Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 34 آیات ) Luqman Luqman
Go
  • لقمان (Luqman)

    34 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    دونوں سابق سورتوں ۔۔۔ العنکبوت اور الرّوم ۔۔۔ کی طرح اس سورہ کا قرآنی نام بھی ’الٓمّٓ‘ ہی ہے۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ ان کے عمود و مضمون میں فی الجملہ اشتراک ہے۔ اس سورہ کی تمہید سورۂ بقرہ کی تمہید سے ملتی جلتی ہوئی ہے اور بقرہ کا قرآنی نام بھی یہی ہے۔ بقرہ کی تمہید میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس قسم کے لوگ اس کتاب پر ایمان لائیں گے اور کس قسم کے لوگ اس سے اعراض کریں گے۔ اسی طرح اس سورہ کی تمہید میں بھی یہ بتایا گیا ہے کہ کس قسم کے لوگ اس برکت و رحمت سے فائدہ اٹھائیں گے اور کون لوگ اس سے محروم رہیں گے۔
    سابق سورہ میں یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ یہ قرآن اس دین فطرت کی دعوت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اور اس دعوے پر آفاق و انفس کے دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اس سورہ میں آفاق و انفس کے دلائل کے ساتھ ساتھ عرب کے مشہور حکیم ۔۔۔ لقمان ۔۔۔ کے نصائح کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کا مقصود اہل عرب پر یہ واضح کرنا ہے کہ ان کے اندر جو صحیح فکر و دانش رکھنے والے لوگ گزرے ہیں انھوں نے بھی انہی باتوں کی تعلیم دی ہے جن باتوں کی تعلیم یہ پیغمبرؐ دے رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ عقل سلیم (COMMON SENSE) انہی باتوں کے حق میں ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں، نہ کہ ان باتوں کے حق میں جن کی وکالت قرآن کے مخالفین کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اصل فطرت یہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ سوچنے سمجھنے والے لوگ ان حقائق تک کس طرح پہنچتے؟
    یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مغربی فلاسفہ جب اخلاقیات پر بحث کرتے ہیں تو اس کی بنیاد وہ عقل عام کے معروف اخلاقی مسلمات (COMMON SENSE ETHICS) ہی پر رکھتے ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ یہ اخلاقی مسلمات کہاں سے پیدا ہو گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک حکیم فاطر اور فطرۃ اللہ کو تسلیم کرنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ اس حقیقت سے گریز کی سزا ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ دی کہ ان کا سارا فلسفۂ اخلاق بالکل بے بنیاد اور بے معنی ہو کے رہ گیا ہے۔ ان کی تمام فلسفیانہ کاوشیں نہ تو نیکی اور بدی کے امتیاز کے لیے کوئی کسوٹی معین کر سکیں اور نہ وہ یہ بتا سکے کہ کیوں انسان کو نیکی کرنی چاہیے اور کیوں بدی سے بچنا چاہیے۔ سود مندی، لذت، خوشی اور فرض برائے فرض وغیرہ کی قسم کے جتنے نظریات بھی انھوں نے ایجاد کیے سب پادر ہوا ثابت ہوئے اور خود انہی نے ان کے بخیے ادھیڑ کے رکھ دیے۔ قرآن نے نہ صرف اخلاقیات کی بلکہ پورے دین کی بنیاد فطرت پر رکھی ہے اور یہ فطرت چونکہ ایک حکیم فاطر کی بنائی ہوئی ہے اس وجہ سے کسی کے لیے اس سے انحراف جائز نہیں ہے۔ جو شخص اپنی فطرت سے انحراف اختیار کرے گا وہ اپنے آپ کو تباہ اور اپنے فاطر کو ناراض کرے گا۔ انسان کی رہنمائی کے لیے اس کی فطرت اپنے اندر حقائق و معارف کا خزانہ رکھتی ہے لیکن انسان اپنے ماحول سے متاثر ہو کر بگڑ بھی سکتا ہے اور اپنے اختیار سے غلط فائدہ اٹھا کر اپنی فطرت کی خلاف ورزی بھی کر سکتا ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور اپنی کتابوں کے ذریعے سے فطرت کے تمام مضمرات واضح کر دیے تاکہ کسی کے لیے کسی التباس و اشتباہ کی گنجائش باقی نہ رہ جائے۔ بلکہ ہر شخص فطرت کی سیدھی راہ پر چل کر دنیا کی فوز و فلاح اور آخرت میں اپنے رب کی خوشنودی حاصل کر سکے۔
    اس سورہ میں لقمان کی حکمت کے حوالے سے مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، قرآن کی تائید میں ایک ایسے حکیم کی شہادت پیش کرنا ہے جس نے زندگی کے حقائق پر غور کیا تھا اور جو قرآن کے مخالفین کے نزدیک بھی نہایت ہی بلند پایہ اور واجب الاحترام حکیم سمجھا جاتا رہا ہے۔ ساتھ ہی اس میں قرآن کی دعوت کی تائید میں آفاق و انفس کے دلائل ایک نئے اسلوب سے پیش کیے گئے ہیں۔

  • لقمان (Luqman)

    34 آیات | مکی

    لقمان ۔ السجدہ

    ۳۱ ۔ ۳۲

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ حکیم لقمان کے حوالے سے دین فطرت کے جن حقائق کا اثبات کرتی ہے، دوسری میں اُنھی کے متعلق لوگوں کے اُن شبہات کو رفع کیا گیا ہے جو اُس وقت پیش کیے جا رہے تھے۔
    دونوں کا موضوع وہی انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آ رہا ہے اور دونوں کے مخاطب قریش مکہ ہیں۔
    اِن سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت و براء ت اور فتح و نصرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ الٓمّٓ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      الٓمّٓ: یہ ایک مستقل جملہ ہے۔ عربی زبان کے عام قاعدے کے مطابق یہاں مبتدا محذوف ہے۔ اس کو ظاہر کر دیا جائے تو پوری بات یوں ہو گی۔ ھٰذہ الٓمّٓ، (یہ الف، لام، میم ہے) ہم نے ترجمہ میں اس حذف کو کھول دیا ہے۔
      یہ اور اس طرح کے جتنے حروف بھی مختلف سورتوں کے شروع میں آئے ہیں چونکہ الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں اس وجہ سے ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں۔
      یہ جس سورہ میں بھی آئے ہیں بالکل شروع میں اس طرح آئے ہیں جس طرح کتابوں، فصلوں اور ابواب کے شروع میں ان کے نام آیا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان سورتوں کے نام ہیں۔ قرآن نے جگہ جگہ ذٰلک اور تِلۡکَ کے ذریعہ سے ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے نام ہونے کو اور زیادہ واضح کر دیا ہے۔ حدیثوں سے بھی ان کا نام ہی ہونا ثابت ہوتا ہے۔
      جو سورتیں ان ناموں سے موسوم ہیں اگرچہ ان میں سے سب اپنے انہی ناموں سے مشہور نہیں ہوئیں بلکہ بعض دوسرے ناموں سے مشہور ہوئیں، لیکن ان میں سے کچھ اپنے انہی ناموں سے مشہور بھی ہیں۔ مثلاً طٰہٰ، یٰس، ق اور ن وغیرہ۔
      ان ناموں کے معانی کے بارے میں کوئی قطعی بات کہنا بڑا مشکل ہے اس وجہ سے ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ قرآن کا تو دعویٰ یہ ہے کہ وہ ایک بالکل واضح کتاب ہے، اس میں کوئی چیز بھی چیستاں یا معمے کی قسم کی نہیں ہے، پھر اس نے سورتوں کے نام ایسے کیوں رکھ دیے ہیں جن کے معنی کسی کو بھی نہیں معلوم؟
      اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک ان حروف کا تعلق ہے، یہ اہل عرب کے لئے کوئی بیگانہ چیز نہیں تھے بلکہ وہ ان کے استعمال سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس واقفیت کے بعد قرآن کی سورتوں کا ان حروف سے موسوم ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے قرآن کے ایک واضح کتاب ہونے پر کوئی حرف آتا ہو۔ البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے حروف سے نام بنا لینا عربوں کے مذاق کے مطابق تھا بھی یا نہیں تو اس چیز کے مذاق عرب کے مطابق ہونے کی سب سے بڑی شہادت تو یہی ہے کہ قرآن نے نام رکھنے کے اس طریقہ کو اختیار کیا۔ اگر نام رکھنے کا یہ طریقہ کوئی ایسا طریقہ ہوتا جس سے اہل عرب بالکل ہی نامانوس ہوتے تو وہ اس پر ضرور ناک بھوں چڑھاتے اور ان حروف کی آڑ لے کر کہتے کہ جس کتاب کی سورتوں کے نام تک کسی کی سمجھ میں نہیں آ سکتے اس کے ایک کتاب مبین ہونے کے دعوے کو کون تسلیم کر سکتا ہے۔
      قرآن پر اہل عرب نے بہت سے اعتراضات کئے اور ان کے یہ سارے اعتراض قرآن نے نقل بھی کئے ہیں لیکن ان کے اس طرح کے کسی اعتراض کا کوئی ذکر نہیں کیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان ناموں میں ان کے لئے کوئی اجنبیت نہیں تھی۔
      علاوہ بریں جن لوگوں کی نظر اہل عرب کی روایات اور ان کے لٹریچر پر ہے وہ جانتے ہیں کہ اہل عرب نہ صرف یہ کہ اس طرح کے ناموں سے نامانوس نہیں تھے بلکہ وہ خود اشخاص، چیزوں، گھوڑوں، جھنڈوں، تلواروں حتیٰ کہ قصائد اور خطبات تک کے نام اسی سے ملتے جلتے رکھتے تھے۔ یہ نام مفرد حروف پر بھی ہوتے تھے اور مرکب بھی ہوتے تھے۔ ان میں یہ اہتمام بھی ضروری نہیں تھا کہ اسم اور مسمٰی میں کوئی معنوی مناسبت پہلے سے موجود ہو بلکہ یہ نام ہی بتاتا تھا کہ یہ نام اس مسمٰی کے لئے وضع ہوا ہے۔
      اور یہ بالکل ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ جب ایک شے کے متعلق یہ معلوم ہو گیا کہ یہ نام ہے تو پھر اس کے معنی کا سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ نام سے اصل مقصود مسمٰی کا اس نام کے ساتھ خاص ہوجانا ہے نہ کہ اس کے معنی۔ کم ازکم فہم قرآن کے نقطۂ نظر سے ان ناموں کے معانی کی تحقیق کی تو کوئی خاص اہمیت ہے نہیں۔ بس اتنی بات ہے کہ چونکہ یہ نام اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے ہیں اس وجہ سے آدمی کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ضرور یہ کسی نہ کسی مناسبت کی بنا پر رکھے گئے ہوں گے۔ یہ خیال فطری طور پر طبیعت میں ایک جستجو پیدا کر دیتا ہے۔ اسی جستجو کی بنا پر ہمارے بہت سے پچھلے علماء نے ان ناموں پر غور کیا اور ان کے معنی معلوم کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ان کی جستجو سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا لیکن ہمارے نزدیک ان کا یہ کام بجائے خود غلط نہیں تھا اور اگر ہم بھی ان پر غور کریں گے تو ہمارا یہ کام بھی غلط نہیں ہو گا۔ اگر اس کوشش سے کوئِی حقیقت واضح ہوئی تو اس سے ہمارے علم میں اضافہ ہو گا اور اگر کوئی بات نہ مل سکی تو اس کو ہم اپنے علم کی کوتاہی اور قرآن کے اتھاہ ہونے پر محمول کریں گے۔ یہ رائے بہرحال نہیں قائم کریں گے کہ یہ نام ہی بے معنی ہیں۔
      اپنے علم کی کمی اور قرآن کے اتھاہ ہونے کا یہ احساس بجائے خود ایک بہت بڑا علم ہے۔ اس احساس سے علم و معرفت کی بہت سی بند راہیں کھلتی ہیں۔ اگر قرآن کا پہلا ہی حرف اس عظیم انکشاف کے لئے کلید بن جائے تو یہ بھی قرآن کے بہت سے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہو گا۔ یہ اسی کتاب کا کمال ہے کہ اس کے جس حرف کا راز کسی پر نہ کھل سکا اس کی پیدا کردہ کاوش ہزاروں سربستہ اسرار سے پردہ اٹھانے کے لئے دلیل راہ بنی۔
      ان حروف  پر ہمارے پچھلے علماء نے جو رائیں ظاہر کی ہیں ہمارے نزدیک وہ تو کسی مضبوط بنیاد پر مبنی نہیں ہیں اس وجہ سے ان کا ذکر کرنا کچھ مفید نہیں ہوگا۔ البتہ استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمة اللہ علیہ کی رائے اجمالاً یہاں پیش کرتا ہوں۔ اس سے اصل مسئلہ اگرچہ حل نہیں ہوتا لیکن اس کے حل کے لئے ایک راہ کھلتی ضرور نظر آتی ہے۔ کیا عجب کہ مولانا رحمة اللہ علیہ نے جو سراغ دیا ہے دوسرے اس کی رہنمائی سے کچھ مفید نشانات راہ اور معلوم کر لیں اور اس طرح درجہ بدرجہ تحقیق کے قدم کچھ اور آگے بڑھ جائیں۔
      جو لوگ عربی رسم الخط کی تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ عربی زبان کے حروف عبرانی سے لئے گئے ہیں اور عبرانی کے یہ حروف ان حروف سے ماخوذ ہیں جو عرب قدیم میں رائج تھے۔ عرب قدیم کے ان حروف کے متعلق استاذ امام رحمة اللہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ یہ انگریزی اور ہندی کے حروف کی طرف صرف آواز ہی  نہیں بتاتے تھے بلکہ یہ چینی زبان کے حروف کی طرف معانی اور اشیاء پر بھی دلیل ہوتے تھے اور جن معانی یا اشیاء پر وہ دلیل ہوتے تھے عموماً ان ہی کی صورت و ہئیت پر لکھے بھی جاتے تھے۔ مولانا کی تحقیق یہ ہے کہ یہی حروف ہیں جو قدیم مصریوں نے اخذ کئے اور اپنے تصورات کے مطابق ان میں ترمیم و اصلاح کر کے ان کو اس خط تمثالی کی شکل دی جس کے آثار اہرام مصر کے کتبات میں موجود ہیں۔
      ان حروف کے معانی کا علم اب اگرچہ مٹ چکا ہے تاہم بعض حروف کے معنی اب بھی معلوم ہیں اور ان کے لکھنے کے ڈھنگ میں بھی ان کی قدیم شکل کی کچھ نہ کچھ جھلک پائی جاتی ہے۔ مثلاً “الف” کے متعلق معلوم ہے کہ وہ گائے کے معنی بتاتا تھا اور گائے کے سر کی صورت ہی پر لکھا جاتا ہے۔ “ب” کو عبرانی میں بَیت کہتے بھی ہیں اور اس کے معنی بھی “بیت” (گھر) کے ہیں۔ “ج” کا عبرانی تلفظ جمیل ہے جس کے معنی جمل (اونٹ) کے ہیں۔ “ط” سانپ کے معنی میں آتا تھا اور لکھا بھی کچھ سانپ ہی کی شکل پر جاتا تھا۔ “م” پانی کی لہر پر دلیل ہوتا ہے اور اس کی شکل بھی لہر سے ملتی جلتی بنائی جاتی تھی۔
      مولانا اپنے نظریہ کی تائید میں سورہ “ن” کو پیش کرتے ہیں۔ حرف “نون” اب بھی اپنے قدیم معنی ہی میں بولا جاتا ہے۔ اس کے معنی مچھلی کے ہیں اور جو سورہ اس نام سے موسوم ہوئی ہے اس میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر صاحب الحوت، مچھلی والے، کے نام سے آیا ہے۔ مولانا اس نام کو پیش کر کے فرماتے ہیں کہ اس سے ذہن قدرتی طور پر اس طرف جاتا ہے کہ اس سورہ کا نام “نون” (ن) اسی وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس میں صاحب الحوت، حضرت یونس علیہ السلام، کا واقعہ بیان ہوا ہے جن کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ پھر کیا عجب ہے کہ بعض دوسری سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں وہ  بھی اپنے قدیم معانی اور سورتوں کے مضامین کے درمیان کسی مناسبت ہی کی بنا پر آئے ہوں۔
      قران مجید کی بعض اور سورتوں کے ناموں سے بھی مولانا کے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے مثلاً حرف “ط” کے معنی، جیسا کے میں نے اوپر بیان کیا ہے، سانپ کے تھے اور اس کے لکھنے کی ہئیت بھی سانپ کی ہئیت سے ملتی جلتی ہوتی تھی۔ اب قرآن میں سورہ طٰہٰ کو دیکھئے جو “ط” سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں ایک مختصر تمہید کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی لٹھیا کے سانپ بن جانے کا قصہ  بیان ہوتا ہے۔ اسی طرح طسم، طس وغیرہ بھی “ط” سے شروع ہوتی ہیں اور ان میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لٹھیا کے سانپ کی شکل اختیار کر لینے کا معجزہ مذکور ہے۔
      “الف” کے متعلق ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ گائے کے سر کی ہئیت پر لکھا بھی جاتا تھا اور گائے کے معنی بھی بتاتا تھا۔ اس کے دوسرے معنی اللہ واحد کے ہوتے تھے۔ اب قرآن مجید میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ سورہ بقرہ میں جس کا نام الف سے شروع ہوتا ہے، گائے کے ذبح کا قصہ بیان ہوا ہے۔ دوسری سورتیں جن کے نام الف سے شروع ہوئے ہیں توحید کے مضمون میں مشترک نظر آتی ہیں۔ یہ مضمون ان میں خاص اہتمام کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ان ناموں کا یہ پہلو بھی خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ جن سورتوں کے نام ملتے جلتے سے ہیں ان کے مضامین بھی ملتے جلتے ہیں بلکہ بعض سورتوں میں تو اسلوب بیان تک ملتا جلتا ہے۔
      میں نے مولانا کا یہ نظریہ، جیسا کہ عرض کر چکا ہوں، محض اس خیال سے پیش کیا ہے کہ اس سے حروف مقطعات پر غور کرنے کے لئے ایک علمی راہ کھلتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی حیثیت ابھی ایک نظریہ سے زیادہ نہیں ہے۔ جب تک تمام حروف کے معانی کی تحقیق ہو کر ہر پہلو سے ان ناموں اور ان سے موسوم سورتوں کی مناسبت واضح نہ ہوجائے اس وقت تک اس پر ایک نظریہ سے زیادہ اعتماد کر لینا صحیح نہیں ہوگا۔ یہ محض علوم قرآن کے قدردانوں کے لئے ایک اشارہ ہے، جو لوگ مزید تحقیق و جستجو کی ہمت رکھتے ہیں وہ اس راہ میں قسمت آزمائی کریں۔ شاید اللہ تعالیٰ اس راہ سے یہ مشکل آسان کر دے۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورۂ ’الٓمّٓ‘ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ سورہ کا نام ہے۔ اِس کے متعلق اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر دیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ پُرحکمت کتاب کی آیات ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس کتاب سے فائدہ وہی اٹھائیں گے جن کی صلاحیتیں زندہ ہیں: ’تِلْکَ‘ کا اشارہ ’الّمّٓ‘ کی طرف ہے۔ اس سورہ کا قرآنی نام یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سورہ ایک پُرحکمت کتاب کی آیات پر مشتمل ہے لیکن حکمت کے جواہر ریزوں کا قدردان ہر شخص نہیں ہوتا۔ ان کی قدر کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو ’محسن‘ ہوں گے۔ ’محسن‘ سے مراد وہ خوب کار لوگ ہیں جنھوں نے اپنے سوچنے سمجھنے کی قوتوں سے صحیح کام لیا، اپنی فطرت کی صلاحیتوں کو زندہ رکھا اور اپنی بصیرت کے حد تک جو قدم بھی اٹھایا صحیح سمت میں اٹھایا۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لیے یہ آیات ہدایت اور رحمت ہیں۔ وہ دنیا میں ان سے ہدایت حاصل کریں گے اور آخرت میں ان کے لیے یہ باعث فضل و رحمت ہوں گی۔ لفظ ’محسن‘ پر ہم پیچھے بھی اس کتاب میں بحث کر چکے ہیں اور آگے آیت ۲۲ میں بھی یہ آ رہا ہے۔ وہاں ان شاء اللہ اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔ اس تمہید ہی سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جو لوگ اس کتاب کی ناقدری کر رہے ہیں ان کی یہ ناقدری اس کتاب کے بے قیمت ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ ان ناقدروں کی فطرت کے مسخ ہونے کی دلیل ہے۔ اس وجہ سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ان لوگوں کے رویے سے بددل نہیں ہونا چاہیے۔

      جاوید احمد غامدی یہ پر حکمت کتاب کی آیتیں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہدایت و رحمت بن کر نازل ہوئی ہیں خوب کاروں کے لیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس کتاب سے فائدہ وہی اٹھائیں گے جن کی صلاحیتیں زندہ ہیں: ’تِلْکَ‘ کا اشارہ ’الّمّٓ‘ کی طرف ہے۔ اس سورہ کا قرآنی نام یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سورہ ایک پُرحکمت کتاب کی آیات پر مشتمل ہے لیکن حکمت کے جواہر ریزوں کا قدردان ہر شخص نہیں ہوتا۔ ان کی قدر کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو ’محسن‘ ہوں گے۔ ’محسن‘ سے مراد وہ خوب کار لوگ ہیں جنھوں نے اپنے سوچنے سمجھنے کی قوتوں سے صحیح کام لیا، اپنی فطرت کی صلاحیتوں کو زندہ رکھا اور اپنی بصیرت کے حد تک جو قدم بھی اٹھایا صحیح سمت میں اٹھایا۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لیے یہ آیات ہدایت اور رحمت ہیں۔ وہ دنیا میں ان سے ہدایت حاصل کریں گے اور آخرت میں ان کے لیے یہ باعث فضل و رحمت ہوں گی۔ لفظ ’محسن‘ پر ہم پیچھے بھی اس کتاب میں بحث کر چکے ہیں اور آگے آیت ۲۲ میں بھی یہ آ رہا ہے۔ وہاں ان شاء اللہ اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔ اس تمہید ہی سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جو لوگ اس کتاب کی ناقدری کر رہے ہیں ان کی یہ ناقدری اس کتاب کے بے قیمت ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ ان ناقدروں کی فطرت کے مسخ ہونے کی دلیل ہے۔ اس وجہ سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ان لوگوں کے رویے سے بددل نہیں ہونا چاہیے۔

      جاوید احمد غامدی اُن کے لیے جو خوبی سے عمل کرنے والے ہیں ہدایت اور رحمت بن کر نازل ہوئی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی طرف اشارہ ہے جنھوں نے اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کی پیروی کی ، سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے صحیح کام لیا، پوری بصیرت کے ساتھ حقائق کو تسلیم کیا اور اُن کے جو تقاضے بھی سامنے آئے، پورے اخلاص کے ساتھ اُن کے مطابق عمل کرنے لگے۔
      یعنی دنیا میں ہدایت اور آخرت میں فضل و رحمت جو اِس ہدایت کو اختیار کرنے کا لازمی نتیجہ ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ان کے لیے جو نماز کا اہتمام کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یہی لوگ یقین رکھتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’مُحْسِنِین‘ کی صفات: یہ ’مُحْسِنِین‘ کی صفات بیان ہوئی ہیں اور ان کے پردے میں وہ لوگ نگاہوں کے سامنے کر دیے گئے ہیں جو اس وقت اس لفظ کے صحیح مصداق تھے۔ فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کا اہتمام کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھنے والے ہیں۔
      ’وَہُمْ بِالْآخِرَۃِ ہُمْ یُوقِنُوْنَ‘ میں ان اہل ایمان کی غایت درجہ تحسین ہے۔ یعنی درحقیقت یہی لوگ ہیں جو آخرت پر پکا یقین رکھنے والے ہیں۔ اسی یقین کا ثمرہ ہے کہ ان کو نماز اور زکوٰۃ کے اہتمام کی توفیق حاصل ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ نماز اور زکوٰۃ سے غافل ہیں وہ درحقیقت آخرت کے یقین سے محروم ہیں اور اگر وہ اس کے مدعی ہیں تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی یہ جو نماز کا اہتمام کر رہے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ یہی ہیں جو آخرت پر سچا یقین رکھتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے معلوم ہوا کہ آخرت پر سچا یقین ہو تو آدمی نماز اور زکوٰۃ سے غافل نہیں ہو سکتا اور اپنی اِس غفلت کے باوجود اگر وہ اِس کا مدعی ہے کہ آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اپنے اِس دعوے میں بالکل جھوٹا ہے۔

      zakah
    • امین احسن اصلاحی یہی اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرمایا کہ یہی لوگ اس دنیا میں اپنے رب کی صراط مستقیم پر ہیں اور یہی لوگ آخرت میں فلاح پانے والے بنیں گے۔ باقی سارے لوگ گمراہی پر ہیں اور وہ آخرت میں جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی یہی اپنے پروردگار کی ہدایت پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

      zakah
    • امین احسن اصلاحی اور لوگوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو فضولیات کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے گمراہ کریں بغیر کسی علم کے۔ اور ان آیات کا مذاق اڑائیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’لَہْوَ الْحَدِیْثِ‘ کا مفہوم: ’اِشْتِرَاء‘ کے معنی، جیسا کہ اس کے محل میں ہم وضاحت کر چکے ہیں، ترجیح دینے کے بھی آتے ہیں۔ ’لَہْوَ الْحَدِیْثِ‘ اسی طرح کی ترکیب ہے جس طرح دوسرے مقام میں ’زخرف القول‘ کی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ یہاں یہ لفظ کتاب حکیم کی آیات کے مقابل میں استعمال ہوا ہے۔ اس وجہ سے اس سے مراد وہ گمراہ کن باتیں ہیں جو وقت کے مفسدین لوگوں کو آیات الٰہی سے برگشتہ کرنے کے لیے پھیلاتے تھے۔ قرآن لوگوں کو زندگی کے اصل حقائق کے سامنے کھڑا کرنا چاہتا تھا لیکن مخالفین کی کوشش یہ تھی کہ لوگ انہی مزخرفات میں پھنسے رہیں جن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہاں اسی صورت حال کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور اسلوب بیان اظہار تعجب کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تو لوگوں کی ہدایت کے لیے ایک پرحکمت کتاب اتاری ہے لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان میں بہتیرے اس کے مقابل میں انہی فضول باتوں کو ترجیح دیتے ہیں جو ان کی خواہشوں اور بدعتوں کے لیے سند تصدیق فراہم کرتی ہیں۔
      ’لِیُضِلَّ عَن سَبِیْلِ اللَّہِ بِغَیْْرِ عِلْمٍ وَیَتَّخِذَہَا ہُزُواً‘۔ ’عِلْمٌ‘ سے مراد دلیل و برہان ہے۔ آگے آیت ۳۰ میں بھی یہ لفظ آ رہا ہے۔ وہاں اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ مفسدین کی یہ تمام سعئ نامراد اس لیے ہے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں حالانکہ اللہ کی راہ چھوڑ کر جس راہ پر وہ چل رہے ہیں اور جس پر لوگوں کو بھی چلانا چاہتے ہیں اس کے حق میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے لیکن اس کے باوجود جسارت کا یہ عالم ہے کہ اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے اور اپنی بے سروپا باتوں کی تائید میں آسمان و زمین کے قلابے ملاتے ہیں۔
      ’أُولٰئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ‘۔ اوپر اہل ایمان کے بارے میں فرمایا ہے کہ ’وہی لوگ ہدایت پر ہیں اور وہی لوگ فلاح پانے والے بنیں گے‘۔ اس کے مقابل میں یہ ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جو قرآن کی آیات حکمت کے مقابل میں اپنی خرافات بدعت و ضلالت کو پھیلانے میں سرگرم تھے۔ فرمایا کہ ان کے لیے ایک نہایت سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہو گا۔ ’ذلیل کرنے والا عذاب‘ اس وجہ سے ہو گا کہ حق کے مقابل میں اپنی بات کی پچ استکبار ہے اور استکبار کی سزا اللہ تعالیٰ کے ہاں ذلت و رسوائی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ عذاب اور عذاب میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ یوں تو ہر عذاب عذاب ہے، اللہ تعالیٰ اس سے امان میں رکھے، لیکن سب سے زیادہ سخت وہ عذاب ہے جو رسوا کر دینے والا ہو۔

      جاوید احمد غامدی اِس کے برخلاف لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو فضولیات کے خریدار بنتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بغیر کسی علم کے گمراہ کریں اور اُس کی آیتوں کا مذاق اڑائیں۔ یہی ہیں کہ جن کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’لَھْوَ الْحَدِیْثِ‘ کا لفظ آیا ہے۔ یہ اُسی طرح کی ترکیب ہے، جیسے دوسرے مقام میں ’زُخْرُفَ الْقَوْلِ‘ کی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ یہاں یہ لفظ کتاب حکیم کی آیتوں کے مقابل میں ہے، اِس وجہ سے اِس سے مراد وہ فضولیات و خرافات ہوں گی جو مفسدین لوگوں کو آیات الٰہی سے برگشتہ کرنے کے لیے پھیلاتے تھے۔
      یعنی اُن کو ترجیح دیتے اور اُن کے طلب گار بنتے ہیں۔ لفظ ’اِشْتِرَاء‘جب معنوی چیزوں کے لیے استعمال کیا جائے تو اِسی مفہوم میں آتا ہے۔
      یعنی بغیر کسی دلیل و برہان کے۔
      آگے وضاحت فرما دی ہے کہ اِن کا اصلی جرم استکبار ہے اوراستکبار کے بارے میں قرآن اور دوسرے الہامی صحائف میں جگہ جگہ واضح کیا گیاہے کہ اُس کی سزا ذلت اور رسوائی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اس طرح متکبرانہ اعراض کرتے ہیں گویا ان کو سنا ہی نہیں، گویا ان کے کانوں میں بہرا پن ہے تو ان کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      استکبار کی سزا: یہ ان لوگوں کے اس استکبار کی تصویر ہے جس کے سبب سے یہ ذلت کے عذاب کے مستحق ہوں گے۔ فرمایا کہ ان کا حال یہ ہے کہ جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ نہایت غرور کے ساتھ اس طرح پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں گویا انھوں نے ان کو سرے سے سنا ہی نہیں، گویا ان کے دونوں کان بہرے ہیں۔ یعنی یہ ہماری آیات کو یک قلم ناقابل التفات سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر ان کا پندار اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ ہماری باتیں ان کے لیے لائق توجہ ہی نہیں رہ گئی ہیں تو پھر ہماری طرف سے ان کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔ مطلب یہ ہے کہ اگر معاملہ مجرد غفلت کا ہو تو اس کی اصلاح تذکیر و تنبیہ سے ہو سکتی ہے لیکن جب تذکیر و تنبیہ کے جواب میں رعونت و استکبار کا مظاہرہ ہونے لگے تو یہ مرض لاعلاج ہے۔ اس طرح کے لوگ دوزخ ہی کا ایندھن بننے والے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اِن میں سے کسی کو جب ہماری یہ آیتیں سنائی جاتی ہیں تو بڑے تکبرکے ساتھ اِس طرح منہ پھیر کر چل دیتا ہے، جیسے اُن کو سناہی نہیں، جیسے کانوں سے بہرا ہے۔ سو اِسے ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے نعمت کے باغ ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن کا مذاق اڑانے والوں کو جواب: یہ ان کے مقابل میں ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اللہ کی آیات پر ایمان لانے والے اور ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو بنانے اور سنوارنے والے ہیں۔ فرمایا کہ ان کے لیے نعمت کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ’وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی وعدہ ہے جو پورا ہو کے رہے گا۔ اس جملے میں تاکید در تاکید کا جو مضمون مضمر ہے اس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ اس تاکید کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ اوپر آیت ۶ میں ذکر ہو چکا ہے کہ مستکبرین اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے استہزا کا خاص ہدف وہ آیتیں تھیں جن میں اس دور کے بے بس اور غریب مسلمانوں کو ایک ابدی بادشاہی کی خوش خبری سنائی جاتی تھی۔ معاملے کا یہ پہلو مقتضی ہوا کہ یہ بات یہاں پورے زور اور تاکید سے کہی جائے کہ مذاق اڑانے والے اگر اس کا مذاق اڑاتے ہیں تو اڑائیں لیکن اہل ایمان اطمینان رکھیں کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا۔
      وعدۂ قیامت کی قطعیت پر صفات الٰہی سے استدلال: ’وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘۔ یہ اسی وعدے کے حتمی ہونے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات سے دلیل پیش کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر مستکبروں اور ظالموں کو سزا اور ایمان و عمل صالح والوں کو جزا نہ دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ نہ وہ عزیز ہے نہ حکیم ہے بلکہ العیاذ باللہ وہ ایک بالکل عاجز و بے بس ہستی ہے جس نے بالکل بے غایت و بے حکمت یہ دنیا بنا ڈالی۔ حالانکہ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ خدا نہ صرف عزیز و حکیم ہے بلکہ حقیقی عزیز و حکیم وہی ہے۔ اس طرز استدلال کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہو چکی ہے۔ یہاں اشارے پر اکتفا فرمائیے۔

      جاوید احمد غامدی البتہ جو لوگ ایمان لائے اور اُنھوں نے اچھے عمل کیے، اُن کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا۔ اور وہ غالب و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن کا مذاق اڑانے والوں کو جواب: یہ ان کے مقابل میں ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اللہ کی آیات پر ایمان لانے والے اور ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو بنانے اور سنوارنے والے ہیں۔ فرمایا کہ ان کے لیے نعمت کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ’وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی وعدہ ہے جو پورا ہو کے رہے گا۔ اس جملے میں تاکید در تاکید کا جو مضمون مضمر ہے اس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ اس تاکید کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ اوپر آیت ۶ میں ذکر ہو چکا ہے کہ مستکبرین اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے استہزا کا خاص ہدف وہ آیتیں تھیں جن میں اس دور کے بے بس اور غریب مسلمانوں کو ایک ابدی بادشاہی کی خوش خبری سنائی جاتی تھی۔ معاملے کا یہ پہلو مقتضی ہوا کہ یہ بات یہاں پورے زور اور تاکید سے کہی جائے کہ مذاق اڑانے والے اگر اس کا مذاق اڑاتے ہیں تو اڑائیں لیکن اہل ایمان اطمینان رکھیں کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا۔
      وعدۂ قیامت کی قطعیت پر صفات الٰہی سے استدلال: ’وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘۔ یہ اسی وعدے کے حتمی ہونے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات سے دلیل پیش کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر مستکبروں اور ظالموں کو سزا اور ایمان و عمل صالح والوں کو جزا نہ دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ نہ وہ عزیز ہے نہ حکیم ہے بلکہ العیاذ باللہ وہ ایک بالکل عاجز و بے بس ہستی ہے جس نے بالکل بے غایت و بے حکمت یہ دنیا بنا ڈالی۔ حالانکہ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ خدا نہ صرف عزیز و حکیم ہے بلکہ حقیقی عزیز و حکیم وہی ہے۔ اس طرز استدلال کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہو چکی ہے۔ یہاں اشارے پر اکتفا فرمائیے۔

      جاوید احمد غامدی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا اور وہ زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس جملے میں تاکید درتاکید کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’... اِس تاکید کی ضرورت اِس وجہ سے تھی کہ اوپر آیت ۶ میں ذکر ہو چکا ہے کہ مستکبرین اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اُن کے استہزا کا خاص ہدف وہ آیتیں تھیں جن میں اُس دور کے بے بس اور غریب مسلمانوں کو ایک ابدی بادشاہی کی خوش خبری سنائی جاتی تھی۔ معاملے کا یہ پہلو مقتضی ہوا کہ یہ بات یہاں پورے زور اور تاکید سے کہی جائے کہ مذاق اڑانے والے اگر اِس کا مذاق اڑاتے ہیں تو اڑائیں، لیکن اہل ایمان اطمینان رکھیں کہ اللہ کا یہ وعدہ پورا ہو کے رہے گا۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۱۲۳)

      یعنی نہ ظالموں اور مستکبروں کے مقابلے میں کوئی بے بس ہستی ہے کہ عاجز ہو کر بیٹھا رہے اور نہ یہ دنیااُس نے کھیل تماشے کے طور پر بنائی ہے کہ اُسے کسی انجام حق تک پہنچائے بغیر ختم کر دے۔ وہ یہ لازماً کرے گا، اِس لیے کہ عزیز و حکیم ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے بنایا آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں اور زمین میں پہاڑ گاڑ دیے کہ وہ تمہارے سمیت لڑھک نہ جائے اور اس میں ہر قسم کے جان دار پھیلائے۔ اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا پس اس میں نوع بنوع فیض بخش چیزیں پیدا کیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اس کائنات کے ان دلائل و شواہد کی طرف توجہ دلائی ہے جن پر ایک نظر ڈال کر ایک متوسط درجہ کی عقل کا آدمی بھی، یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ اس کائنات کا خالق عزیز یعنی ہر چیز پر غالب و مقتدر بھی ہے اور اس کے ہر کام میں اس کی قدرت کے ساتھ اس کی بے پایاں حکمت بھی نمایاں ہے۔ فرمایا کہ یہ اسی کی قدرت و حکمت ہے کہ اس نے آسمانوں کی یہ عظیم چھت ایسے ستونوں کے بغیر ہی کھڑی کر دی جو تمہیں نظر آئیں اور ساتھ ہی زمین میں پہاڑ لنگر انداز کر دیے کہ یہ تمہارے ساتھ لڑھک نہ جائے۔ پھر اس چھت کے نیچے اور اس زمین کے اوپر بے شمار قسم کے جان دار پھیلا دیے اور ان کی پرورش کے لیے آسمان سے پانی برسایا اور اس پانی سے ہر قسم کی فیض بخش چیزیں اگائیں۔
      ’بِغَیْْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَہَا‘ میں ’تَرَوْنَہَا‘ ’عَمَدٍ‘ کی صفت ہے۔ یعنی یہ عظیم چھت اس کے عظیم خالق نے کھڑی تو کی ہے ستونوں پر لیکن یہ اس کی قدرت، حکمت اور کاریگری کا اعجاز ہے کہ یہ ستون کسی کو نظر نہیں آتے۔ اس نے اس کائنات کے اجزائے مختلفہ کو جذب و کشش کے ایسے قوانین کے ساتھ باندھ رکھا ہے جو صرف اسی کو نظر آتے ہیں۔
      ’زَوْجٍ کَرِیْمٍ‘ میں لفظ ’کَرِیْم‘ کا صحیح لغوی مفہوم فیض بخش ہے۔ یہ خدا کی قدرت کے ساتھ ساتھ اس کی رحمت و ربوبیت کی طرف اشارہ ہے کہ اس نے یہ عظیم محل اور یہ قصر بے ستون تعمیر کر کے اس کے مکینوں کی پرورش کے لیے اپنی گوناگوں نعمتوں کے انبار بھی لگا دیے۔

      جاوید احمد غامدی اُس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بنا دیا ہے جو تمھیں نظر آئیں اور زمین میں پہاڑ جما دیے ہیں کہ وہ تمھیں لے کر جھک نہ پڑے اور اُس میں ہر طرح کے جان دار پھیلا دیے ہیں۔ (دیکھتے نہیں ہو کہ) ہم نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اِسی زمین میں قسم قسم کی فیض بخش چیزیں پیدا کر دی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ‘۔ اِن میں ’اَنْ‘ سے پہلے لام علت عربیت کے اسلوب پر مقدر ہے۔ یہ غالباً وہی چیز ہے جسے جدید سائنس میں ’isostasy‘ کہا جاتا ہے۔ قرآن کے اِس بیان سے پہاڑوں کے بارے میں یہ نظریہ درست معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمندروں کے نیچے کے کثیف مادے کو متوازن رکھنے کے لیے سطح زمین پر ابھرے ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو زمین اُسی طرح ہلتی رہتی، جس طرح اب زلزلہ آ جائے تو ہلتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ ساری چیزیں تو اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ تو اب مجھے دکھاؤ کہ انھوں نے کیا چیزیں پیدا کی ہیں جو اس کے سوا ہیں! بلکہ یہ ظالم لوگ ایک صریح گمراہی میں مبتلا ہیں!! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خدا کے شریک ٹھہرانے والوں سے ایک سوال: مطلب یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں تو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور تم کو بھی یہ اعتراف ہے کہ یہ اللہ کی بنائی ہوئی ہیں تو اب بتاؤ کہ تم اس کے سوا دوسری چیزوں کو جو پوجتے ہو تو انھوں نے کیا پیدا کیا ہے اور ان کا کیا کارنامہ ہے کہ تم نے خدا کی خدائی اور اس کے حقوق میں ان کو بھی شریک بنا دیا ہے!!
      ’بَلِ الظَّالِمُوۡنَ فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ‘۔ یہ ان سے منہ پھیر کر ان کے حال پر اظہار افسوس فرمایا ہے کہ ان ظالموں کے پاس اس حرکت کے جواز کی کوئی دلیل تو ہے نہیں جسے وہ پیش کر سکیں بلکہ ایک کھلی ہوئی گمراہی ہے جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی یہ سب تو اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے، اب مجھے دکھاؤ کہ (تمھارے زعم کے مطابق) جو اُس کے سوا ہیں، اُنھوں نے کیا پیدا کیا ہے؟ (کچھ نہیں)، بلکہ یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ کے شکرگزار رہو اور جو شکر گزار رہے گا تو اپنے ہی لیے رہے گا۔ اور جو ناشکری کرے گا تو اللہ بے نیاز و ستودہ صفات ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حکمت کا اولین ثمر: حکمت کا اولین ثمر اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری ہے۔ اللہ اپنے جس بندے کو اس دولت سے بہرہ مند کرتا ہے اس کا اولین اثر جو اس پر مترتب ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ وہ اپنے رب کا شکرگزار بندہ بن جاتا ہے، اور یہی شکر تمام حقوق اللہ اور تمام حقوق العباد کی معرفت کی بنیاد ہے۔ سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں ہم اس پر مفصل گفتگو کر چکے ہیں۔ حضرت داوٗدؑ، حضرت سلیمانؑ اور ذوالقرنین کے واقعات کے سلسلہ میں بھی اس حقیقت کی طرف مفید اشارات گزر چکے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کے صاحب حکمت اور حکیم ہونے کی اولین شناخت یہ ہے کہ اس کے اندر اپنے رب کی شکرگزاری ہو۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو وہ بالکل کھوکھلا ہے، اگرچہ وہ علم و فلسفہ کا کتنا ہی بڑا ماہر اور امام کیوں نہ سمجھا جاتا ہو۔
      ایک شبہ کا ازالہ: ’وَمَنْ یَشْکُرْ فَإِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہِ وَمَن کَفَرَ فَإِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ‘۔ یہ برسر موقع ایک دفع دخل مقدر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی یہ نہ گمان کرے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں سے اپنی شکرگزاری کا جو مطالبہ کیا ہے یا اس کو جو اس نے پسند فرمایا ہے تو اس میں اس کا کوئی نفع ہے بلکہ اس کو اس نے بندوں ہی کے نفع کے لیے پسند فرمایا ہے۔ جو شخص خدا کا شکرگزار رہتا ہے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں اپنے لیے اللہ کی نعمتوں کو بڑھاتا ہے۔ رہا اللہ کا معاملہ تو وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے۔ نہ کسی کی شکرگزاری سے اس کو کوئی نفع پہنچتا اور نہ کسی کی ناشکری سے کوئی نقصان۔ ساتھ ہی وہ حمید بھی ہے یعنی تمام اعلیٰ صفات سے متصف اور یہ تمام صفات اس کی ذاتی ہیں۔ نہ ان میں کوئی اضافہ کر سکتا، نہ کمی۔ اس کی اس صفت ہی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ خواہ کوئی اس کے احسانات کی قدر کرے یا ناقدری لیکن اس دنیا میں اپنے رزق و فضل سے وہ کسی کو بھی محروم نہیں کرتا۔ آگے آیت ۲۶ میں بھی انہی صفات کا حوالہ آ رہا ہے، وہاں مزید وضاحت ہو جائے گی۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے یہی حکمت لقمان کو بھی دی (اور ہدایت فرمائی تھی) کہ اللہ کا شکر ادا کرو اور جو شکر کرے گا تو وہ اپنے ہی لیے شکر کرے گا اور جو ناشکری کرے گا (تو اللہ کو اُس کی کچھ پروا نہیں)، اِس لیے کہ اللہ بے نیاز ہے، وہ اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جو اِس کتاب حکیم میں بیان کی جا رہی ہے۔ سورہ کی ابتدا میں کتاب کے ساتھ حکیم کی صفت اِسی رعایت سے آئی ہے۔ مدعا یہ ہے کہ لقمان جسے تم اپنی قوم کا سقراط و فلاطوں سمجھتے ہو، اُس کی تعلیمات بھی وہی تھیں جو آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر رہے ہیں۔
      یہ عرب میں ایک حکیم و دانا کی حیثیت سے مشہور تھے۔ شعراے جاہلیت اپنے شعروں میں اِن کا اور اِن کے قبیلے کا ذکر کرتے ہیں۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ یمن میں اِن کو اور اِن کی قوم کو بڑی شان و شوکت حاصل تھی اور یہ قوم عاد کے بقایا میں سے تھے۔ اِسی طرح یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اپنے قبیلے پر اِن کو ایک پدرسرانہ قسم کی سرداری حاصل تھی۔ آگے جو نصیحتیں نقل ہوئی ہیں، اُن سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ غالباً بیٹے کو سرداری کی ذمہ داریاں سونپتے ہوئے کی گئی ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’ لقمان کی یہ نصیحتیں اگرچہ ہر شخص کے لیے اپنے اندر یکساں خیروبرکت رکھتی ہیں، لیکن اُن لوگوں کے لیے یہ خاص اہمیت رکھنے والی ہیں جن کو قیادت و سربراہی اور امارت و حکومت کا مقام حاصل ہو۔ اِس وجہ سے ہمارے نزدیک، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، لقمان صرف ایک حکیم نہیں، بلکہ ایک حکمران حکیم تھے۔ اُن کو اپنی قوم کی سربراہی حاصل تھی اور یہ نصیحتیں اپنے بیٹے کو اُنھوں نے سرداری و قیادت کی ذمہ داریاں سمجھانے کے لیے کی ہیں۔ یہ اگرچہ نبی نہیں تھے، لیکن اُن کو حضرت داؤد سے فی الجملہ مشابہت ہے۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۱۳۳)

      یہ حکمت کا اولین ثمر ہے۔ تمام حقوق اللہ اور حقوق العباد کی معرفت اِسی سے پیدا ہوتی ہے۔ اللہ کی کتاب جس حکمت کو لے کر نازل ہوئی ہے، اُس کی بنیاد یہی شکر گزاری ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہوتو انسان کے اندر اُن صفات میں سے کوئی صفت بھی پیدا نہیں ہو سکتی جن کا ذکر سورہ کی ابتدا میں ہوا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور یاد کرو جب کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے اس کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے بیٹے! اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیو۔ بے شک شرک ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      شکر کی اصل روح: جس طرح حکمت کا اولین ثمر اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری ہے اسی طرح شکر کی اصل روح شرک سے اجتناب ہے۔ بندے کو تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی سے ملتی ہیں اس وجہ سے جس طرح اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہے اسی طرح یہ بھی واجب ہے کہ وہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو دوسروں کی طرف نہ منسوب کرے۔ دوسروں سے اگر بندے کو کوئی نفع پہنچتا ہے تو وہ اللہ ہی کے حکم سے پہنچتا ہے اس وجہ سے شکر کا اصل سزاوار اللہ ہی ہے۔ دوسروں کا حق اللہ تعالیٰ کے حق کے تحت ہے۔ اللہ کا حق سب سے بڑا ہے اگر کوئی شخص خدا کے حق میں دوسروں کو شریک کرتا ہے تو وہ سب سے بڑے حق کو تلف کرنے والا بنتا ہے جو ایک ظلم عظیم ہے۔
      موقع اور بات دونوں کی اہمیت کی طرف اشارہ: یہاں یہ امر بھی توجہ کے لائق ہے کہ لقمان نے یہ باتیں اس وقت کہی ہیں جب وہ بیٹے کو نصیحت کر رہے تھے۔ اس سے موقع اور بات دونوں کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی سرسری بات نہیں ہے جو راہ چلتے کہہ دی گئی ہو بلکہ لقمان نے خاص اپنے بیٹے کو، ایک اہم موقع پر، خاص اہتمام کے ساتھ، بطور ایک موعظت کے بتائیں اور ان پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کی تاکید کی۔ اس سے مقصود قرآن کے مخاطبوں کو توجہ دلانا ہے کہ ایک دانش مند باپ اپنے بیٹے کو کیا تعلیم دیتا تھا اور آج اس کے احمق نام لیوا اپنی اولاد کے ساتھ کیا معاملہ کر رہے ہیں!

      جاوید احمد غامدی (اِس کا لازمی تقاضا ہے کہ کسی کو خدا کا شریک نہ ٹھیرایا جائے)۔ یاد کرو، جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیٹا، اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھیرانا۔ حقیقت یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی یونہی راہ چلتے کچھ باتیں نہیں کہہ دی تھیں، بلکہ بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہی تھیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اِس سے موقع اور بات، دونوں کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی سرسری بات نہیں ہے جو راہ چلتے کہہ دی گئی ہو، بلکہ لقمان نے خاص اپنے بیٹے کو، ایک اہم موقع پر، خاص اہتمام کے ساتھ بطور ایک موعظت کے بتائیں اور اِن پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کی تاکید کی۔ اِس سے مقصود قرآن کے مخاطبوں کو توجہ دلانا ہے کہ ایک دانش مند باپ اپنے بیٹے کو کیا تعلیم دیتا تھا اور آج اُس کے احمق نام لیوا اپنی اولاد کے ساتھ کیا معاملہ کر رہے ہیں!‘‘(تدبرقرآن۶/ ۱۲۸)

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے معاملے میں ہدایت کی۔ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ جھیل کر اس کو پیٹ میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا۔ کہ میرے شکرگزار رہو اور اپنے والدین کے۔ میری ہی طرف بالآخر لوٹنا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دوآیتیں بطور تضمین: یہ دو آیتیں لقمان کی موعظت کے بیچ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تضمین ہیں۔ لقمان نے بیٹے کو خدا کی شکرگزاری کا حق ادا کرنے کی تاکید تو فرمائی لیکن اللہ تعالیٰ جل شانہ کے حق کے پہلو بہ پہلو اپنے حق کا ذکر انھوں نے ادب کے خلاف تصور فرمایا اس وجہ سے اس کو نظرانداز کر کے قیامت کے ذکر کی طرف بڑھ گئے۔ یہ بات انھوں نے ادباً کی اور ان کی تواضع کے شایان شان بات یہی تھی، لیکن خدا کے حق کے بعد فطرت کی تربیت میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے لقمان کے اس چھوڑے ہوئے خلا کو اپنی طرف سے بھر دیا۔ فرمایا کہ ہم نے انسان کو اس کے والدین کے باب میں ہدایت کی۔ اس ہدایت کا ذکر عنکبوت آیت ۸ میں بھی گزر چکا ہے اور سورۂ بنی اسرائیل میں بھی۔ وہاں ہم نے واضح کیا ہے کہ خدا کے حق کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم تمام انبیائے کرام اور تمام آسمانی صحیفوں نے بالاتفاق دی ہے۔ یہاں اس ہدایت کی تفصیل آگے والے ٹکڑے سے ہو گئی ہے کہ ’اَنِ اشْکُرْلِیْ وَلِوَالِدَیْکَ‘ (کہ میرا شکرگزار رہ اور اپنے ماں باپ کا) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی شکرگزاری کے ساتھ انسان کو اس کے والدین کی شکرگزاری کی ہدایت فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے اوپر خدا کے بعد سب سے بڑا حق اس کے والدین کا ہے اس لیے کہ وہی اس کے وجود میں آنے اور پرورش پانے کا ذریعہ بنتے ہیں، والدین سے بڑا کسی کا حق بھی نہیں ہے، لیکن یہ حق شکرگزاری اور خدمت کا ہے نہ کہ عبادت کا۔ شکر کا مفہوم اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ اس کی اصل حقیقت ایفائے حق ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو مجرد زبان سے شکر ایک بالکل بے حقیقت چیز ہے۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے انسان کو اُس کے والدین کے بارے میں بھی نصیحت کی ہے۔ اُس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اُس کو پیٹ میں رکھا اور (پیدایش کے بعد) کہیں دو سال میں جا کر اُس کا دودھ چھڑانا ہوا۔ (ہم نے اُس کو نصیحت کی ہے) کہ میرے شکرگزار رہو اور اپنے والدین کے۔(بالآخر) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے آگے آیت ۱۵ تک تضمین ہے۔ لقمان نے اللہ تعالیٰ کے حق کے پہلو بہ پہلو اپنے حق کا ذکر غالباً اِس لیے نہیں کیا کہ اُنھوں نے اِسے خلاف ادب خیال کیا ہے۔ چنانچہ اِس کو چھوڑ کر وہ قیامت کے ذکر کی طرف بڑھ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیات اِسی خلا کو بھرنے کے لیے ارشاد ہوئی ہیں۔
      یہ نصیحت تمام الہامی صحائف میں بیان ہوئی ہے۔ قرآن مجید نے بھی ایک سے زیادہ مقامات پر اِس کی تلقین فرمائی ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ انسانوں میں سب سے مقدم حق والدین ہی کا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کے بعد وہی اُس کے وجود میں آنے اور پرورش پانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
      آیت میں ولادت کا ذکر نہیں ہوا۔ اِس کی وجہ غایت وضاحت ہے۔ قرآن میں اِسی کے پیش نظر بعض چیزیں لفظاً محذوف ہو جاتی ہیں۔ بچے کی پرورش کے معاملے میں باپ کی شفقت بھی کچھ کم نہیں ہوتی، لیکن حمل، ولادت اور رضاعت کے مختلف مراحل میں جو مشقت بچے کی ماں اٹھاتی ہے، اُس میں یقیناًاُس کا کوئی شریک و سہیم نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِسی بنا پر ماں کاحق باپ کے مقابل میں تین درجے زیادہ قرار دیاہے۔*
      یہ شکر محض زبان سے ادا نہیں ہوتا، اِس کا لازمی تقاضا ہے کہ آدمی اُن کے ساتھ انتہائی احترام سے پیش آئے، اُن کے خلاف دل میں کوئی بے زاری نہ پیدا ہونے دے، اُن کے سامنے سوء ادب کا کوئی کلمہ زبان سے نہ نکالے،بلکہ نرمی ، محبت ، شرافت اور سعادت مندی کا اسلوب اختیار کرے۔ اُن کی بات مانے اور بڑھاپے کی ناتوانیوں میں اُن کی دل داری اور تسلی کرتا رہے۔
      _____
      * بخاری، رقم ۵۹۷۱۔ مسلم، رقم ۶۵۰۰۔

    • امین احسن اصلاحی اور اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو کسی چیز کو میرا شریک ٹھہرا، جس کے باب میں تیرے پاس کوئی دلیل نہیں، تو ان کی بات نہ مانیو اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک رکھیو۔ اور پیروی ان کے طریقہ کی کیجیو جو میری طرف متوجہ ہیں۔ پھر میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہے اور میں جو کچھ تم کرتے رہے ہو اس سے تم کو آگاہ کروں گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خدا کے خلاف والدین کی اطاعت جائز نہیں ہے: ’وَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلٰی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْھُمَا وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا‘۔ یعنی اگر والدین اس بات کے لیے اولاد پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کسی چیز کو بے دلیل خدا کا شریک بنائے تو یہ حق ان کو حاصل نہیں ہے، اولاد کا فرض ہے کہ اس معاملے میں ان کی اطاعت سے صاف انکار کر دے۔ شرک کے بے دلیل ہونے پر اس کتاب میں ہم جگہ جگہ بحث کر چکے ہیں۔ یہ اس کی مستقل صفت ہے اس لیے کہ اب تک شرک کی تائید میں اس کے حامی کوئی دلیل پیش نہیں کر سکے، جب کہ خدا کا حال یہ ہے کہ ہر مشرک اس کو لازماً تسلیم کرتا ہے۔ ’وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا‘ یعنی اگر والدین شرک اختیار کرنے کے لیے زور لگائیں تو اس معاملے میں تو ان کی اطاعت نہ کی جائے لیکن جہاں تک دنیا کا معاملہ ہے اس کے اندر ان کے ساتھ حسن سلوک دستور کے مطابق باقی رکھا جائے۔ ان کی ضروریات حتی الامکان پوری کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان کی ہدایت کے لیے برابر دعا بھی کی جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت تک اپنے باپ کے لیے دعا جاری رکھی جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اس سے روک نہیں دیا گیا۔ کافر والدین سے بیٹے کے لیے کلی انقطاع صرف اس شکل میں صحیح ہے جب مسلم معاشرہ جماعتی حیثیت سے ان سے اور ان کی قوم سے براء ت کا اعلان کر دے۔ اس کی وضاحت سورۂ براء ت میں ہو چکی ہے۔
      ماں کا حق باپ کے حق سے زیادہ ہے: یہاں ایک چیز یہ بھی قابل غور ہے کہ جہاں تک شکرگزاری اور خدمت کا تعلق ہے اس کی ہدایت تو باپ اور ماں دونوں کے لیے فرمائی ہے لیکن قربانیاں اور جانفشانیاں صرف ماں کی گنائی ہیں، باپ کی کسی قربانی کا حوالہ نہیں دیا ہے۔ فرمایا ہے ’حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ وَّفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ‘ (اس کی ماں نے اس کو اٹھایا دکھ کے بعد دکھ جھیل کر اور پھر اس کا دودھ چھڑانا ہوا دو سالوں کے اندر)۔ یہاں حمل، ولادت اور رضاعت تینوں مراحل کی طرف اشارہ ہے (اگرچہ ولادت کا ذکر غایت وضاحت کے سبب سے محذوف ہے) اور ان تینوں ہی کا تعلق ماں سے ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں کا حق باپ کے مقابل میں زیادہ ہے۔ اسی پر وہ حدیث مبنی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کا حق باپ کے مقابل میں تین درجہ زیادہ قرار دیا ہے۔
      ’اِلَیَّ الْمَصِیْرُ‘ میں تنبیہ ہے کہ یہ بات ہر شخص کو یاد رکھنی چاہیے کہ بالآخر سب کو میری ہی طرف پلٹنا ہے۔ اگر کسی نے میری شکرگزاری اور والدین کے حق میں کوتاہی کی تو وہ میری باز پرس سے نہیں چھوٹ سکتا۔
      ’وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ‘۔ شرک کے معاملے میں والدین کی اطاعت نہ کرنے کی ہدایت کے ساتھ یہ اولاد کو تاکید مزید ہے کہ اسے بہرحال انہی لوگوں کے طریقے کی پیروی کرنی ہے جو خدا کی طرف متوجہ ہیں، ان لوگوں کی راہ نہیں اختیار کرنی چاہے جو خدا سے منحرف ہیں اگرچہ وہ اس کے والدین ہی کیوں نہ ہوں۔ سورۂ عنکبوت میں والدین کا قول نقل ہو چکا ہے کہ وہ اپنی اولاد اور اپنے زیردستوں سے کہتے ہیں کہ ’اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطٰیٰکُمْ‘ ۔ ۱۲۰ (تم ہمارے طریقے کی پیروی کرتے رہو، ہم تمہاری غلطیوں کا بوجھ اٹھانے کے ذمہ دار ہیں) یہاں اسی قول پر تعریض کرتے ہوئے فرمایا کہ جو بھی خدا کے خلاف کسی راستہ کی پیروی کی دعوت دے اس کی پیروی جائز نہیں ہے۔ پیروی صرف ان لوگوں کی کرنی ہے جو خدا کی راہ پر ہیں۔
      ’ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ‘۔ یہ خطاب والدین اور اولاد دونوں سے یکساں ہے اور اس میں تنبیہ بھی ہے اور اطمینان بھی۔ مطلب یہ ہے کہ ایک دن سب کی واپسی میری ہی طرف ہونی ہے اور اس دن جو کچھ جس نے کیا ہو گا میں اس کے سامنے رکھ دوں گا۔ اگر کسی کے والدین نے میرے بخشے ہوئے حق سے غلط فائدہ اٹھا کر اولاد کو مجھ سے منحرف کرنے کی کوشش کی تو وہ اس کی سزا بھگتیں گے اور اگر اولاد نے والدین کے حق کے ساتھ ساتھ میرے حق کو بھی کما حقہٗ پہچانا اور اس حق پر قائم رہنے میں استقامت دکھائی تو وہ اپنی اس عزیمت کا بھرپور صلہ پائے گا۔

      جاوید احمد غامدی اور اگر وہ تم پر زور ڈالیں کہ کسی کو میرا شریک ٹھیراؤ جس کے بارے میں تمھارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو اُن کی بات نہ ماننا اور دنیا میں اُن کے ساتھ نیک برتاؤ رکھنا اور پیروی اُنھی کے طریقے کی کرنا جو میری طرف متوجہ ہیں۔پھر تم کو میری ہی طرف پلٹنا ہے۔ پھر میں تمھیں بتا دوں گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      والدین کی اِس حیثیت کے باوجود یہ حق اُن کو حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو بے دلیل اللہ تعالیٰ کا شریک بنانے کے لیے اولاد پر دباؤ ڈالیں۔ چنانچہ خدا سے انحراف کی دعوت والدین بھی دیں تو قبول نہیں کی جا سکتی۔یہاں صرف شرک کا ذکر ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے دوسرے احکام و ہدایات بھی اِسی کے تحت سمجھے جا ئیں گے اور والدین کے کہنے سے اُن کی خلاف ورزی بھی کسی کے لیے جائز نہیں ہوگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر فرمایا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی کوئی اطاعت نہیں ہے، اطاعت تو صرف بھلائی کے کاموں میں ہے۔*
      مطلب یہ ہے کہ شرک جیسے گناہ پراصرار کے باوجود دنیا کے معاملات میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ دستور کے مطابق اُسی طرح قائم رہنا چاہیے ۔ اُن کی ضروریات حتی المقدور پوری کرنے کی کوشش کی جائے اور اُن کے لیے ہدایت کی دعا بھی برابر جاری رہے۔ دین و شریعت کا معاملہ الگ ہے، مگر اِس طرح کی چیزوں میں اولاد سے ہرگز کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔
      یعنی خدا سے منحرف کسی شخص کی راہ اختیار نہیں کی جا سکتی، اگرچہ وہ آدمی کے والدین ہی کیوں نہ ہوں۔ خدا کے دین میں اِس کی گنجایش نہیں ہے۔ انسان کو اگر پیروی کرنی ہو تو اِس کے لیے اُنھی لوگوں کی طرف دیکھنا چاہیے جو خدا کی راہ پر ہیں۔
      یہ آخرمیں اولاد اور والدین، دونوں کو توجہ دلائی ہے کہ اعمال کی جواب دہی کے لیے ایک دن پلٹنا میری ہی طرف ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... یہ خطاب والدین اور اولاد، دونوں سے یکساں ہے اور اِس میں تنبیہ بھی ہے اور اطمینان دہانی بھی۔ مطلب یہ ہے کہ ایک دن سب کی واپسی میری ہی طرف ہونی ہے اور اُس دن جو کچھ جس نے کیا ہو گا، میں اُس کے سامنے رکھ دوں گا۔ اگر کسی کے والدین نے میرے بخشے ہوئے حق سے غلط فائدہ اٹھا کر اولاد کو مجھ سے منحرف کرنے کی کوشش کی تو وہ اُس کی سزا بھگتیں گے اور اگر اولاد نے والدین کے حق کے ساتھ ساتھ میرے حق کو بھی کماحقہ ٗپہچانا اور اِس حق پر قائم رہنے میں استقامت دکھائی تو وہ اپنی اِس عزیمت کا بھرپور صلہ پائے گی۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۱۳۰)

      _____
      * بخاری، رقم ۷۱۴۵۔ مسلم، رقم ۴۷۶۶۔

    • امین احسن اصلاحی اے میرے بیٹے! کوئی عمل اگر رائی کے دانے کے برابر بھی ہو گا تو خواہ وہ کسی گھاٹی میں ہو یا آسمانوں یا زمین میں ہو اللہ اس کو حاضر کر دے گا۔ بے شک اللہ نہایت ہی باریک بیں اور باخبر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لقمان کی موعظت قیامت کے باب میں: تضمین کی آیات کے بعد لقمان کی موعظت پھر شروع ہو گئی۔ اوپر لقمان نے بیٹے کو شرک سے اجتناب اور توحید کی تعلیم دی ہے اور یہ بات اپنے محل میں واضح ہو چکی ہے کہ اسی عقیدے پر تمام عقائد کی بنیاد ہے۔ توحید کے بعد دوسرا بنیادی عقیدہ آخرت کا عقیدہ ہے۔ اس آیت میں آخرت سے متعلق ان کی موعظت کا حوالہ ہے۔ فرمایا کہ اے بیٹے! اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی نیک یا بد عمل کسی کا ہو گا تو خواہ وہ کسی پہاڑی یا گھاٹی کے اندر ہو یا لامتناہی یا ناپیدا کنار فضاؤں اور آسمانوں میں ہو یا زمین کی تہوں میں ہو، جہاں کہیں بھی ہو گا، خدا قیامت کے دن اس کو حاضر کر دے گا، اس لیے کہ اللہ نہایت باریک بیں اور نہایت باخبر ہے۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم سے نا آشنائی ہی ہے جس کے سبب سے قوموں کو توحید کے معاملے میں مغالطہ پیش آیا اور وہ شرک میں مبتلا ہوئیں اور یہی چیز آخرت کے باب میں بھی بہت سی گمراہیوں کا سبب ہوئی۔ اس وجہ سے لقمان نے اس حکمت کی یاددہانی کی جو توحید اور قیامت دونوں کے باب میں ان کے فرزند کے ذہن کو بالکل صاف کر دے۔
      ’إِنَّہَا‘ میں ضمیر قصہ یا ضمیر شان ہے۔ اس صورت میں متکلم، ضمیر اپنے معہود ذہنی کو پیش نظر رکھ کر استعمال کر سکتا ہے۔ یہاں معہود ذہنی ’جۃ خردل‘ کے برابر عمل ہے اس وجہ سے ’جۃ‘ کی رعایت سے ضمیر مؤنث استعمال ہوئی۔
      ’صَخْرَۃٌ‘ سے پتھر مراد لینا ضروری نہیں ہے۔ اس سے پہاڑی اور گھاٹی بھی مراد لے سکتے ہیں۔ یہ بات عربیت کے بالکل مطابق ہو گی۔ میں نے ترجمہ میں اسی مفہوم کو پیش نظر رکھا ہے۔ ابن جریر نے بھی ایک گروہ کا یہی قول نقل کیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (لقمان نے کہا تھا): بیٹا، بات یہ ہے کہ کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہو تو خواہ وہ کسی گھاٹی میں ہو یا آسمانوں میں یازمین میں، اللہ اُسے نکال لائے گا۔ بے شک، اللہ باریک بین ہے، وہ ہر چیز سے با خبر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں’اِنَّھَا‘ کی ضمیر مونث ہے۔ یہ ضمیر قصہ ہے جو متکلم اپنے معہود ذہنی کے لحاظ سے استعمال کرتا ہے۔ یہاں یہ لفظ ’حَبَّۃ‘ کی رعایت سے استعمال ہوئی ہے۔
      اصل میں لفظ ’صَخْرَۃ‘ آیا ہے۔ عربی زبان میں یہ پہاڑی اور گھاٹی کے لیے بھی آتا ہے۔
      توحید کے بعد یہ لقمان نے قیامت کے بارے میں بھی ہر اُس مغالطے کو دور کر دیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم سے نا آشنائی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اے میرے بیٹے! نماز کا اہتمام رکھو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو اور جو مصیبت تمہیں پہنچے اس پر صبر کرو۔ بے شک یہ باتیں عزیمت کے کاموں میں سے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      شکر کا اثر زندگی پر نماز کا اہتمام: اللہ تعالیٰ کے شکر کی تعلیم دینے کے بعد اس شکر کا زندگی میں جو اثر نمایاں ہونا چاہیے اس کی ہدایت فرمائی۔ اس سلسلہ میں سب سے اول، نماز کو لیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے شکر کا سب سے اول اور سب سے بڑا مظہر نماز ہی ہے۔ یہی تمام انبیاء اور تمام مذاہب کی مفتق علیہ تعلیم ہے۔ فرمایا کہ اے میرے بیٹے! نماز قائم کرو۔ دوسرے مقام میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ ’نماز قائم کرو‘ کا مفہوم یہ ہے کہ نماز کا اہتمام کرو۔ یعنی خود بھی نماز کی پابندی کرو اور دوسروں کے لیے بھی اس کا انتظام کرو اور ان کو اس کے لیے ابھارو۔
      امر بالمعروف: ’وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ‘۔ یہ خدا کی شکرگزاری ہی کا دوسرا پہلو ہے جو بندے کو خلق سے مربوط کرتا ہے۔ نماز بندے کو اس کے رب سے جوڑتی ہے اور امر بالمعروف کے ذریعے سے وہ اللہ کے بندوں سے جڑتا ہے۔ معروف میں وہ تمام کام شامل ہیں جو ادائے حقوق سے متعلق ہیں۔ مثلاً اللہ کی راہ میں انفاق، یتیموں، مسکینوں، پڑوسیوں اور دوسرے مستحقین کی مدد اور اس نوع کے دوسرے کام جو ہر اچھی سوسائٹی میں معلوم و معروف ہیں اور جن کا یہ اہتمام ہر وہ شخص کرتا ہے اور اس کو کرنا چاہیے جو اپنے رب کا شکر گزار بندہ ہے۔
      نہی عن المنکر: ’وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ‘۔ یہ ان چیزوں سے باز رکھنے کی ہدایت ہے جو معروف کی ضد ہیں۔ بخالت، غصبِ حقوق، تعدّی، عہد شکنی، فخر و غرور اور اس قبیل کی ساری چیزیں اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔
      صبر: ’وَاصْبِرْ عَلٰی مَا اَصَابَکَ‘۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی یہ راہ کوئی آسان راہ نہیں ہے۔ جب اس فرض کو ادا کرنے کے لیے اٹھو گے تو ہر قدم پر تمھیں راہ مشکلات و مصائب سے رندھی ہوئی نظر آئے گی، اگر تم میں صبر نہیں ہو گا تو ایک قدم بھی تم آگے نہیں بڑھا سکو گے۔ اگر اس راہ کی بازیاں جیتنی ہیں تو ضروری ہے کہ جو کچھ پیش آئے اس کا پوری عزیمت سے مقابلہ کرو۔
      ’اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ‘۔ یہ اسی مضمون کی مزید تاکید اور وضاحت ہے کہ یہ کام نیم دلی کے ساتھ اور ڈھیلے ڈھالے ہاتھوں سے نہیں انجام پاتے۔ ان سے وہی لوگ عہدہ برآ ہوتے اور ہو سکتے ہیں جو پوری عزیمت کے ساتھ ان کے انجام دینے کے لیے اٹھتے اور سردھڑ کی بازی لگا کر ان کو انجام دیتے ہیں۔ سورۂ عصر میں حق کے ساتھ صبر کا جو ذکر آیا ہے وہ بھی اسی تعلق سے آیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی بیٹے، نماز کا اہتمام رکھو، بھلائی کی تلقین کرو اور برائی سے روکو ،اور (اِس راہ میں) جو مصیبت تمھیں پہنچے، اُس پر صبر کرو۔ اِس لیے کہ یہی چیزیں ہیں جن کی تاکید کی گئی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کا سب سے بڑا مظہر نماز ہے، چنانچہ اعمال میں سب سے پہلے اِسی کی تلقین کی ہے۔
      یعنی انسانی فطرت میں جو باتیں خیر کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں، اُن کی تلقین کرو اور جن کو فطرت نا پسند کرتی اور پوری انسانیت برائی سمجھتی ہے، اُن سے لوگوں کو منع کرتے رہو۔ قرآن کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایمان کے بنیادی تقاضوں میں سے ہے اور ہر مسلمان اپنے ماحول میں اِس کا مکلف ٹھیرایا گیا ہے۔ خدا نے جو ہدایت ہمیں دی ہے، یہ اُس کی شکر گزاری کا اظہار ہے۔
      اِس لیے کہ یہی عزم و ہمت کا سرچشمہ اور تمام سیرت و کردار کا جمال و کمال ہے ۔ اِسی سے انسان میں یہ حوصلہ پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کے ناخوش گوار تجربات پر شکایت یا فریاد کرنے کے بجاے وہ اُنھیں رضا مندی کے ساتھ قبول کرے اور خدا کی طرف سے مان کر اُن کا استقبال کرے۔ اِس کی جتنی ضرورت خود بھلائی کے راستے پر چلنے کے لیے ہے، اُس سے زیادہ دوسروں کو بھلائی کی تلقین کرنے اور برائی سے روکنے کے لیے ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور لوگوں سے بے رخی نہ کر اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’تصعیر خد‘ کے معنی ہیں بربنائے غرور و تکبر لوگوں سے بے رخی و بے پروائی اختیار کرنا۔
      ’لِلنَّاس‘ سے مراد عوام الناس خصوصاً غرباء و فقراء ہیں جن کو امراء و اغنیاء حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔
      شکر کے منافی باتیں: اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کے موجبات بیان ہوئے ہیں۔ اب یہ ان باتوں کا ذکر آ رہا ہے جو اس شکرگزاری کے منافی ہیں۔ شکر کا مظہر، جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہو چکی ہے، اخبات و تواضع ہے اور اس کا ضد غرور و تکبر ہے۔ جو لوگ سفلہ اور کم ظرف ہوتے ہیں وہ نعمت پا کر اکڑنے اور اترانے والے بن جاتے ہیں اور ان لوگوں کو نہایت حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں جو ان کے ہم سر نہیں ہوتے۔ لقمان نے اس روش کے اختیار کرنے سے اپنے فرزند کو روکا۔
      ’وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا‘۔ یہ آیت بعینہٖ سورۂ بنی اسرائیل میں بھی گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے ساتھ یہ تنبیہ بھی ہے کہ

      ’لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا‘۔ (۳۷)
      یعنی کوئی کتنا ہی اکڑ کے اور سر اونچا کر کے چلے لیکن اسے یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ نہ وہ زمین کو پھاڑ سکتا اور نہ وہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتا)

      تو جس خدا کی قدرت و عظمت کے یہ آثار ہر شخص دیکھ رہا ہے اس کی خدائی میں اکڑنے اور اترانے کے کیا معنی! آدمی کا غرور اس کے چہرے اور اس کی گردن سے بھی نمایاں ہوتا ہے اور اس کی چال سے بھی، لقمان نے ان دونوں ہی چیزوں میں غرور کی روش اختیار کرنے سے اپنے بیٹے کو روکا۔
      ’اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ‘۔ یہ تنبیہ ہے اور بڑی ہی سخت تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی اکڑنے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ جن کو مال و جاہ حاصل ہو اور وہ اس کو اللہ تعالیٰ کے انعام کے بجائے اپنی قابلیت و استحقاق کا کرشمہ سمجھ بیٹھیں ان کے اندر شکر کے بجائے لازماً فخر و غرور کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔ لقمان نے اسی خطرے سے اپنے بیٹے کو آگاہ فرمایا ہے کہ نعمت کو اللہ کا انعام اور اس کا امتحان سمجھنا، اس کے سبب سے مغرور ہو کر اپنے کو خدا کے غضب کا مستحق نہ بنا لینا۔

       

      جاوید احمد غامدی اور لوگوں سے بے رخی نہ کرو اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو، اِس لیے کہ اللہ کسی اکڑنے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس میں خاص طور پر اشارہ اُن غربا کی طرف ہے جن کو امرا و اغنیا حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
      یعنی اُس سے نفرت کرتا ہے۔ اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ کیسی سخت تنبیہ ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو پست رکھ۔ بے شک سب سے زیادہ مکروہ آواز گدھے کی آواز ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تواضع اور فروتنی کی تعلیم: اوپر کی باتیں نہی کے اسلوب میں ہیں۔ اب یہ اسی تواضع و فروتنی کی تعلیم مثبت انداز میں دی ہے کہ اپنی چال میں اکڑ کے بجائے فروتنی و تواضع اور اپنی آواز میں کرختگی اور خشونت کی جگہ نرمی اور لینت پیدا کرو۔ ’مِنْ‘ اس بات پر دلیل ہے کہ جب خالق نے انسان کو ایک ہی قسم کی آواز پر نہیں پیدا کیا ہے بلکہ اس کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے کہ اس کو وہ پست بھی کر سکتا ہے اور بلند بھی تو موقع و محل کے مطابق وہ اس صلاحیت کو استعمال کرے، گدھے کی طرح ہمیشہ اپنا حلق اور لوگوں کے کان پھاڑنے ہی کی کوشش نہ کرے، ’اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ‘ کا ٹکڑا یہاں کرخت اور سخت لب و لہجہ سے نفرت دلانے کے لیے ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ار اس کو حسن بیان اور حسن کلام کی نعمت سے نوازا ہے تو وہ اس مقام کو چھوڑ کر گدھوں کی صف میں شامل ہونے کی کوشش کیوں کرے! یہ بلبل کی بدقسمتی ہے کہ وہ زاغ و زغن کی ہمنوائی کرے!
      لقمان کی نصیحتیں بڑوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں: لقمان کی یہ نصیحتیں اگرچہ ہر شخص کے لیے اپنے اندر یکساں خیر و برکت رکھتی ہیں لیکن ان لوگوں کے لیے یہ خاص اہمیت رکھنے والی ہیں جن کو قیادت و سربراہی اور امارت و حکومت کا مقام حاصل ہو۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، لقمان صرف ایک حکیم نہیں بلکہ ایک حکمران حکیم تھے۔ ان کو اپنی قوم کی سربراہی حاصل تھی اور یہ نصیحتیں اپنے بیٹے کو انھوں نے سرداری و قیادت کی ذمہ داریاں سمجھانے کے لیے کی ہیں۔ یہ اگرچہ نبی نہیں تھے لیکن ان کو حضرت داؤدؑ سے فی الجملہ مشابہت ہے۔

      جاوید احمد غامدی اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو اور اپنی آواز کو پست رکھو، حقیقت یہ ہے کہ سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی چال میں اکڑ کے بجاے فروتنی و تواضع اور آواز میں کرختگی اور خشونت کے بجاے نرمی اورلینت پیدا کرو۔ اخلاق کے رذائل میں سب سے بری چیز تکبر ہے اور یہ انسان کے چہرے، اُس کی گردن اور اُس کی چال اور انداز گفتگو، ہر چیز سے ظاہر ہوتا ہے۔ لقمان نے بیٹے کو یہ اُسی سے بچنے کی نصیحت کی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...’اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ‘ کا ٹکڑا یہاں کرخت اور سخت لب و لہجہ سے نفرت دلانے کے لیے ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اُس کو حسن بیان اور حسن کلام کی نعمت سے نوازا ہے تو وہ اِس مقام کو چھوڑ کر گدھوں کی صف میں شامل ہونے کی کوشش کیوں کرے؟ یہ بلبل کی بدقسمتی ہے کہ وہ زاغ و زغن کی ہم نوائی کرے!‘‘(تدبرقرآن۶/ ۱۳۳)

      اِسی طرح آیت میں ’وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ‘ کے ’مِنْ‘ کے بارے میں اُنھوں نے لکھا ہے:

      ’’...(یہ) اِس بات پر دلیل ہے کہ جب خالق نے انسان کو ایک ہی قسم کی آواز پر نہیں پیدا کیا ہے، بلکہ اُس کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے کہ اُس کو وہ پست بھی کر سکتا ہے اور بلند بھی تو موقع و محل کے مطابق وہ اِس صلاحیت کو استعمال کرے، گدھے کی طرح ہمیشہ اپنا حلق اور لوگوں کے کان پھاڑنے ہی کی کوشش نہ کرے۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۱۳۳)

    • امین احسن اصلاحی تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کی چیزوں کو تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے اور تمہارے اوپر ہر قسم کی ظاہری و باطنی نعمتیں پوری کی ہیں! پھر بھی لوگوں میں ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے باب میں بغیر کسی دلیل، بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑتے ہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خدا ہی کی شکرگزاری کے دلائل: اس سورہ کی تمہید آیت ۱۱ پر بدیں الفاظ ختم ہوئی تھی:

      ’ہٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ فَأَرُوۡنِیْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ بَلِ الظَّالِمُوۡنَ فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ‘
      (یہ ساری چیزیں تو اللہ کی مخلوق ہیں تو تم مجھے دکھاؤ کہ انھوں نے کیا چیزیں پیدا کی ہیں جن کو تم اس کے سوا معبود بنائے بیٹھے ہو! بلکہ یہ ظالم نہایت کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں!)

      اس کے بعد اسی حقیقت کی تائید میں لقمان کی حکمت کا حوالہ آ گیا تھا کہ انھوں نے بھی اپنے فرزند کو خدا ہی کا شکرگزار رہنے کی تلقین کی تھی۔ اب اسی مضمون کو آفاق کے دلائل کی روشنی میں مزید واضح فرمایا اور انداز کلام اظہار تعجب اور زجر کا ہے کہ خدا کے بندو، تم نے اس امر پر غور نہیں کیا کہ آسمانوں اور زمین کو جتنی چیزیں بھی تمہارے کام آ رہی ہیں ان سب کو تمہاری مقصد برآری میں خدا نے لگایا ہے، ان میں سے کسی چیز کے متعلق بھی تم یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ خدا کے سوا کسی اور نے ان کو پیدا کیا ہے تو آخر کس دلیل سے تم نے دوسروں کو شریک بنایا اور ان کی عبادت کر رہے ہو!
      تمام ظاہری و باطنی نعمتیں اللہ ہی کی عطا کردہ ہیں: ’وَأَسْبَغَ عَلَیْْکُمْ نِعَمَہُ ظَاہِرَۃً وَبَاطِنَۃً‘۔ ’اسباغ‘ کے اصل معنی وسیع اور کشادہ کرنے کے ہیں پھر یہیں سے یہ اتمام و تکمیل کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا۔ ’وَأَسْبَغَ عَلَیْْکُمْ نِعَمَہُ‘ یعنی اس نے ہر پہلو سے اپنی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں۔ یہ نعمتیں ظاہری و مادی بھی ہیں اور عقلی و روحانی بھی۔ شکل و صورت، قد و قامت، ہاتھ پاؤں، غذا، لباس اور اس قبیل کی دوسری تمام چیزیں بھی اس کی بخشی ہوئی ہیں اور سمع و بصر، عقل و ادراک اور بصیرت و ہدایت کی نعمتیں بھی اسی کی عطا کردہ ہیں، ان میں سے کسی چیز کے متعلق کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ خدا کے سوا کسی اور سے اس کو ملی ہیں یا کوئی دوسرا ان کے ملنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تو جب تمام نعمتوں کو بخشنے والا اللہ ہی ہے تو بندے کی تمام شکرگزاری و نیاز مندی کا حق دار بھی وہی ہوا، پھر بلا کسی دلیل کے کوئی دوسرا اس کے اس حق میں کس طرح ساجھی بن سکتا ہے!
      مشرکین کا بے دلیل مجادلہ: ’وَمِنَ النَّاسِ مَن یُجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْْرِ عِلْمٍ وَلَا ہُدًی وَلَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ‘۔ یعنی جہاں تک خدا اور اس کی شکرگزاری کے حق کا تعلق ہے وہ تو ایک ثابت شدہ حقیقت ہے جس سے کسی کے لیے مجال انکار نہیں ہے، لیکن یہ عجیب ماجرا ہے کہ لوگوں میں ایسے شامت زدہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کی توحید کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ ان کے پاس نہ کوئی دلیل ہے، نہ کوئی رہنمائی ہے اور نہ کسی روشن کتاب کی سند ہے۔ ’یُجَادِلُ فِی اللّٰہِ‘ میں مضاف محذوف ہے، یعنی ’فِیْ تَوْحِیْدِ اللّٰہِ‘۔ مشرکین عرب خدا کے منکر نہیں تھے، ان کا سارا جھگڑا توحید کے باب میں تھا۔ ’بِغَیْْرِ عِلْمٍ‘ میں علم سے مراد کوئی دلیل ہے خواہ وہ عقلی ہو یا نقل۔ اوپر آیت ۶ میں بھی یہ لفظ گزر چکا ہے۔ یہ لفظ جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں ’ظن‘ کے مقابل میں بھی آتا ہے، اس وجہ سے اس سے ہر وہ چیز مراد ہو سکتی ہے جو یقین و اعتماد پیدا کرنے والی ہو۔ لفظ ’ہُدًی‘ یہاں ’کِتٰبٍ مُّنِیْر‘ کے ساتھ آیا ہے جو اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ خاص سے پہلے عام کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت خلق کو انبیاء علیہم السلام کی زبانی تعلیم کے ذریعہ سے بھی پہنچی ہے اور روشن صحیفوں کے ذریعہ سے بھی مثلاً تورات، زبور، انجیل اور قرآن مجید کے ذریعے سے۔ میرا خیال ہے کہ ’ہُدًی‘ سے یہاں پہلی قسم کی دلیل مراد ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ دلیل کی یہ نفی اصل حقیقت کے اعتبار سے ہے۔ مشرکین اپنے موقف کی تائید میں جو کچھ کہتے تھے اس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ اس کی نوعیت مجرد تقلید کی ہے اور مجرد تقلید کوئی دلیل نہیں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (تم نے اِسے بھلا دیا)۔ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ ہی ہے جس نے زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، سب تمھارے کام میں لگا دیا ہے اور اپنی ہر قسم کی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کر دی ہیں؟ اِس کے باوجود لوگوں میں ایسے بھی ہیں جواللہ کے بارے میں بغیر کسی دلیل، بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی لقمان کی اِس حکمت کو ۔ یہاں سے سلسلۂ کلام پھر اُسی مضمون سے مربوط ہو گیا ہے جس کی تائید میں لقمان کی حکمت کا حوالہ دیا گیا ہے۔
      یعنی مادی بھی اور عقلی اورروحانی بھی۔
      اِس جملے میں استفہام کا اسلوب زجر اور اظہار تعجب کے لیے ہے۔
      یعنی اُس کی توحید کے بارے میں۔ اِس فقرے میں مضاف محذوف ہے۔
      اصل میں لفظ ’عِلْم‘ استعمال ہوا ہے۔ اِس سے مراد یہاں کوئی ایسی چیز ہے، خواہ وہ عقلی ہو یا نقلی، جو آدمی کے اندر یقین و اعتماد پیدا کر سکے۔
      یہ خاص سے پہلے عام کا ذکر ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اللہ تعالیٰ کی ہدایت خلق کو انبیا علیہم السلام کی زبانی تعلیم کے ذریعے سے بھی پہنچی ہے اور روشن صحیفوں کے ذریعے سے بھی، مثلاً تورات، زبور، انجیل اور قرآن مجید کے ذریعے سے۔ میرا خیال ہے کہ ’ہُدًی‘ سے یہاں پہلی قسم کی دلیل مراد ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ دلیل کی یہ نفی اصل حقیقت کے اعتبار سے ہے۔ مشرکین اپنے موقف کی تائید میں جو کچھ کہتے تھے، اُس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ اُس کی نوعیت مجرد تقلید کی ہے اور مجرد تقلید کوئی دلیل نہیں ہے۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۱۳۹)

    Join our Mailing List