا ساتھ دے ورنہ اپنا انجام دیکھے۔ یہ امر واضح رہے کہ نبی کے عین فریضۂ منصبی کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ وہ جس ایمان و اسلام کی خلق کو دعوت دیتا ہے اس کو سب سے پہلا قبول کرنے والا وہ خود بنتا ہے اس وجہ سے اس کا درجہ ’اَوَّلَ الْمُؤُمِنِیْنَ‘ اور ’اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ‘ کا ہوتا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی کہہ دو کہ مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں، اپنی اطاعت کو اُسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مخالفوں سے بے تعلقی کا اعلان: مسلمانوں کو بشارت دینے کے بعد یہ مخالفوں سے بے نیازی و بے تعلقی کا اعلان ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت ہوئی کہ اب زیادہ ان کی نازبرداری کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کو واضح طور پر بتا دو کہ مجھے تو یہ حکم ملا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں؟ اس کی خالص اطاعت کے لیے اور یہ بھی حکم ملا ہے کہ میں پہلا اسلام لانے والا بنوں، قطع نظر اس سے کہ دوسرے کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ حکم قرآن میں جگہ جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے بلکہ نبوت کے روز اول ہی سے یہ حکم آپ کو مل چکا تھا۔ اس سورہ کے شروع میں بھی یہ نہایت واضح الفاظ میں مذکور ہے فرمایا ہے:

      ’إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَیْْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّہَ مُخْلِصاً لَّہُ الدِّیْنَ ۵ أَلَا لِلَّہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ‘ (۲-۳)
      (ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری ہے قول فیصل کے ساتھ تو اللہ ہی کی بندگی کرو اس کی بے آمیز اطاعت کے ساتھ، یاد رکھو کہ اطاعت خالص کا سزاوار اللہ ہی ہے)۔

      یہاں دونوں آیتوں میں دو حکم مذکور ہوئے ہیں۔ ایک اللہ ہی کی عبادت کا دوسرا سب سے پہلا مسلم بننے کا۔ یعنی ایمان اور اسلام دونوں ہی باتوں کا مجھے حکم مل چکا ہے اور یہ ہدایت ہوئی ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں۔ اس وجہ سے میں نے تو اپنے رب کی اطاعت کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال لیا ہے؛ اب جس کا جی چاہے میرا ساتھ دے ورنہ اپنا انجام دیکھے۔ یہ امر واضح رہے کہ نبی کے عین فریضۂ منصبی کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ وہ جس ایمان و اسلام کی خلق کو دعوت دیتا ہے اس کو سب سے پہلا قبول کرنے والا وہ خود بنتا ہے اس وجہ سے اس کا درجہ ’اَوَّلَ الْمُؤُمِنِیْنَ‘ اور ’اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ‘ کا ہوتا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اور حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جس چیز کی دعوت دوسروں کو دیتا ہوں، سب سے پہلے خود اُس کو قبول کروں۔

    • امین احسن اصلاحی کہہ دو کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی ان کو بتا دو کہ مجھے تو جو حکم مل چکا ہے میں اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔ اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے سخت دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ یہی حکم میرے واسطہ سے تمہیں بھی ملا ہے اور میں نے وہ تم کو پہنچا دیا ہے۔ اگر تم اپنے رب کی نافرمانی اور قیامت کے عذاب سے بے پروا ہو تو جو چاہو کرو۔ میں نہ تمہارا ہاتھ پکڑ سکتا اور نہ تمہارے ایمان کا ذمہ دار ہوں۔

      جاوید احمد غامدی کہہ دو کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے ہول ناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کہہ دو کہ میں تو اللہ ہی کی بندگی کرتا ہوں، اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اعلان براءت: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نہایت واضح الفاظ میں اعلان براءت و بے تعلقی ہے کہ میں تو اس حکم کے مطابق جو مجھے میرے رب کی طرف سے ملا ہے اپنے رب ہی کی بندگی اور اسی کی بلاشرکت غیرے اطاعت کرتا ہوں اور اسی کی دعوت تم کو بھی دے رہا ہوں۔ اگر تم میری یہ بات نہیں مانتے تو تم خدا کے سوا جس کی چاہو بندگی کرو۔ میں تمہارے اس فعل سے بری ہوں۔ فرمایا کہ ان کو اس حقیقت سے بھی آگاہ کر دو کہ اصلی خسارے میں وہی لوگ ہوں گے جنھوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن کے خسارے میں مبتلا کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اور جتنے بھی خسارے ہیں وہ سب آنی اور وقتی ہیں اور ان کی تلافی ممکن ہے لیکن قیامت کے دن کا خسارہ ابدی اور دائمی ہے اس وجہ سے بدقسمت ہیں وہ جو اس دنیا کے چند روزہ عیش کے پیچھے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی آخرت برباد کر رہے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی کہہ دو کہ میں تو اب اللہ ہی کی بندگی کرتا ہوں، اپنی اطاعت کو اُسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی سو تم اس کے سوا جس کی چاہو بندگی کرو۔ کہہ دو کہ حقیقی خسارے میں پڑنے والے وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں ڈالا۔ یاد رکھو کہ کھلا ہوا خسارہ وہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اعلان براءت: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نہایت واضح الفاظ میں اعلان براءت و بے تعلقی ہے کہ میں تو اس حکم کے مطابق جو مجھے میرے رب کی طرف سے ملا ہے اپنے رب ہی کی بندگی اور اسی کی بلاشرکت غیرے اطاعت کرتا ہوں اور اسی کی دعوت تم کو بھی دے رہا ہوں۔ اگر تم میری یہ بات نہیں مانتے تو تم خدا کے سوا جس کی چاہو بندگی کرو۔ میں تمہارے اس فعل سے بری ہوں۔ فرمایا کہ ان کو اس حقیقت سے بھی آگاہ کر دو کہ اصلی خسارے میں وہی لوگ ہوں گے جنھوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن کے خسارے میں مبتلا کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اور جتنے بھی خسارے ہیں وہ سب آنی اور وقتی ہیں اور ان کی تلافی ممکن ہے لیکن قیامت کے دن کا خسارہ ابدی اور دائمی ہے اس وجہ سے بدقسمت ہیں وہ جو اس دنیا کے چند روزہ عیش کے پیچھے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی آخرت برباد کر رہے ہیں۔
      ہر شخص پر اس کے اہل و عیال کی بھی مسؤلیت ہے: ’اَنفُسَہُمْ‘ کے ساتھ ’اَہْلِیْہِمْ‘ کے اضافہ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ ہر شخص پر اس کے اپنے نفس کے ساتھ اس کے اہل و عیال کی مسؤلیت بھی ہے۔ ’کُلُّکُمْ رَاعٍ وَّکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ‘ والی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حقیقت واضح فرما دی ہے۔ اس مسؤلیت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص نہ صرف اپنی نجات کی فکر کرے بلکہ اپنے اہل و عیال کی نجات کی بھی فکر کرے۔ اگر کسی شخص نے اپنے غلط طرز عمل سے اپنے اہل و عیال کے لیے غلط مثال چھوڑی یا اپنے زور و اثر سے ان کو غلط راہ پر ڈالا تو اس نے صرف اپنی ہی تباہی کا سامان نہیں کیا بلکہ ان کو بھی ایک ابدی ہلاکت میں ڈالا۔
      اصلی خسارہ آخرت کا خسارہ ہے: ’اَلَا ذَلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ‘۔ یعنی اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ کھلا ہوا خسارہ وہی ہے جس سے آخرت میں سابقہ پیش آئے گا۔ مطلب یہ ہے کہ تم آج اس دعوت حق سے بدک رہے ہو کہ اس کے قبول کرنے کے بعد تمہیں بہت سے مفادات دنیوی سے دست کش ہونا پڑے گا۔ حالانکہ یہ کوئی خسارہ نہیں ہے بلکہ اصلی خسارہ وہ ہے جس کا نتیجہ ابدی محرومی ہے۔
      لائق قبول عبادت وہی ہے جس کے ساتھ مخلصانہ اطاعت بھی ہو: ’مُخْلِصاً لَّہُ دِیْنِیْ‘ میں جو حقیقت بیان ہوئی ہے اس کی وضاحت ہم پیچھے کر آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول عبادت وہی ہے جس کے ساتھ اس کی خالص اطاعت بھی ہو۔ اگر عبادت اللہ کی ہو اور اطاعت اللہ کے احکام کے خلاف، دوسروں کی تو اس عبادت کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی قیمت نہیں ہے۔ اسی طرح اطاعت میں بھی اخلاص ضروری ہے۔ اگر اللہ کی اطاعت محض دکھاوے، نمائش، کسی غرض دنیوی کے لیے کی جائے تو اس قسم کی منافقانہ اطاعت بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں درخوراعتنا نہیں ہے۔
      یہاں ایک بات قراءت سے متعلق بھی قابل گزارش ہے۔ وہ یہ کہ لفظ ’دِیْنِیْ‘ کی قراءت اسی طرح کرنی چاہیے جس طرح ’لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ‘ میں کی جاتی ہے اس لیے کہ یہ امر ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آیات پر وقف فرماتے تھے۔ سیبویہ کی یہ رائے ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے کہ اس قسم کا حذف صرف شعر کے ساتھ مخصوص ہے۔ قرآن میں اس قسم کے حذف کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔

      جاوید احمد غامدی رہے تم تو اُس کے سوا جس کی بندگی چاہو، کرو، (میں اُس سے بری ہوں)۔ کہہ دو کہ خسارے میں تو درحقیقت وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں ڈال دیا۔ سنو، یہی کھلا ہوا خسارہ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ان کے لیے ان کے اوپر سے بھی آگ کے پردے ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی۔ یہ چیز ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے۔ اے میرے بندو، پس مجھ سے ڈرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ظُلَلٌ‘ جمع ہے ’ظُلّۃ‘ کی۔ اس کے اصل معنی ’غَاشِیَۃ‘ یعنی ڈھانک لینے والی چیز کے ہیں۔ یہ انجام بیان ہوا ہے ان ’خَاسِرِیْنَ‘ کا جن کا اوپر والی آیت میں ذکر ہوا۔ فرمایا کہ ان کے لیے آگ ہی کا اوڑھنا اور اسی کا بچھونا ہو گا۔ اوپر سے بھی ان کو آگ تہ بہ تہ ڈھانک لے گی اور نیچے سے بھی۔ فرمایا کہ یہ چیز ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے۔ یعنی یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے جو ہنسی مسخری میں ٹالی جا سکے۔ اس کے بعد نہایت پرسوز انداز میں فرمایا کہ میرے بندو، یہ بڑی ہی سخت چیز ہے تو میرے اس عذاب سے بچو!

      جاوید احمد غامدی اُن کے لیے اُن کے اوپر سے بھی آگ کے سائبان ہوں گے اور اُن کے نیچے سے بھی۔ یہی چیز ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ میرے بندو، اِس لیے مجھ سے ڈرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت میں ملوث ہونے سے احتراز کیا اور اللہ کی طرف متوجہ رہے، ان کے لیے خوش خبری ہے تو میرے ان بندوں کو خوش خبری پہنچا دو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’طَاغُوْتَ‘ کی تحقیق بقرہ: ۲۵۶ اور نساء: ۵۱ کے تحت بیان ہو چکی۔ یہ غیر اللہ کی تعبیر کے لیے ایک جامع لفظ ہے، خواہ اصنام و الہٰہ ہوں یا جنات و شیاطین اور اللہ کی بندگی و اطاعت سے برگشتہ کرنے والے لیڈر۔
      فلاح پانے والوں کی صفات اور ان کو بشارت: یہ ’خَاسِرِیْنَ‘ کے مقابل میں ’مُفْلِحِیْن‘ کا ذکر ہے۔ ان کو ابدی فوز و فلاح کی بشارت بھی دی گئی اور ان کی ان صفات کی تحسین بھی فرمائی گئی ہے جن کی بدولت وہ اس بشارت کے اہل ٹھہرے۔ فرمایا کہ ہمارے جو بندے غیر اللہ کی پرستش سے بچتے ہیں اور وہ پورے اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف جھک پڑے ان کے لیے بشارت ہے تو تم میرے ان بندوں کو ابدی فوز و فلاح کی خوش خبری دے دو۔

      جاوید احمد غامدی اِس کے برخلاف جو شیطان سے بچے کہ اُس کی بندگی کریں اور اللہ کی طرف متوجہ رہے، اُن کے لیے خوش خبری ہے۔ سو میرے اِن بندوں کو خوش خبری دو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’الطَّاغُوْت‘ آیا ہے۔ اپنے مصداق کے لحاظ سے یہ واحد، جمع، مذکر، مونث، سب کے لیے آجاتا ہے اور اِس کے لیے ضمیریں بھی اِسی رعایت سے استعمال ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ یہاں مونث کی ضمیر ہے، جبکہ سورۂ نساء (۴) کی آیت ۶۰ میں ضمیر مذکر استعمال ہوئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جو بات کو توجہ سے سنتے اور اس میں سے اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوۡنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوۡنَ أَحْسَنَہٗ ..... الاٰیۃ‘۔ یہ ان کی اس سلیم الطبعی کا بیان ہے جس کی بدولت وہ خدا کی ہدایت اور اس کی بشارت کے مستحق ٹھہرے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کا حال یہ نہیں رہا ہے کہ جب کوئی بات ان کے سامنے پیش کی جائے تو اس کو سننے اور سمجھنے سے پہلے ہی کہنے والے سے لڑنے اور اس کا منہ نوچ لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں بلکہ یہ بات کو توجہ سے سنتے اور ہر اچھی بات کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ ’اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَاہُمُ اللّٰہُ‘ ان کی اس سلیم الطبعی اور حق پسندی کا صلہ ان کو یہ ملا کہ قرآن کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے خلق کے لیے جو ہدایت اتاری اس کی انھوں نے قدر کی اور اللہ نے اس ہدایت سے ان کو بہرہ مند کیا۔
      ’وَأُولٰٓئِکَ ہُمْ أُولُوا الْأَلْبَابِ‘۔ فرمایا کہ یہی لوگ عاقل ہیں اور عاقل ہی خدا کی یاددہانی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ وہی بات ہے جو اوپر آیت ۹ میں گزر چکی ہے:

      ’إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ‘
      (یاددہانی تو صرف اہل عقل حاصل کرتے ہیں)

      اور یہی بات سورۂ صٓ میں یوں بیان ہوئی ہے:

      ’کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ إِلَیْْکَ مُبَارَکٌ لِّیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُوا الْأَلْبَابِ‘ (۲۹)
      (یہ ایک مبارک کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں اور اہل عقل اس سے یاددہانی حاصل کریں)۔

       

      جاوید احمد غامدی یہ جو بات کو توجہ سے سنتے، پھر اُس کے بہتر کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کیا جس پر عذاب کا قانون پورا ہو چکا (اور وہ دوزخ میں ہے) تو تم اس کو نجات دینے والے بنو گے جو دوزخ میں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ان کا بیان جو خدا کے قانون کی زد میں آ چکے: یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی کہ جن کو خدا کی ہدایت نصیب ہوتی ہے ان کی صفات وہ ہیں جو اوپر بیان ہوئیں۔ رہے وہ لوگ جو خدا کے قانون عذاب کی زد میں آ چکے ہیں وہ گویا جہنم میں پڑ چکے تو کیا تم ان لوگوں کو دوزخ سے نجات دینا چاہتے ہو جو عذاب میں گرفتار ہو چکے۔ ’کَلِمَۃُ الْعَذَابِ‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ کلی فیصلہ ہے جو اس نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں فرما دیا تھا کہ جو لوگ تیری پیروی کریں گے، خواہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے، تیرے سمیت میں ان کو جہنم میں بھر دوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کلی فیصلہ صادر ہو چکا ہے اور یہ بالکل قطعی اور اٹل ہے تو جو لوگ اس کی زد میں آ چکے وہ تو اب لازماً دوزخی ہیں۔ ان کا نجات دینے والا کون بن سکتا ہے!

      جاوید احمد غامدی پھر کیا جس پر عذاب کی بات پوری ہو چکی (اور جس کا ٹھکانا اب دوزخ ہی ہے) تو کیا تم اُس کو بچاؤ گے جو دوزخ میں پڑا ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اپنے کرتوتوں کی پاداش میں جو عذاب کا مستحق ہو چکا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی البتہ جو اپنے رب سے ڈرے ان کے لیے بالاخانے اور بالاخانوں کے اوپر بھی آراستہ بالاخانے ہوں گے۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ اللہ کا حتمی وعدہ ہے۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’لٰکِنْ‘ یہاں استدراک کے لیے ہے اس وجہ سے اس کا موزوں ترجمہ ’البتہ‘ ہو گا۔
      ’مَبْنِیَّۃٌ‘ یہاں آراستہ و پیراستہ (FURNISHED) کے مفہوم میں ہے۔ عربی میں ’بنی الدار‘ جس طرح مکان بنانے کے مفہوم میں آتا ہے اسی طرح مکان آراستہ کرنے کے مفہوم میں بھی آتا ہے، مفسرین نے اس معنی کی طرف توجہ نہیں کی ہے، لیکن قرآن اور کلام عرب میں اس کے شواہد موجود ہیں۔ آگے کسی موزوں مقام پر اس کی تحقیق آئے گی۔
      ’وَعْدَ اللّٰہِ‘ فعل محذوف سے منصوب اور اس کی تاکید کے لیے ہے۔
      اوپر کفار کے لیے جو عذاب ’لَہُمْ مِّن فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ اس کے مقابل میں یہ ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اپنے رب سے ڈرتے اور شرک سے بچتے رہے۔ فرمایا کہ ان کے لیے آراستہ بالاخانے ہوں گے اور ان بالاخانوں کے اوپر بھی آراستہ بالاخانے ہوں گے۔ ان بالاخانوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ اللہ کا حتمی وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔

      جاوید احمد غامدی البتہ جو اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے، اُن کے لیے بالاخانے اور بالاخانوں کے اوپر بھی آراستہ بالاخانے ہیں۔ اُن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ یہ اللہ کا حتمی وعدہ ہے۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہ کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’مَبْنِیَّۃ‘استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں ’بنی الدار‘ جس طرح مکان بنانے کے مفہوم میں آتا ہے، اُسی طرح مکان آراستہ کرنے کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ یہ اُسی سے اسم مفعول ہے۔

    Join our Mailing List