Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 93 آیات ) An-Naml An-Naml
Go
  • نمل (The Ant, The Ants)

    93 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ میں یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ یہ قرآن کوئی شاعری اور کہانت نہیں ہے بلکہ اللہ کا اتارا ہوا کلام ہے لیکن جو لوگ اس پر ایمان نہیں لانا چاہتے وہ اس کے انذار کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ قرآن ان کو جس چیز سے ڈرا رہا ہے جب وہ اس کو دیکھ لیں گے تب اس پر ایمان لائیں گے اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ وہ عذاب کو دعوت دینے کے بجائے رسولوں اور ان کے جھٹلانے والوں کی تاریخ سے سبق حاصل کریں۔ اس سورہ میں یہ واضح فرمایا ہے کہ اس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت و بشارت بنا کر نازل فرمایا ہے لیکن اس پر ایمان وہی لائیں گے جن کے دلوں کے اندر آخرت کا خوف ہے۔ جو لوگ اس دنیا کے عیش و آرام میں مگن ہیں وہ اپنے ان مشاغل سے دست بردار نہیں ہو سکتے ہیں جن میں وہ مشغول ہیں۔ ان کے اعمال ان کی نگاہوں میں اس طرح کھبا دیے گئے ہیں کہ اب کوئی تذکیر و تنبیہ بھی ان پر کارگر نہیں ہو سکتی۔ پچھلی سورہ میں بحث کی بنیاد صفات الٰہی میں سے صفات ۔۔۔ عزیز و رحیم ۔۔۔ پر رکھی ہے جن کے تمام پہلوؤں کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔ اس سورہ کی بنیاد صفات ۔۔۔ حکیم و علیم ۔۔۔ پر ہے کہ یہ قرآن خدائے حکیم و علیم کا اتارا ہوا ہے تو وہ جو کچھ کرے گا وہ حکمت اور علم پر مبنی ہو گا۔ پیغمبرؐ اور ان کے ساتھیوں کو اپنے رب حکیم و علیم پر بھروسہ رکھنا چاہیے کہ وہ ان کو اچھے انجام سے ہم کنار کرے گا۔

  • نمل (The Ant, The Ants)

    93 آیات | مکی

    النمل ۔ القصص

    ۲۷ ۔ ۲۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی اور بشارت دینا اور آپ کے منکرین کو متنبہ کرنا ہے کہ آخرت سے بے خوف اور دنیا کے عیش و آرام میں مگن ہو کر وہ جس سرکشی پر اترے ہوئے ہیں، اُسے چھوڑ دیں، اپنے اوپر خدا کی نعمتوں اور عنایتوں کا شکر ادا کریں اور اپنے پیغمبر کو پہچانیں۔

    دونوں سورتوں میں اصل بناے استدلال موسیٰ علیہ السلام کی سرگذشت ہے۔ اِس کے علاوہ جو سرگذشتیں سنائی گئی ہیں، وہ تبعاً اِسی کے بعض پہلوؤں کی مزید وضاحت کرتی ہیں۔

    اِن میں خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اور قریش مکہ سے بھی، لیکن روے سخن زیادہ تر اُنھی کی طرف ہے۔

    دونوں سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت و براء ت کا مرحلہ قریب آ چکا ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ طٰسٓ ہے۔ یہ قرآن اور ایک واضح کتاب کی آیات ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’طٰسٓ‘ یہ اس سورہ کا قرآنی نام ہے۔
      قرآن اپنے دعوے پر خود حجت ہے: ’تِلْکَ آیَاتُ الْقُرْآنِ وَکِتَابٍ مُّبِیْنٍ‘۔ لفظ ’قُرْآنٌ‘ کتاب آسمانی کے لیے معروف ہے اس کے ساتھ ’کِتَابٍ مُّبِیْنٍ‘ کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ یہ اپنے ہر دعوے پر خود ایسی حجت ہے کہ اس کی صحت و صداقت کو جانچنے کے لیے کسی خارجی شہادت اور کسی معجزہ و نشانی کی ضرورت نہیں ہے یہ صفت یہاں اس کے ان معترضین و مخالفین کو سامنے رکھ کر لائی گئی ہے جو اس کی تصدیق کے لیے کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہاں ان دونوں لفظوں نے اس کی عظمت کے پہلو کو بھی واضح کر دیا ہے اور اس کی حجت کے پہلو کو بھی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خدا کا اتارا ہوا قرآن ہے کوئی مذاق و استہزاء کی چیز نہیں ہے اور اتمام حجت کے پہلو سے یہ خود اپنے وجود کے اندر مکمل ہے تو جو لوگ اس کو ہنسی مسخری میں ٹالنا چاہتے ہیں وہ سوچ لیں کہ ان کی اس حرکت کے نتائج کیا کچھ نکل سکتے ہیں!

      جاوید احمد غامدی یہ سورۂ ’طٰسٓ‘ ہے۔ یہ قرآن اور ایک واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ایسی کتاب کی جو حقائق کو اِس طرح واضح کر دیتی ہے کہ آپ ہی اپنی حجت بن جاتی ہے۔ اُس کی صحت و صداقت کو جانچنے کے لیے کسی خارجی شہادت یا معجزے اور نشانی کی ضرورت نہیں رہتی۔ آیت میں ’تِلْکَ‘ کا مشار الیہ ’طٰسٓ‘ ہے۔ اِس کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہم سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱کے تحت بیان کر چکے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی یہ ہدایت و بشارت ہے ان ایمان لانے والوں کے لیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن ہدایت و بشارت ہے: یعنی اس کے مخالفین اس کی قدر کریں یا نہ کریں لیکن یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہدایت و بشارت بن کر نازل ہوئی ہے جو اس پر ایمان لائے ہیں۔ ان کو یہ زندگی کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی بھی کر رہی ہے اور دنیا اور آخرت دونوں میں فوز و فلاح کی بشارت بھی دے رہی ہے۔ اقامت صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ کا ذکر یہاں ان اہل ایمان کی جامع صفت کی حیثیت سے ہوا ہے۔ ہم دوسرے مقام میں ذکر کر چکے ہیں کہ ان دونوں چیزوں کی حیثیت دین میں تمام نیکیوں کے شیرازے کی ہے، خواہ وہ حقوق اللہ سے تعلق رکھنے والی ہوں یا حقوق العباد سے۔ ان کا ذکر ہو گیا تو گویا سب کا ذکر ہو گیا۔
      جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں وہی اس قرآن پر ایمان لائیں گے: ’وَہُم بِالْآخِرَۃِ ہُمْ یُوقِنُونَ‘۔ میں حصر اور تاکید کا اسلوب یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جو لوگ نماز اور زکوٰۃ کا یہ اہتمام کر رہے ہیں درحقیقت وہی لوگ آخرت پر یقین رکھنے والے ہیں اور اسی چیز نے ان کو اس کتاب پر ایمان لانے کی توفیق بخشی ہے۔ رہے وہ لوگ جن پر یہ چیزیں شاق ہیں تو وہ آخرت کے یقین سے محروم ہیں اور اس قسم کے لوگ اس کتاب پر ایمان سے محروم ہی رہیں گے۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      ہدایت کے ساتھ بشارت کا ذکر یہاں خاص طور پر اِس لیے ہوا ہے کہ آگے سورہ کے مضامین اِسی کی شہادت دے رہے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی جو نماز کا اہتمام کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہی ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن ہدایت و بشارت ہے: یعنی اس کے مخالفین اس کی قدر کریں یا نہ کریں لیکن یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہدایت و بشارت بن کر نازل ہوئی ہے جو اس پر ایمان لائے ہیں۔ ان کو یہ زندگی کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی بھی کر رہی ہے اور دنیا اور آخرت دونوں میں فوز و فلاح کی بشارت بھی دے رہی ہے۔ اقامت صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ کا ذکر یہاں ان اہل ایمان کی جامع صفت کی حیثیت سے ہوا ہے۔ ہم دوسرے مقام میں ذکر کر چکے ہیں کہ ان دونوں چیزوں کی حیثیت دین میں تمام نیکیوں کے شیرازے کی ہے، خواہ وہ حقوق اللہ سے تعلق رکھنے والی ہوں یا حقوق العباد سے۔ ان کا ذکر ہو گیا تو گویا سب کا ذکر ہو گیا۔
      جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں وہی اس قرآن پر ایمان لائیں گے: ’وَہُم بِالْآخِرَۃِ ہُمْ یُوقِنُونَ‘۔ میں حصر اور تاکید کا اسلوب یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جو لوگ نماز اور زکوٰۃ کا یہ اہتمام کر رہے ہیں درحقیقت وہی لوگ آخرت پر یقین رکھنے والے ہیں اور اسی چیز نے ان کو اس کتاب پر ایمان لانے کی توفیق بخشی ہے۔ رہے وہ لوگ جن پر یہ چیزیں شاق ہیں تو وہ آخرت کے یقین سے محروم ہیں اور اس قسم کے لوگ اس کتاب پر ایمان سے محروم ہی رہیں گے۔

      جاوید احمد غامدی جو نماز کا اہتمام کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہی آخرت پر فی الواقع یقین رکھتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ دونوں عبادات ایمان و اسلام کا لازمی ظہور ہیں۔ اہل عرب کے لیے یہ کوئی اجنبی چیزیں نہیں تھیں۔ دین ابراہیمی کی ایک روایت کی حیثیت سے وہ نہ صرف یہ کہ اِن سے واقف تھے، بلکہ اُن کے صالحین اِن کا اہتمام بھی کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اِن کی کوئی تفصیلات بیان نہیں کی ہیں۔
      چنانچہ یہی چیز اُن کے ایمان لانے اور نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام کرنے کا باعث بن گئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال ان کی نگاہوں میں کھبا دیے ہیں، پس وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منکرین قرآن کا سبب انکار: یہ منکرین کے اصل سبب انکار کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں بلکہ اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھے ہوئے بیٹھے ہیں۔ ان کی نگاہوں میں ان کے اعمال اس طرح کھبا دیے گئے ہیں کہ اب ان سے ہٹ کر کچھ سوچنے سمجھنے کے لیے وہ تیار نہیں ہیں۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہو چکی ہے کہ جو لوگ اسی دنیا کو مقصود و مطلوب بنا کر اپنی تمام ذہانت و قابلیت اسی کی طلب میں لگا دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے اعمال و مشاغل کو اس طرح ان پر مسلط کر دیتا ہے کہ پھر نہ وہ ان کے چھوڑنے ہی پر آمادہ ہوتے اور نہ ان سے چھوٹ ہی سکتے۔ وہ انہی کے اندر بھٹکتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ایک دن فرشتۂ اجل آ کر ان کو دبوچ لیتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِس کے برخلاف جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے، اُن کے اعمال ہم نے اُن کے لیے خوش نما بنا دیے ہیں، چنانچہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی دنیا کو مطلوب و مقصود بنا کر جو کچھ وہ کر رہے ہیں، اُسی پر مطمئن ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ اُس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کی وضاحت ...جگہ جگہ ہو چکی ہے کہ جو لوگ اِسی دنیا کو مقصود و مطلوب بنا کر اپنی تمام ذہانت و قابلیت اِسی کی طلب میں لگا دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کے اعمال و مشاغل کو اِس طرح اُن پر مسلط کر دیتا ہے کہ پھر نہ وہ اُن کے چھوڑنے ہی پر آمادہ ہوتے اور نہ اُن سے چھوٹ ہی سکتے۔ وہ اُنھی کے اندر بھٹکتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ایک دن فرشتۂ اجل آ کر اُن کو دبوچ لیتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۵۷۷)

    • امین احسن اصلاحی یہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے دنیا میں بھی برا عذاب ہے اور آخرت میں وہی ہیں جو بڑے خسارے میں ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مکذبین رسول پر اس دنیا میں بھی عذاب آیا: اس آیت میں عذاب آخرت کا چونکہ مستقلاً ذکر ہے اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ ’سُوءُ الْعَذَابِ‘ کا تعلق عذاب دنیا سے ہے۔ یہاں ذکر مکذبین رسول کا ہے اور مکذبین رسول پر اس دنیا میں بھی، جیسا کہ ہم اس کے محل میں ذکر کر چکے ہیں، لازماً عذاب آتا ہے اس وجہ سے فرمایا کہ ان کے لیے دنیا میں بھی برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔ ’وَہُمْ فِیْ الْآخِرَۃِ ہُمُ الْأَخْسَرُونَ‘ میں اسی طرح حصر اور تاکید کا اسلوب ہے جس طرح اوپر ’وَہُم بِالْآخِرَۃِ ہُمْ یُوقِنُونَ‘ میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ساری زندگی چونکہ دنیا ہی کو مطلوب و مقصود بنا کر گزاری، آخرت کا ان کو کبھی دھیان ہی نہیں آیا، یہاں تک کہ اسی دنیا کے عشق میں انھوں نے قرآن کا بھی مذاق اڑایا تو آخرت میں سب سے زیادہ خسارے میں تو یہ لوگ ہوں گے ہی!

      جاوید احمد غامدی یہ لوگ ہیں کہ اِن کے لیے (دنیا میں بھی) برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی یہی سخت خسارے میں ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اُن کے مکذبین پر اِس دنیا میں بھی لازماً عذاب آتا ہے اور یہاں اُنھی کا ذکر ہو رہا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور بے شک یہ قرآن تم کو ایک حکیم و علیکم کی طرف سے تعلیم کیا جا رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آنحضرتؐ کو تسلی: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ یہ لوگ اگر ایمان نہیں لاتے بلکہ تمہاری مخالفت کے درپے ہیں تو تم ان کی پروا نہ کرو بلکہ مطمئن رہو کہ یہ کلام تمہارے اوپر جس ذات کی طرف سے اتارا جا رہا ہے وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی۔ اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے تو جو کچھ اس کے علم و حکمت کا تقاضا ہو گا وہی ہو گا اور اسی میں تمہارے لیے خیر ہے۔ جب وہ حکیم و علیم تمہارے اوپر اس کلام کو نازل فرما رہا ہے تو وہ تمہیں تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ ہر قدم پر تمہاری رہنمائی فرمائے گا اور تمہیں منزل مقصود پر پہنچائے گا۔

      جاوید احمد غامدی (اِن کی پروا نہ کرو، اے پیغمبر)، اِس میں کوئی شبہ ہی نہیں کہ یہ قرآن تمھیں ایک حکیم و علیم کی طرف سے دیا جا رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُس ذات کی طرف سے دیا جا رہاہے جس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے اور وہ ہر چیز سے با خبر بھی رہتا ہے، اِس لیے مطمئن رہو، وہ تمھیں کبھی تنہا نہ چھوڑے گا، بلکہ ہر قدم پر تمھاری رہنمائی فرمائے گا اور تمھیں منزل مقصود پر پہنچائے گا۔

    • امین احسن اصلاحی یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا، میں نے ایک آگ سی دیکھی ہے۔ میں وہاں سے یا تو کوئی خبر لاتا ہوں یا آگ کا کوئی انگارا تاکہ تم تاپو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت موسیٰؑ کی سرگزشت حضورؐ کے لیے سبق آموز: حضرت موسیٰؑ کی یہ سرگزشت پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے اور اس کے ہر جزو کی وضاحت بھی ہو چکی ہے۔ یہاں ہم اس کے صرف اس پہلو کو مدنظر رکھیں گے جس کا تعلق سورہ کے نظام سے ہے۔ نبوت و رسالت کے متعلق یہ بات معلوم ہے کہ یہ کوئی عام تجربے کی چیز نہیں ہے۔ اس کا تجربہ صرف انہی لوگوں کو ہوا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اس کارخاص کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ اس وجہ سے جن کو یہ چیز عطا ہوئی ان کو بھی اس کے اسرار و رموز سے مانوس ہونے میں کچھ وقت لگا اور جن کے سامنے اس کی دعوت پیش کی گئی انھوں نے بھی اس کو بالعموم ایک انوکھی اور عجیب چیز سمجھا اور اس کے خلاف طرح طرح کے شبہات و اعتراضات اٹھائے ان دونوں ہی چیزوں کا واحد علاج یہی ہو سکتا تھا کہ ان نبیوں کے حالات سنائے جائیں جو اس سلسلہ کے تمام مراحل سے گزر چکے تھے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان کے مشاہدات و تجربات سے طمانیت و سکینت حاصل ہو اور آپؐ کے معترضین و مخالفین پر بھی ان کی حجت قائم ہو سکے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپؐ سے سب سے زیادہ مشابہ نبی و رسول سیدنا موسیٰؑ تھے جن کی زندگی کے حالات بھی تفصیل کے ساتھ تورات میں موجود تھے اور ان پر ایمان کی مدعی ایک قوم بھی موجود تھی جو بدقسمتی سے قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی، جیسا کہ آگے اس سورہ میں بھی اس کی طرف اشارہ آئے گا، مخالفت کر رہی تھی۔ اس وجہ سے حضرت موسیٰؑ کے حالات و تجربات اس مرحلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی سب سے زیادہ تسکین بخش ہو سکتے تھے اور مخالفین کے لیے بھی سب سے زیادہ سبق آموز ہو سکتے تھے بشرطیکہ وہ ان سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ انہی دونوں مقصدوں سے یہ سرگزشت سنائی جا رہی ہے۔ مخاطب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں لیکن روئے سخن مخالفین کی طرف بھی ہے۔
      نبوت ایک موہبت ربانی ہے: اس آیت سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نبوت و رسالت ایک خاص موہبت ربانی اور فضل یزدانی ہے۔ اس کو اکتساب یا طلب و تمنا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مصنف، شاعر، خطیب، کاہن، ساحر، منجم، جوتشی اور اس قبیل کے سارے ہی لوگ اپنے اپنے فن اور پیشہ کو سیکھنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور اس کی طلب و تمنا میں ایک عمر کھپاتے ہیں تب کہیں ان کو اپنے فن میں کچھ درخور حاصل ہوتا ہے لیکن نبی و رسول کی تربیت اللہ تعالیٰ خود اپنی نگرانی میں کرتا ہے۔ نبی نہ کسی کا شاگرد ہوتا، نہ وہ کسی مدرسہ میں بیٹھتا اور نہ اس کے ذہن میں نبوت کا کوئی گمان یا ارمان ہوتا، بس اللہ تعالیٰ ہی، زندگی کے نشیب و فراز کے امتحانوں سے گزار کر، اس کو اس کارخاص کے لیے تیار کرتا ہے جو اس کے سپرد کیا جاتا ہے۔ حضرت یوسفؑ کی تربیت مصر کے زندان میں ہوئی۔ حضرت داؤدؑ نے اپنی نسبت خود فرمایا ہے کہ ’’مجھے خداوند نے بھیڑ سالہ سے نکالا اور اسرائیل کے تخت پر لا بٹھایا۔‘‘ اسی طرح حضرت موسیٰؑ، جن کی سرگزشت یہاں بیان ہو رہی ہے، مدین میں حضرت شعیبؑ کی بکریاں چراتے رہے۔ وہاں سے مصر کے لیے واپس ہوتے ہوئے اندھیری اور ٹھنڈی رات میں راستہ بھول گئے۔ دور سے ایک روشنی دکھائی دی۔ انھوں نے گھر والوں سے کہا تم لوگ یہیں ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ میں وہاں جاتا ہوں، اگر کچھ لوگ وہاں ہوئے تو ان سے راستہ کا پتہ کرتا ہوں ورنہ آگ ہی کا کوئی انگارہ لاتا ہوں کہ تم لوگ اس سردی میں تاپ سکو۔

      جاوید احمد غامدی (اور اپنے اوپر خدا کی اِس عنایت کو سمجھنے کے لیے) وہ قصہ یاد کرو، جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے ایک آگ سی دیکھی ہے۔ (تم لوگ ذرا ٹھیرو)، میں وہاں سے ابھی تمھارے پاس کوئی خبر لاتاہوں یا آگ کا کوئی انگارا لے کر آتا ہوں تاکہ تم اُسے تاپ سکو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مماثلت حضرت موسیٰ ہی کی ہے۔ چنانچہ آگے اُنھی کی سرگذشت آپ کی تسلی اور آپ کے مخاطبین کی تنبیہ کے لیے سنائی گئی ہے تاکہ واضح ہو جائے کہ پیغمبری کیا ہے، یہ کیسے ملتی ہے اور اِس کے ساتھ خدا کی کیا کیا عنایتیں وابستہ ہو سکتی ہیں۔
      یہ اُس وقت کا قصہ ہے ، جب موسیٰ علیہ السلام مدین میں آٹھ دس سال گزارنے کے بعد اپنی بیوی کو لے کر واپس مصر جا رہے تھے۔ اپنے اِس سفر میں جب وہ مدین سے چل کر جزیرہ نماے سینا کے اُس مقام پر پہنچے جو اب کوہ سینا اور جبل موسیٰ کہلاتا ہے تو اِسی پہاڑ کے دامن میں یہ واقعہ پیش آیا۔ نزول قرآن کے زمانے میں یہ پہاڑ طور کے نام سے مشہور تھا۔
      اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سردی کا زمانہ تھا اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ جب موسیٰ علیہ السلام وادی طور کے پاس پہنچے تو رات ہو چکی تھی اور اُنھیں راستے کا کچھ اندازہ نہیں ہورہا تھا۔ چنانچہ روشنی دیکھ کر اُنھیں خیال ہوا کہ ہو سکتا ہے وہاں کچھ لوگ ہوں جن سے رہنمائی مل جائے، ورنہ آگ ہی کا کوئی انگارا لے آؤں جس سے کچھ گرمی حاصل کی جا سکے۔

    • امین احسن اصلاحی تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اس کو آواز آئی کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے ارد گرد ہیں! اور پاک ہے اللہ، عالم کا خداوند! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رب العالمین کی ندا حضرت موسیٰؑ کو: حضرت موسیٰؑ تو آگ لینے گئے لیکن وہاں یہ آواز سنائی دی کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور وہ جو اس کے ارد گرد ہیں۔ مجہول کا صیغہ ابہام اور تفخیم کو ظاہر کر رہا ہے یعنی حضرت موسیٰؑ کو ایک ہاتف کی آواز سنائی دی لیکن وہ یہ متعین نہ کر سکے کہ یہ کس کی آواز ہے اور کہاں سے آئی ہے ’أَنۡ بُوۡرِکَ مَنۡ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا‘ یہ اسی آواز کی تفصیل ہے کہ یہ آگ نہیں ہے بلکہ اس روشنی کے پردے میں اللہ تعالیٰ کی بابرکت ذات اپنے بابرکت کروبیوں کے جلو میں جلوہ گر ہوئی ہے۔ اپنی اور اپنے کروبیوں دونوں کی مبارکی کا حوالہ اس موقع پر صرف بیان حقیقت کے لیے نہیں بلکہ حضرت موسیٰؑ کو مانوس کرنے کے لیے بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مرحلہ حضرت موسیٰؑ کے لیے نہایت اہم تھا۔ دامن کوہ اور اندھیری رات میں، بالکل خلاف توقع، اس آواز کو سن کر حضرت موسیٰؑ پر نہیں معلوم کیا گزری ہو گی اور نہ معلوم کیا گزرتی اگر اس کا پہلا ہی کلمہ برکت کی بشارت کا نہ ہوتا۔ اس مبارک کلمہ نے حضرت موسیٰؑ کی بڑی ڈھارس بندھائی ہو گی کہ جو آواز ان کو سنائی دی ہے اس کے پیچھے کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ یہ منبع خیر و برکت سے ایک بابرکت آواز آئی ہے۔
      ’وَسُبْحَانَ اللَّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘ تنزیہہ کا کلمہ ہے اور یہ اسی مضمون کی تاکید مزید ہے جو اوپر والے ٹکڑے میں بیان ہوا ہے۔ یعنی اللہ، عالم کا رب، ہر عیب سے پاک اور منزہ ہے اور یہ اسی کی تجلی ہے جو تمہیں نظر آئی ہے تو اس پر بھروسہ رکھو۔ وہ تمہارے ساتھ وہی کرے گا جو اس کی رحمت و ربوبیت کے شایان شان ہے۔ اس سے کسی گزند کا اندیشہ نہیں ہے۔ اور وہ تمام عالم کا رب ہے اس وجہ سے اس کے اختیار میں سب کچھ ہے۔

      جاوید احمد غامدی سو جب وہ اُس کے پاس پہنچا تو ندا آئی کہ مبارک ہے وہ جو اِس آگ میں (جلوہ فرما) ہے اور وہ بھی جو اِس کے ارد گرد ہیں۔ اور پاک ہے اللہ، جہانوں کا پروردگار۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں مجہول کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ یہ ابہام اور تفخیم کو ظاہر کر رہا ہے۔ یعنی اُنھیں آواز تو سنائی دی، لیکن یہ متعین نہیں ہو سکا کہ آواز کس کی ہے اور کہاں سے آئی ہے۔
      یعنی خدا کے فرشتے۔ اِس میں ’مبارک‘کے لفظ سے بیان حقیقت کے ساتھ حضرت موسیٰ کی تسلی بھی مقصود ہے کہ وہ اِس طرح کی آواز سن کر گھبرائیں نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بابرکت ذات کی آواز ہے جو اپنے بابرکت کروبیوں کے ساتھ اِس آگ کے پردے میں جلوہ گر ہوئی ہے۔
      آگ کے اندر سے آنے والی آواز چونکہ تحدید و حلول کا تاثر پیدا کر سکتی تھی، لہٰذا تنزیہہ کے لیے فرمایا ہے کہ متنبہ رہو، تمام محدودتیوں اور تمام عیوب و نقائص سے پاک ہوتے ہوئے، یہ اُسی کی تجلی ہے جو تمھیں نظر آئی ہے اور وہ تمام عالم کا پروردگار ہے، اِس لیے جس وقت اور جس طریقے سے چاہے، اپنے بندوں سے مخاطب ہو سکتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اے موسیٰ، یہ تو میں ہوں، خدائے عزیز و حکیم! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      صفات عزیز و حکیم کا تعارف: اوپر کی بات تو ہاتف غیب کی آواز تھی جو حضرت موسیٰؑ کو سنائی دی۔ اب یہ خود حضرت موسیٰؑ کو خطاب کر کے رب العزت نے اپنا تعارف کرایا کہ میں ہی خدائے عزیز و حکیم ہوں۔ ان صفات سے تعارف کرانے کی وجہ ظاہر ہے کہ یہ نہیں ہو سکتی کہ حضرت موسیٰؑ ان سے ناواقف تھے۔ حضرت موسیٰؑ بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے اور ایک مدت تک حضرت شعیبؑ کی صحبت و معیت میں رہے تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ان صفات سے ناواقف نہیں ہو سکتے تھے۔ مقصود ان کی تذکیر سے اس مہم کے لیے ان کے قلب کو مضبوط کرنا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو مامور فرمانا چاہا۔ پچھلی سورہ میں ’اَلْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ‘ کی صفات بار بار آئی ہیں اور ان کے مضمرات ہم واضح کر چکے ہیں۔ یہاں ’عَزِیْز‘ کے ساتھ ’حَکِیْمٌ‘ کی صفت آئی ہے۔ جس سے مقصود اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ جس ذات نے تم کو اس وقت خطاب و کلام سے مشرف فرمایا ہے۔ وہ ہر چیز پر غالب و مقتدر ہے۔ کوئی اس کے کسی ارادے میں مزاحم نہیں ہو سکتا اور ساتھ ہی وہ حکیم ہے اس کا ہر ارادہ حکمت و مصلحت پر مبنی ہے اور اسلوب کلام چونکہ حصر در حصر کا ہے۔ اس وجہ سے اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ میرے مقابل میں کسی اور کے زور و اقتدار یا میری حکمت و مصلحت کے مقابل میں کسی اور کی حکمت و مصلحت کے تصور کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ غور کیجیے کہ ان صفات کی معرفت اس مہم کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کے لیے کتنی ضروری تھی جس پر حضرت موسیٰؑ مامور کیے جا رہے تھے اور جس کا ذکر آگے کی آیات میں آ رہا ہے۔ خدا کی انہی صفات کی معرفت نے حضرت موسیٰؑ کے اندر وہ عزیمت پیدا کی کہ وہ بنی اسرائیل جیسی نکمی قوم کے ساتھ فرعون جیسے جبار کے مقابلہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر قدم پر فیروزمندی عطا فرمائی۔

      جاوید احمد غامدی اے موسیٰ، یہ میں ہوں اللہ، زبردست اور حکیم۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور تم اپنا عصا ڈال دو۔ تو جب اس نے اس کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا گویا سانپ ہو تو وہ پیچھے کو مڑا اور پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ ڈرو نہیں، میرے حضور پیغمبروں کے لیے کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انبیاؑء کے معاملہ میں ایک خاص قابل توجہ پہلو: نبوت کے ابتدائی مشاہدات نبی کے لیے نامانوس ہوتے ہیں: اوپر کی آیات میں حضرت موسیٰؑ کو پیش نظر مہم کے لیے ذہنی و قلبی طور پر تیار کرنے والی تعلیمات ہیں۔ اس کے بعد ان کو وہ عظیم ظاہری نشانیاں دی گئیں جن سے فرعون کے مقابلہ کے لیے ان کا مسلح ہونا ضروری تھا۔ ان میں سب سے اہم نشانی عصا کی تھی جس سے بعد کی تمام نشانیوں کا ظہور ہوا۔ اس نشانی کی وضاحت دوسرے مقامات میں ہو چکی ہے اور یہ بات بھی ہم واضح کر چکے ہیں کہ بالکل پہلے ہی مرحلے میں حضرت موسیٰؑ کو یہ نشانیاں کیوں دی گئیں۔ یہاں صرف ایک بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ جب حضرت موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق، عصا کو زمین پر ڈال دیا اور وہ سانپ کے مانند رینگنے لگا تو حضرت موسیٰؑ ایسا ڈر کے بھاگے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اس واقعہ کا یہ پہلو ہمارے نزدیک اس حقیقت کے اظہار کے لیے یہاں خاص طور پر ظاہر کیا گیا ہے کہ نبوت کے ابتدائی مرحلہ کے مشاہدات نبی کے لیے بالکل نامانوس، نہایت انوکھے اور عجیب ہوتے ہیں اس وجہ سے وہ شروع شروع میں ان سے گھبراتا ہے لیکن پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ اس کو ان سے مانوس کر دیتا ہے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ حضرات انبیاء علیہم کو یہ چیز طلب اور ارمان پر نہیں ملی ہے بلکہ بالکل خلاف توقع اس کا ظہور ہوا ہے اور بڑے اندیشوں، بری فکروں اور بہت ہی احتیاط کے ساتھ انھوں نے ایک فریضۂ الٰہی کی حیثیت سے اس کی ذمہ داری اٹھائی ہے جب کہ ان کو پوری طرح یہ شرح صدر حاصل ہو گیا ہے کہ جو مشاہدے ان کو ہو رہے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہیں اور وہ ایک خاص فریضہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائے نبوت میں جو مشاہدے ہوئے اور ان کے سبب سے آپؐ پر شروع شروع میں جو کیفیت طاری رہی اس کے بعض اہم پہلوؤں کی طرف آخری گروپ کی سورتوں میں اشارات ہیں۔ ان شاء اللہ ان کے محل میں ہم ان کی وضاحت کریں گے۔
      حضرت موسیٰؑ کی تسکین: حضرت موسیٰؑ کے لیے پہلی نشانی: ’یَا مُوسَی لَا تَخَفْ إِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوۡنَ‘۔ جب حضرت موسیٰؑ اپنے عصا کو سانپ کی صورت دیکھ کر بھاگے اور پیچھے مڑ کے بھی دیکھنے کی انھیں جرأت نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نہایت دل نواز انداز میں تسلی دی کہ موسیٰؑ ! تم نہ ڈرو، اس سے تم کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس سے جو خطرہ پیش آئے وہ تمہارے دشمنوں کو پیش آئے گا۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس کے رسولوں کے لیے کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔ وہ بالکل مامون و محفوظ ہوتے ہیں۔ البتہ جن لوگوں کی طرف وہ بھیجے جاتے ہیں ان لوگوں کے لیے خطرہ ہے اگر وہ رسولوں پر ایمان نہیں لاتے۔ مطلب یہ ہے کہ تم خدا کے رسول ہو اور یہ عصا تمہارے لیے ایک تلوار ہے تو تم اس سے کیوں ڈرو، اس سے ڈریں تمہارے دشمن!

      جاوید احمد غامدی (اِس لیے مضبوط ہو جاؤ) اور اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دو۔ پھر جب موسیٰ نے اُس کو دیکھا کہ وہ اِس طرح بل کھا رہی ہے ، گویا وہ سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پلٹ کر دیکھا بھی نہیں۔ (ارشاد ہوا): اے موسیٰ، ڈرو نہیں، میرے حضور پیغمبر ڈرا نہیں کرتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں عزیز و حکیم کی صفات کا حوالہ اِسی مقصد سے آیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہاں ’عَزِیْز‘ کے ساتھ ’حَکِیْم‘ کی صفت آئی ہے جس سے مقصود اِس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ جس ذات نے تم کو اِس وقت خطاب و کلام سے مشرف فرمایا ہے، وہ ہر چیز پر غالب و مقتدر ہے، کوئی اُس کے کسی ارادے میں مزاحم نہیں ہو سکتا اور ساتھ ہی وہ حکیم ہے، اُس کا ہر ارادہ حکمت و مصلحت پر مبنی ہے۔ اور اسلوب کلام چونکہ حصر در حصر کا ہے، اِس وجہ سے اِس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ میرے مقابل میں کسی اور کے زور و اقتدار یا میری حکمت و مصلحت کے مقابل میں کسی اور کی حکمت و مصلحت کے تصور کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۵۸۱)

      یہ تسلی کا نہایت دل نواز اسلوب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم نبوت کے منصب پر فائز کیے جا رہے ہو اور اِس منصب کے حاملین میری حفاظت میں ہوتے ہیں۔ اُنھیں اِس طرح کی چیزیں کوئی گزند نہیں پہنچا سکتیں، اِس لیے بے خوف اور مطمئن ہو جاؤ۔

    • امین احسن اصلاحی ہاں مگر جو کسی برائی کا مرتکب ہوا پھر اس نے برائی کے بعد اس کو بھلائی سے بدل دیا تو میں بخشنے والا اور مہربان ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت موسیٰؑ کے ایک اندیشہ کا ازالہ: اللہ تعالیٰ کے نیک اور سلیم الفطرت بندوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب ان کو کوئی اندیشے کی حالت پیش آتی ہے تو فوراً ان کا ذہن اپنی کسی غلطی کی طرف جاتا ہے کہ مبادا یہ اسی کا خمیازہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کا ذہن اس موقع پر قبطی کے قتل کے واقعہ کی طرف متنقل ہوا ہو۔ اگرچہ اس کے بعد حضرت موسیٰؑ نے توبہ کر لی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول بھی فرمالی تھی لیکن حضرات انبیاؑء اور صالحین اپنا محاسبہ کرنے میں بڑے محتاط ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ’لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُونَ‘ کے وعدہ بشارت کو موکد کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو یہ اطمینان بھی دلا دیا کہ میرے کسی بندے سے اگر کوئی غلطی صادر ہو جاتی ہے۔ پھر وہ توبہ و اصلاح سے اس کی تلافی کر دیتا ہے تو میں اس کو معاف کر دیتا ہوں، میں بڑا ہی غفور و رحیم ہوں۔ اس بات کو یہاں عام صیغے میں فرما کر اس کے فیض کو ہمہ گیر کر دیا ہے کہ یہ معاملہ کچھ تمہارے ہی لیے خاص نہیں ہے بلکہ میں اپنے ہر بندے کے ساتھ یہی معاملہ کرتا ہوں۔

      جاوید احمد غامدی ہاں مگر جو برائی کے مرتکب ہوں، پھر برائی کے بعد وہ اُسے بھلائی سے بدل دیں تو (اُن کے لیے ) میں بڑا بخشنے والا اور بڑا مہربان ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ استثنا اِس بات کا قرینہ ہے کہ حضرت موسیٰ کا ذہن اِس موقع پر غالباً قبطی کے قتل کے واقعے کی طرف منتقل ہوا ہے کہ مجھ سے ایک غلطی ہو چکی ہے، یہ کہیں اُسی کا خمیازہ نہ ہو۔ چنانچہ مزید تسلی کے لیے فرمایا ہے کہ تو بہ و اصلاح سے تم اُس کی تلافی کر چکے ہو اور میں بڑا غفور ورحیم ہوں، اِس لیے ایسا کوئی اندیشہ نہیں ہونا چاہیے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس بات کو یہاں عام صیغے میں فرما کر اِس کے فیض کو ہمہ گیر کر دیا ہے کہ یہ معاملہ کچھ تمھارے ہی لیے خاص نہیں ہے، بلکہ میں اپنے ہر بندے کے ساتھ یہی معاملہ کرتا ہوں۔‘‘ (تدبر قرآن ۵/ ۵۸۳)

    • امین احسن اصلاحی اور تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ بغیر کسی مرض کے سفید نکلے گا۔ نو نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت موسیٰؑ کے لیے دوسری نشانی: یہ دوسری نشانی ہے جو اسی موقع پر عطا ہوئی۔ اس کی وضاحت بھی پیچھے سورۂ اعراف اور سورۂ طٰہٰ وغیرہ میں ہو چکی ہے۔ ’تَخْرُجْ بَیْْضَآءَ‘ کے ساتھ ’مِنْ غَیْْرِ سُوءٍ‘ کی قید حضرت موسیٰؑ کے اس تردد کے رفع کرنے کے لیے تھی کہ ہاتھ کے سفید ہونے سے ان کو کسی مرض کا وہم نہ ہو۔ قرآن کے اسلوب بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ اطمینان دہانی ان کو یہ معجزہ دیتے وقت ہی کر دی گئی تھی اور یہی بات قرین عقل و فطرت ہے۔ حضرت موسیٰؑ کو عصا کے معجزے سے جو تشویش ہوئی تھی اسی طرح کی تشویش ان کو اس معجزے سے بھی ہوتی اگر یہ اطمینان دہانی ان کو نہ کر دی جاتی۔ اس سے ضمناً تورات کے اس بیان کی تردید ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰؑ کے ہاتھ میں برص کے مانند سفیدی تھی۔ اس پر تفسیر سورۂ طٰہٰ میں ہم گفتگو کر چکے ہیں۔
      حضرت موسیٰؑ کے بقیہ معجزات عصا سے ظاہر ہوئے: ’فِیْ تِسْعِ آیَاتٍ إِلَی فِرْعَوْنَ وَقَوْمِہِ‘ اس سے پہلے فعل ’اِذْھَبْ‘ محذوف ہے۔ یعنی نو نشانیوں سے مسلح ہو کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس انذار کے لیے جاؤ، وہ بڑے ہی نافرمان ہو گئے ہیں۔ ابتداءً تو حضرت موسیٰؑ کو عصا اور ید بیضا کی دو ہی نشانیاں دی گئیں لیکن ان کے اندر بہت سی نشانیاں مضمر تھیں جو بعد کے مراحل میں ظاہر ہوئیں۔ ان نشانیوں کی تفصیل، تورات کے حوالوں کے ساتھ بقرہ، اعراف اور طٰہٰ وغیرہ کی تفسیر میں ہو چکی ہے۔ یہ تمام نشانیاں حضرت موسیٰؑ کے عصا سے ظاہر ہوئیں اس وجہ سے عصا کی صورت میں حضرت موسیٰؑ کو فرعون کے مقابلہ کے لیے گویا پوری میگزین دے دی گئی۔ یہ امر بھی یہاں واضح رہے کہ ان نو نشانیوں سے بھی صرف وہ نشانیاں مراد ہیں جو فرعون اور اس کی قوم کے مقابل میں ظاہر ہوئیں۔ وہ نشانیاں جو اس عصا کے ذریعہ سے خاص بنی اسرائیل کے لیے ظاہر ہوئیں وہ ان سے بالکل الگ ہیں اور ان کی تعداد بھی، تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ کم نہیں ہے، بہت ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور اپنا ہاتھ ذرا اپنے گریبان میں ڈالو، وہ بغیر کسی بیماری کے سفید ہو کر نکلے گا۔ (یہ دونوں مل کر نو نشانیاں ہیں جو ہم تمھیں دے رہے ہیں۔ اِن) نو نشانیوں کے جلو میں تم فرعون اور اُس کی قوم کے پاس جاؤ، وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اضافہ صاف واضح کر رہا ہے کہ یہاں بائیبل کی تردید مقصود ہے جس میں ہاتھ کی سفیدی کو برص بتایا گیا ہے۔
      قرآن کے دوسرے مقامات میں اِن نشانیوں کی تفصیل ہے۔ یہ گویا ایک پوری میگزین تھی جو فرعون کے پاس جانے کے لیے حضرت موسیٰ کو ابتدا ہی میں دے دی گئی۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک منتقم و جبار اور سرکش بادشاہ کی طرف رسول بنا کر بھیجے جا رہے تھے جو آسانی کے ساتھ اُن کی کوئی بات سننے کے لیے آمادہ نہیں ہو سکتا تھا۔

    • امین احسن اصلاحی پس جب ان کے پاس ہماری آنکھیں کھول دینے والی نشانیاں آئیں انھوں نے کہا یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرات انبیاؑء کے معجزات آنکھیں کھول دینے والے ہوتے ہیں: ’مُبْصِرَۃٌ‘ کے معنی ہیں آنکھیں کھول دینے والی نشانیاں۔ حضرات انبیاؑء علیہم السلام سے جو معجزات ظہور میں آئے ان کا معجزہ ہونا دیکھنے والوں سے مخفی نہیں رہا۔ ان کی قاہری نے اندھوں کی آنکھیں بھی کھول دیں لیکن جو لوگ نہیں ماننا چاہتے تھے انھوں نے حضرت موسیٰؑ کے ان معجزات کو بھی جادو قرار دے دیا۔ یہاں تک کہ خود جادوگروں نے بھی علی الاعلان اعتراف کر لیا کہ یہ جادو نہیں ہے لیکن پھر بھی ہٹ دھرموں نے اپنی ضد نہیں چھوڑی، اس کو جادو ہی کہتے رہے۔ یہاں وہ بات یاد رکھیے جو اوپر گزر چکی ہے کہ ایک ساحر کا انتہائی کمال یہ ہوتا ہے کہ اس کی لٹھیا سانپ کی طرح رینگنے لگ جائے اور اس کرتب کے لیے نہ جانے وہ کیا کیا پاپڑ بیلتا ہے تب کہیں جا کر اس کو اپنے فن میں کچھ دخل حاصل ہوتا ہے اور اس پر اس کو بڑا ناز ہوتا ہے۔ لیکن حضرت موسیٰؑ کا حال یہ ہوا کہ وہ اپنے عصا کو سانپ کی طرح رینگتے دیکھ کر ڈر کے بھاگے اور اس وقت تک ان کو قرار نہیں آیا جب تک اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی نہیں دی، پھر بھی ظالموں نے ان کو ایک ماہر جادوگر اور ان کی نشانی کو ایک ’سحر مبین‘ قرار دیا۔

      جاوید احمد غامدی پھر جب ہماری یہ آنکھیں کھول دینے والی نشانیاں اُن کے سامنے آئیں تو اُنھوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور انھوں نے ظلم اور گھمنڈ کے سبب سے ان کا انکار کیا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو تسلیم کیا تو دیکھو کیا ہوا ان مفسدین کا انجام! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منکروں کے انکار کا اصل سبب، ان کا ’ظلم‘ اور ’علو‘ ہوتا ہے: یہ آخر میں وہ اصل مدعا سامنے رکھ دیا گیا ہے جس کے لیے یہ سرگزشت سنائی گئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ دعوت حق کو قبول نہیں کرنا چاہتے وہ ایک دو نہیں بلکہ نو نو معجزات دیکھ کر بھی اپنے انکار کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ ان کے دل اقرار کرتے ہیں کہ داعی کی بات حق ہے لیکن زبانوں سے وہ برابر اس کی تکذیب ہی کرتے رہتے ہیں۔ ان کے انکار کی اصل علت یہ نہیں ہوتی کہ حق ان پر اچھی طرح واضح نہیں ہوتا بلکہ اس کا اصل سبب ان کا ’ظُلْم‘ اور ’علوّ‘ ہوتا ہے۔ وہ خدا اور اس کے بندوں کے حقوق تلف کرنے کے خوگر ہو جاتے ہیں اور کسی قیمت پر بھی اس سے دست بردار ہونا نہیں چاہتے اور ان کے اندر استکبار پیدا ہو جاتا ہے جس کے سبب سے اپنی خواہش کے خلاف کسی بڑے سے بڑے حق کے آگے بھی جھکنے کے لیے وہ تیار نہیں ہوتے۔ ایسے مفسدین کا انجام وہی ہوتا ہے جو فرعون اور اس کی قوم کا ہوا۔

      جاوید احمد غامدی اُنھوں نے ظلم اور گھمنڈ کے باعث اِن کا انکار کیا، دراں حالیکہ اُن کے دل اِن (نشانیوں) کو تسلیم کر چکے تھے۔ سو دیکھو، اِن مفسدوں کا انجام کیا ہوا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ وہ اصل مدعا ہے جس کے لیے یہ سرگذشت سنائی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے مخاطبین کے انکار کا سبب سمجھ لیں اور اُن کے رویے سے دل برداشتہ نہ ہوں۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے داؤدؑ اور سلیمانؑ کو بڑا علم عطا فرمایا اور انھوں نے کہا کہ شکر ہے اللہ کے لیے جس نے اپنے بہت سے مومن بندوں پر ہمیں فضیلت عطا فرمائی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’عِلْمٌ‘ سے مراد: ’عِلْمٌ‘ سے مراد وہ حکمت و معرفت بھی ہے جو حضرات داؤد اور سلیمان علیہما السلام کو حاصل ہوئی جس کا مظہر زبور اور امثال ہیں اور سائنس کا وہ علم بھی ہے جس کی بدولت انھوں نے وہ عظیم سلطنت قائم کی جو اپنی برّی و بحری قوت کے اعتبار سے اپنے زمانے کی سب سے زیادہ طاقت ور سلطنت تھی۔ سورۂ انبیاء کی تفسیر میں اس کی تفصیلات گزر چکی ہیں۔
      حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کا جذبۂ شکر: ’وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِیْ الآیۃ‘ یہ ان کے شکر و سپاس کی تعبیر ہے کہ اپنے زمانے کی سب سے زیادہ طاقت ور حکومت کے فرماں روا اور ایجادات و صنائع میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہونے کے باوجود ان کے اندر ایک لمحہ کے لیے بھی یہ گھمنڈ نہیں پیدا ہوا کہ یہ سب کچھ ان کے اپنے ذاتی کارنامے ہیں بلکہ وہ برابر اپنے رب کے شکرگزار رہے کہ یہ عزت و فضیلت ان کو اللہ نے عطا فرمائی ہے۔ ’عَلَی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ‘ کے اندر یہ حقیقت مضمر ہے کہ اصل عزت و فضیلت ایمان کی عزت و فضیلت ہے۔ جس کو یہ حاصل نہیں ہے اس کے لیے عزت و فضیلت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ یہ عزت و فضیلت کی بات ہے کہ کسی کو اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں میں سرفرازی بخشے۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے برخلاف) ہم نے داؤد اور سلیمان کو بڑا علم عطا فرمایا تھا، (مگر وہ ہمارے حضور میں جھکتے ہی چلے گئے)اور اُنھوں نے کہا: شکر ہے اللہ کے لیے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے مراد وہ حکمت و معرفت بھی ہے جو براہ راست اُنھیں عطا ہوئی اور نفس اور مادہ میں تصرفات کا وہ علم بھی جو اُن کے زمانے میں بنی اسرائیل کے بعض لوگوں کو عطا کیا گیا جس کا ذکر آگے ہوا ہے۔ یہی دوسرا علم ہے جس کی بدولت وہ اُس زمانے کی سب سے عظیم اور سب سے زیادہ طاقت ور سلطنت قائم کر دینے میں کامیاب ہوئے تھے۔
      یعنی فرعون اوراُس کے اعیان و اکابر کی طرح نہ اپنی برتری کے زعم میں مبتلا ہوئے، نہ ظلم اور گھمنڈ اختیار کیا، بلکہ اُس عزت و فضیلت پر سراپا شکر و سپاس ہو کر جیے جو اُنھیں خدا کے با ایمان بندوں میں حاصل ہوئی۔
      آیت میں خاص طور پر با ایمان بندوں میں عزت و فضیلت کا ذکر اِس لیے ہوا ہے کہ اصل عزت و فضیلت ایمان ہی کی عزت و فضیلت ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور داؤد کا وارث سلیمان ہوا۔ اور اس نے کہا، اے لوگو، ہمیں پرندوں کی بولی کا علم بھی عطا ہوا ہے اور دوسری بھی سب چیزیں ہمیں بخشی گئی ہیں۔ بے شک یہ نہایت ہی کھلا ہوا فضل ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت سلیمانؑ کی فضائی فوج: یعنی حضرت داؤدؑ کے بعد حضرت سلیمانؑ ان کے وارث ہوئے۔ جیسا نامور باپ تھا اس سے بڑھ کر نامور بیٹا ہوا۔ سورۂ انبیاء میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ حضرت سلیمانؑ نے اپنی برّی فوج کے ساتھ ساتھ اپنی بحری طاقت کو بڑی ترقی دی۔ ان کا بحری بیڑا دنیا کا سب سے زیادہ طاقت ور بیڑا تھا۔ اس آیت سے اور آگے کی آیات سے واضح ہوتا ہے کہ ان کو پرندوں کی بولی کا بھی خاص علم عطا ہوا تھا اور ان کی تربیت کر کے وہ اپنی فوج میں ان سے نامہ بری، خبررسانی اور سراغ رسانی کا کام نہایت اعلیٰ پیمانہ پر لیتے تھے اور اس طرح انھوں نے گویا اپنی ایک فضائی فوج بھی مرتب کر لی تھی۔ لیکن یہ سب کچھ حاصل ہونے کے باوجود انھوں نے تنگ ظرفوں کی طرح یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں اب ایک ناقابل تسخیر طاقت بن گیا ہوں بلکہ آیت کا سیاق صاف اس بات کی دلیل ہے کہ جب ان کی فوجی قوت میں یہ شان دار اضافہ ہوا ہے تو بجائے اس پر فخر کرنے کے انھوں نے اپنی قوم کو یہ پیغام دیا کہ لوگو، ہمیں پرندوں کی بولی کا علم بھی حاصل ہو گیا ہے اور دوسرے اسباب و وسائل بھی، جو ترقی کے لیے ضروری ہیں، ہمیں حاصل ہیں تو یہ ہمارے اوپر خدا کا کھلا ہوا فضل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کے اس کھلے ہوئے فضل کا حق یہ ہے کہ ہم اس کے زیادہ سے زیادہ شکرگزار اور اس کے سب سے بڑھ کر اطاعت گزار بنیں۔ تورات میں اگرچہ حضرت سلیمانؑ کو ایک بالکل دنیا دار بادشاہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے بلکہ ان کی طرف نعوذ باللہ شرک و بت پرستی کی نسبت بھی کی گئی ہے لیکن کتاب سلاطین میں یہ تصریح موجود ہے کہ انھوں نے اپنی عظمت و شوکت کو برابر اللہ تعالیٰ کا فضل قرار دیا اور اپنی قوم کو بھی اس فضل و نعمت پر خدا ہی کا شکرگزار رہنے کی تاکید فرمائی۔
      ’مَنطِقَ الطَّیْْرِ‘ کا علم: ’عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّیْْرِ‘ سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ پرندوں کے اندر بھی نطق و ادراک ہے اور حضرت سلیمانؑ کو ان کے نطق کا خاص علم عطا ہوا تھا۔ اگر ہم ان کے نطق کو نہیں سمجھتے تو ہمارا نہ سمجھنا اس کی نفی کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ قرآن میں صاف تصریح ہے کہ کائنات کی ہر چیز خدا کی تسبیح کرتی ہے لیکن ہم اس کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ اسی طرح قرآن میں یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ جتنے بھی چرند پرند ہیں سب ہماری ہی طرح الگ الگ امتیں ہیں۔ سورۂ نحل کی تفسیر میں ہم قرآن کے اس ارشاد کے مضمرات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ حضرت سلیمانؑ کو تو پرندوں کی بولی کا خاص علم عطا ہوا تھا جن کو یہ علم نہیں ملا ہے وہ بھی یہ جانتے ہیں کہ جتنے بھی حیوانات ہیں سب اپنی نفرت، محبت، عتاب، التفات، خوشی، غم، فکرمندی، طمانیت، استمالت، ملاعبت اور اپنے دوسرے جذبات کی تعبیر کے لیے الگ الگ بولیاں بھی اختیار کرتے ہیں اور ان کے اظہار کے لیے ان کی ادائیں اور حرکتیں بھی الگ الگ ہوتی ہیں۔ جو لوگ کسی مقصد خاص کے لیے ان جانوروں کی تربیت کرتے ہیں وہ ان کی آوازوں اور اشارات کو اسی طرح سمجھتے ہیں جس طرح اپنے ہم جنسوں کی بولی اور ان کے اشارات کو سمجھتے ہیں۔ پھر ان سے بھی زیادہ ان لوگوں کا علم ہے جنھوں نے سائنٹیفک طریقے پر ان حیوانات کا تجربہ و مشاہدہ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے علمی تجربہ و مشاہدہ سے جو معلومات فراہم کی ہیں ان کو پڑھیے تو انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ بڑے جانور تو درکنار ننھی سی چیونٹی کے اندر بھی قدرت نے جو دانش و بینش، جو زیرکی و ہوشیاری اور جو فہم و فراست ودیعت فرمائی ہے وہ ایسی ہے کہ اس سے انسان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ آج کتوں سے سراغ رسانی اور جاسوسی کے سلسلے میں جو کام لیے جا رہے ہیں کیا وہ کم حیرت انگیز ہیں! جب انسان اپنے تجربات اور اپنی تجرباتی سائنس کے ذریعہ سے جانوروں کے اتنے اسرار دریافت کر سکتا ہے اور ان سے یہ کچھ کام لے سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اگرحضرت سلیمانؑ کو پرندوں کی بولی کا خاص علم دے دیا تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے! یہ امریہاں ملحوظ رہے کہ بولی درحقیقت آوازوں ہی کی ترکیب و تالیف سے وجود میں آتی ہے۔ جو چیزیں ادراک و شعور اور جذبات رکھتی ہیں وہ اپنے ادراک و شعور اور جذبات کی تعبیر کے لیے مختلف قسم کی آوازیں نکالتی ہیں اور انہی کی تالیف و ترکیب سے بولی وجود میں آتی ہے۔ اشارات بھی اسی میں داخل ہیں۔ ان کو غیر ناطق زبان سمجھیے۔

      جاوید احمد غامدی اور داؤد کا وارث سلیمان ہوا اور اُس نے بھی کہا:لوگو، ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور دوسری ہر طرح کی چیزیں بھی دی گئی ہیں۔ بے شک، یہ( خدا کا) کھلا ہوا فضل ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      داؤد علیہ السلام بنی اسرائیل کے پیغمبر اور بادشاہ تھے۔ اُن کے بیٹے حضرت سلیمان اِسی حیثیت سے اُن کے وارث ہوئے۔ اُن کی سلطنت فلسطین اور شرق اردن سے لے کر شام تک پھیلی ہوئی تھی۔ حضرت سلیمان کا زمانۂ سلطنت ۹۶۵ق م سے لے کر ۹۲۶ ق م تک ہے۔
      بنی اسرائیل کی روایات میں بھی اِس کا ذکر ہوا ہے کہ حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے جہاں دوسری بہت سی قوتیں دی تھیں، وہاں پرندوں کی بولی کا بھی خاص علم عطا فرمایا تھا اور اپنے اِس علم کی بنا پر وہ اُن کی تربیت کرکے اپنی فوج میں اُن سے نامہ بری، خبر رسانی اور سراغ رسانی وغیرہ کے کام لیتے تھے۔ اِس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ پرندوں کے اندر بھی کسی نہ کسی درجے میں نطق و ادراک کی صلاحیت ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اگر ہم اُن کے نطق کو نہیں سمجھتے تو ہمارا نہ سمجھنا اُس کی نفی کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ قرآن میں صاف تصریح ہے کہ کائنات کی ہر چیز خدا کی تسبیح کرتی ہے، لیکن ہم اُس کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ اِسی طرح قرآن میں یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ جتنے بھی چرند پرند ہیں، سب ہماری ہی طرح الگ الگ امتیں ہیں...حضرت سلیمان کو تو پرندوں کی بولی کا خاص علم عطا ہوا تھا، جن کو یہ علم نہیں ملا ہے ،وہ بھی یہ جانتے ہیں کہ جتنے بھی حیوانات ہیں، سب اپنی نفرت، محبت، عتاب، التفات، خوشی، غم، فکرمندی، طمانیت، استمالت، ملاعبت اور اپنے دوسرے جذبات کی تعبیر کے لیے الگ الگ بولیاں بھی اختیار کرتے ہیں اور اُن کے اظہار کے لیے اُن کی ادائیں اور حرکتیں بھی الگ الگ ہوتی ہیں۔ جو لوگ کسی مقصد خاص کے لیے اِن جانوروں کی تربیت کرتے ہیں، وہ اِن کی آوازوں اور اشارات کو اُسی طرح سمجھتے ہیں، جس طرح اپنے ہم جنسوں کی بولی اور اُن کے اشارات کو سمجھتے ہیں۔ پھر اِن سے بھی زیادہ اُن لوگوں کا علم ہے جنھوں نے سائنٹیفک طریقے پر اِن حیوانات کا تجربہ و مشاہدہ کیا ہے۔ اُنھوں نے اپنے علمی تجربہ ومشاہدہ سے جو معلومات فراہم کی ہیں، اُن کو پڑھیے تو انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ بڑے جانور تو درکنار ننھی سی چیونٹی کے اندر بھی قدرت نے جو دانش و بینش، جو زیرکی و ہوشیاری اور جو فہم و فراست ودیعت فرمائی ہے، وہ ایسی ہے کہ اُس سے انسان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ آج کتوں سے سراغ رسانی اور جاسوسی کے سلسلے میں جو کام لیے جا رہے ہیں، کیا وہ کم حیرت انگیز ہیں! جب انسان اپنے تجربات اور اپنی تجرباتی سائنس کے ذریعے سے جانوروں کے اتنے اسرار دریافت کر سکتا ہے اور اُن سے یہ کچھ کام لے سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اگرحضرت سلیمان کو پرندوں کی بولی کا خاص علم دے دیا تو اِس میں تعجب کی کیا بات ہے! یہ امریہاں ملحوظ رہے کہ بولی درحقیقت آوازوں ہی کی ترکیب و تالیف سے وجود میںآتی ہے۔ جو چیزیں ادراک و شعور اور جذبات رکھتی ہیں، وہ اپنے ادراک و شعور اور جذبات کی تعبیر کے لیے مختلف قسم کی آوازیں نکالتی ہیں اور اُنھی کی تالیف و ترکیب سے بولی وجود میں آتی ہے۔ اشارات بھی اِسی میں داخل ہیں، اُن کو غیرناطق زبان سمجھیے۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۵۹۲)

    • امین احسن اصلاحی اور سلیمان کے جائزے کے لیے اس کا سارا لشکر ۔۔۔ جنوں، انسانوں اور پرندوں میں سے ۔۔۔ اکٹھا کیا گیا اور ان کی درجہ بندی کی جا رہی تھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’حُشِرَ لِسُلَیْْمَانَ‘ میں مضاف محذوف ہے یعنی حضرت سلیمانؑ کے جائزہ اور ملاحظہ کے لیے ان کی ساری فوج جمع کی گئی۔
      حضرت سلیمانؑ کی فوج: ’وَزَعٌ‘ کے اصل معنی روکنے، تھامنے اور سنبھالنے کے ہیں۔ آگے آیت ۱۹ میں اسی معنی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے لیکن فوج کے تعلق سے جب یہ لفظ آئے تو اس کے معنی تربیت دینے اور درجہ بندی و صف بندی کرنے کے ہوتے ہیں۔
      اب یہ حضرت سلیمانؑ کی افواج کی ایک پریڈ کا ذکر فرمایا ہے جس میں ان کی تمام فوج، جو جنوں، انسانوں اور پرندوں پر مشتمل تھی، ان کے ملاحظہ کے لیے اکٹھی کی گئی۔ ’فَہُمْ یُوزَعُونَ‘ یعنی مقصود اس اجتماع سے ان کی ترتیب اور الگ الگ درجہ بندی تھی۔ یہاں اس پریڈ کے ذکر سے اصل مدعا، جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہو گا، یہ دکھانا ہے کہ حضرت سلیمانؑ کی فوج کیسی حیرت انگیز صلاحیتیں رکھنے والے انسانوں، جنوں اور پرندوں پر مشتمل تھی۔ لیکن جب ان کے فوجیوں کی طرف سے ان کی حیرت انگیز صلاحتیں ظاہر ہوئیں تو وہ بجائے اس کے کہ ان سے غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہوں اور یہ ڈھنڈورہ پیٹیں کہ میں اب دنیا میں ایک ناقابل تسخیر قوت بن گیا ہوں، انھوں نے اپنا سر نہایت تواضع کے ساتھ اپنے رب کے آگے جھکا دیا کہ اے رب! اگر تو نے مجھ پر یہ فضل فرمایا ہے تو مجھے سنبھال کہ میں کہیں بہک نہ جاؤں بلکہ ہمیشہ تیرا شکرگزار اور فرماں بردار بندہ رہوں۔

      جاوید احمد غامدی (چنانچہ ایک دن ایسا ہوا کہ) جنوں اور انسانوں اور پرندوں میں سے سلیمان کے سارے لشکر اُس کے ملاحظے کے لیے جمع کیے گئے، اِس لیے کہ اُن کی درجہ بندی کی جا رہی تھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس جملے میں ایک مضاف عربیت کے قاعدے سے محذوف ہے۔ ہم نے ترجمے میں اُسے کھول دیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے، ایک چیونٹی نے کہا، اے چیونٹیو، اپنے سوراخوں میں گھس جاؤ کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں پامال نہ کر ڈالے اور انھیں اس کا احساس بھی نہ ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      وادئ نمل کی وضاحت: ’وَادِیْ النَّمْلِ‘ سے کوئی مخصوص وادی بھی مراد ہو سکتی ہے جو اسی نام سے معروف رہی ہو۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قرآن نے اس کا ذکر اس نام سے محض اس خصوص کی وجہ سے کیا ہو کہ اس میں چیونٹیاں بہت تھیں۔ چیونٹیاں، چیونٹے اور اس نوع کے تمام حشرات اپنے گڑھ انہی علاقوں میں بناتے ہیں جن کا ماحول ہر اعتبار سے ان کے لیے سازگار ہو۔
      حضرت سلیمانؑ حشرات کی بولی بھی سمجھتے تھے: یہ ذکر اسی پریڈ کے موقع کا ہے کہ جب حضرت سلیمانؑ کی فوجیں مارچ کرتی ہوئی چیونٹیوں کی وادی میں پہنچیں تو ایک چیونٹی نے اپنے دَل کو خطرے سے آگاہ کیا کہ اے چیونٹیو! اپنی بلوں میں گھس جاؤ، مبادا سلیمانؑ اور اس کی فوجیں تمہیں پامال کر دیں اور انھیں خبر بھی نہ ہو۔ ’وَہُمْ لَا یَشْعُرُونَ‘ یعنی حضرت سلیمانؑ کی دَل بادل فوج کی راہ میں تو پہاڑ بھی گرد ہیں، اس کو بھلا اس بات کا احساس کہاں ہو گا کہ ہمارے حقیر وجود اس کے پاؤں تلے روندے گئے۔
      چیونٹیوں کے عجائبات: چیونٹیوں کے متعلق سائنس نے جو حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں اس سے قطع نظر ایک عام آدمی بھی اگر ان کے کسی بڑے دَل کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتے دیکھے تو ان کے عسکری نظام اور فوجی ڈسپلن کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ پوری فوج ایک قائد کی قیادت میں مارچ کر رہی ہے۔ دَل کے دونوں جانب تھوڑے تھوڑے فاصلے سے ان کے رضاکاروں اور اسکاؤٹوں کی لائن ہوتی ہے جو اپنے معین حدود کے اندر برابر تگ و دو میں مصروف رہتے ہیں اور صاف نظر آتا ہے کہ وہ نگرانی کی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ جونہی ان کو کسی خطرے کا احساس ہوتا ہے وہ اپنے حدود کے اندر اس سے دَل کو آگاہ کرتے ہیں اور دَل اپنے آپ کو اس سے بچانے کی تدبیر اختیار کرتا ہے۔ وہ منظر ان کا خاص طور پر دیدنی ہوتا ہے جب ان کا کوئی قبیلہ مستقل طور پر ایک مقام سے دوسرے مقام کے لیے اپنے تمام غذائی ذخائر اور اپنے تمام اولاد و احفاد کے ساتھ ہجرت کرتا ہے۔ میں نے بعض مرتبہ ان کی اس مہاجرت کا غور سے مشاہدہ کیا ہے۔ اگر میں ان مشاہدات کو قلم بند کروں تو ایک طویل داستان بن جائے۔
      چیونٹیوں کے یہ کارنامے تو ہما و شما کو بھی نظر آتے ہیں لیکن سائنس دانوں نے ان کے جن عجائب کا انکشاف کیا ہے۔ ان کے بعد تو اس امر میں کسی شبہے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہ گئی ہے کہ وہ بھی، جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے، ہماری ہی طرح امتیں ہیں۔ ان کی بعض قسمیں ہماری ہی طرح بعض جانوروں کو پالتی ہیں اور ان کو اپنے اغراض و ضروریات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ یہ اپنے لیے کھیت بناتی اور ان میں بیج بوتی ہیں اور جب فصل تیار ہوتی ہے تو دِرَد کے بعد اس کو تہہ خانوں میں محفوظ کر دیتی ہیں۔ ان کی باقاعدہ فوج بھی ہوتی ہے جو مخصوص افسروں کی کمان میں دشمن پر حملہ آور ہوتی ہے۔ ان کے ہاں تربیت اور ٹریننگ کا باقاعدہ نظام ہے۔ غرض وہ ساری خصوصیات ان کے اندر بھی پائی جاتی ہیں جو انسانوں کے اندر پائی جاتی ہیں بس صرف شکل و صورت اور درجہ و مرتبہ کا فرق ہے۔
      یہاں چیونٹی کی طرف جس ’قول‘ کی نسبت کی گئی ہے اگرچہ وہ اشاروں کی زبان سے بھی ہو سکتا ہے۔ قرآن میں یہ لفظ، جیسا کہ مریم ۲۷ کے تحت ہم واضح کر چکے ہیں، اشارے سے کوئی بات کہنے کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ لیکن یہاں آیت سے متبادر یہی ہوتا ہے کہ اس سے مسموع قول مراد ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ چیونٹیوں کی صرف وہی قسمیں نہیں ہیں جن سے ہم اپنے علاقوں میں آشنا ہیں بلکہ سائنس کی تحقیقات نے جو معلومات فراہم کی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بے شمار قسمیں مختلف علاقوں اور زمینوں میں پائی جاتی ہیں جن میں صامت و ناطق ہر قسم کی چیونٹیاں ہیں۔ حضرت سلیمانؑ جس طرح پرندوں کی بولی سمجھتے تھے اسی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ان حشرات کی آواز بھی سنتے اورسمجھتے تھے۔ اور یہ علم ان کے پاس خداداد تھا۔

      جاوید احمد غامدی یہاں تک کہ (مارچ کرتے ہوئے) جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا: اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھس جاؤ، کہیں سلیمان اور اُس کے لشکرتمھیں کچل نہ ڈالیں اور اُنھیں اِس کا احساس بھی نہ ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جس میں چیونٹیاں بہت تھیں۔ ہوسکتا ہے کہ چیونٹیوں کی اِسی کثرت کے باعث اُسے وادی النمل کہا جاتاہو۔ اِس وادی کا یہ قصہ بنی اسرائیل کی روایتوں میں بھی پایا جاتا ہے۔
      بعض چیونٹیاں آواز بھی نکالتی ہیں۔ آیت سے متبادر ہوتا ہے کہ یہ غالباً اِسی قسم کی چیونٹیاں تھیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’ چیونٹیوں کے متعلق سائنس نے جو حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں، اُس سے قطع نظر ایک عام آدمی بھی اگر اُن کے کسی بڑے دَل کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتے دیکھے تو اُن کے عسکری نظام اور فوجی ڈسپلن کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ صاف نظر آتاہے کہ پوری فوج ایک قائد کی قیادت میں مارچ کر رہی ہے۔ دَل کے دونوں جانب تھوڑے تھوڑے فاصلے سے اُن کے رضاکاروں اور اسکاؤٹوں کی لائن ہوتی ہے جو اپنے معین حدود کے اندر برابر تگ و دو میں مصروف رہتے ہیں اور صاف نظر آتا ہے کہ وہ نگرانی کی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ جوں ہی اُن کو کسی خطرے کا احساس ہوتا ہے، وہ اپنے حدود کے اندر اُس سے دَل کو آگاہ کرتے ہیں اور دَل اپنے آپ کو اس سے بچانے کی تدبیر اختیارکرتا ہے۔ وہ منظر اُن کا خاص طور پر دیدنی ہوتا ہے ،جب اُن کا کوئی قبیلہ مستقل طور پر ایک مقام سے دوسرے مقام کے لیے اپنے تمام غذائی ذخائر اور اپنے تمام اولاد و احفاد کے ساتھ ہجرت کرتا ہے۔ میں نے بعض مرتبہ اُن کی اِس مہاجرت کا غور سے مشاہدہ کیا ہے۔ اگر میں اِن مشاہدات کو قلم بند کروں تو ایک طویل داستان بن جائے۔
      چیونٹیوں کے یہ کارنامے تو ہما و شما کو بھی نظر آتے ہیں، لیکن سائنس دانوں نے اُن کے جن عجائب کاانکشاف کیا ہے، اُن کے بعد تو اِس امر میں کسی شبہے کی گنجایش ہی باقی نہیں رہ گئی ہے کہ وہ بھی، جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے، ہماری ہی طرح امتیں ہیں۔ اُن کی بعض قسمیں ہماری ہی طرح بعض جانوروں کو پالتی ہیں اور اُن کو اپنے اغراض و ضروریات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ یہ اپنے لیے کھیت بناتی اور اُن میں بیج بوتی ہیں اور جب فصل تیار ہوتی ہے تو دِرَو کے بعد اُس کو تہ خانوں میں محفوظ کر دیتی ہیں۔ اِن کی باقاعدہ فوج بھی ہوتی ہے جو مخصوص افسروں کی کمان میں دشمن پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اِن کے ہاں تربیت اور ٹریننگ کا باقاعدہ نظام ہے۔ غرض وہ ساری خصوصیات اُن کے اندر بھی پائی جاتی ہیں جو انسانوں کے اندر پائی جاتی ہیں، بس صرف شکل و صورت اور درجہ و مرتبہ کا فرق ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۵۹۴)

    • امین احسن اصلاحی پس وہ اس کی بات سے خوش ہو کر مسکرایا اور دعا کی، اے میرے رب مجھے سنبھالے رکھ کہ میں اس فضل کا شکرگزار رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمایا اور میں ایسے نیک کام کروں جو تجھے پسند ہوں اور تو اپنے فضل سے مجھے اپنے صالح بندوں کے زمرے میں داخل کر۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فَتَبَسَّمَ ضَاحِکاً‘ میں لفظ ’ضَحَک‘ خوشی اور ابتہاج و سرور کے مفہوم میں ہے۔ جس طرح ہود آیت ۷۱ میں ہے۔ مجرد ’تَبَسَّم‘ استخفاف و تحقیر کی نوعیت کا بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ’ضَاحِکاً‘ کی قید نے معین کر دیا کہ یہ تبسم خوشی اور سرور کی نوعیت کا تھا۔
      وہ حقیقت جس کے لیے مذکورہ واقعہ بیان ہوا ہے: ’أَوْزِعْنِیْ أَنْ أَشْکُرَ الایۃ‘۔ ’وَزعٌ‘ کے معنی کی تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔ یہاں یہ تھامنے اور سنبھالنے کے مفہوم میں ہے۔ یعنی حضرت سلیمانؑ نے یہ دعا فرمائی کہ اے رب جب تو نے میرے علم میں یہ افزونی عطا فرمائی ہے کہ میں حشرات و ہوام کی بولی بھی سمجھے لگا ہوں تو ایسا نہ ہو کہ میں غرور و طغیان میں مبتلا ہو کر تیری راہ سے بھٹک جاؤں بلکہ تو میری باگ اپنے ہاتھ میں رکھ اور مجھے توفیق دے کہ تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر جو فضل عظیم فرمایا ہے میں اس کا حق ادا کر سکوں اور میرے ہاتھوں وہ کام انجام پائیں جو تیری رضا کے مطابق ہوں اور آخرت میں مجھے صالحین کی معیت حاصل ہو۔
      یہی وہ اصل حقیقت ہے جس کے اظہار کے لیے اوپر والا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے جن کی نظر اسی دنیا کی زندگی تک محدود ہے اور وہ خدا سے بے خبر ہیں ان کو جب کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو وہ اس پر اتراتے اور اکڑتے ہیں گویا انھوں نے کوئی بڑا تیر مارا ہے اور پھر اس غرور اور اکڑ کا لازمی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ وہ خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں اور صلاحیتوں کو خدا کی رضا کے کاموں میں صرف کرنے کے بجائے شیطان کی مقصد برآری میں صرف کرتے ہیں۔ لیکن حضرت سلیمانؑ کا حال یہ تھا کہ اپنی ہر سائنس اور کاردانی کو انھوں نے اپنے رب کا فضل جانا اور اس سے برابر ڈرتے رہے کہ ان کا کوئی قدم خدا کی پسند کے خلاف نہ اٹھے۔

      جاوید احمد غامدی (سلیمان نے یہ سنا) تو اُس کی بات سے خوش ہو کر وہ مسکرایا اور بولا: اے میرے رب، مجھے سنبھالے رکھ کہ میں تیرے فضل کا شکر گزار رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمایا ہے اور ایسے اچھے کام کروں جو تجھے پسند ہوں اور اپنی رحمت سے،(اے پروردگار)، تو مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل کر لے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں:’فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا‘۔ اِن میں ’ضِحْک‘ خوشی اور ابتہاج و سرور کے مفہوم میں ہے اور عربی زبان میںیہ اِس مفہوم میں آتا ہے۔
      خدا کی عظیم اور بے مثال نعمتوں پر شکر گزاری کا یہی رویہ ہے جس کو نمایاں کرنے کے لیے حضرت سلیمان کی زندگی کے یہ واقعات قریش مکہ کو سنائے جا رہے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور اس نے پرندوں کی فوج کا جائزہ لیا تو بولا کہ کیا بات ہے، میں ہُد ہُد کو نہیں دیکھ رہا ہوں! وہ موجود ہے یا غیر حاضروں میں ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت سلیمانؑ کی فضائی فوج: اسی پریڈ کے موقع پر جب انھوں نے اپنے پرندوں کی فوج کا جائزہ لیا تو ہُد ہُد کو غائب پایا۔ اس پر غضب ناک ہو کر فرمایا کہ کیا بات ہے میں ہُد ہُد کو نہیں دیکھ رہا ہوں۔ وہ موجود ہے، مجھے نظر نہیں آیا ہے، یا غیر حاضر ہے؟ یا تو وہ اپنی اس غیر حاضری کے لیے کوئی معقول عذر پیش کرے ورنہ یا تو میں اس کو سخت سزا دوں گا یا ذبح کر چھوڑوں گا۔
      ’أَمْ کَانَ مِنَ الْغَائِبِیْنَ‘ سے پہلے بربنائے قرینہ اتنی بات محذوف ہے کہ وہ موجود ہے میں دیکھ نہیں رہا ہوں یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
      ’سُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ‘ اصل میں دلیل و حجت کے مفہوم میں آتا ہے۔ یہاں یہ اپنی صفائی میں کسی عذر معقول کے لیے آیا ہے۔
      اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ کی فوج میں باقاعدہ تربیت پائے ہوئے مختلف قسم کے پرندے بھی تھے جن سے وہ پیغام رسانی، سراغ رسانی اور دریافت احوال کی مہمات میں کام لیتے تھے اور چونکہ وہ پرندوں کی بولی سمجھتے تھے اس وجہ سے وہ موجودہ زمانے کے سائنس دانوں سے بدرجہا اعلیٰ طریقہ پر یہ کام لیتے تھے۔
      تجسس احوال کے لیے پرندوں کی فوج: پیغام رسانی اور دریافت احوال وغیرہ کے سلسلہ میں پرندوں سے کام لینے کا طریقہ موجودہ زمانے میں بھی موجود ہے اور قدیم زمانے میں بھی یہ پایا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات کے ضمن میں اہل تورات نے اس قسم کے کسی واقعہ کا ذکر نہیں کیا ہے لیکن حضرت نوحؑ کے حالات میں یہ ذکر ہے کہ جب انھوں نے یہ اندازہ کرنا چاہا کہ طوفان کا پانی اتر گیا ہے یا نہیں تو کشتی سے ایک کبوتری اڑائی۔ کچھ دیر کے بعد وہ کبوتری اپنی چونچ میں زیتون کی ایک تازہ شاخ لے کر آئی جس سے حضرت نوحؑ نے یہ اندازہ فرمایا کہ اب پانی اتر گیا ہے۔
      اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خبررسانی اور تجسس احوال وغیرہ کی مہمات کے لیے پرندوں کی تربیت کا فن بہت قدیم بلکہ ابتدائے تاریخ سے موجود ہے۔ کبوتر کی نامہ بری تو خیر معروف ہی ہے۔ حضرت نوحؑ کے مذکورہ بالا واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرندہ تجسس احوال کے مقصد کے لیے بھی بہت زیرک ہے۔ موجودہ زمانہ کی سائنس نے جو معلومات فراہم کی ہیں ان سے بھی اس خیال کی تصدیق ہوتی ہے۔ فلسطین کے علاقے میں ہُد ہُد کی کثرت ہے۔ یہ پرندہ بھی اس مقصد کے لیے کبوتر ہی کی طرح ہوشیار ہے اس وجہ سے حضرت سلیمانؑ نے اپنی فوج میں اس سے کام لیا۔
      حضرت سلیمانؑ نے جس انداز سے ہُد ہُد کی غیر حاضری پر عتاب فرمایا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرندے فوجی ڈسپلن کے تحت تھے۔ انھیں اس نظم کی پوری پوری پابندی کرنی پڑتی تھی اور کسی خلاف ورزی کی صورت میں انھیں فوجی ضوابط کے تحت سزا بھگتنی پڑتی تھی۔

      جاوید احمد غامدی (اِسی موقع پر) سلیمان نے اپنے لشکر کے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہا: کیا بات ہے، میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہاہوں۔ (وہ موجود ہے) یا کہیں غائب ہو گیا ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ فقرہ عربیت کے اسلوب پر اصل میں بر بناے قرینہ محذوف ہے۔

    Join our Mailing List