Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 73 آیات ) Al-Ahzab Al-Ahzab
Go
  • الاحزاب (The Clans, The Confederates, The Combined Forces)

    73 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود، گروپ کے ساتھ اس کا تعلق اور زمانۂ نزول

    جس طرح سورۂ نور اپنے گروپ کے آخر میں پورے گروپ کے تکملہ و تتمّہ کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح سورۂ احزاب اپنے پورے گروپ کا جو فرقان سے شروع ہوا ہے، تکممہ و تتمّہ ہے۔ یہ گروپ، جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں، قرآن و رسالت کے اثبات میں ہے۔ اس تعلق سے اس سورہ میں چند باتیں خاص طور پر نمایاں ہوئی ہیں۔
    ۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بحیثیت رسول جو ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی تھی اس کی وضاحت اور بے خوف لومۃ لائم اس کو ادا کرنے کی تاکید۔
    ۔۔۔ انبیاء و رسل کے طبقہ کے اندر آپ کو جو امتیاز خاص اور جو مرتبہ و مقام حاصل ہے اس کا بیان۔
    ۔۔۔ امت کے ساتھ آپ کے تعلق کی نوعیت اور امت پر آپ کے حقوق اور ان کے مقتضیات کی وضاحت۔
    ۔۔۔ حضورؐ کی ازواج مطہراتؓ کا درجہ امت کے اندر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے تعلق کی مخصوص نوعیت۔
    ۔۔۔ اس عظیم امانت کا حوالہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر ڈالی گئی ہے اور جس کی وضاحت کے لیے اللہ نے اپنی کتاب نازل فرمائی ہے۔ اس عظیم ذمہ داری کے حقوق و فرائض کی یاددہانی۔
    یہ سورہ اس دور میں نازل ہوئی ہے جب منافقین و منافقات نے قرآن کی بعض اصلاحات کو بہانہ بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف پراپیگنڈے کی ایک نہایت مکروہ مہم چلا رکھی تھی۔ یہاں تک کہ ازواج مطہراتؓ کے ذہن کو بھی انھوں نے مسموم کرنے کی کوشش کی۔ اس میں ان فتنوں کی طرف بھی اشارات ہیں جو منافقین نے غزوۂ احزاب کے دوران، جو ۵ھ میں واقع ہوا، مسلمانوں کو بددل کرنے کے لیے اٹھائے۔ اسی سلسلہ میں حضرت زیدؓ اور حضرت زینبؓ کے واقعہ کی اصل نوعیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اس لیے کہ اس واقعہ کو بھی واقعۂ افک کی طرح، جس کا ذکر سورۂ نور میں گزر چکا ہے، منافقین نے فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔

  • الاحزاب (The Clans, The Confederates, The Combined Forces)

    73 آیات | مدنی

    الاحزاب

    ۳۳

    یہ ایک منفرد سورہ ہے جس پر قرآن کے اِس چوتھے باب کا خاتمہ ہورہا ہے۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اِس باب کا موضوع اثبات رسالت اور اِس کے حوالے سے قریش کو انذار و بشارت ہے۔ چنانچہ اِسی تعلق سے یہ سورہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق و فرائض بیان کرتی اور آپ اور آپ کی ازواج مطہرات کے بارے میں جو رویہ اُس زمانے کے منافقین و منافقات نے اختیار کر رکھا تھا، اُس پر اُنھیں شدید تنبیہ کرتی ہے۔ نیز مسلمانوں کو ہدایت کرتی ہے کہ اِن کے مقابلے میں وہ اپنے رب ہی پربھروسا رکھیں، اُس کی مدد شامل حال رہی تو یہ اُن کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکیں گے، جیسا کہ غزوۂ احزاب کے موقع پر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ و اختیار کے ساتھ عہد اطاعت کی جو عظیم امانت انسان کو دے رکھی ہے، اُس کے حقوق کی یاددہانی بھی اِسی مناسبت سے کی گئی ہے۔ اِس لحاظ سے یہ سورہ بالکل اُسی طرح اِس باب کی تمام سورتوں کا تکملہ و تتمہ ہے، جس طر ح سورۂ نور پچھلے باب کا تکملہ و تتمہ ہے۔
    اِس کے مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اور اہل ایمان بھی، اور اِس کے مضمون سے واضح ہے کہ ہجرت کے بعد یہ مدینۂ طیبہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہے، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ حکومت وہاں قائم ہو چکی تھی اور منکرین کے خلاف آخری اقدام سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ماننے والوں کا تزکیہ و تطہیر کر رہے تھے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی اے نبی، اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی باتوں پر کان نہ دھرو۔ بے شک اللہ علیم و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خطاب کی نوعیت: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں ’یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ‘ سے جو خطاب فرمایا ہے یہ محض تعظیم و تکریم کے لیے نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ یہ لفظ آپ کے فریضۂ منصبی کی یاددہانی کے لیے یہاں استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ اللہ کے نبی و رسول ہیں اس وجہ سے آپ کو صرف اپنے رب کی پروا ہونی چاہیے۔ آپ صرف اللہ سے ڈریں، کافروں اور منافقوں کی مخالفتوں سے بالکل بے پروا ہو کر لوگوں کو اللہ کی بات پہنچائیں۔ اسی طرح کا خطاب سورۂ مائدہ میں گزر چکا ہے:

      ’یٰٓاَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنۡزِلَ إِلَیْْکَ مِنۡ رَّبِّکَ‘ (المائدہ: ۶۷)
      (اے رسول، تم اچھی طرح لوگوں کو وہ چیز پہنچا دو جو تم پر تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے)۔

      ’وَلَا تُطِعِ الْکَافِرِیْنَ وَالْمُنَافِقِیْنَ‘۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تنبیہ و تاکید اس لیے نہیں فرمائی گئی کہ خدانخواستہ اس بات کا کوئی اندیشہ تھا کہ آپ کفار و منافقین کی باتوں سے متاثر یا مرعوب ہو جائیں گے بلکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے مخالفین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ اشرار کتنا ہی زور لگائیں اور کتنے ہی فتنے اٹھائیں لیکن تم ان کی باتوں پر ذرا کان نہ دھرنا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ آگے بعض ایسی باتوں کا ذکر آ رہا ہے جن کو کفار و منافقین نے آپ کے خلاف فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔
      کفار و منافقین کا باہمی رشتہ: یہاں کفار و منافقین کا ایک ساتھ ذکر اس حقیقت کو واضح کر رہا ہے کہ یہ دونوں اصلاً ایک ہی چٹے کے بٹے ہیں۔ اسلام دشمنی میں دونوں متحد ہیں۔ فرق ہے تو یہ ہے کہ ایک کھلم کھلا مخالفت کرتا ہے دوسرا اسلام کا کلمہ پڑھتے ہوئے، مسلمانوں کے اندر گھس کر، اسلام کی بیخ کنی کی کوشش کرتا ہے۔ اس وجہ سے انجام کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔
      توکل علی اللہ کی دلیل: ’إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا‘۔ یہ اس بات کی دلیل ارشاد ہوئی ہے کہ کیوں پیغمبرؐ کو اپنے رب کے سوا سب سے بے خوف و بے پروا ہو کر صرف اس بات کی تبلیغ و تعمیل کرنی چاہیے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ فرمایا کہ اللہ علیم و حکیم ہے۔ اس وجہ سے اس نے جس بات کا حکم دیا ہے وہی بات صحیح علم و حکمت پر مبنی ہے۔ اس کے خلاف لوگ جو بکواسیں کر رہے ہیں ان کی خرافات لائق اعتنا نہیں ہیں۔ آگے آیت ۳۹ اور آیت ۴۸ سے اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔

       

      جاوید احمد غامدی اے نبی، اللہ سے ڈرو اور اِن منکروں اور منافقوں کی باتوں پر کان نہ دھرو۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ علیم و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُن باتوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر آگے آئے گا اور جنھیں کفار اور منافقین نے آپ کے خلاف فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ چنانچہ اِس میں جو بات کہی گئی ہے، اُس کی تنبیہ کا رخ درحقیقت اُنھی کی جانب ہے۔
      یعنی اُس نے اگر کوئی حکم دیا ہے تو وہی علم و حکمت کا تقاضا ہے۔ اُس کے خلاف کسی کی کوئی چیز بھی لائق التفات نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور پیروی کرو اس چیز کی جو تم پر تمہارے رب کی جانب سے وحی کی جا رہی ہے، بے شک اللہ ان تمام چیزوں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اوپر جو بات منفی اسلوب سے فرمائی گئی ہے وہی بات مثبت پہلو سے ارشاد ہوئی ہے کہ اشرار کی تمام شر انگیزیوں سے بالکل بے پروا ہو کر تم اس وحی کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی جانب سے آتی ہے اور یہ اطمینان رکھو کہ تمہارے ہر اقدام و عمل سے اللہ اچھی طرح باخبر رہتا ہے۔ اس آیت میں پہلا خطاب واحد سے ہے اور دوسرا ’بِمَا تَعْمَلُوۡنَ‘ جمع سے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو خطاب ہے یہ امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے۔ جس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ دین کے معاملے میں یہی روش مسلمانوں کو بھی اختیار کرنی چاہیے۔

      جاوید احمد غامدی تم اُس چیز کی پیروی کرو جو تمھارے پروردگار کی طرف سے تم پر وحی کی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ اُن سب چیزوں سے با خبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِن آیتوں میں خطاب تمام تر واحد کے صیغے میں ہے، لیکن یہاں جمع کا صیغہ استعمال فرمایا ہے۔ اِس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ دین کے معاملے میں وہی رویہ ہر مسلمان کو اختیار کرنا چاہیے، جس کی یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلقین کی جا رہی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور بھروسے کے لیے اللہ کافی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلاً‘۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ کی ہر بات علم و حکمت پر بھی مبنی ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر بھی ہے تو اسی پر بھروسہ رکھو اور اپنے موقف پر ڈٹے رہو۔ اعتماد اور بھروسہ کے لیے اللہ کافی ہے۔ اس کے ہوتے تمہیں کسی دوسرے سہارے کی احتیاج نہیں ہے۔ لفظ ’وکیل‘ کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کر چکے ہیں کہ اس سے مراد وہ ذات ہے جس پر پورا اعتماد کر کے اپنے معاملات اس کے حوالہ کر دیے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ کا مطالبہ بندوں سے یہی ہے کہ وہ خدا کے دیے ہوئے احکام کی ہر حال میں تعمیل کریں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں کہ اس راہ میں جو مشکلیں پیش آئیں گی ان سے عہدہ برآ ہونے کی وہ توفیق بخشے گا۔

      جاوید احمد غامدی اور اللہ پر بھروسا رکھو اور بھروسے کے لیے اللہ کافی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے اور نہ تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کر بیٹھتے ہو تمہاری مائیں بنایا اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے بنا دیا۔ یہ سب تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں اور اللہ حق کہتا ہے اور وہ صحیح راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اوپر کی تمہید کے بعد یہ بعض ایسے امور کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن میں قرآن کی اصلاحات کو کفار و منافقین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔
      فکر و ارادہ کا تضاد خلاف فطرت ہے: ’مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ‘۔ یہ ٹکڑا بعد کی باتوں کے ذکر کے لیے بطور تمہید ہے۔ چونکہ یہ باتیں فکر و ارادہ کے تضاد کا مظہر ہیں اس وجہ سے ان کے ذکر سے پہلے نفس تضاد ارادہ پر روشنی ڈالی کہ اللہ تعالیٰ کو اگر منظور ہوتا کہ انسان متضاد و متناقض ارادوں کی کشمکش ہی میں گرفتار رہے تو اس کو دل بھی ایک سے زیادہ دیتا لیکن اس نے کسی شخص کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اس نے انسان کے لیے یہ پسند نہیں فرمایا کہ وہ دو بالکل متناقض ارادے اپنے اندر جمع کر رکھے۔ لیکن یہ انسان کی عجیب کج فہمی ہے کہ خدا کی بنائی ہوئی ساخت کے بالکل خلاف وہ اپنے اندر متناقض ارادے جمع کر لیتا ہے۔ وہ خدا پر ایمان کا دعویٰ بھی رکھتا ہے اور ساتھ ہی دوسرے شریکوں کی بندگی بھی کرتا ہے۔ رسول سے اطاعت و وفاداری کا عہد بھی باندھتا ہے اور اس کے خلاف اس کے دشمنوں سے سازباز اور اس کی تعلیمات کے خلاف سرگوشیاں اور سازشیں بھی کرتا ہے۔ حالانکہ اگر دل ایک ہے تو اس کے ارادوں میں تضاد و تناقض نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام ارادے بالکل ہم آہنگ و ہم رنگ ہونے چاہییں۔ اگر معاملہ اس کے خلاف ہو تو یہ دل کی خرابی و بیماری کی دلیل ہے اور ہر عاقل کا فرض ہے کہ وہ اس خرابی کی اصلاح کر کے اپنے ارادوں میں ہم آہنگی پیدا کرے۔
      تناقض فکر کی ایک مثال: ’وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَکُمُ الّٰٓئِْ تُظٰھِرُوْنَ مِنْھُنَّ اُمَّھٰتِکُمْ‘۔ اب یہ اس تضاد فکر و ارادہ کی مثال کے طور پر ظہار کے معاملہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کر بیٹھتا ہے تو اس کی بیوی اس کی ماں نہیں بن جاتی لیکن لوگوں نے زمانۂ جاہلیت میں اس طرح کی عورتوں کو ماؤں کی طرح محرمات میں شامل کر رکھا تھا۔ اب قرآن نے اس جاہلیت کی جو اصلاح کی تو منافقین و کفار جھاڑ کے کانٹوں کی طرح پیغمبرؐ کے پیچھے پڑ گئے ہیں کہ جو عورتیں ماؤں کی طرح حرام ہیں اس شخص نے اپنے پیرؤوں کے لیے ان کو بھی جائز کر دیا۔
      ظہار: ’ظہار‘ عرب جاہلیت کی ایک اصطلاح ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہہ بیٹھتا کہ

      ’اَنتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمّی‘
      (اب تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ کی طرح حرام ہے)

      تو اس کی بیوی اس کے اوپر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی۔ اسی لفظ ’ظھر‘ سے جس کے معنی پیٹھ کے ہیں ’ظہار‘ کی اصطلاح پیدا ہو گئی۔ لیکن اس کا اطلاق انہی الفاظ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ کوئی شخص اپنی بیوی کے کسی اور حصۂ جسم کو بھی، بارادۂ تحریم، اپنی محرمات میں سے کسی سے مشابہ قرار دے دے تو اس کا حکم بھی ظہار ہی کا ہو گا۔ عرب جاہلیت میں یہ صورت ایک طلاق مغلظ کی تھی جس کے بعد کسی شخص کے لیے اپنی بیوی سے مراجعت کی کوئی شکل باقی نہیں رہ جاتی تھی۔ قرآن نے، جیسا کہ سورۂ مجادلہ کی آیات ۲-۴ میں تفصیل آئے گی، اس طرح کی بات کو منکر اور جھوٹ قرار دیا اور یہ اجازت دے دی کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اس طرح کی بات کہہ بیٹھے اور وہ پھر اس کے ساتھ زن و شو کے تعلقات قائم کرنا چاہے تو ایسا کر سکتا ہے اس لیے کہ اس طرح کی بیہودہ بات کہہ دینے سے کسی کی بیوی اس کی ماں نہیں بن جاتی لیکن اس نے چونکہ ایک منکر اور باطل بات کہی ہے اس وجہ سے ضروری ہے کہ ملاقات سے پہلے وہ ایک غلام آزاد کرے، اگر غلام میسر نہ ہو تو لگاتار دو ماہ روزے رکھے اور اگر اس کی قدرت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس اصلاح سے قرآن نے ان لوگوں کی گھریلو زندگی کو درہم برہم ہونے سے بچانے کی راہ بھی کھولی جو غصہ اور جھنجھلاہٹ میں آ کر، نتائج پر نگاہ کیے بغیر، فضول باتیں زبان سے نکال دیا کرتے ہیں اور ساتھ ہی آئندہ کے لیے ان کو اور دوسروں کو محتاط رہنے کا سبق بھی دے دیا لیکن کفار و منافقین نے، جو ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے لیے کسی شوشے کی تلاش میں رہتے تھے، اس چیز کو بھی فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا کر لوگوں میں یہ پھیلانا شروع کر دیا کہ اس شخص کو دیکھو، اس نے ماں اور بیوی کے درمیان کوئی فرق ہی باقی نہیں رکھا! اسی چیز کی طرف یہاں آیت میں اشارہ ہے کہ یہ لوگ دودلی اور تضاد فکر و ارادہ کی بیماری میں مبتلا ہیں ورنہ انھیں سوچنا چاہیے کہ مجرد ایک بدتمیزی و جہالت کی بات کہہ دینے سے کسی کی بیوی اس کی ماں کس طرح بن جائے گی! اس غلطی پر وہ تادیب و اصلاح کا مستحق تو ضرور ہے تاکہ اس کو بھی اور معاشرہ کے دوسرے لوگوں کو بھی سبق حاصل ہو لیکن اس سزا کا مستحق تو وہ نہیں ہے کہ اس کی عائلی زندگی کا شیرازہ بالکل درہم برہم ہو کر رہ جائے۔ یہاں ہم صرف اشارہ پر کفایت کرتے ہیں اس لیے کہ قرآن نے بھی اشارہ ہی کیا ہے۔ ان شاء اللہ سورۂ مجادلہ کی تفسیر میں ہم اس پر مفصل بحث کریں گے اور بتائیں گے کہ اس طریقۂ طلاق میں شریعت کے قراردادہ طریقہ کے مقابل میں کیا کیا مفاسد موجود ہیں جن کی قرآن نے اصلاح کی ہے۔
      تضاد فکر کی دوسری مثال: ’وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَکُمْ اَبْنَآءَ کُمْ‘ اسی طرح کے تضاد فکر میں لوگ منہ بولے بیٹوں کے معاملے میں بھی مبتلا تھے۔ زمانۂ جاہلیت میں منہ بولے بیٹوں کو بالکل صلبی بیٹوں کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ کسی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنے متبنیّٰ کی منکوحہ سے اس کی وفات یا طلاق کے بعد نکاح کر سکے۔ یہ چیز اس فطری نظام عائلی کے بالکل خلاف تھی جس کو اسلام نے ’اُولُوا الارحام بعضھم اولی ببعض‘ کے اصول پر قائم فرمایا ہے۔ اس وجہ سے جب اس کی اصلاح کا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ حضرت زیدؓ کی مطلقہ بیوی حضرت زینبؓ سے نکاح کر لیں تاکہ اس غلط رسم کا خاتمہ ہو جائے۔ حضرت زیدؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبنیّٰ کی حیثیت حاصل تھی اس وجہ سے اس رسم جاہلی کی اصلاح کا سب سے زیادہ مؤثر طریقہ یہی ہو سکتا تھا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے اقدام فرمائیں لیکن کفار و منافقین نے اس کو بھی آنحضرت صلعم کے خلاف فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنایا کہ اس شخص نے اپنے منہ بولے بیٹے کی منکوحہ سے نکاح کر لیا۔ اسی فتنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ بھی ان لوگوں کی دودلی کا کرشمہ ہے کہ یہ صلبی بیٹے اور منہ بولے بیٹے میں فرق نہیں کر رہے ہیں، دونوں کو ایک ہی درجے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اس واقعہ پر مفصل بحث فصل ۶ میں آگے آ رہی ہے اس وجہ سے ہم یہاں اشارے پر کفایت کرتے ہیں۔
      قرآن فطرت کی راہ کی طرف رہنمائی کر رہا ہے: ’ذٰلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِاَفْوَاھِکُمْ وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَھُوَ یَھْدِی السَّبِیْلَ‘۔ یعنی اس قسم کی تمام باتیں تمہاری اپنی زبانوں کی گھڑی ہوئی ہیں۔ ان کو عقل و فطرت اور اللہ کی شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے اس وجہ سے یہ باطل ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور اپنی کتاب کے ذریعے سے تمہیں حق بتا رہا ہے اور تمہاری رہنمائی فطرت کی صراط مستقیم کی طرف کر رہا ہے تو اس صراط مستقیم کو اختیار کرو اور جاہلیت کے رسوم و بدعات سے باہر نکلو۔

       

      جاوید احمد غامدی اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے ہیں (کہ ایک ہی وقت میں وہ دو متضاد باتوں کو مانتا رہے)۔ چنانچہ نہ اُس نے تمھاری بیویوں کو جن سے تم ظہار کر بیٹھتے ہو، تمھاری مائیں بنایا ہے اور نہ تمھارے منہ بولے بیٹوں کو تمھارا بیٹا بنادیا ہے۔ یہ سب تمھارے اپنے منہ کی باتیں ہیں، مگر اللہ حق کہتا ہے اور وہی سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ایک ہی وقت میں مومن بھی ہو اور منافق بھی، خدا پر ایمان کا دعویٰ بھی کرے اور اُس کے شریک بھی ٹھیرائے، خدا کے پیغمبر سے اطاعت و وفاداری کا عہد بھی باندھے اور اُس کے خلاف سازشوں میں بھی شامل ہو۔ ایک وقت میں آدمی کی ایک ہی حیثیت ہو سکتی ہے، اِس لیے کہ اُس کے سینے میں ایک ہی دل دھڑکتا ہے، خدا نے اُسے دو دلوں کے ساتھ پیدا نہیں کیا ہے۔ اِس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ کوئی غیر فطری چیز کبھی خدا کے دین میں جائز نہیں ہو سکتی، وہ اُسے ہر حال میں ممنوع ٹھیرائے گا۔ چنانچہ اِسی اصول پر متفرع کرکے آگے جاہلیت کی بعض رسوم کی لغویت واضح فرمائی ہے۔
      یہ عرب جاہلیت کی ایک خاص اصطلاح ہے۔ اِس کے معنی یہ تھے کہ شوہر نے بیوی کے لیے ’أنت علی کظھر أمی‘(تجھے ہاتھ لگایا تو گویا اپنی ماں کی پیٹھ کو ہاتھ لگایا) کے الفاظ زبان سے نکال دیے ہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں بیوی کو اِس طرح کی بات کہہ دینے سے ایسی طلاق پڑ جاتی تھی جس کے بعد بیوی لازماً شوہرسے الگ ہو جاتی تھی۔ اہل عرب سمجھتے تھے کہ یہ الفاظ کہہ کر شوہرنہ صرف یہ کہ بیوی سے اپنا رشتہ توڑ رہا ہے، بلکہ اُسے ماں کی طرح اپنے اوپر حرام قرار دے رہا ہے۔ لہٰذااُن کے نزدیک طلاق کے بعدتو رجوع کی گنجایش ہو سکتی تھی، لیکن ظہار کے بعد اِس کا کوئی امکان باقی نہ رہتا تھا۔
      یعنی اگرکوئی شخص منہ پھوڑ کر بیوی کو ماں سے یا اُس کے کسی عضو کو ماں کے کسی عضو سے تشبیہ دیتا ہے تو اِس سے بیوی ماں نہیں ہو جاتی اور نہ اُس کو وہ حرمت حاصل ہو سکتی ہے جو ماں کو حاصل ہے۔ ماں کا ماں ہونا ایک امر واقعی ہے، اِس لیے کہ اُس نے آدمی کو جنا ہے۔ اُس کو جو حرمت حاصل ہوتی ہے، وہ اِسی جننے کے تعلق سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ ایک ابدی اور فطری حرمت ہے جو کسی عورت کو محض منہ سے ماں کہہ دینے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔
      مطلب یہ ہے کہ اُنھیں بالکل صلبی بیٹوں کا درجہ نہیں دیا ہے کہ اُن کے لیے میراث کا حق قائم ہو جائے یا اُن کی بیویوں کے ساتھ اُن کی وفات یا طلاق کے بعد نکاح کرنا ممنوع سمجھا جائے۔
      یعنی اِن کی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ اِن پر شریعت کے کسی حکم کی بنیاد رکھی جائے۔ خدا کی شریعت انسان کی فطرت پر مبنی ہے، اُس میں اِس طرح کے رسوم کی کوئی گنجایش نہیں ہو سکتی۔

    • امین احسن اصلاحی منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت کے ساتھ پکارو۔ یہی اللہ کے نزدیک قرین عدل ہے اور اگر تم کو ان کے باپوں کا پتہ نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے شریک قبیلہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس باب میں تم سے جو غلطی ہوئی اس پر تم سے کوئی مواخذہ نہیں، البتہ تمہارے دلوں نے جس بات کا عزم کر لیا اس پر مواخذہ ہے۔ اور اللہ غفور رّحیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اسلام کے نظام میں کوئی خلاف فطرت چیز داخل نہیں ہو سکتی: ’اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِہِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ‘ یعنی منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت کے ساتھ پکارو تاکہ ان کے نسب کا امتیاز باقی رہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ کے قانون میں حق و عدل سے اقرب و اوفق ہے۔ اگر اس کی خلاف ورزی کر کے منہ بولے بیٹوں کو بالکل بیٹوں کے درجے میں کر دیا گیا تو وہ سارا نظام وراثت و قرابت و معاشرت بالکل تلپٹ ہو جائے گا جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ نے رحمی رشتوں اور انسانی فطرت کے جذبات و داعیات پر رکھی ہے۔ اسلام کے تمام احکام و قوانین خواہ وہ کسی شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہوں، اللہ تعالیٰ نے عدل و قسط پر قائم کیے ہیں اس وجہ سے اس میں کوئی بات اس عدل و قسط کے خلاف داخل نہیں ہو سکتی۔
      اہل عرب کا ایک معاشرتی اصول: ’فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْا اٰبَآءَھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ‘ یعنی اگر ان کے باپوں کا پتہ نہ ہو تو ان کی حیثیت دینی بھائیوں اور ’’موالی‘‘ کی ہو گی۔ دینی اخوت کے رشتہ سے تو عربوں کو اول اول اسلام نے آشنا کیا، جاہلیت میں عرب اس سے بالکل نا آشنا تھے، لیکن خاندانوں اور قبیلوں کے ساتھ وابستہ ہونے کا ایک طریقہ حلف اور وِلا کا ان کے ہاں موجود تھا۔ خاندان یا قبیلہ سے باہر کا کوئی شخص اگر کسی خاندان یا قبیلہ میں شامل ہونا چاہتا اور اس خاندان والے اس کو شامل کر لیتے تو وہ اس خاندان کا ’مولیٰ‘ سمجھا جاتا اور جملہ حقوق اور ذمہ داریوں میں شریک خاندان و قبیلہ بن جاتا۔ اگر وہ قتل ہو جاتا تو جس خاندان یا قبلہ کا وہ مولیٰ ہوتا اس کو یہ حق حاصل ہوتا کہ وہ اس کے قصاص کا مطالبہ کرے۔ اسی طرح اگر وہ کوئی اقدام کر بیٹھتا جس کی بنا پر کوئی ذمہ داری عائد ہونے والی ہوتی تو اس ذمہ داری میں بھی پورے خاندان و قبیلہ کو حصہ لینا پڑتا:

      ’مولی القوم منہم‘
      (قوم کا مولیٰ انہی کے اندر کا ایک فرد شمار ہوگا)

      عربوں میں ایک مسلم سماجی اصول تھا اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے بھی اس کو برقرار رکھا۔ کسی خاندان کے آزاد کردہ غلام کا وِلا بھی آزاد کرنے والے خاندان کو حاصل ہوتا۔ مثلاً اگر وہ آزاد کردہ غلام مرتا اور اس کا کوئی وارث نہ ہوتا تو وِلا کے تعلق کی بنا پر اس کی وراثت اس کے آزاد کرنے والوں کو پہنچتی۔ آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کسی کے متبنیٰ کے باپ کا علم نہ ہو تو اس کی حیثیت دینی بھائی اور مولیٰ کی قرار پائے گی لیکن کسی صورت میں اس کو صلبی بیٹے کی حیثیت حاصل نہ ہو گی۔
      غلطی اور جرم میں فرق: ’وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیْمَآ اَخْطَاْتُمْ بِہٖ وَلٰکِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُکُمْ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا‘۔ یعنی اس معاملے میں جو غلطی بربنائے جہالت اب تک ہوئی ہے اس پر تو کوئی مواخذہ نہیں ہے، اللہ غفور رحیم ہے، لیکن اب اس تنبیہ و تعلیم کے بعد بھی اگر اسی غلط بات پر اصرار قائم رہا تو اس کی نوعیت غلطی کی نہیں بلکہ جرم کی ہو گی، اس لیے کہ یہ چیز تمہارے دلوں کے قصد و ارادہ اور دیدہ و دانستہ تعمد کا نتیجہ ہو گی جس پر اللہ تعالیٰ ضرور مواخذہ فرمائے گا۔

       

      جاوید احمد غامدی تم منہ بولے بیٹوں کو اُن کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہی اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف ہے۔ پھر اگر اُن کے باپوں کا تم کو پتا نہ ہو تو وہ تمھارے دینی بھائی اور تمھارے حلیف ہیں۔ تم سے جو غلطی اِس معاملے میں ہوئی ہے، اُس کے لیے توتم پر کوئی گرفت نہیں، لیکن تمھارے دلوں نے جس بات کا ارادہ کر لیا، اُس پر ضرور گرفت ہے۔ اور اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے کہ اِسی سے نسب کا امتیاز قائم رہتا اور وہ معاشرت وجود میں آتی ہے جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ نے رحمی رشتوں کے تقدس اور انسان کے فطری جذبات و داعیات پر رکھی ہے۔ اِس سے ہٹ کر جو کام بھی کیا جائے گا، وہ حق و انصاف کے خلاف ہو گا جسے خدا کی شریعت کبھی قبول نہیں کر سکتی۔
      یعنی حلف اور ولا کا جو طریقہ تمھارے ہاں موجود ہے، اُس کے مطابق تم اُنھیں اپنا مولیٰ بنا سکتے ہو۔ اِس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن کسی کو بالکل اُسی حیثیت سے بیٹا یا بیٹی نہیں بنا سکتے جو تمھاری صلبی اولاد کی ہے۔ استاذامام لکھتے ہیں:

      ’’... دینی اخوت کے رشتے سے تو عربوں کو اول اول اسلام نے آشنا کیا، جاہلیت میں عرب اِس سے بالکل ناآشنا تھے، لیکن خاندانوں اور قبیلوں کے ساتھ وابستہ ہونے کا ایک طریقہ حلف اور ولا کا اِن کے ہاں موجود تھا۔ خاندان یاقبیلے سے باہر کا کوئی شخص اگر کسی خاندان یا قبیلے میں شامل ہونا چاہتا اور اُس خاندان والے اُس کو شامل کر لیتے تو وہ اُس خاندان کا ’مولیٰ‘ سمجھا جاتا اور جملہ حقوق اور ذمہ داریوں میں شریک خاندان و قبیلہ بن جاتا۔ اگر وہ قتل ہوجاتا تو جس خاندان یا قبیلہ کا وہ مولیٰ ہوتا، اُس کو یہ حق حاصل ہوتا کہ وہ اُس کے قصاص کا مطالبہ کرے۔ اِسی طرح اگر وہ کوئی اقدام کر بیٹھتا جس کی بنا پر کوئی ذمہ داری عائد ہونے والی ہوتی تو اِس ذمہ داری میں بھی پورے خاندان و قبیلہ کو حصہ لینا پڑتا۔ ’مولی القوم منہم‘ (قوم کا مولیٰ اُنھی کے اندر کا ایک فرد شمار ہوگا) عربوں میں ایک مسلم سماجی اصول تھا اور اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے بھی اِس کو برقرار رکھا۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۱۸۹)

      یعنی اب تک ہوتی رہی ہے۔
      یعنی تعلیم و تنبیہ کے بعد بھی اِسی غلط طریقے پر قائم رہنے پر اصرار کیا۔ اِس کے بعد، ظاہر ہے کہ یہ قصد و ارادہ کے ساتھ خدا کی نافرمانی کا ارتکاب ہو گا، اِسے سہو و نسیان یا غلطی پر محمول نہیں کیا جا سکتا جس پر خدا کی شریعت میں کوئی مواخذہ نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور نبی کا حق مومنوں پر خود ان کے اپنے مقابل میں اَولیٰ ہے اور ازواج نبی کی حیثیت مومنین کی ماؤں کی ہے اور رحمی رشتے رکھنے والے آپس میں، دوسرے مومنین و مہاجرین کے مقابل، اَولیٰ ہیں، اللہ کے قانون میں۔ یہ اور بات ہے کہ تم اپنے اولیاء و اقرباء کے ساتھ کوئی حسن سلوک کرنا چاہو۔ یہ چیز کتاب میں نوشتہ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اسلامی معاشرے میں فرق مراتب: یہ اس فرق مراتب کو واضح فرمایا ہے جو اسلامی معاشرے میں مسلمانوں کو ملحوظ رکھنے کی ہدایت ہوئی۔ اس وضاحت سے مقصود مسلمانوں کو اس خلط مبحث سے بچانا ہے جس کی بعض مثالیں اوپر گزر چکی ہیں۔
      نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ: ’اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ‘۔ ’اَوْلٰی‘ کے معنی احق کے ہیں۔ مثلاً ’اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰھِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ‘ (آل عمران ۶۸) یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہر مسلمان پر دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ ہے۔ یہاں تک کہ خود اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ ہے۔ اس مضمون کی وضاحت آگے اسی سورہ میں ان الفاظ میں ہو گئی ہے:

      وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا.(الاحزاب ۳۶)
      “جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو کسی مومن اور مومنہ کے لیے ان کے معاملے میں کوئی اختیار باقی نہیں رہ جاتا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو وہ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑا۔”

      اس سے معلوم ہوا کہ جس معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کا کوئی فیصلہ صادر ہو جائے اس میں کسی مومن یا مومنہ کے لیے کسی چون و چرا کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ رسول جو کچھ فرماتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نمائندے کی حیثیت سے فرماتا ہے اس وجہ سے ایمان کا لازمی تقاضا ہر مرد اور عورت کے لیے یہی ہے کہ وہ رسول کے احکام و ہدایات کی اللہ تعالیٰ کے احکام کی طرح بے چون و چرا تعمیل کرے۔ نہ دوسروں کی مخالفت و مزاحمت کی کوئی پروا کرے نہ اپنے مصالح و مفادات کی اور نہ اپنے جان و مال کی۔
      ازواج مطہراتؓ کا درجہ: ’وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھٰتُہُمْ‘۔ یہ اس تعلق خاص کا قدرتی نتیجہ بیان ہوا ہے جو ہر امتی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتا ہے یا ہونا چاہیے۔ اگر اس تعلق میں نفاق کی کوئی آلائش نہ ہو تو فطری طور پر ہر مسلمان کے جذبات ازواج مطہراتؓ کے معاملے میں وہی ہوں گے جو شریف بیٹوں کے اندر اپنی ماؤں کے لیے ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت کی بنا پر ان کے لیے دلوں میں ایسا احترام اور ان کی عظمت کا ایسا غلبہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص ان کے ساتھ نکاح کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس سے الگ ہو کر اگر سوچ سکتے تھے تو صرف منافقین سوچ سکتے تھے اور وہ اپنے مفسدانہ اغراض کے لیے، تفصیل آگے آئے گی، ریشہ دوانیاں بھی کرتے رہتے تھے۔ اس آیت نے ان کی ریشہ دوانیوں کا سدباب کر دیا اور آگے اسی بنیاد پر صاف الفاظ میں یہ ممانعت آ گئی:

      ’وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْٓا اَزْوَاجَہٗ مِنْم بَعْدِہٖٓ اَبَدًا‘(۵۳)
      (اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو ایذا پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ اس کے بعد کبھی اس کی بیویوں سے نکاح کرو)

      یہاں اس اشارے پر قناعت کیجیے۔ آگے ان شاء اللہ ہم ان دینی مصالح پر روشنی ڈالیں گے جو اس ممانعت کے اندر مضمر تھے۔
      مومنین کے باہمی حقوق کی بنیاد رحمی رشتوں پر: ’وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُھٰجِرِیْنَ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہراتؓ کو امت میں جو امتیازی مقام حاصل ہے اور جس پہلو سے حاصل ہے اس کو بیان کرنے کے بعد بقیہ سب کے تعلقات کے لیے اساس اس اصول کو قرار دیا ہے جو سورۂ نساء میں بیان ہو چکا ہے۔ یعنی رحمی رشتے رکھنے والے اقرب فالاقرب کے اصول پر ایک دوسرے کے حق دار ٹھہریں گے۔ ’فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ‘ سے مراد یہاں قرآن کی سورۂ نساء کی آیات ۷-۱۳ ہیں جن میں اسی فطری اصول کے مطابق تقسیم وراثت کا ضابطہ بیان ہوا ہے۔
      مہاجرین و انصار کے درمیان حقوق کا جو عارضی نظم قائم کیا گیا تھا وہ ختم کر دیا گیا: ’اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓی اَوْلِیٰٓئِکُمْ مَّعْرُوْفًا کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا‘۔ اس کے بعد صرف اتنی گنجائش باقی رہ گئی کہ آدمی کے جو اعزہ و احباب اس کی وراثت کے حق دار نہیں ہیں اگر ان کے ساتھ وہ کوئی حسن سلوک کرنا چاہے تو ان حدود کے اندر کر سکتا ہے جو شریعت نے مقرر کر دیے ہیں۔ ان حدود کی تفصیل بھی سورۂ نساء میں بیان ہو چکی ہے۔ ’کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا‘ میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (اِسی اصول کے مطابق)، نبی کا حق تو اُس کے ماننے والوں پر خود اُن کی ذات سے بھی مقدم ہے اور اُس کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں، مگررحمی رشتے رکھنے والے خدا کے قانون میں دوسرے تمام مومنین اور مہاجرین کی بہ نسبت ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں، الاّ یہ کہ اپنے تعلق کے لوگوں سے تم کوئی حسن سلوک کرنا چاہو۔ یہ اِسی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ آدمی کا دل اگر کسی شخص کو خدا کا پیغمبر مان لیتا ہے تو اُس پر وہ کسی رشتے کو، یہاں تک کہ خود اپنی جان کو بھی مقدم نہیں ٹھیرا سکتا۔ پھر اِس تعلق کا قدرتی نتیجہ ہے کہ اُس کے جذبات پیغمبر کی ازواج مطہرات کے معاملے میں بھی وہی ہوں جو شریف بیٹوں کے اپنی ماؤں کے لیے ہوتے ہیں۔ اِس سے الگ ہو کر اگر کوئی سوچتا ہے تو وہ ایمان کے ساتھ نفاق کو جمع کرتا ہے جو ایک ہی دل میں جمع نہیں ہو سکتے اور جیسا کہ اوپر بیان ہوا، خدا نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ہیں۔
      یعنی پیغمبر اور آپ کی ازواج کا معاملہ الگ ہے، مگر اُن کے بعد کسی کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ اُسے خدا کے بنائے ہوئے رشتوں پر مقدم ٹھیرایا جائے۔ لہٰذا باقی سب لوگوں کے تعلقات کی بنیاد یہ ہے کہ رحمی رشتے رکھنے والے الاقرب فالاقرب کے اصول پر ایک دوسرے کے حق دار اور دوسرے سب لوگوں سے مقدم ہوں گے، یہاں تک کہ اُن مومنین اور مہاجرین سے بھی جنھیں ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔ اِس لیے کہ یہی فطرت کا تقاضا ہے۔
      یعنی قرآن میں۔ یہ اُن ہدایات کی طرف اشارہ ہے جو سورۂ نساء (۴) کی ابتدا اور سورۂ انفال (۸) کے آخر میں بیان ہوئی ہیں اور جن میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ وراثت وغیرہ کے حقوق میں رشتہ داراحق ہیں، اُن پر کسی دوسرے کو مقدم نہیں ٹھیرایا جا سکتا۔

    • امین احسن اصلاحی اور یاد کرو، جب ہم نے نبیوں سے ان کے عہد لیے اور تم سے بھی اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی، اور ہم نے ان سے نہایت محکم عہد لیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرات انبیاء کا مشترکہ مشن: آیات ۱-۲ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو، ہر خوف و اندیشہ سے بے پروا ہو کر، صرف وحی الٰہی کی پیروی اور اسی کی دعوت کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے، پیرے کے آخر میں اسی بات کو حضرات انبیاء علیہم السلام کی تاریخ سے مزید موثق کر دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو ہدایت ہم تمہیں کر رہے ہیں اسی کی ہدایت ہم نے اپنے تمام نبیوں کو کی اور ان سے یہ عہد لیا کہ اللہ کی طرف سے ان کو جو وحی کی جا رہی ہے خود بھی اس کی پیروی کریں اور بے کم و کاست اس کو لوگوں کو بھی پہنچائیں۔ فرمایا کہ یہ میثاق ہم نے تم سے بھی لیا، نوحؑ سے بھی لیا، ابراہیمؑ سے بھی لیا، موسیٰؑ سے بھی لیا اور عیسیٰ ابن مریمؑ سے بھی لیا۔ عام کے بعد یہ خاص خاص جلیل القدر انبیاء کا حوالہ دے کر انبیاء کی پوری تاریخ سامنے رکھ دی گئی ہے تاکہ یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے کہ اس ذمہ داری کا بارگراں ہر نبی اور اس کے ساتھیوں کو اٹھانا پڑا ہے۔ اس خاص فہرست میں سب سے پہلے آنحضرت صلعم کا ذکر اس وجہ سے ہے کہ اصل مقصود آپؐ ہی کو یاددہانی ہے۔
      اس میثاق کا حوالہ قرآن مجید میں جگہ جگہ مذکور ہے۔ خاص طور پر سورۂ مائدہ میں اس کی پوری تاریخ بیان ہو گئی ہے۔ یہاں ہر میثاق کا حوالہ دینے میں طوالت ہو گی۔ ہم بطور مثال صرف ایک میثاق کا حوالہ دیتے ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لیا گیا۔ حضرت موسیٰؑ کو خطاب کر کے ارشاد ہوا ہے:

      ’ٍ فَخُذْہَا بِقُوَّۃٍ وَأْمُرْ قَوْمَکَ یَأْخُذُواْ بِأَحْسَنِہَا‘ (الاعراف: ۱۴۵)
      (تم خود بھی اس کو مضبوطی سے پکڑو اور اپنی قوم کو بھی حکم دو کہ اس بہترین چیز کو پوری مضبوطی سے اختیار کرے)۔

      ’وَأَخَذْنَا مِنْہُم مِّیْثَاقاً غَلِیْظاً‘۔ یعنی اس میثاق کے معاملہ میں ہم نے ذرہ برابر بھی نرمی اور مداہنت نہیں برتی۔ بلکہ ہر ایک سے مضبوط عہد لیا۔ اور اس کو پوری مضبوطی کے ساتھ اس پر قائم و استوار رہنے کی تاکید در تاکید فرمائی۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ اول تو اس عہد کو میثاق سے تعبیر فرمایا ہے جو خود مضبوط و مستحکم عہد کے لیے آتا ہے پھر اس کے ساتھ ’غلیظ‘ کی قید بھی لگائی ہے جس سے اس کے اندر مزید استحکام پیدا ہو گیا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (تم اِس کی پیروی کرو، اے پیغمبر) ،اور یاد رکھو، جب ہم نے سب نبیوں سے اُن کا عہد لیا اور تم سے بھی اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی، اور ہم نے اُن سے نہایت پختہ عہد لیا (کہ ہمارا پیغام بے کم و کاست پہنچا دو)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس عہد کا حوالہ قرآن میں کئی مقامات پر آیا ہے، خاص طور پر سورۂ مائدہ میں، جہاں اِس کی پوری تاریخ بیان کی گئی ہے۔
      اِس لیے کہ آگے جس سوال کا ذکر ہے، وہ اتمام حجت کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے اور اتمام حجت کے لیے ضروری ہے کہ خدا کی ہدایت لوگوں تک بے کم و کاست پہنچ جائے۔

    • امین احسن اصلاحی تاکہ اللہ راست بازوں سے ان کی راست بازی کی بابت سوال کرے (اور کافروں اور منافقوں سے ان کے کفر و نفاق کی نسبت)، اور کافروں کے لیے اللہ نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      میثاق لینے کی حکمت: یہ میثاق لینے کی حکمت و مصلحت بیان فرمائی کہ انبیاء علیہم السلام کی اس تبلیغ کے بعد ہی لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ اتمام حجت ہوا۔ جس کے بعد وہ مستحق ہوئے کہ اللہ تعالیٰ راست بازوں سے ان کی راست بازی سے متعلق اور کافروں اور منافقوں سے ان کے کفر و نفاق کے متعلق پوچھ گچھ کرے اور پھر ہر ایک کو ان کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے، اس اتمام حجت کے بغیر اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی گمراہی پر سزا دیتا تو یہ چیز اس کے عدل و رحمت کے خلاف ہوتی اور لوگ قیامت کے دن عذر کر سکتے۔ آگے آیت ۲۴ اور ۳۷-۴۰ کے تحت اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ سورۂ نساء کی آیت ’لِئَلاَّ یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ بَعْدَ الرُّسُلِ‘ (۱۶۵) میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے اور وہاں ہم اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی تاکہ اللہ راست بازوں سے اُن کی راست بازی کے بارے میں سوال کرے (اور منکروں اور منافقوں سے اُن کے کفر و نفاق کے بارے میں) ، اور منکروں کے لیے تو اُس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ فقرہ تقابل کے اسلوب پر اصل میں محذوف ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو! تم اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد رکھو کہ جب تم پر فوجیں چڑھ آئیں تو ہم نے ان پر ایک باد تند بھیجی اور ایسی فوجیں بھی بھیجیں جو تم کو نظر نہیں آئیں۔ اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کو برابر دیکھتے رہنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تائید الٰہی کے کرشموں کی یاددہانی: آیت ۳ میں اللہ ہی پر بھروسہ کرنے کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے اسی مضمون کو موکد کرنے کے لیے یہ تائید الٰہی کے ان کرشموں کی یاددہانی کرائی جا رہی ہے جو ماضی قریب میں مسلمانوں کی نصرت کے لیے ظاہر ہوئے تھے۔ غزوۂ خندق کے موقع پر تمام عرب مسلمانوں پر امڈ آیا تھا لیکن مسلمانوں کی نکسیر بھی نہیں پھوٹی۔ دشمنوں کی دَل بادل فوجیں اللہ تعالیٰ ہی نے اپنی پھونک سے اڑا دیں اور یہ حقیقت سب کے سامنے آ گئی کہ اللہ تعالیٰ اعتماد کے لیے تنہا کافی ہے۔ اگر اس کی مدد حاصل ہو تو ساری دنیا کی مخالفت بھی کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتی۔
      ’فَأَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمْ رِیْحًا‘۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ محاصرہ کے آخری دنوں میں ایسی طوفانی آندھی آئی کہ خیموں کی چوبیں اور طنابیں اکھڑ گئیں، دیگیں الٹ گئیں، سواری کے جانور تتر بتر ہو گئے، سردی کی شدت کے باوجود آگ جلانا ناممکن ہو گیا، تاریکی کا یہ عالم کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ اس صورت حال نے دشمنوں پر مرعوبیت طاری کر دی اور ابوسفیان نے سلامتی اسی میں دیکھی کہ کسی طرح اس آفت سے جان بچا کر گھر کو واپس ہو جائے۔
      ’وَجُنُودًا لَّمْ تَرَوْہَا‘۔ یعنی باد تند کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسی فوجیں بھی بھیجیں جو مسلمانوں کو نظر نہیں آئیں۔ یہ اشارہ ملائکہ کی افواج کی طرف ہے جو ہمیشہ اہل ایمان کے ہم رکاب رہتی ہیں۔ اگرچہ وہ خود نظر نہیں آتیں لیکن ان کے شان دار غیبی کارنامے ظہور میں آتے ہیں جن سے اہل ایمان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور ان کے دشمن مرعوب ہوتے ہیں۔ سورۂ انفال میں بسلسلہ غزوۂ بدر، اس مسئلہ پر ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ ’لَمْ تَرَوْہَا‘ سے یہ بات تو معلوم ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو یہ فوجیں نظر نہیں آئیں لیکن اس سے یہ بات نہیں نکلتی کہ کفار نے بھی ان کو نہیں دیکھا۔ قرین قیاس یہی ہے کہ ان کو یہ فوجیں دکھائی دی ہوں جس سے ان کو یہ اندازہ ہوا ہو کہ مسلمانوں کی جمعیت بہت بڑی ہے اور یہ چیز ان کی مرعوبیت کا باعث ہوئی ہو۔
      ’وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ بَصِیْرًا‘۔ یہ وہی مضمون ہے جو اوپر آیت ۲ میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے: ’إِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیْرًا‘۔ اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ بندے کو اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اس کو یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ ’خبیر‘ و ’بصیر‘ ہے۔ اس کے بندے اس کی راہ میں جو بازیاں کھیلتے اور جو مشقتیں جھیلتے ہیں وہ ان کو دیکھتا اور ان سے اچھی طرح باخبر رہتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، (تم اِن کی پروا نہ کرو، تمھارے لیے اللہ کافی ہے ، اور) اپنے اوپر خدا کی عنایت کو یاد رکھو، جب تم پرفوجوں کی فوجیں چڑھ آئیں تو ہم نے اُن پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں جو تم کو نظر نہیں آئیں اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس کو برابر دیکھنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آگے کی آیات سے واضح ہے کہ یہ غزوۂ احزاب کے واقعات کا حوالہ ہے۔ یہ غزوہ شوال۵؍ ہجری میں واقع ہوا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... یہود بنی نضیر کے کچھ لیڈروں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے خیبر کی طرف جلاوطن کر دیا تھا۔ اُنھوں نے مکہ جا کر قریش کے لیڈروں سے فریاد کی اور اُن کو آمادہ کیا کہ وہ مدینہ پر حملہ کریں۔ قریش حملے کے لیے پہلے سے پر تول رہے تھے۔ جب اُن کو یہود کی شہ بھی حاصل ہو گئی تو گویا مانگی مراد مل گئی۔ اِس کے بعد غطفان اور ہوازن کے لیڈروں کو بھی اُنھوں نے ہموار کر لیا۔ اِس طرح تقریباً دس ہزار کا ایک لشکر جرار مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔ قریش کا لشکر ابو سفیان کی سرکردگی میں تھا اور غطفان و ہوازن عیینہ بن حصن اور عامر بن طفیل کی قیادت میں نکلے۔ مزید برآں حیی بن اخطب نضری نے یہود بنی قریظہ کو بھی اِس متحدہ محاذ میں شامل ہونے پر آمادہ کر لیا۔ اگرچہ اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدۂ امن و صلح کر رکھا تھا، لیکن اِس موقع کو اُنھوں نے غنیمت جانا اور معاہدے کی پروا نہ کی۔ اِن کی تعداد کم و بیش آٹھ سو تھی۔
      آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دشمنوں کی اِن تیاریوں کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے سے مسلمانوں کو مدینہ کی اُن سمتوں میں خندق کھودنے کا حکم دیا جن سے حملہ کا خطرہ تھا۔ چنانچہ شہر کی شمالی اور مغربی سمت میں ساڑھے تین میل لمبی ایک خندق کھودی گئی اور یہ کام نہایت سرگرمی کے ساتھ اُن تین ہزار مجاہدوں نے انجام دیا جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور خود سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بہ نفس نفیس اِس کام میں حصہ لیا۔
      دشمنوں نے مدینے کا محاصرہ کر لیا اور یہ محاصرہ تقریباً ایک ماہ رہا، لیکن اِس دوران میں سنگ باری اور تیراندازی کے اکا دکا واقعات کے سوا دو بدو جنگ کی کوئی نوبت نہیں آئی۔ دشمن نے یہ اندازہ کر لیا کہ مسلمانوں نے مدافعت کی پوری تیاری کر رکھی ہے۔ پھر محاذ میں پھوٹ بھی پڑ گئی اور مزید برآں ایک طوفانی ہوا نے اُن کے خیمے و شامیانے، سب اکھاڑ کے پھینک دیے جس کے بعد اُن کے حوصلے پست ہو گئے اور ابوسفیان نے واپسی کا اعلان کر دیا*۔‘‘(تدبرقرآن ۶/ ۱۹۳)

      یہ آندھی اُس وقت آئی تھی، جب محاصرے کو تقریباً ایک مہینا گزر چکا تھا۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایسی طوفانی آندھی تھی کہ استاذ امام کے الفاظ میں، اِس سے خیموں کی چوبیں اور طنابیں اکھڑ گئیں، دیگیں الٹ گئیں، سواری کے جانور تتر بتر ہو گئے، سردی کی شدت کے باوجود آگ جلانا ناممکن ہو گیا، تاریکی کا یہ عالم تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔
      یہ فرشتوں کی فوجوں کی طرف اشارہ ہے جو ہمیشہ پیغمبر اور اُس کے ساتھیوں کے ہم رکاب رہتی ہیں۔ قرین قیاس یہ ہے کہ مسلمانوں نے تو، جیسا کہ بیان ہوا، اِن کو نہیں دیکھا، لیکن قریش کو یہ فوجیں نظر آئیں جس سے اُنھوں نے یہ سمجھا کہ مسلمانوں کی جمعیت بہت بڑی ہے۔ چنانچہ آندھی کے ساتھ یہ چیز بھی اُن کی مرعوبیت کا باعث ہوئی۔
      _____
      * السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ۳/ ۱۹۵۔

    • امین احسن اصلاحی یاد کرو جب کہ وہ تم پر آ چڑھے، تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور تمہارے نیچے کے طرف سے بھی، اور جب کہ نگاہیں کج ہو گئیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے اور تم اللہ کے باب میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مغربی اور مشرقی دونوں سمتوں سے حملہ: ’إِذْ جَاؤُوۡکُم مِّن فَوْقِکُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنکُمْ‘ مدینہ کی مشرقی سمت بلند، مغربی سمت نشیبی ہے۔ چونکہ دشمن کا حملہ دونوں طرف سے تھا اس وجہ سے فوق اور اسفل دونوں کا حوالہ دیا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ غطفان وغیرہ کا حملہ مشرق کی طرف سے ہوا تھا اور قریش اور ان کے حلیفوں کی فوجیں مغرب کی سمت سے آئی تھیں۔
      صورت حال کا اثر ضعفائے قلوب پر: ’وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوۡبُ الْحَنَاجِرَ‘۔ کوئی منظر ہولناک و دہشت ناک ہو تو نگاہ اس پر نہیں ٹکتی۔ عربی میں اس کو ’زَاغَ الْبَصر‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسی طرح خوف و دہشت اور پریشانی کی تعبیر کے لیے ’بَلَغَتِ الْقُلُوۡبُ الْحَنَاجِرَ‘ کا محاورہ بھی ہے۔ ’کلیجہ منہ کو آنا‘ ہماری اپنی زبان میں بھی خوف و دہشت اور گھبراہٹ کی تعبیر کے لیے معروف ہے۔
      ’وَتَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوۡنَا‘۔ یہ بات اگرچہ عام صیغہ سے فرمائی گئی ہے لیکن اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ضعف ایمان اور نفاق کی بیماری میں مبتلا تھے۔ یہ منظر دیکھ کر ان کے اوسان خطا ہو گئے۔ خدا کی قدرت و نصرت، اس کے وعدوں اور اس کی شانوں کے متعلق اب تک ان کو جو کچھ بتایا اور سکھایا گیا تھا وہ سب ان کے نزدیک مشکوک ہو گیا۔ کلام کے تدریجی ارتقاء سے یہ بات خود واضح ہو جائے گی کہ یہ اشارہ ضعفائے قلوب اور منافقین ہی کی طرف ہے۔ آگے سچے اہل ایمان کی عزیمت و استقامت کی تعریف قرآن نے ان الفاظ میں فرمائی ہے:

      ’وَلَمَّا رَأَ الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا ہَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّہُ وَرَسُولُہُ وَصَدَقَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ وَمَا زَادَہُمْ إِلَّا إِیْمَاناً وَتَسْلِیْماً‘
      (اور جب مومنوں نے دشمن کی پارٹیوں کو دیکھا تو وہ پکار اٹھے کہ یہ تو وہی صورت حال ہمیں پیش آئی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کر رکھا تھا اور اس کے رسول کی بات سچی ہوئی، اور اس چیز نے ان کے ایمان اور ان کی اطاعت ہی میں اضافہ کیا)

      جب سچے مسلمانوں کا یہ حال بیان ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت ایسے ہی سرفروشوں پر مشتمل تھی تو آیت زیربحث کا اشارہ انہی لوگوں کی طرف ہو سکتا ہے جو ضعیف الایمان تھے۔ اس بنا پر ہم ان تفسیری روایات کو بالکل بے سروپا سمجھتے ہیں جن میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ العیاذ باللہ غزوۂ احزاب کے موقع پر ایک آدھ آدمیوں کے سوا اور کوئی شخص مسلمانوں میں عزم و ہمت رکھنے والا نہیں نکلا۔

       

      جاوید احمد غامدی یاد کرو، جب وہ تمھارے اوپر کی طرف سے بھی اور تمھارے نیچے کی طرف سے بھی تم پر چڑھ آئے تھے، جب (خوف کے مارے)آنکھیں بہک گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آگئے تھے اور اللہ کے بارے میں تم لوگ طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مدینہ کی مشرقی سمت بلند اور مغربی سمت نشیبی ہے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ غطفان وغیرہ کا حملہ مشرق کی طرف سے اور قریش اوراُن کے حلیفوں کا مغرب کی طرف سے ہوا تھا*۔ یہ اُسی کی طرف اشارہ ہے۔
      یہ اُس صورت حال کی تعبیر ہے، جب منظر ایسا دہشت ناک ہو کہ نگاہ اُس پر ٹکنے نہ پائے اور بے قابو ہو کر بار بار بہک جائے۔
      آگے کی آیتوں سے واضح ہو جائے گا کہ یہ اشارہ اُن لوگوں کی طرف ہے جو ضعف ایمان اور منافقت کی بیماری میں مبتلا تھے۔ اُن کے اوسان یہ منظر دیکھ کر خطا ہو گئے اور خدا کی نصرت اور اُس کے وعدوں کے بارے میں جو کچھ اُنھیں بتایا گیا تھا، وہ سب اُن کے لیے مشکوک ہو کر رہ گیا۔
      _____
      * السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ۳/ ۲۰۰۔

    • امین احسن اصلاحی اس وقت اہل ایمان امتحان میں ڈالے گئے اور بالکل ہلا دیے گئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی ان حالات نے اہل ایمان کو بڑی ہی سخت آزمائش میں ڈال دیا اور وہ نہایت ہی بری طرح جھنجھوڑ دیے گئے۔ ایک طرف ہر جانب سے دشمنوں کی یورش اور دوسری طرف اپنی صفوں کے اندر ایسے لوگوں کا وجود جو ان حالات کو دیکھ کر بالکل ہی ہمت ہار بیٹھے اور طرح طرح کے شبہات ظاہر کرنے لگے۔ لیکن کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کے لیے اہل ایمان کو اس قسم کے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ امتحان اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُس وقت ایمان والے امتحان میں ڈالے گئے اور بری طرح ہلا دیے گئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے کہ ایک طرف دشمنوں کی یورش تھی اور دوسری طرف اُن کی اپنی صفوں کے اندر بعض لوگوں کا وہ حال ہو رہا تھا جو یہاں بیان کیا گیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جب کہ منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے، کہتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدے کیے وہ محض فریب نکلے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اب اس اجمال کی تفصیل آ رہی ہے جو ’تَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوۡنَا‘ کے اندر مضمر ہے۔ یعنی جو منافق اور اسلام کے خلاف بغض و عناد رکھنے والے تھے انھوں نے مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنے کے لیے، ان کے اندر یہ پھیلانا شروع کر دیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدے کیے وہ سب محض فریب ثابت ہوئے۔ روایات میں اس گروہ کے بعض اشرار کی یہ پھبتی بھی نقل ہوئی ہے کہ ’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو ہمیں یہ اطمینان دلا رہے تھے کہ ہم کسریٰ و قیصر کے خزانوں پر قبضہ کریں گے اور یہاں حال یہ ہے کہ گھر سے قضائے حاجت کے لیے نکلنا ناممکن ہو رہا ہے۔‘‘ غور کیجیے کہ ایک طرف دشمنوں کا ہر سمت سے شہر کا محاصرہ اور دوسری طرف منافقین کا مسلمانوں کے اندر یہ زہریلا پراپیگنڈا! اسی صورت حال کو قرآن نے ’اُبْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا‘ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔
      ایک علمی نکتہ: اس آیت میں ایک علمی نکتہ بھی قابل توجہ ہے۔ فرمایا ہے: ’وَإِذْ یَقُوۡلُ الْمُنَافِقُوۡنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوبِہِمۡ مَّرَضٌ‘۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ دو گروہوں کا الگ الگ ذکر ہے یا یہ دونوں صفتیں منافقین کے ایک ہی گروہ کی بیان ہوئی ہیں؟ نظائر قرآن کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ ’مرض‘ قرآن میں جہاں اخلاقی مرض کے لیے استعمال ہوا ہے، دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک نفاق کے مفہوم میں، دوسرے کینہ و حسد کے مفہوم میں۔ جہاں یہ لفظ ’نفاق‘ کے ساتھ استعمال ہوا ہے، جس طرح یہاں ہے، تو یہ اپنے دوسرے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور اگر تنہا استعمال ہوا ہے تو اس کے مفہوم کا تعین قرینہ سے ہوتا ہے۔ بعض جگہ تو یہ نفاق کے عام مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور بعض جگہ کینہ و حسد اور بغض و عناد کے مفہوم میں۔ اس دوسرے مفہوم کے لیے نظیر اسی سورہ کی آیت ۳۲ میں موجود ہے اور اس سے زیادہ واضح نظیر سورۂ محمد کی آیت ۲۹ میں ملے گی۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ منافقین میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک وہ جو محض ضعف عزم و ارادہ کے مریض تھے۔ دوسرے وہ جو اسلام کے خلاف اپنے دلوں میں بغض و عناد رکھتے تھے لیکن دشمنوں کی طرح کھلم کھلا مخالفت کرنے کے بجائے مار آستیں بن کر اسلام کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ اسی گروہ کو عام منافقین سے ممیز کرنے کے لیے بعض جگہ ’وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوبِہِمۡ مَّرَضٌ‘ کی صفت سے ذکر فرمایا ہے۔ جو لوگ ان دونوں گروہوں کے فرق کو ملحوظ نہیں رکھتے وہ بعض مقامات میں قرآن کے الفاظ کا صحیح زور نہیں سمجھ سکتے۔

      جاوید احمد غامدی اور جب منافقین کہتے تھے اور وہ بھی جن کے دلوں میں روگ ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول نے جو وعدے ہم سے کیے تھے، وہ نرا فریب ہی تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے آگے اب اُس اجمال کی تفصیل ہے جس کے لیے پیچھے ’تَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوْنَا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔
      یعنی بغض و عناد اور کینہ بھرا ہوا ہے۔ یہ منافقین کے اُس گروہ کی طرف اشارہ ہے جو محض منافق ہی نہیں تھا، اِس کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دلی عناد بھی رکھتا تھا۔
      یعنی اِس بات کے وعدے کہ اللہ کی مدد آئے گی اور آخر کار غلبہ اہل ایمان ہی کو حاصل ہو گا۔ روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ اِسی گروہ کے بعض شریروں نے یہ تک کہہ دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو ہمیں قیصر و کسریٰ کے خزانوں پر قبضے کی نوید سنا رہے تھے اور یہاں حال یہ ہے کہ رفع حاجت کے لیے بھی نکلنا مشکل ہو رہا ہے*۔
      _____
      * السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ۳/ ۲۰۲۔

    • امین احسن اصلاحی اور جب کہ ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے یثرب والو، تمہارے لیے ٹکنے کا کوئی مقام نہیں ہے تو تم لوٹ جاؤ اور ان میں سے ایک گروہ نبی سے اجازت کا طلب گار تھا اور کہتا تھا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔ حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے، بس یہ لوگ بھاگنا چاہتے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین اعراب: یہ منافقین کے ایک دوسرے گروہ کا ذکر ہے، اور قرینہ دلیل ہے کہ یہاں اشارہ منافقین اعراب کی طرف ہے۔ مدینہ کے قرب و جوار کے دیہاتوں کے جو لوگ اسلام لائے تھے ان میں ایک گروہ نہایت کٹر منافقین کا تھا۔ ان کا ذکر تفصیل سے سورۂ توبہ کی تفسیر میں ہو چکا ہے۔ ان کے لیے خود قرآن میں ’اَشَدُّ کُفْرًا وَّنِفَاقًا‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اسلام کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت سے مرعوب ہو کر مسلمان ہونے کے مدعی تو بن بیٹھے تھے لیکن ان کی ساری دلچسپی اپنے مفادات سے تھی۔ کسی غزوہ میں شریک ہونے کا وقت آتا تو اول تو مختلف بہانوں سے کترا جاتے اور اگر محض نمائش کے لیے کسی جنگ میں شریک ہوتے بھی تو اسلام سے زیادہ اسلام کے دشمنوں کی مقصد برآری کا ذریعہ بنتے۔ غزوۂ خندق کے موقع پر بھی ان میں سے کچھ لوگ اپنا بھرم قائم رکھنے کے لیے آ گئے تھے۔ لیکن انھوں نے اپنا سارا زور مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنے کے لیے صرف کیا۔ یہاں چند آیتوں میں اسی گروہ کے کردار پر تبصرہ ہے۔
      ’یٰٓاَ اَہْلَ یَثْرِبَ‘ کے خطاب کے مضمرات: ’یٰٓاَ اَہْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوۡا‘۔ ان لوگوں کا مدینہ کے مسلمانوں کو ’یٰٓاَ اَہْلَ یَثْرِبَ‘ کہہ کے خطاب کرنا اس بات کا نہایت واضح قرینہ ہے کہ ان کا تعلق حوالی مدینہ کے بدؤوں سے تھا۔ اگر یہ خاص مدینہ ہی کے باشندے ہوتے تو اپنے ہی شہر کے بھائیوں کو اس خطاب سے مخاطب کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی ’یثرب‘ مدینہ منورہ کا سابق نام ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد اس کا نام مدینۃ النبی اور پھر مدینہ ہو گیا لیکن دیہاتوں کے لوگ ’بالخصوص مخالفین‘ عرصہ تک اس کو یثرب ہی کہتے رہے۔ یہ لوگ دیہاتی بھی تھے اور منافق بھی اس وجہ سے انھوں نے نئے نام کو قبول نہیں کیا۔ ان کو گمان یہ ہو رہا ہو گا کہ اسلام اور مسلمانوں کا قبضہ اس شہر پر عارضی ہے، سابق حالات پھر لوٹ آئیں گے۔ ان کے اس خطاب کا حوالہ دے کر قرآن نے ان کے اس باطن سے پردہ اٹھا دیا ہے۔
      منافقین کی مفسدانہ مساعی کی ایک مثال: ’لَا مُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوۡا‘ یعنی انھوں نے مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنے کے لیے نہایت خیر خواہانہ انداز میں یہ کہنا شروع کیا کہ دشمنوں کی اس دل بادل فوج کے مقابل میں تمہارے لیے ٹک سکنا ناممکن ہے اس وجہ سے جنگ کے لیے محاذ آرائی بے سود ہو گی۔ اب بہتری اسی میں ہے کہ جنگ کا خیال چھوڑ کر گھروں کو واپس ہو جاؤ۔ مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں تو اس بات کا امکان ہے کہ شاید یہ تمہارے دشمن تمہارے ساتھ کچھ نرم معاملہ کریں لیکن نوبت اگر جنگ و قتال کی آ گئی تو پھر تمہاری خیر نہیں ہے۔
      منافقین کا ایک عذر لنگ: ’وَیَسْتَأْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْہُمُ النَّبِیَّ یَقُوۡلُوۡنَ إِنَّ بُیُوۡتَنَا عَوْرَۃٌ ... الایۃ‘۔ ’عَوْرَۃ‘ کے معنی غیر محفوظ کے ہیں۔ انہی منافقین اعراب کے ایک دوسرے گروہ کا یہ کردار بیان ہو رہا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ عذر پیش کیے کہ چونکہ ان کے گھر تنہا اور غیر محفوظ ہیں اس وجہ سے انھیں اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جائے۔ پہلے گروہ نے مدینہ والوں کو پست ہمت کر کے ان کو محاذ سے ہٹانے کی کوشش کی اور اس گروہ نے خود اپنے لیے راہ فرار تلاش کرنے کی تدبیر کی تاکہ دشمن کے لیے میدان بالکل صاف ہو جائے۔ اس گروہ کا یہ عذر بھی کہ ’’ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں‘‘ اس بات کا قرینہ ہے کہ ان کا تعلق اطراف مدینہ کے دیہاتوں سے تھا۔ جہاں تک اہل مدینہ کا تعلق ہے ان کے لیے اس قسم کے کسی بہانے کی گنجائش نہیں تھی۔ اس جنگ سے متعلق جو تفصیلات کتابوں میں مذکور ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں اور بچوں کی حفاظت کا انتظام پہلے سے کر لیا گیا تھا۔
      ’وَمَا ہِیَ بِعَوْرَۃٍ إِنۡ یُرِیْدُوۡنَ إِلَّا فِرَارًا‘۔ فرمایا کہ ان کا یہ عذر بالکل جھوٹا عذر تھا۔ ان کے مکانات غیر محفوظ یا کسی خطرے میں نہیں تھے۔ بلکہ یہ لوگ اس بہانے محاذ جنگ سے فرار اختیار کرنا چاہتے تھے۔

      جاوید احمد غامدی اور جب اُن میں سے ایک گروہ نے کہا کہ یثرب والو، تمھارے لیے اب ٹھیرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، اِس لیے لوٹ جاؤ۔ اور اُن میں سے ایک گروہ نبی سے اجازت مانگ رہا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ ہمارے گھر خطرے میں ہیں، دراں حالیکہ وہ خطرے میں نہیں تھے۔ وہ صرف بھاگنا چاہتے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ غالباً منافقین اعراب کا گروہ ہے جن کے لیے قرآن میں ’اَشَدُّ کُفْرًا وَّ نِفَاقًا‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اِس کا قرینہ یہ ہے کہ اِنھوں نے مدینہ کے لوگوں کو ’یثرب والو‘ کہہ کر خطاب کیا ہے۔ یہ اگر مدینہ کے باشندے ہوتے تو اپنے ہی شہر کے لوگوں کو اِس طرح مخاطب نہ کرتے۔
      اُن کا مدعا یہ تھا کہ اِس صورت میں ممکن ہے کہ حملہ آور فوجیں تمھارے ساتھ کچھ نرمی کا معاملہ کریں، لیکن نوبت اگر جنگ کی آگئی تو پھر تمھاری خیر نہیں ہے۔
      یہ بھی اُنھی منافقین اعراب کا ایک دوسرا گروہ ہے جس نے جنگ سے بھاگنے کے لیے یہ عذر پیش کیا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... پہلے گروہ نے مدینہ والوں کو پست ہمت کر کے اُن کو محاذ سے ہٹانے کی کوشش کی اور اِس گروہ نے خود اپنے لیے راہ فرار تلاش کرنے کی تدبیر کی تاکہ دشمن کے لیے میدان بالکل صاف ہو جائے۔ اِس گروہ کا یہ عذر بھی کہ ’’ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں‘‘، اِس بات کا قرینہ ہے کہ اِن کا تعلق اطراف مدینہ کے دیہاتوں سے تھا۔ جہاں تک اہل مدینہ کا تعلق ہے، اُن کے لیے اِس قسم کے کسی بہانے کی گنجایش نہیں تھی۔ اِس جنگ سے متعلق جو تفصیلات کتابوں میں مذکور ہیں، اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں اور بچوں کی حفاظت کا انتظام پہلے سے کر لیا گیا تھا۔‘‘ (تدبر قرآن ۶/ ۲۰۲)

    • امین احسن اصلاحی اور اگر ان کے اطراف سے ان پر حملہ ہو جاتا، پھر ان سے ارتداد کا مطالبہ کیا جاتا تو وہ اس پر راضی ہو جاتے اور اس میں بہت ہی کم توقف کرتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’أَقْطَارِہَا‘ کی ضمیر کا مرجع ’یثرب‘ بھی ہو سکتا ہے لیکن قرائن کی روشنی میں میرے نزدیک اس کا مرجع ’بیوت‘ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ گھروں کی حفاظت کا بہانہ تو محض بہانہ ہے۔ اصل مقصد ان کا دین کی حفاظت و مدافعت سے فرار ہے۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ کم وقعت اور ارزاں چیز دین ہے۔ اگر ان کے گھروں کے اطراف سے ان پر اسلام کے مخالفوں کی چڑھائی ہو جائے اور وہ ان سے ارتداد یا مسلمانوں سے جنگ کرنے کا مطالبہ کریں تو یہ ان کے مطالبہ کو بے درنگ مان لیں گے۔ لفظ ’فتنہ‘ پر ہم جگہ جگہ بحث کر چکے ہیں۔ یہاں اس سے رجعت اور ارتداد یا مسلمانوں کے خلاف جنگ کا مطالبہ مراد ہے۔ صاحب کشاف نے یہی تاویل اختیار کی ہے اور ہمارے نزدیک یہ صحیح ہے۔ سورۂ نساء آیت ۹۱ میں اسی قسم کے منافقین کی طرف اشارہ ہے۔ ’سَتَجِدُوۡنَ آخَرِیْنَ یُرِیْدُوۡنَ أَنۡ یَأْمَنُوۡکُمْ وَیَأْمَنُوۡا قَوْمَہُمْ کُلَّمَا رُدُّوۡآ إِلَی الْفِتْنِۃِ‘۔ یہاں ’فتنہ‘ سے مراد، جیسا کہ اس کے محل میں ہم وضاحت کر چکے ہیں، یہ ہے کہ اگر کوئی اسلام دشمن طاقت دباؤ ڈال کر ان سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کوئی کام لینا چاہتی ہے تو بڑی آسانی سے لے لیتی ہے۔ بعینہٖ یہی مضمون آیت زیربحث میں بیان ہوا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُن کے گھروں کے اطراف سے اگر اُن پر حملہ ہو جاتا، پھر اُنھیں فتنے کی دعوت دی جاتی تو وہ اُس میں جا پڑتے اور اِس میں بہت کم توقف کرتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس بات کی دعوت دی جاتی کہ خدا کے دین کو خود بھی چھوڑیں اور دوسروں کو بھی اِسے چھوڑنے کے لیے مجبور کریں۔

    • امین احسن اصلاحی حالانکہ اس سے پہلے انھوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہیں دکھائیں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی پرسش ہونی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین کی بدعہدی: یوں تو اسلام میں داخل ہونے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے ہی کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ آدمی اپنے مال اور اپنی جان کو اللہ کے دین سے دریغ نہیں رکھ سکتا بلکہ خدا کی راہ میں سب کچھ قربان کر دینے کے عہد کا پابند ہو جاتا ہے لیکن یہ منافقین اس عام عہد کے علاوہ ایک خاص عہد کی پابندی کی ذمہ داری بھی اپنے سر لے چکے تھے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ان میں سے اکثر کا حال یہ تھا کہ پچھلے غزوات میں انھوں نے لاطائل عذرات کی آڑ لے کر شرکت سے گریز کیا تھا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو قسمیں کھا کھا کر اطمینان دلایا تھا کہ آئندہ کسی جہاد کی نوبت آئی تو وہ اس میں پورے جوش سے حصہ لیں گے۔ ان لوگوں کی ان اطمینان دہانیوں کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ انہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کو ملامت کی ہے کہ پہلے تو انھوں نے بہت بڑھ چڑھ کے وعدے کیے تھے کہ آئندہ جنگ کی نوبت آئی تو وہ پیٹھ نہیں دکھائیں گے تو اب جب اس کی نوبت آئی تو رخصت کی عرضیاں اور گھروں کے غیر محفوظ ہونے کے بہانے لے کر کیوں اٹھ کھڑے ہوئے! ’وَکَانَ عَہْدُ اللّٰہِ مَسْئُوْلاً‘ یہ ان کو دھمکی ہے کہ انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ سے کیے ہوئے ہر عہد کی پرسش ہونی ہے۔ پرسش تو ہر جرم کی ہو گی لیکن خاص طور پر اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ سورۂ صف میں ارشاد ہے:

      ’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آَمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ۵ کَبُرَ مَقْتاً عِندَ اللَّہِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُوۡنَ‘ (الصف: ۲-۳)
      (اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں! اللہ کے نزدیک یہ بات زیادہ غضب کی ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں)۔

       

      جاوید احمد غامدی اِس سے پہلے اُنھوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہیں دکھائیں گے اوراللہ سے کیے ہوئے عہد کی بازپرس تو (ایک دن) ہونی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ خاص طور پر اُس عہد کی طرف اشارہ ہے جو اِن لوگوں نے اِس سے پہلے غزوات میں شرکت سے گریز کے بعد اپنے اوپر اعتماد کی بحالی کے لیے کیا تھا۔ قرآن میں اِس کا ذکر ایک سے زیادہ مقامات پر ہوا ہے۔
      یہ بڑی سخت وعید ہے۔ مدعا یہ ہے کہ باز پرس تو ہر جرم کی ہو سکتی ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ اِس عہد کا معاملہ معمولی نہیں ہے، اِس کی بازپرس لازماً ہونی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کہہ دو اگر تم موت یا قتل سے بھاگو گے تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ نافع نہیں ہو گا، تم کو کھانے بلسنے کا تھوڑا ہی موقع ملے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      موت سے ڈر کر ادائے فرض سے فرار حماقت ہے: مطلب یہ ہے کہ موت یا قتل سے ڈر کر ادائے فرض سے فرار کوئی دانش مندانہ پالیسی نہیں ہے بلکہ یہ نہایت احمقانہ روش ہے۔ زندگی اور موت تمام تر خدا کے اختیار میں ہے۔ اگر کوئی شخص خدا کے کسی مقرر کیے ہوئے فرض سے اس لیے گریز اختیار کرتا ہے کہ اس میں اس کو موت یا قتل کا اندیشہ ہے تو دوسرے لفظوں میں اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ خدا سے فرار اختیار کرنا چاہتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ خدا سے بھاگ سکنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اگر اس طرح بھاگ کر کسی نے اپنی زندگی، اپنی دانست میں، بچائی تو کب تک بچائے رکھے گا، بالآخر اس کو ایک دن مرنا اور اپنے اس رب کو منہ دکھانا ہے جس سے اس نے بھاگنے کی کوشش کی۔ اس آیت کے الفاظ ’وَإِذًا لَّا تُمَتَّعُوۡنَ إِلَّا قَلِیْلاً‘ پر غور کیجیے تو ان سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس طرح کے فراریوں کی عمر برکت سے بالکل محروم ہو جاتی ہے۔ وہ اس حیات چند روزہ میں جتنے دن گزارتے ہیں بے برکت زندگی گزارتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ فرار نہ اختیار کرتے جب بھی اپنی مدت حیات پوری کرتے اور اس چند روزہ زندگی کے بدلے حیات جاوداں کی بادشاہی حاصل کرتے۔

      جاوید احمد غامدی اُن سے کہو، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو گے تو یہ بھاگنا تمھارے کچھ بھی کام نہ آئے گا او ر اگر بچ بھی گئے توچند دنوں ہی کے لیے کچھ فائدہ اٹھا لو گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پوچھو، کون ہے جو تم کو خدا سے بچا سکے گا اگر وہ تم کو کوئی گزند پہنچانا چاہے یا اس کی رحمت کو روک سکے اگر وہ تم پر رحمت کرنا چاہے؟ اور وہ اپنے لیے خدا کے مقابل میں نہ کوئی کارساز پائیں گے نہ کوئی مددگار۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حذف کا ایک اسلوب: اس آیت میں عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق ’أَوْ أَرَادَ بِکُمْ رَحْمَۃً‘ سے پہلے جملہ کا ایک حصہ محذوف ہے۔ اس حذف کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی:

      ’أَوْ یُمْسِکُ رَحْمَتَہٗ إِنْ أَرَادَ بِکُمْ رَحْمَۃً‘
      (یا اس کی رحمت کو روک سکے اگر وہ تم پر رحمت کرنا چاہے)

      عربی میں حذف کے اس اسلوب کی مثالیں بہت ہیں۔ ’متقلدا سیفا ورمحا‘ میں بھی یہی اسلوب ملحوظ ہے۔ قرآن میں اس کی جو بلیغ مثالیں ہیں ان کی طرف اس کتاب میں ہم اشارہ کرتے آئے ہیں۔ اردو میں یہ اسلوب موجود نہیں ہے اس وجہ سے ترجمہ میں اس حذف کو ہم نے کھول دیا ہے۔
      ’مِنْ دُوۡنِ‘ مقابل کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ اس کے محل میں اس کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔
      رحمت اور نقمت دونوں صرف خدا کے اختیار میں ہے: آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم خدا سے جان چراتے ہو تو بتاؤ کہ اگر خدا تم کو کوئی گزند پہنچانا چاہے تو کون ہے جو اس کی پکڑ سے تمہیں بچا سکے، اسی طرح اگر وہ تمہارے دشمنوں کے علی الرغم تم پر اپنی رحمت نازل کرنا چاہے تو کس کی طاقت ہے کہ اس کی رحمت کو روک سکے؟ رحمت ہو یا نقمت دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہے تو خدا سے بھاگنے اور جی چرانے کے کیا معنی!
      ’وَلَا یَجِدُوۡنَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیّاً وَلَا نَصِیْرًا‘۔ یہاں سیاق کلام چونکہ تنبیہ کا ہے اس وجہ سے تنبیہ کے پہلو کو خاص طور پر نمایاں فرمایا کہ یاد رکھیں کہ اگر خدا کی پکڑ میں آ گئے تو اس کے مقابل میں نہ ان کا کوئی کارساز ان کا سفارشی بن سکے گا نہ کوئی حامی و مددگار ان کی حمایت کر سکے گا۔ کسی کی مدد سعی و سفارش کے ذریعہ سے بھی ہو سکتی ہے، جس طرح کی مدد کی توقع مشرکین اپنے معبودوں اور شرکاء و اولیاء سے رکھتے تھے، اور جمعیت و عصبیت کے بل پر بھی ہو سکتی ہے، جس کا غرہ ہر صاحب جمعیت کو ہوتا ہے۔ یہاں ان دونوں ہی کی نفی فرما دی۔

       

      جاوید احمد غامدی اُن سے پوچھو، کون ہے جو تمھیں خدا سے بچا سکے گا، اگر وہ تمھیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا اُس کی رحمت کو روک سکے گا، اگر وہ تم پر رحمت کرنا چاہے؟ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے مقابل میں وہ اپنے لیے کوئی حامی اور مددگار نہ پائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ فقرہ اصل میں محذوف ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اِس حذف کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی: ’أَوْ یُمْسِکُ رَحْمَتَہٗ إِنْ أَرَادَ بِکُمْ رَحْمَۃً‘ (یا اِس کی رحمت کو روک سکے، اگر وہ تم پر رحمت کرنا چاہے)۔ عربی میں حذف کے اِس اسلوب کی مثالیں بہت ہیں۔ ’متقلدًا سیفًا ورمحًا‘ میں بھی یہی اسلوب ملحوظ ہے۔ ‘‘(تدبرقرآن۶/ ۲۰۴)

      یہاں سیاق کلام چونکہ تنبیہ کا ہے، اِس وجہ سے آخر میں تنبیہ کے پہلو ہی کو نمایاں کیا ہے، دراں حالیکہ اوپر رحمت کا ذکر بھی ہوا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا رہا ہے جو روکنے والے اور اپنے بھائیوں سے یہ کہنے والے رہے ہیں کہ ہمارے پاس آ جاؤ۔ اور وہ جنگ میں بہت کم حصہ لیتے رہے ہیں۔ تم سے جان چراتے ہوئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین کی ایک اور سازش کی طرف اشارہ: ’قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ‘ میں مضارع سے پہلے فعل ناقص محذوف ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت ہم جگہ جگہ کر چکے ہیں۔ اس میں نہایت سخت قسم کی تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ اللہ تمہارے اندر سے ان لوگوں کو برابر جانتا رہا ہے جو اپنے بھائیوں کو جنگ سے روکتے اور ان سے یہ کہتے رہے ہیں کہ ہمارے پاس آ جاؤ اور یہ لوگ جنگ میں عملاً بہت کم حصہ لیتے رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی ان سازشوں سے کوئی آگاہ نہیں ہے لیکن اللہ ان سے برابر آگاہ رہا ہے اور جب وہ ان سے برابر آگاہ رہا ہے تو ان کو سزا دیے بغیر بھی نہیں چھوڑے گا۔
      ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ اشارہ ان منافقین کی طرف ہے جو نہ صرف یہ کہ خود دفاع میں کوئی حصہ نہیں لیتے تھے بلکہ اپنے اعتماد و تعلق کے دوسرے لوگوں کو بھی اس سے روکتے اور ان سے کہتے تھے کہ جس جگہ ہم ہیں تم بھی اسی جگہ آ جاؤ تاکہ تم پر کوئی گرفت نہ ہو سکے۔ یہ امر یہاں پیش نظر رہے کہ غزوۂ خندق کے موقع پر دفاعی لائن بہت طویل تھی اس وجہ سے منافقین کے لیے دفاع کی ذمہ داریوں سے گریز و فرار کے مواقع بہت تھے۔ وہ خود بھی اس سے گریز کرتے اور اپنے دوسرے ہم خیالوں کو بھی اپنا ساتھی بنانے کی کوشش کرتے۔
      ’وَلَا یَأْتُوۡنَ الْبَأْسَ إِلَّا قَلِیْلاً‘۔ یہاں بھی مضارع سے پہلے فعل ناقص محذوف ہے اور ’باس‘ سے مراد دفاع ہے۔ یعنی یہ خود تو دفاع میں برائے نام محض نمائش کے لیے حصہ لیتے اور جو لوگ حصہ لیتے ان کے دل بٹھانے کی کوشش کرتے اور ان کو اپنے مورچوں پر بلاتے کہ ان کو بھی اپنا ساتھی بنا لیں۔

      جاوید احمد غامدی اللہ تم میں سے اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (اُس کی راہ میں اِس جنگ سے) دوسروں کو روکتے اور اپنے بھائیوں سے کہتے رہے ہیں کہ ہمارے پاس آجاؤ اور تم سے جان چراتے ہوئے وہ خود بھی لڑائی میں کم ہی حصہ لیتے رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی خطرے کی جگہوں سے دور اپنے آپ کو بچا کر جہاں ہم بیٹھے ہوئے ہیں، وہاں آجاؤ۔ غزوۂ خندق کے موقع پر دفاعی لائن چونکہ بہت طویل تھی، اِس لیے جنگ سے گریز و فرار کے لیے اِ س طرح کی جگہیں تلاش کر لینا مشکل نہیں تھا۔

    • امین احسن اصلاحی پس جب خطرہ پیش آ جاتا تو تم ان کو دیکھتے کہ وہ تمہاری طرف اس طرح تاک رہے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی آنکھوں کی طرح گردش کر رہی ہیں جس پر سکراتِ موت کی حالت طاری ہو۔ پھر جب خطرہ دور ہو جاتا تو وہ مال کی طمع میں تم سے بڑی تیز زبانی سے باتیں کرتے۔ یہ لوگ ایمان نہیں لائے تو اللہ نے ان کے اعمال ڈھا دیے اور یہ اللہ کے لیے نہایت آسان ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’أَشِحَّۃً عَلَیْْکُمْ‘ کا تعلق اوپر والے جملہ ’وَلَا یَأْتُوۡنَ الْبَأْسَ إِلَّا قَلِیْلاً‘ سے ہے۔ یعنی اول تو وہ دفاع میں حصہ لیتے نہیں تھے اور اگر کبھی حصہ لیتے بھی تو تمہارے لیے جان یا مال کی کوئی قربانی کرنے کے معاملے میں نہایت بخیل تھے۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ ایک قطرہ خون بہائے بغیر وہ غازی و مجاہد سمجھے جائیں۔
      زبان کے سورماؤں کا حال: ’فَإِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَأَیْْتَہُمْ یَنظُرُونَ إِلَیْْکَ تَدُورُ أَعْیُنُہُمْ کَالَّذِیْ یُغْشَی عَلَیْْہِ مِنَ الْمَوْتِ‘چونکہ یہ کوئی قربانی دینے کے لیے نہیں بلکہ کوئی خطرہ مول لیے بغیر غازیوں کے رجسٹر میں اپنے نام درج کرانے گئے تھے اس وجہ سے جب کبھی محاذ پر کوئی خطرے کی حالت پیش آ جاتی تو ایسا معلوم ہوتا کہ ان کی آنکھیں اس طرح گردش کر رہی ہیں گویا ان پر موت کی غشی طاری ہونے لگی ہے۔ موت کا مقابلہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ کرتا ہے جو شہادت کے عزم کے ساتھ گھر سے نکلتا ہے۔ محض نمائش کے لیے نکلنے والوں کا بھرم کوئی معمولی سے معمولی خطرہ بھی کھول دیتا ہے۔
      ’فَإِذَا ذَہَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوکُم بِأَلْسِنَۃٍ حِدَادٍ أَشِحَّۃً عَلَی الْخَیْْرِ‘۔ ’سلق‘ کے معنی تیز زبانی اور چرب زبانی سے بات کرنے کے ہیں۔ اسی سے ’خطیب سلاق‘ اس خطیب کو کہتے ہیں جو نہایت تیز زبان ہو۔
      یعنی جب کوئی خطرے کی حالت پیش آ جاتی تب تو ایسا معلوم ہوتا کہ ان کے دم خشک ہو رہے ہیں اور ان پر موت کی جان کنی طاری ہے لیکن جب خطرے کی حالت گزر جاتی تو بڑی تیز زبانی سے باتیں کرتے گویا انہی کی شہامت و شجاعت کا یہ کرشمہ ہے کہ دشمن کو آگے قدم بڑھانے کی جرأت نہیں ہوئی ورنہ خطرہ بالکل سر پر آ گیا تھا۔
      ’أَشِحَّۃً عَلَی الْخَیْْرِ‘ یعنی اس ساری تیززبانی و طلاقت لسانی کا مظاہرہ وہ محض مال کی طمع میں کرتے ہیں کہ اگر تقسیم غنیمت کا موقع آئے تو اس میں زیادہ حصہ بٹا سکیں۔
      یہ ’أَشِحَّۃً عَلَی الْخَیْْرِ‘ اوپر والے ’أَشِحَّۃً عَلَیْْکُمْ‘ کے بالکل ٹھیک ٹھیک مقابل میں ہے یہ ’شحیح‘ کی جمع ہے۔ اس کے معنی بخیل کے بھی آتے ہیں اور حریص کے بھی اور یہ دونوں ہی مفہوم ایک ہی کردار کے دو پہلو ہیں۔ پہلے ٹکڑے میں یہ بخیل کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے دوسرے میں حریص کے مفہوم میں۔ مطلب یہ ہوا کہ تمہارے معاملے میں ان کی بخالت و تنگ دلی کا تو یہ حال ہے کہ تمہاری خاطر نہ وہ ایک قطرہ خون بہانے کو تیار ہیں نہ اپنا کوئی دھیلا خرچ کرنے پر راضی ہیں لیکن اگر مال غنیمت ہاتھ آئے تو اس کی طمع میں یہ زبان کے غازی سب کو ہدف مطاعن بنا ڈالیں گے۔
      ’سَلَقُوۡکُم بِأَلْسِنَۃٍ حِدَادٍ‘ کے الفاظ کے اندر چرب زبانی کے ساتھ تندزبانی کا مفہوم بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ منافقین چونکہ مال ہی کی طمع میں غزوات میں شریک ہوتے اس وجہ سے ان کے حاصل کرنے کے لیے وہ دوسروں کو ہمز و لمز اور طعن و تشنیع کا نشانہ بھی بنانے سے گریز نہ کرتے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات، جیسا کہ سورۂ نساء، سورۂ توبہ اور سورۂ انفال وغیرہ میں گزر چکا ہے، خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تقسیم غنیمت کے معاملے میں یہ جانبداری کا الزام دیتے کہ لڑائی تو ہم جیتتے ہیں لیکن مال غنیمت میں سے حصہ دوسروں کو زیادہ دیا جاتا اور ہم کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔
      نمائشی ایمان کے ساتھ کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا: ’أُولٰئِکَ لَمْ یُؤْمِنُوۡا فَأَحْبَطَ اللّٰہُ أَعْمَالَہُمْ وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا‘۔ یعنی یہ لوگ چونکہ محض زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے رہے ہیں حقیقی ایمان ان کو نصیب نہیں ہوا اس وجہ سے اس نمائشی ایمان کے ساتھ انھوں نے جو کام بظاہر دین کے بھی کیے وہ سب اللہ نے حبط کر دیے۔ ان کا کوئی صلہ آخرت میں ان کو ملنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں عمل صرف وہی مقبول ہے جو ایمان کے ساتھ ہو۔
      ’وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا‘۔ یہ لوگوں کی بعض نہایت شدید قسم کی غلط فہمیوں کا ازالہ ہے۔
      بہت سے لوگ ارادے اور نیت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے کسی کا کوئی عمل ان کی نگاہوں میں اچھا ہے تو وہ لازماً آخرت میں بھی اس کے صلہ میں، ان کے نزدیک، مراتب عالیہ کا سزاوار ٹھہرے گا۔ حالانکہ یہ بات حقیقت کے بالکل خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کے بڑے سے بڑے عمل کی بھی کوئی وقعت نہیں ہے اگر وہ اس کی رضا کے لیے نہ کیا جائے۔ خدا کسی کے عمل کا محتاج نہیں ہے۔ اپنے عمل کے محتاج خود عمل کرنے والے ہیں۔ ان کا نفع سرتاسر انہی کو پہنچتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ ہر اس عمل کو قبول فرمائے گا جو اس کے احکام کے مطابق اور خالص اس کی رضا جوئی کے لیے کیا جائے گا، خواہ عمل چھوٹا ہو یا بڑا۔ اگر کوئی عمل اس کی رضا جوئی کے سوا کسی اور کی رضا جوئی یا کسی اور غرض کے لیے کیا جائے گا تو ایسے عمل کو اللہ تعالیٰ عمل کرنے والے کے منہ پر پھینک مارے گا کہ اس کا صلہ وہ ان سے لے جن کی خوشنودی کے لیے اس نے کیا ہے، اگرچہ یہ حج اور جہاد کے درجہ ہی کا عمل کیوں نہ ہو۔ فرمایا کہ کوئی اس مغالطہ میں نہ رہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایسا کرنا ذرا بھی شاق گزرے گا۔ یہ ذرا بھی اس پر شاق نہیں گزرے گا بلکہ یہ اس کے لیے نہایت سہل ہے۔ وہ کسی کے عمل کا محتاج نہیں ہے کہ ہر قسم کا عمل اپنے کھاتے میں جمع کرتا جائے کہ چلو، یہ بھی غنیمت ہے!
      ٍ بعض لوگوں کو یہ مغالطہ بھی ہو جاتا ہے کہ خدا بڑا مہربان و کریم ہے اس وجہ سے جو کچھ بھی اور جس طرح بھی کوئی نیکی کا کام کر دے گا وہ اس کو قبول فرما لے گا۔ اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ خدا بڑا ہی مہربان و کریم ہے لیکن ساتھ ہی وہ نہایت غیور و غنی بھی ہے اس وجہ سے لوگوں کے ایسے اعمال کو پامال کر دینا اس پر ذرا بھی گراں نہیں ہو گا جن کا قبول کرنا اس کی غیرت کے منافی ہو۔ یہود کو خدا کی صفت کریمی سے جو مغالطے پیش آئے ان کی تفصیل سورۂ بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی چنانچہ جب خطرے کا موقع آ جاتا ہے تو تم اُن کو دیکھتے ہو کہ تمھاری طرف دیکھ رہے ہیں، اِس طرح کہ اُن کی آنکھیں گردش کر رہی ہیں، جیسے کسی پر موت کی بے ہوشی طاری ہو۔ پھر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو مال کی حرص میں وہ تم پر تیز زبانوں سے چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں۔ یہ لوگ ایمان نہیں لائے تو اللہ نے اِن کے اعمال اکارت کر دیے اور یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اپنی شجاعت و شہامت کے دعوے کرتے اور دوسروں کو ہدف مطاعن بناتے ہیں تاکہ مال غنیمت میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ لے سکیں۔
      یہ اِس لیے فرمایاہے کہ کوئی اِس مغالطے میں نہ رہے کہ خدا اپنی شان کریمی سے اِن کے چھدا اتارنے والے اعمال کو بھی قبول کر لے گا۔ ہرگز نہیں، وہ بڑا غیورہے اور اِن کے کسی عمل کا محتاج بھی نہیں ہے، لہٰذا اُس کے لیے بہت آسان ہے کہ جو عمل خالص اُس کی رضا جوئی کے لیے اور خوبی کے ساتھ نہیں کیا گیا، اُسے اِن کے منہ پر پھینک مارے کہ جاؤ، اِس کا صلہ وہیں تلاش کرو، جہاں یہ کرکے آئے ہو۔

    • امین احسن اصلاحی یہ لوگ گمان کر رہے ہیں کہ دشمن کی جماعتیں ابھی گئی نہیں ہیں اور اگر جماعتیں پھر آ جائیں تو ان کی تمنا یہ ہو گی کہ وہ اہل بدو کے ساتھ دیہات میں ہوں اور وہاں سے تمہاری خبریں معلوم کرتے رہیں۔ اور اگر تمہارے ساتھ ہوتے بھی تو جنگ میں برائے نام ہی حصہ لیتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منافقین کی بزدلی کی مزید وضاحت: ان لوگوں کی بزدلی کا ذکر اوپر کی آیات میں گزر چکا ہے۔ یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ جماعتوں کے چلے جانے سے ان کے دلوں کا خوف بھی چلا گیا ہے۔ جماعتیں پسپا ہو کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر پہنچ گئیں لیکن ان کی ہیبت اس طرح ان کے دلوں پر مسلط ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ یہیں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔
      ’وَإِنۡ یَأْتِ الْأَحْزَابُ ... الآیۃ‘ یعنی اب کے تو یہ کسی نہ کسی طرح، مارے باندھے یہاں مدینہ میں رہ گئے لیکن اب اگر دوبارہ حملے کا کوئی اندیشہ ہوا تو ان کی خواہش یہ ہو گی کہ مدینہ میں ٹکنے کے بجائے اہل بدو کے ساتھ دیہاتوں میں جا رہیں اور وہیں سے بیٹھے بیٹھے تمہاری خبریں دریافت کرتے رہیں کہ کیا گزر رہی ہے!
      ’وَلَوْ کَانُوۡا فِیْکُم مَّا قَاتَلُوۡا إِلَّا قَلِیْلاً‘۔ یہ مسلمانوں کو تسلی ہے کہ اگر یہ ایسا کریں تو اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے۔ اگر یہ تمہارے پاس ہوں گے بھی تو یہ جنگ میں حصہ لینے والے اسامی نہیں ہیں۔ بہتر ہے کہ دور ہی رہیں کہ ان کی چھوت سے دوسرے متاثر نہ ہوں۔ اوپر آیت ۱۸ کے تحت جو کچھ گزر چکا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔

      جاوید احمد غامدی یہ سمجھ رہے ہیں کہ دشمن کے لشکر ابھی گئے نہیں ہیں اور اگر یہ لشکر پھر آجائیں تو اِن کی تمنا ہو گی کہ بدوؤں کے ساتھ کہیں دیہات میں ہوں اور وہیں سے تمھاری خبریں پوچھتے رہیں۔ (یہی بہتر ہے، اِس لیے کہ) اگر یہ تمھارے ساتھ ہوتے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ایسے خوف زدہ ہو چکے ہیں کہ لشکر اپنے ٹھکانوں پر پہنچ گئے ہیں اور یہ ابھی تک یہی خیال کر رہے ہیں کہ وہ اُسی طرح پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔

    Join our Mailing List