Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 45 آیات ) Fatir Fatir
Go
  • فاطر (The Originator)

    45 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ سبا ۔۔۔ کی توام سورہ ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ اس کا بھی اصل مضمون توحید ہی ہے۔ اس کا آغاز خدا کی حمد کے اثبات اور فرشتوں کی الوہیت کے تصور کے ابطال سے ہوا ہے۔ پھر توحید ہی کے تحت رسالت و معاد سے متعلق وہ باتیں بیان ہوئی ہیں جو مقصد انذار کے پہلو سے ضروری اور سورہ کے مزاج اور اس کے زمانۂ نزول سے مناسبت رکھنے والی ہیں۔ پچھلی سورہ میں، یاد ہو گا، جنوں اور ملائکہ کی الوہیت کے تصور کا ابطال فرمایا ہے۔ اس سورہ میں ملائکہ کی الوہیت کے تصور کی تردید نسبۃً زیادہ واضح الفاظ میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین عرب کے مزعومہ معبودوں میں سب سے زیادہ اہمیت فرشتوں ہی کو حاصل تھی۔

  • فاطر (The Originator)

    45 آیات | مکی

    سبا ۔ فاطر

    ۳۴ ۔ ۳۵
    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں انذار و بشارت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی دعوت دی گئی اور اُس کی توحید کا اثبات کیا گیا ہے۔ چنانچہ دونوں کا موضوع ایک ہی ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ تاریخی استدلال اور دوسری میں ملائکہ کی الوہیت کے ابطال کا پہلو نمایاں ہے۔ اِنھیں ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ سے شروع کرکے اِن کے اِس تعلق کی طرف قرآن نے خود اشارہ کر دیا ہے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی شکر کا سزاوار حقیقی اللہ ہے۔ آسمانوں اور زمین کا خالق، فرشتوں کو دو دو، تین تین اور چار چار پروں والے پیغام رساں بنانے والا۔ وہ خلق میں جو چاہے اضافہ کر دیتا ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دین کی بنیاد توحید ہے اور توحید کی حقیقت اللہ ہی کی شکرگزاری ہے: یاد ہو گا، پچھلی سورہ کا آغاز بھی ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ ہی سے ہوا ہے۔ اس سے دونوں سورتوں کے مزاج کی مناسبت واضح ہوتی ہے۔ دین کی بنیاد توحید پر ہے اور توحید کی حقیقت اللہ ہی کی شکرگزاری ہے اس لیے کہ آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والا اللہ ہی ہے اور بندوں کو جو ظاہری و باطنی نعمتیں بھی حاصل ہوئی ہیں سب اللہ ہی کا عطیہ ہیں۔
      فرشتوں کی حیثیت قاصدوں کی ہے نہ کہ مقصود کی: ’جَاعِلِ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا اُوْلِیْٓ اَجْنِحَۃٍ مَّثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ‘۔ ’جَاعِلِ الْمَلٰٓئِکَۃِ‘ بدل ہے ’فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ‘ سے۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر اس کی اہمیت کے پہلو سے فرمایا کہ جو اللہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے اسی نے فرشتوں کو بھی پیغام رسانی کے مقصد سے وجود بخشا ہے۔ فرشتوں کے خاص طور پر ذکر کی وجہ یہ ہے کہ عربوں کی میتھالوجی (MYTHOLOGY) میں سب سے زیادہ اہمیت فرشتوں ہی کو حاصل تھی۔ وہ ان کو خدا کی چہیتی بیٹیوں کا درجہ دیتے اور اسی حیثیت سے ان کی عبادت کرتے تھے۔ ان کا تصور یہ تھا کہ اگر یہ خوش رہیں تو ان کے واسطے سے سب کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس عقیدے نے ان کے ہاں خدا کے وجود کو بالکل معطل کر دیا تھا۔ و ہ خدا کو رسمی طور پر مانتے تو تھے لیکن ان کی تمام شکرگزاری اور عبادت کے مرکز ان کے وہ اصنام ہی تھے جو انھوں نے اپنے زعم کے مطابق فرشتوں کے نام پر بنا رکھے تھے۔ یہاں ان کے اسی زعم باطل کی تردید کے لیے ارشاد ہوا کہ شکر کا سزاوار اللہ ہے جو تمام آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ اسی نے فرشتوں کو بھی پیغام بری کی ڈیوٹی پر مقرر فرمایا ہے۔ یعنی یہ فرشتے نہ آسمان و زمین کی تخلیق میں کسی نوع سے شریک ہیں اور نہ الوہیت میں ان کا کوئی حصہ ہے بلکہ یہ صرف خدا کے پیغام رساں ہیں جن کے ذریعے سے خدا اپنے رسولوں کو اپنے احکام سے آگاہ کرتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جن لوگوں نے ان قاصدوں کو مقصود کا اور نامہ بروں کو محبوب کا درجہ دے کر انہی کی پرستش شروع کر رکھی ہے انھوں نے نہ خدا کی قدر پہچانی، نہ ان قاصدوں کی اور نہ اپنی ہی۔
      فرشتوں کے درمیان فرق مراتب: ’اُوْلِیْٓ اَجْنِحَۃٍ‘ صفت ہے ’رُسُلًا‘ کی۔ ’اَجْنِحَۃ‘ جمع ہے ’جَنَاح‘ کی۔ ’جَنَاح‘ آدمیوں کے بازوؤں کے لیے بھی آتا ہے اور پرندوں کے پروں کے لیے بھی جن سے وہ اڑتے ہیں۔ یہاں یہ لفظ فرشتوں کے لیے استعمال ہوا ہے اس وجہ سے اس کی نوعیت متشابہات کی ہے یعنی ان کی اصل حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ مقصود اس سے یہاں ہم کو صرف اس حقیقت کا علم دینا ہے کہ سب فرشتے ایک ہی درجے کے نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی مصلحتوں کے تحت مختلف درجے کی قوتوں اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کسی کی قوت پرواز کم ہے کسی کی زیادہ۔ کچھ دو پروں کی قوت سے اڑتے ہیں، کچھ تین کی، کچھ چار کی۔
      یہ پر فرشتوں کے ہیں اس وجہ سے ان کی قوت پرواز کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور یہ چار تک کا ذکر بھی تحدید کے مفہوم میں نہیں ہے۔ مقصود یہاں صرف ان کے مراتب و منازل کے تفاوت کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ اس وجہ سے اگر اللہ تعالیٰ کے پاس ایسے فرشتے بھی ہوں جن کی قوت پرواز اس سے زیادہ ہو تو اس آیت سے اس کی نفی نہیں ہوتی۔ چنانچہ بعض حدیثوں میں حضرت جبریلؑ کے پروں کی تعداد اس سے زیادہ مذکور ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوت پرواز اور رسائی تمام فرشتوں سے زیادہ ہے۔ مقصود یہاں صرف یہ واضح کرنا ہے کہ جن نادانوں نے فرشتوں کو الوہیت کے زمرے میں داخل کر رکھا ہے ان کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ بلند کا پتہ نہیں ہے۔ خدائی میں شریک ہونا تو درکنار اس کے قاصد اور سفیر ہونے میں بھی ان سب کا درجہ و مرتبہ ایک نہیں ہے بلکہ کسی کی رسائی کسی منزل تک ہے اور کسی کی پہنچ کسی مقام تک۔ اسی حقیقت کا اعتراف سورۂ صافات میں حضرت جبریل امینؑ کی زبان سے یوں منقول ہے:

      وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ وَاِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ. (۱۶۴-۱۶۶)
      ’’اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے بس ایک معین مقام ہے اور ہم ہر وقت صف بستہ رہنے والے ہیں اور ہم ہر وقت تسبیح کرتے رہنے والے ہیں۔‘‘

      صفات اور صلاحیتوں میں کمی بیشی کرنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے: ’یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ جن صلاحیتوں اور قوتوں کی مخلوق چاہے پیدا کر سکتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس نے فرشتوں کو اگر اپنی پیغام بری کے لیے پیدا کیا تو یہ بھی اس کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے۔ اگر ان کے درجات میں تفاوت رکھا تو یہ بھی اسی کی قدرت کی ایک شان ہے کہ اگر وہ خلق یا اس کی صلاحیتوں میں کوئی مزید اضافہ کرنا چاہے تو اس پر بھی وہ قادر ہے۔ صفات اور صلاحیتوں میں کمی بیشی کرنا اللہ کے اختیار میں ہے۔ اگر کسی کی صفات اور قوتوں میں اس نے افزونی عطا فرمائی ہے تو اس کے بھی معین حدود ہیں۔ اس کی بنا پر نہ کسی کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ خدا کی خدائی میں شریک ہونے کا مدعی بن جائے نہ یہ جائز ہے کہ دوسرے اس کو خدائی میں شریک بنا دیں۔

       

      جاوید احمد غامدی شکر اللہ ہی کے لیے ہے، زمین اور آسمانوں کا خالق، فرشتوں کو پیغام رساں بنانے والا، جن کے دو دو ، تین تین، چار چار پر ہیں۔ وہ خلق میں جو چاہے، اضافہ کر دیتا ہے۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا نے زمین و آسمان بنائے ہیں، فرشتوں کو بھی اُسی نے وجود بخشا ہے اور اِس کا مقصد اپنی مخلوقات تک پیغام رسانی ہے۔ لہٰذا زمین و آسمان اور اُن کے درمیان کی سب مخلوقات کی طرح وہ بھی خدا کی ایک مخلوق ہیں۔ وہ اِن کے بنانے میں شریک کس طرح ہو سکتے ہیں؟ اور اُن کا الوہیت میں کوئی حصہ کس طرح مانا جا سکتا ہے؟ جو لوگ اُن کو یہ حیثیت دے رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اُنھوں نے نہ خدا کی قدر پہچانی ہے، نہ اِن پیغام بروں کی اور نہ اپنی ہی۔
      یعنی اپنی قوت پرواز کے لحاظ سے متفاوت ہیں، کچھ دو پروں کی قوت سے اڑتے ہیں، کچھ چار پروں کی اور کچھ اِس سے بھی زیادہ۔ یہ فرق خود بتا رہا ہے کہ اُنھیں کسی بنانے والے نے بنایا اور اُن کے مراتب و منازل متعین کیے ہیں، وہ آپ سے آپ نہیں بن گئے ہیں کہ سب اپنا مرتبہ یکساں بنا لیتے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... مقصود یہاں صرف یہ واضح کرناہے کہ جن نادانوں نے فرشتوں کو الوہیت کے زمرے میں داخل کر رکھا ہے، اُن کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ بلند کا پتا نہیں ہے۔ خدائی میں شریک ہونا تو درکنار، اُس کے قاصد اور سفیر ہونے میں بھی اُن سب کا درجہ و مرتبہ ایک نہیں ہے، بلکہ کسی کی رسائی کسی منزل تک ہے اور کسی کی پہنچ کسی مقام تک۔‘‘(تدبرقرآن ۶/ ۳۵۴)

      یعنی جن صلاحیتوں کی مخلوق چاہے، پیدا کر سکتا ہے۔ چنانچہ وہ فرشتوں سے بھی زیادہ قوت و صلاحیت کی کوئی مخلوق اگر پیدا کر دے تو یہ اُس کی قدرت و حکمت کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہو گا۔ اِس کے ہرگز یہ معنی نہیں ہوں گے اور نہیں ہو سکتے کہ اُس کی خدائی میں وہ کسی نوعیت سے شریک ہو گئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ لوگوں کے لیے جس رحمت کا فتح باب کرے تو اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جس کو روک لے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں اور وہی حقیقی عزیز و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس بات کی دلیل کہ کیوں اللہ ہی سزاوار شکر ہے: یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں خدا ہی شکر کا سزاوار ہے۔ فرمایا کہ اللہ تمہارے لیے جس فضل و رحمت کا بھی دروازہ کھولنا چاہے وہ اس کو کھول سکتا ہے، کوئی اس کے فضل و رحمت کو روک نہیں سکتا۔ اسی طرح اگر وہ کسی رحمت سے محروم کرنا چاہے تو کسی کی طاقت نہیں کہ وہ تمہیں اس سے بہرہ مند کر سکے۔ یہی مضمون سورۂ زمر میں یوں بیان ہوا ہے:

      قُلْ أَفَرَأَیْْتُم مَّا تَدْعُوۡنَ مِن دُوۡنِ اللّٰہِ إِنْ أَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ہَلْ ہُنَّ کَاشِفَاتُ ضُرِّہِ أَوْ أَرَادَنِیْ بِرَحْمَۃٍ ہَلْ ہُنَّ مُمْسِکَاتُ رَحْمَتِہٖ (الزمر: ۳۸)
      ’’اللہ کے سوا جن معبودوں کو تم پکارتے ہو کبھی تم نے ان پر غور کیا ہے۔ اگر اللہ مجھے کوئی ضرر پہنچانا چاہے تو کیا وہ اس کے دفع کرنے والے بن سکتے ہیں! یا اللہ مجھے کسی رحمت سے نوازنا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں!‘‘

      مقصد یہ ہے کہ جب اصل حقیقت یہ ہے تو فرشتوں اور جنوں کو تم نافع و ضار سمجھ کر ان کی عبادت جو کرتے ہو یہ محض تمہاری حماقت ہے۔ نفع و ضرر تمام تر خدا ہی کے اختیار میں ہے اس وجہ سے شکر اور عبادت کا حق دار تنہا وہی ہے۔
      آیت میں ایک ہی چیز (رحمت) کے لیے ضمیر پہلے مؤنث آئی، پھر اسی کے لیے مذکر آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک جگہ لفظ کا لحاظ ہے دوسری جگہ مفہوم کا۔ اس کی متعدد نظیریں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔
      ’مِنْ بَعْدِہٖ‘ یعنی ’مِنْ بَعْدِ اِمْسَاکِہٖ‘۔ آگے اسی سورہ میں فرمایا ہے:

      ’وَلَئِنْ زَالَتَآ إِنْ أَمْسَکَہُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِہٖ‘ (۴۱)
      (اگر وہ دونوں (آسمان و زمین) اپنی جگہ سے ٹل جائیں تو خدا کے بعد کوئی ان کو تھامنے والا نہیں بن سکتا)۔

      ’وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘۔ یعنی اصل غالب و مقتدر وہی ہے وہ کھولتا اور وہی روکتا ہے اور یہ کھولنا اور باندھنا تمام تر اس کی حکمت کے تقاضوں کے تحت ہوتا ہے اس لیے کہ وہ حکیم بھی ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اللہ جو رحمت بھی لوگوں کے لیے کھول دے تو اُسے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ اور جس کو روک لے تو اُس کے روک لینے کے بعد اُسے پھر کوئی کھولنے والا نہیں ہے اور وہی عزیز و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں ایک ہی چیز کے لیے ضمیر ایک جگہ مونث اور دوسری جگہ مذکر آئی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ایک جگہ لفظ کا لحاظ کیا گیا ہے اور دوسری جگہ مفہوم کا۔ اِس کی متعدد نظیریں قرآن میں موجود ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اے لوگو! تمہارے اوپر اللہ کا جو انعام ہے اس کا دھیان کرو۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق بہم پہنچاتا ہو! اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو تم کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اتمام حجت کے لیے ایک سوال: اوپر کی آیات میں جو مضمون اصولی طور پر بیان ہوا ہے اسی مضمون کو اتمام حجت کے انداز میں، لوگوں کو مخاطب کر کے، فرمایا کہ لوگو، اللہ کی جو نعمتیں تم کو حاصل ہیں ان میں سے ایک ایک کا دھیان کرو اور ان پر غور کرو۔ لفظ ’نعمت‘ یہاں جنس نعمت کے مفہوم میں ہے۔ غور کرنے کے لیے ان کے سامنے مسئلہ کو سوال کی صورت میں رکھا کہ یہ آسمان و زمین میں سے جو تمہیں روزی مل رہی ہے، آسمان سے پانی برستا اور زمین سے تمہاری معاش و معیشت کی گوناگوں چیزیں پیدا ہوتی ہیں، کیا تم کہہ سکتے ہو کہ خدا کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں یہ چیزیں بخشتا ہے۔
      سوال کا جواب: ’لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ‘۔ ان کی طرف سے کسی جواب کا انتظار کیے بغیر خود اس کا جواب دیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ خود جواب دینے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس سوال کا صحیح جواب اس کے سوا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا، دوسری یہ کہ مشرکین عرب، جو یہاں مخاطب ہیں، اس سوال کا یہی جواب، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات سے واضح ہے، دیتے بھی تھے۔ فرمایا کہ جب اصل حقیقت یہ ہے اور تم کو بھی اس سے انکار نہیں ہے تو پھر کہاں تمہاری عقل الٹ گئی ہے کہ دوسری چیزوں کو تم معبود بنائے بیٹھے ہو!

      جاوید احمد غامدی (اِس لیے) لوگو، اللہ کے جو احسانات تمھارے اوپر ہیں، اُن کا دھیان کرو۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمھیں زمین و آسمان سے روزی دیتا ہے؟ (نہیں)، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جب وہی خالق و رازق ہے تو اُس کے سوا معبود کوئی اور کیوں ہونے لگا؟ ہرگز نہیں، وہی معبود حقیقی ہے ۔ پیچھے جو سوال کیا ہے، اُس کے جواب کا انتظار کیے بغیر یہ بات اِس لیے فرما دی ہے کہ مخاطب مشرکین ہیں اور اُنھیں اِس بات سے انکار نہیں تھا کہ زمین و آسمان کو بنانے والا اللہ ہے اور وہی روزی رساں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اگر یہ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو کچھ غم نہ کرو، تم سے پہلے بھی کتنے رسولوں کی تکذیب کی گئی ہے اور اللہ ہی کے سامنے سارے امور پیش کیے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آنحضرت صلعم کو تسلی: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر ایسے سرپھرے لوگ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو یہ کوئی تعجب یا غم کی بات نہیں ہے، تم سے پہلے جو رسول آئے اس طرح کے لوگوں نے ان کی بھی تکذیب کی۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں تمہاری کسی تقصیر کو دخل نہیں ہے بلکہ تمام تر دخل اس میں ان مکذبین کی مخصوص ذہنیت کو ہے۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ اپنی پیش رو قوموں کی روش پر چل رہے ہیں تو اس روش کا جو انجام ان کے سامنے آیا وہی ان کے سامنے بھی آئے گا۔
      ’وَإِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الأمُوْرُ‘۔ سارے امور خدا کی طرف لوٹتے ہیں اور اسی کی طرف لوٹیں گے۔ یعنی خدا اس معاملہ میں غیر جانبدار یا غیر متعلق نہیں ہے بلکہ ہر چیز اس کے سامنے آ رہی ہے اور آئے گی اور آخری فیصلہ اسی کا ہو گا تو اسی کے بھروسہ پر اپنے کام میں لگے رہو اور ان کے معاملے کو اللہ پر چھوڑو۔ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو مولیٰ و مرجع بنائے بیٹھے ہیں ایک دن اپنی اس طمع خام کا انجام خود دیکھ لیں گے۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے باوجود، اے پیغمبر)، اگر یہ تمھیں جھٹلاتے ہیں (تو کچھ غم نہ کرو)، اِس لیے کہ تم سے پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کو (اِسی طرح) جھٹلا دیا گیا تھا۔ (خدااِنھیں دیکھ رہا ہے) اور یہ سارے معاملات بالآخر خدا ہی کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اے لوگو! اللہ کا وعدہ شدنی ہے تو تم کو یہ دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ اللہ کے باب میں تم کو فریب کار شیطان فریب میں رکھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے بعد مخالفین کو دھمکی دی کہ تم کو پچھلی قوموں کے انجام سے جو ڈرایا جا رہا ہے اس کو ہوائی بات نہ سمجھو۔ اللہ کی یہ وعید شدنی ہے۔ اس وقت تمہیں دنیا کی زندگی کی جو رفاہیت حاصل ہے وہ تمہیں دھوکے میں نہ رکھے۔ تم اپنی موجودہ رفاہیت کو اپنے رویہ کی صحت کی دلیل گمان کرتے ہو اور پیغمبرؐ کی وعید کا مذاق اڑاتے ہو کہ بھلا تم پر عذاب کیوں اور کدھر سے آ جائے گا لیکن جب اللہ کے وعدے کے ظہور کا وقت آئے گا تو تم دیکھ لو گے کہ جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا تھا وہ بالکل تمہارے سامنے ہی موجود تھی۔
      سب سے بڑے فتنہ سے آگاہی: ’وَلَا یَغُرَّنَّکُم بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ‘ ’غرور‘ کے معنی فریب کار کے ہیں اور یہاں اس سے مراد شیطان ہے اس لیے کہ سب سے بڑا فریب کار شیطان ہی ہے۔ فرمایا کہ خدا کے باب میں فریب کار شیطان تمہیں دھوکے میں نہ رکھے۔ خدا رحیم و کریم بھی ہے اور بڑا ہی منتقم و قہار بھی۔ تمہارے تمام طغیان و فساد کے باوجود اس نے تمہیں جو ڈھیل دے رکھی ہے تو اس سے اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تم اس کی گرفت سے باہر ہو یا تمہارے مزعومہ شرکاء نے تم کو بچا رکھا ہے یا وہ تم کو اس کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ اللہ کا نہ کوئی شریک ہے نہ کوئی اس کی پکڑ سے بچانے والا بن سکتا۔ شیطان نے تم کو اس فریب نفس میں اس لیے مبتلا کیا ہے کہ اس طرح وہ تم کو سیدھے جہنم میں لے جا اتارے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خدا کی صفات کے باب میں گمراہی دراصل تمام گمراہیوں کی جڑ ہے اس وجہ سے شیطان یہیں سے انسان پر گھات لگاتا ہے۔ اسی خطرے سے آیت ’وَمَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ‘ (الانفطار: ۶) میں آگاہ فرمایا گیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی لوگو، اللہ کا وعدہ شدنی ہے۔ سو دنیا کی زندگی تمھیں ہرگز کسی دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ وہ بڑا دھوکے باز اللہ کے بارے میں تمھیں کبھی دھوکا دینے پائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی شیطان۔ آگے اِس کی وضاحت ہو گئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم اس کو دشمن ہی سمجھو۔ وہ تو اپنی پارٹی کو صرف جہنم کا ایندھن بنانے کے لیے بلاتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی شیطان تمہارا دشمن اور کھلا ہوا دشمن ہے تو اپنے دشمن کو دشمن ہی سمجھو اور اس کی چالوں سے بچ کے رہو۔ یہ کہاں کی دانش مندی ہے کہ وہ تو تمہارا دشمن ہے لیکن تم نے اس کو اپنا مرشد سمجھ کر اپنی باگ اس کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے! اگر اپنی باگ اس کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے تو اس کا انجام سن لو کہ اس کی تمام سرگرمیوں کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ اس کی پارٹی میں شامل ہو جائیں وہ ان سب کو جہنم کے گھاٹ پر لے جا اتارے۔

      جاوید احمد غامدی حقیقت یہ ہے کہ شیطان تمھارا دشمن ہے، اِس لیے تم بھی اُسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ اپنے گروہ کو اِسی لیے (اپنی طرف) بلاتا ہے کہ وہ دوزخ والوں میں سے ہو جائیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      وعدۂ شدنی کی وضاحت: یہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدۂ شدنی کی وضاحت ہے جس کا ذکر اوپر آیت ۵ میں آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے باب میں کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ یہ دنیا نیکی اور بدی، خیر اور شر میں کسی امتیاز کے بغیر یوں ہی چلتی رہے گی۔ جنھوں نے یہ گمان کر رکھا ہے ان کو شیطان نے خدا کی صفات کے باب میں سخت دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ ایک ایسا دن لازماً آنے والا ہے جس دن وہ لوگ عذاب شدید سے دوچار ہوں گے جنھوں نے کفر کیا ہو گا اور جن لوگوں نے ایمان و عمل صالح کی زندگی گزاری ہو گی وہ مغفرت اور اجر عظیم کے حق دار ٹھہریں گے۔

      جاوید احمد غامدی (اِس لیے متنبہ ہو جاؤ)، جنھوں نے کفر کیا ہے، اُن کے لیے وہاں سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائے اور اُنھوں نے نیک عمل کیے ہیں، اُن کے لیے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کیا وہ جس کی نگاہوں میں اس کا برا عمل کھبا دیا گیا ہے، پس وہ اس کو اچھا خیال کرنے لگا ہے (ایمان لانے والا بن سکتا ہے!) پس اللہ ہی جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو ان کے غم میں تم اپنے کو ہلکان نہ کرو، اللہ باخبر ہے ان کاموں سے جو وہ کر رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جو لوگ خدا کے قانون کی زد میں آ چکے وہ ایمان نہیں لائیں گے: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اس میں تمہاری کسی تقصیر کو دخل نہیں ہے بلکہ یہ قانون الٰہی کی زد میں آئے ہوئے لوگ ہیں تو ان کے غم میں اپنے کو ہلکان نہ کرو۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے تو جب وہ باخبر ہے تو ان کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔
      ’أَفَمَنْ زُیِّنَ لَہُ سُوءُ عَمَلِہِ فَرَآہُ حَسَنًا‘ کے بعد جواب بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ اگر اس حذف کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی۔ کیا وہ جس کی نگاہوں میں اس کی بدعملی کھبا دی گئی ہے اور وہ اپنی بدی کو نیکی سمجھنے لگا ہے، تم اس کو ہدایت دینے والے بن سکتے ہو؟ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا ہدایت پانا سنت الٰہی کے خلاف ہے تو ایسے لوگوں کی فکر میں اپنے کو گھلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرنا چاہیے۔ سورۂ زمر کی آیت ۱۹ میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے:

      أَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْْہِ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَنۡ فِیْ النَّارِ
      ’’کیا وہ جس پر عذاب کی بات پوری ہو چکی ہے! کیا تم اس کو بچانے والے بن سکو گے جو دوزخ میں پڑ چکا۔‘‘

      اس ٹکڑے سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ کسی برائی کے ارتکاب کی ایک حالت تو وہ ہے کہ آدمی اس کا ارتکاب کرتا ہے لیکن اس کے اندر اس کے برائی ہونے کا احساس زندہ رہتا ہے، دوسری حالت یہ ہے کہ اس کی برائی اس کی نگاہوں میں اس طرح کھبا دی جاتی ہے کہ وہ اسی کو ہنر، اسی کو فیشن، اسی کو ترقی کا زینہ اور اسی کو تہذیب و تعلیم کا مقتضیٰ سمجھنے لگتا ہے۔ پہلی حالت میں یہ توقع رہتی ہے کہ اس کو اگر تذکیر و تنبیہ کی جائے تو وہ سنبھل جائے گا لیکن دوسری حالت دل کے مسخ اور عقل کے ماؤف ہو جانے کی علامت ہے جس کو قرآن نے ’ختم قلوب‘ یا ’رین‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ جو اس بیماری میں مبتلا ہوا، وہ خدا کے قانون کی زد میں آ چکا، اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
      ’فَإِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنْ یَشَآءُ وَیَہْدِیْ مَنْ یَشَآءُ‘۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے اور جس کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ ر ہے ہیں۔ آگے اسی سورہ میں اس کی مزید وضاحت آ رہی ہے۔
      ’فَلَا تَذْہَبْ نَفْسُکَ عَلَیْْہِمْ حَسَرٰتٍ إِنَّ اللَّہَ عَلِیْمٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ‘۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے غم میں ہلکان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے خود عقلی و روحانی خود کشی کی ہے، اگر یہ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تمہاری دعوت میں کوئی کسر ہے بلکہ ان کے دلوں پر مہر ہو چکی ہے تو ان کا غم کھانے کے بجائے ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ وہ ان کی ساری کارستانیاں دیکھ رہا ہے، ان کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کے یہ سزاوار ہوں گے۔
      ’حَسَرٰتٍ‘ حال بھی ہو سکتا ہے اور مفعول لہٗ بھی۔ جس طرح ’یٰحَسْرَۃَ عَلَی الْعِبَادِ‘ میں ہے۔ اس کا جمع کی صورت میں آنا فرط غم کے اظہار کے لیے ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (یہ نہیں مان رہے تو اِس میں تمھارا کوئی قصور نہیں ہے، اے پیغمبر)۔ پھر کیا وہ جس کی نگاہوں میں اُس کا برا عمل خوش نما بنا دیا گیا اور وہ اُسی کو اچھا سمجھنے لگا ہے، (اُسے تم ہدایت دے سکتے ہو)؟اِس لیے کہ اللہ ہی (اپنے قانون کے مطابق) جسے چاہتا ہے، گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔ سو اِن پر افسوس کر کر کے تم اپنے کو ہلکان نہ کرو،اِس لیے کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ اِس طرح کے لوگوں کا ہدایت پانا سنت الٰہی کے خلاف ہے۔ اللہ کسی ایسے شخص کو کبھی ہدایت نہیں دیتا جو ہر ناخوب کو خوب بنا کر دیکھنے کو اپنا ہنر بنا لے اور خیر و شر کے اُن بنیادی تصورات ہی سے بے گانہ ہو جائے جو خدا نے انسان کی فطرت میں ودیعت فرمائے ہیں۔
      اہل نحو مصدر کے صلے کو اُس پر متقدم نہیں مانتے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر میں ’عَلَیْہِمْ‘ کو ’حَسَرٰت‘ سے متعلق مانا اور فرمایا ہے کہ اِس کا جمع کی صورت میں آنا فرط غم کے اظہار کے لیے ہے۔ آیت کے مدعا پر تدبر کیا جائے تو اُن کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ ہم نے بھی ترجمہ اُسی کے لحاظ سے کیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اللہ ہی ہے جو بھیجتا ہے ہواؤں کو پس وہ ابھارتی ہیں بادلوں کو پھر ہم ان کو ہانکتے ہیں کسی خشک زمین کی طرف پس ہم اس سے اس زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد ازسرنو زندگی بخش دیتے ہیں۔ اسی طرح لوگوں کا ازسرنو زندہ ہو کر اٹھنا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ دنیا اپنے وجود میں ایک تعلیم گاہ ہے: اوپر آیت ۵ میں جس وعدۂ شدنی کی یاددہانی فرمائی ہے کائنات کے مشاہدات سے یہ اس کی دلیل پیش کی ہے کہ اس کو مستبعد نہ سمجھو۔ مرنے کے بعد لوگوں کو قبروں سے اٹھا کھڑا کرنا اللہ کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ تم اس دنیا میں برابر دیکھتے ہو کہ زمین بالکل خشک پڑی ہوتی ہے، اس میں سبزہ اور روئیدگی کا کہیں نام و نشان بھی نہیں ہوتا کہ اللہ کسی طرف سے ہواؤں کو بھیجتا ہے۔ وہ تمھارے دیکھتے دیکھتے بادلوں کو ابھارتی اور جمع کرتی ہیں۔ پھر ہم ان کو اس مردہ زمین کی طرف ہانک کے لے جاتے اور اس کو سیراب کر دیتے ہیں جس سے اس کے ہرگوشے میں ازسرنو زندگی نمودار ہو جاتی ہے۔ فرمایا کہ ’کَذٰلِکَ النُّشُوْرُ‘ اسی طرح قیامت کے دن لوگوں کا ازسرنو جی کر اٹھنا ہو گا۔ مطلب یہ ہے کہ مرنے اور مرنے کے بعد زندہ ہونے کا مشاہدہ تو تم کو اس دنیا میں اللہ برابر کرا رہا ہے تو تم قیامت کو ناممکن کیوں خیال کیے بیٹھے ہو! ۔۔۔ یہ حقیقت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم واضح کرتے آ رہے ہیں کہ یہ دنیا اپنے وجود میں ان تمام حقائق کی تعلیم کے لیے ایک بہترین تعلیم گاہ ہے جن کی قرآن تعلیم دے رہا ہے۔ اگر انسان عقل و بصیرت سے کام لے تو قرآن کے ہر دعوے کی دلیل اس کو اپنے دہنے بائیں سے مل سکتی ہے۔
      عربیت کا ایک اسلوب: اس آیت میں اسلوب کلام بھی قابل توجہ ہے۔ پہلے ماضی کا صیغہ ’اَرْسَلَ‘ استعمال ہوا ہے۔ پھر مضارع ’تُثِیْرُ‘ آ گیا۔ اس کے بعد ’سُقْنَا‘ اور ’اَحْیَیْنَا‘ متکلم کے صیغے آ گئے۔ اسلوب کا یہ تنوع اپنے اندر گوناگوں خوبیاں رکھتا ہے جن کی تفصیل کا یہ محل نہیں ہے۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ ماضی تو صرف بیان واقعہ کے لیے آتا ہے۔ مضارع میں تصویر حال کا پہلو بھی ہوتا ہے اور متکلم کا صیغہ التفات و عنایات خاص پر دلیل ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (لوگو)، اللہ ہی ہے جس نے ہواؤں کو بھیجا، پھر وہ بادلوں کو ابھارتی ہیں، پھر ہم نے اُنھیں کسی مردہ زمین کی طرف ہانک دیا، پھر اُن کے پانی سے اُسی زمین کو ، اِس کے بعد کہ وہ مری پڑی تھی، زندہ کر دیا۔ لوگوں کا ازسرنو زندہ ہو کر اٹھنا بھی اِسی طرح ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر جس وعدۂ شدنی کا ذکر ہے، یہ اُس کی دلیل بیان فرمائی ہے۔ اِس میں، اگر غور کیجیے تو اسلوب کلام بھی قابل توجہ ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...پہلے ماضی کا صیغہ ’اَرْسَلَ‘ استعمال ہوا ہے۔ پھر مضارع ’تُثِیْرُ‘ آ گیا۔ اِس کے بعد ’سُقْنَا‘ اور ’اَحْیَیْنَا‘ متکلم کے صیغے آ گئے۔ اسلوب کا یہ تنوع اپنے اندر گوناگوں خوبیاں رکھتاہے جن کی تفصیل کا یہ محل نہیں ہے۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ ماضی تو صرف بیان واقعہ کے لیے آتا ہے، مضارع میں تصویر حال کا پہلو بھی ہوتا ہے اور متکلم کا صیغہ التفات و عنایات خاص پر دلیل ہوتا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۶/ ۳۶۳)

    • امین احسن اصلاحی جو عزت کا طالب ہو تو یاد رکھے کہ عزت تمام تر اللہ ہی کے لیے ہے۔ اس کی طرف صعود کرتا ہے پاکیزہ کلمہ اور عمل صالح اس کلمہ کو سہارا دیتا ہے۔ اور جو لوگ بری چالیں چل رہے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کی چال نابود ہو کے رہے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خدا کے تقرب کا واحد ذریعہ ایمان اور عمل صالح ہے: مطلب یہ ہے کہ قیامت تو بہرحال شدنی ہے اور ہر ایک کو اللہ کے حضور میں پیش ہونا ہے۔ رہا یہ سوال کہ خدا کے ہاں کن کو عزت و سرخروئی حاصل ہو گی اور کن کو ذلت و نامرادی سے دوچار ہونا پڑے گا تو جن کو اس سوال کا صحیح جواب مطلوب ہے وہ یاد رکھیں کہ عزت تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اس وجہ سے جس کو بھی یہ حاصل ہو گی اسی کے تعلق اور اسی کی عزت بخشی سے حاصل ہو گی۔
      ’اِلَیْْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہُ‘ یہ اس عزت کے حاصل کرنے کا طریقہ ارشاد ہوا کہ بندوں کی طرف سے اللہ کی طرف صعود کرنے والی چیز ’کلمۂ طیّب‘ یعنی کلمۂ ایمان ہے۔ اس کے سوا دوسری کوئی چیز نہیں جو خدا سے توسل اور قربت کا ذریعہ بن سکے۔ اس کلمۂ ایمان کو جو چیز سہارا دیتی اور رفعت بخشتی ہے وہ عمل صالح ہے۔ عمل صالح کے بغیر کلمۂ ایمان مرجھا کے رہ جاتا ہے۔ گویا کلمۂ ایمان کی مثال انگور کی بیل کی ہوئی جو ہے تو بجائے خود نہایت ثمربار لیکن اس کی شادابی و ثمر باری کا تمام تر انحصار اس امر پر ہے کہ اس کو کوئی سہارا ملے جس پر وہ چڑھے، پھیلے اور پھولے پھلے۔ یہ سہارا اس کو عمل صالح سے حاصل ہوتا ہے۔ عمل صالح ہی اس کو پروان چڑھاتا اور مثمر و بارآور بناتا ہے۔ ورنہ جس طرح انگور کی بیل سہارے کے بغیر سکڑ کے رہ جاتی ہے اسی طرح ایمان بھی عمل صالح کے بدون مرجھا کے رہ جاتا ہے۔
      حضرت ابن عباس نے ’اَلْکَلِمُ الطَّیِّبُ‘ سے کلمۂ ایمان ہی مراد لیا ہے اور یہاں اس کے پہلو بہ پہلو عمل صالح کا ذکر خود اس بات کی شہادت ہے کہ اس سے کلمۂ ایمان ہی مراد ہے۔ لفظ ’طَیّب‘ اس کلمہ کی زرخیزی و ثمر باری کی طرف اشارہ کر رہا ہے اس لیے کہ فلسفۂ دین کے نقطۂ نظر سے یہی کلمہ تمام علم و حکمت کی جڑ ہے۔ جس نے اس کو پا لیا اس نے تمام علم و حکمت کے خزانے کی کلید پالی اور یہ حقیقت بھی مسلم ہے کہ ایمان اور عمل صالح دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ جس طرح ایمان کے بغیر عمل کی کوئی بنیاد نہیں اسی طرح عمل کے بغیر ایمان ایک بے جان شے ہے۔ اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کرنے کے لیے سورۂ ابراہیم کی آیات ۲۴-۲۶ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔
      یہ بات یہاں مشرکین پر یہ حقیقت واضح کرنے کے لیے فرمائی گئی ہے کہ تم اپنے معبود ملائکہ کو خدا کے ہاں عزت و سرفرازی کا واسطہ سمجھے بیٹھے ہو حالانکہ عزت صرف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کا واحد ذریعہ وہ ایمان ہے جس کے ساتھ عمل صالح کی تائید موجود ہو۔ قرآن میں مشرکین کی نسبت یہ بات جگہ جگہ نقل ہوئی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو خدا کے ہاں عزت و سرخروئی کا ذریعہ خیال کرتے تھے۔ مثلاً

      مَا نَعْبُدُہُمْ إِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَا إِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی (الزمر: ۳)
      ’’ہم ان کو صرف اس لیے پوجتے ہیں کہ وہ ہم کو خدا سے قریب تر کر دیں۔‘‘

      دوسری جگہ ہے:

      وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ آلِہَۃً لِّیَکُوۡنُوۡا لَہُمْ عِزًّا (مریم: ۸۱)
      ’’اور انھوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے عزت کا ذریعہ بن سکیں۔‘‘

      ان کے اسی واہمہ پر یہاں ضرب لگائی ہے کہ اس جنت الحمقاء سے نکلو اور خدا کے ہاں عزت کے طالب ہو تو اس کے لیے ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کرو۔
      ’وَالَّذِیْنَ یَمْکُرُوۡنَ السَّیِّاٰتِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ‘۔ یعنی جو لوگ اس حقیقت کا مواجہہ کرنے کے بجائے اپنے پندار کے تحفظ اور اللہ کے دین اور اس کے رسول کو زک پہنچانے کے لیے طرح طرح کی بری چالیں چل رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ اس طرح ان کو عزت نہیں حاصل ہو گی بلکہ وہ اپنے لیے ایک سخت عذاب کا سامان کر رہے ہیں۔
      اس ٹکڑے میں ’سَیِّاٰتٍ‘ کا نصب کچھ بیگانہ سا محسوس ہوتا ہے اس لیے کہ فعل ’مکر‘ اس طرح متعدی نہیں ہوتا۔ صاحب کشاف نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ ’سَیِّاٰتٍ‘ یہاں مصدر کی صفت ہے۔ یعنی ’یمکرون المکرات السیاٰت‘۔ یہ توجیہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ آگے آیت ۴۳ میں اس کی نظیر موجود ہے۔
      ’وَمَکْرُ أُولٰئِکَ ہُوَ یَبُوْرُ‘ یعنی جو لوگ اس فریب نفس میں خود مبتلا اور دوسروں کو بھی مبتلا رکھنے کے لیے رات دن جوڑ توڑ میں سرگرم ہیں وہ یاد رکھیں کہ ایک دن ان کی یہ ساری سازشیں اور سرگرمیاں نابود ہو جائیں گی۔ یہاں مبتدا کے اعادے سے کلام میں یہ زور پیدا ہو گیا ہے کہ ان لوگوں کی ان ساری سازشوں سے کسی دوسرے کا کچھ نہیں بگڑے گا بلکہ تباہی ان کی سازشوں ہی پر آئے گی اور وہ انہی کی خرابی کا باعث ہوں گی۔ آگے اس مضمون کو کھول دیا ہے۔ فرمایا ہے:

      ’وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّءُ إِلَّا بِأَہْلِہٖ‘
      (اور بُری چالیں انہی کو تباہ کرتی ہیں جو بری چالیں چلتے ہیں)

      اس لیے کہ حق ایک متاع مشترک اور سب کی فلاح کا ذریعہ ہے۔ اگر کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے تو خود اپنی ہی آنکھیں پھوڑتا اور اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارتا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی جو (وہاں) عزت چاہتا ہے، (وہ اللہ سے چاہے)، اِس لیے کہ عزت تمام تر اللہ ہی کے لیے ہے۔ اُس کی جناب میں پاکیزہ کلام پہنچتا ہے اور اچھا عمل اُسے اوپر اٹھاتا ہے۔ اور جو لوگ بری تدبیریں کر رہے ہیں، اُن کے لیے سخت عذاب ہے اور اُن کی سب تدبیریں بالآخر غارت ہو کر رہیں گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِس لیے فرمایا کہ مشرکین اپنے معبودوں کو خدا کے حضور عزت و سرخ روئی کے حصول کا ذریعہ خیال کرتے تھے۔
      اِس سے کلمۂ ایمان مراد ہے۔ آگے اچھے عمل کے ذکر سے اِس کو واضح کر دیا ہے۔ آیت میں جس طرح ’عَمَل‘ کے ساتھ ’صَالِح‘ کا لفظ ہے، اُسی طرح ’کَلِم‘ کے ساتھ ’طَیِّب‘ کا لفظ آیا ہے۔ یہ اُس کی زرخیزی اور ثمر باری کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ استاذامام لکھتے ہیں:

      ’’... اِس لیے کہ فلسفۂ دین کے نقطۂ نظر سے یہی کلمہ تمام علم و حکمت کی جڑ ہے۔ جس نے اِس کو پالیا،اُس نے تمام علم و حکمت کے خزانے کی کلید پالی اور یہ حقیقت بھی مسلم ہے کہ ایمان اور عمل صالح، دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ جس طرح ایمان کے بغیر عمل کی کوئی بنیاد نہیں، اُسی طرح عمل کے بغیر ایمان ایک بے جان شے ہے۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۳۶۳)

      اُنھوں نے لکھا ہے:

      ’’... گویا کلمۂ ایمان کی مثال انگور کی بیل کی ہوئی جو ہے تو بجاے خود نہایت ثمربار، لیکن اُس کی شادابی و ثمر باری کا تمام تر انحصار اِس امر پر ہے کہ اُس کو کوئی سہارا ملے جس پر وہ چڑھے، پھیلے اور پھولے پھلے۔ یہ سہارا اُس کو عمل صالح سے حاصل ہوتا ہے۔ عمل صالح ہی اُس کو پروان چڑھاتا اور مثمر و بارآور بناتا ہے۔ ورنہ جس طرح انگور کی بیل سہارے کے بغیر سکڑ کے رہ جاتی ہے، اُسی طرح ایمان بھی عمل صالح کے بدون مرجھا کے رہ جاتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۳۶۳)

      اصل میں ’یَمْکُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اِن میں ’السَّیِّاٰت‘ مصدر کی صفت ہے، یعنی ’یَمْکُرُوْنَ الْمَکْرَاتِ السَّیِّئَاتِ‘۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ فعل ’یَمْکُرُوْنَ‘ متعدی نہیں ہے کہ ’السَّیِّاٰت‘ کو اِس کا مفعول قرار دیا جا سکے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر پانی کی بوند سے اور پھر تم کو جوڑے جوڑے بنایا۔ اور کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ کسی عمر والے کی عمر میں نہ زیادتی ہوتی نہ کمی مگر یہ ایک کتاب میں نوشتہ ہے۔ یہ سب اللہ کے لیے آسان ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مشرکین کے ایک واہمہ کی تردید: یعنی اولاد اور عمر میں جو کمی بیشی بھی ہوتی ہے وہ اللہ کے علم اور اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔ ان چیزوں میں بھی تمہارے ان دیویوں دیوتاؤں کو کوئی دخل نہیں ہے۔ اس وجہ سے ان کے لیے بھی تمہیں خدا ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اس کے سوا کسی دوسرے کا سہارا نہیں ڈھونڈنا چاہیے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مال و اولاد اور صحت و زندگی اور اس قبیل کی دوسری مطلوبات ہمیشہ شرک کے عوامل میں سے رہی ہیں۔ جن کے ہاں اولاد نہیں ہوتی، یا ہوتی ہے لیکن زندہ نہیں رہتی، یا صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں، اولاد نرینہ نہیں پیدا ہوتی، اس طرح کے لوگ اگر وہمی ہوتے ہیں تو شیطان بڑی آسانی سے ان کا رخ تھانوں، استھانوں، قبروں اور مزاروں کی طرف موڑ دیتا ہے۔ مشرکین عرب کے شرک میں بھی اس عامل کو بڑا دخل رہا ہے۔ وہ اپنے معبودوں کو آسمان و زمین کا خالق تو نہیں سمجھتے تھے لیکن رزق اور مال و اولاد وغیرہ کے معاملات میں ان کو ۔۔۔ خاص طور پر فرشتوں کو ۔۔۔ بہت دخیل سمجھتے تھے۔ اسی طرح بیماری اور موت وغیرہ کے معاملے میں وہ جنوں کو متصرف خیال کر کے ان کی پوجا کرتے۔ ہم سورۂ انعام کی تفسیر میں ذکر کر آئے ہیں کہ بعض جنوں کو وہ اتنا خطرناک سمجھتے تھے کہ ان کے لیے اپنی اولاد تک کی قربانی کرتے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر کسی بیٹے یا بیٹی کی قربانی دے کر ان کو راضی نہ رکھا جائے تو یہ ساری اولاد چٹ کر جاتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ کسی بیماری میں مبتلا ہوتے وہ بھی ان دیویوں دیوتاؤں کی طرف رجوع کرتے اور ان سے صحت اور طول عمر کی دعا کرتے۔ اس آیت میں انہی اوہام پر ضرب لگائی ہے۔
      ایک مسلم حقیقت کی یاددہانی: ’وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ جَعَلَکُمْ أَزْوَاجًا‘۔ یہ ٹکڑا آگے کے مضمون کے لیے بطور تمہید ہے۔ اس میں اس مسلم حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جس نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے ان کی نسل چلائی پھر تم کو جوڑے جوڑے بنایا۔ مطلب یہ ہے کہ سارا گھر بنایا اور بسایا تو خدا نے اور یہ ایسی حقیقت ہے جس سے تمہیں بھی انکار نہیں ہے تو اس گھر کو بسا کر آخر خدا کو کیا مشکل پیش آئی کہ وہ اس کے رزق، اولاد اور عمر وغیرہ کے معاملات دوسروں کے سپرد کرنے پر مجبور ہو گیا؟ کیا جو تمہیں مٹی سے بنا سکتا ہے، پانی کی ایک بوند سے تمہاری نسل چلا سکتا ہے، تمہیں میاں بیوی کی صورت میں آباد کر سکتا ہے، وہ تمہارے رزق، تمہاری اولاد اور تمہاری عمر کے معاملات کو سرانجام دینے سے قاصر ہے کہ ان کے لیے تمہیں دوسر ے آستانوں کا محتاج بنائے!
      ایک غلط فہمی کا ازالہ: ’وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثٰی وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہٖ‘۔ یہ اوپر والی تمہید کے لازمی نتیجہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس نے آدم علیہ السلام کا یہ کنبہ بسایا ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کون عورت کب حاملہ ہوئی اور اس کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کب اس کو جنے گی اور کس شکل میں جنے گی! ۔۔۔ یہاں علم کا حوالہ خاص طور پر اس وجہ سے دیا کہ مشرکین عرب خدا کے خالق ہونے کے منکر نہیں تھے، ان کو وہم تھا تو یہ تھا کہ اتنی وسیع و عریض دنیا کے ہر معاملے کی خبر خدا کو کس طرح ہو سکتی ہے اس وجہ سے بہت سے معاملات، جو رزق و عمر اور اولاد وغیرہ سے متعلق ہیں، اس نے اپنے شرکاء کے حوالے کر دیے ہیں۔ قرآن نے ’اِلَّا بِعِلْمِہٖ‘ کے لفظ سے ان کے اسی واہمہ پر ضرب لگائی ہے کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا واقعہ بھی اس دنیا میں ایسا نہیں ہوتا جو اس کے خالق کے دائرۂ علم سے باہر ہو۔
      ’وَمَا یُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا یُنقَصُ مِنْ عُمُرِہِ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ‘ لفظ ’مُّعَمَّرُ‘ یہاں طویل العمر کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جس کو کوئی عمر ملتی ہے خواہ طویل یا قصیر۔ صاحب کشاف نے اس کا یہی مفہوم لیا ہے اور ہمارے نزدیک یہ صحیح ہے۔
      یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید وضاحت ہے کہ جس کو بھی کوئی عمر نصیب ہوتی ہے اور پھر اس عمر میں سے جو گھنٹے اور دن کم ہوتے ہیں وہ خدا کے حکم اور علم سے ہوتے ہیں۔ ’اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ‘ یہ اوپر کے الفاظ ’اِلَّا بِعِلْمِہٖ‘ کی جگہ پر ہے اور اس سے اوپر والا مضمون مزید محکم و موثق ہو گیا ہے۔ یعنی صرف یہی نہیں کہ خدا ان ساری باتوں کو جانتا ہے بلکہ ان میں سے ہر چیز ایک عظیم کتاب میں مندرج ہے۔ اس وہم میں نہ رہو کہ خدا کسی چیز کو بھول جائے گا۔
      ’اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ‘۔ یہ اسی شبہ کا ازالہ ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے کہ اہل عرب اس وہم میں مبتلا تھے کہ بھلا خدا تن تنہا ان تمام جزئیات امور کا احاطہ کس طرح کر سکتا ہے۔ اس وہم کے تحت انھوں نے خدا کی مدد کے لیے شرکاء و اعوان ایجاد کیے اور پھر ان کی عبادت میں اس طرح لگے کہ خدا ان کے ہاں ایک وجود معطل ہو کے رہ گیا ۔۔۔ یہ ان کے اسی واہمہ کی تردید ہے کہ خدا کے لیے ان کاموں میں سے کوئی کام بھی مشکل نہیں ہے کہ وہ کسی شریک و مددگار کا محتاج ہو۔

      جاوید احمد غامدی اور (لوگو)، اللہ نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا، پھر پانی کی بوند سے، پھر تمھیں جوڑے جوڑے بنایا ہے۔ اُس کے علم کے بغیر نہ کوئی عورت حاملہ ہوتی ہے، نہ بچہ جنتی ہے اور کسی عمر والے کو نہ عمر دی جاتی ہے اور نہ اُس کی عمر گھٹائی جاتی ہے، مگر وہ بھی ایک کتاب میں لکھی ہوتی ہے۔ (اِن میں سے کسی کام کے لیے وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے)۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے لیے یہ آسان سی بات ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ اِس مغالطے میں نہ رہو کہ اتنی وسیع و عریض دنیا کے اِن جزئیات امور کا احاطہ خدا تن تنہا کس طرح کر سکتا ہے؟ اِس کے لیے وہ یقیناً اعوان و انصار کا محتاج ہو گا۔ لہٰذا کیا بعید ہے کہ وہ یہی دیوی دیوتا اور بزرگان دین ہوں جن کی پرستش ہمارے آباو اجداد کرتے رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہ محض حماقت ہے۔ خدا اِن میں سے کسی کا محتاج نہیں ہے۔ چھوٹی ہو یا بڑی، اُس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور دونوں دریا یکساں نہیں ہیں۔ ایک شیریں، پیاس بجھانے والا، پینے کے لیے خوش گوار ہے اور ایک کھاری کڑوا ہے۔ اور تم دونوں سے تازہ گوشت کھاتے اور زینت کی چیز نکالتے ہو جس کو پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کشتیوں کو اس میں پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں تاکہ تم اس کے فضل کے طالب بنو اور تاکہ تم شکرگزار بنو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      شرک اور شرکاء کی تردید اضداد میں سازگاری کے پہلو سے: یہ ایک دوسرے پہلو سے شرک اور شرکاء کی تردید فرمائی گئی۔ اس کائنات میں اضداد کا جو تصادم ہے یہ بھی شرک کے نہایت اہم عوامل میں سے ہے۔ قرآن نے مختلف پہلوؤں سے اس کی تردید فرمائی ہے اور ہم اس کی وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ یہاں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں اضداد کا وجود اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کے اندر مختلف ارادے کارفرما ہیں اس لیے کہ اس کے اضداد میں ظاہری تضاد کے ساتھ ساتھ نہایت گہری سازگاری بھی پائی جاتی ہے جس سے اس بات کی شہادت ملتی ہے کہ کوئی بالاتر اور ہمہ گیر و ہمہ جہت قوت قاہرہ ان تمام اضداد پر حاوی ہے جو ان کو اپنی حکمت کے تحت اس کائنات کی مجموعی بہبود کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
      ’وَمَا یَسْتَوِی الْبَحْرَانِ الاٰیۃ‘۔ یعنی دیکھو، دو سمندر ہیں اور دونوں اپنی ظاہری خصوصیات و صفات میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک کا پانی شیریں، پیاس بجھانے والا اور خوشگوار ہے، دوسرے کا کھاری، کڑوا۔ یہ دونوں آپس میں ٹکراتے ہیں لیکن یہ نہیں ہوتا کہ کھاری سمندر میٹھے سمندر پر غالب ہو کر اس کو کھاری بنا دے یا شیریں سمندر کھاری کے مزاج کو بدل دے بلکہ ایک بالاتر قوت نے ان دونوں کو ٹکرانے کے باوجود ان کے حدود کا پابند کر رکھا ہے۔ سورۂ رحمان میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے:

      strong> ’مَرَجَ الْبَحْرَیْْنِ یَلْتَقِیَانِ ۵ بَیْْنَہُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیَانِ‘ (الرحمان: ۱۹-۲۰)
      (اس نے چھوڑے دو دریا، دونوں باہم دگر ٹکراتے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان ایک اوٹ ہوتی ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے)۔

      پھر یہ دیکھو کہ کس طرح یہ اپنے تضاد و اختلاف کے باوجود اپنے سے بالاتر مقصد کی خدمت بجا لاتے ہیں کہ تم دونوں ہی سے اپنے لمبے لمبے بحری سفروں میں جہاں تازہ گوشت حاصل کرنا ناممکن ہوتا، ان سے تازہ گوشت حاصل کر لیتے ہو اور غذا کے ساتھ اپنی زینت کے لیے ان سے قیمتی موتی بھی نکالتے ہو۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہارے لیے اس طرح مسخر ہیں کہ تمہارے جہازات ان کے سینے پر سے موجوں کو پھاڑتے ہوئے چلتے ہیں تاکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کر کے تم اللہ کے رزق و فضل کے طالب بنو اور اس کے شکرگزار رہو ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کے ظاہری تضاد میں گم ہو کے نہ رہ جاؤ بلکہ ان اضداد کے باہمی توافق پر بھی نگاہ ڈالو تو یہ حقیقت روشن ہو جائے گی کہ ایک ہی خدائے قادر و قیوم نے اس دنیا کو وجود بخشا ہے اور اسی نے اپنی قدرت و حکمت سے اس کے تمام اجزائے مختلفہ کو انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے تاکہ انسان اپنے پروردگار کا شکرگزار رہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (یہ دنیا مجموعۂ اضداد ہے جس میں وہی توافق پیدا کرتا ہے۔ تم غور کرو)، دونوں دریا یکساں نہیں ہیں۔ایک میٹھا ہے، پیاس بجھانے والا، پینے کے لیے خوش گوار اور ایک کھاری کڑوا ہے اور تم دونوں سے تازہ گوشت حاصل کرکے کھاتے ہو اور زینت کا سامان نکالتے ہو، جس کو پہنتے ہو۔ اور کشتیوں کو دیکھتے ہوکہ اُسی پانی میں اُس کا سینہ چیرتی ہوئی چلی جا رہی ہیں، اِس لیے کہ (دور دراز علاقوں میں) تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اِس لیے کہ اُس کا شکر ادا کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک گردش کرتا ہے ایک معین وقت کے لیے۔ وہی اللہ تمہارا رب ہے، اسی کی بادشاہی ہے۔ رہے وہ جن کو اس کے سوا تم پکارتے ہو تو وہ ذرہ برابر کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’یُولِجُ الَّیْْلَ فِی النَّہَارِ الاٰیۃ‘۔ یہ اسی حقیقت کی طرف ایک دوسری مثال سے توجہ دلائی ہے کہ یہی حال تمہارے سامنے روز آنے والی رات اور روز ظاہر ہونے والے دن کا بھی ہے۔ وہ بھی ظاہر ضدین کی نسبت رکھتے ہیں لیکن ان کے درمیان بالکل زوجین کا توافق پایا جاتا ہے۔ دونوں ہی اس دنیا کے بقا اور تمہاری راحت و معیشت کے لیے ضروری ہیں۔ یہی حال سورج اور چاند کا بھی ہے۔ نادانوں نے ان کو معبود بنا کر پوجا حالانکہ وہ اپنے وجود سے شہادت دیتے ہیں کہ خدا نے ان کو اپنی خلق کی خدمت کے لیے مسخر کر رکھا ہے۔ چنانچہ دونوں اپنے معین نظام اوقات کے ساتھ برابر تمہاری خدمت میں سرگرم رہتے ہیں۔
      ’ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ‘۔ یہ خلاصہ ہے اوپر کی ساری بحث کا کہ یہی اللہ، جس کی یہ شانیں، قدرتیں اور حکمتیں دیکھتے ہو تمہارا رب ہے اور اسی کے قبضۂ قدرت میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔
      ’وَالَّذِیْنَ تَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مَا یَمْلِکُوۡنَ مِنۡ قِطْمِیْرٍ‘۔ ’قِطْمِیْر‘ اس باریک غلاف کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے اوپر ہوتا ہے۔
      یہ وہی بات منفی اسلوب سے فرمائی کہ رہے وہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے اور پوجتے ہو تو وہ اس دنیا کے خلق و تدبیر میں ذرہ برابر بھی دخل نہیں رکھتے۔

      جاوید احمد غامدی وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور سورج اور چاند کو اُس نے مسخر کر رکھا ہے۔ دونوں ایک بندھے ہوئے وقت کے لیے چل رہے ہیں۔ یہی اللہ تمھارا پروردگار ہے ۔ اُسی کی بادشاہی ہے۔ اور جنھیں تم اُس کے سوا پکارتے ہو، وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اگر تم ان کو پکارو گے تو وہ تمہاری فریاد نہیں سنیں گے اور اگر سنیں گے بھی تو تمہاری فریاد رسی نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کریں گے۔ اور ایک باخبر کی طرح کوئی دوسرا تمہیں آگاہ نہیں کر سکتا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اِسْتَجَابَ لَہٗ‘ کے معنی ہیں اس کا جواب دیا یا اس کی فریاد رسی کی۔
      فرضی معبودوں کی بے بسی دنیا اور آخرت دونوں میں: یہ ان کے مزعومہ دیوتاؤں کی بے بسی اور بے حقیقتی واضح فرمائی ہے کہ اگر تم اپنی کسی مشکل میں ان کو مدد کے لیے پکارو گے تو اول تو وہ تمہاری فریاد سنیں گے نہیں اور سن بھی لیں تو وہ تمہاری کوئی فریادرسی نہیں کریں گے۔ ان کی یہ بے بسی اس دنیا میں بھی واضح ہے اور آخرت میں یہ مزید ہو جائے گی۔ مشرکین جن چیزوں کو پوجتے تھے اول تو ان کا کوئی مسمّٰی موجود ہی نہیں تھا اس وجہ سے ان کے سننے یا فریاد رسی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر کچھ ایسی ہستیوں کو پوجتے تھے جن کا کوئی وجود ہے تو اول تو وہ آخرت میں اپنی بے خبری کا اظہار کریں گی کہ ہمیں علم نہیں کہ کچھ لوگ ہماری عبادت کرتے رہے ہیں۔ ثانیاً ان میں سے جو صالحین ہوں گے مثلاً ملائکہ اور انبیاء وہ تو صاف الفاظ میں اعلان براء ت کریں گے۔ اور جو اشرار ہوں گے مثلاً جنات و شیاطین تو وہ ان فریاد کرنے والوں کو جواب دیں گے کہ یہ تمہاری بدبختی تھی کہ تم نے ہماری پرستش کی، اب اس کا انجام بھگتو۔ اب نہ تم ہمارے کچھ کام آ سکتے اور نہ ہم تمہاری کوئی فریاد رسی کر سکتے ہیں۔
      ’وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکْفُرُوۡنَ بِشِرْکِکُمْ‘۔ یعنی اس دنیا میں تو وہ تمہاری فریاد رسی سے بے خبر اور تمہاری فریاد رسی سے بے بس ہیں اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کریں گے۔ چنانچہ فرشتوں کے انکار کی تفصیل سورۂ سبا میں بدیں الفاظ میں گزر چکی ہے:

      وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعاً ثُمَّ یَقُولُ لِلْمَلَائِکَۃِ أَہٰؤُلَآءِ إِیَّاکُمْ کَانُوۡا یَعْبُدُوۡنَ ۵ قَالُوۡا سُبْحَانَکَ أَنۡتَ وَلِیُّنَا مِنۡ دُوۡنِہِمۡ بَلْ کَانُوۡا یَعْبُدُوۡنَ الْجِنَّ (سبا: ۴۰-۴۱)
      ’’اور اس دن کا دھیان کرو جس دن وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا، پھر فرشتوں سے پوچھے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری پرستش کرتے رہے ہیں؟ وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ہے! ان کے مقابل میں تو ہمارا کارساز ہے بلکہ یہ لوگ جنوں کی پوجا کرتے رہے ہیں۔‘‘

      نہایت بلیغ تنبیہ: ’وَلَا یُنَبِّئُکَ مِثْلُ خَبِیْرٍ‘۔ یہ آخر میں تنبیہ اور نہایت ہی زوردار اور بلیغ تنبیہ ہے۔ ’خَبِیْر‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان باتوں کو سن لو اور اچھی طرح سن لو، اس لیے کہ غیب کے پردوں میں کیا ہے اور کل کیا کچھ تمہارے سامنے آنے والا ہے اس کو ایک حقیقی باخبر ہی جانتا ہے۔ اس سے بڑھ کر تمہیں ان حقائق سے کوئی دوسرا باخبر نہیں کر سکتا۔ تمہاری بدقسمتی ہو گی اگر تم نے اس کی قدر نہ کی اور جھوٹی آرزوؤں میں پھنسے رہ گئے!

       

      جاوید احمد غامدی تم اُنھیں پکارو گے تو وہ تمھاری پکار نہ سنیں گے اور اگر سنیں گے بھی تو تمھاری فریادرسی نہ کر سکیں گے اور قیامت کے دن تمھارے شرک کا انکار کر دیں گے۔ تمھیں ایک باخبر کی طرح کوئی دوسرا (یہ حقائق) نہیں بتائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اللہ تعالیٰ کی طرح۔ اِس لیے کہ وہی اِن حقائق کا براہ راست علم رکھتا ہے۔ دوسرے سب لوگ زیادہ سے زیادہ عقلی استدلال سے کوئی بات بتا سکتے ہیں جو اصلاً استنباطی ہوتا ہے۔ اِس لیے متنبہ ہو جاؤ، غیب کے پردوں میں کیا ہے اور وہ کب اور کس طرح تمھارے سامنے آ جائے گا، اُس کو ایک حقیقی با خبر ہی جانتا ہے اور اِس وقت وہی تمھیں بتا رہا ہے کہ یہ اضداد اُسی کے آفریدہ ہیں اور اِن کے اندر جو سازگاری دیکھتے ہو، وہ بھی اُسی قادر و قیوم کی پیدا کی ہوئی ہے۔ یہ خود اِس بات کی شہادت ہے کہ ایک ہمہ گیر و ہمہ جہت اور بالاتر قوت ہے جو اِن اضداد پر حاوی ہے اور اِنھیں اپنے پیش نظر مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ کوئی دوسرا اُس کے کسی ارادے اور فیصلے پر کسی نوعیت سے اثر انداز نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ حقیقت ہے کہ زمین و آسمان میں اُس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اے لوگو! تمہی اللہ کے محتاج ہو، اللہ تو بے نیاز و ستودہ صفات ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اسی تنبیہ پر اضافہ اور نہایت زور دار اضافہ ہے۔ خطاب بھی ’یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ‘ کے الفاظ سے ہے کہ سب کان کھول کر سن لیں کہ تعلیم و تذکیر کا یہ سارا اہتمام جو کیا گیا ہے، اور خدا کا رسول لوگوں کو جگانے اور جھنجھوڑنے کے لیے اپنے رات دن جو ایک کیے ہوئے ہے تو اس لیے نہیں کہ لوگوں کے ایمان نہ لانے سے خدا کا کوئی کام اٹکا ہوا ہے، خدا تو بالکل بے نیاز اور اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے، البتہ تم لوگ خود خدا کے محتاج ہو، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ خدا کی بے نیازی کا تو یہ عالم ہے کہ وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور تمہاری جگہ ایک دوسری نئی مخلوق لا بسائے۔ اگر وہ یہ کرنا چاہے تو یہ کام ذرا بھی اس کے لیے مشکل نہیں ہے۔ یہ محض تمہارے اوپر اس کی رحمت و عنایت ہے کہ تمہاری ان ناقدریوں اور ناشکریوں کے باوجود تمہیں مہلت دیے جا رہا ہے۔ بہتر ہے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاؤ ورنہ یاد رکھو کہ نہ خدا کا کچھ بگاڑو گے نہ اس کے رسول کا بلکہ اپنے ہی کو تباہ کرو گے۔
      ’ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ‘ کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کر چکے ہیں کہ خدا اپنی ذات میں کامل ہے۔ اس کا یہ کمال اس کی ذات سے خارج کی کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔ ساتھ ہی وہ حمید یعنی تمام صفات حمد سے متصف بھی ہے۔ خلق کے ساتھ اس کا تعلق کسی احتیاج پر نہیں بلکہ تمام تر اس کی رحمت و عنایت پر مبنی ہے:

      من نہ کردم خلق تا سودے کنم
      بلکہ کردم خلق تاجودے کنم

       

      جاوید احمد غامدی لوگو، (اُس کی طرف سے اِس علم و تذکیر کی قدر کرو)۔ تم ہی اللہ کے محتاج ہو۔ (اُس کو تمھارے ایمان کی کوئی ضرورت نہیں آ پڑی ہے)۔ اللہ تو بے نیاز اور ستودہ صفات ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اگر وہ چاہے تو تمہیں فنا کر دے اور ایک نئی مخلوق لا کھڑی کرے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اسی تنبیہ پر اضافہ اور نہایت زور دار اضافہ ہے۔ خطاب بھی ’یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ‘ کے الفاظ سے ہے کہ سب کان کھول کر سن لیں کہ تعلیم و تذکیر کا یہ سارا اہتمام جو کیا گیا ہے، اور خدا کا رسول لوگوں کو جگانے اور جھنجھوڑنے کے لیے اپنے رات دن جو ایک کیے ہوئے ہے تو اس لیے نہیں کہ لوگوں کے ایمان نہ لانے سے خدا کا کوئی کام اٹکا ہوا ہے، خدا تو بالکل بے نیاز اور اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے، البتہ تم لوگ خود خدا کے محتاج ہو، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ خدا کی بے نیازی کا تو یہ عالم ہے کہ وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور تمہاری جگہ ایک دوسری نئی مخلوق لا بسائے۔ اگر وہ یہ کرنا چاہے تو یہ کام ذرا بھی اس کے لیے مشکل نہیں ہے۔ یہ محض تمہارے اوپر اس کی رحمت و عنایت ہے کہ تمہاری ان ناقدریوں اور ناشکریوں کے باوجود تمہیں مہلت دیے جا رہا ہے۔ بہتر ہے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاؤ ورنہ یاد رکھو کہ نہ خدا کا کچھ بگاڑو گے نہ اس کے رسول کا بلکہ اپنے ہی کو تباہ کرو گے۔

      جاوید احمد غامدی وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اور (تمھاری جگہ) ایک نئی مخلوق یہاں لے آئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور یہ اللہ کے لیے ذرا مشکل نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اسی تنبیہ پر اضافہ اور نہایت زور دار اضافہ ہے۔ خطاب بھی ’یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ‘ کے الفاظ سے ہے کہ سب کان کھول کر سن لیں کہ تعلیم و تذکیر کا یہ سارا اہتمام جو کیا گیا ہے، اور خدا کا رسول لوگوں کو جگانے اور جھنجھوڑنے کے لیے اپنے رات دن جو ایک کیے ہوئے ہے تو اس لیے نہیں کہ لوگوں کے ایمان نہ لانے سے خدا کا کوئی کام اٹکا ہوا ہے، خدا تو بالکل بے نیاز اور اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے، البتہ تم لوگ خود خدا کے محتاج ہو، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ خدا کی بے نیازی کا تو یہ عالم ہے کہ وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور تمہاری جگہ ایک دوسری نئی مخلوق لا بسائے۔ اگر وہ یہ کرنا چاہے تو یہ کام ذرا بھی اس کے لیے مشکل نہیں ہے۔ یہ محض تمہارے اوپر اس کی رحمت و عنایت ہے کہ تمہاری ان ناقدریوں اور ناشکریوں کے باوجود تمہیں مہلت دیے جا رہا ہے۔ بہتر ہے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاؤ ورنہ یاد رکھو کہ نہ خدا کا کچھ بگاڑو گے نہ اس کے رسول کا بلکہ اپنے ہی کو تباہ کرو گے۔

      جاوید احمد غامدی یہ اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی اور اگر کوئی بوجھل جان اپنے بوجھ کے اٹھانے میں کسی سے طالب مدد ہو گی تو اس میں ذرا بھی اس کا ہاتھ نہیں بٹایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت مند ہی کیوں نہ ہو۔ تم تو بس انہی لوگوں کو ڈرا سکتے ہو جو غیب میں رہتے اپنے رب سے ڈرتے اور نماز کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور جو پاکی حاصل کرتا ہے وہ اپنے لیے حاصل کرتا ہے اور اللہ ہی کی طرف سب کی واپسی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اسی اوپر والے مضمون کی مزید وضاحت دوسرے پہلو سے ہے۔ فرمایا کہ اس دن کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی بلکہ ہر ایک کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔
      ’وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ اِلٰی حِمْلِہَا لَا یُحْمَلْ مِنْہُ شَیْْءٌ وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی‘۔ ’مُثْقَلَۃٌ‘ سے پہلے موصوف محذوف ہے۔ یعنی ’نفس مثقلۃ‘ (اپنے بارگناہ کے نیچے دبی ہوئی جان)۔ اسی طرح ’اِلٰی حِمْلِہَا‘ میں ’حِمْل‘ سے پہلے مضاف محذوف ہے اور ’کان‘ کے بعد اس کا اسم ’المدعو‘ محذوف ہے۔ یہ تمام محذوفات اعلیٰ عربیت کے معروف قواعد کے مطابق ہیں۔
      آنحضرت صلعم کو تسلی: مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اپنے گناہوں سے بوجھل جان کسی کو پکارے گی کہ ذرا وہ اس کے بوجھ کے اٹھانے میں اس کو سہارا دے دے تو کوئی اس کا ہاتھ بٹانے والا نہیں بنے گا اگرچہ جس کو وہ مدد کے لیے پکارے وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ نیک تو اس لیے اس کا ہاتھ نہیں بٹائیں گے کہ جب وہ دنیا میں اس کے گناہوں میں اس کے ساتھی نہ بنے تو وہ آخرت میں اس کے ساتھی کیوں بنیں اور جو بد ہوں گے وہ خود اپنے بوجھ کے تلے دبے ہوں گے وہ کسی دوسرے کو کیا سہارا دے سکیں گے!
      ’اِنَّمَا تُنذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُم بِالغَیْْبِ وَأَقَامُوا الصَّلٰوۃ‘۔ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ تم ان حقائق سے لوگوں کو باخبر کر دو۔ اگر یہ متنبہ ہوتے ہیں تو فبہا۔ نہیں ہوتے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ تمہارا انذار صرف انہی لوگوں پر کارگر ہوسکتا ہے جو اپنی عقل اور سمع و بصر و فؤاد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں اور غیب میں رہتے، اپنے رب سے ڈریں اور نماز کا اہتمام کریں۔ رہے وہ لوگ جو سب کچھ آنکھوں سے دیکھ کر ماننا چاہتے ہیں تو ان کا علاج تمہارے پاس نہیں ہے۔ ان کا معاملہ ہمارے اوپر چھوڑو۔
      ’وَأَقَامُوا الصَّلٰوۃ‘ کا ذکر یہاں ایمان کے اولین ثمرہ اور خشیت رب بالغیب کی علامت کے طور پر ہوا ہے۔ جو شخص غیب میں خدا سے ڈرتا ہے وہ لازماً نماز کا اہتمام کرتا ہے۔ جو نماز سے بے پروا ہے وہ خدا سے بے پروا ہے اگرچہ وہ زبان سے ایمان کے کتنے ہی بلند بانگ دعوے کرے۔
      ’وَمَنۡ تَزَکّٰی فَإِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفْسِہٖ وَإِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ‘ یہ نماز کے فائدے کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو شخص گناہوں کے بوجھ سے سبکدوش اور پاکیزہ ہونا چاہتا ہو وہ جھوٹے سہاروں پر اعتماد کرنے کے بجائے نماز کا اہتمام کرے۔ یہ چیز اس کو گناہوں سے پاک کرے گی اور جس نے پاکیزگی حاصل کی وہ اپنا ہی بھلا کرے گا اس لیے کہ اللہ کسی کی عبادت و اطاعت کا محتاج نہیں ہے بلکہ بندے خود ہی اس کے محتاج ہیں اور سب کی واپسی بہرحال اسی کی طرف ہونی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اِس لیے متنبہ ہو جاؤ۔ قیامت کے دن) کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور اگر کوئی بوجھ سے دبا ہوا اپنا بوجھ بٹانے کے لیے پکارے گا تو اُس میں سے کچھ بھی بٹایا نہ جائے گا، چاہے (جس کو پکارا جائے)، وہ قرابت مند ہی کیوں نہ ہو۔ (یہ نہیں سنتے تو اِنھیں اب اِن کے حال پر چھوڑو)۔ تم صرف اُنھی کو خبردار کر سکتے ہو جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔ (یہ پاکیزگی کی دعوت ہے) اور جو پاکیزگی حاصل کرتا ہے، وہ اپنے لیے حاصل کرتا ہے اور (ایک دن سب کو) اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس آیت میں ’مُثْقَلَۃ‘ سے پہلے اُس کا موصوف محذوف ہے۔ اِسی طرح، ’اِلٰی حِمْلِھَا‘ میں ’حِمْل‘ سے پہلے مضاف اور ’کَانَ‘ کے بعد اُس کا اسم محذوف ہے۔ یہ تمام محذوفات عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق ہیں۔ ہم نے ترجمے میں جہاں ضروری تھا، اِنھیں کھول دیا ہے۔
      یعنی خدا کی یاد سے غافل نہیں ہیں اور اِس بات پر اصرار بھی نہیں کرتے کہ آنکھوں سے دیکھنے کے بعد ہی مانیں گے، بلکہ عقل کی بات عقلی استدلال ہی سے مان لیتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی نابینا اور بینا دونوں یکساں نہیں ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ہدایت و ضلالت کے معاملہ میں خدا کا قانون: ’اَعْمٰی‘ سے مراد یہاں عقل و دل کے اندھے ہیں اور ’بَصِیْر‘ سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی عقل و دل کی صلاحیتیں زندہ ہیں اور وہ ان سے کام لیتے ہیں۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری دعوت قبول کرنے کے معاملے میں ہر ایک کا حال یکساں نہیں ہو گا۔ جن لوگوں نے اپنی عقل کی آنکھیں پھوڑ لی ہیں اور جن کے دل بے نور ہو چکے ہیں وہ لوگ تمہاری دعوت قبول کرنے والے نہیں بنیں گے خواہ تم کتنے ہی جتن کرو۔ تمہاری روشنی سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھائیں گے جن کے اندر بصیرت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جو لوگ اس کی بخشی ہوئی فطری صلاحیتوں کو زندہ رکھتے اور ان کی قدر کرتے ہیں ان کی بصیرت و ہدایت میں وہ مزید اضافہ فرماتا ہے اور جو لوگ ان صلاحیتوں کی قدر نہیں کرتے ان کو مزید عطا ہونا تو درکنار ان سے وہ بھی سلب کر لی جاتی ہیں جو ان کو عطا ہوئی ہوتی ہیں۔ سورۂ نمل میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:

      إِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ۵ وَمَا أَنۡتَ بِہَادِی الْعُمْیِ عَنۡ ضَلَالَتِہِمْ إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَنۡ یُؤْمِنُ بِآیَاتِنَا (النمل: ۸۰-۸۱)
      ’’تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو سنا سکتے جب کہ وہ پیٹھ پھیر کے بھاگے جا رہے ہوں۔ اور تم اندھوں کو بھی ان کی ضلالت سے موڑ کر ہدایت پر نہیں لا سکتے۔ تم تو بس انہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان رکھنے والے ہوں۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی (تمھارے مخاطبین سب یکساں نہیں ہیں، اے پیغمبر)۔ حقیقت یہ ہے کہ اندھے اور آنکھوں والے یکساں نہیں ہوتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور نہ تاریکی اور روشنی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      بروں کے امہال میں بھی اس کائنات کی مصلحت ہے: فرمایا کہ جس طرح اس دنیا میں تاریکی بھی ہے اور روشنی بھی، سایہ بھی ہے اور گرمی بھی، اور یہ دونوں یکساں نہیں ہو سکتے، اسی طرح یہ دونوں قسم کے لوگ جن کا ذکر اوپر ہوا یکساں نہیں ہو سکتے۔ تاہم جس طرح تاریکی اور روشنی، سایہ اور گرمی دونوں میں اس دنیا کی مصلحت مضمر ہے اسی طرح اس قسم کے لوگوں کے وجود میں بھی قدرت کی مصلحت ہے۔ اس مصلحت کا ذکر قرآن کے دوسرے مقامات میں ہوا ہے۔ وہاں واضح فرمایا ہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے چونکہ انسان کے اختیار کے امتحان کے لیے پیدا کی ہے اس وجہ سے اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس میں ایک خاص حد تک ان لوگوں کو بھی مہلت ملے جو اس کی بخشی ہوئی صلاحیتوں کی قدر نہیں کرتے اور حق کی جگہ باطل ہی کے پرستار بن کے زندگی گزارتے ہیں۔
      اس میں دوسرے ’لَا‘ کے اعادے کو بعض اہل ادب نے زائد مانا ہے، لیکن ہمارے نزدیک یہ زائد نہیں بلکہ تاکید کے لیے ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں۔

      جاوید احمد غامدی روشنی اور اندھیرے بھی یکساں نہیں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List