Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 182 آیات ) As-Saffat As-Saffat
Go
  • الصافات (Those Who Set The Ranks, Drawn Up In Ranks)

    182 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ یٰسٓ ۔۔۔ کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ توحید، قیامت اور رسالت کے اصولی مباحث جس طرح اس گروپ کی پچھلی سورتوں میں زیربحث آئے ہیں اسی طرح اس میں بھی زیربحث آئے ہیں البتہ نہج استدلال اور ترتیب بیان مختلف ہے۔ توحید جو اس پورے گروپ کی روح ہے، اس سورہ میں بھی نمایاں ہے۔ لیکن اس میں اس کے ایک خاصل پہلو ۔۔۔ الوہیت ملائکہ کے تصور کے ابطال ۔۔۔ کو زیادہ وضاحت کے ساتھ لیا ہے۔ احوال قیامت کی تصویر اس میں ایسے زاویہ سے پیش کی گئی ہے جس سے مشرکین کے عوام اور ان کے لیڈروں کی باہمی تو تکار سامنے آتی ہے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام کی پوری تاریخ بھی اس میں اجمالاً بیان ہوئی ہے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جن قوموں نے رسولوں کی تکذیب کی اللہ تعالیٰ نے ان کو مٹا دیا۔ فلاح صرف رسولوں اور ان کی پیروی کرنے والوں کو حاصل ہوئی۔

  • الصافات (Those Who Set The Ranks, Drawn Up In Ranks)

    182 آیات | مکی

    الصافات ۔ ص

    ۳۷ ۔ ۳۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع منکرین توحید کو تہدید و وعید ہے۔پہلی سورہ میں ، البتہ انکار اور دوسری میں استکبار پر تنبیہ کی گئی ہے جو مخاطبین کے انکار کا اصلی سبب ہے۔ اِس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو اِن مستکبرین کے مقابل میں صبر و استقامت کی تلقین کا مضمون بھی دوسری سورہ میں نمایاں ہے۔ چنانچہ انبیا علیہم السلام کی جو سرگذشتیں اِس سورہ میں سنائی گئی ہیں، اُن میں یہ دونوں چیزیں ملحوظ ہیں۔
    اِن سورتوں میں خطاب اصلاً قریش ہی سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی شاہد ہیں صفیں باندھے، حاضر رہنے والے فرشتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قسم شہادت کے لیے: ’و‘ قسم کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو قسمیں کھائی ہیں یہ تعظیم کے لیے نہیں بلکہ مقسم علیہ پر شہادت کے لیے ہیں۔ استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ ’’الامعان فی اقسام القرآن‘‘ میں اس مسئلہ پر مفصل بحث کی ہے۔ ہمارے قلم سے اس کا اردو ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔ قسم کے اس مفہوم کی روشنی میں ’وَالصَّافَّاتِ صَفّاً‘ کا ترجمہ ’شاہد ہیں صفیں باندھے ہوئے‘ حاضر رہنے والے فرشتے، کیا جائے تو یہ قسم کے مفہوم کو بالکل ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والا ہو گا۔
      ’صَافَّاتِ‘ فرشتوں کی صفت ہے: ’صَافَّاتِ‘ یہاں فرشتوں کی صفت کے طور پر آیا ہے اور اس کی وضاحت اسی سورہ میں خود حضرت جبریلؑ کی زبانی ہو گئی ہے۔ ان کا ارشاد نقل ہوا ہے:

      ’وَمَا مِنَّا إِلَّا لَہُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ ۵ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ ۵ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ‘، (۱۶۴-۱۶۶)
      (اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک معین مقام ہے، اور ہم تو صف بستہ رہنے والے ہیں اور ہم تو تسبیح کرتے رہنے والے ہیں)۔

      قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان فرشتوں کا ذکر ہے جو ملاء اعلیٰ کے زمرے سے تعلق رکھتے اور عرش الٰہی کے ارد گرد صف بستہ رہتے ہیں۔ سورۂ زمر میں ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:

      ’وَتَرَی الْمَلَائِکَۃَ حَافِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ‘ (۷۵)
      (اور تم دیکھو گے فرشتوں کو گھیرے ہوئے عرش کے اردگرد، اپنے رب کی تسبیح کرتے ہوئے، اس کی حمد کے ساتھ)۔

       

      جاوید احمد غامدی صفیں باندھے حاضر رہنے والے فرشتے گواہی دیتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَالصّآفّٰتِ صَفًّا‘۔ اِن میں ’وَ‘ قسم کے لیے ہے۔ قرآن میں اِس طرح کی قسمیں تعظیم کے لیے نہیں، بلکہ مقسم علیہ پر شہادت کے لیے آتی ہیں۔ چنانچہ ترجمہ اِسی کے لحاظ سے کیا گیا ہے۔ قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو ملاء اعلیٰ میں عرش الٰہی کے ارد گرد صف بستہ رہتے ہیں۔ سورۂ زمر (۳۹) کی آیت ۷۵ میں اُن کا ذکر ہوا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پھر زجر کرنے والے (شیاطین کو)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دوسری صفت: ’زجر‘ کے معنی جھڑکنے، ڈانٹنے اور دھتکارنے کے ہیں۔ یہ انہی فرشتوں کی دوسری صفت بیان ہوئی ہے کہ اگر شیاطین ملاء اعلیٰ کے قریب پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان کو دھتکارتے ہیں۔ شیاطین کو ملاء اعلیٰ سے دور رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص انتظام بھی فرمایا ہے جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی پھر (شیطانوں کو) جھڑک کر ڈانٹنے والے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جب وہ سن گن لینے کے لیے ملاء اعلیٰ کے قریب پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی پھر ذکر کرنے والے (اپنے رب کا)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تیسری صفت: یہ ان فرشتوں کی تیسری صفت ہے۔ تلاوت ذکر سے مراد وہی چیز ہے جو سورۂ زمر میں ’یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ‘ کے الفاظ سے اور اس سورہ میں ’وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوۡنَ‘ کے الفاظ سے مذکور ہوئی ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح کرتے ہیں۔
      صفات میں ترتیب: یہاں عربی زبان کا یہ قاعدہ پیش نظر رہے کہ جب صفات کا بیان اس طرح ’ف‘ کے ساتھ ہو جس طرح یہاں ہے تو یہ دو باتوں پر دلیل ہوتا ہے۔ ایک اس بات پر کہ یہ تمام صفات ایک ہی چیز کی ہیں اس وجہ سے جن لوگوں نے ان صفات کے الگ الگ موصوف قرار دیے ہیں ان کی رائے ہمارے نزدیک عربیت کے خلاف ہے۔ دوسری اس بات پر کہ ان صفات میں ایک تدریجی ترتیب ہے۔ ہم نے جو تاویل کی ہے اس سے پہلی بات تو بالکل واضح ہے کہ یہ تمام صفات ملائکہ کی ہیں۔ رہی دوسری بات تو غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان صفات میں اسی طرح کی ترتیب ہے جس طرح کی ترتیب ہماری نمازوں میں ہوتی ہے۔ جس طرح ہم خدا کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں، پھر شیطان سے تعوذ کرتے ہیں، پھر اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہیں اسی طرح ملائکہ بھی عرش الٰہی کے اردگرد صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں، پھر شیاطین کو زجر کرتے ہیں، پھر اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی پھر (خدا کو ) یاد کرنے والے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُس کی حمد و تسبیح کرنے والے۔ اِن صفات میں، اگر غور کیجیے تو اُسی طرح کی ترتیب ہے جو ہماری نمازوں میں ہوتی ہے کہ ہم پہلے صف باندھتے ہیں، پھر شیاطین سے تعوذ کرتے ہیں، پھر خدا کی حمد و تسبیح میں مشغول ہوتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مقسم علیہ: یہ اس قسم کا مقسم علیہ ہے۔ فرشتوں کی اس بندگی اور اس حمد و تسبیح کو شہادت میں پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ تمہارا رب ایک ہی ہے۔ اس سے یہ بات نکلی کہ جن لوگوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مان کر ان کو خدائی میں شریک کر رکھا ہے اور ان کی شفاعت کی امید پر ان کی پوجا کر رہے ہیں وہ بالکل حماقت میں مبتلا ہیں۔ فرشتوں کا خود اپنا طرز عمل ان نادانوں پر ایک کھلی ہوئی نکیر ہے۔ اس لیے کہ وہ برابر خدا کی بندگی اور اس کی حمد و تسبیح میں سرگرم ہیں اور یہ احمق لوگ ان کو شریک خدا بنا کر ان کی پوجا میں لگے ہوئے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی کہ تمھارا معبود ایک ہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ مقسم علیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کو خدا کی خدائی میں شریک سمجھتے ہو، وہ خود گواہی دیتے ہیں کہ خدا کے بندے ہیں اور ہمہ وقت اُس کی حمد و تسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی وہی خداوند ہے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کا۔ اور وہی خداوند ہے سارے اطراف مشرق کا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے۔ یعنی وہی اللہ واحد تمام آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کا خداوند ہے اور وہی تمام مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس نے اپنی ناپیدا کنار مملکت کے دور دراز گوشوں کا انتظام اپنے دوسرے شریکوں کے سپرد کر رکھا ہے۔ وہ کسی کی مدد کا محتاج نہی ہے۔ وہ اپنی کائنات کے ہر گوشے اور کونے کا مالک خود ہے اور خود ہی اپنے احکام کے تحت اس کا انتظام فرماتا ہے۔ اس کائنات میں فرشتوں کا اگر کوئی دخل ہے تو خدا کے شریک کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کے فرماں بردار سفیروں اور کارندوں کی حیثیت سے ہے۔ وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے رب کے احکام کی تعمیل میں کرتے ہیں۔
      جمع کے استعمال کا ایک خاص محل: ’رَبُّ الْمَشَارِقِ‘ میں ’مَشَارِق‘ جمع اپنے اطراف کی وسعت کے اعتبار سے ہے۔ سورۂ اعراف میں لفظ ’اعراف‘ کے تحت ہم بیان کر آئے ہیں کہ جمع بعض مرتبہ کسی شے کی وسعت اور اس کے طول کو ظاہر کرنے کے لیے بھی آتی ہے۔ قرآن میں ’مشارق‘ اور ’مغارب‘ کے الفاظ اسی اعتبار سے آئے ہیں۔ اسی طرح جہاں مقصود کسی شے کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کرنا ہو وہاں اس کو بعض اوقات مثنیٰ کی شکل میں لاتے ہیں چنانچہ قرآن میں ’مشرقین‘ اور ’مغربین‘ بھی استعمال ہوئے ہیں۔ ’رَبُّ الْمَشَارِقِ‘ کے بعد ’رَبُّ الْمَغَارِب‘ بربنائے وضاحت قرینہ حذف ہے۔ اس لیے کہ ’مغارب‘ ’مشارق‘ کے تحت ہیں۔ جب اصل کا ذکر آ گیا تو فرع کا ذکر گویا خود بخود ہو گیا۔ بعض جگہ اس کو واضح بھی فرما دیا ہے۔ مثلاً:

      ’فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ‘ (المعارج: ۴۰)
      (پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشارق اور مغارب کے رب کی کہ بے شک ہم قادر ہیں)۔

      ’مشارق‘ کے خاص اہتمام کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دنیا میں مشرکوں نے سب سے زیادہ پرستش سورج کی کی ہے جو مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی وہی جو زمین اور آسمانوں اور اُن کے درمیان کی سب چیزوں کا پروردگار ہے اور مشرق (و مغرب) کے تمام اطراف کا پروردگار۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے۔ آیت میں ’مَشَارِق‘ کے بعد ’مَغَارِب‘ کا لفظ بربناے وضاحت قرینہ محذوف ہے اور اِس کی جمع عربیت کے اسلوب پر وسعت اطراف کو ظاہر کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کی ناپیدا کنار کائنات کے کسی دور دراز گوشے میں بھی اُس کے سوا کسی کی بادشاہی نہیں ہے۔ وہی ہر جگہ اور ہر ایک کا پروردگار ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بے شک ہم ہی نے سجایا ہے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت سے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      شیاطین جن کی تردید: اوپر کی آیات میں ملائکہ کا ذکر ہوا ہے کہ نادانوں نے تو ان کو خدائی کا درجہ دے رکھا ہے اور ان کے ملاء اعلیٰ تک کا حال یہ ہے کہ وہ برابر اپنے رب کے آگے صف بستہ اور اس کی حمد و تسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔ اب آگے کی آیات میں شیاطین جن کا ذکر آ رہا ہے کہ نادانوں نے ان کی نسبت یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کی رسائی ملاء اعلیٰ تک ہے اور وہ وہاں سے غیب کی خبریں حاصل کرتے ہیں چنانچہ اسی توقع پر ان کی پرستش کی جاتی ہے کہ یہ علم غیب کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ حالانکہ ملاء اعلیٰ تک کسی کی بھی رسائی نہیں ہے۔ اگر کوئی شریر جن وہاں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِس میں شبہ نہیں کہ (تمھارے) قریبی آسمان کو ہم نے تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے وہ عالم بالا مراد ہے جسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور اپنی دوربینوں سے جس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ قرآن نے بتایا ہے کہ اِس سے ماورا چھ عالم اور بھی ہیں جن میں سے ہر ایک میں ہماری زمین کی طرح زندگی کی رعنائیوں سے آباد ایک زمین بھی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اس کو محفوظ کیا ہے اچھی طرح ہر سرکش شیطان کی دراندازی سے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَحِفْظًا‘ فعل محذوف کی تاکید ہے۔ یعنی ’وَحَفِظْنٰھَا حِفْظًا‘ اس وجہ سے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آسمان کو ہم نے شیاطین کی دراندازی سے اچھی طرح محفوظ کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ستارے ایک طرف تو آسمان زیریں کی زینت ہیں، دوسری طرف قدرت ان سے یہ کام بھی لیتی ہے کہ جو شیاطین ملاء اعلیٰ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو انہی ستاروں کے ذریعے سے سرزنش کی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون مختلف اسلوبوں سے بیان ہوا ہے۔ مثلاً:

      ’وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَاء الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنَاہَا رُجُوۡمًا لِّلشَّیَاطِیْنِ‘ (الملک: ۵)
      (اور ہم نے سماء دنیا کو تاروں سے سجایا ہے اور ان کو شیاطین کے سنگ سار کرنے کے لیے بھی بنایا ہے)

      دوسرے مقام میں ہے:

      ’وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوۡجًا وَزَیَّنَّاہَا لِلنَّاظِرِیْنَ ۵ وَحَفِظْنَاہَا مِن کُلِّ شَیْْطَانٍ رَّجِیْمٍ ۵ إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُّبِیْنٌ‘ (الحجر: ۱۶-۱۸)
      (اور ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور اس کو دیکھنے والوں کے لیے ستاروں سے مزین کیا ہے اور اس کو ہر شیطان رجیم سے محفوظ کیا ہے اور اگر کوئی چھپ کے ملاء اعلیٰ کی باتیں سننے کی کوشش کرتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے)۔

       

      جاوید احمد غامدی اور ہر سرکش شیطان کی دراندازی سے اُس کو بالکل محفوظ کر دیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور وہ ملاء اعلیٰ کی طرف کان نہیں لگانے پاتے اور وہ ہر جانب سے دھتکارے جاتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’لَا یَسَّمَّعُوۡنَ‘ یہ نفی فعل، نفی فائدہ فعل کے پہلو سے ہے۔ یعنی شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں سننے کی کوشش کرتے تو ہیں لیکن وہ کان لگانے پاتے نہیں۔ جب وہ یہ کرنا چاہتے ہیں تو ہر جانب سے ان پر سنگ باری ہوتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی وہ ملاء اعلیٰ کی طرف کان نہیں لگا سکتے اور (لگائیں تو) بھگانے کے لیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کھدیڑنے کے لیے اور ان کے لیے ایک دائمی عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’دُحُوْرٌ‘ کے معنی دھتکارنے اور کھدیڑنے کے ہیں اور ’وَاصِبٌ‘ کے معنی دائم کے۔ یعنی اس دنیا میں تو وہ اس طرح ملعون و مرجوم رہیں گے اور آخرت میں ان کے لیے ایک دائمی عذاب ہے۔

      جاوید احمد غامدی ہر طرف سے دھتکارے جاتے ہیں اور یہ اُن کے لیے دائمی عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی مگر یہ کہ کوئی اچک لے کوئی بات تو ایک دہکتا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی قدرت کے اس محکم انتظام کے بعد اس بات کا تو امکان ہے نہیں کہ کوئی شیطان ملاء اعلیٰ تک پہنچ سکے یا ان کی باتیں سن سکے۔ کوئی شریر جن اگر کچھ کر سکتا ہے تو یہ کر سکتا ہے کہ اچکوں کی طرح کوئی بات اچکنے کی کوشش کرے۔ سو اس کے سدباب کے لیے بھی یہ انتظام ہے کہ آسمان کی برجیوں سے ایک دہکتا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔
      اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ نہ فرشتوں کو خدا کی خدائی میں کوئی دخل ہے اور نہ جنات کی رسائی ملاء اعلیٰ تک ہے کہ وہاں سے وہ غیب کی کوئی خبر معلوم کر سکیں اس وجہ سے جو لوگ فرشتوں کو خدا کی چہیتی بیٹیاں سمجھ کر پوج رہے ہیں وہ بھی احمق اور جو جنات کو علم غیب کا وسیلہ سمجھ کر ان سے تعلق و توصل پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بھی احمق۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ عربوں کے شرک اور ان کی کہانت کی تمام گرم بازاری انہی دو مذکورہ تصورات پر تھی۔ قرآن نے یہاں جنوں اور فرشتوں دونوں کی حقیقت واضح کر کے ان کی ضلالت کے اس سارے کاروبار کو ختم کر دیا۔

      جاوید احمد غامدی تاہم کوئی شیطان اگر کچھ لے اڑے تو ایک دہکتا شعلہ اُس کا تعاقب کرتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر ملائکہ کے بارے میں مشرکین کے مزعومات کی تردید فرمائی تھی۔ اُس کے بعد اب یہ جنوں کے بارے میں بھی واضح کر دیا ہے کہ اُن کے پاس ہرگز کوئی غیب کا علم نہیں ہوتا۔ اِس لیے جو لوگ اُن کے اور خد اکے درمیان رشتہ جوڑنے کی کوشش کرتے اور اُن کی پرستش کرتے ہیں، وہ بھی بالکل احمق ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی پس ان سے پوچھو کہ کیا ان کے پیدا کرنے کا معاملہ زیادہ سخت ہے یا ان چیزوں کا جو ہم نے پیدا کی ہیں! ہم نے ان کو تو چپکتی مٹی سے پیدا کیا ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      امکان قیامت کی ایک واضح دلیل: احوال قیامت کے بیان کے لیے پہلے بطور تمہید اس کے امکان کے سوال کو لیا ہے کہ اگر یہ لوگ تمہارے انذار قیامت کو اس بنا پر جھٹلاتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جانا ان کے نزدیک مستبعد ہے تو ان سے پوچھو کہ یہ آسمان و زمین، یہ دریا اور پہاڑ، یہ سورج اور چاند جو خدا نے پیدا کیے ہیں ان کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آدمیوں کو؟ تو جو خدا یہ عظیم چیزیں عدم سے وجود میں لانے پر قادر ہے وہ انسان جیسی حقیر چیز کو دوبارہ پیدا کرنے سے کیوں عاجز رہے گا؟ یہی مضمون سورۂ مومن میں یوں بیان ہوا ہے:

      ’لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوۡنَ‘(۵۷)
      (آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنا لوگوں کو پیدا کرنے سے زیادہ مشکل ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے)

      یہی سوال دوسرے مقام میں یوں اٹھایا ہے:

      ’أَاَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقاً أَمِ السَّمَاء بَنَاہَا‘ (النٰزعٰت: ۲۷)
      (کیا تمہارا پیدا کیا جانا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا جس کو بنایا)۔

      ’اِنَّا خَلَقْنَاہُم مِّن طِیْنٍ لَّازِبٍ‘۔ ’طین لازب‘ چپکنے والی مٹی کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو تو ہم نے چپکنے والی مٹی سے بنا ڈالا۔ ہمیں ان کے بنانے کے لیے کوئی خاص سر و سامان فراہم نہیں کرنا پڑا تھا کہ دوبارہ اس کو فراہم کرنا ہمارے لیے مشکل ہو جائے۔ جس مٹی سے ہم نے ان کو بنایا اس کی بہت بڑی مقدار ہمارے پاس موجود ہے۔ ہم جب چاہیں گے ان کو پھر بنا دیں گے۔ جب پہلی بار ہمیں کو ئی مشکل پیش نہیں آئی تو دوبارہ ہمارے لیے یہ کام کیوں مشکل ہو جائے گا!
      یہاں ’اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا‘ میں ’مَنْ‘ کے استعمال سے ذہن اس طرف بھی جاتا ہے کہ مقابلہ ملائکہ اور جنات کی خلقت سے کیا جا رہا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ ان سے پوچھو کہ ان کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا دوسری مخلوقات جو ہم نے پیدا کی ہیں (مثلاً جنات اور ملائکہ) ان کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے۔ ان کو تو ہم نے مٹی سے پیدا کیا ہے اور ملائکہ اور جنوں کو تو نور اور نار سے پیدا کیا ہے تو اگر ہم ان کے پیدا کرنے پر قادر ہو گئے تو ان کو دوبارہ پیدا کرنے سے کیوں قاصر رہ جائیں گے!

       

      جاوید احمد غامدی اب اِن سے پوچھو کہ اِنھیں بنانا زیادہ مشکل ہے یا اُن کو جنھیں ہم (اِن سے پہلے) بنا چکے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اِنھیں تو ہم نے چپکتی مٹی سے پیدا کر دیا تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ملائکہ اور جنات وغیرہ۔ ’مَنْ خَلَقْنَا‘ کے الفاظ سے ذہن اِسی طرف جاتا ہے، اِس لیے کہ ’مَنْ‘ بالعموم ذوی العقول کے لیے آتا ہے۔
      یعنی اُسی چپکتی مٹی سے جس کی بہت بڑی مقدار اِس وقت بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ لہٰذا اِن کے بنانے کے لیے نہ اُس وقت ہمیں کوئی خاص سروسامان کرنا پڑا تھا اور نہ اب کرنا پڑے گا۔

    • امین احسن اصلاحی بلکہ تم تعجب کر رہے ہو اور یہ لوگ مذاق اڑا رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      متکلم اور مخاطب میں بعد المشرقین: یعنی تمہارے لیے ان کا انکار تعجب انگیز ہے اور ان کے لیے تمہارا یہ دعویٰ وجہ تمسخر ہے۔ تم حیران ہو رہے ہو کہ بھلا کوئی عاقل ایسی واضح حقیقت کو کس طرح جھٹلا سکتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ مذاق اڑا رہے ہیں کہ کوئی شخص عقل و ہوش رکھتے ہوئے اس طرح کی بات کس طرح کہہ سکتا ہے! مطلب یہ ہے کہ تمہارے اور ان کے درمیان بعد المشرقین ہے اور تم ان کی اس دوری کا صحیح اندازہ نہیں کر رہے ہو اس وجہ سے ان کا رویہ تمہارے لیے وجہ پریشانی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (نہیں، یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے)، بلکہ تمھیں تعجب ہے (کہ ایسی واضح حقیقت کو یہ مانتے کیوں نہیں) اور یہ مذاق اڑا رہے ہیں (کہ تم یہ کیسی باتیں مانتے ہو)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور جب ان کو یاددہانی کی جاتی ہے تو وہ دھیان نہیں کرتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس بُعد ذہنی کا لازمی نتیجہ بیان ہوا ہے کہ جب ان کے سوچنے کا انداز اتنا مختلف ہے کہ جو چیز تمہارے نزدیک بدیہی ہے وہ ان کے نزدیک ایک مذاق ہے تو تمہاری ساری تذکیر و تنبیہ ان کے لیے بالکل بے سود ہے۔ ان کو جو نصیحت بھی کی جاتی ہے وہ سب ہوا میں اڑ جاتی ہے۔ کوئی دلیل بھی ان پر کارگر نہیں ہوتی۔

      جاوید احمد غامدی اور جب اِنھیں یاددہانی کی جاتی ہے تو یاددہانی حاصل نہیں کرتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے (ہیں)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرمایا کہ اس طرح کے لوگ کسی بڑے سے بڑے معجزہ سے بھی قائل نہیں ہوتے۔ زچ کرنے کے لیے اس کا مطالبہ تو کرتے ہیں لیکن جب کوئی نشانی ان کے سامنے آتی ہے تو اس کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک کھلا ہوا جادو ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اُس کی ہنسی اڑاتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور کہتے ہیں یہ تو بس ایک کھلا ہوا جادو ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرمایا کہ اس طرح کے لوگ کسی بڑے سے بڑے معجزہ سے بھی قائل نہیں ہوتے۔ زچ کرنے کے لیے اس کا مطالبہ تو کرتے ہیں لیکن جب کوئی نشانی ان کے سامنے آتی ہے تو اس کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک کھلا ہوا جادو ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور کہتے ہیں کہ کچھ نہیں، یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو پھر ہم اٹھائے جائیں گے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ تعبیر ہے ان کے مذاق کی۔ فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ بھلا جب ہم مر جائیں گے اور سڑ گل کر مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو اس کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے؟ اور تعجب پر تعجب ان کو یہ ہے کہ کیا ان کے آباء اجداد بھی اٹھائے جائیں گے! یہ باتیں ان کو عقل سے بالکل بعید معلوم ہوتی ہیں اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ اس چیز سے ان کو ڈراتے ہیں وہ دیوانے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ تعبیر ہے ان کے مذاق کی۔ فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ بھلا جب ہم مر جائیں گے اور سڑ گل کر مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو اس کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے؟ اور تعجب پر تعجب ان کو یہ ہے کہ کیا ان کے آباء اجداد بھی اٹھائے جائیں گے! یہ باتیں ان کو عقل سے بالکل بعید معلوم ہوتی ہیں اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ اس چیز سے ان کو ڈراتے ہیں وہ دیوانے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ان کو جواب دے دو کہ ہاں تم اٹھائے بھی جاؤ گے اور ذلیل بھی ہو گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      چونکہ ان کا سوال بانداز مذاق ہے اس وجہ سے اس کا جواب بھی نہایت تیکھے انداز میں دیا ہے۔ فرمایا کہ جی ہاں، آپ لوگ اٹھائے بھی جاؤ گے اور اس وقت نہایت ذلیل بھی ہو گے!

      جاوید احمد غامدی کہو کہ ہاں اور تم ذلیل بھی ہو گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی بس وہ تو ایک ہی ڈانٹ ہو گی پس وہ تاکنے لگیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ظہور قیامت کے وقت منکرین کی حواس باختگی: یعنی یہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ ان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کو کوئی خاص اہتمام و انتظام کرنا پڑے گا۔ یہ کام صرف ایک ڈانٹ میں انجام پا جائے گا۔ ایک ہی ڈانٹ میں وہ دفعۃً اٹھ کر تاکنے لگیں گے۔ سورۂ نازعات میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے:

      ’فَإِنَّمَا ہِیَ زَجْرَۃٌ وَاحِدَۃٌ ۵ فَإِذَا ہُم بِالسَّاہِرَۃِ‘ (۱۳-۱۴)
      (بس وہ ایک ہی ڈانٹ ہو گی کہ وہ دفعۃً بیداری کی حالت میں آ جائیں گے)۔

      اس اسلوب بیان میں سراسیمگی اور دہشت زدگی کا جو مضمون ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی چنانچہ وہ ایک ڈانٹ ہی ہو گی، پھر اُسی وقت (اٹھ کر) دیکھنے لگیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ قرآن نے نہایت بلیغ اسلوب میں اُس دہشت اور سراسیمگی کی تصویر کھینچ دی ہے جس سے یہ لوگ دوچار ہوں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اور کہیں گے، ہائے ہماری شامت! یہ تو جزا کا دن ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی جس قیامت کا آج اس رعونت کے ساتھ انکار کر رہے ہیں اس وقت پکار اٹھیں گے کہ ہائے ہماری شامت! یہ تو وہی جزا و سزا کا دن آ گیا جس کو ہم جھٹلاتے رہے تھے۔

      جاوید احمد غامدی اور کہیں گے کہ ہاے ہماری کم بختی، یہ تو جزا کا دن ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List