Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 83 آیات ) Ya-Sin Ya-Sin
Go
  • یس (Ya-seen)

    83 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سورۂ یٰسٓ اور گروپ کی پچھلی دونوں سورتوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ پچھلی سورتوں میں توحید، معاد اور رسالت کے جو مطالب زیربحث آئے ہیں انہی پر اس میں بھی بحث ہوئی ہے۔ البتہ تفصیل و اجمال اور نہج استدلال کے اعتبار سے فرق ہے۔ پچھلی سورہ کے بعض مطالب اس میں تاریخی اور فطری دلائل سے اچھی طرح محکم و مدلل کر دیے گئے ہیں۔ اس کا آغاز اثبات رسالت کے اسی مضمون سے ہوا ہے جس پر سابق سورہ تمام ہوئی ہے۔ اور فلسفۂ دین کے نقطۂ نظر سے غور کیجیے تو یہ حقیقت بھی واضح طور پر نظر آئے گی کہ اس کی بنیاد بھی، پچھلی سورتوں کی طرح، شکر اور اس کے مقتضیات ہی پر ہے۔ آگے ہم سورہ کے مطالب کا تجزیہ پیش کرتے ہیں جس سے اس کا عمود اور نظام ان شاء اللہ اچھی طرح واضح ہو جائے گا۔

  • یس (Ya-seen)

    83 آیات | مکی

    یٰس

    ۳۶

    یہ ایک منفردسورہ ہے جس سے اِس باب میں اتمام حجت کی ابتدا ہو رہی ہے۔ اِس کے اور پچھلی دونوں سورتوں کے مضمون میں اِس کے سوا کوئی خاص فرق نہیں ہے کہ اسلوب بیان میں تنبیہ و تہدید، ملامت اور زجر و توبیخ کی شدت نمایاں ہوگئی ہے۔ اِس لحاظ سے یہ اگلی دونوں سورتوں کے لیے گویا اُس مضمون کی تمہید ہے جو اُن میں پایۂ تکمیل کو پہنچتا ہے۔
    اِس کے مخاطب قریش کے متکبرین ہیں اور اِس کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ سورۂ یٰسٓ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔
      یہ جس سورہ میں بھی آئے ہیں بالکل شروع میں اس طرح آئے ہیں جس طرح کتابوں، فصلوں اور ابواب کے شروع میں ان کے نام آیا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان سورتوں کے نام ہیں۔ قرآن نے جگہ جگہ ذٰلک اور تِلۡکَ کے ذریعہ سے ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے نام ہونے کو اور زیادہ واضح کر دیا ہے۔ حدیثوں سے بھی ان کا نام ہی ہونا ثابت ہوتا ہے۔
      جو سورتیں ان ناموں سے موسوم ہیں اگرچہ ان میں سے سب اپنے انہی ناموں سے مشہور نہیں ہوئیں بلکہ بعض دوسرے ناموں سے مشہور ہوئیں، لیکن ان میں سے کچھ اپنے انہی ناموں سے مشہور بھی ہیں۔ مثلاً طٰہٰ، یٰس، ق اور ن وغیرہ۔
      ان ناموں کے معانی کے بارے میں کوئی قطعی بات کہنا بڑا مشکل ہے اس وجہ سے ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ قرآن کا تو دعویٰ یہ ہے کہ وہ ایک بالکل واضح کتاب ہے، اس میں کوئی چیز بھی چیستاں یا معمے کی قسم کی نہیں ہے، پھر اس نے سورتوں کے نام ایسے کیوں رکھ دیے ہیں جن کے معنی کسی کو بھی نہیں معلوم؟
      اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک ان حروف کا تعلق ہے، یہ اہل عرب کے لئے کوئی بیگانہ چیز نہیں تھے بلکہ وہ ان کے استعمال سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس واقفیت کے بعد قرآن کی سورتوں کا ان حروف سے موسوم ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے قرآن کے ایک واضح کتاب ہونے پر کوئی حرف آتا ہو۔ البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے حروف سے نام بنا لینا عربوں کے مذاق کے مطابق تھا بھی یا نہیں تو اس چیز کے مذاق عرب کے مطابق ہونے کی سب سے بڑی شہادت تو یہی ہے کہ قرآن نے نام رکھنے کے اس طریقہ کو اختیار کیا۔ اگر نام رکھنے کا یہ طریقہ کوئی ایسا طریقہ ہوتا جس سے اہل عرب بالکل ہی نامانوس ہوتے تو وہ اس پر ضرور ناک بھوں چڑھاتے اور ان حروف کی آڑ لے کر کہتے کہ جس کتاب کی سورتوں کے نام تک کسی کی سمجھ میں نہیں آ سکتے اس کے ایک کتاب مبین ہونے کے دعوے کو کون تسلیم کر سکتا ہے۔
      قرآن پر اہل عرب نے بہت سے اعتراضات کئے اور ان کے یہ سارے اعتراض قرآن نے نقل بھی کئے ہیں لیکن ان کے اس طرح کے کسی اعتراض کا کوئی ذکر نہیں کیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان ناموں میں ان کے لئے کوئی اجنبیت نہیں تھی۔
      علاوہ بریں جن لوگوں کی نظر اہل عرب کی روایات اور ان کے لٹریچر پر ہے وہ جانتے ہیں کہ اہل عرب نہ صرف یہ کہ اس طرح کے ناموں سے نامانوس نہیں تھے بلکہ وہ خود اشخاص، چیزوں، گھوڑوں، جھنڈوں، تلواروں حتیٰ کہ قصائد اور خطبات تک کے نام اسی سے ملتے جلتے رکھتے تھے۔ یہ نام مفرد حروف پر بھی ہوتے تھے اور مرکب بھی ہوتے تھے۔ ان میں یہ اہتمام بھی ضروری نہیں تھا کہ اسم اور مسمٰی میں کوئی معنوی مناسبت پہلے سے موجود ہو بلکہ یہ نام ہی بتاتا تھا کہ یہ نام اس مسمٰی کے لئے وضع ہوا ہے۔
      اور یہ بالکل ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ جب ایک شے کے متعلق یہ معلوم ہو گیا کہ یہ نام ہے تو پھر اس کے معنی کا سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ نام سے اصل مقصود مسمٰی کا اس نام کے ساتھ خاص ہوجانا ہے نہ کہ اس کے معنی۔ کم ازکم فہم قرآن کے نقطۂ نظر سے ان ناموں کے معانی کی تحقیق کی تو کوئی خاص اہمیت ہے نہیں۔ بس اتنی بات ہے کہ چونکہ یہ نام اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے ہیں اس وجہ سے آدمی کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ضرور یہ کسی نہ کسی مناسبت کی بنا پر رکھے گئے ہوں گے۔ یہ خیال فطری طور پر طبیعت میں ایک جستجو پیدا کر دیتا ہے۔ اسی جستجو کی بنا پر ہمارے بہت سے پچھلے علماء نے ان ناموں پر غور کیا اور ان کے معنی معلوم کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ان کی جستجو سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا لیکن ہمارے نزدیک ان کا یہ کام بجائے خود غلط نہیں تھا اور اگر ہم بھی ان پر غور کریں گے تو ہمارا یہ کام بھی غلط نہیں ہو گا۔ اگر اس کوشش سے کوئِی حقیقت واضح ہوئی تو اس سے ہمارے علم میں اضافہ ہو گا اور اگر کوئی بات نہ مل سکی تو اس کو ہم اپنے علم کی کوتاہی اور قرآن کے اتھاہ ہونے پر محمول کریں گے۔ یہ رائے بہرحال نہیں قائم کریں گے کہ یہ نام ہی بے معنی ہیں۔
      اپنے علم کی کمی اور قرآن کے اتھاہ ہونے کا یہ احساس بجائے خود ایک بہت بڑا علم ہے۔ اس احساس سے علم و معرفت کی بہت سی بند راہیں کھلتی ہیں۔ اگر قرآن کا پہلا ہی حرف اس عظیم انکشاف کے لئے کلید بن جائے تو یہ بھی قرآن کے بہت سے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہو گا۔ یہ اسی کتاب کا کمال ہے کہ اس کے جس حرف کا راز کسی پر نہ کھل سکا اس کی پیدا کردہ کاوش ہزاروں سربستہ اسرار سے پردہ اٹھانے کے لئے دلیل راہ بنی۔
      ان حروف  پر ہمارے پچھلے علماء نے جو رائیں ظاہر کی ہیں ہمارے نزدیک وہ تو کسی مضبوط بنیاد پر مبنی نہیں ہیں اس وجہ سے ان کا ذکر کرنا کچھ مفید نہیں ہوگا۔ البتہ استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمة اللہ علیہ کی رائے اجمالاً یہاں پیش کرتا ہوں۔ اس سے اصل مسئلہ اگرچہ حل نہیں ہوتا لیکن اس کے حل کے لئے ایک راہ کھلتی ضرور نظر آتی ہے۔ کیا عجب کہ مولانا رحمة اللہ علیہ نے جو سراغ دیا ہے دوسرے اس کی رہنمائی سے کچھ مفید نشانات راہ اور معلوم کر لیں اور اس طرح درجہ بدرجہ تحقیق کے قدم کچھ اور آگے بڑھ جائیں۔
      جو لوگ عربی رسم الخط کی تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ عربی زبان کے حروف عبرانی سے لئے گئے ہیں اور عبرانی کے یہ حروف ان حروف سے ماخوذ ہیں جو عرب قدیم میں رائج تھے۔ عرب قدیم کے ان حروف کے متعلق استاذ امام رحمة اللہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ یہ انگریزی اور ہندی کے حروف کی طرف صرف آواز ہی  نہیں بتاتے تھے بلکہ یہ چینی زبان کے حروف کی طرف معانی اور اشیاء پر بھی دلیل ہوتے تھے اور جن معانی یا اشیاء پر وہ دلیل ہوتے تھے عموماً ان ہی کی صورت و ہئیت پر لکھے بھی جاتے تھے۔ مولانا کی تحقیق یہ ہے کہ یہی حروف ہیں جو قدیم مصریوں نے اخذ کئے اور اپنے تصورات کے مطابق ان میں ترمیم و اصلاح کر کے ان کو اس خط تمثالی کی شکل دی جس کے آثار اہرام مصر کے کتبات میں موجود ہیں۔
      ان حروف کے معانی کا علم اب اگرچہ مٹ چکا ہے تاہم بعض حروف کے معنی اب بھی معلوم ہیں اور ان کے لکھنے کے ڈھنگ میں بھی ان کی قدیم شکل کی کچھ نہ کچھ جھلک پائی جاتی ہے۔ مثلاً “الف” کے متعلق معلوم ہے کہ وہ گائے کے معنی بتاتا تھا اور گائے کے سر کی صورت ہی پر لکھا جاتا ہے۔ “ب” کو عبرانی میں بَیت کہتے بھی ہیں اور اس کے معنی بھی “بیت” (گھر) کے ہیں۔ “ج” کا عبرانی تلفظ جمیل ہے جس کے معنی جمل (اونٹ) کے ہیں۔ “ط” سانپ کے معنی میں آتا تھا اور لکھا بھی کچھ سانپ ہی کی شکل پر جاتا تھا۔ “م” پانی کی لہر پر دلیل ہوتا ہے اور اس کی شکل بھی لہر سے ملتی جلتی بنائی جاتی تھی۔
      مولانا اپنے نظریہ کی تائید میں سورہ “ن” کو پیش کرتے ہیں۔ حرف “نون” اب بھی اپنے قدیم معنی ہی میں بولا جاتا ہے۔ اس کے معنی مچھلی کے ہیں اور جو سورہ اس نام سے موسوم ہوئی ہے اس میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر صاحب الحوت، مچھلی والے، کے نام سے آیا ہے۔ مولانا اس نام کو پیش کر کے فرماتے ہیں کہ اس سے ذہن قدرتی طور پر اس طرف جاتا ہے کہ اس سورہ کا نام “نون” (ن) اسی وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس میں صاحب الحوت، حضرت یونس علیہ السلام، کا واقعہ بیان ہوا ہے جن کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ پھر کیا عجب ہے کہ بعض دوسری سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں وہ  بھی اپنے قدیم معانی اور سورتوں کے مضامین کے درمیان کسی مناسبت ہی کی بنا پر آئے ہوں۔
      قران مجید کی بعض اور سورتوں کے ناموں سے بھی مولانا کے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے مثلاً حرف “ط” کے معنی، جیسا کے میں نے اوپر بیان کیا ہے، سانپ کے تھے اور اس کے لکھنے کی ہئیت بھی سانپ کی ہئیت سے ملتی جلتی ہوتی تھی۔ اب قرآن میں سورہ طٰہٰ کو دیکھئے جو “ط” سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں ایک مختصر تمہید کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی لٹھیا کے سانپ بن جانے کا قصہ  بیان ہوتا ہے۔ اسی طرح طسم، طس وغیرہ بھی “ط” سے شروع ہوتی ہیں اور ان میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لٹھیا کے سانپ کی شکل اختیار کر لینے کا معجزہ مذکور ہے۔
      “الف” کے متعلق ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ گائے کے سر کی ہئیت پر لکھا بھی جاتا تھا اور گائے کے معنی بھی بتاتا تھا۔ اس کے دوسرے معنی اللہ واحد کے ہوتے تھے۔ اب قرآن مجید میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ سورہ بقرہ میں جس کا نام الف سے شروع ہوتا ہے، گائے کے ذبح کا قصہ بیان ہوا ہے۔ دوسری سورتیں جن کے نام الف سے شروع ہوئے ہیں توحید کے مضمون میں مشترک نظر آتی ہیں۔ یہ مضمون ان میں خاص اہتمام کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ان ناموں کا یہ پہلو بھی خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ جن سورتوں کے نام ملتے جلتے سے ہیں ان کے مضامین بھی ملتے جلتے ہیں بلکہ بعض سورتوں میں تو اسلوب بیان تک ملتا جلتا ہے۔
      میں نے مولانا کا یہ نظریہ، جیسا کہ عرض کر چکا ہوں، محض اس خیال سے پیش کیا ہے کہ اس سے حروف مقطعات پر غور کرنے کے لئے ایک علمی راہ کھلتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی حیثیت ابھی ایک نظریہ سے زیادہ نہیں ہے۔ جب تک تمام حروف کے معانی کی تحقیق ہو کر ہر پہلو سے ان ناموں اور ان سے موسوم سورتوں کی مناسبت واضح نہ ہوجائے اس وقت تک اس پر ایک نظریہ سے زیادہ اعتماد کر لینا صحیح نہیں ہوگا۔ یہ محض علوم قرآن کے قدردانوں کے لئے ایک اشارہ ہے، جو لوگ مزید تحقیق و جستجو کی ہمت رکھتے ہیں وہ اس راہ میں قسمت آزمائی کریں۔ شاید اللہ تعالیٰ اس راہ سے یہ مشکل آسان کر دے۔
      یہ اس سورہ کا قرآنی نام ہے۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی ’یٰٓاَیُّھَا الْاِنْسَانُ‘ کے لیے ہیں لیکن یہ بات بالکل بے دلیل ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورۂ ’یٰسٓ‘ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق ہم نے اپنا نقطۂ نظر سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر دیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی شاہد ہے پرحکمت قرآن۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن کے اعجاز میں اصلی دخل اس کی حکمت کو ہے: ’و‘ قسم کے مفہوم میں ہے اور قسم عربی میں، جیسا کہ ہمارے استاذ مولانا فراہیؒ نے اپنی کتاب ’’الامعان فی اقسام القرآن‘‘ میں وضاحت فرمائی ہے، شہادت کے لیے آتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پر حکمت قرآن جو تم لوگوں کو سنا رہے ہو، خود اس بات کی شہادت کے لیے کافی ہے کہ تم رسولوں کے زمرے سے تعلق رکھنے والے ہو۔ رسول کے سوا کوئی دوسرا اس طرح کا حکیمانہ اور معجز کلام پیش کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے اعجاز میں اصلی دخل اس کی حکمت، اس کے فلسفہ کو ہے۔ اس کی زبان کی بلاغت و جزالت مزید برآں ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ سراسر حکمت قرآن گواہی دیتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کہ تم رسولوں میں سے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن کے اعجاز میں اصلی دخل اس کی حکمت کو ہے: ’و‘ قسم کے مفہوم میں ہے اور قسم عربی میں، جیسا کہ ہمارے استاذ مولانا فراہیؒ نے اپنی کتاب ’’الامعان فی اقسام القرآن‘‘ میں وضاحت فرمائی ہے، شہادت کے لیے آتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پر حکمت قرآن جو تم لوگوں کو سنا رہے ہو، خود اس بات کی شہادت کے لیے کافی ہے کہ تم رسولوں کے زمرے سے تعلق رکھنے والے ہو۔ رسول کے سوا کوئی دوسرا اس طرح کا حکیمانہ اور معجز کلام پیش کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے اعجاز میں اصلی دخل اس کی حکمت، اس کے فلسفہ کو ہے۔ اس کی زبان کی بلاغت و جزالت مزید برآں ہے۔

      جاوید احمد غامدی کہ یقیناً تم رسولوں میں سے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے کہ ایسا حکیمانہ اور معجز کلام صرف خدا کا رسول ہی پیش کر سکتا ہے جس میں خدا بولتا ہوا نظر آئے، جو اُن حقائق کو واضح کرے جن کا واضح ہونا انسانیت کی شدید ضرورت ہے اور وہ کسی انسان کے کلام سے کبھی واضح نہیں ہوئے، جو اُن معاملات میں رہنمائی کرے جن میں رہنمائی کے لیے کوئی دوسرا ذریعہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ایک ایسا کلام جس کے حق میں وجدان گواہی دے، علم و عقل کے مسلمات جس کی تصدیق کریں، جو ویران دلوں کو اِس طرح سیراب کر دے، جس طرح مردہ زمین کو بارش سیراب کرتی ہے، جس میں وہی شان، وہی حسن بیان، وہی فصاحت و بلاغت اور وہی تاثیر ہو جو قرآن کا پڑھنے والا، اگراُس کی زبان سے واقف ہو تو اُس کے لفظ لفظ میں محسوس کرتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ایک نہایت سیدھی راہ پر۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن سے اعراض فطرت سے انحراف کا نتیجہ ہے: یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے اور اس کے بغیر حرف عطف کے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن حکیم بیک وقت دونوں باتوں کا شاہد ہے۔ اس بات کا بھی کہ تم اللہ کے رسولوں میں سے ہو اور اس بات کا بھی کہ تم بالکل سیدھی راہ پر ہو اور لوگوں کو سیدھی راہ پر چلنے کی دعوت دے رہے ہو۔ تنکیر یہاں تفخیم شان کے لیے ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ راہ عقل و فطرت اور خدا کی بتائی ہوئی نہایت سیدھی راہ ہے۔ جو لوگ یہ سیدھی راہ اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں انھوں نے اپنی فطرت بگاڑ لی ہے اور اپنی عقل سے کام لینا چھوڑ دیا ہے اس وجہ سے انھیں سیدھی چیز ٹیڑھی نظر آ رہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی ایک نہایت سیدھی راہ پر۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘۔ یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے جو حرف عطف کے بغیر آ گئی ہے، اِس لیے کہ قرآن کی شہادت یہاں بہ یک وقت دونوں باتوں پر پیش کی گئی ہے، اِس پر بھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اِس پر بھی کہ آپ صراط مستقیم پر ہیں۔ ہم نے ترجمے میں اِسے ملحوظ رکھا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جس کو نہایت اہتمام سے اتارا ہے خدائے عزیز و رحیم نے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن انذار اور بشارت ہے: ’تَنزِیْل‘ فعل محذوف سے منصوب ہے۔ اس کے معنی کی وضاحت دوسرے مقام میں ہم کر چکے ہیں کہ یہ کسی چیز کو درجہ بدرجہ نہایت اہتمام کے ساتھ اتارنے کے لیے بھی آتا ہے۔ یہ قرآن کے ایک دوسرے پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس کو خدائے عزیز و رحیم نے نہایت اہتمام و تدریج کے ساتھ اتارا ہے کہ لوگ اس پر غور کریں، اس کو سمجھیں اور اس سے ’صراط مستقیم‘ کی رہنمائی حاصل کریں۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی دو صفتوں کا حوالہ ہے۔ ایک ’عزیز‘ دوسری ’رحیم‘۔ ان میں ایک صفت انذار کے لیے ہے اور دوسری بشارت کے لیے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس کی تکذیب کریں گے وہ یاد رکھیں کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ ایک عزیز و مقتدر کا فرمان واجب الاذعان ہے جو سرکشی کرنے والوں کو لازماً سزا دے گا۔ ساتھ ہی وہ رحیم بھی ہے اور اپنی اس رحمت ہی کے لیے اس نے یہ کتاب اتاری ہے تو جو اللہ کے بندے اس قرآن کی قدر کریں گے ان کو وہ اپنی بے پایاں رحمتوں سے نوازے گا۔

      جاوید احمد غامدی یہ پورے اہتمام کے ساتھ اُس ہستی کی طرف سے اتارا گیا ہے جو زبردست ہے، جس کی شفقت ابدی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں لفظ ’تَنْزِیْل‘ کا نصب فعل محذوف سے ہے اور یہ جس ہستی کی طرف سے ہے، اُس کی دو صفتوں کا حوالہ دیا گیا ہے: ایک ’عَزِیْز‘، دوسری ’رَحِیْم‘۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِن میں ایک صفت انذار کے لیے ہے اور دوسری بشارت کے لیے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اِس کی تکذیب کریں گے، وہ یاد رکھیں کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں، بلکہ ایک عزیز و مقتدر کا فرمان واجب الاذعان ہے جو سرکشی کرنے والوں کو لازماً سزا دے گا۔ ساتھ ہی وہ رحیم بھی ہے اور اپنی اِس رحمت ہی کے لیے اُس نے یہ کتاب اتاری ہے تو جو اللہ کے بندے اِس قرآن کی قدر کریں گے، اُن کو وہ اپنی بے پایاں رحمتوں سے نوازے گا۔‘‘(تدبر قرآن۶/ ۴۰۱)

    • امین احسن اصلاحی کہ تم ان لوگوں کو آگاہ کر دو جن کے اگلوں کو آگاہ نہی کیا گیا پس وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      بنی اسماعیل کو تنبیہ: یہ قرآن کے اتارنے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ نے اس کو اس اہتمام سے اس لیے اتارا ہے کہ جن کے اندر تم سے پہلے کسی رسول کی بعثت نہیں ہوئی تھی اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔ ان کو تم زندگی کے انجام سے اچھی طرح آگاہ کر دو۔ یہ اشارہ بنی اسماعیل کی طرف ہے اور یہ اس عظیم احسان کا بیان ہے جو حضرت ابراہیمؑ کی دعا اور حضرات انبیاء علیہم السلام کی پیشین گوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے امیوں پر کیا۔ اس میں ان کے لیے ترغیب کے ساتھ یہ ترہیب بھی ہے کہ اگر انھوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو اپنے لیے سب سے بڑی سعادت کی جگہ سب سے بڑی شقاوت کا سامان کریں گے۔ یہی مضمون دوسرے مقامات میں اس طرح بیان ہوا ہے:

      ’لِتُنذِرَ قَوْماً مَّا أَتَاہُم مِّن نَّذِیْرٍ مِّن قَبْلِکَ‘ (القصص: ۴۶)
      (تاکہ تم ان لوگوں کو آگاہ کر دو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی نذیر نہیں آیا)۔

       

      جاوید احمد غامدی اِس لیے اتارا گیا ہے کہ تم اُن لوگوں کو خبردار کرو جن کے اگلوں کو خبردار نہیں کیا گیا تھا، لہٰذا غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اشارہ بنی اسمٰعیل کی طرف ہے جن کے پاس پچھلے ڈھائی ہزار سال میں کوئی رسول نہیں آیا تھا۔

    • امین احسن اصلاحی ان میں سے بہتوں پر ہماری بات پوری ہو چکی ہے تو وہ ایمان لانے والے نہیں بنیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سرکشوں سے اعراض کی ہدایت: ’قول‘ سے اشارہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف ہے جو اس نے ابلیس کے جواب میں اس وقت فرمایا تھا جب اس نے یہ دھمکی دی تھی کہ میں ذریت آدم کی اکثریت کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ

      ’لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ‘
      (میں ایسے تمام جنوں اور انسانوں سے جو تیری پیروی کریں گے دوزخ کو بھر دوں گا)

      اسی قول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہارا فرض انذار کرنا ہے وہ کرتے رہو لیکن یہ توقع نہ رکھو کہ ان میں سے ہر شخص تمہاری دعوت قبول کرے گا بلکہ ان میں بہتیرے ایسے ہیں جن پر ہماری بات صادق آ چکی کہ وہ ابلیس کی پیروی کے جرم میں جہنم کے ایندھن بنیں گے۔ اس طرح کے لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ ان کے درپے اور ان کے لیے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اُن میں سے بہتوں پر ہماری بات پوری ہو چکی ہے، سو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی وہ بات جو ہم نے ابلیس کے جواب میں کہی تھی کہ جو تیری پیروی کریں گے، خواہ جن ہوں یا انسان، اُن سے میں جہنم کو بھر دوں گا۔ قرآن میں نقل ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اُس وقت فرمائی تھی، جب ابلیس نے یہ دھمکی دی تھی کہ میں آدم کے بیٹوں کی اکثریت کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔

    • امین احسن اصلاحی ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک ہیں پس ان کے سر اٹھے رہ گئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مستکبرین کے استکبار کی تصویر: یہ ان ایمان نہ لانے والوں کے استکبار کی تصویر ہے کہ گویا ان کی گردنوں میں ایسے طوق پڑے ہوئے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک پہنچتے ہیں جس کے سبب سے ان کے سر اس طرح اٹھے ہوئے رہ گئے ہیں کہ نہ وہ نیچے کی طرف جھک سکتے ہیں اور نہ اوپر ہی کی طرف اٹھ سکتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ وہ زمین کی نشانیاں دیکھ سکتے اور نہ آسمان کے عجائب ہی پر نگاہ ڈال سکتے۔ ان کی اس حالت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو ایسا بنا دیا ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم جگہ جگہ اشارہ کرتے آ رہے ہیں، یہ ہے کہ کسی فرد یا گروہ کی یہ حالت اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق ہوتی ہے۔ جو لوگ حق سے انحراف و اعراض کی یہ روش دیدہ و دانستہ اختیار کر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے آنکھیں بند کر کے زندگی گزارتے ہیں ان کے اوپر اللہ ان کی خواہشیں اور ان کے اعمال اسی طرح مسلط کر دیتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر کوئی تعلیم و تذکیر ان پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ اسی حقیقت کی طرف ’کَلَّا بَلْ رَانَ عَلَی قُلُوبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ‘ (المطففین: ۱۴) میں اشارہ فرمایا ہے۔
      ’مقمح‘ اصل میں اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کا سر پیچھے کی جانب اس طرح باندھ دیا گیا ہو کہ اس کی گردن ایک خاص حد سے نہ نیچے ہو سکے نہ اوپر۔ بالکل یہی حال اس شخص کا ہوتا ہے جس کے گلے میں آہنی طوق ڈال دیا جائے۔ وہ بھی اپنا سر نہ نیچے کر سکتا ہے نہ اوپر بلکہ ایک خاص زاویہ پر اس کی گردن تنی رہتی ہے۔ یہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مستکبرین کی تصویر ہے۔ اس طرح کے لوگ اپنے اوپر نیچے اور دہنے بائیں کی تمام نشانیوں سے بے خبر ہی رہتے ہیں۔ ان کو اپنی ’انا‘ کے سوا اور کسی چیز کی طرف کبھی توجہ نہیں ہوتی۔

      جاوید احمد غامدی (وہ ایسے متکبر ہیں کہ) اُن کی گردنوں میں ہم نے (گویا) طوق ڈال دیے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں، سو اُن کے سر اٹھے رہ گئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی گردنیں ایسی تنی ہوئی ہیں کہ اوپر نیچے اور دائیں بائیں کوئی حقیقت دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ مستکبرین کی تصویر ہے۔ اِسی طرح کے لوگ ہیں جو اعتراف حق کی سعادت سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیے جاتے ہیں اور یہ اُس سنت الٰہی کے مطابق ہوتا ہے جو ہدایت و ضلالت کے باب میں مقرر کی گئی ہے۔ اِن کی اِس حالت کو اللہ تعالیٰ نے اِسی بنا پر اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے ان کے آگے سے بھی ایک روک کھڑی کر دی ہے اور ان کے پیچھے سے بھی ایک روک کھڑی کر دی ہے۔ اس طرح ہم نے ان کو ڈھانک دیا ہے پس ان کو سجھائی نہیں دے رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اوپر والے مضمون ہی کی وضاحت ہے کہ اس طرح ہم نے ان کے آگے اور پیچھے دونوں طرف سے اوٹ کھڑی کر دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے جس کے سبب سے انھیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے۔ ان کی اسی حالت پر سورۂ سبا میں اظہار تعجب فرمایا ہے:

      ’أَفَلَمْ یَرَوْا إِلَی مَا بَیْْنَ أَیْْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ‘ (۹)
      (کیا ان لوگوں نے ان کے آگے اور پیچھے جو آسمان و زمین ہیں ان پر نگاہ نہیں ڈالی؟)

      اس طرح کے مستکبرین کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ اپنی پچھلی روایات اور اپنے مستقبل کے مطامع کے غلام ہوتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں ان کی راہ میں اس طرح روک بن جاتی ہیں کہ ان سے ہٹ کر وہ کوئی چیز دیکھنے کے قابل رہ ہی نہیں جاتے۔

       

      جاوید احمد غامدی ہم نے اُن کے آگے بھی ایک دیوار کھڑی کر دی ہے اور اُن کے پیچھے بھی ایک دیوار کھڑی کر دی ہے۔ اِس طرح ہم نے اُن کو ڈھانک دیا ہے تو اُنھیں اب کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ان کے لیے یکساں ہے، ان کو ڈراؤ یا نہ ڈراؤ، وہ ایمان نہیں لانے کے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ظاہر ہے کہ اس طرح کے لوگ ایک سخت قسم کی عقلی و اخلاقی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کو ڈرانا یا نہ ڈرانا اصل مقصد کے لحاظ سے بالکل بے سود ہوتا ہے۔ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے۔ ان کو اگر انذار کیا جاتا ہے تو محض اتمام حجت کے لیے کہ قیامت کے دن یہ کوئی عذر نہ پیش کر سکیں۔ سورۂ بقرہ کے شروع میں ختم قلوب پر جو بحث گزر چکی ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔

      جاوید احمد غامدی اُن کے لیے برابر ہے، تم اُنھیں خبردار کرو یا نہ کرو، وہ نہیں مانیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی تم تو بس انہی کو ڈرا سکتے ہو جو نصیحت پر دھیان کریں اور غیب میں خدائے رحمان سے ڈریں۔ سو ایسے لوگوں کو مغفرت اور باعزت صلہ کی بشارت دو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن ان پر کارگر ہو سکتا ہے جو عقل سے کام لیں: یعنی تمہاری تعلیم و تذکیر تو بس انہی کے اوپر کارگر ہو سکتی ہے جو تمہاری نصیحت سنیں، اس پر غور کریں اور اپنے دلوں کے دروازے اس کے لیے کھولیں۔ نیز یہ کہ وہ اپنی عقل سے کام لیں، نرے محسوسات کے غلام بن کے زندگی نہ گزاریں کہ جب تک ان کو عذاب نہ دکھا دیا جائے اس وقت تک کوئی بات ماننے ہی کے لیے تیار نہ ہوں۔ ایمان معتبر وہ ہے جو سمع و بصر اور عقل و دل کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر لایا جاتا ہے نہ کہ حقائق کو آنکھوں سے دیکھ کر۔ فرمایا کہ جو لوگ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ کر ایمان لانا چاہتے ہیں ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ البتہ ان لوگوں کو مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دو جو غیب میں رہتے، خدائے رحمان سے ڈرتے ہیں۔
      خدا سے خشیت اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے: یہ حقیقت ہم جگہ جگہ واضح کر چکے ہیں کہ خدا سے خشیت درحقیقت اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے۔ وہ رحمان ہے اس وجہ سے لازم ہے کہ وہ نیکوں کو ان کی نیکی کا صلہ اور بدوں کو ان کی بدی کی سزا دے۔ اسی رحمانیت کے ظہور کے لیے اس نے جزا اور سزا کا دن مقرر کیا ہے جس میں اس کی کامل رحمت اور اس کے کامل عدل کا ظہور ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی تم تو، (اے پیغمبر)، صرف اُنھی کو خبردار کر سکتے ہو جو نصیحت پر چلیں اور بن دیکھے خداے رحمن سے ڈریں۔ سو اِس طرح کے لوگوں کو مغفرت کی اور (خدا کی طرف سے) با عزت صلے کی بشارت دو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی بے شک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم نوٹ کر رہے ہیں جو کچھ انھوں نے آگے کے لیے بڑھایا اور جو کچھ پیچھے چھوڑا اور ہم نے ہر چیز ایک واضح کتاب میں محفوظ کر لی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      روز جزا کی یاددہانی: یہ اسی روز جزا کی یاددہانی ہے جو اس کی رحمانیت کا لازمی تقاضا ہے۔ فرمایا کہ ایک دن آئے گا کہ ہم تمام مردوں کو زندہ کریں گے اور اس دنیا میں انھوں نے آگے کے لیے جو کچھ کیا اور پیچھے کے لیے جو کچھ چھوڑا ہے، ہم اس سارے کو قلم بند کر رہے ہیں۔ مقصود اس سے اس کے لازم کو واضح کرنا ہے کہ جب ہم سب کو زندہ بھی کریں گے اور ہر ایک کے اعمال نوٹ بھی کر رہے ہیں تو لازماً ہر ایک کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق معاملہ بھی کریں گے۔ اس لازمی نتیجہ کی یہاں وضاحت نہیں کی۔ اس کی وجہ اول تو یہ ہے کہ یہ بغیر ذکر کے بھی واضح ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قیامت کے باب میں منکرین کا اصلی شبہ صرف دو پہلوؤں سے تھا۔ ایک اس پہلو سے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو مستبعد سمجھتے تھے۔ دوسرا اس پہلو سے کہ اتنی وسیع دنیا کے تمام اعمال و اقوال کون محفوظ رکھ سکتا ہے کہ وہ ایک دن اس سارے کا حساب کرنے بیٹھے؟ یہ دونوں شبہات یہاں صاف کر دیے جس کے بعد اس کا لازمی نتیجہ خود بخود سامنے آ گیا۔
      ’مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَہُمْ‘ میں وہی مضمون بیان ہوا ہے جو دوسرے مقام میں ’یٰنَبَّأُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اس دنیا میں انسان بہت سے کام، اپنے تصور کے مطابق، آخرت کے لیے کرتا ہے اور بہت سے کام اپنی اس دنیا کی زندگی یا اپنے بعد والوں کے لیے کرتا ہے۔ فرمایا کہ ہم اس کے ان دونوں ہی طرح کے کاموں کو نوٹ کر رہے ہیں۔
      ’اِمَامٍ مُبِیْنٍ‘ سے مراد: ’وَکُلَّ شَیْْءٍ أحْصَیْْنَاہُ فِیْ اِمَامٍ مُبِیْنٍ‘۔ ’اِمَامٍ‘ کے اصلی معنی رہنما، ہادی، لیڈر اور مرجع کے ہیں۔ یہیں سے یہ لفظ اس کتاب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو سب کے لیے رہنما اور مرکز و مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ ہود آیت ۱۷ اور احقاف آیت ۱۲ میں یہ لفظ تورات کے لیے آیا ہے۔ یہاں یہ اس مرکزی کتاب کے لیے استعمال ہوا ہے جس میں ہر شخص کے اعمال درج ہوں گے اور جس کے مطابق ہر شخص جزا یا سزا پائے گا۔ یہ اوپر والے ٹکڑے کی مزید وضاحت ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ لوگوں کے اعمال و اقوال کی تحریر میں ہم نے کسی غفلت و بے پروائی سے کام لیا ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ ہر چیز ایک نہایت واضح دفتر میں درج کر رکھی ہے جو سب کے سامنے اس کا سارا کچا چٹھا پیش کر دے گا۔

      جاوید احمد غامدی یقیناً ہم ہی (ایک دن) مردوں کو زندہ کریں گے اور (اُن کے حساب میں بھی ہمیں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی، اِس لیے کہ) اُنھوں نے جو کچھ آگے بھیجا اور جو کچھ پیچھے چھوڑا ہے، وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں اور ہم نے ہر چیز ایک واضح کتاب میں درج کر لی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ تہدید کے لیے فرمایا ہے کہ کوئی اِس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اتنی وسیع دنیا اور اتنے بے شمار انسانوں کے اعمال کا حساب کون کرے گا اور کس طرح کرے گا؟

    • امین احسن اصلاحی اور ان کو بستی والوں کی مثال سناؤ، جب کہ ان کے پاس فرستادے آئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کی عبرت کے لیے مصر کی مثال: ’لَہُمْ‘ میں ضمیر کا مرجع قریش ہیں اور ’اَصْحَابَ الْقَرْیَۃِ‘ میں ’قَرْیَۃ‘ پر الف لام اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ بستی مخاطب کے لیے ایک معہود و معلوم بستی تھی۔ آگے کے اشارات دلیل ہیں کہ اس سے مراد مصر ہے جس کی سرگزشت، مختلف اسلوبوں سے، قرآن میں، قریش کی عبرت پذیری کے لیے بیان ہوئی ہے اور جس کے حالات سے وہ واقف تھے۔ ’اِذْ جَآءَہَا الْمُرْسَلُوۡنَ‘ سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہاں مقصود مخاطب کو اس وقت کے حالات کی طرف توجہ دلانا ہے جب ان کی طرف رسولوں کی بعثت ہوئی ہے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کو اس بستی کی سرگزشت کی طرف توجہ دلاؤ کہ جو انجام اس بستی والوں کا ہوا وہی حال ان کا بھی ہو گا اگر انھوں نے انہی کی روش اختیار کی۔

      جاوید احمد غامدی اِنھیں بستی والوں کی مثال سناؤ، جبکہ اُن کے پاس رسول آئے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      قرآن نے بستی کا نام نہیں لیا، لیکن آگے کے اشارات دلیل ہیں کہ اِس سے مراد مصر ہے جس کی سرگذشت قریش کی عبرت پذیری کے لیے قرآن میں متعدد مقامات پر بیان ہوئی ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر’’تدبرقرآن‘‘ میں اِن اشارات کی تفصیل کر دی ہے۔
      یعنی اُسی طرح، جیسے اب اِن کی طرف خدا کا رسول آیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جب کہ ہم نے ان کے پاس دو رسول بھیجے تو لوگوں نے ان کی تکذیب کر دی تو ہم نے ایک تیسرے سے ان کی تائید کی تو انھوں نے لوگوں سے کہا کہ ہم تمہارے پاس بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک تیسرے بندے سے رسولوں کی تائید: یہ ’اِذْ جَآءَہَا الْمُرْسَلُوۡنَ‘ کے اجمال کی وضاحت ہو رہی ہے کہ پہلے ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے تو انھوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ پھر ہم نے ایک تیسرے بندے سے ان دونوں رسولوں کو کمک پہنچائی اور انھوں نے ان کو دعوت دی کہ ہم تمہارے پاس خدا کے بھیجے ہوئے آئے ہیں تو تم لوگ ہماری بات سنو اور مانو۔
      ’اثْنَیْْنِ‘ سے مراد تو ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ و حضرت ہارون علیہما السلام ہیں۔ رسولوں کی تاریخ میں یہی ایک مثال ملتی ہے کہ کسی قوم کی طرف بیک وقت دو رسول اللہ تعالیٰ نے بھیجے۔ اس اہتمام خاص کے وجوہ کی تفصیل سورتوں میں گزر چکی ہے۔ جب فرعونیوں نے ان کی تکذیب کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ایک تیسرے بندے کو ان رسولوں کی تائید کے لیے اٹھایا۔
      تیسرے سے کون مراد ہے؟ اس تیسرے سے کون مراد ہے؟ میرے نزدیک اس سے وہ مومن آل فرعون مراد ہے جس کی جانبازیوں کا ذکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سرگزشت کے ذیل میں یہاں بھی آگے ہوا ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات، بالخصوص سورۂ مومن، میں بھی ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تائید و حمایت میں اس مرد حق نے جو کچھ کیا ہے اور جس بے خوفی و جانبازی کے ساتھ کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی حیثیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں وہی تھی جو اس امت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہے۔ یہ اگرچہ اصطلاحی مفہوم میں رسول نہیں تھے لیکن جہاں تک رسولوں کی تائید و حمایت کا تعلق ہے اس کے لیے انھوں نے جان لڑا دی۔ چنانچہ الفاظ قرآن سے خود یہ بات نکلتی ہے کہ ان کا ذکر یہاں ایک رسول کی حیثیت سے نہیں بلکہ رسولوں کے ایک خاص مددگار کی حیثیت سے ہوا ہے۔
      آگے آیت ۲۰ میں ان کا تفصیل کے ساتھ تعارف بھی قرآن نے کرایا ہے اور ان کی وہ آخری یادگار تقریر بھی آ رہی ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تائید میں انھوں نے کی ہے۔
      مثلاً یہاں ان کا تعارف اس طرح کرایا ہے: ’وَجَآءَ مِنْ أَقْصَی الْمَدِیْنَۃِ رَجُلٌ یَسْعٰی‘ (اور شہر کے دور کے حصہ سے ایک شخص بھاگا ہوا آیا) بعینہٖ انہی الفاظ میں ان کا تعارف سورۂ قصص آیت ۲۰ میں ہوا ہے:

      ’وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَی الْمَدِیْنَۃِ یَسْعَی قَالَ یَا مُوسَی إِنَّ الْمَلَأَ یَأْتَمِرُونَ بِکَ لِیَقْتُلُوکَ فَاخْرُجْ إِنِّیْ لَکَ مِنَ النَّاصِحِیْنَ‘
      (اور ایک شخص شہر کے پرلے سرے سے بھاگا ہوا آیا اور اس نے بتایا کہ اے موسیٰ! اعیان حکومت تمہارے قتل کے مشورے کر رہے ہیں تو تم یہاں سے نکل جاؤ، میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں)۔

      یہ اس موقع کا ذکر ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ایک مصری کے قتل کا واقعہ صادر ہو گیا تھا اور فرعون کے آدمی ان کے قتل کے مشورے کر رہے تھے۔ اس وقت اسی مرد حق نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دشمنوں کی سازش سے آگاہ کیا اور ان کو کہیں نکل جانے کا مشورہ دیا۔ جس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مدین کو ہجرت فرمائی۔
      ان کی جس تائید و حمایت کا یہاں حوالہ ہے اس کی ایک مثال تو یہیں آگے آ رہی ہے۔ اس کے علاوہ قرآن نے ان کے متعدد کارناموں کا حوالہ دیا ہے۔ سورۂ مومن کی آیت ۲۸ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرعون کے خاص شاہی خاندان کے ایک فرد تھے لیکن نہایت حق پرست تھے۔ ان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ان کی بعثت سے پہلے بھی نہایت ہمدردی تھی چنانچہ اوپر سورۂ قصص کا جو حوالہ نقل ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انھیں پتہ چلا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جان کو خطرہ ہے تو وہ چین سے بیٹھے نہیں رہے۔ بلکہ دور سے بھاگے ہوئے حضرت موسیٰؑ کے پاس پہنچے اور ان کو خطرے سے آگاہ کیا ۔۔۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دعوائے نبوت کے بعد جب فرعون اور اس کے اعیان نے حضرت موسیٰؑ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تو اس مرد حق نے بھرے دربار میں جو تقریر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تائید میں کی وہ قرآن نے سورۂ مومن میں نقل کی ہے۔ ہم یہ تقریر اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔ اس کو پڑھیے تو کچھ اندازہ ہو گا کہ ان کا مرتبہ و مقام کیا تھا اور ان کی اس تائید و حمایت (تعزیز) کی نوعیت کیا تھی جس کا قرآن نے یہاں حوالہ دیا ہے۔ سورۂ مومن کی آیات ۲۶-۴۵ سامنے رکھ لیجیے:

      ’’فرعون نے درباریوں سے کہا کہ تم لوگ مجھے موسیٰ کو قتل کر لینے دو، اگر وہ سچا ہے تو اپنی مدد کے لیے اپنے رب کو بلائے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا ملک میں فساد برپا کر کے رہے گا۔ موسیٰ نے کہا میں ہر متکبر سے، جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا، اپنے اور تمہارے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔
      اور ایک مرد مومن، جو فرعون کے خاندان میں سے تھا اور اب تک اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا، بولا کہ کیا تم لوگ ایک شخص کو محض اس گناہ میں قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے درآنحالیکہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے نہایت واضح نشانیاں لے کر آیا ہے! اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے تو اس کا وبال اسی پر آئے گا اور اگر وہ سچا ہے تو یاد رکھو کہ جس چیز سے وہ تم کو ڈرا رہا ہے اس کا کوئی حصہ تم کو پہنچ کے رہے گا۔ اللہ کبھی حد سے تجاوز کرنے والے اور جھوٹے کو بامراد نہیں کرتا۔ اے میری قوم کے لوگو! آج تم کو اس ملک میں اقتدار حاصل ہے لیکن کل اگر خدا کا عذاب ہم پر آ دھمکا تو خدا کے قہر سے ہم کو کون بچائے گا!
      فرعون نے کہا، میں تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو میری سوچی سمجھی ہوئی رائے ہے اور یاد رکھو کہ میں بالکل ٹھیک راہ کی طرف تمہاری رہنمائی کر رہا ہوں۔
      مرد مومن نے کہا، اے میری قوم کے لوگو! میں تم پر اسی طرح کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں جس طرح کا عذاب پچھلی قوموں ۔۔۔ نوح، عاد، ثمود کی قوموں اور ان کے بعد والوں ۔۔۔ پر آیا۔ اللہ بندوں کے لیے ظلم کو پسند نہیں کرتا۔
      اے میری قوم کے لوگو، میں تم پر ایک بڑی ہلچل کے دن کا اندیشہ رکھتا ہوں جس دن تم پیٹھ پیچھے بھاگو گے۔ اور کوئی تم کو خدا کے غضب سے بچانے والا نہیں ہو گا۔ یاد رکھو کہ جس کو خدا گمراہ کر دے اس کو کوئی دوسرا راہ دکھانے والا نہیں بن سکتا۔ اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف کھلی نشانیوں کے ساتھ آئے لیکن تم ان کی دعوت کی طرف سے برابر شک ہی میں رہے۔ یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہو گئی تو تم یہ سمجھ بیٹھے کہ اللہ اب کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ اللہ حدود سے تجاوز کرنے والوں اور شکیوں کو اسی طرح گمراہی میں ڈال دیتا ہے۔ یعنی ان لوگوں کو جو بغیر کسی دلیل کے اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں، ایسے لوگ اللہ اور اہل ایمان کے نزدیک زیادہ مبغوض ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ہر متکبر و جبار کے دل پر مہر کر دیا کرتا ہے۔
      فرعون نے ہامان کو مخاطب کر کے کہا، اے ہامان! میرے لیے ایک محل بنواؤ تا کہ میں آسمانوں کے اطراف میں جھانک کر دیکھوں کہ موسیٰ کا رب کہاں ہے! میں تو اس کو بالکل جھوٹا سمجھتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      مرد مومن نے کہا، اے میری قوم کے لوگو، میری پیروی کرو، میں تمہیں سیدھی راہ دکھا رہا ہوں۔ اے میری قوم کے لوگو! یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے، اصلی ٹھکانا تو آخرت ہے۔ جو کسی برائی کا ارتکاب کرے گا تو وہ اسی کے مطابق بدلہ پائے گا ۔۔۔ اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، تو یہی لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر بے حساب فضل ہو گا۔
      اے میری قوم کے لوگو! کیا بات ہے کہ میں تو تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا رہے ہو! تم مجھے دعوت دے رہے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور ایسی چیزوں کو اس کا شریک ٹھہراؤں جن کے باب میں مجھے کوئی علم نہیں اور میں تمہیں خدائے عزیز و غفار کی طرف دعوت دے رہا ہوں ۔۔۔ اس میں ذرا شبہ نہیں کہ تم جن کی طرف مجھے دعوت دے رہے ہو ان کی دہائی نہ دنیا میں کچھ نافع نہ آخرت میں۔ ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف ہو گا اور حدود سے تجاوز کرنے والے جہنم کے ایندھن بنیں گے۔ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اس کو بہت جلد تم یاد کرو گے۔ میں اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔
      بے شک اللہ اپنے بندوں کا نگران حال ہے۔ تو اللہ نے اس کو لوگوں کی بری سازشوں سے محفوظ رکھا اور آل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔‘‘

      تین کا تیسرا: اس مرد بزرگ کی یہ پوری تقریر پڑھیے۔ یہ تقریر انھوں نے مصر کے دارالامراء (House of Lords) میں اعیان حکومت کے سامنے اس وقت کی ہے جب فرعون نے حضرت موسیٰؑ کے قتل کی تجویز پیش کی ہے اور اعیان حکومت کو اپنی تجویز سے متفق کرنا چاہا ہے۔ اس وقت تک انھوں نے اپنا ایمان پوشیدہ رکھا تھا لیکن جب یہ فیصلہ کن وقت آ گیا تو انھوں نے پردہ اٹھا دیا اور پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تائید اور حق کی حمایت میں، فرعون اور قوم کے تمام اعیان و اکابر کے سامنے، انھوں نے جو کچھ کہا ہے، جن دلائل کے ساتھ کہا ہے اور جس جرأت و بے خوفی کے ساتھ کہا ہے، اس کی مثال انبیاء اور صدیقین کی تاریخ کے سوا اور کہیں نہیں مل سکتی۔ پھر یہ بات بھی یاد رکھیے کہ یہ کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ خاندان شاہی کے ایک رکن رکین تھے اس وجہ سے ان کی اس نصیحت کو اعیان حکومت کسی اسرائیلی عصبیت پر محمول نہیں کر سکتے تھے۔ حضرت موسیٰؑ و حضرت ہارونؑ پر تو انھوں نے یہ الزام لگایا کہ یہ اسرائیلیوں کو بغاوت پر ابھارنا چاہتے ہیں لیکن یہ صدائے حق جو انہی کے اندر کے ایک مرد بزرگ کی طرف سے اٹھی، اس کے خلاف وہ اپنے عوام کے اندر کیا بدگمانی پھیلا سکتے تھے! ۔۔۔ اس مرد جلیل کا یہی وہ شاندار اور زندۂ جاوید کارنامہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ’فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ‘ کے الفاظ سے ذکر فرمایا۔ یہ اس معنی میں تو رسول نہیں تھے جس معنی میں حضرت موسیٰؑ و حضرت ہارونؑ رسول تھے لیکن ان کے سب سے زیادہ طاقتور، سب سے زیادہ جاں نثار اور سب سے بڑے وفادار و راستبار ساتھی ضرور تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو تین کے تیسرے کا درجہ دیا۔
      ’قَالُوۡا اِنَّا إِلَیْْکُمۡ مُّرْسَلُوۡنَ‘ یہ جمع کے صیغہ سے ان سب کا یہ کہنا کہ ’اِنَّا إِلَیْْکُمۡ مُّرْسَلُوۡنَ‘ اس امر کو مستلزم نہیں ہے کہ یہ تینوں حضرات ایک ہی درجہ کے رسول تھے بلکہ یہ بات علی سبیل التغلیب ارشاد ہوئی ہے۔ ایک سفارت کے تمام ارکان ایک ہی درجہ و منصب کے نہیں ہوتے لیکن اصل ذمہ داری میں چونکہ سب شریک ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کو اس طرح اپنے کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا حق ہوتا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اصل رسول کی حیثیت تو صرف حضرت موسیٰؑ کو حاصل تھی۔ حضرت ہارونؑ بھی اصل رسول نہیں بلکہ حضرت موسیٰؑ کے وزیر تھے۔ اسی طرح مرد ثالث کی حیثیت رسول کی نہیں بلکہ ان رسولوں کے سب سے بڑے جاں نثار و مددگار کی تھی لیکن انھوں نے حضرت موسیٰؑ کی دعوت کی پوری ذمہ داری اپنے اوپر لے لی تھی اور اپنی قوم کو غلط کار لیڈروں کی پیروی سے روک کر حضرت موسیٰؑ و حضرت ہارونؑ اور اپنی پیروی کی دعوت دے رہے تھے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی زمرے میں شمار فرمایا۔

       

      جاوید احمد غامدی (اِس طرح کہ ) جب ہم نے دو رسول اُن کے پاس بھیجے تو اُنھوں نے دونوں کو جھٹلا دیا۔ پھر ہم نے ایک تیسرے شخص سے اُن کی تائید کی تو اُنھوں نے لوگوں سے کہا: کچھ شک نہیں کہ ہم تمھارے پاس بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے ، ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام مراد ہیں۔ اِن کے علاوہ انبیا و رسل کی معلوم تاریخ میں دو رسول بہ یک وقت کسی قوم کی طرف نہیں بھیجے گئے۔
      اِن کا ذکر جس طریقے سے یہاں ہوا ہے، اُس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ رسول نہیں تھے، بلکہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کی طرح رسولوں کے ایک خاص مددگار کی حیثیت سے اُن کی حمایت میں کھڑے ہوئے تھے۔ چنانچہ جس طرح وہ ’ثانی اثنین‘تھے، اُسی طرح یہ بھی ’ثالث ثلٰثۃ‘ تھے۔ موسیٰ و ہارون علیہما السلام کی سرگذشت انذار میں یہ حیثیت صرف مصر کے شاہی خاندان کے اُس مرد جلیل کو حاصل ہے جس کی ایک بے نظیر تقریرسورۂ مومن (۴۰) کی آیات ۲۶۔۴۵ میں نقل ہوئی ہے ۔قرآن نے اِن کے لیے ’عَزَّزْنَا‘ کا جو لفظ استعمال کیا ہے، اُس کی صحیح کیفیت اُسی تقریر سے واضح ہوتی ہے اور اُسی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اِن کا مرتبہ و مقام کیا تھا اور اِنھوں نے مصر کے دارالامرا میں فرعون کے سامنے کس نازک موقع پر، کس جرأ ت اور بے خوفی اور کیسے پر زور دلائل کے ساتھ حق کی حمایت کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ انبیا و صدیقین کی تاریخ کے سوا اِس کی مثال کہیں اور نہیں مل سکتی۔ اِن کا یہی وہ شان دار اور زندۂ جاوید کارنامہ ہے جس کی بنا پر اِن کا ذکر یہاں ’فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ اِس معنی میں تو رسول نہیں تھے، جس معنی میں حضرت موسیٰ و حضرت ہارون رسول تھے، لیکن اُن کے سب سے زیادہ طاقت ور، سب سے زیادہ جاں نثار اور سب سے بڑے وفادار اور راست باز ساتھی ضرور تھے، اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اِن کو تین کے تیسرے کا درجہ دیا۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۴۱۳)

      یہ ’علیٰ سبیل التغلیب‘ فرمایا ہے۔ گویا حق کی تائید میں جس مقام پر وہ مرد حق کھڑا ہو گیا تھا، اُس کے بعد اگر اُسے بھی خدا کا بھیجا ہوا کہا جائے تو یہ کچھ غلط نہ ہو گا۔

    • امین احسن اصلاحی لوگوں نے جواب دیا کہ تم تو بس ہمارے ہی جیسے بشر ہو! اور خدائے رحمان نے کوئی چیز بھی نازل نہیں کی ہے، تم لوگ بالکل جھوٹ دعویٰ کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرعونیوں کا پامال اعتراض: یہ وہی اعتراض ہے جو ہر رسول کے مکذبین نے اپنے اپنے رسولوں کے خلاف اٹھایا ہے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے انسان ہو تو تم خدا کے رسول کیسے ہوئے! اگر خدا کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو کسی برتر مخلوق کو رسول بناتا نہ کہ ہمارے ہی جیسے انسانوں کو۔ یہ اعتراض قرآن میں رسولوں کے مکذبین کی زبان سے بار بار نقل ہوا ہے۔ فرعون اور اس کے اعیان کو بھی حضرت موسیٰؑ پر یہ اعتراض تھا اور یہی اعتراض قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اٹھایا تھا۔
      ’وَمَا أَنزَلَ الرَّحْمٰنُ الاٰیۃ‘۔ یعنی تمہارا یہ دعویٰ کہ خدا نے تم پر کوئی کتاب یا وحی نازل کی ہے، بالکل جھوٹ ہے۔ خدا نے کوئی چیزبھی نازل نہی کی ہے۔

      جاوید احمد غامدی لوگوں نے جواب دیا کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو، خداے رحمن نے کوئی چیز نہیں اتاری ہے، تم محض جھوٹ بول رہے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی انھوں نے کہا کہ ہمارا رب گواہ ہے کہ ہم تمہاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اعتراض کا جواب اور تنبیہ: ’رَبُّنَا یَعْلَمُ‘ قسم کے مفہوم میں آتا ہے۔ اس کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کر چکے ہیں۔ ان کی تکذیب کے جواب میں انھوں نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ ہم تمہارے پاس خدا کے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ جس طرح آیت ۱۴ میں ’مُرْسَلُوۡنَ‘ علیٰ سبیل التغلیب آیا ہے اسی اسلوب پر یہاں بھی جمع آیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی رسولوں نے کہا: ہمارا رب گواہ ہے کہ یقیناً ہم تمھارے پاس بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ہماری ذمہ داری بس واضح طور پر پہنچا دینے کی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَمَا عَلَیْْنَا إِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ‘ یہ ان کی طرف سے لوگوں کو تنبیہ ہے کہ اگر تم ہم کو جھٹلاتے ہو تو جھٹلاؤ۔ ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ذمہ داری ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہم تم کو خدا کی بات نہایت واضح طور پر پہنچا دیں۔ تمہارے دلوں میں ایمان اتار دینا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر تم نے ہماری بات نہ مانی تو اس کا انجام خود بھگتو گے۔ ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہو جائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی اور ہمارے اوپر اِس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ صاف صاف پہنچا دیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ اِس کے بعد ہم تو اپنے فرض سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ اُس کو ماننا یا نہ ماننا، یہ تمھاری ذمہ داری ہے اور اُس کے نتائج بھی تمھیں ہی بھگتنا ہوں گے۔

    • امین احسن اصلاحی لوگوں نے کہا، ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں، اگر تم لوگ باز نہ رہے تو ہم تم کو سنگسار کر چھوڑیں گے اور تم کو ہمارے ہاتھوں بڑا دکھ پہنچے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’تَطیّر‘ کی تحقیق اس کے محل میں ہم کر چکے ہیں۔ یہاں یہ بری فال لینے اور کسی کو منحوس سمجھنے کے مفہوم میں ہے۔
      فرعونیوں کی طرف سے حضرت موسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں پر نحوست کا الزام: یعنی ان رسولوں کی دعوت کے زمانے میں اہل مصر پر جو آفتیں، ان کی تنبیہ کے لیے نازل ہوئیں ان سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے انھوں نے ان کو حضرت موسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیا اور کہا کہ یہ آفتیں ہمارے اعمال کے سبب سے ہم پر نہیں آ رہی ہیں، جیسا کہ موسیٰؑ اور ان کے ساتھی دعویٰ کر رہے ہیں، بلکہ یہ ان کی اس گمراہ کن دعوت کے نتیجہ میں پیش آ رہی ہیں جس سے ہمارے دیوتا ناراض ہیں۔ ساتھ ہی ان کو دھمکی بھی دی کہ اگر تم لوگ اس بد عقیدگی کی اشاعت سے باز نہ آئے تو ہم اپنے دیوتاؤں کی حرمت کی حفاظت کے لیے تم کو سنگسار کر دیں گے اور اس کے علاوہ بھی بہت سے دکھ تم کو ہمارے ہاتھوں جھیلنے پڑیں گے۔ یہ مضمون سورۂ اعراف میں بھی گزر چکا ہے۔ فرمایا:

      ’وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَونَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّن الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُوۡنَ ۵ فَإِذَا جَآءَ تْہُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُواْ لَنَا ہٰذِہِ وَإِن تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَطَّیَّرُواْ بِمُوسَی وَمَن مَّعَہُ أَلا إِنَّمَا طَائِرُہُمْ عِندَ اللّہُ وَلَکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُوۡنَ (۱۳۰-۱۳۱)‘
      (اور ہم نے قوم فرعون کو قحط اور پھلوں کی کمی میں مبتلا کیا کہ وہ نصیحت حاصل کریں تو جب ان کے حالات اچھے ہوتے، کہتے کہ یہ تو ہمارا حق ہی ہے اور اگر ان کو کوئی آفت پہنچتی تو اس کو موسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے)۔

       

      جاوید احمد غامدی لوگوں نے کہا: ہم تو تمھیں منحوس سمجھتے ہیں۔ اگر تم لوگ باز نہ آئے تو ہم تمھیں سنگ سار کر چھوڑیں گے اور ہماری طرف سے ضرور تم بڑی دردناک سزا پاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      سورۂ اعراف (۷) میں وضاحت ہے کہ مصر کے لوگوں نے یہ بات اُس وقت کہی، جب موسیٰ علیہ السلام کی دعوت برپا ہو جانے کے بعداُنھیں پے در پے آفتوں سے دوچار ہونا پڑا۔ یہ آفتیں اُن کی تنبیہ کے لیے نازل کی گئی تھیں، مگر اُنھوں نے اِن کو حضرت موسیٰ اور اُن کے ساتھیوں کی نحوست قرار دے دیا۔

    • امین احسن اصلاحی رسولوں نے جواب دیا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اس چیز کو تم نے نحوست سمجھا کہ تمہیں یاددہانی کی گئی! بلکہ تم خود حدود سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نحوست آدمی کے اپنے اعمال کے اندر ہوتی ہے: لفظ ’طَائِرٌ‘ کی تحقیق بھی اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ یہاں اس کے معنی نحوست کے ہیں۔ یہ ان رسولوں کا جواب ہے کہ تم اپنی بدبختی کے اسباب دوسروں کے اندر ڈھونڈتے ہو حالانکہ تمہاری نحوست خود تمہارے ساتھ ہے۔ یہ جو کچھ پیش آ رہا ہے تمہارے اپنے ہی عقائد و اعمال کا نتیجہ ہے اس وجہ سے دوسروں کو ملزم ٹھہرانے کے بجائے اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھو اور اپنے اعمال و عقائد کا جائزہ لو۔
      ’أَئِنۡ ذُکِّرْتُمْ‘ یعنی تم ہمیں جو منحوس ٹھہرا رہے ہو تو کیا اس گناہ میں کہ ہماری طرف سے تم کو یاددہانی کی گئی اور نیک و بد سے آگاہ کیا گیا ہے!
      ’بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوۡنَ‘ یعنی یہ تمہاری سرکشی و بدبختی کی انتہا ہے کہ خدا کے حدود کو توڑ کر اپنے لیے خطرات کو دعوت دیتے ہو پھر خدا کے جو بندے تمہیں ان خطرات سے آگاہ کرتے ہیں ان کے شکرگزار ہونے کے بجائے الٹے انہی کو ان خطرات کا سبب قرار دیتے ہو۔

      جاوید احمد غامدی رسولوں نے جواب دیا: تمھاری نحوست تمھارے ساتھ ہے۔ کیا اتنی بات پر کہ تمھیں یاددہانی کی گئی ہے؟ (نہیں)، بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جو کچھ پیش آرہا ہے، تمھارے اپنے ہی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔ لہٰذا اگر کوئی نحوست ہے تو وہ تمھاری اپنی ہے جو تمھیں لاحق ہو گئی ہے۔ رسولوں کا یہ جواب مجانست کے اسلوب پر ہے جس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور شہر کے پرلے سرے سے ایک شخص بھاگا ہوا آیا۔ اس نے کہا، اے میری قوم کے لوگو، رسولوں کی پیروی کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تیسرے منذر کی طرف سے تائید حق: اوپر آیت ۱۴ میں جس تیسرے منذر کی طرف اشارہ ہے یہ اس کی تائید حق کی تفصیل ہے۔ اوپر سورۂ اعراف کی آیت کے حوالہ سے ہم بیان کر چکے ہیں کہ ’رَجُلٌ‘ سے مراد وہی مومن آل فرعون ہے جس کا ذکر تفصیل کے ساتھ سورۂ مومن میں ہوا ہے اور جس کی تقریر کا حوالہ ہم اوپر دے چکے ہیں ۔۔۔ اس کا واضح قرینہ یہ ہے کہ جن الفاظ میں ان کا تعارف یہاں کرایا گیا ہے۔ بعینہٖ انہی الفاظ میں سورۂ اعراف میں بھی کرایا گیا ہے۔
      ’جَآءَ مِنْ أَقْصَی الْمَدِیْنَۃِ رَجُلٌ یَسْعٰی‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت موسیٰؑ کے ساتھ ان کی ہمدردی محض لفظی نہیں بلکہ عملی تھی۔ اپنے خس خانوں میں بیٹھے بیٹھے تو بہت سے لوگ کسی مقصد حق اور مرد حق کی تعریف و تحسین کر دیتے ہیں لیکن ایسے افراد، بالخصوص امرا و اغنیاء کے طبقہ میں، بہت کم نکلتے ہیں جو عملاً اس حق کے لیے سرگرمی دکھائیں۔ لیکن اس مرد حق کا حال اس سے مختلف تھا۔ ان کا مکان شہر کے ایک بعید کنارے پر تھا، جیسا کہ لفظ ’أَقْصٰی‘ سے واضح ہوتا ہے، لیکن جب کبھی انھوں نے یہ محسوس فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کو کوئی خطرہ درپیش ہے تو وہ بھاگ کر، جیسا کہ لفظ ’یَسْعٰی‘ سے واضح ہوتا ہے، وہاں پہنچے ہیں اور اپنے تمام خاندانی مفادات بلکہ اپنی جان تک خطرے میں ڈال کر ان کے لیے سپر بن گئے ہیں۔ اسی طرح کے ایک موقع کا حوالہ قرآن نے یہاں دیا ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ یہ وہی موقع ہے جب انھوں نے فرعون کے سامنے وہ تقریر فرمائی ہے جو پیچھے ہم نقل کر آئے ہیں۔ آگے کی آیات سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے۔
      مرد مومن کی تقریر کا اجمالی حوالہ: ’قَالَ یَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ‘۔ یہ اس تقریر کا اجمالی حوالہ ہے جو انھوں نے فرعون اور اس کے اعیان کے سامنے کی ہے۔ ’اِتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ‘ میں ’مُرْسَلِیْنَ‘ سے ان کا اشارہ زمرۂ مرسلین کی طرف ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کو بھی اصطلاحی مفہوم میں ایک رسول سمجھتے رہے ہوں۔ ان کے اس ارشاد میں اصلی زور اس بات پر ہے کہ قوم کے لوگوں کو فرعون، ہامان، قارون اور اس قسم کے مفسد لیڈروں کے پیچھے چلنے کے بجائے ان لوگوں کے پیچھے چلنا چاہیے جن کو خدا نے لوگوں کی رہنمائی کے لیے بھیجا ہے یا جو لوگ ان کا ساتھ دے رہے اور ان کی پیروی کر رہے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (یہی موقع تھا، جب خدا نے تیسرے سے تائید فرمائی ۔اِس طرح کہ) شہر کے پرلے سرے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا (اور آ کر) کہنے لگا کہ میری قوم کے لوگو، رسولوں کی پیروی کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر جس تین کے تیسرے کا ذکر ہوا ہے، موسیٰ علیہ السلام کی تائید کے لیے یہ اُس کی سرگرمی کی تصویر ہے۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کا گھر شہر کے کسی بعید کنارے پر تھا، مگر اُنھیں جب معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ کو خطرہ درپیش ہے تو وہ بھاگ کر وہاں پہنچے اور شاہی خاندان کا ایک فرد ہونے کے باوجود اپنے تمام مفادات، بلکہ اپنی جان تک کو خطرے میں ڈال کر اُن کی تائید اورحق کی شہادت کے لیے کھڑے ہو گئے۔

    Join our Mailing List