Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 54 آیات ) Saba Saba
Go
  • صبا (Sheba)

    54 آیات | مکی

    سورتوں کا پانچواں گروپ

    سورۂ سبا سے سورتوں کا پانچواں گروشروع ہو رہا ہے جو سورۂ حجرات پر ختم ہوتا ہے۔ اس میں ۱۳ سورتیں ۔۔۔ از سبا تا الاحقاف ۔۔۔ مکی ہیں، آخر میں تین سورتیں ۔۔۔ محمد، الفتح، الحجرات ۔۔۔ مدنی ہیں۔

    گروپ کا جامع عمود

    مطالب اگرچہ اس گروپ میں بھی مشترک ہیں یعنی قرآنی دعوت کی تینوں اساسات ۔۔۔ توحید، قیامت، رسالت ۔۔۔ پر جس طرح پچھلے گروپوں میں بحث ہوئی ہے اسی طرح اس میں بھی یہ تمام مطالب زیر بحث آئے ہیں! البتہ نہج استدلال اور اسلوب بیان مختلف اور جامع عمود اس کا اثبات توحید ہے جو اس مجموعہ کی تمام سورتوں میں نمایاں نظر آئے گا۔ دوسرے مطالب اسی کے تحت اور اسی کے تضمنات کی وضاحت کے طور پر آئے ہیں۔

    سورۂ سبا کا عمود

    اس گروپ کی پہلی سورہ، سورۂ سبا ہے۔ اس کا عمود اثبات توحید و قیامت ہے۔ بنیاد اس کی شکر اور اس کے مقتضیات پر ہے اور مخاطب مترفین قریش ہیں۔

  • صبا (Sheba)

    54 آیات | مکی

    سبا ۔ فاطر

    ۳۴ ۔ ۳۵

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں انذار و بشارت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی دعوت دی گئی اور اُس کی توحید کا اثبات کیا گیا ہے۔ چنانچہ دونوں کا موضوع ایک ہی ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ تاریخی استدلال اور دوسری میں ملائکہ کی الوہیت کے ابطال کا پہلو نمایاں ہے۔ اِنھیں ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ سے شروع کرکے اِن کے اِس تعلق کی طرف قرآن نے خود اشارہ کر دیا ہے۔
    دونوں سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔


  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی شکر کا حق دار وہ اللہ ہی ہے جس کا وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی حمد آخرت میں بھی ہو گی اور وہی حقیقی حکیم و خبیر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس سورہ کی بنیاد شکر اور اس کے مقتضیات پر ہے: اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ اس سورہ کی بنیاد شکر اور اس کے لوازم و مقتضیات پر ہے اور سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں یہ حقیقت بھی واضح ہو چکی ہے کہ شکر ہی پر توحید اور پھر پورے دین کی عمارت قائم ہے۔ منعم کے شکر کا واجب ہونا انسانی فطرت کی بدیہیات میں سے ہے۔ انسان پر جس کا بھی کوئی احسان ہوتا ہے وہ اس کا ممنون و شکر گزار ہوتا ہے۔ اگر کوئی اپنے محسن کا شکرگزار نہ ہو تو وہ لئیم و کمینہ ہے۔ اسی اصل پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ آسمان و زمن کی تمام نعمتیں، جن سے انسان ہر لمحہ متمتع ہو رہا ہے اور جن کے اوپر ہی اس کے بقا کا انحصار ہے، کس کی پیدا کردہ اور کس کے قبضۂ قدرت میں ہیں؟ یہ سورج، یہ چاند، یہ ابر، یہ ہوا، یہ ستارے اور سیارے کس کے بنائے ہوئے ہیں؟ یہ زمین، یہ دریا، یہ پہاڑ، یہ چرند و پرند، یہ اشجار و انہار اور یہ سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں؟ ظاہر ہے کہ ان سوالوں کا صحیح جواب یہی ہے کہ یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کردہ، اسی کی مملوک اور اسی کے دست تصرف میں ہیں۔ پچھلی سورتوں میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ ان سوالوں کا یہی جواب قرآن کے کٹر سے کٹر مخالفین بھی دیتے تھے۔ اس آیت میں قرآن نے اسی بدیہی حقیقت کی یاددہانی کی ہے کہ وہی اللہ جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا خالق و مالک ہے وہی ان تمام مخلوقات کے شکر کا حقیقی سزاوار بھی ہے جو اللہ کی پیدا کی ہوئی ان چیزوں سے متمتع ہو رہی ہیں۔ اس شکر کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ سب اسی کی عبادت و اطاعت کریں اور اس عبادت و اطاعت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کریں اس لیے کہ کسی دوسرے کو ان چیزوں کے خلق یا ان کی تدبیر میں کوئی دخل نہیں ہے۔ دوسروں سے انسان کو کوئی فیض پہنچتا ہے تو محض ایک واسطہ و ذریعہ کی حیثیت سے پہنچتا ہے۔ اس وجہ سے اگر ان کا کوئی حق انسان پر قائم بھی ہوتا ہے تو وہ خدا کے حق کے تحت ہوتا ہے نہ کہ خدا کے حق سے بالاتر یا اس کے برابر۔
      شکر کے لوازم کا ظہور آخرت میں: ’وَلَہُ الْحَمْدُ فِی الْآخِرَۃِ‘۔ اوپر کے ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ کے اس حق کا ذکر تھا جو اس دنیا کی زندگی میں اس کے ہر بندے پر قائم ہوتا ہے۔ اب اس ٹکڑے میں اس کے اس حق کا ذکر ہے جو آخرت میں آشکارا ہو گا۔ فرمایا کہ اسی کی حمد آخرت میں بھی ہو گی۔ اس ٹکڑے سے کئی باتیں واضح ہوئیں۔
      ایک یہ کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ربوبیت کا جو اہتمام فرمایا ہے اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کے بعد آخرت کا ظہور ہو۔ اگر آخرت نہ ہو تو یہ تمام ربوبیت بالکل بے معنی و بے غایت ہو کے رہ جاتی ہے۔ اس نکتہ کی وضاحت متعدد مقامات میں ہو چکی ہے اس وجہ سے یہاں اشارے پر کفایت کیجیے۔
      دوسری یہ کہ یہ اہل ایمان کے اس ترانۂ حمد کی طرف اشارہ ہے جو آخرت میں تمام حقائق کے ظہور اور اللہ تعالیٰ کے جملہ وعدوں کے ایفاء کے بعد ان کی زبانوں سے بلند ہو گا۔ اس کی طرف سورۂ یونس میں اشارہ ہے:

      ’وَآخِرُ دَعْوَاہُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلّIہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘ (یونس: ۱۰)
      (اور ان لوگوں کی آخری صدا یہ ہو گی کہ شکر کا حقیقی سزاوار اللہ، عالم کا خداوند، ہے)۔

      تیسری یہ کہ یہ شرکاء و شفعاء کی کلی نفی ہے کہ یہ تمام مزعومہ دیوی دیوتا جن کی شفاعت کی امید پر مشرکین نچنت بیٹھے ہیں، آخرت میں سب ہوا ہو جائیں گے۔ ان میں سے کوئی کسی کے کام آنے والا نہیں بنے گا۔ اس دن مشرکین اپنے معبودوں پر لعنت کریں گے اور معبود اپنے پجاریوں سے اعلان براء ت کریں گے۔ سب کی پیشی اللہ واحد کے حضور میں ہو گی۔ اسی کا فیصلہ ناطق ہو گا اور سب پر یہ حقیقت آشکارا ہو جائے گی کہ سزاوار حمد صرف اللہ رب العالمین ہے۔ اس حقیقت کی طرف سورۂ قصص میں یوں اشارہ فرمایا گیا ہے:

      ’لَہُ الْحَمْدُ فِیْ الْأُولَی وَالْآخِرَۃِ وَلَہُ الْحُکْمُ وَإِلَیْْہِ تُرْجَعُونَ‘ (القصص: ۷۰)
      (وہی حمد کا حق دار ہے دنیا میں اور اسی کی حمد ہو گی آخرت میں اور اسی کے اختیار میں تمام امور کا فیصلہ ہے اور اسی کے آگے تمہاری پیشی ہونی ہے)۔

      مذکورہ بالا باتوں کی دلیل صفات الٰہی سے: ’وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ‘۔ یہ اوپر کے تمام دعاوی کی دلیل اللہ تعالیٰ کی صفات سے پیش کی گئی ہے کہ وہ حکیم و خبیر ہے اس وجہ سے لازم ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں اپنے شکرگزار بندوں کو ان کی شکرگزاری کا صلہ دے اور ناشکرے اپنی ناسپاسی کی سزا بھگتیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ دنیا ایک بازیچۂ اطفال بلکہ ایک نہایت ظالمانہ کھیل بن کے رہ جاتی ہے اور العیاذ باللہ یہ ماننا پڑے گا کہ اس کا خالق حکیم نہیں بلکہ ایک کھلنڈرا ہے حالانکہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ یہ شہادت دے رہا ہے کہ اس کا خالق ایک حکیم ہے۔ اسی طرح اس کے حکیم ہونے کا یہ بھی تقاضا ہے کہ اس کے بے لاگ عدل کو کسی کی سفارش باطل نہ کر سکے اس لیے کہ اس صورت میں بھی اس کے حکیم ہونے کی نفی ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں وہ خبیر بھی ہے اس لیے کہ جب اس نے ہر چیز پیدا کی ہے تو ضروری ہے کہ وہ اس کے ایک ایک ذرہ اور ایک ایک حرکت و سکون سے باخبر بھی ہو چنانچہ فرمایا ہے:

      ’اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ‘ (الملک: ۱۴)
      (کیا وہ نہیں جانے گا جس نے سب کچھ بنایا ہے)

      اس کے اس محیط کل علم کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ کسی کے معاملے کا فیصلہ کرتے وقت نہ کسی دوسرے کے علم و خبر کا محتاج ہو اور نہ کوئی اس کو اپنی جھوٹی سفارش سے فریب دے سکے۔
      یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ ان تمام باتوں کو حصر کے اسلوب میں فرمایا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جب حقیقی خالق و مالک اور حقیقی حکیم و خبیر وہی ہے تو اس کے سوا کوئی دوسرا حمد و شکر کا سزاوار کس طرح ہو سکتا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی شکر کا سزاوار وہی اللہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اُسی کا ہے۔ اور آخرت میں بھی اُسی کی حمد ہو گی اور وہی حکیم و خبیر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ ایک بدیہی حقیقت کا بیان ہے جس سے سورہ کی ابتدا ہوئی ہے کہ وہی اللہ جو زمین و آسمان کی سب چیزوں کا خالق و مالک ہے، وہی اُن تمام مخلوقات کے شکر کا حقیقی سزاوار بھی ہے جو اُس کی پیدا کی ہوئی اِن سب چیزوں سے متمتع ہو رہی ہیں۔
      یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُس کی مخلوقات کا یہی تعلق آخرت میں بھی آشکارا ہو گا۔ اِس فقرے سے جو حقائق معلوم ہوتے ہیں، استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اُن کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’ایک یہ کہ اِس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ربوبیت کا جو اہتمام فرمایا ہے، اُس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اُس کے بعد آخرت کا ظہور ہو۔ اگر آخرت نہ ہو تو یہ تمام ربوبیت بالکل بے معنی و بے غایت ہو کے رہ جاتی ہے۔ اِس نکتے کی وضاحت متعدد مقامات میں ہو چکی ہے، اِس وجہ سے یہاں اشارے پر اکتفا کیجیے۔
      دوسری یہ کہ یہ اہل ایمان کے اِس ترانۂ حمد کی طرف اشارہ ہے جو آخرت میں تمام حقائق کے ظہور اور اللہ تعالیٰ کے جملہ وعدوں کے ایفا کے بعد اُن کی زبانوں سے بلند ہو گا۔ اِس کی طرف سورۂ یونس میں اشارہ ہے: ’وَاٰخِرُ دَعْوٰہُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘* (اور اُن لوگوں کی آخری صدا یہ ہو گی کہ شکر کا حقیقی سزاوار اللہ، عالم کا خداوند ہے)۔
      تیسری یہ کہ یہ شرکا و شفعاکی کلی نفی ہے کہ یہ تمام مزعومہ دیوی دیوتا جن کی شفاعت کی امید پر مشرکین نچنت بیٹھے ہیں، آخرت میں سب ہوا ہو جائیں گے۔ اِن میں سے کوئی کسی کے کام آنے والا نہیں بنے گا۔ اُس دن مشرکین اپنے معبودوں پر لعنت کریں گے اور معبود اپنے پجاریوں سے اعلان براء ت کریں گے۔ سب کی پیشی اللہ واحد کے حضور میں ہو گی، اُسی کا فیصلہ ناطق ہو گا اور سب پر یہ حقیقت آشکارا ہو جائے گی کہ سزاوار حمد صرف اللہ رب العٰلمین ہے۔ ‘‘(تدبرقرآن۶/ ۲۹۰)

      یہ اوپر کے تمام دعاوی کی دلیل ہے کہ وہ حکیم ہے، اِس وجہ سے لازم ہے کہ ایک ایسا دن لائے جس میں اُس کے بے لاگ عدل کا ظہور ہو اور اُس کے شکر گزار بندے اپنی شکر گزاری کا صلہ پائیں ۔اور اِس کے ساتھ خبیر بھی ہے، لہٰذا کوئی بات اُس سے چھپی نہ رہے گی اور نہ وہ فیصلے کے لیے کسی دوسرے کے علم و خبر کا محتاج ہو گا۔ آگے اِسی محیط کل علم کی وضاحت ہے۔ یہ اور اِس سے پہلے کی تمام باتیں حصر کے اسلوب میں فرمائی ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ جب وہی خالق و مالک اور حکیم و خبیر ہے تو اُس کے سوا کوئی دوسرا اُس کی مخلوقات کے حمد و شکر کا سزاوار کس طرح ہو سکتا ہے؟
      _____
      * یونس۱۰: ۱۰۔

    • امین احسن اصلاحی وہ جانتا ہے ہر اس چیز کو جو زمین کے اندر داخل ہوتی ہے اور جو اس سے برآمد ہوتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہی رحم فرمانے والا اور بخشنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خدا کی صفت ’خبیر‘ کی وضاحت: یہ اسی صفت ’خَبِیْرٌ‘ کی وضاحت ہے کہ اس کا علم اس کائنات کے ایک ایک ذرے اور ایک ایک حرکت و سکون کو محیط ہے۔ جو دانہ زمین میں ڈالا جاتا ہے وہ اس سے بھی باخبر ہوتا ہے اور جو پودا اس سے برآمد ہوتا ہے اس کو بھی وہ جانتا ہے۔ اسی طرح آسمان سے جو خیر و شر نازل ہوتا ہے وہ بھی اس کے علم میں ہوتا ہے اور جو چیزیں اس میں صعود کرتی ہیں ان سے بھی وہ آگاہ ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کا علم تمام کلیات و جزئیات کو محیط ہے اور وہ ہر چیز کی نگرانی فرما رہا ہے۔ اس کی مملکت میں کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نہ تو اس کے دائرۂ علم سے باہر ہے اور نہ یہ ممکن ہے کہ اس کے کسی گوشے میں اس کے علم و اذن کے بغیر کوئی کسی قسم کی نقل و حرکت یا ددراندازی کر سکے۔ علم الٰہی کے اس احاطہ کی وضاحت اس مقصد سے کی گئی ہے کہ شرک کے عوامل میں سے ایک بہت بڑا عامل مشرکین کا یہ مغالطہ ہے کہ بھلا اتنی ناپیداکنار کائنات کے ہر کونے اور گوشے، ہر ایک کے قول و عمل اور ہر ایک کے دکھ اور درد سے خدا ہر لمحہ کس طرح واقف رہ سکتا ہے! اس وجہ سے اپنے تصور کے مطابق اس کائنات کے مختلف حصوں کو انھوں نے الگ الگ دیوتاؤں میں تقسیم کیا۔ اس کا تقرب حاصل کرنے اور اس کو اپنی ضروریات سے آگاہ کرنے کے لیے وسائل و وسائط ایجاد کیے۔ جنوں کو آسمان کی خبریں لانے والا مان کر ان کی پرستش کی، فرشتوں کو شفاعت کرنے والا سمجھ کر ان کو دیویوں کا درجہ دیا۔ اس آیت نے ان تمام توہمات پر ضرب لگائی کہ خدا کا علم ہر چیز کو محیط ہے اس وجہ سے کوئی اس کا شریک و سہیم نہیں ہے۔ وہ اپنی پوری کائنات کے سارے نظام پر خود حاوی اور تنہا کافی ہے۔
      مشرکین کے ایک مغالطہ کا ازالہ: ’وَہُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوۡرُ‘ یعنی خدا کوئی ظالم اور غیر منصف بھی نہیں ہے کہ اس کو راضی کرنے یا اس کی آفتوں سے اپنے کو بچانے کے لیے کسی دوسرے کی سعی و سفارش کی ضرورت پیش آئے بلکہ وہ نہایت مہربان اور نہایت بخشنے والا ہے۔ اس کی رحمت کو متوجہ کرنے اور اس کی مغفرت حاصل کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ بندہ اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور توبہ و اصلاح کرے۔ یہاں یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ شرک کے عوامل میں سے ایک اہم عامل مشرکوں کا یہ مغالطہ بھی ہے کہ انھوں نے خدا کا تصور ایک نہایت ہولناک ہستی کی حیثیت سے کیا اور پھر اس کو راضی رکھنے کے لیے انھوں نے اپنے تصور کے مطابق وسائل و ذرائع ایجاد کیے۔ اس ٹکڑے نے اسی واہمہ پر ضرب لگائی ہے۔

      جاوید احمد غامدی جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے، وہ اُس کو جانتا ہے اور وہی غفور و رحیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس کی ایک مثال وہ دانہ ہے جو زمین میں ڈالا جاتا اور اُس سے لہلہاتے ہوئے پودے کی صورت میں برآمد ہو جاتا ہے۔
      اِس کی نہایت واضح مثال لوگوں کے لیے خیر و شر کے فیصلے ہیں جو فرشتے لے کر آتے اور حاضری کے دن جن کے نفاذ کی تمام روداد اوپر لے جا کر خدا کے حضورمیں پیش کر دیتے ہیں۔
      لہٰذا اُس کو ہرگز ضرورت نہیں ہے کہ اُس کے کوئی شرکا ہوں جو اِس عظیم کائنات کا نظم چلانے کے لیے اُس کی مدد کریں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... علم الٰہی کے اِس احاطے کی وضاحت اِس مقصد سے کی گئی ہے کہ شرک کے عوامل میں سے ایک بہت بڑا عامل مشرکین کا یہ مغالطہ ہے کہ بھلا اتنی ناپیداکنار کائنات کے ہر کونے اور گوشے، ہر ایک کے قول و عمل اور ہر ایک کے دکھ اور درد سے خدا ہر لمحہ کس طرح واقف رہ سکتا ہے! اِس وجہ سے اپنے تصور کے مطابق اِس کائنات کے مختلف حصوں کو اُنھوں نے الگ الگ دیوتاؤں میں تقسیم کیا۔ اُس کا تقرب حاصل کرنے اور اُس کو اپنی ضروریات سے آگاہ کرنے کے لیے وسائل و وسائط ایجاد کیے۔ جنوں کو آسمان کی خبریں لانے والا مان کر اُن کی پرستش کی، فرشتوں کو شفاعت کرنے والا سمجھ کر اُن کو دیویوں کا درجہ دیا۔ اِس آیت نے اِن تمام توہمات پر ضرب لگائی کہ خدا کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اِس وجہ سے کوئی اُس کا شریک و سہیم نہیں ہے۔ وہ اپنی پوری کائنات کے سارے نظام پر خود حاوی اور تنہا کافی ہے۔‘‘(تدبر قرآن۶/ ۲۹۱)

      لہٰذا کوئی غلطی اور کوتاہی ہو جائے تو اُس کے لیے بھی کسی دوسرے کی سعی و سفارش کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر گناہ گار کو براہ راست اُسی کے دروازے پر آنا چاہیے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جنھوں نے کفر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آنے کی۔ کہہ دو، ہاں میرے خداوند عالم الغیب کی قسم، وہ ضرور تم پر آ کے رہے گی! اس سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں ہے، نہ آسمانوں اور نہ زمین میں، اور نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز اور نہ بڑی۔ مگر وہ ایک واضح کتاب میں مرقوم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت خدا کی صفات کا لازمی تقاضا ہے: یعنی جب اللہ حکیم و خبیر ہے، اس کا علم ہر چیز کو احاطہ بھی کیے ہوئے ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قیامت ضرور آئے لیکن جو ہٹ دھرم ہیں وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور بڑے غرور کے ساتھ انکار کرتے ہیں کہ قیامت ہرگز نہیں آئے گی۔
      ’قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتَأْتِیَنَّکُمْ‘ جس طنطنہ کے ساتھ منکرین کا انکار تھا اسی زور کے ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے بقید قسم، جواب دلوایا کہ ان کو سنا دو کہ ہاں، میرے رب کی قسم! وہ تم پر ضرور آ کے رہے گی۔
      ’عٰلِمِ الْغَیْْبِ لَا یَعْزُبُ عَنْہُ الاٰیۃ‘۔ ’عالم الغیب‘ ’رَبِّیْ‘ سے بدل واقع ہے یعنی میرے اس رب کی قسم جو تمام غیب سے واقف ہے، جس سے آسمانوں اور زمین میں، ذرہ کے برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ بلکہ ہر چیز ایک نہایت واضح رجسٹر میں درج ہے۔
      اس آیت میں علم الٰہی کی وسعت کا بیان منکرین کی تہدید کے مقصد سے ہے کہ وہ چوکنے ہوں کہ اس ڈھٹائی سے وہ قیامت کا جو انکار کر رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ نہ صرف یہ کہ وہ آئے گی بلکہ ہر ایک کو اپنے ایک ایک قول و عمل کا، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، حساب بھی دینا ہے۔ ساتھ ہی اس میں ایک مغالطہ کا ازالہ بھی ہے وہ یہ کہ منکرین کے نزدیک قیامت کے استبعاد کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ اتنی وسیع دنیا میں ایک ایک شخص کے ہر قول و فعل کا علم کسے ہو سکتا ہے کہ وہ سب کا حساب کرنے بیٹھے گا! ان کے اس مغالطہ کو دور کرنے کے لیے یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے محیط کل علم کا حوالہ دیا جس طرح اوپر توحید کے سلسلہ میں دیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (تمھارے) منکرین کہتے ہیں کہ قیامت ہم پر نہیں آرہی۔ کہہ دو، کیوں نہیں، میرے اُس پروردگار کی قسم جو ہر غیب کا جاننے والا ہے، وہ تم پر ضرور آئے گی۔ اُس سے ذرہ برابر کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھپی ہوئی ہے، نہ زمین میں، نہ ذرے سے چھوٹی نہ بڑی، بلکہ ایک کھلی کتاب میں لکھ دی گئی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      جس طنطنے کے ساتھ منکرین انکار کر رہے تھے، یہ اُسی زور کے ساتھ اُس کا جواب ہے۔
      یہ اُن کے اِس مغالطے کو رفع کیا ہے کہ اتنی وسیع دنیا اور اتنے بے شمار انسانوں کے ہر قول و فعل کا حساب آخر کس طرح ممکن ہو گا؟

    • امین احسن اصلاحی تاکہ وہ ان لوگوں کو صلہ دے جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے۔ وہی لوگ ہیں جن کے لیے مغفرت اور رزق کریم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کا آنا کیوں ضروری ہے: یہ قیامت کی ضرورت واضح فرمائی کہ اس کا آنا کیوں ضروری ہے۔ فرمایا کہ اس لیے ضروری ہے کہ وہ نہ آئے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ خدا کے نزدیک نیک و بد دونوں یکساں ہیں حالانکہ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے اس وجہ سے لازمی ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں اللہ تعالیٰ ایمان و عمل صالح والوں کو ان کی نیکیوں کا صلہ اور جنھوں نے اللہ کی باتوں کو شکست دینے کی کوشش کی ان کو ان کی اس سعئ نامراد کی سزا دے۔
      قیامت کا اصل مقصد اہل ایمان کو صلہ دینا ہے، کفار کو سزا دینا اس کے لوازم میں سے ہے: یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ قیامت کا اصل مقصد اہل ایمان کو صلہ دینا بتایا گیا ہے۔ اس لیے کہ اس کا اصل مقصود درحقیقت ہے ہی یہی۔ مجرمین کو سزا دینا اس کے مقاصد میں سے نہیں بلکہ اس کے لوازم و نتائج میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا رحمت کے لیے بنائی ہے اور اس رحمت ہی کے لیے اس نے آخرت کا دن بھی رکھا ہے لیکن اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی نکلے گا کہ جو لوگ اپنے آپ کو اس رحمت کا سزاوار نہیں بنائیں گے وہ اس کی نقمت کے سزاوار ٹھہریں گے۔
      اہل ایمان کے لیے دو چیزوں کا یہاں ذکر فرمایا ہے۔ ایک مغفرت، دوسری ’رزق کریم‘۔ ’مغفرت‘ سے مراد یہ ہے کہ ایمان و عمل صالح کی زندگی بسر کرتے ہوئے ان سے جو کوتاہیاں اور غلطیاں صادر ہوئی ہوں گی اللہ تعالیٰ ان سے درگزر فرمائے گا۔ ’رزق کریم‘ ان تمام افضال و عنایات کی ایک جامع تعبیر ہے جن کے وہ جنت میں وارث ٹھہریں گے۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے کہ وہ اُن لوگوں کو صلہ دے جو ایمان لائے اور اُنھوں نے اچھے عمل کیے ہیں۔ وہی ہیں جن کے لیے مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اگر کوئی گناہ یا غلطی ہوئی ہے تو اُس کی معافی اور خدا کے بے نہایت افضال و عنایات۔ ’رِزْقٌ کَرِیْمٌ‘ اِنھی افضال و عنایات کے لیے قرآن کی ایک جامع تعبیر ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جو ہماری آیات کو زک پہنچانے کی سعی میں سرگرم ہیں وہی ہیں جن کے لیے دردناک عذاب کا خاص حصہ ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کفر کے سرغنوں کا انجام: کفار کا ذکر یہاں ’اَلَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْ آیَاتِنَا مُعَاجِزِیْنَ‘ کی صفت کے ساتھ فرمایا ہے۔ ’معاجزۃ‘ کے معنی ایک دوسرے کو شکست دینے کے قصد سے باہم مسابقت کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کی تگ و دو رات دن اللہ کی آیات اور اس کی باتوں کو شکست دینے کے لیے وقف رہی ہے ان کو اللہ تعالیٰ ’رجز الیم‘ کے عذاب میں سے حصہ دے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ اشارہ کفر کے سرغنوں کی طرف ہے جن کے لیے عذاب بھی مخصوص ہوگا۔ اسی مخصوص عذاب کو ’عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِیْمٌ‘ سے تعبیر فرمایا۔ ’رجز‘ اس عذاب کو کہتے ہیں جو نہایت ہولناک ہو۔

      جاوید احمد غامدی اور جو ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش میں سرگرم ہیں، وہی ہیں جن کے لیے بلا کا دردناک عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر امکان قیامت کا ذکر تھا۔ یہ اب اُس کی ضرورت بیان فرما دی ہے کہ اگر وہ نہ برپا ہو تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ خدا کے نزدیک نیک و بد، دونوں یکساں ہے، دراں حالیکہ یہ بالکل خلاف عقل اور حق و انصاف سے بعید بات ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جن کو علم عطا ہوا ہے وہ، اس چیز کو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے، سمجھتے ہیں کہ یہی حق ہے اور وہ خدائے عزیز و حمید کے راستہ کی طرف ر ہنمائی کرتی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عاقلوں کی تائید آدمی کے اطمینان کے لیے بس ہے: یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو علم حقیقی کی روشنی عطا ہوئی۔ عام اس سے کہ وہ ان اہل کتاب میں سے ہوں جنھوں نے اپنے نبیوں اور صحیفوں کے علم کو محفوظ رکھا یا ان سلیم الفطرت لوگوں میں سے ہوں جن کے قلوب ان کی سلامت روی کے باعث قرآن کی روشنی میں مستنیر ہوئے۔؂۱ فرمایا کہ یہ لوگ اس چیز کو بالکل حق سمجھتے ہیں جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے۔ یعنی تم جس توحید کی دعوت دے رہے ہو اور جس قیامت سے لوگوں کو ڈرا رہے ہو، وہ اس کی تائید کر رہے ہیں کہ یہی حق ہے اور جو لوگ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کے بل پر بڑے طنطنہ کے ساتھ توحید اور قیامت کی تکذیب کر رہے ہیں وہ یکسر باطل پر ہیں۔ یہ بات یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے فرمائی گئی ہے کہ اگر بے فکرے اور لاابالی لوگ تمہاری مخالفت کر رہے ہیں تو اس کی پروا نہ کرو، تمہارے اطمینان کے لیے یہ چیز بس کافی ہے کہ جن کے اندر علم و معرفت کی روشنی ہے وہ تمہارے موید ہیں۔ آدمی کو پروا عاقلوں کی ہونی چاہیے نہ کہ احمقوں اور لاخیروں کی۔
      ’وَیَہْدِیْ إِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ‘ یعنی یہ اہل علم اس حقیقت کو برملا تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کتاب لاریب خدائے عزیز و حمید کے راستہ کی طرف رہنمائی کرنے والی ہے۔ یعنی دوسروں نے جو دین گھڑ رکھے ہیں وہ تو تمام تر ضلالت اور ہلاکت کے کھڈ میں گرانے والے ہیں البتہ یہ کتاب خدا کی راہ دکھانے والی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی دو صفتیں مذکور ہوئی ہیں، ایک ’عَزِیْز‘ دوسری ’حَمِیْد‘۔ ’عَزِیْز‘ سے اس کی عزت و قدرت کا اظہار ہو رہا ہے اور ’حَمِیْد‘ سے دنیا اور آخرت دونوں میں اسی کا سزاوار حمد ہونا۔ اور یہ دونوں صفتیں توحید اور قیامت کو مستلزم ہیں، جیسا کہ اوپر کے مباحث سے واضح ہو چکا ہے۔
      قرآن کی اصطلاح میں حقیقی علم: اس آیت سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ حقیقی علم، قرآن کی اصطلاح میں، صرف خدا کی معرفت اور آخرت کا علم ہے۔ اگر یہ علم کسی کے اندر نہ ہو تو دوسرے کتنے ہی علوم وہ پڑھ ڈالے اس کا یہ سارا علم اس کے لیے بار اور دوسروں کے لیے خطرہ ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے ’علماء‘ صرف انہی کو کہا ہے جن کو خدا اور آخرت کی معرفت حاصل ہو:

      إِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاء إِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ غَفُوۡرٌ (فاطر: ۲۸)
      ’’اللہ سے اس کے بندوں میں سے بس وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں اور بے شک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا، بخشنے والا ہے۔‘‘

      _____
      ؂۱ اہل عرب میں جو لوگ حنیفیت کے پیرو تھے وہ بھی اسی زمرے میں شامل ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اِس کے برخلاف جن کو علم عطا ہوا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ جو تمھارے پروردگار کے ہاں سے تمھاری طرف نازل کیا گیا ہے، وہی حق ہے اور وہ خداے عزیز و حمید کا راستہ دکھاتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ احمقوں اور لاخیروں کی پروا نہ کرو۔ تمھارے اطمینان کے لیے یہی چیز کافی ہے کہ جن کے اندر علم و معرفت کی روشنی ہے، خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا تمھاری قوم کے سلیم الفطرت لوگوں میں سے، وہ تمھاری تائید کر رہے ہیں۔ آیت میں ’عَزِیْز‘ اور ’حَمِیْد‘ کی صفات یہ بتانے کے لیے لائی گئی ہیں کہ توحید اور قیامت جن کا اثبات یہاں پیش نظر ہے، دونوں اِن صفات الٰہی کا بھی لازمی تقاضا ہیں۔ اِس سے ضمناً یہ بات بھی واضح ہوئی کہ حقیقی علم قرآن کی اصطلاح میں صرف خدا کی معرفت اور آخرت کا علم ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جنھوں نے کفر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تم کو ایک ایسا آدمی دکھائیں جو تم کو یہ خبر دے رہا ہے کہ جب تم بالکل ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تو ازسرنو ایک نئی خلقت میں اٹھائے جاؤ گے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کفار کا رویہ آنحضرت صلعم کی مخالفت میں: اہل ایمان کی روش کی طرف اشارہ کرنے کے بعد اب یہ ان لوگوں کی روش بیان ہو رہی ہے جو علم کی روشنی سے محروم، کفر کے اندھیرے میں، بھٹک رہے ہیں۔ فرمایا کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تمہارا اور تمہاری دعوت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ لوگوں سے کہتے ہیں کہ آؤ ہم تمہیں ایک ایسا سرپھرا دکھائیں جو خدا کا رسول بن کر یہ منادی کرتا پھر رہا ہے کہ لوگ مر کر جب بالکل ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو وہ ازسرنو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے! ۔۔۔ گویا ان کے نزدیک یہ بات اس قابل بھی نہیں کہ اس کی تردید میں کوئی دلیل دی جائے۔

      جاوید احمد غامدی اُس کے منکرین، البتہ (تمھارا مذاق اڑاتے اور) کہتے ہیں کہ (لوگو)، کیا ہم تمھیں ایک ایسا آدمی بتائیں جو تمھیں خبر دیتا ہے کہ جب تم بالکل ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تو ازسرنو پیدا کیے جاؤ گے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا اس کو کسی قسم کا جنون ہے! بلکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہی عذاب اور نہایت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ ان کے اسی استہزاء کی مزید تفصیل اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا برمحل جواب ہے۔
      ’أَفْتَرٰی عَلَی اللَّہِ کَذِباً أَم بِہِ جِنَّۃٌ‘۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ اس شخص کا معاملہ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو یہ مانا جائے کہ اس نے یہ خدا پر جھوٹ باندھا ہے کہ خدا نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اس کی طرف سے کہہ رہا ہے یا پھر یہ مانا جائے کہ یہ بھی جنون کی ایک قسم ہے جس میں یہ شخص مبتلا ہو گیا ہے! مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں بیک وقت اس شخص میں موجود ہیں۔ یہ مفتری بھی ہے اور مجنون بھی!
      متمردین کے استہزاء کا باوقار جواب: ’بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَۃِ الاٰیۃ‘۔ ان متمردین کے اس استہزاء کا جواب قرآن نے فوراً دیا اور دیکھیے کتنا باوقار اور موثر جواب دیا ہے۔
      فرمایا کہ ان لال بجھکڑوں نے تشخیص بہت غلط کی۔ خرابی نہ داعی میں ہے نہ دعوت میں بلکہ ساری خرابی خود ان لوگوں کے اندر ہے جو آخرت پر ایمان نہیں لا رہے ہیں۔ وہ عذاب اور نہایت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ یعنی ایک گمراہی تو وہ ہوتی ہے جس سے پلٹ کر آنے اور اصلاح کا امکان باقی رہتا ہے، ہزار خرابی کے بعد سہی۔ لیکن جو آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوا اس کی بازگشت کا پھر کوئی امکان باقی نہیں رہ جاتا۔ اس کے لیے امید کے تمام دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔ ان لوگوں کے اس انجام کو مستقبل کے صیغہ سے بیان کرنے کے بجائے حال کے اسلوب میں بیان فرمایا اس لیے کہ ان کا یہ انجام ان کے رویہ کے اندر ہی مضمر ہے۔ گویا آج ہی وہ اپنی رعونت کے سبب سے اس سے دوچار ہیں۔

      جاوید احمد غامدی یہ خدا پر جھوٹ باندھ لایا ہے یا اِس کو کسی طرح کا جنون ہے؟ (ہرگز نہیں)، بلکہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے، وہی عذاب میں اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ایسی دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں کہ اب واپسی کا بھی امکان نہیں رہا۔ اِس لیے گویا آج ہی اُس عذاب میں جا پڑے ہیں جس سے قیامت میں دوچار ہونے والے ہیں۔ یہ قرآن نے اِن متمردین کے استہزا کا جواب دیا ہے اور استاذ امام کے الفاظ میں، دیکھیے کہ کتنا باوقاراور موثر جواب دیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا انھوں نے اپنے آگے اور پیچھے آسمان و زمین پر نظر نہیں ڈالی! اگر ہم چاہیں تو ان کے سمیت زمین کو دھنسا دیں یا ان پر آسمان سے ٹکڑے گرا دیں! بے شک اس کے اندر ہر اس بندے کے لیے بہت بڑی نشانی ہے جو متوجہ ہونے والا ہو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس کائنات کی کسی چیز کی نفع رسانی بالاضطرار نہیں بلکہ خدا کے حکم سے ہے: اس مجموعۂ آیات کی پہلی آیت میں جو مضمون بیان ہوا ہے مجوعہ کے آخر میں اسی مضمون کا ایک نئے اسلوب سے اعادہ ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے اس وجہ سے دنیا میں بھی شکر کا حقیقی سزاوار وہی ہے اور آخرت میں بھی اسی کی حمد ہو گی۔ یہاں فرمایا کہ کیا ان مستکبرین نے اس حقیقت پر کبھی غور نہیں کیا کہ یہ آسمان جو ان کے سروں پر شامیانے کی طرح تنا ہوا ہے اور یہ زمین جو ان کے قدموں کے نیچے فرش کی طرح بچھی ہوئی ہے اور جن کے فوائد و برکات سے یہ متمتع ہو رہے ہیں، یہ ان کے تھامے ہوئے نہیں تھمے ہیں بلکہ ان کو اللہ ہی نے تھام رکھا ہے؟ اگر اللہ نے ان کو نہ تھام رکھا ہوتا تو یہ دونوں ان کے لیے نعمتوں کے بجائے نقمتوں کا ذریعہ بن جاتے۔ فرمایا کہ ہم جب چاہیں ان کے سمیت زمین کو دھنسا دیں اور جب چاہیں اسی آسمان سے ابررحمت برسانے کے بجائے ان پر پتھر برسا دیں۔ اس کائنات کی کوئی چیز بھی انسان کو بالاضطرار نفع نہیں پہنچا رہی ہے بلکہ خدا کے حکم سے پہنچا رہی ہے اور کوئی چیز بھی براہ راست انسان کے اختیار میں نہیں ہے بلکہ خدا کے حکم سے وہ اس کی نفع رسانی میں سرگرم ہے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے جو انسان پر واجب کرتی ہے کہ وہ کسی نعمت پر اترائے نہیں بلکہ اپنے اس رب کا شکرگزار رہے جس نے اس کو یہ نعمت بخشی ہے اور اس کو خدا کی نافرمانی اور اس سے بغاوت کا ذریعہ بنانے کے بجائے اس کو اسی کی خوشنودی اور فرماں برداری میں استعمال کرے۔
      یہی مضمون آگے والی سورہ ۔۔۔ سورۂ فاطر ۔۔۔ میں، جو اس کا مثنیٰ ہے، یوں ارشاد ہوا ہے:

      إِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُوۡلَا وَلَئِنۡ زَالَتَا إِنْ أَمْسَکَہُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّنۡ بَعْدِہِ إِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُورًا (فاطر: ۴۱)
      ’’بے شک اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ لڑھک نہ جائیں اور اگر وہ دونوں لڑھک جائیں تو کسی کی تاب نہیں کہ وہ خدا کے چھوڑ دینے کے بعد ان کو تھام سکے۔ بے شک وہ نہایت بردبار اور بخشنے والا ہے۔‘‘

      ’إِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَآیَۃً لِّکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ‘۔ یعنی آسمانوں اور زمین کے اس پہلو پر اگر غور کرتے تو اس کے اندر اس بات کی بہت بڑی دلیل موجود ہے جس کی قرآن ان کو دعوت دے رہا ہے لیکن اس دلیل تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر حقیقت کی طلب، عبرت پذیری کی صلاحیت اور متوجہ ہونے والا دل ہو۔ جن کے اندر یہ اوصاف نہ ہوں ان کے لیے کوئی نشانی بھی کارگر نہیں ہو سکتی۔

       

      جاوید احمد غامدی تو کیا اِنھوں نے اپنے آگے اور پیچھے جو آسمان اور زمین ہیں، اُن کی طرف نہیں دیکھا؟ اگر ہم چاہیں تو اِن کو اِسی زمین میں دھنسا دیں یا اِن پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر اُس بندے کے لیے اِس میں بہت بڑی نشانی ہے جو متوجہ ہونے والا ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی خدا سے بے خوف نہ ہوں، یہی زمین و آسمان جن کے فوائد و برکات سے وہ صبح و شام متمتع ہو رہے ہیں، اُن کے لیے ہول ناک آفتوں کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ یہ اُسی مضمون کا ایک نئے اسلوب میں اعادہ ہے جس سے سورہ کی ابتدا ہوئی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...پہلی آیت میں فرمایا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، سب خدا ہی کا ہے، اِس وجہ سے دنیا میں بھی شکر کا حقیقی سزاوار وہی ہے اور آخرت میں بھی اُسی کی حمد ہو گی۔ یہاں فرمایا کہ کیا اِن مستکبرین نے اِس حقیقت پر کبھی غور نہیں کیا کہ یہ آسمان جو اِن کے سروں پر شامیانے کی طرح تنا ہوا ہے اور یہ زمین جو اِن کے قدموں کے نیچے فرش کی طرح بچھی ہوئی ہے اور جن کے فوائد و برکات سے یہ متمتع ہو رہے ہیں، یہ اِن کے تھامے ہوئے نہیں تھمے ہیں، بلکہ اِن کو اللہ ہی نے تھام رکھا ہے؟ اگر اللہ نے اِن کو نہ تھام رکھا ہوتا تو یہ دونوں اِن کے لیے نعمتوں کے بجاے نقمتوں کا ذریعہ بن جاتے۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۲۹۵)

      یعنی اپنے اندر حقیقت کی سچی طلب اور عبرت پذیری کی صلاحیت رکھتا ہو۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے داوٗد کو اپنے خاص فضل سے نوازا۔ اے پہاڑو، تم بھی اس کے ساتھ تسبیح میں شرکت کرو اور یہی حکم ہم نے پرندوں کو بھی دیا۔ اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت داوٗدؑ اور حضرت سلیمانؑ پر اللہ تعالیٰ نے جو فضل خاص فرمایا اس کی تفصیل سورۂ انبیاء اور سورۂ نمل میں گزر چکی ہے۔ یہاں ہم اپنی بحث صرف ضروری حد تک محدود رکھیں گے۔
      حضرت داوٗدؑ کا سوز و گداز: ’یٰجِبَالُ أَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْْرَ‘۔ یہ اشارہ ہے اس سوز و گداز کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے حضرت داوٗدؑ کو عطا فرمایا تھا کہ جب وہ پہاڑوں کے دامن میں بیٹھ کر اپنے خاص لاہوتی لحن میں اپنے رب کی حمد کا ترانہ چھیڑتے اور اپنی منظوم مناجاتیں پڑھتے تو شجر و حجر اور چرند پرند سب جھوم اٹھتے اور ان کی ہم نوائی کرتے۔
      پہاڑوں اور پرندوں کی طرف سے ہم نوائی: ’تَاْدِیْبٌ‘ کے اصل معنی ’ترجیع‘ کے ہیں یعنی کسی کے سر میں اپنا سر ملانا، اس کی آواز کو دہرانا، اس کی ہم آہنگی اور ہم نوائی کرنا۔ یوں تو اس کائنات کی ہر چیز خدا کی تسبیح کرتی ہے اور جب وہ تسبیح کرتی ہے تو لازماً تسبیح کرنے والوں کی ہم نوائی بھی کرتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت داوٗد کو خاص نوع کا دل گداختہ اور خاص قسم کا لحن عطا فرمایا تھا اسی طرح اپنے خاص حکم سے پہاڑوں اور پرندوں کو یہ حکم بھی دیا تھا کہ جس وقت حضرت داوٗد اپنے رب کی حمد و تسبیح کریں، وہ بھی ان کے ساتھ اس میں شریک ہوں۔ سورۂ انبیاء میں یہی مضمون یوں ادا ہوا ہے:

      ’وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ وَالطَّیْرَ‘ (۷۹)
      (اور ہم نے داوٗد کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا اور پرندوں کو بھی)۔

      بزم کے بعد ان کی رزم کا حال: ’وَأَلَنَّا لَہُ الْحَدِیْدَ‘۔ ان کی بزم کا حال بیان کرنے کے بعد یہ ان کی رزم کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔ اس کی وضاحت سورۂ انبیاء میں ہو چکی ہے کہ انھوں نے لوہے کو پگھلانے اور اس سے نہایت باریک کڑیوں کی زرہیں بنانے کے فن کو اتنی ترقی دی کہ لوہے کی زرہیں ایسی ڈھیلی ڈھالی بننے لگیں کہ معلوم ہوتا کہ کسی کپڑے سے بنائی گئی ہیں جن کا پہننا نہایت آسان ہوتا اور حفاظت کے پہلو سے وہ لوہے کا کام دیتیں۔

       

      جاوید احمد غامدی (خدا کے بندو، یہی نشانیاں اُن سرگذشتوں میں بھی ہیں جو ہم تمھیں سنا رہے ہیں)۔ ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے خاص فضل عطا فرمایا تھا۔ (ہم نے حکم دیا تھا کہ)پہاڑو، تم بھی اُس کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاؤ اور یہی حکم ہم نے پرندوں کو بھی دیا تھا۔ ہم نے لوہے کو اُس کے لیے نرم کر دیا تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      داؤد علیہ السلام بیت اللحم کے رہنے والے قبیلۂ یہوداہ کے ایک معمولی نوجوان تھے۔ طالوت کی پہلی جنگ میں، جس کا ذکر سورۂ بقرہ (۲) میں ہو چکا ہے، اُنھوں نے جالوت جیسے گرانڈیل دشمن کو قتل کر دیا۔ یہ چیز کافی تھی کہ وہ بنی اسرائیل کی آنکھوں کا تارا بن جاتے۔ چنانچہ یہی ہوا اور طالوت کی وفات کے بعد وہ پہلے حبرون میں یہودیہ کے فرماں روا بنائے گئے، پھر چند سال بعد بنی اسرائیل کے تمام قبائل نے مل کر اُن کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔ یروشلم اُنھی کے زمانے میں فتح ہوا اور اُسے دولت اسرائیل کا پایۂ تخت بنایا گیا۔ اُن کی سلطنت کے حدود خلیج عقبہ سے دریاے فرات کے مغربی کناروں تک پھیلے ہوئے تھے جن پر وہ ۹۶۵ ق م تک حکومت کرتے رہے۔ اُن پر اللہ تعالیٰ کی مزید عنایت یہ ہوئی کہ اُنھیں پیغمبر بنا دیا گیااور اُن پر زبور نازل ہوئی جو تورات کے بعد دوسری باقاعدہ کتاب ہے۔
      یہ اُس سوز و گداز کی طرف اشارہ کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو عطا فرمایا تھا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... یوں تو اِس کائنات کی ہر چیز خدا کی تسبیح کرتی ہے اور جب وہ تسبیح کرتی ہے تو لازماً تسبیح کرنے والوں کی ہم نوائی بھی کرتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت داؤد کو خاص نوع کا دل گداختہ اور خاص قسم کا لحن عطا فرمایا تھا، اُسی طرح اپنے خاص حکم سے پہاڑوں اور پرندوں کو یہ حکم بھی دیا تھا کہ جس وقت حضرت داؤد اپنے رب کی حمد و تسبیح کریں، وہ بھی اُن کے ساتھ اُس میں شریک ہوں۔‘‘(تدبرقرآن ۶/ ۳۰۰)

      یعنی اُس کو لوہا پگھلانے کا فن سکھا دیا تھا۔ آیت میں اِس کے لیے ’اَلَنَّا لَہٗ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ضمیر کا مرجع داؤد علیہ السلام ہیں۔ لیکن اِس سے غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ اُسی طرح کی نسبت ہے، جس طرح ہم کہتے ہیں کہ تاج محل شاہ جہاں نے بنایا تھا۔

    • امین احسن اصلاحی کہ ڈھیلی ڈھالی زرہیں بناؤ اور ان کے جوڑ پیوستہ رکھو اور سب نیک عمل کرو۔ بے شک تم جو کچھ کرتے ہو میں اس کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لوہے کی صفت میں اولیت کا امتیاز: ’سٰبِغٰتٍ‘ ڈھیلے ڈھالے لباس کو کہتے ہیں جو پورے جسم کو ڈھانک لے۔ یہاں یہ ڈھیلی ڈھالی زرہوں کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ ’قَدِّرْ فِی السَّرْدِ‘ میں ’سَرْد‘ کے معنی بناوٹ کے اور ’تَقْدِیْر‘ کے معنی بناوٹ میں پورے تناسب کو ملحوظ رکھنے کے ہیں۔
      لوہے سے ایسا لباس تیار کر لینا جو ڈھیلا ڈھالا بھی ہو اور اس کی کڑیوں میں پورا تناسب بھی ملحوظ رہ سکے بغیر اس کے ممکن نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داوٗد پر لوہے کے پگھلانے کی ایسی اعلیٰ سائنس کا انکشاف فرمایا، جس کی اولیت کا سہرا انہی کے سر ہے۔ اپنی اس ایجاد سے انھوں نے دفاعی اسلحہ میں ایک نہایت بیش قیمت اضافہ کیا جس سے ان کی فوجی قوت ان کے حریفوں کے مقابل میں بہت بڑھ گئی۔
      اس فن کا اخلاقی تقاضا: ’وَاعْمَلُوا صَالِحاً إِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیْرٌ‘۔ اوپر کے ٹکڑے میں اس فن کو زیادہ سے زیادہ ترقی دینے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے حوصلہ افزائی فرمائی گئی ہے اس ٹکڑے میں اس فن کا اخلاقی تقاضا بیان ہوا ہے کہ اس کو پا کر بہک نہ جانا اور اس کو زمین میں فساد کا ذریعہ نہ بنانا، بلکہ اس بات کو برابر یاد رکھنا کہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ نے حضرت داوٗد اور ان کے تمام آل و اتباع کو فرمائی۔ اس کا ذکر باربار زبور اور امثال میں بھی آیا ہے۔
      موجودہ دور کے سائنسدانوں کی بے خبری اور اس کا انجام: اس زمانے میں انسان نے سائنس میں جو ترقی کی ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس سے بڑے بڑے فائدے پہنچے ہیں اور پہنچ رہے ہیں۔ لیکن دو باتیں انسان بھول گیا ہے۔ ایک یہ کہ سائنس کا ہر انکشاف جو ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے ہوا ہے۔ دوسری یہ کہ ہر نعمت اور ہر قوت کا یہ بدیہی تقاضا ہے کہ انسان اس کو خدا کی امانت سمجھے اور یہ یاد رکھتا ہوا اس کو استعمال کرے کہ جس خدا نے یہ بخشی ہے وہ دیکھ رہا ہے کہ میں اس کو کہاں استعمال کرتا ہوں۔ ان دو حقیقتوں کے فراموش کر ینے کی وجہ سے اب سائنس انسان کے لیے ایک عظیم خطرہ بن گئی ہے اور نہیں کہا جا سکتا کہ انسان اپنے ہی ایجاد کیے ہوئے اسلحہ سے کب خودکشی کر لے۔

      جاوید احمد غامدی کہ پوری اور کشادہ ڈھیلی ڈھیلی زرہیں بناؤ اور اُن کی بناوٹ میں بھی پورے تناسب کو ملحوظ رکھو اور سب اچھا عمل کرو۔ اِس میں شبہ نہیں کہ جو کچھ تم کرتے ہو، اُسے میں دیکھ رہا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اُن کے دور میں سائنسی علوم میں ایسی ترقی ہوئی کہ لوہے کی زرہیں ایسی ڈھیلی ڈھالی بننے لگیں کہ معلوم ہوتا تھا کسی کپڑے سے بنائی گئی ہیں جن کا پہننا نہایت آسان تھا، لیکن حفاظت اُسی طرح کرتی تھیں، جس طرح لوہے کی کوئی مضبوط چیز کر سکتی ہے۔ اُن کے دور کی یہی صنعت تھی جس نے اُن کی فوج کو ناقابل تسخیر بنا دیا اور اِس کے نتیجے میں وہ دنیا کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن گئے۔
      یعنی اِس نعمت کو پا کر اِس سے جو اخلاقی تقاضے پیدا ہوتے ہیں، وہ بھی اُنھیں بتائے گئے کہ اِسے خدا کی امانت سمجھ کر استعمال کریں اور یاد رکھیں کہ جس خدا نے یہ نعمت بخشی ہے، وہ ہر وقت دیکھ رہا ہے کہ وہ اِسے کہاں استعمال کرتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا۔ اس کا جانا بھی مہینہ بھر کا ہوتا اور آنا بھی مہینہ بھر کا ہوتا اور ہم نے اس کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور جنات میں سے بھی اس کے لیے مسخر کر دیے جو اس کے رب کے حکم سے اس کے حضور خدمت کرتے (اور ان کے لیے ہمارا حکم یہ تھا کہ) جو ان میں سے ہمارے حکم سے سرتابی کرے گا تو ہم اس کو دوزخ کا عذاب چکھائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت سلیمانؑ کی بحری قوت: حضرت داوٗد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح لوہے کے استعمال کا نہایت اعلیٰ فن تعلیم فرمایا جس سے انھوں نے اپنی برّی قوت میں بے مثال اضافہ فرمایا، اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کو ہوا کے کنٹرول کرنے کا فن عطا فرمایا جس سے انھوں نے اپنے بحری بیڑے کو اس قدر ترقی دی کہ ان کے جہازات مہینوں کا سفر بے روک ٹوک جاری رکھتے۔ سورۂ انبیاء کی آیت ۸۱ کے تحت ہم ذکر کر آئے ہیں کہ ان کے بادبانی جہازات نہایت دور دور کے سواحل تک سفر کرتے اور ان کے بادبان ایسے سائنٹیفک طریقہ پر بنائے گئے تھے کہ ہوا کی قلت یا شدت یا مخالفت سے ان کے سفر میں کوئی خلل واقع نہ ہوتا۔ سورۂ صٓ میں ہے:

      ’فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِأَمْرِہِ رُخَاء حَیْْثُ أَصَابَ‘ (۳۶)
      (پس ہم نے ہوا کو اس کی خدمت میں لگا دیا تھا وہ نہایت سازگاری کے ساتھ اس کے حکم سے چلتی جہاں وہ پہنچتا)۔

      سورۂ انبیاء میں ہے:

      ’وَلِسُلَیْْمَانَ الرِّیْحَ عَاصِفَۃً تَجْرِیْ بِأَمْرِہِ إِلَی الْأَرْضِ الَّتِیْ بَارَکْنَا فِیْہَا‘ (۸۱)
      (اور ہم نے سلیمان کے لیے بادتند کو بھی مسخر کر دیا تھا جو چلتی تھی اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف جس میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں)۔

      آیت زیربحث میں انہی جہازوں کے طول سفر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ان کی ایک ایک ٹرپ مہینہ مہینہ بھر کی طویل مدت پر ممتد ہوتی۔ ذکر اگرچہ ہوا کا ہے لیکن مقصود جہازوں ہی کا جانا اور آنا ہے۔ گویا اصل عامل کا ذکر کر کے معمول کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس لیے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا اصل تصرف ہواؤں ہی میں ظاہر ہوا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ لمبے لمبے سفر اسی صورت میں ممکن تھے جب یہ جہازات نہایت بڑے بڑے بھی ہوں اور ان کے ساتھ ہوا کے کنٹرول کرنے کا نظام اتنا اعلیٰ اور مستحکم ہو کہ وہ ہر قسم کے سمندروں کے اندر ہر نوع کی ہواؤں کا نہایت خوبی کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔ یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ فصحیح عربی میں ’غدوّ‘ اور ’رواح‘ کے الفاظ صبح اور شام کی قید سے مجرد ہو کر صرف جانے اور آنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً

      ’وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَہْلِکَ تُبَوِّءُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ‘ (اٰل عمران: ۱۲۱)
      (اور جب کہ تم نکلے اپنے گھر سے مسلمانوں کو جنگ کے مورچوں میں مامور کرنے)۔

      اسی طرح لفظ ’رواح‘ پر صاحب اقرب الموارد نے لکھا ہے کہ

      ’وقد یستعمل لمطلق المضی والذھاب‘
      (یہ لفظ مطلق آنے اور جانے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے)۔

      اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ ہوا کے مسخر سے مراد مجرد ہوا کی تسخیر نہیں بلکہ جس طرح اوپر حضرت داوٗد کے لیے لوہے کو نرم کرنے سے مقصود ان کی اسلحہ سازی اور جنگی قوت کی طرف اشارہ ہے، چنانچہ دوسرے مقام میں اس کی وضاحت بھی فرما دی ہے:

      ’وَعَلَّمْنٰہُ صَنْعَۃَ لَبُوۡسٍ لَّکُمْ لِتُحْصِنَکُم مِّنۡ بَأْسِکُمْ‘ (الانبیاء: ۸۰)
      (اور ہم نے اس کو ایسے لباسوں کی صنعت سکھائی جو تمہاری جنگوں میں تمہیں محفوظ رکھے)۔

      اسی طرح حضرت سلیمان کے لیے ہوا کی تسخیر سے مقصود ان کے بحری بیڑے کی قوت و شوکت کی طرف اشارہ مقصود ہے اور ان کے بحری بیڑے کی وسعت کا جو حال تھا اس کی طرف ہم سورۂ انبیاء کی تفسیر میں اشارہ کر چکے ہیں۔
      تانبے کی صنعت: ’وَأَسَلْنَا لَہُ عَیْْنَ الْقِطْرِ‘۔ ’قطر‘ تانبے کو کہتے ہیں۔ تانبے کو تمدنی ترقی میں جو دخل حاصل ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ اس عہد کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں تانبے کی بھی بہت بڑی مقدار برآمد ہوئی اور اس کو انھوں نے اپنی تمدنی و تعمیری ترقیوں میں نہایت خوبی کے ساتھ استعمال کیا۔ آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تانبا سیّال کی شکل میں برآمد ہوتا اور پھر منجمد ہو کر مختلف ضرورتوں میں استعمال ہوتا۔ آگے بڑی بڑی دیگوں اور لگنوں کا ذکر آرہا ہے، ظاہر ہے کہ وہ اسی کی بنتی تھیں۔ ہیکل کی تعمیر میں بھی، جیسا کہ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے، حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس دھات کا بہت استعمال کیا۔ آج عربوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے تیل کے چشمے جاری کر دیے ہیں، حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے اس نے تانبے کا چشمہ جاری کر دیا تھا۔ زمین کے جتنے خزانے بھی ماضی میں دریافت ہوئے یا آج دریافت ہو رہے ہیں یا مستقبل میں دریافت ہوں گے وہ سب اللہ ہی کی بخشی ہوئی رہنمائی سے دریافت ہوئے اور ہوں گے۔ جن کی نگاہیں حقیقت بین ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہر چیز کا منبع اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن جن کی نگاہوں کو سائنس نے خیرہ کر رکھا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کی اپنی کارستانی ہے۔
      تسخیر جنات کا علم: ’وَمِنَ الْجِنِّ مَن یَعْمَلُ بَیْْنَ یَدَیْْہِ بِإِذْنِ رَبِّہِ‘۔ سورۂ نمل کی تفسیر میں ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا علم بھی عطا فرمایا تھا جس کے ذریعے سے وہ شریر جنوں کو قابو میں کر کے ان کو اپنے مختلف کاموں میں استعمال کرتے تھے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جن براہ راست حضرت سلیمان علیہ السلام کے تصرف میں نہیں ہوتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ ان کی اطاعت کرتے تھے۔ اور اگر ان سے کوئی عدول حکمی صادر ہوتی تو اللہ تعالیٰ ہی ان کو سزا دیتا تھا۔ ’وَمَنْ یَزِغْ مِنْہُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ‘ (ان میں سے جو ہمارے حکم کی سرتابی کرے گا تو ہم اس کو آگ کا عذاب چکھائیں گے)۔ بعض لوگوں نے جنوں سے دیوہیکل اور طاقتور آدمی مراد لیے ہیں لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ سورۂ نمل میں صاف تصریح ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر جنوں، انسانوں اور پرندوں سب پر مشتمل تھا:

      ’وَحُشِرَ لِسُلَیْْمَانَ جُنُودُہُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ وَالطَّیْْرِ‘ (۱۷)
      (اور سلیمان کے ملاحظہ کے لیے اس کا لشکر ۔۔۔ جنوں، انسانوں اور پرندوں پر مشتمل ۔۔۔ اکٹھا کیا گیا)

      اگر جن سے مراد انسان ہی ہوتے تو یہاں جنوں کے الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

       

      جاوید احمد غامدی اِسی طرح سلیمان کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کر دیا۔ (اُس کے جہازوں کو لے کر) ہوا کا جانا بھی مہینے بھر کا ہوتا تھا اور آنا بھی مہینے بھر کا ہوتا تھا۔ اور ہم نے اُس کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور ایسے جنات بھی مسخر کر دیے تھے جو اُس کے پروردگارکے حکم سے اُس کے آگے کام کرتے تھے اور (فرمادیا تھا کہ) اُن میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرے گا، اُسے ہم آگ کا عذاب چکھائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی خدمت میں لگا دیا تھا۔ آیت میں ’سُلَیْمٰن‘ کا ’ل‘ اِس بات کا قرینہ ہے کہ فعل ’سَخَّرْنَا‘ یہاں محذوف ہے۔ سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد کے بیٹے تھے جو اُن کے بعد نبوت اور بادشاہی، دونوں میں اُن کے جانشین ہوئے۔ اُن کا زمانۂ سلطنت ۹۶۵ ق م سے ۹۲۶ ق م تک ہے۔ اُن کے لیے ہوا کو مسخر کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ اُن کے بحری بیڑے اِس قدر ترقی یافتہ تھے کہ سمندر میں مہینوں تک سفر کر سکتے تھے۔ آگے اِسی کی وضاحت ہے۔
      یہ عامل کا ذکر کر کے معمول کی طرف اشارہ کرنے کا اسلوب ہے اور اِس سے مقصود وہی جہازوں کا آنا جانا ہے جو ہم نے ترجمے میں واضح کر دیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اِس لیے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا اصل تصرف ہواؤں ہی میں ظاہر ہوا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ لمبے لمبے سفر اِسی صورت میں ممکن تھے، جب یہ جہازات نہایت بڑے بڑے بھی ہوں اور اُن کے ساتھ ہوا کے کنٹرول کرنے کا نظام اتنا اعلیٰ اور مستحکم ہو کہ وہ ہر قسم کے سمندروں کے اندر ہر نوع کی ہواؤں کا نہایت خوبی کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔ ‘‘(تدبر قرآن ۶/ ۳۰۱)

      یعنی تانبا نکال کر اتنی بڑی مقدار میں پگھلایا جاتا تھا کہ اُن کی سلطنت میں گویا تانبے کا چشمہ بہ رہا تھا۔
      یعنی اُن کو ہم نے ایک ایسا علم بھی عطا فرمایا تھا جس کے ذریعے سے وہ شریر جنوں کو قابو کرکے اُن سے مختلف قسم کے کام لیتے تھے۔
      مطلب یہ ہے کہ جنوں پر تصرف کا یہ معجزہ براہ راست ہمارے حکم سے صادر ہوتا تھا اور اگر وہ حکم عدولی کرتے تو اُن کو سزا بھی ہم ہی دیتے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی وہ اس کے لیے بناتے جو وہ چاہتا، محرابیں، مجسمے، حوضوں کے مانند لگن، اور لنگر انداز دیگیں ۔۔۔ اے آل داوٗد، شکرگزاری کے ساتھ عمل کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت سلیمانؑ نے جنات سے تعمیری کام لیے: یہ ان کاموں کی تفصیل ہے جن میں حضرت سلیمانؑ ان مسخر جنوں کو استعمال کرتے تھے۔ یہ سارے کام تعمیری، تمدنی اور اصلاحی ہیں۔ یہود اپنے دور زوال میں جب علوم سفلیہ میں مبتلا ہوئے تو ان خرافات کو انھوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب کیا۔ یہاں قرآن نے واضح فرمایا ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے جنات کو جس علم سے مسخر کیا وہ اللہ تعالیٰ نے خاص اپنے فضل سے ان کو بخشا تھا، اس کو سفلی علوم سے کوئی تعلق نہیں تھا اور جنات سے جو کام انھوں نے لیے وہ سب تعمیری اور تمدنی کام تھے۔ ان کو انھوں نے فاسد اغراض کے لیے استعمال نہیں کیا۔ اس مضمون کی تفصیل سورۂ بقرہ میں آیت ’وَمَا کَفَرَ سُلَیْمَانُ ... الاٰیۃ‘ کے تحت گزر چکی ہے۔
      ’محاریب‘ اور ’تماثیل‘: ’مِنْ مَّحَارِیْبَ وَتَمَاثِیْلَ‘۔ یعنی ان جنوں سے حضرت سلیمان علیہ السلام محرابیں اور مجسمے بھی بنواتے تھے۔ ’محراب‘ میرے نزدیک اپنے معروف معنی ہی میں یہاں استعمال ہوا ہے اس کے خاص طور پر ذکر کی وجہ یہ ہے کہ کسی عمارت کا سب سے زیادہ نمایاں حصہ اس کی محرابیں ہی ہوتی ہیں جو دیکھنے والوں کو سب سے پہلے نظر آتی ہیں۔ اس وجہ سے تعمیری آرٹ کا سب سے زیادہ مظاہرہ انہی پر ہوتا ہے۔ حضرت سلیمانؑ کی تعمیر کرائی ہوئی عمارتوں میں سے ہیکل اور ان کے محل کی تعمیر کی تفصیل کتاب سلاطین میں موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی محرابوں پر تعمیری آرٹ کا پورا کمال صرف کیا گیا تھا۔ ان پر نہایت خوبصورت پھولوں کے نقش ابھارے گئے تھے۔
      ’تَمَاثِیْل‘۔ ’تِمْثَال‘ کی جمع ہے۔ ’تِمْثَال‘ کسی چیز کی مصور یا کندہ کی ہوئی صورت، شبیہ یا اس کے پیکر اور مجسمہ کو کہتے ہیں۔ یہ صورت بے جان چیزوں کی بھی ہو سکتی ہے، مثلاً کسی دریا، پہاڑ، درخت، جھاڑی، پھول وغیرہ کی اور حقیقی یا فرضی جان دار چیزوں کی بھی ہو سکتی ہے، مثلاً انسان، فرشتے، جنات اور حیوانات وغیرہ کی ۔۔۔ تورات کی کتاب سلاطین سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے ان دونوں ہی قسموں کی تماثیل بنوائیں۔ مثلاً ان کے محل کے ذکر کے سلسلہ میں ہے:

      ’’اور ان حاشیوں پر جو پڑوں کے درمیان تھے شیر اور بیل اور کروبی بنے تھے۔‘‘(سلاطین ۱ : باب ۷: ۲۹)

      اسی طرح ہیکل کی تعمیر کے بیان میں ہے:

      ’’اور الہام گاہ میں اس نے زیتون کی لکڑی کے دو کروبی دس دس ہاتھ اونچے بنائے اور کروبی کا ایک بازو پانچ ہاتھ کا اور دوسرا بازو بھی پانچ ہی ہاتھ کا تھا۔‘‘

      ’’اور اس گھر کے اندر دیودار تھا جس پر لٹو اور کھلے ہوئے پھول کندہ کیے گئے تھے۔‘‘(سلاطین : باب ۶: ۱۸)

      ’’اس گھر کی سب دیواروں پر گرداگرد، اندر اور باہر کروبیوں اور کھجور کے درختوں اور کھلے ہوئے پھولوں کی صورتیں کندہ کیں۔‘‘ (سلاطین: باب ۶: ۳۰)

      ایک اشکال کا جواب: جہاں تک بے جان چیزوں کی صورتوں اور مورتوں کا تعلق ہے ان کے جواز میں تو کوئی اختلاف رائے نہیں ہے، لیکن جان دار چیزوں، بالخصوص فرشتوں کی مورتوں کا معاملہ سمجھ میں نہیں آتا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کو کس طرح جائز سمجھا۔ اگر اس کا جواب یہ دیا جائے، جیسا کہ عام طور پر ہمارے مفسرین نے دیا ہے، کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں یہ چیزیں حرام نہیں تھیں تو یہ جواب تورات سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ تورات میں ان چیزوں کی حرمت نہایت واضح الفاظ میں وارد ہوئی ہے۔ خروج۔ ۲۰: ۲ ۔ ۵ میں ہے:

      ’’خداوند تیرا خدا جو تجھے زمین مصر سے، غلامی کے گھر سے، نکال لایا، میں ہوں۔ میرے حضور تیرے لیے دوسرا خدا نہ ہووے۔ تو اپنے لیے کوئی مورت یا کسی چیز کی صورت، جو اوپر آسمان پر یا نیچے زمین پر یا پانی میں زمین کے نیچے سے، مت بنا۔ تو ان کے آگے اپنے تئیں مت جھکا اور نہ ان کی عبادت کر کیونکہ میں تیرا خدا غیّور خدا ہوں۔‘‘

      دیکھ لیجیے اس میں نہایت واضح الفاظ میں صورت یا مورت بنانے کی ممانعت ہے۔ اس وجہ سے یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ پچھلی شریعتوں میں یہ چیزیں جائز تھیں، صرف اسلام میں یہ حرام قرار دی گئی ہیں۔ یہ چیزیں پہلے بھی ناجائز تھیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ انھوں نے تورات کے کسی حکم کی خلاف ورزی کی۔ اس وجہ سے ہمارا خیال یہ ہے کہ انھوں نے اسی قسم کی تماثیل بنوائی ہوں گی جن کا تعلق مجرد آرٹ سے ہے اور مذہبی تقدس کا جن کے اندر کوئی شائبہ نہیں تھا۔ لیکن جب یہود میں مورت پرستی کا رواج ہوا ہو گا تو اس قسم کی چیزیں ان کے بادشاہوں نے بنوائی ہوں گی اور ان کو سند جواز دینے کے لیے ان کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب کر دیا گیا ہو گا۔ آخر تمام علوم سفلیہ بھی تو حضرت سلیمان علیہ السلام ہی کی طرف یہود نے منسوب کیے جس کی تردید سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہے۔ اسی طرح کی خرافات ان کی طرف کتاب سلاطین میں بھی منسوب کر دی گئی ہے۔ یہ امر واضح رہے کہ یہود نے حضرت سلیمانؑ کو ایک پیغمبر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک بالکل دنیا دار بادشاہ کی حیثیت سے پیش کیا ہے اور ان کی سیرت ہر پہلو سے انھوں نے داغ دار کرنے کی کوشش کی ہے۔
      حضرت سلیمانؑ کا جود و کرم: ’وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رّٰسِیٰتٍ‘۔ ’جفان‘ ’جفنۃ‘ کی جمع ہے جس کے معنی تھال اور لگن کے ہیں اور ’جوابی‘ ’جابیۃ‘ کی جس کے معنی حوض کے ہیں۔ ’راسیات‘ پہاڑوں کی صفت کے لیے آتا ہے۔ یہاں یہ ان بڑی بڑی دیگوں کے لیے آیا ہے جو اتنی بھاری بھرکم ہوتیں کہ آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کی جا سکتی تھیں۔ وہ ایک ہی جگہ چولہوں پر نصب رہتیں اور بیک وقت منوں کے حساب سے ان میں کھانا پکتا۔
      اوپر کے ٹکڑے میں سلیمانی تمدن کے آرٹ کے پہلو کو نمایا کیا گیا تھا۔ اس ٹکڑے میں ان کے جودو کرم کو نمایاں کیا گیا ہے کہ جنات حضرت سلیمانؑ کے لیے بڑے بڑے لگن بناتے جو حوضوں کے مانند ہوتے اور بھاری بھرکم دیگیں بناتے جو ایک ہی جگہ لنگر انداز رہتی تھیں۔ یہ حوضوں کے مانند لگن اور بھاری بھرکم دیگوں کا ذکر حضرت سلیمانؑ کے جود و کرم کی تعبیر کے لیے ہے۔ اگر آپ کو یہ کہنا ہو کہ فلاں شخص بڑا فیاض ہے، اس کے خوان کرم سے ایک خلق عظیم کی پرورش ہو رہی ہے، تو فصیح عربی میں اس کی تعبیر کے لیے یہ دو حرف کافی ہوں گے کہ ’لَہٗ قُدُوۡرٌ رّٰسِیٰتٌ‘۔ عرب شعراء نے حاتم اور اپنے دوسرے فیاضوں کے لیے یہی استعارہ استعمال کیا ہے۔
      رحمانی تمدن اور شیطانی تمدن: اس سے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمانؑ کے ہاتھوں جو تمدن وجود میں آیا اس میں صرف سائنس، آرٹ اور شوکت کی نمائش ہی نہیں تھی بلکہ اس کے پہلو بہ پہلو اس میں غربا پروری کا نہایت وسیع اور فیاضانہ اہتمام بھی تھا۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس تمدن کی تحسین فرمائی۔ جس تمدن میں یہ دونوں پہلو، پورے توازن کے ساتھ، موجود ہوں وہ مبارک تمدن ہے۔ اس کے برعکس جس تمدن میں آرٹ اور طمطراق کی نمائش تو ہو لیکن غرباء فاقے کریں وہ تمدن شیطانی ہے۔
      نعمت کا حق خدا کی شکرگزاری ہے: ’اِعْمَلُوۡا آلَ دَاوٗدَ شُکْرًا‘۔ یہ اس فضل و انعام کا حق بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانؑ پر فرمایا۔ ان کو ہدایت ہوئی کہ اس علم و سائنس اور ان ارضی و سماوی برکات کو پا کر بہک نہ جانا بلکہ اپنے رب کی شکرگزاری کے ساتھ ہر چیز اس کے صحیح محل میں برتنا اور ہر قدم صحیح سمت میں اٹھانا۔ یہ نصیحت یوں تو اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت زبان حال سے بھی کرتی ہے لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام پیغمبر تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے بھی ان کو اس کی ہدایت فرمائی۔ اس کا ذکر زبور اور امثال میں باربار آتا ہے۔ یہاں ’اٰل داوٗد‘ سے خطاب کے اندر سلیمان علیہ السلام، ان کے آل و اولاد اور ان کے تمام اتباع کے لیے یہ یاددہانی ہے کہ خدا کی شکرگزاری میں اپنے باپ کے نقش قدم کی پیروی کرنا اس لیے کہ یہ تمام عظمت و حشمت تم نے انہی سے وراثت میں پائی ہے اور ان کو اللہ نے یہ سب کچھ ان کی شکرگزاری کے صلہ میں عطا فرمایا تھا۔
      ایک نہایت اہم تنبیہ: ’وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ‘۔ یہ ایک مزید تنبیہ اور نہایت اہم تنبیہ ہے کہ شکر کی راہ کوئی آسان راہ نہیں ہے بلکہ نہایت کٹھن راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں بخشتا بہتوں کو ہے لیکن ان کو پا کر ان کا حق ادا کرنے والے بہت تھوڑے نکلتے ہیں۔ زیادہ ایسے ہی نکلتے ہیں جو خدا کے باغی و نافرمان بن جاتے ہیں۔ اس سے حکمت دین کا یہ نکتہ واضح ہوا کہ صبر اور شکر میں سے زیادہ مشکل امتحان شکر کا امتحان ہے۔ حضرت مسیحؑ کے ارشادات سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ انھوں نے اسی حقیقت کو یوں واضح فرمایا کہ ’اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا آسان ہے پر دولت مند خدا کی بادشاہی میں نہیں داخل ہو سکتا‘۔

       

      جاوید احمد غامدی وہ اُس کے لیے جو وہ چاہتا تھا، بناتے تھے: محرابیں، مجسمے، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور پہاڑ جیسی (چولھوں پر ) جمی ہوئی دیگیں ۔۔۔ داؤد کے گھر والو، (اپنے پروردگار کا) شکر ادا کرتے رہو۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے آگے اُن کاموں کی تفصیل ہے جو حضرت سلیمان جنوں سے لیتے تھے۔
      زمانۂ قدیم میں جو عمارتیں بنائی جاتی تھیں، اُن کا سب سے نمایاں حصہ اُن کی محرابیں ہی ہوتی تھیں اور تعمیری آرٹ کا سب سے زیادہ مظاہرہ بھی اُنھی پر کیا جاتا تھا۔ قرآن نے یہ ذکر اِسی بنا پر کیا ہے۔ اِس سے عظیم الشان عمارتوں کی طرف ذہن آپ سے آپ منتقل ہو جاتا ہے، اُن کا علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
      یہ ظاہر ہے کہ اُسی قسم کے مجسمے اور تصویریں ہوں گی جن میں مذہبی تقدس کا کوئی شائبہ نہ ہو، بلکہ مجرد آرٹ کے پہلو سے بنائی گئی ہوں۔ اِس لیے کہ حضرت سلیمان کوئی ایسا کام نہیں کر سکتے تھے جسے اُن کی شریعت میں واضح طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ استثنا میں ہے:

      ’’لعنت اُس آدمی پر جو کاریگری کی صنعت کی طرح کھودی ہوئی یا ڈھالی ہوئی مورت بنا کر جو خدا کے نزدیک مکروہ ہے، اُس کو کسی پوشیدہ جگہ میں نصب کرے۔‘‘ (۲۷: ۱۵)

      اِسی طرح خروج میں فرمایا ہے:

      ’’خداوند تیرا خدا جو تجھے ملک مصر سے اور غلامی کے گھر سے نکال لایا ، میں ہوں۔ میرے حضور تو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔ تو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے، تو اُن کے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ اُن کی عبادت کرنا کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں۔‘‘(۲۰: ۲۔۵)

      یہ اُن کے جود و کرم کو نمایاں کیا ہے کہ اُن کی سلطنت میں جس طرح سائنس اور آرٹ اور تعمیرات کا فن اپنے عروج پر پہنچا ہوا تھا، اُسی طرح غربا و مساکین کی خدمت بھی ریاست کے فرائض میں شامل تھی اور اُس کا اہتمام بھی نہایت فیاضی کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اگر آپ کو یہ کہنا ہو کہ فلاں شخص بڑا فیاض ہے، اُس کے خوان کرم سے ایک خلق عظیم کی پرورش ہو رہی ہے، تو فصیح عربی میں اُس کی تعبیر کے لیے یہ دو حرف کافی ہوں گے کہ ’لَہٗ قُدُوْرٌ رّٰسِیٰتٌ‘۔ عرب شعرا نے حاتم اور اپنے دوسرے فیاضوں کے لیے یہی استعارہ استعمال کیا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۶/ ۳۰۵)

      یعنی اِن نعمتوں کے ساتھ ہم نے یہ ہدایت بھی اُس کو اور اُس کے خاندان والوں کو کی تھی کہ اِنھیں پا کر بہک نہ جانا، بلکہ اپنے پروردگار کی شکر گزاری کے ساتھ اُس راستے پر گامزن رہنا جس کی طرف اُس نے تمھاری رہنمائی فرمائی ہے۔
      یہ تنبیہ بھی ہے اور اپنے ایک شکر گزار بندے پر اظہار اعتماد بھی۔ مطلب یہ ہے کہ شکر کا امتحان ایک مشکل امتحان ہے۔ اِس میں کم ہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں۔ تاہم توقع ہے کہ تم اُنھی میں شامل ہو گے۔

    • امین احسن اصلاحی پس جب ہم نے اس پر موت کا فیصلہ نافذ کیا تو ان کو اس کی موت سے نہیں آگاہ کیا مگر زمین کے کیڑے نے جو اس کے عصا کو کھاتا تھا پس جب وہ گر پڑا تب جنوں پر واضح ہوا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جنات کے پاس علم غیب کا کوئی ذریعہ نہیں ہے: اوپر کی آیات سے ان لوگوں کی پوری پوری تردید ہو گئی جو اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ حضرت سلیمانؑ کی ساری کارفرمائیاں نعوذ باللہ جنات کی رہین احسان تھیں۔ اب آخر میں یہ اشارہ بھی فرما دیا کہ جنات کے پاس غیب کے جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ وہ اس سے اسی طرح بے خبر ہیں جس طرح دوسری مخلوقات بے خبر ہیں۔ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے حضرت سلیمانؑ کی وفات کے واقعہ کا حوالہ دیا ہے کہ جس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات ہوئی وہ اپنے مسخر جنوں کے کام کی نگرانی کر رہے تھے لیکن جنات کو ان کی موت کی خبر نہیں ہوئی۔ وہ بدستور اپنی بیگار میں جتے رہے۔ بالآخر ایک طویل وقفہ کے بعد ان کو پتہ چل سکا کہ حضرت سلیمانؑ کی وفات ہو چکی ہے، تب وہ ان کی غلامی سے رہائی حاصل کر سکے۔
      واقعہ کی صورت: واقعہ کی صورت یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت سلیمانؑ اپنے اہم کاموں کی نگرانی، خصوصاً جو جنات کے ہاتھوں انجام پاتے، بنفس نفیس فرماتے۔ چنانچہ وہ اپنی عصا کی ٹیک لگائے ہوئے کسی تعمیری کام کی نگرانی کر رہے تھے کہ اسی اثنا میں ان کی موت کا وقت آ گیا اور فرشتۂ اجل نے ان کی روح قبض کر لی لیکن وہ جس طرح عصا کے سہارے کھڑے تھے اسی طرح بدستور قائم رہے اور جنات اس ڈر سے اپنے کام میں لگے رہے کہ حضرت سلیمانؑ موجود ہیں۔ بالآخر ان پر ایک عرصہ گزر گیا اور اس اثنا میں دیمک نے عصا کو نیچے سے کھا لیا، جس کے بعد ان کا جسد مبارک زمین پر گرا۔ تب جنات کو یہ احساس ہوا کہ اگر ان کو غیب کا علم ہوتا تو وہ اتنی دیر تک اس بیگار کی ذلت میں گرفتار نہ رہتے۔
      ’دَآبَّۃُ الْأَرْضِ‘: ’دَآبَّۃُ الْأَرْضِ‘ کا ذکر یہاں جن قرائن کے ساتھ ہوا ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد دیمک ہے۔ ’منساۃ‘ عصا کو کہتے ہیں۔ یہ تصریح تو یہاں نہیں ہے کہ حضرت سلیمانؑ اس حالت میں کتنی دیر کھڑے رہے لیکن نہ اس طرح جسم کا قائم رہنا ذرا مستبعد ہے اور نہ دیمک کا اس طرح عصا کو کھا جانا ذرا مستبعد ہے۔ دیمک بڑی ظالم چیز ہے۔ اگر یہ کسی چیز کو لگ جائے تو بہت جلد اس کو ختم کر کے رکھ دیتی ہے، عصا تو ایک معمولی چیز ہے، بالخصوص ایسی جگہوں میں جہاں یہ زیادہ ہو۔ پھر یہاں تو معاملے کی نوعیت بھی بالکل مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ تھی کہ حضرت سلیمانؑ کی موت اس طرح واقع ہو کہ لوگوں پر یہ واضح ہو جائے کہ حضرت سلیمانؑ جو ہوا اور جنات پر تصرف رکھتے تھے، وہ بھی اپنے تئیں مرگ ناگہانی سے نہ بچا سکے اور جنات کے دماغ سے بھی یہ خبط نکل جائے کہ وہ غیب جانتے یا جان سکتے ہیں۔ ان حقائق کو واضح کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت کو یہ شکل دی اور اللہ تعالیٰ جس کام کو کرنا چاہے وہ اس کو جس طرح چاہے کر سکتا ہے۔
      جنات پر کشف حقیقت: ’تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ الاٰیۃ‘ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اشرار جن، غیب کی ٹوہ میں ہمیشہ رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ آسمانوں میں بھی، جیسا کہ سورۂ جن اور قرآن کے دوسرے مقامات سے واضح ہے، استراق سمع کے لیے بیٹھتے رہے ہیں۔ اور اپنے دام فریب میں آئے ہوئے انسانوں پر انھوں نے یہ دھونس بھی جما رکھی تھی کہ ان کے پاس غیب کے اسرار سے واقف ہونے کے ذرائع موجود ہیں۔ لیکن اس واقعہ نے ان کی آنکھیں کھول دیں اور ان پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ آسمان تو بہت دور ہے، انھیں تو اپنے سر پر کے اتنے بڑے واقعہ کی بھی خبر نہ ہو سکی جس کے باعث انھیں غلامی کے رسوا کن عذاب میں کچھ عرصہ مزید گرفتار رہنا پڑا۔
      اس ٹکڑے سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی بیگار میں صرف شریر جنوں کو لگایا تھا اور ان کے علم تسخیر کا تعلق صرف انہی سے تھا۔

      جاوید احمد غامدی (یہی جنات ہیں جنھیں تم عالم الغیب سمجھ کر خدا کے شریک ٹھیراتے ہو۔ یہ سلیمان کی غلامی کرتے رہے)۔ پھر جب ہم نے اُس پر موت کا فیصلہ نافذ کیا تو اُن کو زمین کے کیڑے ہی نے اُس کی موت کا پتا دیا جو اُس کے عصا کو کھا رہا تھا۔ چنانچہ سلیمان جب گر پڑا، تب جنوں پر کھلا کہ اگر وہ غیب جاننے والے ہوتے تو اِس ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس کیڑے کا ذکر یہاں جن قرائن کے ساتھ ہوا ہے، اُس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اِس سے مراد دیمک ہے۔
      یعنی خود جنوں پر بھی واضح ہو گیا کہ اُن کے علم کی حقیقت کیا ہے جو وہ استراق سمع سے کچھ حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ حقیقت جس واقعے سے کھلی، اُس کی صورت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اپنے کسی تعمیری کام کی نگرانی کرتے ہوئے، جس میں جن بھی لگے ہوئے تھے، حضرت سلیمان کی موت کا وقت آگیااور فرشتۂ اجل نے اُن کی روح قبض کر لی۔ اُن کے اعیان و اکابر اور اہل خاندان نے جب دیکھا کہ موت کے باوجود اُن کا جسم عصا کے سہارے بدستور قائم ہے تو اُنھوں نے اِس خیال سے کہ جنات جس کام میں لگے ہوئے ہیں، وہ پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے، اُنھیں اُسی حالت میں رہنے دیا۔ یہ تدبیر ایک عرصے تک کامیاب رہی۔ لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ چنانچہ اِس اثنا میں دیمک نے عصا کو نیچے سے کھا لیا جس کے بعد سلیمان علیہ السلام کا جسد مبارک زمین پر گر پڑا۔

    • امین احسن اصلاحی اور اہل سبا کے لیے بھی ان کے مسکن میں بہت بڑی نشانی موجود تھی۔ دہنے بائیں دونوں جانب باغوں کی دو قطاریں۔ اپنے رب کے بخشے ہوئے رزق سے متمتع ہو اور اس کے شکرگزار رہو! زمین شاداب و زرخیر اور پروردگار بخشنے والا ہے!! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ناشکروں کا کردار اور ان کا انجام: ’سبا‘ کا ذکر سورۂ نمل کی آیت ۲۶ کے تحت گزر چکا ہے۔ جو علاقہ اب یمن کہلاتا ہے وہی پہلے سبا علاقہ تھا۔ یہ نہایت زرخیز و شاداب خطہ تھا۔ اس کی اصل شاہراہ کے دونوں جانب نہایت شاداب باغوں کا سلسلہ تھا جو پورے علاقہ پر پھیلا ہوا تھا لیکن اس کے باشندوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فضل کی قدر نہیں کی، جس کی پاداش میں اللہ نے ان پر ایک سیلاب بھیجا جس سے پورا ملک تباہ ہو کر رہ گیا۔ اوپر حضرت داوٗد و حضرت سلیمان علیہما السلام کا کردار شکر گزار بندوں کے کردار کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ اب یہ ناشکروں کا کردار اور ان کا انجام پیش کیا جا رہا ہے۔ سورۂ نحل کی آیات ۱۱۲-۱۱۳ میں بھی ان کی مثال سے قریش کو عبرت دلائی گئی ہے۔
      سبا اور اہل سبا: ’لَقَدْ کَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْکَنِہِمْ اٰیَۃٌ‘۔ ’سَبَا‘ سے مراد یہاں اہل سبا ہیں۔ اور ’مسکن‘ یہاں خطہ اور علاقہ کے مفہوم میں ہے۔ لفظ ’اٰیَۃ‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل سبا کے لیے ان کے علاقے میں خدا کی رحمت و ربوبیت اور اس کے فضل و انعام کی بہت بڑی نشانی موجود تھی لیکن انھوں نے اس کی قدر نہیں کی۔ اس سے ان کو جو سبق حاصل کرنا تھا وہ سبق انھوں نے حاصل نہیں کیا۔
      ’جَنَّتٰنِ عَن یَمِیْنٍ وَشِمَالٍ‘۔ یہ اس نشانی کی وضاحت ہے کہ ان کے دونوں جانب، دہنے اور بائیں، باغوں کی دو قطاریں تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علاقہ کے وسط سے ان کی مرکزی شاہراہ گزرتی تھی اور اس شاہراہ کے دونوں جانب باغوں کی قطاریں تھیں۔ ’جنَّتان‘ یہاں دو باغوں کے مفہوم میں نہیں بلکہ باغوں کی دو قطاروں کے مفہوم میں ہے۔ مثنیٰ کے اس طریق استعمال کی مثالیں عربی میں موجود ہیں اور یہاں اس کا قرینہ واضح ہے۔
      ’کُلُوْا مِنۡ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوۡا لَہٗ‘۔ خدا کی اس عظیم نشانی سے جو درس حاصل ہوتا ہے اور جو اہل سبا کو حاص کرنا تھا یہ اس کا بیان ہے کہ یہ عظیم رحمت و رفاہیت اپنی زبان حال سے ان کو درس دے رہی ہے کہ اپنے رب کے اس عظیم خوان کرم سے بہرہ مند ہوں اور اس کے شکرگزار رہیں۔
      نعمت کا حق منعم کی شکرگزاری ہے: ’بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَرَبٌّ غَفُوۡرٌ‘۔ ’طَیّبۃ‘ یہاں زرخیز و شاداب کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے ۔۔۔ یہ اسی درس کی مزید توسیع ہے کہ اگر وہ کھلی آنکھوں سے اپنے ملک کو دیکھتے تو اس وسیع خوان کرم کو، جس پر اس فیاضی کے ساتھ ان کے لیے نعمتیں چنی گئی تھیں، دیکھ کر ان پر یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی کہ جس نے یہ خوان کرم بچھایا ہے وہ بڑا ہی غفار و ستار آقا ہے جس نے بلا کسی استحقاق کے، ان کی ناقدریوں اور ناشکریوں کے باوجود، ان کے لیے اپنی نعمتوں کے یہ انبار لگا دیے ہیں ۔۔۔ یہ حقیقت اس کتاب میں ہم جگہ جگہ واضح کرتے آئے آ رہے ہیں کہ نعمت پا کر منعم کی شکرگزاری کا شعور انسانی فطرت کا ایک بدیہی تقاضا ہے۔ یہ چیز حیوانات کی جبلت میں بھی داخل ہے۔ اگر کوئی انسان اس شعور سے عاری ہے تو وہ حیوانات سے بھی بدتر ہے۔

      جاوید احمد غامدی (قریش کے لوگو، سبا نے بھی وہی کیا تھا جو تم کر رہے ہو، دراں حالیکہ) اہل سبا کے لیے اُن کے مسکن ہی میں بہت بڑی نشانی تھی۔ دائیں بائیں، باغوں کی دو قطاریں۔(یہ سب زبان حال سے کہہ رہا تھا کہ) اپنے پروردگار کی بخشی ہوئی روزی کھاؤ اور اُس کے شکر گزار رہو۔ زمین زرخیز و شاداب اور بخشنے والا پروردگار۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      سبا قدیم زمانے کی ایک دولت مند قوم تھی۔ اُسی کے نام پر یمن کے جنوب مغربی علاقے کو بھی اُس زمانے میں سبا کہا جاتا تھا۔ اُس کا دارالحکومت مارب تھا جس کے کھنڈر آج بھی اِس علاقے میں موجود ہیں۔ قوم سبا کے عروج کا زمانہ ۱۱۰۰ ق م سے ۱۱۵ ق م تک رہا۔ اِس کے بعد وہ روبہ زوال ہوئی، یہاں تک کہ ایک خدائی آفت نے آ کر اُس کے مسکن کو ویرانہ بنا دیا۔ آگے اِسی واقعے کا ذکر ہے۔
      یعنی اِس بات کی نشانی کہ جو کچھ اُن کو میسر ہے، وہ اُن کا اپنا آفریدہ نہیں ہے، بلکہ اُن کے پروردگار کا عطیہ ہے۔ لہٰذا وہی اُن کے شکر و سپاس اور بندگی و عبادت کا مستحق ہے اور اُسی کو ہونا چاہیے۔
      آیت میں مثنیٰ دو باغوں کے مفہوم میں نہیں ہے، بلکہ باغوں کی دو قطاروں کے مفہوم میں ہے۔ یہ اُن کے علاقے کی تصویر ہے کہ اُس میں داخل ہوں تو اُس کی بڑی شاہ راہ کے دونوں جانب باغ ہی باغ نظر آتے تھے۔
      یعنی وہ پروردگارجو لوگوں کی ناقدریوں اور ناشکریوں کے باوجود اُن کے لیے اپنا خوان کرم بچھاتا اور اُس پر اِسی طرح نعمتوں کے انبار لگا دیتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تو انھوں نے سرتابی کی تو ہم نے ان پر بند کا سیلاب بھیج دیا اور ان کے باغوں کو دو ایسے باغوں سے بدل دیا جن میں بدمزہ پھرل والے درخت اور جھاؤ اور بیری کی کچھ جھاڑیاں رہ گئیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سدِّ مآرب: ’عَرِم‘ کے معنی بعض اہل لغت نے زوردار بارش کے لکھے ہیں اور بعض نے اس کو ’عَرْمۃ‘ کی جمع بتایا ہے، جو تہ بہ تہ اکٹھا کیے ہوئے پتھروں کے لیے آتا ہے۔ پھر یہیں سے یہ اس سد یا بند کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جو کسی وادی کے درمیان پانی کو روکنے کے لیے بنایا جائے۔ اقرب الموارد میں ہے ’سدّ یعترض بہ الوادی‘ (وہ بند جو وادی کے بیچ میں بنایا جائے) جس طرح ہمارے منگلا اور تربیلا ڈیم ہیں۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح کا ایک کئی میل لمبا چوڑا ڈیم اہل سبا کا بھی تھا جو ان کو سیلاب کے خطرات سے محفوظ بھی کیے ہوئے تھا اور آب پاشی کے لیے بھی بقدر ضرورت اس سے ان کو پانی حاصل ہوتا تھا۔ تاریخوں میں اس کا ذکر سدِّ مآرب کے نام سے آتا ہے۔ ’مآرب‘ سبا کا دارالسلطنت تھا۔ یہ بند غالباً ۵۴۲ء میں ٹوٹا اور اس کے ٹوٹنے سے سارا ملک تباہ ہو گیا۔
      ناشکری کا انجام: ’فَأَعْرَضُوۡا فَأَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمْ سَیْْلَ الْعَرِمِ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ نعمتیں دیں تو ان کو پا کر وہ خدا کے شکرگزار ہونے کے بجائے طغیان و فساد میں مبتلا ہوئے۔ سورۂ نحل کی آیت ۱۱۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو انذار کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک رسول بھیجا لیکن انھوں نے اس کی پروا نہ کی بالآخر ان پر خدا کا عذاب اس شکل میں آیا کہ ایک عظیم سیلاب نے ان کا بند توڑ دیا جس سے ان کا سارا ملک تاراج ہو کر رہ گیا۔
      ’وَبَدَّلْنٰہُم الاٰیۃ‘ ’خمط‘ بدمزہ، کڑوے کسیلے پھلوں کو کہتے ہیں۔ یعنی اس سیلاب نے ان کے ملک کو اس طرح تلپٹ کر کے رکھ دیا کہ شاداب باغوں کی جگہ کڑوے کسیلے پھلوں کے کچھ درخت اور کچھ جھاؤ اور بیری کی جھاڑیاں رہ گئیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیلاب نے صرف ان کے باغ ہی ویران نہیں کیے بلکہ ان کے پورے علاقے پر کسی ایسی مٹی یا ریت کی تہ جما دی جس نے بچے کھچے درختوں کے مزاج بھی بدل دیے اور پورا علاقہ صرف جنگلی جھاڑیوں ہی کے لیے موزوں رہ گیا۔

      جاوید احمد غامدی پھر بھی اُنھوں نے سرتابی کی تو بالآخرہم نے اُن پر بند کا سیلاب بھیج دیا اور اُن کے باغوں کو اُن کے لیے دو ایسے باغوں میں بدل دیا جن میں بدمزہ پھل اور جھاؤ کے درخت اور بیری کی کچھ تھوڑی سی جھاڑیاں تھیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی وہ سیلاب جو بند ٹوٹنے سے آیا۔ اِس کے لیے اصل میں لفظ ’عَرِم‘استعمال ہوا ہے۔یہ ’عرمۃ‘کی جمع ہے جس کے معنی تہ بہ تہ اکٹھے کیے ہوئے پتھروں کے ہیں۔ یہیں سے یہ اُس بند یا پشتے کے لیے استعمال ہونے لگا جو کسی وادی میں پانی روکنے کے لیے بنایا جائے۔ جنوبی عرب کی زبان میں یہی لفظ ’عرمن‘بولا جاتا تھا۔ سبا کے دارالحکومت مارب کے نام پر اِس بند کو سدمارب بھی کہا جاتا ہے۔ یہ آب پاشی کے لیے پانی کا ایک بڑا ذخیرہ اور اُس زمانے کے انجینئروں کا ایک غیر معمولی کارنامہ تھا جو ۵۴۲ء اور ۵۷۰ء کے درمیان کسی وقت ٹوٹ گیا* جس کے نتیجے میں وہی علاقہ جو کبھی جنت نظیر تھا بالکل تباہ ہو کر کڑوے کسیلے پھلوں کے خود رو درختوں اور جھاؤ اور بیری کی جھاڑیوں کا جنگل بن گیا۔ اِس کی وجہ غالباً یہ ہوئی کہ سیلاب نے کسی ایسی مٹی یا ریت کی تہ پورے علاقے پر جمادی جس سے بچے کھچے درختوں کا مزاج بھی بدل گیا۔ قرآن نے یہ اِسی بندکے ٹوٹنے کا ذکر کیا ہے۔ سبا کے لوگ اپنے کرتوتوں کے نتیجے میں روبہ زوال تو اِس سے صدیوں پہلے ہو چکے تھے۔ یہ گویا نزع کے عالم میں سسکتی ہوئی قوم کے لیے پیام اجل تھا جس نے قومی حیثیت سے اُن کا خاتمہ کر دیا۔
      _____
      * المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، جواد علی ۲/ ۲۸۳۔

    • امین احسن اصلاحی یہ ہم نے ان کی ناشکری کا بدلہ دیا اور ہم برا بدلہ ناسپاسوں ہی کو دیا کرتے ہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’مجازات‘ کے معنی بدلہ دینے کے ہیں۔ بدلہ برا بھی ہوتا ہے اور اچھا بھی۔ اس وجہ سے اس کے صحیح مفہوم کا تعین موقع و محل سے ہوتا ہے۔ یہاں موقع برے بدلہ کا ہے اس وجہ سے یہاں یہ لفظ اسی معنی میں لیا جائے گا۔ فرمایا کہ ہم نے ان کو یہ سزا ان کے کفران نعمت کی پاداش میں دی اور اس قسم کی سزائیں ہم ناشکروں کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے۔

      جاوید احمد غامدی یہ ہم نے اُن کی ناشکری کا بدلہ اُنھیں دیا اور ایسا بدلہ ہم ناشکروں ہی کو دیا کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس قانون کے مطابق ہوا جو اللہ تعالیٰ نے قوموں کے عزل و نصب کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ چنانچہ جو قومیں علم و اخلاق کے لحاظ سے پستی میں گر جاتیں اور خدا کی نعمتیں پا کر اُن پر شکر گزار ہونے کے بجاے سرکشی اختیار کر لیتی ہیں، اُنھیں ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ یہ ہلاکت بالعموم تدریجاً ہوتی ہے۔ تاہم بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی ارضی یا سماوی آفت آ کر تباہی کو آخری انجام تک پہنچا دیتی ہے۔ قرآن کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم سبا کے ساتھ یہی معاملہ ہوا اور اِس سیلاب کے نتیجے میں وہ ایسے تتر بتر ہوئے کہ سبا نام کی کوئی قوم دنیا میں باقی نہیں رہی اور اُس کی پراگندگی ضرب المثل ہو گئی۔ اہل عرب آج بھی اگر کسی گروہ کے اِس طرح منتشر ہو جانے کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ’تفرقوا أیدی سبا‘ (وہ ایسے پراگندہ ہوئے، جیسے سبا کی قوم پراگندہ ہوئی تھی)۔ یہ ظاہر ہے کہ عذاب کی وہ صورت نہیں ہے جو رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اُن کی قوموں پر آتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے ان کے درمیان اور ان بستیوں کے درمیان، جن میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں، سرراہ بستیاں بھی آباد کیں اور ان کے درمیان سفر کی منزلیں ٹھہرا دیں۔ ان میں رات دن بے خوف و خطر سفر کرو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل سبا کی رفاہیت کی مزید تفصیل: ’اَلْقُرَی الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا‘ سے ملک شام وغیرہ کی طرف اشارہ ہے جن کے ساتھ اہل سبا کے تجارتی تعلقات تھے۔ یہ ملک بہت زرخیز تھے اس وجہ سے ان کی صفت ’بٰرَکْنَا فِیْہَا‘ آئی ہے۔ زرخیز ممالک سے تجارتی تعلقات بجائے خود آمدنی اور رفاہیت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
      ’قُرًی ظٰہِرَۃً‘ سے مراد وہ شہر اور قصبات ہیں جو اس شاہراہ پر واقع تھے جس کے دونوں جانب باغوں کی قطاریں تھیں۔ یعنی ان بستیوں کے علاوہ جو اندرون ملک واقع تھیں موزوں فاصلوں سے اس شاہراہ پر بھی بستیاں آباد تھیں جو ان کے لیے منزلوں کا کام دیتی تھیں۔ وہ ان میں بے خوف و خطر ٹھہرتے، آرام کرتے اور پھر آگے کی منزل کے لیے سفر کرتے۔
      ’وَقَدَّرْنَا فِیْہَا السَّیْرَ‘۔ یعنی یہ بستیاں ایسے مناسب فاصلوں پرواقع تھیں کہ گویا قدرت نے خود اپنے اہتمام سے ان کے لیے منزلیں مقرر کر دی تھیں۔
      ’سِیْرُوۡا فِیْہَا لَیَالِیَ وَأَیَّامًا آمِنِیْنَ‘۔ یہ ان آسائشوں کی زبان حال کی تعبیر ہے کہ قدرت نے یہ سارا اہتمام کر کے گویا ان کے لیے ہر منزل پر یہ کتبہ لگا دیا کہ تمہاری خاطر یہ اہتمام ہم نے اس لیے کیا ہے کہ تم راتوں میں بھی اور دنوں میں بھی بے خوف و خطر سفر کر سکو ۔۔۔ یہاں اتنی بات حذف ہے کہ ’اور اپنے اس رب کے شکرگزار رہو جس نے تمہارے لیے یہ سارا اہتمام کیا ہے‘ ۔۔۔ اس کو حذف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہر انعام کا یہ فطری تقاضا ہے اور اوپر آیت ۱۵ میں اس کا بیان ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے اس کو دہرانے کے بجائے بعد والی آیت میں ان کے اس رویہ کی طرف اشارہ فرما دیا جو انھوں نے اختیار کیا اور جس کے لیے نتیجہ میں وہ ان تمام نعمتوں سے محروم ہوئے۔
      اس زمانے کی عام گمراہی کا اصلی سبب: یہاں یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام آسائشوں اور رفاہیتوں کے اہتمام کو براہ راست اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ یہ حقیقت نفس الامری کا بیان ہے کہ اس دنیا میں انسان کو جو فتوحات بھی حاصل ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے حاصل ہوتی ہیں۔ لیکن انسان اپنی ناشکری کے باعث ہر چیز کو اپنی سعی و تدبیر کا کرشمہ سمجھنے لگتا ہے۔ اس زمانے کی عام گمراہی کا اصلی سبب انسان کی یہی بے بصیرتی ہے اور سائنس کی ایجادات نے اس غرور میں اتنا اضافہ کر دیا ہے کہ اب اللہ ہی اس کو دور کر سکتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے اُن کے اور اُن بستیوں کے درمیان، جہاں ہم نے برکتیں رکھی تھیں، ایسی بستیاں آباد کیں جو سامنے راستے پر تھیں اور اُن کے اندر (اُن کے لیے) سفر کی منزلیں ٹھیرا دیں کہ اُن میں دن رات بے خوف و خطر سفر کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اشارہ شام و فلسطین کی طرف ہے جن کے ساتھ اہل سبا کے تجارتی تعلقات تھے۔ اِن کے لیے ’بٰرَکْنَا فِیْھَا‘ کی صفت آیت میں اِس لیے آئی ہے کہ یہ علاقہ نہایت زرخیر تھا۔
      یعنی گوشوں میں چھپی ہوئی نہیں تھی، بلکہ اُسی شاہ راہ پر تھیں، جہاں سے تجارتی قافلے گزرتے تھے۔
      یعنی ایسے مناسب فاصلوں پر واقع تھیں گویا سفر کرنے والوں کے لیے قدرت نے ٹھیرنے اور پڑاؤ کرنے کی منزلیں بنا دی ہوں۔
      مطلب یہ ہے کہ اِس علاقے میں سفر ایک قسم کی خوش گوار سیر بن گیا تھا۔ استاذ امام کے الفاظ میں، گویا قدرت نے یہ اہتمام کرکے ہر منزل پر یہ کتبہ لگا دیا کہ تمھاری خاطر یہ اہتمام ہم نے اِس لیے کیا ہے کہ تم راتوں میں بھی اور دنوں میں بھی بے خوف و خطر سفر کر سکو۔ اِس کے بعد اتنی بات حذف ہے کہ ’اور اپنے رب کا شکر ادا کرو‘۔ اِس کو حذف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہر نعمت کا فطری تقاضا ہے، اِس کو لفظوں میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اِس سے یہ بات واضح ہوئی کہ انسان جو کچھ اپنے علم و عقل سے کرتا ہے، وہ بھی درحقیقت خدا ہی کی عنایت ہوتی ہے، لیکن اپنی بے بصیرتی کے باعث وہ اُس کو اپنی سعی و تدبیر کا کرشمہ سمجھنے لگتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پس انھوں نے کہا، اے رب ہمارے سفروں میں دوری پیدا کر دے اور انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے تو ہم نے ان کو افسانۂ پارینہ بنا دیا اور ان کو بالکل تتر بتر کر چھوڑا۔ بے شک اس کے اندر نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے، شکر کرنے والے کے لیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زبان حال کی تعبیر: یہ ان کے زبان قال کی نہیں بلکہ زبان حال کی تعبیر ہے کہ انھوں نے یہ رفاہیتیں پا کر جو رویہ اختیار کیا اس سے یہ ظاہر کر دیا کہ وہ ان آسائشوں کے حق دار نہیں ہیں بلکہ اس بات کے سزاوار ہیں کہ ان کی بستیاں ویران ہو جائیں، ان کی منزلیں کٹھن ہو جائیں اور ان کی یہ ساری رفاہیتیں ان سے چھین لی جائیں۔ زبان حال کی تعبیرات کی مثالوں کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی نظیریں پیچھے گزر چکی ہیں اور یہ حقیقت بھی ہم واضح کر چکے ہیں کہ اصل شہادت زبان حال ہی کی ہوتی ہے نہ کہ زبان قول کی۔ یہود کا قول ’سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا‘ بھی ان کے حال ہی کی تعبیر ہے۔
      ’وَظَلَمُوۡا أَنفُسَہُمْ‘۔ یعنی انھوں نے خدا کی ناشکری و نافرمانی کی اور اس طرح خود اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھائے کہ خدا کے قہر و غضب کو دعوت دی۔ خدا کا انھوں نے کچھ نہیں بگاڑا۔
      ’فَجَعَلْنَاہُمْ أَحَادِیْثَ وَمَزَّقْنَاہُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ‘۔ یہ ان کی ناشکری کا انجام بیان ہوا ہے کہ بالآخر وہ اس طرح پامال ہوئے کہ حاضر کے صفحہ سے مٹ کر ماضی کی ایک داستان پارینہ بن کے رہ گئے۔ ’وَمَزَّقْنَاہُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ‘ یعنی جو سیلاب کی آفت سے بچے بھی وہ بھی ملک کی معیشت برباد ہوجانے کے باعث بالکل پراگندہ ہو گئے۔ کوئی کہیں گیا، کوئی کہیں۔
      ایک قابل غور نکتہ: ’إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَاٰیَاتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ‘۔ اوپر آیت ۱۷ میں جس طرح اس سرگزشت کے اصل سبق کی طرف ’وَہَلْ نُجَازِیْ إِلَّا الْکَفُورَ‘ سے توجہ دلائی ہے اسی طرح یہاں اسی حقیقت کی طرف ’لَاٰیَاتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ‘ کے الفاظ سے توجہ دلائی ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اہل سبا کی سرگزشت یہاں دو مرتبہ دہرائی گئی ہے اور دونوں مرتبہ ان کے عبرت انگیز انجام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ پہلے ان کے علاقے کی زرخیزی و شادابی کے ذکر کے بعد ان کی ناشکری اور اس کے انجام کی طرف اشارہ فرمایا پھر ان کی تمدنی و تجارتی ترقیوں کے ذکر کے بعد ان کے کفران نعمت کے نتیجہ میں ان کے انتشار کی طرف۔ یہ اسلوب بیان اس لیے اختیار فرمایا گیا ہے کہ اصل مقصود، جس کے لیے یہ سرگزشت سنائی جا رہی ہے، نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔ قرآن میں اس اسلوب بیان کی متعدد نہایت بلیغ مثالیں موجود ہیں۔
      ’صبر‘ اور ’شکر‘ کی نشانیاں: ’صبر‘ اور ’شکر‘ دونوں توام ہیں۔ یہ دونوں بیک وقت مطلوب ہیں۔ جس کے اندر صبر نہ ہو وہ شکر کا حق ادا نہیں کر سکتا اور جس کے اندر شکر نہ ہو وہ صبر نہیں کر سکتا اور اس دنیا کے دارالامتحان میں ہر قدم پر بندے کا امتحان ان دونوں ہی چیزوں میں ہوتا رہتا ہے اور اسی امتحان پر اس کی اخروی کامیابی و ناکامی کا انحصار ہے۔ فرمایا کہ اس سرگزشت میں صبر و شکر کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ مثلاً

      o اس دنیا میں جو نعمتیں بھی حاصل ہوتی ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہوتی ہیں اس وجہ سے ان کو پا کر غرور میں مبتلا ہونے کے بجائے انسان کو اپنے رب کا شکرگزار اور اس کا فرماں بردار رہنا چاہیے۔
      o جو نعمتیں بھی ملتی ہیں وہ کسی استحقاق کی بنا پر نہیں بلکہ امتحان کے طور پر ملتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو دے کر دیکھتا ہے کہ اس کے بندے اس کے شکرگزار رہتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں۔
      o اس امتحان میں جو قومیں ناکام ہو جاتی ہیں وہ قومی حیثیت سے اس دنیا میں اس کا انجام دیکھ لیتی ہیں۔ آخرت میں ہر شخص کے سامنے انفرادی حیثیت سے اس کا انجام آئے گا۔

      جاوید احمد غامدی مگر اُنھوں نے (جو رویہ اختیار کیا تو گویا زبان حال سے) کہہ دیا کہ پروردگار، ہماری منزلوں کو دور دور کر دے۔ اور (اِس طرح) اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہم نے بالآخر اُنھیں افسانہ بنا دیا اور اُن کو بالکل تتر بتر کر ڈالا۔ یقیناًاِس میں ہر اُس شخص کے لیے نشانیاں ہیں جو صبر کرنے والا اور شکر کرنے والا ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس سیرگاہ کو ویرانے میں بدل دے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’یہ اُن کے زبان قال کی نہیں، بلکہ زبان حال کی تعبیر ہے کہ اُنھوں نے یہ رفاہیتیں پاکر رویہ جو اختیار کیا، اُس سے یہ ظاہر کر دیا کہ وہ اِن آسایشوں کے حق دار نہیں ہیں، بلکہ اِس بات کے سزاوار ہیں کہ اُن کی بستیاں ویران ہو جائیں، اُن کی منزلیں کٹھن ہو جائیں اور اُن کی یہ ساری رفاہیتیں اُن سے چھین لی جائیں۔ زبان حال کی تعبیرات کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اِس کی نظیریں پیچھے گزر چکی ہیں اور یہ حقیقت بھی ہم واضح کر چکے ہیں کہ اصل شہادت زبان حال ہی کی ہوتی ہے نہ کہ زبان قول کی۔ یہود کا قول ’سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا‘ بھی اُن کے حال ہی کی تعبیر ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۶/ ۳۱۰)

      یعنی حال کے صفحے سے مٹا کر ماضی کا ایک قصۂ پارینہ بنا دیے گئے۔
      چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ غسانیوں نے اردن اور شام کا رخ کیا، اوس و خزرج نے یثرب کو اپنا مسکن بنایا، خزاعہ جدے کے قریب تہامہ کے علاقے میں جا بسے، ازد کے لوگ عمان میں جا کر آباد ہو گئے، لخم اور جذام اور کندہ بھی جہاں سینگ سمایا، نکل گئے۔ حتیٰ کہ سبا اور قوم سبا کا نام ہی باقی رہ گیا۔
      یعنی اِس بات کی نشانیاں کہ ہر نعمت درحقیقت خدا کا فضل اور اُس کی عنایت ہے۔ اِس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ خدا کا شکر ادا کیا جائے، اِس لیے کہ یہ سب کچھ اُس نے امتحان کے لیے دیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ اُس کے بندے اِن نعمتوں کو پا کر شکر گزار ہوتے ہیں یا ناشکری اختیار کر لیتے ہیں۔ اور اِس امتحان کا نتیجہ بھی ایک دن لازماً نکلنا ہے، قوموں کے لیے اِسی دنیا میں اور افراد کے لیے قیامت میں، جب ہر شخص کو جزا و سزا کے لیے اٹھایا جائے گا۔
      استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس سرگذشت کے ایک دوسرے پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اہل سبا کی سرگذشت یہاں دو مرتبہ دہرائی گئی ہے اور دونوں مرتبہ اُن کے عبرت انگیز انجام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ پہلے اُن کے علاقے کی زرخیزی و شادابی کے ذکر کے بعد اُن کی ناشکری اور اُس کے انجام کی طرف اشارہ فرمایا، پھر اُن کی تمدنی و تجارتی ترقیوں کے ذکر کے بعد اُن کے کفران نعمت کے نتیجے میں اُن کے انتشار کی طرف۔ یہ اسلوب بیان اِس لیے اختیار فرمایا گیا ہے کہ اصل مقصود جس کے لیے یہ سرگذشت سنائی جا رہی ہے، نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔ قرآن میں اِس اسلوب بیان کی متعدد نہایت بلیغ مثالیں موجود ہیں۔‘‘ (تدبر قرآن ۶/ ۳۱۰)

    • امین احسن اصلاحی اور ابلیس نے ان کے اوپر اپنا گمان سچ کر دکھایا۔ سو انھوں نے اس کی پیروی کی۔ صرف اہل ایمان کا ایک گروہ اس سے بچ سکا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ناشکرے لوگ ابلیس کی توقعات پوری کرتے ہیں: یہ ابلیس کے اس گمان کی طرف اشارہ ہے جس کا اظہار اس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اس وقت کیا تھا جب آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا اس کو حکم دیا گیا اور اس نے اس کی تعمیل سے انکار کیا۔ اس وقت اس نے یہ کہا تھا کہ میں اولاد آدم پر اس طرح گھیرے ڈالوں گا کہ ان کی اکثریت تیری جگہ میری پیروی کرے گی:

      ’وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ‘ (الاعراف: ۱۷)
      (اور تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکرگزار نہیں پائے گا)۔

      یہاں اس کا حوالہ دینے سے مقصود اس کے انجام کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ جب انھوں نے اپنے بارے میں ابلیس کے گمان کو سچا ثابت کر دیا تو لازماً ان کے سامنے اس کا انجام بھی آیا اور آئے گا۔ یعنی اس دنیا میں یہ سیلاب کے عذاب سے دوچار ہوئے اور آخرت میں یہ جہنم کے عذاب میں جھونک دیے جائیں گے۔ قرآن میں جہاں ابلیس کی مذکورہ بالا دھمکی کا ذکر ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ جواب بھی مذکور ہے کہ ’جو تیری پیروی کریں گے، خواہ وہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے، میں ان سب کو جہنم میں بھر دوں گا‘۔
      ’إِلَّا فَرِیْقاً مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ‘ پیچھے سورۂ نحل کی آیت ۱۱۳ کے حوالہ سے ہم ذکر کر آئے ہیں کہ اہل سبا کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک رسول بھی بھیجا تھا۔ اس آیت سے واضح ہوا کہ ان کی اکثریت نے اس رسول کی تکذیب کر دی۔ صرف تھوڑے سے لوگ ان پر ایمان لائے اور وہی اس عذاب سے محفوظ رہے جو ان کی قوم پر آیا۔

       

      جاوید احمد غامدی اُن پر ابلیس نے اپنا گمان سچ کر دکھایا۔ سو وہ اُسی کے راستے پر چلے، ایمان والوں کے ایک گروہ قلیل کے سوا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ ابلیس کے اُس گمان کی طرف اشارہ ہے جس کا اظہار اُس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کر دینے کے بعد کیا تھا۔ قرآن نے اِسے سورۂ اعراف (۷) کی آیت ۱۷ میں نقل فرمایا ہے۔
      یہ گروہ قلیل ترین ہو سکتا ہے، لیکن دنیا کی کوئی قوم اِس سے کبھی خالی نہیں رہی۔ اِس کا مشاہدہ رفتہ و حاضر کی ہر قوم کے حالات میں کیا جا سکتا ہے۔ اِس کے لیے کسی تاریخی حوالے کی ضرورت نہیں ہے۔ قوموں پر زوال آجائے تو اِس کے نتائج اِس گروہ کو بھی بھگتنے پڑتے ہیں۔ قرآن نے اِسی کے متعلق فرمایا ہے کہ اُس فتنے سے بچو جس میں صرف ظالم ہی مبتلا نہیں کیے جائیں گے۔*
      _____
      * الانفال ۸: ۲۵۔

    Join our Mailing List