Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 60 آیات ) Ar-Rum Ar-Rum
Go
  • الروم (The Romans)

    60 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سابق سورہ ۔۔۔ عنکبوت ۔۔۔ کا مثنیٰ ہے اور دونوں کا قرآنی نام بھی ایک ہی یعنی الٓمّٓ ہے۔ اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ پچھلی سورہ میں ظاہری حالات کے علی الرغم مسلمانوں کو نصرت الٰہی اور غلبہ کی بشارت دی گئی ہے اور اس بشارت کی بنیاد اس حقیقت پر رکھی گئی ہے کہ اس کارخانۂ کائنات کو اللہ تعالیٰ نے بالحق پیدا کیا ہے۔ وہ وحدہٗ لاشریک ہے۔ تمام امر و نہی اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ اس دنیا میں بھی اپنے رسول اور اپنے ساتھیوں کو غلبہ بخشے گا اور اس دنیا کے بعد آخرت بھی ہے جس میں اس کے کامل حق و عدل کا ظہور ہو گا۔ اس وقت باطل یکسر نابود ہو جائے گا اور حق و اہل حق کو ابدی بادشاہی حاصل ہو گی۔
    یہ مسائل مشرکین مکہ اور مسلمانوں کے درمیان زیربحث ہی تھے کہ اسی اثناء یعنی ۶۱۴ء میں پڑوس کے ملک یعنی شام اور فسلطین میں یہ انقلاب پیش آیا کہ مجوسیوں نے حملہ کر کے رومیوں کو وہاں سے بے دخل کر دیا۔ رومی چونکہ نصرانیت کے پیرو تھے اس وجہ سے دین و عقیدہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں سے قریب تھے اور اس قربت کے سبب سے قدرتی طور پر مسلمانوں کو ان سے ہمدردی تھی۔ اس کے برعکس مجوسی دین شرک کے پیرو تھے اس وجہ سے مشرکین کی تمام ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں۔ مجوسیوں کے ہاتھوں رومیوں کی اس شکست سے مشرکین مکہ کو بڑی شہ ملی۔ اس کی آڑ میں انھوں نے قرآن کی ان تمام باتوں کا مذاق اڑانا شروع کر دیا جو ان کی خواہشوں کے خلاف تھیں۔ مثلاً یہ کہ مسلمان جو یہ کہتے ہیں کہ دین توحید ہی حق ہے یا مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہو گا یا قیامت آنے والی ہے جس میں حق کا بول بالا ہو گا، یہ سب باتیں ان کی محض لایعنی ہیں۔ اگر ان کی یہ باتیں سچی ہوتیں تو بھلا مجوسیوں کو رومیوں پر کس طرح غلبہ حاصل ہوتا! یہ واقعہ تو اس بات کی صاف شہادت ہے کہ ہمارا ہی دین و عقیدہ اور ہمارا ہی نظریۂ زندگی صحیح ہے اور ہم ہی غالب و حاکم رہیں گے۔
    قرآن نے اس سورہ میں اسی واقعہ کو بنیاد بنا کر ان تمام حقائق کو ازسرنو مبرہن کیا ہے جن کو مشرکین نے مشتبہ بنانے کی کوشش کی۔

  • الروم (The Romans)

    60 آیات | مکی

    العنکبوت ۔ الروم

    ۲۹ ۔ ۳۰

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع منکرین رسالت کو تہدید و وعید، اُن کے شبہات کی تردید اور اہل ایمان کے لیے، اگر وہ ثابت قدمی کے ساتھ اپنے ایمان پر قائم رہیں تو انجام خیر کی بشارت ہے۔ پہلی سورہ ۔۔۔ العنکبوت ۔۔۔ میں اِسی رعایت سے اُنھیں مصائب و شدائد کے ہجوم میں عزیمت و استقامت کی تلقین کی گئی ہے۔ اِس کے لیے بناے استدلال پہلی سورہ میں زیادہ تر تاریخ کے حقائق اور دوسری میں انفس و آفاق کی نشانیاں ہیں۔
    اِن میں خطاب اگرچہ بعض مقامات پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اور اہل ایمان سے بھی، لیکن روے سخن ہر جگہ قریش مکہ ہی کی طرف ہے۔
    دونوں سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت و براء ت کا مرحلہ قریب آ چکا ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ الٓمّٓ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نبی صلعم کی رسالت کا اثبات آپ کے پیش کردہ اصولوں کی صداقت کے پہلو سے: یہ ہمارے نزدیک، جیسا کہ ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آ رہے ہیں، مستقل جملہ ہے۔ یعنی یہ سورہ ’الٓمّٓ‘ ہے۔ یہ اس سورہ کا اصل قرآنی نام ہے۔ یہی نام سابق سورہ کا بھی ہے۔ یہ قرینہ ہے اس بات کا کہ عمود کے اعتبار سے دونوں سورتوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ پچھلی سورہ میں اس کائنات کا جو فلسفہ بیان ہوا تھا اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر رسول اور اس کے ساتھیوں کے لیے دنیا اور آخرت میں جس نصرتِ الٰہی اور غلبہ کی بشارت دی گئی تھی، ایک خاص واقعہ کو جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے، دلیل بنا کر کفار نے اس کا خوب مذاق اڑایا اور اس طرح ان کے زعم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تکذیب کے لیے ان کو ایک ایسی شہادت مل گئی جس پر وہ بہت مسرور ہوئے اور قدرتی طور پر ان کی یہ شادمانی مسلمانوں کے لیے باعث رنج ہوئی۔ قرآن نے اس سورہ میں اسی واقعہ کو تمہید بنا کر ان تمام پہلوؤں کی وضاحت فرمائی جن سے بے خبری کی بنا پر کفار مغالطہ میں مبتلا ہوئے اور جن کے اچھی طرح ذہن نشین نہ ہونے کے سبب سے مسلمانوں کی ایک جماعت کو بھی خلجان لاحق ہوا۔ اس طرح یہ سورہ گویا سابق سورہ کے مطالب کو ازسرنو مدلل و مبرہن اور ان تمام شبہات کا ازالہ کر رہی ہے جو اس سلسلہ میں پیدا ہوئے یا پیدا ہو سکتے تھے۔ گویا دونوں سورتوں میں زیر بحث موضوع ایک ہی ہے۔ فرق صرف پہلو اور نہج استدلال کا ہے۔ ان دونوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت آپ کے پیش کردہ اصولوں کی صداقت کے پہلو سے واضح کی گئی ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورۂ ’الٓمّٓ‘ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ سورہ کا نام ہے۔ اِس کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہم بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر چکے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی رومی (پاس کے علاقے میں) مغلوب ہوئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن کی ایک پیشین گوئی کی صداقت: ’اَدْنَی الْاَرْضِ‘ سے مراد یہاں شام و فلسطین کی سرزمین ہے جو عرب کی سرزمین سے بالکل متصل تھی۔ اس علاقے پر اس زمانے میں رومیوں کی حکومت تھی لیکن وہ اس وقت سخت اندرونی خلفشار میں مبتلا تھے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر ایرانیوں نے ان پر حملہ کر دیا اور ان علاقوں سے ان کو بے دخل کر دیا۔ یہ واقعہ ۶۱۴ء یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے چھٹے یا ساتویں سال پیش آیا۔

      جاوید احمد غامدی رومی (قریب کی سرزمین میں) مغلوب ہو گئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی (رومی) پاس کے علاقے میں (مغلوب ہوئے)۔ اور وہ اپنی مغلوبیت کے بعد عنقریب ۔۔۔ چند سالوں میں ۔۔۔ غالب آ جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن کی ایک پیشین گوئی کی صداقت: ’اَدْنَی الْاَرْضِ‘ سے مراد یہاں شام و فلسطین کی سرزمین ہے جو عرب کی سرزمین سے بالکل متصل تھی۔ اس علاقے پر اس زمانے میں رومیوں کی حکومت تھی لیکن وہ اس وقت سخت اندرونی خلفشار میں مبتلا تھے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر ایرانیوں نے ان پر حملہ کر دیا اور ان علاقوں سے ان کو بے دخل کر دیا۔ یہ واقعہ ۶۱۴ء یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے چھٹے یا ساتویں سال پیش آیا۔
      ’وَھُمْ مِنْ م بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ‘۔ ’غَلَبٌ‘ اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے۔ یہ قرآن نے پیشین گوئی فرمائی کہ اگرچہ رومی اس وقت مغلوب ہو گئے ہیں لیکن یہ مغلوبیت ان کی عارضی ہے، بہت جلد وہ پھر ایرانیوں پر غالب ہو جائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی (رومی) قریب کی سرزمین میں (مغلوب ہو گئے ہیں)۔ اپنی اِس مغلوبیت کے بعد وہ اگلے چند برسوں میں غالب ہو جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’اَدْنَی الْاَرْضِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن سے مراد یہاں شام و فلسطین کی سرزمین ہے جو عرب کی سرزمین کے بالکل متصل تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو اُس وقت دنیا میں دو بڑی سلطنتیں تھیں: ایک مسیحی رومی سلطنت، دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کشمکش جاری رہتی تھی۔ ۶۰۳ ء کا واقعہ ہے کہ ایک بغاوت کو فرو کرنے کا بہانہ بنا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ اِس کے بعد رومیوں کو شکست پر شکست ہوتی رہی، یہاں تک کہ ۶۱۶ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا چھٹا یا ساتواں سال تھا۔ قرآن نے یہ پیشین گوئی ۶۱۷ء اور ۶۲۰ء کے درمیان کسی وقت کی ہے۔ ’’زوال روما*‘‘ کے مصنف ایڈورڈ گبن کا بیان ہے کہ یہ جس زمانے میں کی گئی، اُس وقت کوئی بھی پیشگی خبر اتنی بعید از وقوع نہیں ہو سکتی تھی، اِس لیے کہ رومی حکمران ہرقل کے پہلے بارہ سال رومی سلطنت کے خاتمے کا اعلان کر رہے تھے۔ قرآن نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ بہت دن نہیں لگیں گے، یہ زیادہ سے زیادہ اگلی دہائی (بِضْعِ سِنِیْنَ) کے اندر پوری ہو جائے گی۔ چنانچہ ٹھیک اِس اعلان کے مطابق یہ پوری ہو گئی اور مارچ ۶۲۸ء میں رومی حکمران اِس شان سے قسطنطنیہ واپس آیا کہ اُس کے رتھ کو چار ہاتھی کھینچ رہے تھے اور بے شمار لوگ دارالسلطنت کے باہر چراغ اور زیتون کی شاخیں لیے اپنے ہیرو کے استقبال کے لیے موجو د تھے۔
      اِس تعیین و تصریح کے ساتھ اور اِس حتمی اسلوب میں یہ پیشین گوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے اثبات کی دلیل کے طور پر کی گئی۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیحیوں کے ساتھ مذہبی قربت، قرآن کی دعوت اور مسلمانوں کے ساتھ بالخصوص حبشہ میں اُن کے طرزعمل کی وجہ سے مسلمان قدرتی طور پر اُن سے ہم دردی رکھتے تھے۔ قرآن نے اُنھیں اطمینان دلایا کہ وہ رنجیدہ خاطر نہ ہوں، اُن کے اہل کتاب بھائی عنقریب غلبہ حاصل کر لیں گے اور یہ پیشین گوئی اُس نبوت کی بھی بہت بڑی دلیل بن جائے گی جس پر وہ ایمان لائے ہیں، اِس لیے کہ خدا کے سوا کوئی بھی ایسی صراحت اور حتمیت کے ساتھ مستقبل کے بارے میں اِس طرح کی خبر نہیں دے سکتا۔
      _____
      * زوال روما،ایڈورڈ گبن۲/ ۷۸۸۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ ہی کے حکم سے ہوا جو پہلے ہوا اور اللہ ہی کے حکم سے ہو گا جو بعد میں ہو گا اور اس وقت اہل ایمان مسرور ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ‘ یعنی اس انقلاب میں، جس کی قرآن خبر دے رہا ہے، زیادہ دن نہیں لگیں گے، صرف چند سالوں کے اندر اندر یہ واقع ہو جائے گا۔ اگرچہ ’سَیَغْلِبُوْنَ‘ کے اندر بھی مستقبل قریب کا مفہوم موجود تھا لیکن اس میں ایک قسم کا ابہام تھا۔ اس ابہام کو رفع کرنے کے لیے اس کے ساتھ ’فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ‘ کی قید لگا دی جس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ انقلاب زیادہ سے زیادہ اگلی دہائی کے اندر واقع ہو جائے گا۔ لفظ ’بِضْع‘ کا اطلاق دس سے زیادہ کی تعداد کے لیے نہیں ہوتا۔ اس تعیین و تصریح کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ اس واقعہ کو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مشرکین نے اپنے فکر و فلسفہ کی صحت کی دلیل بنا لیا تھا جس سے قدرتی طور پر مسلمانوں کو صدمہ پہنچا۔ قرآن نے اس مؤکد پیشین گوئی کے ذریعے سے ایک طرف تو مسلمانوں کو اطمینان دلایا کہ تمھارے مخالفوں نے اس واقعہ کو اپنے حق میں جو دلیل بنایا ہے اور جس سے وہ بہت خوش ہیں، ان کی یہ خوشی چند روزہ ہے، بہت جلد یہ غم سے بدل جائے گی۔ دوسری طرف مشرکین کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے جانچنے کے لیے ایک کسوٹی رکھ دی کہ یہ پیشین گوئی آپ کی نبوت کی ایک دلیل ہو گی۔ تاریخوں سے ثابت ہے کہ اس واقعہ کے تقریباً نو سال بعد ہرقل نے رومیوں کو ازسرنو منظم کر کے ایرانیوں کو سخت شکست دی اور ان سے نہ صرف اپنے علاقے واپس لے لیے بلکہ ان کے بھی بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا اور اس طرح قرآن کی پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہو گئی۔
      قوموں سے بناؤ اور بگاڑ میں اصلی عامل کردار ہے: ’لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ م بَعْدُ‘۔ یعنی جو کچھ ہوا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہوا ہے اور آگے جو کچھ ہو گا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہو گا۔ قوموں کی زندگی میں اتنے بڑے بڑے انقلابات محض اتفاقات زمانہ اور گردش روزگار سے نہیں پیش آتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پیش آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ہر حکم حق و عدل پر مبنی ہوتا ہے۔ رومیوں نے جب اپنے اندر وہ خرابیاں پیدا کرلیں جو کسی قوم کو خدا کے تازیانۂ تنبیہ کا مستحق بناتی ہیں تو وہ اس سے مجرد اس بنیاد پر نہیں بچ سکتے تھے کہ وہ بعض اچھے عقائد و رسوم کا اظہار کرتے ہیں۔ صرف رسوم و عقائد اجتماعی زندگی کے بنانے بگاڑنے میں اصلی دخل نہیں رکھتے بلکہ اصل شے وہ انفرادی و اجتماعی کردار ہے جو ان عقائد و رسوم سے پیدا ہوتا ہے یا پیدا ہونا چاہیے۔ اگر وہ کردار نہ پیدا ہو تو محض کھوکھلے رسوم کچھ بھی کارآمد نہیں ہوتے۔ چنانچہ رومیوں کا یہی کھوکھلا پن مجوسیوں کے آگے ان کی شکست کا سبب ہوا اور اب مستقبل قریب میں ان کے لیے جس غلبہ کی بشارت دی جا رہی ہے تو وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہو گا اور اللہ کا ہر حکم عدل و حق پر مبنی ہوتا ہے اس وجہ سے لازماً یہ غلبہ اس وجہ سے ان کو حاصل ہو گا کہ وہ اپنے حالات کی اصلاح کر کے ایرانیوں کے مقابل میں اپنے کو اللہ کی مدد کا مستحق بنائیں گے۔
      مسلمانوں کا رویہ دوسری قوموں کے ساتھ: ’وَیَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ‘۔ اس دن مسلمان خوش ہوں گے۔ اس وجہ سے بھی کہ جو لوگ مذہب اور فکر و فلسفہ میں ان سے قریب تر ہیں ان کو فتح ہو گی اور اس وجہ سے بھی کہ قرآن کی ایک عظیم پیشین گوئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے، پوری ہو گی۔
      یہ امر یہاں قابل توجہ ہے کہ باوجودیکہ رومی صحیح نصرانیت کے پیرو نہیں تھے بلکہ ان کے عقائد و اعمال میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو چکی تھیں لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کو مجوسیوں کے مقابل میں ان سے ہمدردی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ہمدردی کی تحسین فرمائی۔ اسلام نے دوسری غیر مسلم قوموں کے ساتھ اسی اصول پر اپنے قانون اور معاملات کی بنیاد رکھی ہے۔ یعنی جو قوم اپنے نظریات و عقائد اور فکر و فلفسہ میں اسلام سے جتنی قریب ہو گی بین الاقوامی میدان میں مسلمانوں کی ہمدردیاں دوسروں کے مقابل میں ان کے ساتھ اتنی ہی زیادہ ہوں گی۔

      جاوید احمد غامدی اِس سے پہلے جو کچھ ہوا ہے، وہ بھی اللہ کے حکم سے ہوا ہے اور جو کچھ بعد میں ہو گا، وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہو گا اور ایمان والے اُس دن (اللہ کی مدد سے) مسرور ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُس قانون کے مطابق ہو گا جو خدا نے قوموں کے امتحان اور اُن کے عزل و نصب کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ چنانچہ وہ دیکھتا ہے کہ زمین میں اقتدار پا کر وہ کیا رویہ اختیار کرتی ہیں، پھر اُسی کے لحاظ سے اپنا فیصلہ صادر فرماتا ہے۔
      یعنی یہ وہ زمانہ ہو گا، جب مسلمانوں کے لیے بھی اللہ کی مدد آ چکی ہو گی، جو اِس وقت ستائے جا رہے ہیں اور قریش کے ظلم و ستم سے نجات پا کر وہ بھی خوش و خرم ہوں گے۔ چنانچہ معلوم ہے کہ ۶۲۴ء میں جب قیصر روم کی فتوحات کی ابتدا ہوئی تو مسلمان نہ صرف یہ کہ یثرب میں متمکن ہو چکے تھے، بلکہ بدر کی جنگ میں قریش پر فتح پا کر اُن کی پوری قیادت کا خاتمہ بھی کر چکے تھے۔ اِس میں، ظاہر ہے کہ یہ خوشی بھی شامل ہوگی کہ جس کتاب پر وہ ایمان رکھتے ہیں، اُس کی ایک عظیم پیشین گوئی حرف بہ حرف پوری ہو گئی اور وہ لوگ غالب ہو گئے جو مذہب میں اُن سے قریب تر ہیں۔ اِس سے، اگر غور کیجیے توغلبۂ حق کی اُس بشارت کا زمانہ بھی اللہ تعالیٰ نے بالکل متعین کر دیا ہے جو قرآن میں جگہ جگہ دی گئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ کی مدد سے۔ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور عزیز و رحیم تو وہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قوموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ: ’بِنَصْرِ اللّٰہِ‘ کا تعلق ’سَیَغْلِبُوْنَ‘ سے بھی ہو سکتا ہے اور ’یَفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ‘ سے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ غلبہ جو ان کو حاصل ہو گا اللہ تعالیٰ کی مدد سے حاصل ہو گا، اس لیے کہ اللہ ہی جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور کسی کی مدد نہیں کر سکتا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت تمام تر حق و عدل پر مبنی ہے اس وجہ سے وہ انھی کی مدد فرماتا ہے جو اس کے عدل و حکمت کی رو سے اس کی مدد کے سزاوار ہوتے ہیں۔ ’عزیز و رحیم‘ کی صفات کا حوالہ یہاں اس کی مشیت کی نوعیت کے اظہار کے لیے ہے کہ وہ غالب و مقتدر ہے اس وجہ سے اس کی مشیت میں کوئی مزاحم تو نہیں ہو سکتا لیکن ساتھ ہی وہ رحیم بھی ہے اس وجہ سے اس کا ہر ارادہ عدل و رحمت پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ اپنی مشیت کے زور میں یہ نہیں کرتا کہ قوموں کو قوموں سے ٹکرا کر ان کے فساد فی الارض کا تماشا دیکھے۔

      جاوید احمد غامدی (ایمان والے اُس دن) اللہ کی مدد سے (مسرور ہوں گے)۔ اللہ جس کی چاہتا ہے، مدد فرماتا ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور بڑا مہربان بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی بڑا مہربان ہے، اِس لیے اپنا کوئی مشن جب اپنے بندوں کے سپرد کرتا ہے تو لازماً اُن کی مدد بھی کرتا ہے اور اُس کے ساتھ زبردست بھی ہے، اِس لیے جب مدد کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کا یہ فیصلہ نافذ ہو کر رہتا ہے ،اُس میں کوئی مزاحم نہیں ہو سکتا۔

    • امین احسن اصلاحی یہ اللہ کا حتمی وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مسلمانوں کے غلبہ کا وعدہ: ’وَعْدَ اللّٰہِ‘ یہاں مصدر موکد ہے اس وجہ سے اس کے اندر تاکید کا مفہوم پیدا ہو جائے گا۔ یعنی اہل ایمان کی مدد کا یہ وعدہ بالکل قطعی اور اٹل ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا لیکن جن لوگوں کی نظر صرف ظاہری اسباب و حالات تک محدود ہے وہ اس مخفی ہاتھ کو نہیں دیکھ رہے ہیں جو ان ظواہر کے اندر کارفرما ہے۔ اس وجہ سے وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھ رہے ہیں۔ یہاں جس وعدے کے پورے ہونے کی طرف اشارہ ہے وہ صرف رومیوں کے غلبہ کا وعدہ نہیں ہے بلکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے غلبہ کا وہ وعدہ بھی ہے جس کی تکذیب کے لیے قریش نے مجوسیوں کی فتح کو دلیل بنایا تھا۔ اس واقعہ پر تبصرہ کرنے کے بعد یہ قرآن نے نہایت تاکید کے ساتھ اس وعدے کے پورے ہونے کا اظہار فرمایا جو اصلاً اس سورہ میں زیربحث ہے۔ آگے اسی سورہ کی آیات ۴۷، ۶۰ میں اس کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔

      جاوید احمد غامدی اللہ کا حتمی وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں ’وَعْد‘ کا نصب مصدرکا ہے، یعنی ’وَعَدَ اللّٰہُ ذٰلِکَ وَعْدًا‘۔ اِس سے مراد اُسی نصرت کا وعدہ ہے جس کا ذکر پیچھے ’بِنَصْرِ اللّٰہِ‘ کے الفاظ میں ہوا، اور جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو بھی اپنے مخالفین پر اُسی طرح غلبہ حاصل ہوجائے گا، جس طرح رومیوں کے غلبے کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ آگے اِسی سورہ کی آیات ۴۷،۶۰ میں اِس کی وضاحت ہو گئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی وہ اس دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ بالکل ہی بے خبر ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ظاہر پرستوں اصل مغالطہ: اوپر والی آیت میں ان ظاہر پرستوں کے جس اندھے پن کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ اس کی توجیہ ہے کہ اول تو یہ لوگ اس دنیا کے صرف ظاہر حالات کو دیکھتے ہیں، ان کے باطن تک ان کی نگاہ نہیں پہنچتی کہ اصل متصرف اس کے اندر کون ہے اور اس کی صفات کیا ہیں اس وجہ سے یہ ان کے لیے ایک کھیل تماشا بن کر رہ گئی ہے، دوسرے یہ آخرت سے بالکل غافل ہیں اور جب یہ آخرت سے غافل ہیں تو آخرت کے بغیر اس کارخانۂ کائنات کو مبنی برعدل و حکمت تصور کرنا ناممکن ہے۔ ’وَہُمْ عَنِ الْآخِرَۃِ ہُمْ غَافِلُوۡنَ‘ میں مبتداء کا اعادہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن اس حقیقت کو زور و تاکید کے ساتھ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ آخرت سے اصلی غافل یہی لوگ ہیں۔ اس تاکید کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین عرب اگرچہ آخرت کا صاف الفاظ میں انکار نہیں کرتے تھے لیکن انھوں نے شرک و شفاعت کا ایک ایسا نظام کھڑا کر رکھا تھا کہ آخرت ان کے لیے ایک بالکل بے حقیقت چیز بن کر رہ گئی تھی۔ قرآن یہاں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کوئی یہ نہ گمان کرے کہ یہ لوگ آخرت کو کسی درجے میں بھی مانتے ہیں۔ اصلی حقیقت یہ ہے کہ آخرت سے یہ لوگ بالکل ہی بے خبر ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (اِس لیے کہ) وہ دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے تو وہ بالکل ہی بے خبر ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      چنانچہ نہ حالات کے باطن میں اتر کر کائنات میں خدا کے ہاتھ کی کارفرمائی کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ابتلا اور جزا و سزا اور عزل و نصب کے لیے اُس کے قوانین کو سمجھ سکتے ہیں، اِس لیے کہ آخرت سے بالکل ہی بے خبر ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی کیا انھوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا! اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے نہیں پیدا کیا ہے مگر غایت و حکمت اور ایک مدت مقرر کے ساتھ۔ اور لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کائنات کی مقصدیت سے استدلال: اس آیت میں اور آگے کی چند آیات میں اسی حقیقت کی تائید میں، جو اوپر بیان ہوئی، آفاق کے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ خود اپنے باطن میں اتر کر غور کرتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہو جاتی کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، ان میں سے کسی چیز کو بھی بے غایت و مقصد، محض کھیل تماشے کے طور پر، نہیں بنایا ہے بلکہ ہر چیز ایک غایت و مقصد اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ بندھی ہوئی پیدا ہوئی ہے۔ تو جب اس کائنات کی ہر چیز اپنے اندر ایک غایت و حکمت رکھتی ہے اور اس کے لیے ایک مدت بھی مقرر ہے تو یہ کس طرح باور کیا جا سکتا ہے کہ انسان جو اس کے اندر، واضح طور پر، ایک برتر مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے، بالکل بے مقصد اور عبث پیدا کیا گیا ہو۔ اس چیز کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک روز جزاء و سزا آئے جس میں وہ اپنے اعمال کی بابت مسؤل ہو، اپنی نیکیوں کا صلہ پائے اگر اس نے نیکیاں کی ہوں اور اپنی بدیوں کی سزا بھگتے اگر اس نے بدیاں کمائی ہوں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ کارخانۂ کائنات ایک کھلنڈرے کا کھیل اور انسان ایک شتر بے مہار اور بے غایت و مقصد وجود بن کے رہ جاتا ہے اور یہ بات اس کائنات کی اس مقصدیت اور حکمت کے بالکل منافی ہے جس کی شہادت اس کے ہر گوشہ سے مل رہی ہے۔ یہی مضمون دوسری جگہ اس طرح بیان ہوا ہے:

      ’وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِےْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘
      (اور وہ آسمانوں اور زمین کی خلقت میں غور کرتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب! تو نے یہ کارخانہ عبث نہیں پیدا کیا۔ تیری ذات پاک ہے تو ہمیں عذاب نار سے بچائیو!)

      ’أَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْ أَنفُسِہِمْ‘ کے الفاظ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ آسمان و زمین کی خلقت کی یہ حکمت ان لوگوں پر کھلتی ہے جو بالکل غیر جانب دار ہو کر اپنے باطن میں غوطہ لگاتے اور اصل حقیقت کو پانا چاہتے ہیں۔ رہے وہ جو محض دوسروں کے اندھے مقلد یا حقیقت کو جھٹلانے کے لیے معجزات اور نشانیوں کے طالب اور مناظرہ و مجادلہ کے لیے آستینیں چڑھائے رہتے ہیں وہ اس سے محروم ہی رہتے ہیں۔
      ’وَإِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّہِمْ لَکَافِرُوۡنَ‘۔ یعنی ہے تو یہ حقیقت بالکل واضح لیکن اس کے باوجود بہت سے نادان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف کھانے پینے اور عیش کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور اسی طرح ایک دن ختم ہو جائیں گے۔ ان کے لیے خدا کے آگے پیشی کا کوئی دن آنا نہیں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی کیا اِنھوں نے اپنے دل میں غور نہیں کیا؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن سب چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ لوگوں میں بہت سے ہیں جو اپنے پروردگار سے ملاقات کو مانتے ہی نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اپنے باطن میں اتر کر اور اصل حقیقت کو پانے کی خواہش کے ساتھ غور نہیں کیا۔ اِس لیے کہ انسان جب اِس طرح غور کرتا ہے تو اُس پر حقیقت لازماً کھل جاتی ہے۔
      یعنی غایت و حکمت کے ساتھ۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... جب اِس کائنات کی ہر چیز اپنے اندر ایک غایت و حکمت رکھتی ہے اور اِس کے لیے ایک مدت بھی مقرر ہے تو یہ کس طرح باور کیا جا سکتا ہے کہ انسان جو اِس کے اندر، واضح طور پر، ایک برتر مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے، بالکل بے مقصد اور عبث پیدا کیا گیا ہو؟ اِس چیز کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک روز جزا و سزا آئے جس میں وہ اپنے اعمال کی بابت مسؤل ہو، اپنی نیکیوں کا صلہ پائے، اگر اُس نے نیکیاں کی ہوں اور اپنی بدیوں کی سزا بھگتے، اگر اُس نے بدیاں کمائی ہوں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ کارخانۂ کائنات ایک کھلنڈرے کا کھیل اور انسان ایک شتر بے مہار اور بے غایت و مقصد وجود بن کے رہ جاتا ہے اور یہ بات اِس کائنات کی اُس مقصدیت اور حکمت کے بالکل منافی ہے جس کی شہادت اِس کے ہر گوشے سے مل رہی ہے۔ ‘‘(تدبرقرآن۶/ ۷۷)

      یہ علم حقیقی سے محرومی کا اصل سبب بیان کر دیا ہے کہ جب انسان اِس دنیا سے آگے کچھ سوچنے کے لیے تیار ہی نہ ہو تو اُس پر یہ حکمت کبھی نہیں کھل سکتی کہ کائنات کیوں پیدا کی گئی ہے اور اُس کا انجام کیا ہونا ہے؟

    • امین احسن اصلاحی کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے۔ وہ ان سے قوت میں زیادہ اور زمین کو زرخیز بنانے اور آباد کرنے میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھے اور ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے۔ پس اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تاریخ کے دلائل کی طرف اشارہ: یہ اسی حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے تاریخ کے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ اپنے ہی ملک کے آثار اور اس کی تاریخ پر نظر ڈالتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہو جاتی کہ جو قومیں اپنی عسکری قوت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر اور تمدنی و تعمیری صلاحیتوں میں ان سے کہیں آگے تھیں، ان کا انجام کیا ہو چکا ہے! اشارہ قوم عاد، ثمود، قوم مدین وغیرہ کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں تفصیل کے ساتھ پچھلی سورتوں میں بیان ہو چکی ہیں۔ فرمایا کہ ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے لیکن انھوں نے اپنی آنکھیں اس طرح بند رکھیں کہ وہ کسی نشانی سے بھی نہ کھلیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کو عذاب میں پکڑا اور ان کا عذاب میں پکڑا جانا ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہوا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے اس لیے کہ انھوں نے اس انذار کی کوئی قدر نہیں کی جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اہتمام فرمایا بلکہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور نہایت جسارت کے ساتھ ان کا مذاق اڑاتے رہے ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ قریش قوموں کی اس تاریخ پر غور کریں کہ اس سے کیا بات ثابت ہوتی ہے؟ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے، جس میں ہر شخص اپنے زور میں جو چاہے کرتا پھرے، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہے، یا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ قوموں کے ساتھ اپنے قانون عدل و حکمت کے مطابق معاملہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہی دوسری بات ثابت ہوتی ہے اور پھر اسی سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن بھی آئے گا جس میں اللہ تعالیٰ ایک ایک فرد کا محاسبہ کرے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔

      جاوید احمد غامدی کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے کہ اُن لوگوں کا انجام کیا ہوا جو اِن سے پہلے تھے؟ وہ اِن سے قوت میں کہیں بڑھ کر تھے۔ اُنھوں نے زمینیں جوتیں (کہ اُنھیں زرخیز بنائیں) اور زمین کو جتنا اِن لوگوں نے آباد کیا ہے، اُس سے کہیں زیادہ اُنھوں نے اُسے آباد کیا تھا۔ اُن کے پیغمبراُن کے پاس نہایت واضح نشانیاں لے کر آئے تھے۔ (لیکن نہیں مانے اور سزا پائی) تو اُن پر اللہ ظلم کرنے والا نہیں تھا، بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ عاد و ثمود، قوم لوط اور مدین والوں کی طرف اشارہ ہے جو رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد بھی انکار پر جمے رہے اور بالآخر تباہ کر دیے گئے۔ انفس و آفاق کے دلائل کی طرف توجہ دلانے کے بعد قرآن بالعموم اِسی طریقے سے دینونت کے اُن واقعات کی طرف متوجہ کرتا ہے جو سرزمین عرب کی قدیم اقوام کے ساتھ پیش آئے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی پھر ان لوگوں کا انجام، جنھوں نے بری روش اختیار کی، برا ہوا۔ بوجہ اس کے کہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑاتے رہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تاریخ کے دلائل کی طرف اشارہ: یہ اسی حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے تاریخ کے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ اپنے ہی ملک کے آثار اور اس کی تاریخ پر نظر ڈالتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہو جاتی کہ جو قومیں اپنی عسکری قوت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر اور تمدنی و تعمیری صلاحیتوں میں ان سے کہیں آگے تھیں، ان کا انجام کیا ہو چکا ہے! اشارہ قوم عاد، ثمود، قوم مدین وغیرہ کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں تفصیل کے ساتھ پچھلی سورتوں میں بیان ہو چکی ہیں۔ فرمایا کہ ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے لیکن انھوں نے اپنی آنکھیں اس طرح بند رکھیں کہ وہ کسی نشانی سے بھی نہ کھلیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کو عذاب میں پکڑا اور ان کا عذاب میں پکڑا جانا ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہوا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے اس لیے کہ انھوں نے اس انذار کی کوئی قدر نہیں کی جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اہتمام فرمایا بلکہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور نہایت جسارت کے ساتھ ان کا مذاق اڑاتے رہے ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ قریش قوموں کی اس تاریخ پر غور کریں کہ اس سے کیا بات ثابت ہوتی ہے؟ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے، جس میں ہر شخص اپنے زور میں جو چاہے کرتا پھرے، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہے، یا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ قوموں کے ساتھ اپنے قانون عدل و حکمت کے مطابق معاملہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہی دوسری بات ثابت ہوتی ہے اور پھر اسی سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن بھی آئے گا جس میں اللہ تعالیٰ ایک ایک فرد کا محاسبہ کرے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔

      جاوید احمد غامدی پھر برا کرنے والوں کا انجام بھی بالآخر برا ہی ہوا، اِس لیے کہ اُنھوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلا دیا اور اُن کا مذاق اڑاتے رہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں:’اَنْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ‘۔ اِن میں ’اَنْ‘ سے پہلے ایک حرف عربیت کے اسلوب پر محذوف ہے، یعنی ’لِاَنْ کَذَّبُوْا‘۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ ہی خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اصل حقیقت: اوپر کی آیات میں اس کائنات کے ’بالحق‘ ہونے سے قانون مجازات کی صحت و صداقت پر استدلال فرمایا ہے۔ اب اس آیت اور بعد کی چند آیات میں نہایت آشکارا الفاظ میں وہ اصل حقیقت سامنے رکھ دی ہے جس سے ہر ایک کو سابقہ پیش آنا ہے۔ فرمایا کہ اللہ ہی خلق کا آغاز فرماتا ہے اور وہی اس کا اعادہ فرمائے گا۔ ان دو لفظوں میں دعویٰ اور دلیل دونوں جمع ہیں۔ دعویٰ یہ ہے کہ اللہ اس خلق کا اعادہ فرمائے گا، دلیل اس کی یہ ہے کہ اسی نے اس کا آغاز کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس نے اس کا آغاز کیا اور اس کام میں اس کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی اس کو اس کے اعادے میں بھی کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ بلکہ اعادہ ابداء کے مقابل میں زیادہ آسان ہے۔ یہ جواب ہے منکرین قیامت کے شبہ کا کہ وہ قیامت کو نہایت مستبعد چیز سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جب خلق کا ابداء مستبعد نہیں ہے تو اس کے اعادے میں کیا استبعاد ہے!
      ’ثُمَّ إِلَیْْہِ تُرْجَعُوۡنَ‘۔ یہ منکرین کے ایک دوسرے مغالطے کو رفع فرمایا۔ منکرین اول تو قیامت کے وقوع ہی کو نہایت مستبعد خیال کرتے تھے اور اگر ایک مفروضہ کے درجے میں مانتے بھی تھے تو ان کا گمان یہ تھا کہ ہمارا لوٹنا تو ہمارے معبودوں کی طرف ہو گا اور ان کو خدا کے ہاں اتنا تقرب حاصل ہے کہ اول تو وہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے اوپر ہاتھ ڈالنے ہی نہیں دیں گے اور اگر اس نے ہاتھ ڈالا تو وہ اپنی سفارش سے ہم کو بچا لیں گے۔ فرمایا کہ یہ خبط اپنے ذہن سے نکالو۔ ہر ایک کی پیشی اللہ ہی کے حضور ہونی ہے۔ اس دن کوئی اور مرجع و ماویٰ نہیں بنے گا۔

      جاوید احمد غامدی اللہ ہی خلق کی ابتدا کرتا ہے۔ (اُس کے لیے کچھ مشکل نہیں)، پھر وہ (اِسی طرح) اُسے دوبارہ پیدا کر دے گا، پھر تم اُسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اپنے ٹھیرائے ہوئے معبودوں کی طرف نہیں، بلکہ اُسی معبود حقیقی کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو تمھارا خالق ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جس دن قیامت واقع ہو گی تو مجرم اس دن مایوس ہو جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ابلاس‘ کے معنی بالکل مایوس اور بھونچکا رہ جانا ہے۔ فرمایا کہ آج یہ مخالفین جن کی شفاعت پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں جب قیامت کے دن ان کے سامنے اصلی صورت حال آئے گی تو وہ مایوس اور بھونچکے ہو کر رہ جائیں گے ۔۔۔ وہ دیکھیں گے کہ جن کو انھوں نے شریک خدا بنایا اور جن کی زندگی بھر پوجا کی ان میں سے کوئی بھی ان کی شفاعت کرنے والا نہیں ہے۔
      ’وَکَانُوْا بِشُرَکَائِہِمْ کَافِرِیْنَ‘۔ اور خود ان کا حال یہ ہو گا کہ جن کی حمایت میں آج آستینیں چڑھائے ہوئے ہر ایک سے لڑنے کو تیار ہیں، ان کے منکر بن جائیں گے۔ سورۂ قصص کی تفسیر میں ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ قیامت کے مختلف مراحل میں مشرکین اپنے شرکاء کے معاملے میں مختلف رویے اختیار کریں گے ۔۔۔ کبھی تو وہ ان کو اپنی مدد کے لیے پکاریں گے اور کبھی وہ مرحلہ بھی آئے گا کہ صاف صاف ان کا انکار کریں گے۔ حیرانی و پریشانی کے عالم میں جہاں جو بات بنتی نظر آئے گی وہ کریں گے لیکن قیامت بات بنانے کی جگہ نہیں ہو گی بلکہ حقائق سے دوچار ہونے کی جگہ ہو گی۔
      یہاں زبان کے اس اسلوب پر بھی نگاہ رہے کہ مستقبل کے احوال ماضی کے صیغوں ۔۔۔ ’وَلَمْ یَکُن لَّہُمْ‘ اور ’کَانُوْا بِشُرَکَائِہِمْ‘ ۔۔۔ میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ اسلوب تقریب فہم کے لیے اختیار کیا جاتا ہے گویا مخاطب جس چیز کو نہایت بعید سمجھتے ہیں متکلم اس کو ماضی کے اسلوب میں ایک واقع شدہ واقعہ کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ احوال قیامت کے بیان میں قرآن نے یہ اسلوب اکثر جگہ استعمال کیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور جس دن یہ قیامت برپا ہوگی، اُس دن مجرم مایوسی کے عالم میں حیرت زدہ ہو کر رہ جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ان کے شریکوں میں سے کوئی ان کے لیے سفارش کرنے والا نہیں بنے گا اور وہ اپنے شریکوں کا انکار کریں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ابلاس‘ کے معنی بالکل مایوس اور بھونچکا رہ جانا ہے۔ فرمایا کہ آج یہ مخالفین جن کی شفاعت پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں جب قیامت کے دن ان کے سامنے اصلی صورت حال آئے گی تو وہ مایوس اور بھونچکے ہو کر رہ جائیں گے ۔۔۔ وہ دیکھیں گے کہ جن کو انھوں نے شریک خدا بنایا اور جن کی زندگی بھر پوجا کی ان میں سے کوئی بھی ان کی شفاعت کرنے والا نہیں ہے۔
      ’وَکَانُوْا بِشُرَکَائِہِمْ کَافِرِیْنَ‘۔ اور خود ان کا حال یہ ہو گا کہ جن کی حمایت میں آج آستینیں چڑھائے ہوئے ہر ایک سے لڑنے کو تیار ہیں، ان کے منکر بن جائیں گے۔ سورۂ قصص کی تفسیر میں ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ قیامت کے مختلف مراحل میں مشرکین اپنے شرکاء کے معاملے میں مختلف رویے اختیار کریں گے ۔۔۔ کبھی تو وہ ان کو اپنی مدد کے لیے پکاریں گے اور کبھی وہ مرحلہ بھی آئے گا کہ صاف صاف ان کا انکار کریں گے۔ حیرانی و پریشانی کے عالم میں جہاں جو بات بنتی نظر آئے گی وہ کریں گے لیکن قیامت بات بنانے کی جگہ نہیں ہو گی بلکہ حقائق سے دوچار ہونے کی جگہ ہو گی۔
      یہاں زبان کے اس اسلوب پر بھی نگاہ رہے کہ مستقبل کے احوال ماضی کے صیغوں ۔۔۔ ’وَلَمْ یَکُن لَّہُمْ‘ اور ’کَانُوْا بِشُرَکَائِہِمْ‘ ۔۔۔ میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ اسلوب تقریب فہم کے لیے اختیار کیا جاتا ہے گویا مخاطب جس چیز کو نہایت بعید سمجھتے ہیں متکلم اس کو ماضی کے اسلوب میں ایک واقع شدہ واقعہ کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ احوال قیامت کے بیان میں قرآن نے یہ اسلوب اکثر جگہ استعمال کیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (تم دیکھو گے کہ) اُن کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی اُن کی سفارش کرنے والا نہیں ہے اور وہ اپنے شریکوں کے منکر ہو چکے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں ماضی کے صیغے تقریب فہم کے لیے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... گویا مخاطب جس چیز کو نہایت بعید سمجھتے ہیں، متکلم اُس کو ماضی کے اسلوب میں ایک واقع شدہ واقعے کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ احوال قیامت کے بیان میں قرآن نے یہ اسلوب اکثر جگہ استعمال کیا ہے۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۷۹)

    • امین احسن اصلاحی اور جس دن قیامت واقع ہو گی مومن و کافر دونوں الگ الگ ہو جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کفار کا ایک مغالطہ: یعنی اس دنیا کا کارخانہ ابتلاء کے قانون کے تحت چل رہا ہے اس وجہ سے اس میں نیک و بد اور مومن و فاسق دونوں ملے ہوئے ہیں اور اکثر حالات میں اہل حق مظلوم و مقہور اور اہل باطل غالب و فتح مند ہیں اس وجہ سے اس دنیا کا ’بالحق‘ ہونا ان لوگوں کو نظر نہیں آتا جن کے اندر بصیرت نہیں ہے لیکن جب آخرت کا یوم الفرقان نمایاں ہو گا اور اس دن نیک و بد اور مومن و کافر دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہو جائیں گے۔ جو ایمان و عمل صالح والے لوگ ہوں گے وہ ایک شان دارباغ میں مسرور و شادماں ہوں گے اور جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی آیات و ملاقات کو جھٹلایا ہو گا وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔ یہاں ’رَوْضَۃٌ‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ یعنی جنت کے باغوں میں سے شان دار باغ میں ’حَبَرٌ‘ کے معنی خوش اور مسرور کرنے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے لیے وہ تمام اسباب مہیا فرما دے گا جو ان کی خوشی کے لیے ضروری ہوں گے۔ مجرمین کے باب میں لفظ ’مُحْضَرُوْنَ‘ ان کی ذلت اور بے بسی کی تصویر کے لیے ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ عذاب میں اس طرح باندھ کر اور گھسیٹ کر لائے جائیں گے جس طرح سزایافتہ قیدی لائے جاتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اور جس دن یہ قیامت برپا ہو گی، اُس دن لوگ الگ الگ ہو جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آگے وضاحت کر دی ہے کہ کس لحاظ سے الگ الگ ہو جائیں گے۔ مدعا یہ ہے کہ آخرت کا دن ایک یوم الفرقان ہو گا جو دنیا کے تمام التباسات اور شبہات کو ختم کر کے بالکل واضح کر دے گا کہ خدا نے اِسے ’بِالْحَق‘ پیدا کیا تھا اور یہ ٹھیک اُس انجام کو پہنچ گئی ہے، جس تک اسے پہنچنا چاہیے تھا۔

    • امین احسن اصلاحی پس جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے ہوں گے وہ تو ایک شان دار باغ میں مسرور ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کفار کا ایک مغالطہ: یعنی اس دنیا کا کارخانہ ابتلاء کے قانون کے تحت چل رہا ہے اس وجہ سے اس میں نیک و بد اور مومن و فاسق دونوں ملے ہوئے ہیں اور اکثر حالات میں اہل حق مظلوم و مقہور اور اہل باطل غالب و فتح مند ہیں اس وجہ سے اس دنیا کا ’بالحق‘ ہونا ان لوگوں کو نظر نہیں آتا جن کے اندر بصیرت نہیں ہے لیکن جب آخرت کا یوم الفرقان نمایاں ہو گا اور اس دن نیک و بد اور مومن و کافر دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہو جائیں گے۔ جو ایمان و عمل صالح والے لوگ ہوں گے وہ ایک شان دارباغ میں مسرور و شادماں ہوں گے اور جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی آیات و ملاقات کو جھٹلایا ہو گا وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔ یہاں ’رَوْضَۃٌ‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ یعنی جنت کے باغوں میں سے شان دار باغ میں ’حَبَرٌ‘ کے معنی خوش اور مسرور کرنے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے لیے وہ تمام اسباب مہیا فرما دے گا جو ان کی خوشی کے لیے ضروری ہوں گے۔ مجرمین کے باب میں لفظ ’مُحْضَرُوْنَ‘ ان کی ذلت اور بے بسی کی تصویر کے لیے ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ عذاب میں اس طرح باندھ کر اور گھسیٹ کر لائے جائیں گے جس طرح سزایافتہ قیدی لائے جاتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی پھر جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے ہوں گے، وہ ایک شان دار باغ میں شاداں و فرحاں رکھے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’رَوْضَۃ‘ آیا ہے۔ یہ اگرچہ نکرہ ہے، لیکن اِس کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے، یعنی جنت کے باغوں میں سے ایک شان دار باغ میں۔

    • امین احسن اصلاحی رہے وہ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کی تکذیب کی تو وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کفار کا ایک مغالطہ: یعنی اس دنیا کا کارخانہ ابتلاء کے قانون کے تحت چل رہا ہے اس وجہ سے اس میں نیک و بد اور مومن و فاسق دونوں ملے ہوئے ہیں اور اکثر حالات میں اہل حق مظلوم و مقہور اور اہل باطل غالب و فتح مند ہیں اس وجہ سے اس دنیا کا ’بالحق‘ ہونا ان لوگوں کو نظر نہیں آتا جن کے اندر بصیرت نہیں ہے لیکن جب آخرت کا یوم الفرقان نمایاں ہو گا اور اس دن نیک و بد اور مومن و کافر دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہو جائیں گے۔ جو ایمان و عمل صالح والے لوگ ہوں گے وہ ایک شان دارباغ میں مسرور و شادماں ہوں گے اور جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی آیات و ملاقات کو جھٹلایا ہو گا وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔ یہاں ’رَوْضَۃٌ‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ یعنی جنت کے باغوں میں سے شان دار باغ میں ’حَبَرٌ‘ کے معنی خوش اور مسرور کرنے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے لیے وہ تمام اسباب مہیا فرما دے گا جو ان کی خوشی کے لیے ضروری ہوں گے۔ مجرمین کے باب میں لفظ ’مُحْضَرُوْنَ‘ ان کی ذلت اور بے بسی کی تصویر کے لیے ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ عذاب میں اس طرح باندھ کر اور گھسیٹ کر لائے جائیں گے جس طرح سزایافتہ قیدی لائے جاتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اور جنھوں نے انکار کیا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلادیا تو وہی عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پس اللہ ہی کی تسبیح کرو جس وقت تم شام کرتے اور جس وقت صبح کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      توحید اور قانون مجازات کا تقاضا: اب یہ تقاضا بیان ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی اس یکتائی اور اس کے قانون مجازات کا جس کا بیان اوپر کی آیات میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ جب اصل حقیقت یہ ہے جو بیان ہوئی تو ہر ایک کا فرض ہے کہ صرف اللہ ہی کی تسبیح کرے شام و صبح اور عشا کے وقت اور ظہر کے وقت۔

      جاوید احمد غامدی سو اللہ کی تسبیح کرو، جس وقت تم شام کرتے ہو اور جس وقت تم صبح کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُس کے بارے میں اُن حقائق کا اعتراف و اعلان کرو جو اوپر بیان کیے گئے ہیں اور اُن تمام عیوب و نقائص اور کمزوریوں سے اُسے پاک اور منزہ قرار دو جو مشرکین اپنے شرک اور انکار آخرت سے اُس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اِس اعتراف و اعلان کی بہترین صورت نماز ہے۔ آگے اُسی کے اوقات بیان ہوئے ہیں۔
      یہ عصر اور مغرب کی نماز کا وقت ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد ہو رہی ہے اور عشاء کے وقت بھی اور اس وقت بھی جب تم ظہر کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‘۔ یہ اوقات تسبیح کے بیچ میں ایک جملہ معترضہ بطور تنبیہ و تذکیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خدا ہی کی تسبیح کی جو دعوت دی جا رہی ہے یہ کوئی بیگانہ دعوت نہیں ہے بلکہ آسمانوں اور زمین کے ہر گوشے سے خدا ہی کی حمد کا ترانہ گونج رہا ہے۔ تو جو لوگ خدا کے سوا کسی اور کی بندگی کر رہے ہیں ان کا سُر اس کائنات کے مجموعی سُر سے بالکل بے جوڑ ہے البتہ جو لوگ خدا کی حمد و تسبیح کر رہے ہیں وہ اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اس میں دعوت کے ساتھ ساتھ ایک قسم کی بے نیازی کا اظہار بھی ہے کہ اگر کچھ بدقسمت خدا کی حمد و تسبیح سے گریز کریں گے تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ اس کائنات میں اس کی حمد و تسبیح کرنے والوں کی کمی ہے، آسمانوں اور زمین کا ہر گوشہ اس کی حمد کرنے والوں سے معمور ہے۔
      اوقات عبادت کے تعین میں حکمت: یہاں جو اوقات مذکور ہوئے ہیں ان پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حمد و تسبیح کے لیے وہ اوقات خاص طور پر پسند فرمائے ہیں جن میں اس کی کسی بڑی نشانی کا ظہور ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ رات دن، میں داخل ہوتی ہے یا دن رات میں داخل ہوتا ہے۔ یا سورج سمت راس سے جھکتا ہے یا رات تاریک ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو انسان غور کرنے والا ہے یہ اوقات اس کے ذہن و دماغ پر خاص طور پر اثرانداز ہوتے اور اس کو جھنجھوڑتے ہیں کہ وہ اس ذات کو اس وقت یاد کرے جس کے حکم سے یہ عظیم تغیر اس دنیا میں واقع ہوتا ہے۔ اگر ان اوقات میں بھی کوئی شخص اللہ کی نشانیوں اور اس کی شانوں سے متاثر نہیں ہوتا تو وہ نہایت بلید جانور ہے۔
      اوقات نماز میں سے فجر اور ظہر کا ذکر تو اس آیت میں نہایت واضح طور پر موجود ہی ہے۔ ’تُمْسُوْنَ‘ میں اگر عصر اور مغرب دونوں کو شامل کر لیجیے اور ’َعَشِیًّا‘ سے ’عشاء‘ کو مراد لیجیے تو تمام اوقات نماز آ جاتے ہیں۔ لفظ ’عشی‘ کا اطلاق زوال کے وقت پر بھی ہوتا ہے اور مغرب سے لے کر عشاء کے وقت پر بھی، اس وجہ سے اس سے عشاء کا وقت مراد لینے میں لفظ سے کوئی تجاوز نہیں ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی زمین اور آسمانوں میں اُسی کی حمد ہو رہی ہے ۔۔۔ اور عشا کے وقت بھی اور جب تم ظہر کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوقات نماز کے بیچ میں یہ جملۂ معترضہ تذکیر وتنبیہ کے لیے آگیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... مطلب یہ ہے کہ یہ خدا ہی کی تسبیح کی جو دعوت دی جار ہی ہے، یہ کوئی بے گانہ دعوت نہیں ہے، بلکہ آسمانوں اور زمین کے ہرگوشے سے خدا ہی کی حمد کا ترانہ گونج رہا ہے۔ تو جو لوگ خدا کے سوا کسی اور کی بندگی کر رہے ہیں، اُن کا سُراِس کائنات کے مجموعی سُر سے بالکل بے جوڑ ہے۔ البتہ جولوگ خدا کی حمد و تسبیح کر رہے ہیں، وہ اِس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اِس میں دعوت کے ساتھ ایک قسم کی بے نیازی کا اظہار بھی ہے کہ اگر کچھ بدقسمت خدا کی حمد و تسبیح سے گریز کریں گے تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ اِس کائنات میں اُس کی حمد و تسبیح کرنے والوں کی کمی ہے۔ آسمانوں اور زمین کا ہر گوشہ اُس کی حمد کرنے والوں سے معمور ہے۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۸۰)

      آیت میں ’عَشِیّ‘ کا لفظ اُسی طرح ظہر کے مقابل میں ہے، جس طرح صبح کے مقابل میں شام ہے، اِس لیے اِسے عصر کے بجاے عشا ہی کے معنی میں لینا چاہیے۔ نماز کے لیے یہ اوقات کیوں مقرر کیے گئے ہیں، استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’... اللہ تعالیٰ نے اپنی حمد و تسبیح کے لیے وہ اوقات خاص طور پر پسند فرمائے ہیں جن میں اُس کی کسی بڑی نشانی کا ظہور ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ رات دن میں داخل ہوتی ہے یا دن رات میں داخل ہوتا ہے۔ یا سورج سمت راس سے جھکتا ہے یا رات تاریک ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو انسان غور کرنے والا ہے، یہ اوقات اُس کے ذہن و دماغ پر خاص طور پر اثرانداز ہوتے اور اُس کو جھنجھوڑتے ہیں کہ وہ اُس ذات کو اِس وقت یاد کرے جس کے حکم سے یہ عظیم تغیر اِس دنیا میں واقع ہوا ہے۔ اگر اِن واقعات میں بھی کوئی شخص اللہ کی نشانیوں اور اُس کی شانوں سے متاثر نہیں ہوتا تو وہ نہایت بلید جانور ہے۔‘‘(تدبرقرآن۶/ ۸۰)

    • امین احسن اصلاحی وہ زندہ کو مردہ سے پیدا کرتا ہے اور مردہ کو زندہ سے پیدا کرتا ہے اور زمین کو اس کے خشک ہو جانے کے بعد ازسرنو شاداب کر دیتا ہے اور اسی طرح تم بھی نکالے جاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کا مشاہدہ روزمرہ کے واقعات میں: ’اخراج‘ کے معنی جس طرح کسی چیز سے کسی چیز کے نکالنے کے آتے ہیں اسی طرح کسی چیز کے ظاہر کرنے کے بھی آتے ہیں۔ یہ منکرین قیامت کے استبعاد کو رفع فرمایا ہے کہ تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو مستبعد سمجھتے ہو حالانکہ اس دنیا کے ہر گوشہ میں زندہ کو مردہ سے ظہور میں آتے اور زندہ پر موت کو طاری ہوتے دیکھتے ہو۔ اس کی مثال کے طور پر فرمایا کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ بالکل خشک اور مردہ ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ بارش کے ایک ہی چھینٹے سے اس کے ہر گوشے میں زندگی نمودار کر دیتا ہے۔ اسی طرح تم بھی ایک دن مر کھپ جانے کے بعد نکال کھڑے کیے جاؤ گے۔ زندگی اور موت سب خدا کے اختیار میں ہے۔ نہ اس کے لیے زندہ کو مردہ کرنا مشکل ہے نہ مردہ کو زندہ کرنا۔ قیامت کا ریہرسل برابر تمہاری نگاہوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ اگرچہ یہاں مثال دراصل حیات بعد الموت کی پیش کرنی مقصود ہے لیکن اپنی کامل قدرت کو سامنے لانے کے لیے موت بعد الحیات کا بھی حوالہ دے دیا ہے۔ انعام کی آیات ۹۵-۹۶ کے تحت اس پر مفصل بحث گزر چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (تمھیں تعجب ہے کہ یہ کس طرح ہو گا؟ دیکھتے نہیں ہو کہ) وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اُس کے مردہ ہو جانے کے بعد ازسرنو زندہ و شاداب کر دیتا ہے۔ اِسی طرح تم بھی نکالے جاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی زندوں پر موت طاری کرتا ہے اور بے جان مادے کے اندر زندگی کی روح پھونک کر اُس سے جیتے جاگتے حیوانات، نباتات اور انسان پیدا کر دیتا ہے۔
      یہ زندہ کو مردہ سے نکالنے کی مثال ہے کہ زمین بالکل خشک اور مردہ ہوتی ہے، لیکن بارش کا ایک ہی چھینٹا پڑتا ہے اور اُس کے ہر گوشے میں زندگی نمودار ہو جاتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر تم دیکھتے دیکھتے بشر بن کر روئے زمین پر پھیل جاتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قدرت الٰہی کا مشاہدہ خود اپنے وجود میں: یعنی تم کو جن حقائق کے ماننے کی دعوت دی جا رہی ہے وہ تمام تر تمہارے خالق کی قدرت و حکمت پر مبنی ہیں تو اس کی قدرت و حکمت کے ثبوت کے لیے تم کسی خارجی دلیل کا مطالبہ کیوں کرتے ہو؟ اس کی سب سے بڑی دلیل تو خود تمہاری خلقت ہی کے اندر موجود ہے۔ اس نے تم کو جامد مٹی سے پیدا کیا اور پھر تم زندہ اور عقل و شعور رکھنے والی ہستی بن کر تمام روئے زمین پر پھیل گئے۔ ’اِذَا‘ یہاں اس عظیم قدرت و شان کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہے۔ یعنی غور کرو، کہاں خشک مٹی اور کہاں جیتا جاگتا انسان، دیکھتے دیکھتے خدا کی قدرت نے اسی مٹی سے ایک پورا جہان آباد کر دیا! مطلب یہ ہے کہ اگر یہ انسان اس بات پر جھگڑے کہ خدا اس کو دوبارہ کس طرح پیدا کر سکتا ہے تو یہ بلادت و حماقت کی انتہا ہے۔ اسی بات کو قرآن میں دوسرے مقام میں یوں فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا تو کیا مٹی سے لیکن اب وہ ہمارا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا ہے اور علانیہ ہماری قدرت کو چیلنج کر رہا ہے!

      جاوید احمد غامدی اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر دیکھتے دیکھتے تم انسان بن کر (زمین میں) پھیل جاتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی مٹی کے اندر پائے جانے والے چند بے جان مادوں سے تمھارا حیوانی وجود تخلیق کیا، پھر اُس میں روح پھونکی اور یکایک تم عقل و شعور اور جذبہ و تخیل کی حامل ایک حیرت انگیز ہستی بن کر کھڑے ہو گئے، اور اب لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں روے زمین پر پھیلتے جا رہے ہو۔

    Join our Mailing List