Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 88 آیات ) Al-Qasas Al-Qasas
Go
  • القصص (The Narrations, The Stories)

    88 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ نمل ۔۔۔ کا مثنیٰ ہے۔ اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ البتہ اجمال و تفصیل اور اسلوب بیان و نہج استدلال کے اعتبار سے دونوں میں فرق ہے۔ سابق سورہ میں حضرت موسیٰؑ کی سرگزشت کا صرف اتنا حصہ اجمالاً بیان ہوا ہے جو ان کو رسالت عطا کیے جانے اور فرعون کے پاس جانے کے حکم سے متعلق ہے۔ اس سورہ میں وہ پوری سرگزشت، نہایت تفصیل سے بیان ہوئی ہے، جو ان کی ولادت باسعادت سے لے کر ان کو تورات عطا کیے جانے تک کے احوال و مشاہدات پر مشتمل ہے۔ سابق سورہ میں بنی اسرائیل کی طرف صرف ایک مخفی اشارہ تھا، اس سورہ میں ان کے صالحین و مفسدین دونوں کا رویہ نسبتہً وضاحت سے زیربحث آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں یہود کھل کر سامنے آ گئے تھے۔
    حضرت موسیٰؑ کی سرگزشت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بعینہٖ اسی مقصد سے سنائی گئی ہے جس مقصد سے سورۂ یوسف میں حضرت یوسفؑ کی سرگزشت سنائی گئی ہے کہ اس آئینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اچھی طرح دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کی حفاظت و صیانت اور اپنی اسکیموں کو بروئے کار لانے کے لیے اپنی کیا شانیں دکھاتا ہے اور آپؐ کے مخالفین بھی دیکھ لیں کہ اس دعوت کی مخالفت میں بالآخر ان کو کس انجام سے دوچار ہونا ہے۔
    قریش پر اس سورہ میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ جس طرح اللہ نے حضرت موسیٰؑ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا اسی طرح اس نے اس پیغمبر اور اس کتاب کو تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ تم پر اللہ کی ہدایت پوری طرح واضح ہو جائے اور تمہارے پاس گمراہی پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔
    بنی اسرائیل پر یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اگر یہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول نہ ہوتے تو کس طرح ممکن تھا کہ حضرت موسیٰؑ کی زندگی کے ان گوشوں سے بھی یہ واقف ہوتے جن سے تم بھی صحیح صحیح اور اس تفصیل سے واقف نہیں ہو! اور ساتھ ہی اس امر واقعی کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ جو ہدایت، اللہ نے تم پر نازل فرمائی تھی وہ تم نے اختلافات میں پڑ کر گم کر دی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اپنے اس رسول کے ذریعہ سے اس ہدایت کو ازسرنو زندہ کرے اور خلق پر اپنی حجت تمام کرے۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں یہ تسلی دی گئی ہے کہ اس قرآن کو تم نے اللہ سے مانگ کر نہیں لیا ہے بلکہ اللہ نے خود تم پر اس کی ذمہ داریاں ڈالی ہیں تو جب اس نے خود تم پر اس کا بار ڈالا ہے تو تم مخالفوں کی مخالفت اور راہ کی مشکلات سے بے پروا ہو کر اپنا فرض انجام دو۔ جس اللہ نے یہ بوجھ تم پر ڈالا ہے وہ خود ہر قدم پر تمہاری رہنمائی و دست گیری فرمائے گا اور تمہیں کامیابی کی منزل پر پہنچائے گا۔

  • القصص (The Narrations, The Stories)

    88 آیات | مکی

    النمل ۔ القصص

    ۲۷ ۔ ۲۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی اور بشارت دینا اور آپ کے منکرین کو متنبہ کرنا ہے کہ آخرت سے بے خوف اور دنیا کے عیش و آرام میں مگن ہو کر وہ جس سرکشی پر اترے ہوئے ہیں، اُسے چھوڑ دیں، اپنے اوپر خدا کی نعمتوں اور عنایتوں کا شکر ادا کریں اور اپنے پیغمبر کو پہچانیں۔

    دونوں سورتوں میں اصل بناے استدلال موسیٰ علیہ السلام کی سرگذشت ہے۔ اِس کے علاوہ جو سرگذشتیں سنائی گئی ہیں، وہ تبعاً اِسی کے بعض پہلوؤں کی مزید وضاحت کرتی ہیں۔

    اِن میں خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اور قریش مکہ سے بھی، لیکن روے سخن زیادہ تر اُنھی کی طرف ہے۔

    دونوں سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت و براء ت کا مرحلہ قریب آ چکا ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ طٰسٓمّٓ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حروف مقطعات پر پیچھے بحث گزر چکی ہے۔ ‘کتاب مبین’ کے اندر احسان و امتنان اور اتمام حجت کے جو پہلو ہیں، خاص طور پر اہل کتاب کے لیے، ان کی وضاحت بھی ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ کم و بیش انہی الفاظ سے سابق سورہ کی تمہید بھی شروع ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ دونوں کا مرکزی مضمون ایک ہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورۂ ’طٰسٓمّٓ‘ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق اپنا نقطۂ نظر ہم سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر چکے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی یہ واضح کتاب الٰہی کی آیات ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’کتاب مبین‘ کے اندر احسان و امتنان اور اتمام حجت کے جو پہلو ہیں، خاص طور پر اہل کتاب کے لیے، ان کی وضاحت بھی ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ کم و بیش انہی الفاظ سے سابق سورہ کی تمہید بھی شروع ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ دونوں کا مرکزی مضمون ایک ہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ نہایت واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہم تمہیں موسیٰؑ اور فرعون کی سرگزشت کا کچھ حصہ ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں ان لوگوں کی ہدایت کے لیے جو ایمان لانا چاہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      موسیٰؑ و فرون کی سرگزشت سنانے کا اصل مقصد: خطاب اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن آیت کے آخری الفاظ ’لِقَوْمٍ یُؤْمِنُوۡنَ‘ خود شاہد ہیں کہ مقصود اس سرگزشت کے سنانے سے وقت کے فراعنہ یعنی قریش کے لیڈروں کے کان کھولنا ہے۔ ’بِالْحَقِّ‘ یعنی بالکل ٹھیک ٹھیک، غایت و مدعا اور عبرت و موعظت کے ساتھ۔ تورات میں حضرت موسیٰؑ اور فرعون کی سرگزشت نہ تو ٹھیک ٹھیک بیان ہوئی ہے اور نہ اس سے وہ موعظت ہی سامنے آتی ہے جواس کی اصل روح ہے۔ قرآن نے یہ سرگزشت اس کے ان دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھ کر سنائی ہے۔ ’لِقَوْمٍ یُؤْمِنُوۡنَ‘ میں فعل ہمارے نزدیک ارادۂ فعل کے مفہوم میں ہے۔ یہ ٹکڑا اپنے اندر ایک قسم کی تنبیہ رکھتا ہے کہ ہم یہ سرگزشت سنا تو رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ انہی کو پہنچے گا جن کے اندر ایمان لانے کا ارادہ پایا جاتا ہے۔ جو اندھے بہرے بن چکے ہیں وہ بدستور اندھے بہرے ہی بنے رہیں گے۔

      جاوید احمد غامدی ہم اُن لوگوں کی ہدایت کے لیے جو ایمان لانا چاہیں، موسیٰ اور فرعون کی سرگذشت کا کچھ حصہ ٹھیک ٹھیک تمھیں سناتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ‘۔ اِن میں فعل ارادۂ فعل کے مفہوم میں ہے۔ یہ ایک قسم کی تنبیہ ہے۔ قرآن نے ابتدا ہی میں بتا دیاہے کہ اِس سرگذشت سے ہدایت اُنھی کو ملے گی جو ہدایت پانا چاہیں گے۔ اُن کے لیے اِس میں کوئی ہدایت نہیں ہے جو فیصلہ کر چکے ہیں کہ اندھے اور بہرے بن کر ہی جئیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی بے شک فرعون سرزمین مصر میں بہت سرکش ہو گیا تھا اور اس نے اس کے باشندوں کو مختلف طبقوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ان میں سے ایک گروہ کو اس نے دبا رکھا تھا۔ ان کے بیٹوں کو ذبح کر چھوڑتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا، بے شک وہ زمین میں فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سرگزشت سے پہلے اس کا خلاصہ: اصل سرگزشت سے پہلے یہ اور اس کے بعد کی دو آیتیں اس غایت و مقصد کو سامنے کر دینے کے لیے وارد ہوئی ہیں جس کو پیش نظر رکھ کر یہ سنائی جا رہی ہے۔ قرآن میں یہ اسلوب متعدد مقامات میں اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی سرگزشت سنانے سے پہلے وہ مدعا مختصر الفاظ میں قاری کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے جو اس کے سنانے سے پیش نظر ہوتا ہے تاکہ سرگزشت کے پھیلاؤ میں اصل حقیقت قاری کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔ سورۂ کہف میں اس کی مثال گزر چکی ہے۔
      ’إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِیْ الْأَرْضِ‘۔ زمین میں ’علو‘ (سرکشی) یہ ہے کہ زمین کے اصل خالق و مالک کی مرضی اور اس کے احکام کو نظر انداز کر کے کوئی اس میں اپنی من مانی کرنے لگ جائے اور خدا کے بندوں کو خدا کی بندگی و اطاعت میں داخل کرنے کے بجائے ان سے اپنی بندگی و غلامی کرانے لگے۔
      ’وَجَعَلَ أَہْلَہَا شِیَعاً یَسْتَضْعِفُ طَائِفَۃً مِّنْہُمْ‘ یہ اسی ’عُلو‘ اور ’فساد فی الارض‘ کی وضاحت ہے کہ اس نے ملک کے باشندوں کو طبقات میں تقسیم کیا اور ان میں سے ایک گروہ کو اس نے بالکل دبا کر اور غلام بنا کر رکھا۔ جب راعی و رعیت سب خدا کی مملوک ہیں تو کسی ملک کے حکمران کے لیے یہ بات جائز نہیں ہو سکتی کہ وہ رعایا کے درمیان کوئی تفریق و امتیاز برتے بلکہ راعی و رعیت سب کے لیے بلا امتیاز ایک ہی قانون اور ایک ہی نظام عدل و مساوات ہونا چاہیے لیکن فرعون نے بنی اسرائیل کو تو غلاموں کی حیثیت دے رکھی تھی اور خود خدا بن بیٹھا تھا۔ ساتھ ہی اپنی قوم قبطیوں کو یہ اختیار دے رکھا تھا کہ وہ بنی اسرائیل سے غلاموں کی طرح کام لیں۔
      ’یُذَبِّحُ أَبْنَاء ہُمْ وَیَسْتَحْیِیْ نِسَاء ہُمْ‘۔ اس جبر و ظلم کی ایک مثال ہے جو فرعون اور قبطیوں کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر ہو رہا تھا۔ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے کی سنگدلانہ اسکیم فرعون اور اس کے اعیان نے جس سیاسی اندیشہ کی بنا پر چلائی تھی اس کی وضاحت سورۂ طٰہٰ اور بعض پچھلی دوسری سورتوں میں ہو چکی ہے۔
      ’إِنَّہُ کَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ‘۔ یعنی یہ خدا کی زمین میں فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا درآنحالیکہ اللہ اپنی زمین میں جس کو بھی حکمرانی کا منصب بخشتا ہے عدل و امن کے قیام کے لیے بخشتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی واقعہ یہ ہے کہ سرزمین مصر میں فرعون نے سرکشی اختیار کر لی تھی۔ اُس کے باشندوں کو اُس نے گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ اُن میں سے ایک گروہ کو اُس نے سختی سے دبا رکھا تھا، وہ اُن کے بیٹوں کو ذبح کر چھوڑتا اور اُن کی عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ فی الواقع وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سرکشی کی نوعیت کیا تھی؟ آگے قرآن نے اِسی کی وضاحت فرمائی ہے۔
      یعنی انصاف کی مسند پر بیٹھ کر انصاف کرنے اور سب کو یکساں اور برابر کے حقوق دینے کے بجاے اُس نے رعایا کو طبقات میں تقسیم کر دیا تھا۔ چنانچہ کسی کو مراعات اور امتیازات دے رکھے تھے اور کسی کو محکوم بنا کر ذلیل کرتا تھا۔
      یعنی بنی اسرائیل کو جو یوسف علیہ السلام کے زمانے میں یہاں آ کر آباد ہو گئے تھے اور اب ایک بڑی قوم کی حیثیت رکھتے تھے۔
      یہ، ظاہر ہے کہ سرکشی کی انتہا ہے جس کا صدور کسی حکمران سے ہو سکتا ہے۔ فرعون اور اُس کے اعیان واکابر نے یہ اسکیم اِس لیے چلائی تھی کہ وہ بنی اسرائیل کی تعداد میں اضافے سے خوف زدہ تھے کہ مبادا وہ ایک بڑی قوت بن کر اُن پر غلبہ پا لیں۔ اِس کی تفصیلات بائیبل اور تالمود، دونوں میں دیکھ لی جا سکتی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم یہ چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان کریں جو ملک میں دبا کر رکھے گئے تھے اور ان کو پیشوا بنائیں اور ان کی وراثت بخشیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      بنی اسرائیل کو یپشوائی دینے کا خدائی فیصلہ: ’نُرِیْدُ‘ سے پہلے، عربی زبان کے معروف قاعدے کے مطابق، فعل ناقص محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان تو یہ ظلم و ستم ڈھائے ہوئے تھے اور ان کی پوری کوشش یہ تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو کسی طرح ابھرنے نہ دیں لیکن ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم مظلوموں پر احسان کریں، ان کو پیشوائی کا منصب بخشیں اور ظالموں کو مٹا کر مظلوموں کو وراثت و خلافت عطا کریں۔ ’نَجْعَلَہُمْ أَئِمَّۃً‘ سے اشارہ اس دینی پیشوائی کی طرف ہے جو حضرت موسیٰؑ کی بعثت کے بعد بنی اسرائیل کو حاصل ہوئی۔ اور ’نَجْعَلَہُمُ الْوَارِثِیْنَ‘ سے خلافت و حکومت مراد ہے جو ان کو ارض فسلطین میں ملی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں جس کے حدود نہایت وسیع ہو گئے یہاں تک کہ مصر کی حکومت بھی ان کی ایک باجگزار ریاست بن گئی۔

      جاوید احمد غامدی اور اِدھر ہم نے ارادہ کر لیا تھا کہ اُن لوگوں پر عنایت کریں جو اُس ملک میں دبا کر رکھے گئے تھے اور اُن کو امامت عطا فرمائیں اور اُنھیں (ملک کا) وراث بنائیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس خدائی فیصلے کا بیان ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی بعثت کے بعد بنی اسرائیل کو عالمی سطح پر اپنے دین کی شہادت کے لیے منتخب کیا۔ یہ اُسی طرح کا انتخاب تھا، جس طرح انسانوں میں سے انبیا علیہم السلام کو انذار و بشارت اور دعوت و شہادت کے لیے منتخب کیا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ یہاں جو مدعا ’نَمُنَّ‘ کے لفظ سے ادا ہوا ہے، قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں اُسی کو ’نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ‘ کے الفاظ میں ادافرمایا ہے۔
      یعنی دین کے امام اور پیشوا بنائیں۔ سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱۲۴میں قرآن نے ابراہیم علیہ السلام سے متعلق جس فیصلے کا ذکر ’اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا‘ کے الفاظ میں کیا ہے، یہ اُسی کا نتیجہ ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان کو زمین میں اقتدار عطا کریں اور فرعون و ہامان اور ان کی فوجوں کو ان کے ہاتھوں وہ دکھائیں جس کا وہ اندیشہ رکھتے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      بنی اسرائیل کو اقتدار دینے کا خدائی فیصلہ: ’تمکین فی الارض‘ سے مراد اقتدار و صولت و دبدبہ ہے۔ یعنی ارادۂ الٰہی یہ ہوا کہ ان دبائے ہوئے مظلوموں کو ایک مضبوط اور طاقتور سلطنت عطا کرے اور فرعون و ہامان اور ان کی فوجوں کو وہ چیز دکھا دے جس کا وہ اندیشہ رکھتے تھے۔ ’مَا کَانُوۡا یَحْذَرُوۡنَ‘ سے اشارہ فرعون اور اس کے اعیان کے اس انداز کی طرف ہے جس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کر چکے ہیں کہ وہ بنی اسرائیل کی تعداد میں روز افزوں اضافہ سے بہت خائف تھے کہ اگر یہ قوت پکڑ گئے تو یا تو وہ خود ملک پر قابض ہو جائیں گے یا باہر کے دشمنوں سے مل کر یہاں سے قبطیوں کو بے دخل کر دیں گے۔ اسی خطرے کے سدباب کے لیے ان احمقوں نے بنی اسرائیل کے ذکور کے قتل کی وہ اسکیم بنائی تھی جس کی پوری تفصیل ہم پچھلی سورتوں میں پیش کر چکے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی اسکیم کے مقابل میں ان کی ساری اسکیمیں اور پیش بندیاں بالکل بیکار ثابت ہوئیں۔ ارادۂ الٰہی مظلوموں کے حق میں پورا ہو کے رہا اور ان کے دشمن تمام زور و سطوت اور تمام تدبیر و تدبر کے باوجود پامال ہوئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اسی حقیقت کو قریش کے اکابر و زعما کے سامنے رکھنے کے لیے وہ سرگزشت سنائی جا رہی ہے جو آگے آ رہی ہے تاکہ لوگ اس قصہ کو قصہ کی حیثیت سے نہ سنیں بلکہ اس حق کو مد نظر رکھ کر سنیں جو اس کے اندر مضمر ہے۔
      ہامان فرعون کا وزیر تھا: یہاں بالکل پہلی مرتبہ فرعون کے ساتھ ’ہامان‘ کا ذکر بھی آیا ہے اور اس طرح آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حیثیت فرعون کے وزیر کی تھی اور اس کو بنی اسرائیل کو دبائے رکھنے کے مسئلہ سے خاص دلچسپی تھی۔ آگے بھی اس کا ذکر فرعون کے وزیر اعظم ہی کی حیثیت سے آ رہا ہے۔ تورات میں یہ نام نہیں آیا ہے لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پیدا ہوتا۔ کتنی باتیں ہیں جن میں قرآن نے تورات کے بیانات کی تصحیح کی ہے یا ان پر اضافہ کیا ہے۔ یہ بھی حضرت موسیٰؑ اور فرعون کی سرگزشت میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔ بعض مستشرقین نے اس نام کو اعتراض کا ہدف بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مصر میں اس نام کا کوئی شخص نہیں تھا۔ ان لال بجھکڑوں کا یہ اعتراض بالکل ہی احمقانہ ہے۔ کیا یہ حضرات یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ان کو فرعون اور اس کے تمام وزراء و اعیان اور اس عہد کے تمام اکابر مصر کے ناموں کی فہرست مل گئی ہے؟ وزراء و اعیان تو درکنار کیا یہ حضرات خود اس فرعون کے بارے میں متفق اللفظ ہیں جو حضرت موسیٰؑ کا ہم عصر تھا؟ قرآن کی مخالفت کے جنون میں اس قسم کی باتیں جو یہ لوگ کہتے ہیں وہ بالکل ہی ناقابل التفات ہیں۔ یہ لوگ پائی ہوئی حقیقت کو گم کرنے میں تو بڑے ماہر ہیں۔ لیکن جب کسی چیز کا سراغ دیتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ٹڈے کی ٹانگ پر ہاتھی کا خول چڑھایا ہے۔
      بنی اسرائیل کے اندیشہ سے فرعون کی فوجی تیاریاں: یہ فرعون و ہامان کے ساتھ ساتھ خاص طور پر ان کی فوجوں کا جو ذکر بار بار آیا ہے اس کی بھی ایک خاص وجہ ہے۔ اس عہد کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان نے بنی اسرائیل کے مسئلہ کو ایک بالکل سیاسی رنگ دے دیا تھا۔ ان کی کثرت تعداد کو وہ اپنی حکومت کے لیے ایک خطرہ سمجھتے تھے۔ اس وجہ سے فرعون نے اپنے تمام امراء و اعیان کو یہ حکم دے رکھا تھا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اپنی فوجوں کو بنی اسرائیل کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بالکل چوکس رکھیں۔ چنانچہ جب اس نے بنی اسرائیل کے تعاقب کا فیصلہ کیا تو اپنے تمام امراء اور نوابوں کو ان کی فوجوں سمیت طلب کیا۔ فرعون کو اپنی ان افواج پر، جیسا کہ قرآن اور تورات دونوں سے واضح ہوتا ہے، بڑا ناز تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ سارا غرور و ناز چشم زدن میں ختم کر دیا۔

      جاوید احمد غامدی اور اُنھیں اُس ملک میں اقتدار بخشیں اور فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکروں کو اُن سے وہی کچھ دکھا دیں جس سے وہ ڈرتے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس کے لیے ارض فلسطین کا انتخاب کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اِسے اپنی دعوت کے لیے خاص قرار دے کر بنی اسرائیل کے حوالے کر دیا۔ چنانچہ حکم دیا گیا کہ اِس کے باشندوں سے اِس سرزمین کو خالی کرا لیا جائے اور گردوپیش کی حکومتوں کو باج گزار بنا کر اِس پورے علاقے میں انبیا علیہم السلام کی زیر قیادت خدا کی حکومت قائم کر دی جائے۔ بائیبل میں اِسی بنا پر اِسے بنی اسرائیل کی میراث کا علاقہ کہا گیا ہے۔ ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں کہ یہ ایک خدائی فیصلہ تھا، اِس کا دنیا کے دوسرے علاقوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
      اِس کا ذکر جس طریقے سے یہاں ہوا ہے، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ غالباً فرعون کا وزیراعظم تھا اور اُس کے دست راست کی حیثیت سے اُس کے تمام مظالم میں پوری طرح شریک تھا۔
      اوپر بیان ہو چکا ہے کہ فرعونی اِس بات سے ڈرتے تھے کہ بنی اسرائیل کی تعداد اور مصر میں اُن کا اثر و رسوخ اِسی طرح بڑھتا رہا تو ایک دن وہ اُن پر غلبہ حاصل کر لیں گے۔ یہ اُسی ڈر کا ذکر ہے۔ فرمایا کہ یہی ہو گا اور فرعون اور اُس کے اعیان و اکابر اپنے تمام زور و سلطنت اور تدبیر و تدبر کے باوجود ایک دن بالکل مغلوب ہو کر رہ جائیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو وحی کی کہ اس کو دودھ پلاؤ، پس جب تمہیں اس باب میں اندیشہ ہو تو اس کو دریا میں ڈال دیجیو اور نہ اندیشہ کیجیو اور نہ غم۔ ہم اس کو تمہارے پاس لوٹا کر لائیں گے اور اس کو اپنے رسولوں میں سے بنانے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اصل سرگزشت کا آغاز: اب یہ اصل سرگزشت شروع ہوئی ہے کہ جب حضرت موسیٰؑ کی ولادت ہوئی تو فرمایا کہ ہم نے موسیٰؑ کی ماں کو وحی کی کہ اس کو دودھ پلاتی رہو۔ اگر تمہیں اندیشہ ہو تو اس کو دریا میں ڈال دیجیو اور ذرا فکر و غم نہ کیجیو، ہم اس کو تمہارے پاس واپس لائیں گے اور اس کو اپنے رسولوں میں سے بنائیں گے۔
      ’وحی‘ سے مراد یہاں ظاہر ہے کہ وہ اصطلاحی وحی نہیں ہے جو حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے۔ بلکہ الہام و القاء یا رؤیا کے ذریعہ سے اس طرح دل میں کوئی بات ڈال دینا ہے جس سے دل کو اس پر فی الجملہ اطمینان ہو جائے۔
      حضرت موسیٰؑ کی حفاظت کے لیے خدائی انتظامات: جس زمانے میں حضرت موسیٰؑ کی ولادت ہوئی ہے بنی اسرائیل کے بچوں کے ہلاک کرنے کی سکیم بڑے زوروں سے چل رہی تھی۔ اول اول تو یہ کام فرعون اور اس کے اعیان نے دائیوں سے لینا چاہا لیکن تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ دائیوں نے اس میں کچھ زیادہ تعاون نہیں کیا۔ بالآخر فرعون نے قبطیوں کو یہ عام حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو اولاد نرینہ پیدا ہو اس کو دریا میں پھینک دیا کریں۔ اسی خطرناک زمانے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اس وجہ سے قدرتی طور پر ان کی والدہ ماجدہ کا دل ہر وقت دھڑکتا رہتا کہ معلوم نہیں کس وقت کسی ظالم کی نظر بچے پر پڑ جائے اور وہ اس کو اچک لے جائے۔ اسی خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ابھی تو تم اس کو دودھ پلاؤ۔ اگر اس طرح کا کوئی خطرہ محسوس ہو تو بے خوف و خطر بچے کو تم خود اپنے ہاتھوں دریا کے حوالہ کر دینا اور ذرا غم و فکر نہ کرنا۔ ہم اس کو تمہارے پاس واپس بھی لائیں گے اور اس کو مستقبل میں اپنے شرف رسالت سے بھی مشرف کریں گے۔ دریا میں ڈالنے کی یہ ہدایت ظاہر ہے کہ اس وجہ سے فرمائی گئی کہ فرعون نے جو راستہ بچوں کی ہلاکت کے لیے اختیار کیا تھا اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ حضرت موسیٰؑ کے لیے وہی راستہ نجات کا راستہ بنے۔ سورۂ طٰہٰ کی آیت ۴۹ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک صندوق میں بچے کو رکھ کے صندوق کو دریا میں بہا دینے کی ہدایت ہوئی تھی۔ تورات میں یہ واقعہ یوں بیان ہوا ہے:

      ’’وہ عورت حاملہ ہوئی اور بیٹا جنی اور اس نے اسے خوب صورت دیکھ کے تین مہینے تک چھپا رکھا اور آگے اس کو نہ چھپا سکی تو سرکنڈوں کا ایک ٹوکرا بنایا اور اس پر لاسا اور رال لگایا اور لڑکے کو اس میں رکھا اور اس نے اسے دریا کے کنارے پر جھاڑ میں رکھ دیا۔‘‘

      تورات کے بیان میں جو کمیاں اور غلطیاں ہیں ان کی طرف سورۂ طٰہٰ اور سورۂ اعراف کی تفسیر میں ہم اشارہ کر چکے ہیں۔ یہاں خاص چیز جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی والدہ ماجدہ کو الہام کے ذریعے سے یہ تسلی دے دی گئی تھی کہ اس بچے کو ہم تمہارے پاس پھر واپس لائیں گے اور اس کو منصب رسالت پر سرفراز کریں گے اور یہ تسلی، اسلوب کلام دلیل ہے کہ ایک حتمی وعدے کی شکل میں دی گئی تھی۔ یہی چیز تھی جس کے اعتماد پر حضرت موسیٰؑ کی والدہ ماجدہ یہ بازی کھیل گئیں ورنہ کوئی ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کو اس طرح دریا کی موجوں کے حوالہ کس طرح کر سکتی ہے!!

       

      جاوید احمد غامدی (چنانچہ موسیٰ پیدا ہوا تو بچے قتل کیے جارہے تھے)۔ ہم نے موسیٰ کی ماں کو (اِسی بنا پر) وحی کی کہ ابھی اِسے دودھ پلاؤ، پھر جب اِس کی نسبت تمھیں (جان کا) خطرہ ہو تو اِسے دریا میں ڈال دینا اور کوئی اندیشہ اور غم نہ کرنا، ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اِس کو ہم واپس تمھارے پاس پہنچا دیں گے اور اِسے پیغمبروں میں سے (ایک پیغمبر) بنائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      موسیٰ قبطی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں: میں نے اُسے پانی سے نکالا۔ بائیبل اور تالمود، دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کا یہ نام فرعون کے گھر میں رکھا گیا تھا۔ اُن کے والد کا نام اِن کتابوں میں عمرام بتایا گیا ہے۔ قرآن اِسی کا تلفظ عمران کرتا ہے۔ وہ حضرت یعقوب کے بیٹے لاوی کی اولاد میں سے تھے۔
      الہام و القا یا رؤیا کے ذریعے سے کوئی بات کسی کے دل میں ڈال دی جائے تو قرآن کی زبان میں وحی کا لفظ اُس کے لیے بھی استعمال ہوتاہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ پیغمبر نہیں تھیں، اِس لیے یہاں اِس لفظ کو اِسی مفہوم میں لینا چاہیے۔
      بائیبل کی کتاب خروج میں ہے کہ فرعون اور اُس کے اعیان نے پہلے دائیوں کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کے بچوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیں ، لیکن جب اِس میں کچھ زیادہ کامیابی نہیں ہوئی تو قبطیوں کو عام حکم دے دیا گیا کہ جہاں دیکھیں کہ بنی اسرائیل کے ہاں کوئی بیٹا پیدا ہوا ہے، اُسے اٹھائیں اور دریا میں پھینک دیں۔* چنانچہ اِسی بنا پر فرمایا ہے کہ بچے کو چھپائے رکھو، لیکن جب یہ ممکن نہ رہے تو اپنے ہاتھوں سے اُسے دریا میں ڈال دینا اور کوئی اندیشہ نہ کرنا، ہم اِسی کو تمھارے بچے کے لیے نجات کی راہ بنا دیں گے۔
      _____
      * ۱: ۱۵۔۲۲۔

    • امین احسن اصلاحی تو فرعون کے گھر والوں نے اس کو اٹھا لیا کہ وہ ان کے لیے دشمن اور باعث غم بنے۔ بے شک فرعون و ہامان اور ان کے اہل لشکر سے بڑی چوک ہوئی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت موسیٰؑ شاہی محل میں: اتنی بات بربنائے قرینہ یہاں پر حذف ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی والدہ نے جب خطرہ محسوس کیا تو ہدایت خداوندی کے مطابق بچے کو سرکنڈے کے ایک صندوق میں رکھ کر صندوق کو دریائے نیل کے حوالہ کر دیا۔ تورات کی مذکورہ بالا روایت پر اعتماد کیجیے تو واقعہ کی تفصیل یہ معلوم ہوتی ہے کہ تین ماہ تک تو انھوں نے بچے کو کسی نہ کسی طرح چھپائے رکھنے کی کوشش کی لیکن بالآخر انھیں یہ اندازہ ہو گیا کہ یہ تدبیر کارگر ہونے والی نہیں ہے۔ چنانچہ ناچار انھیں وہ اقدام کرنا پڑا جس کا ذکر اوپر ہوا۔ دریائے نیل اسرائیلیوں کی بستی کے پاس سے گزرتا ہوا فرعون کے محل کی طرف جاتا تھا۔ وہاں دریا کی موجوں نے صندوق کو کنارے پر ڈال دیا۔ فرعون کے گھر کے لوگوں کی نظر اس پر پڑ گئی۔ انھوں نے جب دیکھا کہ صندوق میں ایک موہنا بچہ پڑا ہوا ہے تو بادشاہ اور ملکہ کے حکم سے بچے کو شاہی محل میں لایا گیا۔ فرعون کی بیوی، جیسا کہ سورۂ تحریم سے واضح ہے، نہایت نیک دل تھیں۔ انھوں نے کہا اس بچے کو قتل نہ کرو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہم کو نفع پہنچائے یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔ اس طرح حضرت موسیٰؑ شاہی محل میں پہنچ گئے اور بادشاہ اور ملکہ دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گئے۔ یہاں لفظ ’آل‘ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب صندوق میں پڑے ہوئے ایک بچے کا ذکر شاہی محل تک پہنچا تو خاندان شاہی کے تمام چھوٹے بڑے موقع پر پہنچ گئے اور سب اس کو اٹھا کر محل میں لائے۔
      تقدیر الٰہی کے بھید کسی کو معلوم نہیں: ’لِیَکُونَ لَہُمْ عَدُوّاً وَحَزَناً‘۔ اس ’ل‘ کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کر چکے ہیں کہ یہ غایت و انجام کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ انھوں نے تو بچے کو اس لیے اٹھایا کہ وہ ان کے لیے، جیسا کہ آگے ملکہ کے قول سے واضح ہو گا، آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گا لیکن تقدیر الٰہی کا یہ بھید ان کو نہیں معلوم تھا کہ اس بچے کے ہاتھوں فرعونی اقتدار کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔
      ’إِنَّ فِرْعَوْنَ وَہَامَانَ وَجُنُودَہُمَا کَانُوا خَاطِئِیْنَ‘۔ یہ فرعون، ہامان اور ان کے فوجیوں کے رویے پر عام تبصرہ ہے کہ وہ اپنی حماقت کے سبب سے یہ سمجھے کہ تمام اختیار و اقتدار ان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ بنی اسرائیل کو ہمیشہ اسی طرح دبائے رکھیں گے۔ انھیں کیا خبر تھی کہ اگر خدا چاہے گا تو ان کے سب سے بڑے قامع کی پرورش ان کے شاہی محل میں، خود بادشاہ اور ملکہ کے ہاتھوں کرائے گا! اوپر آیت ۶ کے مضمون پر ایک نظر ڈال لیجیے۔

      جاوید احمد غامدی (اُسے بالآخر یہی کرنا پڑا)، پھرفرعون کے گھر والوں نے (دریا میں بہتے دیکھ کر) اُس کو اٹھا لیا کہ(خدا کی بات پوری ہو اور اِس کے نتیجے میں) وہ اُن کا دشمن اور اُن کے لیے باعث غم بنے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر بڑے خطاکار تھے (کہ اپنے آپ کو تمام اختیار و اقتدار کا مالک سمجھتے رہے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      بائیبل میں ہے:

      ’’...وہ عورت حاملہ ہوئی اور اُس کے بیٹا ہوا اور اُس نے یہ دیکھ کر کہ بچہ خوب صورت ہے، تین مہینے تک اُسے چھپا کر رکھا۔ اور جب اُسے اور زیادہ چھپا نہ سکی تو اُس نے سرکنڈوں کا ایک ٹوکرا لیا اور اُس پر چکنی مٹی اور رال لگا کر لڑکے کو اُس میں رکھا اور اُسے دریا کے کنارے جھاؤ میں چھوڑ آئی۔‘‘(خروج ۲: ۲۔۳)

      یہ اِس لیے ممکن ہوا کہ دریاے نیل بنی اسرائیل کی بستیوں سے گزرتا ہوا شاہی محلات کی طرف جاتا تھا۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام جس ٹوکرے میں تھے، اُسے دریا کی سیر کرتے ہوئے خود بادشاہ اور ملکہ نے یا اُن کے خدام نے دیکھا اور دریا سے نکال لیا۔
      اصل الفاظ ہیں: ’لِیَکُوْنَ لَھُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا‘۔ اِن میں ’ل‘ اُن کے مقصد کو نہیں، بلکہ فعل کی غایت اور انجام مقدر کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ ہم نے ترجمہ اِسی کے لحاظ سے کیا ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ اُنھوں نے سوچا ہی نہیں کہ کائنات کا اصل مالک خدا ہے اور وہ اگر چاہے گا تو اُن کے سب سے بڑے قامع کی پرورش اُنھی کے ہاتھوں کرا کے اُنھیں اُن کے انجام مقدر تک پہنچا دے گا، اور یہی بہت بڑی غلطی تھی۔

    • امین احسن اصلاحی اور فرعون کی بیوی نے کہا، یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اس کو قتل نہ کرو۔ کیا عجب کہ یہ ہم کو نفع پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا ہی بنا لیں اور ان کو انجام کی کچھ خبر نہ تھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرعون کی بیوی نہایت نیک دل تھیں: ملکہ نے جب بچے کو دیکھا تو اس موہنی صورت پر قربان ہو گئیں۔ فرعون سے کہا، یہ تو میری اور تمہاری دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اس کو قتل نہ کرو۔ امید ہے یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا ہی بنا لیں۔ ملکہ کے متعلق دوسرے مقام میں ہم یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ نہایت نیک دل اور فرعون کے رویہ سے سخت بیزار تھیں۔ ’عَسٰٓی أَن یَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَہُ وَلَدًا‘ یہ بعینہٖ وہی بات ہے، جو عزیز مصر نے، حضرت یوسفؑ سے متعلق، اپنی بیوی کو خطاب کر کے کہی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک ملکہ کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی اور اگر تورات کے بیان کو باور کر لیا جائے کہ جس نے حضرت موسیٰؑ کے صندوق کو سب سے پہلے دیکھا وہ فرعون کی لڑکی تھی تو یہ ماننا پڑے گا کہ اس وقت ان کے ہاں کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی۔ اس وجہ سے انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اول تو اس شکل و صورت کا بچہ فوائد و برکات سے خالی نہیں ہو سکتا، پھر یہ بات بھی ہے کہ اگر کسی اولاد نرینہ کے لیے ہماری امید پوری نہ ہوئی تو ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنا لیں گے۔ ’وَہُمْ لَا یَشْعُرُوۡنَ‘ یعنی بادشاہ اور ملکہ یہ سوچ رہے تھے، انھیں کچھ خبر نہیں تھی کہ قدرت اس پردے میں اپنی کیا شان دکھانے والی ہے!

      جاوید احمد غامدی فرعون کی بیوی نے (بچے کو دیکھا تو فرعون سے) کہا: یہ تو میری اور تمھاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، تم لوگ اِسے قتل نہ کرو۔ کیا عجب کہ یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اِسے بیٹا ہی بنا لیں۔ (وہ یہ باتیں کر رہے تھے) اور اُنھیں کچھ خبر نہ تھی (کہ اُن کے ساتھ کیا ہونے والا ہے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      فرعون کے ہاں غالباً کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی اور یہ ملکہ نہایت نیک دل خاتون تھیں۔ قرآن نے دوسری جگہ بتایا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بڑی موہنی صورت عطا فرمائی تھی۔ جو دیکھتا، اُسے بے اختیار پیار آ جاتا تھا۔ چنانچہ ملکہ بھی اِس موہنی صورت پر قربان ہو گئیں اور اُنھوں نے فرعون سے وہ بات کہی جو یہاں نقل ہوئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور موسیٰؑ کی ماں کا دل بالکل بے چین ہو گیا۔ قریب تھا کہ وہ اس کے راز کو ظاہر کر دیتی اگر ہم اس کے دل کو نہ سنبھالتے کہ وہ اہل ایمان میں سے بنی رہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آزمائشوں میں اہل ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ: حضرت موسیٰؑ کی والدہ نے جب کوئی مفر نہ دیکھا تو جی کڑا کر کے صندوق دریا میں ڈالنے کو تو ڈال دیا لیکن اس کے بعد ان پر جو کچھ گزری یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا دل صبر و قرار سے بالکل خالی ہو گیا۔ قریب تھا کہ بے صبری میں ان سے کوئی ایسی بات صادر ہو جائے جس سے سارا راز فاش ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو سنبھال لیا تاکہ جس دولت ایمان سے وہ بہرہ مند تھیں اس پر اس آزمائش میں بھی وہ ثابت قدم رہیں، انسان بہرحال انسان ہے۔ کسی ماں کے لیے خود اپنے ہاتھوں اپنے جگر کے ٹکڑے کو دریا کی موجوں کے حوالہ کر دینا کوئی آسان بازی نہیں ہے۔ اگرچہ ایک اشارۂ غیبی کا سہارا ان کو حاصل تھا اور یہ سہارا نہ ہوتا تو بھلا وہ اس کا تصور بھی کس طرح کر سکتی تھیں تاہم جب اپنا حال یہ ہے کہ اس واقعہ کے تصور کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ دل سینہ سے نکل پڑے گا تو اس وقت حضرت موسیٰؑ کی والدہ کے دل پرجو کچھ گزر رہی ہو گی اس کا اندازہ ان کے رب کے سوا اور کون کر سکتا ہے! لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اس نازک موقع پر سنبھالا اور وہی سنبھال سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں اور بندیوں کو امتحان میں تو ڈالتا ہے کہ یہ امتحان اس کی سنت ہے اور یہ امتحان درجے اور مرتبے کے اعتبار سے سخت سے سخت تر بھی ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی اس کی یہ سنت بھی ہے کہ جو لوگ اس کے امتحان کی راہ میں بازی کھیل جاتے ہیں وہ ان کو سنبھالتا بھی ہے۔ حضرت موسیٰؑ کی والدہ ماجدہ نے چونکہ بچے کو دریا کی موجوں کے حوالہ کر کے اپنے ایمان و توکل کی شہادت دے دی تھی اس وجہ سے آگے کے مرحلے میں خود رب کریم نے ان کے دل کو سنبھال لیا کہ ان کے اس ایمان و توکل کی لاج قائم رہے، کوئی ایسی بات صادر نہ ہونے پائے جو اس کے منافی ہو۔ اپنے باایمان بندوں اور بندیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یوں ہی ہے لیکن اس کو بہت کم لوگ سمجھتے ہیں!

      جاوید احمد غامدی (اُدھر) موسیٰ کی ماں کا دل بالکل بے قرار ہو گیا۔ اگر ہم اُس کے دل کو نہ سنبھالتے کہ اُس کو (ہمارے وعدے کا) یقین رہے تو وہ اُس کا راز فاش کر بیٹھتی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی خدا کے اشارے سے بچے کو دریا کے حوالے کر کے اُس نے جس ایمان و توکل کی شہادت دی تھی، اُس کی لاج قائم رہے۔ اپنے مومن بندوں اور بندیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یوں ہی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اللہ تعالیٰ اپنے بندوں اور بندیوں کو امتحان میں تو ڈالتا ہے کہ یہ امتحان اُس کی سنت ہے ،اور یہ امتحان درجے اور مرتبے کے اعتبار سے سخت سے سخت تر بھی ہوتا ہے، لیکن ساتھ ہی اُس کی یہ سنت بھی ہے کہ جو لوگ اُس کے امتحان کی راہ میں بازی کھیل جاتے ہیں، وہ اُن کو سنبھالتا بھی ہے۔ ‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۶۶۱)

    • امین احسن اصلاحی اور اس نے اس کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے پیچھے جا تو وہ اس کو دور سے دیکھتی رہی اور ان لوگوں کو اس کی خبر نہ ہونے پائی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دل کی تسلی کے لیے آخری تدبیر: جب صندوق پانی میں بہتا ہوا آگے کو چلا تو انھوں نے حضرت موسیٰؑ کی بہن سے فرمایا کہ اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے، تم بھی جاؤ اور دیکھو کہ صندوق کدھر جاتا ہے۔ یہ دل کی تسلی کے لیے آخری تدبیر تھی جو وہ کر سکتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ صندوق کا تعاقب ایک خاص حد تک ہی ممکن تھا، بالآخر تو اس کو نگاہوں سے اوجھل ہونا ہی تھا لیکن جتنی دیر بھی اور جتنی دور تک بھی اس کو دیکھنا ممکن ہو سکے وہ اس سے محروم رہنا کس طرح گوارا کر سکتی تھیں! چنانچہ حضرت موسیٰؑ کی بہن دور سے اس طرح اس کو دیکھتی رہیں کہ کسی کو اس واقعہ کی طرف توجہ نہ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فضل و احسان ہوا کہ ان کی یہ مہم کامیاب رہی۔ صندوق کا فرعون کے محل کے پاس ساحل پر لگ جانے اور ننھے بھائی کو محل میں لے جانے کا سارا ماجرا انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہی محل اسرائیلیوں کی بستی سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا۔

      جاوید احمد غامدی سو (اِسی بے قراری میں) اُس نے بچے کی بہن سے کہا کہ اُس کے پیچھے پیچھے جا۔ چنانچہ وہ اُس کو دور سے دیکھتی رہی اور فرعون کے لوگوں کو اِس کی کچھ خبر نہ ہوئی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ دل کی تسلی کے لیے آخری تدبیر تھی جو وہ کر سکتی تھیں۔
      اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہی محل اسرائیلیوں کی بستی سے زیادہ دور نہیں تھا۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے اس کو پہلے ہی سے دودھ پلائیوں کے دودھ سے روک دیا تھا تو اس نے کہا کیا میں ایک ایسے گھر والوں کا آپ لوگوں کو پتہ دوں جو آپ لوگوں کی خاطر اس کو پا لیں گے اور وہ اس کی بڑی خیر خواہی سے دیکھ بھال کریں گے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ تعالیٰ کی ایک اور کارسازی: اب یہ اس تدبیر کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو ان کی والدہ کی طرف لوٹانے کے لیے اختیار فرمائی۔ اوپر گزر چکا ہے کہ بچے کو محل میں بڑے چاؤ پیار سے لے جایا گیا۔ ظاہر ہے کہ سب سے پہلے اس بات کی فکر ہوئی ہو گی کہ بچے کو کسی دایہ کا دودھ پلایا جائے۔ دایہ بلائی گئی تو حضرت موسیٰؑ نے اس کا دودھ نہیں پیا۔ دوسری بلائی گئی۔ تیسری بلائی گئی۔ یکے بعد دیگرے کئی دایائیں بلائی گئیں لیکن حضرت موسیٰؑ نے کسی کی چھاتی منہ سے نہیں لگائی۔ اس صورت حال سے حضرت موسیٰؑ کی بہن نے فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے آگے بڑھ کر کہا اگر آپ لوگ کہیں تو میں ایک ایسے گھر والوں کا پتہ دوں جو پوری خیر خواہی اور محبت کے ساتھ بچے کی غور و پرداخت کریں گے۔ محل والے پریشان تو تھے ہی وہ فوراً راضی ہو گئے اور اس طرح حضرت موسیٰؑ کے اپنی ماں کے آغوش میں پہنچنے کی راہ کھل گئی۔

      جاوید احمد غامدی اور (اِدھر) دودھ پلائیوں کے دودھ سے ہم نے موسیٰ کو پہلے ہی روک رکھا تھا۔ (چنانچہ موسیٰ کی بہن وہاں پہنچی اور یہ دیکھا) تو اُس نے اُن سے کہا:تم لوگ کہو تو میں تمھیں ایک گھرانے کا پتا بتاؤں جو تم لوگوں کی خاطر اِسے پا لیں گے اور بڑی خیر خواہی سے اِس کی دیکھ بھال کریں گے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس تدبیر کا ذکر ہے جو موسیٰ علیہ السلام کو اُن کی ماں کی طرف لوٹانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اختیار فرمائی۔ چنانچہ بچے کو پانے کے بعد جب اُس کو دودھ پلانے کی فکر ہوئی تو فرعون کی بیوی ایک کے بعد دوسری انا کو دودھ پلانے کے لیے بلاتی رہی، لیکن بچے نے کسی کی چھاتی منہ سے نہیں لگائی۔

    • امین احسن اصلاحی پس ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائے اور تاکہ وہ اچھی طرح جان لے کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہتا ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت موسیٰؑ اپنی ماں کے آغوش میں: اس تدبیر سے خدائے کارساز و کریم نے حضرت موسیٰؑ کو دریا سے نکلوایا اور پھر ان کو ان کی ماں کی گود میں پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کا غم دور ہو جائے۔
      اصل نکتہ! ’وَلِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ اللَّہِ حَقٌّ وَلَکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوۡنَ‘۔ یہ اس وعدے کے ایفاء کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اوپر آیت ۷ میں گزرا کہ تم بچے کو بے خوف و خطر دریا میں ڈال دینا، ہم اس کی حفاظت کریں گے اور اس کو پھر تم سے ملائیں گے۔ فرمایا کہ اس طرح ہم نے اس کو دکھا دیا کہ ہم جو وعدہ کرتے ہیں، خواہ اس کا ایفا بظاہر کتنا ہی مستبعد کیوں نہ نظر آئے لیکن ہم اس کو پورا کر کے رہتے ہیں اور ہماری تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوتی۔ ’وَلَکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوۡنَ‘۔ یہ اصل نکتہ کی بات ارشاد ہوئی ہے کہ اکثر لوگ اپنی بلادت کے سبب سے اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ وہ خدا کے وعدوں کو محض ہوائی باتیں خیال کرتے ہیں اور ان کے اعتماد پر کوئی بازی کھیلنے میں ان کو خسارہ اور خطرہ نظر آتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہوتے دیکھ لیں تب مانیں گے حالانکہ اس دنیا میں اصل امتحان تو یہی ہے کہ لوگ اپنے رب کے ان وعدوں اور وعیدوں کے لیے جئیں اور مریں جن کی حقیقت ابھی سامنے آئی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِس طرح موسیٰ کو ہم نے اُس کی ماں کی طرف لوٹا دیا کہ اُس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ آزردہ خاطر نہ ہو اور اِس لیے کہ وہ اچھی طرح جان لے کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس وعدے کے ایفا کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اوپر آیت ۷ میں گزرا ہے۔
      یعنی اپنی بلادت کے سبب سے اِس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... وہ خدا کے وعدوں کو محض ہوائی باتیں خیال کرتے ہیں اور اُن کے اعتماد پر کوئی بازی کھیلنے میں اُن کو خسارہ اور خطرہ نظر آتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہوتے دیکھ لیں، تب مانیں گے، حالاں کہ اِس دنیا میں اصل امتحان تو یہی ہے کہ لوگ اپنے رب کے اُن وعدوں اور وعیدوں کے لیے جئیں اور مریں جن کی حقیقت ابھی سامنے آنی ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۶۶۲)

    • امین احسن اصلاحی پس جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور پورا ہوا تو ہم نے اس کو قوت فیصلہ عطا فرمائی اور علم بخشا اور خوب کاروں کو ہم اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت موسیٰ ؑ کی جوانی کا اصلی جمال: ’بَلَغَ اَشُدَّہٗ‘ سے جوانی کو پہنچنا مراد ہے اور اس کے ساتھ لفظ ’اِسْتِوَآء‘ عقلی و مزاجی اعتدال و توازن کی طرف اشارہ کر رہا ہے یعنی جب حضرت موسیٰ علیہ السلام جسمانی اعتبار سے جوانی کو اور عقلی و مزاجی اعتبار سے اعتدال و توازن کی عمر کو پہنچے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جوانی بجائے خود کوئی بڑی وقیع چیز نہیں ہے اگر اس کے ساتھ عقلی و مزاجی اعتدال کا جمال نہ ہو۔
      ’حُکم‘ سے مراد قوت فیصلہ اور ’عِلم‘ سے مراد خدا کی معرفت ہے۔ اس حکم و علم کے مختلف مدارج ہیں۔ اس کا اعلیٰ درجہ وہ ہے جو حضرات ابنیاء علیہم السلام کو حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں بعینہٖ یہی الفاظ حضرات انبیاء علیہم السلام کے علم کے لیے بھی استعمال ہوئے ہیں لیکن یہاں ظاہر ہے کہ وہ علم و حکمت مراد نہیں ہے اس لیے کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کی ابتدائی زندگی کے احوال بیان ہو رہے ہیں۔ نبوت ان کو، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے، اس کے بہت بعد ملی ہے۔
      فرمایا کہ جب حضرت موسیٰ ؑ جوانی کو پہنچے اور ان کو عقل اور ان کے مزاج میں اعتدال و توازن آ گیا تو ہم نے ان کو حکمت و معرفت سے نوازا۔ ’وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ‘ جو لوگ خوب کار ہوتے ہیں ہم ان کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں۔ ’مُحْسِنِیْنَ‘ سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جو اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو ان کے صحیح مصرف میں بالکل صحیح طریقہ پر استعمال کرتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو ہم اپنے علم و حکمت میں سے حصہ دیتے ہیں۔ یہی علم و حکمت انسان کی قوتوں اور صلاحیتوں کا اصلی جمال و کمال ہے۔ اگر کوئی شخص یہ نہ حاصل کر سکا تو اس نے اپنی ساری صلاحیتیں بھی برباد کیں اور اپنی جوانی بھی غارت کی۔

      جاوید احمد غامدی (فرعون کے زیر سایہ پرورش پا کر یہی) موسیٰ جب اپنی جوانی کو پہنچا اور (ہر لحاظ سے) پورا ہو گیا تو ہم نے اُسے علم و حکمت سے نوازا۔ اچھے لوگوں کو ہم اِسی طرح صلہ دیتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جسمانی لحاظ سے بھی جوانی کو پہنچ گیا اور اُس کی عقل اور اُس کے مزاج میں بھی پختگی آ گئی۔
      آیت میں ’حُکْم‘ اور ’عِلْم‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ ’حُکْم‘ سے مراد چیزوں کے بارے میں صحیح فیصلے تک پہنچنے کی صلاحیت اور ’عِلْم‘ سے مراد معرفت حقائق ہے۔
      یعنی اُن لوگوں کو جو خدا کی دی ہوئی قوتوں اورصلاحیتوں کو بالکل صحیح طریقے پر استعمال کرتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور ایک دن لوگوں کی بے خبری میں وہ شہر میں داخل ہوا تو اس میں اس نے دو آدمیوں کو لڑتے پایا۔ ایک اس کے اپنے گروہ میں سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں کے گروہ میں سے۔ تو جو اس کے گروہ میں سے تھا اس نے اس سے اس شخص کے مقابل میں مدد کی درخواست کی جو اس کے مخالفوں میں سے تھا تو موسیٰؑ نے اس کے گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا۔ اس نے کہا یہ تو مجھ سے شیطانی کام صادر ہو گیا، بے شک وہ ایک کھلا ہوا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’مدینۃ‘ سے مراد: ’مدینۃ‘ سے مراد اصل شہر ہے جو شرفاء و اعیان کا مرکز اور حکومت کا مستقر تھا۔ بنی اسرائیل کی حیثیت چونکہ محض غلاموں اور خدمت گاروں کی تھی اس وجہ سے ان کی بستی اصل شہر سے الگ بسائی گئی تھی۔ وہ صرف مزدوروں اور خدمت گاروں کی طرح کام کے اوقات میں شہر میں جایا کرتے تھے۔
      صالح جوانی میدان عمل میں: حضرت موسیٰ علیہ السلام جب جوان ہوئے اور ان کے اندر وہ فتوت و مروت اور حمیت و غیرت پیدا ہوئی جو صالح جوانی اور علم و معرفت کا خاصہ ہے تو وہ وقتاً فوقتاً شہر میں اپنے مظلوم بھائیوں کا حال دیکھنے کے لیے جانے لگے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی حمیت و حمایت کے سبب سے قبطیوں کی نظروں میں کھٹکنے لگے تھے اس وجہ سے انھیں یہ کام لوگوں کی نگاہوں سے بچ بچا کے ایسے اوقات میں کرنا پڑتا جن میں لوگ آرام کرتے ہیں۔ ایک دن وہ اسی طرح کے تجسس کے لیے شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک قبطی اور ایک اسرائیلی دونوں لڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی نے جب حضرت موسیٰؑ کو دیکھا تو ان سے طالب مدد ہوا۔ حضرت موسیٰؑ اس کو مظلوم دیکھ کر، بتقاضائے فتوت و حمایت حق، اس کی مدد کے لیے بڑھے اور چاہا کہ بیچ بچاؤ کرا دیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ قبطی اپنی رعونت کے سبب سے ان سے الجھ پڑا۔ انھوں نے اپنی مدافعت میں اس کو جو گھونسا مارا تو وہ ایسا بے ڈھب پڑا کہ وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ حضرت موسیٰؑ نہ تو قبطی کے قتل کرنے کا کوئی ارادہ رکھتے تھے اور نہ ان کو اس صورت حال کے پیش آنے کا کوئی گمان تھا۔ بالکل بے ارادہ جب یہ حادثہ پیش آ گیا تو انھیں فوراً اپنی غلطی پر پشیمانی ہوئی اور انھوں نے اپنے رب سے معافی مانگی کہ اے رب میں نے اپنی جان پر سخت ظلم ڈھایا تو مجھے معاف فرما دے۔ چونکہ یہ غلطی ان سے بالکل بے ارادہ ہوئی تھی، پھرا نھوں نے معافی بھی بلاتاخیر مانگی، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو فوراً ہی معاف فرما دیا اور اس معافی کی غیبی طور پر ان کو بشارت بھی مل گئی۔ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
      اوپر یہ جو ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو بھرپور جوانی کے ساتھ اپنی حکمت و معرفت سے بھی نوازا تھا یہ اسی حکمت و معرفت سے کا کرشمہ ہے۔ اگر حضرت موسیٰؑ صرف ایک تگڑے جوان ہوتے تو اپنے گھونسے کی شہ زوری اور بے پناہی پر فخر سے پھولے نہ سماتے۔ بالخصوص ایک قبطی کے اس طرح قتل کو تو وہ اپنا ایک زندۂ جاوید کارنامہ سمجھتے لیکن انھوں نے اپنے دشمن کے معاملے میں بھی، اپنی ایک غیرارادی غلطی کو، اپنا ایک جرم سمجھا اور اپنے رب سے اس کی فوراً معافی مانگی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ معاملہ حضرت موسیٰؑ اور ان کے رب ہی کے درمیان کا معاملہ تھا۔ مصر میں اس وقت جو صورت حال تھی اس میں اس بات کا کوئی امکان نہ تھا کہ حضرت موسیٰؑ حکومت اور قانون سے کسی انصاف کی توقع کرتے۔

      جاوید احمد غامدی (پھر ایک دن اتفاق سے) وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوا، جبکہ شہر کے لوگ بے خبر ہوتے تھے تو اُس نے دیکھا کہ دو آدمی وہاں لڑ رہے ہیں۔ ایک اُس کی اپنی قوم میں سے تھا اور دوسرا اُس کے دشمنوں کی قوم میں سے۔ پھر اُس کی قوم کے آدمی نے اُس شخص کے مقابل میں اُس کی مدد چاہی جو اُس کے دشمنوں میں سے تھا تو موسیٰ نے اُس کے گھونسا مارا اور اُس کا کام تمام کر دیا۔ (یہ حرکت سرزد ہوتے ہی) موسیٰ نے کہا: یہ تو مجھ سے شیطانی کام ہو گیاہے۔اِس میں شبہ نہیں کہ شیطان ایک کھلا ہوا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ غالباً لوگوں کے قیلولے کا وقت ہو گا۔ آگے جو واقعہ بیان ہوا ہے، اُس کے بارے میں خیال ہو سکتا تھا کہ آخر لوگوں نے اُسے دیکھا کیوں نہیں۔ قرآن نے یہ اُس کی وجہ بیان کر دی ہے کہ یہ ایسا وقت تھا، جب لوگ زیادہ تر گھروں میں تھے۔ چنانچہ سڑکیں اور گلیاں سنسان تھیں اور شہر میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اِس وقت کا انتخاب شاید اِس لیے کیا کہ وہ لوگوں کی نگاہوں سے بچ بچا کے اپنے مظلوم بھائیوں کے حالات دیکھ سکیں۔
      یہ حادثہ بالکل بے ارادہ پیش آیا۔ موسیٰ علیہ السلام کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اِس طرح کی صورت حال پیش آجائے گی۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اسرائیلی نے جب حضرت موسیٰ کو دیکھا تو اُن سے طالب مدد ہوا۔ حضرت موسیٰ اُس کو مظلوم دیکھ کر، بہ تقاضاے فتوت و حمایت حق، اُس کی مدد کے لیے بڑھے اور چاہا کہ بیچ بچاؤ کرا دیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ قبطی اپنی رعونت کے سبب سے اُن سے الجھ پڑا۔ اُنھوں نے اپنی مدافعت میں اُس کو جو گھونسا مارا تو وہ ایسا بے ڈھب پڑا کہ وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۶۶۳)

    • امین احسن اصلاحی اس نے دعا کی، اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم ڈھایا تو مجھے بخش دے۔ تو خدا نے اسے بخش دیا۔ بے شک وہ بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      صالح جوانی میدان عمل میں: حضرت موسیٰ علیہ السلام جب جوان ہوئے اور ان کے اندر وہ فتوت و مروت اور حمیت و غیرت پیدا ہوئی جو صالح جوانی اور علم و معرفت کا خاصہ ہے تو وہ وقتاً فوقتاً شہر میں اپنے مظلوم بھائیوں کا حال دیکھنے کے لیے جانے لگے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی حمیت و حمایت کے سبب سے قبطیوں کی نظروں میں کھٹکنے لگے تھے اس وجہ سے انھیں یہ کام لوگوں کی نگاہوں سے بچ بچا کے ایسے اوقات میں کرنا پڑتا جن میں لوگ آرام کرتے ہیں۔ ایک دن وہ اسی طرح کے تجسس کے لیے شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک قبطی اور ایک اسرائیلی دونوں لڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی نے جب حضرت موسیٰؑ کو دیکھا تو ان سے طالب مدد ہوا۔ حضرت موسیٰؑ اس کو مظلوم دیکھ کر، بتقاضائے فتوت و حمایت حق، اس کی مدد کے لیے بڑھے اور چاہا کہ بیچ بچاؤ کرا دیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ قبطی اپنی رعونت کے سبب سے ان سے الجھ پڑا۔ انھوں نے اپنی مدافعت میں اس کو جو گھونسا مارا تو وہ ایسا بے ڈھب پڑا کہ وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ حضرت موسیٰؑ نہ تو قبطی کے قتل کرنے کا کوئی ارادہ رکھتے تھے اور نہ ان کو اس صورت حال کے پیش آنے کا کوئی گمان تھا۔ بالکل بے ارادہ جب یہ حادثہ پیش آ گیا تو انھیں فوراً اپنی غلطی پر پشیمانی ہوئی اور انھوں نے اپنے رب سے معافی مانگی کہ اے رب میں نے اپنی جان پر سخت ظلم ڈھایا تو مجھے معاف فرما دے۔ چونکہ یہ غلطی ان سے بالکل بے ارادہ ہوئی تھی، پھرا نھوں نے معافی بھی بلاتاخیر مانگی، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو فوراً ہی معاف فرما دیا اور اس معافی کی غیبی طور پر ان کو بشارت بھی مل گئی۔ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
      اوپر یہ جو ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو بھرپور جوانی کے ساتھ اپنی حکمت و معرفت سے بھی نوازا تھا یہ اسی حکمت و معرفت سے کا کرشمہ ہے۔ اگر حضرت موسیٰؑ صرف ایک تگڑے جوان ہوتے تو اپنے گھونسے کی شہ زوری اور بے پناہی پر فخر سے پھولے نہ سماتے۔ بالخصوص ایک قبطی کے اس طرح قتل کو تو وہ اپنا ایک زندۂ جاوید کارنامہ سمجھتے لیکن انھوں نے اپنے دشمن کے معاملے میں بھی، اپنی ایک غیرارادی غلطی کو، اپنا ایک جرم سمجھا اور اپنے رب سے اس کی فوراً معافی مانگی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ معاملہ حضرت موسیٰؑ اور ان کے رب ہی کے درمیان کا معاملہ تھا۔ مصر میں اس وقت جو صورت حال تھی اس میں اس بات کا کوئی امکان نہ تھا کہ حضرت موسیٰؑ حکومت اور قانون سے کسی انصاف کی توقع کرتے۔

      جاوید احمد غامدی اُس نے دعا کی کہ میرے پروردگار، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، سو مجھ کو بخش دے تو اُس کے پروردگار نے اُسے بخش دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُسی علم و حکمت کا کرشمہ تھا جس کا ذکر اوپر ہوا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنی شہ زوری اور بے پناہی پر فخر کرنے کے بجاے اِس غیر ارادی غلطی کو بھی جرم سمجھا۔ چنانچہ فوراً نادم ہوئے اور اپنے پروردگار سے معافی کی درخواست کی۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے کہا، اے رب! چونکہ تو نے مجھ پر فضل فرمایا تو میں عہد کرتا ہوں کہ میں مجرموں کا مددگار کبھی نہیں بنوں گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آئندہ کے لیے احتیاط کا عہد: نعمت، صالحین کے لیے شکرگزاری میں اضافہ کرتی ہے اس وجہ سے جب اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ فضل فرمایا کہ ان کو معافی دے دی تو آئندہ کے لیے انھوں نے یہ عہد فرمایا کہ اب میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا۔ ’’مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا‘‘ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ آپ نے اسرائیلی کی حمایت اس کو مجرم سمجھتے ہوئے کی۔ آپ نے تو جو کچھ کیا اس کو مظلوم سمجھتے ہوئے کیا، اس کی فریاد پر کیا اور وقت کے حالات کی بنا پر ان کو گمان یہی ہوا کہ قبطی ظالم اور اسرائیلی مظلوم ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کے معانی مانگنے پر یہ نہیں فرمایا کہ تم بے قصور ہو، قبطی ظالم آدمی تھا، بلکہ ان کو ایک غلطی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے معافی دی تو اس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ معلوم ہوتا ہے کہ میں نے مظلوم کی حمایت کرنی چاہی لیکن معاملہ کی تحقیق نہ کرنے کے سبب سے مجھ سے ظالم کی حمایت صادر ہو گئی۔ اس وجہ سے آئندہ کے لیے آپ نے یہ عہد فرمایا کہ اب میں بلا تحقیق کسی کی حمایت نہیں کروں گا بلکہ صرف اسی کی حمایت کروں گا جس کا مظلوم ہونا معلوم ہو۔ چنانچہ دوسرے ہی دن آپ نے جب اسی اسرائیلی کو ایک دوسرے قبطی سے لڑتے دیکھا اور وہ حسب سابق پھر حضرت موسیٰؑ سے طالب مدد ہوا تو آپ نے اس کو جھڑک دیا کہ تم ایک شریر آدمی معلوم ہوتے ہو۔

      جاوید احمد غامدی موسیٰ نے کہا: میرے پروردگار، یہ عنایت جو تو نے مجھ پر فرمائی ہے، اِس کے بعد تو اب میں اِس طرح کے مجرموں کا کبھی مددگار نہ بنوں گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی کی بشارت بھی کسی غیبی ذریعے سے دے دی گئی تاکہ وہ مطمئن ہو جائیں اور اپنی حفاظت کا بندوبست کریں۔ اِس لیے کہ اُس وقت کی حکومت اور قانون سے وہ اپنے لیے کسی انصاف کی توقع نہیں کر سکتے تھے۔ اِس میں یہ جو فرمایا ہے کہ ’’اب میں اِس طرح کے مجرموں کا کبھی مددگار نہ بنوں گا‘‘، تو اِس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ اُنھوں نے اپنے اسرائیلی بھائی کو مجرم سمجھتے ہوئے اُس کی مدد کی تھی۔ اُس وقت تو اُنھوں نے اُسے مظلوم ہی سمجھا تھا، لیکن بعد میں واضح ہو گیا کہ جسے وہ مظلوم سمجھے تھے، وہی درحقیقت مجرم تھا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... آپ نے توجو کچھ کیا ،اُس کو مظلوم سمجھتے ہوئے کیا، اُس کی فریاد پر کیا اور وقت کے حالات کی بنا پر اُن کو گمان یہی ہوا کہ قبطی ظالم اور اسرائیلی مظلوم ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اُن کے معانی مانگنے پر یہ نہیں فرمایا کہ تم بے قصور ہو، قبطی ظالم آدمی تھا، بلکہ اُن کوایک غلطی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے معافی دی تواِس سے وہ اِس نتیجے پر پہنچے کہ معلوم ہوتا ہے کہ میں نے مظلوم کی حمایت کرنی چاہی، لیکن معاملے کی تحقیق نہ کرنے کے سبب سے مجھ سے ظالم کی حمایت صادر ہو گئی۔ اِس وجہ سے آیندہ کے لیے آپ نے یہ عہد فرمایا کہ اب میں بلاتحقیق کسی کی حمایت نہیں کروں گا، بلکہ صرف اُسی کی حمایت کروں گا جس کا مظلوم ہونا معلوم ہو۔ چنانچہ دوسرے ہی دن آپ نے جب اُسی اسرائیلی کو ایک دوسرے قبطی سے لڑتے دیکھا اور وہ حسب سابق پھر حضرت موسیٰ سے طالب مدد ہوا تو آپ نے اُس کو جھڑک دیا کہ تم ایک شریر آدمی معلوم ہوتے ہو۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۶۶۴)

    • امین احسن اصلاحی پس دوسرے دن وہ شہر میں داخل ہوا ڈرتا، ٹوہ لیتا ہوا، تو دیکھا کہ وہی شخص، جو کل اس سے طالب مدد ہوا تھا، آج پھر اس کو مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ موسیٰؑ نے کہا، تم خود ایک کھلے ہوئے شریر آدمی ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عہد کا احترام: دوسرے روز حضرت موسیٰؑ ڈرتے اور ٹوہ لیتے ہوئے پھر شہر میں داخل ہوئے۔ شہر میں جاتے ہوئے احتیاط تو، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، پہلے بھی وہ کرتے تھے لیکن اب اس واقعہ کے سبب سے اور بھی طرح طرح کے اندیشے رہے ہوں گے کہ معلوم نہیں اس کا ردعمل ان کے اور ان کی قوم کے خلاف کیا ہوتا ہے۔ زبانوں پر کیا چرچے ہیں اور ان کے بارے میں کیا چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں! اتنے میں دیکھا کہ وہی اسرائیلی جو کل ان سے طالب مدد ہوا تھا آج پھر فریاد کر رہا ہے۔ لیکن حضرت موسیٰؑ نے اس کو جھڑک دیا کہ تم خود ایک کھلے ہوئے شریر آدمی معلوم ہوتے ہو۔ اس کے کھلے ہوئے شریر آدمی ہونے کی ایک کھلی ہوئی دلیل تو یہی تھی کہ کل بھی وہ ایک شخص سے الجھا ہوا تھا جس کے نتیجہ میں ایک سنگین حادثہ پیش آ چکا تھا اور آج بھی ایک دوسرے شخص سے وہ لڑ رہا تھا۔ یہ واضح قرینہ اسی بات کا تھا کہ یہ شخص شرپسند ہے۔ اور دوسری وجہ وہ تھی جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ حضرت موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ کی معافی سے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی کو مظلوم سمجھ کر اس کی حمایت کرنے میں ان سے غلطی صادر ہوئی، اس معاملے میں ان کو تحقیق کرنی تھی۔ چنانچہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ وعدہ جو فرمایا تھا کہ آئندہ میں کسی مجرم کی پشت پناہی نہیں کروں گا اس موقع پر انھوں نے اس کا پورا احترام ملحوظ رکھا۔ اس مرتبہ وہ فوراً اس کی حمایت کے لیے نہیں اٹھ کھڑے ہوئے بلکہ قرائن کو سامنے رکھ کر اسی کو تنبیہ کی کہ تم خود ایک جھگڑالو اور شریر آدمی معلوم ہوتے ہو۔

      جاوید احمد غامدی (رات خیریت سے گزر گئی) تو اگلے دن موسیٰ صبح کو ڈرتے ڈرتے، کچھ ٹوہ لیتے ہوئے شہر میں داخل ہوا۔ پھر کیا دیکھتا ہے کہ وہی جس نے کل اُسے مدد کے لیے پکارا تھا، آج پھر اُسے پکار رہا ہے۔ موسیٰ نے اُس سے کہا: اب کوئی شبہ نہیں رہا کہ تم خود ایک کھلے ہوئے شریرآدمی ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      موسیٰ علیہ السلام پر یہ بات اللہ تعالیٰ کے اشارے ہی سے کھل گئی تھی، تاہم آج اُسے دوبارہ لڑتے دیکھ کر اُنھیں کوئی شبہ نہیں رہا کہ اصل مجرم یہی شخص ہے جو ہر ایک سے لڑتا رہتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پس جب اس نے ارادہ کیا کہ پکڑے اس کو جو ان دونوں کا دشمن تھا تو وہ بول اٹھا کہ اے موسیٰؑ، کیا تم آج مجھے قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو قتل کیا! تم تو اس ملک میں ایک جبّار بننے کا ارادہ کر رہے ہو، تم اصلاح کرنے والوں میں سے نہیں بننا چاہتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک اسلوب کی وضاحت: ’ان‘ سے پہلے یہاں کوئی مناسب موقع فعل محذوف ہے۔ یعنی جب معاملہ یوں ہوا یا جب بات یہاں تک پہنچی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے پہلے زبانی افہام و تفہیم سے فریقین کو ہموار کرنے کی کوشش کی لیکن جب اس سے کام نہ چلا بلکہ قبطی نے اکڑ دکھائی تو آپ نے اس کو پکڑ کر علیحدہ کرنا چاہا۔ اس قبطی کو یہاں ’عَدُوٌّ لَّہُمَا‘ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی حضرت موسیٰؑ اور اسرائیلی دونوں کا دشمن۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ اسرائیلی کا تو وہ بالفعل دشمن تھا ہی اور حضرت موسیٰؑ کے ساتھ اس کی دشمنی قومی اعتبار سے بھی تھی اور اس پہلو سے بھی کہ وہ اپنی اصلاحی سرگرمیوں کے سبب سے تمام قبطیوں کی نظروں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے لگے تھے۔
      اسرائیلی کی حماقت سے افشائے راز: حضرت موسیٰؑ نے پکڑنا تو چاہا قبطی کو لیکن انھوں نے پہلے جھڑکا اسرائیلی کو تھا اس وجہ سے اس نے گمان کیا کہ آج ہو نہ ہو ان کا گھونسا اس پر پڑنے والا ہے۔ اس گھبراہٹ میں وہ چلایا کہ کل تم نے ایک شخص کو جس طرح قتل کیا ہے اسی طرح آج معلوم ہوتا ہے کہ تم مجھے قتل کرنا چاہتے ہو۔ اس طرح اس نے اپنی حماقت سے راز کھول دیا۔ بعض لوگوں نے ’یٰمُوسَی أَتُرِیْدُ الخ‘ کو قبطی کا قول قرار دیا ہے لیکن یہ قرین قیاس نہیں کیونکہ ایک تو قتل کا واقعہ ابھی راز تھا، دوسرے قبطی حضرت موسیٰؑ کو مصلح نہیں سمجھتے تھے۔
      سفلہ لوگوں کا کردار: ’إِن تُرِیْدُ إِلَّا أَنۡ تَکُوۡنَ جَبَّارًا فِی الْأَرْضِ وَمَا تُرِیْدُ أَن تَکُوۡنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ‘۔ ’جَبَّار‘ کے معنی یہاں مطلق العنان اور قابو سے باہر کے ہیں۔ یعنی افشائے راز کے ساتھ ساتھ اس نے حضرت موسیٰؑ پر یہ چوٹ بھی کر ڈالی کہ ہم تو یہ گمان کر رہے تھے کہ تم اس ملک میں اصلاح کرنا چاہتے ہو لیکن معلوم ہوا کہ اصلاح نہیں کرنا چاہتے بلکہ ایک بالکل مطلق العنان اور بے قابو آدمی بن کر زندگی بسر کرنا چاہتے ہو! ۔۔۔ اس کے اس قول سے ایک طرف تو سفلہ لوگوں کا کردار سامنے آتا ہے کہ جب تک کوئی شخص ان کی مدد و حمایت کرے وہ اس کو بہت بڑا مصلح سمجھتے ہیں لیکن اگر وہ ان کو کسی برائی سے روکنے کی کوشش کرے تو وہ نہ صرف اس کو ایک بہت بڑا مفسد قرار دیتے ہیں بلکہ اس کے خلاف جاسوسی کرنے والے اور اس کے رازوں کو طشت ازبام کرنے والے بھی بن جاتے ہیں۔ دوسری طرف اس سے حضرت موسیٰؑ کا کردار بھی سامنے آتا ہے کہ وہ اسی زمانے سے اپنی قوم کے اندر ایک مصلح اور مرجع امید سمجھے جانے لگے تھے۔

      جاوید احمد غامدی پھر (دونوں کو سمجھاتے سمجھاتے) جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ موسیٰ نے ارادہ کیا کہ (اب) اپنے اور اُس کے دشمن کو پکڑے (کہ وہ بھی جھگڑنا بند کرے) تو (اُسے شبہ ہوا کہ یہ مجھے پکڑنا چاہتے ہیں، لہٰذا) وہ بول اٹھا کہ موسیٰ، جس طرح کل ایک آدمی کو تم نے قتل کر دیا تھا، کیا آج اُسی طرح مجھے قتل کرنا چاہتے ہو؟ تم یہی چاہتے ہو کہ اِس ملک میں جبار بن کر رہو، تم یہاں مصلح بن کر نہیں رہنا چاہتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’فَلَمَّآ اَنْ اََرَادَ‘۔ اِس ’اَنْ‘ سے پہلے موقع کی مناسبت سے کوئی فعل محذوف ہے۔ ہم نے ترجمے میں اُسے کھول دیا ہے۔
      یہ اُس دشمنی کی طرف اشارہ ہے جو قبطیوں کے مظالم کی وجہ سے اُن کے اور اسرائیلیوں کے مابین اُس وقت قومی اعتبار سے قائم ہو چکی تھی۔
      یہ شبہ غالباً اِس لیے ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام نے آتے ہی اُسے جھڑک دیا تھا۔ چنانچہ اُنھوں نے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا، اُسے گمان ہوا کہ اُن کا گھونسا آج اُسی پر پڑے گا۔
      اِس سے معلوم ہوا کہ یہ آدمی محض شریر ہی نہیں، اِس کے ساتھ نہایت سفلہ بھی تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اِس کی مدد و حمایت کی تو اِس کے نزدیک وہ بہت بڑے مصلح تھے، لیکن جب اُن کی طرف سے خود اِس کو تنبیہ کا اندیشہ ہوا تو نہایت غیر ذمہ دارانہ طور پر اُس نے کل کے قتل کا راز کھول دیا جو اب تک کسی کے علم میں نہیں تھا اور اُنھیں بھی فوراً ایک مطلق العنان اور بے قابو آدمی قرار دے دیا جو دوسروں پر اپنی دھونس جمانا چاہتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور شہر کے پرلے سرے سے ایک شخص بھاگا ہوا آیا۔ اس نے بتایا کہ اے موسیٰؑ اعیان حکومت تمہارے قتل کے مشورے کر رہے ہیں۔ تو یہاں سے نکل جاؤ، میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مرد مومن کا کردار: حضرت موسیٰؑ کی ذات تو، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، پہلے ہی سے فرعونیوں کی نظر میں کھٹک رہی تھی لیکن جب یہ واقعہ پیش آ گیا اور ایک اسرائیلی ہی کی زبان سے وہ افشا بھی ہو گیا تو قدرتی طور پر فرعونیوں کی آتش غضب پوری طرح ان کے خلاف بھڑک اٹھی اور وہ ان کے قتل کے منصوبے بنانے لگے۔
      ’وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَی الْمَدِیْنَۃِ یَسْعٰی‘۔ اصل شہر، جو حکومت اور اعیان حکومت کا مرکز تھا، وہ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، بنی اسرائیل کی بستی سے پرے تھا اس وجہ سے اس کو ’أَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ فرمایا کہ وہاں سے ایک شخص یہ معلوم کر کے کہ اعیان حکومت حضرت موسیٰؑ کے قتل کے مشورے کر رہے ہیں، بھاگا ہوا حضرت موسیٰؑ کو اطلاع دینے آیا کہ آپ کے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں۔ میں آپ کا خیر خواہ ہوں اس وجہ سے میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ یہاں سے فوراً نکل جائیں۔ اس شخص سے متعلق یہاں کوئی تفصیل مذکور نہیں ہے لیکن سورۂ مومن میں ایک مومن آل فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے آیا ہے۔ ان کا تعلق شاہی خاندان سے تھا۔ یہ ابتداء ہی سے حضرت موسیٰؑ کے خیرخواہوں میں سے تھے اور بعد کے ادوار میں، جیسا کہ سورۂ مومن میں تفصیل آئے گی، انھوں نے اعیان حکومت کے سامنے حضرت موسیٰؑ کی بڑی پرزور حمایت کی، ان وجوہ سے ظن غالب یہ ہے کہ یہ اشارہ بھی انہی کی طرف ہے۔
      ’إِنِّیْ لَکَ مِنَ النَّاصِحِیْنَ‘۔ یہ صفائی انھوں نے اس وجہ سے پیش کرنی ضروری سمجھی کہ بدگمانی کی اس فضا میں جو اس وقت اسرائیلیوں اور قبطیوں کے درمیان تھی یہ اندیشہ ہو سکتا تھا کہ ممکن ہے حضرت موسیٰؑ یہ خیال کریں کہ ایک فرعونی اس طرح ان کو مرعوب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لفظ ’یَسْعٰی‘ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جونہی ان کو معلوم ہوا کہ معاملہ نہایت سنجیدہ بلکہ خطرناک ہو چکا ہے، وہ اعیان حکومت میں سے ہونے کے باوصف، بھاگے ہوئے حضرت موسیٰؑ کے پاس ان کی بستی میں آئے۔ ان کی یہ سرگرمی ان کی ہمدردی و خیر خواہی کی ایک نہایت اعلیٰ مثال ہے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ بات دربار میں پہنچی تو) شہر کے پرلے سرے سے (جہاں شاہی محلات تھے)، ایک شخص دوڑتا ہوا آیا (اور) اُس نے بتایا کہ موسیٰ، دربار کے بڑے تمھارے قتل کے مشورے کر رہے ہیں، اِس لیے یہاں سے نکل جاؤ۔ یقین کرو، میں تمھارے خیرخواہوں میں سے ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ غالباً وہی شخص ہے جس کا ذکر آگے سورۂ مومن (۴۰) کی آیت ۲۸میں ہوا ہے کہ اگرچہ شاہی خاندان میں سے تھا، مگرموسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آیا تھا۔
      اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام پہلے ہی سے دربار والوں کی نگاہ میں کھٹک رہے تھے۔ لہٰذا اُنھیں جب معلوم ہوا کہ یہ اسرائیلی اب ہمارے لوگوں کو قتل بھی کرنے لگا ہے تو اُن کی آتش غضب پوری طرح بھڑک اٹھی اور وہ اُن کے قتل کے منصوبے بنانے لگے۔
      یہ وضاحت اُس نے غالباً اِس لیے ضروری سمجھی کہ بدگمانی کی جو فضا اُس وقت قبطیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تھی، اُس میں حضرت موسیٰ یہ خیال نہ کریں کہ اِس خبر کے پیچھے بھی فرعونیوں کی کوئی اسکیم ہے۔

    Join our Mailing List