Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 88 آیات ) Sad Sad
Go
  • ص (The Letter Sad)

    88 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس گروپ کی پچھلی سورتوں کی طرح اس سورہ کی بنیاد بھی توحید پر ہے۔ اس میں یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ قرآن قریش کے لیے ایک عظیم یاددہانی ہے لیکن یہ محض اپنے کبر و غرور اور شرک پرستی کے جوش و جنون میں اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور اس انجام سے بالکل بے پروا ہیں جس سے قرآن ان کو آگاہ کر رہا ہے۔ یہ اس انجام کو دیکھ کر اس پر ایمان لائیں گے لیکن اس وقت کا ایمان بالکل بے سود ہو گا۔

  • ص (The Letter Sad)

    88 آیات | مکی

    الصافات ۔ ص

    ۳۷ ۔ ۳۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع منکرین توحید کو تہدید و وعید ہے۔پہلی سورہ میں ، البتہ انکار اور دوسری میں استکبار پر تنبیہ کی گئی ہے جو مخاطبین کے انکار کا اصلی سبب ہے۔ اِس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو اِن مستکبرین کے مقابل میں صبر و استقامت کی تلقین کا مضمون بھی دوسری سورہ میں نمایاں ہے۔ چنانچہ انبیا علیہم السلام کی جو سرگذشتیں اِس سورہ میں سنائی گئی ہیں، اُن میں یہ دونوں چیزیں ملحوظ ہیں۔
    اِن سورتوں میں خطاب اصلاً قریش ہی سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ سورۂ صٓ ہے۔ قسم ہے یاددہانی سے معمور قرآن کی (کہ اس کی ہر بات حق ہے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’صٓ‘ حروف مقطعات میں سے ہے۔ یہ اس سورہ کا قرآنی نام ہے۔ ان حُرف پر جامع بحث بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ محض تکلف ہے۔
      قرآن کے ’ذکر‘ سے موسوم ہونے کے بعض پہلو: ’وَالْقُرْآنِ ذِی الذِّکْرِ‘۔ جس طرح قرآن کی قسم سورۂ یٰسٓ میں ’حکیم‘ کی صفت کے ساتھ وارد ہوئی ہے اسی طرح یہاں ’ذِی الذِّکْرِ‘ کی صفت کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ ’ذکر‘ کا اصل مفہوم یاددہانی کرنا ہے۔ قرآن سرتاسر یاددہانی ہے۔ اس وجہ سے اس کا نام بھی جگہ جگہ ’ذکر‘ آیا ہے۔ آگے آیت ۸ میں اس کا یہی نام آیا ہے۔ اس کے اس نام اور اس صفت سے موسوم و موصوف ہونے کے کئی پہلو ہیں:
      ۔۔۔ یہ ان تمام حقائق کی یاددہانی کرتا ہے جو انسان کی فطرت کے اندر ودیعت ہیں لیکن انسان ان کو بھولا ہوا ہے۔
      ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے خلق کے لیے جو ہدایت نازل فرمائی اور جس کو لوگ بھلا بیٹھے تھے، یہ اس کی بھی یاددہانی کرتا ہے۔
      ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نقمت کے ظہور کے جو بڑے بڑے واقعات اس دنیا میں پیش آئے، اس کے اندر ان کی بھی یاددہانی ہے۔
      ۔۔۔ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو جس انجام سے دوچار ہونا پڑا، یہ ان سے بھی باخبر کرتا ہے۔
      ۔۔۔ اس دنیا کی زندگی کے بعد جس مرحلۂ حساب و کتاب اور جزاء و سزا سے لوگوں کو سابقہ پیش آنا ہے، یہ اس کو بھی یاد دلاتا ہے۔
      یہ سارے پہلو اس کی صفت ’ذِی الذِّکْرِ‘ کے اندر موجود ہیں۔ آگے اسی سورہ کی آیات ۸-۱۷، ۴۶-۴۹ اور ۸۶ کے تحت ان کی وضاحت آ رہی ہے۔
      مُقسَم علیہ قسم کے اندر مضمر ہے: اس قَسم کا مُقسَم علیہ یہاں الفاظ میں مذکور نہیں ہے بلکہ وہ قسم کے اندر ہی مضمر ہے۔ یہ طریقہ ان مواقع میں اختیار کیا جاتا ہے جہاں قسم کی نوعیت ایسی ہو کہ مُقسَم علیہ ذکر کے بغیر اس سے واضح ہو رہا ہو۔ یہاں یہی صورت ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قرآن جن یاددہانیوں سے مملو ہے وہ اس بات پر شاہد ہیں کہ آج قریش کو جن باتوں کی تذکیر کی جا رہی ہے وہ بالکل ناقابل انکار ہیں۔ اگر وہ ان کو نہیں مان رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ قرآن کے اندر کسی ریب و شک کی گنجائش ہے بلکہ اس کا سبب محض ان کی انانیت اور مخاصمت ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورۂ ’صٓ‘ ہے۔ قرآن گواہی دیتا ہے ، سراسر یاددہانی (کہ اِن کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر دیا ہے۔
      قرآن فی الواقع سر تا سر یاددہانی ہے۔ یہ انسان کو وہ حقائق یاد دلاتا ہے جو اُس کی فطرت میں ودیعت ہیں اور جن کا علم وہ اپنے ساتھ لے کر دنیا میں آیا ہے؛ اُن حقائق پر متنبہ کرتا ہے جن کی منادی انبیا علیہم السلام کرتے رہے ہیں اور انسان اُنھیں بھلا بیٹھتا ہے؛ دنیا میں خدا کی دینونت کے ظہور کے واقعات یاددلاتا ہے اور سب سے بڑھ کر اُس روز حساب کی یاددہانی کرتا ہے جس سے مرنے کے بعد سابقہ پیش آنے والا ہے۔
      قرآن کی گواہی یہاں قسم کے اسلوب میں پیش کی گئی ہے ۔ چنانچہ یہ مقسم علیہ ہے جو الفاظ میں مذکور نہیں ہے، اِس لیے کہ ذکر کے بغیر ہی واضح ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بلکہ جن لوگوں نے اس کا انکار کیا وہی گھمنڈ اور مخاصمت میں مبتلا ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن کی مخالفت کی اصل علت: ’اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ سے مراد یہاں خاص طور پر قریش ہیں۔ فرمایا کہ ان کے انکار کی وجہ یہ نہیں ہے کہ قرآن کی تذکیر میں کوئی کسر ہے بلکہ یہ گھمنڈ اور مخاصمت میں مبتلا ہیں۔ ان کے اس گھمنڈ اور ضد کی وضاحت آگے کی آیات میں آ رہی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ خرابی قرآن میں نہیں بلکہ خود ان لوگوں کے اپنے اندر ہے۔ قرآن ہر پہلو سے نہایت مدلل، دلنشیں اور مؤثر یاددہانی کر رہا ہے لیکن جن لوگوں نے انانیت اور مخالفت کی روش اختیار کر رکھی ہو ان پر اس کی تذکیر کیا کارگر ہو سکتی ہے!

      جاوید احمد غامدی بلکہ یہ منکرین سخت تکبر اور ضدم ضدا میں مبتلا ہیں۔ (اِن کا خیال ہے کہ اِن کے لیے عذاب کہاں)! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی قریش مکہ جو سورہ کے مخاطبین ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قومیں ہلاک کر دیں تو انھوں نے اس وقت ہائے پکار کی جب کوئی مفر باقی نہیں رہا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ماضی کی قوموں کی طرف ایک اشارہ: یعنی ان کی انانیت پر یہ بات بہت شاق گزر رہی ہے کہ انھیں ڈرایا جا رہا ہے کہ اگر وہ قرآن کی تکذیب پر اڑے رہے تو خدا کے عذاب کی زد میں آ جائیں گے۔ حالانکہ تاریخ کی کتنی مثالیں ان کو سنائی جا چکی ہیں کہ جن قوموں نے ان کی طرح ضد کی ہم نے ان کو تباہ کر دیا۔ جب وہ خدا کی پکڑ میں آ گئیں تو انھوں نے بہت ہائے پکار اور توبہ و ایمان کی منادی کی۔ لیکن اس وقت ان کے لیے کوئی مفر باقی نہیں رہا تھا اس لیے کہ ظہور عذاب کے بعد توبہ اور ایمان کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔
      ’لَاتَ‘ اصل میں ’لَا‘ ہے البتہ اس کے ساتھ ’ت‘ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اسی طرح کا اضافہ ’ثم‘ اور ’ربّ‘ کے ساتھ بھی ہو جاتا ہے۔ البتہ اس صورت میں یہ وقت کی نفی کے لیے خاص ہو جاتا ہے جس طرح یہاں ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِن سے پہلے ہم نے کتنی ہی قومیں ہلاک کر دیں تو اُنھوں نے ہاے پکار کی (کہ اپنے آپ کو بچا لیں)، مگر وہ بچنے کا وقت نہیں تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ان لوگوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک آگاہ کرنے والا آیا۔ اور کافروں نے کہا یہ تو ساحر اور جھوٹا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مکذبین کا غرور: یعنی ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ انہی کے اندر کا ایک شخص ان کے لیے خدا کا منذر بن کر آیا۔ خدا کو کوئی منذر ہی بھیجنا ہوتا تو کسی مافوق بشر ہستی کو منذر بناتا، انہی جیسے ایک انسان کو منذر بنانے کے کیا معنی! اور اگر انسان ہی کو منذر بنانا تھا تو آخر خدا کی نظر ایک غریب آدمی پر کیوں پڑی، مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو اس مقصد کے لیے اس نے کیوں نہیں انتخاب کیا؟ گویا پیغمبر کی بشریت بھی ان کے لیے وجہ انکار بنی اور ان کی غربت و ناداری بھی۔ اس آیت میں پہلی وجہ انکار کی طرف اشارہ ہے، آگے آیت ۸ میں دوسری وجہ انکار کا ذکر آ رہا ہے اور یہ دونوں ہی باتیں غرور اور گھمنڈ میں داخل ہیں جس کا ذکر اوپر لفظ ’عزت‘ سے ہوا ہے۔
      قرآن سے عوام کو برگشتہ کرنے کے لیے قریش کے لیڈروں کا ایک اشغلا: ’وَقَالَ الْکَافِرُوۡنَ ہٰذَا سَاحِرٌ کَذَّابٌ‘۔ یعنی اپنے اس عُجب و استکبار کی بنا پر ان کافروں نے ہمارے پیغمبر کو ’ساحر‘ اور ’کذاب‘ قرار دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ساحر اور قرآن کو سحر کہنے کی وجہ اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ قریش کے لیے قرآن کی معجزانہ فصاحت و بلاغت سے تو انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی لیکن وہ اپنے عوام پر یہ اثر نہیں پڑنے دینا چاہتے تھے کہ وہ اس فصاحت و بلاغت سے مسحور ہو کر اس کو کلام الٰہی مان لیں۔ اس چیز سے لوگوں کو بچانے کے لیے وہ قرآن کو سحر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ساحر کہتے اور لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے کہ اس شخص کے کلام میں جو تاثیر و تسخیر ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ اس پر آسمان سے وحی آتی ہے بلکہ یہ کلام کا جادوگر ہے اس وجہ سے اس کی باتیں دلوں پر اثر کرتی ہیں۔ قرآن کو شعرا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر کہنے کی وجہ بھی یہی تھی۔
      ’کَذَّابٌ‘ کے معنی ہیں جھوٹا، لپاٹیا اور لاف زن۔ یہ لفظ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت کی تردید کے جوش میں کہتے۔ یعنی ہے تو یہ شخص کلام کا جادوگر لیکن عوام پر اپنی دھونس جمانے کے لیے دعویٰ یہ کرتا ہے کہ وہ جو کچھ لوگوں کو سنا رہا ہے وہ خدا کی طرف سے اس پر وحی ہوتا ہے اور وہ خدا کا منذر ہو کر آیا ہے۔ چونکہ ان کو اصل چڑ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت ہی سے تھی اس وجہ سے اس کی تردید میں وہ نہایت سخت تھے جس کا اظہار اس لفظ سے بھی ہو رہا ہے۔
      اس آیت کا اسلوب بیان شاہد ہے کہ اس میں ان محروم القسمت لوگوں کے حال پر اظہار حسرت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ان کی تنبیہ و تذکیر کے لیے ان کے اندر ایک منذر بھیجا، ان کے لیے ایک یاددہانی کرنے والی کتاب نازل فرمائی لیکن وہ غرور کے سبب سے اس بات پر تعجب کر رہے ہیں کہ انہی جیسا ایک بشر ان کے پاس انذار کے لیے آئے۔ اس رعونت میں ان کافروں نے اللہ کے رسول کو ساحر اور کذاب بنا ڈالا۔

      جاوید احمد غامدی اِنھیں تعجب ہے کہ اِن کے پاس ایک خبردار کرنے والا اِنھی میں سے آ گیا ہے اور اِن منکروں نے (اِسی بنا پر) کہہ دیا کہ یہ ساحر ہے، سخت جھوٹا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِنھی جیسا ایک انسان ہے اور اِنھیں خدا کی طرف سے خبردار کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اِس کے لیے تو خدا اگر بھیجتا تو کسی مافوق بشر ہستی کو بھیجتا۔ ہمارے جیسا ایک انسان اِس کام کے لیے کس طرح بھیجا جا سکتا ہے؟
      یعنی ہرگز کوئی پیغمبر نہیں ہے، بلکہ کلام کا جادوگر ہے اور اپنی جادوبیانی سے لوگوں کو مسحور کردیتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک کر دیا! یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہوئی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کا زہریلا پروپیگنڈا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت کے ساتھ دوسری چیز جس سے قریش کے لیڈروں کو سب سے زیادہ چڑ تھی وہ آپ کی دعوت توحید تھی۔ اس کی آڑ لے کر وہ اپنے عوام کو آپ کے خلاف خوب بھڑکاتے۔ چونکہ قبیلہ قبیلہ کے بت جدا جدا تھے اور قبیلہ اپنے بت کے ساتھ اندھی بہری عقیدت رکھتا تھا اس وجہ سے وہ قبائل کی عصبیت بھڑکانے کے لیے یہ زہریلا پروپیگنڈا کرتے کہ اس شخص نے تمام معبودوں کو ختم کر کے ایک معبود بنا ڈالا، اس سے زیادہ عجیب بات اور کیا ہو سکتی ہے! اس فقرے کے اندر غور کیجیے تو دو زہر چھپے ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس شخص نے اس معبود کے سوا، جس کو یہ خود معبود مانتا ہے۔ دوسرے تمام معبودوں کی خدائی ختم کر دی۔ دوسرا یہ کہ اس نے ایسی حرکت کی ہے جو ایک نہایت انوکھی حرکت ہے جس کی کوئی مثال ہم اپنے آباء و اجداد کی تاریخ میں نہیں پاتے۔ لفظ ’عُجَابٌ‘ کے اندر ’عجیب‘ کے مقابل میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہ پروپیگنڈا پوری قوم عرب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشتعل کر دینے کے لیے کافی تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے اپنے پیغمبرؐ کو محفوظ رکھا۔

      جاوید احمد غامدی کیا اِس نے اتنے خداؤں کو ایک خدا بنا دیا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ بات وہ آپ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کے لیے کہتے تھے کہ دیکھو یہ شخص اُن ہستیوں کی الوہیت کا انکار کر رہا ہے جن سے تم عقیدت رکھتے اور اُنھیں اپنا معبود سمجھتے ہو۔

    • امین احسن اصلاحی ان کے لیڈر اٹھے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔ بے شک یہ کام کرنے کا ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لیڈروں کے طرز عمل کی تصویر: یہ تصویر ہے اس رویے کی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید سے لوگوں کو برگشتہ کرنے کے لیے قریش کے لیڈر اختیار کرتے۔ اگر وہ کبھی دیکھتے کہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سے متاثر ہو رہے ہیں تو یہ وہاں سے چل کھڑے ہوتے اور دوسروں کو بھی اکساتے کہ یہاں سے چلو، اس شخص کی باتیں نہ سنو بلکہ اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔
      ’اِنَّ ہٰذَا لَشَیْْءٌ یُرَادُ‘۔ یعنی کرنے کا اصلی کام یہ ہے۔ یہ شخص جو وعظ تمھیں سنا رہا ہے یہ تمہارے دین آبائی سے تم کو پھیرنے کی کوشش ہے۔ اس کے برعکس کرنے کا کام، جو ہم میں سے ہر شخص کا مطلوب ہونا چاہیے یہ ہے کہ ہم اس کی تمام کوششوں کے علی الرغم اپنے معبودوں کی عبادت پر آخر دم تک جمے رہیں۔

      جاوید احمد غامدی اِن کے سردار اٹھ کھڑے ہوئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔ بے شک، یہی چیز مطلوب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس کی تمام کوششوں کے علی الرغم اپنے معبودوں پر جمے رہنا ہی مطلوب ہے۔ یہ اُس رویے کی تصویر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید سے لوگوں کو برگشتہ کرنے کے لیے قریش کے لیڈر بالعموم اختیار کرتے تھے۔ چنانچہ اگر کبھی دیکھتے کہ لوگ آپ سے متاثر ہو رہے ہیں تو اِسی طرح کی کوئی بات کہہ کر مجلس سے اٹھ کھڑے ہوتے۔

    • امین احسن اصلاحی ہم نے یہ بات اس دور آخر میں تو سنی نہیں! یہ محض ایک من گھڑت بات ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عرب کی تاریخ سے متعلق قرآن اور قریش کے نقطۂ نظر کا اختلاف: یہ قریش کی طرف سے اس تاریخ کی تردید ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ملت عرب کی بیان فرماتے۔ آپ نے حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور بعد کے انبیاء کی تاریخ سے یہ واضح فرما دیا تھا کہ ان تمام انبیاء نے توحید خالص کی تعلیم دی، خاص کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیم و دعوت اور حضرت اسماعیلؑ اور بیت اللہ کی جو تاریخ قرآن میں نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے اس کا مقصد عربوں پر اسی حقیقت کو واضح کرنا تھا کہ ان کی ملت کی اصل تاریخ حضرت ابراہیمؑ و حضرت اسماعیلؑ سے شروع ہوتی ہے اور ان بزرگ نبیوں نے اپنی اولاد کو اس سرزمین میں اسلام کی خدمت اور توحید خالص کی دعوت کے لیے بسایا تھا اور اسی مقصد کے لیے اس گھر کی تعمیر فرمائی تھی جس کے آج قریش متولی بنے ہوئے ہیں۔ اور جس کے کونے کونے میں انھوں نے بتوں کو لا بسایا ہے۔ یہ تاریخ قریش کے تمام مزعومات پر ایک ضرب کاری تھی لیکن یہ اس قدر واضح اور دل نشین تھی کہ اس کے خلاف کہنے کے لیے ان کے پاس کوئی ایسی بات نہیں تھی جو لوگوں کو اپیل کر سکے لیکن وہ اپنے گھمنڈ اور اپنی مکابرت کے سبب سے اس کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں تھے اس وجہ سے کہتے کہ یہ توحید کی بات ہم نے اپنی ملت کے دور آخر میں تو سنی نہیں اس وجہ سے یہ ساری داستان جو توحید کے حق میں ہم کو سنائی جا رہی ہے بالکل من گھڑت ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر ملت عرب کی تاریخ یہ ہوتی جو قرآن میں بیان کی جا رہی ہے اور جس کو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس تحدی کے ساتھ پیش کر رہے ہیں تو آخر اس کی کچھ صدائے بازگشت اس ملت کے دور آخر میں بھی تو ہونی چاہیے تھی! لیکن ہم نے اپنے آبا و اجداد سے تو اس طرح کی کوئی بات نہیں سنی۔ ہم نے یہی دین ان سے پایا، اسی پر چل رہے ہیں اور اسی پر چلتے رہیں گے۔
      بعض لوگوں نے ’ملت آخرہ‘ سے ملت عیسوی کو مراد لیا ہے لیکن اس کا کوئی قرینہ یہاں نہیں ہے۔ ملت عیسوی کا حوالہ تو اس شکل میں ان کے لیے معتبر و مؤثر ہوتا جب وہ اور ان کے عوام اس کے معتقد ہوتے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی دعوت ملت عیسوی کی بنیاد پر دی ہوتی۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے یہ بات اِس آخری ملت میں تو کبھی سنی نہیں۔ کچھ نہیں، یہ (اِس کی) گھڑی ہوئی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی یہ بات کہ خدا ایک ہی ہے اور جسے یہ شخص ہمارے بزرگوں ۔۔۔ ابراہیم و اسمٰعیل علیہما السلام ۔۔۔ کی طرف منسوب کرکے کہہ رہا ہے، ہم نے یہ اپنے قریب کے لوگوں میں تو کبھی نہیں سنی۔ اُنھوں نے یہ بات اگر فی الواقع کہی ہوتی تو اِس کی کچھ بازگشت اِس دور آخر کے لوگوں میں بھی باقی ہونی چاہیے تھی۔ یہ ، اگر غور کیجیے تو وہی استدلال ہے جو ہر زمانے کے لوگ اِسی طرح پیش کرتے رہے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی کیا ہمارے اندر سے اسی شخص پر یہ یاددہانی نازل کی گئی! بلکہ یہ لوگ میری یاددہانی کے باب میں مبتلائے شک ہیں۔ بلکہ اب تک انھوں نے میرے عذاب کا مزا نہیں چکھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کے پندار سیادت پر ضرب: یعنی وہ اپنی ریاست و امارت کے غرور میں کہتے ہیں کہ اگر خدا کو کوئی کتاب کسی بشر پر اتارنی ہوتی تو کیا اس کے لیے ہمارے اندر سے اس کو یہی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ملے! اللہ تعالیٰ اگر یہ کام کرنا چاہتا تو اس کے لیے وہ مکہ یا طائف کے رئیسوں میں سے کسی کا انتخاب کرتا نہ کہ ان کے جیسے ایک مفلس و نادار آدمی کا۔ اس نے تمام سرفرازیاں تو ہم کو بخشیں تو اس عزت کے لیے وہ ان کا انتخاب کیوں کرتا؟ یہ ان کے اس پندار کا بیان ہے جس کا ذکر آیت ۲ میں ’فِیْ عِزَّۃٍ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ ان کے اس پندار پر ضرب لگانے کے لیے فرمایا کہ ’بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنۡ ذِکْرِیْ بَلْ لَمَّا یَذُوۡقُوۡا عَذَابِ‘ کہ ان کی یہ تمام مشیخت مآبیاں اس وجہ سے ہیں کہ ان کو اس قرآن کے ذریعے جس عذاب کی یاددہانی کی جا رہی ہے اس کی طرف سے ابھی وہ شک میں ہیں، یہ اس کو محض ہوائی بات سمجھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک وہ ان کے سامنے آیا نہیں اور یہ لوگ مجرد باتوں سے قائل ہونے والے اسامی نہیں ہیں بلکہ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ کر ماننے والے لوگ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ابھی تو ان کو دلیلوں سے سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اگر یہ دلیلوں سے نہ سمجھے تو بالآخر عذاب کا تازیانہ بھی ان کے لیے نمودار ہو جائے گا۔

      جاوید احمد غامدی کیا یہ یاددہانی ہم میں سے اِسی پر نازل کی گئی ہے؟ (نہیں، اے پیغمبر، اِن کی یہ باتیں کچھ نہیں)، بلکہ یہ میری یاددہانی کی طرف سے شک میں ہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اِنھوں نے اب تک میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ بات وہ اپنی ریاست و امارت کے غرور میں کہتے تھے کہ ہمارے بڑے بڑے سرداروں کو چھوڑ کر کیا یہی رہ گئے تھے کہ اِس منصب کے لیے منتخب کیے گئے ہیں؟ یہ اُسی پندار کا اظہار ہے جس کا ذکر سورہ کی ابتدا میں ’فِیْ عِزَّۃٍ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ یہ تمام ضد اور غرور اور ہیکڑی صرف اِس لیے ہے کہ ابھی اِنھیں یقین نہیں ہوا کہ جس عذاب سے اِنھیں خبردار کیا جا رہا ہے، وہ فی الواقع آنے والا ہے۔ بلکہ اِس لیے بھی کہ اِنھیں مجرد استدلال سے کسی بات کا قائل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ جب تک آنکھوں سے نہ دیکھ لیں، اُس وقت تک کسی چیز کو ماننے والے نہیں ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی کیا تیرے رب عزیز و وہاب کے فضل کے خزانے انہی کی تحویل میں ہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رعونت کا جواب: یہ ان کی اس رعونت کا جواب ہے جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہے کہ یہ اپنے سوا خدا کے کسی فضل و رحمت کا حق دار کسی کو نہیں سمجھتے، گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام خزانوں کی کنجیاں انہی کو پکڑا دی ہیں کہ یہ جس کو چاہیں محروم رکھیں۔ چنانچہ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ ان کے دائرہ سے باہر اللہ تعالیٰ کسی کو نبوت و رسالت اور قرآن و کتاب کا حامل کس طرح بنا سکتا ہے! انھیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ’عزیز‘ اور ’وہاب‘ یعنی اپنے تمام خزانوں کا بلاشرکت غیرے مالک و مصرف اور بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ وہ اپنے ان بندوں کو بھی بڑی فیاضی سے بخشتا ہے جو ان کی نظروں میں اگرچہ کسی چیز کے اہل نہیں ہیں لیکن خدا کی نظروں میں ان کا بڑا مرتبہ ہے چنانچہ اس نے اگر ان کو اس زمین کے کچھ خزف ریزے دیے ہیں جن پر یہ اترا رہے ہیں تو اس نے جس کو چاہا ہے نبوت و رسالت اور علم و حکمت کی بادشاہی بخش دی ہے جس سے بڑے منصب کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ سورۂ طور میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے:

      ’اَمْ عِنۡدَہُمْ خَزَائِنُ رَبِّکَ أَمْ ہُمُ الْمُصَیْْطِرُوۡنَ‘ (۳۷)
      (کیا تیرے رب کے خزانے اس کے پاس ہیں یا یہ داروغے مقرر کر دیے گئے ہیں!)۔

       

      جاوید احمد غامدی (اپنے سوا یہ کسی کو ہماری عنایتوں کا حق دار نہیں سمجھتے)۔ کیا تیرے پروردگار، عزیز و وہاب کی رحمت کے خزانے اِنھی کی تحویل میں ہیں؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی وہ پروردگار جو اپنے تمام خزانوں کا تنہا مالک ہے، اُن میں جس طرح چاہے، تصرف کا اختیار رکھتا ہے اور نہایت فیاض بھی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...وہ اپنے اُن بندوں کو بھی بڑی فیاضی سے بخشتا ہے جو اِن کی نظروں میں اگرچہ کسی چیز کے اہل نہیں ہیں، لیکن خدا کی نظروں میں اُن کا بڑا مرتبہ ہے۔ چنانچہ اُس نے اگر اِن کو اِس زمین کے کچھ خزف ریزے دیے ہیں جن پر یہ اترا رہے ہیں تو اُس نے جس کو چاہا ہے، نبوت و رسالت اور علم و حکمت کی بادشاہی بخش دی ہے جس سے بڑے منصب کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۵۱۵)

    • امین احسن اصلاحی کیا آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کی بادشاہی انہی کے اختیار میں ہے! اگر ایسا ہے تو وہ آسمانوں کے اندر چڑھ جائیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اسی اوپر والی بات کی مزید تفصیل ہے۔ یعنی اگر ان کا زعم یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ان کے ہاتھ میں ہے تو آسمانوں پر چڑھ جائیں اور اس رحمت کو روک دیں جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نازل فرما رہا ہے۔
      ’اسباب‘ سے مراد ’اسباب السمٰوٰت‘ ہے۔ یہ لفظ کسی چیز کے اطراف اور متعلقات کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ اس کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی یا زمین اور آسمانوں اور اُن کے درمیان کی سب چیزوں کی بادشاہی اِنھی کے اختیار میں ہے؟(یہی بات ہے) تو آسمانوں میں چڑھ جائیں (اور اُس کی رحمت کو روک دیں)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ‘۔ اِن میں ’اَسْبَاب‘ سے مراد ’اَسْبَابُ السَّمٰوٰتِ‘ ہے اور یہاں یہ لفظ اطراف و متعلقات کے معنی میں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی (جب میرا عذاب آ جائے گا) تو اس وقت جماعتوں میں سے کوئی بڑے سے بڑا لشکر بھی شکست کھا کے رہے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عذاب الٰہی کا مقابلہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی نہیں کر سکتی: ’ہُنَالِکَ‘ کا اشارہ اسی عذاب کی طرف ہے جس کا ذکر آیت ۸ میں ’لَمَّا یَذُوۡقُوۡا عَذَابِ‘ کے الفاظ سے گزرا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس قرآن کی تصدیق کے لیے عذاب الٰہی کے ظہور کے منتظر ہیں تو یاد رکھیں کہ جب وہ عذاب آ جائے گا تو کوئی بڑے سے بڑا لشکر بھی خواہ کسی بھی قوم کا ہو، اس کے مقابل میں نہیں ٹک سکے گا۔ بلکہ وہ لازماً شکست کھائے گا۔ ’جُندٌ‘ کی تنکیر یہاں تفخیم شان کے لیے اور ’مَا‘ اس تنکیر کی تاکید کے لیے ہے۔ یعنی کوئی لشکر بھی ہو اور وہ کتنی ہی قوت و صولت رکھتا ہو، عذاب الٰہی کے مقابل میں وہ نہیں ٹک سکتا۔

      جاوید احمد غامدی لشکروں میں سے کوئی بڑے سے بڑا لشکر بھی، (خدا کے مقابل میں اٹھے گا تو) وہیں شکست کھا کر رہے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’جُنْدٌ مَّا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں’جُنْد‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے اور ’مَا‘ اِسی تفخیم کی تاکید کے لیے آیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ان سے پہلے قوم نوح، عاد اور کثیر لشکروں والے فرعون نے تکذیب کی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ذُو الْأَوْتَادِ‘: ’ذُو الْأَوْتَادِ‘ کا لفظی ترجمہ ہو گا ’میخوں والا‘ لیکن عربی میں میخوں سے خیموں کو تعبیر کرتے ہیں اور پھر خیموں سے بطریق کنایہ فوجیں مراد لیتے ہیں۔ یہ اسی طرح کا کنایہ ہے جس طرح ’قدور راسیات‘ سے کسی شخص کی فیاضی کو تعبیر کرتے ہیں، چنانچہ قرآن میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی فیاضی کی تعبیر کے لیے یہ کنایہ آیا ہے۔ یہاں ’ذُو الْأَوْتَادِ‘ سے فرعون کی کثیر فوجوں کی طرف اشارہ ہے جو خیموں میں رہتی تھی۔ فرعون کی فوجوں کی کثرت کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ آیا ہے اور یہ تمام فوجیں اس کے ساتھ عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر سمندر میں غرق ہوئیں۔

      جاوید احمد غامدی اِن سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والا فرعون بھی جھٹلا چکے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی کثیر لشکروں والے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...عربی میں میخوں سے خیموں کو تعبیر کرتے ہیں اور پھر خیموں سے بطریق کنایہ فوجیں مراد لیتے ہیں۔ یہ اُسی طرح کا کنایہ ہے، جس طرح ’قُدُوْرٌ رَّاسِیَاتٌ‘ سے کسی شخص کی فیاضی کو تعبیر کرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی فیاضی کی تعبیر کے لیے یہ کنایہ آیا ہے۔ یہاں ’ذُو الْاَوْتَادِ‘ سے فرعون کی کثیر فوجوں کی طرف اشارہ ہے جو خیموں میں رہتی تھیں۔ فرعون کی فوجوں کی کثرت کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ آیا ہے اور یہ تمام فوجیں اُس کے ساتھ عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر سمندر میں غرق ہوئیں۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۵۱۶)

    • امین احسن اصلاحی اور ثمود، قوم لوط اور بن والوں نے بھی۔ یہ پارٹیاں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اَصْحَابُ الأَیْْکَۃِ‘ سے مراد اصحاب مدین ہیں۔ ’ایکۃ‘ کے معنی جنگل کے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے ’مدین‘ کے پاس کوئی جنگل بھی تھا اس وجہ سے یہ لوگ اس نام سے بھی معروف تھے۔ اس کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔
      اوپر کے دعوے کی تصدیق تاریخ سے: اوپر آیت ۸ میں یہ بات جو فرمائی ہے کہ جب عذاب الٰہی آ جائے گا تو کسی جماعت یا قوم کی قوت و جمعیت کتنی ہی ہو، وہ اس کے مقابل میں نہیں ٹک سکے گی، یہ اسی بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ ان تمام قوموں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور جب اس کی پاداش میں ان پر اللہ کا عذاب آیا تو ان میں سے کوئی بھی اس کے مقابل میں نہ ٹک سکی۔
      ’اُولٰٓئِکَ الْأَحْزَابُ‘ میں خبر حذف کر دی گئی ہے۔ اس لیے کہ موقع و محل سے یہ خود واضح ہے اور بعد کا ٹکڑا اس کو مزید واضح کر رہا ہے۔ یعنی دیکھ لو یہ بڑی نامی گرامی قومیں تھیں لیکن ان کا یہ حشر کیا ہوا! جب اللہ کا عذاب آیا تو یہ سب خس و خاشاک کی طرح اڑ گئیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہی حشر تمہارا بھی ہونا ہے اگر تم نے بھی انہی کی روش اختیار کی۔

      جاوید احمد غامدی اور ثمود اور قوم لوط اور ایکہ والے بھی۔ یہ گروہ تھے (جنھوں نے اِسی طرح شکست کھائی)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مدین والوں کی طرف اشارہ ہے۔ ’اَیْکَۃ‘ عربی زبان میں جنگل کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ مدین کے پاس کوئی بہت بڑا جنگل تھا جس کی بنا پر یہ نام اُنھیں دیا گیا۔
      اصل میں ’اُولٰٓئِکَ الْاَحْزَابُ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں خبر حذف کر دی ہے، اِس لیے کہ موقع کلام سے یہ خود واضح ہے اور بعد کا جملہ اِسے مزید واضح کر دیتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ان سب ہی نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرا عذاب ان پر نازل ہو کے رہا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اِنۡ کُلٌّ إِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ‘۔ یعنی ان میں سے ہر ایک کا اصلی جرم یہی تھا کہ انھوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور اسی جرم کے مرتکب تم بھی ہو رہے ہو۔ ’فَحَقَّ عِقَابِ‘ اصل میں ’فَحَقَّ عِقَابِیْ‘ ہے۔ قافیہ کی رعایت سے ’ی‘ گر گئی ہے جس طرح ’لَمَّا یَذُوۡقُوۡا عَذَابِ‘ میں گر گئی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِن میں سے ہر ایک نے میرے رسولوں کوجھٹلایا تو میرا عذاب اُن پر نازل ہو کے رہا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور یہ لوگ بھی صرف ایک ڈانٹ کے منتظر ہیں۔ جس کے بعد کوئی ڈھیل نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فَوَاق‘ کے معنی وقفہ اور مہلت کے ہیں۔
      ’قِطّ‘ حصہ اور نصیب کے معنی میں آتا ہے۔
      مطالبۂ عذاب اور اس کا جواب: اشارہ قریش کی طرف ہے کہ یہ لوگ بڑے طنطنہ سے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں گویا اس کے مقابلہ کے لیے انھوں نے کوئی ناقابل تسخیر دفاعی لائن تعمیر کر لی ہے حالانکہ ان کو پامال کر دینے کے لیے خدا کی ایک ہی ڈانٹ کافی ہو گی، دوسری کی نوبت بھی نہیں آنے پائے گی اور اس کی پکڑ ایسی ہو گی کہ پھر ایک لمحہ کے لیے بھی ان کو فرصت نصیب نہیں ہو گی۔

      جاوید احمد غامدی یہ بھی ایک ڈانٹ ہی کے منتظر ہیں جس کے بعد کوئی ڈھیل نہیں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی مزید مہلت کی گنجایش نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور انھوں نے کہا کہ اے رب، ہمارا حساب روز حساب سے پہلے ہی چکا دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَقَالُوا رَبَّنَا ...... الاٰیۃ‘۔ یہ مطالبۂ عذاب کے معاملے میں ان کی رعونت کا بیان ہے کہ یہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تکذیب کے جوش میں یہاں تک کہہ گزرے کہ اے رب! اگر یہ شخص اپنے اس دعوے میں سچا ہے کہ ہم نے اس کی تکذیب کی تو ہم پر کوئی عذاب آ جائے گا تو وہ عذاب قیامت سے پہلے ہی ہم پر آ جائے تاکہ اس کی سچائی ثابت ہو جائے، اگر یہ سچا ہے، اور (نعوذ باللہ) اس کا جھوٹ ثابت ہو جائے، اگر یہ جھوٹا ہے، جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ قریش کے اس مطالبہ کا ذکر سورۂ انفال میں بھی بدیں الفاظ گزر چکا ہے:

      وَإِذْ قَالُوۡا اللّٰہُمَّ إِنۡ کَانَ ہَذَا ہُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِکَ فَأَمْطِرْ عَلَیْْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ (۳۲)
      ’’اور جب کہ انھوں نے کہا، اے اللہ، اگر یہی حق ہو تیرے پاس سے تو ہم پر پتھر برسا دے آسمان سے یا کوئی اور درد ناک عذاب ہم پر نازل کر۔‘‘

      روایات میں ابوجہل سے متعلق بھی یہ بات منقول ہے کہ بدر کے موقع پر اس نے یہ دعا کی تھی کہ اے خدا، جو ہمارے اندر سے اس قطع رحم کا باعث ہوا ہے کہ قریش کی تلوار خود قریش ہی کے مقابل میں بے نیام ہے، اس کو تُو کل کچل دیجیو!

       

      جاوید احمد غامدی یہ تو کہہ چکے کہ ہمارے پروردگار، ہمارا حساب تو روز حساب سے پہلے ہی ہم کو چکا دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ جس روز حساب سے یہ ہمیں ڈراتا ہے، وہ پہلے ہی آ جائے تاکہ فیصلہ ہو جائے کہ یہ شخص سچا ہے یا محض دھونس دے رہا ہے۔ اپنے اوپر وہ کسی عذاب کا اندیشہ نہیں رکھتے تھے، اِس لیے رعونت اور استکبار کی وجہ سے یہ بھی کہہ گزرتے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد، زور و قوت والے کا، حال سناؤ۔ بے شک وہ اللہ کی طرف بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت داؤدؑ کی زندگی کا نمونہ پیغمبرؐ کے لیے بھی اور قریش کے لیے بھی: حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے نہایت مؤثر واقعات زندگی انبیاء، نمل اور سبا میں بھی گزر چکے ہیں۔ یہاں کچھ نئے واقعات ان کی زندگی کے سنائے گئے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی موجب تسلی ہیں اور قریش کے لیڈروں کے لیے بھی نہایت سبق آموز ہیں، اگر وہ ان سے فائدہ اٹھائیں۔ لفظ ’اُذْکُرْ‘ یہاں اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے کہ اپنے مخالفوں کی ان دل آزار باتوں پر صبر اور ہمارے بندے داؤد کے حالات زندگی سے تسلی حاصل کرو کہ وہ طاقت و قوت رکھنے کے باوجود کس حلم و تحمل کے ساتھ لوگوں کے ناگوار رویے کو برداشت کرتے، نہایت عدل و مہربانی کے ساتھ ان کے معاملات کے فیصلے فرماتے اور دوسروں کے واقعات سے خود اپنی زندگی کے لیے سبق حاصل کرتے۔
      دوسرے کا تعلق قریش کے ان متمردین سے ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ ان لوگوں کو ہمارے صاحب قوت و جمعیت بندے داؤد، کے حالات زندگی سناؤ کہ باوجودیکہ ان کو ان سے کہیں زیادہ دولت و حشمت حاصل تھی لیکن اس چیز نے ان کی طرح کسی غرور استکبار میں ان کو مبتلا نہیں کیا بلکہ وہ اپنے رب کی طرف برابر متوجہ رہنے والے بندے تھے۔ ان کے واقعات زندگی شاہد ہیں کہ وہ دوسروں کے واقعات سے اپنی فروگزاشتوں پر متنبہ ہو کر اپنے رب کے آگے توبہ و استغفار کے لیے گر پڑتے۔
      قوت، نعمت اس وقت ہے جب اس کے ساتھ اوّابیّت ہو: ’اِنَّہُ أَوَّابٌ‘۔ یعنی وہ اپنے رب کی طرف بڑے رجوع ہونے والے بندے تھے۔ یہاں آگے جو واقعات بیان ہوئے ہیں وہ حضرت داؤد علیہ السلام کے اسی وصف کو نمایاں کرنے والے ہیں۔ دوسری سورتوں میں ان کی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی شکرگزاری کے وصف کو نمایاں فرمایا گیا ہے۔ اس سورہ میں ان کی حیثیت و انابت کے پہلو کو نمایاں فرمایا گیا تاکہ قریش کے اس کبر و غرور پر ضرب پڑے جس کا ذکر پہلی آیت میں ’عزت و شقاق‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رکھیے کہ انسان فرشتہ نہیں ہے کہ اس سے کسی غلطی کا صدور ہی نہ ہو۔ انسان جب اختیار کی نعمت سے نوازا گیا ہے اور اس کے اس اختیار کی آزمائش بھی ہو رہی ہے تو ہر قدم پر اس سے غلطی کا امکان ہے لیکن یہ غلطی کا امکان اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہلاکت کے لیے نہیں رکھا ہے بلکہ یہ بھی اس کے لیے سب سے بڑی سعادت کے حصول کا ذریعہ ہے اگر وہ اپنی غلطی کے بعد اپنے رب کی طرف رجوع ہونا اور توبہ و استغفار کرنا سیکھ جائے۔ انسان کی شامت اس وقت آتی ہے جب وہ جرم پر جرم کیے چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے جرائم اس طرح اس پر مسلط ہو جاتے ہیں کہ خود متنبہ ہونا تو الگ رہا اگر کوئی اللہ کا بندہ اس کو متنبہ کرتا ہے تو وہ کبر و غرور کے سبب سے اس کے بھی درپۓ آزار ہو جاتا ہے۔ قرآن نے یہاں ’ذَا الْأَیْْدِ‘ اور ’اَوَّابٌ‘ دونوں صفتوں کو ایک ساتھ ذکر کر کے یہ دکھایا ہے کہ کوئی صاحب قوت و حکومت شخص اللہ تعالیٰ کا منظور نظر بندہ اس وقت بنتا ہے جب قوت و شوکت کے ساتھ اس کے اندر ’اَوَّابِیَّت‘ کی صفت پائی جائے۔ اگر قوت و صولت اس کے اندر ’عزت و شقاق‘ کی رعونت پیدا کر دے تو یہ نمرودیت اور فرعونیت ہے جو اللہ کے نزدیک ملعون و مبغوض ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ جو کچھ کہتے ہیں، اُس پر صبر کرو، (اے پیغمبر)، اور بڑی قوت کے مالک، ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے کہ خود بھی اُس کے حلم و تحمل سے تسلی حاصل کرو اور اپنے مخاطبین کو بھی توجہ دلاؤ کہ اِن سے کہیں بڑھ کر قوت و شوکت اور دولت و حشمت کا مالک ہونے کے باوجود وہ کسی غرور و تکبر میں مبتلا نہیں ہوا تھا۔ یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ داؤد علیہ السلام خدا کے پیغمبر بھی تھے اور بنی اسرائیل کے عظیم بادشاہ بھی۔ ہم سورۂ سبا (۳۴) کی تفسیر میں پیچھے بیان کر چکے ہیں کہ اُن کی سلطنت خلیج عقبہ سے دریاے فرات کے مغربی کناروں تک پھیلی ہوئی تھی جس پر وہ ۹۶۵ ق م تک حکومت کرتے رہے۔
      یعنی زور و قوت نے اُس کے اندر رعونت پیدا نہیں کی تھی، بلکہ اُس کی خشیت و انابت کو اور بڑھا دیا تھا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... قرآن نے یہاں ’ذَا الْاَیْدِ‘ اور ’اَوَّاب‘ ،دونوں صفتوں کو ایک ساتھ ذکر کر کے یہ دکھایا ہے کہ کوئی صاحب قوت و حکومت شخص اللہ تعالیٰ کا منظور نظر بندہ اُس وقت بنتا ہے، جب قوت و شوکت کے ساتھ اُس کے اندر ’اوابیت‘ کی صفت پائی جائے۔ اگر قوت و صولت اُس کے اندر ’عزت و شقاق‘ کی رعونت پیدا کر دے تو یہ نمرودیت اور فرعونیت ہے جو اللہ کے نزدیک ملعون و مبغوض ہے۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۵۲۲)

    • امین احسن اصلاحی ہم نے اس کے ساتھ پہاڑوں کو لگا دیا جو شام و صبح اس کے ساتھ تسبیح کرتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت داؤدؑ کی اوابیت: یہ حضرت داؤد علیہ السلام کی ’اَوَّابِیَّت‘ کی وضاحت ہے کہ وہ شام و صبح دامن کوہ میں بیٹھ کر اپنے رب کی تسبیح کرتے اور جب وہ اپنے خاص لحن میں زبور کے منظوم نغمے چھیڑتے تو پہاڑ بھی ان کی ہمنوائی کرتے اور پرندے بھی جھنڈ کے جھنڈ جمع ہو کر ان کے سُر میں اپنے سُر ملاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پرسوز لحن اور ان کے درد مند دل میں ایسی تاثیر و تسخیر رکھی تھی کہ ان کے ارد گرد کی پوری فضا ان کی صدائے بازگشت سے گونج اٹھتی اور دشت و جبل، چرند و پرند سب توبہ و مناجات کے لیے ان کے شریک بزم بن جاتے ۔۔۔ اس حقیقت کی وضاحت ہم اس کے محل میں کر چکے ہیں کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے لیکن ہم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے، لیکن ہمارے نہ سمجھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی بھی ان کو نہیں سمجھتا۔ حضرت داؤدؑ کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح پہاڑوں کو موم کر دینے والا اور پرندوں کو جذب کر لینے والا سوز و لحن بخشا تھا اسی طرح ان کو وہ گوش شنوا بھی عطا فرمایا تھا کہ وہ ان کی تسبیح و مناجات کو سمجھ سکیں۔ پچھلی سورتوں میں ان باتوں کی وضاحت ہو چکی ہے اس وجہ سے یہاں ہم اشارہ پر کفایت کرتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے اُس کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا تھا کہ صبح و شام اُس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور پرندوں کو بھی، جھنڈ کے جھنڈ ۔۔۔ سب اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت داؤدؑ کی اوابیت: یہ حضرت داؤد علیہ السلام کی ’اَوَّابِیَّت‘ کی وضاحت ہے کہ وہ شام و صبح دامن کوہ میں بیٹھ کر اپنے رب کی تسبیح کرتے اور جب وہ اپنے خاص لحن میں زبور کے منظوم نغمے چھیڑتے تو پہاڑ بھی ان کی ہمنوائی کرتے اور پرندے بھی جھنڈ کے جھنڈ جمع ہو کر ان کے سُر میں اپنے سُر ملاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پرسوز لحن اور ان کے درد مند دل میں ایسی تاثیر و تسخیر رکھی تھی کہ ان کے ارد گرد کی پوری فضا ان کی صدائے بازگشت سے گونج اٹھتی اور دشت و جبل، چرند و پرند سب توبہ و مناجات کے لیے ان کے شریک بزم بن جاتے ۔۔۔ اس حقیقت کی وضاحت ہم اس کے محل میں کر چکے ہیں کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے لیکن ہم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے، لیکن ہمارے نہ سمجھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی بھی ان کو نہیں سمجھتا۔ حضرت داؤدؑ کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح پہاڑوں کو موم کر دینے والا اور پرندوں کو جذب کر لینے والا سوز و لحن بخشا تھا اسی طرح ان کو وہ گوش شنوا بھی عطا فرمایا تھا کہ وہ ان کی تسبیح و مناجات کو سمجھ سکیں۔ پچھلی سورتوں میں ان باتوں کی وضاحت ہو چکی ہے اس وجہ سے یہاں ہم اشارہ پر کفایت کرتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اور پرندوں کو بھی، جھنڈ کے جھنڈ ۔۔۔ سب اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اپنے خاص لحن میں جب وہ زبور کے منظوم نغمے چھیڑتے تو دشت و جبل، چرند و پرند، سب اُن کے ہم نوا ہو کر اُن کے شریک بزم بن جاتے تھے۔ قرآن نے دوسرے مقامات میں تصریح فرمائی ہے کہ اِس کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، لیکن انسان اُس کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ تاہم حضرت داؤد کا معاملہ یہ نہیں تھا۔ استاذ امام کے الفاظ میں، اللہ تعالیٰ نے جس طرح اُنھیں پہاڑوں کو موم کر دینے والا اور پرندوں کو جذب کر لینے والا سوز و لحن بخشا تھا، اُسی طرح اُن کو وہ گوش شنوا بھی عطا فرمایا تھا کہ وہ اُن کی تسبیح و مناجات کو سمجھ سکیں۔

    • امین احسن اصلاحی ہم نے اس کی سلطنت مستحکم کر دی تھی اور اس کو حکمت اور معاملات کے فیصلہ کی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت داؤدؑ کی قوت و صولت: یہ حضرت داؤد علیہ السلام کی قوت و صولت کا بیان ہے جس کا ذکر اوپر ’ذَا الْأَیْْدِ‘ کے لفظ سے ہوا ہے۔ ’شَدَدْنَا مُلْکَہُ‘ یعنی ہم نے اس کی حکومت اچھی طرح مستحکم کی تھی اور اس کو مستحکم رکھنے کے لیے اس کو ’حکمت‘ اور ’فصل خطاب‘ کی صلاحیت سے نوازا تھا۔ حکمت کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔’فصل خطاب‘ سے مراد فیصلۂ نزاعات کی صلاحیت ہے۔ لفظ خطاب آگے آیت ۲۳ میں بحث و نزاع کے مفہوم میں آیا بھی ہے۔
      حکومت کے استحکام کے لیے اول شے: اس سے معلوم ہوا کہ حکومت کے استحکام کے لیے اول شے یہ ہے کہ حکمران ’حکمت‘ کے نور سے منور اور فیصلۂ معاملات کی صلاحیت سے بھرپور ہوں۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو حکومت کی بنیاد ریت پر ہے اگرچہ اس کے پاس دوسرے اسباب و وسائل کی کتنی ہی وافر مقدار موجود ہو۔ یہ حکمت اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط تعلق سے حاصل ہوتی ہے۔ اس تعلق سے محروم حکمران اسی غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس پر یہاں تنقید ہو رہی ہے اور اپنے ساتھ اپنی پوری قوم کی تباہی کے اسباب فراہم کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں حکومت کی طاقت کا ہونا ویسا ہی ہے جیسے نادان کے ہاتھ میں تلوار ہو۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے اُس کی سلطنت مضبوط کر دی تھی، اُس کو حکمت عطا کی تھی اور نزاعات میں فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List